Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو تحریر سیدہ اُمِ حبیبہ

    قائین محترم جہالت کی ضد علم ہے 

    تاریکی روشنی کو مات دیتی ہے

    صبح و شام ایک ساتھ ضم نہیں ہو سکتے.

    ہماری قوم کی یاداشت کمزور ہے یا ہماری جمہوریت کے پیچھے متحرک قوتیں ملک کے وسیع تر مفادات میں قوم کو ذہنی ہیجان سے گزارنے میں اور یاداشت کو مسخ کرنے میں ماہر ہیں.

    اور ہم بھی ایسی قوم ہیں کہ یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں کہ

    چلو اچھا ہوا ہم بھول گئے

    ہماری قوم جابجا یہ بھی کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے.

    ہم نے بہت قربانیاں دیں ہیں .

    مگر ساتھ ہی یہ بھی کیا کہ ان ہی دہشت گردوں کی عام معافی کے اعلانات کیے جائیں؟ کس سے پوچھ کر ؟

    کیا اس ماں سے پوچھا گیا جسکا نازوں سے پالا نوخیز جوان ذبح کر کے اس کے سر سے فُٹ بال کھیلا گیا؟

    اس بہن سے پوچھا جسکا اکلوتا بھائی سہرا سجانے اے چند دن پہلے وردی میں ہی دفنانا پڑ جائے؟

    اس قوم سے پوچھا جس نے دہشت گردی کے لیبل کے ساتھ گلی گلی اور ملکوں ملکوں رسوائی برداشت کی پابندیاں برداشت کیں؟

    ملک کا ایسا کونسا مفاد ہے کہ اے پی ایس کے شہداء کے قاتل ہنس ہنس کر آپ کے ٹی وی چینل پہ بیٹھے ہوں اور شہیدوں کی مائیں اپنے بچوں کے ہنستے قاتل کو دیکھ کر خون رو رہی ہوں.

    کل نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ سے عین پہلے دورہ ختم کر کے نکل جاتی ہے. قوم تڑپ اٹھتی ہے کہ 18 سال بعد کرکٹ کے رنگ وطن لوٹے ہی تھے کہ سب ایکا ایکی ختم ہو گیا.

    تمام تبصرے قابلِ بحث نہیں ..کچھ آستین کے سانپ زہر اگلتے رہے اور کچھ نمک حلال اپنے نہ ہو کر بھی ہمت بنے رہے.

    مدعے کے بات یہ تھی کہ دورے کی منسوخی میں کہیں نہ کہیں طالبان کی حمایت وجہ بن رہی تھی اور سر دھنیے افغان طالبان نہیں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی حمایت اور وہ بھی عام معافی جیسی بات وہ بھی ان درندوں کے لیے جن کے سر پہ ستر ہزار پاکستانیوں کا بے گناہ خون ہو.

    دشمن وار جانے نہیں دیتا مگر ان کا کیا کریں جو دارالحکومت کے دامن میں دہشتگردی کی دکان سجائے بیٹھے ہیں.اور آج اسلام آباد کی پولیس کو لیکچر دیتا مہتمم کہتا ہے 

    "پاکستانی طالبان آئیں گے تمہارا حشر نشر کریں گے”

    ریاستی ادارے کو دہشتگردوں کی دھمکی پہ وزیرِ داخلہ خاموش وزیرِ دفاع ناپید ؟ 

    ہمارے وطن کے کرتا دھرتا یہ سمجھتے ہیں ناں کہ مقتولین کے حق میں بھی نغمات جاری کر لیں اور قاتلوں کو بھی معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کر لیں تو ان اے کہدیجیے…

    ظلم رہے اور امن بھی ہو 

    کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    اپنے ہونٹ سیے تم نے 

    میری زباں کو مت روکو 

    تم کو اگر توفیق نہیں 

    مجھکو ہی سچ کہنے دو 

    ظلم رہے اور امن بھی ہو…

    @hsbuddy18

  • لاوارث ضلع (چنیوٹ ) تحریر : مہر توقیر منظور گھگھ

     

    کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں پر ختم۔ہم ایسے بے حس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں رہنماؤں کی بے حیائی اور بدعنوانیاں منظر عام پر آنے کے بعد بھی انہیں معتبر سمجھتے ہیں کیا ہم بھی اس جرم کے طرف دار ہیں ۔

    لاوارث ضلع چنیوٹ پہلے ضلع جھنگ کا حصہ تھا تقریبا 2008 میں اسے علیحدہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا ۔ضلع چنیوٹ 2020 تک تو صرف فرنیچر کی وجہ سے مشہور تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ ضلع چنیوٹ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور افسران بالا کی لاپرواہی کی وجہ سے اجتماعی زیادتی اور درندگی میں پہلے نمبر پر آنے والے ضلع کے طور پر جانا جائے گا ۔بچے تو بچے ٹھہرے یہاں تو اب نوجوان اور بوڑھے بھی غیر محفوظ ہیں ۔کچھ دن پہلے بھوانہ کا واقعہ سن کر اوسان خطا ہو گئے جہاں پر ننھی کلی اقصیٰ کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا ۔قتل کے بعد جب نعش ملی تو ایس ایچ او بھوانہ اور ڈی ایس پی بھوانہ موقع پر پہنچ گئے ۔اپنے انداز میں حسب ضابطہ کارروائی میں مصروف ہوگئے ۔ٹیسٹ کروائے گئے سیمپلز لیے گئے۔اور ادھر کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں خبریں نشر ہونے لگی ۔ہمارے معزز وزیراعلی صاحب نے نوٹس بھی لیا ۔اے آر وائی کے مشہور پروگرام criminal most wanted کی ٹیموں نے آکر پروگرام بھی کیے ۔لیکن آخر کیا ہوا ؟؟ چند دن گزرنے کے بعد تھانہ چناب نگر کی حدود میں حاملہ عورت سے زیادتی کی گئی مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان سے ساز باز رہیں اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی ۔

    اب بات کرتے ہیں لاوارث ضلع کے لاوارث تھانہ کانڈیوال کی ۔تھانہ کانڈیوال کی حدود موضع کلور شریف جو کہ صرف نام کی شرافت تک محدود رہ چکا ہے جنسی درندگی میں نمبر ون بن گیا ۔12 سالہ بچے سے زیادتی کی گئی ۔ملزمان اور پولیس آپس میں بھائی چارہ نبھانے لگے اور مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے مدعیان نے مجبورا صلح کرلی۔بعد میں زیادتی کی پوری ویڈیو وائرل کردی گئی ۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزمان سے بڑھ کر تو پولیس ملزم ہے لیکن کون پوچھے گا۔۔دو دن بعد کلور شریف میں عورت سے زیادتی کا واقعہ جس کا ڈراپ سین بھی کچھ اسی طرح ہوا کہ مدعی کو انصاف نہ ملنے پر مجبورأ صلح کرنی پڑی۔اس کہانی کا اختتام ابھی نہیں ہوا تھا کہ موضع کلور شریف کے تین اوباش لڑکوں نے مل کر ایک اور حوا کی بیٹی کی زندگی برباد کر دی ۔اس مقدمہ نے تو افسران کی فرض شناسی اور کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا دیا جہاں پر زیادتی ایک بھائ نے کی اور پولیس نے اپنی جیب گرم کرکے ایف آئی آر میں دوسرے بھائی کا نام لکھ کر پورے مقدمے پر پانی پھیر دیا ۔جبکہ لڑکی کے گھر والے ابھی تک انصاف کی فراہمی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

