Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • محنت,کامیابی کی ضامن تحریر: ارم سنبل

    زندگی بھی گونج کے اصول پر چلتی ہے. جو آگے پہنچاتے ہیں ، وہی واپس آتا ہے۔ آپ جو کاشت کریں گے وہی کاٹیں گے۔ آپ جو سرمایہ لگاتے ہیں، وہ آپ کو ملتا ہے۔ 

    آپ دوسروں میں جو دیکھتے ہیں وہ آپ اپنی ذات میں پائیں گے۔ عام طور پر دنیا میں دو اقسام کے لوگ رہتے  ہیں۔ زیادہ تر لوگ پہلی قسم کے ہیں جو دستیاب مواقع سے فائدہ لینے کے قائل ہیں۔ ان کے پاس جو ہوتا وہ اسی کو اپنی منزل سمجھ لیتے ہیں اور یوں وہ آگے نہیں بڑھتے. 

    جبکہ دوسری قسم کے لوگ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طویل مدت کوششوں کو جاری رکھتے ہیں۔ وہ اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لیےاور  ہر رکاوٹ کو عبور کرکے آگے بڑھنے کے لیے کافی محنت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کامیاب لوگ اپنے خیالات اور مواقعوں کو استعمال کرتے ہیں۔

      ایسے لوگ خیالات ، امکانات اور مواقع سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان کا کام ان پر عملدرآمد کرنا ہے۔ خیالات اور مواقع خود ہی پورا نہیں ہوسکتے۔ انہیں پورا کرنے کے کیے ایک محنتی انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

    اگر آپ انہیں اپنی محنت سے طاقت دیں گے تو آپ کو نتیجہ بھی بڑا اور شاندار ملے گا۔ اپنی سوچ پر عمل کریں ، اپنی محنت سے, اپنے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزاریں۔ 

    بعض اوقات آپ بغیر کسی کوشش کے کامیابی حاصل کرتے ہیں ، لیکن بعض اوقات آپ مختلف وجوہات کی بنا پر ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ عقل مند یا باصلاحیت نہیں تھے۔

     اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر آپ ذہین ہوتے تو آپ کو محنت کی ضرورت نہ ہوتی۔ محنت آپ کو ذہین یا باصلاحیت بناتی ہے۔ اگرچہ ناکامی تکلیف دہ  ہوتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کم عقل ہیں۔ ناکامی کا سامنا کریں ، اس سے نمٹنیں اور سیکھنے کے بعد اسے ماضی میں چھوڑ دیں۔ 

    اگر آپ محنت کرنے کی ذہنیت کو اپنائیں گے تو آپ کامیاب ہوں گے۔ یہ صرف اپنے آپ پر یقین کرنے کی بات نہیں ہے۔ بلکہ ، یہ ان چیزوں میں بہت زیادہ کوشش کرنے کی بات ہے جو یا تو قدرتی طور پر آپ کے پاس نہیں آتی ہیں یا جن میں آپ اچھے نہیں ہیں۔ 

    لہذا اپنے آپ کو اس میں نہ الجھا کے رکھیں، کہ اس بارے میں دوسرے لوگ کیا کہتے ہیں۔ کچھ منفرد سوچیں. محنت کرنا آپ کا فرض ہے۔ آپ کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی پوری صلاحیت کا استعمال کرنا چاہیے۔ کیونکہ آپ کی زندگی میں جو کچھ بھی آپ کو ملتا ہے وہ براہ راست آپ کے ان پٹ کے مطابق ہوتا ہے۔ 

    یہ کہاوت تو سنی ہوگی کہ جتنا گڑ ڈالیں گے,اتنا میٹھا ہوگا. لہذا جتنی محنت کریں گے, اتنا کامیاب ہونگے. کیونکہ محنت کامیابی کی بنیاد ہے. سو ایک کامیاب انسان بننے کے لیے محنت کریں۔

    @Chem_786

  • زمین کانپ جاتی ہے! تحریر: کائنات فاروق

    زمین کانپ جاتی ہے! تحریر: کائنات فاروق

    گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے ڈسٹرکٹ ہرنائی میں زلزلے کے خوفناک جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے نتیجے میں پندرہ سے زائد افراد جاں بحق اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے۔ 

    دیکھا جائے تو پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں اکثر شدید یہ کم زلزلے آتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک بھی ہے۔

    پاکستان کا دو تہائی حصہ فالٹ لائنز پر موجود ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر موجود نہیں، اسی لیے یہ علاقے زلزلے کے خطرے سے محفوظ تصور کیے جاتے ہیں البتہ ان علاقوں کے علاوہ تمام علاقے کسی نہ کسی طرح فالٹ لائن پر موجود ہیں۔

    اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہروں کا شمار زون تھری میں ہوتا ہے، جبکہ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیر زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یہ زون فور کہلاتا ہے۔

    ساحلی علاقوں کی بات کریں تو کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر موجود ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ تین پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

    زلزلوں کا آنا ان ہی علاقوں میں زیادہ ریکارڈ کیا گیا جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔

    پاکستان کے تمام شہر کراچی سے لےکر اسلام آباد تک زلزلے سے محفوظ نہیں، البتہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو حساس ترین شمار کیا جاتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں دنیا کے مختلف مذاہب کے زلزلے سے متعلق منفرد اور دلچسپ عقائد اور روایات کی۔

    مثلاً بعض اقوام سمجھتی تھیں کہ مافوق الفطرت قوت رکھنے والے درندے زمین کے اندر رہتے ہیں اور وہی زلزلے پیدا کیا کرتے ہیں۔ قدیم جاپانیوں کا عقیدہ تھا کہ ایک طویل القامت چھپکلی زمین کو اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے ہے اور اس کے ہلنے سے زلزلے آتے ہیں۔ اس سے کچھ ملتا جلتا عقیدہ ریڈ انڈینز کا بھی تھا کہ زمین ایک بھی بڑے کچھوے کی پیٹ پر ٹکی ہے اور اس کے حرکت کرنے سے زلزلے آتے ہیں۔ ہندوئوں کا عقیدہ ہے کہ زمین ایک گائے کے سینگوں پر رکھی ہوئی ہے، جب وہ سینگ تبدیل کرتی ہے تو زلزلے آتے ہیں۔ جب کہ عیسائیوں کا خیال تھا کہ زلزلے خدا کے باغی اور گنہگار انسانوں کے لیے اجتماعی سزا ہوتی ہے۔

    مذاہب کے عقائد سے ہٹ کر اگر فلسفیوں کی بات کریں تو قدیم یونانی فلسفی اور ریاضی داں فیثا غورث کا خیال تھا کہ جب زمین کے اندر مُردے آپس میں لڑتے ہیں تو زلزلے آتے ہیں۔ اس کے برعکس ارسطو کا خیال کچھ منطقی تھا، اس کا کہنا ہے کہ جب زمین کے اندر گرم ہوا باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے تو زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔ افلاطون کا نظریہ بھی کچھ اسی قسم کا تھا کہ زیرِ زمین تیز و تند ہوائیں زلزلوں کو جنم دیتی ہیں۔ تقریباً 70 سال پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ زمین ٹھنڈی ہورہی ہے اور اس عمل کے نتیجے میں اس کا غلاف کہیں کہیں چٹخ جاتا ہے، جس سے زلزلے آتے ہیں۔ کچھ دوسرے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ زمین کے اندرونی حصّے میں آگ کا جہنم دہک رہا ہے اور اس بے پناہ حرارت کی وجہ سے زمین غبارے کی طرح پھیلتی ہے۔ لیکن آج کا سب سے مقبول نظریہ”پلیٹ ٹیکٹونکس”کا ہے جس کی معقولیت کو دنیا بھر کے جیولوجی اور سیسمولوجی کے ماہرین نے تسلیم کرلیا ہے۔

    ہم نے اب تک زلزلوں سے متعلق سائنسی، فلسفی، اور دنیا کے مختلف عقائد کا جائزہ لیا ہے، اب بات کرتے ہیں پاکستان کے سرکاری مہذب اسلام کی۔ مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ زلزلے سے متعلق قرآن کریم کیا کہتا ہے۔

