Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • علاماتِ قیامت تحریر: محمد اسعد لعل

    علاماتِ قیامت تحریر: محمد اسعد لعل

    قرآنِ مجید میں قیامت کی ایک علامت بتائی گئی ہے، وہ علامت یأجوج و مأجوج کا خروج ہے۔ ہمارے ہاں یأجوج و مأجوج کے بہت سے قصے مشہور ہو گئے ہیں۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی آسمانی مخلوق ہے۔ قرآن نے بہت وضاحت کے ساتھ اس کے بارے میں بتا دیا ہے کہ ” یہاں تک کہ یأجوج و مأجوج کھول دیے جائیں گے، اور وہ ہر گھاٹی سے آپ کو لپکتے ہوئے نظر آئیں گے، جیسے کوئی گروہ پِل پڑتا ہے۔” پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قیامت کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کا ظہور ہو جائے گا۔

    ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ علاماتِ قیامت کو بیان کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آ گئی؟

    انبیاء نے بتا دیا کہ قیامت آئے گی، لیکن اس کے بارے میں کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کب برپا ہو گی۔ قیامت کا وقت کسی نبی نے نہیں بتایا، اور وقت بتانا بھی نہیں چاہیے۔ اگر قیامت کا وقت معین کر دیا جائے تو پھر امتحان ختم ہو جائے گا۔ امتحان کے لیے جس طرح ضروری ہے کہ موت کا وقت نہ بتایا جائے اسی طرح قیامت کا وقت بھی نہیں بتایا گیا۔سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے کہ قیامت کب برپا ہو گی۔

    قیامت درحقیقت موت ہی ہے۔ ایک وہ موت ہے جو انفرادی طور پر انسانوں پر طاری ہو رہی ہے۔ ایک موت وہ ہے جو گویا پوری کی پوری انسانیت پر طاری ہو جانی ہے۔ اسی کو قیامت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قیامت کے بارے میں وقت تو نہیں بتایا گیا پر خبر ضرور دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں منادی کی گئی ہے، لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس کی تیاری کرو۔

    اس کی علامت بتانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔۔۔ اس کی بڑی سادہ سی وجہ ہے۔ قیامت کی جب منادی کی جا رہی ہے تو منادی کرنے والے کون ہیں۔۔۔اللہ کے پیغمبر۔ انبیاء کرام جس طرح کسی چیز کے علمی اور عقلی دلائل دیتے ہیں بالکل اسی طریقے سے بعض اوقات حسی دلائل بھی پیش کر دیتے ہیں۔ یعنی مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ علمی اور عقلی دلائل سے متنبہ نہیں ہو رہے وہ ان چیزوں کو دیکھ کر متنبہ ہو جائیں۔ بعض انبیاء کو اپنے معجزات بھی دکھانے پڑے۔ وہ معجزات ان کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ ؑ کے دونوں بڑے معجزے” یدبیضاء” اور "عصا” کے بارے میں قرآن مجید میں ہے کہ "یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے دو دلائل تھے”۔

    معجزہ کیا ہے؟۔۔۔کسی شخص کے ساتھ خدا کی معیت کا ظہور ہی معجزہ ہے۔ ایک لحاظ سے یہ بتایا جاتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔ اسی طرح سے انبیاء کرام کچھ پیشین گوئیاں کرتے ہیں، وہ پیشین گوئیاں بھی اصل میں ان کی صداقت کے دلائل ہیں۔ مثال کے طور پر غلبہ روم کی پیشین گوئی کی گئی تھی، جب کِسری (خسرو) نے آپﷺ کا خط پھاڑ دیا تو آپ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا کہ اس نے اپنی سلطنت کے ٹکڑے کر دیے۔ بہت سی پیشین گوئیاں ہیں جو اللہ کے پیغمبر نے کی تھیں، اسی طریقے سے وہ بعد میں آنے والے زمانوں کی پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔ جس وقت ان پیشین گوئیوں کا ظہور ہوتا ہے تو پیغمبر کی عدم موجودگی میں بھی پیغمبر کی طرف توجہ کا ذریعہ بن جاتی ہیں، گویا صداقت کی ایک اور دلیل پیدا ہو جاتی ہے۔

    یہ درحقیقت وہ دلائل ہیں جن کو قرآن مجید نے  آپ ﷺ کی موجودگی میں بیان کیا تھا کہ،”ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے” یہ نشانیاں خود آپﷺ کے سامنے بھی دکھائی گئیں اور جب آپﷺ کی نبوت قیامت تک ہے تو ظاہر ہے یہ نشانیاں قیامت تک نمودار ہوتی رہیں گی۔

    اسی طرح آپﷺ نے قرب قیامت کے بارے میں بھی کچھ نشانیاں بیان کی ہیں اور قرآن مجید نے بھی اس بارے میں بیان کیا ہے۔ قرآن مجید میں ایک نشانی ہی بیان کی گئی ہے، اور وہ نشانی یأجوج و مأجوج کا خروج ہے۔ یأجوج و مأجوج کے بارے میں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ جو اس وقت دنیا ہے  یعنی دنیا کا ایک دور وہ ہے جو حضرت آدمؑ کے بعد شروع ہوا اور اُس کا خاتمہ حضرت نوحؑ پر ہوا۔ اس کے بعد حضرت نوحؑ کا دور شروع ہوا۔ ساڑھے نو سو سال کی غیر معمولی زندگی انہوں نے بسر کی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم پر عذاب کا فیصلہ کیا۔ وہ لوگ جو حضرت نوحؑ پر ایمان لائے تھے ان کے لیے حکم دیا گیا کہ ایک کشتی میں سوار کر لیا جائے۔ تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نجات پائی۔ ان میں سے ان کے تین بیٹے ہیں (حام، سام اور یافث) جن کی اولادیں پروان چڑھیں۔ 

    آپ اگر دیکھیں تو پہلے مرحلے میں حام کی اولاد ہے جو دنیا میں اقتدار تک پہنچی، یہ زیادہ تر افریقہ میں آباد رہے۔ ان کی بڑی بڑی سلطنتیں وہیں وجود میں آئیں۔اس کے بعد سام کی اولاد کو اقتدار حاصل ہونا شروع ہوا، یہ جو قدیم عرب کے بادشاہ تھے یہ دراصل سامی بادشاہ تھے۔ تیسرے بیٹے یافث کی اولاد وسطی ایشیا میں جا کر آباد ہوئی۔ یافث کے پھر دس ،بارہ بیٹوں کا نام آتا ہے۔ یافث کی اولاد میں سے یأجوج و مأجوج کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا۔ یہ یأجوج و مأجوج کوئی آسمانی مخلوق نہیں ہے بلکہ حضرت نوحؑ کے پوتے ہیں۔

    یأجوج و مأجوج نے وسطی ایشیا سے اپنی زندگی کی ابتدا کی اور پھر یہیں سے ہجرت کر کے امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا پہنچے۔ جب دنیا ختم ہونے کے قریب آئے گی تو یہ دنیا کے پھاٹکوں پر قبضہ کر چکے ہوں گے۔ آج اگر آپ دنیا کے نقشے کو اُٹھا کر دیکھیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک دائرے میں یأجوج و مأجوج کا اقتدار ہے، اور درمیان میں حام اور سام  کی نسلیں آباد ہیں۔ چنانچہ اس وقت یأجوج و مأجوج اقتدار میں ہیں اور اب آہستہ آہستہ یہ وقت آئے گا کہ جب یہ ہر گھاٹی سے لپکیں گے اور یہاں تک کہ سمندروں کا سارا پانی پی جائیں گے، اور اس کے بعد قیامت برپا ہو گی۔

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • مطالعہ میرا دوست | تحریر:عدنان یوسفزئی 

    مطالعہ میرا دوست | تحریر:عدنان یوسفزئی 

    مطالعہ ایک کامیاب انسان اور بطور خاص کامیاب لکھاری کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ایک جاندار کو زندہ رہنے کے لئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ آکسیجن کی عدم موجودگی میں وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔

