Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ہمارے تعلیمی مسائل تحریر: محمد وسیم

    ہمارے تعلیمی مسائل تحریر: محمد وسیم

    ہمارے موجودہ نظام تعلیم کی بنیاد لارڈ میکالے نے 1835 میں رکھی تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنی قوم اور مزہبی ضرورت کے پیش نظر ایک نئے تعلیمی نظام کو وضع کرتے۔ لیکن ہمارے مقتدر طبقے نے لارڈ میکالے کے وضع کردہ نظام تعلیم کے مطابق اپنا تعلیمی نظام مرتب کیا-تعلیمی نظام کسی بھی ملک و قوم کے تہزیب و تمدن ، رسم و رواج اور ترقی پر برابر اثر رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم سیاسی اعتبار سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی زہنی طور پر انگریز بہادر کی غلام ہے۔1857 کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر پاک و ہند میں دو طرح کے تعلیمی نظام ابھر کر سامنے آئے۔ ایک مذہبی نظام تعلیم اور دوسرا انگریزی نظام تعلیم۔ اول الزکر نظام تعلیم بھی بس نام کا مذہبی رہ گیا تھا اور موخر الزکر اخلاقی طور پر بہت برا ثابت ہوا۔موجودہ پاکستان میں تین طرح کے نظام تعلیم نظر آتے ہیں۔ پہلا نظام تعلیم تو عام سرکاری سکولوں اور کالجوں کا ہے ۔ دوسرا نظام تعلیم پرائیویٹ ہے اور تیسرا انگریزی اور غیر ملکی طرز کا ہے جہاں ذریعہ تعلیم خالص انگریزی ہے۔
    ہمارا موجودہ نظام تعلیم بہترین کلرک پیدا کرنے کی تو صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہ سائنس دان، بہترین مسلمان اور اچھے سی۔ایس۔پی آفیسر پیدا کرنے سے قاصر ہے۔افسوس کہ ہم نے اغیار کا طرز تعلیم اپنا لیا اور اپنا بھی گنوا بیٹھے۔ حقیقی طور پر ہمارا تعلیمی نظام انگریزی تعلیمی نظام سے منہ چھپاتا پھرتا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں بہت سے نقائص ہیں۔
    # بلاشبہ پاکستان ایک غریب ملک ہے ہم دوسرے ممالک کی نسبت اپنے بجٹ کا بہت ہی کم حصہ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بجٹ کا مناسب حصہ تعلیم پر خرچ کرنا ہوگا۔
    # ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خامی اغیار کی زبان میں نصابِ تعلیم ہے۔ انگریزی کی بالادستی سراسر ہماری غلامانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ہمارے تمام علوم و فنون قومی زبان میں پڑھائے جائیں.
    #ہمارا تعلیمی نظام بلاشبہ بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ مثال کے طور پر امتحانات کا ناقص نظام، دوہرا تعلیمی نظام، اساتذہ کی کمی ، لیبارٹریوں میں سائنسی آلات کی کمی، تحقیقی کام کے لیے سہولیات کافقدان وغیرہ۔ ان تمام مسائل کو حل کیے بغیر تعلیمی ترقی نا ممکن ہے۔نظامِ تعلیم کی حقیقی اصلاح موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں تعطیلات کی بھرمار ایک اہم مسئلہ ہے۔ تعلیم سیشن نہایت قلیل عرصے پر مستمل ہوتا ہے اور بروقت نصاب ختم نہیں ہو پاتا اس کا ازالہ بہت ضروری ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ تعلیم کی طرف مبذول کرے تاکہ پاکستان کو حقیقی طور پر آزادی نصیب ہو۔ دعا ہے اس پاک کارساز مالک پروردگار سے کہ وہ ہمارے حال پر رحم کرے اور ہمیں ہدایت عطا کرے بے شک وہی ہدایت دینے والا ہے ۔ آمین ثم آمین

