Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم تحریر ثمینہ اخلاق

    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ 

    ‏حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات تمام کمالات کا مجموعہ ہے۔انسانوں میں سے کوئی بھی ہو اور کسی حال میں بھی ہو، اُس کی زندگی کے لیے نمونہ اور اس کے کردار واعمال کی درستی واصلاح کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں مکمل رہنمائی موجود ہے

    آپ ﷺ ۱۲ ربیع الاول کو دنیا میں تشریف لائے۔ اللّٰہ کے فضل سے ربیع الاول کا مہینہ پھر سے ہمیں نصیب ہوا ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں جانے اور اس مہینے کی مناسبت سے میلاد النبی کا اہتمام کرے اور درودپاک کا ورد کریں۔ 

    ایک مسلمان کی حیثیت سے سیرتُ النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مطالعہ ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرتِ مبارکہ ہی ایک ایسی سیرت ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے کے متعلق رہنمائی ملتی ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرت میں آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں بہت کچھ ملتا ہے جیسے خُلقِ عظیم، صبر وتحمل،اخلاص وتقویٰ،عدل واحسان،حُسنِ معاشرت،اندازِگفتگو اور گھریلو زندگی۔ 

    ہماری خوش نصیبی ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کا کوئی پہلو بھی ہماری پہنچ سے دور نہیں ہے۔ ہمیں حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاق حسنہ کی روشنی میں زندگی گزارنی چاہیئے۔ہم رسول ﷺ کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں صبر کی خوبیاں اپنائیں اور ہر قسم کی جسمانی ومالی آزمائشوں پر صبر کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور زندگی کے ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ ہم مکمل اخلاص وتقویٰ کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کریں اور نبی ﷺ کے بتائے ہوئے راستے کو اپنائیں۔یہی راہِ نجات ہے۔ 

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عدل و احسان کی بڑی فضیلت بیان کئ ہے۔ آپﷺ سب سے زیادہ عدل اور احسان فرمانے والے تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ عدل اور احسان کرنے والے سے محبت کرتا ہے۔

      ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں عدل و احسان سے کام لینا چاہیے، تا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ ہم سے خوش ہو جائیں اور ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے۔

        غرض یہ کہ رسول ﷺ نے تمام زندگی اپنے ہاتھ اور زبان مبارک سے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ آپ ﷺ نے معاشرے کے تمام افراد کو حسن معاشرت کی ترغیب دلائی اور اس کا طریقہ بھی سکھایا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ترجمہ (جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔)

           ہمیں چاہیے کہ اسوہ رسول اپنا کر ہم اپنے معاشرے میں اخوت،محبت اور رواداری کو پروان چڑھائیں۔

              رسول ﷺ کے خلق عظیم کا ایک نہایت اہم پہلو آپ ﷺ کا شیریں بیان اور حکیمانہ اندازِ گفتگو ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قیامت تک آپ ﷺ کی ذات مبارکہ کو اسوہ حسنہ بنایا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی گفتگو سے منع فرمایا جس سے لوگوں کی دل آزاری ہو اپنی زبان کی حفاظت کرنے والے شخص کو آپ ﷺ نے جنت کی ضمانت دی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اسوہ رسول ﷺ کی روشنی میں ہمیشہ اچھی بات کریں۔ بامقصد اور مفید گفتگو کریں۔فصول اور برے کلمات سے بچیں تا کہ ہماری گفتگو کے ذریعے آپس میں میل جول بڑھے اور معاشرے میں خوشگوار تعلقات فروغ پائیں۔

              رسول اللہ ﷺ کی گھریلو زندگی ساری اُمت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔ غمی، خوشی،تنگدستی،خوشحالی،غرض تمام حالتوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے زندگی کے ہر میدانوں میں قابلِ عمل ہے۔آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کو اللہ تعالیٰ نے بھی مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ اقرار دیا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کی سیرتِ طیبہ پر عمل کریں تا کہ دنیا و آخرت میں فلاح پا سکیں

     تحریر: ثمینہ اخلاق

     @SmPTI31

     

  • استاد قوم کا محسن تحریر ۔ غلام مرتضی

    استاد قوم کا محسن تحریر ۔ غلام مرتضی

    5اکتوبر کو دنیا بھر میں اساتذہ   کو خراج تحسین  پیش کرنے   کےلئے منایا  جاتا ہے

    آج بھی یاد ہے مجھے وہ سکول کا پہلا دن
    نیا بستہ نئے جوتے اور نئے کپڑے اور ایک نئی جگہ جانے کی خوشی تو تھی لیکن جب اُس جگہ پہنچ کر ابو کا ہاتھ چھوڑنا پڑا تو بہت مشکل لگا رونے لگا ہر بچہ کہ طرح ابو سے لپٹ گیا۔
    لیکن ایک نہایت شفیق انسان نے میری انگلی پکڑی ابو کہ ہاتھ سے میرا ہاتھ چھڑوایا اور مجھے گود میں اُٹھا کہ اندر لے گیا۔ سارا دن میرے آنسو صاف کئیے مجھے بھلایا اور رخصت کرتے وقت ٹافی دی اور کہا اگر روز آؤں گا تو روز ٹافی ملے گی۔
    اب جب میں یہ سب سوچتا ہوں تو خود پہ بہت ہنسی آتی ہے لیکن دوسری طرف آنکھ آبدیدہ بھی ہوتی ہے۔
    پھر جب ماضی کے خدوخال کا نقشہ دماغ میں کھینچتا ہوں تو بہت دل کرتا ہے میں لوٹ جاؤں وہیں جہاں سے میں سب سبق سیکھیں۔جہاں میں نے دنیا کے ساتھ قدم ملا کہ چلنا سیکھا۔
    جہاں میں نے پنسل پکڑنا اور پھر لکھنا سیکھا۔میں نے الف سے انار سیکھا۔
    تختی پہ لکھا۔
    بہت سی نظمیں پڑھیں۔
    سب سے بڑی بات مجھے میرے اُساتذہ کی شفقت رُلا دیتی ہے۔
    بابا کا ہاتھ جب چھوڑا تو محسوس نہ ہوا کہ میں نے بابا کا ہاتھ چھوڑا ۔محسوس ہوتا بھی کیسے ایک باپ کا ہاتھ چھوڑ کہ دوسرے کا ہاتھ تھام لیا تھا ۔
    وہ خوبصورت وقت بہت یاد آتا ہے کیونکہ وہ بیت گیا ہے۔کیونکہ اب اُس کے لوٹنے کا کوئی جواز نہیں ۔
    اُستاد کا رتبہ بعد میں جانا میں نے ۔
    اُستاد صاحب کہا کرتے تھے
    وکیل چاہتا ہے اسکا موکل جیت جائے
    ڈاکٹر چاہتا ہے مریض ٹھیک ہو جائے
    انجینئر چاہتا ہے اُسکی مشینری کامیاب ہو
    افواج چاہتی ہے ملک محفوظ ہو
    لیکن واحد اُستاد ہے جو یہ چاہتا کہ یہ سب کہ سب عروج کی بلندیوں کو چھو جائیں
    اُن کی یہ بات اب سمجھ میں آتی ہے کہ روحانی والدین کی خوشی صرف اور صرف اپنے بچوں کی کامیابی میں ہے
    یہ وہ خوبصورتی ہے جس کے بغیر چمن کا رنگ پھیکا ہے
    یہ پھول کی خوشبو ہیں
    اگر اقوام میں اُستاد قابل نہ ہوں تو قومیں پستی کا شکار ہوتی ہیں اور اگر قومیں استاد کی قدر نہ کریں تو بھی زوال اُن کا مقدر ٹھہرتا ہے ۔
    میں نے دیکھا ہے وقت ہو بدلتے میرے اساتذہ کی دعاؤؤں سے
    یقین جانے ایک سچا روحانی باپ یا روحانی ماں آپ کے حقیقی ماں باپ سے زیادہ آپکی قدر کرتے ہیں-آپکو زندگی کی ہر راہ میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ۔
    آج بھی جب کبھی میں اپنے روحانی ماں باپ کو دیکھو یا وہ مجھے پہچان جائیں یقین جانے اک عجب خوشی ہوتی ہے ایک عجب ہی احساس ہوتے وہ تمام تر ماضی روح پزیر ہو جاتا ہے بس پھر دل کرتا ہے لوٹ جائیں وہیں جہاں زندگی بہت خوشگوار تھی جہاں محبت کرنے والے بے وجہ بے شمار تھے

