Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • گھریلو تشدد ،تحریر: ندرت حامد

    گھریلو تشدد ،تحریر: ندرت حامد

    تعلیم کی کمی یا تربیت کا فقدان ۔ دین سے دوری یا غلط صحبت کا شکار ہمارا معاشرہ ظلم و بربریت کی جیتی جاگتی مثال بنتا جا رہا ہے۔ اور اس ظلم و جبر کا نشانہ ہمیشہ عورت ہی بنی ۔ مرد اپنی ہر بات، لین دین کاغصہ بیچاری اس عورت پہ نکالتا ہے جو اس کے گھر میں بیٹھی ہوتی ہے ۔اسلامی معاشرہ نے، دین اسلام نے عورت کو عزت دی ۔ اس کا مقام بلند کیا ۔ماں کا روپ دیا اور قدموں میں جنت رکھ دی ۔ بیٹی کا درجہ دیا اور رحمت بنا ڈالا ،بہن کا درجہ دیا تو محبت کا گہوارہ بنا دیا ۔بیوی کا درجہ دیا گھر کے مرد کے دل کا سکون بنا دیا ۔ مگر یہی مرد جب عورت پہ مار پیٹ ظلم وجبر اور تشدد کی انتہا تک چلا جاتا ہے یہ بھی بھول جاتا ہے کہ وہ بھی انسان ہے اس کے اندر بھی روح ہے ۔

    ہمارے معاشرے عورت کو ہمیشہ چپ کا سبق دیا جاتا ہے ۔رخصت کرتے وقت یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اب یہی تمہارا گھر ہے ۔ جو بھی ہو واپسی کا سوچنا بھی مت ۔ اب اس گھر سے صرف تمہارا جنازہ ہی نکلے گا ۔ کبھی سننے میں آتا ہے شوہر نے جھگڑے کے دوران مار پیٹ کی اور بیوی کا بازو ٹوٹ گیا ۔کبھی جھگڑے میں سر پھوڑ دیا جاتا ہے تو کبھی جسم میں لال نیلے نشان پڑ جاتے ہیں ۔

    ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے کئے گئے سروے میں بتایا گیا پاکستان میں 10سے 20 فیصد عورتیں کسی نا کسی ظلم و زیادتی کا شکار ہیں ۔ پاکستان میں ہر دن 19 سے 20 گھریلو تشدد کے واقعات رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور بہت سے تشدد کے واقعات ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے ۔ پاکستان میں ہر سال 5000 عورتیں گھریلو تشدد میں قتل کی جاتی ہیں ۔ یہی نہیں آئے روز سوشل میڈیا پہ نت نئی گھریلو تشدد کی ویڈیوز سامنے اتی رہتی ہیں جہاں کبھی شوہر بیوی پہ بہمانہ تشدد کر رہا ہوتا ہے تو کہیں بھائی وراثت میں حصہ مانگنے پر طاقت کے بل پر بہن کا منہ بند کرتا نظر آتا ہے ۔ہر روز ایک ٹرینڈ چل رہا ہوتا ہے جسٹس فار قرات العین ۔جسٹس فار صائمہ جسٹس فار بشری فلاں فلاں ۔جو ہمارے معاشرے کی بے حصی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ گھریلو تشدد میں عورتیں مختلف نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ اور یوں وہ خود کیلئے بھی دوسروں کی محتاج ہو جاتی ہیں ۔

    گھریلو تشدد میں عورتیں ڈیریشن اضطرابی کیفیات سے دو چارنظر آتی ہیں۔گھریلو تشدد کا اثر بچوں کی صحت پہ بھی پڑتا ہے وہ زندگی کے کی میدان میں باقیوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں تعلیمی لحاظ سے بھی کمزور ہوتے ہیں ۔خدارا عورتوں پہ ظلم و زیادتی کی انتہا کی بجائے انہیں وہ درجہ دیں جو انکا حق ہے جو اسلام نے انکو دیا۔ بحیثیت خاندان پر امن قوم بنیں اور پر امن زندگی گزاریں ۔ گھریلو تشدد جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمارے معاشرے کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کی ضرورت پر زور دیا جانا چاہیے پاکستانی معاشرے کی اصلاح صرف اسلامی قوانین کو نافذ العمل کرنے سے ہی ممکن ہے نہ کہ مغرب کی تقلید کرنے سے .مرد حضرات کو چاہئے کہ ہر بات کا غصہ بیوی پر نکالنے کی بجائے اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت کو بھی انسان سمجھا جائے .دین اسلام کی تعلیمات کو خود بھی اپنی زندگی میں نافذ کرکے اپنے گھر کو ایک مثالی خاندان بنایا جائے اس کے بغیر ہم مضبوط، پرسکون اور جنت نظیر خاندان اور گھر کا تصور نہیں کرسکتے،یہی آخری آپشن ہے

    کرونا کے مریض صحتیاب ہونے کے بعد کب تک کریں جسمانی تعلقات قائم کرنے سے پرہیز؟

    کرونا کا خوف،60 سالہ مریض کو 4 گھنٹے میں 3 ہسپتالوں میں کیا گیا ریفر،پھر ہوئی ایمبولینس میں موت

    کرونا کے بہانے بھارت میں مسلمان نشانہ،بیان دینے پر مودی نے ہندو تنظیم کے سربراہ کو جیل بھجوا دیا

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    گائے ذبیحہ کے نام پر بھارت میں مسلمانوں کو ہزاروں افراد کی موجودگی میں زنجیرمیں جکڑ کر زندہ جلا دیا گیا

  • مٹی کیا ہے؟ .  تحریر : کامران واحد

    مٹی کیا ہے؟ . تحریر : کامران واحد

    کیا یہ بنی نوعِ انسان کے وجود کا عنصرِ اعظم ہے؟
    کیا یہ نباتات کی افزائش کا محرکِ اعلیٰ ہے ؟
    کیا یہ فرشِ زمین کی تہوں میں موجود بنیادی مرکب ہے؟
    کیا یہ ریگزاروں کا جلتا ہوا جسم ہے؟
    اور کیا یہ شہرِ خموشاں میں مردہ اجسام کی شکست و ریخت کا اصل ذمہ دار ہے؟
    جی نہیں مٹی کے معانی اس سے کہیں بلند تر ہیں
    مٹی محبت کا پہلا آئینہ ہے۔ ہمارے اور ہمارے اردگرد کے ہر قسم کے اجمالی وجود کا آئینہ، جو انسانی عکس کو سنبھالے ہوئے ہے۔

