Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • کون کیا چاہتا ہے ؟  تحریر : فرید خان

    کون کیا چاہتا ہے ؟ تحریر : فرید خان

    افغان مسلے پر بار بار لکھ چکا لیکن پھر بھی لکھنے کا سلسلہ نہیں رکتا۔ ہر روز کوئی نہ کوئی پشرفت اجاتی۔ وسطی ایشیا میں اس وقت افغانستان کی جنگ اور مسلہ زور پکڑ رہا۔ امریکہ نے مسلے سے تقریبا جان چھڑانا شروع کیا لیکن سرزمین کے ہمسایوں میں بڑی حد تک تشویش پائی جاتی ہیں ۔ پاکستان بطور مرکزی کردار اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لا رہا گزشتہ دنوں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کی وزیر اعظم عمران خان سے فون پر رابطہ بھی ہوا اور افغان مسلے پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماوں نے مسلے پر پاکستان کے دارلحکومت میں کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا۔ کانفرنس عید سے پہلے ہونا تھا لیکن تاشقند میں وزیراعظم اور افغان صدر کی ملاقات میں اشرف غنی نے وقت مانگ لیا اس لیے اب یہ کانفرنس عید کے بعد منعقد کی جائے گی۔ دوسری طرف افغان حکومت مسلے پر مسلسل کشمکش کا شکار ہے۔ کبھی مزاکراتی عمل میں وقت ضائع کرنے کی کوشش کرتی تو کبھی پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردیتے اس سنگین صورت حال میں بجائے معاملات کو سنجیدہ لے افغان حکومت غیر ذمہ دارانہ طور پر کبھی ایک الزام پاکستان پر لگاتا کبھی دوسرا۔ گزشتہ روز افغان نائب صدر نے پاکستان فضائیہ پر بے بنیاد الزام لگایا گیا جس کی تردید اور وضاحت دفتر خارجہ نے کی ۔ سوال یہ ہے کہ یہ الزام کیوں غیر ضروری ہے یہ الزام اس لیے غیر ضروری ہے کہ افغانستان میں طالبان مسلسل علاقوں پر قبضہ کررہے اور افغان حکومت اور فورسسز بے بسی کا شکار ہے تو پاکستان کو اس طرح کے معاملوں میں الجھنے کی کیا ضرورت ہے عین اس وقت جب پاکستان اس وقت مرکزی کردار ہے اور افغان مسلے کی سیاسی حل کے لیے مسلسل کوششوں میں ہیں۔ گزشتہ روز تاشقند میں کانفرنس کے دوران مسلے پر مثبت گفتگو کے بجائے افغان صدر نے پاکستان پر الزامات لگائے اور اسی دوران پھر وزیر اعظم پاکستان کو جواب دینا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ افغان حکومت کیا چاہتی ؟ کیوں مسلے پر غیر سنجیدگی کا مسلسل مظاہرہ کررہی ؟ اگر وہ واقعی وطن میں امن چاہتا تو کیوں بجائے مسلے پر بات کرنے وہ غیر ضروری الزامات لگا رہے؟ اگر وہ ملک میں امن چاہتے تو کیوں پاکستان کی کردار کی تائید نہیں کرتے ؟ کیوں مسلے کے سیاسی حل کے لیے کردار ادا نہیں کررہے ۔ اس وقت طالبان علاقے قبضہ کررہے پوری دنیا دیکھ رہی کہ طالبان فتوحات کررہی ، امریکہ اور افغان حکومت بے بسی کا شکار ہے پھر بھی پاکستان سب کو ایک میز پر لانے کی کوشش کررہا اور مسلے کے سیاسی حل کے لیے کوششوں میں ہیں . بار بار پاکستان وضاحت کررہا کہ پاکستان کا اس جنگ میں کوئی فیورٹ نہیں ، پاکستان امن چاہتا کیونکہ پاکستان کی امن بھی افغانستان کی امن سے جڑی ہے ۔افغانستان حکومت کو اس پر سنجیدگی سگ غور کرنا پڑے گا یہ مسلہ سنگین ہوتا جارہا۔ یہ بات بلکل واضح ہے کہ اشرف غنی کی حکومت چاہے جتنے بھی الزامات لگائے جس وقت تک لگاتا ہے انہیں اخر میں پاکستان کی تائید کرناپڑے گا کیونکہ اس مسلے کا حل ایسا نہیں ہے جو اشرف غنی چاہتا۔ اس سے پہلے کہ طالبان بزور طاقت حکومت قائم کرے اشرف غنی کو ابھی سے اپنے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر مسلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اس مسلے کا حل طالبان بھی چاہتا پاکستان بھی چاہتا ہمسایہ ممالک بھی چاہتا اور خود افغانستان کی عوام بھی دہائیوں کی جنگ سے بے زار ہیں اور جنگ کا سیاسی حل چاہتے لیکن اس مسلے کا حل اگر نہیں چاہتا تو وہ ایک اشرف غنی ہی اور دوسرا ہندوستان ۔ دہائیوں کی خان ریزی اب بند ہونا پڑے گا ، اشرف غنی اپنی دوستیاں نبائے یا اپنی سیاسی مفاد کو سامنے رکھیں بلاخر ان کو بھی جنگ سے بے زار ہوکر ان کرداروں کا ساتھ دینا پڑے گا جو مسلے کی سیاسی حل چاہتی وہ حل جس میں افغانی عوام ، طالبان اور حکومت مطمئن ہو ۔ دہائیوں کی جنگ کے بعد اگر امن چاہیے تو سب کو اپنی مفاد بالائے طاق رکھ کر ایک میز پر انا پڑے گا ۔ اللہ دب العزت سے دعا ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور اسی کی بدولت پاکستان میں امن اجائے۔ امین

