Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • مینٹل ہیلتھ  تحریر: خالد عمران خان

    مینٹل ہیلتھ تحریر: خالد عمران خان

    ذہنی پسماندگی ہمارے ہاں بڑھتی چلی جارہی ھے اور سب سے بڑی جہالت یہ ھے کہ ہمارے ہاں زہنی مرض کو بیماری سمجھنے کی بجائے لوگ دیگر عوامل کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ جہالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ھے کہ زہنی مریض کو اکثر جنات کے زیر اثر قرار دے دیا جاتا ھے جس کی وجہ سے زہنی مریض کو باقاعدہ علاج کی بجائے پیری فقیری کے چکروں میں ڈال دیا ھے جاتا ھے جو کہ انتہا درجے کی جہالت کا واضع ثبوت ھے۔

    اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے بہت سے ایسے معاشروں اور تہذیبوں کی مثالیں آتی ہیں جس سے ہمیں پتہ چلتا ھے کہ بہت سے معاشرے اور تہذیبیں گردش وقت میں گم ہوگئیں، ہمارے معاشرے میں جو دن بہ دن بگاڑ سامنے آرہا ھے اس میں سب سے بڑا مسئلہ انسانی رویوں کا خوفناک حد تک بگاڑ ھے جو کہ تشویش کی بات ھے۔اب اگر ہم ایشائی ممالک کا تجزیہ کرتے ہیں تو اول تو زیادہ تر کو زہنی امراض سے آگاہی ہی نہیں ھے بالفرض اگر معلوم ہو بھی جائے تو ہمارے ہاں چیزوں کو چھپانے کا رواج عام ھے یہاں لوگ زہنی امراض کو چھپا کر رکھتے ہیں، زہنی امراض کو باعث شرمندگی قرار دیا جاتا ھے اگر نوجوانوں میں یہ مسئلہ ہو تو اس لئے بھی خفیہ رکھا جاتا ھے کہ اگر کسی کو پتہ چل جاتا ھے ان کی زینی بیماری کا تو بہت سے مسائل جنم لے سکتے ہیں اور اہم مسئلہ یہ کہ ان کی شادی بھی ناممکن ہوجائے گی۔ اصل میں ڈپریشن کے لئے کوئی مخصوص لفظ نہیں ھے اس سے متاثرہ لوگوں کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ھے کہ انہیں زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا ھے۔ عالمی ادارہ صحت اپنی ایک رپورٹ میں بتاتا ھے کہ دنیا بھر میں تقریباً 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی بیماری میں مبتلا ہیں۔ذندگی کے سہل پسند معاملات نے انسانی جسم کو خاصا متاثر کیا ھے وہیں ہمارے معاشرتی رویوں نے غربت پر بہت گہرا اثر ڈالا ھے اسی وجہ سے پیچدہ ذہنی مسائل جنم لینا شروع ہوگئے ہیں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ھے کہ روزمرہ کے معمولات جیسے کہ کسی کی زندگی میں غم و خوشی یا خوف وغیرہ کی کوئی ظاہری وجہ وقع پذیر نہ ہونے کے باوجود دماغ میں کیمیکلز عدم توازن کے باعث ایک انسانی دماغ ان تمام کیفیات میں مبتلا ہوسکتا ھے۔

