Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ فتح بیت المقدس تحریر: رانا محمد عامر خان 

    سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ فتح بیت المقدس تحریر: رانا محمد عامر خان 

    حطین میں کامیاب و کامرانی ہونے کے بعد ” القدس کی جانب راستہ بالکل واضح ہوچکا تھا اب یہ بات ممکن تھی کہ صلاح الدین

    اس کا قصد کرتے اور قدرے کوشش کر کے اس کو اپنے قبضے میں لے لیتے۔ لیکن اس نے عسکری نقطہ نگاہ سے اس کو دیکھا اور یہی

    بات اس کی اعلی شخصیت اور شان عبقریت کو نمایاں کر رہی ہے۔ اس نے یہ سوچا کہ القدس کو کئی شہروں کے درمیان واقع ہے

    اور ساحل سمندر پر صلیبیوں کے کئی مراکز قائم ہو چکے ہیں جہاں سے وہ بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات بڑی آسانی سے قائم

    کر سکتے ہیں۔ خصوصا عیسائیوں کے وہ ممالک جو ارض فلسطین میں  صلیبی ناپاک وجود کو لاکھڑا کرنے میں چشموں کی حیثیت

    رکھتے تھے اسی لیے اس نے پہلے ساحلی صلیبی مراکز سے خلاصی پانے اور دوسرے  صلیبی قلعوں اور پناہ گاہوں پر قبضہ کرنے کا پختہ

     پروگرام بنایا۔ اس کے بعد وہ القدس کی طرف پیش قدمی کر کے اسے  فتح کر لے گا جب کہ اس صلیبی ناپاک وجود کی

    زندگی کی شریانوں کو وہ پہلے ہی کاٹ چکا ہو گا اس کے علاوہ ” عکا اور دو سرے ساحلی صلیبی قلعوں پر قبضہ کرنا بھی مصر اور شام

    کے مابین راستہ بھی بنادے گا جو اس کے ملک کے دونوں بازو شمار ہوتے تھے۔

    اس نے اپنے پروگرام کی تکمیل کے لیے عسکری اعتبار سے ہر طرح کی تیاریاں کیں- مجاہدین کو اپنے ہمرہ لیا- اور اپنے ذہن میں

    کھنچے ہوئے خطوط کو زمین پر کھنچنے کے لیے چل پڑا -حطین کی کامیابی کے بعد صرف چند ماہ ہی گذرنے پائے تھے کہ الله تعالی نے

    اسے مندرجہ ذیل شہروں اور قلعوں  پر فاتح نصیب فرمادی۔

    عکا, قیساریہ,حیفا, صفوریہ, معلیا’ شقیف ‘ الغولہ’  الطور’ سبطیہ’ نابلس’ مجدلیانہ’ یافا’ تبسین’ صیدا ‘ جبیل’ بیروت ‘حرفند’ عسقلان ‘ الرملہ’ الداروم’  غزہ ‘ یبنی’ بیت الحم ‘بیت الجبریل ‘   اور ان کے علاوہ ہر وہ چیز جو ان صلیبی بری فورسز کے

    پاس تھی۔

    جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ سب عظیم کامیابیاں اور بڑی بڑی فتوحات معرکہ حطین کے بعد ۵۸۳ ہجری میں صرف چند مہینوں کے دوران ہی پوری ہوگئی تھیں ۔ اس طرح بیت المقدس کوفتح کرنے کے لیے فضا مکمل طور پر ساز گار تھی- کام کو

    مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سلطان نے مصر سے اسلامی بحری بیڑے بھی منگوا لیے جو حسام الدین لو لو الحاجب( چمکدار ابرو والا ) کی زیر قیادت پہنچے-  جو اپنی جر أت و بسالت اور عظیم خطرناک کاموں میں بلا خوف و خطر کود جانے میں مشہور

    زمانہ تھا- اور مصائب المشورہ بھی تھا۔ اس نے بحر متوسط میں چکر لگانے شروع کر دیئے مخصوصا اس بات کا خیال رکھتے ہوئے

    کہ کہیں( یورپ کے ) فرنگی ساحل فلسطین تک پہچنے میں کامیاب نہ ہونے پائیں۔۔

    ۵۸۳ ہجری /5 رجب المرجب کو بروز اتوار القدس کے قریب آن اترا- اب اس نے بیت المقدس میں محصور عیسائیوں

    سے کہا کہ بغیر خونریزی اور کشت و خون کہ جسے کہ وہ اپنے مقدس مقام میں پسند نہیں کر تا اطاعت قبول کر لیں۔ لیکن جب انہوں نے اس کے جواب میں متکبرانہ انکار پیش کیا تو پھر سلطان حملہ کر کے اور نقب لگا کر اس کوفتح کرنے کی تدابیر کرنے

    لگا۔ اس مقصد کے لیے پانچ دن صرف اس کام میں گذر گئے۔ وہ بذات خود شہر کی دیواروں کے ارد گرد چکر لگاتا رہا کہ اس کا

    کوئی کمزور پہلو تلاش کر کے وہاں سے حملہ آور ہو سکے ۔ بالاآخر فیصلہ یہ ہوا کہ شمالی جہت سے حملہ ہی کر دے۔ چنانچہ ۲۰رجب کو

    اس نے اپنے لشکر کو اس جانب منتقل کر دیا اسی رات منجنیقیں نصب کروانا شروع کردیں-صبح ہونے سے قبل منجنیقیں لگ

    چکی تھیں بلکہ کام کر نے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار تھیں- تو اب انہوں نے اپنا کام شروع کر دیا۔۔۔۔۔

    دوسری طرف فرنگیوں نے فصیل کے اوپر اپنی مجانیق کو نصب کر دیا دونوں طرف سے پتھراؤ شروع ہو گیا تھا – فریقین کے

    مابین سخت ترین لڑائی ہو رہی تھی ۔ امام ابن الاثیر کے بقول ۔ ایک دیکھنے والے نے دیکھا کہ ہر ایک فریق اس لڑائی کو

    دین سمجھ کر لڑ رہا تھا اور یہ بات بھی ایسے ہی ہے کہ دین ہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر کو متحرک کرتی ہے- موت کو اسکا

    محبوب بنادیتی ہے- اپناسب کچھ اس پر لوٹا دینا اس کے لیے آسان ترین بنادیتی ہے- لوگوں کو اس بات کی ذرہ برابر بھی ضرورت نہ

    تھی کہ انہیں لڑنے مرنے موت کے دریا میں کودنے پر ابھارا جائے بلکہ شاید انہیں زبردستی بھی روکا جائے تو نہ رکتے-

    یکبارگی زور دار حمله

    پر انہیں جہادی و قتالی ایام میں سے ایک امیر عزالدین عیسی بن مالک جو مسلمان قائدین اور تحقین میں سے ایک تھا وہ شہید

    ہوگیا تو اس کے جام شہادت نوش کر تے ہی مسلمانوں کے جوش اور ولولے  میں ایک نیا رنگ پیدا ہوگیا تو انہوں نے یک بار

    ایسا حملہ کیا کہ فرنگیوں کے قدم اکھڑ گئے- کچھ مسلمان خندق عبور کر کے فصیل تک پہچنے میں کامیاب ہو گئے۔ دیوار توڑنے

    والے نقابوں نے شہر پناہ کو توڑنا شروع کر دیا- اس دوران دشمن کو دور رکھنے کے لیے مجانیق بلا توقف پتھراؤ کر رہی تھیں اور

    تیرانداز مسلسل تیروں کی موسلا دھار بارش برسارہے تھے تا کہ یہ  دیوار توڑنے والے اپنے مقاصد کو حاصل

    کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔۔۔۔۔ 

     *جان بخشی کی درخواستیں* 

    تو جب ان فرنگیوں کے دفاع کرنے والوں نے مسلمانوں کے حملے کی شدت ان کے ارادوں کی صداقت اور القدس رسول

    معظم مسلم کی معراج کی عارضی قیام گاہ کو چھڑوانے کی خاطر موت کو سینے لگانے کے جذبات کو دیکھا تو انہیں اپنی

    ہلاکت و بربادی کا یقین ہو گیا اور سوائے جان بخشی طلب کرنے کے کوئی چارہ نہ دیکھا تو وہ مذاکرات کرنے کے لیے مائل ہو گئے

                

                              Twitter ID @pakdefsd

  • عمر شریف پر سیاست (کدو کٹے گا تو سب میں بٹّے گا)  تحریر ؛ علی خان

    عمر شریف پر سیاست (کدو کٹے گا تو سب میں بٹّے گا) تحریر ؛ علی خان

     