    قرآن کریم میں قوم شعیب پر عذاب آنے کا تذکرہ ہے اور اُس کی وجہ قرآن نے ناپ تول میں کمی بیشی بتائی ہے کہ ان کی عادت بن گئی تھی کہ لینے کا وقت آتا تو زیادہ لیتے اور دینے کا وقت آتا تو کمی کردیتے تھے، مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ ناپ تول میں کمی صرف محسوسات میں نہیں ہوتی ہے؛ بلکہ معنوی چیزوں میں بھی ہوسکتی ہے مثلا لوگوں کے حقوق کی پامالی، ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ میں اپنا پورا حق سمیٹ لوں اور جب دینے کا وقت آئے تو مجھے پورا نہ دینا پڑے۔ اگر قوم شعیب پر ناپ تول میں کمی کی وجہ سے عذاب اور زلزلہ آسکتا ہے تو آج حقوق اللہاور حقوق العباد میں کمی بیشی کی وجہ سے زلزلہ آگیا تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔فَأَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُواْ فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْن(الاعراف:۹۱)اسی طرح حضرت موسی کی قوم پر عذاب آیا، حیلے حوالے اور کٹ حجتی کی وجہ سے فَلَمَّا أخذتہم الرجفةُ (پس جب ان کو زلزلے نے آدبوچا اللہ نے ان کو وہیں ہلاک کردیا) (الاعراف:۱۵۵)قارون جو مالداری میں ضرب المثل تھا۔ جب اُس سے کہا گیا کہ ان خزانوں پر ا للہ کا شکر ادا کرو تو کہنے لگا، یہ سب میرے زورِ بازو کا کرشمہ ہے؛ چناں چہ اللہ نے اسے اِس ناشکری کی وجہ سے خزانہ سمیت زمین میں دھنسا دیا۔فَخَسَفْنَا بِہِ وَبِدَارِہِ الْأَرْض (القصص: ۸۱)آج اپنے معاشرے کا جائزہ لیجیے کتنے شرعی احکام میں قیل وقال کرنے والے ملیں گے اور کتنے ہی ایسے ملیں گے جن کے احساسات وجذبات قارون کی طرح ہیں۔

    یہاں سنن ترمذی کیایک حدیث نقل کی جارہی ہے جس سے زلزلہ کے اسباب کا سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (جب مندرجہ ذیل باتیں دنیا میں پائی جانے لگیں) تو اس زمانہ میں سرخ آندھیوں اور زلزلوں کا انتظار کرو، زمین میں دھنس جانے اور صورتیں مسخ ہوجانے اور آسمان سے پتھر برسنے کے بھی منتظر رہو اور ان عذابوں کے ساتھ دوسری ان نشانیوں کا بھی انتظار کرو جو پے در پے اس طرح ظاہر ہوں گی۔ جیسے کسی لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور لگاتار اس کے دانے گرنے لگیں (وہ باتیں یہ ہیں )۱- جب مالِ غنیمت کو گھر کی دولت سمجھا جانے لگے۔ ۲- امانت دبالی جائے۔۳- زکاة کو تاوان اور بوجھ سمجھا جانے لگے۔۴- علم دین دنیا کے لیے حاصل کیا جائے۔۵- انسان اپنی بیوی کی اطاعت کرے اور ماں کی نافرمانی کرے۔۶-دوست کو قریب کرے اور اپنے باپ کو دور کرے۔ ۷- مسجدوں میں شور وغل ہونے لگے۔۸- قوم کی قیادت، فاسق وفاجر کرنے لگیں۔ ۹- انسان کی عزت اِس لیے کی جائے؛ تاکہ وہ شرارت نہ کرے۔۱۰-گانے بجانے کے سامان کی کثرت ہوجائے۔۱۱- شباب وشراب کی مستیاں لوٹی جانے لگیں۔۱۲-بعد میں پیدا ہونے والے،امت کے پچھلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں۔ (سنن الترمذی، رقم: ۲۱۱، ما جاء فی علامة حلول المسخ)انصاف کے ساتھ موجودہ ماحول کا جائزہ لیجیے، مذکورہ باتوں میں سے کون سی بات ہے، جو اب تک نہیں پائی گئی ہے، مذکورہ ساری پیشین گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہی تمام وجوہات ہوں جن کی وجہ سے "زمین کانپ جاتی ہے، لیکن ہمارے ضمیر نہیں کانپتے”.

    @KainatFarooq_

  • زلزلہ اور  دو آنکھیں  تحریر:یاسرشہزاد مانسہرہ۔

    زلزلہ اور  دو آنکھیں تحریر:یاسرشہزاد مانسہرہ۔

    اپنے دوست رجب علی سے آج بالاکوٹ 2005 زلزلہ کی سولہویں برسی کی کوریج کے موقع پر ایک نشست ہوئی۔جس میں کافی باتیں ہوئی اور کچھ جب اُن سے یہ حال پوچھا کیا قیامت گزری تو جب رجب نے ہمیں بتایا تو قسم سے ہم پر اُس کی کہانی اُس کی زبانی سن کر قیامت گزری۔رجب علی نے کہا کہ

    آٹھ اکتوبر وہ دن جب میرے بڑے بھائی ،بہن اور والدہ ہمیں روتا بلکتا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے

    اس دن زلزلہ بالاکوٹ میں نہیں،،شاید میری شخصیت پہ آیا تھا جسکا ملبہ آج بھی میری روح پہ پڑا ہے

    وہ دن جب سکول کو نکلنے لگا حسب عادت وہ دروازے میں کھڑی مجھے روانہ ہوتے دیکھتی رہیں۔۔میں نے کئی بار پیچھے مڑ کے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ جانے کتنی دیر ۔۔۔

    ۔۔انکی آنکھوں کی مقناطیسیت اس دن میرے قدم بوجھل کر رہی تھی۔۔ پھر پردہ ہلا اور وہ کالے سیاہ پردے کے پیچھے چلی گئیں

     ۔۔میں جب سکول سے واپس آیا تو ہمیشہ  کیطرح،، بلا کی پردہ دار ،وہ پھر بھی پردے میں ہی تھیں پر اس دفعہ پردے کا رنگ "سفید "تھا۔۔۔۔سر سے پائوں تک۔۔۔جیسے فرشتوں کی نظر بھی پڑنے سے کترا رہی ہوں

    ۔اتنی پردے کی شوقین کے اس سفید پردے پر بھی قرار نہیں آیا اور ایک اور خاکی رنگ پردے کو پہنا اور اچانک سے  بالکل ہی اوجھل ہو گئیں۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔میں آج بھی اپنی والدہ کی قبر پہ کھڑا ہو کے انکی” پردہ داری” کا گلہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔

    پر وہ گلی میں جھانکتی آنکھیں آج بھی میرا پیچھا کرتی ہیں ۔میں چاہ کر بھی غلط کاری میں غرق نہ ہو سکا میں چاہ کر بھی ایک خاص حد سے آگے نہ جا سکا ،بس وہ دو چمکتی آنکھیں ہمیشہ مجھ پہ نظر رکھے ہوئے ہیں،مجھے ڈانٹی ہیں،مجھے بہلاتی ہیں ،،روٹھو تو منا بھی لیتی ہیں

    ذرا بھی منزل سے بھٹکتا ہوں میری والدہ کی وہ چُبتی نظریں میرا راستہ روک لیتی ہیں

    وہ میری راہبر بھی ہیں میری پیمبر بھی

    میری سب سے بڑی بدقسمتی میرا "اچھا حافظہ ” ہے جو میرا سب سے بڑا دشمن ہے  مجھے وہ تلخ ترین یادیں بھولنے نہیں دیتا،امی اور بابا جانی کی کہی ہوئی ایک ایک بات مجھے آج بھی لفظ بہ لفظ یاد ہے

    دو رمضان عشاء کے بعد جب بھائیوں نے میرے برے ٹیسٹ کا بتایا تو  مجھے نمناک آنکھوں سے دیکھتی چلی گئیں۔۔عجیب تھیں وہ ڈانٹا ،،نہیں مارا نہیں۔۔۔بس مجھ سے منہ ہی پھیر لیا۔۔۔۔۔پھر رات نہ جانے کتنی دیر میں انکے پائوں سے لگا روتا رہا۔۔۔میرے آنسوئوں کی پائوں پہ دستک سے بیدار ہوئیں مجھے ایسے گلے لگایا جیسے مجھے روح میں اتار دیں گی۔۔۔۔امی جی مان جائیں نہ ۔۔۔۔۔وہ ایک ننھا وجود بلبلایا تھا۔آپ کیسے خوش ہونگی مجھے بتائیں دنیا آپکے قدموں میں لا رکھوںگا

    خوش۔۔۔۔۔مجھے اصل خوشی تب ہو گی جب تم "بڑے آدمی بن جائو گے”۔۔۔۔۔۔میں سر ہلاتا انکے پائوں چومتا باہر نکل آیا تھا

    بڑا آدمی؟؟؟؟ مجھے تو آج تک اسکی تعریف کا بھی علم نہیں ہو سکا  کہ یہ "بڑا آدمی” ہوتا کیا ؟ بننا تو دور کی بات ہے

     آج تک اپنی امی سے کیا وعدہ نبھانے کی کوشش میں ہوں،،،مگر میری نالائقی میری خامیاں میرے رستے کی سب سے بڑی دیوار ہیں۔

