Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • آخر اور کتنے گھر اجڑیں گے..  تحریر: احمد فراز

    آخر اور کتنے گھر اجڑیں گے.. تحریر: احمد فراز

    ابھی خبر دیکھی کہ بس اور ٹریلر کے حادثہ میں 40 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 30 مسافروں کی حالت تشویشناک ہے اتنی جانوں کے نقصان پر افسوس تو ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک یہ بات ہے کہ ایسے واقعات آئے روز ہوتے رہتے ہیں لیکن ہم تھوڑی دیر بعد بھول جاتے ہیں اور ان واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے…

    لیکن ہم شروع کریں بھی تو کہاں سے

    ڈرائیور حضرات اندھا دھند تیز رفتار سے گاڑیاں چلاتے ہیں اس پر تشویشناک بات تو یہ ہے کہ 90 فیصد ڈرائیور کسی نا کسی طرح کے نشہ کے زیر اثر ہوتے ہیں پھر بسوں کی حالت بھی قابل رحم ہوتی ہے چالیس پچاس سال پرانی بسیں اس قابل کہاں رہ جاتی ہیں کہ وہ ہزار بارہ سو کلومیٹر روزانہ چلائی جا سکیں پھر ہمارے ہاں گاڑیوں کی جانچ پڑتال کر کے سرٹیفکیٹ دینے کا نظام بھی بہت کمزور ہے اکثر تو گاڑیاں گھر بیٹھے ہی پاس ہو جاتی ہیں اور پھر رشوت دو بیشک بس کے نام پر چھکڑا بھی پاس کروا لیں
    ٹریفک کنٹرول سسٹم بھی تو ہمارے ہاں ناکارہ ہے لائسنس رشوت دیکر بن جاتے چاہے کوئی اندھا بنوا لے اور ٹریفک پولیس تو لگتا بس چالان کاٹنے اور رشوت لینے کیلئے ہے ٹریفک کی بہترین روانی اور محفوظ سفر کیلئے یہ کہیں دکھائی نہیں دیتے…
    پھر بحیثیت ڈرائیور ہم سب بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیلمیٹ پہننا، سیٹ بیلٹ لگانا،رفتار کا خیال رکھنا اور ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا ہمیں بے عزتی محسوس ہوتی ہے

    اب تو ہمیں سمجھنا ہو گا اور ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا حکومت اور متعلقہ اداروں کو نظام بہتر بنانا ہو گا اور عام عوام کو بھی با شعور ہونا اور قوانین کا پابند ہونا ہو گا تبھی ہم اپنے سمیت کئی گھر اجڑنے سے بچا سکتے ہیں

  • حکمران اور ہماری عوام تحریر:  زوبیہ سدوزئی

    حکمران اور ہماری عوام تحریر: زوبیہ سدوزئی

    اپنی عوام کو حکمرانوں سے پیار کرتے دیکھتی ہوں تو اک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا یہ حکمران بھی عوام سے اتنا پیار کرتے ہیں؟ ہر بار الیکشن آتے ہیں اور ہر بار عوام کو جھوٹے لارے لگا کر بےوقوف بنایا جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے غریب اور معصوم عوام جو روزی روٹی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں ان کی نفسیات پڑھ لی ہیں۔ اک غریب آ دمی جس کے گھر پانی تک فراہم نہیں اس کے علاقے کا امیدوار وہاں جائے گا اور اسے پانی اور پائپ کا لالچ دے کر ووٹ حاصل کر لے گا۔ اک غریب آدمی جس کے گھر کھانے کو کچھ نہیں وہاں کا امیدوار کچھ اناج اور پیسوں کا لالچ دے کر اس سے ووٹ لے لے گا۔ کیا عوام نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اگر ہم سے یہ پیار کرتے ہوں تو یہ صرف اور صرف ووٹ مانگنے کے ٹائم ہی ہمارے پاس آتے ہیں؟ کیا عوام نے کبھی یہ سوچا کہ جو لوگ موروثی سیاست سے آگے آئے ہیں جو سونے کا چمچ لے کے پیدا ہوئے ہیں انہیں غریب کے درد کا اس کی مشکلات کا کیسے احساس ہو گا؟ مریم نواز اور بلاول جیسے لیڈر کیسے ان کا احساس کر سکتے ہیں اک جس کا سب کچھ لنڈن میں ہے اور دوسرا جسے اپنی مادری زبان تک بولنا نہیں اتی۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جس نے کوشش کی ہو جو محنت کر کے آگے آ یا ہو وہی اپنی عوام کا درد رکھ سکتا ہے۔ اس لیے ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ جس کو آپ ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں کیا وہ آپ کے مسائل حل کر سکے گا یا نہیں۔ وہ اس ملک کے لیے کام کر رہا ہے یا صرف اپنی کرسی کے لیے اور دولت کے نشے لوٹنے کے لیے۔

