Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بے زبان جانوروں کی پکار   تحریر: محمد امین

    بے زبان جانوروں کی پکار تحریر: محمد امین

    ‎آج میں گلی کوچوں ، چوراہوں پے پڑے
    ‎ بے یارو مددگار جانوروں کا مقدمہ آپ کی عدالت میں لے کر حاضر ہوا ہوں ۔
    کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے ہم جانوروں کی حق تلفی اور بے زبانوں پر ظلم کا سبب بن رہے ہیں ۔ پچھلی چند دہائیوں میں ہم نے جنگلات کا اس طرح صفایا کیا جس سے جنگلات میں رہنے والے جانوروں اور چرند پرند کی زندگیاں خطرے میں ہیں بلکہ بہت سے جانوروں اور پرندوں کی اقسام ختم ہو چکی ہیں ۔ ہم جنگلوں کی جگہ فیکٹریاں لگا کر فضا کو آلودہ کر رہے ہیں جس سے جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانوں میں بیماریوں کی شرح بڑھ رہی ہے ۔ ہم پانی کا اس طرح بے دریغ استعمال کر رہے ہیں کہ نہریں اور دریا خشک ہو رہے ہیں اور یاد رکھیے ان جہاں میں موجود ہر ایک قدرتی وسائل پر ایک جانور کا بھی حق ہے کیونکہ وہ بھی خدا پاک کی پیداوار ہیں ۔ لیکن ہم ان کے حصے کے قدرتی وسائل کا بھی فضول استعمال کر کے اُن کی حق تلفی کر رہے ہیں۔
    ‎جانوروں کی بھی اقسام ہیں ایک وہ قسم جو ہمیں منافع پہنچاتی ہے مثلاً گائے، بکری وغیرہ ۔ اپنے لالچ میں ہم ان کا خاصا خیال رکھتے ہیں ۔ گائے دودھ دیتی ہے اور قیمت میں خاصی بھاری بکتی ہے لہذا خیال رکھنا ہی پڑتا ہے ۔ پھر آتے ہیں بے یارو مددگار جانور جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا مثلاً کتا، بلی وغیرہ۔ کچھ لوگ ان کو گھر میں پالنے کے شوقین ہوتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی شرح بہت کم ہے ۔ ہر‏
    ‎جانور ہماری محبت کامستحق
    ‎‏ہے۔ ان سے بغیر کسی لالچ کے شفقت کے ساتھ پیش آئیں ۔ باہر جانا ہوتا ہے تو گلی کوچوں میں پڑے جانوروں کا حال دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ وہ بے زبان جانور اپنی تکلیف بتانے سے بھی قاصر ہیں ۔ ہم ان سے محبت شفقت کرنے کی بجائے ان کو جھڑک کر بھگاتے ہیں۔
    آخر وہ ہم سے جائیداد میں حصہ تو نہیں مانگ رہے ہوتے صرف محبت اور پیٹ بھرنے کے لیے کھانے کی آس لیے ادھر اُدھر پھر رہے ہوتے ہیں ۔
    جس وقت کسی شخص کو جانور کے ساتھ نارواں سلوک کرتے دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ سوچتا ہوں کوئی بھی دل رکھنے والا شخص کسی بے زباں کے ساتھ کیسے اس طرح نارواں سلوک کر سکتا ہے ۔ یا تو ایسے لوگوں کے پاس دل نہیں ہوتا اگر ہوتا بھی ہے تو احساس اور جذبات سے عاری ہوتا ہے ۔
    ‎‏اللّہ نے اس جہاں میں کوئی چیز بغیر مقصد کے نہیں بنائی۔
    کبھی سوچا ہے جانوروں کو بنانے کا مقصد کیا ہے ؟

    ‏میرا ماننا یہ ہے کہ جانور بھی انسان کی آزمائش کے لیے بنائے گئے ہیں کہ انسان ان سے کیسا سلوک کرتا ہے
    ‏لیکن افسوس یہاں تو انسان بھوک سے مر رہے ہیں جانوروں کا کون خیال کرے ۔
    ‎‏لیکن جہاں تک ہو سکے جتنا ہو سے ان بے زبان مخلوق کا خیال کریں ‏

    ‎اپنی بات کروں تو پوری کوشش ہوتی ہے ان کو جھٹرکا نا جائے ۔ اگر گھر کے باہر کوئی جانور آ جائے تو ان کو کھانا کھلانے میں جو مسرت محسوس ہوتی ہے وہ لفظوں میں بیان نئیں کر سکتا ۔
    ‎‏اگر گھر کے آس پاس بیمار جانور دیکھوں تو جانوروں کے ڈاکٹر کو فون کر کے بلا کر انُ کا علاج کروا چکا ہوں ۔
    بتانے کا مقصد ذاتی تشہیر ہرگز نہیں مقصد آپ سب کو بتانا ہے کہ ہماری ذرا سی کوشش بے زبانوں کی زندگی بہتر کر سکتی ہے ۔ اللّہ پاک نے انسان کو دردِ دل رکھنے والا بنایا ہے اور اس کی مخلوق سے محبت اور ان کی مدد ہمارا فریضہ ہے ۔

  • قصے کچھ اماموں کے  تحریر جواد خان یوسفزئی

     

    ایک دن چند "اماموں” کی صحبت میسر تھی۔ گفتگو حسب معمول دیر سے شروع ہوئی اور حرم میں داخل ہوئی۔ ایک پاسبان حرم بولا "یار میں دو مسجدوں میں امامت کرتا ہوں۔ مگر بمشکل گزر اوقات ہو رہی ہے۔ آپ صرف ایک مسجد کے امام ہیں اور یہ گھر بار کیسے چلا لیتے ہوں گے۔” دوسرا مسکرایا۔ کہنے لگا، "یار واللہ اس میں واقع کچھ نہیں۔ مگر اللہ کا کرم ہے۔ برکت وہ ڈالتا ہے تو کچھ جگاڑ کرکے ہم گزر بسر کر لیتے ہیں۔” 

    مجھے جو نکتہ کھٹک رہا تھا، وہ یہ تھا کہ یہ پہلا امام بیک وقت دو مسجدوں میں امامت کے فرائض کیسے انجام دیتے ہوں گے؟ایسے میں ان کی اپنی نماز تو دوگنی ہو جاتی ہے؟ 

    پوچھ ہی لیا۔ 

    "یارا دوگنی تو نہیں ہوتی۔ البتہ کسی دن ایک زیادہ ہو جاتی ہے اور کسی دن دو۔ میں اس کا بہت اہتمام کرتا ہوں کہ اپنی نماز میں خلل نہ آئے۔” ایک توقف کے بعد فرمایا "در اصل ایک مسجد میں صرف تین نمازیں پڑھاتا ہوں۔ ظہر، عصر اور شام۔ باقی دو کے دوران وہ مارکیٹ بند رہتی ہے۔ ایک دو نمازیں اکثر ایک مقتدی پڑھا لیتا ہے۔ ایک اور کبھی کبھی دو کے لیے میں پہنچ جاتا ہوں۔ ٹائم کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ جس مسجد میں پانچ وقتہ پڑھانی ہے، اس کی اور دو وقتہ کے درمیان پندرہ منٹ کا وقفہ ہوتا ہے۔ سو کوئی ہرج کی بات نہیں۔” 