        دراصل مطالعہ ایک نشہ ہے اور جو کوئی اس نشے کا عادی بن جاتا ہے پھر وہ مطالعہ کے بغیر نہیں رہ سکتا،یہ کوئی مبالغہ آمیز بات نہیں بلکہ ہماری اکابر واسلاف کی زندگیوں میں ہمیں اس کا واضح عکس ملتا ہے۔کہ وہ بعض اوقات مطالعے میں اس قدر منہمک ہوجاتے کہ پھران کو یہ بھی یاد نہ رہتا کہ کھانا کھایا ہے یا نہیں وہ مکمل مستعرق ہوجاتے۔اسی مطالعے کی استعراق میں امام مسلم رح نے ایک مرتبہ اتنے زیادہ کھجور کھائی کہ ان کی معدے نے اس کی گرمائش برداشت نہ کی، چنانچہ اسی سے وفات پائی۔

              لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ میں مطالعے اور کتب بینی کا یہ ذوق تیزی کیساتھ زوال پذیر ہیجس کی وجہ سے ہم اپنے عظمت رفتہ سے دور ہوتے جارہے ہیں بقول شاعر مشرق رح 

    گنوادی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی تھی

    ثریا نے زمین پر اسمان سے ہم کو دے مارا

         کتب بینی کی عادت وشوق نے ہمیں علوم وفنون سے بہت دور کردیا۔مغرب نے کتب بینی کو فروغ دیتے ہوئے انتظارگاہوں تک میں لائبریریاں قائم کیں اس لیے وہاں روز بروز نت نئے تجربات مختلف میدانوں سے آرہے ہیں۔

    مطالعہ کرنا سب سے بڑھ کر کتاب ایک بہترین ساتھی ہے۔ ایک اچھے لکھاری بننے کے لیے کتابوں کا مطالعہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ کتاب کے مطالعے کا شوق اور محبت جس کسی کو لگ جائے تو وہ تنہائی کو اپنے لئے ایک نعمت سمجھتا ہے۔

    کتاب بہت عجیب قسم کا دوست ہے. یہ انسان کو بھی ہنساتا ہے اور کبھی رلاتا ہے۔

    یہ کتاب ہی ہے جس کا مطالعہ اگر ایک طرف ہمیں اپنی روشن ماضی کی یاد دلاتا ہے، تو دوسری طرف مسلمانوں کے زوال کی داستان سناتا ہے۔ یہ کتاب ہی تو ہے جو ایک طرف  ہمیں غیروں کے مظالم کی گواہی دیتا ہے اور دوسری طرف یہ کتاب ہی ہے جو کہ اپنائیت کے ناطے امت مسلمہ سے شکوہ کنا نظر آتی ہے۔ 

    کتاب ہمیں نیک وبد کی تمیز سکھاتی ہے۔ ہم ایک اچھی کتاب کو ایک بہترین استاد کی زیر نگرانی پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے احکامات معلوم کرسکتے ہے۔اسی طرح ہم سرور کائنات خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک سنت سے باخبر ہو سکتے ہے۔

    دنیا میں کتاب سے دوستی کرنا ہے تو اس کی دوستی آپ کے دل کو ایسے روشنی عطا کردیتے ہے۔ جس سے زندگی بھر آپ اس روشنی سے لطف اندوز ہونگے۔ اس کی جتنا بھی مطالعہ آپ کریں۔ اتنا ہی آپ کی کتاب سے دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوجائیگی۔

                       انسان جب کتاب سے تعلق رکھتا ہے اور اسے اپنا دوست بناتا ہے تو کتاب کی دوستی انسان کو اپنی صحیح منزل دکھا کر راہ راست پر لاتا ہے۔ خواہ وہ دنیاوی ہو یا اخروی دونوں میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔

    مغربی دنیا میں آج کل بڑا ہو یا چھوٹا کتاب سے تعلق اور اس میں مطالعے کی رحجان پایا جاتا ہے۔ اس نے کتابوں سے دوستی کرکے اس سے اپنے لیے دنیاوی راستے کھول دیے ہیں۔ وہ پستیوں کی راہیں پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئے ہیں، صرف اور صرف وہ مطالعے کے گہرے سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔

               بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کتابوں سے دوستی کرنے اور مطالعے کے شوقین افراد کی تعداد بہت کم پائی جاتی ہے۔ اگر ہم نے کتابوں کی سے دوستی قائم کرلی۔ پھر ہم کتاب کی مطالعہ کئے بغیر اپنے آپ کو نامکمل سمجھے گے۔ یہ ہمیں اپنا منزل بتاتے ہیں کہ کیسے آپ اس پستیوں کی تاریک ظلمتوں سے نکل کر اپنی بلند وبالا منزلوں کی طرف جانا ہے۔

                کتاب کی ہر ایک لفظ ہم کو نئے نئے سوچ دیکر علم کے خزانے ہمارے لئے کھول دیتا ہے۔ کتاب ہی ہمیں مشرق سے لیکر مغرب تک، شمال سے لیکر جنوب تک سارے حالات بیان کر کے ہمیں اندھیروں سے نکال کر، اچھائی اور برائی کی تمیز سکھاتا ہے. قلم وکتاب سے رشتہ قائم کرنا ہی ہمیں ہمارے اقدار و عظمت کے مینارے دکھاتا ہے۔ کتاب کے بغیر ہماری زندگی میں لطف نہیں ہوگی۔

    اگر مطالعے کے لیے  اچھی اور معیاری کتاب کا انتخاب نہیں کیا گیا تو یہی کتاب بعض اوقات آستین کا سانپ بھی بن سکتا ہے۔مثلاً مستشرقین کی کتابیں پڑھ کر ایک انسان دین اسلام کا بن سکتا ہے۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ کتب کے انتخاب میں بہت ہی احتیاط سے کام لیا جائے۔

         مختصراً یہ کہ مطالعہ ہی ایک ادنیٰ انسان کو معراج تک لے جاتا ہے، کیونکہ مطالعہ کرنے والا شخص قوموں کی تاریخ وثقافت،رسوم ورواج اور تہذیب  کامیابی وکامرانی سے باخبر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مستقبل میں اسی انداز سے دیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کتاب اچھے برے میں تمیز کراتے ہیں، اور مطالعہ کرنے والا بندہ تنہائیوں سینہیں گھبراتا بلکہ تنہائی کو یکسوئی سمجھ کر مطالعہ کرتا رہتا ہے۔

    Twitter | @AdnaniYousafza

  • پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ شہدادپور ضلع سانگھڑ  100 سالہ پروجیکٹ   تحریر محمد عثمان

    پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ شہدادپور ضلع سانگھڑ  100 سالہ پروجیکٹ تحریر محمد عثمان

    اندرون سندھ ضلع سانگھڑ تحصیل شہدادپور ٹنڈوآدم روڈ پر واقع ( پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ) 100 سالہ پروجیکٹ ۔ آج سے آٹھ سال قبل دریافت ہونے والا (PPL) 100 سالہ پروجیکٹ نہ صرف شہدادپور ، بلکہ ملک پاکستان کے لیے بھی ایک سنہری باب ثابت ہوگا ۔ اس پروجیکٹ کے ساتھ 13مختلف چھوٹی Sui کا لنک جڑا ہوا ہے اور ساتھ ہی 23 مختلف جگہوں سے دریافت ہونے والے تیل اور گیس کے ذخائر کا لنک بھی اس پروجیکٹ سے ملا ہوا ہے جو روزانہ ایک بلین کیوبک فِٹ (BCF) گیس پیدا کرتا ہے اور مُلکِ پاکستان کی 22 فیصد گیس(SSGCL) اس پروجیکٹ سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس (PPL) 100 سالہ پروجیکٹ کو چین  کے سپرد کیا گیا ہے ۔ اس(PPL) پروجیکٹ میں 1793 لوگ ملازمت کرتے ہیں ۔ ضلع سانگھڑ کا شمار سندھ کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے ضلع سانگھڑ کے لوگوں کی بڑی تعداد غریب طبقے سے ہے ۔ یہاں کے لوگوں کا آمدن ذرائع زراعت سے منسلک ہے اور یہاں کے لوگ محنت مزدوری کھیتی باڑی سے گزر بسر کرتے ہیں تو ایسے میں یہ (PPL) 100 سالہ پروجیکٹ ایک امید کی کرن بن کر آیا تھا کہ اب یہاں کے لوگوں کی زندگی بہتر ہوجائے گی 

    اب یہاں  کے لوگ کی بنیادی ضروریات سڑکیں، گٹر لائن، گلیوں، جیسے مسائل بھی حل ہوجائے گے اور یہاں کے لوگوں کو ملازمتیں بھی میسر ہونگی. لیکن ہوا کچھ بھی نہیں سارے مسائل ساری امیدیں خام خیالی ہی ثابت ہوئی.

