Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • عیدِ قربانی اور اس سے جڑی معیشت تحریر: حسان خان

    عیدِ قربانی اور اس سے جڑی معیشت تحریر: حسان خان

    ہر سال کی طرح اس سال بھی جوں جوں عید الاضحی کے دن نزدیک آ رہے ہیں شہر شہر نگر نگر مویشی منڈیاں سج رہی ہیں بھاو طے پا رہے ہیں جانوروں کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کے اس عظیم تہوار پر اکثر مغرب میں ‘جانوروں کے حقوق’ کے نام پر تنقید ہوتی رہتی ہے تو آج ہم مذہبی تقاضوں سےہٹ کر معاشی پہلو سے عید الضحی کی اہمیت کا جائزہ لینگے اور جانوروںکے حقوق کے نام پر مغرب کی منافقت کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کرینگے
    دنیا کے ہر خطے میں مسلمان پائے جاتے ہیں اور ان تمام خطے میں مسلمانوں سے زیادہ غیرمسلم عیدِ قربانی اور اس سے منسلک کاروبار سے منسوب ہیں۔ عید قربانی پر تقریباً تمام مسلمانوں تک گوشت ضرور پہنچتا ہے جس سے انکی پروٹین کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ عید پر ناں صرف تمام آبادی تک گوشت پہنچانے کا زریعہ ہے بلکہ اس سے منسلک ہزاروں کاروبار سےلاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے جس سے دنیا کی معیشت میں اربوں ڈالرز کا اضافہ ہوتا ہے۔چمڑہ جو برآمدات میں بہت اہم مقام رکھتا ہے برینڈڈ پرس ، جیکٹس اور جوتوں سمیت بہت سی قیمتی چیزیں اس سے بنتی ہیں۔ چمڑے کی صنعت کا دارومدار عیدِ قربانی پر پیدا ہونے والی کھالوں پر ہوتا ہے سینکڑوں کارخانوں میں لاکھوں جانوروں کی کھالیں لائی جاتی ہیں جن پر لاکھوں مزدور کام کرتے ہیں اور انکے سارے خاندان کی روزی روٹی چلتی ہے۔ عید قرباں سے اور کیا کیا کاروبار چلتے ہیں اور کیسے لوگوں کی زندگی میں خوشحالی آتی ہے اسکی مثال ہم اپنے ملک پاکستان سے لے لیتے ہیں۔ اقتصادی شماریے پاکستان کے مطابق سال 2016 میں پاکستان میں عید قربانی کے موقع پر 3.5 ارب ڈالر کا کاروبار ہوا جس میں مویشی کی خرید و فروخت میں 2.8 ارب ڈالر خرچ ہوئے جبکہ کپڑوں، جوتوں اور دیگر مصارف میں 700 ملین ڈالر کا لین دین ہوا۔ دیہاتوں میں لوگ سارا سال مویشی پالتے ہیں اور عید کے موقع پر اربوں ڈالر صاحب استطاعت مسلمانوں کی جیب سے نکل کر موشی پالنے والوں کی جیب میں آ جاتے ہیں جس سے ان لوگوں کا سارا سال کا خرچ نکل آتا ہے جبکہ 9 کروڑ جانور اللہ کی راہ میں ذبح کیے گئے
    امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ہر سال عیدِ قربانی کا حجم تقریباً 400 ارب ڈالر ہے دنیا کی معیشت میں 400 ارب ڈالر عید کے تین دنوں میں ڈالے جاتے ہیں جبکہ اس تمام کاروبار میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں کا حصہ ہوتا ہے اور انکو فائدہ پہنچتا ہے.
    یہ تو ہو گئے عید الضحی کے اقتصادی پہلو اور اس سے ساری دنیا کو ہونے والے فائدے کی داستان اب ہم آتے ہیں عید الضحی کے خلاف بولنے والے مغرب کی منافقت پر۔۔
    ویسے تو سارا سال ہی مگر خاص طور پر عید کے قریبی دنوں میں جانوروں کے حقوق کی علمبردار کئی نام نہاد تنظمیں قربانی کو ظالمانہ اقدام کہہ کر اسکی مزمت کر رہی ہوتی ہیں اور عید الضحی پر پابندی کا مطالبہ ہر رہی ہوتی ہیں ان تمام تنظیموں سے میرا سوال ہے آپکو میکڈونلڈز کا روزانہ 300 جانور ذبح کرنا نظر نہیں آتا ؟ کے ایف سی سالانہ 75 کروڑ مرغیوں کو ظالمانہ طریقے سے مارتی ہے آپکو وہ نظر نہیں آتا ؟ سپین میں کھیل کے نام پر سالانہ ہزاروں بیلوں کو ظالمانہ طریقے سے قتل کیا جاتا ہے لاکھوں لوگ ان مناظر کو دیکھ کر قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں اسی طرح نیپال میں بھی ہر پانچ سال بعد گدھیماں دیوی کیلئے لاکھوں جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کا ان سب پر واجبی سی تنقید کر کے جانوروں کے حقوق کے نام پر مسلمانوں کے عظیم تہوار پر حملہ آور ہو جانا کس طور پر قابل قبول نہیں