    تو جب انسان اپنی مٹی سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس دعویٰ کا اصل کیا ہے؟
    اس کا اصل اپنے مٹی سے گندھے وجود کو کسی مقصدِ اعلیٰ کے لیے اپنے محیط کی مٹی میں ضم کر دینا ہے۔
    اور اس کی سب سے بہترین شکل مٹی کے خالق اور وطن کی خاطر اپنے جسم وجان قربان کرنا ہے۔
    وہ انسان عظیم ہیں جو اس مقصدِ اعلیٰ کے لیے اپنا سب کچھ لٹانے پر مصر ہیں۔
    وہ بھی جو دن رات اپنی تمام تر قوتیں اور محنتیں اپنے مٹی کی محبت میں خرچ کر رہے ہیں اور وہ بھی جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیتے ہیں۔
    ہم مٹی ہیں اور ہمارے وطن کی عظیم مٹی میں بے شمار شہداء کی مٹی ضم ہے۔
    ان سرپھروں کی مٹی جو اپنی جوانیاں اس مٹی کی حفاظت میں لٹادیتے ہیں۔
    ان مٹی سے بنے انسانوں کو مٹی اپنے سر کا تاج سمجھتی ہے اور اپنے اوپر ان کی نقل و حرکت کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتی ہے۔

    مگر افسوس یہ ہے کہ اسی مٹی کا احسانِ وجود اٹھانے والے کچھ مٹی سے بنے لوگ، ان جوانیاں لٹانے والوں کی توھین اور استہزاء میں سرگرمِ عمل ہیں-
    ایسے لوگ ضمیر فروش بھی ہیں اور احسان فراموش بھی۔
    بھلا اس سے بڑھ کر احسان فراموشی اور ضمیر فروشی کیا ہوسکتی ہے کہ اسی مٹی سے بنے انسان کو اپنے وطن کی مٹی کی تزئین اور ارتقاء سے بیر ہوجائے۔
    آخر کون لوگ ہیں یہ۔ ان کی پہچان کیا ہے۔
    ان کی سب سے بڑی پہچان ان کے سینوں میں موجود مٹی کا بغض ہے جو ان کے مٹی سے بنے ہونٹوں سے زہر کی طرح اگلتا ہے۔
    اے مٹی کے بنے انسانو! مٹی کے ان دشمنوں کو پہچانو۔ وگرنہ شہرِ خموشاں کی مٹی اپنا قرض سود سمیت وصول کرنے کو تیار ہے۔

  • وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اداروں پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں، کبھی ملک ٹوٹنے کی بات کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں وہ کون تھا کہ جس نے میرے وزیراعظم ہوتے ہوئے حکم دیئے

    آج ہم بتاتے ہیں کہ وہ کون تھا اور کون ہے، کچھ سوال عمران خان سے بھی ہیں جو ان سے پوچھے جانے ہیں، عمران خان اور اسکے چاہنے والے بتائیں کہ وہ کون ہے جس کے کاندھوں پر عمران خان سوار ہوکر اقتدار میں آیا ،وہ کون ہے جس نے عمران خان کی ناکامیوں اور نالائقیوں کا بوجھ اٹھائے رکھا ،وہ کون ہے جس نے عمران خان کے مخالفین کی تنقید کو بیجا برداشت کیا ،وہ کون ہے جس نے تمام چیلنجز ، تنقید اورمشکلات کے باوجود ملک کی خاطر عمران خان کی حکومت کا ساتھ دیا ،وہ کون ہے جس نے کووڈ کے خلاف جنگ کو کامیاب بنایا اور کریڈٹ عمران خان دیا ،وہ کون ہے جس نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ ہونے سے بچایا لیکن اس کو عمران خان نے سیاسی طور پراستعمال کیا ،وہ کون ہے جس نے ریکوڈیک کا مسئلہ حل کیا اور پاکستان کو 11 بلین ڈالرز سے بچایا اور اس کا کریڈٹ عمران خان کو دیا ،وہ کون ہے جس نے کارکے میں پاکستان کو ایک ارب ڈالرز کے جرمانے سے بچایااور کریڈٹ عمران خان نے لیا

    وہ کون ہے جس نے ملک کے معاشی استحکام کی خاطر ملک کے دفاعی بجٹ کو دو سال تک نہ بڑھایا اور کریڈٹ عمران خان نے لیا ،وہ کون ہے جس نے افغانستان کے مسئلے کو بہترین طریقے سے حل کیا اورپاکستان کو اس کی تباہ کاریوں سے بچایا لیکن کریڈٹ عمران خان نے لیا ،وہ کون ہے جس نے ملک کی خاطراپنے ذاتی اثرورسوخ کواستعمال کرکے سعودی عرب سے سے امدادی پیکج کو یقینی بنایا اور جس کا کریڈٹ عمران خان نے لیا ،وہ کون ہے جس نے ایم بی ایس کے دورہ پاکستان کو کامیاب بنایا اور کریڈٹ عمران خان کو دیا ،وہ کون ہے جس کی درخواست پر عرب امارات کے حکمران عمران خان سے ملاقات کے لیے تیار ہوئے لیکن کریڈٹ عمران خان کو دیا ،وہ کون ہے جس نے سی پیک کی سیکورٹی کو انتہائی مضبوط کیا اورچین کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کیا اور جس کا کریڈٹ عمران خان نے لیا ،وہ کون ہے جس نے عمران خان کے دورہ امریکہ کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کیا لیکن جشن عمران خان نے منایا وہ کون ہے جس نے فروری 2019 میں ہندوستان کا غرور خاک میں ملایا اور اس کا کریڈٹ عمران خان دلوایا وہ کون نے جس نے کرتارپورراہداری کو 8 مہینے کی قلیل مدت میں مکمل کرکے مودی کو ناک آؤٹ کیاوہ کون ہے جس نے مارچ 2021 میں عمران خان کی حکومت کو گرنے سے بچایا وہ کون ہے جس نے ایک محسن کُش ، احسان فراموش اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے عمران خان کے لیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

     

  • سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول

    سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول

    برف کی موٹی تہہ میں سسکتی زندگی کی کہانی جا بجا گردش کرتی تصویری جھلکیوں سے دیکھی جا سکتی ہے مگر اس شب زندگی جینے والوں پہ کیا بیتی یہ احساس ہر ذی روح کو چھلنی کیے جارہا ہے۔ مری ہمیشہ ہی سیاحوں کا خواب رہا چاندی کی طرح آسماں سے اترتی برف کوئی جادوئی سی داستان لگتی ہے۔۔اور اس جادو کو چھونے کی خواہش میں ہر سال لاکھوں لوگ ملکہ کوہسار کا رخ کرتے ہیں اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔۔بچوں کو سردیوں کی تعطیلات ہوئیں تو کئی خاندانوں نے سیر کے لیے مری کو گاڑی موڑ دی جسکو بریک ناگہانی موت نے لگائی۔۔
    برفباری شروع ہوئی تو موجودہ حکومت کے وزیر اطلاعات نے خوشخبری سنائی "ملک میں سیاحت فروغ پارہی لاکھوں گاڑیاں مری گلیات نتھیا گلی پہنچی ہیں”جبکہ حقائق کا جائزہ لیا جائے تو مری میں صرف پارکنگ کے لیے پچاس ہزار گاڑیوں کی گنجائش ہے ٹول پلازے سے جب گاڑیاں گزرتی رہیں تو حکومتی گنتی ساتھ ساتھ ٹوئٹر پر چلتی رہی مگر برتری سے غفلت تک کے سفر نے صرف ایک رات لی اور ڈھیروں گاڑیوں کے ہجوم نے ٹریفک کو تعطل کا شکار کیا۔۔۔موسم نے بھی تیور دکھائے تو یخ ہواؤں نے برف برسانا شروع کر دی جسکی پیشگی اطلاع پہلے ہی سے محکمہ موسمیات دے چکا تھا۔۔مگر سیاحوں کو نہ روکا گیا نہ رہنمائی کی گئی سیاحتی ترقی کا ڈھول پیٹا جاتا رہا۔
    مری کو جاتی سڑک پر گاڑیاں رکی تو زندگی بھی تھمنے لگی اپنی مدد آپ کے تحت کئی لوگوں نے موت سے فرار کی راہ پکڑی تو برف نے جانے نہ دیا واپس اپنی گاڑیوں میں بیٹھنا آخری حل جانا۔۔اور انتظامیہ کی راہ میں نظریں ونڈ سکرینوں پہ جمی رہیں مگر سخت سردی میں رات فیصلوں میں بیت گئی کہ کیا کیا جائے؟؟ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہمیشہ ہی مری کی سڑک پر ایسے موسموں میں ٹریفک جام ہوجاتا ہے مگر حل کیا ہوسکتا ہے یہ ہم سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نہ سوچ سکے بلکہ ایک ایسی ریاست جہاں انسانوں کی زندگیاں انکا مال حکومتوں کی امانت ہوا کرتا ہے وہاں انہیں مرنے کے لیے بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا۔۔
    صبح جب گاڑیوں میں بے بسی سے مر جانے والوں کی ویڈیوز سامنے آئیں تو انتظامیہ نے بھی جاگنا مناسب سمجھا پھر ایسی پھرتیاں دکھائیں جیسے اختیار میں سب تھا بس مرضی نہیں تھی۔پاک فوج کی پیدل پانچ پلاٹون کو طلب کر دیا گیا ریسکیو ٹیمیں بھیجی جانے لگیں۔۔وزیر مشیر سب بیانات داغنے لگے اور ٹوئٹر پر حادثے کے بعد کیے جانے اقدامات چمکنے دمکنے لگے وزیراعظم صاحب نے بھی اپنے ٹوئٹری پیغام میں کہیں نہ کہیں سیاحوں کو مودود الزام ٹھہرانا مناسب سمجھا تو جناب سیاحت کے لیے اب لوگ سوئٹزرلینڈ تو جانے سے رہے جائیں گے تو مری تک ہی جائیں گے ناں۔۔
    جو ہونا تھا ہوگیا ایک ایک جان کا جانا حکومت کے سر۔۔مگر اب سوچنا یہ ہوگا کہ غفلت کہاں ہوئی تاکہ کہیں تو نظام کی درستگی کی طرف قدم بڑھایا جاسکے سب سے پہلے تو ‏محکمہ موسمیات پیش گوئی کے ساتھ ساتھ ریڈالرٹ جاری کر سکتا تھا پھر انتظامیہ مقررہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی داخلہ بند کروا سکتی تھی ریسکیو آپریشن میں تاخیر بالکل نہیں برتنی چاہیے تھی این ڈی ایم اے کہاں رہی رات بھر؟ مری میں موجود آرمڈ فورسز بیسز سے امداد طلب کی جاسکتی تھی۔
    اب وقت ہے کہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا جائے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کوسول ڈیفنس کی لازمی تربیت دی جائے معلوم ہونا چاہیے کہ برف باری میں پھنسی گاڑی میں رات کیسے گزارنی چاہیے اور اگر ایسی مشکل صورتحال پیش آجائیں تو کون سے اقدامات سے جان بچائی جا سکتی ہے۔ صرف باتوں سے بات نہیں بڑھتی عملی اقدامات سے ہی ایسے حادثات کو روکا جاسکتا ہے۔
    موجودہ حکومت ہمیشہ سے ہی سیاحت کو فروغ دینے کا نعرہ لگاتی ہے مگر سیاحت کو فروغ دینے کے لیے راستے آسان کیے جاتے ہیں لوگوں کے لیے سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے اپنے اداروں کو ایمانداری سے فرض شناسی پہ مامور کیا جاتا ہے انفرا اسٹرکچر بہترین بنانے کے لیے عملاً اقدامات کیے جاتے ہیں حالات کہیں نازک ہونے لگیں اور سیاحوں کی جان پہ بنی ہو تو فیصلوں میں تاخیر نہیں کی جاتی سیاحت کا فروغ محض دعووں سے ممکن نہیں۔۔پوری دنیا میں برف باری ہوتی ہے گاڑیاں بھی چلتی ہیں ٹرینیں بھی خوبصورت نظاروں کی دید کا شوق لیے سیاحوں کے لیے دواں دواں رہتی ہیں کہیں معمول زندگی رک نہیں جاتا علاقے بند کر دینے سے سیاحت اپنی موت آپ مر جاتی ہے تقاضا یہ ہے کہ حالات سازگار کیے جائیں ملک بھر سے لوگ برف باری دیکھنے ہی نکلتے ہیں۔ برف میں گاڑیاں پھنسنا، رات گاڑی میں گزارنا دنیا بھر میں معمول ہے مگر ایسے حالات میں بھاری بجٹ سمیٹتے ادارے کیوں سوئے رہتے ہیں؟ ہم نہ جانے کب سوچیں گے ایسے کئی حادثے ہوتے ہیں کچھ دن سرخیوں میں رہتے ہیں پھر ہم نہ سیکھنے کی رسم دہراتے ہوئے کسی نئے حادثے کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر سے ہنستی مسکراتی زندگیوں کو موت کے حوالے کر بیٹھتے ہیں۔۔۔ہم بھی ناں۔۔ ناجانے کب بڑے ہونگے۔

