ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ضروری ہے کہ تمام مذہبی اور معاشرتی تعلیمات سب کے لئے مساوی ہوں اور حکمران اور نوکر سب کے لئے ان تعلیمات کا نفاذ بلا تفرہق ہو۔ مذہبی اور معاشرتی تعلیمات اور اصول و ضوابط کسی بھی معاشرے میں وہی مرکزی حثیت رکھتے ہیں جو انسانی جسم میں قلب رکھتا ہے۔ کسی بھی انسانی معاشرے میں بہترین زندگی گزارنے کی عملی صورت وہاں کی مذہبی اور معاشرتی تعلیمات کی پیروی ہے۔ اسلام مساوات کا درس دیتا ہے۔ اور اصول و ضوابط امیر، غریب، حکمران، نوکر، سب کے لئے مساوی ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا نظام اس کے برعکس ہے ہماری مذہبی و معاشرتی تعلیمات اصول و قوانین صرف غریب کے گرد گھومتے ہیں جبکہ حکمران اور سیکولر طبقے کا ان سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ تمام برائیوں کا گہوارہ بنتا جارہا ہے۔ اور صورتِ حال کافی تشویشناک ہے۔ آج سے کچھ سال قبل اخبارات میں جرائم اور برائی سے متعلق خبریں پڑھ کر یا سوشل میڈیا پر برائی کا سن کر اطمینان ہوتا تھا اور اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کہ الحمدللہ ہمارے مسلم افراد کا نام نہیں ہے۔ لیکن آج مسلم معاشرے میں بے حیائی کی ایسی وبا پھیلی کہ اب اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے جرائم کی خبروں کا صفحہ کھولا جاتا ہے یا سوشل میڈیا پہ جہاں کہیں برائی اور جرائم کی خبر ملتی ہے تو مسلمان ملوث نظر آتا ہے۔ وہ تمام برائیاں جو پہلی قوموں میں تھیں اور ان کی بناء پر انہیں اللہ کے غضب نے گھیرا آج کا مسلم معاشرہ ان تمام برائیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اصول و ضوابط اور سزا کا نظام صرف غریب اور نچلے طبقے کے لئے، یا مذہب سے بیزار ہوکر مولوی تک محدود کر دیا گیا ہے جب کہ سیکولر اور امیر طبقہ ان اصول و ضوابط اور سزاؤں کو نظر انداز کر کے بہیمانہ افعال انجام دیتا ہے تو اس کا دفاع کیا جاتا ہے بلکہ اسے سراہا جاتا ہے۔ کوئی مولوی یا غریب کوئی برائی کرے تو اس پر قانون لاگو کر کے فوراً سزا دی جاتی ہے اس کے بر عکس اگر یہ ہی جرم کوئی حکمران، اور سیکولر طبقے کا کوئی فرد کرے تو اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس سب کی جیتی جاگتی مثال گزشتہ دنوں میں محمد زبیر کی وائرل ہونے والی ویڈیو اور پھر ان پر انکے حکمرانوں کا انکا دفاع کرنا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی کی ٹوہ میں نہیں لگنا چاہیے اس طرح کسی کے برے عمل کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنا بہر حال گناہ ہے اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر انسان کسی کا ایسا کوئی عیب دیکھے تو خود اس شخص سے شئیر کرے اور اسے اس گناہ سے بچنے کی ترغیب دے لیکن ہمارا معاملہ یہاں بھی المناک ہے سوشل میڈیا پر ایک طبقہ ایسا ہے جو اسلام کی تعلیمات کے مطابق کہ "برائی کو نشر نہ کیا جائے بلکہ برا سمجھا جائے اور روکا جائے” کو نظر انداز کر کے اس برائی کو پھیلانا اور دکھانا اپنا بہترین مشغلہ سمجھتا ہے۔ اس طرح دوسرے لوگوں تک ایسی ویڈیوز کو گناہ جاریہ کے طور پر شئیر کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً معاشرے میں فحاشی عام ہوجاتی ہے اور پھر ہمارے حکمران ایسے ہیں جو اپنی تنگ نظری کی بدولت تمام انسانیت کے مساوی تقاضوں کو نہیں دیکھ سکتے بلکہ ایسے حکمران مصالح کلیہ سے نظریں چرا کر جزوی مصلحتوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اور پھر فحش اعمال پر اپنے ساتھیوں کا دفاع کرتے ہیں۔ پھر حکمرانوں کے ان اعمال کے سبب معاشرے میں بگاڑ پھیل جاتا ہے۔ لہذا بگاڑ سے بچنے کے لئے حکمرانوں کو اس معاملے میں ایکشن ضرور لینا چاہیے بطور مسلم معاشرہ ہمارے حکمرانوں کو مذہبی تعلیمات کا بہترین علم ہونا چاہیے اور ان کا نفاذ بھی کرنا چاہیے۔ لیکن اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور پھر لوگ قیادت میں آکر ایسے فحش اعمال انجام دیتے ہیں جن کے سبب معاشرے میں بگاڑ پروان چڑھتا ہے۔ ایسی صورت میں معاشرے کا اخلاقی نظام بلکل پست ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے حکمرانوں کی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے گمراہی کے گڑھے میں گر جاتے ہیں۔ حکمران اور اونچے طبقے کے لوگ عیش و عشرت میں اتنا مگن ہوجاتے ہیں کہ انہیں مادی دنیا سے نکلنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ ایسی صورت میں معاشرے کے افراد اخلاقی اور روحانی تقاضوں سے بے توجہ ہوجاتے ہیں۔ ان حالات میں معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ زائد مال و دولت کا مالک بن کر فحش اعمال کا عادی جاتا ہے اس کے مقابلے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد فاقے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اس طرح مالدار طبقے کو مال کی زیادتی اور محتاج طبقے کو اس کی کمی نکما کر دیتی ہے۔ دونوں گروہ اخلاقی عیوب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ تشوشناک صورتِ حال آج ہماری ہے۔
ان سارے حالات کے ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہم سب ہیں جہاں ہمارے حکمران غلطی کرتے ہیں ہم بھی ان کی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں۔ اور پھر ان کا دفاع کیا جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ دوہرے معیار کو ترک کرتے ہوئے کوئی بھی فرد جرم کرے اسے ضرور سزا دی جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی قومیں اسی لئے برباد ہوئی کہ جب کوئی بڑے طبقے کا فرد جرم کرتا تو اسے معاف کر دیا جاتا اور اگر نچلے طبقے کا کوئی فرد جرم کرتا تو اس سزا دی جاتی۔ یہ ہی دوہرا معیار آج ہمارا ہے۔ ہم سب جہاں بھی ہوں دوہرے معیار کو اپناتے ہیں جزوی مصلحتوں کو اپناتے ہیں۔ اگر ہم معاشرے میں بگاڑ کا خاتمہ اور امن کا قیام چاہتے ہیں تو ہم سب کو بطور فردِ واحد دوہرا معیار چھوڑنا ہوگا تب ہی معاشرے کی بقا ممکن ہے۔
جزاکم اللہ خیراً کثیرا
از قلم نصرت پروین
@Nusrat_writes
Author: Baaghi TV

دوہرا معیار اور معاشرتی بگاڑ تحریر: نصرت پروین

پی ایم سی کے باہر ڈاکٹر پولیس آمنے سامنے اور خوار ہوتا مریض تحریر: ناصر بٹ
@mnasirbuttt
روزانہ کی بنیاد پر احتجاج, ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ چل نکلا ہے, مظاہرین سخت نعرے بازی اور دھرنوں کی حکمت عملی سے جب میڈیا اور حکام بالا کی توجہ اپنی طرف مبزول کروانے میں ناکام ہو جائیں تو پرتشدد کاروائیوں کا آغاز کیا جاتا ہے, احتجاجی دھرنوں کی تاریخ اٹھا لیں تو یہ چیز عام ہے کہ جب تک پرتشدد حالات پیدا نہ کیے جائیں مجال ہے اخباری سرخیوں یا ٹی وی ہیڈلائینز یا یوں کہیں سوشل میڈیا کی نیوز فیڈ میں آپ کو جگہ مل سکے, جوں ہی مار دھاڑ کا سلسلہ چل پڑتا ہے تو بڑے نام آپ کے نام کی ٹویٹ بھی داغتے ہیں اور بڑے چینلز آپ کو ہیڈلائن کا حصہ بھی بنانے پر مجبور ہوتے ہیں, یہ ہی ہوا کل جب این ایل ای امتحان کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ملک بھر سے پاکستان میڈیکل کمیشن کی بلڈنگ کے سامنے پہنچے, پہلے تو کئی گھنٹے نعرے بازی اور تقاریر کا سلسلہ جاری رہا لیکن جب کام نہ بنا تو ڈاکٹرز کی جانب روڑ بلاک کرکے دھرنا دے دیا گیا, اس ساری صورتحال میں اب تک ایس پی صدر نوشیروان علی کی سربراہی میں خاموش تماشائی کا ہی کردار ادا کرتی رہی لیکن جب مشتعل ڈاکٹرز کی جانب سے پی ایم سی کی بلڈنگ میں داخل ہونے کی مبینہ کوشش کی گئی تو پرسکون انداز میں کھڑی اسلام آباد پولیس حرکت میں آگئی اور پھر کیا تھا میدان جنگ کے مناظر تھے, پولیس اہلکاروں کی کوشش تھی کہ کوئی ڈاکٹر پاکستان میڈیکل کمیشن کی عمارت میں نہ گھس سکے تو ڈاکٹرز کے سر پر پی ایم سی کی بلڈنگ میں فتح کا جھنڈا گاڑنے کا جنون سوار تھا, اسی کشمکش میں ڈاکٹرز اور پولیس گھتم گتھا ہوئی, پولیس نے لاٹھی چارج کیا تو ڈاکٹرز نے بھی بے دریغ اینٹیں برسائیں, اس دوران کئی ڈاکٹر کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئی, آگ کو ہوا دینے کا لمحہ تب آئے جب ینگ ڈاکٹرز کے ایک رہنماء کی جانب سے بیچ بچاؤ کروانے والے ایس پی صدر نوشیروان پر حملہ کیا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس دوران پولیس افسر کی عینک ٹوٹ گئی اور وردی کو پھاڑ دیا گیا جبکہ ایس پی پولیس زخمی ہوگئے تاہم جوابی کاروائی میں اہلکاروں کی جانب سے ڈاکٹرز کی بھی درگت بنائی گئی, اس ساری صورتحال میں ایس پی پولیس اور ڈاکٹرز کی ہاتھا پائی کی ویڈیو نے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ مین سٹریم میڈیا میں بھی اپنی جگہ بنائی اور افسوسناک واقعہ پر حکام بالا میں بھی غم و غصہ پایا جاتا رہا تاہم معاملات کو نمٹانے کی غرض سے ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات, ایڈیشل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد رانا وقاص, متعلقہ اے سی, قائمقام ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد ملک جمیل ظفر بھی موقع پر پہنچ گئے تاہم ڈاکٹرز کی جانب سے دو مطالبات سامنے رکھ دئیے گئے, پہلا مطالبہ گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا تھا جبکہ دوسرے مطالبے میں نائب صدر پی ایم سی کا استعفی مانگا گیا, شام تک وزارت صحت حکام کی موجودگی میں مزاکرات ہوئے اور بالاآخر گرفتار ڈاکٹرز کو رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹرز نے اس واقعہ کے خلاف ملک بھر کے ہسپتالوں میں او پی ڈی سروس بند کرنے کا اعلان کر دیا اور مریضوں کی خواری کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اب ہسپتالوں میں سماں یہ ہے کہ بیماری ساتھ لیے جیب میں چند روپے ڈال کر علاج کی غرض سے ہسپتالوں کا رخ کرنے والے غریب مریض گیٹ پر لگے بڑے بڑے تالے اور ینگ ڈاکٹرز کے نعرے سنتے ہوئے مایوس ہوکر واپسی کا رخ اختیار کر رہے ہیں, اب سوال بس اتنا ہے کہ مانا کہ مطالبات جائز ہونگے, مانا کہ پولیس نے سختی کی ہوگی لیکن اس ساری صورتحال میں اس غریب مریض کا قصور کیا ہے جو ٹیکس دیکر بھی حکومت کی فراہم کردہ بنیادی صحت کی سہولیات سے بھی محروم ہوگیا؟؟؟

محسنِ انسانیت بحثیت معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم (عالمی یومِ اساتذہ کی مناسبت سے) تحریر: عرفان صادق
رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شمار دنیا کی ان چیدہ چیدہ اثرانگیز ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے دنیا کو کئی اہم معاملات میں نئے اسالیب اور جہات سے متعارف کروایا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کامل شخصیت تھے جنہوں نے نا صرف اپنی کمال تربیت بلکہ اپنے کردار سے بھی ایسی جماعت تیار کی جن میں انسانیت کا وجودِ کامل نظر آتا ہے۔ حضرتِ انسان نے اپنی تخلیق سے لے کر رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد تک ہر ایک ذات میں کوئی نہ کوئی کمی، کوتاہی یا غلطی پائی لیکن آمنہ رضی اللہ تعالی عنھا کے بطنِ اطہر سے پیدا ہونے والے لعل نے انسانیت کے لیے ایسا نادر نمونہ پیش کیا جو ہر قسم کی ھفوات سے مبرّا تھا۔ بے شمار خصائصِ جمیلہ و اوصاف حمیدہ کے مرکّب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور معلّم اور مدرّس بے مثل کردار پیش کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے زیادہ متاثر کن معلّم آپ کا اخلاق تھا۔ذیل میں ہم ان چند اصولِ تدریس کا ذکر کریں گے جو حیاتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ماخوذ ہیں ۔
پہلے شاگردوں میں حصولِ علم کا شوق و جستجو پیدا کرنا پھر علم منتقل کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تدریسی طریقہ تھا ۔ کئی مواقع پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو مخاطب کرکے پہلے ان میں حصول علم کا اشتیاق پیدا کرتے پھر انتقال فرماتے ہیں مثلا: الا اخبرکم؟ (کیا میں تمہیں خبر نہ دوں ) ، الا ادلکم۔؟(کیا تمہیں ایسی چیز کی رہنمائی نہ کروں) ، اتدرون ما الغیبۃ؟ (کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے )
اور ایسے کئی الفاظ جو انسان کو چوکنا کر دینے کو کافی ہوتے تھے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موقعہ کی مناسبت اور طالب علم کی کیفیت دیکھ کر تعلیم دیتے مثلا ایک ہی سوال” اسلام میں سب سے افضل عمل کونسا ہے ؟” مختلف صحابہ کرام رضی اللہ تعالی نے مختلف اوقات میں پوچھا تو ہر ایک کو ان کے ذاتی معاملات اور موقعہ کی مناسب دیکھ کر مختلف جواب دیا ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کے ساتھ نرمی اور شفقت کا معاملہ کرتے اور بے جا مارپیٹ اور زود و کوب کرنے سے اجتناب کرنا بھی تعلیمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی خاصہ تھا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطور خادم و طالب علم دس سال گزارے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج تک کبھی مجھے مارنا تو دور کی بات غصہ تک نہ ہوئے حتی کہ مجھے یہ تک نہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا یہ کام کیوں نہ کیا۔؟ سبحان اللہ العظیم ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو سمجھانے کے لیے کچھ کر کے پیش کرتے ہیں یا کرواتے ۔جسے ہم آج کے جدید دور میں (Activity Based Learning) کا نام دیتے ہیں جس سے موضوع کا فہم اور ادراک صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے قلوب و اذہان میں ازبر ہو جاتا ۔مثلا ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عصا سے زمین پر ایک سیدھا خط کھینچا اور کہا یہ میرا سیدھا راستہ ہے جو اس پر چلا وہ کامیاب ہوگیا ۔ اور پھر اس خط کے گرد کئی خطوط کھینچے اور کہا یہ گمراہی کے راستے ہیں۔
اس کے علاوہ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم ہر میسر آنے والے موقعے میں تعلیم کے پہلو کو اُجاگر کر کے اسے اپنے طلبہ تک پہنچاتے۔ آپنے پاس بغرضِ علم آنے والے طلباء کا خیر مقدم کرتے گفتگو کرتے ہوئے طلباء کو اپنے قریب بٹھاتے اور پھر ان کی طرف اتنی توجہ کرتے ہیں کہ سامعین بھی ہمہ تن گوش ہو جاتے اور کلام کا ایسا انداز اختیار کرتے کہ سننے والے دم سادھ کر بیٹھتے اور ایک ایک بات بعینہ انہی الفاظ کے ساتھ ازبر کر لیتے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان سے نکال دیتےاحادیث کے بے شمار مجموعے اس بات کی کامل دلیل ہیں۔یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم Communication Skills) میں کمال مہارت رکھتے ۔
شاگردوں سے محبت کے اظہار کے لئے کبھی ان کو مختصر نام یا کبھی کنیت سے پکارتے تھے ۔جیسے ایک دن ایک صحابی کو بلیوں سے کھیلتے دیکھا تو ابوہریرہ کہہ دیا اور پھر وہ تاابد راوی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بن کر رہ گئے ۔
ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مٹی سے کھیلتے دیکھا تو ابوتراب کہہ دیا ۔
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے اپنے طلباء کے لیے تعلیم و تربیت کا بندوبست کرتے ایسے اپنے طلباء کے لئے دعائیں بھی خوب کرتے ۔مثال کے طور پر ایک دن عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا قرآن مجید سے محبت کا عالم دیکھا تو ان کے لئے دعا کی کہ "اللھم علمہ القرآن”
اے اللہ ان کو قرآن کا عالم بنا دے ۔ایسی دعا کی کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج بھی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ تفسیرِ قرآن کے ماخذ شمار کیے جاتے ہیں ۔
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب طلباء سے بات کرتے ہیں تو ان کی گفتگو میں ٹھہراؤ ہوتا اور اپنی بات کو خوب وضاحت کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اور حسبِ ضرورت اپنی بات کا اعادہ بھی فرما دیتے ۔ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کو تعلیم دیتے ہوئے ہاتھوں سے مناسب اشارے یعنی باڈی لینگویج کا بھرپور استعمال کرتے ۔ مثلا ایک دن فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایسے ہوں گے اور ساتھ ہی اپنی شہادت والی اوردرمیانی انگشت مبارک کوملا کر ہوا میں لہرایا۔
معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کے فہمِ کامل کے لئے مثالوں کا استعمال کرتے ہیں مثلا ایک دفعہ فرمانے لگے کہ اللہ کو گناہ گار کا توبہ کرنا اس قدر خوشگوار لگتا ہے جیسے کسی بھوکے صحرائی مسافر کو اپنے گمشدہ زادِراہ مل جائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مناسب اور علم طلب سوال سے خوش ہوتے اور بےکار اور باعثِ مشقت سوال پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے اور کسی سوال کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ ہوتا تو بجائے اپنی طرف سے جواب دینے یا اٹکل پنجو لگانے کے خاموش ہو جاتے اور وحیِ الٰہی کا انتظار فرماتے ۔ کسی قابلِ شرم مسئلہ پر تفہیم مقصود ہوتی تو اس سے ہرگز صرف نظر نہ کرتے لیکن ایسی باتوں کو اشارہ کنایہ کی زبان میں ایسے سمجھاتے کہ انتقالِ علم بھی ہو جاتا اور شرم و حیا کا دامن بھی سلامت رہتا۔