    اب تو چنیوٹ ٹرینی ضلع کے نام سے مشہور ہو چکا ہے جہاں پر افسران اور ملازمین کو ٹریننگ کے لئے ایس ایچ او لگا دیا جاتا ہے ۔تو کہیں ہیڈ کانسٹیبل کو سی ائی اے سٹاپ کا انچارج لگا دیا جاتا ہے۔اور پھر بعد میں ان کی شراب نوشی کی ویڈیوز پر انہیں معطل کر دیا جاتا ہے۔یہاں پر سی آئی اے سٹاف بھوانہ کے انچارج کی شراب نوشی کی وائرل ویڈیو پر اسے معطل کیا گیا حالانکہ اسے نوکری سے فارغ کر دینا چاہیے تھا ۔

    آج صبح کا سورج ایک اور ظلم اور بربریت کی داستان لے کر ابھرا ۔ایسی داستان جو سننے پر انسانی روح کانپ اٹھی . جسم لرزا گیا ۔جو واقعہ سن کر انسانیت بھی شرما گئی ۔لاوارث ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ کے علاقہ محمد شاہ میں اقبال باٹا نامی شخص نے پچاس 50 سالہ ذہنی معذور محمد عارف کو دو ساتھیوں سے ملکر جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا اور ویڈیو بنا کر وائرل کردی عارف کے بھائی کی مدعیت میں درخواست دائر کر دی گئی ۔بھوانہ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے مگر کوئی ان صاحبان سے پوچھنے والا ہی نہیں کہ ٹیم کس لیے تشکیل دی آپ نے کوئی لادی گینگ یا چھوٹو گینگ پکڑنا ہے۔

    اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کتاب بھر جائیں مگر لاوارث ضلع کی داستان ختم نہ ہوں ۔ڈی پی او چنیوٹ آر پی او فیصل آباد اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی جاتی ہے کہ خدارا کچھ نظر کرم اس لاوارث ضلع پر بھی ڈال دیں ۔تحریر : مہر توقیر منظور گھگھ 

    لاوارث ضلع (چنیوٹ)

    کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں پر ختم۔ہم ایسے بے حس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں رہنماؤں کی بے حیائی اور بدعنوانیاں منظر عام پر آنے کے بعد بھی انہیں معتبر سمجھتے ہیں کیا ہم بھی اس جرم کے طرف دار ہیں ۔

    لاوارث ضلع چنیوٹ پہلے ضلع جھنگ کا حصہ تھا تقریبا 2008 میں اسے علیحدہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا ۔ضلع چنیوٹ 2020 تک تو صرف فرنیچر کی وجہ سے مشہور تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ ضلع چنیوٹ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور افسران بالا کی لاپرواہی کی وجہ سے اجتماعی زیادتی اور درندگی میں پہلے نمبر پر آنے والے ضلع کے طور پر جانا جائے گا ۔بچے تو بچے ٹھہرے یہاں تو اب نوجوان اور بوڑھے بھی غیر محفوظ ہیں ۔کچھ دن پہلے بھوانہ کا واقعہ سن کر اوسان خطا ہو گئے جہاں پر ننھی کلی اقصیٰ کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا ۔قتل کے بعد جب نعش ملی تو ایس ایچ او بھوانہ اور ڈی ایس پی بھوانہ موقع پر پہنچ گئے ۔اپنے انداز میں حسب ضابطہ کارروائی میں مصروف ہوگئے ۔ٹیسٹ کروائے گئے سیمپلز لیے گئے۔اور ادھر کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں خبریں نشر ہونے لگی ۔ہمارے معزز وزیراعلی صاحب نے نوٹس بھی لیا ۔اے آر وائی کے مشہور پروگرام criminal most wanted کی ٹیموں نے آکر پروگرام بھی کیے ۔لیکن آخر کیا ہوا ؟؟ چند دن گزرنے کے بعد تھانہ چناب نگر کی حدود میں حاملہ عورت سے زیادتی کی گئی مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان سے ساز باز رہیں اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی ۔

    اب بات کرتے ہیں لاوارث ضلع کے لاوارث تھانہ کانڈیوال کی ۔تھانہ کانڈیوال کی حدود موضع کلور شریف جو کہ صرف نام کی شرافت تک محدود رہ چکا ہے جنسی درندگی میں نمبر ون بن گیا ۔12 سالہ بچے سے زیادتی کی گئی ۔ملزمان اور پولیس آپس میں بھائی چارہ نبھانے لگے اور مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے مدعیان نے مجبورا صلح کرلی۔بعد میں زیادتی کی پوری ویڈیو وائرل کردی گئی ۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزمان سے بڑھ کر تو پولیس ملزم ہے لیکن کون پوچھے گا۔۔دو دن بعد کلور شریف میں عورت سے زیادتی کا واقعہ جس کا ڈراپ سین بھی کچھ اسی طرح ہوا کہ مدعی کو انصاف نہ ملنے پر مجبورأ صلح کرنی پڑی۔اس کہانی کا اختتام ابھی نہیں ہوا تھا کہ موضع کلور شریف کے تین اوباش لڑکوں نے مل کر ایک اور حوا کی بیٹی کی زندگی برباد کر دی ۔اس مقدمہ نے تو افسران کی فرض شناسی اور کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا دیا جہاں پر زیادتی ایک بھائ نے کی اور پولیس نے اپنی جیب گرم کرکے ایف آئی آر میں دوسرے بھائی کا نام لکھ کر پورے مقدمے پر پانی پھیر دیا ۔جبکہ لڑکی کے گھر والے ابھی تک انصاف کی فراہمی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

    اب تو چنیوٹ ٹرینی ضلع کے نام سے مشہور ہو چکا ہے جہاں پر افسران اور ملازمین کو ٹریننگ کے لئے ایس ایچ او لگا دیا جاتا ہے ۔تو کہیں ہیڈ کانسٹیبل کو سی ائی اے سٹاپ کا انچارج لگا دیا جاتا ہے۔اور پھر بعد میں ان کی شراب نوشی کی ویڈیوز پر انہیں معطل کر دیا جاتا ہے۔یہاں پر سی آئی اے سٹاف بھوانہ کے انچارج کی شراب نوشی کی وائرل ویڈیو پر اسے معطل کیا گیا حالانکہ اسے نوکری سے فارغ کر دینا چاہیے تھا ۔

    آج صبح کا سورج ایک اور ظلم اور بربریت کی داستان لے کر ابھرا ۔ایسی داستان جو سننے پر انسانی روح کانپ اٹھی . جسم لرزا گیا ۔جو واقعہ سن کر انسانیت بھی شرما گئی ۔لاوارث ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ کے علاقہ محمد شاہ میں اقبال باٹا نامی شخص نے پچاس 50 سالہ ذہنی معذور محمد عارف کو دو ساتھیوں سے ملکر جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا اور ویڈیو بنا کر وائرل کردی عارف کے بھائی کی مدعیت میں درخواست دائر کر دی گئی ۔بھوانہ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے مگر کوئی ان صاحبان سے پوچھنے والا ہی نہیں کہ ٹیم کس لیے تشکیل دی آپ نے کوئی لادی گینگ یا چھوٹو گینگ پکڑنا ہے۔

    اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کتاب بھر جائیں مگر لاوارث ضلع کی داستان ختم نہ ہوں ۔ڈی پی او چنیوٹ آر پی او فیصل آباد اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی جاتی ہے کہ خدارا کچھ نظر کرم اس لاوارث ضلع پر بھی ڈال دیں

  • کی اس نے میرے قتل کے بعد جفا سے توبہ تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم حالات کی تلخیاں اس تحریر کا پیش خیمہ ہیں.ایک خبر نظر سے گزری کہ "ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری دستخط شدہ درخواست سماعت کے لیے مقرر”. ظلم نہیں کہ ایک شخص جسے قوم نے جیتے جی ستایا ہو.اس کی ہر کوشش کے صلے میں اس پہ ایک مقدمہ کیا گیا ہو.