    @mstrwaseem

  • قاتل روڈ  تحریر: علی رضا بخاری

    قاتل روڈ تحریر: علی رضا بخاری

    اہلیان ضلع ڈیرہ غازی خان و ضلع راجن پور 34 افراد بے موت لقمہ اجل، 40 سے زائد زخمی، 70 سے 75 خاندان برباد ہوئے، ہر آئے روز اس قاتل خونی سنگل انڈس ہائی وے کشمور، راجن پور تا ڈی جی خان، رمک اٹھتے لاشے قیامت صغری کا منظر تڑپتے لاشے کٹے پھٹے جسم، سسکیاں اور آہیں جو کہ حاکم وقت کے کانوں تک پہنچنے سے شاید قاصر ہیں، 20 سے 40 سال کےجوان صرف روزی روٹی کی خاطر پنجاب کے بڑے شہروں میں اپنوں سے دور اپنے علاقوں میں روزگار میسر نہ ہونے کے سبب مجبور بس حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے، کئی بہنوں کے بھائی کئی سہاگنوں کے سر کے سائیں، کئی مائوں کے راج دلارے، جگر کے ٹکڑے ،کئی خاندانوں کے واحد کفیل، اور درجنوں اپاہج ہونے والے مجبوری اور بے بسی کی تصویر بنے لاش نما زندہ چہرے آپ سے شاید کہہ رہے ہوں کہ کس کو قاتل کہیں کس کو مقتول کہیں، 40 سال سے یہ قاتل خونی سنگل روڈ کئی حادثات کو جنم دے چکا ہے کیا اب بھی کسی اور خونی منظر، کسی قیامت صغری کا مزید انتظار ہے، اس المناک حادثے نے پورے وسیب کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اب اس معاملے پر خاموشی بےحسی ہوگی، کب تک بے بس زندگی گزارتے رہیں گے، کب تک اپنوں کی لاشوں کو کاندھا دے کر تیرا سردار میرا سردار زندہ باد کے نعرے لگاتے رہیں گے، کب تک پارٹی پارٹی کھیلتے رہیں گے، کب تک اپنے خون کو پانی کی طرح بہتا دیکھ کر خاموش تماشائی بنے رہیں گے، خدا کے لئے ہر گروپ ہر پارٹی کو سائیڈ پہ رکھ کر اس قاتل خونی روڈ کو ون وے دو رویہ ڈبل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں، سوال یہ ہے کہ یہ روڈ پچھلے کئی سالوں سے ہر دوسرے دن کسی نہ کسی معصوم کی جان لیتا ہے، پریس کانفرنسوں میں یہ روڈ منظور ہے مگر اصل میں کب بنے گی؟ ہم اگر عملی طور پر بطور معاشرہ قدم نہیں اٹھا سکتے تو کم سے کم سوشل میڈیا پر آواز اٹھا سکتے ہیں سنا ہے سوشل میڈیا پر کیے گئے احتجاج پر جلد ایکشن لیتے ہیں۔

    @aliraza_rp

  • بچوں کی نشوونما  تحریر: محمد کامران۔

    بچوں کی نشوونما تحریر: محمد کامران۔

    بچے الله تعالیٰ کا انمول اور خوبصورت تحفہ ہوتے ہیں والدین کی زندگی میں بچوں کی وجہ سے خوشیاں اور رونقیں ہوتی ہیں ماں کی کوکھ سے ہی بچے کی تربیت اور نشوونما شروع ہو جاتی ہے دنیا میں آتے ہی بچے والدین سے سیکھناشروع ہو جاتے ہیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوششں کرتے ہیں ۔
    گھر کا ماحول اور والدین کی ساکھ بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر گہرا اثر ڈالتی ہے جہاں ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے وہیں مدرسہ یا سکو ل کی تعلیم بچوں میں مختلف علوم اور ہنر کو اجاگر کرنے کیلئے ضروری ہے ۔
    بچوں میں ہنر اور علوم ان کی زندگی کو بہتری کی طرف لے جانے کا باعث بنتے ہیں بچوں میں بااخلاق اور ذمہ دار شہری بننے کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے ۔اور ان کو اایک متوازن زندگی گزار نے کا موقع ملتا ہے ۔اور بچے زندگی کے نشیب و فراز سے واقف ہوتے ہیں
    والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کی صحیح ذہنی نشوونما کیلئے بہترین سکلول یا مدرسہ اور اساتذہ کا انتخاب کریں اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ گھر میں توجہ سے وقت دیں تاکہ مثبت شخصیت اجاگر ہو۔اچھی اور سبق آموز کہانیوں کا انتخاب کریں اور سونے سے قبل کہانیاں سنانے سے ایک تحقیق کے مطابق بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا ہو تا ہے اور ان کی ذہنی اور فکری نشوونما ہوتی ہے
    ماحول بچوں کی نشوونما میں اہم کردارادا کرتاہے بچے جس ماحول میں پرورش پاتے ہیں ان میں اسی کی جھلک نظر آتی ہے بہترین ماحول میسر آنے سے بچوں کی نشوونما بھی مثبت انداز میں ہوتی ہے ۔بچے پگھلے ہوئے کانچ کی طرح ہوتے ہیں ان کو جس سانچے میں ڈھالو ڈھل جاتے ہیں
    بتہرین ذہنی اور جسمانی نشوونما کیلئے ان کے اردگرد مثبت چیزوں ،سوچ ،ماحول اوردیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔

    @kaamm_ii

  • کھٹی میٹھی سوچ   تحریر: سمیرا جمال

    کھٹی میٹھی سوچ تحریر: سمیرا جمال

    یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک نے اگر ترقی کی ہے تو اپنی لیڈر شپ کے مدبرانہ فیصلوں کی بناء پہ ہی کی ہے ۔اگر لیڈر شپ کے مدبرانہ فیصلے نہ ہوں تو ملک و قوم صرف ترقی کرنے کا خواب تو دیکھ سکتی ہے مگر عملی طور پہ ترقی کر نہیں سکتی ان کی ترقی محض ایک خواب بن کے رہ جاتی ہے ۔اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر آپ کے حاکم ،آپکی لیڈر شپ کمزور ہے تو اس صورت میں ترقی کا سفر بھی تنزلی میں بدل جاتا ہے ۔
    پاکستانی قوم کی بد قسمتی کہ پچھلے کچھ عرصہ سے لیڈرز تو بہت تھے مگر وہ تمام خصوصیات جو کہ ایک لیڈر میں ہونی چاہئیں تھیں ان کا فقدان تھا۔ایسی لیڈر شپ کے سائے میں پھر ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب تو سکتا تھا مگر ترقی نام کا چورن ان کے لئے بھی بیچنا مشکل تھا۔آج کل بھی جن افراد میں لیڈر شپ کے کوئ گن نہیں ہیں وہ لوگ بھی اس صف میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے اندر تعصب کوٹ کوٹ کے بھرا ہے،یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ملک و قوم سے نہیں اپنی تجوریوں کے بھرنے سے مطلب ہوتا ہے ۔
    اسی لئیے ہمیشہ کوشش کریں کہ ذات برادری سے نکل کر صرف اور صرف اپنے ملک کا سوچیں۔اپنے لوگوں کا سوچیں اپنی عوام کا سوچیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ ووٹ کا استعمال اپنے ضمیر کے مطابق کرتے ہیں۔
    ایسے تمام گدھ جو عوام کو نوچ نوچ کے کھاتے ہیں ان سے ایک ہی صورت میں آپکی جان چھوٹ سکتی ہے کہ آپ کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر اپنے ووٹ کا صیحیح استعمال کریں۔اس حقیقت کو سمجھئے کہ آپ کا ووٹ آپ کی قیادت کو منتخب کرتا ہے ۔ جب آپ کا لیڈر مدبرانہ فیصلے کر سکتا ہو،وہ نڈر ہو،اس میں خوش قسمتی سے وہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہوں جو ایک مسلم حاکم میں ہونی چاہیں تو یقینا وہ قوم تنزلی سے ترقی کی طرف طرف گامزن ہو جاتی ہے ۔مگر اس تمام صورتحال میں میں ایک بات کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ کسی بھی صورت میں سپورٹ کرتے ہوئے اپنی تربیت پہ حرف نہ آنے دیں ۔خوش قسمت ہیں وہ والدین جن کی تربیت کی وجہ سےوہ دعائیں سمیٹتے ہیں ۔سوشل میڈیا پہ ہر پارٹی کے جانثار موجود ہیں مگر ایک چیز کاخیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ پارٹی سے ہٹ کے صرف اور صرف اپنے وطن کا سوچیں جو غلط ہے اسے غلط کہنے کی جراءت پیدا کریں۔ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں سچائ کو شہید نہ کریں ۔
    مجھے ایک چیز کا ہمیشہ سے قلق رہا کہ کیا ہم لوگ دشنام طرازی ،گالم گلوچ کی بجائے دلائل سے بات نہیں کر سکتے ؟کیا ہم زہنی طور پہ اس قدر بیمار اور پسماندہ ہو چکے ہیں کہ برداشت کا مادہ ختم ہو گیا ہے ۔اپنی تربیت پہ کبھی حرف نہ آنے دیں ۔سوچئے گا۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو
    پاکستان زندہ باد
    @sumairajamalkha