    تصویر کے دو پہلو ۔ 

    زندہ قوموں کی پہچان میں ایک فن سے محبت بھی ہے،،،   کسی بھی دور میں مہذب معاشرے کی  ایک پہچان فن کاروں کی عزت و تکریم رہی ہے،،،  جدید دور کا مغر ب ہو یا  ماضی میں مغل سلطنت، فن کاروں کی قدر و منزلت  اور حوصلہ افزائی  و قدرشناسی  ان ریاستوں کا خاصہ  رہا ہے ،،،  یہ معاملہ ریاست تک محدود نہیں بلکہ  زندہ ضمیر عوام میں بھی یہ عادت بدرجہ اتم پائی جاتی  ہے،،،  اور ایسا ہونا بے جا نہیں کیونکہ فنکار ہی وہ ذریعہ ہے جو دنیا بھر میں اپنے ملک کا نام روشن کرتا ہے اور سافٹ امیج اُجاگر کرتا ہے،،، بہت سے ممالک میں تو شعبہ انٹرٹینمنٹ کو باقاعدہ انڈسٹری کا درجہ حاصل ہے اور  حکومتی تحفظ بھی فراہم کیا جاتاہے ،،،  ہمسایہ ملک بھارت سب  سے بڑی مثال ہے کہ اسے دنیا بھر میں اپنی فلموں سے پہچان ملی اور بھارتی ثقافت دنیا بھر میں مقبول ہوئی،،، لیکن افسوس کہ وطن عزیز میں الٹی گنگا بہتی ہے،،، ہر مشہور فن کار، گلوکار اور کھلاڑی جب اپنی سار  ی زندگی اور سارا فن  قوم پر نچھاور کردیتا ہے تو اخیر عمر میں کسی کو فاقے نصیب ہوتے ہیں تو کوئی  علاج نہ ہونے کے باعث عدم سدھار جاتا ہے

    اس لمبی تمہید کی وجہ لیجنڈ ایکٹر عمر شریف  کی خراب طبیعت اور  اس پر بننے والا تماشا ہے ،،، عمر شریف نے جس کام کو ہاتھ ڈالا سونا کر دیا،،، مزاح کے بادشاہ نے  پاکستان کے علاوہ بھارت اور دنیا بھر میں  اپنے فن کا لوہا منوایا اور پاکستان کا سافٹ امیج متعارف کروایا  لیکن اب جب انہیں اس ملک کی، اس قوم کی اور اس حکومت کے ساتھ کی ضرورت ہے تو  عجیب سی بے حسی طاری نظر آرہی ہے ،،، اس عظیم فنکار کے نام پر باقاعدہ سیاست شروع ہوچکی  ہے،،، ریٹنگ کے لیے وسیم بادامی نے اپنے شو میں عمر شریف کی امداد کے لیے جو سرگرمی کی وہ پس پردہ زیادہ اچھے سے ہوسکتی تھی،،، اسی طرح دیگر فنکار اور ٹی وی اینکرز اگر ٹی وی پر واویلا کرنے کی بجائے سنجیدہ کوششیں کریں تو سب کے حصے میں شاید نہایت معقول رقم آئے جسے دے کر عمر شریف کا علاج ہوسکے 

    حکومتوں کی بات کریں تو معاملہ نشستن گفتن برخواستن  تک محدود ہے ،،، جب میڈیا میں معاملہ آیا تو وزیراعظم ہاؤس  کا ٹیلی فون حرکت میں آیا لیکن امید کے باوجود کچھ خاص پیش رفت نہ ہوسکی،،،  شہباز گل، فواد چودھری  نے ٹوئٹر پر بیان داغے تو  وزیراعلیٰ سندھ بھی  میدان میں آئے اور عمر شریف کو اثاثہ قرار دیتے ہوئے  سندھ حکومت کے پیچھے نہ ہٹنے کا بیان دے دیا،،،  یہ بیان دے کر مراد علی شاہ اسی امریکہ کی ٹکٹ کٹوا کر روانہ ہوگئے  اور بھول گئے کہ عمر شریف اسی  ملک  بھیجے جانے کے منتظر ہیں تاکہ انکا علاج ہوسکے،،، مطلب عمر شریف کا کدو کٹے گا تو سب میں بٹے گا چاہے  اس چکر میں مریض کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے،،، 

    یہاں کچھ حلقوں کی جانب سے یہ اعتراض بھی سننے کو ملا کہ ساری عمر کمایا اور آخر عمر کے لیے کچھ بچا کر نہیں رکھا تو حضور والا فن کار اور صنعت کار میں یہی فرق ہوتا ہے کہ فن کار جیسے اپنا فن لٹاتا ہے ایسے ہی اسے دولت سنبھال خرچ کرنا نہیں آتی،،،  اگر یہ لوگ دو جمع دو چار اچھی طرح جانتے تو اسٹیج اور اسکرین پر اپنا ہی مذاق اڑا کر ہمیں تفریح مہیا نہ کرتے بلکہ   دماغ لڑا کر کوئی بڑی کرپشن کرتے اور پھر اسی پیسے میں سے کچھ خرچ کرکہ  صاف بچ جاتے اور معززسرمایہ کار کہلاتے

  • آپ بھی لکھاری بن سکتے ہیں  تحریر :۔فرزانہ شریف

    آپ بھی لکھاری بن سکتے ہیں تحریر :۔فرزانہ شریف

    اچھا لکھنے کے لیے آپ کا امیر ہونا۔خوبصورت ہونا یا کسی عہدے پر ہونا ضروری نہیں جیسا اس مالک پروردیگار نے بنایا بہت بہت خوبصورت بنایا اس کا ہر دم شکر بجالایا کریں آپ کو لکھنے کے لیے اپنی اندر سے صلاحیتی قوت کو خود ابھارنا ہوگا کچھ لوگوں کو اللہ کی طرف سے لکھنے کی صلاحیت گفٹ کی ہوئی ہوتی ہے کچھ لوگ اللہ کی دی ہوئی عقل سے اپنے اندر یہ صلاحیت تلاش کرلیتے ہیں اور اللہ کا نام لیکر لکھنا شروع کردیتے ہیں پھر وقت کے ساتھ ان کے قلم میں روانئ آنی شروع ہوجاتی ہے جب آپ کسی بھی ٹاپک پر لکھنا شروع کرتے ہیں سب سے پہلی بات نوٹ کرلیں۔۔آپکو پہلے اپنے دل ودماغ میں کہانی کا پلاٹ ترتیب دینا ہے اور جو خاکہ آپکے دماغ میں چل رہا ہوتا ہے اس کے مطابق آپ نے کرداروں کو لیکر چلنا ہوتا ہے پوری سٹوری میں دوسری بات ۔جس ٹاپک پر آپ لکھ رہے ہیں اس ٹاپک پرآپکی گرفت مضبوط ہونی چاہئیے اگر آپ کی گرفت کمزور ہوگی تو آپ اس سٹوری پر اچھا فوکس نہیں رکھ پائیں گے تو تحریر ذہنوں پر اچھا اثر نہیں چھوڑے گی اچھا لکھنے کے لیے آپکے پاس بہت ذیادہ معلومات ہونی چاہئیں جتنا ذیادہ آپکا مطالعہ وسیع اور معیاری ہوگا اتنا اچھا آپ لکھ پائیں گے اور اپنی لکھی ہوئی تحریر کے ضمن میں ہونے والے لوگوں کے سوالات کو اچھی طرح جواب بھی دے سکیں گے ورنہ کوئی بھی مضبوط دلیل کےساتھ آپکو لاجواب کردے گا اور آپ بے بسی سے ہاتھ ملتے رہ جاو گے اور شرمندگی الگ سے اٹھانی پڑے گی ۔۔۔
    آپ کی لکھی تحریر میں اتنی تاثیر ہونی چاہئیے کہ آپکو پڑھنے والا سٹوری کے کرداروں میں کھو جائے اس کے لیےپھر یہ ہی کہوں گی کہ آپکا اردو ادب میں حد درجے دلچسپی آپکے قلم کو چار چاند لگا دے گی کیونکہ آپکے الفاظ ہی آپکی شخصیت ہوتے ہیں ۔اور ایک شاندار شخصیت کے عامل فرد کے ساتھ بہترین الفاظ کا ساتھ بہت ضروری ہے۔۔۔۔
    ہمیشہ حق و سچ کے لیے اپنی آواز بلند کریں ۔حق سچ لکھیں کیوں کہ حق کی فتح ہے باطل مٹنے والی چیز ہے یہ پہلو آپکی شخصیت میں مزید اعتماد لاۓ گا ایک دفعہ آپ اس کوشش میں کامیاب ہوگے پھرآپ کا قلم کبھی سچ لکھنے سے ڈگمگائے گا نہیں۔۔
    معاشرے کی برائیاں آپ قلم سے لکھ کر لوگوں کو ان برائیوں کی روک تھام کرنے کے لیے اچھے مشورے دلائل کے ساتھ سمجھا سکتے ہیں بشرطیکہ آپکے لفظوں میں تاثیر ہو آپ کے الفاظ متاثر کن ہوں۔ کسی بات پر تنقید مہذب اور نرم الفاظ کے ساتھ کیجئے کیونکہ سخت الفاظ اتنے پراثر نہیں ہوتے جتنے نرم الفاظ سامنے والے انسان کے دل پر اثر چھوڑتے ہیں ۔”لکھنے والے پڑھنے والوں کے محتاج ہوتے ہیں” آپ کو پڑھنے والے جب تک ہیں آپ لکھ سکتے ہیں لہذا دوسروں کی پسندنا پسند کا خیال رکھنا ایک اچھے لکھاری کی خوبیوں میں شامل ہے ہمیشہ کردار میں ڈوب کر لکھیں کہ پڑھنے والا آپ کے لکھے ہوئے کرداروں کے ساتھ ساتھ سفر کرتا ہوا محسوس کرے ایسا میرے ساتھ ہوتا رہا ہے جب میں خواتین ۔شعاع پڑھتی تھی تو ایسے لگتا تھا میں ان کرداروں کے ساتھ چل رہی ہوں ۔اور اپنے دل میں ایک نقشہ سا بنا لیتی تھی کہ مصنفہ کسی کہانی کےکردار کی ہیروئن کی طرح ہی ہوگی ۔پھر وقت گزرا کافی مضنفات کو سوشل میڈیا پر دیکھا اور اپنی اس وقت کی سوچ پر ہنسی آئی کہ ہم کیسے مصنفہ کے الفاظ سے اس کی شخصیت کا اندازہ لگانے لگ جاتے ہیں یہ نہیں کہ وہ خوب صورت نہیں تھیں یا مجھے دھچکا لگا تھا انھیں دیکھ کر ۔ بات بس اتنی سی ہے کہ جیسا انسان اپنے ذہین میں خاکہ بنا لیتا ہے تو پھر اسی خاکے کے حساب سے دیکھتا ہے ۔اللہ کی بنائی ہر چیز خوب صورت ہے ہم اس کا کروڑ دفعہ شکر ادا کرتے ہیں اس نے ہمیں نہ صرف خوبصورت ۔خوب سیرت بنایا بلکہ متحاجی سے بھی بچا کر رکھا ہوا ہے یہ بس اس کی کرم نوازی ورنہ ہم پر کوئی سرخاب کے پر نہیں لگے ہوئے ۔۔وہ دے کر بھی ازماتا ہے اور لےکر بھی اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ۔اللہ آزمائش اپنے پیاروں پر لاتا ہے تو وہ انسان اور اللہ کے قریب ہوجاتا ہے کیونکہ بظاہر وہ انسان کرب میں ہوتا ہے لیکن اس انسان پر اللہ کی خاص نظر ہوتی ہے اور اللہ اسے سجدے کی توفیق دے دیتا ہے اور جن سے ناراض ہوتا ہے ان کی رسی ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے وہ اس بات پر کبھی خوش نہ ہوں کہ وہ آسمان سے اتری کوئی الگ مخلوق ہیں ان کو ہر دم اللہ کی پکڑ سے بچ کر رہنا چاہئیے کیونکہ جب وہ رسی کھینچتا ہے تو انسان منہ کے بل گر جاتا ہےکہ پھر انسان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا ۔۔بس اللہ سے دعا ہے اللہ ہمیں اپنا قرب نصیب فرما دے ہم سب پر اپنی خاص کرم نوازی فرمائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنا خاص فضل فرمائے ہم پر اپنے کرم کی بارش فرما دے کہ پھر کوئی زوال ہمیں شیطان کے بہکاوے میں نہ لاسکے ۔۔آمین