    اس(PPL) پروجیکٹ کے 1793 ملازموں میں سے صرف 10 فیصد لوگ ہی ضلع سانگھڑ سے لیے گئے ہیں ۔ وہ  بھی حسبِ روایت سفارشات اثروسوخ رکھنے والے لوگ ہیں غریب لوگوں کی زندگیوں میں کوئی آسانی نہیں آئی جو حقوق تھے سانگھڑ کے  لوگوں کے وہ نہیں دیے گئے ۔  پاکستان سمیت دیگر ممالک میں یہ بات آئین میں ہے کہ جس جگہ بھی تیل گیس کے ذخائر دریافت ہوں گے تو اس جگہ یا شہر کے لوگوں کے لیے گیس بجلی فری ہو جاتی ہے اس شہر کی سڑکیں ودیگر تعمیراتی کام کیے جاتے ہیں ۔ اعلی تعلیم کے لیے اسکالر شپ دی جاتی ہے اور زیادہ تعداد میں ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں مگر یہاں تو سانگھڑ، شہدادپور اور ٹنڈوآدم کے لوگوں کے حقوق دفن کر دیے گئے ان لوگوں کو گیس نہ بجلی اور نہ ہی ملازمتیں دی گئی اگر چند ملازمتیں

    دی گئی وہ بھی صرف وڈیرہ شاہی امیرکبیر سفارشات  کی بنا پر ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سانگھڑ شہداد پور اور ٹنڈو آدم کے پڑھے لکھے نوجوان جو بے روزگار  ہیں ان نوجوانوں کو علاقائی کوٹا کی بنیاد پر میرٹ کو مدِ نذر رکھ کر ملازمتیں دی جاتی  ۔   لیکن ہوا یہ کہ اس پروجیکٹ میں ملازمت اسی کو ملی جس کا تعلق وڈیروں سے تھا یا کسی سیاسی جماعت سے تھا۔ مقامی  پڑھے لکھے بیروزگار لوگوں کے حقوق یہاں بھی دفن کر دیے گیے ۔ 10 فیصد چائنہ اور باقی 80 فیصد لوگ سانگھڑ سے باہر صوبہ پنجاب و دیگر صوبوں کی طرف سے لیے گئے ہیں ۔ یہ سراسر نا انصافی ہے مقامی  بےروزگار غریب لوگوں کے ساتھ۔ یہ تو صرف (PPL) کے بارے میں ہورہا ہے. اس کے علاوہ بھی اسی طرز  کے کئی پروجیکٹس سانگھڑ میں چل رہے ہیں اور مختلف گورنمنٹ کے اداروں میں بھی یہی سفارشی کلچر عام ہے ۔ چاہے پھر وہ بلدیاتی ، ادارہ ہو یا گورنمنٹ اسکول و کالج ،  یا گورنمنٹ  ہاسپٹل ۔ گورنمنٹ ہاسپٹل میں تو سفارشی کلچر اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ وہاں نرسنگ میں ان پڑھ لوگ بھرتی کیے ہوئے ہیں ۔ ان کو انجکشن تک لگانا نہیں آتا ہے ۔ کیا یہ سراسر لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ نہیں  ۔میری وزیراعظم صاحب سے  درخواست ہے کہ اندرونِ سندھ میں جو نوجوانان کی حق تلفی ہو رہی اس پر نظرثانی کریں اور اندرون سندھ میں اتنے تیل اور گیس کے ذخائر نکلنے کے باوجود بھی سندھ کے حالات ایسے ہیں خاص طور پر سانگھڑ کے  غریب لوگوں کو ان کا حق دیا جائے  ۔ ملک پاکستان کی بہتری انصاف میں ہیں غریب طبقے کی فلاح وبہبود میں ہے۔ آج مسلمان اسی وجہ سے پیچھے ہیں کہ ہم نے انصاف کے دامن کو چھوڑدیا ہے۔ جب مسلمانوں نے 700 سال تک حکمرانی کی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے ۔ دوسرا وہ انصاف پسند تھے وہ انصاف کرتے تھے چاہے امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ انصاف کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے انہوں نے 700 سال تک حکمرانی کی ۔ اگر ہم ملک کی بہتری اور ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں بھی انصاف کرنا ہوگا ۔ اس انصاف کی وجہ سے ہم نہ صرف غریب لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکال سکتے ہیں بلکہ اس ملک پاکستان کو ترقی یافتہ ملکوں  کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔

    Twitter @Usmankbol

  • اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟ تحریر: رانا محمد جنید

    اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟ تحریر: رانا محمد جنید

    ‏اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟

     اردو ہماری تہذیبی شناخت ہے۔ اس میں شاید ہی اختلاف ہو۔ اور مزید اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ سرکاری زبان کے ساتھ ساتھ مادری زبان بھی ہے، اختلافات تو یہ ہیں کہ یہ صرف ماضی میں ہی ضروری تھی یا مستقبل میں بھی اس کے کچھ تقاضے ہیں ؟نئی صدی میں ہونی والی ترقی نے سب کچھ بدل ڈالا ہے انسانی زندگی، رہن سہن اور وسائل سب ہی میں بڑا تغیر برپا ہے اس کے ساتھ ہی اردو کا وہ ادب بھی کمزور ہوتا جا رہا جو آج سے ساٹھ ستر سال پہلے تھا نسلِ نو اردو زبان سے بہت دور ہوتی جا رہی ہے اور اردو روایات کو سمجھنے سے قاصر ہے یہ نسل نا تو غالب و میر کو سمجھتی ہے اور نا ہی فیض اور اقبال کے استعاروں کو. اقبال و غالب کے بنا بھی بھلا اردو کی کوئی تہذیب یا روایت ہے کسی بھی قوم کی روایات اس وقت تک ہی زندہ رہتی ہیں جب تک وہ انہیں اپنی روز مرہ زندگی میں بروۓ کار لاتا رہتا ہے جس دن سے وہ بے نیاز ہوتا ہے تو وہ نا پائید ہو جاتی ہیں قومیں کیسے تباہ ہوتی ہیں بڑے بڑے دانشوروں نے اس پہ بہت کچھ لکھا اور سب کا خلاصہ یہی نکلا جو قومیں اپنی روایات سے منہ موڑ لیتی ہیں وہ ختم ہو جاتی ہیں سکندرِ اعظم ہو یا چنگیز خان جنہوں نے آدھی دنیا فتح کی مگر ان کے ماننے والے جلد ہی ختم ہو گئے کیوں.؟ کیونکہ ان کے پاس اپنی روایات تھیں اور نا ہی کوئی تہزیب. آج کے دور میں زندگی گزارنے کا اہم ذریعہ علم ہے. علم کے بنا زندگی کچھ بھی نہیں ہے. اور علم اسی زبان سے کی حاصل کیا جا سکتا ہے جو وقت کی ضرورت ہو اور اسی زبان سے حاصل کر دہ علم زندگی کو سہل کرتا ہے، اس وقت اردو زبان علم کی زبان بننےسے قاصر ہے یہ کام اس وقت انگریزی نے لے لیا ہے اور اب زندگی اسی کے ساتھ ہی چل پڑی ہے کوئی بھی زبان دو وجہ سے ترقی پاتی ہے ایک تو یہ کے تخلیق کردہ علم اس زبان میں ہو یا وہ زبان دنیا بھر کے علم کو اپنے اندر سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اور یہ صلاحیت اب انگریزی زبان میں ہی موجود ہے. جب دنیا بھر میں عربوں کی حکومت تھی اور انہی کا راج چلتا تھا تو عربی زبان اپنے عروج پر تھی، پھر دور آیا سلطنتِ عثمانیہ کا جس کی بدولت فارسی زبان کو عروج ملا اور اس وقت دنیا بھر انگریزوں کا راج ہے چاہے وہ بلاواسطہ ہو یا بالواسطہ اور اسی ہی کی بدولت اب انگریزی زبان کو باقی سب زبانوں پہ سبقت مل چکی ہے آج اکیسویں صدی ہے اور ہر ایک کی تہزیب کی بھاگ دوڑ سائنس کی نت نئی ایجادات پر ہے اور اردو اس قابل نہیں کے جس کے ذریعے علم حاصل کر کے سائنس کے پیچھے بھاگتی دنیا کے ساتھ چلا جائے اب یہ مقام صرف انگریزی زبان کو ہی حاصل ہے اردو زبان اب ایک محدود زبان بن چکی ہے، انیسویں صدی کو اردو زبان کے عروج کا زمانہ بھی بولا جا سکتا ہے جس میں اقبال، غالب، مودودی اور شبلی نعمانی جیسے شاعر و مفکر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی شاعری اور تفسیر و تاریخ کے ذریعے اردو زبان کو عالم اسلام تک پہنچا کے اردو زبان کا لوہا منوا دیا تھا اور پھر اس کے بعد ہم آزاد ہو گئے جس وجہ سے اپنی روایات اور تہذیب کا دام بھی ہاتھ سے چھوڑنے لگے اقبال و غالب کے بعد ان کی روحانی مسندیں خالی ہو گئی اور کوئی اس قابل نا رہا کے ان کے پیغام کو آگے پہنچائے اگر کوئی آیا بھی تو ہم نے اسے قبول نا کیا، اسی طرح سے پھر اردو زبان کو فروغ کم ہوتا چلا گیا اور اردو علوم زوال پزیر ہونے لگا پھر افسوس کا مقام یہ ہوا کے انگریزوں کے چلے جانے کی بعد بھی ہمارا نظام تعلیم نا بدل سکا ہم آزاد ہو کے بھی غلام ہی رہے، اگر کیسی نے کوئی سائنسی علم حاصل کرنا ہے یا کوئی بڑی نوکری کرنی ہے تو اسے انگریزی ہی سیکھنی پڑے گی اس بنا پر ہماری نوجوان نسل کے پاس اور کوئی رستہ نہیں تھا سوائے اپنی تہذیب سے دور ہونے کے، اب اگر کوئی نوجوان اردو زبان بولتے وقت انگریزی استعمال کرتا ہے تو وہ بہت پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے اور وہی نوجوان اگر انگریزی کے دوران اردو کے الفاظ کے چناؤ کر لے تو اس کی تذلیل کی جاتی ہے اور یہی وجہ احساس کمتری کی وجہ بنتی ہے امرا اپنے بچوں کو بڑے سکولوں میں انگریزی پڑھنے کے لیے بھیج دیتے ہیں جو کے پھر بعد میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ جو چھوٹے اسکول میں پڑتا ہے اسے اردوتو ڈھنگ سے نہیں سیکھائی جاتی انگریزی کے دروازے تو پہلے سے ہی اس کے لیے بند کر دئیے جاتے ہیں، یہ رویہ ایک بہت بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے حکومت وقت اور بڑے حلقوں کو لازمی اس پہ سوچنا چاہیے اور ایک عالمی مسئلے کی طرح اس کا حل تلاش کرنا چاہیے