    استاد معاشرے میں مستریوں کا سا کردار ادا کرتے ہیں۔۔
    جو انسانوں میں شخصیات، اقدار اور اخلاق کے محلات کی تعمیر کرتے ہیں۔۔
    یہ لوگ علم و ہنر کی اینٹیں آپ کی شخصیت میں اس ترتیب سے لگاتے ہیں کہ ان کی آرائش و زیبائش سے معاشرہ ایک خوبصورت شہر میں اونچی نیچی شیش

    محلوں جیسی عمارات اور چمکتے دمکتے برقی قمقموں کی مانند

    میرے کردار کو سنوارنے اور معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل بنانے والے میری زندگی کی پہلی استاد میری ماں سے لے کر میرے قاعدے کے الف سے قرآن کے والناس تک درس و تدریس کے اسباق پرھانے والے، اور الف انار سے تعلیمی ڈگریوں تک زینہ بہ زینہ پہنچانے والے، مجھے لکھنے کا ہنر سکھانے والے سوشل میڈیا کے اساتذہ اور میرے وہ فالوور جنہیں خود تو شاید لکھنا لکھانا نہیں اتا مگر ان کے ٹوٹے پھوٹے کمینٹس سے مجھے پورا ایک موضوع ضرور مل جاتا ہے۔۔ زندگی کے تاریکیوں میں علم کی یہ شمع جلانے والے ان تمام اساتذہ کو آج کا دن بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ا

    اللہ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مزید کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔

    ‎@__GHulamMurtaza

  • محمد بن قاسم کے سپاہیوں کو سلام تحریر : احسن ننکانوی 

    محمد بن قاسم کے سپاہیوں کو سلام تحریر : احسن ننکانوی 

     
     

      بلوچستان کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے 

    خاص کر بلوچستان میں مہر گڑھ کی تہذیب جو کہ 10 ہزارسال سے 20 ہزار سال تک پرانی ہے تہذیب ہے

     بعض تاریخ دانوں کے مطابق لاکھوں سال قبل افریقہ کے لوگ ہجرت کر کے بلوچستان میں آکر آباد ہوئے۔مہر گڑھ کی تہذیب جو کہ دریا بولان کے کنارے بلوچستان اور سندھ کے علاقوں پر مشتمل تھی ۔

    جب سے بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھایا جارہا رہا ہے ہمیں اپنی قدیم تاریخ کا پتہ چل رہا ہے۔

    خاص کر جب سے سی پیک پروجیکٹ اور مکران کوسٹل ہائی ویز بنی ہے اس سے ہمیں اپنی پرانی تاریخ میں کچھ نئی چیزیں دیکھنے کو ملی ہیں۔

    جس میں چند ایک درجہ ذیل ہیں۔

    چندر گپ کے مڈ وال کینو:

    یہ مڈ وال کینو کوسٹل ہائی وے پر اگور اور پھور پوسٹوں کے درمیان واقع ہیں ہندو کمیونٹی انکو بڑی عزت کی نگا سے دیکھتے ہیں 

    اور ہر سال اپریل کے مہینے میں ہندو کمیونٹی کے لوگ پاکستان سمیت پوری دنیا سے یہاں آتے ہیں (تیرٹھ یا چندر گپ کی رسومات ) ادا کرے ہیں۔  

    ان رسومات میں ہندو مڈوال کینو کا کیچڑ اپنے جسم پر لگاتے ہیں اور انکے بقول ان کی تمام بیماریاں اور گناہ ختم ہو جاتے ہیں۔

    اور مڈ وال کینو کے کیچڑ میں ناریل پھینک کر مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

    ہنگلاج ماتا مندر نانی ماتا مندر:

    یہ مندر کوسٹل ہائی وے اگور سے دریائے ہنگول پر پندرہ کلومیٹر شمال کی طرف ہنگول پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔اور یہ پاکستان میں ہندوؤں کی دوسری بڑی اہم عبادت گاہ ہے۔

    تاریخ دانوں کے مطابق یہ ہندوؤں کی پچاس ہزار سے لیکر ایک لاکھ سال تک پرانا مندر ہے۔

    یہاں بھی پاکستان سمیت پوری دنیا سے ہندو کمیونٹی کے لوگ آتے ہیں اور بوجا پاٹ کرتےہیں

    اور اپریل کے مہینے میں ایک بڑے میلے کا اہتمام ہوتا جس میں پاکستان سمیت پوری دنیا کے ہزاروں ہندو اگور آتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

    اور ساتھ ناریل لیکر آتے ہیں اور پانی کے تالاب میں اپنا اپنا ناریل پھینکنے ہیں ہندوؤں کے بقول جس کا ناریل پانی میں ڈوپ جائے اس کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔

    اور جس کا ناریل نہیں ڈوبتا اسکی مراد پوری نہیں ہوتی ہے۔

    حکومت پاکستان نے یہاں کافی اچھی سڑک اور یاتریوں کیلئے کافی کمرے بھی بنائے ہیں۔

    ہندووں کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی یہاں آتے ہیں۔

    پرنس آف ہوپ کا مجسمہ:

    یہ ہنگول پہاڑوں کے درمیان ایک قدرتی مجسمہ ہے جس کو دیکھنے کیلئے پاکستان سمیت پوری دنیا سے لوگ یہاں آتے ہیں

    2005 میں سابقہ صدر جنرل پرویزمشرف کے دور میں ہالی وڈ کی ایکٹرس سٹار انجیلینا جولی بھی آئی بھی اور اس قدرتی مجسمے کو *پرنس آف ہوپ* کا نام دیا تھا۔

    اس کے علاوہ اور بھی بڑے بڑے قدرتی مجسمے اور ایسے ایسے زمین اور پہاڑوں کے خدوخال ہیں کہ یہ علاقہ ایک پرستان اور عجیب غریب دنیا کا منظر پیش کرتا ہے۔

    کنڈ ملیر بیچ:

    کنڈ ملیر بیچ بھی کوسٹل ہائی وے پر ساحل سمندر پر ایک اہم بیچ ہے جس کی ریت اور نیلا پانی ہر سیاح کو اپنی طرف کھینچتا ہے پورے پاکستان سے سیاح ہر موسم میں یہاں آتے ہیں۔ اور سمندر کی بڑی بڑی موجوں اور نیل گوں پانی کا لطف اٹھاتے ہیں۔

    گولڈن بیچ:

    کنڈملیر سے بوذی ٹاپ کی طرف جاتے ہوئے رسملان گاؤن تک گولڈن بیچ کا علاقہ ہے اس سیاحل کی ریت سونے کی طرح ہے اسکو اسی لیے گولڈن بیچ کہتے ہیں اور شام کو جب سورچ غروب ہوتا ہے تو ایک عجیب سا نظارہ ہوتا ہے

    ہنگول نیشنل پارک:

    ہنگول نیشنل پارک جو کہ سینکڑوں کلومیٹر رقبے پر پھیلا پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے جو کہ بلوچستان کے تین اضلاع لسبیلہ،گوادر اور آواران پرمشتمل ہے۔

    اس میں مختلف قسم کے مارخور، مختلف قسم ہرن،مختلف اقسام کے دوسرے جانور، پرندوں میں شاہین، تیتر، چکور، بٹیر، تلور اور دوسرے مختلف پرندے پائے جاتے ہیں۔

    محمد بن قاسم کے سپاہی:

    اگور میں کوسٹل ہائے وے سے صرف 15 میٹر فاصلے پر محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی قبریں ہیں جنکو ہم بلکل فراموش کر چکے ہیں

     یہ وہ سپاہی تھے جو کہ ایک مسلمان لڑکی کی فریاد پر ہزاروں میل کا سفر طے کر کے یہاں آئے تھے اور راجہ داہر کو شکست دی تھی اور اسی دن پاکستان کی بنیاد رکھ دی تھی۔

    ہمارےلیڈر اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا فرمان ہے کہ پاکستان کی بنیاد اسی دن رکھ دی گئی تھی جس دن ہندوستان کا پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔

    ہمیں ہر جگہ محمد بن قاسم کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے 

    محمد بن قاسم کے ساتھ انکے جانباز سپاہیوں نے بھی اپنی جان کی قربانیاں دی تھی۔

    لیکن ہم انکے جانباز سپاہیوں کو بھول گئے۔

    آج کوسٹل ہائی وے پر سب کو ان جگہوں کا معلوم ہے۔

    چندر گپت کے مڈ وال کینو:

    نانی ماتا مندر:

    پرنس آف ہوپ:

    ہنگول نیشنل پارک:

    کنڈ ملیر بیچ:

     گولڈن بیچ ان کا سب کو معلوم ہیں۔

    لیکن ہماری بدقسمتی ہے محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی یاد گار کو سب بھول گئے ہیں

    جو کہ بطور پاکستانی اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے میرے لئے افسوس کا مقام ہے۔ وہ قومیں ہمیشہ سرخرو رہتی ہیں۔جو اپنے اجداد اپنے ہیروز کو نہیں بولتی ہیں۔

    میری احکام بالا سے گزارش ہے کہ : 

    محمد بن قاسم کے شہید سپاہیوں کی یاد گار کی مرمت کی جائے۔اور اس کے ساتھ ایک اچھی سی کار پارک بنائی جائے اور درخت اور سبزہ ساتھ لگایا جائے اور افواج پاکستان کو اسکی ذمہ داری دی جائے۔ پاکستان بھر سے تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد اسکو دیکھنے کیلئے آئیں گے۔

     اگور پوسٹ کانام تبدل کر کے محمد بن قاسم پوسٹ رکھا جائے۔آخر میں پھر محمد بن قاسم کے سپاہیوں کو ایک پاکستانی کا سلام ۔

    آخری میں اس رپورٹ سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معافی چاہتا ہوں۔

    @AhsanNankanvi

  • چلو تم ہی بتاو پاکستان کس نے بچایا؟ تحریر : عظیم بٹ

     

    پاکستان کرہ ارض پر وہ واحد ملک ہے جہاں پر اکثر و بیشتر بیرونی تنقید اور طنز کے تیروں کے ساتھ اسے اندرونی سطح پر بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج سے قریبا 75 برس قبل آزاد ہوئے اس ملک میں جہاں بہت سے سامنے نظر آتے مسائل ہیں وہیں بہت سے ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انسانی آنکھ سے اوجھل اور انسانی دماغ سے پڑے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان میں برسراقتدار یا پاکستان کے نظریے اور اساس کے محافظ سمجھے جانے والے آخر یہ کیوں کہتے ہیں کہ پاکستان خدائی طاقت اور خدا کی رحمت سے آج تک چل رہا ہے۔ اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان میں پڑھے لکھوں کی تعداد دنیا میں اکثریت ملکوں سے کم ہے۔ اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان پر 70 سالوں سے اشرافیہ برسراقتدار ہے اور ہم آزاد ہو کہ بھی آزاد نہیں۔ اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی معیشت تو ان ممالک سے بھی گئی گزری ہو گئی ہے جو ممالک کسی دور میں پاکستان سے ملک چلانے کا گڑ سیکھنے آتے تھے۔ اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی فوج اتنی بہادر نہیں جتنا ہمیں بتایا جاتا ہے۔ اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان میں انگریز کی غلامانہ ذہنیت پروان چڑھائی جا رہی ہے۔

    ان سوالوں کے جواب میں مجھے اپنے ایک استاد محترم کا جملہ یاد آ جاتا ہے وہ کہا کرتے تھے بیٹا بعض سوالوں کا جواب بھی سوال ہوتا ہے۔

    اب اوپر کئے گئے سوالات جو ہمارے ہاں اکثر افراد آجکل کرتے ہیں میں تو صحیح اور غلط کی بحث سے نکل کر ان سوالوں کے جواب میں کچھ ترمیم شدہ سوالات ہی کرنا چاہتا ہوں اور چاہوں گا کہ اہل علم اس کے جواب میں جو چاہیں کہیں مگر قائل کریں۔ اگر قائل نا کر سکیں تو ضمیر کی آواز سے لڑیں مت بلکہ انا کو پس پشت ڈال کر حقیقت کو تسلیم ضرور کریں۔