  • رحم دل بھیڑئیے اور معصوم بکریاں تحریر زوہیب خٹک

    فیمنزم کی اصطلاح کا ہمارے معاشرے میں جنم نیا نیا ہوا ہے اس لیے زیادہ تر لوگ اس سے نا آشنا ہیں۔ اس تحریک کی تاریخ اٹھارویں صدی سے ملتی ہے جبکہ اس کا باقائدہ آغاز انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا جس میں خواتین کے لیے صحت تعلیم اور مردوں کے برابر تنخواہیں جیسے حقوق کے مطالبات سرِِفہرست تھے۔ انیسویں صدی کے آخر تک اس تحریک میں "اسقاطِ حمل، ہم جنس پرستی اور زنا بِل رضا” جیسے دیگر کئی قانونی حقوق کی مانگ بھی شامل ہوگئی۔ جس کی وجہ سے یہ تحریک اپنے اصل مقاصد سے بہت پیچھے رہ گئی اب اس تحریک کو یورپ جیسے آزاد معاشرے ہوں یا ہمارے جیسے قدامت پسند معاشرے دونوں میں ایک غیر سنجیدہ تحریک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    جہاں اس تحریک سے خواتین کو چند فائدے بھی ہوئے جیسا کہ جنسی درندگی کے خلاف سخت سزائوں کے قوانین بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام خواتین کا اعلیٰ سرکاری و نجی اداروں میں شمولیت اختیار کرنا۔ وہیں ساتھ ہی ساتھ مردوں سے نفرت پر مبنی نعرے ہم جنس پرستی اسقاطِ حمل اور زنا بِل رضا جیسے مطالبات نے اس تحریک کا بیڑا غرق کرنے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔

    پاکستان میں اس تحریک کا روحِ رواں عورت مارچ والا لبرل طبقہ ہے جس کا مشہور نعرہ "میرا جسم میری مرضی” مغربی معاشرے میں "اسقاطِ حمل کے قانونی حقوق کی مانگ” سے درآمد کیا گیا ہے۔ اس موضوع پر ایک مغربی مصنف "رابن سٹیونسن” کی کتاب بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے ۔ ہمارے ہاں اس تحریک میں اکثریت اُسی مغرب زدہ سوچ رکھنے والے مزہب بیزار لوگوں کی ہے۔ یہ طبقہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی مغربی طرز پر سیکولرزم کو فروغ دے کر ننگ دھڑنگ آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جس کا یہ سوشل میڈیا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر برملا اقرار بھی کرتے ہیں۔

    ہمارا معاشرہ جو مظبوط خاندانی نظام پر کھڑا ہے جہاں ماں بہن بیٹی بیوی بہو جیسے باوقار رشتے ہیں اس خاندانی نظام پر ضرب لگا کر ہمارے معاشرے میں بھی یہ عورت کو بے توقیر اور بے وقعت کرنا چاہتے ہیں۔ عورتوں کے حقوق کی آڑ میں بیرونی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز "ایک رحم دل بھیڑئیے کا روپ دھارے ہوئے ہیں جو عورتوں کو چادر چار دیواری کے حفاظتی حصار سے باہر نکال کر جنگل کی رونقیں دکھا رہے ہیں تاکہ یہ جب چاہیں جیسے چاہئیں عورت کو اپنی ہوس کا شکار بنا سکیں۔

    جیسے تحریک طالبان پاکستان کا نعرہ شریعت کا نفاذ تھا لیکن اصل میں وہ کم عمر بچوں کی زہن سازی کر کہ انہیں جنت کے خواب دکھا کر بے قصور پاکستانیوں کا قتلِ عام کروا رہے تھے۔ ایسے ہی یہ دیسی فیمنسٹ طبقہ نعرے عورتوں اور بچوں کے حقوق کے لگاتا ہے لیکن اصل میں یہ نوجوان نسل کی ذہنی اخلاقی دینی اور معاشرتی تباہی کر رہے ہیں۔

    جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئیے مل کر مظلوم عورتوں کے شرعی حقوق اور مجرموں کی شرعی سزاؤں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ تو یہ مذہب بیزار طبقہ اپنی اصلیت دکھا دیتا ہے۔اور ان کی اسلام سے نفرت اور بیزاری کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ آج مجھ جیسے چند لوگ اگر بابانگِ دہل ان کے مذموم مقاصد اور اس تحریک کے پسِ پردہ حقائق عوام پر آشکار کر رہے ہیں تو ہمیں شدت پسند دقیانوسی اور نا جانے کیسے کیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔

    جان لیجیے کینسر ایک ایسا موذی مرض ہے جس کا شروع میں ہی جڑ سے خاتمہ نا کیا جائے تو وہ پورے جسم میں پھیل جاتا ہے اور پھر لا علاج ہو جاتا ہے اس سے پہلے کہ فیمنزم کا یہ مرض ہمارے معاشرے میں پھیل جائے اور پورے معاشرے کی ذہنی اخلاقی دینی اور معاشرتی موت واقع ہو جائے۔ ہم سب کو اس مرض کا موثر علاج کرنا ہوگا تاکہ ہمارا ملک جو نظریہ پاکستان کی بنیاد پر بنا تھا وہ اپنی اسلامی اقدار کے ساتھ قائم و دائم رہ سکے۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • قانون کی بالادستی   تحریر: احسان الحق

    قانون کی بالادستی تحریر: احسان الحق

    قانون کی بالادستی اسلام کے اہم ترین اجزاء میں سے ایک ہے اور کسی بھی معاشرے کی بہترین تعمیر اور نشوونما کے لئے لازمی جزو ہے. حیات نبویؐ، خلافت راشدہ اور تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو قانون کی بالادستی کی سینکڑوں ایسی مثالیں ملتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قانون کی بالادستی کس قدر اہم ہے اور عدل و انصاف کا نظام قانون کے مطابق ہونا کتنا لازم ہے. ابتدائے اسلام اور قرون اولیٰ میں ایسے لاتعداد واقعات احادیث اور تفاسیر میں موجود ہیں کہ قانون کی بالادستی کو قائم رکھتے ہوئے ایسے مثالی اور تاریخی فیصلے سنائے گئے جو خلیفہ وقت حتیٰ کہ اس وقت کے موجودہ امیرالمؤمنین کے بھی خلاف تھے.

