Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • تو یہ نہیں کرسکتا لوگوں کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ .  تحریر: شعیب

    تو یہ نہیں کرسکتا لوگوں کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ . تحریر: شعیب

    ایک سٹوڈنٹ تھا اس کے پیپر قریب تھے وہ اچھے نمبر لینے کے لیے بہت محنت کا رہا تھا ایک رات وہ پڑھتے پڑھتے دیر سے سویا اور اگلے دن وقت پر صبح اٹھ نہ سکا اور کلاس کے لیے لیٹ ہو گیا جب وہ کلاس روم میں پہنچا تو کلاس ختم ہو چکی تھی اور سارے سٹوڈنٹ جا چکے تھے وہ برا لائق سٹوڈنٹ تھا اسے افسوس ہو رہا تھا کہ اس کی کلاس مس ہوگی اس کی نظر بلیک بورڈ پر پڑی تو اس نے دیکھا کہ وہاں دو سوال لکھے ہوئے تھے وہ خوش ہو گیا کہ چلو کلاس تو مس ہوگئی لیکن کم از کم اسائنمنٹ تو نوٹ کرنے کو مل گئی آنے کا کچھ فائدہ تو ہوا اس نے وہ دونوں سوال نوٹ کر لئے اور گھر آ کر اسے حل کرنے میں لگ گیا بڑی محنت کے بعد بالآخر اس نے اسائنمنٹ تیار کر ہی لی اگلے دن وہ ٹیچر کے آنے سے پہلے ہی کلاس روم میں موجود تھا ٹیچر کے آتے ہی اس نے کھڑے ہو کر اسائنمنٹ ٹیچر کے ہاتھ میں تھما دی ٹیچر نے پوچھا کہ یہ کیا ہے سر یہ اسائنمنٹ ہے جو کل آپ نے دی تھی میں نے تو کوئی اسائنمنٹ نہیں دی تھی سر میں کل کلاس کے لیے لیٹ ہو گیا تھا جب میں آیا تو یہ بلیک بورڈ پر سوال لکھے ہوئے تھے میں نے ساری یہی سے نوٹ کئے تھے ٹیچر اس کی بات سن کر حیران رہ گیا وہ سوال تم نے حل کر لیے یہ تم نے کیسے کیا یہ تو ناقابل یقین ہے سر ان میں ایسی کیا خاص بات ھے تھوڑے مشکل ضرور تھے لیکن ان کو تو کوئی بھی حل کرسکتا ہے ارے یہ تو وہ سوال تھے وہ تھیورم تھے جن کو سٹیٹسٹک کی ہسٹری میں آج تک کوئی حل نہیں کر سکا سالوں سے ان کا سلوشن کوئی نہیں نکال سکا میں نے صرف سٹوڈنٹ کو یہی بتانے کے لئے ان کو بلیک بورڈ پر نوٹ کیا تھا اور تم ان کو حل کرکے لے آئے ہو یہ تم نے کیسے کیا یہ تو معجزہ ہو گیا ہے یہ تو ناقابل یقین ہے یہ ایک سچا واقعہ ہے جو 1939 میں پیش آیا تھا اس سٹوڈنٹ کا نام George dantzig تھا جو کہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں پڑھتا تھا اور اس کے اسٹیٹسٹک کی کلاس مس ہوگئی تھی اور جو تھیورم جارج نے حل کیے تھے وہ اسٹیٹسٹک تھیورم تھے جن کو آج تک کوئی حل نہیں کر سکا تھا بڑے بڑے قابل لوگ بڑے بڑے پروفیسر ان کا حل نہیں نکال سکے تھے کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ تھیورم سالوں سے کوئی حال نہیں کر سکا تھا انہیں ایک عام سے سٹوڈنٹ نے کیسے حل کر لیا جارج نے یہ اس لیئے کرلیا کہ جس وقت جورج انہیں حل کر رہا تھا اس وقت اس کے پاس کوئی نہیں تھا اسے یہ بتانے کے لئے کہ تو یہ نہیں کر سکتا ارے یہ تو بہت مشکل تھیورم ہیں انہیں سالوں سے کوئی نہیں حل کر سکا تو تم کیسے کر لو گے اسے یہ بتانے والا کوئی نہیں تھا.

    زندگی میں ہم بھی جب کوئی کام کرنے لگتے ہیں کوئی کام کرنے کا سوچتے ہیں وہ آئیڈیا ہمارے ذہن میں آتا ہے تو سامنے سے چار لوگ آ جاتے ہیں ہمیں روکنے کے لیے ارے یہ آئیڈیا تو فضول ہے یہ کام تو فلاپ ہے بڑا ہی مشکل ہے تو نہیں کر سکے گا یہ یہ تجھ سے نہیں ہوگا اس کو تو فلاں نے بھی ٹرائی کیا تھا فلاں نے بھی کیا تھا بڑے قابل لوگ تھے وہ تم سے کئی زیادہ قابل تھے وہ نہیں کر سکے تھے تو تم کیسے کر لو گے تم کس کھیت کی مولی ہو.

    شروعات کرنے سے پہلے ہی وہ ہماری ہمت کو توڑ دیتے ہیں کسی کا اگر کوئی پورا اکسپیرئینس ہے کوئی فیل ہو گیا تھا تو کسی کو اگر ناکامی ملی تھی تو اس سے ہمارا کیا لینا دینا اس کی ناکامی کا ہماری کامیابی سے کیا واسطہ ہو سکتا ہے وہ اپنی کسی غلطی کی وجہ سے فیل ہوا ہوں ہو سکتا ہے اس وقت حالات کچھ اور ہوں ہو سکتا ہے اس کو کوئی موقع نہ ملا ہو یا اس نے موقعے سے فائدہ نہ اٹھایا ہوا اس کے ہم ذمہ دار تو نہیں ہیں وہ نہیں کر سکا تو ہم بھی نہیں کر سکتے یہ کہاں کا اصول ہے اگر آپ خود پر یقین رکھیں گے اپنے اندر کے ڈر کو ختم کریں گے اور لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھرنا چھوڑ دیں گے تو کوئی آپ کو روک نہیں سکتا کیوں کہ جو صرف ٹھان لیتے ہیں وہ صرف اپنے دل کی مانتے ہیں یہ بات یاد رکھنا اگر آپ کو ہارنے کا ڈر ہے تو آپ ضرور ہاریں گے آپ کو جیتنے کا یقین ہے تو آپ ضرور جیتیں گے.

