Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی  تحریر : زوہیب زاہد خان

    سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی تحریر : زوہیب زاہد خان

    آج کے دور میں ہم مسلمان دنیا کی رنگینیوں میں کھوگئے ہیں۔ آج ہم دین اسلام کی تعلیمات سے دور ہوچکے ہیں جسکی وجہ سے ہماری زندگیوں سے برکت اٹھی چکی ہے۔ ہمیں کہیں طرح کے مسائل نے گھیر لیا ہے۔ ہم الجھنوں کے دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ہمارے دل مردہ اور بے ضمیر ہوچکے ہیں. مجموعی طور پر ہمیں زوال کا سامنا ہے۔

    ناکامی کی بنیادی وجہ :
    مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ الله پاک اور الله کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق زندگی نہ گرازنا ہے۔ کیونکہ اصل کامیابی الله اور رسول الله کی اطاعت اور فرماں برداری میں ہے۔ یہ ہی مسلمانوں کی دنیا و آخرت میں کامیابی کا اصل ذریعہ ہے۔

    سنت نبویؐ :
    ہر وہ ایسا عمل جو ہمارے پیارے رسولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملی طور پر کرکے دکھایا ہو اور امت کو اسکا حکم دیا ہو اس عمل کو ہم سنت کہتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی کریم کی پوری زندگی ہمارے لیئے عملی نمونہ ہے. پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے محبت ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ پیارے نبی کی سنت سے محبت نبی سے محبت کی عظیم ترین مثال ہے۔

    الله رب العالمین نے ہمارے نبی کریم کی سیرت طیبہ کو قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بنادیا ہے۔ مسلمان زندگی کے ہر امور میں آپ کی سیاست طیبہ کو پڑھ کر رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ نبی کریم کی زندگی ہر مسلمان کیلئے بہترین اسوہ حسنہ ہے۔

    قران و سنت :
    آج کے مشکل ترین دور میں الله اور رسول اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنا ہماری دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی ہے۔

    قران مجید میں الله نے مسلمانوں کیلئے واضح احکامات بیان فرما دیئے ہیں۔اسکے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی احادیث مبارکہ کے مطابق زندگی گزارنا ہماری حقیقی کامیابی ہوگی۔

    الله پاک مجھ سمیت ہر مسلمان کو الله اور الله کے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت طیبہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