    قانون کی بالادستی کو سمجھنے کے لئے امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کا واقعہ دیکھ لیں جب ایک یہودی کے مقابلے میں قاضی شریح نے قانون کی بالادستی کے لئے آپ امیرالمؤمنین کے خلاف اور یہودی کے حق میں فیصلہ سنایا. ایک دفعہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی زرہ گم ہو گئی اور کچھ دنوں بعد آپ نے وہی اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس دیکھی. آپ نے اس یہودی سے فرمایا کہ یہ زرہ تو میری ہے، فلاں دن فلاں جگہ پر گم ہو گئی تھی. یہودی نے جواب دیا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، یہ زرہ میری ہے اور اس وقت میرے قبضے میں ہے. اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ہمارے درمیان آپکا مسلمان قاضی فیصلہ سنائے گا.

    ابو امیہ شریح بن حارث بن قیس بن جہم الکندی ابتدائی اسلام کے نامور فقیہ قاضیوں میں سے ایک ہیں، آپکا تعلق یمن سے تھا. حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت امیر معاویہ بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے زمانہ خلافت میں قاضی القضاء کے عہدے پر فائز رہے. آپ نے طویل عمر پائی اور 108 سال کی عمر میں 87 ہجری کو کوفہ میں داغ مفارقت دے گئے.

    اس وقت کے خلیفہ، امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اور یہودی قاضی شریح کی عدالت میں پہنچے، قاضی شریح امیرالمؤمنین کو دیکھ کر اپنی نشست یا محفل سے اٹھ کھڑے ہوئے مگر امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ آپ بیٹھے رہیں.

    امیرالمؤمنین نے اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ میری زرہ گم ہو گئی تھی اور آج میں نے یہی زرہ اس (یہودی) کے پاس دیکھی ہے.

    قاضی شریح نے یہودی سے پوچھا کہ تمہیں کچھ کہنا ہے؟

    یہودی نے کہا کہ یہ زرہ میری ہے اور میرے قبضے میں ہے.

    قاضی شریح نے زرہ دیکھی اور فرمانے لگے، "والله، اے امیرالمؤمنین! یہ زرہ واقعی ہی آپ کی ہے اور آپ سچے ہیں مگر قانون کے مطابق آپ کو گواہ پیش کرنے ہونگے”

    امیرالمؤمنین نے گواہ کے طور پر اپنے غلام قنبر کو پیش کیا، غلام نے آپ امیرالمؤمنین کے حق میں گواہی دی. پھر آپ نے اپنے صاحبزادوں حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو پیش کیا، ان دونوں نے بھی امیرالمؤمنین کے حق میں گواہی دی. قاضی شریح نے فرمایا کہ،

    "اے امیرالمؤمنین آپ کے غلام کی گواہی قبول کرتا ہوں مگر آپ مزید ایک گواہ کا بندوبست کریں. آپ کے دونوں صاحبزادوں کی گواہی قبول نہیں کر سکتا کیوں کہ یہ آپ کے بیٹے ہیں”

    حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ فرماتے ہیں کہ،

    "اللہ کی قسم! میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو رسولﷺ کی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ

    "حسن اور حسین نوجوانان اہل جنت کے سردار ہیں”

    قاضی شریح کہتے ہیں کہ والله یہ سچ ہے. مگر قانون کے مطابق آپ کے بیٹوں کی گواہی قبول نہیں کی جا سکتی. یہ کہتے ہوئے قاضی شریح نے یہودی کے حق میں فیصلہ سنا دیا اور زرہ یہودی کے حوالے کر دی.

    مسلمانوں کے قاضی کا مسلمانوں کے خلیفہ کے خلاف فیصلہ سن کر اور خلیفہ کا اپنے خلاف فیصلہ سن کر فیصلے کو بغیر کسی چوں و چراں کے تسلیم کرنا دیکھتے ہوئے یہودی حیران رہ گیا. یہودی نے امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی طرف اپنی نظر اٹھائی اور کہا امیرالمؤمنین آپکا دعویٰ سچا ہے، یہ زرہ یقیناً آپ ہی کی ہے. فلاں دن یہ زرہ آپ سے گر گئی تھی اور میں نے اٹھا لی تھی. اپنی ملکیت واپس لیں. یہودی نے کلمہ شہادت پڑھا:

    "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسولﷺ اللہ کے رسول ہیں”

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ فرماتے ہیں، "اب میری زرہ بھی تمہاری ہے اور یہ میرا گھوڑا بھی تمہارا ہے”

    (حلیتہ الاولیاء لابن الجوزی، کنزالعمال 17790)

    قانون کی بالادستی ہی کسی قوم اور ملک کی ترقی کی ضامن ہے. امیر غریب، طاقتور اور کمزور سب کے لئے یکساں قانون ہونا چاہئے اور فوری انصاف مہیا کرنا ہی معاشرے کی بہتری اور ترقی کی ضمانت ہے.  قانون کی بالادستی سے امن وامان، مساوات، جزاء و سزا اور عدل کے معاملات آسان اور احسن طریقے سے چلائے جا سکتے ہیں. آج ملک عزیز جتنے بھی معمولی اور غیرمعمولی مسائل کا شکار ہے ان سب کی ایک ہی وجہ ہے کہ قانون کی بالادستی نہیں ہے. پاکستان میں امیر اور غریب کے لئے الگ الگ اور طاقت ور اور کمزور کے لئے علیحدہ علیحدہ قانون موجود ہے. اگر کوئی غریب اور کمزور گناہ کرتا ہے تو اسکو سزا دی جاتی ہے یا بعض اوقات غریب اور کمزور کو قانونی سزا سے بھی زیادہ سزا دی جاتی ہے. اگر کوئی طاقت ور، سردار یا کوئی حکومتی نمائندہ غلطی کرے تو اس کے خلاف قانون یا تو مکمل طور پر خاموش رہتا ہے یا اسکو بچانے کے لئے قانون خود قانونی راستہ نکال لیتا ہے اور اس مجرم کو سزا سے نکال لیا جاتا ہے.

    آج ہی دادو کی عدالت نے ام رباب کے دادا، والد اور چچا کے قاتلوں کو مجرم مانتے ہوئے انہیں قصوروار ٹھہرایا. کمزور اور ناتواں ام رباب کے لئے 3 سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد پہلی کامیابی ہے کہ عدالت نے ملزمان کو قاتل تسلیم کیا. قاتلوں کی طاقت اور ان کے اثرورسوخ کا اس بات سے اندازہ لگائیں کہ قاتل سیاسی پارٹی کے سرکردہ شخصیات اور سندھ اسمبلی کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ علاقے کے سردار بھی ہیں. سیاسی جماعت کی پشت پناہی، صوبائی اسمبلی کی رکنیت اور اوپر سے سرداری، یہ وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے قاتلوں کو قاتل تسلیم کرنے میں عدالت نے 3 سال کا عرصہ لگا دیا حالانکہ یہ واقعہ ایسا سیدھا سادھا اور آسان تھا کہ 3 ہفتوں میں سزا سنا دینی چاہیے تھی.

    بہرکیف ہمارا عدالتوں اور اداروں کی بابت اچھا گمان ہے کہ ام رباب اور ام رباب جیسے ہزاروں کمزور اور ناتواں مظلوم خاندانوں کے قاتلوں اور مجرموں کو قانون کے مطابق سزا ملے گی اور مکمل سزا ملے گی. پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم ہوگی اور مجرمین اور ظالمین کو قانون کے عین مطابق سزا ملے گی اور میرا عقیدہ ہے کہ سخت سزاوٴں کے ذریعے ہم ملک کو سنگین برائیوں سے پاک کر سکتے ہیں.

    @mian_ihsaan

  • ماہ صفر المظفر کی بدشگونی اور توھمات  تحریر: تیمور خان

    ماہ صفر المظفر کی بدشگونی اور توھمات تحریر: تیمور خان

    صفر المظفر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور اس مہینے کے حوالے سے میں آج چند گذارشات تحریر کر رہا ہوں، اور وہ گذارشات یہ ہیں، کہ جہالت کی وجہ سے عام طور پر اس مہینے کو منحوس مہینا کہا جاتا ہے، اور کم علمی کی وجہ سے جہالت کی وجہ سے اس مہینے کے ساتھ بہت سارے شکوک اور تھمات وابستہ کیے جاتے ہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ شعریت اسلامیہ کی روشنی میں یہ دیکھا جائے کہ ماہ صفر المظفر کے متعلق جو شکوک اور جہالت والی باتیں ہیں ان کی کیا حقیقت ہے،

    یاد رکھیں انسان پہ جو بھی مصیبت آتی ہے تکالیف اور بیماریاں آتی ہے اس کے آنے کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں، اللہ تعالیٰ نے پانچویں پارہ کے سورۃ نساء میں واضح طور پہ فرمایا۔ ٫٫ اے لوگوں تم میں سے جس پر بھی دنیا میں جو بلائی اور خیر ملتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، اور تمہیں دنیا میں جو تکلیفات مشکلات اور مصیبتیں ملتی ہے تو تمہارے اپنے کئے ہوئے شامت اعمال کی وجہ سے ملتی ہیں؛؛