    @Shabi_223

  • پاکستان پنک سالٹ ایک قدرتی اثاثہ . تحریر: محمد کامران

    پاکستان پنک سالٹ ایک قدرتی اثاثہ . تحریر: محمد کامران

    ہمالین نمک قدرتی طور پر پاکستان کو عطا کر دا ایک اثاثہ ہے کیونہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا نمک ہمالین نمک ہے۔
    بہت سے لوگ اس کے نام سے یہ بات اخذ کر لیتے ہیں کہ یہ ہمالیہ سے نکالا جاتا ہوگا لیکن حقیقت میں اسکا ہمالیہ سے کوئی تعلق نہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ گلابی نمک ہے جو صرف اور صرف پاکستان میں ہی پایا جاتا ہے۔ اس کو ہمالیہ کے نام سے منسوب کرنے کے پیچھے ہمارے شریر پڑوسی کا ہاتھ ہے۔ بھارت میں نمک صرف ہمالیہ کے پہاڑوں ڈے ہی نکلتا ہے جو کہ مقدار میں انتہائی کم ہے۔ لیکن عیار بھارتی حکومت نے اس ہمالیہ والی نمک کی کانوں کا استعمال کرتے ہوئے نمک کی ایکسپورٹ کے جملہ حقوق حاصل کر لئے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان سے ٹنوں کے حساب سے درآمد ہونے والا گلابی نمک کو بھی بھارت نے ہمالین نمک کا نام دے کر پوری دنیا میں ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا لیکن ہماری حکومت سوئی رہی۔ بھارت نے باسمتی چاولوں کو بھی خود سے منسوب کیا اور دھڑا دھڑ ایکسپورٹ کی لیکن ہماری حکومت بدستور سوئی رہی۔ خیر اب جا کے کچھ ہوش آیا اور بھاگ دوڑ شروع ہوئی۔

    خیر ہم واپس آتے ہیں گلابی نمک کی طرف۔ یہ روالپنڈی سے تقریباً دو سو کلو میٹر کے فیصلے پر واقع ایک قدیم پہاڑی علاقے کھیوڑا سے نکالا جاتا ہے۔ کھیوڑا دنیا میں دوسری بڑی نمک کی کان ہے۔ جس کے بارے میں بہت سے ماہرین نے لکھا کہ یہ اسکی دریافت سکندر مقدونوی کی فوج نے کی۔ لیکن تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یہاں پہلی بار کان کنی "جنجوعہ قبیلے ” کی جانب سے 1200ء میں کی گئی۔

    "گلابی نمک دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے”
    یہ جملہ پڑھ کر آپ سب کے ذہن میں یقیناً یہ سوال گردش کر رہا ہوگا کہ کھیوڑا تو دنیا کی دوسری بڑی کان ہے، پہلی بڑی کان کا نمک کیوں زیادہ استعمال نہیں کیا جاتا؟ اسکا جواب ہمالین نمک میں پائی جانے والی قدرتی خصوصیات ہیں۔ سائنسی ماہرین بتاتے ہیں کہ ہمالین نمک سب سے زیادہ خالص نمک ہے اس میں 96% سے 99% تک خالص سوڈیم کلورائیڈ پائی جاتی ہے اور زنک، کیلشیم ،آئرن اور میگنشیم جیسے باقی اجزا کی مقدار ایک فیصد سے بھی کم ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ صحت افزا ہے

    محققین اسکی سائنسی شفاء یابی کی صلاحیتوں کو ثابت کررہے ہیں۔ ہمالین نمک عام نمک سے بہترہے کیونکہ بغیر کسی ملاوٹ کے نمک کی کانوں سے نکالا جاتاہے۔ یہ نمک پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے لیکن کیا ہم نے اسکو اہمیت دی؟
    کیا اسکا صیحح طور پر فائدہ اٹھایا گیا؟ اس کا جواب اس بات میں موجود ہے کہ پاکستان اپنا زیادہ تر نمک انڈیا کو خام مال کی صورت میں برآمد کرتا رہا یے۔ خام مال میں ہمالین نمک کی قیمت بیس روپے کلو سے بھی کم بنتی ہے جب کہ انڈیا اسی نمک کو ٹھوڑی پروسیسنگ اور پیکیجنگ کر کے تقریبا نو سو روپے کلو کے حساب سے پوری دنیا کو برآمد کرتا رہا ہے کرونا سے پہلے تک ہمالین نمک کا سب سے بڑا اکسپورٹر بھارت ہی تھا۔ کرونا جہاں پوری دنیا کے لیے ایک خطرناک اور نقصان کا باعث بنا وہاں پاکستانی ہمالین نمک کے لیے قدرت کی جانب سے ایک محافظ بنا۔

    کرونا کی پہلی لہر کے دوران جہاں سارے بارڈر اور تجارت پر پابندی لگا دی گئی وہاں حکومت کو ہمالین نمک کا بھی خیال آگیا۔
    بھارت کو ہمالین نمک کی ایکسپورٹ پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔
    ایسا لگا سالوں سے سوئی حکومت پاکستان ایک دم جاگ اٹھی ہو۔
    کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ہمالین نمک کو خود پروسیس کر کے ایکسپوٹ کرے گا اسکے لیے پاکستان کو ہمالین نمک کی پاکستان ٹیگنگ حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

    حکومت پاکستان نے اپنے اداروں کو ٹیگ کے حصول کے لیے ٹاسک دے دیے۔
    پھر پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (PMDC ) نے پاکستانی ہمالین نمک کو دنیا میں پاکستان کے نام سے رجسٹرڈ کروانے کی ٹھان لی۔
    ماہ اپریل میں ادارے نے Geographical Indications کی رجسٹریشن کی تمام تر ضروریات کو پورا کر لیا تھا۔اب پاکستان ہمالین نمک کی( GI Tagging) لینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اب وہ دن دور نہیں جب پاکستان قدرتی طور پر عطا کردہ ہمالین نمک جیسی نعمت کا صیحح طور پر فائدہ اٹھائے گا اپنی معیشت کو مظبوط بنائے گااور ہماری مظبوط معیشت ہماری خودمختاری کی ضمانت ہوگی۔ ان شاء الله
    پاکستان پائندہ باد