ایسے ہی آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم طلبہ کسی کے عمل کو آسان بنانے کے لئے پہلے اجمالاً بیان کرتے پھر مکمل تفصیل کے ساتھ مکمل جزئیات کو سمجھاتے اگر کہیں مناسب سمجھتے ہیں کہ تھوڑے کلام سے یہ بات مکمل سمجھ آ جائے گی تو اس پر اکتفا کرتے۔ ایسی احادیث جن میں تھوڑے کلام میں گہری بات کہہ دی جائے ان کو جوامع الکلم کہا جاتا ہے مثلا "لا ضرر ولا ضرار” "اسلام میں نہ خود کو نقصان پہنچانا جائز ہے نہ کسی دوسرے کو "۔
الغرض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطور استاد ایک کامل ترین معلّم تھے جن کے مکتب سے نکلنے والے طلباء عرب و عجم کے ایسے حکمران بنے کہ وہ عوام کے اجسام کے ساتھ ساتھ ان کے قلوب و اذہان کے بھی حکمران ہوتے تھے۔
منشيات ذہرِ قاتل تحریر: شھریار سیالوی
اللہ تعالی کی ذات نے جب انسان کو تخلیق کیا تو اسکو دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر رتبہ عنایت فرمایا اور "اشرف المخلوقات” کا درجہ بخشا۔ اس طرح انسان دنیا میں تمام مخلوقات میں ممتاز ہوگیا۔ اللہ تعالی کے انعامات میں سے ایک انعام "عقل” ہے جوکہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ اس عقل کے بدولت ہی انسان اچھے برے، صحیح درست میں تمیز کرسکتا ہے اور اسی عقل کی بدولت اللہ کی ذات نے انسان کو دنیا کی خلافت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ ہمارے دین اسلام اور شریعت میں تمام احکام خداوندی کے پانچ بنیادی مقاصد ہیں جوکہ نسل کی حفاظت، مال کی حفاظت، دین کی حفاظت اور جان کی حفاظت ہیں اور عقل کی حفاظت کرنا اور اسے ہر قسم کے نقصان سے بچانا دین اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے اور اس پر پردہ کون سی چیز سے پڑتا ہے وہ نشہ ہے۔
اسلامی شریعت نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اور جو چیزیں انسان کے جسم اور عقل کو نقصان پہنچانے والی ہیں ان میں سے ایک ہے۔ عربی میں نشہ اور نشہ آور چیز کیلئے "مُسْکِر” اور "خمر” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ مسلم شریف کے حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ (کل مسکر خمر وکل مسکر حرام) "ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔”
حضرت عمرفاروق ؓ نے نشہ اور خمر کی حقیقت کچھ یوں بیان کی ہے کہ (الخمر ماخامرالعقل) "خمر (نشہ) وہ چیز ہے کہ جو عقل کوڈھانپ لے”۔
اب مندرجہ بالا وضاحت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ شریعت مطہرہ نے ہر وہ نشہ آور چیز اور منشیات حرام قرار دے دیا ہے جو انسانی اعصاب اور عقل پر پردہ ڈالے اور انسان اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہتا اور مختلف قسم کے مہلک جسمانی اور روحانی بیماریو میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم میں بھی نشہ آور چیز کو نجس اور قابل نفرت شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے اور اس سے اجتناب کرنے کا سختی سے حکم دیا گیا ہے۔ ہر قسم کا نشہ اور منشیات کا استعمال ہمارے دین میں حرام ہے اور معاشرے کیلئے ناسور اور زہر قاتل بھی ہے۔ کیونکہ انسان کا سب سے اصل جوہر اس کا اخلاق وکردار ہے ، نشہ انسان کو اخلاقی پاکیزگی سے محروم کرکے گندے افعال اور ناپاک حرکتوں کا مرتکب بنادیتی ہے۔
نشہ خواہ چھوٹا ہوں یا بڑا ، کم ہو یا زیادہ سب ہی مذموم ہے، میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں جو لوگ اور نوجوان شروع سے معمولی نشے نسوار، سیگریٹ وغیرہ کی لت میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو یہاں سے اس کی تباہی وبربادی کا سامان شروع ہوجاتا ہے۔ حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ کا باعث ہو، اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔ نشہ کی عادت بھی اسی طرح ہے کہ معمولی مقدار سے انسان شروع کرتا ہے اور پھر آگے بڑھتا چلا جاتا ہے، یہان تک کہ پھر زہر آمیز انجکشن کے بغیر تسکین نہیں ملتا۔ اور آج کل نوجوانوں میں مقبول نشہ "آئس” ہے۔
ماہرین کے مطابق "آئس” نشہ اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے کوئی منشیات لگتا بھی نہیں اور اس میں کوکین، چرس، ہیرون کی طرح کوئی بدبو بھی نہیں ہوتی، اس کی کرسٹل شکل اور بے بو خاصیت نے اس نشے کو دنیا بھر میں مقبولیت بخشی خاص طور پر طلبہ وطالبات اور نوجوان ہنرمند طبقہ اس کی لپیٹ میں آگیا، یہاں تک کے اب دفتروں بازاروں، دوستوں کی محفلوں سے نکل کر یہ نشہ اسکول کالجز اور یونیوسٹیوں تک پہنچ کر لاکھوں طلبہ و طالبات کو اپنا غلام بنا چکا ہے۔
سب سے پہلا نقصان نشئی کی اپنے صحت کا ہے۔ ڈاکٹرز فرماتے ہیں کہ منشیات ایک ست رفتار زہر ہے اور آہستہ آہستہ انسان کے جسم کو کھوکھلا کرکے عمر کو گھٹاتا ہے۔ آپ کو پتہ ہے آپ کی جسم اللہ کی طرف سے آپکے پاس امانت ہے اب اس کا خیال نہ رکھنا اور اس طرح ضائع کرنا امانت میں خیانت کا مرتکب ہونا ہے اور اس کا حساب دینا ہوگا۔ دوسرا نقصان مالی ہے۔ جتنے بھی منشیات ہیں وہ مالی لحاظ سے کافی مہنگے ہوتے ہیں۔ اب منشیات کے عادی افراد اس کا استعمال تو اپنے اختیار سے شروع کر دیتے ہے مگر جب اس لت کے عادی بن جاتے ہیں تو اس مہنگے منشیات کو خریدنے کیلئے اپنے سارے مال کو داؤ پر لگادیتے ہیں، خواہ گھر میں روٹی میسر نہ ہوں، اھل وعیال بھوکے ہوں، علاج کیلئے پیسے میسر نہ ہوں مگر لازمی اپنے اس خوئے بد کو سب سے پہلے پورے کریں گے۔ تو یہ نشہ بندے کے مال، جائیداد اور تمام مالیات کو کوڑی داموں کھا جاتا ہے۔ نشے کا تیسرا نقصان سماجی پہلو کے حوالے سے ہے۔ انسان ایک سوشل اینمل ہے، اور اسکے ساتھ مختلف لوگوں کے حقوق اور ذمہ داریاں وابستہ ہیں۔ ایک آدمی باپ ہے تو اس پر بچوں کے حقوق و ذمہ داریاں عائد ہے۔ اگر بیٹا ہے تو والدین کی خدمت و حقوق کی پاسداری اس پر ہوتی ہے۔ اگر شوہر ہے تو بیوی بچوں کے حقوق و ذمہ داریاں اس سے متعلق ہیں۔ اور اگر بھائی ہے تو بہنوں کی پرورش و شادی بیاہ کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر ہے۔ اب نشئی آدمی اس نشہ کے لت کی وجہ سے ان کے تمام اقسام کے حقوق و ذمہ داریوں سے بے خبر ہر وقت اپنے اس غلیظ پیاس بجھانے کے چکر میں رہتا ہے۔ اپنی زندگی بھی تباہ وبرباد کر دیتا ہے اور اپنے خاندان والوں کو بھی اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
حضرت محمد ﷺ نے معاشرے میں نشہ آور چیزوں سے پیدا ہونے والی خرابیوں کو روکنے کے لئے اس کااستعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ،دین اسلام کی تعلیمات میں معاشرے سے منشیات کاقلع قمع کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے، اسلام نے اس کو ہر لحاظ سے ممنوع قرار دیا،اسکو” ام الخبائث ” ـ کا نام دیا اسلام نے اسے تمام جرائم کی ماں کا نام دے کر اس کے جملہ پوشیدہ عیوب و نقائص بیان کردیے، اسلام نے ہر اس چیز کو جو کسی بھی صورت میں نشہ کا سبب بنتی ہواس پر حرام کی مہر لگا کر اس کے استعمال کو ممنوع قرار دے دیا ،اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ”اے ایمان والو!شراب ، جوا ، بت اور پانسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں۔ سو ان سے بچتے رہو ،تا کہ نجات پاؤ۔”
شہر اسلامی قوانین کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں،دنیا میں اس وقت قریباََ 57 اسلامی ممالک ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہ ممالک منشیات کے مکمل خاتمے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو پائے ، ہیروئن کی پیداوار میں گزشتہ تین دہائیوں سے اسلامی ملک افغانستان کا نام سرفہرست رہا ہے ،وطن عزیز پاکستان میں منشیات کے استعمال کارجحان روس افغانستان جنگ کے بعد بڑھا ، اسی(80) کی دہائی میں افغانستان میں روسی مداخلت اور جنگ کے بعد افغان مہاجرین کی بڑی تعداد نے یہاں ڈیرے ڈالے،جس سے کلاشنکوف اور ہیروئن کا استعمال وطن عزیزپاکستان میں تیزی سے پھیلا ، ہیروئن (سفیدپائوڈر) جس کی وجہ سے نوجوان نسل بالخصوص اور پوری قوم بالعموم بری طرح سے متاثر ہو ئی اور ہو رہی ہے منشیات کے استعمال کی بنیادی وجہ دین سے دوری ، نشہ آور اشیا کے استعمال کے نقصانات سے بے خبری ہے ، اس کاروبار میں ملوث افراد راتوں رات امیر ہو جاتے ہیں ، ہیروئن کی ایک کلو مقدار عالمی مارکیٹ میں کروڑوں روپے ہے ، وطن عزیز پاکستان میں سگریٹ سازی کی صنعت کو باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل رہی ہے، سگریٹ کی ڈبیہ پر”خبردار ! تمبا کو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” لکھ کر حکومت نے سگریٹ سازی کی صنعت کو روکنے یا اس کی خریدوفروخت کے حوالے سے کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا.