    آپ کہتے ہیں کہ لوگ اس بات پر کیوں قائل ہیں کہ پاکستان کو کوئی خدائی طاقت چلا رہی ہم کہتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم یہ نا مانیں کہ ہم سے 4 گناہ بڑا ملک اور ازل سے ہمارا دشمن ہمارا حریف 75 سالوں میں سوائے گیڑر بھبکیوں کے آج تک ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکا اور سفارتی سطح پر کئی بار ہماری جانب سے اسے منہ کی کھانا پڑی۔ آخر ہم کیوں نا کہیں کہ ہمارے ہاں پڑھے لکھے باشعور لوگ موجود ہیں جو دنیا کی ہر فیلڈ میں کہیں کہیں اپنا نام قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا نام روشن کرتے رہے ہیں۔ ارفع کریم، عبدالسلام، ڈاکٹر عبدالقدیر، ڈاکٹر ثمر مبارک، عبدالستار ایدھی سمیت اس طرح کے افراد کی جنہوں نے سائنسی اور اخلاقی میدان میں جھنڈے لگائے لسٹ انتہائی طویل ہے۔ آخر ہم کیوں نا کہیں کہ 70 سالوں سے اس ملک میں اگر اشرافیہ قابض بھی ہے تو ملک صحیح سلامت بلکہ 1947 کے مقابلے جب نا وسائل کی تقسیم ہمارے لئے غیر جانبدار کی گئی نا ہی ہمیں آج کے دن تک پاکستان کے پیسوں پر پلنے والے ہندوستان نے 1947 کی تقسیم میں ہمارے حصے آنے والے روپیوں کی ادئیگی کی اس کے باوجود دنیا کے ہر شعبے میں پاکستان کہیں نا کہیں قائم ہے اپنا سٹیک رکھتا ہے۔ آخر ہم کیوں نا کہیں کہ دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں نے جن ممالک کو ہڑپ لیا ان کی کمزور معیشت کی باعث وہ ہمارا بال بھی نا اکھاڑ سکیں جب کے لبیا، عراق جیسے ممالک کو تباہ و برباد کر دیا مگر ہم آج بھی قائم ہیں دفاع کر رہے دنیا میں اپنی الگ آزاد شناخت رکھتے ہیں۔ آخر ہم کیوں نا کہیں کہ ہماری فوج مضبوط اور طاقتور ہے کہ ہندوستان جیسے 4 گناہ بڑا ملک اور اس کی 4 گنا بڑی فوج 75 سالوں سے بارڈر پر بھی ہم سے مار کھاتی ابھینندن کو بھیج کر بھی رسوائی اٹھاتی اور کلبھوشن یادو جیسے نان پروفیشنل کو بھی نا بچا سکی۔ آخر ہم کیوں نا کہیں کہ ہم آزاد سوچ کے مالک ہیں نا کہ انگریز کہ، ہم آج بھی پاکستان کی بنیاد اور اساس اسلام کے محافظ کے طور پر دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ اسلام پر دنیا بھر میں ہونے والے ناکام حملوں کا دفاع سب سے مضبوطی اور سخت سطح پر پاکستان کرتا ہے جو ہمارا آج بھی ہماری اساس پاکستان سے محبت کو ظاہر کرتا ہے۔

    ان سوال نما جوابات کے جواب دینے کے لئے یا تو انسان کو اوپر دی گئی حقیقتوں کو بدلنا ہو گا جو پاکستان میں ممکن نہیں کہ کسی کو پاکستان کی اساس سے کھلواڑ کرنے دیا جائے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے ضمیر کو مار کر صرف ذہنی تعصب اور نفرت سے بھرا ہو وگرنہ پاکستان کی اچھائیاں نظر آنا کوئی حیرت کی بات نہیں ہونی چائیے۔

    Azeem Butt  is a Journalist, Author and Analyst. His reports and Analysis is based on Urdu Linguistics, Social &  Current political issues.

    Find out more about his work on his Twitter @_azeembutt

  • کرونا وبا کے مثبت اثرات کیا تھے؟ تحریر: کائنات فاروق

    دنیاوی تاریخ میں دیکھا جائے تو وبا کے بڑے طویل مدتی اثرات مرتب ہوئے ہیں، خاندانوں کے زوال سے لے کر نوآبادیاتی نظام میں اضافہ اور یہاں تک کہ آب و ہوا میں تبدلیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔

    ١٣۵٠ء میں یورپ میں پھیلنے والے طاعون کا پیمانہ خوفناک تھا جس نے یورپی کے تقریبا ایک حصے کو ختم کردیا تھا۔ اس ہی طرح ١۵ ویں صدی کے اختتام پر امریکہ میں چیچک اور نوآبادیات نے اتنے لوگوں کو ہلاک کیا کہ جو شاید دنیا کی آب و ہوا کو تبدیل کرنے کا باعث بنا ہو۔ ١٨٠١ء میں زرد بخار اور غلاموں کی بغاوتوں کے نتیجے میں ہیٹی میں فرانسیسی حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ اس ہی طرح رینڈپسٹ نامی جانوروں کو متاثر کرنے والی ایک مہلک بیماری نے افریقہ میں یورپ کے نوآبادیات کو تیز کرنے میں مدد فراہم کی۔ اس بیماری نے افریقہ کے مویشیوں کا ایک بڑا حصہ ہلاک کیا۔ ١٨٧٠ء کی دہائی میں افریقہ کا صرف دس فیصد حصہ یورپی کنٹرول میں تھا لیکن ١٩٠٠ء تک یہ بڑھ کر نوے فیصد ہوچکا تھا۔ اور اس اراضی پر قبضہ رینڈپسٹ پھیلنے کی وجہ سے افراتفری کی مدد سے ہوا۔ ١٦۴١ء میں چین میں طاعون منگولوں کے زوال کا سبب بنا۔

    وبا کی دنیاوی تاریخ دیکھی جائے تو ہمیں خوفناک اور منفرد تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس ہی طرح آج کی دنیا میں بھی کرونا وائرس کے پھیلاو کے بعد ہم نے دنیا بھر کے لاکھوں افراد کو اپنی زندگی بسر کرنے کے انداز کو ڈرامائی انداز میں بدلتے ہوئے دیکھا۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق ٣١ دسمبر ٢٠١٩ کو چین میں ایسے نمونیا کے کیسز

    کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو ووہان میں کسی نامعلوم وجہ کے باعث سامنے آئے۔ تقریبا ایک سال کے بعد اسے نوول کرونا وائرس یا کووڈ – ١٩ کا نام دیا گیا۔ اس وبا کو اس سال دسمبر میں دو سال مکمل ہونے کو ہیں اور سائنسدان تاحال اس وبا کو نہ ہی مکمل طور پر سمجھ سکے ہیں نہ اس کا علاج دریافت کرسکے ہیں۔

    اس وائرس کے سبب دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے

    معمولات زندگی تھم چکی تھیں۔ عالمی معیشت کرونا وائرس کی پہلی لہر کے باعث ہونے والے لاک

    ڈاؤن کے سبب پڑنے والے جٹھکے سے خود کو سنبھالنے کی جدوجھد میں لگی رہی اور تاحال عالمی معیشت خود کو مضبوط کرنے کی ان تھک کوششوں میں لگی ہے۔ 

    دیکھا جائے تو اس وبا کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں اور زیادہ تر منفی پہلوؤں کو زیر غور لایا گیا ہے جیسے اس عالمی وبا کی وجہ سے بے وقت اموات کا سلسلہ اور صنعتوں کی بندش کے باعث لاکھوں لوگوں کی بےروزگاری وغیرہ۔

    کرونا وبا کے جہاں منفی اثرات نے خاص کر ہر سطح اور ہر طبقے کو متاثر کیا تھا اس کا ازالہ کرنے کی کوشش میں کئی لوگ آج تک لگے ہیں۔ لیکن جہاں اس وبا کے نقصانات دیکھے گئے وہیں یہ وبا سماجی سطح پر بھی ہمارے معموالات زندگی اور ماحولیات پر چند مثبت تبدیلیوں کا سبب بھی بنی ہے۔

    ان چند مثبت پہلوؤں کو زیر غور لاتے ہوئے ان کا ذکر کرتے ہیں، کرونا وائرس کے باعث سب سے مثبت اثر ماحولیات پر پڑا۔ صنعتوں کی بندش کے باعث کاربن کے اخراج میں کمی آئی جس کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں پچاس 