    @ZohIbZahidKhan

  • جماعت اسلامی پاکستان  تحریر:  عامر خان

    جماعت اسلامی پاکستان تحریر: عامر خان

    پچھلے کچھ دنوں سے جماعت اسلامی پر کچھ لکهنے کا ارادہ تها وقت کا سیاہ گھوڑا مگر سرپٹ دوڑ رہا تها ذاتی مصروفیات جس کی کمر پہ سوار تهیں اور ناچیز ارادہ باندهتا ہوں توڑ دیتا ہوں کی کیفیت سے دوچار کہ پرسوں ن لیگ کے چند نوجوان کارکنان سے نشت ہوئی موضوع تها خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات کسی ایک کے پاس بهی کوئی اعداد و شمار تک نہیں تهے معلومات کا یہ عالم تها کہ یہ تک نہ جانتے تهے کہ مقتول کارکنان کا تعلق کس جماعت سے ہے دھاندلی پر میں بحث نمٹا چکا تو انہوں نے کپتان پر روایتی تنقید شروع کی ایک ایک نقطے کا میں نے تفصیل سے جواب دیا کوئی پانچ گھنٹے کی سعی لا حاصل کے بعد ان کا موقف یہ تها کپتان کامیاب کیونکر ہو سکتا ہے جبکہ ان سے پرانی اور زیادہ اچھے لوگوں پر مشتمل جماعت، جماعت اسلامی ناکام ہے اس پر بهی میں نے کهل کر بحث کی اور دونوں جماعتوں کی کامیابی و ناکامی پر اپنی معروضات پیش کیں اختتام پر کچھ تحریک انصاف بارے اچهے خیالات کا اظہار کر رہے تهے یا پهر نرم الفاظ کا چناؤ تب بهی ارادہ کیا کہ پہلی فرصت میں جماعت اسلامی پہ کچھ لکهوں گا کل رات عزیزم حافظ عبدالودوود عامر کی اپڈیٹ دیکهی حافظ صاحب میرے لیئے نہایت قابل قدر ہیں اچھا خاصا مطالعہ رکهتے ہیں ذہین نوجوان کا فکری تعلق جماعت اسلامی سے ہے جمعیت طلباء کے غالبا زون کے ذمہ دار ہیں ان کی تحریر غصے سے لبریز تهی کپتان کے اس بیان پر وہ تپ اٹھے ہیں کہ جس میں انہوں نے سراج الحق صاحب سے کہا ہے کہ وکٹ کے چاروں طرف نہ کهیلیں حافظ صاحب کا غصہ اپنی جگہ تاہم جان کی امان پاوں تو کچھ عرض کروں کہ تحریک انصاف پر تنقید کی جائے تو اس کے کارکنان گالیوں سے مخالف کی تواضع فرماتے ہیں جماعت والے جبکہ ہاکیوں سے.صالحین کی جماعت کے کارکنان کا خیال یہ ہے کہ ان سے اختلاف ناقابل معافی جرم ہے اور ان کے لیڈران پر تنقید گویا گمراہی کی دلیل ہے ایک وضاحت پہلے یہ کہ جماعت ہر لحاظ سے تحریک انصاف سے بہتر جماعت ہے نظم و نسق مثالی ہے اور احتساب کا عمل اس سے بهی مثالی اچهے اور باکردار لوگوں کی حامل! سید مودودی کا لگایا ہوا پودا مضبوط بهی بهی ہے اور مربوط بهی. چوائس اول وہی ہے 2013 کے انتخابات کے ہنگام کپتان کے بنیادی حلقہ این اے 71 میں جماعت کی مہم میں نے برپا کی پورے زور کے ساتھ ، دوران مہم امیر جماعت تحصیل عیسی خیل مجهے یہ کہتے رہے ن لیگ کو ہدف تنقید نہ بنایا جائے یا للعجب ‘ دلیل کوئی نہ تهی ووٹرز تحریک انصاف کے حامی اس کے باوجود اسی پہ تنقید پہ وہ خوش ہوتے یہ جانتے ہوئے بهی کہ جماعت صرف صوبائی ووٹ کی طلبگار ہے اور اگر اسے کچھ پانا ہے تو تحریک سے ہی پانا ہے اس کے باوجود وہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر کپتان کے مقابل امیدوار کے حامی تهے یہ اگر سیاسی بصیرت ہے تو پهر اللہ ہی حافظ! جماعت میں کبهی قاضی صاحب نے اسلامک فرنٹ کا ڈول ڈالا تها جس کے جلسوں کا اپنا ایک رنگ تها شوری نے مگر اس تجربہ کو ناپسند کیا اور قاضی صاحب کے پاوں میں بیڑیاں ڈال دیں سید منور حسن نے جماعت پر اسلامی رنگ کو گہرا کیا آخری تجزیے میں وہ سیاسی عمل سے ناامید نظر آئے ان پر جہادی تحریکوں کا رنگ غالب تها سراج الحق صاحب امیر بنے تو ایک امید سی تهی کہ وہ شاید سیاسی ناکامی کا تجزیہ کریں گے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت میں وہ شامل ہوئے اور پوری شان کے ساتھ تحریک انصاف نے بهی اپنے بازو کهولے اور دونوں بغلگیر ہو گئیں دھرنے کے ہنگام سراج الحق صاحب مصلحت کار بن کر ابھرے مصالحت اچهی سوچ تهی وہ مگر کبهی ن لیگ پر برستے ان کو مذاکرات کے تعطل کا ذمہ دار ٹہراتے کبھی وہ جمہوریت کے چیمپین بن کر دھرنے والوں کو دھمکاتے کہ خبردار ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں حیرت کے ساتھ خلق خدا یہ سوچتی رہ جاتی کہ کیا ن لیگ کی حکومت کا دوسرا نام جمہوریت ہے اور اسحاق ڈار میاں صاحبان ان کے جانشین حمزہ شہباز اور مریم صاحبہ جمہوریت کے روشن نشان نیز ماڈل ٹاون ایسے واقعات اس جمہوریت کے ماتھے کا جهومر خیبر کے پی کے بلدیاتی انتخابات کے بعد جماعت نے بهی اپنی حلیف حکومتی جماعت کو اڑے ہاتھوں لیا اور اپنی ناکامی چهپانے کےلئے تحریک انصاف کو دھاندلی کی چیمپین قرار دے ڈالا ایک ایسا انتخاب جو قوم برادری کی بنیاد پر لڑا جاتا ہے ساڑھے گیارہ ہزار پولنگ سٹیشنوں میں سے 121 پر ہی سنگین بدانتظامی ہوئی پولیس اور حکومت کے ساتھ ساتھ جس کا الیکشن کمیشن بهی ظاہر ہے کہ ذمہ دار ہے مگر کیا اسے قومی انتخابات کی طرح دھاندلی زدہ الیکشن کہا جا سکتا ہے کوئی بهی باشعور اس بات کو تسلیم نہ کرے گا دوسری بات یہ ہے کہ کیا ان تمام مقامات پر گڑبڑ کی ذمےداری صرف تحریک انصاف پر عائد ہوتی ہے جس کے گیارہ کارکن مقتول ہوئے اور کئی زخمی عجیب دھاندلی تهی جس میں طاقتور فریق یعنی دھاندلی کرنے والے انصافیے ہی مارے جا رہے تهے اللہ کی آخری کتاب کا فیصلہ یہ ہے کہ کسی گروہ سے دشمنی تمہیں ناانصافی پہ نہ ابهارے.
    سات جماعتوں کے اتحاد میں بعد ازاں پتہ چلا کہ آٹھویں جماعت اسلامی بهی تهی تو کپتان کےلئے جماعت کے کارکنان کا فرمان عالیشان کیا ہے کہ وہ احتجاج بهی نہ کرتے؟ایک سادہ سا اصول یہ ہے کہ دوست کا دوست.دوست اور دوست کا دشمن ، دشمن .دشمن یہ بات مگر امیر جماعت کو کون سمجھائے اپنی جماعت کی ناکامی کے اسباب جو خارج میں تلاش کرتے ہیں حافظ صاحب کا فرمان یہ ہے کہ تحریک انصاف میں فلاں فلاں شخص جو ہیں وہ غلط لوگ ہیں بجا مگر کیا ان کے نکل جانے سے جماعت کامیاب ہو پائے گی؟؟ ناکامی کہاں ہے مینار پاکستان جلسے میں خطاب فرماتے ہوئے جن پر سراج صاحب برسے شام ہونے پر ان کے ہاں ہی کهانا کها رہےتهے! بقیہ کل انشاءاللہ جاری ہے.
    ازقلم