بے شمار نشوں نے معاشرے کے نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ،وطن عزیز پاکستان میں اینٹی نارکوٹکس فورس ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی وجہ سے نشہ آور اشیاء کے خلاف بھر پور کارروائیاں کرتے ہوئے بڑے منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا لیکن اس کے باوجود غیر سر کاری اعداد و شمار کے مطابق ایک کروڑ افراد مختلف قسم کے نشوں کا شکار ہیں جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ساٹھ لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں وطن عزیز میں منشیات جیسی لعنت کے خاتمے اور اس کے خلاف آگہی دینے کے لئے بے شمار این جی اوز اپنا کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ ٹریٹمنٹ سینٹرز کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے جہاں مختلف نشوں کے شکار ان افراد کی بحالی اور علاج ممکن ہو سکے ۔ منشیات کے خاتمہ کے لئے علما کرام ،اساتذہ سمیت ذرائع ابلاغ پر انتہائی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لئے بھر پور کردار ادا کریں ۔
Twitter: @shehryarsialvi

اولاد کی پرورش میں والدین کا کردار تحریر۔نعیم الزمان
اولاد اللہ تعالیٰ کی انسان کو عطاء کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اولاد کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” یعنی اللہ تعالیٰ نے جو اولاد تمہارے لیے مقدر فرمائی ہے اس کو نکاح کے ذریعے تلاش کرو”۔
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک جتنے بھی انسان اس دنیا میں آئے اور اپنی زندگی بسر کرنے کے بعد اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔مگر اللہ پاک نے ہر انسان کو اولاد کی صورت میں اپنے بندوں کی پرورش کی توفیق بخشی اور اللہ نے سب کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ سب اپنے پیچھے دین اور دنیا کا جانشین چھوڑ کر جائیں۔ اولاد کی پیدائش پر رب العالمین کے آگے سجدہ شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور اولاد میں خیروبرکت کے لیے دعا مانگی چائیے۔ اولاد نہ ہونے کی صورت میں اللہ کے حضور نیک اور صالح اولاد کی دعا مانگنی چاہیے۔
بچے قدرت کا انمول تحفہ ہوتے ہیں۔زندگی میں خوشیاں اولاد ہی کی بدولت ہوتی ہیں۔ اگر کسی گھر میں بچے نہ ہوں وہ گھر تمام تر نعمتوں کے باوجود خالی خالی سا لگتا ہے۔ اولاد کے لیے گھر پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ بچے اپنی ابتدائی عمر میں والدین سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔اور اپنے والدین کے نقشے قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی لیے بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم و تربیت پر زیادہ سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ ذمہ داری خاص کر والدہ پر زیادہ عائد ہوتی ہے جس کو اولاد کی پہلی معلمہ کا درجہ دیا گیاہے۔ اکثر اوقات والدین بچوں کو مہنگے ترین سکولوں میں داخل کروا کر ان کی ضروریات پوری کرکے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زمہ داری پوری کر لی ۔ لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہوتا ہے جب آپ اور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو اچھی تربیت دینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اولاد کی تربیت کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "ماں باپ کا اپنی اولاد کو سب سے بہترین عطیہ اچھی تربیت ہے”
بغیر تعلیم و تربیت کے لاڈ اور پیار سے اگر گھر کا ایک بچہ بگڑ جائے تو پورے گھر کا عیش و عشرت برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی لیے اچھی پرورش ،تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو ہر والدین پر قرض ہے۔ اولاد ہر والدین کو پیاری ہوتی ہے۔چاہے والدین غریب ہوں یا امیر۔ والدین اپنی اولاد کی پرورش اور تعلیم کے لیے ہر طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کر تے ۔اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ اولاد کی تربیت پر زیادہ توجہ دی جائے ۔ بچوں کو ابتدا سے ہی اچھی عادتیں ڈالیں۔ ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ کر ابتدا کرنا گھر میں موجود بڑوں سے اخلاق سے پیش آنا گھر میں بغیر اجازت کس کمرے میں نہ جانے کی عادتیں ڈالیں۔ صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کی عادت ڈالیں۔بچوں کے مثبت کاموں پر حوصلہ افزائی کر یں ۔ بچوں کا مذاق اڑانے سے گریز کریں۔اور غلط کاموں پر فوری سرزنش کرنی چاہیے تا کہ بچوں میں غلط عادتیں پروان نہ چڑھ سکیں۔ والدین کو بچوں کے سامنے لڑنے جھگڑنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے اقدامات بچوں کی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ بچوں کو کسی بھی غلطی پر ڈانٹے سے پہلے اس کی تحقیقات کر لینی چاہیے۔ بلاوجہ ڈانٹنے پیٹنے سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے بچے احساس کمتری ذہنی اور جسمانی کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اس سے بچے کی پرورش اور پڑھائی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔والدین بچوں پر تنقید سے گریز کریں جن بچوں پر زیادہ تنقید کی جاتی ہے وہ زندگی میں کو شش کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ بچوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنے رویے میں غصہ محسوس نہ ہونے دیں اور دوستانہ رویے سے پیش آئیں۔ بچوں کو کھیل کود اور سیر تفریح کے لیے بھی مناسب وقت دیں۔تا کہ وہ زیادہ تنگی کا شکار نہ ہو جائیں ۔ بحثیت والدین بچوں کو کبھی بھی مہمانوں اور باہر کے لوگوں کے سامنے برا بھلا کہنے سے گریز کریں۔ اس سے بچوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ بہت ساری منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کے سامنے بچوں کی خوبیاں بیان کرنی چاہیے جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اچھے کاموں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔کوئی بھی قوم اخلاق کے بغیر خاک کے ڈھیر کی ماند ہوتی ہے۔ اس لیے اخلاقیات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اخلاقی تربیت سیکھانے کا بہترین وقت بچپن کا ہوتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو ابتدا سے ہی اخلاقی اصولوں سے اچھی طرح روشناس کر دیں تو یقیناً بچوں کے بالغ ہونے کے بعد ان کے بد اخلاق ہونے اور جرائم کی دنیامیں بھٹکنے کے مواقع تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔موجودہ حالات کے پیش نظر بچوں کو بلاوجہ گھروں سے باہر نہ جانے دیں ۔اگر جانا ضروری بھی ہو تو کسی بڑے کا ساتھ ہونا لازم ہے۔ایک متوازن پرورش اور تربیت ہی بچے میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔جو زندگی گزارنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے ہم سب کو اپنے بچوں کو رزق حلال کھلانے ان کی اچھی پرورش اور تعلیم و تربیت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔اور ان تمام احباب کو اولاد نرینہ عطاء فرمائے جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ اور بچوں کو اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے۔ دنیا اور آخرت میں خیر کا باعث بنائے ۔آمین
@786Rajanaeem

صنعت اور پاکستان _تحریر: فیصل فرحان
صنعت کسی بھی ملک کی معیشت کا بنیادی جزو ہے صنعت کا ارتقاء 1835 سے ہوا دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنی صنعت کے ذریعے اپنے ملک کی معیشت میں انقلاب برپا کئے صنعت 1835 میں برطانیہ سے شروع ہوئی برطانیہ نے ٹیکسٹائل صنعت کا آغاز کیا بعدازاں امریکہ اور یورپ نے اپنی صنعت پر کام کیا اور اپنا لوہا منوایا 1870 میں صنعت کے کام میں تیزی سے اضافہ ہوا