    Twitter @Faridkhhn

  • تحریر: تصوّر جٹ  ‏جدیدیت اسلام سے دوری کا باعث

    تحریر: تصوّر جٹ ‏جدیدیت اسلام سے دوری کا باعث

    بے حیائی کیا ہے؟ گناہوں پر شرم نہ محسوس کرنا بلکہ ان کا کھلے عام اعتراف کرنا،  بے حیائی ہے۔

    ہمارا معاشرہ بے حیائی کے اس راستے پر چل پڑا ہے جہاں عروج نہیں بلکہ زوال ہے۔

    جدید دور کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور مسلمان اس گمراہی کو خوشی سے قبول کر رھے ھیں۔

    اگر آج کے دورِ جدید میں دیکھا جائے تو مختلف ایپس نے پوری دنیا میں فحاشی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جن کی مقبولیت ایسے شیطانی ذرائع ہیں جن کی وجہ سے بے حیائی مسلمانوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ جس کی زد میں آ کر مسلمان اپنی اسلامی اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    مسلمان عورتوں میں پردہ اور مردوں میں حیا کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس سے کسی بھی معاشرے کو زوال کا شکار ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔

    ایسے لوگ جو مسلمانوں کو دین اسلام سے دور اور ان میں بے حیائی و فحاشی کو پھیلاتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ

    “جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہیں، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔”
    مسلمان سمجھ رھے ھیں کہ ھم جدید دور کی طرف جا رہے ھیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھ رہے کہ وہ اسلام سے کتنا دُور ہو گئے ہیں

    کبھی کبھی میرے ذہین میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا ہمارے آباؤ اجداد نے بے شمار جانوں کے نذرانہ پیش کیے تھے۔

    ہم آج پاکستان کو بنانے کا مقصد بُھول گئے ہیں اور دین اسلام سے اتنا دُور چلے گئے ہیں یہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔

    ہمیں اپنے مقصد کی طرف واپس آنا ہو گا اور اللہ اور اس کے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرنی ہو گی۔

    اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین۔

    @T_jutt17

  • معاشرے میں تربیت کا کردار   تحریر : اعزاز شوکت

    معاشرے میں تربیت کا کردار تحریر : اعزاز شوکت

    کوئی معاشرہ بننے میں سب سے اہم کردار تربیت کا ہوتا ہے۔اور معاشرہ اسی کی بناء پر چلتا ہے۔
    جب ایک فرد کا جنم ہوتا ہے تو وہ پہلے جانداروں کی رو میں گنا جاتا ہے ۔پھر وہ حیوانوں اور جانوروں میں گنا جاتا ہے پھر وہ ایک چیز یعنی تربیت جس سے وہ ایک انسان بنتا ہے ۔یہ اُسکی تربیت پر ہوتا ہے کہ وہ ایک اچھا انسان بنے گا يا برا اور اُسکی تربیت میں معاشرے میں اچھے کام کے لیے استعمال ہو گی یا بری۔

    دوسرے جاندار بھی بالکل انسانوں کی طرح رہتے, کھاتے, سوتے اور نسل بڑھاتے ہیں۔ لیکن انسان کی عقل, تعلیم تربیت ,شعور انکو ان سے علحیدہ کرتا ہے. اسلیے اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔

    انسان کے پیدا ہونے سے شروع ہونے والی ماں کی دی گئی تربیت تا عمر انسان کے کردار کو متاثر کرتی ہے. انسان کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے جہاں سے اسکی تعلیم و تربیت شروع ہوتی ہے۔وہاں سے حاصل کی گئی تربیت آگے معاشرے پر اثرانداز ہوتی ہے۔

    معاشرہ خاندانی نظام سے بنتا ہے اور خاندان ایک ایک فرد سے ملکر بنتا ہے. یعنی ایک ایک انسان کو ملا کر پورا معاشرہ تیار ہوتا ہے.اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپکو مہذب معاشرہ چاہیے تو اس کے لیے آپکو مہذب انسانوں کی ضرورت ہے. اور مہذب انسان بننے کے لیے اچھی تربیت ہونا بہت لازم ہے.
    ابتدا میں ماں معاشرے کے بنیادی جز یعنی ایک انسان کی تربیت شروع کر کے معاشرے کی تشکیل شروع کرتی ہے. اب یہ تربیت جتنی زیادہ اچھی ہو گی وہ انسان آپکو بہترین خوش اخلاق معاشرہ دے گا. لیکن اگر کچھ خامی ۔رہ گئی تو معاشرہ کی بربادی کا سبب بنے گی
    تربیت معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کا کام کرتی ہے۔کسی بھی قوم کی پہچان اسکی تعلیم, تربیت اور اخلاق سے ہوتی ہیں۔
    ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ صرف تعلیم سے ہی انسان کو باشعور باکردار نہیں بنا سکتی بلکہ ساتھ ساتھ تربیت بھی لازم و ملزوم ہے. اگر تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہوگی تو کبھی کوئی معاشرہ عظیم ترین نہیں بن سکتا
    آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگ کتنی اعلی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں، ڈگریوں کی قطار لگا دیتے ہیں، پھر اعلی عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں، مگر پھر وہ اخلاق طور پر پست ہوتے ہیں، مہذب نہیں ہوتے۔اتنا پڑھ لکھ کر بھی بد عنوانی بے ایمانی لوٹ مار کرتے ہیں،اور ایسے وہ معاشرے کی تباہی کا سبب بنتے ہیں. اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کتنی ضروری ہے