    "لیکن یہ ایک یا دو نمازیں آپ کی زائد از ضرورت نہیں ہو رہیں؟” 

    "تمھیں کوئی اعتراض ہے؟” 

    "مولانا میری کیا مجال کہ اعتراض کروں۔ وہ پوچھنا یہ تھا کہ اوپر والے کو تو کوئی اعتراض نہیں نا؟”

    پاس بیٹھے دوسرے امام کی طرف دیکھا اور اک ادائے بےنیازی سے یہ کہہ کر کہ "مولانا بہتر جانتے ہیں”،  بال اٹھا کر اس کے کورٹ میں ڈال دی۔ 

    دوسرے مولانا نے کار خدا میں مداخلت گوارا نہ کی اور موضوع بدلتے ہوئے کہا "یہ بتاؤ۔ تمھیں اس پانچ نماز والی مسجد میں ایک نماز کتنے میں پڑتی ہے؟” امام العصر و ظہر نے مبائل لیا۔ کلکلیٹر نکالا۔۔۔ بیس ہزار کو پانچ پر تقسیم کیا۔ اس کو مزید تیس دنوں میں بانٹ کر بتا دیا۔ کہ اتنے میں ایک نماز پڑتی ہے۔ پھر دوسرے والے نے بھی یہی کیا۔ پانچ وقتہ امام دوسرے والے سے بولا کہ تین وقت والی کتنے میں پڑھا رہے ہو؟ اس نے پندرہ ہزار کو تین اور اس کو پھر تیس دن پر تقسیم کرکے حساب پیش کیا۔ 

    ہم تا دیر اس جملے کے سحر سے نہ نکل پائے کہ ” ایک نماز کتنے میں پڑتی ہے؟” 

    اس طرح کا ایک واقعہ ہے۔ مردان میں ایک مولانا سے ہماری یادٔ اللہ تھی۔ ایک دن بحث چل نکلی۔ ہم نے کہا کہ مولوی تنگ نظر ہیں۔ فرقہ واریت پھیلاتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ جب ہم لڑکھراتی اور بےربط زبان میں اپنا درشن دے چکے تو مولانا نے سکون سے اپنی وسیع القلبی کی داستان یوں سنائی۔ 

    "دیکھو۔ مولوی سے بڑھ کر کوئی سیکولر نہیں ہو سکتا۔ بالخصوص جب وہ امام ہو۔۔۔آپ بڑے لبرل بننے کی کوشش کرتے ہو مگر ہم تک نہیں پہنچ سکتے۔”

    میں پھٹی پھٹی آنکھیں لیے اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ نسوار کی تھیلی کھولی۔ کچھ دیر دور افق میں کچھ گھورتے رہے۔ نسوار لگائی۔ اور پھر سے گویا ہوئے۔ 

    "میں لاہور میں ایک مسجد میں امام تھا۔ وہ دیوبندیوں کی مسجد تھی۔ کاپر پنجابیوں نے بڑی کم تنخواہ پر مجھے رکھا تھا۔ مگر ساتھ والی مسجد جو بریلویوں کی تھی، کسی امام کی تلاش میں تھی اور دوگنی تنخواہ دے رہی تھی۔ ایک دن میں نے دستار اٹھائی۔ اللہ کا نام لیا اور اس مسجد میں امام ہوگیا۔ تین سال تک عین بریلویوں کے طرز پر ازاں دیتا اور نماز پڑھاتا رہا۔۔۔ 

    "غم روزگار مجھے پشاور لے آیا۔ یاں اہل حدیث کی مسجد میں امامت کرنی تھی۔ میں نے سابقہ دونوں طور طریقوں کو یکسر بھلا دیا۔ دو دن میں اہل حدیث والی نماز کا طریقہ کار سیکھا اور پانچ سال تک پڑھاتا رہا۔ اب مردان میں اپنے گاؤں کی مسجد میں امام ہوں۔ اگر مجھے کہیں پر اچھی تنخواہ آفر ہوگئ تو چپکے سے چلا جاؤں گا۔ مجھے کسی کے مسلک، فرقے سے کوئی واسطہ نہیں۔۔۔” 

    نسوار مسجد کے برآمدے سے دور پھینکی اور بولا "اب بتاؤ۔ کون زیادہ سیکولر ہے؟ ہم یا آپ؟” 

    میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ مولانا یاں بھی تو ہی بازی لے گیا۔

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@

    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • ترقی کا راز۔ تحریر: سریر عباس

    کسی بھی ملک کی ترقی کا راز خاص طور پہ تین چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

    پہلےنمبر پہ بجلی

    دوسرے پہ پانی

    اور تیسری چیز سڑک ہوتی ہے

    جس ملک میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی اس ملک میں تمام انڈسٹریز کام کرتی ہیں اور برابر کرتی ہیں

    کیونکہ انڈسٹریل جتنی بھی چیزیں یا انڈسٹریل ایریا ہوتا ہے وہاں پہ ہر قسم کی فیکٹریاں لگائی جاتی ہیں ان فیکٹریوں میں مزدور لگائے جاتے ہیں 

    اس سے بے روزگاری ختم ہوتی ہے اور ہنر مند افراد جنم لیتے ہیں جو کسی بھی معاملے میں کامیابی سے پیچھے نہیں رہتے

    موجودہ دور چونکہ انٹرنیٹ کا دور ہے تو انٹرنیٹ کا تعلق بھی براہ راست بجلی کے ساتھ ہے

    انٹرنیٹ کے زریعے اگر کوئی انسان ترقی کرنا چاہتا ہے تو اس کیلئے تعلیم کا ہونا انتہائی اہم ہے 

    ورنہ وہ ہنر مند تو ہوسکتا ہے لیکن انٹرنیٹ میں آگے بڑھنے کیلئے کسی کا سہارا لے گا۔

    موجودہ دور میں تعلیم بھی جدید طریقہ کار سے دی جارہی ہے یعنی اس میں بھی مکمل انٹرنیٹ کا استعمال ہوتا ہے اور انٹرنیٹ کا براہ راست تعلق بجلی سے وابستہ ہے۔

    اس کے علاوہ سینکڑوں ایسی چیزیں  ہیں جنکا تعلق بجلی کے ساتھ ہے۔

    پاکستان پچھلے دس بارہ سال سے انتہائی بہران کا شکار ہے جسکی اصل وجہ بجلی کی فراہمی کا نہ ہونا اور انڈسٹریوں کا بند ہوجانا ہے