  • سیاحت اور ہماری روایتی غیر ذمہ تحریر: زبیر احمد

    سیاحت اور ہماری روایتی غیر ذمہ تحریر: زبیر احمد

    پاکستان دنیا کے ان بابرکت ممالک میں شامل ہے جو قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہیں یا تو وہ چار خوشگوار موسم ہیں ، موسمی پھل جن کا ہم بے چینی سے انتظار کرتے ہیں یا وہ پہاڑ جو ہماری آنکھوں کو سکون دیتے ہیں۔
    پاکستان کے شمال میں واقع سب سے اہم وادیوں میں سے ایک مشہور گلگت بلتستان ہے جو چین ، ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ ایک سرحد ہے۔  قدرت نے پاکستان کے انتہائی شمال کو گلگت بلتستان سے نوازا ہے
    متنوع قدرتی خوبصورتی خطے کی خوبصورتی کی نشاندہی کرتی ہے۔  پرکشش مناظر ، سدا بہار جنگلات ، سرد صحرا ، برف پوش پہاڑ اور عظیم ثقافتی میراث سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
    ٹریکرز ، فطرت سے محبت کرنے والے اور کوہ پیما ہمیشہ پاکستان کے خوبصورت ورثے کا تصور کرتے ہیں کہ وہ ایک سفر کریں اور اس کی خوبصورتی کو سراہیں۔
    یہاں سیاحوں کی تعداد میں ہرسال مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو اپنی فطرت کی دلکشی کو دیکھنے کی پیاس بجھانے کے لئے گلگت بلتستان کی طرف گامزن ہوتے ہیں
    سیاحت کے بارے میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ صرف اس تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس سے سماجی و معاشی طور پہ لوگوں کے طرز زندگی و بودوباش میں ارتقاء آتا ہے
    جب آپ کسی چیز کو پسند کرتے ہیں تو ضروری ہوتا ہے  اس کا خیال رکھنا آپ کا فرض بن جاتا ہے لیکن سیاحوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا ہےجب سیاح شمالی علاقوں کا رخ کرتے تو یہاں کے مسحور کن قدرتی مناظر سے لطف اندوز تو ضرور ہوتے ہیں لیکن اس سیرو تفریح کے دوران فالتو اشیاء، کوڑا کرکٹ، فضلہ انتہائی غیرذمہ داری سے پھینک آتے ہیں
    سیاحت کا موسم ختم ہونے کے فوری بعد ان خوبصورت وادیوں میں پلاسٹک کے تھیلے اور ڈسپوز ایبل سامان سمیت ہر طرح کا کوڑا پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ وادیاں جو کہ فطرتی خوبصورتی کا مظہر ہوتی ہیں غیرذمہ دارانہ رویے کے باعث آلودگی کا شکار ہیں
    سوشل اور پرنٹ میڈیا پاکستان کے خوبصورتی سیاحتی مقامات کی بدترین آلودہ صورتحال کے بارے میں لوگوں کو تعلیم دینے کے لئے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے
    سیاحوں کو اس بارے میں بریفنگ دینے کا انتظام کرنا چاہیے کیونکہ یہ علاقے تب تک ہی خوبصورت نظر آئیں گے جب تک ہم ان کو اپنے گھر کی طرح صاف ستھرا رکھیں گے اور انکو صاف رکھنے کا احساس رکھیں گے۔ حکومت کو یہ بھی کوشش کرنی چاہئے کہ سیاحت کو جنگلوں، جھیلوں اور گلیشئر سے دور رکھیں تاکہ یہ تباہ کن سرگرمیوں سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے ہمارا پاکستان انتہائی خوبصورت یے اور  پاکستانی ہونے پہ ہم سب کو فخر ہے اور بے شک یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آلودگی سے اپنے ملک کو محفوظ رکھیں اور ماحول کو صاف ستھرا رکھیں
    (twitter @KharnalZ) 

  • بغاوت کرو اس معاشرے کے خلاف !  تحریر: حسن ریاض آہیر

    بغاوت کرو اس معاشرے کے خلاف ! تحریر: حسن ریاض آہیر

    کبھی کبھی بغاوت بھی کرنی چاہیے، جو بغاوت کسی اچھے مقصد کے لیے کی جائے وہ غداری نہیں ہوتی۔ بغاوت کرنا بھی ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ کیونکہ باغیوں کو نظام اور معاشرہ کبھی قبول نہیں کرتا۔

    ذرا غور کریں ان باتوں پر !

    ہمارے معاشرے میں اگر عورت پر کوئی جھوٹا الزام لگا دیا جائے تو اس کو وہ ثابت کرتے اپنے کردار پر کئی دھبے لگا بیٹھے گی اور مرد جھوٹ ہی کیوں نا بولے عورت کی بانسبت اس پر زیادہ یقین کر لیا جاتا ہے۔
    آخر کیوں ؟
    کیوں ایسا ہے کہ مرد موبائل استعمال کریں تو عام بات ہے اور عورت کریں تو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ؟

    کیوں ایسا ہے کہ جائیداد ہمیشہ مرد یعنی بھائیوں میں تقسیم ہو گی اور بہن کا وراثت میں بھی کوئی حق نہیں ؟
    کیوں بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جاتی ہے اور بیٹیوں کو مخصوص تعلیم دلوا کر انہیں گھر بٹھا لیا جاتا ہے ؟
    کہ یہ پڑھ کہ کیا کریں گی اس نے تو ویسے بھی اگلے گھر جانا ہے۔
    ہم مسلمان ہیں بےشک ہمیں کبھی وہ حد پار نا کرنی اور نا کرنے دینی ہے جو اسلام نے مقرر کی ہے۔ لیکن جو تم اس خود ساختہ نظام اور معاشرے کی گھٹیا سوچ کی زنجیروں میں جکڑ چکے ہو اس سے باہر نکلو اور عورت کو بھی کھلی فضا میں جینے کا حق دو وہ بھی انسان ہے۔ اس کو پابندیوں کی ایسی زنجیروں میں نا جکڑ ڈالو کے سانس لینا بھی محال ہو جائے۔
    یہ نظام کب بدلے گا ؟
    جب ہم بدلیں گے تب بدلے گا !
    @HRA_07

  • ‏اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات  تحریر : تصوّر جٹ

    ‏اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات تحریر : تصوّر جٹ

    اسلام میں ہمیں ہر چیز کے بارے میں سکھایا جاتا ہے ۔
    اِسی طرح اسلام قربانی کا سکھاتا ہے۔
    اسلام صرف جانوروں کی قربانی نہیں بلکہ اپنی انا کی قربانی اپنی ضروریات اپنی خواہشات کی قربانی دینے کا درس دیتا ہے ۔

    ہمیں اپنی خواہشات کی قربانی دے کر اللہ کی رضا میں راضی ہونا چاہیے تا کہ ہم آخرت کی زندگی سنوار سکے۔