  • بڑھتی ہوئی قومیت پسندی اور فکری انتشار   تحریر: عرفان محمود گوندل

    بڑھتی ہوئی قومیت پسندی اور فکری انتشار تحریر: عرفان محمود گوندل

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مختلف اقوام و ثقافت اور زبان سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں۔
    اور طبقات میں ایسے تقسیم ہیں کہ ہر کوئی خود کو دوسروں سے افضل سمجھتا ہےاور بات یہاں تک کہ کمتری اور برتری کی حد تک چلی جاتی ہے
    پیدائشی طور پر ہمیں جس خاندان کی شناخت ملتی ہے ہم اس کو ہی لاشعوری طور پر دوسروں سے افضل سمجھتے ہیں۔ جو شناخت ہمیں‏ اتفاقً ملی ہے جس کو حاصل کرنے میں ہماری کوئی کوشش نہیں اس کے لئے ہم بعض اوقات مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ ہماری اصلاح ہو یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ فکری انتشار کے عروج پر ہے۔کوئی گروہ یا جماعت اپنے سے الگ خیالات رکھنے والے کا نقطہ نظر سننے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے معاشرتی بگاڑ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ امن کا تعلق معاشرے میں رہنے والوں کی نفسیات پر ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں نفرت اور انا کی ایسی بلندوبالا عمارتیں تعمیر کی گئیں ہیں کہ کوئی گروہ دوسرے کو سننے کو تیار نہیں۔
    فکری انتشار کی ایک بڑی وجہ ہم مسلمانوں میں فرقہ واریت ہے ہمارے بہت سے علماء کرام مختلف فرقوں کے نام پر اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ دوسرے فرقے کی برائی اور خود کی اچھائی ثابت کریں۔ہمیشہ خود احتسابی اور حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے سے کتراتے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کی دوسری بڑی وجہ ہمارا بوسیدہ نظام تعلیم ہے جو پہلے تو مدارس، سرکاری اور پرائیویٹ نظام تعلیم میں تقسیم تھا اوراب مزید تقسیم در تقسیم ہوتا جا رہا ہے اور قوم ایک ہجوم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مدارس سے نکلنے والے حضرات اپنے مسلمان بھائیوں کو جہنمی اور کفر کے فتوے دیتے ہیں اور سکول اور کالج سے فارغ التحصیل لوگ مدرسوں میں پڑھنے والے لوگوں سے خود کو افضل سمجھتے ہیں۔ بات صرف فطری اختلاف تک نہیں رہتی بلکہ ماردھاڑ تک پہنچ جاتے ہیں۔افسوس کے ساتھ ان ستر سے زیادہ سالوں میں معاشرے کے ساتھ ساتھ ریاست نے بھی کبھی کوشش نہیں کی جس سے معاشرے کے مختلف گروہوں یا طبقوں میں ہم آہنگی بڑھ سکے۔ رہتی کمی ہماری سیاسی جماعتیں نکال دیتی ہیں جو ہماری قوم کو سندھی، پنجابی، بلوچی،پشتون، سرائیکی اور اس کے علاوہ بہت سارے گروہوں میں تقسیم کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں اور 70 سالوں میں تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی پر اقتدار سے لطف اندوز ہوتی آئی ہیں۔
    کچھ سیاسی پارٹیاں مذہب کے نام پر اپنا چورن بھیجتی ہیں جن کے بارے میں سعادت حسن منٹو نے کیا خوب کہا تھا لیڈر جب آنسو بہا کر لوگوں سے کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے تو اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ مذہب ایسی چیز ہی نہیں کہ خطرے میں پڑ سکے، اگر کسی بات کا خطرہ ہے تو وہ لیڈروں کا ہے جو اپنا اُلّو سیدھا کرنے کے لئے مذہب کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔یہ لوگ جنہیں عرف عام میں لیڈر کہا جاتا ہے، سیاست اور مذہب کو لنگڑا، لولا اور زخمی آدمی تصور کرتے ہیں۔
    ہمیں اس مذہبی اور سیاسی تقسیم سے نکل کر اپنے بزرگوں کے فرمودات پر عمل کرتے ہوئے ایمان، اتحاد اور تنظیم کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا ورنہ ہم جدید دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین۔

    @I_G68

  • طلاق   تحریر: مدثر حسن

    طلاق تحریر: مدثر حسن

    ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے جو کہ ایک پریشانی کا بحث ہے طلاق کا لفظ سن کر ہمیشہ ہماری سوچ لڑکی کے کریکٹر پر جاتی ہے کہ اس کی وجہ یہ لڑکی ہی ہوگی حلانکہ اکثر معمولات میں مرد کی ہی وجہ ہوتی ہے طلاق کا بوجھ اٹھانا ایک لڑکی کی زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا وہ وزنی پتھر کا بوجھ اٹھا سکتی ہے لیکن اس کے لیے طلاق کا بوجھ اٹھانا بہت مشکل ہے مرد کے لیے طلاق کے صرف تین حرف ہیں لیکن یہ تین حرف لڑکی کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں!!!!!

    طلاق کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہےکہ گھر والوں کی مرضی ہوتی ہے ان کو زبردستی شادی کے بندھن میں بندھ دیتے ہیں لڑکے اور لڑکی کی دلچسپی جانے بغیر لڑکی بیچاری تو کمپرومائز کر جاتی ہے اپنی زندگی پر لیکن مرد ایسا نہیں کرتے وہ کچھ عرصہ بعد طلاق دے دیتے ہیں اور اپنا نیا جیون ساتھی تلاش کرتے ہیں جو ان کی پسند ہو اور وہ لڑکی طلاق کا ٹھپہ لیے اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاتی ہے اور اپنی قسمت کو کوستی ہے

    حلانکہ طلاق اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اس لیے قرآن میں واضح بتایا ہے کہ جو عورت تمہیں پسند ہو ان سے نکاح کر لو تاکہ یہ طلاق کی نوبت نہ آئے والدین کو چاہیے شادی کرنے سے پہلے لڑکے اور لڑکی کی مرضی جان لیں تاکہ بعد میں ان کو یہ صدمہ برداشت نہ کرنا پڑے!!!!!!!