    موجودہ حکومت یقیناً اس معاملے میں سنجیدگی دکھا رہی ہے جس کے نتیجے میں لوڈ شیڈنگ میں کمی (گزشتہ دو ماہ چھوڑ کے) اور انڈسٹریز بھی 60فیصد تک چل پڑی ہیں۔

    دوسرے نمبر پہ ہے "پانی”

    پانی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک خاص نعمت ہے

    پانی انسانی زندگی کیلئے انتہائی اہم ہے

    یعنی اگر زندہ رہنا ہے تو پانی کے ساتھ ہی رہ سکتے ہیں

    صرف پینے کیلئے روزانہ ہر شخص اوسطاً دو سے تین لیٹر پانی کا استعمال کرتا ہے

    اسکے علاوہ وضو، غسل اور دیگر معاملات میں ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق پانی کو استعمال کرتا ہے

    اگر کسی شخص کو چند گھنٹوں کیلئے پانی میسر نہ ہو تو اسکی زندگی اجیرن بن جاتی ہے

    انسانی زندگی میں بجلی اور پانی کا اتنا فرق  ضرور ہیکہ بجلی کے بغیر زندگی ہے جبکہ پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔۔

    پانی ازل سے ہے اور بجلی بعد کی ایجاد ہے جو انسانی زندگی میں آسانی لائی ہے۔

    پانی کی ضروریات یا اسلامی رو سے پانی کو ایک نعمت کے طورپہ ذکر کرنا تو شائد نا ممکن ہی ہیکہ اللہ کی اس نعمت کے فضائل کتنے ہیں۔

    پانی کی قدر و قیمت پاکستان میں سب سے زیادہ "تھر” کے لوگ جانتے ہیں جو ایک ایک بوند کو ترس جاتے ہیں

    حکومت پاکستان کو اس پر سنجیدگی کے ساتھ کام کرنا چاہئے اور انسانی زندگیوں کو پروان چڑھانا چاہئے۔

    موجودہ دور میں ترقی یافتہ ممالک کیلئے تیسری بڑی اور اہم چیز "سڑک” ہے 

    سڑک فاصلے کو تو کم کرتی ہے یا نہیں لیکن فاصلے کو طے کرنے میں دنوں کا سفر گھنٹوں اور گھنٹوں کا سفر منٹوں میں ممکن ہوجاتا ہے۔

    مثال کے طورپہ

    میں پچھلے چند سالوں میں بیرون ممالک قیام پذیر ہوں حصول رزق کی خاطر تو 

    یہاں میرا پیشہ ایک ڈرائیور کی حیثیت سے ہے 

    اب یہاں کے روڈز کا موازنہ اگر پاکستان کے روڈز کے ساتھ کیا جائے تو کافی فرق دکھائی دیتا ہے

    یعنی جو سفر پاکستان میں دو سے تین گھنٹوں میں طے ہوتا ہے وہ یہاں پہ چالیس پچاس منٹوں میں طے ہوجاتا ہے

    وجہ یہ ہے کہ یہاں روڈز بڑے اور کھلے ہیں

    جیسا کہ پاکستان میں موٹروے اور عام روڈ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

    موجودہ حکومت اور اس سے پچھلی حکومت نے جس قدر روڈز کی طرف توجہ دی یقینی طورپہ آنے والے کچھ سالوں میں یہ منصوبہ جات ملک کی ترقی کیلئے اہم کردار اداء کریں گے

    جن میں بالخصوص پاک چین اقتصادی راہ داری ہے

    @1sareer

  • لہجے میں سچائی کی مہک اور اصلاح تحریر: علی حمزہٰ 

    سچ کا مقصد اپنی خود نمائی، خود کو صادق اور امین ظاہر کرنے سے زیادہ کسی کی اصلاح ہے تو مناسب الفاظ نرم لب و لہجہ ہونا ضروری ہے۔ سامنے والے کو بھی آپ کی اصلاح سے تکلیف نہ ہو اور وہ سچ کا قائل بھی ہو جائے۔ اور غیر محسوس طریقے سے سامنے والا اپنی اصلاح بھی کر لے۔ "مقصد دستک دینا ہوتا ہے دروازہ توڑنا نہیں”

    سچ بولنے کی عادت بچوں کو بچپن سے ہی سکھائی جاتی ہے اور سکھائی بھی جانی چاہیے۔ بچوں کو چھوٹے ہوتے سے ہی جھوٹ بولنے پر سزا دینی چاہیے لیکن ہم لوگوں کا علمیہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو بچپن سے ہی جھوٹے کسے کہانیاں سنا سنا کر انہیں جھوٹ بولنے اور سننے کی عادت ڈال رہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ سچ تو یہی ہے کہ سچ نجات دیتا ہے اور جھوٹ ہلاک کر دیتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں چاہیے کہ ہم بولیں تو ہمارے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ سچائی کی گواہی دے رہا ہو۔

    دنیا میں واحد ہستی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی کی ہے جنہوں نے 63 برس عمر مبارک پائی اور زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لب مبارک سے نکلنے والا ایک ایک لفظ سچ تھا اور سچائی کی گواہی دیتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ کے لہجے میں سچائی کی مہک پائی جاتی تھی۔ میں یہاں ایک واقعہ مختصر بیان کرتا چلوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آتے ہی سب سے پہلے معراج کا واقع حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سنایا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے واقع سنتے ہی یہی فرمایا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے سچ فرمایا۔

    سچائی ایسی صفت ہے جس کی اہمیت پر زور ہر ایک مزہب نے دیا ہے اور اس اہمیت کو یکساں طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہے شریعت اسلامیہ میں اس کی طرف خاص توجہ دلائی گئی ہے اور اس کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ اس لیے رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی اور جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی نہ ماننے والوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور ایمان داری کی گواہی دی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور ایمانداری سے متاثر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور امین کے القاب سے نوازا تھا۔ آپ ﷺ کے سب سے بڑے دشمن ابوجہل اور ابولہب جیسے بھی آپ ﷺ کی سچائی کو تسلیم کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ تمام انبیاء کرام علیہ السلام نے بھی ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بھی پوری انسانیت کو متعدد مرتبہ سچ بولنے کی تعلیم دی ہے:

    ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔” (التوبۃ: ۱۱۹)

    اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:

    ”آج وہ دن ہے کہ سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی۔” (المائدۃ: ۱۱۹)

    چونکہ جھوٹ کے نتائج بہت مہلک اور خطرناک ہو سکتے ہیں اور جھوٹ بولنے والے کے ساتھ ساتھ دوسرے بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ بولنے والوں کے لیے بہت سخت وعیدیں سنائی ہیں۔

    ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

    ”سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی یکساں طور پر سچ کہتا ہے اور سچائی کی کوشش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کی نظر میں اس کا نام سچوں میں لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچے رہو، اس لیے کہ جھوٹ گناہ اور فجور ہے اور فجور دوزخ کی راہ بتاتا ہے، اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا ہے اور اسی کی جستجو میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اس کا شمار جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔” (بخاری ومسلم)