    Twitter ID @KamranRMKs

  • معاشرہ اور بیٹی . تحریر: ام امیمہ (زہرا )

    معاشرہ اور بیٹی . تحریر: ام امیمہ (زہرا )

    حیدر آباد میں کل قتل ہونے والی چار بچوں کی ماں عینی بلوچ کی ایک تصویر نظر سے گزری خوبصورت لڑکی دلہن کے روپ میں اپنی زندگی میں شامل ہونے والے محرم کے ساتھ خوش و خرم نظر آ رہی ہے ۔ساتھ ہی دوسری تصویر تھی جس میں بتایا جا رہا ہے کے محرم بن کر زندگی میں شامل ہونے والا اس سے جینے کا حق چھین گیا ۔

    یاد رکھیے ! نہ تو یہ واقعہ پہلا ہے نہ ہی آخری لیکن قصور وار کہیں نہ کہیں ہم ہی ہیں ۔ بحثیت معاشرہ ہمارے اپنے قوانین ہیں نہ تو ہم اسلام نہ ہی قانون کے پابند ہیں۔ یہ کیا کہے گا وہ کیا کہے گا بیٹی واپس آ گئی اف اب کیا منہ دکھائیں ۔ ایسی ہزاروں باتیں جبکہ اسلام نے تو عورت کو معتبر کیا ۔ بیٹی کو اسلام نے بہت سے حقوق اور رتبے دیے وہ بیٹی جسے اسلام سے قبل زندہ درگور کیا جاتا تھا اسلام نے اسے وارثت میں حقدار ٹہرایا ۔ بیٹی کے ساتھ حسن سلوک پر بہت سی احادیث ہیں جن میں سے ایک یہ ہے

    مفہوم حدیث ہے !
    ” حضرت انس ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے ”
    نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے فرمایا
    ” جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز میں پرورش کرے (اور جب شادی کے قابل ہوں تو ان کی شادی کرے ) تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں
    (بحوالہ ترمذی ۔باب ماجاء فی النفقہ علی البنات )

    لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کے ہم نے اسلام اور قانون سے مکمل رو گردانی کی اور اپنی دو اینچ کی مسجد بنا کر بیٹھ گئے ۔
    جہاں بیٹی کی طلاق اور خلع کو ہم نے اپنے ماتھے پر بد نما کلنک سے تعبیر کیا بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ بیٹی کی موت تو قبول کرتا ہے لیکن اگر اس کا شوہر اس پر عرصہ حیات تنگ کر دے تو اسے شوہر سے الگ ہو کر جینے کا حق نہیں دیتا

    بہت افسوسناک لیکن تلخ حقیقت یہ ہے
    ” پہلے بیٹی دفنائی جاتی تھی اور اب بھی بہت سی جگہوں پر ایسا ہو رہا ہے فرق اتنا ہے ۔
    اب بیاہی جاتی ہے ”
    ہم اسلام سے محبت کے دعویدار رسول ﷺ کے عشق میں مر مٹنے والے ان کی تعلیمات سے منحرف کیوں ہوے؟
    کیوں ہم بیٹی بہن ماں کو اسلام کے دیئے گئے اصولوں کے مطابق حقوق نہ دے سکے وارثت میں حصہ تو دور کی بات شادی کر کے گھر سے رخصت کرتے وقت واپس نہ آنے کی تاکید ایسے کرتے ہیں
    کے بیٹی سمجھ جاتی ہے اب یہاں واپسی کی گجائش نہیں
    پھر اگربد قسمتی سے شوہر کے روپ میں ظالم جابر شخص مل جائے تو یا تو ہمت ہار کر زندگی کا خاتمہ کرتی ہے ۔وجہ ؟
    "اخلاقی معاشی جذباتی مدد کا نہ ہونا ”
    یا وہ اس ظالم کے ہاتھوں ماری جاتی ہے

    ہاں ! ایک تیسری قسم لڑکیوں کی جو جرات کرتی ہیں ہار نہیں مانتی اور خود اس ظلم سے چھٹکارا حاصل کرتی ہیں
    لیکن یقین جانئے ۔
    وہ جتنی مضبوط پڑھی لکھی اور کمانے والی ہوں یہ معاشرہ ان کو قدم قدم خون کے آنسو رلاتا ہے وجہ ؟
    ان کی زندگی میں شوہر کا نہ ہونا

    تو خدا راہ آئیے !
    خود سے ابتدا کریں خود کو بدلیں اپنی سوچ بدلیں مردہ بیٹی کے بجائے زندہ بیٹی کو کھلی باہوں سے قبول کریں زندگی نے اگر اسے دھوپ میں لا کھڑا کیا اس کے لئے سایہ دار درخت بن جائیں تاکہ پھر کوئی بیٹی قتل نہ کی جائے آئیں اپنے حصے کا چراغ جلائیں

    @zarasani87

  • ‏عرض پاک کے سوداگر . تحریر : محمّد وقاص

    ‏عرض پاک کے سوداگر . تحریر : محمّد وقاص

    سابقہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی کتاب “دی اوریجنل فیس آف پاکستان “میں انکشاف کیا ہے کہ اگر نواز شریف تین سال اور حکومت کر جاتا تو اس سے پاکستان خرید لیا جاتا۔ مزید براں ٹرمپ نے لکھا ہے کہ نواز شریف پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی جاسوسی کیلئے امریکہ کے ساتھ پچاس ارب ڈالرز کا معاہدہ کرنے والا تھا۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف صاحب جو کہ تین دفعہ وازارت عظمیٰ کے مرتکب پر فیض پائیے مگر میاں نواز شریف کا ماضی پاکستان مخالف بیانئیے کی عکاسی کرتا ہے میاں نواز شریف کے اس بیانئیے نے بھی وطن پاکستان کی ساخت کو نقصان پہنچایا کہ ممبئی حملے پاکستان نے کروائے ہیں۔

