Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  •  پردیسیوں کے مسائل . تحریر :  تظخر شہزاد

     پردیسیوں کے مسائل . تحریر : تظخر شہزاد

    لفظ پردیسی پردیس سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں اپنے آبائی وطن گاؤں شہر یا علاقے کو چھوڑ کر دوسرے شہر یا ملک میں بسنے والا. آج کے ترقّی یافتہ دور میں لاکھوں پاکستانی اپنے وطن سے دور بہتر مستقبل اور خوشحالی کےلیے دنیا کے مختلف ممالک جن  میں مشرق وسطیٰ، جنوبی افریقہ، یورپ،  امریکہ اور کینیڈا  سر فہرست ہیں میں روزگار کماتے ہیں جس کی بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد تقریباً 9 ملین ہے جن میں سب سے زیادہ تعداد  تقریباً 2.6 ملین سعودی عرب میں ہے. بظاہرتو پردیسی خوشحال لگتے ہیں مگر ان کے مسائل بھی بے شمارہیں. کبھی ان کی آنکھوں میں جھانک کردیکھیں تو وہ کرب نظرآتا ہے

    جو سالوں سے اپنے دل میں چھپائے ہوتے ہیں اپنوں سے دور رہ کر دیارِغیر میں جو کرب وہ محسوس کرتے ہیں الفاظ میں  بیان کرنا مشکل ہے  پاکستان میں خاندان کے کسی فرد کو کوئی تکلیف ہو یا کوئی وفات ہو تو ہزاروں میل دور پردیسی کے شب و روز کس قدر تکلیف میں گزرتے ہیں یہ وہی جانتے ہیں. اپنے اہل و عیال کی فرمائشیں پوری کرنے کےلیے وہ عرب کے تپتے صحراؤں میں یورپ اور امریکہ کی ٹھٹھرتی سردی میں دن رات محنت کرتے ہیں کون جانے کہ وہ اپنوں کے لیے چھپ چھپ کر روتے ہے مگر اس کے لیے بولے گئے الفاظ کہ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے  سینے میں تیر کی طرح پیوست ہو جاتے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کا ایک بڑا مسئلہ جائیداد پر غیر قانونی قبضہ بھی ہے دیار غیر میں خون پسینے کی کمائی سے خریدی جانے والی جائیداد پر قبضہ کر لیا جاتا ہے اور بعض اوقات تو اس میں رشتہ دار بھی ملوث ہوتے ہیں بیچارہ پردیسی کچھ ماہ کی چھٹی لے کر گھر جاتا ہے تو جائیداد کے تنازع میں الجھا دیا جاتا ہے اور کبھی کبھار توجائیداد سے ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں.

    اس کے علاوہ پردیسیوں کے جہاں عرب ممالک میں ویزہ مسائل ہیں تو یورپ میں امیگریشن کاغذات کے مسائل جن کو حل ہونے میں کئی بار تو سالوں لگ جاتے ہیں عرب ممالک میں سب سے زیادہ مسئلہ اجرت کا ہے کئی کئی ماہ کی تنخواہیں روک لی جاتی ہیں کفالہ نظام کی وجہ سے دوسری جگہ  نوکری ڈھونڈنا محال ہو جاتا ہے.

    پردیسیوں کے مسائل حل کرنے میں مختلف ممالک میں پاکستانی ایمبیسیوں نے بھی کوتاہی برتی ہے اور اب بھی جاری ہے جہاں  کوئی غریب الوطن اگر چلا جائے تو اسے دھتکار دیا جاتا ہے گزشتہ ماہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے  ریاض میں  پاکستانی ایمبیسی کے عملے کے 6 ارکان کو واپس بلا لیا  اور انکوائری کا حکم دیا. ماضی میں اورسیز پاکستانیوں کے مسائل کی طرف توجہ نہ دی گئی مگر موجودہ حکومت کوشش تو کر رہی ہے مگر مسائل کا انبار ہے حل کرنے کے لیے  جہاں سفارتی عملے کی اخلاقی تربیت ضروری ہےوہاں وقت بھی درکار ہے. گزشتہ ڈیڑھ سال سے کورونا کی وجہ سے جو صورتحال ہے اس کا سب سے زیادہ اثر پردیسیوں پر پڑا ہے سفری مسائل اور ملازمتوں کا بحران شروع ہو گیا ہے مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والوں کے ویزے ختم ہونے کی وجہ سے ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں یورپ امریکہ اور دیگر ممالک میں بے روز گاری بڑھ گئی ہے.

      جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے حالیہ ہنگاموں کی وجہ سے وہاں روزگار کمانے والے پاکستانی مشکلات کا شکار ہیں بنے بنائے کاروبار اور دکانیں  لوٹ لی گئیں ہیں ان کو ریسکیو کرنے کے لیے ایمبیسی کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ پاکستانیوں کی فوری مدد کی جائے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو نعمتوں سے نوازے تاکہ کوئی پردیسی وطن چھوڑنے کے کرب سے نہ گزرے.

