Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • خودکشی تحریر:فاروق زمان

    خودکشی تحریر:فاروق زمان

    خود کشی ایک حرام فعل ہے، ایسا قبیح فعل جس میں انسان غیر قدرتی طریقے سے اپنی جان لے لیتا ہے اور خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے۔ مردوں میں خودکشی کی شرح زیادہ یے، جبکہ خواتین میں خودکشی کی شرح کم ہے۔  مردوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کا رجحان بڑھتا ہے اور خواتین میں عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کا رجحان کم ہو کر  تقریبا ختم ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کامیاب سمجھے جانے والے لوگ بھی خودکشی کرتے ہیں جن میں شاعر، اداکار، ادیب، بزنس مین وغیرہ شامل ہیں۔ خودکشی کرنے والا چاہے جتنا بھی اچھا انسان ہو اس کی شخصیت مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔ خودکشی کی موت خاندان اور خودکشی کرنے والے سے منسلک ہر شخص پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ لوگ خاندان والوں کا دکھ درد سمجھنے کی بجائے عجیب رویہ اپناتے ہیں، کھوج میں لگ جاتے ہیں۔ خاندان کے لوگ بھی خود کشی کی وجوہات ہر بات نہیں کرنا چاہتے،  خود کشی کو حادثاتی موت کا رنگ دیا جاتا ہے۔ اس لئے خودکشی کی روک تھام کے لیے اس حد تک آگاہی نہیں ہوپاتی جتنی ضرورت ہے۔
    خودکشی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لوگ اپنی زندگی اور خود سے مایوس ہو جاتے ہیں انہیں سب کچھ بے مقصد لگتا ہے۔ زندگی سے کوئی امید باقی نہیں رہتی۔  لوگ گھریلو جھگڑوں سے دلبرداشتہ ہوکر اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں۔ لوگ غربت، معاشی مسائل، بےروزگاری، خود اعتمادی کا فقدان، احساس کمتری، وجود کا بحران، تعلیم میں ناکامی، ذہنی دباؤ، زہنی الجھنیں، ٹینشن، کاروبار، محبت میں ناکامی اور کئی معمولی وجوہات کی بنا پر بھی موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔
    پچھتاوا بھی خودکشی کی وجہ ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہو کر بھی لوگ خود کشی کر لیتے ہیں۔
    ڈپریشن خودکشی کی سب سے بڑی وجہ میں سے ایک ہے۔ ڈپریشن میں منفی خیالات دماغ پر قابو پا لیتے ہیں اور کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ڈپریشن میں خودکشی کے خیالات متواتر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ تنہائی، ذہنی دباؤ، پریشانی وغیرہ خودکشی کی سر فہرست وجوہات میں سے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لوگ ذہنی بیماریوں اور ان کے علاج کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک یہ خود بہ خود ہی ٹھیک ہو سکتی ہیں۔ لوگ اپنے متعلق ذہنی بیماریوں کا کسی کو نہیں بتاتے۔ اپنی تکالیف کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ دماغی بیماریوں کو شرمندگی اور ندامت کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح معمولی نوعیت کی بیماریاں جو تھوڑی سی توجہ اور کوشش سے ٹھیک ہو سکتی تھی وہ پیچیدگیی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اگر ڈیپریشن کے مرض کی ابتدا ہی سے اس کے علاج کے لئے سدباب کیا جائے تو یہ علاج کے زریعے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اور  بات خودکشی تک پہنچے ہی نہ۔ دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں ذہنی امراض کے علاج کے لیے لیے ذرائع کافی محدود ہیں۔
    مذہب سے دوری خودکشی کی اہم وجہ ہے۔ اگر لوگ مذہب کے مطابق زندگی بسر کریں،تو وہ خود کو خودکشی سے باز رکھ سکتے ہیں۔ اسلام میں خودکشی کو حرام اور ناپسندیدہ ترین فعل قرار دیا گیا ہے۔ اسلام امن وامان، برداشت، درگزر اور امن سلامتی کا درس دیتا ہے۔زندگی ایک نعمت ہے اور اپنی جان لینا نعمت کو ضائع کرنا اور اللہ کی خوشنودی سے محروم ہونے کے مترادف ہے۔
    خود کشی کی روک تھام
    بہت ضروری ہے۔ ہمیں اس میں اپنا کردار کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے مثبت رویہ اپنائیں اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ۔ کسی کے ساتھ برا رویہ نہ رکھیں ۔کبھی کسی کو ایسے کلمات  نہ کہیں جو کسی کو خودکشی کی طرف مائل کر سکتے ہوں۔ خود پر بھی توجہ دیں اگر آپ کے دماغ میں منفی خیالات آتے ہیں تو حتی الامکان ان سے بچنے کی کوشش کریں اور ان سے چھٹکارہ پائیں۔ بے جا سوچوں کو دماغ میں جگہ نہ دیں۔ صحت مندانہ طرز زندگی اپنائیں۔ خود کو وقت دیں۔ زندگی بہت خوبصورت ہے آپ کا ، ہم سب کا اس پر حق ہے۔ ناامیدی کفر ہے۔ غربت، پریشانی، نامسائد حالاتِ اللّٰہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر آتے ہیں۔کوئی بھی تکلیف دائمی نہیں ہوتی۔ جیسے بھی حالات ہوں آپ صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔  برداشت اور تحمل مزاجی کو اپنائیں۔ اپنے جذبات پر قابو پائیں اور اپنے آپ کو پرسکون رکھیں۔ زہنی دباؤ کا مقابلہ کریں۔ زندگی سے مایوس ہو کر موت کو گلے لگانے کی بجائے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں روشنی پیدا کریں۔ اچھے کام کریں، دوسروں کے کام آئیں۔ با مقصد زندگی گزاریں۔ نیکی کے کام کریں اور انہیں پھیلائیں۔ نماز پنجگانہ ادا کریں۔ قرآن کریم کی تلاوت کریں، یقینا اس میں دلوں کا سکون ہے۔
    اپنے جذبات و احساسات اپنے سے قریبی لوگوں کے سے شیئر کریں۔ ان پر اعتبار کریں۔ خود  کو پہچانیں اور خود کو موت کے حوالے کرنے کے بجائے زندگی کی طرف قدم بڑھائیں
    متوازن سوچ کے ساتھ کے ساتھ اچھی زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، اگر کوئی ذہنی دباؤ کا شکار ہے یا توجہ کا مستحق ہے تو اسے وقت دیں۔ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور زندگی سے مایوس لوگوں کو زندگی کی طرف واپس لائیں اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔
    حکومت کو چاہیے کہ ذہنی امراض کے علاج معالجے کے لئے ہسپتال اور کاونسلنگ مراکز  قائم کریں۔ ذہنی امراض کے شکار مریضوں کے علاج معالجے کے لیے فنڈز  کی رقوم مختص کریں۔ ذہنی اور دماغی امراضِ کے علاج کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ اگر آپ کو کوئی ذہنی بیماری ہے تو لازما ڈاکٹر کے پاس جائیں اور مکمل علاج کروائیں۔
    کوئی بھی خودکشی کرے تو اس کے قاتل اس کے اردگرد بسنے والے تمام لوگ ہوتے ہیں۔ اس کا قاتل پورا معاشرہ ہوتا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے اس کی خودکشی کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں ہر ممکن حد تک خودکشی سے بچاؤ کی تدابیر کرنا ہوں گی، تاکہ ہم بہت سی جانوں کو حرام طریقے سے لقمہ اجل بننے سے بچا سکیں۔

