Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • "ڈپریشن” ایک بیماری اوراسکا علاج .  تحریر : لائبہ طارق

    "ڈپریشن” ایک بیماری اوراسکا علاج . تحریر : لائبہ طارق

    آجکل ہردوسرے نوجوان میں ایک چیزمشترکہ پائی جا رہی ہے وہ ہے ڈپریشن.
    ڈیپریشن ایک ذہنی بیماری ہے جو آپ کے مزاج یعنی جسطرح سے آپ خود کو اور اپنے ارد گرد کی چیزوں کو سمجھتے ہیں اسکو متاثر کرتی ہے۔ اسکے مختلف نام ہیں جیسا کہ کلینیکل ڈپریشن(Clinical Depression)، میجر ڈیپریشن کی بیماری (Major Depressive Disorder) یا Major Depression ہے۔

    ڈیپریشن ایک ایسی بیماری ہے جو بغیر کسی وجہ کے سامنے آسکتی ہے اور یہ بیماری ایک لمبے عرصے تک ہوسکتی ہے۔ ڈیپریشن کوئی غم یا موڈ خرابی کا نام نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک چیز کا نام ہے ۔ جو لوگ ڈیپریشن سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ لوگ خود کو بیکار اور بے یار و مددگار محسوس کرتے ہیں۔ وہ بغیر کوئی وجہ کے خود کو مجرم محسوس کرتے ہیں۔

    کچھ لوگ ڈیپریشن کا سامنا غصے اور چڑچڑاپن کی صورت میں کرتے ہیں جس سے نا صرف توجہ دینے یا فیصلے کرنے میں انکو مشکل پیش آتی ہے بلکہ زیادہ تر لوگ ایسی چیزوں میں دلچسپی کھو دیتے ہیں جن سے وہ عام زندگی میں لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسکی وجہ سے ہی وہ خود کو بھی دوسروں سے الگ کر دیتے ہیں۔

    ان کے علاوہ ڈیپریشن کی جسمانی علامتیں بھی ہیں، جیسے کہ نیند، بھوک، توانائی اور نامعلوم درد یا تکلیف کے مسائل شامل ہیں۔ کچھ لوگ اس بیماری میں موت یا اپنی زندگی کے خاتمے (خودکشی) کے بارے جیسے مشکل خیالات کا تجربہ سے گزرتے ہیں۔ ڈیپریشن دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک رہتی ہے اور عموماً یہ بیماری خود ختم نہیں ہوتی ہے جو آپکی پوری زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

    ڈپریشن سے نکلنے کے لیں اپنی طرز زندگی بدلیں پہلا قدم اٹھانا ہمیشہ سب کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اپنے سکون کے لیے انسان کو کوشیش کرنی ہوتی ہے ۔اپنی زندگی میں ان لوگوں اور چیزوں کو شامل کر لیں جن سے آپکو خوشی ہو مثال کے طور پر سیر کیلئے جانا یا اپنی پسندیدہ موسیقی پر رقص کرنا یہ آپ کے موڈ کو بوسٹ اپ اور آپکو کافی حد تک انرجی دے سکتا ہے اپنی پسند کا کھانا تیار کرنا یا کسی پرانے دوست سے ملنے جانا ۔ ان چھوٹے لیکن مثبت اقدامات سے آپ ڈیپریشن جیسی بیماری سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپ خود کو خوشحال، صحت مند اور پر اُمید محسوس کرینگے،
    اپنی نیند کا خاص خیال رکھیں ۔نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے انسان چڑچڑا ہو جاتا ہے ۔اگر آپ نے اپنی مدد آپ کے تحت اقدامات اٹھاۓ ہیں لیکن طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں آنے کے بجائے ڈیپریشن مزید بڑھ رھا ہے تو پھر ضروری ہے کہ پیشہ ورانہ مدد حاصل کریں۔

    ماہر نفسیات کے پاس جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کے آپ پاگل ہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ کو خود سے پیار ہے اور اپنے اپ کو ٹھیک کرنے کے لیے مدد لے رہے ہیں ۔ماہر نفسیات تھراپی اور کونسلنگ سے آپکے مسئلے کو حل کرتا ہے اور آپ خود کو ایک بہتر انسان محسوس کرتے ہیں۔ اپنی زندگی سے منفی سوچ کو نکال دیں اور اپنے ذہنی صحت کو بھی اتنا ہی سیریس لیں جتنا جسمانی صحت کو لیتے ہیں۔