    حقائق میری تحریر سے متضاد ہو سکتے ہیں ممکن ہے کہ وقت کا تقاضا ہو کہ مقدمات قائم ہوئے.

    مگر یہ موت کے بعد مقدمات کی سماعت ہونا کب تک جاری رہے گا.

    مشہور انگریزی مقولہ ہے.

    Justice delayed is Justice denied.

    موت کے بعد عدالت سے بریت کا فیصلہ آتا ہے.

    پھانسی کے بعد بے گناہی ثابت ہو جاتی ہے.

    مجرم طبی بنیادوں پہ چند ہفتے کی کی ضمانت پہ دو سال نکال کر عدالت کے فیصلے کے پرخچے اڑاتا نظر آتا ہے .دوسری طرف اسی مجرم کی سزا یافتہ بیٹی کو اس مجرم کی عیادت کے لیے ضمانت ملی ہوئی ہے جو ملک میں موجود نہیں.عام آدمی مجرم ہو تو معاشرے میں کھڑا نہیں ہو سکتا مگر مجرم دولت مند ہو تو جلسے جلوس بھی کرتا ہے.کیا توہینِ عدالت نہیں ہے. 

    کیوں عدالتی فیصلے زیرِ التوا رہتے ہیں.

    کیوں فوری انصاف نہیں ملتا؟ موت کے بعد بریت کا فیصلہ کب تک ہماری روحیں جھنجوڑتا رہے گا؟ 

    یہ سوال توہین نہیں ہیں.میرا  اس اسلامی جمہوریہ کہ شہری ہونے کے ناطے حق ہے سوال کروں کہ کب تک اسی طرح غیروں سے لیا گیا نظامِ عدل ہمارے ملک میں لاقانونیت کا محرک رہے گا.رشوت سفارش دھونس دھاندلی والے مطمئن ہیں بے چین ہے تو شریف آدمی اور اسکی شرافت اسے کورٹ کچہری نہیں جانے دیتی.

    طاقتور مجرم بچتے ہیں تو قانون کی کمزوری نہیں سزا کے عمل کی کمزوری ہے.کسی بھی مضبوط معاشرے کا مطالعہ کریں بنیادوں میں مضبوط نظام عدل ہوگا.

    کسی بھی خوشحال معاشرے کی خوشحالی عدل کے بغیر ممکن نہیں.

    جہاں نظم و ضبط دیکھا جانچ کے بعد معلوم ہوا اس وطن کے شہری قانون توڑنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے کہ سزائیں سخت اور فوری ملتی ہیں.

    ہم نے ویکسین جرمانے اور باقی ماندہ تھریٹس کے پیشِ نظر لگوائی کہ فوری برطرف کیا جا رہا تھا.

    ہم کب تک دوسرے معاشروں کی مثالیں دیتے رہیں گے؟ 

    جب تک فوری اور سستا انصاف نہیں ملتا.

    جب  ہم جیتے جی تمغے دینے لگے. زندہ کو بری کرنے لگے ہم بھی کامیاب قوم بن جائیں گے.

    اب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مقدمے کا فیصلہ ہوگا.

    ان کو معزز ٹھہرایا جائے گا.قوم نے قصیدے پڑھنے شروع کر دیے.

    مگر ڈاکٹر صاحب جنتوں کے مکین ہو جانے کے بعد اس شعر کے مصداق مسکراتے ہوئے اپنی قوم کو دیکھ رہے ہوں گے

    کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا 

    Twitter:@Hsbuddy18

  • وقت کے بارے میں اسلاف کی احتیاط ! تحریر تعریف اللہ عفی عنه

    ❤بسم اللہ الرحمن الرحیم❤

    "علمائے سلف اپنے وقت کے بارے میںبڑے محتاط تھے ،وقت کے ضائع ہونے کا انہیں ہر وقت کھٹکا لگا رہتا کسی بزرگ سے چند لوگ ملاقات کیلئے گئے ،ملاقات کے آخر میں انہوں نے ان بزرگ سے معذرت کے طور پر کہا”شاہد ہم نے آپ کو اصل کام سے ہٹا کر مشغول کردیا”وہ بزرگ فرمانے لگے "تم ٹھیک کہتے ہو،میں پڑھنے میمصروف تھا،آپ لوگوں کیوجہ سے میں نے پڑھنا چھوڑدیا۰”

    چند لوگ حضرت معروف کرخی رح کے پاس بیٹھے ،جب مجلس انہوں نے طویل کی اور کافی دیر تک نہیں اٹھے تو حضرت معروف کرخی رح ان سے فرمانے لگے:

    "نظام شمسی چلانے والا فرشتہ تھکا نہیں (اس کی گردش جاری اور وقت گزر رہا ہے)آپ لوگوں کے اٹھنے کا کب ارادہ ہے؟

    داؤد طائی روٹی کے بجائے چورہ استعمال کرتے تھے،فرماتے تھے،دونوں کے استعمال میں کاکافی تفاوت ہے روٹی کھاتے چباتے کافی وقت لگ جاتا ہے جب کہ چورے کے استعمال سے نسبتا اتنا وقت بچ نکل آتا ہے کہ اس میں پچاس آیات تلاوت کی جاسکتی ہیں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰عثمان باقلانی ہمیشہ ذکر میں مصروف رہتے تھے،فرماتے تھے :”چونکہ کھاتے وقت ذکر نہیں ہوسکتا اس لئے جب میں کھانے میں مشغول ہوجاتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری روح نکل رہی ہو "حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:”جو شخص ایک مرتبہ "سبحان اللہ وبحمدہ”کہے گا،اس کے عوض اس شخص کیلئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جائے گا”

    ذرہ اندازہ کیجئے ! زندگی کی کتنی قیمتی گھڑیاں ایسی ہیں جو انسان ضائع کردیتا ہے اورءاتنے عظیم اجر وثواب سے محروم رہتا ہے ۰ دنیا کے یہ ایام اخرت کیلئے کھیتی کا درجہ رکھتے ہیں ،کون ہے ایسا جس میں  عقل ہو کہ اپنی کشت میں بیج نہ بوئے یا کاہلی وسستی سے کام لے۰اس لئے ضرورت ہی کے تحت لوگوں سے ملا جائے ،عام حالات میں صرف علیک سلیک  پر اکتفا کیا جائے،زیادہ میل جولترک کرکے خلوت اور کنج تنہائی وقت کو ضیاع سے بچانے میں بہت ممد ہے ،اس طرح کھانے کی مقدار میں کمی بھی وقت بچانے میں معاون بن سکتی ہے کیونکہ بسیار خوری بسیار خوابی کا سبب ہے،ہمارے اسلاف کی زندگیوں میں یہ چیز بڑی نمایاں نظر آتی ہے۰”

    "علمائے سلف بہتعالی ہمت تھے ،ان کی عالی ہمت کا اندازہ آپ ان کی ان تصانیف سے کرسکتے ہیں جو ان کی زندگیوں کا نچوڑ ہیں،علم میں کمال چاہنے والے طالب علم چاہیے کہ اسلاف کی کتابوں سے واقفیت حاصل کرے تاکہ ان کی عالی ہمتی دیکھ کر اس کا دل زندہ اور اس کے محنت کرنے کا عزم متحرک ہو ،نیز کتاب کسی بھی فن کی ہو فائدہ سے تو بہر حال خالی نہیں ہوتی (اس لئے اسلاف کی ہر قسم کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چایے)”

    صاحب وعیون الانباء نے امام رازی رح کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ وہ فرماتے تھے:

    "خدا کی قسم!کھانا کھاتے وقت علمی مشغلہ ترک کرنے کیوجہ سےمجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ وقت اور زمانہ بڑا ہی عزیز سرمایہ ہے۰”

    "منتقی الاحبار”کے مصنف مجدالدین ابن تیمیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ ابن رجب نے "ذیل طبقات حنابلہ”(جلد ۲،صفحہ ۲۴۹)میں ان کے متعلق لکھا ہے:

    "وہ عمر عزیز کا کوئی لمحہ ضائع ہونے نہیں دیتے تھے،زندگی کی ایک گھڑی کو کسی مفید مصرف میں لگانے کا اس قدر اہتمام تھا کہ کھبی تقاضہ اور ضرورت سے جاتے تو اپنے کسی شاگرد سے کہتے تم کتاب بلند آواز سے پٹھو تاکہ میں بھی سن سکوں اور وقت ضائع نہ ہو۰”

    بات بڑی عجیب ہے لیکن عجب چیز ہے احساس زندگانی کا !

