Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • معاشرہ اور بیٹی . تحریر: ام امیمہ (زہرا )

    معاشرہ اور بیٹی . تحریر: ام امیمہ (زہرا )

    حیدر آباد میں کل قتل ہونے والی چار بچوں کی ماں عینی بلوچ کی ایک تصویر نظر سے گزری خوبصورت لڑکی دلہن کے روپ میں اپنی زندگی میں شامل ہونے والے محرم کے ساتھ خوش و خرم نظر آ رہی ہے ۔ساتھ ہی دوسری تصویر تھی جس میں بتایا جا رہا ہے کے محرم بن کر زندگی میں شامل ہونے والا اس سے جینے کا حق چھین گیا ۔

    یاد رکھیے ! نہ تو یہ واقعہ پہلا ہے نہ ہی آخری لیکن قصور وار کہیں نہ کہیں ہم ہی ہیں ۔ بحثیت معاشرہ ہمارے اپنے قوانین ہیں نہ تو ہم اسلام نہ ہی قانون کے پابند ہیں۔ یہ کیا کہے گا وہ کیا کہے گا بیٹی واپس آ گئی اف اب کیا منہ دکھائیں ۔ ایسی ہزاروں باتیں جبکہ اسلام نے تو عورت کو معتبر کیا ۔ بیٹی کو اسلام نے بہت سے حقوق اور رتبے دیے وہ بیٹی جسے اسلام سے قبل زندہ درگور کیا جاتا تھا اسلام نے اسے وارثت میں حقدار ٹہرایا ۔ بیٹی کے ساتھ حسن سلوک پر بہت سی احادیث ہیں جن میں سے ایک یہ ہے

    مفہوم حدیث ہے !
    ” حضرت انس ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے ”
    نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے فرمایا
    ” جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز میں پرورش کرے (اور جب شادی کے قابل ہوں تو ان کی شادی کرے ) تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں
    (بحوالہ ترمذی ۔باب ماجاء فی النفقہ علی البنات )

    لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کے ہم نے اسلام اور قانون سے مکمل رو گردانی کی اور اپنی دو اینچ کی مسجد بنا کر بیٹھ گئے ۔
    جہاں بیٹی کی طلاق اور خلع کو ہم نے اپنے ماتھے پر بد نما کلنک سے تعبیر کیا بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ بیٹی کی موت تو قبول کرتا ہے لیکن اگر اس کا شوہر اس پر عرصہ حیات تنگ کر دے تو اسے شوہر سے الگ ہو کر جینے کا حق نہیں دیتا

    بہت افسوسناک لیکن تلخ حقیقت یہ ہے
    ” پہلے بیٹی دفنائی جاتی تھی اور اب بھی بہت سی جگہوں پر ایسا ہو رہا ہے فرق اتنا ہے ۔
    اب بیاہی جاتی ہے ”
    ہم اسلام سے محبت کے دعویدار رسول ﷺ کے عشق میں مر مٹنے والے ان کی تعلیمات سے منحرف کیوں ہوے؟
    کیوں ہم بیٹی بہن ماں کو اسلام کے دیئے گئے اصولوں کے مطابق حقوق نہ دے سکے وارثت میں حصہ تو دور کی بات شادی کر کے گھر سے رخصت کرتے وقت واپس نہ آنے کی تاکید ایسے کرتے ہیں
    کے بیٹی سمجھ جاتی ہے اب یہاں واپسی کی گجائش نہیں
    پھر اگربد قسمتی سے شوہر کے روپ میں ظالم جابر شخص مل جائے تو یا تو ہمت ہار کر زندگی کا خاتمہ کرتی ہے ۔وجہ ؟
    "اخلاقی معاشی جذباتی مدد کا نہ ہونا ”
    یا وہ اس ظالم کے ہاتھوں ماری جاتی ہے

    ہاں ! ایک تیسری قسم لڑکیوں کی جو جرات کرتی ہیں ہار نہیں مانتی اور خود اس ظلم سے چھٹکارا حاصل کرتی ہیں
    لیکن یقین جانئے ۔
    وہ جتنی مضبوط پڑھی لکھی اور کمانے والی ہوں یہ معاشرہ ان کو قدم قدم خون کے آنسو رلاتا ہے وجہ ؟
    ان کی زندگی میں شوہر کا نہ ہونا

    تو خدا راہ آئیے !
    خود سے ابتدا کریں خود کو بدلیں اپنی سوچ بدلیں مردہ بیٹی کے بجائے زندہ بیٹی کو کھلی باہوں سے قبول کریں زندگی نے اگر اسے دھوپ میں لا کھڑا کیا اس کے لئے سایہ دار درخت بن جائیں تاکہ پھر کوئی بیٹی قتل نہ کی جائے آئیں اپنے حصے کا چراغ جلائیں

    @zarasani87

  • ‏عرض پاک کے سوداگر . تحریر : محمّد وقاص

    ‏عرض پاک کے سوداگر . تحریر : محمّد وقاص

    سابقہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی کتاب “دی اوریجنل فیس آف پاکستان “میں انکشاف کیا ہے کہ اگر نواز شریف تین سال اور حکومت کر جاتا تو اس سے پاکستان خرید لیا جاتا۔ مزید براں ٹرمپ نے لکھا ہے کہ نواز شریف پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی جاسوسی کیلئے امریکہ کے ساتھ پچاس ارب ڈالرز کا معاہدہ کرنے والا تھا۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف صاحب جو کہ تین دفعہ وازارت عظمیٰ کے مرتکب پر فیض پائیے مگر میاں نواز شریف کا ماضی پاکستان مخالف بیانئیے کی عکاسی کرتا ہے میاں نواز شریف کے اس بیانئیے نے بھی وطن پاکستان کی ساخت کو نقصان پہنچایا کہ ممبئی حملے پاکستان نے کروائے ہیں۔