    تو پہلی بنیادی وجہ انسان کو دنیا میں جو تکلیف اور اذیت ملتی ہیں وہ انسان کے اپنے اعمال ہوا کرتے ہیں حالانکہ اللہ تمہارے گناہ اور تکسیرات کو معاف بھی کر دیتا ہے،اور  دوسری بنیادی وجہ انسان پہ جو مصیبتیں اور تکالیف آتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائشی کے طور پر آتی ہے، ان میں گناہوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ میرے اس بندے کے دراجات بلند ہوں اور جب اللہ اپنے بندے کو اپنا قرب دینا چاہتا ہے اپنا نزدیک بنانا چاہتا ہے، تو پھر بندے پہ اللہ اپنے امتحانات مقرر کر دیتا ہے، اور جب ان تکالیف اور امتحانات کے باوجود بندہ صبر سے کام لیتا ہے اور اللہ سے محبت کرتا ہے اللہ سے لو لگائی رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے درجات بلند کرتا ہے۔ 

    اسی کے متعلق اللہ تبارک وتعالٰی نے دوسرے پارہ میں ارشاد فرمایا٫٫ اے لوگوں ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور آزمائیں گے ڈر کی وجہ سے، اس ڈر کی وجہ سے تمہیں آزمائیں گے، کبھی تمہیں بھوکا رکھیں وہ تمہاری آزمائش ہوگی، تمہارے مالوں میں ہم کمی کر دینگے ، تمہاری جانوں کا بھی ہم امتحان لینگے، اور کبھی کبھی میووں کے ذریعے تمہاری آزمائش لیں گے، اولاد چین کے تمہارا امتحان لیں گے، لیکن اللہ نے فرمایا اے میرے حبیب ان تکالیف میں جو صبر کرنے والے ہیں آپ ان کو خوشخبری دے دیجیے۔

    یہی وجہ ہے انبیاء کرام جو کے تمام انسانوں میں سب سے افضل اور اشرف جماعت ہیں ان پہ سب سے زیادہ تکلیفات اور مصیبتیں آئیں سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا جتنی تکلیفات اور مصیبتیں انبیاء اور سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں مجھ پہ آئیں اتنی آج تک کسی بھی نبی پہ  نہیں آئیں، تو جو اللہ کا جتنا ہی زیادہ مقرب ہوگا اس کی مشکلات بھی اتنی ہی زیادہ ہونگی لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ جب عام انسان پہ مشکلات اور مصیبتیں آتی ہیں تو وہ شور مچائے گا وہ اللہ سے شکوہ کرے گا، لیکن جب اللہ کا نیک بندہ ہوگا اس کے ظاہری چہرے سے بھی کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ یہ تکلیف میں ہے وہ صبر اور تحمل سے کام لے گا، اسی لئے اللہ فرماتا ہے کہ انہیں لوگوں پہ اللہ کی رحمت پھر اترتی ہے۔

    تو اسی لئے میں نے شروع میں تحریر کیا کہ صفر المظفر کا مہینہ ہے لوگ جہالت کی وجہ سے منحوس کا لقب دیتے ہیں زمانہ جاہلیت میں جب بھی صفر المظفر کا مہینہ آتا لوگ تجارت کے لئے نہیں جاتے تھے لوگ سوچتے تھے اگر تجارت کے لئے جاؤں گا تو مجھے تجارت میں نقصان ملے گا، لوگ اس مہینے میں شادیاں روک لیتے تھے ان کا کہنا تھا یہ شادی ناکام ہو جائے گی یہاں تک کہ اس مہینے میں کوئی بھی فیصلہ جس میں انسان اپنے کامیابی کی طرف جاتے تھے وہ اس مہینے میں وہ فیصلے نہیں کرتے تھے، لیکن جب اسلام آیا تو اسلام نے اسے قسم کے شکوک تھمات کو ختم کر دیا اسلام نے کہا یہ سب توھمات ہیں، اسلام نے کہا سارے مہینے اللہ کہ محرم الحرام بھی اللہ کا مہینہ ہے صفر المظفر بھی اللہ کا مہینہ ہے ذی الحجہ تک جتنے بھی قمری مہینے ہیں یہ سب اللہ کے مہینے ہیں کوئی بھی نحوست کی بات نہیں بلکہ اسلام نے لفظ نحوست کو ختم کیا۔ ، جب اسلام نے کسی چیز میں کمی نہیں چوڑی تو پھر توھم کس بات کا، جب تم اللہ پہ توکل کرو گے کوئی وسوسہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا توھم کے بت سرکارِ دوعالم ﷺ نے دفنا دیے ہیں

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا بخآری مسلم شریف کی حدیث ہے، آپ نے فرمایا چار چیزیں جن کو عرب نے منحوس قرار دیا وہ کہتے تھے بیماری خود بخود ایک انسان سے دوسرے کو لگتی ہیں اسلام نے اس کو ختم کر دیا یہ توھم والی بات ہے ایک بیماری اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بغیر دوسرے انسان کو کبھی بھی نہیں لگتی محدیثین فرماتے ہیں بلکہ اللہ کا ارادہ اس میں شامل ہوتا ہے، حضور نے فرمایا بدفغالی اسلام میں نہیں٫ مثال کے طور پر میں راستے میں جا رہا تھا کالی بلی میرے سامنے سے گزر گئی اس لئے میں بیمار ہوا؛ فلاں میرے ماتھے پہ لگا صبحِ صبح،، البتہ نیک فعا لی  ہے، مثال کے طور پر آج میرا دن بہت اچھا گزرا کیوں کہ میں نے اپنی ماں کے چہرے کی زیارت کی۔ حضور نے فرمایا علو میں بھی کوئی نحوسیت نہیں، ٫٫علو ایک پرندہ ہے؛؛ جس کو عرب والے نحوس پرندہ کہتے تھے، جب کوئی راستہ پہ جاتا تو اگر راستے میں اس کو علو کی آواز آتی یا اسکا نظر علو پر لگتا تو وہ واپس آتے تھے، اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ صفر المظفر میں بھی کوئی نحوسیت نہیں ، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں صفر المظفر کو نحوس مہینہ کہا جاتا تھا خصوصاً صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو منحوس کہا جاتا ہے یہ رسم ہمارے معاشرے میں ہندستان سے آئی ہے چونکہ ہم متحدہ ہندوستان میں تھے پہلے ہمارے بڑے اکٹھے رہتے تھے سکوں اور ہندوؤں کے ساتھ کیونکہ یہ ان کے ہی توھمات  تھے اور یہی توھمات زمانہ جاہلیت میں عرب کے بھی تھے اور ہمارے برصغیر میں صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو تیرہ تیزی بھی کہتے ہیں، تیرہ تیزی کا مطلب کی اس مہینے کے پہلے تیرہ دن سخت ہوتے ہیں،، تو سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ ان باتوں کا کوئی بھی اصل نہیں ہے یہ جھوٹ اور جہالت والی باتیں ہیں سارے دن اللہ کے ہیں اور اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں اسی لئے علماء نے کہا کہ صفر کے نام کے ساتھ  المظفر کا نام بھی لگا دیا کرو آپ نے اکثر دیکھا بھی ہوگا، المظفر کا مطلب کامیابی،، تو صفر المظفر یعنی وہ مہینہ جس میں انسان کو کامیابیاں ملتی ہیں، یہ المظفر کا لفظ ساتھ میں اس لئے لگایا گیا تاکہ لوگوں کے دلوں سے وہ توھمات اور بد شگونیاں نکل جائیں۔ اس لئے اس مہینے میں اس قسم کی باتیں کرنا یہ جہالت والی باتیں اس قسم کی باتوں کا اسلام میں کوئی حقیقت نہیں۔ صفر المظفر کے پورے مہینے میں اکثر لوگ پورا مہینہ یا صفر کے آخری بدھ کو کیر پکھاتے ہیں یا کوئی خیرات کرتے ہیں، اگر یہ اپنے بڑوں کے ایصالِ ثواب کے لئے کرتے ہیں اور اس کے لئے کوئی دن بھی مقرر نہیں یعنی پورے مہینے میں ہر وقت کرے پھر جائز ہے اور اگر نہیں صرف اس کے لئے خاص دن یعنی بدھ رکھا گیا ہو تو پھر ناجائز ہے اگرچہ ہمیں اس کا اصلاح کرنا چاہیے کہ آپ جو بھی خیرات دے رہے ہو وہ اللہ کی رضا اور بڑوں کے ایصالِ سواب کے لئے اگر وہ بدھ ہو گا جمعرات تو پھر جائز ہے۔ بعض غیر مستند کتب او رسالوں میں ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ اس آخری بدھ والے دن ہم چوری یا خیرات اس لئے کرتے ہیں کہ یہ بیبیوں نے کی تھی اور خاص کر حضرت فاطمہ خاتون جنت کے متعلق اس قسم کی روایات بیان کی جاتی ہے یاد رکھیں یہ روایت غلط ہے اس کی بھی کوئی اصل نہیں۔٫٫ اور روایت یہ پیش کی جاتی ہے کہ صفر کا جو آخری بدھ تھا سرکارِ دوعالم ﷺ چونکہ اس بدھ سے پہلے بیمار تھے اور اس آخری بدھ کو آپ کی تبعیت زرہ سی ٹھیک ہوئی تھی اور آپ گھر سے باہر تشریف لائے تھے، تو اس خوشی میں خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہرہ نے کچھ خیرات کیا تھا، تو یاد رکھیں صدقہ اور خیرات بلکل جائز ہے لیکن اس روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قسم کی بنیاد پر یہ بلکل ناجائز ہے، ہمارے برصغیر پاک و ہند میں جتنے بھی بڑے بڑے علماء ہیں انھوں نے اس روایت سے یکسر انکار کیا ہے یہاں تک کہ مستند کتابوں میں بھی اس کا کوئی اصل نہیں بلکہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ نے اپنے تصانیف میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آخری بدھ تھا صفر المظفر کا اس میں سرکارِ دوعالم ﷺ کی بیماری اور بھی زیادہ ہو گئی تھی، بعض لوگ لا علمی کی وجہ سے کہ آپ کی بیماری شائد کم ہوئی تھی تو اس لئے اگر کوئی  اس نیت سے کہ آخری بدھ والے دن  صدقہ یا خیرات کرتا ہے تو یہ ناجائز ہے باقی اگر کوئی اچھے نیت سے محرم سے لے کر ذی الحجہ تک اور صفر المظفر کے پورے مہینے خیرات کرتا ہے اس کو منع نہیں کرنا چاہیے یہ جائز ہے اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کے توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @ImTaimurKhan