    Zakia nayyar

    @Nayyarzakia

  • بی بی سی کا پاکستان کے خلاف ایک اور پروپیگنڈا  تحریر : راجہ منیب

    بی بی سی کا پاکستان کے خلاف ایک اور پروپیگنڈا تحریر : راجہ منیب

     

    ادریس خٹک کو صوابی سے نومبر سنہ 2019 میں حراست میں لیا گیا  اورادریس خٹک کے وکیل طارق افغان ایڈووکیٹ کے مطابق ان کے موکل کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ۔اور پی ٹی ایم کےمشرانوں  نے اس بات کا پروپیگنڈہ شروع کر دیا  کہ ادریس خٹک اغوا ہو گئے ہیں اور لاپتہ ہیں۔ پی ٹی ایم ایسی جھوٹی تنظیم جو اپنے مفاد کے لیے اداروں پر کسی بھی وقت الزام لگا دیتی ہے۔ جبکہ غیر ملکی ایجنسیوں کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں جن تین فوجی افسران اور ایک سولین کا کورٹ مارشل کیا گیا۔ سزا پانے والوں میں ۔ لیفٹننٹ     کرنل فیض رسول  کو 14 سال  کی سزا کے بعد اڈیالہ  جیل اور ادریس خٹک نامی سولین کو 14 سال کی سزا کے بعد جہلم جیل میں ہیں ۔انکے علاوہ  لیفٹننٹ کرنل اکمل کو 10 سال  اور میجر سیف اللہ بابر کو 12 سال کی سزا سنائی گئی۔ان غداروں کو سزائیں سنانے کے بعد مختلف جیلوں میں بھیجا گیا ہے۔ ادریس خٹک  پاکستان کی خفیہ معلومات  برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے ایک ایجنٹ مائیکل سیمپل کے کو معلومات دیتا تھا۔ ملزم ادریس خٹک نے 29 جولائی سنہ 2009 کو برطانیہ کی خفیہ ایجنسی کے نمائندے مائیکل سیمپل کو سوات میں پاکستانی فوج کے جاری آپریشن کے بارے میں معلومات دیں۔ادریس خٹک کے حق میں پی ٹی ایم (وزیرستانی سرخے) سمیت تمام خونی لبرلز  کافی عرصہ سے سوشل میڈیا مہم چلاتے رہے ہیں۔ وہ اس کی گرفتاری کو اغواء اور زیر حراست رکھنے کو ‘مسنگ پرسن’ کا نام دے کر عوام کو گمراہ کرتے رہے ہیں۔ کچھ سیاست دان، صحافی ٹولہ اور خاص طور سے پی ٹی ایم ادریس خٹک نامی شخص کو لے کر بھر پور پراپیگنڈہ اور جھوٹی کہانیاں پھیلا رہے ہیں جنکی حقیقت ملاحظہ فرمائیں۔ادریس خٹک کے تین جرائم ثابت ہوئے ہیں۔  جنکا مختصر ذکر یہ ہے کہ پہلا جرم ۔اس نے غیر ملکی ایجنسیوں کو پاکستان میں ڈرون حملے کرنے کے لیے انفارمیشن دی۔  بھاری رقوم کے عوض اس نے وزیرستان سمیت کئی علاقوں میں ڈرون حملوں کے ذریعے معصوم قبائیلیوں کو مروایا ۔اسکی حمایت وہی لوگ کر رہے ہیں جو پشتون قبائیلیوں کی لاشوں پر سیاست کرتے آ رہے ہیں۔اور بظاہر وہ خودکو قبائیلیوں کے حقوق کا چیمپئن کہتے ہیں۔  دوسرا جرم  ۔ اس نے غیر ملکی ایجنسی کی ایما پر ‘مسنگ پرسنز’ کی فیک مہم چلائی۔ جس میں قومی سلامتی کے اداروں اور ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسایا۔ بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگائے۔تیسرا جرم ۔ ملک دشمن ایجنسیوں کے لیے قبائیلی اضلاع سے پڑھے لکھے نواجوانوں کی بھرتیاں کیں۔ ان نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف کام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے عوض بھی اس نے بڑی رقم وصول کی۔