ترقی یافتہ ممالک کی ترقی میں صنعت کا بہت اہم کردار ہے عمومی طور پر صنعت دو طرح کی ہوتی ہے چھوٹی صنعت بڑی صنعت ۔
چھوٹی صنعت سے مراد ایسی صنعت ہوتی ہے جس میں بیس سے کم لوگ کام کرتے ہوں ، ایسی صنعتیں آپ کو پاکستان میں مختلف مقامات پر نظر آئیں گی جیسا کے کپڑے اور دھاگے کی صنعتیں وغیرہ، ایسی صنعتوں سے علاقہ میں بے روزگار افراد کو روزگار مہیا کیا جاتا ہے اور نوجوان اپنے شہر سے روزگار کے لیےہجرت کرنے سے بچ جاتے ہیں اس سے لوگوں میں ملکی مصنوعات کے استعمال کا رجحان بھی بڑھتا ہے
چین بنگلہ دیش امریکہ اور جاپان جیسے ممالک کے لوگ اپنی ضرورت کی اشیاء اپنے ملک میں ہی بناتے ہیں اور اپنے ملک کی بنائی گئی اشیاء کو استعمال کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ پاکستان انڈیا عرب ممالک اور افریقی ممالک مضبوط صنعت نا ہونے کی وجہ سے اپنی ضروریات کی اشیاء بھی اپنے ممالک سے پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لیے انہیں دوسرے ممالک کی بنائی گئی اشیاء پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس سے معیشت پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔
بنگلہ دیش نے اپنی صنعت کے لیے مؤثر پالیسیاں بنائی آج بنگلہ دیش کی صنعت پاکستان کے مقابلہ میں بہت بہتر ہے بنگلہ دیش کی جی ڈی پی کا 28٪ فیصد حصہ صنعت سے آتا ہے جبکہ پاکستان کی صنعت صرف 17 فیصد حصہ جی ڈی پی میں شامل کرپاتی ہے
دوسری مثال چائنہ کی سب کے سامنے ہے جو اس وقت دنیا میں نمبر ون معاشی طاقت بن چکا ہے، اس کا مقابلہ اب امریکہ اور روس سے ہے۔ یہ وہی چائنہ ہے جو پاکستان کو 74 کی دہائی میں رول ماڈل سمجھتا لیکن آج وہ کہاں پہنچ گئے اور ہم وہی کے وہی کھڑے ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے چھوٹی صنعتوں پر توجہ دی، اپنے گھروں کو کاروباری صنعتوں میں تبدیل کر دیا یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں 60% چیزیں چائنہ کی فرخت ہو رہی ہیں
لیکن پاکستان پچھلے 74 سالوں میں اپنی صنعت کے لیے کوئی مؤثر پالیسیاں بنانے میں ناکام رہا ہے
موجودہ حکومت کی کوششوں اور پالیسیوں سے پاکستان میں کاروں کی انڈسٹری اور موبائل فونز کی انڈسٹری کا آنا ایک خوش آئند بات ہے جس سے نا صرف ملک کے ریوینیو میں اضافہ ہوگا بلکہ لوگوں کو روزگار بھی ملے گا امید ہے کہ موجودہ حکومت باقی صنعتوں لیے بھی مؤثر پالیسیاں بنائے۔ خدا میرے ملک کو زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کامیابی و کامرانی عطاء فرمائے۔ آمین۔
Twitter handle: @Farhan_Speaks_
نواز شریف کے سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والی بےنظیر کا حوالہ دے کر انصاف مانگے مریم نواز شریف تحریر:سفینہ
رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے ساتھ اسلام ہائی کورٹ کے سپیشل بینچ نے بروز بدھ کو مسلم لیگ ن لی نائب صدر مریم نواز صاحبہ کی درخواست پر سماعت کی ہے ۔ اس بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروقی شامل ہیں۔ اس پیٹیشن میں تقریبا وہی سب کچھ شامل کیا گیا ہے جو ان کی مرکزی درخواست میں شامل تھا۔
اس درخواست میں مریم نواز نے الزام لگایا ہے۔ کہ میں اور میرے شوہر (ر) کیپٹن صفدر اور میرے والد سابق وزیراعظم نواز شریف کی ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں ہر مشتمل درخواست کو دوبارہ سنا جائے۔
مریم نواز نے اپنے وکیل عرفان قادر کے ذریعے ہائی کورٹ پر زور دیا کہ وہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں احتساب عدالت کے فیصلے کو سنگین خلاف ورزیوں پر کالعدم قرار دے۔
مریم نواز اور ان کے والد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 6 جولائی 2017 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سزا سنائی تھی ، جنہوں نے مریم نواز کو سات سال اور نواز شریف صاحب کو دس سال اور ر کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں آئی ایچ سی نے ان کی سزائیں معطل کر دیں تھیں۔
اس درخواست میں مریم نواز نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کا بار کونسل میں خطاب کے دوران کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے۔
کہ ایون فیلڈ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کنڑول کر رہے تھے ۔ اور انھیں سچ بولنے کی پاداش میں برطرف کر دیا گیا تھا۔
درخواست میں سپریم کورٹ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے کیس کی تفتیش کے ساتھ ساتھ پراسیکیوشن کی نگرانی بھی کی ۔ جس کی کہیں مثال نہی ملتی ۔ کیونکہ آئین میں عدالت کا کام تفتیش کار یا کسی پراسیکیوٹر کا نہی ہے۔
درخواست میں مزید لکھا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے آمدنی سے زائد اثاثوں میں تین الگ الگ ریفرنس دائر کئے جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اور نیب شفاف طریقے سے کام کرنے میں ناکام رہا۔ جس کے وجہ سے اس ریفرنسز کے نتیجے میں کیا جانے والا ٹرائل ایک زبردستی دھونس کے ذریعے کروائے گئے فیصلے کا نتیجہ ہے۔
مریم نواز نے اس درخواست میں دوبارہ مرحوم جج ارشد ملک کی ویڈیوز کا بھی حوالہ دیا ہے ۔ کہ انھیں کیسے پریشرائز کر کے فیصلے ہمارے خلاف کروائے گئے۔
یہاں ایک اور بات بہت ہی دلچسپ ہے کہ مریم نواز نے مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف دئیے گئے فیصلے اور پھر سابق جج جسٹس عبدالقیوم صدیقی کی آڈیو ٹیپ کا حوالہ دیا جس کی وجہ سے مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف فیصلوں کو آن ڈو کیا گیا تھا۔
ان تمام واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ہوئے مریم نواز نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر ایون فیلڈ کیس میں دی گئی سزائیں ختم کر دیں جائیں۔آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروقی اور جسٹس محسن اختر کیانی نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا کے خلاف اپیل کی درخواست کو 13 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔
آج مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس کیس کا تعلق مسلم لیگ ن سے نہی ہے۔ہم کسی ادارے یا شخص کے خلاف نہی بلکہ ایک مائنڈ سیٹ کے خلاف ہیں۔
کیا ان کے اب معاملات جنرل باجوہ سے سیٹ ہو گئے ہیں ؟ یا جان بوجھ کر جرنل فیض حمید کی افغانستان میں کامیابی اور ان کی انٹرنیشلی مثبت کریڈبلٹی کو ڈیمنج کرنا چاہ رہی ہیں ؟ کیونکہ آج کے دن ہی جنرنل فیض حمید ڈی جی ، آئی ایس آئی کے عہدے پر اپنی مدت پوری کرنے کے بعد کور کمانڈر پشاور تعینات ہو گئے ہیں۔
کیونکہ آرمی چیف بننے کیلئے کم از کم ایک کور کی کمانڈ کرنا ضروری ہوتی ہے۔ اور جنرنل فیض حمید کے مستقبل کے آرمی چیف بننے کی راہ میں یہی ایک راہ میں رکاوٹ تھی۔ جو اب ختم ہو جائے گی، اور اب وہ آنے والے سالوں میں موسٹ فیورٹ بننے والے آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔
کیا یہ اس خوف کی وجہ سے کور کمانڈر پشاور فیض حمید کو ٹارگٹ بنا رہی ہیں؟اور ان کی شخصیت کو جان بوجھ کر متنازع بنا رہی ہیں ؟
پھر مریم نواز کہتی ہیں ۔ کہ جسٹس شوکت صدیقی اور جنرنل فیض حمید کو کٹہرے میں کھڑا کریں ان سے حلف لیں کہ وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہیں کہ ان پر لگے الزامات جھوٹ ہیں۔ کیونکہ اگر یہ جھوٹ ہوتے تو آج تک تردید ہو چکی ہوتی۔