    فیصد کمی دیکھی گئی۔

    کرونا وبا کی شدت پکڑتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی بھی دیکھی گئی تھی۔ اس کی ایک وجہ تو کرونا وائرس کے باعث صنعتوں کا بند ہونا اور کئی ملکوں اور شہروں میں نافذ لاک ڈاؤن تھا جس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں واضح فرق پڑا تھا۔ 

    مسلمانوں پر پانچ وقت کی نماز فرض ہے جس کے لیے پانچ وقت وضو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور سائنسی اعتبار سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دن میں کم از کم ۵ سے

    ۶ مرتبہ ہاتھوں کو صفائی سے دھونا ضروری ہے،

    ماہرین کی جانب سے مسلسل تلقین کی جاتی رہی کہ اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں۔ 

    اس طرح لوگوں نے خوشی سے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اس عادت کو اپنا لیا ہے۔

    گلیوں اور سڑکوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جارہا تھا، لوگ خود کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو خودساختہ طور پر صاف رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔

    لوگوں کو ٹیلی ورکنگ سیکھنے کا موقع ملا۔ لوگوں نے وقت کو بچا کر گھر بیٹھے

    کام کو کس طرح مکمل کیا جاسکتا ہے یہ سیکھا، جس کے باعث دنیا اب ڈیجیٹل ورلڈ بننے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ 

    لاک ڈاون کے باعث بازاروں کا جلدی بند ہونا اور شادی بیاہ میں غیر ضروری رسومات میں کمی اور سادگی کے رجحان کا بڑھنا بھی دیکھا گیا۔ کرونا وائرس کے باعث دنیا جہاں ورک فرام ہوم اور آئن کالسز پر آگئی تھی، اس وجہ اہل خانہ کے ساتھ گزارنے اور عبادتوں کی لیے لوگوں کو ایک اچھا وقت ملا، اس وبا کی وجہ سے ملنے والے وقت نے لوگوں کو عبادات میں باقاعدگی کا موقع بھی فراہم کیا۔

    کرونا وائرس نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ انسان کس قدر بے اور بس ہے اور بڑی سے بڑی دنیاوی طاقتیں بھی قدرتی آفات کے سامنے ڈھیر ہیں، سپر پاور ہونے کا دعوی کرنے والے بھی خدا کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، یہ بات سمجھنے والوں پر واضح ہوگئی کہ زندگی بہت مختصر ہے اور دنیا فانی ہے، ایک وبا پوری دنیا کی معیشت و کاروبار پر تالے لگوا سکتی ہے۔

    یہ کچھ مثبت پہلو وہ ہیں جو کرونا وبا کے باعث ہماری زندگی پر پڑے یا شاید اب تک پڑ رہے ہیں، 

    لیکن ہم نے دیکھا کہ لاک ڈاؤن میں جہاں کچھ رعایت ملی وہاں لوگ اپنے معموالات زندگی میں واپس لوٹتے ہوئے ان مثبت اثرات اور عادتوں سے بھی دور ہونے لگے، 

    کرونا وبا نے ہمیں زندگی کے کئی مثبت پہلووں سے آشنا کرایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ وبا

    ختم ہونے کے بعد بھی وبا کے دوران ہماری زندگی پر اثرانداز ہونے والے مثبت پہلوؤں اور تبدیلیوں سے دور نہ ہوں۔ بلکہ صفائی اور عبادت جیسی چند مثبت عادتوں، سادگی سے شادیاں اور سادہ معمولیات زندگی جیسے رجحانات کو اپنی زندگی میں ہمیشہ کے لیے شامل کرلیں۔

    @KainatFarooq_

  • پیٹرول کا بم گرگیا اور مہنگائی دیکھو”  تحریر: حسیب احمد

    پیٹرول کا بم گرگیا اور مہنگائی دیکھو” تحریر: حسیب احمد

     

    آئے روز ہمیں ہر کسی چیز میں مہنگائی کا سامنا کرنے کو مل رہا ہے۔ پیٹرول اس میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے عوام کی جیبوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ پیٹرولیم کمپنیاں ریٹ بڑھا دیتی ہیں پھر بیچاری عوام مہنگے داموں خرید کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

    علمی منڈی میں ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو ہی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے روپے کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے جس سے ہمیں مہنگے داموں میں خریدنا اور پھر عام کو بیچنا پڑتا ہے۔

    ہمارے ہاں لوگ باہر کی کرنسی خرید کر رکھ لیتے ہیں اور جیسے ہی وہ مہنگی ہوتی تو بیچ کر اپنے ہی پاکستانی روپے کو گراتے ہیں۔ پھر لوگ اپنی غلطی کا ملبہ حکومت پاکستان پر ڈال دیتے ہیں۔ کیا حکومت نے کہا تھا اپنے روپے کو استعمال نا کرو باہر کی کرنسی کو اہمیت دو؟

    لیکن ہاں کہیں نا کہیں حکومت پاکستان کی بھی تھوڑی سی خامیاں ہیں وہ اپنے ان تین سالوں میں 3 وزیر خزانہ تبدیل کرچکے ہیں اور یہ وہی ہیں جنہوں نے پیچھلی حکومت میں بھی مہنگائی کا جن بےقابو کر رکھا تھا۔ ایسے لوگ ہیں معیشت کی ترقی کے بجائے آئے روز مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی ستائی عوام کو روز روز نئے داموں کے تجربات سے جھٹکے دیتے ہیں۔

    ہمیں اپنے لوگوں کو جوکہ قابل ہیں اور ماہرین معاشیات ہیں ان کو آگے بڑھاتے ہوئے ان سے مہنگائی کے خاتمے کا حل تلاش کروانا چاہیے۔ ہمیں اپنے روپے کو قدر اور اپنی پالیسیوں کو دوبارہ صحیح سے ترتیب دینا چاہیے۔

    2020 میں پاکستان کی افراط زر کی شرح 9.74٪ تھی ، جو 2019 سے 0.84 فیصد کمی تھی۔ 2017 کی شرح 4.09 فیصد تھی جو کہ 2016 سے 0.32 فیصد زیادہ ہے۔

    مہنگائی سے مراد قیمتوں میں اضافہ ہے جو کسی قوم کی قوت خرید میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ افراط زر ایک عام معاشی ترقی ہے جب تک سالانہ فیصد کم رہے۔ ایک بار جب پہلے سے طے شدہ سطح پر فیصد بڑھ جاتا ہے ، اسے افراط زر کا بحران سمجھا جاتا ہے۔ اصطلاح "افراط زر” ایک بار رقم کی فراہمی میں اضافے کا حوالہ دیتا ہے (مالیاتی افراط زر) تاہم ، پیسے کی فراہمی اور قیمت کی سطح کے درمیان تعلقات کے بارے میں معاشی مباحثوں نے قیمتوں کی افراط زر کو بیان کرنے میں آج اس کا بنیادی استعمال کیا ہے۔ افراط زر کو پیسے کی حقیقی قدر میں کمی کے طور پر بھی بیان کیا جا سکتا ہے-زر مبادلہ کے ذریعے قوت خرید میں کمی جو کہ اکاؤنٹ کی مالیاتی اکائی بھی ہے۔ جب قیمت کی عمومی سطح بڑھ جاتی ہے ، کرنسی کا ہر یونٹ کم سامان اور خدمات خریدتا ہے۔ عام قیمت کی سطح کی افراط زر کا ایک اہم پیمانہ عام افراط زر کی شرح ہے ، جو کہ ایک عام قیمت کے انڈیکس ، عام طور پر کنزیومر پرائس انڈیکس میں وقت کے ساتھ فیصد میں تبدیلی ہے۔ مہنگائی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ، مستقبل کی افراط زر کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری اور بچت کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔ زیادہ افراط زر اشیا کی قلت کا باعث بن سکتا ہے اگر صارفین اس خدشے کے باعث ذخیرہ اندوزی شروع کردیں کہ مستقبل میں قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ 