    @tazher55

  • ہم جس کے حقدار ہمیں وہی مقام نہیں ملا . تحریر : آصف شاہ خان

    ہم جس کے حقدار ہمیں وہی مقام نہیں ملا . تحریر : آصف شاہ خان

    مختلف اقوام کے لوگ اسلام کی چھتری کے نیچے جمع ہوے اور اپنے لیے ایک الگ شناخت اپنایا. ان لوگوں نے اپنے قائد ، قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں کھٹن محنت کرکے کرکے اور اخرکار ۱۹۴۷ء میں یہ لوگ اپنی الگ شناخت کے ساتھ ایک ریاست کے مالک بنے. لیکن ان لوگوں کی بدقسمتی یہ تھی کہ ریاست آزاد کرانے کہ بعد ابھی اس نظام کو لاگو نہیں کیا تھا جس کا ان لوگو ں نے اللہ وعدہ کیا تھا کہ ان کے اس معجزاتی تحریک کے اکثر قیادت وفات پاگئے. اب قیادت کےلیے اس نئ شناخت والی قوم کے ساتھ کوئی حل نہیں تھا سوا اس کے کہ قیادت کو ان لوگوں کے ہاتھ دیا جائے جن نے انگریزوں کے یہاں پر حکمرانی کے وقت ان کے ساتھ مختلف عہدوں پر نوکری کر چکے تھے. لوگوں کا خیال تھا کہ یہ چونکہ مختلف نوکریاں انجام دے چکے ہیں تو ملک چلانا اسان ہوگا یہ سوچ تو چلانے کے حد تک ٹھیک تھی لیکن مسلہ ایک اور جگہ پر تھا اور وہ یہ کہ ین نئی قیادت کے پاس اس نظام کو لاگو کرنے کے بارے کوئی علم نہیں تھا جس کے خاطر ملک کو حاصل کیا گیا تھا.

    اس نظام کے بارے میں علم نہ ہونے، انگریزوں کے ظاہری عیاشیاں قریب سے دیکھنے اور انگریزوں کی دنیا پر حکمرانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نئی قیادت نے بجائے اس کے کہ اپنے نظام کو لاگو کرتے ان لوگو نے انگریزوں کے غلاموں کے لیے بنائے ہوئے نظام کو ترجیح دی. اس نئی قیادت کی نظر میں تھا کہ انگریزوں کے ظاہری عادات و اطوار کو اپنا کر، غلامی کے نظام کو لے کر اسلامی نظام کے بغیر ترقی حاصل کرینگے. اس قیادت کا خیال تھا کی انگریزوں کی ترقی ان کے ظاہری عادات و اطوار اور اس نظام کی وجہ سے ہے. لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی. انگریزوں کے عادات و اطوار توغلاموں پر حکمرانی کا نشہ اور ان کا یہاں بنایا ہوا نظام الگ غلاموں کیلئےتھا تاکہ غلام غلام رہے اور حکمرانی طویل عرصے کیلئے ریے. جن لوگوں کو حکمرانی ملی وہ تو تحریک پاکستان کا حصہ نہ تھے ہاں لیکن یہ ضرور تھا کہ وہ انگریزوں کے غلامی کے نظام کا حصہ تھے. اس لیے ان کے پاس اپنے نظام کا علم نہیں تھا لیکن انگریزوں کے غلامی والے نظام کے بارے جانتے تھے. اس لیے قیادت ملنے کے بعد رفتہ رفتہ اس نئی قیادت نے وہی غلامی کا نظام رائج کرنے کیلئے اقدامات شروع کیے اورانگریزوں کے ظاہری عادات و اطوار کو اپنا کر اپنے لیے باعث فخر سمجھ کر اس کو ترقی کا معیار مقر ر کیا. نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں میں اور عوام میں انگریرزوں کے دور کے طرح فاصلے بڑھ گئے .

    اپنے ظاہر کو انگریزوں کے طرح کرنے کیلئے عیاشیوں کے پیچھی پڑھ گئےاور پھر کیسی نے عوام کے مسائل اور ترقی کا نہیں سوچا کیونکہ وہ نظام اور حکمرانی کا نشہ ایسا تھا کہ جو غلاموں کو غلامی میں رکھنے کیلئے تھا. اور اس طرح عوام غلامی کے دور سے نجات نہیں پائے بس مالک بدلے. جو آج تک عوام بگھت رہے ہیں عمران خان سے پہلے ہم تاریخ دیکھ لے تو نظر آتا ہے کہ ہمارے حکمران انگریزوں سے اتنے متاثر ہیں کہ اپنے قومی لباس تک پر شرماتے ہیں . جس قوم کے حکمرانوں کا یہ معیار ہو وہ کیسے ترقی کرسکتی ہے؟ ہمارے نجات اور ترقی کا واحد زریعہ نظام کو تبدیل کرنا ہے ہمیں غلامی کے نظام کے بجائے اسلامی نظام جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا لانا ہوگا. نظام کو تبدیل کرکے ہم ترقی حاصل کرسکتے ہیں.

    @IbnePakistan1

  • پاکستانی سپاہی . تحریر : مریم راجپوت

    پاکستانی سپاہی . تحریر : مریم راجپوت

    زندگی اور موت پاکستانی سپاہی کی زندگی اور موت کی داستان جسے ہم فراموش کر دیتے ہیں زندگی جس میں کسی اپنے سے کیۓ گئے وعدے پورے کرنے تھے زندگی جس میں ابھی کسی کا ہمسفر بننا تھا زندگی جس کی آمد ایک پورے گھر کی خوشی کی واحد وجہ تھی زندگی جس میں اپنی پھولوں جیسی بیٹی کے بہت سے ناز اٹھانے تھے زندگی جس میں اکلوتے بھائی نے بہنوں کے فرض سے سبکدوش ہونا تھا زندگی جسے بوڑھے باپ کا سہارا بننا تھا زندگی جو ماں کی گود میں سر رکھ کر زندگی جینا چاہتا ہے زندگی جسے اسے ابھی اپنے جگری یاروں کے ساتھ مل کر دشمنوں کے بےشمار ارادوں کو شکست دینی تھی.