    وہ آنکھیں مجھے راہ دکھاتی ہیں میں منزل سمجھ کر پاگل دیوانوں کیطرح ادھر دوڑ پڑتا ہوں ننگے پیروں سے انگاروں بھرے اس راستے پہ چلتا ہوں اور جب منزل مجھے حاصل ہوجاتی  ہے وہ آنکھیں پھر ایک نئی منزل کا کا راہ دکھا دیتی ہیں۔۔۔رمضان المبارک کے مہینہ ہے سب بھائی دعا ضرور کیجیئے گا”  کہ مرنے سے پہلے یہ نالائق،یہ سرپھرا شخص اپنی امی سے کیا وعدہ ضرور نبھائے،،،اور ،کردار کا بہت چھوٹا یہ شخص "بڑا آدمی ” ہو جائے

    ورنہ وہ دو آنکھیں مجھے شاید قبر میں بھی چین سے سونے نہ دیں

    اے شوق سفر اتنا ،مدت سے یاسر ہم نے

    منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا۔

    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ  حصہ دوم۔

    انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ حصہ دوم۔

    ویت نام ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔ یہ اقتصادی ترقی میں چین کا حریف
    ثابت ہوا۔ اس کی برآمدات اس کے جی ڈیپی کی کل قیمت کے برابر ہیں۔ نائکی اسپورٹس
     ویئر سے لے کر سام سنگ اسمارٹ فون تک کوئی بھی چیز اس آسیان قوم میں تیار کی
    جاتی ہے۔

    جاپانی اور کورین الیکٹرونکس کمپنیاں جیسے سام سنگ ، ایل جی ، اولمپس، پاینیر
    اور ان گنت یورپی اور امریکی ملبوسات بنانے والوںنے یہاں اپنی مارکیٹ بنائی۔
    فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں ویت نام خطے میں کپڑوں کا سب سے بڑا
    اور الیکٹرانکسکا دوسرا بڑا برآمد کنندہ تھا۔ چوتھا صنعتی انقلاب جنوب مشرقی
    ایشیا کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ 2010 کے بعد سے ، ویتنام کی جی ڈی پی نمو
    ہر سال کم از کم 5 فیصد رہی ہے ، اور 2017 میں یہ 6.8 فیصد پر پہنچ گئی۔ اور یہ
     غریب ترین ممالک سے ایکدرمیانی آمدنی والے ملک کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ جبکہ
     1985 میں اس کی فی کس جی ڈی پی بمشکل $ 230 تھی ، یہ 2017 میں ($ 2،343) سے دس
     گنا زیادہ تھی۔

    ترقی کے عمل کو زیادہ جامع اور پائیدار بنانے میں  خواتین نے بھی بہترین
    کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔  ویتنام میں ابتداء سے ہی خواتینکے کام کرنے کی حوصلہ
    افزائی کی گئی اور ان کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا گیا۔ ترقی یافتہ قوموں کی
    تاریخ نکال کر دیکھیں تو یہ باتواضح ہوتی ہے کہ جب خواتین مردوں کے شانہ بشانہ
    کام کرتی ہیں تو ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔ چین اور جاپانکے
    بعد ویت نام اس کی نمایاں مثال ہے۔

    ابتداء میں توجہ کا مرکز زیادہ تر تعلیم تھی۔ لیکن 1992 میں صحت کے شعبے پر بھی
     توجہ دی گئی۔ ہیلتھ انشورنس کا نظام متعارف کرایاگیا۔ ابتداء میں ملازمین اور
    ورکرز کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کی گئی۔  ویت نام کی 73 فیصد آبادی کو
    صحت کی ضروریسہولیات تک رسائی حاصل ہے۔ 2017 میں ہیلتھ انشورنس کوریج 86.4 فیصد
     تھی۔صاف پانی تک رسائی حاصل کرنے والےگھرانوں کی تعداد 78.1 فیصد ہے جس میں ہر
     سال اضافہ ہو رہا ہے۔

    پچھلے 30 سالوں میں ویت نام ، ایک غریب ، جنگ زدہ ملک سے، دنیا کی ایک تیزی سے
    متحرک معیشت کے ساتھ ایک نئے صنعتی”شیر” میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔

    ملک کی مسلسل معاشی ترقی مختلف عوامل پر منحصر ہے ، بشمول بیرونی براہ راست
    سرمایہ کاری، سیاسی استحکام ، بنیادی ڈھانچے کیترقی ، اور بدعنوانی سے پاک
    ریگولیٹری نظام۔ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی کو بڑھانا حکومت کے
    بنیادی مقاصد ہیں۔

    ویت نام کا غربت سے نکلنا اور اس کی معاشی ترقی امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کو
     پگھلانے اور اس کے نتیجے میں تجارتی اورسرمایہ کاری کے روابط کو بہتر بنانے کے
     لیے ایک اچھا سودا ہے۔ امریکہ ویت نام کا چین کے بعد دوسرا بڑا تجارتی شراکت
    دار ہے۔

    ویت نام نے طویل تھکا دینے والی جنگ کے بعد ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے
    جو کوششیں کیں وہ بین الاقوامی رینکنگ میںنظر انداز نہیں ہوئیں۔ ورلڈ اکنامک
    فورم کی عالمی مسابقتی رپورٹ میں ، ویت نام 2006 میں 77 ویں نمبر سے بڑھ کر
     2017 میں 55 ویں نمبر پر آگیا۔ اس دوران ویت نام نے معاہدوں کو نافذ کرنے ،
    کریڈٹ اور بجلی تک رسائی بڑھانے ، ٹیکس ادا کرنے اورسرحدپار تجارت کرنے سے لے
    کر ہر چیز میں پیش رفت کی۔ آخر میں ، ویت نام نے اپنی افرادی قوت کو بڑھانے اور
     بنیادی ڈھانچےمیں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی۔

    ویت نام کا معاشی مستقبل روشن نظر آرہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ویت نام آنے
    والی دہائیوں میں تیزی سے ترقی کرتا رہے گااور 2050 تک دنیا کی 20 ویں بڑی
    معیشت بن جائے گا۔

    ویتنام نے جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد نا مساعد حالات میں دنیا میں اپنا مقام
    بنانے کے لیے جو جدوجہد کی ہے وہ ان تمام ممالککے ایک مثال ہے جو بہتر حالات
    میسر آنے کے باوجود ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ تعلیم تک سب کی رسائی، غریب
    اور وہ لوگجو سکول نہیں جا سکتے ان کو تعلیم دینا، تعلیمی نظام کو جدید ضروریات
     سے ہم آہنگ کرنا ویتنام کے Doi Moi ماڈل کی اولین ترجیحتھی۔ اس کے بعد بجلی کی
     پیداوار اور صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ان کی ترجیحات میں شامل تھی۔
    ترقی پذیر ممالک کو اناصولوں کو سامنے رکھ کر اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔
    پہلے نمبر پر تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہے۔ جو کامیاب
    شہری بن کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس کے بعد ملکی پیداوار میں
    اضافے کے لیے توانائی کی بلاتعطل فراہمی بہتضروری ہے۔ مہنگائی پر قابو پانا اور
     مزدوروں کو ان کی محنت کے مطابق اجرت دی جائے تو شہری دلجمعی کے ساتھ ملکی
    ترقی میںاپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر بنیادی ضروریات بھی پوری نہ ہو
    رہی ہوں تو ترقی اور پیداوار کا عمل سست روی کا شکار ہو جاتاہے۔ عام طور پر
    دیکھا گیا ہے کہ حکومتیں ذاتی مفادات، جھگڑوں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے
    میں وقت گذار دیتی ہیں۔ اورملکی مفادات کہیں پس پشت رکھ دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ
    ہے کہ جن ممالک میں سیاسی عدم استحکام ہو، تعلیمی نظام فرسودہ ہو اورصنعتی شعبے
     پر توجہ نہ دی جائے تو وہ ملک کبھی بھی ترقی اور خود انحصاری کی راہ پر گامزن
    نہیں ہوتے۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • سیاسی منظرنامہ;  تحریر فرازرؤف

    سیاسی منظرنامہ;  تحریر فرازرؤف

    پاکستان میں سیاسی منظر نامہ جاننے کے لیے ہوا کے رخ کو سمجھنا ایک حکمت ہے۔ کچھ لوگ اس ہوا کو اسٹیبلشمنٹ کا نام دیتے ہیں اور کچھ مبصرین سمجھتے ہیں کہ پرندے جس طرف اڑنا شروع کر دیں تو سمجھ جائیں کہ ہوا کا رخ بھی اسی طرف ہے۔

    اگر ہم مختلف ادوار کے الیکشنوں کا پوسٹ مارٹم کریں تو ہمیں آسانی سے پتہ چل سکتا ہے کے وہ کیا عوامل ہیں کہ الیکشن آنے سے پہلے کچھ پرندے پھڑ پھڑانے لگتے ہیں۔ ان پرندوں کو کیسے معلوم ہو جاتا ہے کے آنے والے الیکشن میں ہوا کا رخ کس طرف ہوگا۔ آسان لفظوں میں ان پرندوں کو الیکٹیبلز بھی کہا جاتا ہے جو الیکشن لڑنے کی سائنس کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور نسل در نسل ان حلقوں سے مسلسل جیتے آ رہے ہیں۔