    @FarooqZPTI

  • قصہ ایک پاکستانی کا تحریر محمد وقاص شریف

    قصہ ایک پاکستانی کا تحریر محمد وقاص شریف

    ایک دفعہ کا ذکر ہے 

    میری عمر 47سال ہے اور آٹھ سالوں سے بغیر لائسنس موٹرسائیکل چلا رہا ہوں،آج تک کوئی چالان نہیں ہوا۔پورے عرصے میں دو بار روکا گیا،فوتگی کا بہانہ کیااور چل سو چل۔ٹی وی پر ہیلمٹ کے بارے میں آگاہی مہم دیکھی،کافی متاثر ہوا،ساتھ ہی جرمانے کے خوف نے جنم لیا تو وددھ والے کے بل سے پیسے کٹ کیے اور ہیلمٹ خرید لیا۔ایک دن ذہن میں آیا کہ میں بھی ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے بائیک ڈرائیونگ لائسنس بنوا لوں،حالانکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔99%لوگ بائیک اور کار لائسنس اکٹھا اپلائی کرتے ہیں اور جن کے سر پر استاد ہوتا ہے وہ بنوا بھی لیتے ہیں،جب میں نے موٹرسائیکل لائسنس کیلئے اپلائی کیا تو مجھے احساس ہواکہ پاکستان میں شاید لیگل طریقے سے لائسنس بنوایاہی نہیں جا سکتا،وہ پاکستان جہاں کے40%لوگ آج بھی ان پڑھ ہیں،ان سے کہا جاتا ہے کہ پہلے تحریری ٹیسٹ دو پھر ٹریفک اشارے جوکہ 140ہیں،ان کا ٹیسٹ دو پھر گاڑی کا ٹیسٹ دو پھر لائسنس ملے گا۔اگر ایک دن میں 100لوگوں نے لائسنس کے لئے اپلائی کیا ہے تو ان میں سے 70%ان پڑھ ہوتے ہیں،لہٰذا 60سے70لوگ تحریری ٹیسٹ میں فیل ہوجاتے ہیں،باقی میں سے90% لوگ اشاروں میں رہ جاتے ہیں جن 5سے8کو کلیئر کیا جاتا ہے ان میں سے90%چاچے مامے،بھانجے بھتیجے اور دوست احباب ہوتے ہیں۔میں نے لائسنس پر اس میں یہ بات شدت سے محسوس کی کہ تحریری ٹیسٹ اور اشاروں کو امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔سنٹر میں یہ جملہ بار بار سننے کو ملا کہ اشاروں میں امیدوار خزاں کے پتوں کی طرح گریں گے اوربالکل ایسا ہی ہوا۔میں نے صرف موٹر سائیکل کے لائسنس کے لئے اپلائی کیا تھا لیکن مجھ سے موٹروے والے اشارے پوچھے گئے،جہاں موٹر سائیکل کی اجازت ہی نہیں ہے۔صوبہ پنجاب کا چپہ چپہ جانتا ہوں مگر ان 140اشاروں کا ذکر خیر90%سڑکوں پر نظر نہیں آتا۔”کیا یہ کھلا تضاد نہیں”افسوس مجھے اُس وقت بہت زیادہ ہوا جب بڑے بڑے ماہر ڈرائیور جن کو میں 20سال سے ڈرائیونگ کرتے دیکھ رہا ہوں،تحریری ٹیسٹ اور اشاروں کی نظر ہوگئے۔اگر کوئی بدقسمت اپنے گھریلو حالات یا تقدیر کے لکھے کی بنا پر تعلیم حاصل نہیں کرسکاتو اُس کو جینے کا حق تو بہرحال ہے! اُس کی فیملی بھی ہے،وہ بچوں کو بھی پڑھانا چاہتا ہے۔مستقبل کے ئے کچھ محفوظ بھی کرنا چاہتا ہے،اپنے گھر کی بھی خواہش ہے۔کیا ان پڑھ اس معاشرے کا حصہ نہیں ہے؟ کیا ان کے حقوق نہیں ہیں؟ اگر اس کے پاس ڈرائیونگ کا واحد ہنر ہے تو وہ گاڑی نہیں چلائے گا تو کیا کرے گا۔کیا حکومت کے پاس اس کا کوئی حل ہے؟ کیا ایسے لوگوں کے بارے میں کبھی سوچا گیا کہ ان کو قومی دھارے میں کیسے لانا ہے،ان کے ہنر کو کس طرح قانوناً بنانا ہے۔شاید حکومت کے پاس نہ یہ سوچ ہے اور نہ اس کا حل ہے کیونکہ وہ گڑھے مردے اکھاڑنے میں لگی ہوئی ہے،شریف برادران سے اربوں روپے وصول کر لیے ہیں،اب زرداری سے کھربوں نکلوا لیں گے اور معیشت آسمان پر چلی جائے گی،ایسا نہیں ہوتا ہے۔اگر اندھوں،بہروں، گونگوں،ذہنی اور نفسیاتی مریضوں کو پڑھا یا جاسکتا ہے تو ان ہٹے کٹے نوجوانوں کو کیوں نہیں پڑھایا جاسکتا،جن کا ہنر جہالت کے ملبے میں دبا ہوا ہے۔مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تو ایک حل ذہن میں آتا ہے کہ جو ڈرائیور لمبے عرصے سے گاڑی چلارہے ہیں یا جو  ان پڑھ ڈرائیونگ سیکھنا چاہتے ہیں اور لائسنس کے بھی خواہشمند ہیں،حکومت ان کے لئے ایک ادارہ بنائے،ان کو خود ٹرینڈ کرے۔ ٹریفک قوانین پر لیکچرز دیئے جائیں۔اشاروں سے آگاہی دلائی جائے اور کامیاب لوگوں کو لائسنس جاری کئے جائیں تاکہ وہ باعزت اور ذمہ دار پاکستانی کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں۔

    @joinwsharif7

  • پاکستان کا موجودہ نظام تحریر: محمد عمران خان

    وقت نے ثابت کر دیا کہ کرپٹ نظام کو جب تک جڑ سے نہیں اکھاڑ پھینکا جاتا پاکستان مصائب کی دلدل سے نہیں نکل پائے گا۔ عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ آج تک اپنا نجات دہندہ آئین پاکستان کے حقیقی نفاذ کے بجائے کرپٹ عناصر میں ہی تلاش کر رہے ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ عوام قاتلوں، لٹیروں، ذخیرہ اندوزوں، منی لانڈرنگ کرنے والوں، بھتہ مافیا، قبضہ مافیا اور کرپشن کے شہنشاہوں میں ہی اپنا مسیحا تلاش کرنے پر بضد ہے۔ عوام کی بیوقوفی کا یہ عالم ہے کہ مسئلہ کشمیر پہ سالہاسال سے نعروں اور درحقیقت کشمیر کیس کو کمزور سے کمزور ترین کر دینے والے کرپشن کے دلدادہ سرمایہ دار وڈیرے حکمرانوں سے ابھی تک امیدِ خیر لگائے بیٹھے ہیں جن کا بزنس، جائیداد اولاد سب تو بیرون ملک ہیں بس کرپشن کا بازار گرم رکھنے کیلئے اقتدار کے ایوانوں پہ قابض رہنا اپنے اور اپنی اولاد کیلئے لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔ جو اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے نہتے پر امن شہریوں تک پہ ظلم کے پہاڑ توڑنے سے گریز نہیں کرتے اُن سے کیسے امید رکھی جا سکتی ہے کہ کشمیر میں بلکتے بچوں، تار تار چادر لیے سسکتی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی فریاد کوئی خاص اہمیت رکھتی ہو گی۔ بینظیر، نواز شریف، مشرف، زرداری، عمران کے ادوار کو ہی لے لیں کوئی ایک حکمران ایسا نہیں آیا جس نے اقتدار سے ہٹ کے عوامی مسائل کا سوچا ہو۔ ایسے میں اگر کسی نے آئین کے حقوق کی پُر امن آواز بلند کی، بزور کچلنے کیلئے ریاستی محافظوں کو ہی دہشتگرد بنا کے سامنے لا کھڑا کیا۔ ماڈل ٹاؤن ہو یا انقلاب مارچ کیلئے نکلنے والے پُر امن قافلوں کا احوال یا 30، 31 اگست 2014 کی درمیانی رات ہر جگہ بربریت کی اِک نئی داستان رقم کی گئی۔ سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہاؤس، پریزیڈنٹ ہاؤس اور اردگرد کی عمارتوں کے درو دیوار گواہ ہیں کہ کس طرح اقتدار کے نشے میں بدمست نواز شریف اینڈ کمپنی نے ماڈل ٹاؤن میں ناحق قتل ہونے والے چودہ معصوم لوگوں کا انصاف مانگنے والے پُرامن ہزار ہا مرد و زن کو وزیراعظم ہاؤس کے سامنے سڑکوں پہ نشان عبرت بنا کر فرعون، نمرود، یزید تک کو پیچھے چھوڑ دیا۔ تاریخ گواہ رہے گی جیسے فرعون نمرود یزید رہتی دنیا کیلئے نشان عبرت بن گئے ویسے ہی سلاخوں کے پیچھے وی آئی پی پروٹوکول انجوائے کرنے والے سابقہ حکمرانوں کیلئے کڑی سزا لکھی جا چکی ہے۔ اسی دنیا میں وہ آنے والوں کیلئے نشان عبرت بنیں گے۔

    اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو وہاں بھی بھیانک قسم کے کھیل دیکھنے کو ملتے ہیں کہ کس طرح بے دردی سے پاکستان کی عزت و آبرو اور وقار کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا رہا ہے۔ قیام پاکستان سے ہی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے قدم مضبوطی سے جما کر سیاست دانوں سمیت دیگر ملکی اداروں کے اختیارات میں ناجائز طریقے سے مداخلت شروع کردی۔ نتیجتاً ملکی ادارے اتنے کمزور ہوگئے کہ ان کو یا تو گروی رکھوا کر قرض لے لیا گیا یا پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کردیے گئے۔ جس ملک کے ادارے کسی دوسرے ملک کے پاس گروی ہوں اس ملک کا عالمی برادری میں کیا وقار رہ جاتا ہے؟

    اس کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی افسران و ججز کو زمینیں الاٹ کی جاتی رہیں جو آج ایک روایت بن چکی ہے۔ قانوناً ہر ادارے کے ملازمین برابر حقوق رکھتے ہیں مگر یہ انفرادیت صرف اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہاتھ میں رکھ کر ملک کا خوب دیوالیہ نکالا ہے۔ 

    میرے وطن عزیز میں بسنے والے پیارے پاکستانی ہمیشہ سے سبز باغ دکھانے والوں کی مکاریوں کے جھانسے میں آکر لٹتے رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم نسل در نسل اسٹیبلشمنٹ کے غلام بن گئے ہیں۔ اب چاہتے ہوئے بھی موجودہ فرسودہ، استحصالی، کرپٹ، دھن، دھونس اور بدمعاشی پر مبنی نظام کو تبدیل کرنا ممکن نظر نہیں آتا

  • تذکیہ نفس اور حقیقی کامیابی   تحریر: احسان الحق

    تذکیہ نفس اور حقیقی کامیابی تحریر: احسان الحق

    سورہ الشمس میں اللہ رب العالمین نے گیارہ قسمیں کھانے کے بعد فرمایا کہ وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کا تذکیہ کر لیا. اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی کامیابی کی تعریف ہماری تعریف سے مختلف ہے. اللہ تعالیٰ نے کامیابی کی تعریف بھی بتا دی اور کامیابی حاصل کرنے کے 3 اصول بھی واضح طور پر سمجھا دیئے ہیں. ہمارے خیال میں دنیا کی ترقی ہی کامیابی ہے. دنیا میں کامیابی دنیاوی لحاظ سے تو ٹھیک ہے کیونکہ دنیا میں سہولیات سے فائدہ اٹھانا درست ہے مگر حقیقی کامیابی اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں رہتے ہوئے اعمال صالحہ کرتے کرتے فوت ہوا، اللہ تعالیٰ نے اس کو جہنم سے نجات دی اور اسکو جنت میں داخل کر دیا، ایسا شخص حقیقی کامیاب ہے.

