Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم المرتبت شخصیت  تحریر : محمد صابر مسعود

    مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم المرتبت شخصیت تحریر : محمد صابر مسعود

    مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان کے عظیم المرتبت قائد، جنگ آزادی کے سپہ سالار، ، صاحب طرز انشاء پرداز، مقرر بے باک، قلم و قرطاس کے بادشاہ اور ایک عہد آفریں انسان تھے ۸ ذی الحجہ ۱۳۰۵ ھ (17 اگست 1888ع ) کو مکۃ المکرمہ (زادہ اللہ شرفا و عظمۃ ) میں پیدا ہوئے، والد کا نام خیر الدین تھا جو ایک جید عالم اور صوفی باعمل تھے، کلکتہ میں نشو نما پائ اور تعلیم کا مکمل سفر گھر پر ہی طے کیا۔
    مولانا ابوالکلام آزاد مجتہدانہ دماغ کے مالک تھے علوم و فنون پر گہری نظر تھی، اسی کے ساتھ ساتھ مقرر بے باک اور خطابت کے اعلی معیار پر فائز تھے۔
    آپ نے زبان و قلم کے جادو سے ہزاروں، لاکھوں سینوں میں آزادی وطن کی آگ لگادی تھی۔
    آپ کے اخبار ،،الہلال،، نے ملک کے چپہ چپہ میں آزادی کا بگل بجادیا تھا ،1915 میں مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے حکومت بنگال نے جلاوطن کرکے رانچی میں نظر بند کردیا تھا اس کے بعد بھی لیلائے آزادی کے حصول میں بار بار قیدو بند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا، تقریباً سولہ سال جیل کی سلاخوں میں رہے۔
    ابتداہی سے جمیعۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر رہے، اجلاس عام لاہور میں 1921ع اور اجلاس عام کراچی 1931ع کے صدر رہے ۔
    آزادی سے پہلے سات سال کانگریس کے صدر رہے ل، آزادی کی مشہور تحریک” کوئٹ انڈیا” 1942 میں مولانا ابوالکلام آزاد کی قیادت میں چلائ گئ، آزادی کے بعد کانگریس وزارت میں وزیر تعلیم رہے ۔
    آپ کی علمی، ادبی، سیاسی و صفاحتی خدمات پر اس قدر لکھا گیا کہ صرف ان کا اشاریہ تیار کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب ہوسکتی ہے 22/فروری/1985 کو یہ آفتاب علم و سیاست غروب ہوکر جامع مسجد دہلی کے سامنے ہمیشہ کے لئے روپوش ہوگیا ۔۔۔۔

    @sabirmasood_

  • اسلامی معاشیات کا فروغ  تحریر: محمد ذیشان

    اسلامی معاشیات کا فروغ تحریر: محمد ذیشان

    اسلامی طرز معاشرت کی بڑی اہمیت ہے۔ اگر حلال کی کمائی میسر ہو ، تو کوئی شخص اس کے ساتھ انتہائی پاکیزہ زندگی گزار سکتا ہے۔ پاکستان میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اہم جدوجہد جاری ہے۔ اگرچہ بہت ساری رائے ہیں کہ یہ اقدامات مکمل طور پر ناکافی ہیں۔ لیکن کچھ نہ رکھنے سے کچھ حاصل کرنا بہتر ہے۔