    یہ الیکٹیبلز جیت کی ضمانت ہوتے ہیں جو اپنے حلقے میں ہر ممکن اعتبار سے الیکشن جیتنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہر پارٹی نے ٹکٹ دیتے ہوئے الیکٹیبلز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ جس پارٹی میں شمولیت اختیار کریں سمجھ جائیں کہ آنے والے الیکشن میں وہی پارٹی حکومت بنائے گی۔ الیکٹیبلز کا یہ دھندہ اس ملک کے لیے ناسور بن چکا ہے۔

    یہ الیکٹیبلز سسٹم کے ساتھ ایسے جڑے ہوتے ہیں جیسے مکھیاں اپنے چھتے کے ساتھ، اور یہ اسے مضبوط سے مضبوط تر بناتے جاتے ہیں تاکہ کوئی بھی آنے والا اس سٹیٹس کو کو بدل نہ سکے اور وہ آسانی سے کرپشن کے اس دھندے کو جاری رکھ سکیں جو وہ پچھلی حکومتوں میں کرتے آئے۔

    تحریک انصاف کی حکومت 2018 کے الیکشن میں سب سے زیادہ سیٹیں لینے والی جماعت بن کر ابھری الیکشن ہونے سے پہلے تحریک انصاف نے بھی وہی غلطی کی جو پچھلی حکومتوں یا حکمرانوں نے کی، انہیں سٹیٹس کو کے حامیوں کو پارٹی ٹکٹ دیا جنہیں ہم الیکٹیبلز کہتے ہیں، جو لیکشن جیتنے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے یہ انہیں حلقوں سے نسل در نسل الیکشن جیت رہے ہیں اور یہ با آسانی سے ہر الیکشن کو منو پلیٹ کرکے جیت جاتے ہیں. الیکشن 2018 کا رزلٹ بھی کچھ اسی طرح کا تھا جس کی توقع کی جارہی تھی۔

    آپ تھوڑی نظر الیکشن سے پہلے کے ماحول پر ڈال لیتے ہیں، اگر آپ کو یاد ہو الیکشن 2018 سے پہلے ہوا کا رخ بدل گیا بہت سارے الیکٹیبلز مسلم لیگ نون کو چھوڑ کرتحریک انصاف میں شامل ہونا شروع ہوگئے توقع کی جا رہی تھی کہ تحریک انصاف ان الیکٹیبلز کے بل بوتے پر ان الیکشن میں مجارٹی سیٹیں لے جائے گی اور ملک میں پہلی بار حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔

    تحریک انصاف الیکشن تو جیت گئی لیکن ہوا وہی جس کا ڈر تھا ان الیکٹیبلز کے بل بوتے پر آپ الیکشن تو جیت سکتے ہیں لیکن ملک میں حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتے کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جو اسٹیٹس کو کو چمٹے رہتے ہیں۔ آج بھی ملک میں وہی تھانہ کچہری کی سیاست چل رہی ہے اپنی مرضی کے ایس ایچ او ڈی پی او لگوائے جاتے ہیں تاکہ حلقے کو اپنی گرفت میں رکھ سکیں۔ 

    الیکشن میں آنے سے پہلے تحریک انصاف کے منشور میں اصلاحات پر بہت زور دیا گیا; اس میں بیروکریسی اور پولیس ریفامز سرفہرست تھے۔

    تحریک انصاف کی حکومت کو سوا تین سال ہونے کو ہیں ابھی تک اداروں میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں کی جاسکی جن اداروں میں اصلاحات کی گئی ہیں وہاں یا تو امپلیمنٹیشن کا مسئلہ چل رہا ہے یا پھر ان اداروں میں بیٹھے بابو صاحبان ان ریفارمز میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ابھی حال ہی میں تحریک انصاف کی حکومت نے صاف شفاف الیکشن کروانے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ کا منصوبہ بنایا جس کو الیکشن کمیشن سمیت اسٹیٹس کو کی تمام جماعتوں نے مشترکہ طور پر ریجکٹ کردیا ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اگر صاف شفاف الیکشن ہو گئے تو ان تمام الیکٹیبلز کی دکانیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گی۔ 

    دوسری ایک بڑی وجہ ان الیکٹیبلز کے حلقے کی عوام آج بھی پسماندہ ہے نا سکول ہیں نہ ہسپتال اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، اگر ان حلقوں میں آزاد شفاف الیکشن ہو جائیں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں یہ تمام الیکٹیبلز انہی حلقوں سے بری طرح ہار جائیں گے۔ معروف سیاسی رہنما اور مایاناز وکیل جناب اعتزاز احسن نے ایک ٹی وی پروگرام میں انشکاف کیا تھا کے ہر حلقے میں بیس سے تیس ہزار ایسے جیلی ووٹ موجود ہیں جسے یہ الیکٹیبلز استعمال کرکے ہر دفعہ الیکشن جیت جاتے ہیں۔

    حالیہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے تمام جماعتوں سے زیادہ سیٹیں لی اور الیکشن 2021 جیت کے آزاد کشمیر میں حکومت بنا لی۔ اگر آپ ایک گہری نظر ان تمام اسمبلی ممبران پر ڈالیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ تمام ممبران اس سے پہلے پچھلی جماعتوں میں موجود تھے یا پھر پچھلی حکومت کا حصہ تھے۔

    الیکٹیبلز کی اس گندی سیاست کو ختم کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو آگے بڑھ کر تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ ایک جامع مذاکرات کرنے ہوں گے تاکہ آئندہ آنے والے الیکشن میں صاف شفاف الیکشن ہو سکیں اور اسمبلی میں اصل عوامی نمائندے پہنچیں جو عوام کی مشکلات کا ازالہ کر سکیں انہیں وہ سہولیات دے سکیں جس کے وہ حقدار ہیں اور آئین پاکستان میں درج ہے۔

    Author: Faraz Rauf 

    Twitter ID: @farazrajpootpti

    Facebook Page: @farazrajpootpti

    Website: www.farazrauf.com

  • عفو و درگذر  تحریر   محمد آصف شفیق

    عفو و درگذر تحریر   محمد آصف شفیق

    عفوودرگزر اللہ رب العالمین کی پسندیدہ بندوں کی صفتوں میں  سے ایک صفت  ہے ,اللہ رب العالمین قرآن کریم میں  فرماتے ہیں

    وَ مَنْ اَحْسَنُ  قَوْلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ  اِلَی اللہِ وَ عَمِلَ  صَالِحًا وَّ قَالَ  اِنَّنِیۡ مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾   وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ  وَلَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدْفَعْ  بِالَّتِیۡ  ہِیَ  اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَبَیۡنَہٗ  عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ  وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾   وَمَا یُلَقّٰہَاۤ  اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ۚ وَمَا یُلَقّٰہَاۤ  اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۳۵﴾ وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ ؕ اِنَّہٗ  ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۳۶﴾      حٰم اسجدہ(34۔36)

    نیکی اور بدی  یکساں نہیں ہیں۔  تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ تمہارا جگری دوست بن گیاہے۔   یہ صفت نصیب نہیں ہوتی  مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں ، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بٹرے نصیبے والے  ہیں۔   اور اگر تمہیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ بےشک وہ سنتا  اورجانتا ہے .   

     

    پر امن زندگی ہر معاشرہ کی اولین ضرورت ہے، اس کے لئےقانون بنائے جاتے ہیں، پھر ان قوانین کے نفاذ کے لئے محکمے بنائے جاتے ہیں، لیکن آج کےجدید اور اپنے آپ کو مہذب کہلانے والے معاشروں میں قانون تو نظر آتا ہے لیکن سکون نظر نہیں آتا۔ اس سکون کی تلاش میں افراد  ادویات اور اس سے بڑھ کر منشیات کے عادی بن جاتے ہیں،دنیا کے اجمالی حالات پر نظر ڈالیں تو  یہ دنیا  ایک مہذب دنیا کا نہیں بلکہ ایک جنگل کا  نقشہ نظر آیا جس میں طاقت کےزور پر کمزور کو اپنا غلام بنانے، ان کے وسائل پر قبضہ کرنے، ان کو انتشار کا شکار کرنے کی منصوبہ بندی ایسے خوبصورت طریقہ سے کی جا رہی ہے کہ ان ممالک میں بسنے والے انسانوں کو سمجھ میں نہیں ہوتا کہ ان کے ملک میں کیا ڈراما ہو رہا ہے۔ اس سب کے منفی اثرات عام لوگوں کی زندگیوں پر  پڑ رہے ہیں،  انسان اپنی بنیادی ضرورت ” امن ” سے محروم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس انسانی اخلاق کی ترقی کے سارے ادارے ٹوٹ چھوٹ کاشکار ہو رہے ہیں۔ ان اداروں کو بچانے اور اس امن کے حصول کے لئے ہمیں  دین کی تعلیمات کی طرف رجوح کرنا ہوگا۔  تاکہ ہم اپنے اندر وہ اخلاق پروان چڑھا سکیں جو اس دنیا کو رہنے کے قابل بن سکے۔