  • عید_قرباں اظہارِ قربت ہے اور شکر رب العالمین کا زریعہ ہے تحریر: انجینئر مدثر

    عید_قرباں اظہارِ قربت ہے اور شکر رب العالمین کا زریعہ ہے تحریر: انجینئر مدثر

    عید قرباں ہے ہر سو ہر جگہ اسی کی برکتیں دکھائی دیتی ہیں. کہیں بکروں کی رونقیں تو کہیں بچھڑوں کے پاؤں میں بندھے کھنکتے گھنگطروں کی چھنکاریں ہیں. کہیں عید کی نماز کے بعد قربانی شروع تو کہیں قصائی کا انتظار جاری ہے.
    اس سب کشمکش میں ایک اہم کام جو کرنے کا ہے اور جو عید کے مقاصد میں سے ایک ہے وہ ہے خوشیاں بانٹنا اور گلے شکوے بھلا کر پھر سے متحد ہونا. ٹوٹے تعلقات کی از سرنو بحالی اور کمزوروں کا احساس.

    *قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے پیچھے مقصد بھی تو یہی ہے.*
    اپنے حصے کے بعد رشتاداروں اور دوست احباب کو جو حصہ دیا جاتا ہے یہ وہ تحفہ ہوتا ہے جو پرانی رنجشوں کو مٹانے اور از سر نو رشتوں کی تکمیل کے لیے انتہائی کارآمد نسخہ ہے

    *بلا شبہ شریعت کی ہر ایک چیز میں بھلائی ہی بھلائی ہے*
    رشتہ داروں میں سے ٹوٹے دلوں پر مرہم رکھنا عید کے کاموں میں اہم کام ہے.
    تیسرا حصہ غریبوں مسکینوں اور ان لوگوں کے نام جو قربانی میں شریک ہو کر اپنی قربانی نا کر سکے. دیں اسلام کی خوبصورتی ہی یہی ہے ہر کسی کو خوشیوں میں شامل کرنے کی ترغیب دیتا ہے. تاکہ کسی کے دل میں مفلسی یا مجبوری کا خیال تک نا رہے اور ہر مسلمان خوشی خوشی عید کی خوشیاں منا سکے. غریبوں کا غریب ہونا ان کا اپنا اختیار ہرگز نہیں یہ تو اللہ رب العزت کی تقسیم ہے جسے چاہے امیری دے اور جسے چاہے غریبی. جسے چاہے مں کی امیری اور خرچ کرنے کا جزبہ دے اور جسے چاہے من کی غریبی اور کنجوسی.
    اگر ہم فراغ دلی کا مظاہرہ کریں تو رب تعالیٰ پسد فرمائے گا اور مزید برکتیں عطا فرمائے گا.
    اللہ رب العزت نے اپنی پاک کتاب میں ارشادفرمایا.
    سورۃ ابراہیم آیت نمبر 7.
    وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ
    اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا
    حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جسے شکر کرنے کی توفیق ملی وہ نعمت کی زیادتی سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ‘‘ یعنی اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ جسے توبہ کرنے کی توفیق عطا ہوئی وہ توبہ کی قبولیت سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے’’وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ‘‘ یعنی اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے ۔ (در منثور، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۷، ۵ / ۹)

    (2)… حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللّٰہ تعالیٰ کابھی شکر ادا نہیں کرتا اوراللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ (شعب الایمان، الثانی والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی المکافأۃ بالصنائع، ۶ / ۵۱۶، الحدیث: ۹۱۱۹)

    (3)…حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے، جب وہ شکر کریں تو اللّٰہ تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ نا شکری کریں تو اللّٰہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔ (رسائل ابن ابی دنیا، کتاب الشکر للّٰہ عزّوجلّ، ۱ / ۴۸۴، الحدیث: ۶۰)

    (4)…سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی ’’اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ‘‘ یعنی اے اللّٰہ ! عَزَّوَجَلَّ، تو اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ (ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، ۲ / ۱۲۳، الحدیث: ۱۵۲۲) اللّٰہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں کثرت کے ساتھ اپنا ذکر اورشکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اوراپنی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے محفوظ فرمائے ، اٰمین۔([1])
    عید ہمارے لیے پیغام محبت لاتی ہے. لہٰذا محبت بانٹیں. گوشت کے ساتھ ساتھ مخلصی کو فروغ دیں. رشتوں میں پیار بڑھائیں. اپنی شادی شدہ بہن بھائیو کے گھر ضرور جائیں عید کی خوشیوں کو گقشت کے ساتھ تقسیم کریں. اپنے بچوں میں اپنے رشتہ داروں کی محبت کو پروان چڑھائیں. ان کے دلوں میں بڑوں کی تعظیم کا بیج بوؤیں.