    @Aamir_k2

  • عنوان :  وزیراعظم عمران خان کے اقدامات   تحریر : سیف اللہ عمران

    عنوان : وزیراعظم عمران خان کے اقدامات تحریر : سیف اللہ عمران

    بہت سارے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ تبدیلی کہاں ہے جس کا خان صاحب نے اعلان کیا تھا اور وہ وعدے کہاں گئے تو آپ کو بتاتے ہیں بہت سارے وعدہ وفا ہو چکے ہیں اور کچھ ایسے مسلئے ہیں جن پر قابو پانے کی کوشش کی جس رہی ہے جن میں مہنگائی ہے جو کو حکومت کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور ایک دن آئے گا کہ پاکستان مہنگائی فری ہو جائے گا
    اب آئیے کچھ مثبت اقدامات بتاتے ہیں اپکو
    جس پرٹوکول کو ہم پچھلے 35 سالوں دیکھ رہے تھے عمران خان نے اسکو آتے ہی ختم کیا ۔
    جب ہم گھر سے نکلتے تو ہم نے دعا کرتے کہ کوئی بڑا آدمی نہ آئے تاکہ ہم اسکول ، کالج ، دفتر یا مزدوری تک پہنچ سکیں
    عمران خان نے ہمارے خرچ پر وزراء اور اشرافیہ کی پرتعیش حکومت کا رہنا ، کھانا پینا ختم کیا ، جوہمیں مغل عہد کی یاد دلاتا تھا
    عمران خان نے حکمرانوں اور اشرافیہ کو سرکاری خرچ پر سردرد کی گولی لینے لندن جانا پر پابندی عائد کی
    اس سے نہ صرف قومی ایئر لائن خسارے میں تھی بلکہ اربوں افراد کو سرکاری خزانے کو ٹیکہ لگایا دیاجاتا تھا
    عمران خان نے ہمیں ان بچوں کی غلامی سے آزاد کیا جن کا نطفہ ابھی بھی باپ کے جسم میں تھا اور ہم غلامی کے لئے تیار تھے
    عمران خان نے اپنے سپورٹران کو یہ شعور دیا کہ جہاں میں غلط ہوں مجھے روک کر کہنا کہ تم غلط ہو ہم تمھیں چھوڑ دیں گے
    عمران خان نے اپنے پرائے سارے چوروں کو قطار میں کھڑا کردیا۔ اس نے عوامی ووٹ بیچنے والوں کو سرعام بے نقاب کیا
    عمران خان نے ان شاندار عمارتوں کو قوم کے بچوں کی تعلیم کے لئے وقف کیا جو پرتعیش حکمران عیش و آرام کے اڈوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
    عمران خان نے کرونا کے دوران ملکی تاریخ میں پہلی بار 12 ہزار امداد کی شفاف ترسیل ممکن بنائی جو اس سے پہلے صرف ورکروں اور وڈیروں کو ملتی تھی
    عمران خان نے بطور کسئ بھی حکمران پہلی بار ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دنیا کے ایوانوں میں آواز اٹھائی اور مسلم امہ کو اس مسلے پر اکھٹا کرنے کی کوشش کی جبکہ اس سے پہلے ہر بار سرعام ہمارے حکمران ناموس رسالت کا سودا کرتے تھے
    ہم میں سے بیشتر جنگل کے باسی ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ کوئی جنگلاتی افسر یا وزیر ہوتا جو ان جنگلات کو تباہ ہونے سے بچاتا
    عمران خان سے پہلے کسی نے ماحولیاتی سسٹم بچانے کی کوشش کی ہی نہی
    عمران خان سے پہلے کسی نے فٹ پاتھ پر بھوکے سونے والوں کا سوچا بلکل نہی ، کیا کسی کو احساس تھا کہ احساس پروگرام کتنا ضروری ہے. بھوک لگی فٹ پاتھ پر سونا کتنا مشکل تھا اور وقار کے ساتھ چھت کے نیچے بستر اور اچھا کھانا لینا کتنا ضروری تھا
    اگر میرے بس میں ہوتا تو میں عمران خان کو پسند کرسکتا تو ، عمران خان کو پسند کرنا تو دور اگر میرے بس میں ہوتا تو میں عمران خان کے راستے میں اس طرح پھول بچھاتا جیسے کہ 30 سال کا شخص 16 سال کے محبوب کے راہوں میں بچھانے کی خواہش کرتا ہے۔۔
    کیونکہ عمران خان نے ہمیں اس غلامی سے بچایا جس میں ہم ابوجہل کے پیروکار تھے
    شکر ہے کہ پاکستان ، ملک کے نواز اور زرداری کے دشمن فنا ہوچکے تھے ، لہذا خان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔
    اور وہ ان چیزوں میں مصروف ہوگیا۔ ابھی میرے پاکستانی نہیں جانتے کہ ان کے پاس یہ ہیرا ہےTwitter
    @Patriot_Mani