  • میرا ٹوئٹر سفر تحریر: ناصرہ فیصل

    میرا ٹوئٹر سفر تحریر: ناصرہ فیصل

    مُجھے یقین ہے ہر کسی نے ٹوئٹر کا سنا ہوا ہوگا ،استعمال کرتے ہیں یا نہی وہ الگ بات ہے لیکن کسی نہ کِسی ذریعے سے ٹوئٹر کا سن ضرور رکھا ہوگا۔ ٹوئٹر کا ہم نے بھی بہت سالوں سے سن رکھا تھا تقریباً پانچ سال پہلے ٹوئٹر کا سن کر ڈاؤن لوڈ کیا، جب ٹوئٹر کو اکائونٹ بنانے کے بعد کھولا تو عجیب بدرنگی سی دنیا نظر آئی۔۔ نظر کے سامنے کچھ ٹویٹس گزریں پر کچھ سمجھ نہیں آیا ۔۔ تھوڑا آگے پیچھے دیکھا پر کوئی دلچسپ چیز نظر نہی آئی اور دس منٹوں میں ہی بور ہو کر بند کر دیا۔ ایک دو دفعہ پھر کوشش کی لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ سو ہم نے ٹوئٹر کو الوداع کہہ کر ڈیلیٹ کر دیا۔۔ سال بھر بعد پھر کسی کے مونہہ سے ٹوئٹر کا سن کر پھر سے لاگ ان کیا نتیجہ وہی رہا جو پہلی دفعہ تھا۔ دل میں سوچا عجیب لوگ ہیں۔ پتہ نہیں کیا نظر آتا ہے انکو ٹوئٹر میں جو ٹائم ضایع کرنے آ جاتے ہیں یہاں، ہم تو فیس بک پر ہی ٹھیک ہیں۔ سو ایک دفعہ پھر الوداع کہا اور ٹوئٹر کو پھر سے حذف کر دیا اپنے موبائل سے۔

    سال 2018 کے الیکشن سے پہلے ایک جنون سا دل پر چھا گیا کے اس دفعہ اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا ہے۔ تمام بدعنوان عناصر سے اپنے ملک کو پاک کرنا ہے انکی بدعنوانی کو دنیا کے سامنے لانا ہے اور ایک ایسے بندے کا ساتھ دینا ہے جو ایک لمبے عرصے سے سب کو جگانے کی کوشش کر رہا ہے پر کوئی جاگنے کو تیار ہی نہیں۔۔ میری مراد عمران خان صاحب ہیں۔ دھرنے کے دنوں میں جو آگاہی مہم اُنہوں نے چلائ اور جس طرح لوگوں کو۔ ایک تحریک دی بدعنوان عناصر کے خلاف ، اس سے دل میں ایک نیا ہی جوش و جذبہ پیدا ہو گیا کچھ کر دکھانے کا۔۔ سو اب کے ہم نے ایک عزم صمیم کے ساتھ ٹوئٹر ڈاؤن لوڈ کیا اور سوچ لیا کچھ بھی ہو جائے اب اسکو سمجھ کر ہی چھوڑنا ہے۔۔کافی سارے دن بہت بوریت ہوئی، اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ پھر کچھ ٹویٹس کو ری ٹویٹ کرنا شروع کیا، کچھ فالوورز بڑھنا شروع ہوئے۔ گلابی نمک کی اُن دِنوں ایک بہت اچھے صاحب(نام نہیں لونگی) بہت اچھی مہم چلا رہے تھے ، انکی طرف سے دعوت نامہ آیا ٹیم میں شامل ہونے کا ۔ ہم نے جھٹ سے ہاں کر دی۔
    مزے کی بات یہ کے ابھی تک ہمیں ڈی ایم کے بارے میں کوئی خاص آئیڈیا نہیں تھا اور گروپ میں کیا ہوتا ہے اسکا تو بلکل بھی علم نہیں تھا۔۔ ہم تو گروپ میں جا کر گھبرا ہی گئے۔ ارے اتنے سارے لڑکے اور ٹیکسٹ میں گفتگو چلی جا رہی۔ ایک لڑکی ہونے کی وجہ سے بہت سارا خوش آمدید ۔ ارے باپ رے یہ سب کیا ہے۔ ہمارے بھائی لوگ نے یہ سب دیکھ لیا تو ٹوئٹر بند کرا دیں گے اس لیے ہم ڈر کے مارے اگلے ہی دن وہاں سے بھاگ نکلے۔۔( معافی گلابی نمک بھائی)

    خیر پھر کچھ دن ایسے چلے۔۔ کچھ ٹویٹ کیے۔۔ کیونکہ لکھنے کا کیڑا تو ہم میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ سو اپنی تئیں اچھا لکھنے کی کوشش کی۔۔ آہستہ آہستہ خود پر تھوڑا اعتماد ہونا شروع ہوا۔ اور پھر ایک ٹیم آئی کے وارئیرز کے ایک ایڈمن کی طرف سے دعوت نامہ ملا جو ہم نے تھوڑی شد و مد کے بعد قبول کر لیا۔۔ ساتھ میں وعدہ لیا ایڈمن سے کے ہم گروپ میں کوئی بات نہیں کریں گے صرف ٹرینڈز میں حصہ لیں گے۔ ایڈمن صاحب تو خوش ہو گئے ک ٹرینڈز کرنا ہی تو مقصد ہے۔ وہ ایک بہت اچھا دور تھا، ٹوئٹر صاف ستھرا تھا، لڑکے لڑکے ہی ہوتے تھے( مطلب لڑکیوں کے اکاؤنٹس سے نہیں آتے تھے) لڑکیاں کم تھیں لیکن ماحول بہت اچھا تھا۔ پہلے ہی ٹرینڈ میں ہم نے تو اپنی دھاک بٹھا دی۔۔ خود ہی سارے ٹوئٹس لکھے کیونکہ کاپی پیسٹ کا اس وقت پتہ ہی نہیں تھا۔ بہت تعریفیں ہوئیں ۔ اسکے بعد ایک مشن شروع ہو گیا۔۔ کچھ سمجھ آنے لگا کے کس سمت میں اور کِس طرح سے مثبت انداز میں ٹوئٹر کا استعمال کرنا ہے۔۔ فالوورز کا کوئی جنون نہیں تھا۔ کوئی کرتا ہے تو کرے نہیں تو پرواہ نہیں۔ بہت سے ٹرینڈز کیے۔ ہر ہفتے تین چار ٹرینڈز ہوتے تھے اور ہم ہوتے تھے اور ٹویٹس اور ریٹویٹس کی قطار لگ جاتی تھی۔ ایک دن میں چار چار لمٹس لگواتے اور بڑے خوش ہوتے تھے۔ اور اگلے دن رزلٹ کا انتظار کے کونسے نمبر پر آئے ہم۔ کیونکہ بچپن سے جنون نمبر ایک پر آنے کا بھی تھا۔۔ پھر ٹیم والوں کا دباؤ شروع ہوا کہ اب ایڈمن بنیں اور ہم کوئی ذمےداری لینا نہی چاہتے تھے اس لیے انکار پر انکار ۔۔ پر شاباش ہے ٹیم مینیجمنٹ کو بھی ، پیچھا نہی چھوڑا اُنہوں نے بھی اور آخر کار پہلے نائب ایڈمن اور پھر ایڈمن بنا ڈالا۔۔ پھر سینئر ایڈمن بن کر مینیجمنٹ کا حصہ بنے، اپنے سینئرز سے بہت کچھ سیکھا۔ ٹرینڈ کیسے بنتے ہیں ایچ ٹی کیسے بنتا ہے، ٹاپک کیسے چنا جاتا ہے، یہ سب ایک دلچسپ تجربہ رہا۔۔ کچھ اور ٹیموں میں بھی شمولیت اختیار کی لیکن اپنی پہلی ٹیم کے ساتھ وفادار رہے کیون وفاداری بھی ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ سال سے زیادہ ہو گیا تھا اسی اثناء میں ہمیں ٹوئٹر پر۔۔ عمران خان الیکشن جیت کر وزیر اعظم بن چکے ہوئے تھے۔ اور ہم انکے ساتھ ایک نئے پاکستان کی تکمیل کے لیے کوشاں رہے۔۔ ساتھ ساتھ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے لیے بیشمار ٹرینڈز کیے ۔۔ بیشمار اکاؤنٹس شہید کروائے اور کبھی غم بھی نہی کیا انکا۔ کیونکہ مقصد اکائونٹ نہیں تھا۔ مقصد پاکستان، اپنی افواج، کشمیر اور پاکستان کے لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرنا تھا۔