    انسان نہ تو پیدائشی شریف ہوتا ہے اور نہ ہی پیدائشی مجرم ،بلکہ یہ اس کی تربیت پر منحصر ہوتا ہے.۔اگر اس کے آس پاس اچھے اخلاق والے لوگ ہیں تو انکی تربیت بھی اچھی ہو گی اور وہ فطری طور پر باشعور بنے گا. اس کے برعکس اگر وہ اچھی تربیت سے عاری معاشرے میں رہے گا تو بلاشبہ وہ بد اخلاق اور برا ہوگا اور معاشرے پر منفی اثر چھوڑے گا

    نچوڑ یہ ہے کہ بہترین معاشرے کے لیے اچھی تربیت ایسے لازم ہے جیسے زندہ رہنے کے لیے سانس ,خوراک اور پانی
    تربیت کا ہمارے معاشرے پر اتنا گہرا اثر پڑتا ہے کہ اگر اچھی تربیت ہو گی تو معاشرے میں امن و سکون ہو گا۔اور اگر بری تربیت ہو گی تو اِس سے نہ صرف اُسکے خاندان والے بلکہ پورا معاشرہ اثر انداز ہو گا۔ہر کوئی ڈر ڈر کر زندگی گزارے گا کیونکہ ایسے لوگ برے کاموں میں ملوث ہو کر لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
    اگر تربیت اچھی ہو گی تو معاشرہ بھی اچھا ہو گا۔
    لیکن اگر تربیت بری ہو گی تو معاشرے کا نظام درہم برہم ہو جاۓ گا

    @Zee_PMIK

  • تعمیر اقوام . تحریر : ⁩عثمان رضا جولاہا

    تعمیر اقوام . تحریر : ⁩عثمان رضا جولاہا

    اوراق کی گرداب میں سے کوئی ہیرا تلاش کرنے کی جستجو میں ورق گردانی کرتے ہوئے برٹولت بریخت کا نام نظر کے سامنے سے گزرا۔ برٹولت بریخت معرف جرمن شاعر اور ڈرامہ نگار تھا۔ اس کے کھیل گلیلیو میں ایک طالب علم گلیلیو سے مخاطب ہو کر کہتا ہے

    ” بدنصیب ہے وہ دھرتی جہاں ہیرو پیدا نہیں ہوتے”

    بوڑھا گلیلیو جواب دیتا ہے
    "نہیں آندرے بدنصیب ہے وہ دھرتی جسے ہر روز ایک ہیرو کی ضرورت پیش آ جاتی ہے.”

    شاید اس وقت ہماری قوم کی حالت بھی یہی ہو چکی ہے جسے ہر چند برس بعد ایک ہیرو کی ضرورت پیش آ جاتی ہے اور پیش آئے بھی کیوں نا ہم کہاں قدر کرتے ہیں ہیروز کی ہم تو قدر کرتے ہیں سیاسی نعروں اور اپنے مفادات کی۔
    ایک شخص کے لیے سب سے بڑا ہیرو اس کا اپنا ضمیر ہوتا ہے جو اسے ہر کام سے پہلے بتاتا ہے کہ وہ ٹھیک ہے یا غلط
    میں کبھی سوچتا تھا کہ ہمیں ایک ہیرو ملے جو اس قوم کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو کنارے لگائے پر اب مجھے ادراک ہوا کہ تلاش رہبر میں ہم کہیں منزل سے دور ہی نہ نکل جائے۔ ہم کیوں کسی کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ آئے اور قوم کو ترقی و سلامتی کا پروانہ تھما دے۔ ہم اپنے اندر کے ایک ہیرو کو تلاش کیوں نہیں کرتے۔ ایک مسند شاہی پر براجمان جمہوری نمائندے کرپشن کرتے ہوئے اپنے اندر کے ہیرو کی آواز کو کیوں دبا دیتے ہیں جو کہ چلا چلا کر کہتا ہے کہ تمہارے ہاتھوں میں اس قوم کا مستقبل ہے۔ منصب عدل پر فائز عدل و انصاف کا رکھوالا نظام عدل کو چند ٹکوں کے بہاؤ فروخت کرتے ہوئے اپنے اندر کے ہیرو کو کیوں بھول جاتا ہے جو اسے یاد دلا رہا ہوتا ہے کہ تجھے انصاف فروشی کے لیے نہیں بلکہ ترویج انصاف کے لیے اس منصب پر فائز کیا گیا ہے۔بیوروکریٹس اور ٹیکنوکریٹس منصوبہ سازی کرتے وقت قومی مفاد کے بجائے پسند نا پسند کے فارمولے کو اپنا کر اپنے اندر کے ہیرو کی آواز کو کیوں کچل دیتے ہیں۔