    ‎@Durre_ki_jan

  • جمہوریت اور عوام تحریر:سردار ساجد محمود خان

    جمہوریت اور عوام تحریر:سردار ساجد محمود خان

    اسلامی جمہوریہ پاکستان

    یہاں جمہوریت کے نام پر جو کھلا مذاق عوام کے ساتھ مشرف کے بعد سے کھیلا جارہاہے وہ قابل ذکر ہے کہ کسطرح عوام کو بیوقوف بنایا جارہاہے پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو نون لیگ اپوزیشن تھی اور خوب پیپلز پارٹی کو برا اور صرف برا کہا پورے پانچھ سال نون لیگ اسی کام میں لگی رہی کے پیپلز پارٹی تو روز کرپشن کر رہی ہے پیپلز پارٹی عوام کا خون چوس رہی ہے ظلم کررہی ہے مہنگائی انتہا کو پہنچھ چکی ہے عوام کی پہنچ سے روٹی دور کردی گئی ہے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے پیپلز پارٹی کو عوام کا خیال نہیں ہے ہر بجٹ عوام دشمن بجٹ کہا گیا پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں  نون لیگ ہر بجٹ میں کہتی تھی کے اس بجٹ کو ہم مسترد کرتے ہیں یہ عوام دشمن بجٹ ہے لیکن بجٹ ہر بار پاس ہوتا رہا عوام صرف ڈرامہ بازی دیکھتی اور پیپلز پارٹی کے لئے آپنے دل میں غصہ پالتی رہی

    خیر وقت کا کیا ہے وقت تو گزرجاتا ہے اب الیکشن کا وقت ہوا تو نون لیگ اور باقی جماعتیں اپنا اپنا چورن بیچنے لگیں خیال رہے یہاں نون لیگ کا نام اس لئے لیا جارہا ہے کیونکہ اس ٹائم میں انکی بڑی واہ واہ تھی  کوئی کہتا کے چھے مہینے میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی تو نام بدل دینا کوئی کہتا کے پیٹ پھاڑ کر عوام کا پیسہ واپس لینگے کوئی کہتا کہ کرپشن کرنے والوں کو روڈ پر گسیٹینگے 

    2008 سے 2013 تک عوام کے لئے کیا قانون بنا اس سے عوام کو بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی حکومت نے عوام کا دھیان اس طرف انے دیا ہر روز ایک نیا تماشا رہتا تھا اور عوام کا سارا دھیان اس تماشے پر لگا رہتا تھا اور پیچھے سے پاکستان کو پتہ نہیں کتنا قرضہ میں ڈبویا پیپلز پارٹی کی حکومت نے

    اب آیا الیکشن کا وقت الیکشن ہوا نون لیگ جیت گئی اور حکومت بنا لی اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں بیٹھ گئی

    اب میدان میں ایک اور پارٹی آگئ تھی پاکستان تحریک انصاف جو کے پارلیمنٹ میں تیسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تھی وہ بھی اپوزیشن میں بیٹھ گئی لیکن اس جماعت نے آپنا راستہ الگ رکھا

    نون لیگ کا دور شروع ہوا تو پہلے لوڈ شیڈنگ کا مثلہ تھا جس پر عوام نے انہیں ووٹ دیا تھا کیونکہ کے انہوں نے چھے ماہ کے وعدے پر کہ لوڈ شیڈنگ ختم کردینگے پر عوام سے ووٹ لئے تھے اس پر آتے کہ ساتھ وزیراعظم نے کہا تھا اس وعدے کو بھول جائیں یہ جوش خطابت میں کہدیا تھا  حکومت میں اکر پھر وہی تو چور میں سپاہی والا چورن چلنے لگا نون لیگ پیپلز پارٹی پر روز کرپشن کے الزام لگائے اور مزے کی بات ہے کہ حکومت وقت الزام لگا رہی ہے اور نا گرفتار کرسکی ملزم کو اور نہ کوئی الزام ثابت کرسکی اسی دوران پاکستان تحریک انصاف اور قادری صاحب بھی میدان میں اترے ہوے تھے انکے الگ مثائل سامنے آئے عوام پہلے سے ہی نون اور پیپلز پارٹی کے ڈرامائی جھگڑوں میں مصروف تھی یہاں ایک نیا انقلاب کا مثلہ کھڑا ہوگیا تو اب عوام اور زیادہ مصروف ہوگئی 

    انکو یہ فکر نہیں تھی کے مہنگائی کہاں پہنچ گئی ہے عوام کا جینا مشکل کیا جارہا ہے عوام کے لئے یہ لوگ اسمبلی میں ہیں

    لیکن یہ اپنے مثلوں میں عوام کو بیوقوف بنائے جارہے ہیں عوام کا دھیان اس طرف نہ ہو اس بات کا بھرپور خیال رکھا جاتا ہے ہر جمہوری دور میں 

    نون لیگ کے دور میں پہلا سال تو لوڈ شیڈنگ مہنگائی کرپشن کے رونے پر رہا قانون کیا بنا عوام کو فکر نہیں دوسرا سال دھرنے کی نظر ہوا عوام فکر نہیں تیسرے سال سانحہ پشاور ہوا عوام کا دھیان وہاں پھر نواز شریف نااہلی والا دور عوام وہاں مصروف کیا قانون بنا عوام کے لیئے عوام کو اس کی فکر نہیں پھر اسی طرح چوتھا سال آیا عوام مصروف رہی اسکے لئے کیا قانون بنا عوام کو کوئی پرواہ نہیں  اب پھر الیکشن کا وقت آیا عوام پھر مصروف 