    اسکے علاوہ جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کارگل کے محاذ پر جموں کشمیر کے کافی حصے پر اپنے پاؤں جما لئے تھے اور بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا تو تب میاں نواز شریف نے افوج پاکستان کو واپس آنے کو کہا جس کے نتیجے میں لاکھوں گھروں کے چراغ گل ہو گے بہت سے فوجی جوان شہید ہوگے۔ اسکے بعد جب دنیا بھر میں پاناما کا سکینڈل سامنے آیا تب جناب کا نام سرفہرست تھا اس وقت نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم تھے اپوزیشن نے مطالبہ کیا انکا احتساب ہونا چاہیے جس میں سے سب سے زیادہ کاوش جناب عمران خان صاحب کی تھی اجنہوں نے خود کو بھی احتساب کے لئے پیش کر دیا جب عدالت میں کیس لگا تو نواز شریف صاحب عدالت میں آمدن سے زائداثاثہ جات میں عدالت کو ثبوت فراہم نہ کر سکے اور ان پر ایون فیلڈ فلیٹس کا بھی کیس تھا عدالت نے ذرائع پوچھے تو میاں نواز شریف صاحب عدالت میں ثبوت جمع نہ کروا سکے جس میں وہ مجرم قرار پائے اور ان پر فرد جرم عائد ہو گیا۔
    دوسری طرف عمران خان نیازی صاحب عدالت میں تمام ثبوت فراہم کر کے عدالت سے صادق ال آمین قرار پائے۔

    جناب نواز شریف سزا کاٹ رہے تھے تو انکی طبیعت میں بیگاڑ پیدا ہوا اور انکے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے پھر عدالت سے طبی بنیاد پر چار ہفتے کے لئے ٹائم لیا گیا اور وہ لندن چلے گے وہاں جا کر میاں صاحب نے نہ اپنا علاج کروایا نہ کوئی میڈیسن لی اور اب انہی ایون فیلڈ میں موجود ہیں جو منی لانڈرنگ سے خریدے گے اور پاکستان میں وہ اشتہاری ہے اور لندن میں اپنی شہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ پچھلے 10 سال میں جس بے دردی سے بڑے بڑے قرض لے کر اجاڑے گئے، 60 سالوں میں قرض 6 ہزار ارب اور صرف 10 سالوں میں 24 ہزار ارب قرض لیا بات تو سچ ھی لگتی ہے۔ ٹرمپ کی.
    اللّه پاک ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ملک دشمن قوتوں کو زیر کرے آمین .
    پاکستان زندہ آباد

    @M_Waqas_786

  • جھوٹ ۔ تحریر: ہما ہادی

    جھوٹ ۔ تحریر: ہما ہادی

    معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی۔۔۔۔!!!

    معاشرے میں ہر برائی جھوٹ سے شروع ہوتی ہے
    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ اصل چیز جو اس برائی کے پیچھے کار فرما ہے وہ جھوٹ ہی تو ہیں
    اگر بچے والدین کیساتھ اور اپنے بڑے بہن بھائیوں کیساتھ سچ بولنا شروع کرے تو کوئی بھی زانی نہیں بن سکتا نہ کوئی سمگلر ، نہ غنڈہ اور نہ ہی نشئی ایک دفعہ ایک شحص حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا مجھے بہت سی برائیوں کی عادت ہے
    حضرت محمّدﷺ کے استفسار پر کہا میں چوری کرتا ہوں ، زنا کرتا ہوں شراب پیتا ہوں اور بھی بہت سی برائیاں ہے حضرت محمّدﷺ نے اسے جھوٹ چھوڑنے کی نصیحت کر کے رخصت کر دیا اور ایک جھوٹ کو چھوڑنے کی بناء پر اس شخص کی تمام بری عادتیں چوٹ گئی کیونکہ اس نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیا تھا اور اگر وہ سچ بولتا تو سچ اسکے لئے شرمندگی کا باعث بن جاتا ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کا فرمان ہے ”

    میرا امتی ہر گناہ کرسکتا ہے لیکن کبھی کسی کو دھوکا نہیں دے گا اور جھوٹ نہیں بولے گے”
    افسوس کا مقام ہے کہ ہم وہی جھوٹ دھوکہ و فریب سے کام لیتے ہیں
    جس بات کی نہ کرنے کی امید سرور کونینﷺ نے ہم سے رکھی اب ہم وہی کر رہے ہیں
    روزانہ کے لین دین میں جھوٹ بولتے ہیں ایک لمحے کے لئے یہ نہیں سوچتے کہ ہم جس کے امتی ہیں اس عظیم ہستی نے ہم سے کیا کیا امیدیں وابستہ کی ہے؟ جہاں ہمیں یہ لگا کہ سچ بولنے میں نقصان ہوگا تو ہم بلا جھجک جھوٹ بول لیتے ہیں اور پھر اسی جھوٹ کے لئے اور سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں جھوٹ سے انسان اعلیٰ اخلاق کے درجے پر فائز نہیں ہوگا بلکہ معاشرے میں جوبگاڑ پیدا ہوتی ہے اس میں یہ جھوٹ سر فہرست ہے جھوٹ معاشرے میں رونما ہونے والی ہر برائی کی جڑ ہے.

    دکانداروں کی کبھی قیمتوں پر تو کبھی کوالٹی پر جھوٹی قسمیں ہوتی ہے عدالتوں میں جھوٹ بولنا جیسے پاکستانی وکیلوں اور گواہوں کے لئے ایک لازمی چیز بن گئی ہے جسکے نتیجے میں جج کے فیصلے سے حق دار اپنے حق سے محروم ہو جاتا ہے تعلیمی اداروں میں جھوٹ کی جعلی ڈگریاں دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے بلکہ جی یہ تو انکا حق ہے جو یہ ایک اھل بندے سے چھین کے نا اھل کے ہاتھوں میں سونپ رہے ہیں کچھ لوگ ایک چھٹی کے لئے مختلف جھوٹ بولتے ہے بلکہ کبھی تو حد ہی کر دیتے ہیں زندہ انسان کو مار دیتے ہیں یا پھر مرے ہوئے انسان کو دوسری دفعہ مار دیتے ہیں کچھ لوگ دیر سے پہنچنے پر آرام سے جھوٹ بول لیتے ہیں مختلف اداروں میں وہاں کے ماحول کو مدنظر رکھ کر بہت سے جھوٹ بولے جاتے ہے حلانکہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے
    اور جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے.