    ایسے مواقعوں پر ضروری ھے کہ ذہنی مرض میں مبتلا مریض کی مکمل کونسلنگ کروائی جائے تاکہ مریض کے طرز زندگی اور سوچ میں مثبت تبدیلی لائی جاسکے اس کے علاوہ ذہنی مریض کے تجویز کردہ ادویات بھی عصبی کیمیائی مادوں کو واپس اپنی جگہ پر لانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
    دنیا بھر میں اس وقت زہنی ڈپریشن دنیا بھر میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ھے کچھ افراد اس قدر ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں کہ خودکشی تک کرلیتے خصوصاً نوجوانوں میں یہ رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ھے گزشتہ کچھ واقعات ایسے بھی دیکھنے کو ملے ہیں کہ امتحانات میں ناکامی کے خوف کی وجہ سے طلباء نے خودکشی جیسا انتہائی اقدام اٹھایا، ایک محتاط اندازے کے مطابق آدھے سے ذیادہ زہنی مریضوں کی عمر چودہ سال سے شروع ہوتی ھے محکمہ صحت کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ھے کہ پاکستان میں ہر چھ میں سے ایک فرد زہنی مرض میں مبتلاء ھے۔
    طبی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ زہنی امراض کے تدارک کے لئے یہ ضروری ھے کہ عوام میں علاج معالجہ کے ساتھ اس بیماری سے متعلق شعور بھی اجاگر کیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں اکثر یہ دیکھنے میں آیا ھے کہ زیادہ تر ہمارے ہاں زہنی امراض کا علاج کروانے سے کتراتے نظر آتے ہیں، انسان خواہ کتنا ہی اندر سے مضبوط کیوں نہ ہو یہ بیماری کسی کو بھی لاحق ہوسکتی ھے زہنی مریض خاص طور پر خصوصی توجہ کا مستحق ہوتا ھے، خاص توجہ سے ہی ایسے مریض واپس نارمل زندگی کی طرف آسکتے ہیں نا کہ ہنسی مذاق اڑانے سے اسی لئے اگر خدانخواستہ کسی کے گھر میں بھی کوئی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ھے تو اس کے لئے یہ ضروری ھے کہ ایسے مریضوں کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آئیں جائیں تاکہ وہ جلد صحتیاب ہوکر معاشرے کے معزز شہری بن سکیں

    Twitter ID :‎@KhalidImranK

  • ہمارے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت   تحریر زاہد کبدانی

    ہمارے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت تحریر زاہد کبدانی

    یہ کہنا کہ تعلیم اہم ہے ایک چھوٹی سی بات ہے۔ تعلیم کسی کی زندگی کو بہتر بنانے کا ہتھیار ہے۔ یہ شاید کسی کی زندگی بدلنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ بچے کی تعلیم گھر سے شروع ہوتی ہے۔ یہ زندگی بھر کا عمل ہے جو موت کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ تعلیم یقینی طور پر کسی فرد کی زندگی کے معیار کا تعین کرتی ہے۔ تعلیم کسی کے علم ، مہارت کو بہتر بناتی ہے اور شخصیت اور رویہ کو ترقی دیتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تعلیم لوگوں کے روزگار کے مواقع کو متاثر کرتی ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کو شاید اچھی ملازمت ملنے کا امکان ہے۔ تعلیم کی اہمیت پر اس مضمون میں ، ہم آپ کو زندگی اور معاشرے میں تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بتائیں گے۔

    سب سے پہلے ، تعلیم پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سکھاتی ہے۔ پڑھنا اور لکھنا تعلیم کا پہلا قدم ہے۔ زیادہ تر معلومات لکھ کر کی جاتی ہیں۔ لہذا ، لکھنے کی مہارت کی کمی کا مطلب ہے کہ بہت سی معلومات سے محروم رہنا۔ اس کے نتیجے میں تعلیم لوگوں کو خواندہ بناتی ہے۔

    سب سے بڑھ کر ، روزگار کے لیے تعلیم انتہائی ضروری ہے۔ یہ یقینی طور پر مہذب زندگی گزارنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ یہ ایک اعلی تنخواہ والی ملازمت کی مہارت کی وجہ سے ہے جو تعلیم فراہم کرتی ہے۔ جب تعلیم کی بات آتی ہے تو غیر تعلیم یافتہ لوگ بہت بڑے نقصان میں ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے غریب لوگ تعلیم کی مدد سے اپنی زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔

    بہتر مواصلات تعلیم میں ایک اور کردار ہے۔ تعلیم انسان کی تقریر کو بہتر اور بہتر بناتی ہے۔ مزید برآں ، افراد تعلیم کے ساتھ رابطے کے دوسرے ذرائع کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

    تعلیم ایک فرد کو ٹیکنالوجی کا بہتر صارف بناتی ہے۔ تعلیم یقینی طور پر ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ضروری تکنیکی مہارت فراہم کرتی ہے۔ لہذا ، تعلیم کے بغیر ، جدید مشینوں کو سنبھالنا شاید مشکل ہوگا۔