    اس قوم کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے سیاستدان آخر کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس قوم کی بنیاد کو سینچنے کے لیے صدیوں کی محنتیں شامل ہیں۔ اس عمارت قوم کی بنیادیں فریب و جھوٹ سے کھوکھلی کرنے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس عمارت کو بنانے والوں نے کتنی محنت سے اتفاق و محبت کی مٹی کو اخلاص کے پانی سے گوندھ کر اس عمارت کو بنایا تھا۔

    جب تک ہم اپنے اندر کے ہیرو کی آواز کو نہیں سنتے اور اپنے مفادات سے بغاوت کر کے قومی مفادات کو ترجیح نہیں دیتے تب تک ہم تعمیر قوم میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے۔ اس قوم کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو بچانے کے لیے ہمیں سیاسی نعروں اور سیاسی مفادات سے بغاوت کرنی ہو گی ہمیں ہر اس چیز سے بغاوت کرنی ہو گی جو ہماری قوم کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے
    بقول حبیب جالب
    اس دور کے رسم و رواجوں سے
    ان تختوں سے ، ان تاجوں سے
    جو ظلم کی کوکھ سے جنتے ہیں
    انسانی خون سے پلتے ہیں
    جو نفرت کی بنیادیں ہیں
    اور خونی کھیت کی کھادیں ہیں
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
    جن کے ہونٹ کی جنبش سے
    وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے
    قانون بدلتے رہتے ہیں
    اور مجرم پلتے رہتے ہیں۔ ۔ ۔
    اُن چوروں کے سرداروں سے
    انصاف کے پہرے داروں سے
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    جو قوم کے غم میں روتے ہیں
    اور قوم کی دولت دھوتے ہیں
    وہ محلوں میں جو رہتے ہیں
    اور بات غریب کی کہتے ہیں
    اُن دھوکے باز لٹیروں سے
    سرداروں اور وڈیروں سے
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    جو عورت کو نچواتے ہیں
    بازار کی جنس بناتے ہیں
    پھر اس کی عصمت کےغم میں
    تحریکیں بھی چلواتے ہیں
    اُن ظالم اور بدکاروں سے
    بازار کے اُن معماروں سے
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    جو مسلک کے بیوپاری ہے
    وہ سب سے بڑی بیماری ہے
    وہ جن کے سوا سب کافر ہے
    جو دین کا حرف آخر ہے
    اُن جھوٹے اور مکاروں سے
    مزہب کے ٹھیکیداروں سے
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    جہاں سانسوں پر تعذیریں ہیں
    جہاں بگڑی ہوئی تقدیریں ہیں
    ذاتوں کے گورکھ دھندے ہیں
    جہاں نفرت کے یہ پھندے ہیں
    سوچوں کی ایسی پستی سے
    اس ظلم کی گندی بستی سے
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    جو چاہے مجھ پر ظلم کرو ۔ ۔ ۔ ۔
    میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے
    میرے سر پر ظلم کا پھندا ہے
    میں مرنے سے کب ڈرتا ہوں
    میں موت کی خاطر زندہ ہوں
    میرے خون کا سورج چمکے گا
    تو بچہ بچہ بولے گا
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں

    usmanrazajolaha

  • ‏ہمارا ضلع اور اس کے مسائل تحریر: علی رضا بخاری

    ‏ہمارا ضلع اور اس کے مسائل تحریر: علی رضا بخاری

    ہمارا ضلع راجن پور جس کی بنیاد مخدوم شیخ راجن شاہ نے 1732 میں رکھی، 1982 میں راجن پور کو ضلع کا درجہ دیا گیا، ضلع کا کل رقبہ 1238 اسکوائر کلو میٹر ہے اور آبادی 20 سے 21 لاکھ پر مشتمل ہے۔

    ضلع راجن پور عظیم سرائیکی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید کی دھرتی ہے، ضلع راجن پور کی آبادی كا تقریباً 76 فیصد حصہ دیہات میں آباد ہے، فیکٹریاں نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کا پیشہ کاشت کاری ہے۔

    اس ضلع کو درپیش مسائل میں اہم مسئلہ تعلیم کا ہے، تعلیمی لحاظ سے یہ ضلع پاکستان کے پانچ پسماندہ علاقوں میں سے ایک ہے، یونیورسٹی کا نہ ہونا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے بہت سے غریب سٹوڈنٹس باہر کسی بڑے شہر میں جانا افورڈ نہیں کر سکتے وہ رہ جاتے ہیں، کیا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا غریب کا حق نہیں ہے؟ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری اور بہت سی اہم شخصیات کے بڑے بڑے عہدوں پر رہنے کے باوجود یہ ضلع بنیادی سہولیات سے محروم رہا ہے۔

    ضلع راجن پور کے اکثر علاقے کوہ سلیمان کے پہاڑوں سے آئے سیلابی پانی اور دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث تباہ کاریوں کا سبب بنتے ہیں، اس سیلاب کی وجہ سے غریب کسانوں کی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اور بہت سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    اس ضلع میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ رہا ہے، ٹرائیبل ایریا اور کچے کے علاقے میں بہت سی وارداتیں ہوتی رہی ہیں، کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ جس کی وجہ سے راجن پور کافی سرخیوں میں رہا ہے اب سیکیورٹی فورسز کی مدد سے ان پر قابو پا لیا گیا ہے۔