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 

    ”جو تاجر سچا اور امانت دار ہو وہ قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔”

    لہذا ہمیں اپنے کاروبار میں بھی ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔ پیارے حبیب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بول کر مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

    جس طرح دنیا میں رہنے کے لئے پانی ضروری ہے اس طرح دنیاوی معاملات میں سچائی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جس طرح پانی کی بغیر زندگی ممکن نہیں اسی طرح سچ کے بغیر نظام عالم کا کاروبار بھی ممکن نہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • موضوع اوورسیز پاکستانی  تحریر: تیمور خان

    موضوع اوورسیز پاکستانی تحریر: تیمور خان

     

    @iTaimurOfficial

    میں سلام پیش کرتا ہوں اپنے ان محب وطن پاکستانیوں کو جنہوں نے مشکل وقت میں اپنی دھرتی اور اپنے پیاروں سے دور رہتے ہوئے اپنی خون پسینے کی کمائی سے پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دیا

    آئی ایم ایف پاکستان کو ترسا ترسا کر ٹکڑوں میں وہ بھی 39 ماہ میں صرف 6 ارب ڈالر دیتا ہے جبکہ میرے ان خوبصورت اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان کو صرف 1 سال میں 31 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجی ہیں 29 ارب ریمیٹنسس اور سوا 2ارب ڈالر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت پاکستان بھیجے ہیں

    لیکن آپ ظلم کی انتہا دیکھیے

    جو پاکستانی اپنے بیوی بچوں سے اپنے بہن بھائیوں سے دور رہ کر پیسہ کما کر انہیں ڈالروں میں تبدیل کرکے پاکستان بھیجتے ہیں پاکستان کی معیشت کو سہارا دیتے ہیں ان اوورسیز پاکستانیوں کے ان عظیم احسانات کا ہم کیا صلہ دیتے ہیں؟؟

    سیاستدانوں کی آشیرباد سے قبضہ مافیا ان اوورسیز پاکستانیوں کے پلاٹوں گھروں زمینوں جائیدادوں پر قبضہ کر لیتا ہے

     اور جب یہ اوورسیز پاکستانی اس ظلم پر آواز بلند کرتے ہیں تو کوئی ان کی آواز نہیں سنتا اگر یہ پاکستان آ کر مافیا کے خلاف اپنا کیس لڑتے ہیں پہلے تو ان کی عدالت میں کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور اگر کوئی چانس نظر آئے تو قبضہ مافیا ان کو قتل کر دیتا ہے

    اوورسیز پاکستانی بیچارے کیا چاہتے ہیں؟؟

    ان کے صرف دو ہی تو مطالبات ہیں ایک یہ کہ ان کی زمینوں پر سے قبضہ چھڑایا جائے اور دوسرا ان کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے

    شہباز شریف نے اوورسیز پاکستانیوں کو اقلیت سمجھ کر یہ رائے دی ہے کہ ان کو 6 سے 8 مخصوص نشستیں فراہم کر دی جائیں جبکہ عمران خان کا موقف یہ ہے کہ کہ ان اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں رہنے والے دیگر پاکستانیوں کی طرح ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت اوورسیز پاکستانیوں کیلئے جو انسان سب سے بہتر کوشش کر رہا ہے وہ صرف اور صرف عمران خان ہے عمران خان کے علاوہ کسی سیاسی و مذہبی جماعت کو اوورسیز پاکستانیوں کی کوئی پروا نہیں 

    بلکہ آپ احسان فراموشی کی انتہا تو دیکھیں کہ عمران خان سے پہلے کوئی اوورسیز پاکستانیوں کو پوچھتا تک نہیں تھا

    اوورسیز پاکستانیوں کو عزت اور پہچان دینے والا بھی عمران خان ہی ہے اور ان کی خدمات کو سراہنے والا بھی عمران خان ہی ہے

    میں عمران خان سے یہ پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ ہنگامی بنیادوں پر پاکستان کے ان عظیم اور جان نثار اوورسیز پاکستانیوں کے ان مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے 

    اگر یہ اوورسیز پاکستانی اپنا پیسہ بھیجنا بند کر دیں تو پاکستان کی معیشت تنکوں میں بکھر کر رہ جائے گی اور پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا

    لہذا میرے ان عظیم اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات کو کبھی فراموش نہ کریں اور ان کے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ سن کر بروقت حل کریں ورنہ اگر یہ اوورسیز پاکستانی مایوس ہو گئے تو تم سب کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے

    میرے ان اوورسیز پاکستانیوں کی حب الوطنی اور ان کی خدمات پاکستان میں بیٹھے ہوئے نکھٹوؤں کی ہڈ حرامی سے کہیں بڑھ کر قابل ستائش ہیں

    میں پھر سے اپنے ان خوبصورت پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جیو ہزاروں سال آباد رہو خوشحال رہو.

  • روشنیوں کے شہر کی روشنیاں مدھم ہونے لگیں!! تحریر: کائنات فاروق

    روشنیوں کے شہر کی روشنیاں مدھم ہونے لگیں!! تحریر: کائنات فاروق

    یوں تو سمندر کنارے بسنے والے اس شہر نے اپنے اندر سمندر سا وسط رکھا ہے، ہر کسی کو اپنے سحر میں جکڑ لینے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر سمو لینے کی ادا بھی یہ شہر خوب جانتا ہے۔

    کراچی کے بارے میں اگر لکھنے بیٹھوں تو شاید الفاظ کی قید ختم ہوجائے مگر بات مکمل نہ ہو، اسلیے موضوع کی طرف آگے بڑھنا چاہوں گی۔ کراچی پاکستان کا وہ شہر ہے جس نے نہ صرف پاکستان کو معاشی طور پر سنبھالنے کا ذمّہ اٹھا رکھا ہے بلکہ اس شہر نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کئی نایاب ستارے بھی جنم دیے ہیں جنھوں نے نہ صرف ملک بھر میں اپنی قابلیت کو منوایا بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کا نام اور پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔

    کراچی سے ملک کی کئی نامور شخصیات کا تعلق رہا ہے جنهوں نے اعلیٰ اداروں میں اپنی خدمات انجام دیں جن میں دفاعی ادارے، سیاست، بیوروکریسی، عدلیہ، ادب و مذہب سے اور سائنس و ٹیکنالوجی جیسے شعبے شامل ہیں۔ ایسے بےشمار لوگ موجود ہیں جنھوں نے تقریباً تمام شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر رہ کر اپنا لوہا منوایا ہے۔ لیکن آج کے مضمون کے اندر میں چند ایسی شخصیات کا ذکر کرنا چاہوں گی جنکی عظمت پر کسی قسم کا کوئی حرف نہیں۔

    عبدالستار ایدھی، علامہ طالب جوہری، علامہ ضمیر اختر، معین اختر، سکندر صنم، امجد صابری، اور اب عمر شریف جیسے لیجینڈز کی وفات ہمیں خوفزدہ کر رہی ہے کہ ان عظیم ستاروں کی جگہ کبھی پر ہو بھی پائے گی یا نہیں!