    یتیم اور مسکین سے شفقت والا معاملہ کریں. ایسا نہ ہو کہ آپ کا اندازِ تقسیم کسی کے لئیے باعثِ تقلیف بن جائے. عید خوشیاں بانٹنے کا نام ہے اس لئے اس کے اصل مقصد کو ملحوظ خاطر رکھا جائے. کیونکہ یہ رضا الہی کے لیے قربانی کی جاتی ہے تو رضا الہی والے اعمال سے ہی اس عید کو منائیں. ٹوٹے تعلق جوڑیں محلے داروں رشتہ داروں دوستوں یاروں اپنے پیاروں میں خوشیاں بانٹیں. دکھ مٹائیں. احساس اور نرمی والا معاملہ کریں اور عید منائیں.

  • عید الاضحیٰ  تحریر: تبسم بلوچ

    عید الاضحیٰ تحریر: تبسم بلوچ

    دین اسلام انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اسلام نے جہاں عبادات اور بندگی کا تصور دیا ہے وہیں انسانی فطرت کے عین مطابق تفریح کے مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔ ہر مذہب کے ماننے والے تہوار مناتے ہیں۔ الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو اسلامی تہوار عطا فرمائے ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحی۔ یہ تہوار اسلامی اقدار و روایات کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کی جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے خوشی اور مسرت کا اظہار ہوتا ہے۔
    عید الاضحیٰ مسلمانوں کی بڑی عید ہے۔اس عید کو ماننے کا مقصد حضرت ابرہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یاد کو تازہ کرنا ہوتا ہے۔ اس دن تمام صاحب استطاعت مسلمان قربانی کرتے ہیں۔اس عید کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام کو خواب نظر آیا کہ اپنی سب سے پیاری چیز راہ خدا میں قربان کریں۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے صبح اٹھ کر سو اونٹ راہ خدا میں قربان کر دیے۔ دوسری رات پھر وہی خواب آیا۔ آپ نے پھر صبح اٹھ کر مزید سو اونٹ قربان کردئے۔ تیسری رات پھر آپ کو پھر اپنی پیاری چیز راہ خدا میں قربان کرنے کا حکم ہوا۔ اس بار آپ سمجھ گئے کہ مجھے سب سے زیادہ پیارے حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ میری عزیز ترین چیز یعنی حضرت اسماعیل ع کی قربانی چاہتا ہے۔
    حضرت ابرہیم علیہ السلام نے اپنا یہ خواب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سنایا اور پوچھا کہ "بیٹا تمہارا کیا خیال ہے”
    حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ ابا جان اللّٰہ نے جو حکم آپ کو دیا ہے اس کو پورا کیجئے۔
    حضرت ابرہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کا جواب سن کر خوش ہوئے اور ان کو ساتھ لے کر جنگل کی طرف گامزن ہوئے۔ راستے میں شیطان نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بہکانےکی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ جنگل میں پہنچ کر اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے زمین پر لٹا دیا۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی اور پھر اللّٰہ کا نام لے کر چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چلا دی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کی جگہ دنبے کو بھیج دیا اور ذبح ہوگیا۔ جب حضرت ابرہیم ع نے آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو حضرت اسماعیل ع جو صحیح سلامت پایا اور خوش ہوگئے۔
    یہی وہ قربانی تھی جو اللّٰہ تعالیٰ نے قبول کی اور اس قربانی کی یاد میں ہر سال دنیا بھر کے مسلمان 10 ذولحجہ کو راہ خدا میں جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔

    @taBaloch110

  • پرانے وقتوں کی بکرا عید  اور جدید وقت کی عید میں فرق تحریر: سید عمیر شیرازی

    پرانے وقتوں کی بکرا عید اور جدید وقت کی عید میں فرق تحریر: سید عمیر شیرازی

    پہلے وقتوں میں عید کے تہواروں کا الگ ہی مزہ ہوتا تھا چاہے بڑا ہو چھوٹا ہر ایک میں ایک دوسرے کیلئے بے پناہ محبت ہوا کرتی تھی اور تہواروں میں تو مزہ آجاتا تھا ایک دوسرے کے گھروں میں جانا آپس میں اپنے کام بانٹنا واہ کیا وقت تھا وہ بھی۔۔۔۔
    آج تو تہواروں پر واٹس اپ پر عید مبارک کا میسج لکھا اور سب کو فارورڈ کردیا جاتا ہے عید کی خوشی اب ایک فارورڈ میسج تک محدود رہ گئی ہے جسے جسے وقت گزرتا جارہا ہے آپسی محبت اور بھائی چارہ ختم ہوتا جارہا ہے،
    کاش کے وہ پرانا وقت واپس آجائے پہلے کی طرح ہم ان تہواروں کو خوشی خوشی منا سکیں اپنے بڑوں بزرگوں کو عید ملنے جائے اور ان سے دعاؤں کا نہ رکنے والا سلسلہ کاش کے دوبارہ شروع ہو جائے۔۔
    آج کل تو ہم اتنے مصروف ہوگئے ہیں اپنی اپنی زندگیوں میں کہ اپنے گھر کے بزرگوں سے دو منٹ بیٹھ کر بات تک نہیں کرتے پہلے تو عید پر حال احوال لیا کرتے تھے اب تو ایک فون کال پر ہی تہوار منائی جاتی ہے وقت کا پہیہ تیزی سے گزرتا چلے جا رہا ہے کہ ہمیں اپنے آس پاس کا پتہ تک نہیں چل رہا اس عید کو پہلے کی طرح سب ملکر کام کاج چھوڑ کر اپنے گھر والوں کے ساتھ منائیں اس سے جو خوشی حاصل ہوگی وہ خوشی کہی اور نہیں مل سکے گی۔

    @SyedUmair95

  • عنوان: پردیس کی عید تحریر: محمداحمد

    عنوان: پردیس کی عید تحریر: محمداحمد

    پردیس کی عید کی خوشی وہی جان سکتے ہیں جو پردیس میں رہتے ہیں اپنے ماں باپ بہن بھائیوں سے دور پردیس کی زندگی بہت کٹھن ہوتی ہے
    نماز پڑھ کے آکر سواۓ سونے کے کوئی کام نہیں ہوتا یہی پردیس کی زندگی ہوتی ہے

    پردیس میں عید کے موقع پر کوئی جوش و خروش جزبہ نہیں ہوتا سب اپنی اپنی دُھن میں مگن ہوتے ہیں کوئ کسی کے ساتھ خندہ پیشانی سے نہیں ملتا نماز پڑھ کر گھروں کو لوٹ جاتے ہیں جبکہ اپنے دیس میں عید کے نماز پڑھ کر سب اپنے بہن بھائیوں رشتے داروں میں ملنے ملانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے

    مگر بڑا افسوس اور دُکھ ہوتا ہے پردیس میں آکر کہ گھر ویران نظر آتا ہے نہ کسی سے کوئی دکھ سکھ کر سکتا ہے نہ کسی کو دل کا حال احوال بتا سکتا ہے اپنے ہی جزبات اور احساسات اپنے سینے میں جذب کرلیتا ہے اگر کوئی پردیسی جب خیریت دریافت کرتا ہے تو گھر والے دکھ والی بات نہیں شئیر کرتے کہیں زیادہ دکھ نا ہو بچے کو کیونکہ وہ پردیس میں ہے اس کے پاس کوئی اپنا نہیں ہے

    لیکن پردیسی کی اُس پریشانی کا مداوا کیا ہوگا جس کے گھر دکھ کی گھڑی سے گزر رہا ہے جو پردیس میں بیٹھ کر سواۓ سسکنے کے کوئی کام نہیں کرتا وہ مجبور اور لاچار ہوکر بیٹھا رہتا ہے
    کبھی ہنس کر کبھی رو کر وقت گزار لیتا ہے یہی اس کی زندگی کی داستان ہے
    دعا کریں اللہ پاک پردیسوں کو ہمت حوصلہ دے وہ سب اپنے اہل و عیال کی خاطر پردیس میں ہیں اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین

    @JingoAlpha

  • آئیے جانتے ہیں کہ ” تکبر ” کیا ہے ؟ تحریر: محمد اویس

    آئیے جانتے ہیں کہ ” تکبر ” کیا ہے ؟ تحریر: محمد اویس

    تکبر کی سادہ سی تعریف یہ ہے کہ خود کو افضل (یعنی بڑے مرتبے والا) اور دوسروں کو حقیر جاننا ۔
    تکبر ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کی عقل کو زائل کر دیتا ہے اور انسان اپنی اوقات بھول جاتا ہے کہ آیا اُسے کس چیز سے پیدا کیا گیا تھا؟؟
    متکبر انسان اللہ کی بارگاہ میں تو مردود ہوتا ہی ہے،
    لیکن
    متکبر انسان دنیا داروں کی نظروں میں بھی مردود ہوتا ہے۔ کوئی بھی معاشرے میں ایسا فرد نہیں ہوتا جو متکبر انسان کو پسند کرتا ہو ، بظاھر تو لوگ متکبر شخص کے شر سے بچنے کیلئے "سیٹھ صاحب ، چوہدری صاحب ، ملک صاحب اور فلاں صاحب ” کے القابات سے پکار رہے ہوتے ہیں لیکن جیسے یہ "فلاں صاحب” وہاں سے رخصت ہوتے ہیں تو معاشرے کے یہی لوگ اس بدنصیب شخص کی برائیاں کر رہے ہوتے ہیں، اگر کوئی شخص پیٹھ پیچھے برائی نہیں بھی کرے تو دل میں بُرا تو ضرور جانتا ہے۔
    آئیے متکبر کے دنیاوی مقام کے بعد ہم جانتے ہیں کہ متکبر کا اللہ کے ہاں کیا مقام ہے ؟؟
    اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے
    ترجمہ:
    "اب جہنّم کے دروازوں میں جاؤ کہ ہمیشہ اس میں رہو تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا۔”
    (سورہ النحل آیت نمبر 29)

    ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا
    ترجمہ :
    "بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔”
    (النحل آیت نمبر 23)
    ذکر کی گئی دونوں آیات میں اللہ نے متکبر انسان کی مذمت فرمائی ہے ایک آیت میں جہنم کی وعید سنائی اور دوسری آیت میں متکبر انسان کو ناپسند فرمایا ۔

    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں جہنم کے بولس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طینۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔” استغفراللہ العظیم !
    (ترمذی حدیث نمبر 2500)

    تکبر کے وہ اسباب جن کی وجہ سے انسان تکبر میں مبتلا ہوتا ہے :

    1۔ تکبر کا پہلا سبب علم ہے کہ بعض اوقات انسان کثرت علم کی وجہ سے بھی تکبر کی آفت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

    2۔ تکبر کا دوسرا سبب مال و دولت ہے کہ جس کے پاس کار، بنگلہ، بینک بیلنس اور کام کاج کے لیے نوکر چاکر ہوں وہ بھی بسا اوقات تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

    3۔ تکبر کا تیسرا سبب حسب ونسب ہے کہ بندہ اپنے آباء و اجداد کے بل بوتے پر اکڑتا اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔

    4۔ تکبر کا چوتھا سبب عہدہ و منصب ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنا یہ ذہن بنائے کہ فانی دنیا پر فخر نادانی ہے کیونکہ عزت و منصب کب تک ساتھ دیں گے؟

    5۔ تکبر کا پانچواں سبب کامیابی و کامرانی ہے کہ جب کسی کو پے درپے کامیابیاں ملتی ہیں تو وہ ناکام ہونے والے لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ یہ نہ بھولے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا، بلندیوں پر پہنچنے والوں کو اکثر واپس پستی میں بھی آنا پڑتا ہے ۔

    6۔ تکبر کا چھٹا سبب حسن وجمال ہےکہ بندہ اپنے ظاہری حسن وجمال کے سبب تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی ابتداء و انتہاء پر غور کرے کہ میرا آغاز ناپاک نطفہ اور انجام سڑا ہوا مردہ ہونا ہے، نیز عمر کے ہر دور میں حسن یکساں نہیں رہتا ۔

    7 ۔ تکبر کا ساتواں سبب طاقت و قوت ہے کہ جس کا قد کاٹھ اچھا ہو، کھاتا پیتا اور سینہ چوڑا ہو تو وہ بسا اوقات کمزور جسم والے کو حقیر سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کا یوں محاسبہ کرے کہ طاقت وقوت اور پھرتی تو جانوروں میں بھی ہوتی ہے بلکہ انسان سے زیادہ ہوتی ہے تو پھر اپنے اندر اور جانوروں میں مشترکہ صفت پر تکبر کرنا کیسا؟
    تو درج ذیل آیات ، حدیث اور اسباب سے ثابت ہوا کہ متکبر انسان دنیا و آخرت میں رسوا ہوتا ہے۔

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس قبیح گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اخلاص کے ساتھ ہر نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    آمین یارب العالمین