    اسلامی بینکوں کا آغاز 2002 میں ہوا تھا اور آج بینکنگ میں 12 فیصد سے زیادہ حصہ ہے۔ ریاست پاکستان 1973 کے آئین (آرٹیکل 38) کے مطابق سود ختم کرنے کے حق میں تھی۔ لیکن آج تک مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ اس کے لئے عملی کام 1980 کی دہائی میں کیا گیا تھا۔ بعد میں ، اسلامی بینک 2002 میں معرض وجود میں آئے ، جس نے باقاعدہ کام شروع کیا اور اب یہ کام مسلسل بڑھ رہا ہے۔
    جب سے اسٹیٹ بینک نے اپنے اسٹریٹجک پلان کی نقاب کشائی کی ہے تب سے پاکستان میں حقیقی اسلامی بینکاری پر یقین بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اس کا سہرا اسلامی یونیورسٹیوں ، اسلامی اداروں ، اسلامی بینکروں اور اسلامی تحریکوں کو جاتا ہے۔ منصوبے کے مطابق ، اسلامی بینکوں کی شرکت کے لئے ایک ایکشن پلان تیار کیا جائے گا اور اس پر کام کرنے کے لئے خصوصی مراعات دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ اب تک بینک زیادہ تر مرابہ پر کام کر رہے تھے۔ یہ ایک طرح کی خرید و فروخت ہے جس میں بینک منافع کماتا ہے جبکہ بینک تجارتی نوعیت کا کم اور مالی نوعیت کا زیادہ ہوتا ہے۔ اسے تجارتی طریقوں کے استعمال کو کم کرنا چاہئے اور مزید مالی طریقوں کا استعمال کرنا چاہئے۔ اگرچہ علمائے کرام نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ لیکن بہت سے اسلامی مالیاتی اداروں اور اسکالرز نے مرابہ کے بینکنگ میں استعمال پر اعتراض کیا۔ اسٹیٹ بینک نے اس مسئلے کو حل کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں بہت بڑی پیشرفت کی ہے۔ شراکت کے طریقوں (مداربہ اور مشارکا) کے استعمال کو یقینی بنانے کے لئے شقوں اور طریقہ کار کو شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ مشہور ہے کہ پاکستان کے مرکزی بینک کی حیثیت سے اسٹیٹ بینک اسلامی بینکاری میں انقلاب لانا چاہتا ہے۔ اگرچہ عملی طور پر اس میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے تاہم آغاز خوش آئند ہے۔
    پاکستانی فیصلہ سازوں کے اس اسٹریٹجک منصوبے کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ اسلامی بینکاری کی ستمبر 2016 کی رپورٹ کے مطابق ، مضاربہ کا تناسب تقریبا 25٪ سے کم ہوکر 17٪ ہوچکا ہے۔ لیز اور اخراج بھی بالترتیب آٹھ اور سات فیصد ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی مالیات کی تمام اقسام پاکستان میں موثر ہیں۔ اس کے علاوہ ، مضاربہ کی تعداد بھی کم ہورہی ہے۔ اس کے نتیجے میں اسلامی معاشی طریقوں کے نفاذ میں اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ شراکت اور غالب (بتدریج) پارٹنرشپ کو نفع و نقصان میں حص کی ضرورت ہے ، جو اسلامی مالی عمل کا ایک بنیادی اصول ہے ، لہذا پاکستان نے یہ مقصد حاصل کرلیا ہے۔ اسلامی بینکاری پر یہ اعتراض آہستہ آہستہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی بینک اپنے فرائض کی انجام دہی میں پیشہ ورانہ ہونے کے ساتھ اسلامی اصولوں کو اپنارہے ہیں۔ جس سے کہ منافع بہتر ہوتا ہے ، اسی طرح اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ یہ صلاحیت اور قابلیت کا امتزاج ہے جہاں سے ایک اسلامی معاشرہ فلاح و خوشحالی کے دینی اور دنیاوی تصور پر عمل کرکے حتمی نجات حاصل کرتا ہے۔
    پوری دنیا میں ، جہاں اسلامی مالیاتی ادارے ، بینکوں اور انشورنس کمپنیاں ڈھائی کھرب سے زیادہ کا کاروبار کررہی ہیں ، اس میں تخمینہ لگا کر بڑھایا جاسکتا ہے۔ تاہم ، اسلامی اصولوں اور اداروں کے محض وجود کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ ایسی صورتحال میں ، اسلامی بینکاری دنیا میں ایک نئی قسم کے کاروبار کے طور پر ابھر رہی ہے۔ لوگ حلال کے لفظ کے نئے پہلوؤں سے بھی واقف ہو رہے ہیں۔ اسلامی بینک دنیا کے تمام بڑے ممالک میں کام کرتے ہیں۔ یہ شعبہ بھی 15 سے 20 فیصد سالانہ شرح سے ترقی کر رہا ہے۔
    معاشرے سے زیادہ معاشرے اور قانون پر اسلام کی توجہ ہے۔ مسلمانوں نے کرنسی پر بہت کم توجہ دی۔ پہلا اسلامی سکہ اموی سلطان عبد الملک بن مروان نے جاری کیا۔ یعنی دولت اسلامیہ مدینہ کے قیام کے تقریبا 75 سال بعد۔، اس قدر تاخیر کی قانونی اور عملی وجوہات ہوں گی۔ اسلام ایک عملی مذہب بھی ہے ، لہذا وہ عملی حقائق کی روشنی میں مسائل کو حل کرنا چاہتا ہے۔ دیر سے سکے جاری کرنا کیوں ضروری تھا، اگر ایسا نہ ہوتا تو قرآن مجید میں سکے جاری کرنے کے احکامات ہوتے۔ لیکن اس سے پہلے ہی سماجی اور سیاسی قوانین نافذ کیے گئے تھے۔ جب دولت اسلامیہ قائم ہوئی اور ایک بہت بڑا علاقہ محکوم ہوگیا تو اسلامی سکے کو جاری کیا گیا۔ پاکستان میں کوئی بھی جماعت اسلامی سیاست کی بنیاد پر وفاقی حکومت تشکیل نہیں دے سکی ہے۔ معاشرتی طور پر ذاتوں ، قبائل اور بڑے خاندانوں کا اثر و رسوخ کہیں زیادہ اہم ہے۔ مسجد کا عملی کردار بہت ہی محدود ہے۔ ایسی صورتحال میں ، صرف اسلامی بینکاری اور اسلامی معیشت کے لئے 100٪ اسلام کی پیروی کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ خاص طور پر جب عدالتی قوانین اسلام کی خصوصیت نہیں رکھتے اور ملزموں کو عدالت میں لانا اور انھیں سزا سنانا بہت مشکل ہوگیا ہے ، لہذا مالی مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ لہذا ، اسلامی مالیاتی نظام کی پیروی اور اس پر عمل درآمد ناممکن ہے۔

    پاکستان میں 22 اسلامی مالیاتی ادارے اور بینک کام کر رہے ہیں۔ مالیاتی ادارے تکافل (انشورنس) کمپنیاں ہیں۔