    اسکے علاوہ جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کارگل کے محاذ پر جموں کشمیر کے کافی حصے پر اپنے پاؤں جما لئے تھے اور بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا تو تب میاں نواز شریف نے افوج پاکستان کو واپس آنے کو کہا جس کے نتیجے میں لاکھوں گھروں کے چراغ گل ہو گے بہت سے فوجی جوان شہید ہوگے۔ اسکے بعد جب دنیا بھر میں پاناما کا سکینڈل سامنے آیا تب جناب کا نام سرفہرست تھا اس وقت نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم تھے اپوزیشن نے مطالبہ کیا انکا احتساب ہونا چاہیے جس میں سے سب سے زیادہ کاوش جناب عمران خان صاحب کی تھی اجنہوں نے خود کو بھی احتساب کے لئے پیش کر دیا جب عدالت میں کیس لگا تو نواز شریف صاحب عدالت میں آمدن سے زائداثاثہ جات میں عدالت کو ثبوت فراہم نہ کر سکے اور ان پر ایون فیلڈ فلیٹس کا بھی کیس تھا عدالت نے ذرائع پوچھے تو میاں نواز شریف صاحب عدالت میں ثبوت جمع نہ کروا سکے جس میں وہ مجرم قرار پائے اور ان پر فرد جرم عائد ہو گیا۔
    دوسری طرف عمران خان نیازی صاحب عدالت میں تمام ثبوت فراہم کر کے عدالت سے صادق ال آمین قرار پائے۔

    جناب نواز شریف سزا کاٹ رہے تھے تو انکی طبیعت میں بیگاڑ پیدا ہوا اور انکے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے پھر عدالت سے طبی بنیاد پر چار ہفتے کے لئے ٹائم لیا گیا اور وہ لندن چلے گے وہاں جا کر میاں صاحب نے نہ اپنا علاج کروایا نہ کوئی میڈیسن لی اور اب انہی ایون فیلڈ میں موجود ہیں جو منی لانڈرنگ سے خریدے گے اور پاکستان میں وہ اشتہاری ہے اور لندن میں اپنی شہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ پچھلے 10 سال میں جس بے دردی سے بڑے بڑے قرض لے کر اجاڑے گئے، 60 سالوں میں قرض 6 ہزار ارب اور صرف 10 سالوں میں 24 ہزار ارب قرض لیا بات تو سچ ھی لگتی ہے۔ ٹرمپ کی.
    اللّه پاک ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ملک دشمن قوتوں کو زیر کرے آمین .
    پاکستان زندہ آباد

    @M_Waqas_786

  • جھوٹ ۔ تحریر: ہما ہادی

    جھوٹ ۔ تحریر: ہما ہادی

    معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی۔۔۔۔!!!

    معاشرے میں ہر برائی جھوٹ سے شروع ہوتی ہے
    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ اصل چیز جو اس برائی کے پیچھے کار فرما ہے وہ جھوٹ ہی تو ہیں
    اگر بچے والدین کیساتھ اور اپنے بڑے بہن بھائیوں کیساتھ سچ بولنا شروع کرے تو کوئی بھی زانی نہیں بن سکتا نہ کوئی سمگلر ، نہ غنڈہ اور نہ ہی نشئی ایک دفعہ ایک شحص حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا مجھے بہت سی برائیوں کی عادت ہے
    حضرت محمّدﷺ کے استفسار پر کہا میں چوری کرتا ہوں ، زنا کرتا ہوں شراب پیتا ہوں اور بھی بہت سی برائیاں ہے حضرت محمّدﷺ نے اسے جھوٹ چھوڑنے کی نصیحت کر کے رخصت کر دیا اور ایک جھوٹ کو چھوڑنے کی بناء پر اس شخص کی تمام بری عادتیں چوٹ گئی کیونکہ اس نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیا تھا اور اگر وہ سچ بولتا تو سچ اسکے لئے شرمندگی کا باعث بن جاتا ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کا فرمان ہے ”

    میرا امتی ہر گناہ کرسکتا ہے لیکن کبھی کسی کو دھوکا نہیں دے گا اور جھوٹ نہیں بولے گے”
    افسوس کا مقام ہے کہ ہم وہی جھوٹ دھوکہ و فریب سے کام لیتے ہیں
    جس بات کی نہ کرنے کی امید سرور کونینﷺ نے ہم سے رکھی اب ہم وہی کر رہے ہیں
    روزانہ کے لین دین میں جھوٹ بولتے ہیں ایک لمحے کے لئے یہ نہیں سوچتے کہ ہم جس کے امتی ہیں اس عظیم ہستی نے ہم سے کیا کیا امیدیں وابستہ کی ہے؟ جہاں ہمیں یہ لگا کہ سچ بولنے میں نقصان ہوگا تو ہم بلا جھجک جھوٹ بول لیتے ہیں اور پھر اسی جھوٹ کے لئے اور سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں جھوٹ سے انسان اعلیٰ اخلاق کے درجے پر فائز نہیں ہوگا بلکہ معاشرے میں جوبگاڑ پیدا ہوتی ہے اس میں یہ جھوٹ سر فہرست ہے جھوٹ معاشرے میں رونما ہونے والی ہر برائی کی جڑ ہے.

    دکانداروں کی کبھی قیمتوں پر تو کبھی کوالٹی پر جھوٹی قسمیں ہوتی ہے عدالتوں میں جھوٹ بولنا جیسے پاکستانی وکیلوں اور گواہوں کے لئے ایک لازمی چیز بن گئی ہے جسکے نتیجے میں جج کے فیصلے سے حق دار اپنے حق سے محروم ہو جاتا ہے تعلیمی اداروں میں جھوٹ کی جعلی ڈگریاں دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے بلکہ جی یہ تو انکا حق ہے جو یہ ایک اھل بندے سے چھین کے نا اھل کے ہاتھوں میں سونپ رہے ہیں کچھ لوگ ایک چھٹی کے لئے مختلف جھوٹ بولتے ہے بلکہ کبھی تو حد ہی کر دیتے ہیں زندہ انسان کو مار دیتے ہیں یا پھر مرے ہوئے انسان کو دوسری دفعہ مار دیتے ہیں کچھ لوگ دیر سے پہنچنے پر آرام سے جھوٹ بول لیتے ہیں مختلف اداروں میں وہاں کے ماحول کو مدنظر رکھ کر بہت سے جھوٹ بولے جاتے ہے حلانکہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے
    اور جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے.