     نئی حکومت اس بار پاکستان تحریک انصاف کی بنی جسنے اتنے سبز باغ دکھائے تھے کے

    عوام نے سوچا تھا کے نوے دنو میں پاکستان آمریکہ سے بھی زیادہ ترقی کرلیگا  

    لیکن مزے کی عمران خان صاحب نے بھی وہی سپیچ پڑھی جو نواز شریف نے پڑھی تھی کے جوش خطابت

    خان صاحب نے کہا کے یو ٹرن لینے والا لیڈر ہوتا ہے

    لیکن مثلہ وہی پرانا رہا یہاں کے تو چور میں سپاہی والا 

    عوام یہاں پھر مصروف ہوگئی

    پہلے سال کیا قانون بنا عوام کو پہلے کی طرح کوئی فکر نہیں

    دوسرے سال کیا قانون بنا عوام کو کوئی فکر نہیں تیسرا سال بھی کیا قانون بنا عوام کو کوئی فکر نہیں

    اللّٰہ پاک کا فرمان ہے کہ جو قومیں اپنا بھلا نہیں چاہتیں

    اللّٰہ پاک بھی انکی مدد نہیں کرتا

    پاکستانی جب تک اپنے حق کے لئے نہیں اٹھے گی اس سے بھی زیادہ برا حال ہوگا پھر

    جتنے مرضی حکمران بدل لیں آپ ترقی نہیں کر سکتے

    کیونکہ کے جو بھی آتا ہے وہ صرف بیوقوف بنانے میں لگا ہوا ہے۔  یہ جمہوریت جب تک رہے گی ملک کا نقصان ہوتا رہیگا

    عوام کو سہی معنوں میں تبدیلی چاہیے تو پہلے خود تبدیل ہوں اور پھر اس جمہوری نظام سے جان چھڑائیں

    ملک کی ترقی کا واحد نظام صدارتی نظام ہے 

    بلکل اسی طرح جیسے امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں یہ نظام کامیابی سے رائج ہے 

    عوام جاگے اور اپنے منتخب نمائندوں سے سوال کریں کے اپنے حلقے کے لئے کیا کام کیا ہے

    وعدے وفا کیوں نہیں کئے آپ خود دن بدن امیر ہوتے جارہے ہیں اور عوام غریب سے غریب تر کیوں ہو رہی ہے۔    

    @sajid_mehmood

  • گلوبل وارمنگ کے اثرات تحریر :شمسہ بتول

    گلوبل وارمنگ کے اثرات تحریر :شمسہ بتول

    آب و ہوا کی تبدیلی دورِ حاضر کے اہم مسائل میں سے ایک ہے۔اس جدید دور میں علاقاٸی اور موسمیاتی آب و ہوا میں بہت تیزی سے تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق انسان زمین کی آب و ہوا کو تبدیل کر رہے ہیں۔یہ تبدیلیاں اس زمین کے لوگوں ، ماحولیاتی نظاموں ، شہروں اور توانائی کے استعمال پر بہت زیادہ اثر ڈالیں گی اور یہ اثرات دنیا کے غریب ترین اور سب سے زیادہ پسماندہ طبقے کو محسوس ہوں گے جو ان علاقوں میں رہتے ہیں ۔جو آب و ہوا میں تبدیلیوں کے لیے حساس ہیں اور جن کی معاش کا انحصار ہی قدرتی وسائل پر ہے۔ سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے ، اور گلیشیٸر کے وسیع پیمانے پر پگھلنے سے دریاٶں میں طغیانی کا باعث بنتے ہیں ۔ زمین کی اوسط سطح پر ہوا کا درجہ حرارت 1900 کے بعد سے تقریبا °1.4 فارن ہاٸٹ بڑھ گیا ہے ۔اس میں زیادہ تر اضافہ 1970 کی دہائی کے وسط سے ہوا ہے اگرچہ دیگر مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک وسیع رینج مل کر گلوبل وارمنگ کے ناقابل یقین ثبوت فراہم کرتی ہے مگرتھرمامیٹر کے وسیع ریکارڈ سے ثبوت ملتے ہیں۔
    اس سے قبل ، سال 1998 سب سے زیادہ گرم اور 1990 کی دہائی ریکارڈ پر گرم ترین دہائی تھی لیکن سال 2015 نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور اس کے تقریبا ہر مہینے کو اب تک کا گرم ترین قرار دیا گیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سطح زمین پہ پچھلے سو سالوں میں اور خاص طور پر پچھلی دو دہائیوں میں بے مثال شرح سے گرمی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ اسکی ایک بڑی وجہ درختوں کی کٹاٸی اور جنگلات میں تیزی سے کمی آنا بھی ہے جسکی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ان سرگرمیوں کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں جو درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی دو اہم وجوہات ہیں: قدرتی اور انسان وجوہات۔ زمین کی آب و ہوا قدرتی عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہے جیسے کہ آتش فشانی کا عمل ، شمسی پیداوار اور زمین کا مدار۔ انسانی سرگرمیاں جو آب و ہوا کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہیں ان میں جیواشم ایندھن جلانا اور جنگلات کی کٹاٸی، فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں وغیرہ۔
    زمین کی آب و ہوا متحرک ہے اور قدرتی چکر کے ذریعے مسلسل بدلتی رہتی ہے۔ قدرتی تغیرات اور آب و ہوا کے اتار چڑھاؤ ہمیشہ زمین کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی کے لیے کئی قدرتی عوامل ذمہ دار ہیں لیکن ان میں سے کچھ اہم براعظمی بہاؤ ، آتش فشاں ، سمندری دھارے ، زمین کا جھکاؤ وغیرہ جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔
    تقریبا 250 ملین سال پہلے ، تمام براعظموں نے ایک بڑی زمین کو بڑے پیمانے پر بنایا جس کو پینجیہ کہا جاتا ہے۔ پھر انہوں نے آہستہ آہستہ الگ ہونا شروع کیا اور الگ الگ براعظم بنائے۔ علیحدہ براعظمی زمینی عوام کی تشکیل نے سمندری دھاروں اور ہواؤں کے بہاؤ کو تبدیل کیا ، اور انٹارکٹیکا کو سولیٹ کیا۔براعظموں کا بہاؤ آج بھی جاری ہے ہمالیہ کی حد ہر سال تقریبا 1 ملی میٹر بڑھ رہی ہے کیونکہ ہندوستانی زمینی حصہ ایشیائی سرزمین کی طرف بڑھ رہا ہے۔
    بڑے پیمانے پر ، آہستہ آہستہ لیکن مستقل موسمیاتی تبدیلی کی ایک اور قدرتی وجہ آتش فشانی سرگرمی ہے۔ جب آتش فشاں پھٹتا ہے تو یہ سلفر ڈائی آکسائیڈ (SO₂) پانی کے بخارات ، دھول اور راکھ کو فضا میں پھینک دیتا ہے۔ لاکھوں ٹن SO₂ ایک بڑے پھٹنے سے فضا کے اوپر والے درجے (سٹریٹوسفیئر) تک پہنچ سکتا ہے۔ گیسوں اور دھول کے ذرات سورج کی آنے والی کرنوں کو جزوی طور پر روکتے ہیں ، جو ٹھنڈک کا باعث بنتے ہیں۔ زیادہ شدت کے آتش فشاں پھٹنے سے زمین کی سطح تک پہنچنے والے شمسی ڈائیشن کی مقدار کو کم کیا جاسکتا ہے ، موسفٸر کی نچلی سطحوں میں درجہ حرارت کو کم کیا جاتا ہے (جسے ٹروپوسفیئر کہا جاتا ہے) ، اور ماحولیاتی گردش کے نمونوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
    جنوبی ایشیا میں ، سیلاب ، خوراک کی قلت ، اور جمود کا شکار معاشی ترقی صرف کچھ تباہ کن اثرات ہیں جو کہ ہم موسمیاتی تبدیلی میں اضافےکی وجہ سے محسوس کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیاں خاص طور پر سیلاب اور خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرے ، جنوبی ایشیائی ممالک پر شدید اثرات مرتب کر سکتے ہیں جن کی معیشتیں بنیادی طور پر زراعت ، قدرتی وسائل ، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں پر انحصار کرتی ہیں۔ اخراج میں اضافے کے بارے میں انتہائی معمولی مفروضوں کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے مستقبل کے اثرات دنیا بھر میں خاص طور پر جنوبی ایشیائی ممالک افغانستان ، بنگلہ دیش ، بھوٹان ، بھارت ، مالدیپ ، نیپال پاکستان اور سری لنکا میں محسوس کیے جائیں گے۔
    ان خدشات کو کراچی میں گرمی کی ایک طویل لہر نے مزید تقویت دی جس نے سینکڑوں افراد کی جان لے لی۔ سائنسدانوں کے مطابق کچھ عرصے تک موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گرمی کی لہریں زیادہ اور شدید ہو جائیں گی۔
    اگر ہم گلوبل وارمنگ کے مسٸلےکو حل کرنا چاہتے ہیں توہمیں اپنے وسائل کو زیادہ مہارت سے استعمال کرنا سیکھنا ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہوں گے تا کہ درجہ حرارت میں شدید اضافہ کو روکا جا سکے۔ ہمیں توانائی کے ان ذرائع کو فروغ دینا ہو گا جن کے منفی اثرات کم سے کم ہوں۔