    لوگ تعلیم کی مدد سے زیادہ بالغ ہو جاتے ہیں۔ نفاست تعلیم یافتہ لوگوں کی زندگی میں داخل ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر ، تعلیم افراد کو نظم و ضبط کی قدر سکھاتی ہے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی وقت کی قدر کو زیادہ سمجھتے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگوں کے لیے وقت پیسے کے برابر ہے۔

    آخر میں ، تعلیم افراد کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے خیالات کا موثر انداز میں اظہار کر سکیں۔ تعلیم یافتہ افراد اپنی رائے کو واضح انداز میں بیان کر سکتے ہیں۔ لہذا ، پڑھے لکھے لوگ لوگوں کو اپنے نقطہ نظر پر قائل کرنے کا امکان رکھتے ہیں۔

    معاشرے میں تعلیم 

    سب سے پہلے ، تعلیم معاشرے میں علم پھیلانے میں مدد دیتی ہے۔ یہ شاید تعلیم کا سب سے قابل ذکر پہلو ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرے میں علم کی تیزی سے تبلیغ ہوتی ہے۔ مزید برآں ، تعلیم کے ذریعہ نسل سے دوسری نسل میں علم کی منتقلی ہوتی ہے۔

    تعلیم ٹیکنالوجی کی ترقی اور اختراع میں مدد دیتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تعلیم جتنی زیادہ ہو گی اتنا ہی ٹیکنالوجی پھیلے گی۔ جنگی سازوسامان ، ادویات ، کمپیوٹرز میں اہم پیش رفت تعلیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    نتیجہ

    تعلیم اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے۔ یہ یقینی طور پر اچھی زندگی کی امید ہے۔ تعلیم اس سیارے پر ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس حق سے انکار کرنا برائی ہے۔ ان پڑھ نوجوان انسانیت کے لیے بدترین چیز ہے۔ سب سے بڑھ کر ، تمام ممالک کی حکومتوں کو تعلیم کو پھیلانا یقینی بنانا چاہیے۔

    @Z_Kubdani

  • ادھورے خط  تحریر : محمّد اسحاق بیگ

    ادھورے خط تحریر : محمّد اسحاق بیگ

    السلام علیکم!

    آج گرمی اپنے شباب پر ہے اپنے تمام تر جاہ و جاللال کے ساتھ ، گرم کر دینے کے عمل سے ، گرمی کی اتنی شدت اور میرا بوائلر  روم سب سے گرم ہے۔ اتنی شدید گرمی میں میرا بوائلر  روم جہنم کا ایک گوشہ معلوم ہوتا ہے ۔اور جب بوائلر  روم کے اندر جانا پڑتا ہے تو گرمی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔اور پسینہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔جسے  پچلھے سال کیمسٹری لیب میں کیمسٹری کے پریکٹیکل کرنے میں آتا تھا ۔

      اتنی گرمی کے باوجود لیب کوٹ پہننا ضروری ہوتا لیب کوٹ جلتی ہوئی گیس جلاتی ہوئی دھوپ اور لیب کی بند کھڑکیاں ،لڑکیوں کے لال ہوتے سرخ سیب کی طرح رخسار ،ماتھوں پر بالوں کا لٹ کی صورت میں ٹھہر  جانا کتنا بھلا لگتا تھا۔

      مجے یہاں کی گرمی دیکھ کر وہ سب یاد أگیا

      کیمسٹری لیب، فزکس لیب ( Y) بس کا سفر،  اور تم  لوگوں کو بہت گرمی محسوس ہوتی تھی اور  مجے مزہ آتا تھا   یہاں بھی لوگوں کو گرمی محسوس ہوتی ہے اور میں لطف اندوز ہوتا ہوں کیونک میری فطرت  میں گرمی سردی ،خزاں، بہار ہر  موسم لطف اندوز ہونے کی عادت ہے۔

      