    اسلام نے ہمیں چار شادیوں کا حکم دیا ہے اس میں طلاق یافتہ سے بیوہ سے شادی کرنا بھی شامل ہے طلاق یافتہ اور بیوہ سے شادی کرنا بھی سنت رسول ﷺ ہے کوشش کریں جس شادی کریں ان سے راشتہ طور نبھائیں تاکہ طلاق کی نوبت نہ آسکے ۔

    طلاق کی وجہ سے والدین بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں حالانکہ قصور بیٹے کا ہوتا ہے اگر بیٹے کی تربیت ٹھیک طریقے سے کی جائے تو
    طلاق کی نوبت بھی نہ آئے

    اس لیے بہن ،بیٹی کے اچھے نصیب کی دعا کی جاتی ہے کہ اللہ ان کے لیے نصیب اچھے کرے اور آسانیاں فرمائے آمین !!!!!!

    @MudasirWrittes

  • جہیز ایک لعنت ہے۔    تحریر: عمران خان رند بلوچ

    جہیز ایک لعنت ہے۔ تحریر: عمران خان رند بلوچ

    "جہیز "عربی زبان کے لفظ جہاز کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ جس کے معنی ہیں "سازوسامان پہنچانا” اصطلاح میں اس سے مراد وہ سازوسامان ہے جو والدین شادی بیاہ کے موقع پر اپنی بیٹی کو نقدی،کپڑوں،زیور یا سامان خانہ داری کی صورت میں دیتے ہیں۔برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں جہیز کی موجودہ رسم ہندو معاشرے کی پیداوار ہے ۔
    مسلمانوں اور ہندوؤں کے آزادانہ میل جول کا عرصہ تقریباً ایک ہزار سال کا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران ” تخم تاثیر صحبت اثر” کے مصداق مسلمانوں اور ہندوؤں نے ایک دوسرے کو بہت متاثر کیا اور ہندو معاشرے کی بہت سی بری رسومات مسلمانوں نے اپنالیں۔ اس لیے علامہ اقبال نے خوب کہا کہ
    حقیقت خرافات میں کھو گئی
    یہ امت روایات میں کھو گئ
    اگر اسلامی تعلیمات کو پرکھا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کو ان کے نکاح کے موقع پر بہت معمولی سامان بطورِ جہیز دیاتھا۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کےساتھ رشتہ ازواج میں منسلک ہونے سے قبل حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہِ وسلم کے ساتھ ہی رہتے تھے اور ان کا اپنا کوئی گھر نہ تھا۔شادی کے بعد جب انھوں نے اپنا گھر بنایا تو اس میں گھریلو سامان کی ضرورت فطری امر تھا۔ لہذا اگر حضور نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا تو اس سنت کا اطلاق انھی حالات میں ہوگا جن حالات میں حضور نے اپنی بیٹی کو یہ سامان دیا۔
    اس سے ثابت ہوا کہ لڑکی کا گھر بسانے کے لیے اسے ضروری ساز و سامان مہیا کرناسنت کے عین مطابق ہے مگر اس سلسلے میں حد سے تجاوز کرنا محض رسم پرستی اور اسراف ہے۔ اسی اسراف سے بعد ازاں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔
    حضور ﷺ نے فرمایا:
    "اسراف کرنے والا شیطان کا بھائی ہے”.
    ہمارے ہاں آج کل یہ رسم بد اس قدر پھیل چکی ہے کہ ایک غریب شخص جو اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ بمشکل پالتا ہے۔ بیٹی پیدا ہوتے ہی یہ فکر اس کے دامن گیر ہو جاتی ہے کہ خواہ جہیز کے لیے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے مگر بیٹی کی شادی کے موقع پر ساکھ قائم رہے اور برادری میں ناک رہ جائے۔ خود بھلے فاقوں کا سامنا کرنا پڑے ۔مگر بچی کا جہیز تو شان دار ہونا چاہیے۔
    اے ہوا!تو میرے دامن کو اڑا نہ اس طرح
    پیٹ پر باندھے ہوئے کوئی پتھر نہ دیکھ لے
    خصوصاً قیام پاکستان کے بعد تو یہ رسم اس قدر بڑھ گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ جہیز دینے کے لیے لوگ ہرطرح کے غیر قانونی اور ناجائز ذرائع مثلاً چوری،رشوت،سمگلنگ وغیرہ کو بھی استعمال میں لانے لگے ہیں۔ اس طرح امراء کی دیکھا دیکھی زیاده جہیز دینے کی دوڑ میں غریب اپنی غربت کی چکی میں میں پس کر رہ جاتے ہیں۔
    صورت حال یہ ہے کہ بہت سے غریب گھرانوں کی شریف زادیاں شادی کی عمر ہونے کے باوجود تمام عمر گھر میں گھل گھل کر گزارنے پر مجبور ہیں کیوں کہ ان کے والدین لڑکے والوں کے حسب منشا جہیز دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
    گویا یہ ایک ایسی رسم ہے کہ جس نے بہت سی بیٹیوں اور بہنوں کی زندگیاں برباد کر ڈالی ہیں ۔
    اگر ہمارے ہاں ہوس زر کا یہی رحجان رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ جب غیرت مند غریب لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر ڈالیں گے۔ یا پھر خود
    اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ والدین کی جائیداد میں عورت کا ایک مقررہ حصہ ہوتا ہے ، جو اس کا شرعی حق ہے۔اب وہ والدین پر منحصر ہے کہ وہ یہ حصہ اس لڑکی کو شادی سے پہلے سے ہی دیتے ہیں، شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں دیتے ہیں یاشادی کے بعد دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں شریعت کے اعتبار سے بھی ان پر کوئی قید نہیں ہے۔ آج کل حکومت نے جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے قانون تو بنا دیا ہے مگر قوانین کا فائدہ تبھی ہوتا ہے، جب ان پر عمل ہو اور عمل بھی تب ہی ہوتا ہے، جب انسان سچے دل سے اسے قبول کر لے۔ لہذا ضروری ہے کہ پہلے افراد کی سوچ تبدیل کی جائے تا کہ وہ یہ مان لیں کہ جہیز واقعتاً ایک معاشرتی روگ ہے۔ پھر اس کے بعد ضروری ہے کہ سب لوگ اس لعنت کے خاتمے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لاکر اس کی بیخ کنی کر ڈالیں۔ اس سلسلے میں اہل ثروت اور باقی لوگوں کو پہل کرنی چاہیے۔ اگر یہ لوگ شادی بیاہ میں سادگی اختیار کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ غربا بھی ان کی پیروی نہ کریں۔ آج کل بہت سے علماء اس برائی کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ اپنی لڑکیوں کی شادی بیاہ سادگی سے مسجد میں کرتے ہیں اور معمولی سامان کے ساتھ وہاں سے رخصت کر دیتے ہیں۔اگر نوجوان لڑکے بھی اس مسئلے کی نوعیت کو سمجھیں تو انھیںں چاہیے کہ وہ جہیز لینے ہی سے انکار کر دیں ۔ خواہ لڑکی والے کتنا زور کیوں نہ دیں۔
    ہمارے پیارے نبی نے اپنی بیٹی کو بہت سا جہیز اس لیے نہیں دیا کہ ان کی امت کا غریب سے غریب فرد بھی معمولی جہیز دینے کے باوجود اپنے آپ کو عزت دار سمجھے۔ ہمیں چاہیے کہ اسلام کے سنہری اصولوں پرعمل کریں اور اس برائی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی پوری سعی کریں۔اگر سب لوگ مل کر کوشش کریں تو جلد یا بدیر اس رسمِ بد کا خاتمہ ہو جائے گا۔
    twitter.com/@ibaloch007