    لیکن انکو جب کسی نے بتایا ہوگا تب پتہ چلے گا کہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے جھوٹ سے ہمیں اپنے معاشرے میں زیادہ تر بگڑے ہوئے لوگ ہی ملے گے بچپن سے جب بچے جھوٹ بولنا شروع کرے تو یہ جھوٹ انکی فطرت بن جاتی ہے اور فطرت ناقابلِ تغیر ہے بچوں کو اگر بچپن میں یہ بات سمجھائی جائے کہ چاہے کچھ بھی ہو جتنا بھی نقصان ہو سچ بولنے میں ، تو ہونے دو لیکن جھوٹ نہیں بولنا تو یقین مانے جو ماں باپ پھر یہ رونا روتے ہے کہ میرا بیٹا یا بیٹی غلط کاموں میں پڑ گئے یہ ہر گز نہیں ہوگا کیونکہ جب کبھی ماں باپ اس سے کسی بھی بات کے متعلق پوچھے گے تو وہ بات کو اِدھر اُدھر کرنے کے بجائے سچ بولیں گے جھوٹ سے اجتناب کی بدولت وہ شرمندگی کی ڈر سے کسی غلط کام کا نہیں سوچے گا کیونکہ جھوٹ ایک دو باتوں پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ ایک جھوٹ انسان کی زندگی کو برباد کرنے کا سبب بنتی ہے
    جس بات کے لئے حضرت محمّدﷺ نے منع فرمایا آج کے دور میں یہ ایک عام بات ہے ہربندہ روزانہ کے حساب سے نجانے کتنا جھوٹ بولتے ہیں کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم روز محشر کس منہ سے اپنے پیغمبر پاک کے سامنے جائیں گے ہم تو ہر دعا میں حضرت محمّدﷺ کی شفاعت مانگتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ہم کر کیا رہے ہیں؟

    جو طریقے پیغمبر پاک نے بتائیں ہیں کیا ہم اسکے مطابق زندگی گزار رہے ہیں؟ اگر ہم انکے بتائیں ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزاریں گے تو کیا ہمیں روز محشر انکی شفاعت نصیب نہیں ہوگی؟ ہم انسانوں کے کام اتنے خراب ہے ہمیں تو جھوٹ گناہ ہے والی بات اس وقت یاد آتی ہے جہاں جھوٹ بولنے کا ثواب ملتا ہو ایک گھرانے کو بچانے کے لئے جب سب کچھ بکھرنے والا ہو تو ہم وہاں زرہ برابر جھوٹ نہ بولے کہ یہ تو گناہ ہے حسد بعض میں ایک دوسرے کو نیچا ثابت کرنے کے لئے ہی تو جھوٹ بولتے ہیں کبھی کسی کی بھلائی کے لئے جھوٹ بولتے ہوئے ہمیں یہ یاد آ جاتا ہے کہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے وہ جو دن میں ہم کبھی ماں باپ سے کبھی بہن بھائیوں سے کبھی کسی عزیز رشتے دار سے جھوٹ کے بہانے کر کے جان چھڑاتے ہیں اس وقت وہ جھوٹ جھوٹ نہیں ثواب ہے تو بس ہمارا اللّٰہ ہی مالک ہے
    اللّٰہ پاک ہم سب کو سچ بولنے اور سچ کی راہ پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے.
    {آمین ثمہ آمین}

    @honeykhan_11

  • پاکستان اوراس کی خوبصورتی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان اوراس کی خوبصورتی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان قدرتی وسائل اوررنگوں سے بھرپور ہے، پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے بہت ساری حسیں نظارے ہیں، یہاں ہمارے پاس برف پوش پہاڑ اور رنگوں سے بھرے ہوئے چشمے، دل فریب جنگلات اور پرکشش صحرا۔۔!! پاکستان وہ ملک ہے جہاں کے سیاح ہر سال موسم سرما اور موسم گرما میں موسم کے مطابق شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان میں بہت ساری حسیں وادیوں کے ساتھ ساتھ کچھ تاریخی مقامات جیسے "موئن جو دارو” اور "ہڑپہ” اور ایسے بہت سے مقامات جو پاکستان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے قدرتی وسائل اتنے ہیں کہ ہمیں باہر گھومنے پھرنے کی ضرورت نہیں۔ یقین جانیں پاکستان کا اگر آپ بائی روڈ سفر کریں گے تو وہ حسیں اور پرکشش وادیوں کا نظارہ کرسکتے ہیں جن کو دیکھنے کے لیے ہم باہر جاتے ہیں۔

    سربزو شاداب اور گھنے درخت و جنگلات خوبصورتی کا ایسا روپ ہیں جس کا کوئی نیم البدل نہیں۔ سوچئے اگر دنیا بھر میں بھر میں یہ قدرتی ذخائر ختم کردیئے جائیں تو ہماری دنیا کیسی لگے گی؟؟ کیا ہم زندہ رہ سکتے ہیں ان کے بغیر؟؟ یقین کریں یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی بالوں والے شخص کے سر سے بال ختم کردیئے جائیں تو وہ کیسا لگے گا۔
    دریا، سمندر، پہاڑ، درخت، جھیلیں، ندیاں، جنگلات اور صحرا۔۔۔۔ یہ سب کسی بھی علاقے کا خوبصورت و قدرتی حسن ہیں اور پاکستان بھی اس حسن سے مالا مال ہے۔