    لیکن انکو جب کسی نے بتایا ہوگا تب پتہ چلے گا کہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے جھوٹ سے ہمیں اپنے معاشرے میں زیادہ تر بگڑے ہوئے لوگ ہی ملے گے بچپن سے جب بچے جھوٹ بولنا شروع کرے تو یہ جھوٹ انکی فطرت بن جاتی ہے اور فطرت ناقابلِ تغیر ہے بچوں کو اگر بچپن میں یہ بات سمجھائی جائے کہ چاہے کچھ بھی ہو جتنا بھی نقصان ہو سچ بولنے میں ، تو ہونے دو لیکن جھوٹ نہیں بولنا تو یقین مانے جو ماں باپ پھر یہ رونا روتے ہے کہ میرا بیٹا یا بیٹی غلط کاموں میں پڑ گئے یہ ہر گز نہیں ہوگا کیونکہ جب کبھی ماں باپ اس سے کسی بھی بات کے متعلق پوچھے گے تو وہ بات کو اِدھر اُدھر کرنے کے بجائے سچ بولیں گے جھوٹ سے اجتناب کی بدولت وہ شرمندگی کی ڈر سے کسی غلط کام کا نہیں سوچے گا کیونکہ جھوٹ ایک دو باتوں پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ ایک جھوٹ انسان کی زندگی کو برباد کرنے کا سبب بنتی ہے
    جس بات کے لئے حضرت محمّدﷺ نے منع فرمایا آج کے دور میں یہ ایک عام بات ہے ہربندہ روزانہ کے حساب سے نجانے کتنا جھوٹ بولتے ہیں کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم روز محشر کس منہ سے اپنے پیغمبر پاک کے سامنے جائیں گے ہم تو ہر دعا میں حضرت محمّدﷺ کی شفاعت مانگتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ہم کر کیا رہے ہیں؟

    جو طریقے پیغمبر پاک نے بتائیں ہیں کیا ہم اسکے مطابق زندگی گزار رہے ہیں؟ اگر ہم انکے بتائیں ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزاریں گے تو کیا ہمیں روز محشر انکی شفاعت نصیب نہیں ہوگی؟ ہم انسانوں کے کام اتنے خراب ہے ہمیں تو جھوٹ گناہ ہے والی بات اس وقت یاد آتی ہے جہاں جھوٹ بولنے کا ثواب ملتا ہو ایک گھرانے کو بچانے کے لئے جب سب کچھ بکھرنے والا ہو تو ہم وہاں زرہ برابر جھوٹ نہ بولے کہ یہ تو گناہ ہے حسد بعض میں ایک دوسرے کو نیچا ثابت کرنے کے لئے ہی تو جھوٹ بولتے ہیں کبھی کسی کی بھلائی کے لئے جھوٹ بولتے ہوئے ہمیں یہ یاد آ جاتا ہے کہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے وہ جو دن میں ہم کبھی ماں باپ سے کبھی بہن بھائیوں سے کبھی کسی عزیز رشتے دار سے جھوٹ کے بہانے کر کے جان چھڑاتے ہیں اس وقت وہ جھوٹ جھوٹ نہیں ثواب ہے تو بس ہمارا اللّٰہ ہی مالک ہے
    اللّٰہ پاک ہم سب کو سچ بولنے اور سچ کی راہ پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے.
    {آمین ثمہ آمین}

    @honeykhan_11

  • پاکستان اوراس کی خوبصورتی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان اوراس کی خوبصورتی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان قدرتی وسائل اوررنگوں سے بھرپور ہے، پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے بہت ساری حسیں نظارے ہیں، یہاں ہمارے پاس برف پوش پہاڑ اور رنگوں سے بھرے ہوئے چشمے، دل فریب جنگلات اور پرکشش صحرا۔۔!! پاکستان وہ ملک ہے جہاں کے سیاح ہر سال موسم سرما اور موسم گرما میں موسم کے مطابق شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان میں بہت ساری حسیں وادیوں کے ساتھ ساتھ کچھ تاریخی مقامات جیسے "موئن جو دارو” اور "ہڑپہ” اور ایسے بہت سے مقامات جو پاکستان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے قدرتی وسائل اتنے ہیں کہ ہمیں باہر گھومنے پھرنے کی ضرورت نہیں۔ یقین جانیں پاکستان کا اگر آپ بائی روڈ سفر کریں گے تو وہ حسیں اور پرکشش وادیوں کا نظارہ کرسکتے ہیں جن کو دیکھنے کے لیے ہم باہر جاتے ہیں۔

    سربزو شاداب اور گھنے درخت و جنگلات خوبصورتی کا ایسا روپ ہیں جس کا کوئی نیم البدل نہیں۔ سوچئے اگر دنیا بھر میں بھر میں یہ قدرتی ذخائر ختم کردیئے جائیں تو ہماری دنیا کیسی لگے گی؟؟ کیا ہم زندہ رہ سکتے ہیں ان کے بغیر؟؟ یقین کریں یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی بالوں والے شخص کے سر سے بال ختم کردیئے جائیں تو وہ کیسا لگے گا۔
    دریا، سمندر، پہاڑ، درخت، جھیلیں، ندیاں، جنگلات اور صحرا۔۔۔۔ یہ سب کسی بھی علاقے کا خوبصورت و قدرتی حسن ہیں اور پاکستان بھی اس حسن سے مالا مال ہے۔

    اللہ تعالٰی نے پاکستان کو بہت خوبصورت تحفہ ان قدرتی وسائل کی صورت میں دیا ہے اس کو بربادی کی طرف نا لے جائیں۔ ان قدرتی وسائل اور رنگوں سے دل فریب چیزوں کی حفاظت کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو خوبصورت اور پرنور پاکستان کا تحفہ دیں اور اگر آج آپ ان وسائل کی ترقی و حفاظت کریں گے تو آپ کی نسلیں بھی سیکھیں گی اور پھر پاکستان ان وسائل سے ہمیشہ مالا مال رہے گا اور ایسا وقت آئے گا باہر کے لوگ یہاں ہمارے وسائل اور قدرتی چیزوں پر پیسا خرچ کریں گے جس سے پاکستان کا ریونیو بڑھے گا اور پاکستان اپنے ان وسائل کی وجہ سے اپنے آپ مضبوط بنانے میں کامیاب ہوگا۔

    اس کی حفاظت کریں اور اس پر توجہ مرکوز کریں تاکہ یہ قدرتی اثاثے محفوظ رہیں اور ہمیشہ پاکستان کو اپنے حسن سے خوشبودار اور خوبصورت رکھے۔ پاکستان وہ خوبصورت سرزمین ہے جہاں چاروں موسموں کا مزہ اپنے اپنے انداز میں لیا جاتا ہے۔
    ہمیں بھی دیگر قوموں کی طرح اپنے وسائل اور ان قدرتی چیزوں کا محافظ بننا ہے.