    ارشاد ہوا _
    ” جو اللہ کی رضا میں راضی ہو گیا اللہ اس پر راضی ہو گیا”
    اور جس پر اللہ راضی ہو جائے اُسے اور کیا چاہیے۔
    ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد ہی اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنا ہے۔

    عیدین قربانی اور ایثار کی عملی مثال ہے
    عیدین کے موقع پر ہمیں غریبوں کا لازمی خیال رکھنا چاہیے۔
    اُن کو اپنی خوشیاں میں شریک کرنا چاہیے تا کہ وہ بھی عید کی خوشیوں کو محسوس کر سکے۔

    اگر عید کی خوشیوں کی بات کی جائے تو اب مجھے وہ پہلے والی خوشیوں کی لہر نظر نہیں آتی۔
    جیسے کہ بچوں کا تیار ہونا چاند رات کو بچیوں کا مہندی لگانا رات کو دیر تک جاگنا۔ پڑوسیوں کا ایک دوسرے کی طرف جا کر عید کی مبارک باد دینا۔

    اب یہ سب ختم ہوتا جا رہا ہے کیوں کی سائنس کے جدید دور نے انسان کو اتنا مصروف کر دیا ہے کہ اُس کے پاس کِسی کو دینے کے لئے ٹائم نہیں۔

    عید ااضحٰی ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں سنت ابرہیمی ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔

    اصل قربانی تو باپ بیٹے کی گفتگو تھی دنبہ کی قربانی تو اس کا فدیہ تھا۔
    مگر افسوس ہمیں دنبہ یاد رہا گفتگو یاد نہ رہی…

    اللہ ہم سب کو عید کی خوشیاں نصیب فرمائے۔آمین

  • دشمن کے ہتھیاروں میں اب صرف دو کارتوس ہیں  تحریر بلال لطیف

    دشمن کے ہتھیاروں میں اب صرف دو کارتوس ہیں تحریر بلال لطیف

    ایک کا نام فرقہ پرستی ہے
    اور دوسرے کا نام قوم پرستی ہے۔

    پہلے کچھ عرصے سے پاکستان میں دشمن ایک چال چل رہا ہے جو کہ فرقہ پرستی ہے۔

    اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فرقہ وارانہ انتہا پسندی ملکی سالمیت اور قومی وحدت کیلئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ فرقہ واریت اور مسلکی انتہا پسندی یقیناً کسی بھی ملک کی بقاء کیلئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان گزشتہ3 عشروں سے فرقہ پرست عناصر کی قوم دشمن اور وطن مخالف سرگرمیوں کی جولان گاہ بنا ہوا ہے۔

    پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے ایک ایسا ماحول بنایا جا رہا جس میں پاکستانیوں کو آپس میں لڑانے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کرنی کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    دشمن ہر وقت تاک میں رہتا ہے کب پاکستان میں ذرا سی صورتحال خراب ہو اور وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں

    ہمیں دشمن کے ارادوں کو سمجھنا ہو گا اور ان کو منہ توڑ جواب دینا ہو ہمیں اپنی صفوں کو مظبوط رکھنا ہو گا تاکہ دشمن اپنے ارادوں میں کامیاب نا ہو۔

    اب کچھ بات کرتے ہیں قوم پرستی پر
    حالیہ برسوں میں پاکستان میں قوم پرستی کو ایک عروج ملا جس میں دشمن نے آلہ کار پاکستان میں وجود ملک دشمن عناصر اور پاکستان کے غداروں کو بنایا
    اگر ہم بات کریں پشتون، ہزارہ، بلوچستان؛ گلگت، سندھ، پنجاب، کشمیر کی تو قوم پرستی عروج پر ہے
    پشتون کے نام پر ایک جماعت جیسے پشتون سے کوئی ہمدردی نہیں ہر وقت تاک میں رہتی ہے ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے۔
    پشتون معصوم اور نوجوانوں کو پاکستان اور پاکستان آرمی کے خلاف ایک منظّم طبقہ اکسا رہا ہے اور کھل کر ملک دشمنی پر اتر آیا ہے۔
    اسی طرح بلوچستان کشمیر گلگت سندھ اور ہزارہ کے لوگوں کو ایک مخصوص طبقے کے ذریعے اکسا جا رہا ہے۔

    اگر ہم ان دو گولیوں سے بچ گے تو جیت ہماری ہو گی انشاء اللہ۔

    @Bilal_Latif1

  • عنوان:پاکستان میں ریپ کے بڑھتے واقعات قصوروار کون؟ تحریر:ملک حسن وزیر

    عنوان:پاکستان میں ریپ کے بڑھتے واقعات قصوروار کون؟ تحریر:ملک حسن وزیر

    ہمارے ہاں جب بھی ریپ کا کوئی واقع پیش آئے، تو معاشرے کا ایک طبقہ مختلف نقاط، جیسے کہ عورت کا لباس،عورت کی آزادی،عورت کی تعلیم وغیرہ کو بنیاد بنا کر عورت کو ہو موردالزام ٹھہرا دیتا ہے۔یعنی مظلوم کو ہی ظلم کی وجہ بنا دیا جاتا ہے۔

    مجھے اس سے اختلاف ہے۔ دو حرفی بات یہ ہے کہ ریپ کی وجہ صرف اور صرف ریپ کرنے والا مرد ہے۔

    اس معاشرے میں برقع پوش خواتین کے ساتھ ریپ ہوئے، چھوٹی بچیاں اس ظلم کا نشانہ بنیں، درندوں نے چھوٹے لڑکوں کو بھی نہیں بخشا۔ ‏ابھی کچھ روز پہلے ملتان میں ایک لڑکے کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی کی تو جب اس لڑکے نے ریکیشن دیا تو اس کو گولی مار دی گئی۔ ابھی چند دن پہلے ایک چھوٹی بچی کے ساتھ زیادتی کرکے اس کو مار کے اس کے جسم کو آگ لگادی گئی۔ زینب کا واقعہ ہم سب کو یاد ہے۔ اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہم سب نے سن رکھے ہیں۔