    اللہ تعالیٰ نے حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے قرآن مجید میں تین اصول ارشاد فرمائے ہیں. پہلا اصول "تذکیہ نفس” مطلب نفس کو پاک کرنا. حقیقی کامیابی کا پہلا ضابطہ اور اصول یہ کہ جس انسان نے اپنے نفس کا تذکیہ اور محاسبہ کرتے ہوئے اپنے نفس کو پاک اور طاہر بنا لیا اور خود کو گناہوں سے بچا لیا، وہ شخص کامیاب ہے.

    "تذکیہ” کا لغوی معنی ہے کہ پاکیزگی اور طہارت حاصل کرنا اور دوسرا مطلب زکوٰة سے ملتا ہے جس کا مطلب پاک کرنا اور "بڑھانا” ہے. جیسے زکوٰة دینے سے آپ کا مال پاک ہوتا ہے اور دوسرا اس مال میں برکت حاصل ہوتی ہے، گویا تذکیہ نفس کا مطلب ہوا کہ اپنے باطن اور نفس کو گناہوں سے پاک کرنا، معافی طلب کرتے ہوئے گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرنا اور اپنی نیکیوں اور اجروثواب میں اضافہ کرنا. ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم سے نجات دے دیتے ہیں اور جنت میں داخل فرما دیتے ہیں. جس شخص کو جہنم کی آگ سے بچا لیا جائے اور اس کو جنت کا داخلہ مل جائے وہی شخص کامیاب ہے. اللہ رب العزت جس شخص کے بارے میں فیصلہ فرما دیں کہ اس شخص کو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کرنا ہے، وہی شخص حقیقی فلاح اور کامیابی پانے والا ہے.

    صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کے بارے میں ارشاد فرمایا. آپ رسولﷺ نے فرمایا کہ میری ساری امت کی تمام عافیت، بہتری، فلاح اور برتری پہلے دور میں ہے مطلب "ابتدائی خلفائے راشدین کا دور”. بعد کا دور بدعات اور فتنوں کا دور ہے. آپ لوگ ایسے ایسے کام دیکھیں گے جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہونگے. لوگ عبادت سمجھتے ہوئے ان فتنوں اور بدعات کو قبول کر لیں گے. آپ لوگ اپنے علم کی بنیاد پر سوچیں گے کہ یہ کام نہ قرآن مجید میں ہے اور نہ ہی صحیح احادیث میں، پھر بھی لوگ اس کام کو نیکی اور باعث اجروثواب سمجھ کر کر رہے ہونگے. اس وقت فتنوں کے دور میں، جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کو جنت میں داخلہ مل جائے اور جہنم سے چھٹکارا حاصل ہو جائے تو اس بندے کو جب موت آئے تو عقیدہ توحید اور عقیدہ سنت پر موت آئے مطلب آخر تک عین اسلام پر ڈٹا رہے، آخرت پر اس کا پورا یقین ہو، اعمال صالحہ کرتے ہوئے اس کو موت آ لے تو ایسا شخص حقیقی کامیاب ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد عالیشان کا مطلب ہے پرفتن دور میں ہر شخص اپنے آپ کو فتنوں سے دور رکھے اور صحیح اسلام پر ڈٹا رہے.

    .

    قرآن مجید میں بیان کردہ کامیابی کے 3 اصولوں میں پہلا اصول "تذکیہ نفس” ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے اور جتنا بڑا گناہ اتنا بڑا اور گہرا دھبہ ہوتا ہے. گناہ کرنے سے انسان کا نفس اور باطن مجروح اور سیاہ ہو جاتا ہے اور تذکیہ نفس یا نفس کی پاکیزگی سے اس گناہ کی سیاہی اور گندگی صاف ہوتی ہے. گناہ کی سب سے بھیانک سزا یہ ہے کہ بندہ یکے بعد دیگرے گناہ کرتا جاتا ہے. گناہ سرزد ہونے کے فوراً بعد انسان کو توبہ اور تذکیہ نفس کر لینا چاہئے ورنہ ایک کے بعد دوسرا، اور دوسرے کے بعد تیسرے گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے.

    انسان کے مسلسل گناہوں کی وجہ سے اس کے دل پر سیاہ دھبے لگتے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں. کسی انسان کی زندگی میں ایک ایسا مرحلہ آ سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس بندے کے اور اس بندے کے درمیان حائل ہو جاتا ہے. جب اللہ تعالیٰ کسی بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جائیں تو پھر کوئی بھی اس بندے کو نیکی کی طرف جانے کے لئے تیار نہیں کر سکتا ہے.

    رسولﷺ کے ارشاد کے مطابق "اگر آسمان کے سارے فرشتے آ جائیں، زمین میں مدفن تمام مردوں کو زندہ کر دیا جائے، دنیا میں موجود ہر چیز کو اللہ رب العالمین کی طرف سے زبان دے دی جائے، ریت کے تمام ذرات اور پتوں سمیت ہر چیز کو بولنے کی طاقت دے دی جائے اور وہ سب مل کر اس مہر زدہ بندے کو نیکی کی طرف نہیں بلا سکتے.

    انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اس سے پہلے کہ اس کا یوم محشر حساب ہو، انسان اپنے ضمیر کا معائنہ و محاسبہ کرتے ہوئے تذکیہ نفس کرے اور تمام گناہوں سے توبہ تائب ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مستفید ہو اور حقیقی کامیابی کی سند لے.

    صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ایک بار رسولﷺ تشریف لاتے ہیں اور صحابہ کرامؓ سامنے بیٹھے تھے اور آپ رسولﷺ نے ایک سوال کیا کہ "آپ میں سے کوئی اپنے گھر جائے اور کسی اجنبی کو اپنے گھر میں بیٹھا ہوا دیکھے تو اس کا ردعمل کیا ہوگا؟”

    حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ فوراً بولے کہ میں تلوار کی دھار سے اس آدمی کا سر اس کے ڈھڑ سے جدا کر دونگا. جواب سن کر نبی کریم ﷺ فرمانے لگے کہ سعد کی غیرت کو دیکھو، اس کو بالکل گوارا نہیں کہ کوئی غیر بندہ اس کے گھر میں داخل ہو. اسی طرح اللہ رب العزت کو بھی یہ بات پسند نہیں کہ میرا بندہ میرے علاوہ کسی کی عبادت کرے یا مدد طلب کرے. رسولﷺ مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ "میں سب سے بڑا باغیرت اور باحیا ہوں اور اللہ مجھ سے بڑے باحیا اور باغیرت ہیں”. اللہ تعالیٰ کی صفات میں ایک صفت غیرت بھی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی غیرت مخلوق کی غیرت سے مختلف ہے. اللہ تعالیٰ کی کوئی بھی صفت مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں ہے.

    جناب رسولﷺ فرماتے ہیں کہ میری پوری امت معافی کی مستحق ہے مگر وہ لوگ مستحق نہیں جو کھلے عام گناہ کرتے ہیں یا تنہائی میں گناہ کرنے کے بعد خود لوگوں کو بتاتے پھرتے ہیں اور فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ پیش کرتے ہوئے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ فلاں کام (گناہ) میں نے کیا. بندے نے تنہائی میں گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس گناہ پر پردہ ڈال کر اس بندے کو شرمندگی سے بچا لیا مگر اس بدبخت نے لوگوں میں خود ہی اپنا گناہ بیان کر دیا. یہ دونوں قسم کے بندے بخشش کے لائق نہیں.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت کے کچھ لوگ آخرت کے دن تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں لائیں گے لیکن ان تمام نیکیوں کا ان کو ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہوگا. یہ وہ لوگ ہیں جو تنہائی میں گناہ کرتے ہیں اور محفل میں بڑے متقی اور پرہیزگار ہیں.

    "ایک مومن بندہ شیطان کو تھکا دیتا ہے ایسے جیسے تم لوگ مسلسل سفر کرنے کے بعد تھک جاتے ہو”. اس ارشادِ نبویؐ کا مطلب یہ ہے مومن بندہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور اس ذکر الٰہی کے ہر ورد یا کلمے پر شیطان کی پیٹھ پر کوڑا لگتا ہے. حضرت سفیان ثوری کا قول ہے کہ سب سے زیادہ جس ذکر سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے وہ "لا اله الا الله” ہے. اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو حقیقی کامیابی عطا فرمائیں اور تذکیہ نفس کی توفیق دیں.