    1980 کی دہائی میں پاکستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسلامی مالیاتی ادارہ تھا ، لیکن اب یہ نویں نمبر پر سکڑ گیا ہے۔ 2013 میں ، ایران ، ملائشیا اور سعودی عرب بالترتیب پہلے ، دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے اسلامی بینکوں کو ان کی مارکیٹ میں کہیں زیادہ عملی مشکلات درپیش ہیں۔ پاکستان بہت سی جنگوں کا میدان جنگ بن گیا یا اس کے قریب ہی ایک انتہائی شدید عالمی سیاسی محاذ آرائی ہوئی۔ جس کی وجہ سے پاکستان ترقیاتی عمل میں بہت پیچھے رہا۔ اس کا لازمی اثر مالیاتی شعبے پر پڑا۔ ظاہر ہے ، جب مالی ترقی متاثر ہوتی ہے ، تو اسی طرح اسلامی مالیاتی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان نے اسلامی مالیات کے کچھ شعبوں میں ترقی ضرور کی۔
    اسلامی بینکوں کے آگے بڑھنے کے بہت سارے مواقع موجود ہیں کیونکہ فیلڈ خالی ہے۔ لیکن دوسرے اسلامی ممالک نے بہت طویل سفر طے کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں اسلامی بینکاری 20٪ اور ملائشیا میں 30٪ ہے۔ لہذا ، ہمارے اسلامی بینکوں کو بھی اس میدان میں ترقی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ لیکن یہ اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اسلامی سیاسی اور سماجی تنظیمیں ، مساجد اور مدارس باقاعدگی سے اس کے لئے مہم نہیں چلاتے ہیں۔ اس طرح کا تاثر ہے کہ اسلامی بینکوں کے نام پر اسلامی ہیں۔ ہمیں اس تاثر کو دور کرنے کے لئے مداربہ اور مشارکا پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بہت مشکل ہے۔ کیونکہ پیسے ڈوبنے کی صورت میں ، پاکستان کا عدالتی نظام کارگر نہیں ہوگا۔ ایسے معاملات میں ، شراکت میں کام کرنے کے لئے خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد اسلامی بینکوں کی مصنوعات موجود ہیں۔

    اگر پاکستان میں اسلامی مالی عدالتیں الگ سے شروع کی جائیں تو بہت سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی ، مالیاتی معاملات کا فیصلہ مالیاتی جج کے ذریعہ خالص اسلامی بنیادوں پر کیا جائے گا اور پاکستان اس میدان میں سبقت لے گا۔

  • سندھ کے سرکاری ملازمین رل گئے عقیل  تحریر:احمد راجپوت

    سندھ کے سرکاری ملازمین رل گئے عقیل تحریر:احمد راجپوت

    عید سے پہلے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سرکاری ملازمین کی عید الضحیٰ کی خوشیاں ماند پڑ گئی وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے عید الضحیٰ سے قبل تنخواہیں اور پنشن دینے کا اعلان کیا گیا تھا مگر افسر شاہی نے محکمہ میں موجود ملازمین سے زیادہ ٹھیکیداروں کو عزت بخشی اور فنڈ ہونے کے باوجود ملازمین کی خوشیوں کا خیال رکھنے کی بجائے ٹھیکیداروں کو پیمنٹ کردی گئی کمیشن تنخواہوں سے کہا ملتا سندھ سرکار پورا سال پروڈنٹ فنڈ مزدوروں کی تنخواہوں میں سے کاٹ کر اس کے مانگنے پر دینے کی پابند ہے مگر سندھ کے محکموں میں خدمات انجام دینے والے ریٹائرڈ ایمپلائز سالوں سے ریٹائر ہونے کے باوجود اپنے فنڈز کے لئے چکر لگا رہے ہیں کچھ خود کشیاں بھی کر چکے اور کچھ اپنے حق کے لئے نعرے لگاتے ہوئے اپنی جان کی بازی ہار گئے مگر اپنا اور اپنے بچوں کا حق بھٹو سرکار سے وصول نہیں کر سکے افسران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر بس ہو جائے گا کا راگ الاپنے کی تنخواہیں وصول کر رہے ہیں مہنگائی کے اس دور میں تنخواہوں میں پورا مہینہ گذارا ہوجائے یہ ہی بڑی بات ہے یہاں تو اپنے فنڈز کے حصول کے لئے بھی سالوں انتظار کرنا پڑرہا ہے کوئی ہے جو ملازمین کی خوشیوں کو پورا کرنے میں مدد کرے

  • بلڈ ڈونیشن اور معاشرے کے صورتحال۔   تحریر: اعزاز شوکت

    بلڈ ڈونیشن اور معاشرے کے صورتحال۔ تحریر: اعزاز شوکت

    انسان کے اندر جب احساس انسانیت ہوتا ہے تو وہ دوسروں کی مدد کرتا ہے ، مدد کرنے کے بہت سے طریقے ہیں ان میں سے ایک ” خون کا عطیہ ” ہے ۔ اس وقت پاکستان میں کافی تعداد میں والنٹیرز بلڈ سوسائیٹیز کام کر رہی ہیں ۔

    میں خود بھی اپنے چند دوستوں کے ساتھ ان بلڈ سوسائیٹیز کا حصہ ہوں ، بلڈ ارینج کرنے میں جو مشکلات پیش آتی ہیں آئیں آپکو ان کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں کہ لوگوں میں شعور بیدا ہو :_

    لوگ ہمیں کال کر کہ یا میسج بھیج دیتے ہیں کہ ہمیں اس گروپ کا خون چاہیے آپ ارینج کر دیں ہم اس پہ ورک شروع کر دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ارینج کردیں ، اس میں ہمارے معاشرے کی کہاں پہ غلطی ہے آئیں آپکو بتاتے ہیں ۔

    تھیلسیمیا، کینسر اور ایکسیڈنٹ کے مریض خون کے اصل حقدار ہوتے ہیں ، تھیلیسیمیا میں تو پہلے ایک ماہ بعد خون لگتا پھر 15 دن بعد پھر 3 دن اور کبھی کبھی ہر 2 گھنٹے بعد ایک بوتل خون کی ہائے اللہ 💔۔