    لیکن ایک سپاہی کی زندگی میں ایک ہی تمنا سب سے بڑی ہوتی ہے جس کی پوری ہونے کی دعا وہ ہر پل ہر دم کرتا ہے موت شہادت کی موت بس چند منٹوں کی بات ہوتی ہے اور زندگی اور موت کا فیصلہ ہوجاتا ہے….. وہ آنکھیں جو ابھی بہت سی خوشیاں دیکھنے کی منتظر تھی وہ بند ہونے جا رہی تھی وہ کان جو بہنوں کی چہکتی، بیٹی کی میٹھی اور ماں کی شیریں آواز سننے کے منتظر ناجانے کب سے انتظار میں تھے موت کی آغوش کو سن رہے تھے وہ دماغ آج سب ذمہ داریاں چھوڑ کر اپنی پہلی اور آخری ذمہ داری پوری کرنے میں آج اپنے ملک کے لیے قربان ہو رہا تھا اس کی آمد کا منتظر وہ چہکتا گھر وہ چڑیوں سے چہچہاتی بہنیں وہ ماں کی بے چین آنکھیں وہ باپ کا فخر بیٹی کا سوپر ہیرو اور کسی کا اپنے نام سے جڑے جانے والے سب کچھ کا انتظار چند گھنٹوں میں سبز پرچم میں لپٹے ہوۓ الوداعی سلام کے لیے پہنچ جاتا ہے .

    جو لوگ پاکستان کی ایک آواز پر اپنا گھر بار بچے ماں باپ چھوڑ کر بھاگے چلے آتے ہیں اور اپنی زندگی کا فیصلہ ایک پل میں کر دیتے ہیں خدارا ان کی عزت کیا کرۓ ان سے محبت کیا کرۓ.

    pagli_hun@

  • ‏بامقصد تحریراثرکرتی ہے . تحریر: دانش اقبال

    ‏بامقصد تحریراثرکرتی ہے . تحریر: دانش اقبال

    کہتے ہیں معاشرتی براٸیوں پہ کچھ لکھنے کا فاٸدہ نہیں لوگ پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور جو پڑھتے ہیں وہ اگلے ہی لمحے سب بھلا کے اسی براٸی میں مگن ہو جاتے ہیں. میرا ماننا ہے کہ اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے اور آپ کی تحریر پڑھ کے کوٸی ایک انسان بھی اس براٸی سے توبہ کرلے یا اپنی بری عادت چھوڑ دے تو آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گۓ.

    میرے ذہن میں میرے ایک دوست کی مثال ہے جو اپنی بیوی سے مار پیٹ کرتا تھا اور فخر سے دوستوں کو بتاتا بھی تھا اور کہتا تھا ایسے رکھتے ہیں بیویوں کو !!!

    پھر ایک دن اس نے کسی خاتون لکھاری کی ایک تحریر پڑھی اس تحریر میں اس خاتون نے خود سے ہونے والی مار پیٹ اور وحشیانہ سلوک کے بارے میں لکھا اور انتہاٸی تکلیف دہ الفاظ میں اس کرب کا اظہار کیا جس سے عورت گزرتی ہے جب مرد اپنی بیوی کو دوست سمجھنے کے بجاۓ اپنی جاگیر یا زرخرید سمجھتا ہے .

    میں نے وہ تحریر پڑھنے کے بعد اس انسان کو کٸ دفعہ روتے دیکھا اور خدا سے معافی مانگتے دیکھا اپنی بیوی سے معافی ملنے کے بعد پرسکون دیکھا اور آج وہ مثالی جوڑی بن کے زندگی گزار رہے ہیں یا یوں کہیں کہ مثالی دوست بن کے ذندگی کا لطف اٹھا رہے ہیں.

    توعرض یہ ہے کہ ضرور لکھیں بامقصد لکھیں اپنے تجربات لکھیں معاشرتی براٸیوں پہ لکھیں اچھی اور بامقصد تحریر اثر کرتی ہے شاید کوٸی براٸی میں گھرا انسان سدھرنے کے لۓ آپکی تحریر کے انتظار میں ہو مطلب اللہ پاک نے وسیلہ آپ کو بنایا ہو.