    یہ محض آرمی عدالتوں سے سنائی گئی سزائیں نہیں ہیں اورنہ یہ محض ایجنسیوں کی رپورٹس ہیں۔ یہ موصوف پیشاور ہائی کورٹ بھی گئے تھے جہاں ان دنوں خونی لبرلز کے چہیتے چیف جسٹس وقار سیٹھ براجمان تھے۔ ادریس خٹک کے خلاف ثبوت اتنے ٹھوس اور واضح تھے کہ پشاور ہائی کورٹ نے بھی ہاتھ کھڑے کر دئیے اور فیصلہ سنایا کہ بےشک ادریس خٹک کو ‘آفیشل سیکرٹ ایکٹ’ کے تحت پکڑا گیا ہے اور ان ثبوتوں کی روشنی میں بہتر یہی ہے کہ آرمی ہی اس پر مقدمہ چلائے۔اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ پاک فوج لیفٹنٹ جنرل جاوید اقبال سے لے کر میجر تک غداری یا جرم ثابت ہونے پر سب کو سزائیں دیتی ہے اور سولین یا فوجی میں کوئی فرق نہیں کرتی۔ پھر چاہے وہ برگیڈئیر رضوان ہو چاہے وہ ادریس خٹک ہو۔اسکے علاوہ اس سےیہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی ایجنسیاں ہر قسم کے خطرات سے آگاہ اور چوکناہیں اور ایسے غداروں کو نہ صرف پکڑا جاتا ہے بلکہ انجام تک بھی پہنچایا جاتا ہے۔فوج کے پاس احتساب کا سخت عمل ہے۔کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ادریس خٹک نے ریاست پاکستان کے ساتھ غداری کی ہے۔اس غدار  نے حساس معلومات ملک دشمنوں کو دیں جس کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں فوج و ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے میں دشمن کو آسانی ہوئی ہےجہاں تک ادریس خٹک کی بات ہے تو میری رائے میں اس کو بہت کم سزا سنائی گئی ہے۔ جس سفاک انسان کے ہاتھوں سےسینکڑوں  بےگناہ قبائیلیوں کا خون ٹپک رہا ہو اس کو کم از کم موت کی سزا دینی چاہئے۔اور براہ کرم چند لوگوں کی طرف سے پھیلائے جانے والی کہانیوں پر کان نا دھریں کیونکہ انکا کام ہی آپ لوگوں میں انتشار پھیلانا ہے۔ بی بی سی کے اس مضمون کے پیچھے کیا مقصد ہے اوراس بدتر، کسی مقصد اور منطق سے عاری، یہ غیر ذمہ دارانہ، نامکمل اور ناقص تحریر کردہ اردو مضمون پاکستان کی قومی سلامتی کے اہم مفادات کے لیے خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔    بدقسمتی سے، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بی بی سی نے اس قسم کے پروپیگنڈے کا ساتھ نہ دیا ہو۔ اس سے پہلے بھی  بی بی سی کی مسلح افواج کے بارے میں تنازعہ پیدا کرنے کی پہلے کئی واضح کوششیں موجود  ہیں۔پاکستانی میڈیا کا منظر نامہ شہزاد ملک جیسے "کرائے کے صحافیوں” سے بھرا ہوا ہے جو دوسروں کے کہنے پر حملے کرنے کے لیے سب سے آگے ہیں۔ ان جیسے مصنفین اپنے اسپانسرز کے لیے سپاہ سالار یا پاکستان کی مسلح افواج کو ٹیگ کرتے ہیں،  بدلے میں اسپانسرز، ان کی کہانیوں کو آگے بڑھانے اور اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ان پر بھاری احسان کرتے ہیں۔ ایسے مصنفین کا طریقہ کار وسیع تر سامعین تک پہنچنے کے لیے کہانیوں کو ایک لذیذ موڑ دے کر ان کو ختم کرنا ہے۔ اگر بی بی سی کی جانب سے ایسے صحافیوں کو ان کی بے ہودہ باتوں پر قلم اٹھانے کے لیے جگہ دی جاتی رہی تو یہ نہ صرف صحافتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان موجود نیک نیتی کو بھی ختم کردے گی۔  ایک واضح حقیقت ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی برطانیہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ بی بی سی کے یہ مضامین پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو بدنام کرنے کے واضح مقصد کے ساتھ شائع کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک خطرناک رجحان جسے پاکستان ہلکے سے نہ لے۔

  • کووڈ 19 کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت تحریر  علی جویو

    کووڈ 19 کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت تحریر علی جویو

    میرا نام علی جویو ہے، میں مائیکروسافٹ پروفیشنل ہوں، اور گوگل سپورٹ سپیشلسٹ ہوں، یورپ، سوئٹزرلینڈ میں IT سروسز میں کام کرنے والا سائبر سیکیورٹی کنسلٹنٹ ہوں جو یورپی یونین میں آئی ٹی کے شعبے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کام کر رہا ہوں اور میں ایک پاکستانی سوئس ہوں، جس کا تعلق صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔
    اس بلاگ میں COVID-19 کے بعد IT کی مجموعی اہمیت کے بارے میں لکھوں گا۔ میرا بلاگ بنیادی طور پر پاکستان میں آئی ٹی کے بارے میں آگاہی کے لیے ہے اور ممالک میں آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینا ہے۔
    آئیے پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کی بات شروع کرتے ہیں!
    دنیا کی ٹاپ 100 Technology کمپنیوں کی فہرست پر جانے سے آپ کو کوئی پاکستانی Tech کمپنی نہیں ملے گی۔ جہاں امریکہ اور چین سرفہرست ہیں لیکن چند بہت چھوٹے ملک بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جیسے کہ ناروے، آسٹریا، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، آئرلینڈ، تائیوان، یہ تمام ممالک ایک کروڑ سے بھی کم آبادی والے ہیں, جو کہ نصف بھی نہیں کراچی شہر کی آبادی کا.

    اگر میں آئی ٹی کی بات کروں اور ہندوستان کی بات نہ کروں تو یہ درست نہیں ہو گا! دنیا کی ٹاپ 100 Tech کمپنیوں میں، کم از کم دو ہندوستانی ٹیک کمپنیاں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز اور انفوسس شامل ہیں ۔
    ہندوستان میں عالمی سورسنگ مارکیٹ IT-BPM صنعت کے مقابلے میں تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔ ہندوستان پوری دنیا میں سورسنگ میں سرفہرست ہے، جو کہ 2019-20 میں US$200-250 بلین کے عالمی خدمات کے کاروبار کے تقریباً 55% مارکیٹ شیئر کا حصہ ہے۔
    ہندوستان کے بارے میں ایک چھوٹا سا تبصرہ۔ آج اگر ہندوستان کو دنیا بھر میں یہ مقام اور عزت حاصل ہے اور وہ Superpower دوڑ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو یہ نریندر مودی صاحب کی وجہ سے نہیں ہے! یہ پالیسیوں میں تسلسل اور ان اعلیٰ کمپنیوں کی وجہ سے ہے، یہ CEO’s کی وجہ سے ہے، یہ ان شاندار ذہن رکھنے والے پیشہ ور افراد اور مزدوروں کی وجہ سے ہے۔ جو دنیا بھر میں کام کر رہے ہیں۔ (میں اس پر الگ بلاگ لکھوں گا)۔