    ‎@aliraza_rp

  • تعلیمی نصاب . تحریر : ذیشان وحید بھٹی

    تعلیمی نصاب . تحریر : ذیشان وحید بھٹی

    یوں تو غلام اقوام معاشرے کی مختلف سطحوں پر ہونے والے استحصال کے نتیجے میں اندر ہی اندر بتدریج آزادی کے مختلف اسباق آپوں آپ پڑھتے رہتے ہیں اور جب آزادی کی جنگ چھڑتی ہے تو اس میں بنیادی اور مرکزی کردار بھی معاشرے کی وہی پرتیں ادا کرتی ہیں جو سب سے زیادہ دبی ہوئ اور کچلی ہوتی ہیں لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں قومی اور عوامی آزادی کی تحریکوں میں یہاں کے طالبہ نے جو کردار ادا کیا ہے وہ کم اہمیت کا حامل نہیں ہے کیوں کہ یہ طالبہ ہی ہے جو اپنی ذاتی،گروہی یا طبقاتی مفادات محدود ہونے کی وجہ سے اس طرح کی تحریکوں میں آگے آگے رہتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر ان کو والدین اور سماجی "مصلحین "کی طرف سے مختلف اقسام کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کے یہ پڑھنے سے زیادہ سیاست کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ کہ ماں باپ کا پیسہ ضائع کرتے ہیں اور یہ کہ ملکی حالات بھی خراب کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن لیکچر باز اکثر اس تلخ اور دراصل توئین آمیز حقیقت کو نظر انداز کر جاتے ہیں کہ” جسے وہ پڑھائی کہتے ہیں وہ دراصل بچوں کے عقل اور شعور کو سلانے اور ان کو گرد و پیش سے بیگانہ ہو کر اداب غلامی رٹا لگانے کا نام ہے” ہمارے ہاں یعنی تیسری دنیا میں جو دراصل مغربی سرمایہ دار سامراج کی جدید نوآبادیاتی غلامی کے شکنجے میں ہے

    (سامراج کا نیا روپ جس میں ملکوں کی دولت معاشی اور اقتصادی ہتھکنڈوں سے فوجی قبضے کے بغیر لوٹی جاتی ہے )یہاں تعلیم کم ہی اردگرد کے ٹھوس مطالعے کی بنیاد پر ہوتی ہے تمام مضامین گردو پیش سے بیگانہ کرنے کی حوصلہ افزائی اور اس طرح رہنمائی کرتے ہیں ۔ان مضامین کا مواد اکثر بوسیدہ اور متعلقہ مضمون کی عینک سے اس میدان میں اس معاشرے کے اپنے مسائل اور مشکلات اور ترقی کے امکانات پر غور کرنے کی ترغیب دینے کے بجائے مغرب پر انحصار کے رجحان کو تقویت پہنچاتا ہے۔یہ نئی یہ ایک اور طرح کی غلامی ہے جس میں دراصل پاکستان کا ملکی ڈھانچہ بھی جھکڑا ہوا ہے کشمیریوں کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ اس کے علاوہ پاکستان کے غلام حکمرانوں کی غلامی میں بھی جھکڑے ہوئے ہیں جس کی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ
    "کشمیری عوام غلاموں کے غلاموں کے غلام ہیں ”

    @zeeshanwaheed4

  • انسان کی میں نہیں ختم ہوتی . تحریر : احسن علی بٹ

    انسان کی میں نہیں ختم ہوتی . تحریر : احسن علی بٹ

    آج کے دور میں ہر کوئی کامیاب ہونے کیلئے آگے بڑھنے کیلئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کیلئے کوشاں ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے اگر انسان میں "میں” ختم ہوجائے تو کامیابی انسان کے قدم چومے گی لیکن یہاں سب اس کے برعکس ہے یہاں ہر کوئی صرف اپنے ہی گن گاتا ہے کہ میں ہی میں ہوں میرے سے بڑا کوئی دانش وار نہیں، انسان کو دوسروں کی محنت سے سیکھنا چاہیے نہ کہ اس سے حسد اور بعض کرنا چاہیے.

    ہمیں چاہیے ہماری جو بھی منزل ہو ہم اسکو حاصل کرنے کیلئے دل و لگن سے کام کریں اور اسکے لیے ہمیں اپنے اپ کی "میں” کو مارنا چاہیے کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہر انسان میں کوئی نہ کوئی غلطی کوتاہی ہوتی ہے اسلیے ہمیں دوسروں سے سیکھنا چاہیے اور سیکھ کر اس پر عمل کرنا چاہیے بہترین انسان وه ہی ہے جس نے سیکھا اور سیکھایا.

    ایک اور بہت اہم چیز دن بہ دن ہمارے میں برداشت اور بردباری کم ہوتی جارہی ہے انسان کو ہمشہ درگزری سے کام لینا چاہیے اور اپنی منزل کی طرف گامزن رہنا چاہیے آئیں آج اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ اپنی اندر کی میں کو ختم کر کہ دوسروں کے کام آئیں گے اور جہاں کسی ضرورت مند کو ہماری ضرورت درپیش ہوگی ہم حاضر ہونگے.