    اٹھویں صدی کے مشہور شافعی عالم اور فقیہ شمس الدین اصبہانی کا تذکرہ کرتے ہوئے حافظ ابن حجر نے "درر کا منہ”(جلد ۶ صفحہ ۸۵)میں،اور علامہ شوکانی نے "البدر الطالع”(جلد ۲ صفحہ ۲۸۹) میں ان کے متعلق لکھا ہے  کہ "وہ کھانا اس ڈر کی وجہ سے کم کھاتے تھے کہ زیادہ کھانے تقاضہ کی ضرورت بڑھے گی اور خلا جاکر وقت ضائع ہوگا”

    حافظ ابن عساکر نے "تبیین کذب المفتری”(صفحہ ۲۶۳) میں پانچویں صدی کے مشہور عالم سلیم رازی کے بارے میں لکھا ہے کہ "لکھتے لکھتے جب ان کا قلم گھس جاتا تو قلم کا قط لگاتے ہوئے ذکر شروع کردیتے تاکہ یہ وقت صرف قط ہی لگانے میں ضائع نہ ہو”

    علم عروض کے موجد اور علم نحو کے مشہور امام خلیل بن احمد فرماتے تھے "یعنی وہ ساعتیں اجھ پر بڑی گراں گزرتی ہیں جن میں،میں کھانا کھاتا ہوں۰”

    (متاع وقت اور کاروان علم ،مصنفہ ابن الحسن عباسی رح)

    @Tareef1234

  • بلوچستان کی زرعی مارکیٹنگ میں پیچیدگیاں  تحریر: حمیداللہ شاہین 

    بلوچستان کی زرعی مارکیٹنگ میں پیچیدگیاں تحریر: حمیداللہ شاہین 

    دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ خوراک کی دستیابی، حفاظت اور مارکیٹنگ کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔  زرعی مارکیٹنگ وہ لائف لائن ہے جس میں زرعی پیداوار کے لیے نئی منڈیوں کی دستیابی، حفاظت اور ترقی شامل ہے۔  اس حقیقت کے باوجود کہ زراعت پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن پھر بھی مقامی منڈیوں سے قربت کے حوالے سے کاشتکاری کو بحرانوں کا سامنا ہے۔  زرعی مارکیٹنگ سے متعلق مختلف مخمصے ہیں جن پر مختصراً اس مضمون میں بحث کی جائے گی۔

     پاکستان خصوصاً بلوچستان کے کاشتکار برادری کے لیے بہت زیادہ مشکلات ہیں۔  ہم اسی مضمون میں کچھ مسائل کو جاننے کی کوشش کریں گے۔

     تمام مسائل میں سب سے اہم مسئلہ پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی عدم توجہی ہے۔  نئی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں کی ترقی سے متعلق مسائل کو ترتیب دینے والے ریاستی محکمے اپنے نقطہ نظر میں سست اور غیر سنجیدہ ہیں۔  بلوچستان کے لوگوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ زراعت ہے۔  یہ صوبہ نہ صرف دیگر ممالک بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے بھی زندگی کے حوالے سے بہت پسماندہ نظر آتا ہے۔  خضدار کے علاقے نال کے رہنے والے غریب کسان اللہ بخش لانگو کی ایک دکھ بھری کہانی سناتا ہوں۔  وہ پانچ ایکڑ زمین کا مالک ہے۔  پیاز کے کاشتکار ہونے کے ناطے اس کے پاس اپنی پیداوار بیچنے کے لیے کوئی قریبی بازار نہیں ہے۔  گزشتہ جون میں کوئی قریبی مارکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔  وہ اپنی پیداوار بیچنے کے لیے کراچی اور فیصل آباد آیا، جہاں اس نے اپنی پیداوار کو متعلقہ علاقوں کے دلالوں کے رحم و کرم پر ٹھکانے لگایا۔  یہی کہانی بلوچستان کے ہزاروں کسانوں کی بھی ہے، جو آخرکار اپنی بقا کی امید کھو رہے ہیں۔  ایک دن یہ صورت حال مزید خراب ہو جائے گی اور پہلے ہی باغیوں کی زد میں آنے والی زمین کو لاقانونیت کی ایک اور لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

     ایک اور بڑا گڑبڑ متعلقہ اداروں کی مالی مدد کی کمی ہے۔  کسانوں کی برادری کریڈٹ یا قرضوں، فصلوں کی بیمہ، اور کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر سبسڈی سے محروم ہے، جس سے ان کی پیداوار کی لاگت زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔  ان کی حتمی مصنوعات میں اضافے کی وجہ سے کسانوں کو خاطر خواہ منافع نہیں مل سکتا۔  اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مقامی طور پر مہنگی پیداوار بین الاقوامی سطح پر سستی فصلوں کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے؟  یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں سے مقابلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔  مائیکرو لون کے ذریعے صحیح کھادوں اور کیڑے مار ادویات کی صحیح وقت پر دستیابی آسانی سے کی جا سکتی ہے، جس سے فصل کی خالص پیداوار بڑھ جاتی ہے۔

     پیکجنگ اور گریڈنگ کے لیے پوسٹ ہارویسٹ بین الاقوامی معیارات کے بارے میں علم کی کمی  اشیاء کی پیکیجنگ اور درجہ بندی کھانے کے معیار پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔  پیداوار کا معیار مارکیٹ کی پائیداری کو یقینی بناتا ہے۔  ذخیرہ کرنے کے مراکز کی عدم موجودگی اور اشیاء کی کم شیلف لائف بھی تشویش کا باعث ہے۔  ذخیرہ کرنے کے مراکز کسانوں کو اپنی اجناس کو طویل عرصے تک ذخیرہ کرنے کی اجازت دیں گے اور جب مارکیٹ کی قیمتیں نسبتاً زیادہ ہوں گی تو وہ اپنی پیداوار فروخت کریں گے۔

     پراسیسڈ فوڈ کے پاکستانی برانڈز کو اپنی بین الاقوامی منڈیوں میں ترقی کرنی چاہیے۔  کیونکہ اب ہمارے برانڈز کی بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی زیادہ نمائش نہیں ہے۔  ایک بار جب ہمارے پراسیس شدہ کھانے کو بین الاقوامی سطح پر نمائش مل جائے گی، تب ہمارے کسانوں کو ان کی پیداوار کی بہترین قیمتیں ملیں گی۔  یہ کچھ مسائل تھے جن کا سامنا ہماری کاشتکاری کو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں کرنا پڑ رہا ہے۔  اب ان پیچیدگیوں کا حل کیا ہونا چاہیے؟  ہم نے کچھ حل تجویز کیے ہیں۔