    اللہ سب کا حامی و ناصر ہو،

    @Ch_danishh

  • سیاسیی شاہ رنگیلے اور مجبور عوام  تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    سیاسیی شاہ رنگیلے اور مجبور عوام تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    محمد شاہ رنگیلا ( اصل نام روشن اختر) کا نام پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے۔ یہ مغلیعہ دور حکومت میں بادشاہت کے رتبے پر فائز رہا، بھلے اسکا نام تو پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے، لیکن اسکا کردار بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ شاہ رنگیلا نے اپنی مدت حکمرانی کا زیادہ تر وقت عیش و عشرت میں گزارہ ، یہ چوبیس گھنٹے نشے میں دھت اور حسن و جمال کا بے حد دلدادہ تھا۔ شاہ رنگیلا قانون سازی کرنے اور قانون شکنی کرنے کے خبط میں بھی حد درجے کا مبتلا تھا۔ یہ ایسا سر پھیرا بادشاہ تھا جو کھڑے کھڑے ہندوستان کے کسی بھی شخص کو اعلی ترین عہدہ دے دیتا تھا اور بگڑنے پر یہ کھڑے کھڑے ملک کے وزیراعظم جیسے شخص کو جیل بھیجوا دیتا تھا۔ رنگیلا اکثر دربار میں عریاں حالات میں آجاتا تھا ور درباری بھی اسکی پیروی کرتے ہوئے عریاں ہوجاتے تھے۔
    رنگیلا ایسا بےہودہ بادشاہ تھا کہ اچانک حکم دے دیتا اور کہتا تھا کہ کل فلاں فلاں وزیر زنانہ کپڑے پہن کر اور فلاں فلاں وزیر پاوں میں گھنگرو پہن کر آئیں گے۔ اکثر نشے کی حالت میں یہ حکم دے دیتا تھا کہ جیلوں میں موجود تمام قیدیوں کو رہا کرکے، انکی جگہ اتنی ہی تعداد میں نئے قیدی ڈال دئیے جائیں۔ سپاہی اسکا حکم بجا لاتے ہوئے پورے شہر میں پھیل جاتے اور جہاں بھی کوئی شخص نظر آتا تھا اسکو پکڑ کر جیل میں بند کر دیتے تھے۔ شاہ رنگیلا وزارتیں تقسیم کرنے کا بے حد شوقین تھا، لیکن اکثر یہ دوسرے ہی دن جوش میں آکر وزارت واپس بھی لے لیتا تھا۔ اگر کوئی بھی اسکے حکم کے خلاف جاتا تھا تو اس پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے اور طرح طرح کی ازیتیں دے دے کر اسکو قتل کروا دیتا تھا۔
    جب نادر شاہ نے دہلی کو فتح کیا تو رنگیلا کو اپنے خاندانی ہیرے کوہ نور کی فکر ہونا شروع ہوگئی۔ شاہ رنگیلا کو ڈر تھا کہ اگر نادر شاہ کو ہیرے کے بارے پتہ لگ گیا تو وہ ہیرے کو حاصل کرنے کےلیے ہر کوشش کرئے گا، اسلیے رنگیلا نے اپنا خاندانی ہیرا اپنی پگڑی میں چھپا لیا۔ نادر شاہ کو اپنے مخبر کے زریعے اس بات کا علم ہوچکا تھا، اسلیے رنگیلا سے ملاقات کے وقت اسکے ساتھ شاہی تخت پر بیٹھتے ہی نادر شاہ نے کہا کہ ” جسطرح عورتیں اپنے دوپٹے بدل کر آپس میں بہنیں بن جاتی ہیں، کیوں نہ ہم دونوں بھی اپنی پگڑیاں بدل کو بھائی بھائی بن جائیں”۔ اور اسطرح چالاکی سے نادر شاہ نے رنگیلا سے اسکی ہیرے والی پگڑی حاصل کرکے ، حکمرانی حاصل کرلی، اور رنگیلا اپنی نااہلیت اور کند ذہنیت کی وجہ سے حکمرانی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
    اگر ہم 2017 کے آخر اور 2018 کے اوائل تک اپنی علاقائی سیاسیت پر نظر دوڑائیں تو سیاسیی منظر نامہ بلکل مختلف نظر آئے گا، لیکن 25 جولائی 2018 کے بعد سے لیکر تاحال سیاسیی منظر نامہ بلکل ایسا نظر آئے گا جسطرح شاہ رنگیلا کے دور حکومت میں رہا ہے۔ تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے اپنی انتخابی مہمات ، جلسے جلوسوں، ریلیوں، سیاسیی مجلسوں، میڈیا پلیٹ فارمز پر، یہاں تک کہ ہر موقعہ پر اقتدار کی کرسی حاصل کرنے کے بعد، اپنے چاہنے والوں، اپنے انسوسٹرز ، اپنے میڈیا پرسنز، فنانسسز، پارٹی کےلیے جہانگیر ترین کے کردار ادا کرنے والے افراد، شوشل ورکرز، ڈیروں پر مصنوعی مسائل والے لوگ جمع کرنے والوں، پروٹوکول پارٹیز دینے والے شاہینوں، علاقائی ینگسٹرز ، اور فوٹو سیشن لینے والے فوٹو گرافرز کےلیے اقتدار میں آتے ہیں مخصوص نوکریاں، ملازمتیں، اور ہر طرح کی مالی ، سماجی اور معاشرتی مدد کا یقین دلوایا ہوا تھا۔ پاکستان کی بڑی سیاسیی جماعتوں کیطرح مسلم لیگ ق کے نظریاتی ورکرز، آٹے میں نمک کے برابر ہی ہونگے، جبکہ باقی تمام ووٹرز ، نصف صدی سے چلے آرہے ملکائی، وڈیرہ شاہی، سرداری نظام اور موررثی / خاندانی سیاستدانوں سے جان چھوڑوانے کےلیے ق لیگ کو سپورٹ کیا تھا۔