    @AhsanAliButtPTI

  • کرونا کو قابو کرنے کے لئے سرکاری احکامات پرعمل کی سخت ضرورت ہے .  تحریر: نادرعلی ڈنگراچ

    کرونا کو قابو کرنے کے لئے سرکاری احکامات پرعمل کی سخت ضرورت ہے . تحریر: نادرعلی ڈنگراچ

    کرونا وائرس سے ابھی تک جان نہیں چھڑا سکے اس کی ایک لہر پہلے والی لہر سے زیادہ خطرناک بن کر آتی ہے یے عالمی وبا ہر طرف سے انسان کی خوشبو انسان کی خوشبو کرتا ہوا آرہا ہے جیسے دنیا کے دورے پر نکلا ہوا ہو. دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی عوام سے ایس او پیز پر عمل کروا کر ویکسین لگوانے کا سلسلہ تیزی سے جاری رکھا ہے پر مسئلہ ہمارے جیسے غریب ممالک کو ہے جن کے پاس محدود وسائل ہونے کی وجہ سے اس موذی مرض پر ابھی تک قابو پانے سے قاصر ہیں. پاکستان میں اکثریت لوگوں کی اس وائرس کو صرف معمولی بخار سمجھ کر نظر انداز کر رہی ہے. جب کہ پاکستان میں کرونا کی صورتحال کافی پریشان کن ہے. پچھلے 24 گھنٹوں میں کرونا کی 48 ہزار 816 ٹیسٹیں کی گئیں جن میں سے 2607 لوگوں میں اس وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ اس وائرس کا شکار ہوکر وفات پانے والوں کی تعداد 21 ہے.

    کرونا کی خطرناک قسم ڈیلٹا وائرس نے بھی پاکستان میں اپنے قدم رکھ دیئے ہیں پنجاب سمیت پورے ملک کے لوگوں کو اس خطرناک وائرس نے اپنی پکڑ میں لینا شروع کردیا ہے پنجاب میں اس وائرس کے 24 سے زائد مریض پائے گئے ہیں جن میں اکثر لوگوں کا تعلق لاہور اور گوجرانوالہ سے ہے. پنجاب حکومت نے گوجرانوالہ کے کچھ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن بھی لگا دیا ہے.

    کرونا وائرس کے خطرناک قسم ڈیلٹا وائرس بھی پاکستان میں تباہی مچانے کے لئے تیار ہے مگر حکومتی لوگ شاہی فرمان جاری کرنے کے علاوہ عملی طور پر کچھ خاص نہیں کر سکے صرف حکم نامے جاری کرنے سے کرونا پر قابو نہیں پایا جا سکتا ایس او پیز پر عمل کروانا بھی حکومت کی زمیداری ہے. صرف سکول, کالج بند کرنے سے کرونا پر قابو نہیں پایا جا سکتا بازاروں میں جو عوام کا ہجوم ہے اس کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے.

    ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنے جاری کردہ حکم ناموں پر سختی سے عمل کروائے لوگوں کو ماسک پہنائےسماجی فاصلہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان سے ایس او پیز پر عمل کرنے کا پابند بنائے اور لوگ بنا کسی الجھن کے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو کرونا وائرس سے بچنے کی ویکسین لگوانی چاہئے.

    @Nadir0fficial

  • سوچنے کا نہیں یہ رونے کا مقام ہے . تحریر: نویداختربھٹی

    سوچنے کا نہیں یہ رونے کا مقام ہے . تحریر: نویداختربھٹی

    آپ نے اکثرعلماء کو کہتے سنا ہوگا کہ جیسے جیسے انبیاء کرام آتے گئے پچھلوں کی شریعتیں منسوخ اور آنے والوں کی نافذ کی جاتی رہیں یہاں تک کہ یہ سلسلہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلیہِ وسلم پر آکر رک گیا۔
    دیکھنے میں بات سادہ سی معلوم ہوتی ہے کہ انبیاء آئے، انہوں نے حق سچ کی تبلیغ کی، اپنی شریعت دی اورچلے جاتے رہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات واقعی اتنی ہی سادہ ہے جتنی بظاہر دیکھنے میں نظر آتی ہے؟
    اگر ہم تھوڑا غور فرمائیں تو یہ حقیقت عیاں ہوجائے گی کہ نبیوں اور رسولوں نے جو پہلا پیغام دیا وہ آگہی کا تھا کہ بندو اپنے رب کو پہچانو، تخلیق کائنات کے مالک کو پہچانو اوراسی کی بندگی کرو کیونکہ اسی میں تمہاری نجات ہے۔ آخرت کا دن طے ہے وہاں جا کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور اسی حساب سے تمہاری آخری منزل کا فیصلہ طے ہوگا اور یہ معاملہ حساب کے دن نمٹایا جائے گا۔ اللّٰہ کے رستے پر چلنے کو صراط مستقیم کہا گیا۔ اسی رستے پر چلنے میں ہر انسان کی نجات و بخشش ہے۔ یہ وہ احکامات تھے جو قریب ہر رسول و نبی لے کر آیا کرتا تھا۔
    ایک بات جو ہمیں علماء اکثر بتاتے آرہے ہیں کہ اگلے انبیاء کی شریعت پچھلوں سے تھوڑی مختلف ہوجاتی تھی لیکن یہ کبھی کسی عالم دین نے نہیں بتایا کہ ایسا کیوں ہوا کرتا تھا۔
    تھوڑا غور کرنے پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جیسے جیسے انسانوں کی تعداد بڑھتی گئی، انسانی معاشرے پیچیدہ ہوتے گئے اور جرائم اورسماجی برائیاں بھی ساتھ ساتھ ہی بڑھتی گئیں۔ معاشرے چھوٹے ہوتے تھے تو ان کی سوچ اورسماجی برائیوں کا لیول بھی چھوٹا ہوا کرتا تھا۔ ہم اکثر پچھلے دور کو سادہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ پرانے لوگ بڑے شریف النفس اور اللّٰہ لوک ہوا کرتے تھے حالانکہ ایسا نہیں تھا بلکہ وہ بھی اپنے زمانے کے مطابق ہی ہوشیار و چالاک تھے لیکن چونکہ ان کے آس پاس کا ماحول محدود تھا اس لئے ان کے سوچنے کا انداز بھی محدود ہی ہوا کرتا تھا۔