    پھر افسوس کے ہماری ٹیم مینجمنٹ میں پھوٹ پڑ گئی اور ہماری ٹیم ٹوٹ گئی جسکا آج بھی افسوس ہے۔ اور پھر ہم نے اپنی ایک ٹیم کا آغاز کیا اپنے چند بہترین دوستوں کی مدد سے۔ الحمدللہ آج سال سے اُوپر ہو گیا وہ ٹیم چلا رہے ہیں۔ مقصد وہی ہے جو پہلے دن تھا۔ اس سفر میں بہت سے اچھے دوست ملے۔ بہت سے بچھڑ بھی گئے جن کی یاد آج بھی دل سے جاتی نہیں ہے۔ بہت سے سبق ملے۔۔ بہت کچھ سیکھا لوگوں کے رویوں سے متعلق۔۔ آج ٹوئٹر ویسا نہی ہے جیسا آج سے دو تین سال پہلے تھا لیکن اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے اور یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کے جہاں بہت سے لوگ صرف دوسرے لوگوں کو استعمال کرنے کے لیے ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں وہاں بیشمار لوگ صرف اور صرف اپنے وطن، پاکستان کی بھلائی کے لیے اپنا دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ایسے سب لوگ میرے دل کے بےحد قریب رہتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو نیک کام کرنے کی ہدایت اور توفیق عطا فرمائیں۔۔آمین ثم آمین
    نوٹ: کسی اگلے آرٹیکل میں کچھ مزے دار قصے بھی بیان کرنے کی کوشش کروں گی جو کے بیشمار ہیں۔

    @NiniYmz

  • ایک ملک ایک قوم ایک نصاب  تحریر زوہیب خٹک

    ایک ملک ایک قوم ایک نصاب تحریر زوہیب خٹک

    ایک ملک ایک قوم ایک نصاب

    حکومت وقت نے جب سے یکساں تعلیمی نصاب متعارف کروایا ہے تب سے کئی حلقوں میں اس عمل کو سراہا جارہا ہے کہ غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی تعلیم حاصل کرے گا اور مستقبل میں ہر شعبہ ہائے زندگی میں سب شہریوں کو مساوی حقوق مل سکیں گے۔ یعنی امیر غریب کی تفریق ختم ہو جائے گی۔ لیکن جہاں لوگ اس نصاب کو مثبت نظر سے دیکھ رہے ہیں وہیں ہمیشہ کی طرح لبرل طبقے کو اس نصاب میں بھی کیڑے نکالنے کا موقع مل گیا۔ اور اس طبقے کا من پسند منجن عورت کے حقوق عورت کی آزادی کے نام پر واویلا شروع کر دیا بی بی سی کو مضمون لکھ ڈالے کہ پاکستان میں عورتوں کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں اور وجہ بھی ایسی مزحکہ خیز پیش کی گئی کہ کوئی بھی با شعور انسان کا سر چکرا جائے کہ آخر کوئی اس قدر پسند ذہنیت کیسے رکھ سکتا ہے۔ پانچویں جماعت کی انگریزی کی کتاب پر شائع کی گئی ایک تصویر ہے جس میں ماں اور بیٹی کالین پر بیٹھے ہیں جبکہ باپ اور بیٹا صوفے پر اس ایک تصویر کو بنیاد بنا کر پراپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ یہ نصاب اور یہ حکومت عورتوں کے حقوق کے خلاف ہے یہ خدا نخواستہ عورت کو مرد سے کمتر سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس دیگر کئی درسی کتب میں خواتین یعنی ماں بیٹی کو صوفے پر بیٹھا دیکھا جاسکتا ہے اور بیٹا یا شوہر کالین پر بیٹھے ہیں جیسے عام طور پر ہمارے گھروں میں ہوتا ہے۔ لیکن وہ تمام تصاویر اس لبرل طبقے کو نظر نہیں آئیں۔

    جیسے اس لبرل طبقے کو عید قربان پر جانوروں کے حقوق یاد آجاتے ہیں پھر چاہے سارا سال خود کے ایف سی مکڈولنڈ نوش فرماتے رہیں لیکن غریب کو مفت میں گوشت کھانے کو ملے تو جانوروں کا دکھ درد جاگ اٹھتا ہے تاکہ عام مسلمانوں کو دینی فریضے سے بدظن کیا جاسکے۔ ایسے ہی یکساں تعلیمی نصاب میں بھی انہیں عورتوں کے حقوق کا کوئی دکھ درد نہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ غریب کے بچے کی کیا مجال جو ہمارے بچوں کے مقابلے پر آسکے۔ اس ملک کی اشرافیہ بننا تو صرف ہمارا حق ہے ہم اس ملک کے مالک کرتا دھرتا ہیں غریب کا بچہ تو ہمارا نوکر ہی بنے گا وہ کیونکر افسر بنے۔

    ساتھ ہی انہیں حکومت کے اس اقدام پر بھی شدید دکھ اور صدمہ پہنچا ہے کہ تعلیمی اداروں میں مرد و خواتین اساتذہ کے جینز پتلون پہننے پر کیوں پابندی لگا دی ہے۔ حالانکہ مُہزب لباس کے متعلق قوانین تو مغربی ممالک کے تعلیمی اداروں میں بھی لاگو ہے جن کا دین اسلام سے بھی کوئی تعلق نہیں ۔ لیکن بنیادی اخلاقیات کو تو وہ بھی مانتے ہیں اور اپنے اساتذہ کو طالب علموں کے لیے رول ماڈل کے طور پر دکھانا چاہتے ہیں اساتذہ کا لباس چال ڈھال اٹھنا بیٹھنا انداز گفتگو ہر چیز بچوں پر اثر ڈالتی ہے اس لیے وہ مغربی معاشرے بھی اپنے اساتذہ کو بنیادی اخلاقیات پر عمل کرنے کے لیے پابند کرتے ہیں۔ لیکن یہاں بدقسمتی سے اس لبرل طبقے کو کوئی عقل و شعور کی بات سمجھنا اونٹ کو رکشے میں بٹھانے کے مترادف ہے کیونکہ یہ دین بیزار طبقہ سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔ میرا مطالبہ ہے کہ حکومتِ وقت ان مٹھی بھر ننگ دھڑنگ شدت پسند عناصر کے آگے ڈٹ جائے اور ہمارے معاشرے کے معمار نئی نسل اور اساتزہ کی بھلائی کے لیے اپنے اس بہترین فیصلے سے ہرگز پیچھے نا ہٹے۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • ثقافت کی حفاظت تحریر:  زہراء مرزا