    ١٩مَی 1993ء

    اوپر کی سطور میں تقریبا” ١٥ دن پہلے لکھ چکا ہوں ۔١٨ مئی کو تمہارا خط مجے ملا حالات سے اگاہی ہوئی میں تم لوگوں کے خطوط کا ہی انتظار کر رہا تھا اسد کا رویہ قابلٔ افسوس تھا کہ اس نے خط تم لوگوں کو تک نہ پہنچاۓ۔

     تمہارا خط مجے مل گیا تھا۔ افسوس ہے کہ تم نے پنسل سے لکھا ہے خط لکھنے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ خط لکھنا ایک مہذب  کام ہے تم لوگ کب اپنا آپ مکمل کرو گے توقیر ، تم سب جتنے بھی ہو میرے حلقہ احباب  میں ، کام  میں اپنی زندگی کے  اصل رخ دیکھنا جانتے ہو کیا اسا ممکن نہیں ہے کہ میں اپنے ملنے والوں سے تم دوستوں کی تعریف کرتا ہوں ممکن ہے ان کو لگتا  ہو کہ میرے دوست عام راستوں پر چلنے کے عادی نہیں ہیں۔ اور تم لوگ ہو کہ کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر جاتے ہو  جس سے میری ناک چڑھ کر ماتھے سے جا لگتی ہے۔ بھلا سوچو میری چڑھی ہوئی ناک دیکھ لاہور والے کیا  سوچیں  گے۔ 

     کچھ تو خیال کرو خیر چھوڑو ان باتوں کو کہیں ایسا نہ ہو کہ خط اپنی باتوں کی نذر  ہو جاۓ۔

    ہاں میں پنجاب کا رہنے والا پنجاب کا پنجابی ہوں  مجے اکثر جامعہ ملیہ کالج کا  کلاس روم پریکٹیکل  لیب یاد آتا ہے۔خاص طور پر ان گرمیوں  میں جو آج کل لاہور پر مسلط ہے ۔

     پچھلے سال کراچی میں بھی  شدید گرمی تھی۔اندازہ پریکٹیکل کرنے کے دوران یا  Y بس کا سفر کرنے  پر ہوتا تھا۔یا چند  جو ہماری کلاس میں گوری چٹی لڑکیوں کے سرخ ہوتے ہوۓ گالوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا۔

    یہ وہ باتیں ہیں جو میں اکثر یہاں اپنے بوائلر  روم میں بیٹھ کر سوچتا ہوں کیونکہ یہاں سوچنے اور لکھنے کے علاوہ کچھ اور کام نہیں ہوتا عجیب نوکری ہے پندرہ دن ہو گئے ہیں ،آتا ہوں ، سوچتا ہوں شام چار بجے گھر کے لئے روانہ ہو جاتا ہوں۔اور  رات گئے تک آوارہ گردی کرتا ہوں اور صبح پھر ڈیوٹی پر آ کر سو جاتا ہوں۔

    ویسے مجھے یہ اپنی ڈیوٹی بہت اچھی لگتی ہے۔کیونکہ اس ڈیوٹی کی وجہ سے میں صبح سورج کے ساتھ خواب سے حقیقت کی طرف طلوع ہوتا ہوں۔یعنی صبح ٥ بجے اور مغرب کی طرف جاتی رات دیکھتا ہوں۔اور مشرق سے دبے پاؤں آتی  خوشگوار صبح دیکھتا ہوں۔جب میں پہلی بار اٹھا تو کچھ پہر انکشاب ہوا کہ سورج میرے گھر سے تقریبا ایک میل کے فاصلے پر رہتا ہے۔

    رات تمہارا خط ملا اور آج میری ماں نے دو پراٹھے اور آلو ٹماٹر کے ساتھ بھون کر مجھے دیے لے بیٹھ جا۔دوپہر جب بھوک لگے تو باہر سے کھانے کی بجائے یہ کھانا۔میں نے کھایا۔مجھے انڈوں کا صفر یاد آیا۔میں آپ ہی آپ مسکرا پڑا۔پھر تمہیں خط کا جواب دینے بیٹھ گیا۔