  • کیا "واقعی میں ہم سب منافق ہیں  تحریر : مسکان اشرف

    کیا "واقعی میں ہم سب منافق ہیں تحریر : مسکان اشرف

    لفظ منافقت سے ہم سب واقف ہیں ۔
    منافقت کرنے والا منافق کہلاتا ہے ۔ اب منافقت کیا ہوتی ہے اس سوال کا جواب بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں کیونکہ ہمارے پیارے مذہب اسلام نے منافق اور منافقت کی واضح نشانیاں دیں ہیں جو چمکتے سورج کی طرح عیاں ہیں ۔ منافق کی سب سے بڑی نشانی یہ ہیں کہ وہ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور ہوتا ہے ۔ باالفاظ دیگر منافق کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے ۔ انسان فطری طور پر گویا ہوتا ہے اور اللہ رب العزت نے اسے زبان دی ہے جس کی مدد سے وہ بولتا رہتا ہے ۔ بولتے بولتے اس کی زبان سے مختلف لہجوں میں الفاظ کی صورت میں باتیں نکلتی ہیں ۔ یہ باتیں دیگر انسان پرکھتے ہیں، جانچتے ہیں، تولتے ہیں، حتی کے چکتے بھی ہیں بعد ازاں ان ہی باتوں کو جانچنے اور پرکھنے کے بعد اس انسان کے حوالے سے رائے قائم کی جاتی ہے کہ بولنے والا کیسا انسان ہے ۔ کیا اس کا قول ، فعل سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں ۔ اگر رکھتا ہے تو ٹھیک، نہیں رکھتا تو منافق ٹھہرتا ہے ۔
    آئیں !!!! اب اسی فارمولے کو خود پہ آزماتے ہیں ۔ روزمرہ زندگی میں ہمارے قول و فعل میں کتنا تضاد ہوتا ہے ؟؟؟ کیا ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں؟؟؟؟ کیا رسماً، عادتاََ اور مجبوراً ہمارے قول و فعل ایک دوسرے کے برعکس نہیں ہوتے؟؟؟
    ایک دن میں ہم جتنے متعلقین سے ملتے ہیں اور ان سے ہم کلام ہوتے ہیں تو خدا کو گواہ بنا کر خود ہی کو جواب دیجیے کہ کیا ہم اُن سے ملتے ہوئے، باتیں کرتے ہوئے، اُن کے ساتھ بیٹھتے ہوئے یا کھاتے ہوئے منافقت کرتے ہیں یا نہیں ؟؟؟ ہم باتوں ہی باتوں میں ان کو ورغلاتے ہیں کہ نہیں ؟؟؟ جس بات میں ہمارا نفع اور فائدہ نہ ہو اس بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں کہ نہیں ؟؟؟ کیا پورے مہینے میں ہم کوئی ایسا کام نہیں کرتے کہ جس کام کے بارے میں ہمارا قول کچھ اور ہمارا فعل کچھ اور ہو ؟؟؟ جس بات کو کرنے سے ہماری شخصیت سنورتی ہے خواہ وہ جھوٹ کیوں نہ ہو اور حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو، کیا ایسی باتیں ہم کرتے ہیں یا نہیں ؟؟ ہم دوسروں کی بیگار (مدد) سے جان چھڑوانے کے لیے بے دریغ جھوٹ بولتے ہیں یا نہیں؟؟ کیا ہم اپنے ہی جگریوں کو دھوکہ دیتے ہیں یا نہیں؟؟؟؟ اگر ان جیسے اور درجنوں سوالات کا جواب آپ کا "نہیں” میں ہے تو پھر تو آپ فرشتہ ہیں لیکن اگر آپ کا جواب ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہاں میں ہے تو پھر تو آپ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ۔
    میرے اندازے کے مطابق پڑھنے والوں میں اکثریت کے جواب کا تعلق "ہاں” سے ہے تو پھر تو مبارک ہو کیونکہ پھر تو "واقعی میں ہم سب منافق ہیں ”

    معذرت
    Twitter @IamBlackninaj05

  • ماری عید پردیس میں  تحریر: عزیز الرحمن

    ماری عید پردیس میں تحریر: عزیز الرحمن

    (یو اے ای) اور سعودی عرب میں ہمارے بھائیوں کی عید کس طرح ہوتی ہے میں خود ایک خود ایک اوورسیز پاکستانی ہوں اور عید کا نماز پڑھا اور گاڑی میں سفر کر رہا تھا اور سوچا کہ ہماری عید مسجد سے لے کر کپمنی کے رہائش تھا ہے اور ہر کوئی گھر میں فون کرتے ہے کہ عید مبارک اور کچھ دوست مسجد سے آئے سو جاتے ہے ، اللہ بہتر جانتا ہے پردیسیوں کی عید کچھ لوگوں تو اس عید میں اپنے اپنے ملک ہی نہیں گئے کیوں کورونا کی وجہ سے فلیٹ نہیں مل رہی تھی بار حال اس میں بھی اللہ کی رحمت اور رضا کی شامل ہوگی ۔
    اور کچھ دوست تو ایک دوسرے کے پاس ملنے جاتے ہے اور خواب ایک دوسرے کو تسلی دے رہا ہے ۔ کہ ایک دن ہمارا پاکستان بھی ترقی کرگا اور ہم پردیسی ان شاء اللہ اپنے ہی ملک میں کام کرگئے یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوتی کہ یہاں پر ہمارا مزدور طبقہ اس طرح سوچا رہا ہے ۔ الحمدللہ یہ بہت ہی خوشی کی بہت ہے ۔ لہذا میرا پیغام ہے سب پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کو ہمیشہ خوش رکھے اور یہاں پر( یو اے ای) میں رہنا والے کو بہت بہت عید الاضحی مبارک اللہ پاک سب کو ہمیشہ خوش رکھے امین ثمہ آمین ۔