    ان بچوں نے کون سی حد پار کی تھی؟ کیا اپنے ساتھ ریپ ہونے کی وجہ یہ بچے خود تھے؟ انکا لباس تھا؟ انکی مادر پدر آزادی تھی؟

    ‏مجرم ہمیشہ ریپ کرنے والا ہے نا کہ ریپ ہونے والا۔

    اگر کوئی مرد بچوں کا ریپ کر رہا، بچیوں کا ریپ کر رہا ہے، خواتین کا ریپ کر رہا ہے تو مسئلہ اس ریپ کرنے والے مرد کے ساتھ ہےاور اسی کی ہمیں بطور معاشرہ روک تھام کرنی ہے۔

    Twitter account @MH__586

  • حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ایک شخصیت تحریر: محمد صابر مسعود

    حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ایک شخصیت تحریر: محمد صابر مسعود

    آپ کی ذات محتاجِ تعارف نہیں لیکن پھر بھی آپ کے سامنے کچھ صفات بیان کئے دیتا ہوں جن کا ذکر فائدہ سے خالی نہیں، آپ کی ذات شمس و قمر کی طرح روشن ہے، بلاشبہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے مجدد اور حکیم الامت تھے۔ 5/ربیع الثانی/1285ھ (1863ع) کو اتر پردیش میں واقع تھانہ بھون ضلع مظفر نگر کو آپ جیسی شخصیت کے دیدار کا شرف حاصل ہوا، ابتدائ تعلیم تھانہ بھون اور میرٹھ میں ہوئ، 1295ھ میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے ۔
    پانچ سال مشغولِ تعلیم رہ کر 1301ھ میں فراغت حاصل ہوئ ۔
    حضرت مولانا یعقوب نانوتوی، مولانا سید احمد دہلوی، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی، وغیرہ آپ کے کبار اساتذہ ہیں، سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ کے دست حق پرست پر بیعت ہوکر اکتساب فیض کیا اور 15/سال کانپور میں درس وتدریس کا سلسلہ قائم رہا ۔
    اس کے بعد پوری زندگی تبلیغ و تذکیر اور تصنیف و تالیف کے ذریعہ اصلاحِ عقائد و اعمال و ابطالِ رسوم و بدعات کا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا جس کی کوئ نظیر ماضی قریب کی تاریخ میں نہیں ملتی، آپ کی اصلاح و تربیتی سرگرمیوں سے ہزاروں انسانوں کو فیض پہنچا، کثرت تصانیف میں آپ کا کوئ ہمسر نہیں۔
    مختلف موضوعات پر تقریبا ایک ہزار تصانیف آپ کی یادگار ہیں ۔
    آپ کے خلفاء و مجازین بیعت کی تعداد 164 ہے ،جن کے ذریعہ آپ کا فیض چار دانگ عالم میں پھیلا اور آج بھی جاری ہے، سیاسیات میں آپ اپنے استاد شیخ الہند ؒ کے قافلہ میں شریک نہ رہے، پھر بھی مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے جمعۃ الانصار کے اجلاس میرٹھ کی صدارت فرمائ، 19-20/ جولائی 1943ع کی درمیانی شب میں اس دنیائے فانی کو الوداع کہا ۔ حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور تھانہ بھون کے قبرستان، ،،عشق بازاں ،میں تدفین عمل میں آئ ۔۔