    @mian_ihsaa

  • نیا سال مبارک۔۔۔ایک مختلف نقطہ نظر  تحریر ۔ شفقت مسعود عارف

    نیا سال مبارک۔۔۔ایک مختلف نقطہ نظر تحریر ۔ شفقت مسعود عارف

    نیا سال مبارک کے شور میں حقیقت کہاں دفن ہو جاتی ہے اس کے بارے میں کوئی سوچتا ہی نہیں کوئی جوش و خروش سے مبارک دیتا ہے تو کوئی اسے غیر اسلامی کہہ کر تنقید و فتوے جاری کرتا ہے

    مگر حقیقت یہ ہے کہ شمسی اور قمری دونوں طریقہ پر سال و ماہ  کا حساب رکھا جا سکتا ہے اس کا حوالہ سورہ رحمان میں ہے 

    الشمس والقمر بحسبان

    "سورج اور چاند ایک حساب سے ہیں ” یعنی ان کا سائز، لوکیشن وغیرہ کے ساتھ انکی حرکت کی رفتار اور سمت ایک طے شدہ حسابی فارمولا سے ہے اسی فارمولا کے تحت انکی کسی طے شدہ وقت پر کسی جگہ موجودگی کا بالکل صحیح تخمینہ لگایا جا سکتا ہے اسی وجہ سے ان سے ماہ و سال کا صحیح ترین حساب بھی کیا جا سکتا ہے

    جیسے اصحاب کہف کا عرصہ خواب قرآن میں ہے ا300 سال اور 9 مزید ۔ یہ بڑا مختلف سٹائل ہے بتانے کا۔ لیکن اس کا ایک خاص مقصد و مطلب ہے شمسی  حساب سے دراصل 300 شمسی سال 309 قمری سال  کے برابر ہوتے ہیں جیسے ایک شمسی سال 365.2422 دن کا ہوتا ہے جبکہ ایک قمری سال 354.367 دن کا ہوتا ہے

    اب شمسی سال کو 300 اور قمری سال کو 309 سے ضرب دیں تو دونوں کا حاصل ضرب برابر آتا ہے

    مگر یہاں معاملہ شمسی سال جسے عیسوی سال کہتے ہیں یا قمری سال جسے اسلامی سال کہتے ہیں کی تعداد یا گنتی کا ہے جس کی بنیاد پر نئے سال کی مبارک کا غلغلہ اٹھتا ہے 

    جنوری فروری وغیرہ عیسوی مہینوں کے اپنے نام نہیں بلکہ یہ نام تو گریگورین کیلنڈر سے یونانی دیوی دیوتاؤں کے نام پر پہلے سے چلے آ رہے تھے سال کی شمسی گردش کو 12 پر تقسیم کر کے یہ نام رکھے گئے تھے 

    چونکہ سینٹ پال نے جلا وطنی کے کئی سال یونان میں گزارے اسلئے وہ نا صرف وہاں کے بت پرستوں کے عقیدہ تثلیث سے متاثر ہوا جہاں سورج دیوتا، سورج کا بیٹا اور سورج کی بیگم صاحبہ کی خدائی کا تصور تھا اس پر قسطنطین نامی بادشاہ نے جس نے عیسائیت قبول کر لی تھی اور اس کی ترویج کا فیصلہ کیا تھا انہی مہینوں کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا

    لیکن اگر یہ سن عیسوی پر منطبق کریں بھی تو عیسائی 25 دسمبر کو عیسی علیہ السلام کی تاریخ پیدائش مانتے ہیں جو اگرچہ بذات خود بائبل اور قرآن سے غلط ثابت ہوتی ہے تاہم اس بحث میں پڑے بغیر بھی اگر دیکھیں تو  پھر عیسوی سال اگر عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے حساب سے ہے تو یہ سال 25 دسمبر پر ختم اور شروع ہونا چاہئے جو کہ نہیں ہے 2017 سال اگر عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے حساب سے ہو تو وہ تو 25 دسمبر کو ہوئے 31دسمبر کو نہیں اس لئے عیسوی نیا سال یکم جنوری کو تو بنتا نہیں

    اسی طرح قمری سال یکم محرم سے شروع ہوتا ہے اور سال ہجری رسول اللہ کی ہجرت سے شروع ہوتا ہے اسی لئے اسے اسلامی سال بھی کہتے ہیں

    مگر حقیقت یہ بھی بالکل ایسے نہیں ہے کیونکہ ہجرت کا آغاز 26 صفر / 16 جولائی کو ہوا اور یکم ربيع الأول  کو آپ غار ثور سے مدینہ روانہ ہوئے جبکہ قمری مہینے محرم صفر پہلے سے چلے آ رہے تھے اور حج اور تمام حساب انہی مہینوں سے چلتا تھا بلکہ اگر یاد کریں تو ایک طریقہ عربوں میں نسی چلتا تھا جس کے تحت وہ انہی مہینوں کی ترتیب آگے پیچھے کر لیتے تھے چار ماہ تب بھی حرمت والے سمجھے جاتے تھے جن میں جنگ و جدل منع تھا اور عرب اپنی جنگوں کیلئے فرض کر لیتے تھے کہ یہ مہینہ محرم نہیں بلکہ صفر ہے اور کسی اور مہینے کا نام محرم رکھ لیتے تھے لیکن مہینوں کے نام یہی تھے  

    اب دیکھیں جب یہ کہا جاتاہے کہ 1438 سال ہجرت کو ہو گئے تو درحقیقت ایسا مکمل درست نہیں ہوتا اس میں دو ماہ کی گنتی کا فرق ہوتا ہے 

    یوں نیا سال مبارک کہنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ آپ خواہ مخواہ ایک جھوٹ کو جوش و خروش سے منا رہے ہیں اگر آپ عیسوی یا اسلامی سال سمجھ کر مبارک سلامت کر رہے ہیں تو بس شغل ہی ہے البتہ اگر تعداد کے چکر میں پڑے بغیر آپ شمسی یا قمری سال کے آغاز کی بات کر رہے ہیں تو چل جائے گا

    ایک اور ہات یاد رہے سورج و چاند کے چکر کے مقام آغاز کیا ہے ہمیں نہیں معلوم ۔ یہ آغاز و اختتام بھی ہم نے طے کئے ہیں ہو سکتا ہے یہ آغاز دراصل موسم گرما کے کسی مہینے میں ہوتا ہو جیسے جون میں جب دن بڑے اور گرم ہوتے ہیں کیونکہ سوچیں شمسی نظام اور اس میں زمین جب وجود میں آئے تو درجہ حرارت زیادہ تھا تو کیا پتہ آغاز کا وقت دراصل تب ہوتا ہو جسے ہم اس چکر کا وسط کہتے ہیں

    لیکن اس میں ٹینشن کی کوئی بات نہیں جیسا سمجھتے ہیں سمجھتے رہیں بس سورج اور چاند کی گردش کو مذہبی جھگڑوں سے نکال دیں یہ اللہ کی تخلیق ہماری سہولت، سمجھ اور تحقیق کیلئے ہیں

  • کنٹونمینٹ الیکشن   تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    کنٹونمینٹ الیکشن  تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    گذشتہ دن ملک میں کنٹونمنٹ کے الیکشن ہوئے جس میں واضع طور پر پاکستان تحریک انصاف کو برتری حاصل ہوئ جبکہ مقابلے میں ذیادہ تر وہی آزاد امیدوار جیت کر آئے ہیں جن کو پارٹی کی طرف سے ٹکٹ نہیں مل سکا اس ساری صورتحال کو دیکھا جائے تو پی ٹی آئ کا مقابلہ اپنے ہی پارٹی کے آزاد امیدواروں سے تھا اس وقت پی ٹی آئ نے جہاں ٦٣ سے زائد سیٹ حاصل ہیں دوسری طرف آزاد امیدوار بھی ۵٦ کے قریب سیٹ جیت چکے ہیں اور یقینی طور پر وہ بھی تقریبا سب پی ٹی آئ میں شامل ہوں گے اس طرح پی ٹی آئ واضع اکثریت سے پہلے نمبر ہوگی 

    دوسری بات جو اس میں واضع نظر آئ ہے کہ پی ٹی آئ اس وقت ملک کی واحد جماعت ہے جو تقریبا تمام صوبوں سے الیکشن جیت کر چاروں صوبوں کی زنجیر بن چکی ہے 

    سندہ میں پپلزپارٹی کی ١٣ سالہ خراب کارکردگی سے تنگ عوام نے بھی پی ٹی آئ کو کراچی سے واضع برتری دلوائ 

    بلوچستان کوئٹہ کی ۵ میں سے ٣ سیٹوں پر پی ٹی آئ جیت چکی 

    اس ساری کامیابی سے ایک بات تو واضع ہوچکی کہ عوام نے اپوزیشن جماعتوں کے جعلی بیانئے وہ چاہے حکومت مخالف ہو یا ریاستی اداروں کے مخالف سب کو عوام نے مسترد کر کے حکومتی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کردیا اور ثابت کردیا کہ پاکستانی عوام کسی صورت ان جماعتوں کی حمایت نہیں کرے گی جو ریاستی اداروں یا پاکستان کو دنیا کے سامنے بدنام کرنے کی پالیسی اپنائیں گی 