    @Awsk75

  • حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام:-  تحریر:از عمرہ خان

    حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام:- تحریر:از عمرہ خان

    حضرت ابرہیم وہ نبی جو خود ایک بت فروش کے بیٹے تھے اور انسے نبیوں کی نسلیں چلیں ۔۔۔وہ نبی علیہ السلام جنکی نسل سے سرور کائنات رحمت دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھے ۔۔جنکی قربانیاں ابد تک کیلئے قرآن پاک میں رقم کردئیے گئے جو ہمیشہ آنے والی نسلوں کی زبانوں اور دلوں میں رہینگے ۔۔۔
    یہ وہ وقت تھا جب ایک بت فروش آذر کے بیٹے نے اس سے کہا کہ
    اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ‌ ۚ اِنِّىۡۤ اَرٰٮكَ وَقَوۡمَكَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ۞
    کیا آپ بتوں کو خدا بنائے بیٹھے ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔۔۔
    وہ بیٹا زمین و آسمان کا نظارہ کرتا اور اس رب کو ڈھونڈتا جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ۔۔۔۔
    فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ رَاٰ كَوۡكَبًا ‌ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّىۡ‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِيۡنَ ۞
    چنانچہ جب ان پر رات چھائی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا کہنے لگے کہ یہ میرا رب ہے ۔۔پھر جب وہ ستارہ ڈوبا تو فرمانے لگے نہیں یہ میرا رب نہیں میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔
    پھر انہوں نے چاند کو دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے۔۔۔
    جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا
    اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں یقیناً گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاتا

    پھر جب انہوں نے سورج کو چمکتا دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے یہ زیادہ بڑا ہے پھر جب وہ غروب ہوا تو کہا کہ
    اے میری قوم جن جن چیزوں کو تم الله کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہو میں ان سب سے بے زار ہوں ۔۔۔۔۔
    اور یوں اللّٰہ تعالٰی نے انہیں حق اور سچ کی طرف رہنمائی فرمائی اور انکا رخ دین حنیف کی طرف موڑ دیا ۔۔۔۔
    مگر صرف دین حق کو قبول کردینا ہی کافی نہ تھا انہیں
    انبیاء کا جد امجد بننے کیلئے امتحانات مقصود تھے جس میں پورا اترنا شرط تھا۔۔۔۔۔
    اور وہ پورا اترے یہاں تک کہ خلیل اللہ کا لقب پایا ۔۔۔۔
    وہایک تہوار کا دن تھا اور قوم تہوار منانے نکلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ اپنے دل کی اس بیماری( جو لوگوں کو گمراہی میں پڑا دیکھ کر آشکار ہوئی تھی ) کی وجہ سے آپ علیہ السلام وہیں ٹھیر گئے اور قوم کے پیچھے انکے بتوں کو توڑ ڈالا اور ہتھوڑا بڑے بت کی گردن میں لٹکا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ قوم آئی اور بت خانے میں توڑ پھوڑ دیکھی تو پہلا شک انکا آپ علیہ السلام پر گیا ۔۔۔۔انسے بت خانے کی بابت پوچھا تو فرمانے لگے کہ اس بڑے بت سے پوچھو۔۔۔۔ کہا کہ یہ تو بول نہیں سکتا یہ کیسے بتائے گا
    انکی عقلوں میں یہ نہ سمایا کہ جب یہ ان ساتھی چھوٹے بتوں کو بچا نہیں سکتا وہ کیسے رب ہوسکتا ہے ۔۔۔۔اور یوں وہ اس نوجوان پر آگ بگولا ہوگئے تو ایک بڑی آگ جلائی گئی جس میں اس سچے حق پرست اور نیک نوجوان ابرہیم علیہ السلام کو ڈالا گیا ۔۔۔۔۔ادھر انھیں آگ میں ڈالا گیا تو رب العالمین کا آگ کو حکم ہوا
    يٰنار كوني بردا وسلاما على ابراهيم
    اے آگ ٹھنڈک ہوجا اور ابرہیم علیہ السلام کیلئے سلامتی والی ہوجا
    اور یوں تین دن آگ میں رہنے کے باوجود صحیح سالم آگ سے نکلے اور اپنے اس امتحان میں آپ ثابت قدم رہے۔۔۔
    اپنی قوم اور باپ کو چھوڑ کر اپنی زوجہ کو لئے نکل کھڑے ہوئے
    اس امتحان کے بعد نمرود کے دربار سے بھی بھی سرفراز لوٹے ۔۔۔ جو ہر خوبصورت عورت کو بیوی بنا لیا کرتا تھا ۔۔۔۔ پھر لوٹے بھی تو ایسے کہ اس بادشاہ نے ان پر اکرام کیا اور انھیں باندی سے نوازا۔ ۔۔۔۔۔
    ابھی امتحان ختم نہ ہوئے تھے انکے ابھی بڑے بڑے کام باقی تھے !!! ۔۔۔۔۔ بڑھاپے میں اولاد کی خوشخبری ہوئی ۔۔۔۔اور وہ باندی جو آنھیں تحفے میں عطا ہوئی تھیں انھوں نے بھی ایک وارث جنا ۔۔۔۔۔۔ بڑھاپے میں ملی وہ اولاد جو اولاد نرینہ بھی تھی ۔۔۔اس ہی کہ ذریعے پروردگار نے انھیں آزمایا اور حکم ہوا کہ اسکے قربان کردیں بیٹا وہی تھا جسکی اولاد میں رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لانا تھی۔۔۔۔دونوں باپ بیٹا کچھ اس طرح ثابت قدم رہے کہ عرش لرز اٹھا اور دونوں سرخرو ہوئے ۔۔۔۔ اورآج تک انکی یہ قربانی یاد رکھی گئی ہے اور ابد تک رکھی جائے گی اس قربانی کی سنت کو ہر 10 تا 12 ذی الحجہ امت محمدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم زندہ کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی ۔۔۔۔۔ پھر اگلا امتحان کچھ یوں ہوا کہ اس جگر کے ٹکڑے کو ایسی سرزمین پر چھوڑنے کا حکم ہوا جہاں دور دور تک کسی نباتات کا نام و نشاں نہ تھا۔۔۔۔۔۔ اپنے رب کیلئے وہ اس امتحان سے بھی گزر گئے
    اور رب العالمین نے ان پر ان امتحانات میں کامیابی کا کچھ اس طرح انعام کیا کہ ’’مَیں آپ ؑ کو لوگوں کا امام (یعنی پیشوا) بنانے والا ہوں۔‘‘ (سورۃ البقرہ، آیت124)۔