    صحتمندی اورپھرذھنی صحتمندی ایک نعمت ھے اسکی قدرکریں۔

    @LaaybaTariq

  • تحریر: اصغر بلوچ  ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقامات

    تحریر: اصغر بلوچ ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقامات

    ڈیرہ غازی خان کا شمار پاکستان کے سیاحتی مقامات میں سے ہوتا ہے
    قدرت نے ڈیرہ غازی خان کو سبز پہاڑوں سے ڈھانپ رکھا ہے
    آئیں آپکو لیں چلتے ہیں ڈیرہ غازی خان کا مری
    یعنی فورٹ منرو
    ڈیرہ غازی خان کا فورٹ منرو ڈیرہ غازی خان کے لوگوں کے لیے مری سے کم نہیں ہے  جہاں گرمیوں میں بھی شدید سردی ہوتی ہے فورٹ منرو چاروں طرف سے خوبصورت پہاڑوں میں چھپا ہوا علاقہ ہے جس کا حدود بلوچستان سے بھی ملتا ہے اور یہ ٹرائبل ایریا کہلاتا ہے یہ علاقہ بلوچ لیوی کے کنٹرول میں ہوتا ہے
    فورٹ منرو میں خوبصورت پہاڑ اور چین کی مدد سے بنایا گیا ایک خوبصورت اسٹیل پل سیاحوں کو اپنی طرف مائل کرتا ہے ڈیرہ غازی خان میں شدید گرمی کی وجہ سے کافی لوگ نقل مکانی کرکے فورٹ منرو چلے جاتے ہیں جہاں گرمیوں کا موسم گزارنے کے بعد واپس آجاتے ہیں
    فورٹ منرو میں اونچے سرسبز پہاڑ اور پہاڑوں سے نیچے بادل لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں یہاں گرمیوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے
    فورٹ منرو میں بارشوں کا سلسلہ ہر دوسرے دن جاری رہتا ہے
    ڈیرہ غازی خان فورٹ منرو قدرت کا حسین کرشمہ ہے
    پاکستان بھر سے آئے سیاحوں کا دل جیت لیتا ہے
    اگر آپ بھی اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو بلاخوف خطر آپ تفریح کے لیے آسکتے ہیں
    تحریر MAsgharBloch

  • ‏قربانی کا فلسفہ . تحریر : فہد ملک

    ‏قربانی کا فلسفہ . تحریر : فہد ملک

    مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے۔ قربانی حضرت سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اس امت (محمدیہ) کیلئے باقی رکھی گئی ہے۔ ہرصاحب نصاب مسلمان پر قربانی واجب ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قربانی کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا.

    فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَا نْحَرْ 
    "پس تم اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو”

    قربانی ایک ایسی عبادت ہے کی اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت سیّدنا اسماعیل علیہ السلام کی جان کے فدیہ میں دنبہ دے کر اسے مقرر کیا۔
    ارشاد بانی ہے
    وَفَدَينٰهُ بِذِبٌٍِح عَظِيمٍ
    "ہم نے ایک بڑا دنبہ اسکے فدیہ میں دے کر اسے بچا لیا”

    قربانی اسلام شعار اورنعمت الہی ہے۔ تقوی پرہیز گاری اور رضائے الٰہی کیخاطر دی جانے والی قربانی کو اللّٰہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔
    ارشاد بانی ہے:
    "اللّٰہ تعالٰی کو ہرگز ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ہی انکے خون، ہاں تمہاری پرہیز گاری اس تک باریاب ہوتی ہے”

    اللّٰہ تعالٰی کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنا نہایت ہی پسندیدہ امر ہے۔ عیدالاضحٰی کے ایام میں خالق کائنات کو قربانی سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں۔ قربانی کا دن اللّٰہ تعالٰی کے ہاں بہت عظیم دن ہے۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
    "یقیناً اللّٰہ تعالٰی کے ہاں سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے”

    ثواب کی نیت سے قربانی کرنا آتش جہنم سے روکاوٹ کا باعث ہے
    حضرت سیّدنا عباس رضہ اللہُ تعالٰی سے روایت یے
    "جو مال عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا،اس سے زیادہ کوئی مال پیارا نہیں”
    سنت ابراہیمی کو پورا کرنے کی غرض سے دبح کئے جانے والے جانور کے ساتھ ساتھ اپنی شہرت ریاکاری اور دنیاوی خواہشات کو بھی قربان کیا جائے۔ اور خالصتاً رضائے الٰہی اور تقویٰ پرہیزگاری کے حصول کیلئے قربانی پیش کی جائے۔
    کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اللّٰہ تعالٰی ہمارے جانور کے گوشت اور خون کی حاجت نہیں وہ ہمارا جذبہ قربانی اور تقویٰ کو ملاحظہ فرماتا ہے۔دعاہے اللّٰہ تعالٰی سب کی قربانی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے آمِین۔

    ‎@Malik_Fahad333

  • میں کیوں نا کپتان کو سپورٹ کرو . تحریر : عامر خان

    میں کیوں نا کپتان کو سپورٹ کرو . تحریر : عامر خان

    مخلوقِ خدا جب کسی مشکل میں پڑی ہو,
    سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہی ہوتی,

    ہر شخص سر پر کفن باندھ کر نکلے,
    حق کے لئے لڑنا تو بغاوت نہی ہوتی.
    (حبیب جالب)