    @Aziz_khattak1

  • فیصل آباد میں گداگری کا راج  تحریر – شاہ زیب

    فیصل آباد میں گداگری کا راج تحریر – شاہ زیب

    ام روٹین ہو یا کوئی تہوار عید الفطر ہو یا عید الاضحی جیسے ہی نزدیک آتی مانگنے والوں کی تعداد میں بے حد اضافہ دیکھنے کو ملتا، ہر شہروں کی صورتحال یقننا ایک جیسی ہو گی لیکن میں اپنے شہر فیصل آباد کی بات کروں گا ہمارے فیصل اباد میں پچھلے دس سالوں میں گداگروں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور دن بدن بڑھتا جا رہا جسے روکنا مشکل ہو گیا ہے کبھی غور کیجئے یہی گداگر جسے ہم (بھکاری) کہتے ان کے مانگنے کے بھی مختلف طریقے ہوتے ہیں اور آج کل تو جو نظر آرہا ہے کہ اگر کسی دکان پر گاہک بیٹھا ہے تو ان کو پریشان کرنے لگ جاتے ان کو اللہ نبی کے واسطے دینے لگ جاتے جس سے گاہک خود شرمندہ ہو جاتے ہیں دیکھیں حق دار تک ڈھونڈ کر اس کو حق دینا چاہیے میں یہ نہیں کہتا کسی بھکاری کو جھڑک دیں لیکن اصل حقدار ہو اسے لازمی دیں لیکن صحیح معنوں میں دیکھا جائے ان کی بدولت غریب مساکین اور فقراء ان کے حق پر بھی ڈاکہ پڑ جاتا۔دوسری بات یہی بھکاری شہریوں کے جذبات کے ساتھ بھی کھیلتے ہیں جس اگلا اکتا جاتا اور جو یہاں فیصل آباد میں جو دیکھا گیا جو مجھے علم صبح دکانیں جوں ہی کھلتی ساتھ ہی تیس چالیس عورتوں کا گروہ گود میں بچے اور ہاتھوں میں کشکول لیے اللہ کے واسطے دے کر مانگ رہی ہوتی تو کچھ معذوری کا بہانہ بنا کر اور کچھ مرد حضرات بھی ان میں پیش پیش ہاتھ پاؤں سلامت ہونے کے باوجود کام بھی کر سکتے لیکن مانگنا جیسے پیشہ بنا لیا ان میں بیشتر نشہ کرنے کے عادی شخص موجود ہوتے جنہیں دیکھ انسانیت دھنگ رہ جاتی ۔۔
    میری بالخصوص فیصل آباد کی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ گداگری کا یہ بڑھتا ہوا عمل روکیں وگرنہ یہ عمل مزید پھیلے گا۔۔ شکری (@shahzeb___)

  • عید اور ہم لڑکیاں۔   تحریر: کنزہ صدیق

    عید اور ہم لڑکیاں۔ تحریر: کنزہ صدیق

    لو جی عید آگئ ہے اور ہمیشہ کی طرح ہم لڑکیوں کی خوشی دیدنی ہے کیونکہ ظاہر ہے بھئ جہاں بات آجائے سجنے سنورنے کی اور نئے نئے کپڑے جوتے جیولری پہننے کی تو ہم لڑکیاں سب سے زیادہ خوش ہوتیں ہیں۔
    یوں تو عید کی تیاریاں عید سے کافی دن پہلے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔
    بازار کے بار بار چکر لگانا،درزی کو جلدی کپڑے سینے کا کہا، چوڑیاں جوتیاں میچنگ لیسز لینا اور نجانے کیا کیا سیاپے ہیں ہم لڑکیوں کے۔۔
    تیاریاں کرتے کرتے عید سر پہ آن پہنچتی ہے لیکن یہ ٹینشن دماغ پہ سوار ہی رہتی ہے کہ ابھی تک درزی نے کپڑے نہیں دئیے تو بار بار درزی کو کال کرنا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جناب درزی صاحب تو اپنے آپ میں ماشااللہ سے انجینئر بنے ہوتے ہیں وہ اپنا نمبر ہی بند کر دیتے ہیں اور اب ہماری پریشانی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کہ بھلا درزی کا نمبر کیوں بند ہے کہیں اس نے کپڑے نہ سئیے تو کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
    اسی ٹینشن کے چلتے ہی بھائی وہ فرشتہ ثابت ہوتے ہیں تو بائیک پہ بیٹھا کر ہمیں درزی کے سر پہ لا کھڑا کرتے ہیں اب غصہ تو بہت آرہا ہوتا ہے لیکن درزی کو کچھ کہا بھی نہیں جاسکتا کیونکہ اگر یہ غصہ ہوگیا تو بھئ ہوگیا کام تمام۔۔
    پھر یاد آتا ہے کہ مہندی بھی تو لگوانی ہے وہ تو رہ ہی گئ جی جناب ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم لڑکیاں مہندی نہ لگائیں تو اب مہندی لگانے والی کی تلاش شروع ہوجاتی یے محلے میں مہندی لگانے والی لڑکیوں کے الگ ہی نخرے ہوتے ہیں بھلا کوئی ان سے یہ پوچھے کہ باجی آپ تھوڑی نہ مفت میں مہندی لگارہی ہیں لیکن نہ نہ اگر یہ کہہ دیا تو مہندی کون لگائے گا۔۔
    خیر اسکے نخرے بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ اپنی زلف اٹھا کر کان کے پیچھے کرکے منہ بنا کر تھکن کا اظہار کرتی ہے تو بس دل کرتا ہے اسے کہیں بی بی "توں رہن دے اسی آپ لاں لیں گے”
    لیکن ایسا تو کہنا ہی گناہ ہے اللہ اللہ کر کے مہندی لگ ہی جاتی ہے پھر آجاتی ہے بھائیوں کے اور اپنے کپڑے پریس کرکے رکھنے کی۔
    جی تو اکثر گھروں میں چاند رات کو ہی سب کے کپڑے استری ہوجاتے ہیں تاکہ صبح سویرے پریشانی نہ ہو لیکن ہم لڑکیوں کو اس لمحے استری کرنا کسی عذاب سے کم نہیں لگتا کیونکہ ابھی پارلر بھی تو جانا ہے لیکن جیسے تیسے منہ بنا کر استری کرنی پڑتی ہے کیونکہ اگر استری نہ کی تو بھائی پارلر نہیں چھوڑ کر آئیں گے اور یہی تو قیامت ہے اگر پارلر نہ گئے تو بس۔۔۔۔۔
    سمجھ ہی گئے ہوں سب ۔۔
    لہذا عید جتنی مزے دار اور خوشگوار احساس دلاتی ہے وہی ہم لڑکیوں کو بے شمار پریشانیاں بھی لاحق ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود پہ ہم اپنے بناو سنگھار کا خیال خوب اچھے سے رکھتی ہیں اب جیسا کہ عید الاضحیٰ آنے والی ہے تو اس عید پہ زیادہ تر وقت کچن میں ہی گزرتا ہے مزے مزے کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں اور خوب لطف اٹھایا جاتا ہے لیکن کہاں بھی ہم لڑکیاں بڑی پریشان ہیں وہ کیوں بھلا؟
    وہ اس لیے کہ اتنا تیار ہو کر کچن میں کون جائے لیکن اماں کا ہاتھ بٹانے کے لیے یہ بھی کرنا پڑتا ہے صبح کلیجی بنانی ہے دوپہر میں قورمہ پلاو وغیرہ ابھی دوپہر والا ہضم نہیں ہوتا کہ پھر رات کے لیے باربی کیو تیار کرنا ہے۔۔۔
    بہرحال جو بھی ہو مزہ تو اسی میں ہے کہ ہم لڑکیاں سب کا باقاعدہ خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ خود کے بناؤ سنگھار پہ بھی خوب توجہ دیتی ہیں۔
    اسی لیے آپ سب لڑکیوں کو میرا پیار بھرا سلام۔۔