    اللہ پاک سرزمین کے ہر مسائل کو حل کرنے میں ہمارے مددگار ثابت ہوں۔ اور پاکستان کو لوگوں کو ان تکالیف سے زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھے۔ اور پاکستان کو دنیا میں عظیم و ترقی والا ملک بنائے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کی پذیرائی ہو اور نیک نامی میں اضافہ ہو۔

    من

    مہنگائی آتی رہتی ہے بس اپنے گھبرانا نہیں اللہ پر بھروسہ رکھنا۔۔۔

    تحریر: حسیب احمد

    @JaanbazHaseeb 

  • سیاسی زبان درازی ۔۔ مخالفین سے عوام تک  تحریر ؛ علی خان

    سیاسی زبان درازی ۔۔ مخالفین سے عوام تک تحریر ؛ علی خان

     

    @hidesidewithak 

    سیاست کریں بدتمیزی نہیں اس کے ساتھ یہ بھی نہ بھولیں کہ آج آپ جس بھی جگہ ہیں وہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں 

    کی وجہ سے ہیں 

    سیاست کو عموماً مصلحت پسند یا اگر صاف الفاظ میں کہیں تو منافقوں کا پیشہ کہا جاتا ہے لیکن وطن عزیر میں الٹی گنگا بہتی ہے،،، سیاست میں نامناسب الفاظ کے استعمال کا سلسلہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں شروع ہوا،،، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی ڈکٹیٹر ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے پر کردار کشی کی گئی،،، پھر "قائد عوام "ذوالفتار علی بھٹو  کا دور آیا اور سیاست میں مخالفوں کے لیے عوامی کی بجائے بازاری زبان استعمال ہونے لگی۔۔۔  قائد عوام کی سرکردگی میں ہی شروع کردہ تحریک کے دوران فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف کتا کتا کے نعرے لگائے گئے۔۔۔  اپنے حریف ائیر مارشل ایوب خان کو آلو جیسے القابات دینا بھی انہی کا خاصہ رہا

    اس زبان درازی کے سلسلے سے  ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو بھی محفوظ نہ رہ سکیں اور انہیں مختلف مخالفین کی جانب سے بدتہذیبی اور ناشائستہ زبان کے اس سلسلے کا سامنا کرنا پڑا ۔ اپنے ساتھ ہونے والی اس ناشائستگی کو محترمہ نے ہمیشہ  یاد رکھا۔ انکی جماعت کے رہنما رانا ثنااللہ نے مخالف جماعت نواز  لیگ کی رہنما مرحومہ کلثوم نواز صاحبہ اور مریم نواز پر رکیک حملہ کیا تو محترمہ نے  راناثنااللہ کو فوراً پارٹی سے  نکال دیا۔  ستم ضریفی  دیکھئے کہ  انہی رانا ثنااللہ کو نواز لیگ نے ہی اپنی پارٹی میں شامل کرلیا اور پھر وہ پیپلزپارٹی کے مرحوم گورنر سلمان تاثیر کے اہل خانہ پر ذاتی حملوں میں ملوث رہے

    سربراہ تحریک انصاف عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان بار بار ذاتی حملوں کے سبب عمران خان سے علیحدگی اختیار کرنے اور واپس برطانیہ جانے پر مجبور ہوگئیں۔  دوسری جانب تحریک انصاف کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے  مریم نواز  کو بار بارگھر سے بھاگنے کا طعنہ دیا جاتا رہا۔ جمیعت علمائے اسلام کے حافظ حمداللہ کی جانب سے سماجی کارکن کو آن ائیر  غلیظ جملوں کا نشانہ بنائے جانے اور موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے بلاول بھٹو بارے معنی خیز گفتگو  بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے

    ہمارے یہ رہنما عوام کو بھی اس بدزبانی کی دلدل میں گھسیٹنے سے باز نہیں آتے ۔  سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بیان  دیا ” نئے پاکستان کیلئے ووٹ دیا ہے تو عوام بھگتیں”۔  موجوہ وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے انتخابی مہم جلسے میں  اپنے ہی ووٹرز کو شدید نازیبا الفاظ سے پکارا جانابھی کوئی زیادہ دور کی بات نہیں۔ ایم کیو ایم کے بانی قائد الطاف حسین کی بدزبانی اور لغو زبان کا استعمال بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں ۔  ایک مرتبہ چودھری نثار کے بیان پر ایم کیو ایم رہنما اور سابق میئر کراچی وسیم اختر بھی آپے سے باہر ہوگئے اور کہا پنجاب میں ہر گھر میں مجرے ہو رہے ہیں،،، ن لیگ کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے تو گالم گلوچ کو پنجابی کلچر کا حصہ ہی قرار دے  ڈالا ۔ قومی اسمبلی میں ن لیگ کے علی گوہر بلوچ اور تحریک انصاف کے علی نواز اعوان  کی اخلاق باختہ زبان درازی شاید سب کو ہی یاد ہوگی

    عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید نے مہاجرین کے منہ پہ چماٹ مارنے یا انہیں پاگل خانے بھیجنے کا بیان دیا۔  سابق پی پی اور اب جی ڈی اے رہنما ذوالفقار مرزا نے مہاجر صوبے کی بات کرنے والوں کو بھوکا ننگا  قرار دیا۔  عبدالقادر بلوچ نے ایم کیو ایم کے ورکرز کو جانور قرار دیا۔  پختونخواہ میپ کے محمود اچکزئی نے لاہوریوں کو افغان پشتون وطن پر قبضے کی کوششوں میں انگریزوں کا معاون ہونے کا طعنہ دے ڈالا۔ سابق  صدر پرویز مشرف کا ریپ کا شکار خواتین بارے قابل مذمت بیان اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا تقریر کو عورت کی اسکرٹ سے تشبیہ دینا بھی عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوا،،، یہ عوامی نمائندے ہمارے ہاں اخلاقی  معیار کی پستی کے  بڑے ذمہ داروں میں سے ایک ہیں۔ خود کو اقتدار میں لانے والے ووٹرز کو گالی دینا اسی وڈیرہ اور جاگیر دار کلچر کا عکاس ہیں جو آج بھی ہمارے دیہی علاقوں میں غریبوں پر ظلم کا باعث ہیں۔ ان سیاستدانوں کوروش بدلنا ہوگی اور تاریخ سے یہ سبق سیکھنا ہوگا کہ دوسروں کے لیے لگائی آگ ضرور اپنے گھر تک پہنچتی ہے

  • انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ

    انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ

    حصہ اول۔

    وہ کون سے عوامل ہیں جو قوموں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں؟ یہ جاننے کے
    لیے ہمیں ویت نام کی تاریخ میں جھانکنا ہو گا۔ویت نام کے دارالحکومت ہا نوئی
    میں گھومتے ہوئے ، آپ  ترقی کی جانب بڑھتے قدموں کی چاپ واضح طور پر سن سکتے
    ہیں ۔ لوگگاڑیوں میں گھومتے ہیں ، ان گنت چھوٹی دکانوں میں فون سے لے کر کھانے
    تک سب کچھ خرید و فروخت کرتے ہیں ، اور اسکول یاکام پر جانے کے لیے ادھر ادھر
    بھاگتے ہیں۔ ویت نام تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے آگے
    بڑھ رہا ہے۔  یہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ محض 30 برس پہلے ، یہ ملک دنیا کے
    غریب ترین ممالک میں سے ایک تھا۔ جہاں مہنگائی کی شرح 700 فیصد تھی، کسان بھوک
    سے مر رہے تھے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے سوویت یونین سے یومیہ 4 ملین
    ڈالر کی امداد لی جا رہیتھی۔

    45 برس قبل جب جنگ ختم ہوئی اور غیر ملکی افواج کا ویتنام سے انخلا شروع ہوا تو
     ہر طرف تباہی اور بربادی کی داستان رقم تھی۔تقریبا 20 سال طویل جاری رہنے والی
     جنگ جب ختم ہوئی توہر کوئی بے یقینی کی کیفیت کا شکار تھا۔ طویل جنگوں کے بعد
    ملکیمعیشت اور انفراسٹرکچر تو تباہ ہوتا ہی ہے، لیکن افرادی قوت بھی بری طرح
    متاثر ہوتی ہے۔ جنگ بھی اتنی طویل جس میں ایکنسل جوان ہو جائے۔ کوئی نہیں جانتا
     کہ اتنی طویل جنگ دیکھنے کے بعد وہاں کے عوام کی نفسیاتی کیفیت کیا ہو گی۔ وہ
    دوبارہ سےاپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں گے کہ نہیں۔ تقریبا 20 لاکھ شہری اس جنگ
    کے دوران مارے گئے،  دو لاکھ فوجی اس کے علاوہتھے۔ تقریبا ڈھائی ملین افراد نے
    فلپائن، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں پناہ لی۔

    ویت نام میں تاریخ کی سب سے زیادہ بمباری ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم میں 2.1 ملین ٹن
     کے مقابلے میں 6.1 ملین ٹن سے زیادہ بمگرائے گئے۔ 3 امریکی طیاروں نے 20 ملین
    گیلن جڑی بوٹی مار دواؤں کو ویت کانگ کے چھپے ہوئے مقامات کو ناکارہ بنانے کے
    لیےاستعمال کیا۔ جس نے 5 ملین ایکڑ جنگل اور 500،000 ایکڑ زرعی زمین کو ختم کر
    دیا۔

    یہ جنوب مشرقی ایشیائی قوم ایک درمیانی آمدنی والا ملک کیسے بنی؟ جب 20 سالہ
    ویت نام جنگ 1975 میں ختم ہوئی تو ویت نام کیمعیشت دنیا کی غریب ترین معیشتوں
    میں سے ایک تھی۔  1980 کی دہائی کے وسط تک ، فی کس جی ڈی پی $ 200 اور $ 300 کے
    درمیان پھنس گیا تھا۔ لیکن پھر سب کچھ بدل گیا۔

    ویت نام کی کامیابی کی کہانی 1986 کی Doi Moi ("rejuvenation”) اصلاحات سے شروع
     ہوتی ہے۔ اس ماڈل کے تحت ابتدائیطور پر زیادہ توجہ تعلیم کے شعبہ کو دی گئی.
    ویتنام کی حکومت نے ابتداء ہی میں یہ حقیقت جان لی کہ کوئی بھی ملک صحیح معنوں
    میںمستقل ترقی کا خواہش مند ہے تو اس کو سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام میں
    اصلاحات کرنا ہونگی۔ یہی وجہ ہے کہ طویل جنگ سےنبردآزما ہونے والا ملک ویتنام
    بھی ہم سے ترقی کی راہ میں بہت آگے نکل گیا کیونکہ انھوں نے جنگ کے بعد معاشی
    اور تعلیمیاصلاحات پر زور دیا۔

    یہاں کی آبادی  آج 95 ملین ہے ، جن میں سے نصف 35 سال سے کم ہیں۔ بڑھتی ہوئی
    آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئےیہاں کی حکومت نے پرائمری تعلیم میں بڑے
    پیمانے پر عوامی سرمایہ کاری کی۔ کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کا مطلب ملازمتوں کی
    بڑھتیہوئی ضرورت بھی ہے۔ ویت نام نے بنیادی ڈھانچے میں بھی بہت زیادہ سرمایہ
    کاری کی ، جس سے انٹرنیٹ تک سستے پیمانے پررسائی کو یقینی بنایا گیا۔ ویتنام
    میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں تعلیم کا بجٹ
     20 فیصد ہے۔

    معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے ویت نام کی حکمت عملیوں میں سے ایک اس کے تعلیمی
    نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری کے حصول کا
    ذریعہ نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جس کو صنعتی نظام کے ساتھ
    منسلک کیا جا سکے اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہو۔

    ویت نام کی حکومت انگریزی زبان کی تعلیم، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے
    اور آسٹریلیا ، فرانس ، امریکہ ، جاپان اور جرمنیجیسے ممالک کے ساتھ تبادلے کے
    لیے کوشاں ہے۔ حکومت بیک وقت ویت نام میں غیر ملکی طلباء اور محققین کی تعداد
    بڑھانے کیکوشش میں مصروف عمل ہے۔

    مرکزی حکومت نے معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منصوبہ وضع کیا ، جس کا
    بنیادی مقصد جدید صنعت اور سرمایہ کاری کیصلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس منصوبے
    کو DRV ماڈل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس نے صنعتوں کو پیداوار کے حجم کوبڑھانے
    کی ترغیب دی۔ ریاست نے سبسڈی کے ذریعے کسی بھی نقصان کو پورا کیا۔ انڈسٹری نرم
    بجٹ کی پابندی کے تحت چلائیگئیں ۔ ریاست نے اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا۔
    کمپنیوں کو پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف قسم کی مفت گرانٹ دی گئی،
    جنہیں کیپٹل اسٹاک میں اضافے کے طور پر محسوس کیا گیا۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • کورونا وائرس میں کمی اور معمولات زندگی بحال تحریر؛ ناصر بٹ