    جو لوگ ہمیں بلڈ کیس بھیج رہے ہوتے ہیں ان کے اپنے خاندا میں بھی افراد موجود ہوتے ہیں اور ان کا بھی کوی نہ کوی بلڈ گروپ ہوتا ہے ، لوگوں کو چاہئے کہ اگر ان کے کسی عزیز و اقارب کو خون چاہیئے تو سب سے پہلے اپنے خاندان، رشتہ داروں سے پتہ کریں اگر کسی کا بلڈ گروپ میچ نہ کرے پھر لاسٹ آپشن کے طور پہ بلڈ سوسائیٹی والوں سے رابطہ کریں ۔

    اسی طرح اکثر لوگ ڈلیوری کیسز بھیج دیتے ہیں کہ ہمیں ارینج کر دیں ، ان سب سے گزارش ہے کہ ڈلیوری میں ساری صورتحال واضح ہوتی ہے 2 خاندان کے افراد ہوتے ہیں لوگ اپنوں کو چھوڑ کر باہر والوں کو کہتے ہیں خون ڈھونڈ دیں ۔

    ایک دوست بتاتے ہیں وہ 5 بہن بھائ تھے اور وہ سب تھیلیسمیا کے مریض تھے اور صرف وہ ایک زندہ رہا ، ایک رات ہوسٹل میں تھے کال آئ کہ ہمیں چھوٹے بچے کے لیے خون چاہیے پھر وہ اور میں رات 1 بجے ہسپتال گئے ، جب خون ارینج ہو جاتا ہے تو جو مریض کے گھر والے دعائیں دیتے ہیں ویسی راحت جہاں بھر میں کہیں بھی نہیں ہوتی۔

    خدارا لوگوں دوسروں کا خیال کرو خون کے اصل حقداروں تک خون پہچانے میں اپنا کرداد ادا کرو۔
    @Zee_PMIK

    @Zee_PMIK

  • ذرا سوچیے تحریر: محمد مبین اشرف

    ذرا سوچیے تحریر: محمد مبین اشرف

    ‏پاکستان میں موبائل فون سوشل ایپلیکشن جہان عام ہوئی وہاں نئ نسل نے اپنے شوق کو زریعہ معاش بنایا ۔۔۔ یوٹیوب چینلز اور ٹک ٹاک سٹارز نے مختلف ویبز پر پیڈ پروموشن سے کمایا ۔۔۔ ان ایپس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر ہر تیسرا بندہ اپنے اکاونٹ نہ صرف بنا رہا بلکہ الٹی سیدھی حرکتیں کر کے مشہور ہونے کی لالچ میں بھی مبتلا ہے شہرت کا نشا ایسا چڑھا کہ کہیں ٹک ٹاکر بیوی اپنے خاوند کے انتقال کی جھوٹی خبریں چلا رہی ہیں تو کہیں لڑکے لائکس اور فالوورز بڑھنے کے لئے اپنی بہنوں کو نچا رہے ہیں، کہیں لڑکے پبلک پليسز پر اس طرح سے ویڈیو بناتے ہیں کہ کوئی عزت دار گھرانے کی لڑکی کی بھی ساتھ میں ویڈیو بن جاتی ہے جس سی ان کو تو لائکس، ویوز اور فالوورز مل جاتے ہیں لیکن اُس شریف گھرانے کی لڑکی پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور اس کی عزت اُس لڑکے کے لائکس،ویوز حاصل کرنے کی بیہودہ حرکت سے خاک میں مل جاتی ہے اور کہیں یوٹیوبر جھوٹی ویڈیوز بنا کر ، ایک دوسرے کو گلام گلوچ کر کے، ایک دوسرے کے خلاف بول کر ویوز اور لائک کی تمنا کر رہے ٹک ٹاک اور یوٹیوب کی صارفین آپ یہ ایپ استعمال ضرور کریں لیکن ایک ضروری بات جو توجہ طلب ہے کوئی بھی فلم گانا ڈرامہ چل رہا ہوتا آپ لوگ کمیٹ میں اللہ اور رسول کے واسطے دے رہے ہوتے حج عمرہ کی دعائیں مسلمان ہونے کے ثبوت مانگے جارہے ہوتے یا والدین کی لمبی عمر کی دعائیں دی جارہی ہوتی ۔۔۔۔
    زرا نہیں پورا سوچئے گا یہ آداب واحترام ہے آپ لوگوں کے دلوں میں ان ہستیوں کا یہ دیکھا رہے دنیا کو آپ ۔۔۔ زبانی عشق رسول کے دعوے چھوڑیے ۔۔۔۔ کسی نے آپ سے ثبوت نہیں مانگا ۔۔۔۔ خدارا احترام لازم کیجئے ۔۔۔ لائک ویوز کیلئے کوئی یہ نام استعمال نہ کریں۔