     حکومت سپلائی چین سے مڈل مین کے کردار کو نکالے۔  اس کی تعمیل میں ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی مثال لی جا سکتی ہے۔  ہندوستانی حکومت نے ہر قصبے میں خریداری مرکز تیار کیا ہے، جہاں ایک سے زیادہ گاؤں کے کسان اپنی پیداوار براہ راست حکومت کو فروخت کر سکتے ہیں۔  حکومتی ریگولیٹری اتھارٹی ہر اجناس کی قیمتیں طے کرتی ہے اور اس مرکز کا فرض ہے کہ وہ کسان کی ہر پیداوار کو تجویز کردہ نرخوں پر خریدے۔  اس پہل سے ہندوستان کی کاشتکاری برادری دن بہ دن مالی طور پر مضبوط ہوتی جارہی ہے۔

     عالمی سطح پر نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔  تاکہ پاکستان میں مزید تجارت ہو سکے اور اس سرگرمی سے پورے ملک کی معیشت مضبوط ہو گی۔  بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اچھا انفراسٹرکچر اور مقامی منڈیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔  تاکہ خوشحالی بلوچستان کے کسانوں کا مقدر بن جائے۔  صوبے میں نقل و حمل یا گاڑیوں کی قیمتیں علاقے سے متعلق حکام کے ذریعہ طے کی جائیں۔  تاکہ کسانوں کو دوسرے صوبوں کے کسانوں کے برابر مراعات مل سکیں۔

     ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے صوبے کی موجودہ حکومت کے دفاتر میں گھنٹیاں بجیں گی، تاکہ وہ بلوچستان کے کاشتکاری کے ہنگامی حالات کے مذکورہ بالا مسائل کو حل کرنے کے لیے کچھ سنجیدہ اقدامات کر سکیں۔

    @iHUSB

  • میری زندگی تحریر سعد اکرم

     

    ایک نمایاں مذہبی تحریک دنیا میں ہمیں نظر آتی ہے جس نے بڑے بڑے عبقری علماء پیدا کیئے یہ پچھلے دو سو سال میں سب سے بڑی مذہبی تحریک بن کر ابھری اور اپنے اثرات کے لحاظ سے بھی یہ بہت بڑی تحریک تھی  برصغیر میں انگریزوں کی حکومت قائم ہو گئ تھی اس سے پہلے یہاں کم وبیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کا اقتدار قائم رہا ہے اس اقتدار میں بھی مسلمانوں کے مدارس قائم ہوئے بڑے بڑے علماء بھی پیدا ہوئے ان کے ذریعے سے تصنیف و تالیف کی سرگرمیاں بھی ہوتی رہیں ۔ انگریز آ گئے تو انھوں نے آ کے نئے نظام تعلیم نظام معاشرت اور نئے نظام سیاست کی بنا ڈالنا شروع کی تو اس وقت مسلمانوں میں تہذیبی لحاظ سے بھی اور مذہبی لحاظ سے بھی ردعمل آیا جس میں فتاوی دئے گئے اور ہندوستان کی حیثیت متعین کرنے کی کوشش کی گئ  بتایا گے یہ دارالسلام ہے یہ دارالحرب ہے اور اب اس کی نوعیت کیا ہو گئ ہے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس مسئلے کا حل سوچا کے ہم نے اگر اپنی تہذیب کو اپنے مذہب کو قائم رکھنا ہے تو اس کا راستہ یہی ہے کے ہم دین کی تعلیم کا اہتمام اعلی درجے پہ کریں ۔مسائل ختم ہو گئے تھے پرانے مسلمانوں کے اوقاف اس طرح نہیں رہے تھے انگریزوں کے آنے سے پہلے جو بادشاہوں کی طرف سے نوازشیں ہوتی رہتی تھیں وہ بھی ختم ہو گئیں تو عام مسلمانوں سے اپیل کی گئ کے وہ بندوبست کریں ۔یہاں سے جو علماء آگے آئے ان میں مولانا محمود الحسن مولانا قاسم نانوتوی مولانا اسماعیل میرٹھی مولانا رشید احمد گنگوہی یعنی بڑے غیر معمولی لوگ اپنے علم کے لحاظ سے سیرت کے لحاظ سے کردار کے لحاظ سے ۔ابھی یہاں علم زیر بحث آیا تو اس کی دو  بڑی روایات ہیں ایک وہ جس کو سلفی روایت کہتے ہیں جس کے بڑے لوگوں میں ابن تیمیہ اور ابن قیم کا نام لیا جاتا ہے اور ایک وہ روایت ہے جو فلسفہ اور تصوف کے زیر اثر پیدا ہوئ اور اس میں سرخیل کی حیثیت تو امام غزالی کو حاصل ہے ان کے بعد شیخ اکبر محی الدین عربی بھی ایک بڑا نام ہے اور بھی بہت لوگ اس میں پیدا ہوئے برصغیر میں اگر کسی کو امام الہند کی حیثیت حاصل ہے تو وہ شاہ ولی اللہ ہیں  تو شاہ صاحب کے گھرانے نے جو علمی کام کیا اس سے فکری علمی پس منظر پیدا ہوا  اس کو بھی ساتھ شامل کر لیں غزالی سے لے کر جو صوفیانہ مزاج اور ہمارا جو قدیم علم ہے اس کے پاسبانوں کی حیثیت سے ان لوگوں نے اس مدرسے کی بنیاد رکھی ۔یعنی ایک ایسے مدرسے کی بنیاد رکھی دی جائے جس میں اس تعبیر کے بڑے علماء پیدا ہوں پیش نظر تو بڑے علماء پیدا کرنا ہی تھا کیونکہ اس میں ہر درجے کے لوگ آتے ہیں اور اپنی اپنی حیثیت کے لحاظ سے سیکھتے ہیں  اور اس میں کوئی شک نہیں کے دارالعلوم دیوبند نے بہت بڑے بڑے علماء پیدا کیئے ہیں ۔مولانا حسین احمد مدنی مولانا اشرف علی تھانوی مولانا انور شاہ کشمیری مولانا بدر عالم میرٹھی ہوں یہ چند نام ہیں جو معمولی درجے کے لوگ نہیں ہیں بلکہ برصغیر کے سب سے بڑے علماء میں سے ہیں ۔اس کے ساتھ دوسری چیز وہ تھی کے لوگوں کے اندر تقوی اور اخلاص پیدا کرنے کے وہ طریقے  آزمائے جائیں جو صوفیانہ روایت سے ملیں یعنی خانقاہ کا اور مدرسے کا ایک امتزاج بنانے کی انھوں نے کوشش کی ۔ایک طرف تو دینی علوم فقہ کی تعلیم دے رہے تھے تو دوسری طرف حاجی امداداللہ مہاجر مکی جیسے بزرگوں سے طریقت کے اصول بھی سیکھ رہے تھے اور خود مدرسے کی بنیاد جن لوگوں نے رکھی وہ اپنے پس منظر کے لحاظ سے مجاہدین تھے ان کے اسلاف نے جو پہلا کام کیا تھا کے انگریزوں کی حکومت کو یہاں سے نکالا جائے اور اس میں جہاد بھی ہوا بلکہ سید احمد شہید کی تحریک بھی وہی ہے 