    پرسوں والے دن مجھے بتانا جب رزلٹ آئے ، اور پرسوں والا  دن ہمارے کالج کی چھت پر رہتا  ہے۔تمہیں اتنا نہیں پتا تمہاری غفلت پر افسوس ہے لیکن نظر بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔پرنسپل کو نظر آتا ہے۔یا اسحاق  کو۔ پنسل  سے لکھنے والوں کو تو بالکل نظر نہیں آتا۔اور نہ ہی انگلش ٹیچر کو نظر آتا ہے۔اور کل ٹیکنیکل کالج کی چھت پر رہتا ہے۔ اور سورج میرے گھر سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔

    آہ یہ چیزیں تمھیں نظر نہیں آیئں گیں ۔

    آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں۔

    اچھے اور پیارے لڑکے۔

    اؤ چند لمحوں ، چند سالوں ، چند صدیوں کے لئے میرے پاس آؤ۔

    میرے قریب بیٹھو

    میں تمہیں کچھ سمجھاؤں میں تمہں ایک سچی اور کھڑی لیہ پر لگاؤں۔اور تم سمجو گے ان حقیقتوں کو جو بہت  اکلیت میں ہیں۔جن تک ہر دور میں چند انسان پہنچ پاتے ہیں ۔ سب زندہ ہیں ، سب مردے ہیں مرے ہوۓ۔ آؤ پیارے میرے پاس بیٹھو۔تم محسوس کرو گے جو مر چکے ہیں۔وہ موجود ہیں۔اور جو زندہ ہیں۔وہ کہی چلے گئے ہیں جو مر جاتے ہیں وہ اپنے وجود میں آ جاتے ہیں۔اور زندہ غائب ہو جاتے ہیں۔ہا۔ہا۔ہا۔تم نہ سمجھ پاؤ گے۔کیونکہ تم محض ایک سایہ کی طرح زندگی گزار رہے ہو۔جو ہوتا ہے لیکن  کچھ نہیں کرتا۔

    تم کیا کرتے ہو؟کیا کیا ہےآج تک؟ جو گزر گۓ وہ کچھ کر گۓ۔ جو کچھ گزار رہے ہیں وہ بھی کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔اور تم_____۔

    تم کو اپنی ذات کا نہیں پتہ__ محض ایک ساۓ کی طرح زندگی گزار رہے ہو۔آؤ ۔ گھبراؤ مت۔اٹھ کھڑے ہو۔ابھی سفر بہت لمبا ہے۔اور کھٹن۔اور تم مسافر۔

    اب تک ان راستوں پر چلتے آۓ ہو۔جو پامال ہو چکے ہیں۔جن پر کتنے ہی انسان محض کیڑے مکوڑے کی طرح سفر کرتے ہیں۔اور تم بھی ان میں محض ایک کیڑے کی حیثیت رکھتے ہو۔

    اب بھی وقت ہے۔چھوڑو ان پامال راستوں کو۔آو۔ ادھر آؤ ۔اس وحشت میں۔پر منظر جنگل میں۔اس وادی میں۔نیلی جھیل کے کنارے۔جہاں کئی  انسان کے قدم اب تک نہیں پہنچ سکے ۔  آؤ سفر اب بھی طویل ہے۔ اور بالکل اجنبی۔نئ راہوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہو۔عام انسانوں کی صف میں سے نکل آؤ ۔پھر دیکھو تم کو یہ انسان محض سایوں کی طرح نظر آئے گے۔اور سائے کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟

    گرمی نے تو ناک میں دم کر رکھا ہے لیکن میں ___

    سب کنٹین کی طرف جا رہے  ہیں کھانے کے لئے میں بھی جاؤں گا اب کچھ ہی دیر بعد۔شہتوت کی چھاؤں میں شیخ کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی کھاؤں گا۔شہتوت کی چھاوں بہت سکون بخش ہے۔کھانے کے بعد ٹھنڈا پانی ‏پیؤنگا۔سکون سے آنکھیں بند کروں گا گرمی سے پیاری کوئل کی صدا سنوں  گا۔چڑیوں کی چوں ۔چوں اور کوؤں کی کائیں کائیں۔