    آئیے پاکستان کی بات کریں! آئی ٹی پاکستان کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے جو پاکستان کے جی ڈی پی میں تقریباً 3.5 بلین امریکی ڈالر کا تقریباً 1% حصہ ڈالتا ہے۔یہ اچھا لگتا ہے! لیکن اگر ہم کہیں کہ یہ حکومت کی سنجیدہ کوششوں کی وجہ سے ہے? تو میں اس بات سے متفق نہیں ہوں. لیکن! اگر حکومت ایسا کر رہی ہے تو یہ اور بہتر ہو سکتا ہے۔
    پاکستان میں آئی ٹی کی وزارت کو "کھڈا لائن منسٹری” کہا جاتا ہے۔اگر آپ مجھ سے متفق نہیں ہیں! تو آئی ٹی کی وزارت سے رابطہ کریں۔ آپ کو آئی ٹی کے ایسے وزیر ملیں گے جن کا آئی ٹی سے کوئی تعلق نہیں! کوئی آئی ٹی کا پس منظرنہیں ، درحقیقت اس وزارت میں زیادہ تر وزراء سیاسی ایڈجسٹمنٹ سے ہوتے ہیں۔ مختلف سرکاری محکموں میں چیک کریں آپ کو شاید مل جائے گا: میڈیکل ڈاکٹر بطور آئی ٹی سربراہ یا شاید پلمبر، یا ڈینٹسٹ، یا بینکر، یا سول انجینئر وغیرہ۔ آپ سب میرٹ کے نظام سے بخوبی واقف ہیں۔!میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا.

    آگے بڑھتے ہوئے! میں تجویز کروں گا کہ اگر حکومت پاکستان آئی ٹی کے شعبے کو سنجیدگی سے لے تو ہم دنیا کے لیے آئی ٹی کی برآمدات، خدمات کو اتنا بڑھا سکتے ہیں جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آئی ٹی واحد شعبہ ہے جو نہ صرف آپ کو آمدنی بلکہ دنیا بھر میں مثبت امیج، اور کام کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ آپ کو سائبر سیکیورٹی کے بارے میں نہیں بھولنا چاہئے! جتنا ہم ڈیجیٹل ہوتے جائیں گے ہمیں سائبر سیکیورٹی کے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ سائبر سیکیورٹی بھی میرا موضوع ہے، میں اس پر بھی لکھوں گا۔
    شکریہ

  • معاشرہ اور معشیت تحریر : سید اعتزاز گیلانی

    معاشرے کی تشکیل اور رزق کے لئے معیشت ضروری ہے۔کوئی بھی معاشرہ موثر معیشت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ جس میں وہ کم از کم اپنے ارکان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔زندگی کے حالات میں تبدیلی کی وجہ سے ایک نکھار ہے۔اس لئے معیشت معاشرے کا ایک اہم جزو ہے جو اس کی بقا کے لئے ضروری ہے ۔ اگر معاشرے کو تخلیق کرنا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے۔اسی طرح رزق کا حصول بھی ضروری ہے۔ تمام ادارے لوگوں کے بغیر کام نہیں کر سکتے۔لوگوں کے معاشرے سے تعلق رکھنا بہت اہم اور اہم ہے۔اگر لوگ سماجی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہیں تو وہ ممکن نہیں ہیں۔یہ چیز ان کی زندگی میں منفی فنون کی طرف آتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی اقدار، تعلقات اور طرز عمل متاثر ہوتے ہیں۔لوگوں کی معیشت میں شامل ہونے سے ان کی سماجی زندگی بہتر ہوتی ہے۔ ان کا ادارہ موثر طریقے سے کام کرتا ہے۔قانون مزید مضبوطی سے آگے بڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ ثقافت اور معیشت کے درمیان تعلق ایک متحرک ہے۔جس کے ذریعے دونوں ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔ معاشرے کے لئے معاشیات کم افراط زر اور اس لئے روزگار کی اعلیٰ ترین سطح کے ساتھ مستحکم معاشی عمل کو یقینی بنانے کے لئے حکومتی فیصلوں کا تجزیہ کرنے اور سمجھنے کے لئے ایک سائنسی نقطہ نظر فراہم کرتی ہے۔معاشی طریقے وہ آلات بھی فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے پالیسی تجزیہ کار قومی سلامتی سے لے کر صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک متعدد شعبوں کے دوران ریاستی پالیسیوں کے ممکنہ اخراجات، فوائد اور اثرات کا مطالعہ کرتے ہیں۔صدور معاشی ماہرین کو قومی اقتصادی پالیسی کے ساتھ ساتھ دیگر پالیسی شعبوں کے بارے میں مشورہ دینے کے لئے مقرر کرتے ہیں۔ریاست سے باہر معاشی اصول کاروباری فیصلوں اور اقدامات کی رہنمائی میں مدد کرتے ہیں جو خوشحال معاشرے کو فروغ دینے میں 

    مدد کرتے ہیں۔

    صنعتی انقلاب کی وجہ سے تمام صنعتی معاشروں کو تبدیلی کی ایک متبادل لہر کا سامنا کرنا پڑا جس نے ایک صدی کے اندر اندر ہر صنعتی معاشرے میں زندگی کے حالات اور طرز زندگی کی مجموعی تبدیلی کی طرف لے گیا۔نئے معاشی انتظامات نسبتا تیزی سے تیار ہوئے جہاں سرمایہ مزدوروں سے الگ کیا گیا اور جہاں کافی بڑی معاشی تنظیمیں ابھریں، مشینوں اور مزدوروں کے گروہوں کو ایک چھت کے نیچے اکٹھا ہونے کے لئے ملازم رکھا گیا۔

    Twitter account: @AhtzazGillani

  • قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    تحریک انصاف کے دور میں قومی اسمبلی کچھ اہم بلوں کی منظوری آخر ہو ہی گئی جس میں ایک بل سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کا اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق تھا. اپوزیشن آخری وقت تک اس کا ساتھ دیتی نظر نہیں آئی مگر یہ بھی حقیقت ہے کے کچھ لوگوں نے خاموشی اور نام نہ ظاہرکرنےکے عیوض ووٹ دیا. موجودہ حکومت پہلے دن سے یہی کہتی آئی ہے کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین صرف ہمارا فائدہ ہی نہیں بلکہ پاکستان ممکی تمام سیاسی جماعتوں کا فائدہ ہے اس سے الیکشن کمیشن کا کام بھی آسان ہوگا وقت بھی بچے گا اور سب سے اہم دھاندلی کی بات اور بحث کرنے والے لوگ بھی اطمینان کا اظہار کریں گے اعتماد ہوگا انھیں یہی نہیں بلکہ قیمتی وقت بھی بچے گا اقر چند ہی گھنٹوں میں نتائج سب کے سامنے ہوں گے.