  • ماں.!  تحریر: کاشف علی

    ماں.! تحریر: کاشف علی

    اللہ تعالی نے ہمیں بے شمار اور بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے ان نعمتوں میں اللہ نے ماں جیسی عظیم الشان نعمت بھی عطا کی ہے جو کسی تحفے سے کم نہیں ہے۔
    ماں کی محبت کو اللہ تعالی نے تشبیہ دے دی ہے دنیا میں محبت کی مثال میں لوگ ماں کا نام لے مثال دیتی ہے ماں کی محبت وہ بے لوث محبت ہے جس نے پتھر جیسے اولاد کو موم کیطرح ملائم بنایا
    زمانے بھر کے مشقتیں اٹھا کر ماں اپنی آنکھوں میں اولاد کی کامیابی کے خواب سجائے رکھتے ہیں بچہ چھوٹا ہو تو ماں اسکی پرورش میں ذرا برابر کمی کوتاہی نہ کرتے ہوئے انکے جوانی کی دن آب و تاب سے دیکھتے ہیں جب اولاد پر جوانی پروان چڑھتی ہے تو ماں کا ایک ہی خواب ایک سپنا ایک ہی تمنا ہوتی ہے کہ میرا بچہ کامیابی کی سیڑھیوں کو بنا مشقت کے عبور کریں۔ ماں ہی وہ عظیم ہستی ہے جب بچہ گھر سے نکلے تو واپسی تک وہ گھر کے ایک کھونے میں بیٹھ کر اسکی سلامتی کیلئے کوٹ کوٹ کر روتی ہوئے دعائیں مانگتی ہے اور لبوں پر ایک ہی جملہ جس سے ماں کی محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے
    تم اپنی حفاظت کیا کرو گے میرے بیٹے
    بے شک سانسیں تو تمھاری ہے لیکن تم جان تو میری ہو ماں جیسی ہستی دنیا میں ہے کہاں