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے۔۔

    @sabirmasood_

  • حکومتی خارجہ پالیسی بہتر لیکن داخلہ پالیسی کمزورکیوں؟    تحریر: عادل شیر اعوان

    حکومتی خارجہ پالیسی بہتر لیکن داخلہ پالیسی کمزورکیوں؟ تحریر: عادل شیر اعوان

    دنیائے سیاست کے قوانین کے تحت حکومت اور اپوزیشن پرمشتمل ہر دومخالف سیاسی پارٹیاں ایکدوسرے پرجائزتنقیدکے ذریعے مسائل کی نشاندہی کرتی اورانہیں حل کرنے کیلئے لائحہ عمل بتاتی اور تشکیل دیتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں تھوڑا مختلف ہے کہ یہاں اپوزیشن میں ہوتے ہوئےتوحکومت کے ہرکام میں کیڑے اور عوام کے چھوٹے چھوٹے اجتماعی توکیاانفرادی گھریلو مسائل بھی نظرآتے ہیں لیکن حکومت ملتے ہی پتہ نہیں وہ عالی اور روشن دماغ کہاں چلے جاتے ہیں جن کے پاس اپوزیشن میں ہوتے توہرمسئلہ کا حل ہوتا ہے لیکن حکومت میں آتے ہی سب کچھ بھول جاتاہے،
    بلکل ایساہی ہمارے وزیراعظم اپنی 22سالہ جدوجہد”حصول حکومت”میں کرتے نظرآئے اورایک ریڑھی والے مزدور،کسان،فیکٹری میں کام کرنیوالے نچلے درجے کے لوگوں اوربچے بوڑھےمردوخواتین پرمشتمل ہرصنف کے مسائل کی نشاندہی کرتے اور چٹکیوں میں ان کا حل بتاتے رہے جس سے ہرپڑھالکھاباشعورفردیہ سمجھنے لگا کہ یار یہ بندہ پاکستان کیلئے ضرورکچھ کریگاکیونکہ آکسفورڈکاپڑھاہونے کے باوجود اسے عام آدمی کے مسائل اوراس سے بڑھ کرانہیں حل کرنے کا علم اور صلاحیت بھی ہے توہمارے ملک کی روایت کے مطابق کسی نئے چہرے کوآگے آنے کیلئے جس نئی سوچ یانعرے کی ضرورت ہوتی ہے وہ بڑی تیزی سے پروان چڑھی کہ "تبدیلی کو ووٹ دو”اورچشم فلک نے دیکھا کہ ملک کے باشعور،پڑھے لکھے طبقہ اور نوجوان نسل نے اس نعرے کو قبول کیااورتحریک انصاف کو ووٹ دیکروزارت عظمی کی کرسی پربٹھادیااورعمران خان نے وزیراعظم بن کر عنان حکومت سنبھال لیا جس کا فوری اثر یہ ہوا کہ چونکہ عمران خان کی شہرت پہلے سے ہی ایک سنجیدہ اور سخت طبیعت منتظم کے طورپرپھیلی ہوئی تھی جس نے ہر سرکاری ملازم کو اسکے خول میں بندکردیااوروہ ڈرگیاکہ اب اگرکام نہ کیاتوپتہ نہیں کیاہوجائے گااورشایدبغیرحساب کتاب کے جیل یاگھرجاناپڑجائے یہی وجہ ہے کہ ہرمحکمہ کو سانپ سونگھ گیااوریکدم ہرکرپٹ اور رشوت خورنے جان ہے تو جہان ہے والے مقولہ پر عمل کرتے ہوئے اپناگورکھ دھندابندکردیاکہ یارجب اس نے تین بارکے طاقتور ترین وزیراعظم نوازشریف کو نہیں چھوڑاتوایک سرکاری ملازم کی کیا اوقات ہے اوراسی وجہ سے دوچارماہ تمام سرکاری دفاترچپ سادھ گئے اور عوام سے تھوڑا بہت تعاون کرنے لگے لیکن انہیں یاوزیراعظم کوشایدپتہ نہیں تھاکہ پاکستانی نظام سیاست کاطرہ امتیازہی مثبت سے زیادہ منفی سوچ کیساتھ ملک اور قوم کی محبت کو بالائے طاق رکھ کر صرف اپنی زات کیلئے ہی کام کرنا ہے جو انہوں نے کرنا شروع کردیااورپرپرزے نکالنا شروع کردئیے جبکہ عمران خان کی سابقہ تقریروں کو دیکھ کر جن سے یہ پتہ لگتاتھاکہ اسے اپنی قوم کے ہر مسئلہ کا علم ہے لیکن بدقسمتی سے اسے یہ علم نہیں تھاکہ ایک کونسلرسے لیکراسمبلی ممبرتک جوسیاستدان کروڑوں لگاکراسمبلی میں آتا ہے وہ ملک کی نہیں بلکہ اپنی نسلوں کی تقدیر بدلنے کیلئے آتا ہے،ایک درجہ چہارم سے لیکرگریڈبائیس تک کاجوسرکاری ملازم لاکھوں کروڑوں کی رشوت دیکرکوئی عہدہ حاصل کرتاہے وہ ملک اور قوم کیلئے نہیں بلکہ اپنے لئیے کام کرے گااورپھرسابقہ حکومتوں کے بھرتی کردہ سفارشی سرکاری ملازم جو کئی سالوں کی سروس کے بعدترقی کرتے کلرک سے افسر بن گئے ہیں وہ کس طرح اسکی تبدیلی کے نعرے کو قبول کرینگے اور تعاون کرینگے اور وہی ہوا جس کا خدشہ پڑھے لکھے تجزیہ نگارظاہرکرتے آرہے تھے کہ عمران خان کے بے رحم احتساب کے ڈر سے بجائے اپنے آپکوسیدھاکرنے کے سب اپنوں اوربیگانوں نے اسے ہی سیدھا کرنے کیلئے گٹھ جوڑکرلیااورتعاون کرناچھوڑدیااورجوچندایک سیاستدان یا سرکاری ملازم کرپشن وغیرہ میں پکڑے گئے ہمارے کمزورعدالتی اور احتساب کے نظام کی بدولت بچ گئے اور یوں ہرکرپٹ عمران خان اور اسکی تبدیلی کے نعرے کا مذاق اڑاتے اپنے سابقہ کاموں میں جت گیااورعمران بے بسی سے سب کودیکھتارہ گیاجسکی دلیل کبھی چینی کبھی آٹے اورکبھی پٹرول کا بحران کہ جس چیزکابھی وزیراعظم نے نوٹس لیاوہ عوام کی پہنچ سے دورکردی گئی،