    اور دوسری بات یہ کا لوگوں نے فیسبک پر پوسٹس کی ہوتی ہیں کہ جو بھی مسلمان ہیں وہ اسے شیئر کریں یہ پھر پوسٹس ہوتی ہیں کہ ایک بار ،تین بار یہ دس بار اللہ لکھیں جو نہیں لکھے گا وہ مسلمان نہیں اور وہ شخص اللہ سے پیار نہیں کرتا تو بھائی یہ غیر مسلم لوگ ہوتے ہیں جو ایسی پوسٹ کر کر کے ہماری ایمانی غیرت کو کم کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں اس سے وہ ہمارا ایمان کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ان کی ایسی باتوں میں آ جاتے ہیں تو بھائی ایسے نہ کیا کریں بلکہ اس پوسٹ کو جس میں ایسا کچھ لکھا ہے تو ایسی آئی ڈی کو رپورٹ کر دیں یہ پھر اس پوسٹ کو رپورٹ کر دیں تاکہ وہ پوسٹ آگے سے آگے نا جا سکے بلکہ یہ پروپیگنڈہ یہی ختم ہو جائے نا کہ اسی آگے سے آگے شیئر کریں اور ان کو اپنے مقصد میں کامیاب ہونے دیں لہٰذا ایسی پوسٹ دیکھیں تو اسی وقت رپورٹ کر دی جائے۔
    یہ پھر وٹس ایپ کے میسیجز بنائے ہوتے ہیں کہ اس پوسٹ کو پانچ گروپس میں سینڈ کرو یہ پھر اپنے بیس کانٹیکٹس کو سینڈ کریں جو سینڈ کرے گا اس کے گھر اس ہفتے میں خوشی آئے گی یہ آپ کی کوئی دعا قبول ہو جائے گی اور اگر آپ اسے آگے شیئر نہیں کریں گے تو آپ کی دعا قبول نہیں ہو گی یہ پھر اس ہفتے میں کوئی بری خبر آئے گی۔
    تو میرے پیارے بھائی بہنوں دینے اور لینے والی ذات صرف اور صرف ایک ہے اور وہ ذات اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لہذا اسی پوسٹ کو آگے شیئر نا کیا کریں بلکہ جس نے آپ کو سینڈ کی ہو اس سے بات کریں اُسے سمجھیں کا ایسی پوسٹ آگے شیئر نہ کیا کریں

    میری باتوں کے بارے میں ذرا سوچیے گا ضرور۔ شُکریہ

    @Its_MuBii

  • خواجہ سرا بھی انسان ہیں  تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    خواجہ سرا بھی انسان ہیں تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    ہمارے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سے بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ با حثیت قوم ہم خواجہ سراؤں کے حقوق کا ہر ممکن تحفظ کریں گے لیکن عمل درآمد ناپید
    پاکستان میں خواجہ سراؤں کو سماجی رویے سمیت تعلیم اور صحت کے میدان میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے
    ایسا کیوں کیا وہ انسان نہیں ؟
    یا ان کی پیدائش پر انکا اختیار تھا ؟
    خواجہ سرا دنیا بھر میں اپنی قابلیت سے اپنی پہچان بناتے ہیں تعلیم کے شعبے میں سائنس و ٹیکنالوجی ڈرامے فلم ماڈلنگ انجینئرز ہر شعبے میں نظر آتے ہیں لیکن ہمارے ہاں منظر یکساں تبدیل ہے
    سڑکوں پر چہروں پر میک اپ لگائے ٹریفک سگنلز پر کمر پر ہاتھ رکھے بے ہنگم آوازوں میں گانے گاتے کھڑی گاڑیوں کے ادھ کھلے شیشیوں پر جھک کر عجیب و غریب حرکات کرتے نظر آتے ہیں اور یہ سب صرف پیسہ کمانے کے لئے اپنی ذات کی تذلیل سہتے ہیں
    اس لیے کہ ان کے والدین ان کو اپنانے سے قاصر ہوتے ہیں اس معاشرے کی باتوں اور تانوں سے کہ یہ ایک خواجہ سرا کے والدین ہیں کتنی شرم کی بات ہے حالانکہ اس میں انکا کوئی اختیار نہیں یہ اختیار صرف اور صرف اللہ تعالی کے پاس ہے
    اگر انہی خواجہ سراؤں کو اچھی تعلیم و تربیت مہیا کی جائے تو یہ ہمارے معاشرے کے لئے انتہائی کارآمد افراد ثابت ہوں
    پاکستان میں سب سے پہلے صوبہ خیبر پختونخوا نے پشاور میں خواجہ سراﺅں کے لئے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا جسکے ذریعے ہر ایک خواجہ سرا سالانہ پانچ لاکھ چالیس ہزار تک صحت سے متعلقہ سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں
    خیبر پختونخوا کی حکومت کی طرف سے لیا جانے والا یہ اقدام پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی کوشش تھی جس سے خواجہ سرا سرکاری اور حکومت کی طرف سے منتخب پرائیویٹ ہسپتالوں سے صحت کی مفت سہولیات بلا کسی تفریق مستفید ہو سکتے ہیں اسی سلسلے کے پیش نظر جامعہ کراچی نے بار پہلی بار پورٹل پر اپ لوڈ کیے جانے والے ایم فل/پی ایچ ڈی کے داخلہ فارم میں میل اور فیمیل کے ساتھ ساتھ “ٹرانس جینڈر” transgender (خوا جہ سرا) کا کالم بھی خصوصی طور پر شامل کردیا ہے ٹرانس جینڈر کا علیحدہ کالم شامل کرنے کی سفارش پورٹل بنانے والی ٹیم نے کی تھی
    جس سے ان خواجہ سراؤں کے لئے PHD کی ڈگری حاصل کرنے میں بلا کسی امتیازی سلوک کے داخلہ آسان ہو گا اسی طرح کی ایک خوب صورت مثال کُچھ روز پہلے ملتان سے سامنے آئی باہمت خواجہ سرا نے ناچ گانے اور بھیک مانگنے کےبجائے باعزت روزگار کو ذریعہ معاش بنا کر الگ اور روشن مثال قائم کی ہے
    سائيکالوجی ميں ماسٹر خواجہ سرا شانی نے نوکری نہ ملنے پر کوئی غلط راستہ اختیار نہیں کیا ناں خود کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑا، شانی نے ملتان میں چھوٹا سا ہوٹل بنا کر خودداری کی شاندار روایت کی بنیاد رکھ کر اس سوچ کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ خواجہ سرا کُچھ نہیں کر سکتے شانی کےہوٹل کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کام کرنے والے تمام افراد خواجہ سرا ہیں جو پہلے بھیک مانگ کر یا ناچ گانے سے اپنی گزر بسر کرتے تھے اسی طرح 2020 میں پی ٹی آئی حکومت کی ایک اور بہترین کاوش ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی خواجہ سرا کو محکمہ پولیس راولپنڈی میں تعینات کیا گیا
    ریم شریف نامی خواجہ سرا کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد محکمہ پولیس میں شامل کیاگیا تھا ۔خواجہ سراؤں کے حقوق کے حوالے سے سرگرم رہنے والی اور پولیس میں بھرتی ہونے والی ریم شریف کا اسکیل 14 ہے اور اسکی تنخواہ اس کے اسکیل کے مطابق ہے
    بی آئی ایس پی بورڈ کے 50ویں اجلاس کا اسلام آباد میں انعقاد
    اجلاس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ جن میں سے اہم فیصلہ بورڈ کی طرف سے تمام خواجہ سراوں کو احساس کفالت پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دینے کا ہے آہستہ آہستہ ہی صحیح ہم خواجہ سراوں کو انسان سمجھنے لگ گئے ہیں خدارا انسان کو انسان سمجھ کر عزت دیں ہم اس بات پر زرا برابر اختیار بھی نہیں رکھتے کوئی کالا ہے تو گورا کیوں نہیں کوئی چھوٹا قد رکھتا لمبا کیوں نہیں کوئی پتلا کیوں ہے موٹا کیوں ہے یہ مرد نہیں عورت نہیں تو کیا ہوا انسان تو ہے تو جب رب کریم کے محبوب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے حجتہ الوداع میں فرمایا
    "اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تم ایک باپ کی اولاد ہو لہذا
    کسی عربی کو کسی عجمی پر
    اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اِسی طرح کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر
    کوئی فضیلیت حاصل نہیں
    فضیلیت کا معیار صرف اور صرف تقویٰ اور پرہیز گاری ہے”۔