    پاکستان کے اس شہر نے ویسے تو بدترین سے بدترین ادوار بھی گزارے ہیں لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں ایسے قیمتی اثاثوں کے دور ہوجانے کا جو نقصان صرف کراچی نہیں بلکہ پورے ملک کا ہورہا ہے اس کا ازالہ بھی ممکن نہیں ہے۔

    اب واقعی لگنے لگا ہے کہ "روشنیوں کے اس شہر کراچی کی روشنیاں مدھم ہونے لگی ہیں۔”

    پوری دنیا میں انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کرنے والے عبدالستار ایدھی کو دنیا سے رخصت ہوئے یوں تو پانچ برس بیت چکے ہیں لیکن وہ خلا جو ایدھی صاحب چھوڑ گئے وہ آج تک پر نہ ہوسکا، اور بھلا ہو بھی کیسے سکتا ہے ایسے عظیم لوگ روز روز پیدا نہیں ہوا کرتے۔

    عبدالستار ایدھی وہ شخصیت تھے جنھوں نے ہجرت کے بعد روزگار کے لیے کراچی کی کپڑا مارکیٹ میں ٹھیلا لگایا مگر ایک واقعے نے ان کی زندگی بدل دی۔روزگار کے لیئے کراچی کی کپڑا مارکیٹ میں پان بیڑی کا ٹھیلا لگانا شروع کیا انہی دنوں میں عبدالستار ایدھی کے سامنے ایک شخص چاقو کے حملے میں زخمی ہوگیا ۔کچھ دیر تک اسے کسی نے نہ اٹھایا تو انہوں نے اپنا ٹھیلا وہیں چھوڑ کرزخمی شخص کو ابتدائی طبی امداد دے کر اسپتال منتقل کیا۔ اسی واقعے نے نہ صرف ایدھی صاحب بلکہ لاکھوں لوگوں کی تقدیر بدل دی۔

    یہ شہر کراچی معین اختر، امجد صابری، ایدھی صاحب جیسے لوگوں کو گنوانے کے دکھ سے خود کو سنبھال پاتا کہ اسے مزید حادثات کا سامنا کرنا مستقل ہی کرنا پڑ رہا ہے، کبھی علی رضا عابدی کبھی علامہ طالب جوہری تو کبھی عمر شریف کی صورت میں۔

    حال ہی میں پاکستان کے معروف اور عالمی شہرت یافتہ کامیڈین عمر شریف بھی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں، اُن کی وفات نے پوری قوم کو سوگوار کردیا ہے، پچھلے کچھ دنوں سے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طبیعت کی ناسازی کی خبر بھی موصول ہورہی ہے، خدا اُن جیسے عظیم قومی ہیروز کا سایہ اس قوم پر تادیر برقرار رکھے، یقیناً ایسے لوگوں کا بچھڑ جانا کسی قومی سانحہ سے کم نہیں ہوتا، حال ہی میں رخصت ہونے والے معروف کامیڈین عمر شریف کا شمار اُن ستاروں میں ہوتا ہے جن کے جانے سے لگتا ہے کہ اس شہر کی روشنیاں جارہی ہیں اور اس نقصان کا ازالہ کبھی ممکن نہ ہوسکے گا!

    شاعر نے بھی کیا خوب کہا ہے؛

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    @KainatFarooq_

  • ناموس رسالت زندہ باد تحریر۔محمد نسیم

    ناموس رسالت زندہ باد تحریر۔محمد نسیم


    قارئین  میری تحری پڑھنے سے پہلے ایک بار دور پاک ﷺ  ضرور پڑھ لیں
    ناموس رسالت ہر صاحب ایمان کے دل میں بستی ہے گویا اسلام میں داخل ہونے کے لئیے ناموس رسالت ﷺ کا دل میں داخل ہونا شرطِ اول ہے اسی پر ایک شاعر نے کہا ہے
    محمدٗ کی محبت میں دین حق کی شرط اول ہے
    اسی میں ہو اگر خامی تو ایمان نامکمل ہے
    قارئین یہ عقیدہ اسلام سے ہی روزِ اول لازم و ملزوم ہے۔زمانہ عروج اسلام سے ہی ختم نبوت پر حملہ کرنے والے اور پیغمبرِ اسلام کی توہین کرنے والے کچھ لعین پیدا ہوتے رہتے ہیں اور سپوت اسلام ان کو ابتدائے اسلام سے ہی موت کے گھاٹ اتارتے رہے ہیں کیونکہ رسالتِ اسلام پر حملہ دراصل اسلام پر حملہ ہے اور اسلام کسی کو خود پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا
    یہاں ایک بات انتہائی قابل غور ہے اور اس پر آجکل بہت بحث بھی ہوتی ہے چند نام نہاد دانشور جو مذہب اور اسکی تعلیمات سے بلکل ہی نا آشنا ہیں وہ توہین رسالت ﷺ اور اسلام کو اس وجہ سے سزا دینے کے حق میں نہیں ہوتے کیونکہ اسے وہ مذہبی رواداری سمجھتے ہیں اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لئیے در گزر کرنا ضروری سمجھتے ہیں
    ان افراد کے لئیے چند قابل غور چیزیں سامنے رکھنا چاہتا ہوں اول تو یہ کہ مذہبی رواداری اس وقت عمل میں لائی جاتی ہے جب مذہب پر حملہ نہ کیا جائے بلکہ تمام مذاہب والے ایک دوسرے کے مذاہب کو عزت کی نظر سے دیکھیں اور ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کریں دوم یہ کہ یہ قانون خود خدا کا بنایا ہوا ہے کہ جب جب اسلام کا نعرہ بلند ہوتا رہے گا سرورِ کائنات ﷺ کا ذکر اور نامِ نامی بلند ہوتا رہے گا تیسرا یہ کہ ختم نبوت پر پہرا خود نبیِ کائنات ﷺ اور ان کے اصحاب نے ہمیں سکھایا ہے
    اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں مسلمہ کذاب کا واقعہ سرِ فہرست ملتا ہے جب کہ مسلمانوں کی حالت اتنی مضبوط نہ تھی کہ ایک طاقتور دشمن سے جنگ چھیڑ سکیں لیکن ابوبکر صدیق نے پھر بھی مسلمہ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور کئی سو حفاظ اور عالی رتبہ صحابی اس راہ حق میں جام شہادت نوش کرگیے
    اس وقت سے اب تک کئی بد بخت اس دنیا پر آئے جو نبوت کا جھوٹا دعٰوی کرتے یا ناموس رسالت ﷺ کی توہین کرتے ان کا حال بھی مسلمہ سے الگ نہ ہوا یا تو مسلمانوں نے خود زور سے ان بد بختوں کو جہنم واصل کیا اگر یہ کام ان کے ہاتھوں نہ ہوسکا تو رب جلال نے خود ناموس رسالت اور اسلام کا پہرہ دیا اور ان بدبختوں کا انجام دُنیا میں ہی برا کیا
    قارئین ربیع الاول کی آمد آمد ہے اور رب جلیل کا اپنے حبیب سے وعدہ ہے کہ "اے محبوب ہم نے آپکے لئیے آپکا ذکر بلند کردےا”
    آجکل ناموس رسالت ﷺ پر کئی جلسے اور جلوس آب و تاب سے ہورہے ہیں اور ہر جلسے میں اس امت کے غلام نبوی رب تعالٰی کی بارگاہ میں رو رو کر ختم نبوت پر حملہ کرنے والوں کے برے انجام کی التجا کرتے ہیں
    ان دنوں انہی دعاؤں کے نتیجے میں ایک لعین سویڈیش لارس ولکس جو کہ سویڈن میں نعوذ بااللہ رسالت معاب کے خاکے بنا کر توہین رسالت کرتا تھا ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوکر جہنم واصل ہوگیا ہے
    قائین یاد رہے کہ جب سے اس لعین نے توئین رسالت کی ہے تب سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ سے لے کر دُنیا کے تمام ممالک کے سامنے اپنے پیارے آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ کی ناموس پر پہرہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ہم مسلمانوں کے دل ایسی حرکت کی وجہ سے دکھتے ہیں اور زخمی ہیں ایسے قوانین بنائیں جائیں کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کا سوچے بھی نہیں اور اسکے ساتھ ساتھ سویڈش حکومت کے ساتھ احتجاج بھی جاری رکھا ہوا تھا قارئین جب سے اس لعین نے خاکے شائع کئیے تب سے مجاہدین اسلام اس کو جہنم واصل کرنے کے درپے تھے لیکن سویڈن حکومت نے اسے سپیشل سیکورٹی دے رکھی اس لعین پر اس کے گھٹیا پروجیکٹ کے دوران بھی ایک مجاہد نے حملہ کیا لیکن اس کی جگہ ایک فلم ڈائریکٹر ہلاک ہوگیا تب سے یہ لعین پولیس کے ساتھ ان  کی گاڑیوں میں گھومتا اور خدا کرنی دیکھئیے انہی پولیس والوں کے ساتھ ساتھ یہ لعین بھی جہنم واصل ہوگیا ہے
    اگر سویڈن کے سامنے مسلمان ممالک کمزور ہیں تو میرا رب بہت بڑی طاقت والا ہے اور جس سرورکائنات کے لئیے یہ دُنیا بنا سکتا ہے وہ اپنے حبیب کی ناموس کا مذاق کبھی برداشت نہیں کرسکتا اور مسلمانوں کو ربیع الاول کا بہترین ٹحفہ اس کو جہنم واصل کرکے دیا ہے
    الله تعالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں ناموس رسالت ﷺ پر پہرہ دینے والا بنائے اور ہم جب اس دُنیا سے چلیں تو ماموس رسالت ﷺ کا تاج سر پر سجائے بارگاہ پروردگار میں حاضر ہوں آمین
    رہے گا یوں ہی انکا چرچا رہے گا
    پڑے خاک ہوجائیں جل جانے والے
    ‎@Naseem_Khera