    موجودہ  تہذیب نے ہمارے اوقات پر قبضہ کر لیا ہے۔  ملٹی میڈیا  کی شکل میں آج انسانی اوقات کا بڑا حصہ  ٹی وی کے سامنے بیٹھے گذر جاتا ہے۔ یا وہ افراد جن کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے وہ  بڑےاوقات ونڈو بروزنگ میں گذار دیتے ہیں۔ دینِی علوم کا حصول کہیں بھی ترجہح اول  نہیں  ۔  اس طرح اصل علم  پر ایمان رکھنے کے باوجود اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    قرآن پاک اورنبی رحمتﷺ کی تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے آج اس سکون کو حاصل کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔ 

    عفو کے معنی  اللہ کی خوشنودی کی خاطر، انتقام لینے کی قدرت کے باوجود، درگذر سے کام لیناہے۔ اس کو حاصل کرنے کے لئے  جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ "صبر” ہے۔

    حضرت ابوہریرۃؓنے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا۔

    میرے رب نے مجھے نو باتوں کا حکم دیا ہے ،کھلے اور چھپے ہر حال میں اللہ سے ڈرتا رہوں،کسی سے خوش ہوں یا کسی سے غصہ میں دونوں حالتوں میں انصاف کی بات کہوں،خواہ تنگ دستی ہو یا خوش حالی دونوں حالتوں میں راستی اور اعتدال پر قائم رہوں، اور مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں،جو مجھے محروم کرے میں اسے دوں،

    اور جو مجھ پر زیادتی کرے میں اسے معاف کر دوں،اور یہ کہ میری خاموشی غور و فکر کی خاموشی ہو،

    اور میری گفتگو ذکر الہٰی کی گفتگو ہو،اور میری نگاہ عبرت کی نگاہ ہو۔اس کے بعد نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں نیکی کا حکم دوں اور برائی سے روکوں  (مشکواۃ شریف)

     

    اگر کوئی اہم پیغام جس کو  ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہوتی تو اس کو  اُس جگہ لکھ لیا جاتا ہے جو ہمیشہ سامنے رہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ نبی اکرمﷺ کی تلوار پر یہ کلمات لکھے ہوئے تھے:

    جو ظلم کرے تو اسے معاف کر دے،جو تجھ سے رشتہ توڑتے تُو اُسے جوڑ دے،جو تجھ سے بدی کرئے تُو اُس سے نیکی کر،ہمیشہ  سچی بات کہہ  خواہ  تیرے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو

    ایک دوسری حدیث میں  جس کی راوی  حضرت ابوذرغفاری ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا    

    تو جہاں کہیں بھی ہو خدا سے خوف کر، بدی کے بدلے نیکی اور احسان کر، کیونکہ نیکی برائی کو مٹا دیتی ہے،  لوگوں سے نیک سلوک کر اور اُن سے حن اخلاق سے پیش آ۔

    قرآن مجید میں معاف کر دینے، برائی کو نیکی سے تبدیل کرنے اور صبر کرنے کے سلسلہ میں بہت سی آیات آئی ہیں، جن میں سے چند ایک کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ  مِّنۡ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ۙ  الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالْکٰظِمِیۡنَ الْغَیۡظَ وَالْعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۱۳۴﴾ۚ   آل عمران (133۔134  )

    دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے۔   جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، خواہ بدحال ہوں یا خوشحال،  اور جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔  اور اللہ ایسےہی  نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

     

    اللہ نے جن لوگوں کو اپنا بندہ کہا ہے، سورۃ فرقان میں ان کی پہلی نشان یہ بیان فرمائی ہے۔

    وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَاماً Oالفرقان ۶۳

    رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں، اور جاہل منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں تم کو سلام۔      

     

    وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ           شوریٰ (42۔43)

    اور جو صبر کرے اور قصور معاف کردے تو یہ ہمت کے کام ہیں

     

    وَلَا يَأْتَلِ أُوْلُوا الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُوْلِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ        نور(22۔23)

    اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے۔ ان کو چاہیئے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تم کو بخش دے؟ اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے

    خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ  وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ O

    اے نبیﷺ!  نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرؤ ،  اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو  اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے، تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو ،  وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اعراف(199۔200)

    قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَآ أَذًى وَاللّهُ غَنِيٌّ حَلِيم۲۔۲۶۳ٌ بقرہ

    جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور اللہ بےپروا اور بردبار ہے

    وَجَزَاء سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ

    اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ اللہ کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ،   شوری(۴۲،۴۰)

    حضرت یوسف کا بھائیوں کو معاف کر دینا اور  نبی اکرمﷺ کا  فتح مکہ کے دن عام معافی کا اعلان کرنا عفو درگزر کی عظیم مثالیں ہیں  جسکا ذکر قرآن کریم میں   اس طرح آیا ہے کہ 

    قَالَ لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ        سورۃ یوسف (٩٢)

    کہا کہ آج کے دن سے تم پر  کوئی گرفت نہیں ہے۔  اللہ تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم فرمانے والا ہے

    عفو و درگزرکے ثمرات

    ماحول پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، اخلاقی طو رپر ذمہ داران کو برتری مل جاتی ہے، ایک اچھی مثال قائم ہوتی ہے،مستقبل میں مسائل کو حل کرنے میں معاونت ملتی ہے۔دوسرے کے اخلاقی بنک میں ایک بہت بڑا DEPOSITEداخل کیا جا سکتا ہے۔

    عفو و درگزرکے راہ میں رکاوٹیں

    غصہ:  مندرجہ ذیل اسباب غصہ کا سبب بنتے ہیں:

    غرور و تکبر,مذاق  اڑانا، مسخرہ پن عیب جوئی، طعنہ ذنی، ملامت ,اقتدار، مال و دولت اور شان و شوکت  کی حرص  وغیرہ

    عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ مغرور اور متکبر لوگ بہت جلد غصہ میں آجاتے ہیں، کیونکہ ان کے ذہین میں ان کا  اپنامقام بہت بلند ہوتا ہے، اگر ان کو  اس مقام میں ذرہ بھی کمی ہوتی محسوس ہو تو یہ ان کی برداشت سے باہر ہوتی ہے۔ ان کے لئے  اس دنیا  میں مقام اور عزت ہی سب کچھ ہوتا ہے، جس کو وہ ہر طریقہ سے  حاصل کرنا اور برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

    اسی طرح  مذاق میں کبھی  کبھی ایسی بات کہی دی جاتی ہے  جو سخت ناراضگی کا سبب بن جاتی ہے۔ اور انسان یہ اندازہ کرنے سے قاصر ہوتا ہے کہ اس کی بات نے دوسرے پر کتنا بُرا اثر ڈالا ہے۔

    اسی طرح  غیبت، عیب جوئی، چغلی اوربہتان میں نفرت اور غصہ چھپا ہے۔ اللہ رب العالمین ہمیں ان سب برائیوں سے بچائیں  ،آمین یا رب العالمین

    @mmasief

     

  • حنا کی شہزادی تحریر  اویس گیلانی

    حنا کی شہزادی تحریر اویس گیلانی

    اچھے برانڈڈ کپڑے پہننا اور اپنے چاہنے والوں سے اپنی تعریف لینا ایک فطری عمل ہے۔ آج کی اس ماڈرن فیشن کی دنیا میں اچھے لباس زیب تن کیے ہوئے ہمیں بہت سے چمکتے چہرے میڈیا، اخبارات، فیشن شو میں روز نظر آتے ہیں اور انکے مداح انکی جھلک دیکھنے اور انکے سٹائل کو کاپی کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

    مگر اس بنائو سنگھار کا عوامی نمائندے اور ایک حاکم سے کیا لینا دینا؟ دنیا میں کئ لیڈر آئے اور گئے مگر کیا دنیا کسی لیڈر، وقت کے حاکم کو محض اس لیے یاد کرتی ہے کہ وہ سٹائل کی دنیا کا بے تاج بادشاہ یا شہزادی تھی۔

    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو کیا دنیا آج اس لیے یاد کرتی ہے کہ وہ اچھے برانڈڈ سوٹ پہنتے تھے؟ ہرگز نہیں دنیا آج انہیں انکی سیاسی سوچ اور مسلمان قوم کے لیے ایک الگ ملک کی بنیاد پر انکی قربانیوں کی وجہ سے ہی یاد کرتی ہے۔ اب انہی کے ہی مدمقابل بھارت کے بانی لیڈر مہاتما گاندھی جی کو کیا دنیا انکے سٹائل کی وجہ سے یاد کرتی ہے؟ حالنکہ وہ تو قمیض بھی نہیں پہنتے تھے صرف دھوتی پہنتے تھے۔ مگر دنیا آج بھی انکی سیاسی سوچ اور ملک کے لیے خدمات کی وجہ سے انہیں یاد رکھتی ہے۔  بھارتی وزیراعظم کے حالیہ امریکہ دورے پر امریکی صدر بائیڈن نے بھی مودی کو گاندھی جی کی عدم تشدد فلسفہ پر لیچر دیا۔