    جب ضیاء دور ختم ھوا اس وقت پاکستان کے تمام ادارے منافع دے رہے تھے پاکستان سٹیل ملز PIA ریلوے واپڈا OGDC ریڈیو پاکستان پاکستان ٹیلی وزن ptcl وغیرہ وغیرہ تمام کے تمام منافع کمال رہے تھے پاکستان پر قرضہ نہ ہونے کے برابر تھا
    پاکستان میں گھی 25 روپے پیڑول 11روپے 75پیسے ڈیزل 9روپے 25 پیسے آٹا 150 روپے چینی دال چاول سب کچھ چند روپوں میں ملتا تھا ضیاء دور کے بعد ppp /pml اور مشرف نے حکومت کی 2018 تک گھی دال چینی ڈیزل پٹرول آنا کہاں چھوڑ گے آپ بتا دیں کیا اس درمیان عمران خان نے حکومت کی ؟؟؟ یقیناً نہیں ۔

    پھر اس کا زمہ دار کون سابقہ حکمرانوں نے صرف مہنگائی کی ہوتی بلکہ ۔ 2018 میں جب یہ کرپٹ حکمران گئے تو سٹیل مل بند تھی نہ صرف بند تھی بلکہ اربوں نقصان میں تھے ملزمین صرف تنخواہیں لے رہے تھے pIA جو دنیا کی نمبر ون تھی تباہ ہوچکی تھی بلکے اربوں کے خسارے میں تھی تمام کے تمام ادروں کو تباہ کرگئے ہر سرکاری ادارہ خسارے میں چھوڑ کے گئے. معیشت کو تو ان لوگوں نے ڈبویا ساتھ ملکی سلامتی خیریت بھی کھا گئے قوم کیا ہوتی قوموں کو کیسے جگایا جاتا ہے کیسے انکو خواب دکھائے جاتے ہیں یہ سب بھی ساتھ لے گئے.

    2018 سے پہلے پاکستان پر امریکہ جہاں چاہتا ڈرون گرا دیتا تھا پاکستان کی حدود میں آکر فوجی کارروائی کرکے جلا جاتا کیوں ؟؟؟
    کیونکہ اس وقت ہمارے حکمران بزنس مین کرپٹ اور بزدل تھے جنرل ایوب اور جنرل ضیاء کے بعد دونوں پارٹیاں آمریت کی نرسری میں پل کر بڑی ہوئی اور یہ سب کسی سے چھپا ڈھکا نہیں اب انکو پھر سے وہی ہاےھ چاہیے جو انکو چور راستے سے اقتدار دلاتے تھے لیکن اب وقت بدل گیا پاکستان کی مجبوری بن گئ ہے ایسا لیڈر جو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے اب پاکستان کی ضرورت بن گئ ہے کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں ایک پیج پر ہوں نا کے اپنی ہی فوج کو بدنام کرنے کیلئے کرپٹ حکومت ضرب عضب جیسے اپریشن کے دوران ڈان لیکس کروائے چلیں بات آگے بڑھاتے ہیں جب سے عمران خان کی حکومت آئی ایک ڈرون حملہ یا حدود کی خلاف وزاری امریکہ کی بدمعاشی ختم ہوگئ

    عمران خان نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی جی ہاں پہلی بار امریکہ کو No کہا وہ بھی اس ملک کے وزیراعظم نے جو آئی ایم ایف کا قرضائ ہے جس ملک کے بزنس مین حکمرانوں اور جرنیلوں سے ڈو مور کیا جاتا تھا اب اسی ملک کا وزیراعظم نو مور کہہ رہا ہے بلکے پاکستان کی حدود اب کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی نا کسی دوسرے ملک کو اپنے خلاف انکی سرزمین استعمال ہونے دیں گے .

    پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک حکمران آیا جو سعودی بادشاہ سے کہتا ھے تمہاری جیلوں میں میرے غریب پاکستانی قیدِ ھیں ان کو چھوڑ دیں 24 گھنٹوں میں وہ 2300 گھروں کے چراغ آزاد ہوجاتے ھیں سری لنکا جاتا ھے کہتے ھے ہم مسلمان میت کو دفناتے ہیں میت کو جلانے والا قانون ختم کیا جائے مسلمانوں کیلئے کہہ کر واپس پاکستان نہیں پہنچا مسلمان میت کو دفنانے کی اجازت مل جاتی ھے سعودیہ کہتا ھے ترکی ڈرامہ ارتغرل غازی پاکستان نہیں دیکھا سکتا پاکستان ٹیلی-ویژن پر کیونکہ ہم ترکی کو پسند نہیں کرتے ساتھ اسرائیل کو ایکسپٹ کرنے کا بیک ڈور پریشر بھی ڈال کر دھمکی دی گئ اگر ایسا نا کیا تو ہم تیل نہیں دیں گے اور ہمارے 2 ارب ڈالر واپس کرنے ہوں گے ہمارا لیڈر تیل بند کروا لیتا ھے ڈالر ان کے واپس کردیتاہے مگر اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا ۔
    میں جو کام کل کررہا تھا وہی آج بھی کررہا ھوں میں میرے بھی غریبوں والی زندگی گزار رہا تھا آج بھی گزار رہا ھوں
    مگر مجھے فخر ھے میں ایک غیرت مند قوم بننے جارہا ھوں دنیا میرے پاکستان کی عزت کررہی ھے میرا لیڈر کرپٹ چور نہیں ایک غیرت مند حکمران ھے وہ اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا وہ دنیا میں جاکر اپنی ملیں کارخانے لگانے کی بات نہیں کرتا
    وہ مسئلہ امہ کی بات کرتا ھے وہ کفار کے ایوانوں میں کھڑے ہو کر کہتا ھے اے اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگتے ھیں
    جو کفار کے ایوانِ ان کے درمیان کھڑے ہو کرکہتا ھے ہمارا ایمان لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ پر ھے ہم لڑنے والے نہیں ہمارے ساتھ جو لڑے گا تو ہم بم ماریں گے ہم آخری سانس تک لڑیں گے جو بولتا ھے تو دنیا خاموشی سے سنتی ھے
    تمہیں تمہارے لیڈر نصیب
    مجھے میرا لیڈر نصیب