    @KinzaSiddiq

  • فرزانہ سلیمان ہمت کا نشان  حُسنِ قدرت

    فرزانہ سلیمان ہمت کا نشان حُسنِ قدرت

    پاکستان کی پہلی نابینا پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور مصنفہ ڈاکٹر فرزانہ سلیمان کی زندگی کے بارے میں آج میں آپ کو بتاؤں گی
    وہ لوگ جو کسی جسمانی معذوری کو روگ بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں ان کے لئے ایک بہترین مثال ڈاکٹر فرزانہ سلیمان ہیں جن کی بصارت ہی چلی گئی

    محترمہ فرزانہ سلیمان ایک نارمل بچی پیدا ہوئیں انکا تعلق کراچی سے ہے جب وہ آٹھویں جماعت میں پہنچیں تو ٹائیفائیڈ انکی بصارت چرا گیا اب زندگی انہیں دشوار لگنے لگی اور یہ بھی اب پڑھائے گا کون لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری نہم اور دہم جماعت کا امتحان پرائیویٹ دیا ،سینٹ لارنس کالج سے انٹر اور جوزف کالج سے گریجویشن کی ،فلسفے میں ماسٹرز کیا تو احساس ہوا کہ یہ مضمون انکے مزاج کے مطابق نہیں پھر انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کیا
    ماسٹرز مکمل ہوتے ہی ” گورنمنٹ کالج پی ای سی ایچ کالج کراچی” میں اسلامک اسٹیڈیز کی لیکچرر ہوئیں
    لیکن
    انکا خواب پی ایچ ڈی کرنے کا تھا تو انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا اور پی ایچ ڈی مکمل کی اس دوران انکی دوست سارہ نے انکی بہت مدد کی وہ انہیں کتابیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرتی تھی
    ڈاکٹر فرزانہ سلیمان نے قرآن کریم حفظ کیا ،تفسیر کا مطالعہ کرتی رہیں اور اب تک 4 کتب تصنیف کر چکی ہیں جن کے نام یہ ہیں
    1۔قرآن،قرآن کی روشنی میں
    2۔توبہ قرآن کی روشنی میں
    3۔تقوی قرآن کی روشنی میں
    4۔تذکرہ آدم قرآن کی روشنی میں
    شامل ہیں
    ڈاکٹر فرزانہ کو بے مثال کارکردگی پہ کئی شیلڈز،تمغے اور اعزازات حاصل ہوئے جن میں سابق صدر (ر) پرویز مشرف کے دور میں ملنے والا "فاطمہ جناح گولڈ میڈل”
    اور گورنر سندھ سے ملنے والا
    "تمغہ حُسنِ کارکردگی”
    نمایاں ہیں
    یہ کہانی کروڑوں لوگوں کےلئے ایک سبق ہے کہ اگر آپ میں ہمت ہے اور آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر فرذانہ کی طرح اپنے حوصلے بلند رکھیں آپ ضرور کامیاب ہوں گے

    Twitter: @HusnHere

  • آزاد کشمیر کا الیکشن اور ضمیر کی آواز . تحریر : محمد عبداللہ گِل

    آزاد کشمیر کا الیکشن اور ضمیر کی آواز . تحریر : محمد عبداللہ گِل

    آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے جا رہا ھے تمام تر سیاسی پارٹیاں جدوجہد کر رہی ہیں۔اپنی انتخابی مہم میں لاکھوں کیا اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ان پارٹیوں میں کہیں نام تو آتا ھے تحریک انصاف کا جن کی وفاق میں حکومت ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز،پاکستان پیپلز پارٹی بھی سرگرم ہیں۔میں نے مختلف احباب کی تقاریر کو سنا تو کسی کا موقف لسانیت کا تھا تو کسی کا موقف قومیت پر مبنی تھا۔کسی پارٹی نے اپنا مقصد دعوں کو بنا رکھا تھا۔
    سب سے پہلے آتے ہیں پاکستان مسلم۔لیگ نواز کی طرف۔پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز صاحبہ نے الیکشن مہم کے حوالے سے جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ہم حکومت میں آتے ہیں تو کشمیر کی آزادی پاکستان مسلم لیگ ن کے اقتدار سے ہی ممکن ہے”