    پھر اسی بات پر واپس آتے ہیں کہ ہر آنے والا نبی نئے شرعی احکامات کے ساتھ کیوں آیا کرتا تھا؟
    اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جیسے جیسے انسانی تہذیب آگے بڑھی، انسانی دماغ کے سوچنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ اس کے اردگرد کا ماحول بدلا تو اس کی سوچ بھی بدل گئی۔ مثلاً ایک ہزار سال پہلے کا انسان اگر آج کی تہذیب میں آ نکلے تو وہ ڈر کے مارے اس دنیا سے پناہ مانگنے لگے۔ ممکن ہے بے چارہ کہیں کسی جگہ سڑک پار کرتے گاڑی کے نیچے آکر کچلا جائے۔ واقعہ معراج کی سائنسی توجیہ پیش کرنے والوں کو آج کے علماء برا بھلا کہتے نظر آئیں گے اور اس کی وجہ علماء کی ایک حد تک محدود اپروچ ہے اور وہ اس سے آگے سوچنے سے معذور ہیں۔ آئین سٹائن نے قریب 130 سال قبل ہی اس کی توجیہ پیش کر دی تھی کہ مادہ اور توانائی درحقیقت ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے میں بدلے جاسکتے ہیں۔ افسوس کہ مسلمان ‘براق’ کے لفظ سے بھی یہ بات نہیں سمجھ پایا اور اس کی وجہ مسلمان ممالک میں سائنسی سوچ کا فقدان ہے۔

    بات ختم کرتے ہوئے ایک سوال کے ساتھ ہی جواب دوں گا کہ ہمارے ہاں اکثر سادہ ترین مسلمان بھی یورپ اور امریکہ والوں کے نظام معاشرت کی تعریف کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں اور یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ: غیر مسلموں نے ہمارے قرآن کی تعلیمات کو سمجھ کر سے اپنا لیا لیکن ہم اسے نا اپنا کر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ یہ وہ حتمی نظام ہے جو نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلیہِ وسلم کے کر آئے اور انہوں نے اسے عملی شکل میں نافذ کرکے تاریخ کا حکم حصہ بنا دیا۔

    گرچہ یہ بات سادہ سی معلوم ہوتی ہے لیکن یہ بات جتنی سادہ معلوم پڑتی ہے یہ اتنی ہی پیچیدہ اور سازش سے بھرپور ہے۔
    ریاست مدینہ میں انصاف، امن، مساوات، سب شہریوں کیلئے وسائل کی برابر تقسیم، زکوٰۃ کا نظام ( ٹیکسوں کا نظام) بلا تفریق نافذ تھا، قانون کی بالادستی، شیر اور بکری کا ایک گھاٹ پر پانی پینا، حکمرانوں کا عادل ہونا اور ان کا آسان احتساب اور جہاد کا جاری رہنا وہ خصوصیات تھیں جنہوں نے ریاست مدینہ کو چند سال میں ہی دنیا کی سپر پاور بنا کر رکھ دیا تھا۔ اسی ریاست کے ماڈل کو فالو کرکے یورپ اور امریکہ کے عوام خوشحال اور پرامن معاشروں میں آئڈیل زندگیاں گذار رہے ہیں جبکہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ موجودہ مسلمان عبادات میں فلاح ڈھونڈتا ہے اور چوری چکاری، ڈاکہ زنی، سود خوری، ذخیرہ اندوزی، مہنگائی، ناانصافی اور رشوت خوری کا خاتمہ صرف ریاست کی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اسی وجہ سے دنیا بھر میں مسلمان کو تیسرے درجے کا شہری قرار دیا جاتا ہے اور اسلامی ممالک علمو حکمت کی دنیا سے کوسوں دور ہیں جبکہ ان کے دین کی بنیاد ہی "اقرا” تھی۔
    سوچنے کا نہیں یہ رونے کا مقام ہے ہمارے لئے.