تو مریم نواز صاحبہ کی خدمت میں عرض ہے عدالتیں ثبوتوں پر فیصلے کرتیں ہیں اور اسی کی بنیاد پر جسٹس شوکت صدیقی کے بیانات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔کیونکہ وہ اپنی باتوں کا پروف دینے میں ناکام رہے تھے۔ لہذا ان کی گواہی اب میرے نزدیک کوئی معنے نہی رکھتی۔
اب بات ہو جائے مرحوم جج ارشد ملک کی جن کا حوالہ بار بار مریم نواز اور ان کے والد نواز شریف دیتے ہیں۔ پہلی بات تو اب وہ جج اس دنیا میں ہی نہی ہیں اور دوسرا مرحوم جج ارشد ملک مریم نواز کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی ویڈیوز کے بارے میں اپنی زندگی میں ہی پریس ریلیز جاری کر چکے ہیں ۔
جس میں مرحوم لکھتے ہیں کہ مریم صفدر صاحبہ نے جو ویڈیوز اپنی پریس کانفرنس میں دکھائی ہیں وہ ویڈیوز نا صرف حقائق کے برعکس ہیں بلکہ ان مختلف مواقع اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاہ و سابق سے ہٹ کر پیش کرنے کی مذہوم کوشش کی گئی ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ سچ منظر عام پر لایا جائے اور وہ یہ ہے کہ نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے بار ہا نا صرف رشوت کی پیش کش کی گئی بلکہ تعاون نا کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں گئیں۔ جن کو میں نے سختی سے رد کرتے ہوئے حق اور سچ پر قائم رہنے کا عزم کیا اور اپنے جان و مال کو اللہ کے سپرد کر دیا وغیرہ ۔
مرحوم جج ارشد ملک کی مکمل پریس ریلیز ہر طرف دستیاب ہے ۔ لہذا ایک شخص جب اپنی زندگی میں ہی ان کے الزامات کی تردید کر چکا اب اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد کورٹ ان ویڈیوز کو کیسے سچ مان لے گی ؟ اس کے باوجود اگر کورٹ چاہیے تو مریم نواز سے تمام مواد ویڈیو وغیرہ اویجنل فون اور رکارڈینگ گیجٹ بمع اس شخص کے جنہوں نے ریکارڈ کیا ۔ سب کچھ اویجنل ڈیٹا مانگ سکتی ہے۔
لیکن میری رائے کے مطابق مریم نواز ان ویڈیوز کا اوریجنل ڈیٹا عدالت میں ہیش نہی کریں گی۔ اور نا ہی اس کیس کے اندر جان ہے ۔ یہ کیس زیادہ دور تک نہی جا پائے گا۔
اب ہم بات کرتے ہیں بہت ہی اہم اور نئے پوائنٹ پر مریم نواز نے سابقہ وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کے ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف ایک آڈیو آ جانے پر ان کے خلاف کئے گئے فیصلے بھی آن ڈو کر دئیے گئے تھے۔ تو پھر ہمارے کیسیز میں ویڈیو پروف آ جانے کے بعد ہمارے کیس کیوں ختم نہی کئے جا سکتے۔
مطلب ماضی میں سابقہ وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کی طرف سے مریم نواز کے والد سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے چچا شہباز شریف اور ان کے بیٹے کے سسر سیف الرحمن کے خلاف لگائے گئے الزامات درست تھے؟
کہ ماضی میں ان کے والد انکے چچا اور انکے سمدھی نے جسٹس ملک عبدالقیوم کو فون کر کے محترمہ بےنظیر بھٹو کے خلاف فیصلے کرنے کا کہا گیا؟اور ان کی آڈیو لیک ہونے کے بعد محترمہ بےنظیر بھٹو نے ثبوت کے طور پر کورٹ میں پیش کیا اور اپنے خلاف ہوئے فیصلوں کو آن ڈو کروایا۔
ہمارے پاکستان میں اقتدار کی خاطر ایک دوسرے پر الزامات لگا کر زبردستی گرانے کا گندہ کھیل عرصہ دراز سے جاری ہے۔اور پاکستان میں کوئی ایسا شخص نہی جو اس گھناونے اور گندے کھیل میں شامل نا ہو۔
آج بھی سب اسی کھیل کا تسلسل کا حصہ ہے۔ ماضی میں نواز شریف صاحب اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے مہرے کے طور پر کام کرتے رہے۔ بےنظیر کیُ دونوں حکومتوں کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا مرحومہ کو زبردستی سزائیں دلوانے میں شامل رہے اور آج قسمت کا کھیل دیکھیں نواز شریف صاحب کی اپنی صاحبزادی مریم نواز اپنے والد کے ہاتھوں ظلم ، ناانصافیوں اور سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والی پاکستان کی پہلی سابقہ خاتون وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کے کیس کا حوالہ دے کر انصاف مانگ رہی ہیں
بے روزگاری اور پاکستانی معیشت تحریر: تنزیلہ اشرف
پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔۔یہ ایسا ملک ہے جو قدرتی وسائل سے ماال مال ہے۔۔لیکن اس کے پاس خوش”،
قسمتی سے انسانی وسائل کی بھی کمی نہیں ۔پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جس کی زیادہ تر آبادی نوجوان نسل پر مشتمل
ہے۔۔نوجوان کسی بھی قوم کا عظیم ترین سرمایہ ہوتے ہیں”۔۔
جن کو اگر بہترین سہولیات ،بہترین تربیت فراہم کی جائے ،تو ہی یہ سرمایہ ملک و قوم کے لیے صحیح معنوں میں بہتر ثابت ہو”
سکتا ہے۔۔بدقسمتی سے ہم اس مقام پر کھڑے ہیں !جہاں ہمارے تعلیم یافتہ بچے اپنی ڈگریوں کو صرف حاصل کر سکتے ہیں ان
ی تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کی یہ تعلیم صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا بن جاتی
ڈگریوں کو استعمال میں نہیں ال سکتے ۔۔وہ اعل
ہے”۔۔
کبھی معاشرا انہیں یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنا علم،اپنا تجربہ اپنے لوگوں کے لیے استعمال کر سکیں،کبھی حکومت ان کی راہ کی”
بڑی رکاوٹ بنتی ہیں”۔۔
اس وقت پاکستان میں الکھوں بچے اپنی ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے ،خود کو منوانے کے کیے تیار بیٹھے ہیں لیکن ان کو وہ مواقع”
نہیں مل رہے جو ان کے لیے علم کی راہ کھول دیں ۔۔وہ اپنا علم،اپنے تجربات سے ملک کو فائدہ پہنچا سکیں”۔۔
جیسے جیسے لوگوں کی ڈگریوں کی تعڈاد بڑھتی ہے ۔۔ڈپریشن بھی لوگوں پر حاوی ہونے لگتا ہے "۔۔ "کیونکہ جب علم کو عمل میں”
نہ الیا جائے تو وہ بوجھ بن جاتا ہے "۔۔
اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے سب سے پہلے حکومت کو چاہیئے وہ ایسی حکمت عملی اپنائے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ”
ہنر بھی سکھایا جائے ایسا ہنر جو ان کی دلچسپی سے متعلق ہو جس سے نہ صرف ان کے علم میں اضافہ ہو بلکہ وہ اپنے علم کو
تجربات میں ڈھال سکیں۔۔صرف ڈگریوں میں اضافے سے قوم ترقی نہیں کرتی ،سوچ بدلنی پڑتی ہے،علم کے خزانے کو تجربات میں
پگھالنے سے ہی انسان کندن بنتا ہے اور ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں "۔۔۔
اس وقت سب سے بڑی ضرورت سوچ بدلنے کی ہے۔۔ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے کچھ سوچنا ہے ،کچھ ایسا منصوبہ جو انھیں”
نکھار کر سونا بنا دے۔۔حکومت قرضے فراہم کر رہی ہے لیکن یہ کافی نہیں ۔میرے خیال میں کالجز ،یونیورسٹیز میں بچوں کے لیے
وقتا فوقتا ایسے سیمینار منعقد کرنا وقت کی ضرورت ہے جس کے تحت انھیں کاروبار کرنے کی طرف مائل کی جائے ان کے اندر
کچھ نیا دریافت کرنے کی جستجو پیدا کی جائے۔۔۔وہ تالش کریں اپنی منزل کو،ان میں کچھ منفرد پیدا کرنے کا جذبہ بیدار کرنا
چاہیئے "۔۔۔
نہ کہ وہ اپنی ڈگریاں لے کر کسی موقع کی تالش میں گھر بیٹھ جائیں بلکہ انھیں خود موقع پیدا کرنے کی تربیت دی جائے۔انھیں یہ”
سکھانا ہے کہ وہ اپنے علم پر چلتے ہوئے منزل تک کیسے پہنچ سکتے ہیں ،خود کو کیسے منوا سکتے ہیں”۔۔۔
کہ اٹھو،جاگو،وسیع آسمان ،کھلی سر سبز و شاداب زمین مسخر ہونے کو بے تاب ہے ،جاؤ کچھ نیا تالش کرو ،اپنی جستجو سے”
اپنی لگن سے کھو جاؤ کچھ نیا تالش کرنے میں،وقت تمہارا منتظر ہے اور گھڑی کی آگے بڑھتی ہوئی سوئیاں تمہارے ہم قدم ہو کر،
تمہیں پہنچا دیں گی !اس منزل پر جہاں صرف مضبوط ارادہ اور قوی دل رکھنے والے پہنچ سکتے ہیں کہ علم کے دروازے بزدل
اور ڈگمگاتے قدم رکھنے والوں پر نہیں کھال کرتے۔اس دروازے کو کھولنے کے لیے تمہیں خود کو مضبوط بنا کر شفاف علم سیکھنا
ہے ۔۔یہی تمہاری کامیابی کی منزل ہے، جو تمہیں ضرور ایک نئے جہان میں پہنچا دے گی۔۔۔آگے بڑھو اور کچھ نیا کر جاؤ”کیا واقعی مہنگائی ہے؟ تحریر: محمد آصف گوہر