  • انصاف کمانا تحریر: عتیق الرحمان

    انصاف کمانا تحریر: عتیق الرحمان

    کسی بھی معاشرے کے بہتر نظام کی بنیادی اکائی انصاف ہے جو امیر اور غریب کے درمیان امتیازی سلوک کے بغیر فراہم کیا جانا چاہیے
    کھانے کے لئے روٹی رہنے کے لئے چھت اور صحت کے لئے دوائی ہر کوئی کسی نا کسی طرح حاصل کرہی لیتا ہے کیونکہ ان سب کے لئے بس ایک شرط ہے وہ ہے محنت
    لیکن انصاف کمایا نہیں جاسکتا بلکہ یہ معاشرے کے فیصلے کن افراد فراہم کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والی چیزوں کا تدارک ہوسکے
    بدقسمتی سےپاکستان میں اس سے بلکل اُلٹ ہے
    انصاف فراہم نہیں جا رہا بلکہ لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ ہمت ہے تو کماؤ اور حاصل کرلو۔ اب یہاں بات ہے کہ انصاف کمانے سے کیا مراد ہے تو اسکا مطلب ہے خریدنا۔ یعنی جس کے پاس پیسہ ہے وسائل ہیں تو انصاف بھی اسی کو ملے گا ورنہ جس کے پاس یہ سب نہیں ہے وہ مظلوم ہوتے ہوئے بھی سزا کا حق دار کہلائے گا
    اسکی تازہ مثال عبدالمجید اچکزئی ہے جس نے سرعام لوگوں کے سامنے ایک کانسٹیبل کو اپنی لینڈ کروزر کے نیچے روند کر قتل کردیا لیکن عدالت نے فیصلہ دیا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں لحاظہ انہیں باعزت بری کیا جاتا ہے۔ وہ قتل جسے بیچ چوراہے ہزاروں افراد نے اور سی سی ٹی وی فوٹیج لاکھوں افراد نے دیکھی اسکے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اسکا کیا مطلب ہوا کہ عبدالمجید اچکزئی نے انصاف کمایا اور کانسٹیبل کے گھر والے کما نہ سکے
    اس سے بدتر مثال یہ کہ تفتیش کرنے والے بھی بک جاتے ہیں۔ گاڑی میں سفر کررہا تھا تو ساتھ والی سیٹ پر سب انسپیکٹر پولیس بیٹھا ہوا تھا۔ اس راستے میں اسے بے شمار کالز آرہی تھی جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ کسی ریپ کیس کا تفتیشی آفیسر مقرر ہے یہ۔ پہلی کال مدعی کی آئی جسے جناب نے پیار سے بہلا پھسلا کر نہ جانے کون کون سے میڈیکلز کروانے کا کہہ کے بات ایک ہفتہ آگے کردی اور دوسری کال خود ان افراد کو ملائی جو مجرم تھے اور انہیں کہتا کہ میں جتنا ہوسکتا تھا اتنا آگے کردیا ہے معاملہ تو اب اس بیچ میں معاملات طے کرنے کی کوشش کرو میں صلح نامہ کروا دونگا
    اب ایسے حالات میں مظلوم جائے تو کہاں جائے جس کے پاس نہ وسائل نہ پیسہ نہ کوئی تگڑی سفارش تو وہ ظلم سہہ کہر بھی سزا پاتا ہے
    اللّہ ہمارے منصفوں کو ہدایت نصیب کرے