    @JaanbazHaseeb

  • ‏دروازے کے دکھ . تحریر:عمرخان

    ‏دروازے کے دکھ . تحریر:عمرخان

    چائے کا کپ ہاتھ میں لئے جب میں چھت پے بیٹھ کر غروب ہوتے سورج کو دیکھتا ہوں تو اداس ہو جاتا ہوں وجہ یہ نہیں ہوتی کہ سورج کیوں غروب ہو رہا ہے وجہ یہ ہوتی ہے کہ کل جب نیا دن نکلے گا تو کیا وہ وہی اداسی لے کر آئے گا جو پہلے ہی لاکھوں لوگوں کے گھروں میں گھر کر چکی ہے ؟
    میری بات کا شاید کوئی مطلب نہ سمجھ پایا ہو، تو چلو میں سمجھا دیتا ہوں.

    ہم روز کئی حادثات دیکھتے ہیں اخبارات پڑھتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر بھی ہر روز نئی سے نئی خبر چل رہی ہوتی ہے کہ آج فلاں مر گیا.
    کیا کبھی سوچا ہے کہ وہ دکھ وہ تکلیف جو دوسرے برداشت کر رہے ہوتے ہیں خدانحواستہ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتی ہے, کیونکہ مرنا تو ہر کسی نے ہے.موت تو برحق ہے تو پھر کیوں نہ ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنی سمجھیں تاکہ معاشرے میں احساس باقی رہ سکے.
    پہلے ادوار کے معاشرے اللہ اور رسول اللہ کے قوانین کے مطابق چلتے تھے .لیکن آج کل کا معاشرہ صرف سوشل میڈیا کے مطابق چلتا ہے.
    پہلے قاضی اور انصاف نافذ کرنے والے ادارے اللہ سے ڈرتے تھے, لیکن آج کل کے قاضی اور انصاف نافذ کرنے والے ادارے سوشل میڈیا سے ڈرتے ہیں.

    کچھ چیزیں ہمارے معاشرے میں بہت ناپید ہو چکی ہیں جیسا کہ احساس، برداشت، عزت, صبر، اتفاق اور اخترام اور بہت کچھ.
    سوچتا ہوں معاشرہ کس ڈگر چل پڑا ہے ؟لوگوں نے جانا کہاں ہے ؟لوگوں کی منزل کہاں ہے ؟
    تو جواب خاضر ہے قبر, ہاں قبر ہی ہم سب کی منزل ہے. اور موت ہی اس معاشرے کی حقیقت ہے.
    اگر انسان بچ کر نکلنا بھی چاہے تو نہیں نکل سکتا کیونکہ یہی ہمارے دروازے کا دکھ ہے. اور اس دکھ سے کوئی نہیں بچ سکتا.
    افسوس کہ آج چائے پھر ٹھنڈی ہو گئی اور سورج پھر پوری طاقت کے ساتھ غروب ہو گیا ,اور سورج نے پھر مجھے موت کے سامنے مات دے دی.

    ‎@U4_Umer_

  • کشمیراور سیاحت . تحریر: اسامہ ذوالفقار

    کشمیراور سیاحت . تحریر: اسامہ ذوالفقار

    سیاحت معیشت کی آمدنی کو بڑھاوا دیتی ہے ، ہزاروں ملازمتیں پیدا کرتی ہے ، کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دیتی ہے ، اور غیر ملکیوں اور شہریوں کے مابین ثقافتی تبادلے کا جذبہ پیدا کرتی ہے.
    پاکستان کو 2020 کے لئے سب سے بہترین تعطیل کا مقام قرار دیا گیا تھا اور اسے 2020 کے لئے دنیا کی تیسری سب سے اعلی امکانی مہم بھی قرار دیا گیا تھا۔ جیسے ہی ملک میں سیکیورٹی بہتر ہوتی ہے ، سیاحت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں کشمیر کی سیاحت پر کشمیر "پیراڈائز آن ارتھ” کے نام سے مشہور ، جموں و کشمیر اپنی قدرتی شان ، برف سے ڈھکے پہاڑوں ، بہت سارے جنگلات کی زندگی ، شاندار یادگاروں ، مہمان نواز افراد اور مقامی دستکاری کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ملکی اور ایک حد تک غیر ملکی سیاحوں کے لئے اہم سیاحتی مقام کے طور پر ابھرا ہے۔ وہ پہاڑی مقامات اور قدرتی مناظر ، اور مناسب حفاظت کی فخر کرتے ہیں۔ گوگل کے مطابق 2018 میں ، 1.4 ملین سے زیادہ سیاحوں نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا۔

    زرخیز، سبز، پہاڑی وادیاں آزاد کشمیر کے جغرافیہ کی خصوصیت ہیں ، جو اسے برصغیر کا ایک خوبصورت خطہ بنادیتی ہیں۔ مظفرآباد، نیلم ویلی اور جہلم ویلی اضلاع سمیت آزادکشمیر کے علاقوں میں موسم گرما میں انتہائی ٹھنڈا موسم ہوتا ہے جو کہ پاکستان اور دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے. وادی کشمیر خوبصورت مناظر سے بھری ہوئی ہے اور یہاں سیاحوں کی توجہ کے بہت سے مقامات جیسے گنگا چوٹی ، دریائے نیلم ، بنجوسہ جھیل ، پیر چناسی ، منگلا ڈیم ، ٹولائپر اور بہت سے دوسرے شامل ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہر سال لوگ ان مقامات کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔

    اس کے نتیجے میں ، مقامی معیشت کو ایک بہت بڑا فروغ ملا اور ہم نے بھی شہر میں تیزی سے معاشرتی تبدیلی کا مشاہدہ کیا۔ فاسٹ فوڈ پوائنٹس ، صحت کی دیکھ بھال اور تفریحی سہولیات کی طلب میں بھی اضافہ ہوا اور لوگوں کو ان ریستورانوں اور ہوٹلوں کی ضرورت سے آگاہی حاصل ہوگئی۔ اب ، آزادکشمیر میں چھوٹے سے بڑے بڑے ہوٹل ، فاسٹ فوڈ پوائنٹس اور ریسٹ ہاؤس ہیں جن میں بہتر سہولیات اور بہتر انتظام ہے جس نے سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لئے بہت آسانی پیدا کردی ہے۔

    کسی بھی خطے کے لئے انفرا اسٹرکچر سیاحت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ صرف خوبصورت مقامات ہونا ہی کافی نہیں ہے۔ اس وجہ سے ، ہمارے پاس ایک اچھا انفراسٹرکچر اور روڈ نیٹ ورک بھی ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کو ان مشکل مقامات تک پہنچنے کے لئے مشکل اور مشکل سڑک پر مشکل سفر ہونے کے خوف کے بغیر سفر کرنا آسان ہوجائے۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ ماضی میں لوگ کشمیر جانے نہیں آئے تھے۔ ناران کا اسلام آباد سے فاصلہ 282.2 کلومیٹر ہے اور تولی پیر کا محض 142.2 کلومیٹر ہے لیکن لوگوں نے ناران کی آمد کو اس لئے ترجیح دی کہ صرف ترقی یافتہ انفراسٹرکچر اور وہاں جانے کے لئے آسان اور آرام دہ سفر ہے۔ بڑھتے ہوئے وقت کے ساتھ ، بنیادی ڈھانچے میں پیشرفت ہوئی ہے جس نے آزاد جموں و کشمیر میں سیاحت میں بے حد اضافہ کیا ہے۔ تاہم ، ہمیں خطے میں سڑکوں ، رسائ پوائنٹس اور ہوٹلوں کو مزید بہتر بنانے کے لئے ذہن اور وسائل میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

    @RaisaniUZ_

  • افغان جنگیں، مستقبل اور رائے . تحریر: اسحاق

    افغان جنگیں، مستقبل اور رائے . تحریر: اسحاق

    1973 میں افغانستان کی شہنشاہیت کا دور ختم ہوا تو داؤد خان نے جمہوری خطوط پر ملک کو استوار کرتے ہوئے اپنے لیے صدر کا عہدہ سنبھالا ، داؤد خان پاکستان کے سخت خلاف تھا، پاکستان کے پشتونوں اور بلوچوں کو ملک پاکستان سے علیحدگی کے لئے بہت ساری اندرونی سازشیں شروع کر کے پاکستان میں کئی دہشت گرد حملے بھی کروائے، اسی سلسلے میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی افغانستان پراکسی جنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا جو آنے والے دن میں بڑھتا چلا گیا اور یہ آج تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعلقات کے لیے مسئلہ ہے، دیکھا جائے تو 1979 کے آخر میں جب روسسی یونین نے افغانستان پر غیر انسانی حملہ کیا اور اس بدترین حملے سے لاکھوں جانوں کا ضیاع ہوا، لاکھوں گھر اجڑے، ہر طرف خوف و حراس پھیل گیا تو لاکھوں افغانی خاندان پاکستان کے بارڈر کو کراس کر کے پاکستان آئے، پاکستان نے ان کو گھر دئیے اور ملک میں کہیں بھی رہنے کام کرنے کا اجازت نامہ دیا، اس کے علاؤہ پاکستان نے اپنے فوجی دستے اور عام عوام کو افغانستان کیلئے روس کے خلاف جہاد کرنے کیلئے بھی بھیجا، اور بالآخر 1989 کے شروع میں روس کو شکست دے کر اس خطے سے نکال دیا گیا.

    2001 میں امریکہ یورپ سمیت دنیا بھر کی پاوفل افواج افغانستان میں اتر آئیں جن کا نظریہ افغانستان سے دہشت گردوں گردہ کا خاتمہ اور امن قائم کرنا تھا جہاں ان کا تصادم افغان طالبان سے تھا جن کا نظریہ جہاد اور افغانستان میں مکمل طور پر اسلام کا قانون نافذ کرنا تھا، جہاں کوئی بھی شخص اسلام کی حدود سے باہر کوئی ذاتی طرز زندگی کا حامل نہیں ہو سکتا تھا، 20 سال تک یہ جنگ چلتی رہی مگر دنیا کی تمام طاقتور افواج افغان طالبان کو زیر نہ کر سکیں، تو بات معاہدے پر آئی جو کہ 2020 کے شروع میں کیا گیا، جس کے تحت تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے واپس نکلنے لگیں اور معاہدے کے مطابق افغانستان سے نکلنے والی افواج ہر طالبان حملہ آور نہیں ہوں گے ،

    متحدہ ممالک کی افواج کے انخلا کے بعد اب افغانستان ایک نئی جنگ سے دوچار ہے جس میں موجودہ افغان حکومت اور طالبان مد مقابل ہیں، جہان تک طالبان کی بات ہے تو پورے ملک میں اپنی مرضی کے قوانین نافذ کرنے کی ٹھان چکے ہیں اور موجودہ حکومت کسی طرح بھی ان کو روکنے کیلئے سرگرم ہے، حتی کہ افغان حکومت کسی طرح کے معاہدے کی بھی حامل نہیں، اور طالبان کو نئے علاقوں پہ قابض ہونے سے تو اعلانیہ طور پر روک بھی رہی ہے اور طالبان کے زیر سایہ علاقے بھی واپس چھیننے کی جسارت کر رہی ہے، اس وقت ملک میں خانہ جنگی کی شدت ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ ہمسایہ ملکوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں.