    اس وجہ سے وہ اپنی ذات میں اپنی شخصیت میں اپنے طرز عمل میں ہندوستان کے اندر ایک سیاسی تحریک کے بھی بانی تھے علماء کے اندر بلکہ کہا جا سکتا ہے کے گاندھی اور مسلم لیگ سے پرانی تحریک علماء ہی کی تھی ۔اور  یہ وہ ظہور ہوا جس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت تک بات پہنچا دی  ۔اور خانقاہی صورت تھی اس نے نئ ایک صورت اختیار کی اور تبلیغی جماعت بن گئ اب چلتے پھرتے یہاں تربیت پاتے ہیں لوگ ۔جو کسی زمانے میں خانقاہوں میں جاتے تھے ۔دارالعلوم دیوبند تو ماں بن گیا اس کے بطن  سے بہت ساری درسگاہیں وجود پذیر ہوئیں ۔ اس کے اثرات دنیا بھر میں پھیلے اس کے پڑھے ہوئے لوگوں نے دنیا بھر میں علم فنون میں غیر معمولی کام کیئے ۔اسی کے اندر سے جمعیت علماء ہند پیدا ہوئ ایک موقع پر مولانا داود غزنوی  جو اہلحدیث کے بڑے عالم تھے انھوں نے مولانا  ابوالکلام آزاد سے کہا کے ہماری  جمعیت علماء ہند میں تو دیوبند ہی دیوبند ہے تو ابوالکلام آزاد نے کہا دیوبند نے علماء پیدا کیئے ہیں تو وہی ہوں گے۔ایران سعودیہ کے بعد افغانستان وہ ملک ہے جہاں ایک مسلک ہی  کی حکومت قائم ہے یعنی آپ اسے دیوبندی سٹیٹ کہ سکتے ہیں ۔پاکستان میں بھی جمعیت علماء اسلام کا ٹھیک ٹھاک وجود ہے اور یہ بھی جمعیت علماء ہند سے بنی جو دارالعلوم دیوبند سے پیدا ہوئ

    @saadAkram_

  • کیا آپ کو نیند کی کمی سے ان مسائل کا سامنا ہے تحریر عبدالوحید

    کیا آپ کو نیند کی کمی سے ان مسائل کا سامنا ہے تحریر عبدالوحید

    صحت مند زندگی گزارنے کیلئے پرسکون نیند کا آنا لازمی ہے ۔ اس لیے انسان کو تروتازہ اور تندرست رہنے کے لیے روزانا سات سے آٹھ گھنٹے نیند کرنا ضروری ہے۔ نیند نہ آنا یا نیند کی کمی کا واقع ہونا ایک بیماری ہے جس کو انسومنیا کہاجاتا ہے ۔ اس دور میں سو میں سے 98٪ لوگوں کو نیند کی کمی کا سامنا ہے ۔ اس میں بڑی تعداد میں اب نوجوان طبقہ شامل ہوگیا ہے ۔ کیونکہ ٹیکنالوجی نے اب نیند کی جگہ لے لی ہے ۔ اب ہر ایک کے پاس جدید سے جدید قسم کا موبائل فون ہے ۔ اور اس میں مختلف قسم کی گیمز ڈون لوڈ ہیں اور نوجوان طبقہ دن رات اسی گیمز میں لگے رہتے ہیں ۔ اور ان گیمز کے کھیلنے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ نیند کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اور کچھ لوگ آنلائن کاروبار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ نیند پوری نہیں کر پاتے ۔ اور کچھ لوگ رات کو دیر دیر تک مختلف پارٹیوں میں شرکت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مقرر وقت پر سو نہیں پاتے اور نیند کی کمی کا شکار رہتے ہیں ۔ اگر آپ کو نیند کی کمی کا سامنا ہوگا تو دن بھر مزہ نہیں آئے گا ۔ آپ سستی کا شکار ہوں گے۔ اس دور میں تقریباً ہر ایک موبائل فون میں لگا ہوا ہے ناہی ورزش کر پاتے اور ناہی چلاک چست رہ سکتے ہیں ۔ 

    نیند کی کمی سے لاحق ہونے والی بیماریاں جس میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی واقع ہونا ، یاداشت کا کمزور ہونا ، مدافعتی نظام کا کمزور ہونا ، شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم میموری کا متاثر ہونا ، چڑچڑے پن کا شکار ہونا ، نیند کی کمی سے ذیابیطس کا شکار ہونا ، ہائی بلڈ پریشر کا بڑھنا ، مختلف دل کی بیماریوں کا شکار ہونا جن میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ لاحق ہونا ، نیند کی کمی سے وزن کا بڑھنا ، بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساسات کا ختم ہونا شامل ہیں ۔ 

    نیند کی کمی سے آپ چڑچڑے پن کا ہمیشہ شکار رہ سکتے ہیں۔ مکمل نیند نا کرنے کی وجہ سے آپ اسکول ، دفتر اور گھر میں سست رہیں گے۔ جو آپ کا موڈ خراب کرنے کی وجہ بن سکتا ہے ۔ جس کی وجہ سے آپ بے چینی ، ڈیپریشن جیسے مسائل سے دو چار رہ 

      سکتے ہیں اس لیے ایک کامیاب اور پرسکون زندگی گزارنے کیلئے نیند کی کمی کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ نیند کی کمی کو پورا نہیں کریں تو آپ کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ ایک واضع اور عیاں بات ہے اس چیز سے کسی کا انکار نہیں ہوسکتا ۔ اگر آپ یا آپ کے بچے نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے ان مسائل کا سامنا ہے تو آپ ان مسائل کے حل پر غور کریں۔ کہ کیا وجہ ہے جس سے ہمیں یہ مسائل درپیش ہیں۔ آپ ایک ٹائم ٹیبل بنائیں ہر چیز کا ایک مقررا وقت بنائیں اس وقت اس وقت تک میں نے کھیلنا ۔ اس وقت سے اس وقت میں گھر کے کام کرنے ہیں اس وقت سے اس وقت تک موبائل فون استعمال کرنا ہے ۔ جس دن آپ نے وقت کو وقت کے مطابق ڈھالا اس دن سے آپ محسوس کریں گے واقعی میں چینج ہوں کیونکہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے ۔ سورج کا بھی

     وقت مقرر ہے صبح طلوع ہوتا ہے اور شام کو غروب ہوتا ہے اسی طرح پانچ  نمازوں کا بھی  وقت 

     متعین ہے ۔ انسان کی بڑی غلطی یہی ہے وہ وقت کی پابندی نہیں کرتا ۔ اور بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں اس لیے وقت کی پابندی کریں ۔ اور نیند کی کمی کو پورا کریں ۔ نیند پوری ہوگی تو آپ ان مسائل سے بخوبی نکل آئیں گے۔

    عبدالوحید @Waheed_B

  • قسمت، محنت اور دعا تحریر: فضل عباس

    قسمت، محنت اور دعا تحریر: فضل عباس

    قسمت نام ہے تقدیر کا جس کے ذریعے اللّہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کرتا ہے قسمت مقدر کا دوسرا نام ہے مقدر میں خوشیاں بھی شامل ہوتی ہیں غم بھی آتے ہیں آزمائش بھی مقدر کا حصہ ہوتی انعام بھی قسمت کا حصہ ہوتا ہے لیکن کیا قسمت بدلی جا سکتی ہے؟ قسمت میں جو لکھ دیا جاۓ وہ بدلا جا سکتا ہے؟ جی بالکل اگر اللّہ چاہے تو قسمت بھی بدل سکتی ہے آج ہم اس پر بات کریں گے کہ انسان قسمت کیسے بدل سکتا ہے
    قسمت بدلنے کے دو طریقے ہیں ایک محنت دوسرا دعا
    محنت کرنے والے لوگ اللّہ تعالیٰ کو پسند ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو اللّہ تعالیٰ ان کی محنت کا اجر دیتا ہے اگر لوگ محنت کرتے رہیں تو ان کی قسمت میں آئیں مشکلات راہ سے ہٹ جاتی ہیں یہ ان کی محنت کا ثمر ہوتا ہے لیکن جہاں تک میرا خیال ہے کہ محنت سے آپ قسمت میں ایک حد تک تبدیلی لا سکتے ہیں آپ محنت کر کے چیزیں حاصل کر سکتے ہیں وہ چیزیں جو آپ کی قسمت میں نہیں تھی لیکن آپ نے محنت کی اور اللّہ تعالیٰ نے آپ کی محنت کا ثمر دیا اور وہ چیزیں آپ کو مل گئیں لیکن کیا محنت کرنے سے آپ کو وہ لوگ بھی مل سکتے ہیں جو آپ سے کھو گئے ہیں؟ جو آپ کو دکھ دے کر ایک طرف ہو گئے ہیں؟ کیا وہ لوگ آپ کے بھی ہو سکتے ہیں جو آپ کو نظر انداز کر کے آپ کے مخالف کی طرف کھڑے ہو گئے تھے؟ شاید نہیں
    اگر آپ اپنی قسمت میں لوگوں کو شامل نہیں کر سکتے تو محنت کا کیا فائدہ؟ یہ سوال یقیناً ہر ایک شخص کے ذہن میں آتا ہے اس کا جواب اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ ہر چیز کی مختص طاقت ہوتی ہے محنت کی اتنی ہی طاقت ہوتی ہے کہ یہ آپ کو چیزیں دلا سکتی ہیں لوگ نہیں اگر آپ لوگ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس سے ایک قدم آگے بڑھنا ہو گا اس منزل پر پہنچ کر آپ وہ حاصل کر سکتے ہیں جو آپ کی قسمت میں بھی نہیں ہے جی یہ منزل ہے دعا!!!