    @sbwords7

  • ملازمت پیشہ خواتین تحریر : خالد عمران خان

    ملازمت پیشہ خواتین تحریر : خالد عمران خان

    آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم ملک پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی سرانجام دے رہی ہیں پاکستان میں بڑی تعداد میں خواتین ٹیچنگ، میڈیکل، بینکنگ، انجینئرنگ،اکاونٹنٹس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں خواتین کی ایک بڑی تعداد زرائع ابلاغ سے بھی منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز سے منسلک ہیں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہی ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو آزاد تصور کرتی ہے جو کہ انتہائی احمکانہ سوچ ہے، ایسے لوگ خواتین کو اپنی جہالت کی نظر کردیتے ہیں، خواتین کو نہ تعلیم دلوانے کے حق میں ہوتے ہیں بلکہ ساری عمر سسرال والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے جاہل زہنیت کے لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ ان گھرانوں کا بھی حال اچھا نہیں ھے جہاں ملازمت پیشہ خواتین  کو آزاد خیال اور گھر والوں کو دبا کر رکھنے والی تصور کیا جاتا ھے جبکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں زیادہ جدوجہد ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسبت تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنی فیملی کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔
    اگرچہ مرد کو معاشی ذمہ داریوں کا منبہ قرار دیاجاتا ھے لیکن ملازمت پیشہ خواتین بھی اپنے مردوں کا یہ بوجھ کم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی گو کہ ملازمت پیشہ خواتین کو باہر نکل کر بے پناہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ھے لیکن انہیں مرد کے مقابلے میں دگنی مشقت کرنی پڑتی ھے، ٹرانسپورٹ کے مسائل،طویل اوقات کا سامنا کرکے گھر واپسی پر چہرے پر ناگوار شکن لائے بغیر اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں جت جانا واقعی ہی کسی محاذ سے کم نہیں ھے لیکن یہ کام وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بھرپور طریقے سے سرانجام دیتی ہیں،کبھی بھی کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے ہوئے کرتی ہیں اور معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاتی ہیں، لہذا اب یہ معاشرے کی زمہ داری ھے کہ وہ ایسی خواتین کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھیں،ان پر نکتہ چینی کرنے کی بجائے ان کے کردار کو سراہا جانا چاہیے،انہیں گھریلو ذمہ داریوں سے مبرا قرار دینا سراسر ان کے ساتھ زیادتی ھے ملازمت پیشہ خواتین معاشرے کا تاج ہیں ان کی عزت اور حفاظت یقیناً معاشرے کی ذمہ داری ھے۔
    پاکستان میں خواتین کے لئے گھر سے باہر نکل کر کام کرنا آسان نہیں ھے انہیں طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ھے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ میڈیا کے ذریعے مردوں میں شعور اجاگر کیا جانا چاہیے کہ بطور مسلمان ان پر خواتین کو ڈھانپنا کہنا ہی فرض نہیں بلکہ خود انہیں بھی نظریں نیچی کرنا ہوتی ہیں اور ملازمت پیشہ خواتین بھی ان کی پسندیدہ خواتین جیسی ہی ہوتی ہیں ان کا بھی اتنی ہی عزت و احترام کیا جانا چاہیے جتنا وہ اپنے گھر کی خواتین کا کرتے ہیں
    Written By : Khalid Imran Khan
    Twitter ID :@KhalidImranK