    مگر اپوزیشن کا رویہ اتنا اچھا نہیں دیکھا گیا اپوزیشن اس کے سخت خلاف ہے ساری چیزوں پر غور کرنے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے کے اپوزیشن اس بل پر حامی اس لئے نہیں بھرتی کہ پھر ان کے ووٹ جو یہ خریدتے ہیں وہ نہیں پڑ سکیں گے اور سب سے اہم بات یہ کہ سمندرپار پاکستانی وزیراعظم عمران خان پر ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے سے مکمل بھروسہ کرتے ہیں.

    دیکھا جائے تو ایک دون دن پہلے ن لیگ کے رہنما این اے ١٣٣ کے لئے ووٹرز کو قرآن پر حلف اور پیسے دیتے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا ہے مگر اب واضح تو ہو ہی گیا کے ن لیگ یا اپوزیشن کیوں اتنا خلاف ہے ای وی ایم کے.

    ن لیگ نے ہر چیز جو پیسے اے خریدنے کی کوشش کی ہے اور یہی طرز سیاست بھی رہا ہے اس سیاسی جماعت کا. یہ لوگ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں ای وی ایم سے جبکہ وفاقی وزیر ٹیکنالاجی شبلی فراز نے تو چیلنج بھی کیا کہ اس مشین کو ہیک کر کے دکھائیے دس لاکھ کا انعام حکومت خود دے گی چلیے تھوڑی سی دیر کے لئے مان لیا کے اس مشین میں نقائص ہیں تو دیگر سیاسی جماعتیں اس کے لئے اچھی تجاویز کیوں نہیں دیتی کیوں نہیں اس پر بات کرتے؟

    کچھ مہینوں پہلے ن لیگ کے احسن اقبال نے مخالفت میں آکر سمندر پار پاکستانیوں کی تضحیک بھی کی چلیں یہ بھی مان لیا کہ وہ درست مگر یہ بتائیے کے ن لیگ کی سوشل میڈیا سیل سے سمندر پار پاکستانیوں کی جو تضحیک کی گئی کیا اس کا اندازہ ہے انھیں.

    ساری اپوزیشن خاص کر ن لیگ نفرت میں بہت آگے نکل چکی ہے یہ بھی سنا گیا کہ کچھ ن لیگی اراکین نے قومی اسمبلی میں یہ گارنٹی دی کہ ہم ان بلز اور اس بل کے ساتھ ہیں بس ہمارا نام سامنے نہ آئے اب زرا بتائیے کہ نوااز شریف یا مریم نواز وہ بیانیہ لے کے چلتے ہیں جو کسی کو بھی منظور نہیں ویسے بھی ریاست مخالف بیانیہ رو کسی کو بھی منظور نہیں ہو سکتا سوائے ملک دشمن عناصر کے.

    شہبازشریف کامی باڈی لینگویج قدرے نرم نظر آئی اور یہ سب جانتے ہیں کے شہبازشریف نوازشریف والا بیانیہ نہیں لے کر چلتے.

    الیکٹرانک ووٹنگ سے مشین ست جو فوائد حاصل ہوں گے ہمیں اس کا اندازہ نہیں اگر اپوزیشن کو مسئلہ ہے تو وہ قومی اسمبلی میں ڈسکس کیوں نہیں کرتی اگر کرتی بھی ہے تو نقائص کے ساتھ اسکا دیر پا حل بھی تو بتائے نا لیکن اس پر آکر خاموش ہوجاتی ہے آخر کیوں؟

    اگر آج آپ پاکستان کے لئے ایک نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے سیاست صرف اقتدار یا دولت کی خاطر کیوں کیوں اتنا بے چین ہے اپوزیشن اور اب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ہم ٹیکل کر لیں گے جھوٹ یا بہانے بنا کر یہ درست نہیں اگر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو پھر نئے قوانین بنوانے میں مدد کریں تاکہ اس کے فوائد حاصل کئے جا سکیں

    دعا ہے کے ﷲ پاکستان کی حفاظت کرے آمین.

  • ٹویٹر اسپیس اور اس کی اہمیت  تحریر: علی جويو‎

    ٹویٹر اسپیس اور اس کی اہمیت تحریر: علی جويو‎

    ٹویٹر ایک مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ہے 2021 کی دوسری سہ ماہی تک، ٹوئٹر کے دنیا بھر میں 206 ملین منیٹائزیبل روزانہ فعال صارفین تھے۔
    ٹویٹر ایک مقبول سوشل نیٹ ورک سروس ہے جو مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چونکہ ٹویٹر اشتہاری کمپنیوں کے لیے ایک نئے وسیع میڈیم کے طور پر ایک موثر پلیٹ فارم بن گیا ہے، اس لیے یہ ظاہر ہے کہ بااثر ٹوئٹر صارفین کو تلاش کرنا اور ان کے اثر و رسوخ کی پیمائش ضروری ہے۔ بدیہی طور پر، جن صارفین کے زیادہ پیروکار ہیں ان کے زیادہ بااثر ہونے کا امکان ہے۔
    اگر ہم سیاست اور ٹویٹر کے سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں بات کریں پھر ٹویٹر اس حوالے سے سرفہرست ہے۔ باراک اوباما سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ تک، آپ صرف کسی مشہور شخصیت یا سیاسی و مذہبی رہنما کا نام لیں جو آپ کو ٹوئٹر پر نہیں ملے!