    تحریر: عتیق الرحمان
    @AtiqPTI_1

  • میرا وطن . تحریر: عائشہ رسول

    میرا وطن . تحریر: عائشہ رسول

    وطن کی مٹی میں جو خوشبو ہے وہ پردیس کے پھولوں میں کہاں ہے. ہم وطن کو برابھلا کہتے ہیں جبکہ وطن نے ہمیں پہچان اور ایمان دیا ہے .میری روح میرے وطن پر قربان. اے میرے وطن! کوئی ہے جو مجھے امن و سلامتی دے مجھے انصاف دے عزت نفس دے میرے بھروسے پر پورا اترے .! اے میرے وطن! میرے حکمرانوں نے میری کشادہ مزاجی چھین لی ہے میں حوصلہ افزائی سے مرحوم کر دیا گیا ہوں میرے زہن کی تمام صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا گیا. میں خود پر رو نہیں سکتا.. میرے سوتے خشک ہوگئے ہیں۔ ظلم دیکھ دیکھ کر میری آنکھوں کا نور زائل ہوگیا ہے. اے میرے وطن! تیری کھیتاں صحراوں میں تبدیل ہو نے والی ہیں تو بوند بوند پانی کو ترس جائے گایہ آب فروش حکمران تیری رگوں سے خون نچوڑ لیں گے انکی بانجھ نسلیں ہمارا مستقبل تباہ کردیں گی.

    اے میرے وطن! میرے پاس میری پاس اپنی درد مندی کا علاج نہیں تیرا رزق کھاتے ہیں اور تیرے لیے انکی زبان پر دعا نہیں رعایا اور حاکم کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے… یہ وطن. سے محبت کی کمی کی وجہ سے ہے اے میرے وطن! عزت سے خود کشی بھی کر لوں تو میرے لیے باعثِ فخر ہے ؛ بیگانے دیس میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کروں اور وصیت یہ ہو کہ مجھے وطن میں دفن کیا جائے .یہ کتنا بڑا اپنے نفس کے ساتھ دھوکا ہےوطن سے بغاوت ہے وطن کی نافرمانی ہے.

    اے وطن! میں زہنی غلام بن کر نہیں رہنا چاہتا. مجھے اجازت دے کی میں خود کشی کر لوں میں زندہ نہیں رہنا چاہتا جہاں میرے لیے امن و سلامتی اور انصاف نہیں. جہاں میرے پاس انصاف خریدنے کے لیے دولت نہیں میں اپنی عزت نفس بیچ کر بھی زندگی کو امن نہیں دے سکتا
    بتا اے وطن! میرا گناہ کیا ہے یہ کہ میرے آباؤاجداد نے اپنا خون دے کر تجھے حاصل کیا تھا اور آج میں اپنے ہی وطن میں لاوارث ہوں قانون مجھے تحفظ نہیں دے رہا.

    کیا اب بھی میں غلام ہوں غلام زہنی غلام ہوں مجھے اپنے ہی وطن میں بے گناہ مارا جا رہا ہے میں اپنا عقیدہ چھپا رہا ہوں .مجھے عقیدت کے نام پر قتل کیا جا رہا ہے میرا وطن قتل گاہ بن گیا.

    @Ayesha__ra

  • زبان اقوام کی پہچان . تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

    زبان اقوام کی پہچان . تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

    زندہ وطن میں روحِ ثقافت اسی سے ہے
    آزادیِ وطن کی علامت اسی سے ہے

    زبان کسی بھی قوم کی ثقافت کا بنیادی جزو ہے۔زبان ہی کے ذریعے انسان اپنے خیالات، جذبات اور احساسات دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ زبان کسی بھی قوم کی پہچان کی علامت ہوتی ہے۔ زبان ہر قوم کی قومی یکجہتی اور اتحاد کا مظہر ہوتی ہے۔ایسی زبان جو عوام کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرتی ہو اور اس قوم کے تمام لوگ اس زبان کو بذریعہ اظہار استعمال کرسکیں اسے قومی زبان کہتے ہیں۔
    زبانوں کا اختلاف دو قوموں کی ثقافت کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ بعض اوقات زبان کا تنازعہ دو مختلف ممالک کے قیام کا موجب بن جاتا ہے۔

    ہمارے ہاں تقسیم پاک و ہند ہو یا تقسیم مشرقی پاکستان و مغربی پاکستان اس تقسیم کی بنیادی وجہ زبان ہی تھی۔
    1867 میں بنارس میں ہونے والے اردو ہندی تنازعے کے بعد برصغیر کے مسلمانوں میں الگ وطن کے حصول کی خواہش اٹھی۔ سرسید احمد خان نے اسی تنازعے کے بعد دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھی اور تمام دنیا کو باور کروایا کہ ہندوستان ایک برصغیر ہے ملک نہیں اور یہاں پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں اور ان میں مسلمانوں کی الگ پہچان ہے۔زبان کا ہی تنازع قیام پاکستان کا سبب بنا۔

    کسی بھی ملک و قوم کی قومی یکجہتی کا انحصار اس ملک و قوم کی قومی زبان پر ہوتا ہے۔ قومی زبان ملت میں یگانگت کا سبب بنتی ہے۔ قوموں کی فلاح و بہبود اور زندہ ہونے کا ثبوت اس قوم کی زبان ہوتی ہے۔