    جب سالوں بعد اس مقام پر پہنچے جہاں بیوی بچے کو چھوڑا تھا تو وہ جگہ عجب منظر پیش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ ایک پورا شہر آباد تھا وہاں۔۔۔۔
    پھر بیت اللہ کی دوبارہ تعمیر کا حکم ہوا تو باپ بیٹا ایک بار پھر حکم خداوندی کو پورا کرنے کیلئے جت گئے باپ حضرت ابرہیم علیہ السلام کے لئے جنت سے پتھر آیا جو خود آونچا نیچا ہوجاتا تھا ۔۔۔۔ بیٹا باپ کو پتھر پکڑاتا جاتا اور والد دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کرتے جاتے ۔۔۔
    اور یہ تعمیر نو مکمل تو دعا فرمائی کہ
    ’’ الٰہی! مَیں نے اس لَق و دَق صحرا اور اس بے آب و گیاہ بیابان میں، تیرے گھر کے پڑوس میں اپنی اولاد کو اِس لیے بسایا ہے کہ وہ تیری عبادت کرتے رہیں۔الٰہی! لوگوں کے دِلوں میں ان کی محبّت اور لگن پیدا کر دے تاکہ وہ ان کے پاس کِھنچ کِھنچ کر چلے آئیں۔یہ وادی، جہاں سرسبزی و شادابی کا دُور دُور تک نشان نہیں، اِس میں رہنے والوں کو کھانے کے لیے تازہ پھل عطا فرما
    اور یوں مسلسل امتحانات کے بعد انکا اکرام کرنے میں بھی میرے رب ے کوئی کسر نہ چھوڑی اور وہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم جنکے لئے کائنات وجود میں آئی انکے ابرہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل کی نسل سے فرمادیا۔۔۔۔

    Twitter handle: @Amk_20k

  • میڈیا پر ایسی ہزاروں تحریریں  تحریر : راجہ ارشد

    میڈیا پر ایسی ہزاروں تحریریں تحریر : راجہ ارشد

    انقلاب کی خواہش ہر اس معاشرے کے افراد میں ہوتی ہے جو ظلم کی چکی میں پستے آ رہے ہوں لیکن انقلاب کے لیے ایک ایسے راہنما کی ضرورت ہوتی ہے جو افراد کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہو اس بات سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں کہ کبھی بھی موجودہ حالات اور دنیا کی بدلتی صورتحال میں انقلاب قلم کے ذریعے نہیں لا سکتے۔

    کسی بند کمرے میں بیٹھ کر ہلکی سی روشنی میں کسی صفحے پر چند الفاظ تحریر کرنے سے کسی قوم کی سوچ کو نہیں بدلا جا سکتا وہ آپ کے اپنے جذبات اپنے احساسات ہوتے ہیں وہ الفاظ تحریر کرنے والے فرد واحد کے اندر انقلاب تو پیدا کر سکتے ہیں۔