    پاکستان مسلم لیگ ن وہ سیاسی جماعت ہیں جو ملک پاکستان میں 3 بار حکومت کر چکی ہے اور ان کے قائد نواز شریف نے مودی کو اپنی نواسی کی شادی پر بلایا تھا اور جب یہ بھارت گئے تو کشمیر کی حریت قیادت ان سے ملاقات کے لیے انتظار کرتی رہی لیکن انھوں نے کشمیر پر ظلم کرنے والے سے ملاقات کی لیکن ان بطل حریت قائدین سے ملاقات کرنا مناسب نہ سمجھا۔اب اس سے واضح ہو گیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کا بیانیہ اور منشور جو ہے وہ باطل ہے اور حق سچ پر مبنی نہیں ھے۔اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے بیانیہ کی بات کر لیتے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی وہ سیاسی جماعت ہے کہ جن کا مقصد صرف و صرف  اقتدار ہے چاہے وہ مودی کی یاری سے ملے یا امریکہ کی چاکری سے ملے اس لیے اس سے واضح ہو جاتا کہ یہ جماعت کشمیر کے عوام کی نمائندہ جماعت ہونے کے اہل نہیں ھے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وفاق میں بھی ھے لیکن مجھے افسوس سے لکھنا پڑ رہا کہ تقریبا 2 سال کا عرصہ ہو رہا کشمیر میں لاک ڈاؤن کو لیکن ہمارے وزیراعظم نے اس انداز سے کشمیری عوام کی مدد نہیں کی جس انداز سے وہ چاہتے ہیں۔

    جب میں مختلف سیاسی جماعتوں کا جائزہ لے رہا تھا تو میری نظر سے ایک جماعت "جموں و کشمیر یونائیٹڈر موومنٹ”
    کا نام گزرا ان کے منشور کو میں نے پڑھا۔جموں وکشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا موقف ہے کیا ان کا منشور نہ تو لسانیت پر مبنی اور نہ جاگیردارانہ نظام پر مبنی ھے۔بلکہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا موقف کشمیر کی نصرت پر مبنی ہے۔اور صرف دعوی ہی نہیں بلکہ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ان کا عملی کام بھی ھے۔اس کے بعد خدمت خلق اور نوجوانوں کی تربیت ان کا بنیادی مقصد ہے جس سے واضح ہو جاتا کہ یہ جماعت نہ صرف آزاد کشمیر کی نمائندہ جماعت ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر کی بھی نمائندہ ھے۔اس کے علاوہ منشیات کا خاتمہ بھی ان کے منشور کا حصہ ہے۔منشیات کا خاتمہ وہی کروا سکتا جس کا منشیات کا کاروبار نہ ہو اور الحمدللہ اس جماعت کے قائدین اور نمائندگان میں ایسا کوئی فرد موجود نہیں ھے۔جموں وکشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا مقصد کرپشن کا خاتمہ بھی ہے اور یہ ایسا دعوی نہیں ہے جیسا پاکستان تحریک انصاف نے کیا کہ دوسروں کو کرپشن کیسز میں پھنسا دو اور جب باری آئے جہانگیر ترین کی تو اسے این آر آو دے دیا جائے۔بلکہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ عوامی یگانگت اور اتحاد کو قائم کرنا چاہتی ہے۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا مقصد نوجوانوں میں اسلام کے شعور کو بیدار کرنا ھے۔ان کا مقصد جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ اور اسلام کی سربلندی مقصد ہے۔اس سے پہلے بھی بہت سی سیاسی جماعتوں نے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ چاہا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا وہ بس دعوی ہی تھا کیونکہ وہ جماعت خود ہی جاگیردار کے زیر انتظام تھی۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا منشور دو قومی نظریہ کی سربلندی ہے اور دو قومی نظریہ اسی وقت اجاگر ہو گا جب اسلام پر چلنے والے لیڈران ہماری اسمبلیوں میں جائے گے۔

    محترم قارئین! آپ میرا یہ سوال آزاد کشمیر کی غیور عوام تک پہنچا دے کہ انھوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ کا فیصلہ کرنا ہے نہ کہ نوٹوں کی کھنک پر ذہنی غلامی کی بنا پر ووٹ نہیں ڈالنا۔25 جولائی کے دن آزاد کشمیر کے عوام کا امتحان ہے کہ وہ 73 سالہ ذہنی غلامی سے نکل کر با سیرت اور نیک نمائندگان کو سردار بابر حسین کی قیادت میں کرسی پر مہر لگا کر کامیاب کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔کیونکہ اگر اس جماعت کو موقع دیا گیا تو پھر مودی اور انڈین افواج کو جواب سیف جہاد سے دیا جائے گا نہ کے منت سماجت سے جیسا کہ موجودہ حکومت نے بھی کیا اور گزشتہ حکومتوں نے بھی کیا۔آپ لوگوں کا ضمیر کبھی مطمئن نہیں ہو گا ان لوگوں کو ووٹ کرنے کے لیے جو کہ کشمیر کا سودا کر چکے ہیں۔اس لیے کرسی پر مہر لگا کر جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کو کامیاب بنانے۔
    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

    @ABGILL_1

  • کشمیر کی تاریخ . تحریر : اسامہ ذوالفقار

    کشمیر کی تاریخ . تحریر : اسامہ ذوالفقار

    کشمیر کے نام کے دو حصے ہیں ایک "کش” سے مراد ندی نالے اور "مر” سے مراد پہاڑ ہیں. قدیم روایت اورسروے کے مطابق کشمیر کی تاریخ 10 کڑور سال پرانی ہے جس میں دیومالائی کا قصہ، کشب رشی، ہڑپہ، منجوداڑو کی تاریخ بھی شامل ہے.
    قدیمی تاریخ کے مطابق کشمیر کا پہلا حکمران "گومندوان” تھا اور اسی کے بعد جنگ مہا بھارت کا قصہ ہے اور اس کے بعد پانڈو خاندان کے 22 حکمرانوں نے کشمیر پر حکومت کی راجہ سندر سین اس خاندان کا آخری حکمران تھا اور یہ کشمیر پر بدھ مت کا دور تھا اور اسی دور میں 326ع کو سکندر اعظم بھی آیا تھا.