    ماں چاہے جس کی بھی ہو یہ لفظ لب پہ آتے ہیں عزت و تکریم کے آثار دل میں منڈلانے لگتے ہیں کیوں کہ ایک ماں ہی تو ہے جس نے سہارا دے کر ہمیں پالا بڑا کیا بولنا سیکھایا ہمیں اپنی انگلی پکڑوا کر چلنا سیکھایا ایسی عظیم ہستی کا نعم البدل کہاں

    ماں کی دعائیں پتھروں میں راستے بنا دیتے ہیں اگر ماں نے کہا کہ بیٹا اللہ آپ کو کامیاب کریں سمجھو آپ کامیابی کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ گئے ہو انکی دعائیں بلاوں مصیبتوں سے یوں محفوظ رکھتی ہے کہ بھلا یہ گمان ہی پیدا نہیں ہوتا ماں کی محبت دیکھنا ہو تو بارش میں ایک مرغی کو دیکھیں جو اپنی پرواہ کیے بغیر موسم کی شدت سے لڑتے ہوئے اپنی پروں کو کھول کر اپنی ہی بچوں پر سائبان بن جاتے ہیں انہیں اپنی زندگی کا خیال ہی نہیں ہوتا بس خیال اولاد کی زندگی کا ہوتا ہے
    لاکھ گرد اپنی حفاظت کی لکیریں کھینچو
    ایک بھی ان میں نہیں ماں کی محبت جیسی دنیا میں ہر چیز کا ثانی ہونا ممکن ہے لیکن ماں کی محبت کا ثانی ممکن نہیں ہے تمام محبتیں جعلی جھوٹے ہوسکتے ہیں لیکن ماں کی محبت وہ خالص محبت ہے جسکی کوئی ثانی نہیں ہوسکتی دوسری عورتوں سے کہا جاسکتا ہے کہ ماں جیسی ہو لیکن ماں سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں عورت تم جیسی ہیں کیوں کہ ماں تو بس ماں ہے

    بقول شاعر خدا کی جنت دنیا میں کبھی دیکھنے کا شوق ہو تو فقط ایک بار اپنی ماں کی گود میں کبھی سو کر دیکھنا

    جن کی مائیں حیات ہیں اللہ تعالیٰ انہیں لمبی زندگی عطاء فرمائے اور جن کی مائیں وفات پا گئی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صبر دے ۔۔۔ آمین

    @DirojayKhan1

  • قربانی جذبہ بھی فریضہ بھی.  تحریر:شمیل آعوان

    قربانی جذبہ بھی فریضہ بھی. تحریر:شمیل آعوان

    قربانی سنت ابراہیمی ہے جو ہر سال ہم اہنا اولین فریضہ سمجھ کے اپناتے اور نبھاتے ہیں..
    عید قربان نا صرف سنت ہے بلکہ یہ ایک ایسا درس ہے
    جو ہماری زندگی کو ہمارے کردار کو بہت سوچنے پہ آمادہ کرتی ہے. اسلام نے کتنی خوبصورتی سے اس دن کو غرباء کے لیے بھی بہترین بنایا. اس قربانی کا اللہ پاک کی نظر میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ غرباء مساکین لوگ جو سارا سال شاید بکرے گاے کا گوشت کھانے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ اس دن پیٹ بھر کے کھانا کھاتے ہیں اور اللہ پاک اپنے بندوں کی خوشی میں ہی خوش ہوتے ہیں.
    اس طرح قربانی کے گوشت میں بھی ان مستحقین کے باقاعدہ حصے طے کیے گئے ہیں تاکہ ان تک پہنچ سکے.
    یہ قربانی نا صرف جانوروں تک محدود ہے یہ ہمیں درس دیتی ہے ایثار کا برابری کا احساس کا بندگی کا حقوق العباد کا جو کہ اللہ رب العزت کو بہت پسند ہے.
    ہمارے معاشرے میں حقوق العباد تقریباً ناپید ہوتا جا رہا ہے مگر بحیثیت ابسان تو ہم کبھی مکمل ہونے کا دعویٰ کر ہی نہیں سکتے اگر کوئی ذات مکمل ہے تو وہ رب ذوالجلال کی ہے جو ہر سال حقوق العباد کو دہرابے اور یاد دہانی کروانے کو اس دن کو ہماری زندگیوں میں لاتا ہے اور ہم اس دن دل کھول کے ہر گھر میں استطاعت کے مطابق گوشت دیتے ہیں دروازے پہ آئے مساکین اور ضرورت مندوں کو بانٹ کر دلی سکون اور اللہ کا قُرب حاصل کرتے ہیں.