    لیکن معاشرے میں بسنے والے افراد کے لیے بے معنی ہوتے ہیں ایک نظام کو بدلنے کے لیے ظالم سے ٹکرانا عملی طور پر جدوجہد کرنا ہی اصل قربانی ہوتی ہے جہاں افراد بھوک سے تنگ ہوں جہاں جسم پر پہننے کو کپڑے نہ ہوں رہنے کو چھت نہ ہو وہاں کسے فرصت ملتی ہے کہ مکتب میں بیٹھے ایک انقلابی سوچ رکھنے والے فرد کی کتابوں کو پڑھ کر اس کی سوچ بدل سکے۔

    ظلم کے خلاف صرف لکھنا مظلوموں سے ہمدردی کے لئے چند الفاظ کو تحریر کر لینے سے فرائض ادا نہیں ہو جاتے بلکہ ان مظلوموں کو کھڑا کرنا ہوتا ہے خود ایک مثال بن کر معاشرے کو اس سمت لانے کی کوشش کرنی ہے جو راستہ منزل کی طرف جاتا ہے۔

    ہزاروں کتابیں بے بس معاشرے اور بے حس حکمرانوں کے بارے میں لکھی جا چکی ہیں لیکن نا تو اس سے کسی جابر کو فرق پڑا ہے نا ہی مظلوم کو اس کا حق ملا ہے۔

    وطن عزیز میں بھی ایک ایسی سوچ پروان چڑھ رہی ہے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کسی ڈکٹیٹر یا کرپٹ جمہوری حکمران کے خلاف قلم کے ذریعے اعلان جنگ کر کے پورے معاشرے کی سوچ کو بدل دیں گے تو جناب ہر روز اخباروں میں ایسے سینکڑوں کالمز چھپتے ہیں سوشل میڈیا پر ایسی ہزاروں تحریریں ملتی ہیں جو آپ کے جذبات کی ترجمانی کر رہی ہوتی ہیں۔

    لیکن وہ صرف ایسے مخصوص طبقے کی نظر سے گزرتی ہیں جس کے نزدیک نظام کی تبدیلی یا انقلاب کی ضرورت بالکل نہیں ہے اپنا اور اپنی قوم کا وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے اگر آپ ظلم کے خلاف ہیں تو پھر ہر ظالم کو للکاریں نا کہ معافی مانگ لیں۔

    انقلاب کے لیے اٹھایا جانے والا وہ پہلا پتھر جو قوم کی حقیقی راہنمائی کرے وہ آپ کی ذمہ داری ہے۔

    اللہ پاک ہمیں سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں
    آمین ثم آمین یا رب العالمین
    @RajaArshad56

  • ‏منشیات! ایک روگ   تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

    ‏منشیات! ایک روگ تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

    *دیکھتے ہی دیکھتے رنگیں جوانی لٹ گئی*
    *کیا جوانی کا ہے رونا زندگانی لٹ گئی*

    اج کے دور میں منشیات کا استعمال جس طرح سے نسل نو کو متاثر کررہا ہے کوئی بھی اور معاشرتی برائی اس قدر تیزی سے نہیں پھیلی۔ نشے کی آفت ہمارے معاشرے کے بہت سے افراد پر نازل ہوئی ہے۔ یہ ہماری سیاسی اور سماجی ترقی کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
    منشیات سے خصوصاً نوجوان نسل بہت متاثر ہورہی ہے۔ منشیات کا استعمال نوجوان نسل کی امنگوں ان کی ذہنی صلاحیتوں اور ان کی عزت نفس کے لئے زہر قاتل ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ نفسیاتی دباؤ، مایوسی،اضطراب،بےچینی اور معاشرتی ناانصافی نوجوانوں کو منشیات کی طرف راغب کرتی ہے۔ منشیات کے استعمال سے انسان کو ذہنی تسکین حاصل ہوتی ہے اور دنیاوی پریشانیوں اور الجھنوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔
    مگر یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نشہ آور اشیاء صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ جسمانی تباہی کے علاؤہ انسان کی ذہنی صلاحیتوں کو بھی بری طرح متاثر کرنے کا سبب بنتا ہے۔ منشیات کا استعمال آہستہ آہستہ قوت مدافعت کو ختم کردیتا ہے اور انسان کو موت کے کنارے پر لا کھڑا کردیتا ہے۔
    منشیات کے سدباب کے لئے ضروری ہے کہ اس کو جڑ سے ختم کیا جائے اس کے لئے اگر ہم اپنے مذہبی اصولوں پر کاربند رہیں تو اس معاشرتی برائی کو ختم کرسکتے ہیں۔ ہمارا تشخص اور ہماری انفرادیت دین اسلام ہے اور اس کے اصول و قوانین ہر قسم کی برائی کا تدارک بخوبی کرتے ہیں۔ منشیات کے استعمال سے بچنے کا واحد حل بھی مذہب کے اصولوں کی پابندی ہے۔