    جسکی دلیل سانحہ ماڈل ٹاون وساہیوال میں ملوث ملزمان کاباعزت بری ہوجانااورحکومت کادیکھتے رہ جانا،
    جسکی دلیل راوانواراورعزیربلوچ جیسے سینکڑوں بے گناہوں کے قاتلوں کابچ جانااورحکومت کا کچھ نہ کرسکناہیں جسکی دلیل ہر چھوٹے بڑے مافیا کے سامنے حکومت کاگھٹنے ٹیک دینا ہے،
    لیکن میں کہوں گا کہ اس میں نظام کی خرابی نہیں بلکہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کا زیادہ عمل دخل ہے کہ اپوزیشن میں ہوتے تو آپکے پاس سومعاشی ماہرین کی ٹیم تھی لیکن حکومت میں آتے ہی وہ کہاں گئی کیونکہ اگر وہ ٹیم موجود ہوتی تووہ آپ کو ملکی معیشت پراثرانداز پرائیویٹ اداروں کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے انہیں قومیانے یا انکے مقابلہ میں سرکاری اداروں کے مضبوط کرنے کا مشورہ دیتی مثال کے طورپہ آپ چینی مافیاپہ ہاتھ ڈالنے سے پہلے ملک میں موجودعرصہ دراز سے بندسرکاری شوگر ملوں کو ٹھیک کرکے چلاتے تاکہ پرائیویٹ چینی مافیاجونہی اسکابحران پیداکرتاآپکی بجائے آپکی سرکاری شوگرملیں اسکا مقابلہ کرتیں اور بحران پیدا نہ ہوتا؛
    آٹے کے بحران سے بچنے کیلئے آپ کسان سے براہ راست ساری گندم خودخریدکرزخیرہ کرتے تاکہ بوقت ضرورت اسے آٹے کی صورت میں حکومتی مقرر کردہ نرخوں میں عوام کو فراہم کرتے؛
    اور جب پٹرول کا بحران پیداہواتوآپ پی ایس اوکے ذریعے وافرمقدارمیں تیل خریدتے تاکہ بجائے اسکے کہ جہاں آپ پٹرول کیلئے پرائیویٹ سیکٹرکی منتیں کرتے رہے وہ آپکے ترلے کرتے اور یہ بحران بھی پیدا نہ ہوتا؛
    اور سب سے بڑی بات کہ ہمارے تجربہ کے تحت تو کبھی بھی قومیں عوام کی منت سماجت سے نہیں بنتیں بلکہ قانون کی پیروی اوراسکے لاگو کرنے میں سختی کرنے سے بنتی ہیں جسکی حالیہ مثال ہمارے ملک میں جاری کرونالاک ڈاون ہے کہ آپ نے اس پرعملدرآمدکروانے کیلئے سختی نہیں کی اور ہم نے عمل بھی نہیں کیااورجہاں قانون کی گرفت اتنی کمزوریوکہ ایک عام آدمی بھی اس سے خوفزدہ نہ ہو وہاں مختلف مافیازکاقانون سے بچ نکلنایااسے گھرکی لونڈی سمجھ لیناکوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے اور قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے ہم جن مغربی اقوام کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے اصل میں وہ لوگ بھی ہم جیسے لاپرواہ اور بے ایمان ہی ہیں لیکن قانون کے نفازمیں سختی اور بھاری جرمانوں کے ڈر نے انہیں قوم بنارکھاہے جس کی مثال سابقہ لاک ڈاون میں امریکہ میں ایک سیاہ فارم کے قتل پرہونیوالااحتجاج ہے جس کے دوران ہونیوالی لوٹ مارنے انکے مہذب پن کی ساری قلعی کھول کے رکھ دی ہے لیکن ہم میں اور ان میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اسطرح کی لوٹ مارکاجوموقع انہیں کبھی کبھارمیسرآتاہے ہمیں ہرروزدستیاب رہتا ہے کیونکہ اول توہمارے ہاں قانون پرعملدرآمدنہیں ہوتااوراگرہوتاہے تونظرنہیں آتااوریہی وجہ ہے کہ ہم لوگ بحثیت قوم ایک ہجوم ہیں جس میں شامل ہرفردکی کوئی اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی منازل اورمقاصد ہیں جن کے حصول کیلئے ہم ہرجائزناجائزحربہ استعمال کرتے چلے آرہے ہیں اورکوئی پوچھنے یاٹھیک کرنے والا بھی نہیں حتی کہ
    عمران خان صاحب آپ بھی نہیں