    جولائی 2018 ، تیسری کوشش کے نتیجے میں مسلم لیگ ق کو حلقہ NA 65 اور PP 24 میں مددگار اتحادیوں کے ووٹ بنک اور پرویز الہی کی معاشی پالیسی کے باعث اکثریتی کامیابی ملی۔ کامیابی ملنے کے بعد مسلم لیگ ق کی قیادت میں شاہ رنگیلے والا کردار جاگ اٹھا اور تمام سیاسیی وعدوں کے ساتھ ساتھ اپنے چاہنے والوں سے راستہ جدا کرلیا۔ کیونکہ سرکاری سطح پر انکی کامیابی کا نوٹیفیکشن جاری ہوچکا تھا۔ تھوڑے سے عرصے بعد ہی شاہ رنگیلا کی طرح ق لیگ کیطرف سے منہ موڑنے پر انکی پارٹی کے تمام الحاقی اور تشہیری افراد کو سخت مایوسی کا سامنا ہوا۔ اقتدار میں آنے کے بعد شاہ رنگیلا کیطرح ق لیگی قیادت نے بھی من پسند افراد کو اعلی سطح پر نوازنا شروع کردیا گیا۔ اعلی سطحی قائدین کی طرف سے انکی ہاں میں ہاں ملانے والوں کے ذریعے ہر فورم پر مزاحمتی برگیڈ کے قیام شروع کردئیے گئے۔ میڈیا پرسنز کے ذریعے اپنی تشہیر و تعریف کے پل بندھوانا شروع کروادئیے۔ اخبارات کے اندرونی صفحات سے فرنٹ صفحے پر سرخیوں میں جگہ بنوالی گئی۔ علاقائی تھانے کچری کے اندر بجائے جانبداری اور شفافیت کے، مداخلتی کردار ادا کرنا شروع ہوگئے۔ صوبائی سطح پر سئنیر پولیس آفسران کے ذریعے علاقائی تھانہ کچری سسٹم میں پنجے گاڑھنا اور مداخلت کا نظام شروع ہوگیا، من مرضی کے فیصلے اور ایف آئی آرز کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ شاہ رنگیلا کے طرز حکمرانی کو اپناتے ہوئے، اگر انکے خلاف کسی بھی فورم پر کوئی حق سچ کہنے کی جرت کرتا تو انکے خلاف منظم انداز میں مہم چلائی جانی شروع ہوگئی، طرح طرح کے طریقہ کاروں سے انکو تنگ کیا جانے لگتا، سوشل میڈیا پر انکی کردار کشی کی جانے لگی، یہاں تک کہ لوکل پولیس کے ذریعے انکو ڈرایا دھمکا جانا بھی شروع کردیا گیا۔ اگر موجودہ سیاسیی نظام کو دیکھیں تو ایک بار پھر ہمارے اوپر شاہ رنگیلا جیسے حکمران مسلط ہوگئے ہیں، جنکے سامنے عوام مجبور اور بے بس ہوچکی ہے۔ مجبور اور بے بس عوام ابکے خلاف جانے کی جرت نہیں کرسکتی ہے، کیونکہ تھانے کچری سے لیکر اعلی ترین عدلیہ میں انکے کارندے موجود ہیں، جو انکی ہر ممکن مدد کار خیر سمجھ کر کرتے ہیں۔
    قارئین حضرات !!! 1719 سے لیکر 1748 تک برسراقتدار رہنے والا شاہ رنگیلا تو اپنی بدنامیوں، عیاشیوں، بد عنوانیوں، رنگینیوں، بد اخلاقیوں اور بد زبانی کی وجہ سے اپنے اقتدار سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ زمین بوس ہوگیا، لیکن ہمارے لوکل اور نیشنل سیاسیی نظام میں آج بھی بہت سارے ایسے سیاسیی شاہ رنگیلےبر سر اقتدار ہیں، جو رنگیلے کیطرح بدنام بھی ہیں، عیاش بھی ہیں، بد اخلاق بھی ہیں، وعدے فرموش بھی ہیں، فراڈئیے بھی ہیں، دھوکے باز بھی ہیں، چاپلوس بھی ہیں، خوش آمدی بھی ہیں، لارے لپے لگانے والے بھی ہیں،نجانے کیا کیا معاشرتی برائیوں کے ساتھ ہمارے اوپر مسلط ہیں اور نجانے کب تک رہیں گے۔ عوام کو چاہیے کہ اپنے اردگرد ایسے سیاسیی رنگیلوں کو پہچانیں، بجائے انکے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بننے کے انکا سامنا کریں، ایسے رنگیلوں کےلیے اپنے دوستوں، رشتے داروں اور برادری والوں سے علحدگیاں اختیار مت کریں، انکی چکنی چوپڑی باتوں کو سینے سے لگاکر مت رکھیں، انکا محاسبہ کریں، ابکے ساتھ سیلفیاں بنانے کی بجائے ان سے انکی کارکردگی پر سوال کریں۔ نجانے ہمارے معاشرے میں ہر کوئی دولتمند اور طاقتور سے ہی کیوں ڈرتا ہے ؟ کیا سیاسیی یا طاقتور کو موت نہیں آنی، بلکہ ہمیں تو زیادہ ڈرنا چاہیے اس کمزور اور مجبور انسان سے جو ہر دکھ درد میں الله کی طرف دیکھتا ہے، اسکے فیصلے کا انتظار کرتا ہے۔ دعا ہے اللہ پاک یمیں ایسے سیاسیی رنگیلوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔

    (@_Ni_s)

  • درخت لگاؤ – مستقبل محفوظ بناؤ   تحریر : حسن ریاض آہیر

    درخت لگاؤ – مستقبل محفوظ بناؤ تحریر : حسن ریاض آہیر

    درختوں کے قتلِ عام میں ہم اشرف المخلوقات سرِ فہرست ہیں۔
    گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے مندرجہ ذیل تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شئیر کی اور ساتھ پیغام لکھا کہ ہم اس سال ریکارڈ شجر کاری کریں گے۔
    تصویر میں موجود درخت جو مختلف ممالک میں فی شخص درختوں کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے، اسے دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے ہم پاکستانی ریگستان میں رہتے ہوں۔
    اس تصویر کے مطابق دیکھا جائے تو
    کینیڈا میں ایک انسان کے لئے دس ہزار ایک سو تریسٹھ درخت ہیں
    گرین لینڈ میں چار ہزار نو سو چونسٹھ
    آسٹریلیا جو کہ بظاہر ریگستان نما ہے اس میں فی شخص تین ہزار دو سو چھیاسٹھ
    امریکہ میں چھ سو ننانوے
    فرانس میں دو سو تین
    ایتھوپیا میں ایک سو تینتالیس
    چائنہ میں ایک سو تیس
    انگلینڈ میں سینتالیس
    ہندوستان میں اٹھائیس
    اور جبکہ ہمارے پیارے پاکستان میں ایک انسان کے حصے میں پانچ درخت آتے ہیں ۔۔۔
    ہم آج سے تیس سال پیچھے چلے جائیں تو شاید ہمارے ملک میں فی شخص ایک سو سے زیادہ درخت تھے لیکن پھر جمہوری قوتوں نے ملک سے درختوں کا صفایا کر دیا۔
    میں ان تمام نام نہاد سابقہ حکمرانوں سے پوچھتا ہوں کہ اتنے درخت کاٹنے کے بعد کیا تمہارا پیٹ بھر گیا ؟
    ہوس اور لالچ ہے کہ کبھی ختم ہو نہیں سکتی ۔۔۔
    اگر اتنے ہی تم انسانیت دوست اور عوام کے خیر خواہ ہوتے تو درخت کاٹنے کی بجائے پہلے سے دوگنے درخت اپنی جیب سے لگواتے اور جب تک زندہ ہو ان کی اس طرح حفاظت کرتے جس طرح اپنی اولادوں کی کرتے ہو۔
    تمھارا نام آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھتی اور تمہیں دعائیں دیتی۔
    صرف حکمران ہی نہیں ہم عوام کی بھی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ شجر کاری کریں اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔
    درخت لگانے سے موسوم خوش گوار اور ٹھنڈا رہتا ہے۔ ہوا میں موجود آلودگی کم ہوتی ہے۔ زمین کٹاؤ سے بچی رہتی ہے اور چرند پرند کا یہ مسکن ہوتا ہے۔
    ماحولیاتی تبدیلیوں میں درخت فلٹر کا کام کرتے ہیں اس لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے اور انکی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔
    حکومت پاکستان وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں شجر کاری مہم میں پیش پیش ہے اور انکی اس محنت کا ادراک عالمی فورمز پر بھی کیا گیا ہے۔
    ہم سب پاکستانی خود سے عہد کر لیں اور اپنی ذات کے لیے ہی ایک ایک درخت لگانا شروع کر دیں تو یہ تعداد کروڑوں میں پہنچ سکتی ہے، حکومت شجر کاری کر رہی ہے اور اس حوالے سے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے لیکن کچھ زمہ داری ہم عوام کی بھی بنتی ہے۔
    اللّٰہ پاک ہمیں ہمیشہ ہر قدرتی اور ماحولیاتی آفات سے بچائیں آمین !
    درخت لگاؤ
    زندگی محفوظ بناؤ

    @HRA_07

  • پابندی وقت  تحریر: نــــازش احمــــد

    پابندی وقت تحریر: نــــازش احمــــد

    وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ۔ گھڑی کی سوئیاں کبھی نہیں رکتیں۔ جو وقت سے فائدہ اٹھا لیتا ہے وقت اس کے کام آ جا ہے اور جو وقت کی قدر نہیں کرتا وقت اسے کوسوں پیچھے چھوڑ کر آ گئے نکل جاتا ہے۔وقت ایک عظیم دولت ہے وہی شخص دنیا میں عزت و ثروت حاصل کرسکتا ہے جو وقت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کی قدر کرتا ہے اور اسے ضائع نہیں کرتا۔ہمیں چاہیے کہ وقت ضائع نہ کریں، ہر
    کام مقرر وقت پر کرنے کی عادت اختیار کریں اور کبھی آ ج کا کام کل پر نہ ڈالیں۔ کام اپنے مقررہ وقت پر کرنا چاہیے آ ج کا کام کل پر نہ ڈالنا چاہیے۔یہی پابندی وقت ہے۔
    جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے وہ در حقیقت ایک قیمتی خزانہ ضائع کردتے ہیں۔گزرا ہوا وقت کبھی کسی قیمت پر بھی واپس نہیں آتا۔ پابندی وقت کے ساتھ اگر ہم محنت کریں تو ہم اپنی اقتصادی حالت درست کر سکتے ہیں۔ عزت کی زندگی بسر کر سکتے ہیں ہوں ہم کسی کے محتاج نہیں ہوں گے۔
    نظام کائنات بھی ہمیں پابندی وقت کا درس دیتا ہے۔ہر موسم اپنے مقررہ وقت پر بدلتا ہے۔ دن رات مقررہ وقت کے پابند ہیں۔ چاند۔ سورج ایک مقررہ وقت اور مقررہ نظام کے تحت طلوع اور غروب ہوتے ہیں۔ یہ اپنے پروگرام میں کبھی با قاعدگی نہیں آ نے دیتے ہیں۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ وہ اگر
    پابندی وقت کا عادی نہیں ہوتا تو یہ اس کی نا سمجھی اور نا اہلی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
    "وقت کی قدر کریں
    وقت آ پ کی قدر کرے گا”
    @itx_Nazish