    اللہ تعالٰی نے پاکستان کو بہت خوبصورت تحفہ ان قدرتی وسائل کی صورت میں دیا ہے اس کو بربادی کی طرف نا لے جائیں۔ ان قدرتی وسائل اور رنگوں سے دل فریب چیزوں کی حفاظت کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو خوبصورت اور پرنور پاکستان کا تحفہ دیں اور اگر آج آپ ان وسائل کی ترقی و حفاظت کریں گے تو آپ کی نسلیں بھی سیکھیں گی اور پھر پاکستان ان وسائل سے ہمیشہ مالا مال رہے گا اور ایسا وقت آئے گا باہر کے لوگ یہاں ہمارے وسائل اور قدرتی چیزوں پر پیسا خرچ کریں گے جس سے پاکستان کا ریونیو بڑھے گا اور پاکستان اپنے ان وسائل کی وجہ سے اپنے آپ مضبوط بنانے میں کامیاب ہوگا۔

    اس کی حفاظت کریں اور اس پر توجہ مرکوز کریں تاکہ یہ قدرتی اثاثے محفوظ رہیں اور ہمیشہ پاکستان کو اپنے حسن سے خوشبودار اور خوبصورت رکھے۔ پاکستان وہ خوبصورت سرزمین ہے جہاں چاروں موسموں کا مزہ اپنے اپنے انداز میں لیا جاتا ہے۔
    ہمیں بھی دیگر قوموں کی طرح اپنے وسائل اور ان قدرتی چیزوں کا محافظ بننا ہے.

    @JaanbazHaseeb

  • ‏دروازے کے دکھ . تحریر:عمرخان

    ‏دروازے کے دکھ . تحریر:عمرخان

    چائے کا کپ ہاتھ میں لئے جب میں چھت پے بیٹھ کر غروب ہوتے سورج کو دیکھتا ہوں تو اداس ہو جاتا ہوں وجہ یہ نہیں ہوتی کہ سورج کیوں غروب ہو رہا ہے وجہ یہ ہوتی ہے کہ کل جب نیا دن نکلے گا تو کیا وہ وہی اداسی لے کر آئے گا جو پہلے ہی لاکھوں لوگوں کے گھروں میں گھر کر چکی ہے ؟
    میری بات کا شاید کوئی مطلب نہ سمجھ پایا ہو، تو چلو میں سمجھا دیتا ہوں.

    ہم روز کئی حادثات دیکھتے ہیں اخبارات پڑھتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر بھی ہر روز نئی سے نئی خبر چل رہی ہوتی ہے کہ آج فلاں مر گیا.
    کیا کبھی سوچا ہے کہ وہ دکھ وہ تکلیف جو دوسرے برداشت کر رہے ہوتے ہیں خدانحواستہ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتی ہے, کیونکہ مرنا تو ہر کسی نے ہے.موت تو برحق ہے تو پھر کیوں نہ ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنی سمجھیں تاکہ معاشرے میں احساس باقی رہ سکے.
    پہلے ادوار کے معاشرے اللہ اور رسول اللہ کے قوانین کے مطابق چلتے تھے .لیکن آج کل کا معاشرہ صرف سوشل میڈیا کے مطابق چلتا ہے.
    پہلے قاضی اور انصاف نافذ کرنے والے ادارے اللہ سے ڈرتے تھے, لیکن آج کل کے قاضی اور انصاف نافذ کرنے والے ادارے سوشل میڈیا سے ڈرتے ہیں.

    کچھ چیزیں ہمارے معاشرے میں بہت ناپید ہو چکی ہیں جیسا کہ احساس، برداشت، عزت, صبر، اتفاق اور اخترام اور بہت کچھ.
    سوچتا ہوں معاشرہ کس ڈگر چل پڑا ہے ؟لوگوں نے جانا کہاں ہے ؟لوگوں کی منزل کہاں ہے ؟
    تو جواب خاضر ہے قبر, ہاں قبر ہی ہم سب کی منزل ہے. اور موت ہی اس معاشرے کی حقیقت ہے.
    اگر انسان بچ کر نکلنا بھی چاہے تو نہیں نکل سکتا کیونکہ یہی ہمارے دروازے کا دکھ ہے. اور اس دکھ سے کوئی نہیں بچ سکتا.
    افسوس کہ آج چائے پھر ٹھنڈی ہو گئی اور سورج پھر پوری طاقت کے ساتھ غروب ہو گیا ,اور سورج نے پھر مجھے موت کے سامنے مات دے دی.

    ‎@U4_Umer_

  • کشمیراور سیاحت . تحریر: اسامہ ذوالفقار

    کشمیراور سیاحت . تحریر: اسامہ ذوالفقار

    سیاحت معیشت کی آمدنی کو بڑھاوا دیتی ہے ، ہزاروں ملازمتیں پیدا کرتی ہے ، کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دیتی ہے ، اور غیر ملکیوں اور شہریوں کے مابین ثقافتی تبادلے کا جذبہ پیدا کرتی ہے.
    پاکستان کو 2020 کے لئے سب سے بہترین تعطیل کا مقام قرار دیا گیا تھا اور اسے 2020 کے لئے دنیا کی تیسری سب سے اعلی امکانی مہم بھی قرار دیا گیا تھا۔ جیسے ہی ملک میں سیکیورٹی بہتر ہوتی ہے ، سیاحت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں کشمیر کی سیاحت پر کشمیر "پیراڈائز آن ارتھ” کے نام سے مشہور ، جموں و کشمیر اپنی قدرتی شان ، برف سے ڈھکے پہاڑوں ، بہت سارے جنگلات کی زندگی ، شاندار یادگاروں ، مہمان نواز افراد اور مقامی دستکاری کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ملکی اور ایک حد تک غیر ملکی سیاحوں کے لئے اہم سیاحتی مقام کے طور پر ابھرا ہے۔ وہ پہاڑی مقامات اور قدرتی مناظر ، اور مناسب حفاظت کی فخر کرتے ہیں۔ گوگل کے مطابق 2018 میں ، 1.4 ملین سے زیادہ سیاحوں نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا۔

    زرخیز، سبز، پہاڑی وادیاں آزاد کشمیر کے جغرافیہ کی خصوصیت ہیں ، جو اسے برصغیر کا ایک خوبصورت خطہ بنادیتی ہیں۔ مظفرآباد، نیلم ویلی اور جہلم ویلی اضلاع سمیت آزادکشمیر کے علاقوں میں موسم گرما میں انتہائی ٹھنڈا موسم ہوتا ہے جو کہ پاکستان اور دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے. وادی کشمیر خوبصورت مناظر سے بھری ہوئی ہے اور یہاں سیاحوں کی توجہ کے بہت سے مقامات جیسے گنگا چوٹی ، دریائے نیلم ، بنجوسہ جھیل ، پیر چناسی ، منگلا ڈیم ، ٹولائپر اور بہت سے دوسرے شامل ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہر سال لوگ ان مقامات کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔

    اس کے نتیجے میں ، مقامی معیشت کو ایک بہت بڑا فروغ ملا اور ہم نے بھی شہر میں تیزی سے معاشرتی تبدیلی کا مشاہدہ کیا۔ فاسٹ فوڈ پوائنٹس ، صحت کی دیکھ بھال اور تفریحی سہولیات کی طلب میں بھی اضافہ ہوا اور لوگوں کو ان ریستورانوں اور ہوٹلوں کی ضرورت سے آگاہی حاصل ہوگئی۔ اب ، آزادکشمیر میں چھوٹے سے بڑے بڑے ہوٹل ، فاسٹ فوڈ پوائنٹس اور ریسٹ ہاؤس ہیں جن میں بہتر سہولیات اور بہتر انتظام ہے جس نے سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لئے بہت آسانی پیدا کردی ہے۔

    کسی بھی خطے کے لئے انفرا اسٹرکچر سیاحت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ صرف خوبصورت مقامات ہونا ہی کافی نہیں ہے۔ اس وجہ سے ، ہمارے پاس ایک اچھا انفراسٹرکچر اور روڈ نیٹ ورک بھی ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کو ان مشکل مقامات تک پہنچنے کے لئے مشکل اور مشکل سڑک پر مشکل سفر ہونے کے خوف کے بغیر سفر کرنا آسان ہوجائے۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ ماضی میں لوگ کشمیر جانے نہیں آئے تھے۔ ناران کا اسلام آباد سے فاصلہ 282.2 کلومیٹر ہے اور تولی پیر کا محض 142.2 کلومیٹر ہے لیکن لوگوں نے ناران کی آمد کو اس لئے ترجیح دی کہ صرف ترقی یافتہ انفراسٹرکچر اور وہاں جانے کے لئے آسان اور آرام دہ سفر ہے۔ بڑھتے ہوئے وقت کے ساتھ ، بنیادی ڈھانچے میں پیشرفت ہوئی ہے جس نے آزاد جموں و کشمیر میں سیاحت میں بے حد اضافہ کیا ہے۔ تاہم ، ہمیں خطے میں سڑکوں ، رسائ پوائنٹس اور ہوٹلوں کو مزید بہتر بنانے کے لئے ذہن اور وسائل میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

    @RaisaniUZ_

  • افغان جنگیں، مستقبل اور رائے . تحریر: اسحاق

    افغان جنگیں، مستقبل اور رائے . تحریر: اسحاق

    1973 میں افغانستان کی شہنشاہیت کا دور ختم ہوا تو داؤد خان نے جمہوری خطوط پر ملک کو استوار کرتے ہوئے اپنے لیے صدر کا عہدہ سنبھالا ، داؤد خان پاکستان کے سخت خلاف تھا، پاکستان کے پشتونوں اور بلوچوں کو ملک پاکستان سے علیحدگی کے لئے بہت ساری اندرونی سازشیں شروع کر کے پاکستان میں کئی دہشت گرد حملے بھی کروائے، اسی سلسلے میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی افغانستان پراکسی جنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا جو آنے والے دن میں بڑھتا چلا گیا اور یہ آج تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعلقات کے لیے مسئلہ ہے، دیکھا جائے تو 1979 کے آخر میں جب روسسی یونین نے افغانستان پر غیر انسانی حملہ کیا اور اس بدترین حملے سے لاکھوں جانوں کا ضیاع ہوا، لاکھوں گھر اجڑے، ہر طرف خوف و حراس پھیل گیا تو لاکھوں افغانی خاندان پاکستان کے بارڈر کو کراس کر کے پاکستان آئے، پاکستان نے ان کو گھر دئیے اور ملک میں کہیں بھی رہنے کام کرنے کا اجازت نامہ دیا، اس کے علاؤہ پاکستان نے اپنے فوجی دستے اور عام عوام کو افغانستان کیلئے روس کے خلاف جہاد کرنے کیلئے بھی بھیجا، اور بالآخر 1989 کے شروع میں روس کو شکست دے کر اس خطے سے نکال دیا گیا.

    2001 میں امریکہ یورپ سمیت دنیا بھر کی پاوفل افواج افغانستان میں اتر آئیں جن کا نظریہ افغانستان سے دہشت گردوں گردہ کا خاتمہ اور امن قائم کرنا تھا جہاں ان کا تصادم افغان طالبان سے تھا جن کا نظریہ جہاد اور افغانستان میں مکمل طور پر اسلام کا قانون نافذ کرنا تھا، جہاں کوئی بھی شخص اسلام کی حدود سے باہر کوئی ذاتی طرز زندگی کا حامل نہیں ہو سکتا تھا، 20 سال تک یہ جنگ چلتی رہی مگر دنیا کی تمام طاقتور افواج افغان طالبان کو زیر نہ کر سکیں، تو بات معاہدے پر آئی جو کہ 2020 کے شروع میں کیا گیا، جس کے تحت تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے واپس نکلنے لگیں اور معاہدے کے مطابق افغانستان سے نکلنے والی افواج ہر طالبان حملہ آور نہیں ہوں گے ،

    متحدہ ممالک کی افواج کے انخلا کے بعد اب افغانستان ایک نئی جنگ سے دوچار ہے جس میں موجودہ افغان حکومت اور طالبان مد مقابل ہیں، جہان تک طالبان کی بات ہے تو پورے ملک میں اپنی مرضی کے قوانین نافذ کرنے کی ٹھان چکے ہیں اور موجودہ حکومت کسی طرح بھی ان کو روکنے کیلئے سرگرم ہے، حتی کہ افغان حکومت کسی طرح کے معاہدے کی بھی حامل نہیں، اور طالبان کو نئے علاقوں پہ قابض ہونے سے تو اعلانیہ طور پر روک بھی رہی ہے اور طالبان کے زیر سایہ علاقے بھی واپس چھیننے کی جسارت کر رہی ہے، اس وقت ملک میں خانہ جنگی کی شدت ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ ہمسایہ ملکوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں.