    ٹویٹر نے نومبر 2020 میں محدود تعداد میں صارفین کے ساتھ Spaces کی جانچ شروع کی، لیکن اپریل 2021 میں، اس نے عالمی سطح پر iOS اور Android Twitter صارفین کے لیے اس فیچر کو متعارف کرانا شروع کر دیا جن کے 600 یا اس سے زیادہ فالوورز ہیں۔ 600 سے کم فالورز والے کچھ صارفین کے لیے بھی ٹویٹر اسپیس آپشن استعمال کرنے کے اہل تھے۔
    ٹوئٹر اسپیس حقیقی گیم چینجر ہے، اس سے نہ صرف اندرونی سیاست بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی منظرنامے بھی متاثر ہوں گے۔ اگر ہم پاکستان اور ہندوستان کی بات کریں تو لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر اسپیس آپشن کا استعمال کر رہے ہیں۔ جیسے سیاسی پوائنٹ سکورنگ، ڈیٹنگ، نفرت انگیز تقریر، علیحدگی پسند تحریکیں، انڈیا بمقابلہ پاکستان، کرکٹ، سماجی مسائل، آگاہی۔ وغیرہ۔ انتہائی دلچسپ پہلو جس کا ہم انتخابی موسموں میں مشاہدہ کریں گے جب سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے لیے ٹوئٹر اسپیس آپشن استعمال کریں گی۔ میں نے کچھ ٹویٹر اسپیس کا مشاہدہ کیا ہے جس میں ہزار سے زیادہ شرکاء نمایاں سیاسی شخصیات بھی بول رہے تھے۔
    سوئٹزرلینڈ میں کام کرنے والے آئی ٹی پروفیشنل کے طور پر، میں ایک ساتھ اشتراک اور سیکھنے کے لیے ٹوئٹر اسپیس کی میزبانی بھی کر رہا ہوں۔ میں پاکستان اور باقی دنیا کے دیگر شاندار آئی ٹی پروفیشنلز کی مدد سے پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے زیادہ تر ویک اینڈ پر سپیس کا انعقاد کرتا ہوں۔ اس وقت کے لیے اتنا ہی کافی ہے! لیکن ٹویٹر اسپیس، آئی ٹی اور دیگر مسائل کے بارے میں لکھوں گا۔ پڑھنے کا شکریہ, اور میں آپ کی رائے کا انتظار کروں گا۔

  • تبدیلی لانا آسان ہے کیا؟؟؟ تحریر فضل عباس

    تبدیلی لفظ سنتے ہی تمام پاکستانیوں کے ذہن میں ایک ہی نام آتا ہے وہ ہے عمران خان
    عمران خان نے سیاست میں لفظ "تبدیلی” اور "نیا پاکستان” متعارف کروایا ایک طویل جدو جہد کے بعد ان کو حکومت ملی اور لوگوں کی نظریں ان پر جم گئیں لوگ توقع کر رہے تھے کہ عمران خان چند ہی دنوں میں تبدیلی لاۓ گا عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے دوسرے دن نیا پاکستان بن جاۓ گا لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟؟؟ یہ وہ سوال ہے جس پر آج ہم بات کریں گے

    پاکستان پچھلے چالیس سال سے انتظامی اور مالی مشکلات کا شکار ہے پاکستان ہمیشہ لیڈرز سے محروم رہا ہے جب پاکستان میں تیسرا مارشل لاء لگا تو جنرل ضیاء الحق خود ساختہ سیاسی جماعتوں کو وجود میں لاۓ تا کہ اسے طاقت کے استعمال میں کوئی مسئلہ درپیش نہ آۓ ایک طرف وہ میاں نواز شریف کو سیاست میں لاتے ہیں دوسری طرف الطاف حسین کو کراچی کا سکندر بناتے ہیں انہیں اس میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا تھا ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے وہ کچھ بھی کرنا چاہتے تھے اور وہ سب کر گزرے قوم کو نواز شریف اور الطاف حسین جیسے تحفے نوازے جو بعد میں پاکستان کی تباہی کا باعث بنے

    اس سب کے بعد پاکستان میں دو جماعتی رسم شروع ہوتی ہے ایک دفعہ ایک جماعت حکمران ہوتی ہے تو اگلی دفعہ دوسری جماعت ایک جماعت دوسری کو کرپٹ قرار دیتی ہے تو دوسری پہلی کو پیپلز پارٹی کی نظر میں سب سے کرپٹ اور نااہل جماعت مسلم لیگ ن ہوتی ہے اور مسلم لیگ ن کی نظر میں سب سے زیادہ کرپشن کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی
    ان دونوں جماعتوں نے اسی طرح اپنا کام جاری رکھا اور پاکستان کمزور ہوتا گیا ان کے ساتھ ساتھ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کراچی میں اپنی طاقت کے بل بوتے عذاب بنتی گئی پاکستان مالی اور انتظامی سطح پر بکھرنے لگا
    1999 ء میں جنرل پرویز مشرف مارشل لاء لگاتے ہیں آگے چل کر وہ صدر پاکستان بنے اور ایک نسبتاً اچھا بلدیاتی نظام لاۓ مگر وہ نظام ان کی حکومت جاتے ٹوٹ گیا اور پھر سے وہی دو جماعتی کھیل شروع ہو گیا اور پاکستان اب کی بار قرضوں کے سونامی میں ڈوبتا گیا اس بار ان دو جماعتوں کے مقابلے میں عمران خان آۓ اور بالآخر 2018 ء میں ان دو جماعتوں کو شکست دے کر وزیر اعظم پاکستان بنے

    عوام عمران خان کی تقاریر سن کر ان کی دیوانی ہو چکی تھی انہیں لگ رہا تھا کہ عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ساتھ نیا پاکستان بن جاۓ گا لیکن ایسا نہیں ہوتا چالیس سال کا بگاڑ ایک ساتھ ٹھیک نہیں ہو سکتا وہ ٹھیک ہے کہ عوام کو عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں لیکن جتنی امیدیں ہوں اتنا وقت بھی دیا جاتا ہے خواب سپر پاور بننے کے ہوں اور وقت لمحوں کا بھی نہ ہو ایسا نہیں ہوتا اس پر تھوڑی واضح گفتگو کرتے ہیں

    تبدیلی لانے کے لیے سب سے پہلے نظام بدلنا پڑتا ہے اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی سے لڑنا پڑتا ہے یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جو طاقتیں سالوں سے اس ملک پر قابض ہیں انہیں لگام ڈالنا کو بچوں کا کھیل نہیں عمران خان کے پاس تو دو تہائی اکثریت بھی نہیں ہے عمران خان کو قانون سازی میں بہت زیادہ مشکلات ہیں بیوروکریسی اپوزیشن راہنماؤں کی ایماء پر حکومت کے کاموں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اپوزیشن جماعتوں کی بلیک میلنگ الگ سے ہے اس سب سے لڑنے میں وقت لگے گا عمران خان کو لوہے کے چنے چبانا ہوں گے تب ہی پاکستان بدلے گا اس سب میں بہت محنت درکار ہے عمران خان تو لگا ہوا ہے وہ کر دکھاۓ گا لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کریں کیوں کہ یہی صبر ہمیں کل اس قابل بناۓ گا کہ ہم فخریہ کہہ سکیں ہم اس راہنماء کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے تھے جس نے نیا پاکستان بنایا تھا اللّہ تعالیٰ عمران خان کو اس کے اس عظیم مقصد میں کامیاب کرے آمین ♥️