    @AmUsamaCh

  • قربانی کی روح   تحریر ؛صالح ساحل

    قربانی کی روح تحریر ؛صالح ساحل

    ہمارے ہاں قربانی کا موقعہ جب بھی آتا ہے یہ بحثیں جنم لیتی ہیں کے جانور ذبح کرنے کے بجائے فلاحی کاموں پر پیسے لگا دو واٹر کولر لگاوا دو تو ایسے لوگوں کے لیے میں صرف اتنا کہوں گا کے یہ لوگ قربانی کی اصل روح سے واقف نہیں کیونکہ بندے اور خدا کے درمیان زندہ تعلق قائم نہیں رہا اس لیے وہ قربانی کو ایک رسم کے طور پر لیتے ہیں حالانکہ یہ خالص بندے اور خدا کے درمیان تعلق کی آخری حد ہے قربانی کی روح بنیادی اپنے رب کے حضور اپنی جان قربان کر دینے کا جذبہ ہے اس جان کے قربانی کے فدیہ کے طور پر ہم جانور ذبح کرتے ہیں اور اس عہد کو دوبارہ سے زندہ کرتے ہیں کے اے ہمارے رب اگر تیری راہ میں جان بھی دینی پڑی تو پیچھے نہیں ہٹے گے اور یہی وہ قربانی تھی جو ابرہیم علیہ السلام نے دی مجھے حیرت ہوتی ہے کے ہمارے ملک میں جنگ ستمبر کے نام پر جشن منایا جاتا ہے یوم آزادی اور مارچ کی پریڈ پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں وہاں ہم یہ کہتے ہیں اس سے جذبہ پیدا ہوتا وطن کے لیے محبت بڑھتی تو میرا رشتہ میرے رب سے ماں باپ وطن جان سب سے بڑا ہے تو وہاں یہ جذبہ پیدا نہیں ہو گا اس لیے ایسے لوگوں سے التماس ہے کے قربانی صرف ایک رسم نے اپنے رب کے ساتھ زندہ تعلق کا اظہار ہے اور سب کچھ قربان کر دینے کا حتی کہ جان دے دینے کا جذبہ ہے برائے کرام اپنی خیالات پر نظر ثانی کریں
    @painandsmile334