    حال ہی میں جرمنی کی چانسلر انجلیا مرکل نے 16 سال اقتدار کے بعد پاور کو خیر بعد کہا۔ مگر اپنے اس طویل اقتدار میں رہنے کے باوجود انہوں نے اپنےکسی رشتے دار کو کسی بڑے عہدوں پر نہیں لگایا نا اپنے لیے مال و دولت سمیٹی۔ ان سے ایک بار پوچھا گیا کہ وہ برسوں سے وہی کپڑے کیوں استعمال کرتی رہتی ہے تو جواب دیا کہ "میں یہاں جرمنی کے لوگوں کی خدمت کے لیے ہوں اور کسی فیشن شو میں شرکت کے لیے نہیں” یہاں تک کہ انکا کہنا تھا کہ میرے گھر میں کوئ نوکر، نوکرانی نہیں۔ میں اور میرے شوہر ملکر گھر کے کام کرتے ہیں۔

    کیا بینظیر بھٹو اپنے برانڈڈ  سٹائلش سوٹ، برانڈڈ پرس، برانڈڈ جوتے پہننے کی وجہ سے وزیراعظم بنی اور طویل عرصے تک پاکستانی سیاست میں اپنی مقام بحال کیے رکھا؟ کیا آج عمران خان اپنے سٹائلش سوٹ یا بنائو سنگھار کی وجی سے وزیراعظم بنے؟ کیا دنیا آج انکی تقاریر محض اس لیے سنتی ہے کہ وہ اچھا لباس زیب تن کیے ہوتےہیں؟

    اگر ایسا نہیں ہے تو کوئ ہماری حنا بٹ صاحبہ کو بھی تو سمجھائے جو لمز سے پڑھ کر بھی شائد زہنی پسماندگی کا شکار ہو گئ ہیں یا اپنی ریزرو سیٹ کو بچانے کے لیے اپنی لیڈر کی روز روز سٹائلش سوٹ کے ساتھ "شہزادی” "شہزادی” کہتی تصاویر لگاتی نہیں تھکتیں۔ چلیں ایک لمحے کے لیے انکی لیڈر کو شہزادی مان بھی لیا جائے تو کیا وہ اس ملک کی وزیراعظم بن جائیں گی؟  انہیں چاہیے کہ وہ عوام کو مریم نواز کی سیاسی مصروفیات، اپنی پارٹی میں انکا رول اور مستقبل کے لاہے عمل پر انکی سوچ بتائیں نا کہ شہزادی، شہزادی کا راگ آلاپ کر اپنا اور اپنی لیڈر کا مزاق بنوائیں۔ 

                            
    Twitter: @GillaniAwais

  • بولی لگائیں اور نمبر حاصل کریں تحریر ذیشان احمد

    جس قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس قوم کا تعلیمی معیار گرا دو تو اس قوم کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا.

    آج کل خیبر پختون خواہ کے مختلف تعلیمی بورڈز کے نتائج آرہے ہیں جس میں زیادہ پیسہ کمانے کی ریس لگی ہوئی ہیں. بورڈز میں چیئرمین سے لیکر کلاس فور تک سب کے انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہیں.

    امتحانات پر ان استادوں کی ڈیوٹی لگتی ہے جو چیئرمین بورڈ کے انگلیوں پر ناچتا ہوں اور سکول انتظامیہ کی مرضی سے ان کے سکول پر امتحانی عملہ تعینات ہوتا ہے.
    بورڈ کے اعلی آفسران کیساتھ ساتھ انکے کلرکس اور ڈرائیوروں کی بھی آؤبھگت کی جاتی ہیں۔
    جو استاد کسی نجی سکولز اینڈ کالجز کے امتحانی ہالز پر ڈیوٹی سرانجام دیتا ھے۔
    تو وہ چیئرمین  کنٹرولر امتحانات اور نجی سکولز اینڈ کالجز کے مالکان کے پہلے سے مرتب طریقہ کار کے مطابق ڈیوٹی کرنے  کا پابند ہوتا ہے۔
    ان استادوں میں تین خصوصیات کا ہونا لازمی ہونا چاہیئے
    نمبر 1۔ آندھا
    نمبر 2۔ بہرا
    نمبر 3. گونگھا
    لازمی بننا چاہیئے ورنہ اس پر کئی قسم کے دباؤ کا آندیشہ ہوتا ھے
    بعض اوقات اس پر لڑکوں اور لڑکیوں سے چھیڑ خانی کے الزامات لگ سکتے ہیں
    جس پر چیئرمین بورڈ اس استاد پر پورے پانچ سالہ پابندی بھی عائد کرسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کوئی ایماندار استاد اس سسٹم میں نہیں آسکتا.

    نجی سکولزاور کالجز آپنی پسند کا عملہ تعینات کرنے کی پوری قیمت ادا کرتے ہیں۔
      امتحانات شروع ہونے سے کچھ ہفتے قبل فری امتحانی ہالوں کے عوض طلبہ سے بھاری رقوم کے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔ جس کے بدلے طلباء امتحانی عملے کے سامنے نقل کرتے ہیں.

    امتحانات شروع ہوتے ہی تعلیمی بورڈز کے ملازمین کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں. چیئرمین بورڈ، سیکرٹری، کنٹرولر اور دیگر بڑے عہدوں والے کو گفٹ مطلب رشوت میں گاڑیاں، سونا اور نقد رقم ملتی ہیں.
    امتحانی عملہ برانڈڈ کپڑوں اور مرغ پر اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں.

    ہمارے تعلیمی نظام کا ایسا برا حال ہوا جو سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کیونکہ مردان بورڈ کو ایک لڑکی نے 1100 کے ساتھ ٹاپ کیا تو کیا یہ تو نیوٹن سے بھی زیادہ تیز ذہن کی مالک تھی جس سے دوران امتحان ایک غلطی بھی نہ ہوسکی. اس میں لڑکی کی غلطی نہیں ہے بلکہ سسٹم کی غلطی ہے کیونکہ ہمارا سسٹم اتنا تباہ ہوگیا ہے کہ ہر سال 95 فیصد سے زائد نمبروں والے طلبہ کثیر تعداد میں فارغ ہورہے ہیں مگر ہمارا ملک تباہی کی طرف جارہا ہے تو سوال بنتا ہے کہ یہ آخر ذہین طلباء جاتے کہاں ہے اور ہمارے ملک میں سائنسدان کیوں نہیں بنتے؟

    ہرسال رزلٹ سرکاری سکولز اینڈ کالجز کی بجائے نجی سکولز اور کالجز کے پوزیشن ھولڈر کے نام کیاجاتاہے۔
    تعلیمی بورڈ سرکاری سکولز اینڈ کالجز طلبہ کو آٹا میں نمک کے برابر بھی پوزیش نہیں دیتے
    اور انکو کم ظرفی کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ کچھ ذہین طلباء اسی وجہ سے تباہ ہوجاتے ہیں کہ وہ غربت کی وجہ سے پرائیویٹ سکولوں میں داخلہ نہیں لے سکتے اور مجبوراً سرکاری سکولوں میں داخلہ لیتے ہیں اور سرکاری سکولوں کے حالات تو سب کے سامنے ہے اور یوں ایک ذہین ستارہ اجھل ہوجاتا ہے.

    صرف ڈگری حصول روزگار کا زریعہ نہیں ھوتا بلکہ بہترین معاشرے کی تشکیل کا آئینہ دار بھی ہوتی ھے۔
    جس قوم کا تعلیمی معیار گر جاتا ھے اس قوم کو دوبارہ کھڑا ھونے کیلئے ایک صدی درکار ہوتی ھے۔
    حکومت کو چاہیے کہ وہ ان نمبروں کی ریس کو ختم کریں اور ہر قسم کے داخلوں اور نوکریوں کیلئے اپنا ٹیسٹ لے.

  • شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ (1937ء تا 2021ء) تحریر: احسان الحق

    27 ستمبر کو استاد العلماء، محدث العصر، شیخ الحدیث، حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے انتقال کی دلخراش اور افسوسناک خبر سنی. آپ کی وفات کا سن کر گہرا دلی صدمہ پہنچا. آپ ان چند لوگوں میں سے ایک تھے جن سے مجھے ملنے کی دلی حسرت تھی اور آپ کے انتقال کے ساتھ یہ حسرت، حسرت ہی رہ گئی. آپ سے ملنے سے پہلے آپ خالق حقیقی سے جا ملے.

    انا للہ واناالیہ راجعون.

    شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ 1937ء میں رشیداں والی میں پیدا ہوئے. تقریباً 1850ء میں مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کو 1763 سے 1947 تک قائم رہنے والی ریاست پٹیالہ کی طرف سے کچھ رقبہ ملا. آپ عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے اس رقبے پر مسجد اور اپنا گھر بنایا، جہاں آپ کے سارے لڑکے آباد ہوئے. اس علاقے میں یہ اولین آبادکاری میں سے ایک تھی. مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے اپنے نام کی مناسبت سے اس جگہ کا نام "عزیز آباد” رکھا. بعد میں کسی وجہ سے اس جگہ کا نام رشیداں والی پڑ گیا اور آج بھی سرکاری کوائف میں اس جگہ نام رشیداں والی ہے. بھارتی پنجاب میں پٹیالہ کے اسی عزیز آباد یا رشیداں والی میں آپ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ پیدا ہوئے. مولانا اثری رحمہ اللہ کی پیدائش سے 87 برس قبل یہ گاؤں آباد ہوا، 1937 میں عزیزآباد کی آبادی دو سو گھرانوں تک پہنچ چکی تھی.

    مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے خاندان میں اسلام قبول کرنے والے پہلے آدمی کا نام طیب تھا. مولانا کا شجرہ نسب کچھ اس طرح سے ہے.

    محمد رفیق بن قائم دین بن علی شیر بن فریدو بن طیب.

    آپ کے والد صاحب نے آپکا نام محمد رفیق رکھا. زمانہ طالب علمی میں آپ نے محمد رفیق کے ساتھ اثری کا اضافہ خود کیا. مولانا رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے دادا مرحوم اسی گاؤں "رشیداں والی” میں ہجرت کرکے آئے اور یہیں آباد ہو گئے. 

    شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے والد محترم پرچون کی دوکان چلاتے تھے. آپ تین بھائی تھے اور آپ سب سے چھوٹے تھے. سب سے بڑے بھائی رحمت اللہ تھے جو ساتویں جماعت تک پڑھے پھر گھریلوں مسائل کی وجہ سے آگے نہ پڑھ سکے اور ان کی شادی بھی کر دی گئی، یہی بڑے بھائی والد صاحب کے ساتھ دوکان پر بھی بیٹھا کرتے تھے. درمیانے بھائی کا نام سلیم تھا.

    برصغیر کی تقسیم کے وقت عزیز آباد میں محض ایک گھر کے علاوہ باقی ساری آبادی مسلمان تھی. تقسیم کے وقت عزیز آباد بھارت کے حصے میں آ گیا اور بھارتی فوج نے زبردستی مسلمانوں سے یہ علاقہ خالی کرواتے ہوئے ساری مسلمان آبادی کو پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا. تقسیم برصغیر اور ہجرت کے وقت مولانا رحمہ اللہ علیہ کی عمر محض دس سال سے گیارہ سال کے درمیان تھی. آپ اپنے والد محترم اور بھائیوں سمیت خاندان کے ساتھ گنڈا سنگھ بارڈر سے پاکستان میں داخل ہو گئے اور بذریعہ ریل گاڑی لودھراں پہنچے. آپ کے خاندان کو ڈیرہ غازی خان جانے کو کہا گیا. آپ کا خاندان لودھراں سے ملتان آیا اور یہیں رک گیا، کیوں کہ کسی نے بتایا تھا کہ ڈیرہ غازی خان پہاڑی اور بنجر علاقہ ہے. اسی لئے آپ کے والد صاحب نے ڈیرہ غازی خان نہ جانے کا فیصلہ فرمایا. ملتان میں ایک ماہ قیام کے بعد آپ کے والد صاحب کو پتہ چلا کہ جلال پور میں رشیداں والی کے کچھ خاندان آباد ہو چکے ہیں. آپ کے والد صاحب نے جلال پور جانے کا پروگرام بنایا، محض یہ دیکھنے کے لئے کہ جلال پور میں رشیداں والی کے لوگ آباد ہیں یا نہیں. جلال پور جا کر معلوم ہوا کہ واقعی رشیداں والی کے کافی لوگ رہائش پذیر ہیں. آپ کے والد صاحب قائم دین نے جلال پور میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ فرمایا.

    مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کی تبلیغ اور تعلیم سے پورا رشیداں والی اہل حدیث تھا. دارالحدیث رحمانیہ رشیداں والی سے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا اور جب آپ ہجرت کرکے پاکستان آئے تو 29واں اور 30واں پاراں پڑھ رہے تھے یا پڑھ چکے تھے. ابتدائی ایک ماہ آپ دیوبندی مدرسہ میں مولانا نور محمد صاحب سے پڑھتے رہے. بعد میں معلوم کرنے پر آپ کو اہل حدیث مدرسے کا پتہ چلا تو آپ وہاں چلے گئے. آپ نے مولانا حافظ خوشی محمد صاحب سے قرآن مجید مکمل کیا.

    لودھراں کے قریب براتی والا کے نام سے ایک جگہ ہے۔ وہاں جلالپور مدرسہ کے فارغ التحصیل مولانا عبدالرحمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے. انہوں نے پرائیویٹ سکول بنایا تھا. انکی ترغیب سے محلے اور خاندان کے تقریباً پندرہ لڑکے ان کے پاس چلے گئے. ان لڑکوں میں مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ بھی تھے. یہ ان دنوں کی بات ہے جب کشمیر محاذ کھل چکا تھا اور طلبا کو جہاد کی تربیت دی جاتی تھی. آپ نے مولانا عبدالرحمن سے پرائمری تک سکول کی تعلیم، خوشخطی، فارسی کی ابتدائی تعلیم اور جہاد کی تربیت لی. یاد رہے کہ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ خوش خط تھے. اس لیے شیخ محترم محدث جلال پوری سلطان محمود رحمہ اللہ علیہ اثری صاحب سے فتاویٰ جات لکھوایا کرتے تھے. مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ علیہ بھی اثری صاحب سے وقتاً فوقتاً مضامین لکھواتے رہتے تھے.

    ایک بار مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ علیہ کے سامنے اثری صاحب کا ذکر ہوا تو بھٹی رحمہ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ "وہی محمد رفیق جس کی لکھائی بہت اچھی ہے؟”

    مولانا عبیداللہ صاحب رحمہ اللہ علیہ اور مولانا ادریس صاحب رحمہ اللہ علیہ دار الحدیث رحمانیہ رشیداں والی کے فضلاء تھے جن کی محنت سے رشیداں والی گاؤں کے لوگوں نے مسلک اہل حدیث قبول کیا. مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے والد صاحب ان دونوں سے بہت متاثر تھے. اسی وجہ سے آپ کے والد محترم نے خواہش کا اظہار کیا کہ کیوں نہ میری اولاد میں سے بھی کوئی عالم اسلام پیدا ہو چنانچہ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کو اپنے بھائی کے ساتھ جلال پور مدرسہ میں داخل کروا دیا گیا.

    1956 میں آپ فارغ التحصیل ہوئے اور 1954 سے 1956 کی چھٹیوں میں لاہور جا کر جامعہ تقویتہ الاسلام میں مولانا محمد شریف رحمہ اللہ علیہ سے منطق اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کرتے رہے. مولانا محمد عبداللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ علیہ آپ کے کلاس فیلو ہیں.

    مولانا شریف سے مراد مولانا شریف اللہ خان سواتی ہیں. شریف اللہ خان سواتی رحمہ اللہ علیہ جامعہ سلفیہ میں پڑھاتے تھے اور چھٹی کے دنوں میں مولانا داؤد غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر تقویۃ الاسلام میں شمس بازغۃ، سلم العلوم، ھدایۃ الحکمۃ اور منطق و فلسفہ کی دیگر کتب پڑھاتے تھے. مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ نے مذکورہ بالا کتب کی تعلیم مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری رحمۃ اللہ علیہ سے مکمل کی تھی مگر مولانا شریف اللہ خان صاحب سے دوبارہ پڑھیں.

    ایک بار لیبیا سے شیخ عمر صاحب ملتان میں حافظ عبدالمنعم صاحب کے پاس آئے. شیخ صاحب نے کہا کہ مجھے ان پندرہ روایات کی تخریج مطلوب ہے، مجھے کسی عالم کے بارے میں بتاؤ جو یہ کام کرسکے. حافظ عبدالمنعم نے شیخ عمر کو شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے پاس بھیج دیا. اثری رحمہ اللہ علیہ نے ان کا کام کردیا اور باتوں باتوں میں کہا کہ مؤطا پر زیادہ کام مغربی علماء نے کیا ہے جو لیبیا اور مراکش وغیرہ میں آباد ہیں. اثری رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ "میں نے بھی مؤطا پر کام کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ مجھے کسی مغربی عالم سے سند حاصل ہو.” شیخ نے اثری رحمہ اللہ علیہ کی بات ذہن میں رکھی اور تیونس کے شیخ محمد شاذلی صاحب سے بات کی. شیخ شاذلی نے اثری صاحب کو خط لکھا کہ آپ نے مغربی عالم سے سند کی خواہش کی ہے، میں آپ کو سند دیتا ہوں اور السبت الصغیر کے نام سے آٹھ صفحات میں اپنی سند بھیج دی جو سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ تک المسلسل بالاولویۃ ہے. یہ سند پاکستان میں صرف مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے پاس ہی ہے.