    اس لئیے مجبوری سے کہناپڑرہاہے کہ اگراجازت ہوتو

    آپکی خارجہ پالیسی بہترلیکن داخلہ پالیسی بہت کمزورہے

    @adiiawan8

  • مسئلہ کشمیر؛ دو جوہری مسلح ممالک کے مابین نیوکلیئر فلیش پوائنٹ    تحریر:  محمد بلال

    مسئلہ کشمیر؛ دو جوہری مسلح ممالک کے مابین نیوکلیئر فلیش پوائنٹ تحریر: محمد بلال

    اس حقیقت سے ہر کوئی آشنا ہے کہ جنگ عظیم اول کے بعد مزید جنگوں کے خطرات سے بچنے کیلئے اور عالمی انصاف کی فراہمی کیلئے انسانی حقوق کے سب سے پہلے ادارے لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں لایا گیا چونکہ یہ ادارہ اپنے مقاصد پورے کرنے میں ناکامیاب رہا اور جنگ عظیم دوم کی وجہ بنا تو اِسے ختم کردیا گیا اور جنگ عظیم دوم کے بعد اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیاجو ابھی تک اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اس کی سیکیورٹی کونسل کی سب سے اہم ذمہ داری عالمی امن و انصاف کو یقینی بنانا اور دنیا کو جنگوں کی ہولناکیوں سے بچانے کے لئے اقدام کرنا ہے لیکن73سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل بھارت سے اپنی منظور کردہ متعدد قراردادوں کے باوجود عالمی قوانین کی پاسداری کروانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور اب بھی ناکام نظر آرہی ہے اور بھارت جب چاہے کشمیر میں ظلم و ستم کی نئی داستانیں قائم کررہا ہے۔ مسئلہ کشمیر اس وقت عالمی سطح پر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور یہ دنیا کے امن کیلئے بھی ایک شدید خطرہ ہے، اگر یہ مسئلہ جلد از جلد حل نہ کیا گیا تو دنیا ایک بہت بڑی جوہری تباہی کا سامنا کرسکتی ہے۔یہ مسئلہ گزشتہ 73 سال سے دو ایٹمی قوتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان چلا آرہا ہے، تقسیم ہند کے وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ہندوگٹھ جوڑ اس مسئلے کی بنیاد بنا، کیونکہ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی تھی اور کشمیر ایک مسلم اکثریتی علاقہ بھی تھا لیکن اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرنے نہ دیا گیا۔ کشمیریوں کی شروع سے ہی مذہبی، ثقافتی و سماجی ہم آہنگی موجودہ پاکستان کے لوگوں سے تھی اور جغرافیائی لحاظ سے بھی موجودہ پاکستان سے منسلک تھا یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے بعد کشمیریوں کی بڑی اکثریت نے پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ کشمیریوں کے اس رجحان کو دیکھتے ہوے بھارت نے جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا جس کے ردعمل میں قبائلی مجاہدین کشمیری مسلمانوں کی مدد کو پہنچنا شروع ہوگئے اور جب بات ڈوگرا فوج و ہندوتوا شدت پسندوں کے بس سے باہر ہوگئی تو نہرو سرکار نے بھارتی فوج کو کشمیر میں داخل کردیا جس کے نتیجے میں پاک بھارت جنگ پھوٹ پڑی جس میں بھارتیوں کی زبردست پٹائی ہوئی تو نہرو سرکار فوراً اقوام متحدہ جا پہنچی۔ اقوام متحدہ کی ثالثی پر پاکستان نے جنگ بندی کردی اور معاملہ عالمی قوانین کے تحت اقوام متحدہ پر چھوڑ دیا۔ سیکیورٹی کونسل میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی اور معاملہ استصواب رائے کے زریعے حل کرنے کے فارمولے کے تحت طے پایا۔ اس ضمن میں سیکیورٹی کونسل نے متعدد قراردادیں پاس کیں لیکن ہٹ دھرم بھارت مختلف ہتھکنڈوں سے ٹال مٹول کرتا رہا۔ اسی دوران بھارت نے 1954 ء میں نام نہاد الیکشن کرواکر پٹ کشمیر اسمبلی سے بھارت کے ساتھ الحاق کی منظوری لیکر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیا جس کے جواب میں UNSC نے قرارداد 122 پاس کی جس میں نام نہاد کشمیر الیکشن اور نام نہاد اسمبلی کے قانون کو مسترد کرتے ہوئے استصواب رائے کے مطابق الحاق کا فیصلہ قائم رکھا۔1998ء کے پاک بھارت ایٹمی دھماکوں کے بعد اقوام متحدہ نے قرارداد 1172 کے ذریعے دونوں ممالک پر کشیدگی ختم کرنے اور تعلقات کی بہتری کے لئے زور دیا لیکن بھارت اپنی فطرت سے باز نہ آیا وقتی دکھاوا کرکے بھارت پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں کی سرپرستی کرتا رہا جس کی زندہ مثال کلبھوشن ہے اور حالیہ دنوں ڈجی آ ایس پی آرا اور وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں پش کیا گیا ڈوزئیر بھی بھارتی مداخلت کے شواہد ہیں پاکستان بارہا اقوامِ عالم کو یہ باور کروا رہا ہے کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے جو خطہ کو جوہری تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے مابین چار ہولناک جنگیں ہوچکی ہیں اور گزشہ سال 27 فروری 2019 کو تازہ جھڑپ میں پاکستان نے بھارت کے دو جنگی طیارے MIG-21 مار گراۓ اور ایک پائلٹ ابھینندی کو گرفتار کیا بعد ازاں خطے میں امن کی خاطر جزبہ خیر سگالی کے تحت اسے رہا کر دیا گیا یہاں یاد رہے دونوں ممالک ہی ایٹمی قوت ہیں اور ممکنہ طور پر جنگ کی صورت دونوں ایٹمی ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کرسکتی ہیں ایسے میں یہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ سات دہائیوں سے لٹکے مسئلہ کشمیر کا حل اپنی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق کرے جسےبھارت مختلف ہتھکنڈو بشمول ڈیموگرافی کی تبدیل اور حیلے بہانوں کا استعمال کرکے ستر سالوں سے گریز کررہا ہے۔بھارت نے 5اگست 2019ء کو جو اقدام کیا وہ سراسر اقوام متحدہ کی تمام تر قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور آج بھارت کے اس غیر آئینی اقدام کو 2 سال ہونے کو ہیں لیکن اقوام متحدہ کی خاموشی جوں کی توں قائم ہے۔ بھارت سرکار نے 5اگست 2019ء سے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر کہ عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں کے منہ پر تمانچہ مارا ہے۔ اگر ایسے میں اقوام متحدہ نے کوئی پیشرفت نہ کی تو دونوں ممالک کے درمیان ایک ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے جس کہ نتائج نا صرف جنوبی ایشاء بلکہ پوری دنیا پر مرتکب ہونگے۔