    افغانستان کی عوام کو اپنی موجودہ حکومت پر کوئی بھروسہ نہیں، عوام موجودہ حکومت کو کرپٹ اورچورحکومت سمجھتی ہے جس کو اپنے ملک کی عوام کی فلاح و بہبود کی کوئی فکر نہیں ہے ، مگر عوام میں طالبان کا ایک خوف طاری ہے ، عوام میں یہ بات عام ہے کہ طالبان نے جو علاقے فتح کئیے اور اپنے قوانین لاگو کئیے وہاں عورتوں کا گھرسے باہرنکلنے کی اجازت نہیں، مردوں کو ہر صورت داڑھی رکھنے کا لازم و ملزوم قانوں ہے اور مختلف اسلامی روایات کو ڈنڈے کے زور پر لاگو کرنے کے حامل ہیں، اس خوف سے عوام کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ کرپٹ حکومت کو تو سہن کر سکتے ہیں مگر طالبان کی طرف سے سختی اور زبردستی سے لاگو کردہ قوانین کو سہن نہیں کر سکتے، جبکہ طالبان کے بیان کے مطابق اس طرح کی کوئی زبردستی قانونی حیثیت رائج نہ کی ہے اور نہ کی جائے گی.

    ایک تجزیے کے مطابق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے افواج کی انخلا کا عزم اس لئیے کیا تاکہ پاکستان دشمن قوتیں اپنی ضمیر فروش تنظیموں کو پاکستانی بارڈر کے ساتھ قبضہ کرنے کا موقع فراہم کرے جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملے کریں اور سی پیک کو نقصان پہنچائیں، جس ہر پاکستان نے اظہار تشویش بھی کیا ہے.

    عوامی رائے کی مانیں تو افغان عوام اپنی ایمان فروش حکومت سے انتہائی نالاں اور برہم ہے، تو اسی سلسلے میں افغان طالبان کو اپنے قوانین میں انفرادی آزادی، محبت اور تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان میں ایک آزاد اسلامی ریاست کا قیام ہو، اورمزید یہ کہ پاکستان اورایران سے تمام افغان مہاجر اپنے ملک واپس جاسکیں، اس خطے میں کوئی بدامنی باقی نہ رہے، اللہ عالم اسلام کو آزادی اور سکون عطا کرے اور بدامنی اور خونریزی سے محفوظ رکھے.

    @IshaqSaqii

  • ھندوستان کے خطے میں چودھری بننے کا خواب چکنا چور . تحریر :‌  فرمان اللہ

    ھندوستان کے خطے میں چودھری بننے کا خواب چکنا چور . تحریر :‌ فرمان اللہ

    افغانستان میں امریکی فوج انخلا کے بعد ھندوستان خطے پر بادشاہت بننے کا خواب دیکھ رہا تھا اور اسی وجہ کو لیکر افغانستان میں اپنے قونصل خانے قائم کی ساتھ اپنا فوج بھی افغانستان میں تعینات کیا امریکہ اور ھندوستان کا ملی بھگت تھا کہ خطے پر ھندوستان کا راج ہوگا، یہاں ھندوستان پاکستان کو ہر طرف سے گھیرنا چاہتا تھا جبکہ امریکہ اور چین کا نہیں بنتا تو امریکہ چین پر نظر رکھنا چاہتا تھا لیکن امریکہ کو کیا پتہ کہ اس مقصد کیلئے جس کو چھنا تھا وہ ظاہری طور پر بدمعاش لیکن بزدل ملک ہے، دوسرے طرف افغان م ج ا ھ د ی ن نے ٹھوک کے رکھ دئیے اور خالات کو یکسر تبدیل کر دئیے افغانستان میں ط ا ل ب ا ن نے یکدم سب کچھ ہلا کر رکھ دی اور قابض ہوتے نظر ائے تو ایک طرف امریکہ انخلا پر مجبور ہوگئے لیکن ان سے پہلے پہلے خطے کا چودھری ھندوستان گیدڑوں کیطرح بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے خالات بہت دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں ایک طرف ط ا ل ب ا ن نے افغانستان پر قبضہ جمانا شروع کیا ہے تو دوسرے طرف چین، روس، برطانیہ، نے ط ا ل ب ا ن کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے خطے سمیت دنیا کے خالات بدلتے نظر ارہے ہیں.

    ھندوستان اب صرف تماشہ دیکھ رہے ہیں اور ساتھ اس غم میں مبتلا ہیں کہ م ج ا ھ د ی ن افغانستان پر قابض ہونے کے بعد کہی سلطان محمود غزنوی کا تاریخ نہ دھرا لے اور اس بات کا اندازہ اپ ھندوستانی میں میڈیا کی چیخیں دیکھ کر سکتے، افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے ہم افغانستان میں امن کیلئے اچھے خواہشات رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اپس میں اتفاق عطاء فرمائے لیکن یہاں ایک بات ضروری سمجھتا ہوں لر بر اور سرخو کا کیا بنے گا جو لر بر کا نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے، افغانی حکام ہمیشہ پاکستان پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ کہ مشرف نے کھل کر امریکہ کا ساتھ دیا تھا خیر یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن پاکستان میں ہمیشہ لر بر کے نعرے لگانے والے اور پختون تحفظ موومنٹ کے نام سے بننے والے سرخو کے پیچھے ہمیشہ افغانستان کے حکام ملوث رہے پاکستان میں ھندوستانی ایجنٹ آسانی سے افغانستان سے اتے رہے ھندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ہر ممکن کوشش کی لیکن ناکامی کے علاوہ کچھ نہیں ملا، پاکستان خطے کا زمہ دار ملک ہے خالات پر گہرے نظر رکھتے ہیں لیکن کسی بھی طرف ساتھ دینے سے فی الحال قاصر ہے اور یہی ٹھیک ہے پچھلے سولہ سال سے پاکستان کسی اعت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکے ہیں.