    افغانستان کی عوام کو اپنی موجودہ حکومت پر کوئی بھروسہ نہیں، عوام موجودہ حکومت کو کرپٹ اورچورحکومت سمجھتی ہے جس کو اپنے ملک کی عوام کی فلاح و بہبود کی کوئی فکر نہیں ہے ، مگر عوام میں طالبان کا ایک خوف طاری ہے ، عوام میں یہ بات عام ہے کہ طالبان نے جو علاقے فتح کئیے اور اپنے قوانین لاگو کئیے وہاں عورتوں کا گھرسے باہرنکلنے کی اجازت نہیں، مردوں کو ہر صورت داڑھی رکھنے کا لازم و ملزوم قانوں ہے اور مختلف اسلامی روایات کو ڈنڈے کے زور پر لاگو کرنے کے حامل ہیں، اس خوف سے عوام کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ کرپٹ حکومت کو تو سہن کر سکتے ہیں مگر طالبان کی طرف سے سختی اور زبردستی سے لاگو کردہ قوانین کو سہن نہیں کر سکتے، جبکہ طالبان کے بیان کے مطابق اس طرح کی کوئی زبردستی قانونی حیثیت رائج نہ کی ہے اور نہ کی جائے گی.

    ایک تجزیے کے مطابق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے افواج کی انخلا کا عزم اس لئیے کیا تاکہ پاکستان دشمن قوتیں اپنی ضمیر فروش تنظیموں کو پاکستانی بارڈر کے ساتھ قبضہ کرنے کا موقع فراہم کرے جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملے کریں اور سی پیک کو نقصان پہنچائیں، جس ہر پاکستان نے اظہار تشویش بھی کیا ہے.

    عوامی رائے کی مانیں تو افغان عوام اپنی ایمان فروش حکومت سے انتہائی نالاں اور برہم ہے، تو اسی سلسلے میں افغان طالبان کو اپنے قوانین میں انفرادی آزادی، محبت اور تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان میں ایک آزاد اسلامی ریاست کا قیام ہو، اورمزید یہ کہ پاکستان اورایران سے تمام افغان مہاجر اپنے ملک واپس جاسکیں، اس خطے میں کوئی بدامنی باقی نہ رہے، اللہ عالم اسلام کو آزادی اور سکون عطا کرے اور بدامنی اور خونریزی سے محفوظ رکھے.

    @IshaqSaqii

  • ھندوستان کے خطے میں چودھری بننے کا خواب چکنا چور . تحریر :‌  فرمان اللہ

    ھندوستان کے خطے میں چودھری بننے کا خواب چکنا چور . تحریر :‌ فرمان اللہ

    افغانستان میں امریکی فوج انخلا کے بعد ھندوستان خطے پر بادشاہت بننے کا خواب دیکھ رہا تھا اور اسی وجہ کو لیکر افغانستان میں اپنے قونصل خانے قائم کی ساتھ اپنا فوج بھی افغانستان میں تعینات کیا امریکہ اور ھندوستان کا ملی بھگت تھا کہ خطے پر ھندوستان کا راج ہوگا، یہاں ھندوستان پاکستان کو ہر طرف سے گھیرنا چاہتا تھا جبکہ امریکہ اور چین کا نہیں بنتا تو امریکہ چین پر نظر رکھنا چاہتا تھا لیکن امریکہ کو کیا پتہ کہ اس مقصد کیلئے جس کو چھنا تھا وہ ظاہری طور پر بدمعاش لیکن بزدل ملک ہے، دوسرے طرف افغان م ج ا ھ د ی ن نے ٹھوک کے رکھ دئیے اور خالات کو یکسر تبدیل کر دئیے افغانستان میں ط ا ل ب ا ن نے یکدم سب کچھ ہلا کر رکھ دی اور قابض ہوتے نظر ائے تو ایک طرف امریکہ انخلا پر مجبور ہوگئے لیکن ان سے پہلے پہلے خطے کا چودھری ھندوستان گیدڑوں کیطرح بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے خالات بہت دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں ایک طرف ط ا ل ب ا ن نے افغانستان پر قبضہ جمانا شروع کیا ہے تو دوسرے طرف چین، روس، برطانیہ، نے ط ا ل ب ا ن کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے خطے سمیت دنیا کے خالات بدلتے نظر ارہے ہیں.

    ھندوستان اب صرف تماشہ دیکھ رہے ہیں اور ساتھ اس غم میں مبتلا ہیں کہ م ج ا ھ د ی ن افغانستان پر قابض ہونے کے بعد کہی سلطان محمود غزنوی کا تاریخ نہ دھرا لے اور اس بات کا اندازہ اپ ھندوستانی میں میڈیا کی چیخیں دیکھ کر سکتے، افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے ہم افغانستان میں امن کیلئے اچھے خواہشات رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اپس میں اتفاق عطاء فرمائے لیکن یہاں ایک بات ضروری سمجھتا ہوں لر بر اور سرخو کا کیا بنے گا جو لر بر کا نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے، افغانی حکام ہمیشہ پاکستان پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ کہ مشرف نے کھل کر امریکہ کا ساتھ دیا تھا خیر یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن پاکستان میں ہمیشہ لر بر کے نعرے لگانے والے اور پختون تحفظ موومنٹ کے نام سے بننے والے سرخو کے پیچھے ہمیشہ افغانستان کے حکام ملوث رہے پاکستان میں ھندوستانی ایجنٹ آسانی سے افغانستان سے اتے رہے ھندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ہر ممکن کوشش کی لیکن ناکامی کے علاوہ کچھ نہیں ملا، پاکستان خطے کا زمہ دار ملک ہے خالات پر گہرے نظر رکھتے ہیں لیکن کسی بھی طرف ساتھ دینے سے فی الحال قاصر ہے اور یہی ٹھیک ہے پچھلے سولہ سال سے پاکستان کسی اعت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکے ہیں.

    Femikhan_01