    ایک بار آپ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ اپنے اساتذہ کا ذکر فرما رہے تھے اور بتایا کہ حافظ غلام نبی صاحب، حافظ نور محمد صاحب، حافظ خوشی محمد صاحب، مولانا عبدالرحمان صاحب، مولانا شریف اللہ سواتی صاحب اور مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہم. مولانا عبدالحمید صاحب، مولانا عبدالقادر بہاولپوری صاحب، مولانا عبدالرحیم عارف صاحب، مولانا محمد قاسم شاہ صاحب، مولانا عبدالقادر مہند صاحب، مولانا عبداللہ مظفر گڑھی صاحب اور  مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمۃ اللہ علیھم میرے اساتذہ میں شامل ہیں.

    اولاد میں مولانا رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے سات بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں. آپ کے پوتے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن مجید اور حدیث کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں. مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے نصف درجن نواسے اور پوتے حافظ ہیں. آپ کی باوفا اور باشعار بیوی کا انتقال آپکی حیاتی میں ہو گیا تھا. مولانا محمد رفیق اثری صاحب کی تصانیف کی تعداد 2 درجن سے بھی زیادہ ہے، اس کے علاوہ آپ کافی عربی کتب کا اردو میں ترجمہ بھی کر چکے ہیں. موطا اور مشکوٰۃ کے حواشی لکھے، اسی طرح الفیۃ الحدیث کے حواشی ہیں. مولانا رحمہ اللہ علیہ نے کئی تراجم بھی کیے ہیں. ایک عرب عالِم الشيخ عبدالله بن عبيد کی کتاب هداية الناسك کا مناسک الحج کے نام سے ترجمہ کیا. رؤیت ھلال کے بارے ایک کتاب کا ترجمہ کیا ہے. اسی طرح شرح خطبہ حجۃ الوداع اور بھی کئی چھوٹے بڑے رسالوں کا اردو ترجمہ کر چکے ہیں. مختلف رسائل کی تعدا بہت زیادہ ہے جن آپکا اردو ترجمہ کر چکے ہیں. قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ علیہ کی شیعہ کے بارے ایک  السیف المسلول نامی کتاب ہے، یہ کتاب صرف ایک بار ہی دہلی سے چھپی تھی. اس کتاب کی اصل مطبوع نہیں ملی جس کی وجہ سے کافی غلطیاں تھیں، مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ نے ان تمام غلطیوں کو درست کرتے ہوئے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا.

    غالباً 1947 کے اواخر یا 1948 کی شروعات میں مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ نے دارالحدیث محمدیہ جلال پور میں داخلہ لیا. 1956 میں فارغ التحصیل ہوئے اور محدث جلالپوری سلطان محمود رحمہ اللہ علیہ کے حکم پر 1956 سے ہی ادارے میں تدریسی فرائض سرانجام دینا شروع کیے. 2021 میں آخری سانس لینے تک آپ اسی ادارے کے ساتھ منسلک رہے. 1948 سے 1956 تک شعبہ تعلیم کے 8 سے 9 سال اور 1956 سے 2021 تک شعبہ تدریس کے تقریباً 65 سال، علالت اور آخری سانس لینے تک 84 سالہ زندگی کے مجموعی طور پر تقریباً 73 سال دارالحدیث محمدیہ جلال پور کو دئیے.

    آپ طویل عرصے سے علیل تھے. آخری چند روز آپ کی علالت میں شدت آ گئی اور آپ سول ہسپتال میں ڈاکٹروں کی زیرنگرانی انتہائی نگہداشت میں تھے. جہاں آپ نے 27 ستمبر کو اپنی زندگی کی آخری سانس لی اور خالق حقیقی سے جا ملے.

    اللہ سبحانہ وتعالیٰ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائیں، اگلے تمام معاملات اور مراحل آسان ترین فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائیں.

    آمین، ثم آمین.

     سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا اله الا انت استغفرک و اتوب الیک.

    @mian_ihsaan

  • پردے کا طریقہ  تحریر:صابر حسین۔

    پردے کا طریقہ  تحریر:صابر حسین۔

    گھر کے اندر والے نا محرم مردوں سے پردے کا طریقہ بیان فرمایا ہے 

    ہاں اتنی گنجائش ہے کہ جو نا محرم گھر کے اندر رہتے ہیں جن سے ہر وقت پردہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ہر وقت ان کی آمدورفت رہتی ہے اور وہ اکثر گھر میں کام کاج بھی کرتے رہتے ہیں ان کے بارے میں یہ حکم ہے کہ بھابھی کو چاہیئے کہ وہ کوئی بڑا اور موٹا دوپٹہ اس طرح اوڑھے کہ اس میں پیشانی سے اوپر کے اور سر کے سارے بال چھپ جائیں اور دوپٹہ اس طرح باندھے جس طرح نماز میں باندھا جاتا ہے اور اس میں دونوں بازوں بھی چھپ جائیں اور وہ اپنی پنڈلیوں کو بھی شلوار وغیرہ میں چھپائے پنڈلیوں کا ذکر اس لیئے کیا کہ آج کل انہیں کھلا رکھنے کا رواج چل رہا ہے جو سراسر نا جائز ہے صرف چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں اور دونوں پیر کھلے رہیں اس حالت میں ان کے سامنے آنا جانا رکھے اور گھر کے کاموں کو انجام دے تو اس حالت میں گنجائش ہے اور اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ چہرے پر گھونگھٹ میں اس سے بات چیت کر سکتی ہے اور اسے کسی بات کا جواب بھی دے سکتی ہے شریف اور حیادار عورت کیلئے چہرے پر گھونگھٹ ڈال کر کام کاج کرنا کوئی مشکل نہیں ہے بشرطیکہ آخرت کی فکر ضرور ہو خوفِ خدا ہو اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر لگتا ہو لیکن سر کھلا رکھنا یا سر کے اوپر اتنا باریک دوپٹہ اوڑھنا کہ اس میں سے سر کے بال نظر آ رہے ہیں یا برائے نام دوپٹہ استعمال کرنا یا دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا ہے سر پر نہیں رکھا ، بازو بھی کھلے ہوئے ہیں کہنیاں بھی کھلی ہوئی ہیں ، کلائیاں بھی کھلی ہوئی ہیں اور ان کلائیوں میں زیورات بھی پہنے ہوئے ہیں اور آج کل تو پنڈلیاں کھولنے کا منحوس رواج بھی چل پڑا ہے لہذا گھر کے جو نا محرم مرد ہیں ان کے سامنے اعضاء کو کھولنا جائز نہیں اور گھر کے باہر کھولنا تو کسی صورت جائز نہیں ہے لیکن آج مسلمان خواتین کا جو حال گھر کے اندر ہے اس سے زیادہ برا حال گھر کے باہر ہے باہر نکلتے وقت برقعے اور پردے کا کوئی نام ہی نہیں ہے اور جو کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ بھی اتنے باریک ہیں یا اتنے چُست ہیں کہ جسم کا ہر حصہ نمایاں ہو رہا ہے 

    لہذا خواتین یہ بات سن لیں کہ نامحرم مردوں کے سامنے ننگے سر آنے والوں کا عذاب سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بیان فرما رہے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ان کو جہنم کے اندر سر کے بل لٹکتے ہوئے دیکھا ہے اور ان کا دماغ ہانڈی کی طرح پک رہا تھا ۔ اللہ کی پناہ

     عورت گھر سے سخت مجبوری میں نکلے اور جب گھر سے باہر نکلے تو سادہ اور باپردہ لباس میں نکلے ، جب گھر سے باہر نکلے تو خاوند کی اجازت سے نکلے ، آج کے زمانے میں بازار میں آپ کو صرف دس پندرہ فیصد مرد نظر آئیں گے باقی نوے فیصد عورتیں نظر آئیں گی ۔ جب عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان زور سے آواز دیتا ہے وہ دیکھو عورت جا رہی ہے سب مرد حضرات اس کی متوجہ ہوتے ہوئے عورت کی طرف دیکھتے ہیں دوستو عورت کہتے ہی با پردہ چیز کو ہیں لہذا گھروں میں اسلامی نظام لائیں اور اپنا اہل و عیال محفوظ رکھیں ۔

    مرد حضرات کو بھی چاہیے کہ اپنے نگاہیں نیچی رکھیں اور کبھی بھی شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں توبہ استغفار کا کثرت سے ورد زباں پر جاری رکھیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھے آمین

    Sabir Hussain

    @SabirHussain43