    @mujahidabbasta1

  • پردیس کی زندگی . تحریر: ثاقب محمود ستی

    پردیس کی زندگی . تحریر: ثاقب محمود ستی

    اپنوں سے بہت دور پردیس کی زندگی کتنی مشکل ہے وہی لوگ جان سکتے ہیں جو پردیس میں رہ کر آئے ہوں ۔خاص کر وہ لوگ جو پرائے دیس میں مزدوری کے لئے جاتے ہیں ۔ زرا سوچئے اپنے ماں پاب سے دور بیوی بچوں سے دور بہن بھائیوں سے دورپردیس کی زندگی کیسی ہو گی ؟

    خدا نخواستہ!
    اگر کسی کی موت ہوجائے اور آپ پردیس میں ہیں لیکن آ نہیں سکتے مرنے والا آپکا بہت پیارا ہے ۔ تو آپکے دل پر سے کیا گزرے گی ؟
    اگر آپکے کسی پیارے کی شادی ہے گھر میں کوئی خوشی کا موقع ہے اور آپ کسی عرب ملک میں کفیل کے پاس پھنسے ہیں جو آپکو چھٹی نہیں دے رہا تو آپکے دل پر کیا گزرے گی ؟

    یقینا” آپ تڑپ جائیں گے ترس جائیں لیکن چارو ناچار کیا کر سکتے ہیں کسی خوشی کے موقع پر یا غم کے موقع پر آپ اپنے پیاروں
    کے پاس پہنچ نہیں سکتے ۔ مپردیس کی زندگی کیسی ہے یے پردیسی ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ پردیس میں صبح اٹھنا اپنا ناشتا خود بنانا ۔
    پھر ڈیوٹی پر جانا ٹائم سے لیٹ ہو جانے کاڈراگر لیٹ پہنچے تو تنخواہ کاٹ لی جائے گی ۔ ہائے واپس آکر اپنے کپڑے بھی خود دھونے ہیں اپنی ہانڈی روٹی بھی خود کرنی ہے اور اس کے بعد ٹائم نکال کر گھر فون کال بھی کرنی ہے ۔ پورا دن مدیروں کی گر گر سننے کے بعد کچھ سکون کے لئے گھرفون کریں گے تو نئی نئی فرمائشیں تیار ہونگی گھر سے بیوی بچوں کی بہن بھائیوں کی نئی سے نئی ڈیمانڈ پوری کرنی ہیں ۔

    لیکن افسوس !
    صد افسوس کسی نے یے نہیں پوچھنا کے آپ ٹھیک بھی ہوآپ اتنا کام کرتے ہو کہیں تھک تو نہیں گئے طبیعت تو صحیح ہے آپکی ۔ لیکن نہیں فرمائش ہوگی نئے فون کی ٹیب چاہیے بچوں کے لئے نئے کپڑے کسی نہ کسی رشتہ دار کی شادی آرہی ہے آپ بس پیسے
    بھیجتے جاو پیسے بنانے والی مشین بن کے رہوبس ۔ اگر آپ بیمار ہو گئے تو بھی آپ نے اپنا خیال خود رکھنا ہے کیونکہ یہاں اماں جی تو بیٹھی نہیں پردیس ہے ۔ یہاں لوگ یے سمجھتے ہیں کے بیرون ملک میں مقیم ہے بہت کماتا ہے ریالوں میں لیکن پتا اسی کو ہوتا ہے کے کن مشکلات میں رہ کرکماتا ہے ۔ گھر والوں کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے تین تین سال گھر سے دوررہتا ہے ۔ پرائے لوگوں کی باتیں سنتا ہے اوراپنا ہر کام خود کرتا ہے ۔ پردیس میں مزدوری کرنے کے بعد جب گھر آو تو کچھ دن تو اپنے بیوی بچے بہت خوشی کا اظہارکرتے ہیں لیکن جیسے جیسے دن گزرتے ہیں اور آپ اپنے بچوں کو کسی برے کام سے روکتے ہیں بچوں کو آپ انتہائی برے لگنے لگتے ہیں ہٹلر ٹائپ باپ اچھا بھلا پردیس میں تھا اب گھر آکر ناک میں دم کیا ہوا ہے ۔ پھر چارو ناچار پوچھنا شروع کردیں گے پاپا آپنے واپس نہیں جانا کیا ؟

    آپ واپس کب جائیں گے اتنا نہیں سوچیں گے کے ہمارے سکھ کی خاطر اس باپ نے اپنی پوری زندگی پردیس میں کاٹی اب بوڑھا
    ہونے کو ہے کچھ آرام کرلے ۔ نلیکن نہیں کس کو احساس ہی پردیس میں میں رہنے والے تو پیسے بنانے کی مشین بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمیں کم ازکم اپنوں کے ساتھ تو یے ظلم نہیں کرنا چاہیے اپنے پیاروں کا احساس کرنا چاہیے ۔ نمیری گزارش ہے تمام لوگوں سے جن کے پیارے پردیس میں یعنی بیرون ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہوں ۔ ان کا بہت خیال رکھیں اور ان کو فضول ڈیمانڈ نہ کریں جو وہ پوری نہ کرسکیں ۔ جب کوئی بیرون ملک سے فون کرے تو اس کی بات توجہ سے سنیں ۔ تاکہ اس کی دل آزاری نہ ہو کیونکہ یے آپکے لئے تمام مشکلات جھیل رہا ہے ۔