    Femikhan_01

  • پرواز . تحریر: آصف راج

    پرواز . تحریر: آصف راج

    کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں ایک آدمی کو ایک عقاب کا چھوٹا سا بچہ مل گیا وہ اسے اٹھا کر اپنے گھر لے آیا اور گھر آ کر اس نے عقاب کے بچے کو گھر میں موجود اپنی مرغیوں اور چوزوں کے ساتھ چھوڑ دیا اب جو چیزیں مرغیاں کھائیں عقاب بھی وہی کھائے جس طرح مرغیاں چلیں عقاب بھی ویسے ہی چلے جیسا کہ سب جانتے ہیں مرغے مرغیاں پر ہونے کے باوجود زیادہ تر اڑتے نہیں ہیں اگر کبھی اڑتے بھی ہیں تو دیوار کی حد تک اب عقاب جو کہ انہی میں پل بڑھ رہا تھا اسکی پرورش بھی ویسے ہی ہو رہی تھی جیسے باقی کے مرغے اور مرغیوں کی ہو رہی تھی جیسے جیسے دن گزرتے گئے وہ سب بڑے ہوتے گئے اب وہ عقاب بھی خود کو مرغا ہی سمجھنے لگا
    لیکن رنگ نسل اور جسامت کو لیکر احساس کمتری کا شکاربھی کہ باقی سارے مرغے اور مرغیاں ایک جیسے ہیں انکی بولی اور شکل صورت بھی ایک جیسی ایک میں ہی ہوں جو ان جیسا نہیں ہوں.

    اس بات کا مرغے بھی خوب فائدہ اٹھا رہے تھے جیسے ہی سامنے کوئی دانہ دنکا آتا وہ اس پہ رعب ڈال کر خود کھا لیتے جو بچ جاتا اس میں سے عقاب کو ملتا اب جو مالک تھا وہ یہ سب کافی دنوں سے دیکھ رہا تھا اور دیکھ کر حیران بھی کہ یہ عقاب کو کیا ہو گیا یہ تو ایسے نہیں ہوتےسہمے سہمے سے اور یہ اڑتا بھی نہیں ہے شکار وغیرہ کرنا تو بہت دور کی بات اب وہ آدمی روزانہ عقاب کو اٹھائے اور اسے بولے کہ بھائی تو عقاب ہے زمین پہ چلنا تیرا کام نہیں تو آسمانوں میں اڑان بھر یہ کہہ کر وہ اسے ہوا میں پھینک دے لیکن اگلے ہی پل عقاب صاحب دوبارہ زمین پر ملیں وہ آدمی اسے پھر اٹھائے اور دوبارہ ہوا میں پھینک دے لیکن عقاب پر نا کھولے اور پھر زمین پرکافی دن ایسے ہی چلتا رہا لیکن مجال ہے کہ عقاب نے ایک بار بھی اڑان بھری ہوآدمی نے کہا کہ اب اگر تو نا اڑا تو میں تمہیں پہاڑ سے گرا آوں گا یہ کہہ کر اس نے پھر عقاب کو ہوا میں اچھالا لیکن اس بار بھی عقاب نہیں اڑا اب آدمی اسے لیکر پہاڑ کی چوٹی پہ پہنچ گیا اورعقاب سے کہا کہ دیکھ بھائی یہ تیرے پاس آخری موقع ہے .

    اگرتم نے پہلے کی طرح بزدلی دکھائی تو کچھ ہی دیر میں ہزاروں فٹ نیچے کسی پتھر پہ پڑا تڑپ رہا ہوگا اور اگر ابار تم نے دلیری دکھا دی بتو پرندوں کا بادشاہ کہلائے گا یہ بول کر آدمی نے عقاب کو پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرا دیا اب جیسے جیسے زمین قریب آتی گئی یقینی موت کو دیکھ عقاب نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں اور اس آدمی کو بددعائیں دینا شروع کر دیں کہ کتنا ظلم کیا اس نے میرے ساتھ اور پھر اچانک سے اسے خیال آیا کہ یار یہ آدمی اتنے دنوں سے بول رہا تھا کہ تو عقاب ہے تیرا کام چلنا نہیں آسمانوں میں اڑنا ہے آج اسکی مان کر دیکھ ہی لوں
    ورنہ موت تو وہ ہے جو ابھی آئی کی آئی ہے یہی سوچ کر اس نے زندگی میں پہلی بار ہمت کر کے اپنے پروں کو اڑنے کے لئے کھولا تو اسے احساس ہوا کہ میرے پر عام پر نہیں بلکہ یہ وہ پر ہیں جو مجھے پر وقار ، با رعب اور وہ اونچی اڑان دیں گے کہ میں آسمانوں کا سینہ چیرتے ہوئے پرواز کروں گا ایسی پرواز جو مجھے پرندوں کا بادشاہ بنائے گی اس نے اڑنا شروع کیا کیوں کہ اب وہ جان چکا تھا کہ وہ کیا اب وہ جان چکا تھا کہ اس میں قوت پرواز ہے اب وہ جان چکا تھا کہ اس کے لئے اڑنا ممکن ہے.

    تو دوستو یہی کچھ ہمارے لئے ہے ہو سکتا ہے ہم پلے بڑھے ہی ایسے ماحول میں ہوں ہمیں کبھی ایسا موقع ہی نا ملا ہو کہ ہم خود کو جان سکیں ہمیں کبھی ایسا پلیٹ فارم ہی نا ملا ہو کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو منوا سکیں ہم رنگ نسل اور قومیت میں ہی دب کر رہ گئے ہوں آگے بڑھنے کا خیال ہی دل سے نکال دیا ہوہم نے کبھی اونچا اڑنے کے لئے اپنے ہر ہی نا کھولے ہوں اور احساس کمتری کا شکار ہو کر زندگی گزار رہے ہوں ہم اکثر کئی کامیاب لوگوں کو دیکھتے ہیں یا کئی کامیاب لوگوں کے بارے پڑھتے ہیں وہ کوئی آسمان سے نہیں اترے ہوتے وہ بھی ہم میں سے ہی ہیں لیکن انہوں نے اپنی سوچ کو محدود نہیں رکھا انہوں نے اپنی منزل کو آسمان جانا اور حاصل کرنے کے لئے اپنے پروں کو حرکت دی تو کیوں نا ہمیں بھی ایک بار اس رنگ نسل کی سوچ سے آگے احساس کمتری سے نکل کر اپنے اندر وہ عقابی روح بیدار کرنے کی کوشش تو کرنی چاہئے اپنے اندر موجود ان صلاحیتوں کو استعمال تو کرنا چاہئے جو ہمیں دوسروں کے لئے مثال بنا دے ہمیں ہمارے وہ پر کھولنے تو چاہئے جو ہمیں پرواز کی ان بلندیوں تک لیکر جائے جس کے لئے ہم پیدا ہوئے ہیں یقین کریں ہم میں وہ سب کرنے کی قوت حوصلہ صلاحیت موجود ہے جس کا دوسرے فقط تصور ہی کر سکتے ہیں بس دیر ہے تو اپنی اس خاصیت کو ڈھونڈ کر اس پہ عمل کرنے کی.