    ثقافت کسی بھی معاشرے یا علاقے کی پہچان ہوتی ہے. وہاں کا رہن سہن طور طریقے رسوم رواج لباس و خوراک یہ تمام کی تمام چیزیں ثقافت کہلاتی ہیں.
    .
    علاقے کے لوگوں کا مذہب کوئی بھی ہو. وہ ثقافت پر اثر انداز نہیں ہوتا.
    تہذیب و تمدن پر مذہب کی چھاپ ممکن ہے مگر ثقافت پر نہیں.
    .
    کلچر کسی بھی علاقے کی فطری اور جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر وجود میں آتا ہے.
    .
    اس میں کسی خاص علاقے کے ماحول کا بڑا اثر شامل ہوتا ہے.
    .
    جس خطے میں ہم بستے ہیں اسے پاکستان کہتے ہیں، پاکستان میں ہر طرح کی زمین اور ماحول موجود ہے.
    یوں ہر علاقے کی اپنی مختلف ثقافت ہے.
    .
    لباس کی بات کریں تو پاکستان میں
    کہیں اجرک ثقافت ہے تو کہیں دھوتی کرتا، کہیں ٹوپی تو کہیں دستار
    .
    ہر علاقے کی عوام کا مہمان نوازی کا طریقہ مختلف ہے. مہمان نواز ہونا تہذیب ہے. اور کس علاقے میں کس طرح مہمان نوازی ہوتی ہے یہ چیز علاقے کی ثقافت کو ظاہر کرتی ہے.
    .
    تمہید مزید لمبی نہ ہو اسلیے تحریر کے مقصد کی جانب بڑھتے ہیں.
    .
    باقی خطوں کی طرح ہمارا خطہ پنجاب بھی ایک خوبصورت ثقافت رکھتا ہے.
    لیکن جوں جوں ہم ماڈن ہوتے جا رہے ہیں. اور مادی ترقی کی منازل طے کرتے چلے جا رہے ہیں ہم اپنی ثقافت سے دور ہو رہے ہیں.
    ثقافت کے فروغ اور بقا کے لیے سب سے اہم آپکی زبان ہے.
    آج ہماری اکثریت اپنے بچوں کو پنجابی سکھانے سے قاصر ہے. اور بچے کو پنجابی بولنے سے روک رہی ہے.
    بات پنجابی تک نہیں رکی دور جدید میں جدت کے مارے ہوئے اردو کو ترک کر کے انگریزی بولنے اور سیکھنے پر مصر ہیں. اور اسے ہی فلاح کا واحد راستہ جانے ہوئے ہیں.
    ہم نے ماڈرن ازم کے نام پر اپنے لباس سے دشمنی پال لی ہے. آج کالجز اور یونیورسٹیوں میں آپکو پنجابی لباس ذیب تن کیے نوجوان آٹے میں نمک کے برابر ملینگے.
    .
    چاینز، اٹالین، امریکن اور جاپانی کھانو کے ششکے نے ہم سے سرسوں کا ساگ،. دیسی مرغ، مکھن، لسی جیسی خوبصورت خوراک چھین لی ہے.
    آج ہم فقط ماڈرن نظر آنے کی خاطر ان تمام چیزوں کو اپنی میز سے دور کر رہے ہیں.
    .
    ہم نے اپنے صوفی و فوک میوزک کو قدیم زمانے کی بورنگ چیزیں کہہ کر موسیقی میں پاپ اور راک کو ہی اپنا اوڑھنا بچونا بنا لیا ہے.
    .
    ہمارے ڈراموں اور فلموں میں ترقی یافتہ انڈسٹریز سے متاثر ہو کر اپنی ثقافت کو دکھانے کا رواج ختم ہو چکا ہے. اور ہم عوامی کنٹینٹ تخلیق کرنے میں ناکام ہیں.
    .
     تحریر طول نہ پکڑ لے اس سے پہلے بات کو سمیٹتا ہوں. ہم نے جدت کے نام پر جن چیزوں کو مائنس کیا وہ ہماری ثقافت اور کلچر کو نگل رہی ہیں. ہم نے اخلاقی اقدار میں تنزلی کا سفر طے کر لیا ہے. اور گورا بننے کے چکر میں پنجابی بھی نہیں رہے.
    اگر ہمیں اپنی شناخت زندہ رکھنی ہے تو اپنی ثقافت سے عشق کرنا ہوگا. تاکہ ہماری نسلوں کی پہچان ممکن ہو سکے.

    شکریہ
    zaramiirza@

  • کنٹونمنٹ بورڈ کا معرکہ تحریر عقیل احمد راجپوت

    کنٹونمنٹ بورڈ کا معرکہ تحریر عقیل احمد راجپوت

    پورے پاکستان میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے سندھ میں بھی کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کے لئے گہما گہمی دیکھنے میں آرہی ہے ہر جماعت جلسے جلوسوں اور انتخابی مہم کے ذریعے عوام کو اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے مگر انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو اس وقت بھی حکومت اور وزارتوں کے باوجود سندھ کے کسی بھی ایک ضلع کو مثالی ضلع بتانے کی پوزیشن میں نہیں وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کو تین سال پورے ہوچکے اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق کا صوبوں پر صرف ٹیکس لینے کی اور وفاقی ماتحت اداروں کے زریعے اپنی کارکردگی دکھانے کا کام رہ گیا ہے مگر وہ کام بھی وفاقی حکومت سے عوام کو کوئی ریلیف دلانے سے قاصر ہے کیونکہ وفاق کے زیرِ انتظام بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں نے عوام کا جس طرح جوس نکالا ہے وہ کوئی بھی پاکستانی اپکو بخوبی بتا سکتا ہے چینی سے لیکر ایل پی جی تک اور ڈالر سے لیکر ڈالڈا تک ہر چیز وفاقی حکومت کو منہ چڑھاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر وفاقی حکومت کا کہنا ہے آپ کو گھبرانا نہیں ہے 

    وفاق کی ناکامیوں کو دیکھنے کے بعد صوبہ سندھ کی جانب رخ کرتے ہیں جہاں پچھلے 13 سالوں سے پیپلز پارٹی کی بلا شرکت غیر لگاتار حکومت جاری ہے بلکہ یوں کہیے کہ سندھ کی عوام پر 13 سالوں سے وہ بھٹو حکومت کررہا ہے جو کبھی دکھائی ہی نہیں دیتا لیکن پھر بھی عوام مر گئی لیکن بھٹو آج بھی ذندہ ہے پیپلز پارٹی نے 13 سالوں میں سندھ کی وہ حالت کردی ہے کہ روشنیوں کا شہر کراچی اب موئنجودڑو کا منظر پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے جیسے لوگ جب پاکستان کو ٹیکس کی مد میں 65 پرسنٹ ریونیو دینے والے صوبے پر حکمرانی کریں گے تو بس پھر ملک اور قوم کا اللہ ہی مالک ہے

    ویسے ایک نہایت ہی قابل انسان کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت آٹو پر چل رہا ہے 

    میرے آرٹیکل کا مین مدا بھی یہی ہے کہ میرا پیارا ملک بیقدروں اور نااہلوں کے ہاتھوں میں ہونے کے باوجود بھی اللہ کے فضل سے چل رہا ہے جس میں پورے پاکستان کی ہر جماعت حکمرانی اور اپوزیشن دونوں ہی مزے لوٹ رہی ہیں سوائے ایک جماعت کے جس کا ذکر بعد میں کرونگا فلحال سندھ کی حکمران جماعتوں کا جائزہ لیتے ہیں تو پیپلز پارٹی تو سب کو معلوم ہے کہ ووٹ تو نکل آتا ہے ہے پولنگ بوتھ سے مگر بھٹو کسی کو نظر نہیں آتا 13 سالوں سے اقتدار میں ہے وفاق میں اپوزیشن میں بھی ہے تحریک انصاف وفاق میں حکمران اور سندھ میں اپوزیشن جماعتوں میں شامل ہے جب کہ انکے بیشتر وفاقی وزیر اور ملک صدر پاکستان کے ساتھ ساتھ گورنر سندھ کا عہدہ آج بھی ان کے پاس ہے لیکن وہ بھی گیارہ گیارہ سو کے ناجانے کتنے ٹیکے اپنے جلسوں میں کراچی والوں کو لگا کر جاچکے مگر وہ تو نا آئے عوام کو کورونا کا ٹیکہ لگ گیا 

    تیسری اور سب سے زیادہ اقتدار میں رہنے والی جماعت جو ہر حکومت میں وفاقی یا صوبائی حکومتوں کا حصہ رہی لوکل الیکشن کے پچھلے بیس سالہ دور میں سے 15 سال انکا مئیر منتخب کروا کر دینے والے کراچی کے شہری ایک سید مصطفیٰ کمال کے دور کے علاؤہ کسی بھی وزیر میئر اور گورنر سے آج تک کوئی فوائد حاصل نہیں کرسکے سوائے انکی جائیدادوں اور بینک بیلنس میں اضافے کے علاؤہ لیکن حد تو یہ ہے کہ سندھ کے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں آج بھی یہ جماعت عوام کو ووٹ کے بدلے اچھے کل کی تصویر دکھا کر ووٹ مانگ رہے ہیں جو پچھلے چالیس سالوں سے ووٹ لیتے آرہے ہیں اور صرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکے 

    اب آتے ہیں پاک سر زمین پارٹی کی جانب جو اس بار پہلی مرتبہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اس کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال اپنے پارٹی کے منتخب نمائندوں کی الیکشن مہم بہت زور ؤ شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور عوام کی جانب سے تمام جماعتوں کی کارکردگی دیکھنے کے بعد اب مصطفیٰ کمال کو آزمانے کے علاؤہ کوئی آپشن موجود نہیں پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین کی جس بات پر عوام سب سے زیادہ متوجہ وہ یہ نعرہ ہے کے میرے نمائندوں کو ووٹ دیکر آپ اپنے گھروں میں سونا میں اور میرے نمائندے راتوں کو جاگ کر تمہارے صبح کو بہتر بناتے ہوئے نظر آئینگے 

    12 ستمبر کو کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں سندھ سے کونسی جماعت کامیاب ہو گی اس کا تو کسی کو علم نہیں مگر عوام کو اپنے ووٹ کا لازمی اور اچھے نمائندوں کو منتخب کرنے کا عمل ہی انکو انکی حالت میں بہتری لانے کا سبب بن سکتا ہے تو عوام کو چاہیے کہ اچھے اور کام والے نمائندوں کو منتخب کروا کر اپنا اور اپنے علاقوں کا مستقبل بہتر بنانے کیلئے ووٹ ضرور دیں اور اچھے کو دیں