    ن لیگ نے نواز شریف کے بیانئے ووٹ کو عزت دو کی بجائے شہباز شریف کے بیانئے کام کو عزت دو کو اپنایا جس وجہ سے ان کو بھی اچھی سیٹیں مل چکی ہیں جسے ن لیگ اپنی بڑی کامیابی سمجھ رہی ہے حالانکہ اس کامیابی سے لگ یہی رہا ہے کہ عوام نے نواز شریف کے بیانئے کو مسترد کرکے شہباز شریف کے بیانئے کو اپنایا ہے 

    دوسری طرف ن لیگ ہمیشہ اسٹیبلشمینٹ پر الیکشن چوری کا الزام لگاتی آئ ہے لیکن کنٹونمنٹ الیکشن جو اسٹیبلشمنٹ کے اپنے گھر کے الیکشن ہیں اس میں جیتنے کے بعد ن لیگ کا یہ بیانیہ کہ اسٹیبلشمنٹ الیکشن چوری کرواتی ہے بھی اپنی موت آپ مرتا دکھائ دے رہا ہے 

    اب پاکستانی عوام کو جان لینا چاہیے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ الیکشن چوری کروانے میں ملوث ہوتی تو شائد کنٹونمنٹ الیکشن میں ن لیگ کے ہاتھ ایک سیٹ بھی نا آتی 

    ن لیگ سمیت تمام اپوزیشن کی جماعتوں نے یہ جھوٹ پر مبنی ایک بیانیہ بنالیا کہ جہاں سے جیت جائیں وہ عوام کی جیت اور ہار جائیں تو اسے اسٹیبلشمنٹ کی سازش قرار دی جائے 

    لیکن اب پاکستانی عوام اپوزیشن کے اس بیانیے کو مکمل مسترد کرچکی ہے ،پاکستانی عوام عقل و شعور رکھنے والی ہے وہ جانتے ہیں کہ اپوزیشن کی جماعتوں کا کام حکومت میں آکر صرف کرپشن کرنا ہی ہے ملکی تعمیر و ترقی سے ان کو کوئ غرض نہیں 

    اس وقت تک حالات کے مطابق لگ ایسا ہی رہا ہے کہ پی ٹی آئ ٢٠٢٣ میں بھی واضع اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی اور اپوزیشن ایک بار پھر روتی ہی نظر آئے گی 

    @MajeedMahar4

  • بغاوت طبرستان تحریر:منصور احمد قریشی

    بغاوت طبرستان تحریر:منصور احمد قریشی

    مازیار بن قارن رئیس طبرستان عبدالّٰلہ بن طاہر گورنر خراسان کا ماتحت اور خراج گزار تھا ۔ اُس کے اور عبدالّٰلہ بن طاہر کے درمیان کسی بات پر ناراضگی پیدا ہوئی ۔ مازیار نے کہا کہ میں براہِ راست خراج دارالخلافہ میں بھیج دیا کروں گا ۔ لیکن عبدالّٰلہ بن طاہر کو ادا نہ کروں گا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر اس بات کو اپنے وقارِ گورنری کے خلاف سمجھ کر ناپسند کرتا تھا ۔ چند روز تک یہی جھگڑا رہا اور مازیار خراج براہِ راست دارالخلافہ میں بھیجتا ۔ اور وہاں سے عبدالّٰلہ بن طاہر کے وکیل کو وصول ہوتا رہا۔ 

    جنگِ بابک کے زمانے میں افشین کو آزادانہ خرچ کرنے کا اختیار تھا اور اس کے پاس برابر معتصم ہر قسم کا سامان اور روپیہ بھجواتا رہتا تھا۔ افشین اپنی فوج کے لیۓ نہایت کفایت شعاری کے ساتھ سامان اور روپیہ خرچ کرتا رہتا تھا ۔ باقی تمام روپیہ اور سامان اپنے وطن اشروسنہ ( علاقہ ترکستان ) کو روانہ کردیتا تھا ۔ 

    یہ سامان جو آذر بائیجان سے بھیجا جاتا تھا ۔ خراسان میں ہو کر گزرتا تھا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر کو جب یہ معلوم ہوا کہ افشین برابر اپنے وطن کو سامانِ رسد ، سامانِ حرب اور روپیہ بھجوا رہا ہے تو اُس کو شُبہ ہوا ۔ اُس نے ان سامان لے جانے والوں کو گرفتار کر کے قید کر لیا ۔ اور تمام سامان اور روپیہ چھین کر اپنے قبضے میں رکھا اور افشین کو لکھ بھیجا کہ آپ کے لشکر سے کچھ لوگ اس قدر سامان لیۓ ہوۓ جا رہے تھے ۔ میں نے اُن کو گرفتار کر کے قید کر دیا ہے اور سامان اپنی فوج میں تقسیم کر دیا ہے ۔ کیونکہ میں ترکستان پر چڑھائی کی تیاری کر رہا ہوں ۔ اگرچہ ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم چور نہیں ہیں اور اپنے آپ کو آپ کا فرستادہ بتایا ۔ لیکن اُن کا یہ بیان قطعاً غلط اور جھوٹ معلوم ہوتا ہے ۔ کیونکہ اگر یہ چور نہ ہوتے اور آپ کے بھیجے ہوۓ ہوتے تو آپ مجھ کو ضرور اطلاع دیتے ۔

    اس خط کو دیکھ کر افشین بہت شرمندہ ہوا اور عبدالّٰلہ بن طاہر کو لکھا کہ وہ لوگ چور نہیں ہیں بلکہ میرے ہی فرستادہ تھے ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے افشین کے اس خط کو دیکھ کر اُن لوگوں کو چھوڑ دیا ۔ مگر جو سامان اُن سے چھینا تھا وہ نہیں دیا ۔ اس امر کی ایک خفیہ رپورٹ عبدالّٰلہ بن طاہر نے خلیفہ معتصم کے پاس بھی بھیج دی جس پر بظاہر خلیفہ معتصم نے کوئی التفات نہیں کیا ۔ 

    حقیقت یہ تھی کہ افشین اپنی ریاست و سلطنت اشروسنہ میں قائم کرنا چاہتا تھا اور اسی لیۓ وہ پیشتر سے تیاری کر رہا تھا ۔ جب افشین جنگِ بابک سے فارغ ہو کر سامرا میں واپس آیا تو اُس کو توقع تھی کہ خلیفہ معتصم مجھ کو خراسان کی گورنری عطا کرے گا اور اس طرح مجھ کو بخوبی موقع مل جاۓ گا کہ میں اپنی حکومت و سلطنت کے لیۓ بخوبی تیاری کر سکوں ۔ لیکن خلیفہ معتصم نے اُس کو ارمینیا و آذربائیجان کی حکومت پر مامور کیا اور اُمیدِ خراسان کا خون ہو گیا ۔

    اس کے بعد ہی جنگِ روم پیش آ گئی افشین کو اس لڑائی میں بھی شریک ہونا پڑا مگر اس جنگ میں معتصم خود موجود تھا اور اُس نے ابتدا میں اگر کسی کو سپہ سالارِ اعظم بنایا تھا تو وہ عجیف تھا جو اپنے آپ کو افشین کا مدِ مقابل اور رقیب سمجھتا تھا ۔ اب افشین نے ایک اور تدبیر سوچی وہ یہ کہ مازیار حاکم طبرستان کو پوشیدہ طور پر ایک خط بھیجا اور عبدالّٰلہ بن طاہر کے خلاف مقابلے پر اُبھارا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا :۔

    ” دین زردشتی کا کوئی ناصر و مددگار میرے اور تمھارے سوا نہیں ہے بابک بھی اسی دین کی حمایت میں کوشاں تھا ۔ لیکن وہ محض اپنی حماقت کی وجہ سے ہلاک و برباد ہوا ۔ اور اس نے میری نصیحتوں پر مطلق توجہ نہ کی ۔ اس وقت بھی ایک زریں موقع حاصل ہے وہ یہ کہ تم علم مخالفت بند کر دو ۔ یہ لوگ تمھارے مقابلے کے لیۓ میرے سوا یقیناً کسی دوسرے کو مامور نہ کریں گے ۔ اس وقت میرے پاس سب سے زیادہ طاقتور اور زبردست فوج ہے میں تم سے سازش کر لوں گا اور ہم دونوں متفق ہو جائینگے ۔ اس کے بعد ہمارے مقابلے پر مغاربہ ۔ عرب اور خراسانیوں کے سوا اور کوئی نہ آۓ گا ۔ مغاربہ کی تعداد بہت ہی قلیل ہے ان کے مقابلہ کے لیۓ ہماری فوج کا ایک معمولی دستہ کافی ہو گا ۔ عربوں کی حالت یہ ہے کہ ایک لقمہ ان کو دے دو اور خوب پتھروں سے ان کا سر کُچلو ۔ خراسانیوں کا جوش دودھ کا سا اُبال ہے ۔ تھوڑے سے استقلال میں ان کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ تم اگر ذرا ہمت کرو تو وہی دین مذہب جو ملوک عجم کے زمانے میں تھا پھر قائم و جاری ہو سکتا ہے۔”