ارشاد باری تعالٰی ہے
وَلَقَدۡ مَكَّنَّٰكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَۗ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُون°
"اور بے شک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا، تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔”
سورة الأعراف 10
موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو حکومت سنبھالے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ ملک کے چھوٹے بڑے کاروباری تاجر حضراتئ حتی کہ گلی محلے کے پرچون فروشوں نے ناجائز منافع خوری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہر چیز کو مہنگا بیچنے کے لئے یہ تکیہ کلام بنا لیا کہ ” جی کیا کریں تبدیلی ہے ” اور اسے ساتھ ہی 10 روپے مہنگی چیز گاہک کے ہاتھ میں تھما دی اور گاہک نے بھی آگے سے دو گالیاں حکومت کو دے کر بخوشی مہنگے داموں خریدرای کر لی۔
دکانداروں کے ساتھ ہی اپوزیشن نے بھی اپنے سیاسی مقاصد و عزائم کے لئے بہت مہنگائی ہے کی گردان شروع کر دی اور اس کے ساتھ ہی سیاسی اپوزیشن جماعتوں نے میڈیا کا بھرپور استعمال کیا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے ہیڈلائنز اور شہ سرخیوں میں اشیاء خوردو نوش کی قیمتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیا پراپیگنڈا اتنے منظم انداز سے کیا گیا کہ رائے عامہ پختہ ہوگئ کہ اس حکومت نے بہت مہنگائی کر دی ہے۔
اگر ہم پاکستان کی آٹو موبائل انڈرپاسز کی مالی سال 2020-21 کے لئے پروڈکشن و فروخت کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ 1 لاکھ 51 ہزار کاریں، 4 ہزار 3 سو ٹرک اور بسیں، 11 ہزار 3سو لینڈ کروزر اور دیگر لگژری جیپیں، 18 ہزار 9سو لوڈر پک اپس ، 50 ہزار 9 سو ٹریکٹرز اور موٹر سائیکل انڈسٹریز نے 19 لاکھ 39 ہزار موٹرسائیکلیں فروخت کیں۔
موبائل فون کی بات کریں تو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے 186 ملین افراد موبائل فونز استعمال کر رہے ہیں جن میں سے 103 ملین افراد کے پاس سمارٹ فونز ہیں اور وہ 3 جی اور 4 جی سروسز استعمال کر رہے ہیں۔
اب اگر اشیاء خوردو نوش کی بات کریں تو ان اشیاء کی قیمتوں کا تعلق ڈیمانڈ سپلائی اور سیزن سے ہوتا ہے۔ مرغی کی قیمتوں میں اضافہ کا سبب زیادہ ڈیمانڈ اور سپلائی کم ہونے کے ساتھ جڑا ہے جیسے ہی محرم الحرام رمضان المبارک اور شادی بیاہ کا سیزن عروج پر ہوتا ہے مرغی کی قیمت آسمان سے بات کرتی ہے اور جیسے ہی سیزن ختم ہوتا ہے مرغی 160 سے لے کر 190 تک فروخت ہو رہی ہوتی ہے یہی حال پھلوں اور سبزیوں کا ہے شروع سیزن میں مہنگی اور درمیان میں سستی ہوجاتیں ہیں جیسا کہ آجکل اچھا کیلا 60 روپے درجن انار 200 اور سیب 150 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے ایسے ہی سال میں کبھی ٹماٹر 400 روپے اور کبھی گدھا گاڑیوں ریڑھیوں پر 40 روپے کلو فروخت ہو رہا ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں چینی کی قیمت پر اتنی گفتگو کی جاتی ہے جیسے کہ ہر شخص دن میں 3 اوقات صرف چینی کے ہی پھکے مارتا ہے ۔جبکہ ایک اوسط گھر کی ضرورت صرف 6 سے 8 کلو چینی ماہانہ ہوتی ہے ۔چینی کو بطور سیاسی ہتھیار بھی استعمال کیا جاتا ہے اور مصنوعی قلت سے بحرانی صورتحال پیدا کرکے حکومت کو ٹف ٹائم دیا جاتا ہے۔
حکومت نے لوگوں کےگوداموں سے لاکھوں بوریاں چینی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے برآمد بھی کی گئی ہیں ۔
اب آجائیں آٹا کی قیمتوں پر موجودہ حکومت نے کسان کے مسائل کو دیکھتے ہوئے گندم کی سرکاری خریدرای قیمت میں اضافہ کیا جس سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہونا ہی تھا اس پر شور کیوں کیا سارا سیزن گندم کی فصل کی آبیاری کرنے والے کسان سے مفت ہی گندم لے لی جائے کیا کھیت سے گندم مفت ہی منڈیوں تک آ جاتی ہے کیا فلور ملز اور چکیوں پر کام کرنے والے مزدور اور مالکان بلا معاوضہ کام کرتے ہیں نہیں تو پھر اسی آٹے کی فی کلو قیمت سے ہی ان تمام طبقات کا رزق وابستہ ہے اس لئے آٹے کی قیمت میں اضافہ فطری سی بات ہے ان سب کے باوجود حکومت سبسٹڈی دے کر قیمتوں کو عام صارفین کے لئے مناسب رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔
پٹرول کی قیمتیں اس وقت عالمی منڈی میں بلند ترین سطح پر ہیں دنیا کے تمام ممالک میں پٹرول اوسطا 20۔1 ڈالر فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے ۔جبکہ پاکستان میں صرف 127 روپے فی لیٹر پر فروخت کیاجارہا ہے جو کہ دیگر تمام (سوائے تیل پیداکرنے والے) ممالک کی نسبت کم ترین قیمت ہے۔
سیاسی اپوزیشن جماعتوں رہنما جب ہاتھوں میں مہنگا ترین موبائل لگثری برانڈ کے کپڑے اور جوتے پہن کر مہنگائی مہنگائی کرتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ منافقت ہو رہی ہے۔
زیادہ مہنگائی صرف لوئر کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے لئے تو کہی جاسکتی ہے جن کے ذرائع آمدن نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ان طبقات کے لئے موجودہ حکومت نے احساس پروگرام کی چھتری تلے درجنوں پروگرام جاری کر رکھ ہیں جن سے لاکھوں خاندان فائدہ حاصل کر رہے ہیں اور جگہ جگہ وزیر اعظم عمران خان کے کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کے تحت لنگر خانے اور پناہ گاہیں قائم ہیں جہاں پر روزانہ ہزاروں افراد کھانا کھاتے اور رات بسر کرتے ہیں۔ باقی کچھ مہنگائی اگر ہے بھی تو وہ اس وقت دنیا بھر کے لئے ہے مسلسل کرونا وبا نے ساری دنیا کو متاثر کیا ہے اور تمام ممالک میں مہنگائی عروج پر ہے لیکن اس سب کے باوجود دنیا کے معتبر ادارے پاکستانی معیشت مستحکم اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئی قرار دے چکے ہیں۔ اور پاکستان کو رہنے اور زندگی بسر کرنے کے لیے سستا اور موضوع ترین ملک کا درجہ حاصل ہے۔ اللہ سبحان و تعالی نے ہمیں اور ہمارے ملک کو بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے ہمیں کسی بھی پراپیگنڈا سے متاثر ہوکر کفران نعمت کی بجائے شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ اللہ سبحان و تعالی کا فرمان ہے کہ شکر کرنے والے کو مزید عطا کیا جاتا ہے اور ناشکری کرنے سے نعمتیں چھن بھی جاتی ہیں۔ @EducarePak

اتنی مہنگائی۔۔زرا رحم سرکار تحریر:سیدہ ذکیہ بتول۔
وقت وہ آگیا ہے کہ کچھ بھی خریدنے جائیں اور صرف یہ بول دیں "بھائی اتنی مہنگا کیوں دے رہے ہو” اگلا پوری بتیسی دکھا کر کہتا ہے” نیا پاکستان ہے سرکار” جیسے نئے پاکستان کی تعمیر میں اینٹ رکھ کر ساری غلطی صرف خریدار نے کی۔ مہنگائی بھی تو بریک پر پاؤں ہی نہیں رکھ رہی اب پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں ہیں ایک لیٹر پٹرول تقریباً ایک سو اٹھائیس روپے میں ملے گا یہ خبر سنتے ہی عوام کے تو پیروں تلے زمین ہی کھسک گئی کیونکہ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی کی شرح بھی تیزی سے اوپر جاتی ہے اور پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پستی عوام کی دہائیاں نئے پاکستان کے درو دیوار سے ٹکرا رہی ہیں ڈالر کی اونچی اُڑان بھی جاری ہے مگر قیمتیں ہر بار بڑھا کر وزیروں کو دفاعی مورچوں پر بٹھا کر رٹا رٹایا سبق دہروایاجاتا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھی ہیں اسلیے پاکستان بھی مجبور ہے جبکہ کچھ تو دھڑلے سے یہ بھی فرما جاتے ہیں کہ ابھی بھی گراف میں ہماری قیمتیں دوسرے ممالک کی نسبت کم ہیں حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ موازنہ اس وقت کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی معیشت میں شرح نمو مستحکم نہیں تو دوسری جانب پاکستان میں آمدنی کے ذریعے بھی ختم ہوتے جارہے ہیں۔جبکہ موازنہ کرتے وقت قوت خرید کتنی ہے اس بات کو ہمیشہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