  • آبادی اور ترقی تحریر: فرح بیگم

    کسی بھی ملک کی معیشت کا تعلق اسکی آبادی سے ہوتا ہے ۔مرد اور عورت دونوں اسکا حصہ ہوتے ہیں ۔اگر آبادی بڑھنے کی رفتار ترقی کی رفتار سے زیادہ ہو تو بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں ۔ کیوں کہ آبادی زیادہ ہونے کی وجہہ سے بے روزگاری ،خوراک ،صحت ،تعلیم ،پانی جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ باز جگہ پر عورتیں با اختیار نہیں ہوتی ہیں انکو تعلیم حاصل کرنے نہیں دیا جاتا انکو نوکری نہیں کرنے دی جاتی ، انکو بہت کم سہولتیں دی جاتی ہیں ۔انکو اپنے حق سے محرم کیا جاتا ہے یہ بھی ملک کو پستی میں دکیل دیتا ہے ۔ اگر ہم پاکستان پر نظر ڈالیں تو یہ واضع ہے کہ پاکستان کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے ۔جو ملکی کاموں میں مکمل حصہ نہیں لے پاتی جس کی وجہہ سے ہمارا ملک پستی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ پاکستان میں خواتین اپنا وقت بچے  سمبلنے میں لگا دیتی ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش کرنے میں گزار دیتی ہیں ۔ ملک کی آدھی آبادی کو ترقی اور معاشی کاموں سے الگ  رکھ کر اگے نہیں بڑھا  جا سکتا ۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی خواتین کو  مضبوط بنائیں۔ انکو بھی مردوں کی شانہ بشانہ رکھ کر ملک کے لیے کام کرنے دیں ۔ خواتین کی با اختیاری ایک طرف خواتین کو معاشی ،معاشرتی، سیاسی طور پر مضبوط رکھتی ہے ۔ انکی صحت اور زندگی کو محفوظ رکھتی ہے اور ملک کو بھی تحفظ فراہم کرتی ہے ۔
                        پاکستان زیادہ آبادی والے ملکوں میں چھٹے نمبر پر آتا ہے ۔پاکستان کی آبادی تقریباً 20 کروڑ ہے اور اس میں سالانہ 2 فیصد اضافہ ہو رہا ہے ۔آبادی کی جو بھی صورت حال ہو البتہ یہ طہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل سیدھا ہمارے ملک کی معیشت پر اثر انداز ہوں گے ۔ اب تو دیہی آبادی سے نوجوان نسل تیزی سے شہر کی طرف رجوع کر رہی ہے ۔ جس سے رہائش ، بے روزگاری ، اور دیگر مسائل پیدا ہونگے ۔بے روزگاری نہ صرف پرشان کن ہے بلک یہ نہ امیدی اور منشیات کی طرف بھی مائل کرتی ہے ۔ اور اگر انسان کو منشیات کی لت لگ جائے تو وہ اس سے مختلف  کاموں میں پڑ جاتا ہے جیسے چوری چکاری ، امن کی خرابی اور دہشت گردی وغیرہ ۔
                          ہمارا معاشرہ اب بھی مردوں کا معاشرہ ہے ۔جہاں مردوں کو انکی مرضی اور حاکمیت حاصل ہے ۔ خاص طور پر لڑکوں کو اب بھی اہمیت دی جاتی ہے کچھ گھرانے لڑکوں کی پیدائش کے لیے لڑکیوں کی لمبی لمبی لائن لگا دیتے ہیں ۔ اولاد کو اللہ تعالیٰ کی دین سمجھ کر بچوں کی لائن لگا دیتے ہیں اور یہی بڑھتی ہوئی آبادی ،بے روزگاری ،تعلیم کی کمی میں اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے اولاد اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتی ہے پر اسی خدا نے اعتدال کا حکم بھی دیا ہے انسان کو ۔زیادہ اولاد  ماں اور  بچے دونوں کے لیے ٹھیک نہیں ۔ اس سلسلے میں تعلیم بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور بچوں کی تعلیم کا ویسے بھی اولاد سی سیدھا تعلق ہوتا ہے ۔نیشنل انسٹیٹیوٹ اف پاپولیشن کے مطابق لڑکی جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہو گی اس کا گھرانہ اتنا ہی چھوٹا ہوگا ۔
                            ہمارے ملک میں بے روزگاری ،غربت، مہنگائی ،خوراک،صحت اور تعلیم کے بہت مسائل ہیں ۔ہسپتالوں میں مریضوں کی لمبی لائن لگی ہو ہیں ۔یہ بڑھتی ہوئی آبادی اور گاؤں سے آنے والے لوگوں کی وجہہ سے ضروریات نہ کافی ہیں ۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہہ سی ہمارے ملک میں کمانے والے کم اور کھانے والے زیادہ ہیں ۔ زیادہ آبادی کو اجتماہی طور پر بھی خطرہ ہے جیسے بجلی ،گیس پانی فراہم کرنا بھی ایک اہم اور سنگین مسئلہ ہے ۔ جس کی وجہہ سے فیکٹری بند ہو رہی ہیں ،روزگار ختم ہو رہے ہیں اور پیداوار متاثر ہو رہی ہے ۔فیصلآباد جو کھبی پاکستان کا مانچسٹر بولا جاتا تھا اب وہاں کی صنعتیں بھی بند پڑھی ہیں ۔اس کی وجہہ سے ایک مزدور ، کارخانے اور ملک کی معیشت پر برا اثر ہوا ہے ۔گھروں کو گیس دینے کے لیے فیکٹریوں کی گیس بند کر دی گئی ہے ۔ لوگوں کو بھی فکر نہیں ہیں فیکٹری بند ہوتی ہے تو ہو ۔ مختلف منصوبے جیسے میٹرو ،اورینج ٹرین کی ہر گز ضرورت نہیں تھی لیکن اربوں روپے کے اس میگا پروجیکٹ کو کھڑا کیا گیا جب کہ ترقی ،صحت ،خوراک کے منصوبوں کو رد کر دیا گیا ۔
                         اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ملک کو ترقی پذیر ملک بنائیں۔ ہمیں چاہیے مرد اور عورت دونوں مل کر ملک کے لیے کام کریں اور اپنے ملک کو دیگر مسائل سے نکالیں اور اپنے ملک میں رہنے والوں کی ہر ضرورت پوری کریں ۔ اس میں حکومت کی بھی کچھ ذمہداری ہے کہ وہ مختلف منصوبے بنائیں اور اپنی عوام کو ریلیف مہیا کرے ۔تب ہی معاشرہ ترقی کرے گا ۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • کراچی کنٹونمنٹ کے انتخابات اور کراچی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی کنٹونمنٹ کے انتخابات اور کراچی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات گزشتہ دنوں منعقد ہوئے اس انتخابات کے لئے تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے کراچی میں چھ کنٹونمنٹ بورڈز ہیں جن کو 42 وارڈوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان 42نشستوں کے لیے 354 امیدوار کھڑے کیے گئے تھے۔ جن کے رجسٹر ووٹرز کی مجموعی تعداد 466،522 بنتتی ہے۔
    یہ معرکہ پاکستان تحریک انصاف نے چودہ سیٹوں کے ساتھ سر کر لیا جبکہ گیارہ سیٹوں کے ساتھ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر رہی۔تیسرا نمبر آزاد امیدواروں نے چھ سیٹوں کے ساتھ حاصل کیا اس کے علاوہ جماعت اسلامی پانچ سیٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر اور ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ نواز تین تین سیٹوں سے پانچویں نمبر پر رہیں۔
    کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (CBC) کراچی کا سب سے زیادہ آبادی والا کنٹونمنٹ علاقہ ہے جہاں کی مجموعی آبادی 305،938 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹرز 190،280 ہیں یہاں 10 وارڈوں میں 104 امیدوار میدان میں تھے۔پیپلز پارٹی چار،تحریک انصاف،جماعت اسلامی اور آزاد امیدواروں نے دو دو نشستیں حاصل کیں۔
    کنٹونمنٹ بورڈ فیصل (CBF) دوسرا سب سے بڑا کنٹونمنٹ علاقہ ہے جس کی زیادہ تر آبادی اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے اور ایک زمانے میں یہ علاقہ ایم کیوایم کا تصور کیا جاتا تھا یہاں کی مجموعی آبادی296،469 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹر 159،983 ہیں اس علاقے کو بھی 10 وارڈمیں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 88 امیدوار کونسلر کی نشست کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے۔یہاں تحریک انصاف نے چھ ،پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی،مسلم لیگ نواز اور آزاد امیدوار ایک ایک نششست حاصل کی۔
    علاوہ ازیں کنٹونمنٹ بورڈ ملیر کے دس واڈوں کے کونسلر کی نشستوں کے لیے 66 امیدوار میدان میں تھے یہاں کی مجموعی آبادی 139،052افراد پر مشتمل ہے جن میں صرف 36،447 افراد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔یہاں بھی پاکستان تحریک انصاف نے اپ سیٹ کیا اور پانچ نششستیں حاصل کیں جبکہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے دو دو اور ایک سیٹ آزاد امیدوار نے حاصل کی۔
    کورنگی کریک کنٹونمنٹ بورڈز میں پانچ وارڈ ہیں جن کی آبادی 57،745 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 21,424 ہے اور یہاں 49امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔مسلم لیگ نواز دو نشستوں پر اور ایم۔کیوایم،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک ایک نشستوں پرکامیاب ہوئے۔
    کراچی کنٹونمنٹ بورڈ KCBکراچی کا قدیم کنٹونمنٹ علاقہ ہے یہاں کی مجموعی آبادی 68,877افراد پر مشتمل ہے اور رجسٹرڈ ووٹر 36,970ہیں اس علاقے کے پانچ واڈوں کے لئے 40امیدوار میں مقابلہ تھا اوریہاں ایم کیو ایم نے دو پیپلز پارٹی نے ایک جبکہ دو آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔
    جزیرہ نما کنٹونمنٹ بورڈ منورہ کراچی کا سب سے چھوٹا کنٹونمنٹ بورڈ ہے جہاں صرف دو وارڈ ہیں جن میں7 امیدوار میدان میں تھے ، اس کی آبادی صرف 5،874 افراد پر مشتمل ہے اورجس میں سے صرف 3،544 افراد رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔
    یہاں کی دونوں نششستوں پر پیپلز پارٹی کامیاب ہوئ۔
    تحریک انصاف وہ واحد جماعت تھی جس نے تمام 42 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے یہ بڑی خوش آئیند بات ہے کہ اگر قومی سیاست میں کامیابی کو مضبوط بنانا ہے تو گراس روٹ لیول پر بھی اپنا قبضہ پکا کرنا ہو گا اور رفتہ رفتہ تحریک انصاف اس میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے ایم کیو ایم کے اندرونی انتشار کے بعد کراچی کی سیاست میں جو خلاء پیدا ہوگیا تھا اسے تحریک انصاف پر کرتی نظر آرہی ہے اور یہاں کا ووٹر مہنگائ پر شکایت تو کرتا نظر آتا ہے لیکن ووٹ صرف تحریک انصاف کو ہی دینا چاہتا ہے۔۔اللہ کرے کراچی کے ووٹرز تحریک انصاف اور عمران خان صاحب سے جو توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں وہ جلد پوری ہوں۔