    مازیار اس خط کو پڑھ کر خوش ہوا اور اس نے علمِ بغاوت بلند کر دیا ۔ رعایا سے ایک سال کا پیشگی خراج وصول کر کے سامانِ حرب کی فراہمی اور قلعوں کی مرمت و درستی سے فارغ ہو کر بڑی سے بڑی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیۓ تیار ہو بیٹھا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر کو جب مازیار کی بغاوت و سرکشی کا حال معلوم ہوا تو اس نے اپنے چچا حسن بن حسین کو ایک لشکر کے ساتھ اس طرف روانہ کیا ۔ ادھر معتصم کو اس بغاوت کا حال معلوم ہوا تو اس نے دارالخلافہ اور دوسرے مقامات سے عبدالّٰلہ بن طاہر کی امداد کے لیۓ فوجوں کی روانگی کا حکم صادر کیا ۔ مگر افشین کو اُس طرف جانے کا حکم نہیں دیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مازیار گرفتار ہو کر عبدالّٰلہ بن طاہر کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے اُس کو معتصم کی خدمت میں روانہ کر دیا اور معتصم نے اُس کو جیل خانے بھیج دیا ۔ حسن بن حسین نے جب مازیار کو گرفتار کیا تو اتفاق سے افشین کا مذکورہ خط اور اس کے علاوہ اسی مضمون کے اور بھی خطوط جو افشین نے مازیار کے پاس بھیجے تھے ۔ مازیار کے پاس سے برآمد ہوۓ ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے یہ خطوط بھی خلیفہ معتصم کے پاس بھیج دیئے ۔ مگر خلیفہ معتصم نے ان خطوط کو لے کر اپنے پاس بحفاظت رکھ تو لیا اور بظاہر کوئی التفات اس طرف نہیں کیا ۔ یہ واقعہ سنہ ۲۲۴ کا ہے ۔

    منصور احمد قریشی ( اسلام آباد )

    Twitter Handle : ‎@MansurQr

  • ام_الخبائث تحریر:- آمنہ فاطمہ

    ام_الخبائث تحریر:- آمنہ فاطمہ

     

    لفظ ہی ایسا ہے جس کا نام سنتے ہی ایک منفی احساس پیدا ہوتا ہے دنیا کا کوئی ہی ملک یا مذہب ایسا ہوگا جس نے منشیات کے استعمال پر پابندیاں عائد نہ کی ہوں گی باوجود اس کے دنیا میں لوگوں کی ایک ایسی بڑی تعداد موجود ہے جو اس لعنت کے استعمال کا شکار ہے اور اس میں مرد و زن دونوں شامل ہیں جو بھی منشیات کے استعمال کا عادی ہو جاتا ہے وہ پھر جنونی حد تک اسکی طرف مائل نظر آتا ہے اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کی زندگی بھی اجیرن بنا دیتا ہے 

    ایسے بے بس اور لاچار ماں باپ بہن بھائی اور بچے میں نے  خود دیکھے ہیں جن کا بیٹا بھائی یا باپ نشے کے استعمال کا شکار تھا جس نے اپنی ساری جمع پونجی لٹا دی جس نے خاندان اور معاشرے میں اپنا مقام گرتا دیکھا جس نے اپنے سامنے اپنے بیوی بچوں کی زندگی کو جہنم ہوتے دیکھا اور جس نے معاشرے کی حقارت بھری نظروں اور طعنوں کا بھی سامنا کیا مگر اس سب کے باوجود وہ نشے کی زنجیروں کو توڑ نہ سکا اور موت کے گھاٹ اپنے ہی ہاتھوں اترا میں نے دیکھے ہیں ایسے خاندان اور ایسے بچے جن کا بچپن جن کی جوانی اور حتی کہ بڑھاپا بھی اس ذلت کے طوق کو انکے گلے سے نا اتار پایا کہ یہ تو ایک نشئ کا بیٹا/بیٹی ہے جانے کون سا وہ شخص تھا جس نے اس خباثت کو ایجاد کیا

    دنیا میں آج تک کوئی ملک ایسا قانون یا طریقہ نہیں نکال پایا جس کے نافذ کرنے سے منشیات کا دنیا سے خاتمہ ہو سکے سوائے مذہب اسلام کے اسلام نے شراب کو تمام "جرائم کی ماں” کہا حتی کہ ایک شراب ہی نہیں بلکہ جملہ نشہ آور اشیاء کو ہی حرام قرار دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسکی سزا "حد” مقرر کی 

    جب اسلام نے اس قدر سختی برتی تو پھر کیوں نام نہاد اسلامی ممالک میں بھی اسکی روک تھام نہ ہوسکی کیوں قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات معافیا کے سامنے اسقدر کمزور  اور بے بس دکھائی دیتے ہیں یہ معافیا منشیات کے بنانے سے لیکر اسے بآسانی فروخت کرنے تک آزاد ہیں  ابھی تک اس رؤے زمین پر دو ہی ایسے شہر ہیں جو اس لعنت سے پاک ہیں اور وہ ہیں ‘مکہ مکرمہ’ اور ‘مدینہ منورہ’ جہاں منشیات کی ہوا تک کا گزر نہیں اور یہ مقدس ترین زمینیں اسلام کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں 

    کتنے

    شرم کی بات ہے کہ آج کے اسلامی ممالک میں منشیات ہر مرد و زن بچے بوڑھے کے لیے بآسانی دستیاب ہیں ہر سکول کالج یونیورسٹی میں یہ معافیا نسلیں خراب کرنے کی خاطر پہنچ چکا ہے عوام کے ٹھیکیدار ایک ایک اڈے سے وقف ہیں اور ایک ایک سہولت کار کو جانتے ہیں مگر افسوس قانون کے ہاتھ اور زبانیں دونوں منشیات معافیا نے خرید رکھی ہیں میری ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیے جائیں اور منشیات کا استعمال کرنے والوں کو اسلامی قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں 

  • ‏الیکشن کمیشن یا سیاسی پارٹی  تحریر : سیف الرحمان

    ‏الیکشن کمیشن یا سیاسی پارٹی تحریر : سیف الرحمان

    آج کل الیکٹرانک مشین کو لے سارے ملک میں  کافی بحث مباحثہ شروع ہے۔ اس بحث میں بیک وقت پانچ فریق حصہ لے رہے ہیں۔ سب کے سب اپنی اپنی رائے اور تحزیے دیتے نظر  آ رہے ہیں۔ یہ پانچ فریق مندرجہ ذیل ہیں۔ 

    1-حکومت

    2- اپوزیشن

    3-میڈیا

    4-الیکشن کمیشن

    5-عام عوام

    حکومت وزیر اعظم کے ویثرن نیوٹرل ایمپائر /فری اینڈ فیئر الیکشن کے خواب کی تعبیر کیلئے جہدو جد کرتی نظر آ رہی ہے۔

    اپوزیشن حسب روایت حکومتی کام میں روڑے اٹکاتی نظر آ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ بظاہر دھاندلی سے پاک الیکشن جو کافی سارے لوگوں کیلئے باعث فکر اور پریشانی بن سکتی نظر آتی ہے۔

    میڈیا اس بحث میں دونوں فریقوں کی رائے لیتا نظر آ رہا ہے کچھ دانشوروں کے تجزے بھی الیکشن ریفارمز میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔

    عام عوام الیکشن ریفارمز کیلئے خوش اور جذباتی نظر آر  ہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین آ جائے تو ہم بھی جدید دور میں نا صرف قدم رکھ سکتے ہیں بلکہ دھاندلی جیسی الزام تراشی سے بھی بچت ہو جائے گی۔ 

    الیکشن کمیشن کا کردار الیکٹرانک مشین کو لے کر روز اول سے مشکوک نظر آ رہا ہے۔  سن٢٠١١سے لے کر ٢٠٢١تک الیکشن کمیشن نے الیکشن ریفارمز پر ایک ٹکے کا کام نہیں کیا۔ اب جب حکومت نے الیکٹرانک مشین بنا ہی لی تو سب سے ذیادہ اور سرعام مخالفت بھی الیکشن کمیشن نے ہی کی ہے۔

    اب اصل میچ تین فریقوں کے مابین پڑنے والاہے۔ حکومت, الیکشن کمیشن اور اپوزیشن۔  پہلی باری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونی چاہئے تھی لیکن الیکشن کمیشن نے خود فرنٹ سے لیڈر کرنے اور حکومتی ریفارمز کیخلاف پنجہ آزمائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن نے  بیک فٹ پر جا کر الیکشن کمیشن کو سپوٹ کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ الیکشن کمیشن نے  گزشتہ ہفتہ حکومتی ٹیم سے ملاقات میں الیکٹرانک مشین کو لے کر 37اعتراضات اٹھائے ۔ ان اعتراضات پہ اگر غور کریں تو ایسا لگ رہا ہے  کہ یہ اعتراضات الیکشن کمیشن کی بجائے کسی سیاسی پارٹی کے بندے نے اٹھائے ہیں۔  آئے پہلے آپ کو ایک ایک کر کے اعتراضات بتاتے ہیں۔ 

    الیکشن کمیشن کے اعتراضات:

     وقت بہت کم ہے 

    الیکشن کمیشن نے حکومت کی رائے لیئے بغیر ہی فیصلہ کر دیا جبکہ حکومت کہتی ہے کہ ہم چھ ماہ میں مطلوبہ تعدار میں مشینیں بنا کر دے سکتے ہیں۔ مطلب بنانے والا کہہ رہا کہ بنا دوں گا لیکن الیکشن کمیشن کہتا ہے نہیں رہنے دیں 

      الیکٹرانک ووٹنک مشین پہ راز داری نہیں رہے گی

    حقیقت یہ ہے کہ  جب الیکٹرانک مشین سےرسید باہر نکلتی ہے تو اس پہ  صرف بار کوڈ درج ہوتا ہے۔ اس  میں نہ ووٹر کا نام ہے نہ اس کے خاندان کا نام ہے نہ ہی اس کا ایڈریس اور نہ ہی شناختی کارڈ نمبر درج ہوتا ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ ووٹر کی راز داری ظاہر ہوتی ہے غلط بات ہے

    ای وی ایم سے ووٹر کی شناخت گمنام نہیں رہے گی

    جیسے کہ پہلے بتاچکا ہوں کہ ای وی ایم  رسیدپہ صرف ٹائم تاریخ اور بار کوڈ کے علاوہ کسی قسم کی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔  بار کوٹ صرف الیکشن کمیشن ہی ٹریس کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بندہ نہیں کر سکتا۔

    مشین کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھا نہیں جا سکتا

    بندہ پوچھے آپ نے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھ کر کیا کرنا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن نے کبھی کمپیوٹر کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھا ہے؟

    ووٹوں کی جمع تفریق کرتے وقت کلکولیٹر کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کبھی چیک کیا ہے؟

    ای وی ایم کا کم از کم ایک سو پچاس ارب خرچہ آئے گا

    کیا الیکشن کے اخراجات چیف الیکشن کمیشن صاحب کو  اپنی جیب سے ادا کرنے تھے؟

    کیا اس سے پہلے جتنے الیکشن ہوئے وہ فری میں ہوتے آ رہے ہیں؟

      الیکشن کی شفافیت  اور ساکھ مشکوک رہے گی

    اب بندہ پوچھے کہ اس سے پہلے ایسا کون سا الیکشن ہے جو مشکوک نہیں رہا؟

    الیکشن کمیشن اپنی تاریخ کا کوئی ایک عدد الیکشن بتا دے جو مکمل فری اینڈ فیئر کروایا ہوجس پہ کسی نے اعتراض نا کیا ہو۔

      الیکٹرانک مشین کس کی تحویل میں رہے گی

    اس سے پہلے الیکشن بیلٹ کس کی تحویل میں رہتے تھے؟

    ظاہر ہے ای وی ایم بھی الیکشن کمیشن کی تحویل میں ہی رہے گی۔ 

    ویئر ہاؤس اور ٹرانسپوٹیشن میں  مشینوں کے سافٹ ویئر تبدیل کئے جا سکتے ہیں

    یہ منطق سمجھ سے باہر ہے۔ ویئر ہاؤس الیکشن کمیشن کا تحویل بھی الیکشن کمیشن کی پھر تبدیل کون اور کیسے کرے گا۔ مطلب الیکشن کمیشن اتنا نااہل اور نالائق ہے جو الیکٹرانک مشین کی حفاظت تک نہیں کر سکتا۔ 

     بلیک بکس کی شفافیت پر سوال اٹھ سکتا ہے

    یہاں الیکشن کمیشن کو مشین کے رنگ پہ اعتراض ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کالے رنگ کا ڈبہ جس میں مشین پیک ہو گی مشکوک ہے۔ مطلب چیف الیکشن کمیشن صاحب کو کالا رنگ ہی پسند نہیں۔ 

     ہر جگہ مشین کی صلاحیت پہ سوالات اٹھ سکتے ہیں

    یہاں الیکشن کمیشن مشین بغیر بجلی استعمال پہ سوالات اٹھا رہا ہے۔ حکومت نے گارنٹی دی ہے کہ یہ مشین  بغیر بجلی بیٹری پر ایک لمبے بیک اپ کیساتھ K2 پہ بھی چلے گی اوربحر  الکاہل کے اندر سب سے نچلی سطح پر بھی کام کرے گی۔ لیکن الیکشن کمیشن کی مرضی جب انہوں نے کہہ دیا کہ نہیں چلنی تو سمجھو نہیں چلنی۔

    مشین کی منتقلی اور حفاظت

    سر پہلے جو بندے بیلٹ پیپر کی منتقلی اور حفاظت کرتے تھے یقین مانیں وہی بندے الیکٹرانک مشینوں کی حفاظت بھی کر لیں گے۔ کسی اضافی برگیڈ یا پولیس نفری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

      ای وی ایم سے شفاف الیکشن ممکن نہیں ہے

    اگر دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے بھی شفاف الیکشن ممکن نہیں ہیں تو پھر کیا بندہ الیکشن کمیشن کو تالا لگا دے۔ بہرحال یہ اعتراض بھی سیاسی بیان بازی کے علاوہ کچھ نہیں ہے

    سافٹ ویئر   باآسانی ٹمپر اور بدلہ  جا سکتا ہے

    سیل بند مشین کو کھولنا ہی نا ممکن ہے اگر کھل گئی تو فورا پتا چل جائے گا۔ کیونکہ اس مشین کو کھول کر دوبارہ جوڑنے کی آپشن ہی ختم کر دی گئی۔ اگر کوئی یہ حرکت کرنا بھی چاہے گا تو کھلی مشین سے فورا پتا چل جائے گا

    الیکٹرانک مشین فراڈ نہیں روک سکتی

    الیکشن کمیشن کے اس اعتراض کے بعد ایک عد ہنسی تو بنتی ہے۔ بندہ پوچھے مشین فراڈ کیسے روکے گی۔ فراڈ تو الیکشن کمیشن کے بندوں نے روکنا ہے۔ مشین نے صرف اور صرف شفاف  بیلٹنگ کروانی ہے۔ ایک شناختی کارڈ پہ صرف ایک ووٹ۔  کسی مردے کا ووٹ کاسٹ نہیں ہو گا۔ کوئی ڈبل ووٹ نہیں دے پائے گا۔ کوئی ٹھپہ نہیں لگے گا۔ 

      مشین کی آذادی پہ سوال ہوں گے

    مجھے تو مشین کی آذادی پہ سوال سے مراد شاہد مشین  کی بغیر چائے پانی اور بریک کے اپنی ووٹنگ جاری رکھنے کی صلاحیت سمجھ آئی ہے۔ 

      مشین کو ہیک کیا جا سکتا ہے

    کوئی صاحب عقل یہ بتا دے کلکولیٹر کو کیسے ہیک کیا جا سکتا ہے؟

    الیکٹرانک مشین کی تھیوری بھی کلکولیٹر جیسی ہے نا بلیو ٹوتھ , نا انٹر نیٹ نا ہی کوئی بیرونی ڈیوائس اس کے ساتھ منسلک ہو سکتی ہے ۔

      ای وی ایم کی ایمانداری پہ یقین نہیں کیا جا سکتا

    کوئی بندہ الیکشن کمیشن کو بتائے کہ ای وی ایم  ایک مشین ہے  اور اس کو مشین کی طرح ہی دیکھا جائے۔  

    اتنی ذیادہ مشینوں سے ایک ہی دن میں انتخاب کرانا ممکن نہیں

    اگر مینول کام جلدی جلدی ہوتے ہیں  تو لوگ مشینوں سے کیوں کام لیتے ہیں؟

    جو کام پنسل سے  لکھ کر پانچ منٹ میں ہوتا ہے اگر وہی کام صرف ایک بٹن دبانے سے ہو جائے تو ذیادہ بہتر کون ہے۔ مشین یا مینول طریقہ ؟

      ووٹر کی تعلیم اور ٹیکنالوحی روکاوٹ بننے گی

    یہاں الیکشن کمیشن ساری قوم کو ان پڑھ اور جاہل سمجھ رہا ہے۔ اس وقت تقریبا ہر شخص کے پاس ٹچ موبائل ہے۔ ان موبائلوں میں ایپ دیکھ لیں شاہد اچیف الیکشن کمیشن نے کبھی استعمال نہ کی ہوں جو ان پڑھ لوگ چلارہے ہیں۔

      اسٹیک ہولڈرکا اتفاق نہیں ہے

    الیکشن آپ نے کروانے یا اسٹیک ہولڈرز نے۔ 

    عوام کا اعتماد نہیں

    عوام تو الیکشن کمیشن پہ بھی اعتماد نہیں کرتی۔ پھر کیا کرنا چاہئے؟

    ڈیٹا انٹی گریشن اور ویری فیکیشن

    کوئی چیف الیکشن کمیشنر صاحب کو بتا دے کہ جو رسید مشین سے نکل کر بیلٹ بکس کی ذینت بنتی ہے اس کو آپ ہر طرح سے تصدیق کیلئے پیش کر سکتے ہیں۔ بار کوڈ کے اندر سب کچھ موجود ہوتا ہے۔

      خواتین کے ٹرن آؤٹ کو مشین ذیادہ نہیں کر سکتی

    کیا بیلٹ بکس خواتین کو گھروں سے پکڑ پکڑ کر ووٹ ڈالنے لایا کرتے تھے جو الیکٹرانک مشین سے نہیں ہو پائے گا۔ یہ اعتراض بھی بہت عجیب و غریب ہے۔