    اب آتے ہیں دعا کیا ہوتی ہے اور دعا قسمت کیسے بدل سکتی ہے دعا ایک مقدس جذبہ ہے جو آپ کا تعلق اللّہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے اس تعلق میں وسیلہ نہایت اہم ہوتا ہے وسیلہ پاک ہستییاں ہوتی ہیں وہ ہستیاں جو اللّہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت والی ہوتی ہیں اس طرح دعا آپ کا تعلق پاک ہستیوں کے ذریعے اللّہ تعالیٰ سے جوڑتی ہے اور یہی تعلق انسان کے لیے بہت زیادہ طاقت والا ہوتا ہے

    دعا ایک طاقت ہوتی ہے وہ طاقت جو مایوسی کو امید اور امید کو یقین میں بدلنے کا فن جانتی ہے یہ طاقت مایوسی ختم کرنے کا ہنر جانتی ہے مایوسی کا ختم ہونا انسان کی سب سے بڑی جیت ہوتی ہے

    اب آتے ہیں اس بات پر کہ دعا انسان کی قسمت کو کیسے بدلتی ہے انسان جب خالق کائنات کے سامنے اپنی بات دعا کی صورت یقین کے ساتھ رکھ دیتا ہے تو خالق کائنات اس دعا کو قبول کرتا ہے چاہے انسان کی قسمت میں پہلے سے نہ لکھا ہو کیوں کہ ہوتا وہی ہے جو اللّہ چاہے قسمت بھی اللّہ تعالیٰ لکھتا ہے تو اللّہ تعالیٰ سے دعا کرو گے تو اللّہ تعالیٰ آپ کی قسمت بدل دے گا اللّہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے اللّہ تعالیٰ معاف کر دینے والا ہے اللّہ تعالیٰ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے تو دعا کی قبولیت میں شک بنتا ہی نہیں کیوں کہ جب ایک ماں اپنے بچے کی خواہش پوری کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرتی ہے تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا انسان کا خالق جس کی قدرت میں سب کچھ ہے وہ انسان کی دعا کو رد کر ہی نہیں سکتا

    اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی زندگی میں قسمت کا عمل دخل ہوتا ہے قسمت انسان کی زندگی میں ایک واضح مقام رکھتی ہے لیکن قسمت بدلی بھی جا سکتی ہے قسمت اتنی سخت نہیں ہوتی کہ بدلی نہ جا سکے قسمت بدلتے دیر نہیں لگتی بس آپ محنت جاری رکھو جو چیز محنت سے بھی نہ ملے اسے دعا میں مانگو چاہے وہ کچھ بھی ہو اگر آپ کے لیے وہ چیز، وہ لوگ اچھے ہوں گے تو اللّہ تعالیٰ آپ کو لازمی وہ دے گا اگر آپ کی دعا قبول نہیں ہوتی تو دوبارہ دعا کرو اللّہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کی دعا سنے گا اور جو آپ کے لیے بہتر ہو گا وہ آپ کی قسمت میں لکھ دے گا

  • شاہینو سر اٹھا کے جیو  تحریر غلام مرتضی

    شاہینو سر اٹھا کے جیو  تحریر غلام مرتضی


    9 /11 کے بعد  دنیا کرکٹ نے پاکستان میں  دہشت گردی کی آڑ میں چھپ کر  سیکورٹی کا بہانہ بنا کر پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر دیا ۔ یہ کرکٹ فین کے لئے کوئی حوصلہ افزا بات نہیں تھی ۔ لیکن اسی عرصہ میں پاکستانی کرکٹ اسٹارز دیار غیر  میں کھیل کر سبز ہلالی پرچم بلند کرتے رہے ۔ گزشتہ 21 سال سے پاکستان گراونڈ ویران پڑے ہیں ۔کرکٹ کے متوالے اپنے اسٹارز کو اپنے ہوم گروانڈ پر حوصلہ افزائی کرنے کےلئے ترس گئے ہیں  ۔میں سلام پیش کرتا ہوں اپنے کھیل کے سفیروں کو جنہوں نے  اس کا منہ توڑ جواب دینے کےلئے میدان میں ڈٹے رہے ۔کبھی مصباح الحق کی صورت میں کبھی یونس خان کبھی آفریدی کی شکل میں، پاکستانی ٹیم نے گزشتہ ان 21 سالوں  میں ہوم  گراونڈ  خشک ہونے کے  باوجود بڑے بڑے ایونٹ جیتے بھی ہیں اور بڑی بڑی ٹیمز کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر شکست بھی  دی ہے ۔ 2007 کے پہلے ایڈیشن کا فائنل کھیلا ۔پھر 2009 کے دوسرے  ایڈیشن میں یونس خان کی قیادت میں ۔ٹرافی فضا میں بلند کی ،وقت گزرتا گیا پاکستان نے اپنا سفر جاری رکھا ۔2017 میں انگلینڈ میں مایوس قوم کو توقعات کے برعکس پاکستان نے فائنل میں سرفراز کی قیادت میں بھارت کو شکست فاش دیکر بڑے بڑے کرکٹ کے پنڈتوں کو حیران کر دیا،  وہ چمپیئن ٹرافی کسی اکیلے کھلاڑی نے نہیں جیتی تھی بلکہ سب نے جیت میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔اس میں ایک نام حسن علی کا بھی تھا۔