  • خطہ پوٹھوہار تاریخی ورثہ  تحریر عزیزالرحمن

    خطہ پوٹھوہار تاریخی ورثہ تحریر عزیزالرحمن

    پوٹھوہار قدیم تاریخی خطہ ہے یہ مشرق میں دریائے جہلم اور مغرب میں دریائے سندھ کا درمیانی علاقہ ہے جو جنوب کی طرف سالٹ رینج اور شمال میں مری کے پہاڑی سلسلے سے ملتا ہے ۔ پوٹھوہار کا علاقہ اپنے اردگرد کے علاقوں سے بلندی پر واقع ہے جہلم’ چکوال’ اٹک’ راولپنڈی اور اسلام آباد پر مشتمل ہے۔

    پوٹھوہار کے تاریخی ورثوں میں پہلا تعارف روات قلعے سے ہے جس کی ایک قدیم تاریخ ہے۔ سولہویں صدی میں یہ قلعہ گکھڑ سردار سارنگ خاں کے قبضے میں تھا جس نے شیر شاہ سوری کے مقابلے میں مغلوں کا ساتھ دیا اور میدانِ جنگ میں شیر شاہ سوری کے بیٹے اسلام خان کے بڑے لشکر سے بے جگری سے لڑتا ہوا اپنے سولہ بیٹوں کے ہمراہ اپنی مٹی پر قربان ہوگیا۔ پوٹھوہار کے اس سپہ سالار کی قبر آج بھی قلعہ روات کے صحن میں واقع ہے۔ پوٹھوہار کے ایک اور تاریخی قلعے روہتاس جو جہلم کے قریب کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قلعہ شیر شاہ سوری نے 1541ء میں تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ قلعہ تعمیر کرنیوالوں نے جگہ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ یہ ایک بلند مقام تھا جہاں سے پانی زیادہ دور نہ تھا اور قلعے کی فصیل سے کشمیر کے راستے پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔

    پوٹھوہار کے ایک اور قلعے اٹک جو طرزِ تعمیر کا انوکھا شاہکار ہے جسے اکبر بادشاہ نے سولہویں صدی میں تعمیر کرایا تھا اور جس کی تعمیر کا بنیادی مقصد دریائے سندھ پر حملہ آوروں کی گزرگاہ پر نظر رکھنا تھا۔ دریائے سندھ کے کنارے یہ اہم قلعہ بعد میں بہت سے حکمرانوں کی آماجگاہ رہا۔ پوٹھوہار کے ایک پُراسرار شہر جسے دنیا ٹیکسلا کے نام سے جانتی ہے۔ ٹیکسلا کا شہر اور اس سے جڑی قدیم تاریخ کا تذکرہ اب عالمی سطح پر ہوتا ہے۔ ٹیکسلا کی تہذیب 700 قبل مسیح کی ہے۔ ٹیکسلا کی اسی سرزمین پر چندر گپت موریا نے ایک عظیم الشان سلطنت کی بنیاد رکھی تھی’ یہیں جولیاں کے مقام پر وہ قدیم ترین یونیورسٹی ہے جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ علم حاصل کرنے آتے تھے۔ دنیا میں سنسکرت کا اولین گرامر نویس پانینی (Panini) بھی اسی درسگاہ میں پڑھاتا تھا۔ معروف دانشور چانکیہ کا تعلق بھی اسی یونیورسٹی سے تھا’ وہی چانکیہ جس کی کتاب ”ارتھ شاستر” کو لوگ اب بھی مملکت کے اسرارووموز سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔ 326 قبل مسیح میں یہیں سے سکندرِ اعظم ہندوستان کی حدود میں داخل ہوا اور پھر ایک مقامی راجہ پورس جس کی سلطنت میں پوٹھوہار کا علاقہ بھی شامل تھا نے سکندر کی پیش قدمی کو روک دیا۔ یہ تاریخ میں پنجاب کی پہلی مزاحمت تھی۔