نئے پاکستان میں پرانے وزیر سارے ہی اتنے ایکسپرٹ ہوچکے ہیں کہ نہ وہ چبھتے سوالوں پر کچھ سوچتے ہیں نہ عوام کی چیخوں سے ان کی روزی روٹی ہر اثر پڑتا ہے بلکہ مکمل اعتماد کے ساتھ ٹوئٹر کا سہارا لیکر مہنگائی پر اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں عوام کو الجھا کر سمجھتے ہیں کہ اس بار تو بلا ٹلی۔وزیر خزانہ کا ایک بیان نظر سے گزرا جسمیں وہ قیمتوں میں پاکستان اور برطانیہ کا موازنہ فرماتے ہیں کہ وہاں مہنگائی یہاں کے مقابلے میں اکتیس فی صد زیادہ ہے یعنی ہم قیمتوں میں ابھی برطانیہ سے بہت پیچھے ہیں مگر کیا ہی اچھا ہوتا اگر وزیر صاحب فہرست میں وہ شعبے بھی گنوا دیتے جس میں ہم واقعی میں برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہیں۔۔اگر وہاں مہنگائی ہے تو عام آدمی کو سہولیات بھی میسر ہیں وہاں ٹیکس کے بدلے باسیوں کو دھکے نہیں ملتے وہاں صحت تعلیم جیسی سہولیات کے حصول لیے لوگوں کو اپنے زیور اور گھر گروی نہیں رکھنے پڑتے برطانیہ میں اگر پٹرول مہنگا ہوا تو وہاں نعم البدل بہترین اور سستی ٹرانسپورٹ موجود ہے وہاں کا انفرا اسٹرکچر عوام کو ذہنی کوفت میں مبتلا نہیں کرتا اُدھر یوٹیلیٹی بِلوں میں دنیا جہان کے سمجھ سے عاری ٹیکسز لگا کر نہیں بھیجے جاتے وہاں گرمیوں میں بجلی کی بد ترین لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی اُدھر نلکوں میں پانی آتا ہے نہ کہ لوگوں کو پانی جیسی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے مہنگے ٹینکرز خریدنے پڑتے ہیں وہاں سردی میں عوام کو گیس میسر ہوتی ہے ۔۔
اب اپنے ملک پر نظر دہرائیں بد قسمتی سے اکیسویں صدی میں بھی ہماری عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے تعلیمی نظام دیکھیے جہاں دنیا ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے جدید تعلیم کے حصول کو طلبا تک پہنچانے میں مصروفِ عمل ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کی نئی سے نئی منازل طے کرنے کی طرف گامزن ہے وہیں ہم منافقانہ طرزِ سیاست کو تعلیمی میدان میں بھی گسیڑ لائے ہیں یکساں تعلیمی نظام کا نعرہ لگا کر عجیب و غریب اور مبہم نظام کو فروغ دے رہے ہیں اگر واقعی یکساں تعلیمی نظام کو رائج کرنا تھا تو ابھی بھی میٹرک اور ایف اے کے ساتھ اے لیول اور او لیول کے آپشنز کیوں موجود ہیں سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار کو بہتر بنانے کے بجائے پرائیوٹ اسکول مافیا کو کھلی چھٹی کیوں دے رکھی ہے کون سے یکساں تعلیمی نظام کا نعرہ لگایا جارہا ہے ہے اب بھی کئی پرائیوٹ اسکولز میں نرسری کی ماہانہ فیس پچاس ہزار ہے پھر کیسا فرق ختم کیا جارہا ہےکیا ہمارے سرکاری اسکولوں کا وہ معیار ہے جہاں بچہ نئی دنیا کے اصولوں کے مطابق تعلیم حاصل کر سکے؟ پھر مجبوراً والدین پرائیوٹ اسکولوں کی بھاری فیسیں ادا کر کے بچے پڑھاتے ہیں۔جبکہ آکسفورڈ اور کیمبرج کا سلیبیس ختم کر کے بچوں کو دنیا کے ساتھ چلنے سے روک دیا گیا ہے۔بنیاد کے ٹیڑھے پن کو ختم کرنے کے بجائے اوپر سے لیپا توپی کرنے سے نظام مزید بگاڑ کی طرف جائے گا جبکہ در حقیقت ابھی بھی دو نظامِ تعلیم موجود ہیں۔ دوسری طرف صحت کارڈز کو صحت کے میدان میں ترقی گردانا جارہا ہے جبکہ سرکاری ہسپتالوں کا کیا حال ہے سب جانتے ہیں جہاں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھی کچھ نہیں بن پاتا تو آخری آپشن پرائیویٹ ہسپتال ہی بچتا ہے ادویات مافیا کو نتھ ڈالنے میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے آئے دن یہ مافیا دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتا ہے ایک غریب آدمی سرکاری ہسپتال جاتا ہے تو اسے دوائیوں کی پرچی پکڑا دی جاتی ہے پھر وہ ادویات مافیا کے کرتے دھرتوں سےنہ گی دوائیاں خرید کے بیماری سے کرنے کی کوشش کرتا ہے بجلی کے بل دیکھیے جہاں آج بھی آئی پی پیز کے قرضےاتارنے کے لیے بھاری ٹیکسوں سے عوام کا جینا دوبھر کیا جارہا ہے پالیسیاں حکومتوں کی اور بھگتیں عوام پٹرول کی قیمت بڑھتے ہی کرایوں میں اضافہ آٹا دال چینی سبزی سب کچھ مہنگا کر دیا جاتا ہے جبکہ بجٹ میں عوام کو سبسڈی صرف بجٹ دستاویز تک محدود ہوتی ہے تنخواہوں میں دس فی صد اضافہ جبکہ مہنگائی میں سو گنا بڑھوتی۔۔اب سوال حکومت سے ہے کہ جو بندہ مہینے کے بیس سے پچیس ہزار کماتا ہے وہ گھر کا کرایہ دے بچوں کے اسکولوں کی فیس ادا کرے بجلی کے بھاری بل بھرے دال سبزی پوری کرے سواری کے خرچے پورے کرے؟ کوئی ایک وزیر ایسا سامنے آئے جو پچیس ہزار میں مہینے کا بجٹ بنا دے تو مان جائیں کہ واقعی انہیں ستر سال بعد نیا پاکستان ملا ہے جہاں سانسیں گھُٹتی نہیں چلتی ہیں۔
پاکستان زرعی ملک ہے مگر ہم آج بھی گندم اور چینی خریدنے پر مجبور ہیں ملک فوڈ سیکورٹی والے حالات کی طرف جارہا ہے مگر بد قسمتی سے ہم اپنے ذرائع کو نہ ہی بہتر طور پر دریافت کر پاتے ہیں اور نہ ہی انکا استعمال ممکن کرنے کے لیے کوئی جامعہ حکمت عملی کی طرف جاتے ہیں۔مہنگی کمپنیوں پر دارو مدار کے بجائے کوئلہ،شمسی توانائی اور کوڑے تک سے بجلی پیدا کرنے کے آپشنز موجود ہیں انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنا کر عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے پورے ملک میں سستی ٹرانسپورٹ کے پراجیکٹس شروع کر کہ مہنگے پٹرول ڈلوانے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے زرعی شعبے میں اصلاحات لاکر گندم چینی اور دوسری فصلوں میں خود کفیل ہوا جاسکتا ہے۔۔کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی سے کسان خوشحال ہوگا تب پیداوار میں اضافہ ممکن ہے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی تشکیل ضروری امر ہے مختلف چھوٹے بڑے شہروں کی انتظامیہ پر نگرانی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ وہ کس حد تک مستعدی سے ذخیرہ اندوزوں کی بیخ کنی میں پیش پیش ہے وہ لوگ جو من مانی قیمتوں کا تقاضہ کرتے ہیں ان سے کیسے نمٹا جارہا ہے کیونکہ کوئی ایک پروڈکٹ دس قدم پر واقع دکان میں کسی اور قیمت پر بک رہی ہوتی ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں موجودہ حکومت بھی پچھلے حکمرانوں کی طرح بنیادی ڈھانچے کی از سر نو تشکیل کے بجائے بگاڑ پر مبنی پالیسیز کو آگے بڑھائی چلی جارہی ہے ایسے نیا پاکستان بنے نہ بنے نئے مسائل میں عوام ضرور دھنستی چلی جائے گی۔۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے بھیک پیشہ ور مانگتے تھے اب اچھے خاصے معزز لوگ ہاتھ پھیلانے ہر مجبور ہیں کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں ریلیف عوام کو دیا جارہا ہو۔ پچھلی حکومتوں سے چھٹکارا حاصل کر کہ پاکستان تحریک انصاف کو اکثریتی ووٹ اسلیے پڑا تھا کہ واقعی عوام تبدیلی چاہتی تھی ایسی تبدیلی جہاں کرپشن سے پاک پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں ہو جہاں پرانی اور بے کار حکومتی پالیسیوں کو جڑ سے اُکھاڑ کر ایسی بنیادیں ڈالی جائیں جسکی ہر اینٹ عوام کو ریلیف دے جہاں غربت کا خاتمہ ممکن ہو جہاں معیارِزندگی بہتر ہوسکے جہاں روزگار کی فراہمی ہو اپنی چھت ہو نہ کہ یہ سہولیات صرف انتخابی منشور تک محدود ہوں۔ابھی بھی وقت ہے دو سال کا عرصہ موجود ہے اور کچھ نہیں تو عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے مہنگائی کی عفریت کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکتا ہے ورنہ مہنگائی اور غربت کے تانے بانوں میں الجھی عوام کم از کم اگلا موقع پاکستان تحریک انصاف کو نہیں دے گی۔