    حسن علی کسی تعارف کے محتاج نہیں  گلی کوچوں میں کرکٹ کھیل کر دنیا کرکٹ کے افق پر نمودار ہوئے ۔2جولائی 1994 میں منڈی بہاؤالدین میں پیدا ہونے والے نوجوان  تیز گیند بازی سے بڑے بڑے بلے بازوں  کے پاوں اکھاڑ کر رکھ دئیے ۔حسن علی کا وکٹ لینے کے بعد جشن میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا اور تماشائیوں نے بھر پور داد دی ،انہیں مسٹر جنریٹر بھی کہا جاتا ہے ۔سیلیکٹر نے 2017کے چمپیئن ٹرافی کے اسکواڈ میں جگہ دی ۔حسن علی نے اس موقع کا  بھرپور فائدہ اٹھایا ۔اپنی سلیکشن کو 13 وکٹ لیکر ثابت کردیا پاکستان میں ٹیلنٹ کی  کوئی کمی نہیں ہے کمی ہے صرف بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی ۔حسن علی نے چمپیئن ٹرافی میں 5میچ کھیل کر  13 وکٹ لیئے ۔چمپیئن ٹرافی کا بہترین کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا ۔ یہ پاکستان کےلئے حسن علی کےلئے  اور پاکستانی قوم کےلئے ایک اعزاز بات ہے ۔وقت  ایک جیسا نہیں رہتا دوبئی میں آسٹریلیا کے ہاتھوں سیمی فائنل میں  شکست کے بعد کچھ لوگوں نے   ساری ذمہ داری حسن علی  پر ڈال رہے ہیں ۔صرف ایک کیچ نے حسن علی کو ہیرو سے زیرو بنا دیا ۔افسوس مجھ سمیت پوری قوم کو ہے "کاش”حسن علی وہ کیچ پکڑ لیتے  نتیجہ کچھ اور ہوتا ،گرین شرٹس اس ٹورنامنٹ میں چمپئن کی طرح کھیلے اور مجھے فخر ہے گرین شرٹس کی پرفارمنس پر اور ہمیں ہونا چاہیے ۔ٹاس ہارنے کے بعد بابر اعظم اور رضوان نے بہت اچھا آغاز فراہم کیا ایک بڑا اسکور کھڑا کیا جا سکتا تھا بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا رضوان اور فخر زمان کی نصف سنچری کی بدولت 176 رنز بنائے آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف  ایک اورقبل5وکٹ  پر مکمل کر لیا ۔
    آسٹریلیا بڑی ٹیم ہے ۔پریشر میں اچھا کھیل گئے شکست کے بعد گرین شرٹس کا سفر تمام ہوا
    شکست کے بعد  حسن علی پر تنقید کے نشتر چلائے گئے ،انہیں برا بھلا کہا گیا بہت سی گالیوں کے ساتھ ان کے والدین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔مجھے  اس وقت حیرت ہوئی جب  حقیقت ٹی وی نے بہت غلیظ زبان استعمال کی اپنے ہیروز کی تذلیل کی۔ کیا حسن علی نے ایسا جان بوجھ کر کیا ؟۔ہر گز نہیں۔اس کی آنکھیں اس بات کی گواہ ہیں کوشش کے باوجود وہ پاکستان کےلئے کچھ نہ کرسکا ۔کیا ہم جیت میں اپنے ہیروز کو سپورٹ کریں گے ہار میں کیوں نہیں،  زندہ قومیں اپنے ہیروز کی تذلیل نہیں بلکہ ہار میں ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں ، ہمیں بطور قوم اپنے ہیروز کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے،   جس طرح جیت میں ان کے ساتھ تھے ۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ اس  صدمہ سے باہر نکل سکیں تاکہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکیں   ۔پاکستان زندہ باد

  • حسن علی کو لے کر انڈین پروپگینڈا تحریر عبدالوحید

     السلام علیکم ناظرین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ سترہ اکتوبر کو دبئی میں شروع ہوا ۔ پاکستان اور بھارت کی ٹیم کو گروپ بی میں رکھا گیا گروپ بی کا پہلا میچ ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان چوبیس اکتوبر کو شروع ہوا ۔ میچ سے پہلے انڈین اور انڈین میڈیا اپنی ٹیم کی ایسے بڑھا چڑھا کر پیش کررہی تھی جیسا کوئی آسمان سے اتری ہوئی ٹیم ہو ۔ جب پہلا میچ کھیلا گیا تو پاکستان نے بہت بری طرح سے انڈیا کو شکست دی ۔ ایسی شکست جس کی تواقعات کسی انڈین کی وہم وگمان میں بھی نہیں تھا ۔ پاکستان کے اوپننگ بیٹسمین محمد رضوان اور بابر اعظم جم کر انڈین بولروں کی دھلائی کی۔ انڈین ٹیم کوئی بھی ایسا بولر نہیں تھا جو پاکستانی اوپنرز کو پویلین بھیج سکے۔ پاکستانی بیٹسمینوں نے تاریخ رقم کردی۔ اس کے بعد پاکستان نے مسلسل نیوزیلینڈ ، افغانستان، نیمبیا اور سکاٹلینڈ کو شکست دی ۔ پاکستانی ٹیم ایسی ٹیم بن کر ابھری جس کی تواقع کوئی نہیں کررہا تھا۔ پاکستانی اوپنرز ، مڈل آرڈر بیٹسمین سب اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ انڈیا اپنے پہلا میچ ہارا اس کے ساتھ دوسرے میچ میں بھی بری طرح شکست ہوئی ۔ اس کے بعد ان کا جو تیسرا میچ ہوا افغانستان کے ساتھ وہاں کے میچ میں ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ میچ فکس ہو۔ جب نیوزی لینڈ نے افغانستان کو شکست دی تو نیوزیلینڈ سیمی فائنل میں پہنچ گیا اور انڈیا ٹورنا منٹ سے باہر ہوگیا ۔  دوسرا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تھا ۔ جب دوسرا سیمی فائنل میچ کھیلا گیا اس میچ میں پاکستان کو کانٹے دار مقابلے کے بعد شکست ہوئی۔ اس دوسرے سیمی فائنل میں جب پاکستان فیلڈنگ کررہے تھا تو آخری اورر میں شاہین شاہ آفریدی کے تیسرے گیند پر جب حسن علی نے کیچ چھوڑا ۔ اس کے بعد میتھین ویڈ نے آخری تین بالوں پر تین چھکے لگا دیا۔ میچ ختم ہونے کے بعد حسن علی پر تھوڑی بہت تنقید ہوئی ۔ اس تنقید کو بڑھاوا دینے کے لیے انڈین کا ایک پینل میدان میں اتر آیا ۔ اور  مذہب کا سہارا لے کر پاکستان میں شیا سنی فسادات کو بڑھانے کی ناکام کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ پراپیگنڈا کیا کہ حسن علی پر اس لیے تنقید کی جارہی ہے وہ شیا ہے ۔ حالانکہ حقائق بلکل مختلف تھے۔حسن علی پر تھوڑی بہت تنقید ضرور ہوئی

      لیکن وہ اس لیے نہیں ہوئی کہ وہ شیا ہے اور سنی نہیں ہے ۔ یہ تنقید ان کی اصلاح کے لیے تھی۔ میچ میں کیچ چھوڑنے کی وجہ سے ہوئی تنقید۔ انڈیا کے وہ لوگ جو ہمیشہ چاہیے ہیں کہ وہ پراپیگنڈا کے ذریعے پاکستان میں سنی شیا فسادات کو پروان چڑھایا جائے ۔ اس سے پہلے انڈین کا ایک سابق میجر گورو آریا تھا وہ بھی اس قسم کے پلان کرتا رہا کہ کسی نا کسی طرح اس قسم کے فسادات کو بڑھایا جائے تاکہ پاکستان میں امن کا ماحول خراب ہو اور خانہ جنگی پیدا ہوا ۔ انڈین جو ہمیشہ چاہتے ہیں پاکستان میں اس طرح کے حالات پیدا کیے جائیں جس سے خون خرابا ہو۔ پاکستانیوں کو اب انڈین کے چالوں کو سمجھنا چاہیے۔ ایسے پراپیگنڈا سے بچنا چاہیے جو پاکستان میں امن کے ماحول کو خراب 

     کرنےکی کوشش کرتے ہیں۔ حسن علی بھی  انسان ہے  اگرچہ اس سے یہ کیچ چھوٹا ہے تو اس میں کون سی  مذہب والی بات آگئی۔ یہ لوگ جو نفرت کو پاکستان میں اپلائی کرنا چاہتے ہیں ہمیں ایسے لوگوں سے چوکنا رہنا چاہیے۔

    ہم سب پاکستانی ہیں ہمیں کسی پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں۔ دوسروں پر انگلی اٹھائیں گے تو دشمن ایسی طرح ہم پہ وار کریں کہ لہذا ہم ایک پاکستانی ایک قوم کی طرح رہنا چاہیے اور دشمن کے ہر چال کو ناکام بنانا چاہیے ۔پاکستان زندہ باد