  • انصاف اور پاکستان کا عدالتی نظام تحریر: محمد حماد

    انصاف اور پاکستان کا عدالتی نظام تحریر: محمد حماد

    بروقت انصاف کی فراہمی کسی بھی معاشرے کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ جس معاشرے میں انصاف نہ ہو، ظلم اور بے ایمانی عام ہو، کمزور اور طاقتور کے لئے الگ قوانین ہوں وہ معاشرے اور قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔

    ہمارا مذہب اسلام بھی ہمیں ایک دوسرے کے مابین انصاف کرنے اور ناانصافی سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ قرآن مجید کا فرمان ہے ، "اللہ انصاف ، نیکی کرنے ، اور لواطت اور رشتہ داری کا حکم دیتا ہے ، اور وہ تمام شرمناک کاموں ، ناانصافیوں اور سرکشی سے منع کرتا ہے: وہ تمہیں ہدایت دیتا ہے تاکہ تم کو نصیحت حاصل ہو”۔ (النحل :90) قران کریم میں جہاں انصاف کرنے کی تلقین کی گئی وہیں اس بات کا بھی حکم دیا گیا کہ زاتی دشمنی اور نفرت کو اپنے اوپر حاوی کر کے کسی سے ناانصافی نہ کی جائے ۔ اللہ نے فرمایا: “اے ایمان والو! اللہ کے لئے ثابت قدمی سے کھڑے ہو جاؤ اور صرف گواہ رہو اور دوسروں سے دشمنی اور نفرت آپ کو انصاف سے باز نہ آنے دے۔ انصاف کرو: یہ تقویٰ کے قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے۔” (المائدہ: 8)

    نہ صرف اسلام بلکہ دنیا کے تمام مذاہب میں انصاف کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ موجودہ دور میں عدلیہ اور عدالتی نظام انصاف فراہم کرنے کے زمہ دار ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک پر نظر ڈالیں تو سیشن کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک ہماری عدالتیں موجود ہیں جہاں روز سیکڑوں مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔

    بلاشبہ ہماری عدالتیں آزاد ہیں اور انصاف فراہم کرنے کے لئے کوشاں بھی لیکن حالیہ عالمی رینکنگ کے مطابق پاکستان کا عدالتی نظام 128 ممالک کی فہرست میں 120 نمبر پر ہے اور اس کی بےشمار وجوہات ہیں۔ امیر اور طاقتور جرم کر کے بھی گھنٹوں میں ضمانتیں کروا لیتے ہیں جبکہ غریب پوری زندگی انصاف کا متلاشی رہتا ہے۔ ہمارے سامنے اس طرح کی بےشمار مثالیں موجود ہیں جہاں عدالتی فیصلوں میں غیرضروری تاخیر کے سبب لوگوں کی آدھی زندگیاں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر گئی۔ دوسری جانب ہمارے اسی ملک میں سانحہ ماڈل ٹاون جیسے المناک سانحات رونما ہوئے اور ان میں شہید ہونے والوں کے لواحقین آج بھی دربدر کی ٹھوکریں کھانے اور یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ ہمیں کون انصاف فراہم کرے گا۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں بڑے پیمانے پر عدالتی اصلاحات لائی جائیں تا کہ امیر اور غریب کو بلا تفریق، سستا، اور جلد انصاف فراہم کیا جا سکے۔ اسی طرح ہم حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھ سکیں گے۔


    Muhammad Hammad

    Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer  out more about his work on  Twitter  account 

     


  • اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش دی ہے . تحریر: مدثر

    اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش دی ہے . تحریر: مدثر

    اس چھوٹے سے جملے میں کامیاب قوموں کی ترقی کا راز پنہاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:
    ترجمہ: انسان کیلئے وہی کچھ ہے جس کیلیے وہ کوشش کرتا ہے۔
    علامہ محمد اقبال نے اس شعر کی ترجمانی اپنے کلام میں یوں ارشاد فرمایا کہ۔

    ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
    وہ کونسا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا۔

    انسان کے بس میں کوشش ہے اس کوشش کا ثمر تو اللہ پاک کے ہاں موجود ہے۔ جتنا زیادہ کوئی کوشش کرے گا اُتنا زیادہ اسے اس چیز کا پھل ملے گا۔ کوئی بھی چیز بغیر کوشش کے انسان کو میسر نہیں ہو سکتی۔ دنیا میں کئی قومیں ہیں لیکن سب سے نمایاں،برتر اور ترقی یافتہ قومیں وہی ہیں جنہوں بہت زیادہ کوشش کی اور اپنے کام کو سرانجام دیا۔