      مشین نتائج میں تاخیر کا سبب بننے گی

    صرف ایک بٹن دبانے کی دیر ہے رزلٹ پرنٹ کی شکل میں باہر نکل آئے گا۔ الیکشن کمیشن کا یہ اعتراض بھی کوئی خاص وزن نہیں رکھتا۔

      میڈیا اور سول سوسائٹی کو بداعتمادی ہو سکتی ہے

    مطلب الیکشن کروانے کیلئے میڈیا اور سول سوسائٹی کو راضی رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر ایسی سوچ ہے تو کر لئے شفاف الیکشن

       مشینوں کی مرمت الیکشن میں دھاندلی کا باعث بن سکتی ہے

    پہلے الیکشن کمیشن سے کوئی پوچھے کہ سیل بند مشینوں کی مرمت کون کرواتا ہے؟ 

    جب حکومت نے کہہ دیا کہ سیل کھول دی تو مشین ضائع تو مرمت کا تو سوال ہی نہیں بنتا۔ خراب مشین تبدیل ہو گی مرمت نہیں ہو گی

      ریاستی اختیارات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے

    الیکشن کمیشن کو کوئی بتائے الیکشن کے وقت عبوری حکومت ہوگی۔ عبوری حکومت  کا کام الیکشن کرانا ہوتا ہے اس کے علاوہ کوئی خاص اختیارات اس کے پاس نہیں ہوتے

      ووٹ کی خریدو فروخت نہیں رکے گی

    مشین  نے ووٹ خریدنے والوں پہ کیس تو کرنے نہیں لہذا یہ منطق بھی سمجھ سے باہر ہے۔ خریدو فروخت بیلٹ کے ہوتے ہوئے بھی ہوتی تھی۔

      مشین میں ووٹ کی کوئی سکریسی نہیں ہے

    صرف بار کوڈ تاریخ اور وقت کے علاوہ رسید پہ کچھ نہیں ہو گا اور کون سی سکریسی چاہئے؟

    الیکشن سے پہلے وقت کی کمی

    سر  ابھی دو سال پڑے ہیں چھ ماہ میں مشینیں بن کر آ جائیں گی آپ بس نیت کریں اﷲ آسانیاں فرمائے گا۔

    یہ تمام اعتراضات پڑھ کر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ اعتراضات کسی الیکشن کمیشن کے بندے نے لگائے ہوں گے؟

    یہ سب کے سب اعتراضات سیاسی نوعیت کے نظر آ رہے ہیں۔ اس کے پچھے کون ہے یہ الگ بحث لیکن اس سے الیکشن کمیشن کی اپنی ساکھ کو بہت نقصان ہوا ہے۔ اس وقت پورے پاکستان میں لوگ الیکشن کمیشن کو  تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو سیاسی پارٹی بننے کی بجائے یا سیاسی وابستگی کی بجائے قومی ادارہ بن کر سوچنا چاہئے۔ اگر کوئی حکومت الیکشن ریفارمز میں سنجیدہ ہو ہی گئی ہے تو برائے مہربانی آپ بھی تعاون کریں اور قومی ادارے کے طور پر بہتری کی معاونت کریں۔

    قانون تو پارلیمان نے بنانا ہے اور شاہد ای وی ایم کے تحت الیکشن کرانے کا قانون بن بھی جائے تو اس کے بعد الیکشن کمیشن کدھر جائے گا۔ کیونکہ آئین میں واضع لکھا ہے جو قانون پارلیمان بنا کر دیں الیکشن کمیشن نے اسی کے مطابق الیکشن کروانے ہیں۔ بطوو ادارہ الیکشن کمیشن کوئی قانون نہ تو بنا سکتا ہے اور نہ  ہی بنے قانون کی مخالفت کر سکتا ہے۔

    ہماری دعا ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے حوالے سے ایسا نظام آئے جس سے ایمانداد اور پڑھے لکھے لوگ ہی اسمبلیوں کا حصہ بنیں۔ ایسا نظام جس میں ٹھپہ راج اور رشوت خوری کے تمام دروازے بند ہو جائیں۔  آمین

    ‎@saif__says

  • قیام پاکستان تحریر ۔محمد نسیم

    قیام پاکستان تحریر ۔محمد نسیم

    جب کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان حاصل کرنے میں برصغیر کے مسلمانوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے اپنی جانی و مالی قربانیاں پیش کیں
    درحقیقت برصغیر میں مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہی ایسا شروع کردیا گیا تھا کہ ان کا جینا مشکل ہوچکا تھا مسلمانوں کو تصب کی نظر سے دیکھا جاتا تھا حتٰی کہ حالات یہاں تک تھے کہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انتہا پسند ہندؤں نے مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا ایک انگریز رپورٹر نے برصغیر کے دورے کے بعد اپنے سفر کے حالات یوں بیان کئیے
    "میں جس گلی سے میں جاؤں وہاں مسلمانوں کا خون نظر آتا تھا جہاں مسلمان نظر آتا اسے ذبح کردیا جاتا ”
    نہ بچوں کو دیکھا گیا تھا بوڑھوں کو نہ خواتین جو بھی مسلمان ہوتا اس کا گلا کاٹا جاتا
    آج بھی یہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا ظلم و ستم کیا گیا انگریزوں اور ہندؤں نے مسلمانوں کو ذلیل و رسوا اور تنگ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا
    مسلمان اپنا ایک الگ ملک چاہتے تھے جہاں مذہبی آزادی ہوتی اس مسئلے پر بہت سارے مسلمان لیڈروں نے اپنی خدمات سرانجام دیں مسلمانوں کو تعلیم کی ترغیب دی اس میں سر سید احمد خان پیش پیش رہے
    اس کارنامے میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (شاعر مشرق) کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں نئے وطن کا خواب دکھایا اور اپنی پرتاثیر شاعری کے ذریعے مسلمانوں کے جذبے بھی خوب بلند کئیے
    اور پھر آگے مرحلہ آیا اس خواب کو تکمیل تک لانے کا اس عظیم کارنامے کو سرانجام دینے کے لئیے الله تعالٰی نے قائداعظم جیسے عظیم لیڈر کو چُنا انہوں نے انتھک محنت،بلند حوصلہ ،بہادری اور پختہ اراده کرنے جیسی اپنی اعلٰی شخصیت اور دور نظری کے ذریعے اس عظیم کارنامے کو سرانجام دیا جب پاکستان بننے والا تھا اور آخری مراحل میں تھا تو قائداعظم محمد علی جناح کو ٹی ۔بی (T.B) نے اپنی لپیٹ میں لے لیا لیکن قائداعظم محمد علی جناح کے حوصلے کو کوئی چیز پست نہ کرسکی قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے ڈاکٹر کو سختی سے منع کردیا کہ وه ان کی بیماری کو راز رکھے تاکہ ان کی بیماری کسی کام پر آڑے نہ آئے
    اس سلسلے میں ان کی بہن فاطمہ جناح نے بھی ان کا خُوب ساتھ دیا ان کے شانہ بشانہ کام کیا گھر گھر جاکر عورتوں کو ترغیب دی آخر وقت آ ہی گیا قائداعظم کی اور برصغیر کے مسلمانوں کی محنت قربانیاں رنگ لے آئیں اور 14 اگست 1947 کو دُنیا کے نقشے پر کلمے کے نام پر بننے والا ہمارا پیارا پاکستان نمودار ہوا ہر طرف خوشی کی لہر تھی
    لیکن پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد ہی قائداعظم محمد علی جناح کی صحت خراب ہونا شروع ہوگئی اور 11 ستمبر 1948کوقائداعظم محمد علی جناح اپنے خالق حقیقی سے جا ملے
    اس کے بعد جب بیماری کی خبر عام ہوئی تو جس انگریز نمائندے نے،جس کانام لارڈ ماؤنٹ بیٹن تھا اس نے بیان میں کہا کہ
    "اگر مجھے پتہ ہوتا کہ قائداعظم محمدعلی جناح نے 1948 میں فوت ہوجانا ہے تومیں تقسیم کے عمل کو مزید طویل کردیتا اور پاکستان کبھی بھی دنیا کے نقشے پر نہ آتا”
    قصہ مختصر پاکستان بنا لاکھوں مسلمانوں نے ہجرت کے وقت قربانیاں دیں اس ظلم کی الگ داستان ہے
    آج پاکستان نے اپنا مقام حاصل کرلیا ہے آج دُنیا کی بڑی بڑی ایٹمی قوتیں پاکستان سے بات کرنے سے پہلےسوچتی ہیں
    اور ان حالات میں جب پاکستان کو سب لیڈر کھوکھلا کررہےتھےاپنے مفادات کی بنا پر ،اللہ تعالٰی نے پاکستان کو عمران خان جیسا عظیم لیڈر عطا کیا جو کہ پاکستان بنانے والوں کی طرح پاکستان کی خوشحالی کے لئیےاپنی ذات کی فکر کئیے بغیر دن رات محنت کررہا ہے اور آنے والی نسلوں کی خوشحالی اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئیے کوششیں کررہا ہے تاکہ پاکستان اور پاکستانی قوم کی دنیا میں عزت ہو
    الله تعالٰی پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے آمین
    @Naseem_Khera