    1128ع میں راجہ جے سنگھ حکمران بنا جو ایک نیک دل حکمران تھا اس کے دور میں کشمیر میں خوشحالی آئی اس کی حکومت ختم ہونے کے 200 سال تک کوئی بھی حکومت قائم نہیں ہو سکی اور یہ دور افراتفری کا دور رہا اس کے بعد سردار رنچن نے 60 ہزار کا لشکر لے کر کشمیر پر حملہ کیا اور اس نے لوٹ مار مچائی اس پر لداخ کے حکمران کرم سین نے اس پر حملہ کر کے اس کا لشکر تباہ و برباد کیا۔ اس دور کے بعد مسلمانوں کا دور شروع ہوتا ہے. حضرت شاہ ہمدان 700 سادات کے ساتھ کشمیر آئے اور 37 ہزار لوگوں نے اسلام قبول کیا. شاہ صاحب کے ہاتھ پر 10 ہزار سے زائد ہندوؤں نے اسلام قبول کیا.

    حقیقت یہ ہے کہ 700 پیروکاروں کے اس گروہ میں مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے تاکہ دور دراز علاقوں سے کشمیر تک نہ صرف ایک محفوظ اور آسان سفر اور وادی میں آرام سے قیام کو یقینی بنایا جاسکے ، کیونکہ وہ ایک مخصوص طرز زندگی کے مطابق تھے ، لیکن اسلام اور اسلامی ثقافت کو پھیلانے کے ان کے ایجنڈے کا حقیقت میں ترجمہ کرنے کے لئے۔ اس کے ساتھ ہی ، شاہ حمدان اپنی ایک بہت بڑی لائبریری لائے جسے ایک کتبور ، لائبریرین سید کاظم نے برقرار رکھا تھا۔ ان میں سے کچھ نے تبی اور حکیم کے نام سے بھی کام کیا ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں مسلم دوائیوں کے بارے میں بھی کچھ معلومات ہیں۔ انہوں نے عرب دنیا سے وسطی ایشیائی ثقافت کی بھرپور ثقافت کے ساتھ اسلام کو ناکام بنا دیا اور ایسی جگہ پر تجربہ کیا جو معاشرتی مداخلت کا بھوکا تھا۔ ایران سے کشمیر میں نئی ​​علوم ، ثقافت اور اقدار لانے کے اس عمل سے ، حمادانی نے کشمیر کے منفرد معاشرتی اور ثقافتی اور مذہبی ماحول کو فروغ دینے میں مدد فراہم کی۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ کشمیر میں کچھ دستکاری موجود تھیں لیکن زوال پذیر تھیں۔ انہوں نے امیر کو حمام دری ، کفش دوزی ، دزندگی ، کباب پازی ، حارثہ پازی ، قلعہ پازی ، گلکاری ، زرگری ، احفی ، قلین بافی ، کاگاز سازی ، قلمدان سازی ، اکاکی ، سوزان کاری ، اور جلد کی تعارف کا سہرا دیا۔ مثال کے طور پر ، پہلی جماعت حمام ، خانقاہ موالہ میں قائم کی گئی تھی۔ یہ کشمیر کا واحد مقام ہے جہاں ایک منزل پہلی منزل پر چلتی ہے۔ عام طور پر حمام زمین کے فرش میں کام کرتے ہیں۔ اس نے اسلامی اخلاق کو انسانی ترقی کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا۔

    1339 میں ، شاہ میر شاہ راج خاندان کا افتتاح کرتے ہوئے ، شاہ میر کشمیر کا پہلا مسلم حکمران بن گیا۔ اگلی پانچ صدیوں تک ، مسلم بادشاہوں نے کشمیر پر حکمرانی کی ، جس میں مغل سلطنت بھی شامل ہے ، جس نے 1586 سے 1751 تک حکمرانی کی اور افغان درانی سلطنت ، جس نے 1747 سے 1819 تک حکومت کی۔ اسی سال رنجیت سنگھ کے ماتحت سکھوں نے کشمیر کو الحاق کرلیا۔ 1846 میں ، پہلی اینگلو سکھ جنگ ​​میں سکھ کی شکست کے بعد ، معاہدہ لاہور پر دستخط ہوئے اور معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں سے اس خطے کی خریداری پر ، جموں کے راجہ ، گلاب سنگھ ، کشمیر کا نیا حکمران بن گیا ۔ برطانیہ کے ولی عہد کی بالادستی (یا اقتدار) کے تحت اس کی اولاد کی حکمرانی 1947 تک برقرار رہی ، جب سابقہ ​​سلطنت متنازعہ علاقہ بن گئی ، جس کا %49 حصہ پر ہندوستان نے زبردستی قبضہ کر لیا اور اب تک وہاں کے لوگوں پر ظلم و ذیادتی کرتا ہوا آ رہا ہے۔

    @RaisaniUZ_