    کورونا وائرس میں کمی اور معمولات زندگی بحال تحریر؛ ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    اور یوں دنیا بھر کی بڑی بڑی معاشی قوتوں کو تگنی کا ناچ نچانے والی مہلک بیماری کورونا وائرس میں کمی ہونے لگ گئی، حالات معمول پر آنے لگے، کاروباری سیکٹرز میں لگی پابندیاں ختم تو مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معاملات کو بھی کورونا سے پہلے کی زندگی پر بحال کرنے کی کوشش شروع ہوچکی، ساری صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تعلیمی سیکٹر کو بھی مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا گیا وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں این سی او سی اجلاس کے بعد فیصلوں میں سب سے اہم فیصلہ تعلیمی اداروں کے حوالے سے ہوا اور ہفتے میں تین روز کلاسز کی چھوٹ کو ختم کرتے ہوئے پرانی روٹین کو بحال کر دیا گیا وجہ پوچھی گئی تو کہا گیا کہ کورونا کی صورتحال اب قدرے بہتر ہوچکی، کل سے اب تک کا بھی جائزہ لے لیں تو محض 26 افراد ہی موت کے منہ میں گئے حالانکہ ایک وقت بھی ایسا بھی پاکستان نے دیکھا کہ جب ایک ہی دن میں 300 افراد بھی جان سے گئے اس کے علاوہ نئے کیسز کو بھی دیکھا جائے تو کل سے اب تک 912 شہری کورونا کی گرفت میں آئے جبکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ملک میں 6 ہزار سے بھی زائد یومیہ کیسز رپورٹ ہوئے، مجموعی طور پر صورتحال کچھ یوں ہے کہ پاکستان میں ٹوٹل ایکٹو کیسز کی تعداد 43 ہزار 658 ہوچکی تاہم ٹیسٹوں کہ صلاحیت میں روز بروز اضافہ کرنے کی کوشش جاری ہے جو کہ کامیاب بھی ہوچکی ملک میں گزشتہ ماہ ایک ہی روز میں 70 ہزار سے زائد ٹیسٹ بھی کیے گئے لیکن چونکہ بیماری کی شدت میں کمی آگئی اور پریشر بھی کم ہوتا نظر آرہا تو شہریوں کی جانب سے ٹیسٹ کروانے کا رجحان بھی قدرے کم نظر آرہا کل سے اب تک 45 ہزار 610 افراد نے ہی کورونا ٹیسٹ کروائے، وفاقی وزیر سمیت پورے این سی او سی کو کم ہوتا کورونا کیوں نظر آیا اس کا سارا کریڈٹ روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ویکیسن کی تعداد پر ہے، ویکسینٹڈ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو بھی کیوں نہ حکومت نے ٹرانسپورٹ سے لیکر سرکاری دفاتر اور بڑے شاپنگ مالز تک بغیر ویکسین داخلے پر جو پابندی عائد کر دی، اب حالات یہ ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر 1 ملین سے زائد شہریوں کو کورونا ویکسین لگائی جارہی ہے این سی او سی کی جانب سے جاری کیے گئے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق ایک روز میں11 لاکھ 90 ہزار 424 افراد ویکسین کی سہولت سے مستفید ہوسکے جبکہ اب تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 77 لاکھ 41 ہزار 79 شہری کورونا ویکسینیشن کروانے کے بعد خود کو جان لیوا وبا سے محفوظ بنا چکے، حکومت 80 سال سے شروع ہوکر اب 12 سال تک کے ننھے شہریوں کو بھی کورونا ویکسینیشن سہولت فراہم کرتی نظر آتی ہے جس کے لیے سکولز کی سطح پر خصوصی ٹیمز پولیو کی مانند بچوں کو ٹارگٹ کرتی نظر آرہی ہیں بظاہر لگ رہا کہ حکومت کورونا سے کامیابی سے نمٹنے میں کامیاب ہو گئی اور زندگی دوبارہ سے اپنے خوبصورت رنگوں کو سمیٹنے کی راہ پر چل نکلی ہے لیکن رکیے!!! ابھی خطرہ ٹلا نہیں بس نام بدل گیا، ایک اور پرانی جان لیوا بیماری موسم کی کروٹ بدلتے ہی لوگوں کی زندگی اجیرن بنانے آچکی، ڈینگی وائرس سے کئی افراد جاں کی بازی بھی ہار چکے اور متاثرین کی تعداد اتنی ہے کہ سرکاری ہسپتال میں مزید داخلوں کو بند کر دیا گیا ہے لیکن امید ہے اس پر حکومت قابو پاسکے گی جیسے عالمی وبا کورونا وائرس پر گرفت مضبوط کی جاچکی ہے

  • وکیل اور خدمت تحریر:عابد حسین رانا

    @AbidRana876
    آج ہم ذکر کریں گے ممتاز قانون دان عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ کا آپ کا شمار وزیرآباد اور گردونواح کے اعلیٰ ترین وکلاء میں ہوتا ہے
    عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ کا تعلق وزیرآباد محلہ کانواں والا کے متوسط کاروباری شخصیت حاجی فیروز دین مرحوم کے گھرانے سے ہیں جو ان کے دادا تھے
    آپ کی پیدائش 14 مارچ 1974 کو میں ہوئی آپ کا تعلق آرائیں برادری سے ہے
    میٹرک تک تعلیم پبلک ہائی اسکول وزیرآباد سے حاصل کی ایف ایس سی FSC مولانا ظفر علی خان ڈگری کالج وزیرآباد سے کیا بعد ازاں بی کام b.com اور ڈی سی ایم اے DCMA ایم اے MA پنجاب یونیورسٹی لاہور اور بی بی اے BBA علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کرنے کے بعد ایل ایل بی LLB کی ڈگری لاء کالج پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی آپ تعلیم کے ساتھ سپورٹس مین بھی تھے اچھے فٹبالر ہونے کی وجہ سے دورانِ تعلیم وزیرآباد کی تھری سٹار فٹبال کلب اور لاء کالج پنجاب یونیورسٹی کے کپتان بھی رہے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد فوجداری وکالت کا آغاز آفتاب احمد باجوہ سابقہ سیکرٹری سپریم کورٹ آف پاکستان کے آفس میں ہی سال 2000 سے کیا ایک سال تک ان کے ساتھ کام کرنے کے بعد لاہور ہی میں اپنا ذاتی آفس بنا کر وکالت شروع کی تقریباً 7 سال لاہور میں وکالت کے بعد نومبر 2006 میں واپس وزیرآباد آ کر مدینہ مارکیٹ میں آفس بنا کر وزیرآباد میں باقائدہ وکالت شروع کی اور دو تین سال کے اندر ہی تحصیل وزیرآباد کے فوجداری وکلاء میں ایک الگ مقام حاصل کیا سال 2010/2011 میں بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری منتخب ہوئے سیاست میں قدم رکھا تو ابتدائی دنوں میں تحریک انصاف کے سیکرٹری اور بعد میں تحصیل صدر کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے مگر وکالت میں مصروفیت کی وجہ سے لوکل سیاست کو خیر باد کہہ دیا آپ نے مشہور مقدمات کی پیروی کرتے ہوئے لاہور راولپنڈی گوجرانولہ گجرات نوشہرہ ورکاں میں فرائض سر انجام دیئے حال ہی میں گوجرانولہ بار کونسل کا الیکشن لڑا اور اب تک وزیرآباد میں الیکشن لڑنے والوں میں سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیئے اس وقت وزیرآباد گوجرانولہ اور لاہور ہائی کورٹ میں یکساں مصروف ہیں آپ نے 300 سے زائد 302 کے مقدمات کی پیروی کی اور ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا وزیرآباد اور گردونواح کی اعلیٰ شخصیات کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے ان کے کیسسز کی پیروی عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ ہی کریں