    اللہ پاک تمام پردیسی بھائیوں کی مشکلات آسان فرمائے آمین ۔

    @Ssatti_

  • تحریر:مریم صدیق  والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے تنازعاتہ

    تحریر:مریم صدیق والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے تنازعاتہ

    والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے تنازعات آج بھی ایک بہت اہم ملہچو ہے ۔ تاہم انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کی شدت میں بدلاو نظر آتا رہا جیسا کہ روایتی اور صنعتی دور کے آغاز میں نوجوان آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار اور کسی بھی حالت میں ان کا عملی مظاہرہ نہیں کر سکتے تھےلیکن پھر گزرتے وقت اور ترقی کے ساتھ آپس میں خاندانی تعلقات بھی بدلتے رہے اور آزادی رائے عام ہوتی رہی مگر اب بھی پہلے کی نسبت دو نسلوں کے مابین تنازعات زیادہ عام ہیں۔
    دراصل اس مےئلا کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تمام نسلیں اپنے اپنے دور میں رہنا چاہتی ہیں اور ہر دور کا ایک اپنا اصول و اقدار کا نظام ہوتا ہے جوکہ ہر نسل کے لیے بہت اہم ہے جس کا دفاع کرنے کےلیے وہ ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ کسی زمانے میں پرانی نسل کی زندگی سے متعلق نظریات کو انسانی وجود کی بنیاد سمجھا جاتا تھا ۔ اب اکثر بچےایک طرف اپنے کنبے کی زندگی کے تجربے کو اپناتے ہیں تو دوسری طرف بڑوں کے دباو سے بھی آزاد ی حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اور سامنے آنے والی ہر چیز کو مسترد کر دیتے ہیں کہ انہیں اپنی زندگی مختف انداز میں گزارنی ہے۔
    دراصل مسئلے کی بنیادی وجہ جنریشن گیپ ہے جس کا اثر دونوں کی سوچ پر مرتب ہوتا ہے۔اور اس مسئلے کا حل نوجوان نسل کی تعلیم اور اخلاقیات میں ہے۔ تعلیم کے معاملات میں سب سے پہلے آزادی رائے سے متعلق آگاہی،پھر شعوری طور پر فیصلے کرنے کی صلاحیت اور ان کے لئے ذمہ دار بننے کی اہلیت ، پھر خود اپنے آپ کو جاننے اوردنیاوی علم حاصل کرنے کی جستجو پر سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ اخلاقی تعلیم کے امور خصوصی توجہ کے مستحق ہیں مگر بدقسمتی سے فی الحال نئی نسل زندگی کی اقدار کے بارے میں بالکل مختلف نظریات رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور اخلاقیات کے علم کو معاشرتی طور پر عام ہونا چاہئے۔ جب نئی نسل جوانی کے دور میں داخل ہوتی ہے تو اسے معاشرے میں کئی ماںئل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ کرپشن، معاشرتی انصاف اور ثقافتی و معاشرتی ترقی میں کمی اس کا حل نوجوان نسل کو آگاہی دینے اور انکی لاعلمی کو ختم کرنے کی کوششوں سے ہی ممکن ہے تا کہ معاشرے اور ملک میں ثقافت کی سطح کو بلند کیا جا سکے۔
    والدین اور بچوں کے مسائل کی "جنریشن گیپ” کے علاوہ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جو انہیں نفسیاتی طور پر بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ اور یہ وجوہات دور کی تبدیلی یا معاشی و معاشرتی ترقی کے برعکس ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ بچوں اور والدین کے مابین مفادات کا تصادم ہے۔نوجوان خود کو ہر طرح سے قابل سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی پریشانیوں کا حل بخوبی نکال سکتے ہیں لیکن والدین کے لیے ان کے بچے ہمیشہ چھوٹے ، ناتجربہ کار رہیں گے جنھیں پہلے کی طرح معاشرے میں موجود خراب اثرورسوخ سے بچانے کی ضرورت ہے۔ فطرتی طور پر والدین تحفظ کے لیےبچوں سے طرح طرح کی گفتگو کرتے ہیں جن کو اکثر ہدایات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور بچے عام طور پر تنازعے کے اس حل کو مسترد کرتےدیتے ہیں ، کیونکہ انہیں یقین ہوتاہے کہ وہ پہلے ہی کافی عمر کے اور سمجھدار ہو چکے ہیں۔ نوجوان خود ہی مسائل کو حل کرنا اور ان کے لئے خود ذمہ دار بننا چاہتے ہیں۔ یقینا وہ غلط فیصلہ کرسکتے ہیں لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انہی غلطیوں کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ لہذا نفسیاتی سطح پر اس مسئلے کا حل دونوں نسلوں کو ہی آنا چاہئے۔ میری رائے میں والدین کو بات چیت کی شکل اور بچے کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہئے ۔ یہ ظاہر کریں کہ وہ ان کے معاملات میں اس کا راستہ روکنے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ اس کے برعکس ، کسی بھی چیز میں مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اور بچوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کو سب سے پہلے والدین کی تندرستی کا خیال رکھنا ہےاور اپنی حد میں رہ کر معاملات کو سلجھانے اور والدین کو سمجھنے کی بھی کوشش کرنی ہے۔
    عمر بڑھنے کا تقاضا یہ ہے کہ آپ نوجوان نسل کی مدد کریں نا کہ ان کے لیے روکاوٹ بنیں اور نا ہی ان کے حریف۔ ان ساری باتوں سے یہی نتیجہ اخذ ہوا کہ "والدین” اور "بچوں” کے مابین مسائل نےنہ صرف بہت سارے تنازعات اور تضادات کو جنم دیا ہے ، بلکہ اسے حل کرنے کے بہت سارے طریقے بھی پیدا کیے ہیں۔