    پوٹھوہار کا خطہ صوفیاء کرام سے بھی زرخیز ہے گولڑہ کے پیر مہر علی شاہ اور حضرت بری امام سرکار نے اس خطے میں دین اسلام کی بہت خدمت کی ہے ۔ راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر گولڑہ میں پیر مہر علی شاہ کا مزار ہے۔دوسری طرف اسلام آباد میں بری امام کا مزار بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔ پوٹھوہار میں قدم قدم پر تاریخ کے خزانے ملتے ہیں۔ کئی تہذیبوں کے نشان ملتے ہیں۔ ایک طرف کٹاس راج کا قدیم ہندو مندر ہے’ پھر نندنہ کی وہ پہاڑی جہاں بیٹھ کر البیرونی نے زمین کے قطر کی پیمائش کی تھی۔ دوسری طرف مانکیالہ میں بدھوں کا ایک بہت بڑا سٹوپا ہے جسے توپ مانکیالہ کہتے ہیں۔ چکوال میں سکھوں کا قدیم خالصہ سکول اور حسن ابدال میں سکھوں کے روحانی پیشوا کی جنم بھومی پنجہ صاحب واقع ہے ۔

    پاکستان کا پہلا نشانِ حیدر پوٹھوہار کے علاقے گوجر خان کے کیپٹن سرور شہید کو ملا۔ پوٹھوہار کا اعزاز ہے کہ دو نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والوں کا تعلق اس علاقے سے ہے کیپٹن سرور شہید اور لانس نائیک محمد محفوظ شہید۔

    پوٹھوہار قلعوں’ تاریخی عمارتوں’ صوفیوں اور بہادروں کا خطہ ہے جسے جاننے کا مرحلہ کبھی مکمل نہیں ہوتا۔

    ‎@The_Pindiwal

  • عمر شریف کون تھے   تحریر ذیشان اخوند خٹک

    عمر شریف کون تھے  تحریر ذیشان اخوند خٹک

    ‏عمر شریف کون تھے
    عمر شریف نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں 19 اپریل 1955 کو آنکھ کھولی.
    ان کی عمر تقریباً چار سال کی تھی جب ان کے والد کا انتقال ہوا جس کی وجہ سے ان کا بچپن کا وقت بہت مشکل حالات میں گزرا.
    انہوں نے اپنی کیریئر کا آغاز 14 سال کی عمر میں سٹیج ڈرامے سے کیا. اسی سٹیج ڈرامے میں بہترین کارکردگی پر انہیں پانچ ہزار کا انعام اور 70 سی سی موٹرسائیکل میں دیا گیا.
    6 سال بعد انہوں نے آڈیو کیسٹ ڈرامے شروع کئے.
    ان کی مشہوری کا وجہ یہی تھی کہ انہوں نے کامیڈی کی منفرد انداز اپنایا جو کہ لوگوں کو کافی پسند آیا.
    وہ مشہور کامیڈین منور ظریف کے بہت بڑے مداح تھے اور اسے اپنے روحانی استاد مانتے تھے.
    عمر شریف ایک ٹی وی انٹرویو میں منورظریف سے متعلق  انھوں نے کہا کہ ان جیسا آدمی اور فنکار میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا، نہ مجھے کوئی ان جیسا اچھا لگا۔ہمارے ملک کے آرٹسٹ بڑے اعلیٰ ہیں لیکن سچ کہتا ہوں منورظریف دنیا میں دوسرا پیدا نہیں ہوا۔
    وہ صرف پاکستان کے بہترین اداکار نہیں تھے بلکہ پورے برصغیر کے بہترین کامیڈین تھے. انہوں نے صرف پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت کے کافی مشہور شو میں اپنا فن پیش کیا.
    انہوں نے ٹی وی اور فلموں میں بھی کام کیا مگر ان کی مشہوری کی وجہ سٹیج ڈرامے بنے.
    عمر شریف پاکستان کے واحد مزاحیہ فنکار تھے جس کے مداح پورے دنیا میں موجود ہے.
    بالی وڈ کے مشہور اداکار ان کے مداح تھے.
    ان کے 40 سالہ کیریئر کے بہترین کارکردگی پر ان کو 10 نگار ایوارڈ سے نوازا گیا اور حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا. بھارت کے مقبول چینل زی ٹی وی نے بے تاج بادشاہ عمر شریف کو زی ایوارڈ سے نوازا.
    عمر شریف نے اپنی کیریئر میں سٹیج ڈراموں میں اداکاری، ہدایت کاری کی. انہوں نے 70 سے زائد اردو ڈرامے کے سکرپٹ لکھے اور ان میں اداکاری کے جوہر بھی خود دیکھائے.
    انہوں نے ایک ڈرامہ میں 400 سے زائد بہروپوں میں نظر آئے.
    انہوں نے زندگی کے 66 بہاریں دیکھ لی اور انہوں نے تین شادیاں کی تھی جس میں انہوں نے 2 کو طلاق دی تھی.
    ان کی زندگی میں بہت مشکل حالات آئے جب ان کی نوجوان بیٹی حرا وفات ہوگئی جس پر وہ بہت رنجیدہ ہوئے تھے.
    وہ بہت بیمار تھے جس کی وجہ سے انہوں نے حکومت پاکستان سے علاج کی اپیل کی جس پر وزیر اعظم عمران خان اور سندھ حکومت نے فری علاج کا اعلان کیا اور انہیں ائیر ایمبولینس پر امریکہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا.
    امریکہ منتقلی کے دوران اسکی طبیعت خراب ہوئی جس کے بنا پر اسے جرمنی میں روکنا پڑا. جرمنی کے ہسپتال میں وہ حالق حقیقی سے جا ملے.
    ان کی رحلت کے بعد فضا سوگوار رہی اور عوام نے سوشل میڈیا پر اپنے غم کا بھرپور اظہار کیا. وزیراعظم عمران خان، صدر عارف علوی، شاہد آفریدی، جاوید شیخ اور پاکستان کے مشہور شخصیات نے اظہار افسوس کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا. بالی وڈ کے جانی لیور اور دیگر شخصیات نے بھی ان کے وفات پر غم کا اظہار کیا.
    جرمنی کے ہسپتال میں میت ورثا کے حوالے کردی جس کو جلد پاکستان منتقل کیا جائے گا.
    عمر شریف کے وصیت کے مطابق ان کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دفن کیا جائیگا.