    حدیثِ پاک ہے کہ :
    محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ ہاتھ سے کام کرنے والا بھی اللہ کا دوست ہے۔ جو جتنی زیادہ جتن کرتا ہے اللہ پاک اسے اتنا زیادہ دیتا ہے۔
    دنیاوی مثال لے لیں اگر ایک طالب علم پورا سال پڑھتا نہیں اور پیپر بھی بغیر پڑھے دے آتا ہے تو کیا وہ اچھے نمبروں کی امید رکھ سکتا ہے؟ ہر گز نہیں!, کیوں؟ کیونکہ اس نے اچھے نمبر لینے کی کوشش ہی نہیں کی محنت ہی نہیں۔

    اچھے اوصاف میں سے سب سے بہترین وصف یہ ہے کہ آپ کتنے محنتی ہیں اور کسی چیز کو حاصل کرنے کیلیے کس جائز حد تک جا سکتے ہیں۔ محنت تو کامیاب انسانوں کا شیوہ ہے۔ محنت ہی انسان کو بناتی ہے اور محنت ہی انسان کو اوجِ ثریا کی بلندیوں پر لے جاتی ہے۔

    اقبال فرماتے ہیں:
    فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا
    مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

    اللہ نے انسان کے ہاتھ میں فقط کوشش دی ہے اور ساتھ اس کا ثمر بھی بتا دیا ہے کہ میں تمہیں وہی دونگا جس کےلئے جتنی تم کوشش کرو گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمہ تن گوش ہو کر اپنے ذہن میں مقصد لے کر اس کی تگ و دو میں لگ جائیں اور ہر ممکن حد تک کوشش کریں کیونکہ صلہ دینے والی ذات تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے.

    @MudasirWrittes

  • قربانی کا حق، حقداروں تک . تحریر : احمد فراز گبول

    قربانی کا حق، حقداروں تک . تحریر : احمد فراز گبول

    عید الاضحٰی مسلمانوں کا دوسرا مذہبی تہوار ہے اور اسے ایثار اور ہمدردی کے جذبے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پورے عالمِ اسلام میں اس دن سنتِ ابراہیمی کی یاد میں جانور ذبح کئے جاتے ہیں اور ان کا گوشت اعزہ و اقارب، پڑوسیوں اور غریب غربا میں بانٹا جاتا ہے۔ سرمایہ داروں کی تجوریوں کے وزن تلے دبے ہمارے اس معاشرے میں کئی ایک ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں صرف عیدِ قربان پہ ہی کھانے کے لئے گوشت نصیب ہوتا ہے۔ اس عید پر جانوروں کی قربانی کا مقصد معاشرے کی کمزور اور نچلے طبقوں کے لوگوں کی دلجوئی کرنا اور اپنا دسترخوان ان کے ساتھ بانٹنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے نزدیک پہلی ترجیح اپنے ریفریجریٹرز اور دوسری ترجیح صرف دوست احباب اور رشتہ دار ہی بن چکے ہیں۔ غریب غربا کو تو ہم نے یاد کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ جن تک گوشت پہنچانے کے لئے ہم جانور قربان کرتے ہیں حقیقت میں ان تک پہنچتا ہی نہیں ہے۔

    اکیسویں صدی کے اس خود غرض دور میں قربانی کی روح کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ ہمارے اردگرد کئی ایسے حقدار مگر نادار لوگ موجود ہیں جو کہ خودداری کے بوجھ تلے دبے ہیں۔ لیکن ہمارا بے حس معاشرہ بجائے ان کی مدد کرنے کے انہیں بھی اپنے ساتھ مقابلے کی دوڑ میں شامل کرنے پر تلا ہوا ہے۔

    دراصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے قربانی کے فرضی تصور کو حقیقی مقصد کی طرف واپس لے کر آنا چاہئے۔ اور قربانی کا گوشت اور عید کی خوشیاں ان لوگوں کے ساتھ بانٹنی چاہئیں جو ان کے حقیقی طور پر اور صحیح معنوں میں حقدار ہیں۔ قربانی کا گوشت بانٹنے سے پہلے اس امر کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے اردگرد سبھی لوگوں نے عید کے کپڑے اور راشن لے لئے ہیں؟ کیونکہ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں اور بچوں کو باپ کی غربت کا علم نہیں ہوتا۔ انہیں بس وہی چیز چاہیئے ہوتی ہے جو وہ دوسروں کے بچوں کو پہنے ہوئے دیکھتے ہیں۔ محسنِ انسانیت جناب عبد الستار ایدھی نے اپنے بیٹے کی طرف سے سائیکل خرید کر دینے کی فرمائش پر کہا تھا کہ جب تک میرے پاس اتنے پیسے نہ آ جائیں کہ محلے کے تمام بچوں کو سائیکل خرید کر دے سکوں اس وقت تک میں آپ کو سائیکل نہیں دلا سکتا۔
    ایثار اور ہمدردی کی اس سے بڑی مثال اور نہیں ملتی۔

    مختلف تیوہار اور مواقع پر معاشرے کا سفیدپوش طبقہ سب سے زیادہ مصائب کا سامنا کرتا ہے۔
    میری آپ سب سے بس یہی گزارش ہے کہ عید کا حق حقداروں تک لازمی پہنچائیے اور عید کی خوشیوں کو جتنا ہو سکے مل بانٹ کر منائیے کیونکہ اچھائی ہمیشہ بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ خدائے ذوالجلال والاکرام پاکستان کا حامی ناصر ہو۔

    @1nVi5ibL3_