    @MS_14_1

  • امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ . تحریر : محمد وقاص

    امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ . تحریر : محمد وقاص

    ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرحملہ کے بعد امریکہ افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم تھی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کا ماسٹر مائنڈ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا گیا۔جو اس وقت افغانستان میں پناہ گزیر تھے ۔امریکہ نے طالبان کے امیر ملا عمر پر دباو ڈالا کہ وہ اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کر دے ورنہ بعد میں آنے والے نتائج کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرایا جائے۔طالبان کے امیر ملا عمر نے اس امریکی پیشکش کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کو نہ ملک سے دربدر کریں گے اور نہ ہی کسی کے حوالے کریں گے۔

    اس کے کچھ عرصے بعد ہی امریکہ اپنی اتحادی فوجوں کے ساتھ افغانستان پر ٹوٹ پڑا۔افغانستان سے بھی کافی لوگ جو طالبان کی سخت اسلامی شرائط کی وجہ سے متنفر تھے انہوں نے بھی امریکہ کا بڑھ چڑھ کر اس میں ساتھ دیا اور یوں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا۔یوں امریکہ نے افغانستان میں اپنی مرضی کی ایک حکومت قائم کر دی جو ان کے اشاروں پر چلتی تھی۔

    بات یہیں ختم نہیں ہوتی امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیوں اور افغان فورسزز نے طالبانوں کے خلاف جگہ جگہ محاز آرائی شروع کر دی۔اس کے بعد نیٹو اتحادی فورسز نے ایک ایبٹ آباد میں خفیہ آپریشن کا کیا جس میں انہوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامی بن لادن کو مارنے کا دعوی کیا۔20 سال جنگ کرنے کے بعد امریکہ کو افغانستان میں اپنی شکست ہی نظر آ رہی تھی۔امریکہ نے کھربوں ڈالراس جنگ میں جھونک دئیے مگر ہاتھ میں ناکامی کے سوا کچھ نہ آیا۔لہذا انہوں نے اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ اب افغانستان سے کسی طرح انخلا کر لیا جائے۔اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہ تھا۔

    چناچہ امن معائدہ کا ٹاسک پاکستان کو سونپا کو گیا۔پاکستان کی ان تھک کوششوں کی وجہ سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا گیا۔جس کا اعتراف خود امریکہ اور دنیا بھی کرتی ہے ورنہ یہ امن معائدہ کھبی نہ طے پاتا اور یہ خونی جنگ کھبی نہ رک پاتی۔طالبان نے امن معائدہ میں شرط رکھی کہ تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ہی ہم امن معائدہ کر سکتے ہیں ورنہ ہمیں یہ معائدہ قابل قبول نہیں۔چونکہ امریکہ کی بھی یہ خواہش تھی کیونکہ امریکہ اس جنگ میں میں بھاری مالی نقصان اور جانی نقصان اٹھا چکا تھا اس نے یہ شرط قبول کر لی ۔اس طرح اس طویل 20 سالہ جنگ کا اختام ہوا۔

    امریکہ کی اس طویل 20 سالہ جنگ کے نتائج کچھ اس طرح سے بیان کیے جا سکتے ہیں۔2001سے 2020 تک 71000شہریوں کی جانیں گئیں۔66سے69 ہزارافغان فوجی جان سےگئے۔نیٹو کے 3500 فوجی ہلاک ہوئے.3800نجی سیکورٹی اہلکارجان سے گئے۔طالبان/دیگرجنگجوؤں نے84000جانیں گنوائیں۔27 لاکھ لوگ پڑوسی ملکوں میں چلے گئے۔32 لاکھ ملک کے اندر ہی در بدر ہیں۔پاکستان میں تقریبا 80 ہزار شہریوں کی جان گئی۔پاکستان کو ایک سو پچاس ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔امریکہ نے افغانستان کی تعمیر نو پر 1.43 کھرب ڈالر خرچ کئے۔کل ملا کر جنگ پر 22.6 کھرب ڈالر خرچ ہوئے۔ اور نتیجہ صرف تباہی تباہی اور تباہی نکلا.

    @WaqasUmerPk