    @NaveedBhattiMM
    ‎‎

  • گھریلو تشدد بل کے پاکستانی معاشرے پراثرات . تحریر: عمران خان رند بلوچ

    گھریلو تشدد بل کے پاکستانی معاشرے پراثرات . تحریر: عمران خان رند بلوچ

    میرے معزز قارئین، پاکستان کا قیام دراصل ایک اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر عمل میں آیا۔ ہمارے عظیم قائد محمد علی جناح نے اپنی زندگی اس مشن کےلیے وقف کردی کہ مسلمانوں کے لیے اک الگ اسلامی فلاحی ریاست قائم ہو جس میں وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ پاکستانی معاشرے میں گھریلو تشدد بھی ایک حقیقت ہے جسے پس پردہ نہیں ڈالا جاسکتا، اس تشدد کے نتیجے میں کئی گھر ویراں ہوجاتے ہیں،تیزاب گردی کا نشانہ بنی خواتین اپنی باقی ماندہ زندگی میں اصلی صورت کو گنوا دیتی ہیں۔

    لیکن ان واقعات کی روک تھام کےلیے ہمارے معاشرے کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کی ضرورت پر زور دیا جانا چاہیے۔
    پاکستانی معاشرے کی اصلاح صرف اسلامی قوانین کو نافذ العمل کرنے سے ہی ممکن ہے نہ کہ مغرب کی تقلید کرنے سے۔ قارئین کرام ہمارے حکمران اک طرف تو ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی باتیں کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ حکومت مغرب کی تقلید کرتی نظر آرہی ہے۔

    اسکی واضح مثال گھریلو تشدد بل کی منظوری ہے۔
    میرے معزز قارئین گھریلو تشدد بل اپریل میں محترمہ شیریں مزاری وزیر برائے انسانی حقوق نے مختلف عالمی تنظیموں کی ایماء پر اس بل کو تشکیل دیا۔اور قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل سینٹ کو بھجوایا گیا۔ ایوانِ بالا نے اس بل میں چند ترامیم کے بعد منظور کر کے واپس قومی اسمبلی کو بھجوا دیا گیا۔

    اس بل کی منظوری کے بعد سے معاشرے کے مختلف طبقات خصوصاً مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔
    اس بل میں ہر قسم کے گھریلو تشدد کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز دی گئی۔ بل میں کہا گیا کہ گھریلو تشدد کا مرتکب پائے گئے شخص کو زیادہ سے زیادہ تین سال اور کم سے کم چھ ماہ قید کی سزا ہوگی مزید مجرم کو بیس ہزارسے ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا ۔

    قارئین اس بل کی شق تین میں بیوی کو دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی یا بانجھ پن کا طعنہ دینا یا خاتون کے کردار پر شک کرنا یا بیٹے یا بیٹی کی مرضی کو ٹھکرانے یا کسی کو مارنا ، ہراسانی کرنے وغیرہ کو زیادتی قرار دیا گیا ہے۔
    مزید یہ کہ عدالت میں درخواست دائر ہونے کے سات روز کے اندر کیس کی سماعت ہوگی اور نو روز میں فیصلہ سنایا جائے گا۔
    جب اس بل کی مخالفت میں ملک میں احتجاج ہونا شروع ہوئے تو حکومت نے اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوانے کا اعلان کیا۔
    جب اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا تو سوشل میڈیا پر چند NGO’s کی جانب سے حکومت مخالف ٹرینڈز بننا شروع ہوگئے۔
    فیمینزم اور سیکولر طبقے کی جانب سے اس اقدام کو مذہبی دباؤ کی وجہ قرار دیا گیا۔
    فیمینزم ماہر قانون اوروباستاراحمد نے ٹویٹ میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی ساخت ہی غیر قانونی ہے جس میں کوئی خاتون شامل نہیں وہ کیسے خواتین کے حقوق کا دفاع کرے گی۔

    جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان نے بل کے متن میں شامل زیادتی کی ان وضاحتوں پر اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل ہمارے خاندانی نظام کےلیے ٹائم بم ہے جو ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کردے گا۔سینیٹر مشتاق احمد خان ان چند سینیٹرز میں شامل ہے جنہوں نے اس بل کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ دوسری تمام سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، پی پی پی اور تحریک انصاف نے س بل کی حمایت میں رائے کا استعمال کیا۔

    سربراہ تحریک بیداری امت مصطفیٰ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات فہم سے بالا ہیں انہوں نے بل کی منظوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اک طرف تو حکومت ریاست مدینہ کے نعرے لگاتی ہے دوسری طرف مغرب کی پیروی کرتے تھکتی نہیں۔

    علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ اس بل کے لاگو ہونے سے مغربی بے ہودہ کلچر کو فروغ ملے گا جو کہ اسلامی معاشرے اور خاندانی روایات کے صراصر خلاف ہے۔

    معروف عالم دین مفتی طارق مسعود نے اس بل کی مخالفت میں کہا کہ ایسے قوانین ہماری آنے والی نسلوں کےلیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔
    میرے خیال میں حکومت کو چاہیے کہ جلد سے جلد اس بل کو واپس لے اور منسوخ کرنے کا اعلان کرے۔
    حکومت کو ایسے قوانین بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے جن کی کوئی واضح ساخت نہ ہو تاکہ اسکا غلط استعمال کم ہو

    @ibaloch007