    ٹائٹل 

    ٹویٹر ہینڈل
    ‎@ZeeAkhwand10

  • نظام تعلیم اور والدین کا کردار تحریر: محمد جنید

    نظام تعلیم اور والدین کا کردار تحریر: محمد جنید

    ‏پہلے وقتوں میں اگر کیسی بچے کا باپ ڈاکٹر ہوتا تھا توبچہ بھی ڈاکٹر ہی بنتا تھا، باپ اگر درزی ہوتا تو بیٹا بھی درزی ہی بنتا تھا، باپ اگر مستری ہوتا تو اس کا بیٹا بھی باپ کی طرح مستری ہی بنا کرتا تھا 

    پھر وقت بدلا نظام تعلیم میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں لوگوں میں نئی سوچ پیدا ہونے لگی اور لوگ اپنے شعبے سے ہٹ سے اہنے بچوں کو تعلیم سیکھانے لگے 

    آج کل کے بڑھتے ہوئے تعلیمی رجحان میں ہر ماں باپ یہ چاہتا ہے کہ ان کے بچے ڈاکٹر، انجینئر، ٹیچر، پائلٹ یا تو آرمی افسر بنیں۔ لہذا دوران تعلیم ان کو یہ بات باور کروا دی جاتی ہے کہ بیٹا تم ڈاکٹر بنو گے، تم انجینئر بنو گے یا تم پائلٹ بنو گے وغیرہ وغیرہ۔

     اس طرح بچوں بچے کے دماغ پہ دباؤ ڈال دیا جاتا ہے کے تم نے بس اس طرف جانا ہے اور یہ ہی کرنا ہے کیسی دوسرے شعبے بارے سوچنا بھی نہیں ہے، مطلب کے بچے کے دماغ کو ایک طرح سے بند کر دیا جاتا ہے کؤوں کے مینڈک کی طرح جو صرف اپنے والدین کے بتائے تعلیمی رستے پہ ہی چلتا ہے اور اپنے اصلاحات کو استعمال کرنے اور سوچے سمجھنے سے قاصر ہو جاتا ہے

     جیسے ہی بچہ میٹرک کا امتحان پاس کرتا ہے تو اسے والدین کی مرضی سے ایف اس سی، آئی سی ایس یا ایف اے وغیرہ میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔ اب اس سارے عمل کے دوران وہ بچہ جس نے اپنی زندگی گزارنی ہے یا جس نے اپنی دلچسپی کے مطابق اپنے شعبے کا انتخاب کرنا ہے اسے اس فیصلے میں شامل ہی نہیں کیا جاتا یا یوں سمجھ لیں کہ سیدھا اپنی مرضی سے داخل کروا دیا جاتا ہے۔ بچے کی رضامندی، اس کی دلچسپی اور ہم آہنگی کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بالکل یہی صورت حال انٹر پاس کرنے کے بعد ہوتی ہے 

    اور یہیں سے ہی بچوں کے روئیے میں بگاڑ شروع ہو جاتا ہے وہ چلتا تو النے والدین کے طریقے پہ ہی ہے تعلیم بھی حاصل کر رہا ہوتا ہے پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ بچے کا اس تعلیم کے لئے ذہن ہی تیار نہیں ہوتا اور نا ہی وہ اس میں خوش ہوتا ہے

    مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ میڈیکل یا انجینئرنگ کر چکا ہے پر اس کی دلچسپی اب میڈیکل یا سائنس کے شعبے میں نہیں تھی بلکہ وہ کیسی آرٹس سبجیکٹ میں ہے جیسے کہ انگلش کے شعبے میں دلچسپی رکھتا ہو اور اسے اپنے تعلیمی کیرئیر کے طور پر اپنانا چاہتا ہو یا کہ وہ وکیل بننے میں دلچسپی رکھتا ہو، اسے سیاست کا شوق ہو اور وہ اسے بطور مضمون پڑھنا چاہتا ہو، اسے اردو ادب سیکھنے کا شوق ہو یا اسلامی علوم کو سیکھنے کی طرف اس کا رجحان پیدا ہو گیا ہو یا بعض پچوں میں دور جدید میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اور مختلف ڈیجیٹل پروگرامز میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے اور وہ اسے کاروبار کے طور پہ استعمال کرنا چاہتا ہے تو جب وہ اپنی تعلیم کے پس منظر کو دیکھے گا تو اس کا ان شعبوں سے کوئی تعلق نا ہو گا اور نا ہی معلومات اور والدین بھی بچوں کا سہارا بننے کے بجائے اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے سختی سے بتا دیتے ہیں اگر تم پڑھو گے تو صرف اسی فیلڈ میں جس کا ہم انتخاب کر چکے ہیں ورنہ نہیں. 

    اکثریت والدین کی ایسی ہے جو چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ایسی فیلڈ کا انتخاب کرے جس کی موجودہ وقت میں بہت زیادہ اہمیت ہو چاہے بچے کی اس فیلڈ میں کوئی دلچسپی ہو یا نا ہو اگر کیسی فلیڈ کی اہمیت بنانی ہی ہے تو وہ خود ہی اس کی اہمیت بنا سکتا ہے جو اس میں شامل ہو گا

    ایک اور بھی وجہ ہے کے پڑھنے والے بچے کی جس شعبے میں دلچسپی ہے وہ اس کا اپنے والدین کو بتا ہی نہیں پاتا اور ہچکچاہٹ کا شکار رہتا ہے کیونکہ بچے اور والدین کے درمیان اس طرح ہی بات ہی نہیں ہو پاتی ہمارے معاشرے میں اسے شرم و حیا کا نام دے دیا گیا ہے پر حقیقت اس کے برعکس ہے یہ بچوں کا ڈر ہوتا ہے جو بچوں کو والدین سے دور کر دیتا ہے ساتھ ہی بچوں کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ جس شعبے میں بچے کو اس کے والدین نے بھیجا ہوتا ہے وہ اسے سمجھ ہی نہیں پاتا اور نا خود کو اس کے لیے تیار کر پاتا ہے نتیجے کے طور پر اس کی ڈگریاں زیادہ اہمیت کی حامل ہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ ان میں اچھے نمبر ہی حال نہیں کر پاتا.

    اور جس فیلڈ میں بچے کی دلچسپی ہوتے ہے جیسے وہ پسند کرتا ہے اور اسی فیلڈ کو اپنانا چاہتا ہے اس کے لیے والدین ہی اجازت نہیں دے پاتے تو اس طرح سے بچہ کا مستقبل پوری طرح سے ختم ہو جاتا ہے وہ سمجھ ہی نہیں پاتا ہے اب آگے اسے کیا کرنا چاہیے

    اس لئے اس سارے عمل کے دوران والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے سے مشورہ کریں ان سے پوچھیں کہ وہ کس شعبے میں دلچسپی رکھتا ہے، اس کا شوق کیا ہے؟ وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ کیوں کہ تعلیم حاصل کرنا، اس پر توجہ دینا والدین یا کسی اور شخص کا کام نہیں بلکہ محض اسی بچے کا کام ہے جس نے آگے بڑھ کر اس پیشے کو اپنانا ہے اور تعلیم حاصل کرنا ہے۔

    ‎@Durre_ki_jan