    @Azizsiddiqui100

  • جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی کی حالات  تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی کی حالات تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ء۱۹۴۳ میں دیوبند کی اس سرزمین میں پیدا ہوئے جس سے پھوٹنے والے علم کے فواروں نے ایک دنیا کو سیراب کیا ،دس سال کی عمر میں اپ نے درسی نظامی کا آغاز کیا اور سترہ سال کی عمر میں اس کی تکمیل کرکے فارغ ہوئے ،تاہم انہوں نے درسی نظامی کی چند کلیوں پر قناعت نہیں کی ،بلکہ اس نصاب کےپڑھنے سے حاصل ہونے والی صلاحیت واستعداد کو علم کے مقفل دروازوں کی چابی سمجھ کر اسلام کے وسیع کتب خانے کی طرف بڑھے اور علوم کے بند دروازے وا کرتے رہے۰۰۰۰۰تاریخ کا مطالعہ کیا ،فقہ کو تعمق سے دیکھا ،تفسیر واصول تفسیر پر بار بار نظر ڈالی ،حدیث سے متعلقہ علوم کو محنت سے پڑھا اور ادب کی چاشنیاں چکھنے کیلئے راتوں جاگے۰۰۰۰۰۰۰ساتھ ساتھ عصری علوم کی طرف توجہ دی ،۱۹۵۸ میں پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی کا امتحان امتیازی نمبرات سے پاس کیا ،۱۹۶۴ میں کراچی یونیورسٹی سے بی،اے کا امتحان دیا ،۱۹۶۷ میں کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کا امتحان دوسری پوزیشن اور ۱۹۷۰ میں ایم اے عربی کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پہلی پوزیشن لے کر پاس کیا ،جدید معاشیات کا مطالعہ کیا اور اس میں مہارت ہی نہیں مجتہدانہ بصیرت حاصل کی اور پاکستان کیطرح ہر مغرب زدہ ملک پر چھائی ہوئی انگریزوں کی وہ زبان سیکھی جس سے واقفیت ایک عالم دین کیلئے اس دور میں اسلام کےموثر تبلیغ کے نقطہ نظر سے ہن صرف استحسان بلکہ ضرورت کی حدود میں داخل ہے اور جس کو جنٹلمین طبقہ کسی انسان کی سعادت وقابلیت کی علامت ومعیار سمجھتا ہے اور یوں وہ قدیم وجدید ،دینی،دنیوی علوم کے ایسے سنگم بن گئے جس میں مختلف علوم کی حسین لہریں جمع ہیں.اردو ان کے اپنے گھر کی لونڈی ہے،عربی ان کے جیب کی گھڑی ہےاور انگریزی وہ ضرورت کے تحت لکھتے اور بولتے ہیں ،اللہ تعالی نے ان کے قلم کی غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا ہے،شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کی لکھی ہوئی مسلم شریف کی شہرہ افاق لیکن نامکمل شرخ "فتح المہلم” کا”تکملہ”لکھا اور ایسا لکھا کہ اگراور کچھ بھی نہ لکھتے تو یہ ان کی زندگی کی قیمت وصول کرنے کیلئے کافی تھا،اگر کسے مصنف کے حصے میں صرف یہی کتاب آجائے تو اس کو زندہ وجاوید بنادے۰

    ان کے علم ومطالعہ میں انہماک کو دیکھ کر کچھ ولمی حوصلہ ہونے لگتا ہے کہ کتابوں میں اہل علم کا جو وصف پڑھا ہے اس سے متصف کچھ لوگ ہماری اس فضا میں موجود ہیں جس میں ہم سانس لے رہے ہیں،وہ خود فرماتے ہیں:”روئے زمین پر لکھنا پڑھنا مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب وعزیز ہے اور ہر وقت کسی نہ کسی مسلہ میں میرا ذہن مشغول رہتا ہے۰”انہوں نے طلبہ سے اپنے ایک حالیہ خطاب میں فرمایا:

    "طلب علم نام ہے ایک نامٹنے والی پیاس کا ،میرے والد ماجد رح فرماتے تھے کہ طالب علم کی تعریف یہ ہے کہ جس کے دماغ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی مسلہ چکر کاٹ رہا ہو ،علم بڑی محنت اورطلب چاہتا ہے اور بڑی بے نیاز چیز ہے،محنت اور طلب کے بغیر ادمی کو وہ اپنا کوئی ذرہ بھی نہیں دیتا ،العلم لا یعطیک بعضہ حتی تعطیہ کلک طلب علم کا ذوق جب پیدا ہوجائے گا تو یقین رکھو اگر میں قسم کھاؤں تو حانث نہ ہوں گا کہ اس کائنات میں طلب علم سے زیادہ لذیذ چیز کوئی نہیں ،بشرطیکہ طلب علم کی حقیقت حاصل ہو،تمھہیں اپنا حال بتاتا ہوں ،عرصہ دراز سے ایسے حالات میں گرفتار ہوں کہ اس بات کو ترستا ہوں کہ مجھے مطالعہ کا وقت ملے ،پانچ منٹ بھی اگر نصیب ہوجاتے ہیں تو بڑی ہی حوشی ہوتی ہے۰۰۰۰جب میں نے دورہ پڑھا تھا تو پندرہ سال کی عمر تھی سولویں سال میں فراغت ہوئی تھی ،سبق کے علاوہ میرے اوقات کتب خانے میں گزرتے تھے،پڑھنے کے زمانے میں صحیح بخاری کیلئے عمدۃ القاری ،فتح الباری ،اور فیض الباری کا مطالعہ کیا کرتاتھا,مسلم شریف کیلئے فتح المہلم ،سنن ابی داؤد کیلئے بذل المجہود اور ترمذی شریف کیلئے کوکب الدری کامطالعہ کرتاتھا چونکہ اس کیلئے وقت چاہئے تھا اس لئے میں نے کسی طرح ناظم کتب خانہ کو اس بات پر راضی کرلیا تھا کہ دوپہر کے وقفہ میں وہ گھرچلے جایا کریں "اور باہر سے کنڈی لگا کر مجھے اندر بند کردیا کریں،چناچہ وہ باہر سے تالا لگا کر چلے جایا کرتے تھے اور میں اندر مطالعہ کرتا رہتا تھا ،دوران مطالعہ مذکورہ کتابیں تو پڑھتا ہی تھا،ساتھ ساتھ کتب خانہ کی ساری کتابوں کے متعلق یہ معلومات بھی ہوگئ تھیں کہ کونسی کتاب کس موضوع پر ہے اور کہاں ہے ،ناظم کتب خانہ کو جب کتاب نہیں ملتی تھی تو مجھے بلاتے اور میں انہیں بتادیتا۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰مطالعہ کی وہ لذت مجھے آج بھی نہیں بھولتی۰۰۰۰۰۰۰تیس پینتیس سال سے ترمذی شریف پڑھارہا تھا اس لئے مطالعہ میں کوئی نہیں بات نہیں آتی تھی جب سے بخاری شریف کا سبق میرے پاس آیا تو مطالعہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس کے لئے اپنے اپ کو دوسرے کاموں سے فارغ کیا،اب دوبارہ وہ لذت لوٹ آئی ،ایسا لگتا ہے کہ وہ لذت مطالعہ گمشدہ متاع تھی،اب مل گئی،مطالعہ میں سبق پڑھانے کیلئے نہیں کرتا،مطالعہ کا شروع سے میرا حساب کتاب یہ ہے کہ بیچ میں جب کوئی بات اگئی،کوئی بھی سوال پیدا ہوگیاتو پھر مجھ سے ممکن نہیں ہےکہ میں آگے بڑھوں،جب تک مختلف مراجع میں اس کی تحقیق نہ کرلوں،چاہے وہ بات سبق میں بیان کرنے کی کی ہو،یا نہ ہو،میں اپ سے سچ کہت ہوں کہ اس سے زیادہ لذیذ چیز دنیا میں کوئی نہیں ہے،اللہ نے بہت لذتوں سے نوازا،دنیا کی لذتوں سے بھی بہت نوازا،اتنی کہ شاہد ہی کسی کو نصیب ہوئی ہوں لیکن جو لذت اس میں پائی وہ کسی میں نہیں ہے۰”

    وقت قدر اور راہ علم میں محنت کا جذبہ ان کو اپنے عظیم والد سے ورثہءمیں ملا ہے،جب کسی محفل ومجلس میں جاتے ہیں اور ابھی ان کے خطاب میں کچھ وقت باقی ہو،اس عرصے میں وہ تسبیح لے کر ذکر شروع کردیتے ہیں تاکہ یہ مختصر سا وقت بھی رائیگاں نہ جائے،سفر کے دوران بھی لکھنے پڑھنے میں مشغول رہتے ہیں اور کوئی لمحہ ضائع جانے نہیں دیتے ،خود انہوں نے فرمایا______

    آسی پہ غنیمت ہیں تیری عمر کے لمحے 

    وہ کام کر اب،تجھ کو جو کرنا ہے یہاں آج

    اللہ تعالی حضرت کی عمر میں برکت دے اور ہم سب کو عمر کے لمحوں کن غنیمت جاننے اور آج کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۰امین۰

    ‎@Tareef1234