    @Bilal_1947

  • عنوان : صرف 30 سال اور ہم    تحریر: سہیل احمد چوہدری

    عنوان : صرف 30 سال اور ہم تحریر: سہیل احمد چوہدری

    زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بس 30 سال پیچھے کا چکر لگائیں
    زندگی کتنی خوش و خرم گزر رہی تھی چھوٹے بڑے اپنے دائرے میں رہ کر چل رہے تھے.ادب و احترام کا انحصار تربیت پر سوال اٹھانے سے بچاتا تھا.علاقےیں کچھ ایسی بیٹھک بھی ہوا کرتیں تھیں جہاں مسائل کو پولیس اسٹیشن تک جانے نہیں دیا جاتا تھا.لوگ بخوشی.اطمعنان سکون سے گھروں کے دروازے کھلے رکھنے رکھ کر تسلی محسوس کیا کرتے تھے.اگر کوئی بزرگ کسی کو ڈانٹتا تو اپنائیت کا احساس اجاگر ہوتا .گھر سے ماں کی گود کو پہلی درسگاہ تصور کیا جاتا تھا.اردو کی بجائے پنجابی کو فرض سمجھا جاتا تھا.بچوں کے سامنے رکھی اشیاء بھی اپنی جگہ سے ہلنے کی اجازت نہیں دیتیں تھیں. اچھے برے کی تمیز پر ہر کوئی زور دیتا. خواہشات میں اہم چیز حق حلال کی روزی اور اولاد کو نیک انسان بنانے پر فوکس کیا جاتا تھا.محنت چاہے پڑھائی میں ہو یاں کام میں .بھرپور پذیرائی ملتی تھی.بزرگوں کے جیون ساتھی کے ساتھ ساتھ انکے جہیز کا سامان بھی آخر تک چلتا.رشتوں میں منافقت اور اشیاء میں ملاوٹ نہ ہونے کے برابر تھی .کم سے کم اولاد کی تعداد 7 تو ہوتی ہی تھی.ایک ماں نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ گھر کے کام تو الگ بچوں کو برابر ٹائم بھی دیتیں تھیں.اکیلا باپ 8 , 8 بچوں کیلیے اکیلا کافی تھا.اللہ کی شکر گزاری پر بار بار زور دیا جاتا تھا.بچے بوڑھے ہونے پر بھی ماں باپ کی آواز سے تجاوز ناں کرتے تھے.گھر کی بہو سسرال سے اپنی میت اٹھوانا پسند کرتیں تھیں .گھر کے مسئلے مسائل پر پردہ ڈال کر مرد تک بات نہیں جانے دیا کرتیں تھیں.علیحدگی نام کی کوئی چیز نہیں تھی.ٹرالی والے ٹیلیوزن اور گھر کے دروازے رات 8 بجے پی ٹی وی کے ڈرامے سے شروع ہوکر 9.30 بجے کے خبر نامے کے اختتام کے ساتھ بند کر دیئے جاتے.بچوں کو ٹی وی سے اتنے فاصلے پر بیٹھنے کا حکم تھا جیسے آجکل کورونا کے دوران سماجی فاصلے پر زور دیا جاتا یے.بہو کو بیٹی کا درجہ دیا جاتا تھا..داماد کو بیٹا تصور کیا جاتا تھا پرائیویٹ سکول نہ ہونے کے برابر تھے.سرکاری سکول میں کلاس کے نالائق سٹوڈنٹس بھی اساتذہ کے آگے سر نہ اٹھاتے تھے. اساتذہ گھڑی کو دیکھنے کی بجائے شاگردوں کے متعلق زیادہ سوچتے تھے اور نالائق شاگردوں پر زیادہ فوکس کرنا اپنی زمہ داری سمجھتے تھے.
    کل ملا کر بہترین انسان بنا کر روزگار کیلیے مارکیٹ میں بھیجا جاتا تھا.
    انکی مثبت سوچ اور رویہ سے ان کی تربیت اور افکار کا پتا چلتا تھا.کم تعلیم یافتہ والدین نے بہترین آفیسرز پیدا کیے.
    ہر بندہ اپنی جگہ پر ایسے براجمان ہو کر زمہ داری نبھاتا تھا جیسے جانور اور چرند پرند اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں.
    کھلے مکان .اونچی چھتوں والے کھلے کلاس روم.مٹی کی دیواریں وہ بھی 22 انچ تک چوڑی.گلیوں میں سولنگ.سنگل اسٹوری مکان .شرم و حیاء.ماں باپ اساتذہ کا تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشرتی لیکچر اور مثالوں کی بھرمار نے صحت مند مثبت دماغ والے انسان پیدا کیے.مہنگائی نام کو دشمن تصور کیا جاتا تھا
    اب آتے ہیں 2000 کے دور میں جس میں ہم ایٹمی طاقت .جدید جنگی سامان .بہترین ٹیکنالوجی.
    پر سبقت لے گئے.اور خود کو بیرونی طاقتوں کے آگے مضبوط پیش کیا.
    پر ایک چیز جو جوں کی توں ہے وہ بیرونی قرضہ جات.خیر اس جو تو رجگتے ہی الگ ہیں جس پر دو رائے نہیں.
    کیا کھویا کیا پایا.
    1-اردو اسپیکنگ مائیں پر بچوں میں انسانیت کا فقدان
    2- ایجوکیٹڈ والدین پر اولاد معاشی بے راہ روی کا شکار
    3- ٹی وی .ریموٹ ہر ایک کی دسترس میں پر توجہ کا مرکز بےہودہ اور نان سیئریس وقت کا ضیاع
    4- موبائل .موٹر سائیکل وقت کی ضرورت پر مقاصد آوارہ گردی
    5- مہنگے پرائیویٹ اسکول, اسٹوڈنٹ کی تعداد بھی مختصر پر فیسوں کا بوجھ اور پڑھائی اور ڈگری برائے نام
    6- سکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور جرائم کا بڑھنا
    انسانیت پر سے یقین کا خاتمہ خوف کا چورن سرعام بکنا.
    7-انصاف کے اداروں میں انصاف کی دھجیاں سر عام
    دو قانون .غریب کیلیے الگ امیر کیلیے الگ. ناامیدی
    8-عورت کا بے جا بوجھ مرد پر
    سورس کوئی بھی ہو
    مقاصد پر کوئی سمجھوتا نہ کرنا.
    9- ہر ایک کی جیب میں اپنے مسلک کا فتوئ
    10- بناوٹی سوچ . ہر حال ہر قیمت پر آگے نکلنے کی سوچ
    11- صبر .توکل.توبہ سے دوری وغیرہ وغیرہ
    12- چھوٹے بڑے کا ادب ممنوع.
    اپنے بچوں کو دوسروں پر فوقیت کی فکر
    اتنی بے فکری میں تو جانور بھی بچے نہیں پالتے شاید .جتنے ہم بے فکر ہو گئے ہیں
    13- ہٹلر نے کہا تھا
    اچھی مائیں دو اچھا معاشرہ لے لو .
    14- حلال حرام سے زیادہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور.
    15- بے شمار پیسا ہونے کے باوجود اںسانیت کا فقدان
    سارا قصور ریاست کا نہیں
    کچھ ہمارا بھی فرض بنتا ہے
    مرد کا کام بہتر رزق حلال کما کر گھر کو اسپورٹ کرنا ہے
    ماں کا کیا کام ہے شاید اس پر سوال بنتا ہے
    کیونکہ مولانق طارق جمیل صاحب نے کیا خوب کہا تھ کہ صبح صبح مائیں بچوں کو اپنی جان چھڑانے کیلیے اسکول بھیج دیتی ہیں اسکول میں بچوں کو کارٹون دکھائے جاتے ہیں تاکہ بچے کا دل اسکول میں لگے اور ماوں کی مجبوری کے ساتھ اسکول مافیا کا وظیفہ لگا رہے.
    باقی بچے گھر پر ہیں اور فیسیں آسمان پر .
    جب بچہ گھر آتا ہے تو موبائل یاں ٹی وی دیجھتا یے تو اسے والدین بھی کارٹون نظر آتے ہیں
    ہمیں مل کر اس نظام کو بدلنا ہوگا
    ہم نہیں بدلیں گے تو جیسے 30 سال پہلے کی محنت کو چںد سالوں نے بدل کر درہم برہم کر دیا کسی ناں جسی کو تو شروعات کرنا ہو گی.
    خود کو بدلیں .جیسے چین نے صرف 30 سالوں میں اپنے آپ کو دنیا کی بہترین قوم ثابت کر دکھایا.
    خدارا آپس کی منافقت سے نکلیں اور پچھلے 30 سال کو مثال بنا کر اپنا ٹائم ٹیبل ترتیب دیں .
    کسی کے چہرے کو سرخ دیکھ کر اپنے منہ کو ٹھپڑ مار کر لال کرنے سے گریز کریں.
    اپنے لال کی فکر کریں دوسروں کی گال کو چھوڑیں .