    قصہ مختصر یہ کہ…

    وہی ذات ہے جو بے شک یقیناً سب جانتی ہے اور ہماری زندگیوں کو انسانیت کی خدنت کی طرف کب کیسے مائل کرتی ہے وہ وہی رب خود ہی جانتا ہے ہم بہت چھوٹے اور
    گناہگار ہیں.
    اللہ پاک اس موقع پہ بھی ہم انسانوں کو حقیقی جذبہ قربانی سے نواز دیں.
    آمین
    @shameel512

  • تلاش   تحریر: صدام حسین

    تلاش تحریر: صدام حسین

    پی کے 81 تیل وگیس پیدا کرنے والا حلقہ ہونے کیوجہ سے بہت آہمیت کا حامل مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج اس بدقسمت حلقے کو ایسا لیڈر نہی ملا جو اس حلقے کی عوام کی تقدیر بدلنے کے لیے اقدامات اٹھائے تیل وگیس کی پیداوار سے وطن عزیز صوبہ خیبر پختونخواہ وضلع کوہاٹ کو سالانہ اربوں کا منافع ہورہا ہے مگر جہاں سے یہ سونا اگل رہا ہے وہاں کے مکین آج بھی صاف پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں ۔
    ہماری زمین سے پیدا ہونے والا گیس ملک کے دوسرے آضلاع کی فیکٹریاں کارخانے اور گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہورہا ہے مگر سونااگلنے والے سرزمین کے لوگ روزی روزگار کے لیے دیار غیر یا پھر ملک کے دوسرے آضلاع کا رخ کرنے پر مجبور ہیں گزشتہ پی ٹی آئ حکومت میں شہزادئ کے مقام پر انڈسٹریل زون قائم کرنے کا واویلا رہا مگر ابھی تک عملی اقدامات دور دور تک نظر نہی آرہے تیل گیس پیدا کرنے والی کمپنیاں و منتخب عوامی نمائندے عوام کو چونا لگاکر خود تو اس نعمت سے فیاضیاب ہورہے ہیں مگر اس بدقسمت حلقے کی عوام کی ویلفئر کے لیے خاطرخواہ اقدامات اٹھانا گوارہ نہی کرتے ۔
    12یونین کونسل پر مشتمل یہ وسیع و عریض حلقہ بنیادی ضروریات کے لیے ہمیشہ کسی مسیحا کی "تلاش ” میں اپنی رائے دہی کا استعمال کرتی چلی آرہی ہے مگرآج تک ایسا کوئ نمائندہ انکی کردرے ہاتھوں پر خوشحالی وترقی کی لکیر نہ کھینچ سکا ۔
    موجودہ پی ٹی آئ صوبائ و وفاقی حکومت عوام پر سرمایہ کاری کرنے پر یقین رکھتی ہے اور وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب انتخابی مہم کے دوران پر عوام پر سرمایہ کاری کرنے پر زور دیتے چلے آئے ہیں اور وزیرمملکت برائے داخلہ محترم شہریارخان آفریدی صاحب بھی آپنے تقاریر میں عوام کی قسمت بدلنے کی باتیں کرتے چلے آئے ہیں ہم پی ٹی آئ حکومت و محترم شہریارخان آفریدی صاحب سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ حلقہ پی کے 81 کے تیل وگیس کی پیداوار کو مدنظر رکھ کر اس حلقے میں انڈسٹریل زون کے قیام کو اولین ترجیح دینگے اور اس حلقے کی محرومیاں ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اتھائنگے انشاءاللہ ۔
    صاف پینے کا پانی ہمیشہ سے اس حلقے کی مکینوں کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے دریا سندھ اس حلقے کے ساتھ بہتا ہوا سمندر میں جاگرتا ہے آگر حکومت وقت سنجیدگی سے اسطرف توجہ دیں تو دریاسندھ سے حلقہ پی کے 81 کی ابنوشی و ابپاشی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں اور گیس سے چلنے والی چھوٹی بڑی فیکٹریاں لگا کر اس حلقے اور کوہاٹ کی بیروزگاری پر قابو پایا جاسکتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کوہاٹ سے منتخب صوبائ و وفاقی نمائندے کب اس طرف توجہ مبذول کرتے ہیں ۔
    پی ٹی آئ اور بالخصوص محترم شہریارخان آفریدی کو آللہ نے عوام کی بے لوث خدمت کا موقعہ دیا ہے آگر یہ موقعہ ضائع کیا گیا تو آئندہ اسطرح کا موقعہ شائد نہ ملے

    @SAA_afridi