  • دوستی تحریر : علی ملک

    دوستی تحریر : علی ملک

    ایک اچھا دوست انسان کے ہزار مطلبی دوستوں اور منافق دوستوں سے بہتر ہوتا ہے ۔
    پر آج کل انسان کو اچھا دوست ملنا بہت ہی مشکل ہے خصوصاً سوشل میڈیا پر اگر آپ کا ایک بھی اچھا دوست ہے تو آپ بہت خوش نصیب ہیں جو آپ کا ہر جگہ ساتھ دے آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے خلاف بات برداشت نا کر سکے ۔
    جہاں آپ پر بات آۓ آپ سے پہلے آپ کو سپورٹ کرنے کےلیے کھڑا ہو آپ کو اس پر اعتماد ہو کہ کوئی میرا ساتھ ہو یا نا ہو میرا دوست میرا ساتھ ہے ۔
    لیکن آج کل کے دور میں مطلب پرست لوگ بہت ہیں جیسے ہی آپ سے مطلب پورا ہوگا ویسے ہی ان کا آپ سے رابطہ بھی کم ہونے لگتا ہے پھر وہ پتلی گلی سے نکلنے والی کرتے ہیں۔
    کہتے ہیں جو برے وقت میں آپ کو پانی کا ایک قطرہ بھی پِلا دے آپ کو اس کا بھی احسان کبھی نہیں بولنا چاہیے اور جو برے وقت میں آپ کا ساتھ چھوڑ جاۓ اس کو بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کیونکہ صدا وقت ایک جیسا نہیں رہتا ۔
    دوست مظبوط ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کی دوستی کو ختم نہیں کر سکتی وہ مل کر بڑی سے بڑی مشکل کا بھی بآسانی مقابلہ کر سکتے ہیں ۔
    اگر آپ کا بیسٹ فرینڈ کبھی آپ سے کسی وجہ سے ناراض بھی ہو جاۓ تو انا غرور اور تکبر کو سائیڈ پر رکھ کر پرانا تعلق دیکھنا چاہیے ۔
    دوستی جیسا عظیم رشتہ دنیا میں کوئی نہیں لیکن جہاں جھوٹ بولا جاۓ اعتبار میں کمی ہو دوست کو دوسروں پر تقویت دی جاۓ غلط فہمیاں ہوں تو وہاں یہ رشتہ ڈھیلا اور کمزور پڑ جاتا ہے اور آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ جہاں آپ کا دوست خوش وہیں اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جاۓ اور آگے بڑھا جاۓ ۔
    آرٹیکل لکھنے کا مقصد یہی تھا کہ اس دور میں دوست بہت ملتے ہیں نھبانے اور وقت پر کام آنے والے اور دیکھاوا کرنے والوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔ کبھی آپ لوگوں کی طرف یا لوگوں کی باتوں میں آکر ایسا قدم نا اٹھائیں جس سے آپ ایک اچھے اور مخلص دوست سے محروم ہو جائیں ۔

    دل سے خیالِ دوست مٹایا نا جاۓ گا
    سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نا جاۓ گا

    @malik_No27

  • عمران خان مسیحا پاکستان   تحریر : نواب فیصل اعوان

    عمران خان مسیحا پاکستان تحریر : نواب فیصل اعوان

    پچھلے ستر سالوں میں پاکستان کو کوٸ ایسا لیڈر نہیں ملا جو پاکستان کی عالمی سطح پہ کھل کر نماٸندگی کرتا .
    ایک کرکٹر اپنی ایک جماعت کی بنیاد رکھتا ہے جس کا نام پاکستان تحریک انصاف رکھا جاتا ہے .
    ایسی جماعت جس کا منشور ہی پاکستان میں انصاف کو عام کرنا ہو ہر نچلے طبقے کیلۓ انصاف کی راہیں کھولنا ہو تاکہ پاکستان میں امیر غریب کے فرق کو ختم کرتے ہوۓ مساوات کو ترجیح دی جاۓ ..
    دنیا ہنستی ہے کہ ایک کرکٹر سیاست میں آگیا ہے بہت زیادہ مذاق اڑایا جاتا ..
    پھر دنیا دیکھتی ہے کہ وہی کرکٹر پاکستان میں شوکت خانم کی بنیاد رکھتا ہے اور لوگ اس کو جی بھر کے چندہ دیتے ہیں اور ایک روز شوکت خانم پاکستان کے ٹاپ کے اسپتالوں میں شامل ہوجاتا ہے جہاں پہ بنیادی سہولیات اچھے سے میسر ہوتی ہیں جہاں غریب عوام کو علاج کی بہتر سہولیات دی جاتی ہیں .
    وہ پاکستان کی سیاست میں ایک نمایاں ستارہ بن جاتا ہے لوگ اس کے قافلے میں جوک در جوک شامل ہوتے جاتے ہیں .
    23 سال کی انتھک کوششوں کے بعد وہ کرکٹر پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے .
    اب وہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے وزیراعظم پاکستان ہوتا ہے واضع اکثریت سے کامیابی کے ساتھ وہ ملک پاکستان کا وزیراعظم بن جاتا ہے ..
    ماٸک میں آواز گونجتی ہے کہ
    لیڈیز اینڈ جینٹلمین زوردار تالیوں کی گونج میں تشریف لا رہے ہیں
    پاکستان کی شان پاکستان کی آن
    ہمارے اور سب کے عمران خان
    ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے ..
    پھر دنیا دیکھتی ہے کہ یہ تو وہی کرکٹر ہے جس کا ہم نے مذاق بنایا تھا اور آج وہ وزیراعظم پاکستان کے اعلی منصب پہ فاٸز ہوتا ہے .
    پاکستان کو عالمی دنیا میں عمران خان کی وجہ سے خوب پذیراٸ ملتی ہے جو کفر کے ایوانوں میں ہر خطاب پہ
    الحمداللہ سے شروعات کرتا ہے جو دنیا کو پاکستان کا حقیقی چہرہ دکھاتا ہے جو بھارت امریکہ و پاکستان دشمن ممالک کو انکی اوقات دکھاتا ہے .
    جس کے ایک بیان پہ عالمی میڈیا کوریج دیتا ہے جس کے ایک ایک لفظ کو عالمی رہنما بڑے احترام و خاموشی سے سنتے ہیں .
    جس کو عالمی دنیا میں پاکستان کا سب سے زیادہ اثرورسوخ والا سیاستدان گردانا جاتا ہے .
    عمران خان مسلہ کشمیر ہو یا مسلہ فلسطین بھارت و اسراٸیل کو ہر عالمی فورم میں آڑے ہاتھوں لیتا ہے جو کشمیریوں پہ بھارتی جارحیت کے بارے میں عالمی دنیا کو آگاہ کرتا ہے جو فلسطینی بہن بھاٸیوں کی حمایت میں اسراٸیل کو آنکھیں دکھاتا ہے ..
    جو افغانستان میں قیام امن کیلۓ طالبان کو مذاکرات کی میز پہ لاتا ہے ..
    جو پاکستان میں کرپٹ افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لاتا ہے جو پاکستان کی لوٹی ہوٸ دولت پاکستان میں واپس لاتا ہے ریکوریز کراتا ہے جو پاکستان میں مافیا کو ایک آنکھ نہہں بھاتا .
    جو عوام دوست منصوبے لاتا ہے جو ہر تھوڑے وقت کے بعد عوام سے خطاب کرتا ہے اور اپنے منصوبوں کیلۓ عوام کو اعتماد میں لاتا ہے .
    جو غریبوں اورمظلوموں کے مساٸل خود ڈاٸریکٹلی سنتا ہے
    جو پاکستان میں انصاف کے حصول کو ممکن بنانے اور ہر پاکستانی کی چوکھٹ پہ انصاف کی فراہمی کو ممکن بنانے کیلۓ جدید ایپس متعارف کراتا ہے جو انصاف کے حصول کو ہمارے ایک ٹچ پہ میسر کر دیتا ہے .
    جس کو ہٹانے کیلۓ عالمی سازشیں ہوں یا ملکی دشمن انتشار پھیلاٸیں وہ بڑے تحمل و بردباری سے تمام مساٸل کا حل نکالتے ہوۓ ہر سازش کو ناکام بناتا ہے .
    اس کی عوامی مقبولیت یہ ہے کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ و پاکستان کی غریب عوام اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے وہ جہاں قدم رکھتا ہے وہاں عوام کا سیلاب امڈ آتا ہے .
    جو امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کر دیتا ہے .
    جو پاکستان کی گرتی معیشت کو اسٹیبل کرتا ہے جو کرنٹ خسارہ سرپلس کرتا ہے جو عوام دوست بجٹ لاتا ہے جو عوام کو ان کی بنیادی سہولیات دینے کیلۓ دن رات ایک کرتا ہے جو کرپشن کا الزام بھی لگنے پہ وزیروں مشیروں کو ہٹا دیتا ہے
    ایسا سیاستدان واللہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے .
    ایسا سیاستدان پاکستان کا مسیحا ہے اور یاد رکھو
    ” جس نے اپنے مسیحا کی قدر نہیں کی وقت نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ".
    @NawabFebi