    @pm_22

  • دانتوں کی صحت کے لیے کچھ تجاویز . تحریر : مصعب طارق

    دانتوں کی صحت کے لیے کچھ تجاویز . تحریر : مصعب طارق

    ‎صحت مند دانت کا حصول زندگی بھر کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کو یہ بتایا گیا ہو کہ آپ کے دانت اچھے ہیں ، لیکن ان کی دیکھ بھال کرنے اور پریشانیوں سے بچنے کے لئے ہر روز صحیح اقدامات کرنا اہم ہے۔ اس میں زبانی نگہداشت کی صحیح مصنوعات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی روز مرہ کی عادات کو بھی ذہن میں رکھنا
    ‎شامل ہے۔

    ان میں کچھ اقدامات ذیل ہیں
    1. دانت صاف کیے بغیر بستر پر نہ جائیں
    یہ کوئی راز نہیں ہے کہ عام دن میں ہی نے کم سے کم دو بار برش کرنا ہے۔ پھر بھی ، ہم میں سے بہت سے لوگ رات کے وقت دانت صاف کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ لیکن بستر سے پہلے برش کرنے سے وہ جراثیم اور (plaque) چھٹ جاتے ہیں جو دن بھر جمع ہوتے ہیں۔
    2. مناسب طریقے سے برش کریں
    جس طرح سے آپ برش کرتے ہیں وہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ دراصل ، دانت صاف کرنے کا ناقص کام کرنا تقریبا اتنا ہی برا ہے جتنا کہ برش نہیں کرنا۔ جراثیم کو ہٹانے کے لئے ٹوت برش کو نرم ، سرکلر حرکات میں منتقل کرتے ہوئے اپنا وقت لیں۔
    3. فلورائڈ ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں
    جب ٹوتھ پیسٹ کی بات آتی ہے تو ، سفید دانتوں اور ذائقوں سے کہیں زیادہ اہم عناصر کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کون سا ٹوتھ پیسٹ منتخب کرتے ہیں ، یقینی بنائیں کہ اس میں فلورائڈ موجود ہے۔
    4. فلوسنگ کو بھی برش جتنی اہمیت دیں
    بہت سے لوگ جو برش کرتے ہیں کہ فلاس سے باقاعدگی سے نظرانداز ہوتے ہیں۔ فلاسنگ سے کھانے کے ٹکڑے جو آپ کے دانتوں کے درمیان پھنس رہے ہیں نکلنے میں مدر ملتی ہے۔ عام طور پر دن میں ایک بار فلاسنگ ان فوائد کو حاصل کرنے کے لئے کافی ہے۔
    5.ماوتھ واش پر غور کریں
    اشتہارات میں ماوتھ واش پر بہت زور دیتے ہیں ، لیکن بہت سے لوگ انہیں چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں۔ شوارٹز کا کہنا ہے کہ ماؤتھ واش تین طریقوں سے مدد ملتی ہے:
    یہ منہ میں تیزاب کی مقدار کو کم کرتا ہے ، مسوڑوں کے آس پاس اور برش والے علاقوں کو صاف کرتا ہے ، اور دانتوں کو دوبارہ معدنی بنا دیتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "چیزوں کو توازن میں لانے میں مدد کرنے کے لئے ماؤتھ واش ایک منسلک ٹول کے طور پر کارآمد ہیں۔ "میرے خیال میں بچوں اور بوڑھے لوگوں میں ، جہاں برش کرنے اور فلاس کرنے کی قابلیت مثالی نہیں ہوسکتی ہے ، وہیں ماؤتھ واش خاص طور پر مددگار ثابت ہوتی ہیں۔”
    اپنے ڈینٹسٹ سے مخصوص ماؤتھ واش سفارشات طلب کریں۔ کچھ برانڈز بچوں کے لیے بہترین ہوتے ہیں ، اور جن دانت حساس ہوتے ہیں۔
    6. زیادہ پانی پیئے
    منہ (oral health) کی صحت سمیت – پانی آپ کی مجموعی صحت کے لیے بہترین ہے۔ شوارٹز ہر کھانے کے بعد پانی پینے کی سفارش کرتے ہیں۔ اس سے برش کے بیچ میں چپچپا اور تیزابیت خوردونوشوں اور مشروبات کے کچھ منفی اثرات کو دھونے میں مدد مل سکتی ہے۔
    7. شوگر اور تیزابیت دار کھانوں کو محدود کریں
    آخر کار ، شوگر منہ میں تیزاب میں تبدیل ہوجاتا ہے ، جو پھر آپ کے دانتوں کے (enamel) کو خراب کرسکتا ہے۔ یہ تیزاب وہی ہیں جو (cavities) کا باعث بنتے ہیں۔ تیزابیت والے پھل ، چائے ، اور کافی دانتوں کے (enamel) کو خراب کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو اس طرح کے کھانے سے مکمل طور پر گریز کرنا پڑے۔
    8. سال میں کم سے کم دو بار اپنے ڈینٹسٹ سے طبی معائنہ کروایں
    آپ کی اپنی روزمرہ کی عادات آپ کی مجموعی (oral) صحت کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ پھر بھی ، یہاں تک کہ انتہائی ذمہ دار برششر اور فولسروں کو بھی مستقل طور پر ڈینٹسٹ کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔ کم سے کم ، آپ کو سال میں دو بار صفائی اور چیک اپ کے لئے اپنے ڈینٹسٹ سے ملنا چاہئے۔ ڈینٹسٹ نہ صرف (calculus) کیلکولس کو ہٹا سکتا ہے اور (cavities) کی تلاش کرسکتا ہے ، بلکہ وہ امکانی امور کو بھی تلاش کرنے اور علاج معالجے کی پیش کش کرسکیں گے

    @mussab_tariq