  • عنوان: گھی مافیا تحریر: ملک شیراز

    عنوان: گھی مافیا تحریر: ملک شیراز

    پاکستان میں ہمیشہ سے جب بھی مافیاز کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلے آٹا مافیاز یا چینی مافیاز کا نام آتا ہے۔۔ سب سے ذیادہ کریک ڈاون بھی انہی پر ہوتا ہے۔۔ جو کہ ٹھیک بھی ہے کیونکہ یہ لوگ بھی بے جا منافع خوری سے باز نہیں آتے۔

    لیکن کیا کبھی آپ نے کسی کے منہ سے گھی مافیا کا نام سنا ہے؟؟؟

    نہیں نا، وجہ؟؟؟
    گھی بھی تو دن بدن مہنگا ہوتا جارہا ہے،2 سال پہلے تک مشہور برینڈ جیسا کہ ڈالڈا کا کلو گھی کا پیکٹ 180 روپے میں مل جایا کرتا تھا۔۔۔ اب اسی کی قیمت 300 روپے ہے۔۔۔۔

    آئل 190 کا تھا،وہ 320 کا ہوا ہے۔۔۔

    مطلب ایک۔کلو گرام کے لئے 100 سے ذیادہ کا اضافہ صرف 2 سال میں۔۔۔
    کیا یہ مافیا اتنا بڑا ہے جس سے کوئی ٹکر نہیں لے سکتا؟؟؟
    یا کہ ایسی کونسی مجبوریاں ہیں ہماری کہ ہم ان کے خلاف نہیں بول سکتے۔۔۔

    ہر حکومت آتے ہی سب سے پہلے یہی کہتی ہے آٹا ملز مالکان اپوزیشن پارٹی سے ہیں،چینی ملز مالکان یہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔

    کبھی ہمیں یہ بھی تو بتائیں کہ یہ گھی ملز مالکان کہاں سے تعلق رکھتے ہیں؟؟؟
    ایسی کیا وجہ ہے کہ یہ حکومت کے کنٹرول سے بلکل باہر ہوچکے ہیں۔۔۔کیا گھی ملز کے مالکان آٹا اور چینی ملز والوں سے ذیادہ طاقتور ہیں؟؟؟
    یا کہ ان کا تعلق پاکستان سے نہیں؟؟؟
    اگر ایسا مان بھی لیا جائے کہ ان کا تعلق پاکستان سے نہیں تو کیا حکومت دوسرے ملک کے بزنس مینز کو پاکستان کو کھل کر لوٹنے کا موقع دے گی؟؟؟

    عجیب اتفاق ہے یہ۔۔۔
    ہمیں انتظار رہے گا کہ کب اس گھی مافیا پر کریک ڈاون ہوتا ہے۔۔۔ کب گھی مافیا کو اس کی اوقات میں لایا جاتا ہے۔۔

    اپ سب بھی اس کے خلاف اپنی آواز ضرور بلند کریں ۔۔۔

    @MShirazOfficial