     سورج جادوگر ہے پیارے۔

      

     @Ishaqbaig___

     

  • نفسیاتی مریض تحریر بسمہ ملک

    نفسیاتی مریض تحریر بسمہ ملک

    چونکہ میرا واسطہ شعبہ تدریس سے یے اور میں اس رتبے اور شعبے کو خدمت خلق کی طرح مانتی ہوں۔ لہذا کالج میں بچیوں کو پڑھانے کے علاوہ مختلف امورِ زندگی کے متعلق ان کی رائے بھی سنتی ہوں اور انھیں ان کی غلطیاں بھی بتاتی ہوں۔
    آج صبح ایک بچی میرے پاس آئی۔ اُس کی آنکھیں نم تھیں۔ وجہ پوچھی۔ تو کہنے لگی۔ میم کالج آنا مشکل ہو گیا ہے۔ آپ ایک ہفتے کے نوٹس مجھے دے دیں۔ یا پھر اپنا نمبر۔ اگر آپ کو بہتر لگے تو میں فون پہ آپ سے روز کا لیسن لے لوں گی۔
    میں نے پوچھا ایسا کیا مسئلہ ہے بھئی۔ وہ بھرائی آواز میں بولی۔ میم گھر میں صبح کے وقت کوئی چھوڑنے والا نہیں ہوتا۔ ابو صبح آٹھ بجے دفتر چلے جاتے ہیں۔ دو بھائی چھوٹے ہیں۔ سکول جاتے ہیں۔ خود کالج آنا پڑتا ہے۔ راستہ سیو نہیں رہا۔ سپیڈو کے انتظار میں جب سٹاپ پہ کھڑے ہوتی ہوں۔ تو پتہ نہیں کیا عالم ہے۔ یا تو کبھی کوئی موٹر سائیکل والا ذرا قریب آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یا پھر کبھی کوئی گاڑی والا۔ اور بس اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ ان کو توجہ ملے۔ جب کبھی غلطی سے اُن کی طرف دیکھ لیا جائے تو آنکھ سے باقاعدہ اشارہ کیا جاتا ہے کہ آ کر بیٹھ جاؤ۔ اور میم تقریباً دوسرے تیسرے دن ایسا ہوتا ہے اور کوئی ایک ہی شخص نہیں بلکہ سٹاپ پہ الگ الگ لوگ اردگرد نظر آتے ہیں۔ کبھی بائیک ہوتی ہے کبھی گاڑی۔ اور آج تو ایک بائیک والا بالکل پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور بولا۔ چلتی ہے ہزار روپے دوں گا۔
    میم کیا میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس سے آگے کچھ نہ کہہ سکی۔ اور مجھے سمجھ نہ آئی کہ اسے اب تسلی کے طور پر کیا کہوں۔ کیونکہ بقول اُس کے، وہ یہ بات گھر نہیں بتانا چاہتی ورنہ گھر والے پریشان ہو جائیں گے اس لیے ہفتہ دس دن چھٹی کرے گی۔
    میں نے اُسے اپنا نمبر دے دیا۔ کہ وہ کتاب سے متعلق جب چاہے مجھ سے رابطہ کر سکتی ہے۔۔
    مگر یہ مسئلہ فقط میری ایک سٹوڈنٹ کے ساتھ نہیں۔ اور بھی کالج کی لڑکیاں اس مسئلے سے دوچار ہیں۔ سب کا یہ ہی کہنا ہے کہ سٹاپ پہ کھڑے جب وہ بس یا آٹو کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں تب یا تو کوئی بائیک یا گاڑی قریب آ کے رک جاتی ہیں۔ جیسے وہ سڑکوں پہ اسی مقصد سے پھر رہے ہوں۔ کہ کب کوئی اکیلا شکار نظر آئے تو اسے ہراس کرے۔ اب واللہ عالم اس طرح کرنے سے اُن کا ارادہ کیا ہے؟ کیا چاہتے ہیں۔ صرف جوان لڑکیوں یا عورتوں کو بائیک یا گاڑی پہ بٹھا کر لفٹ دینا اور انھیں اُن کی مطلوبہ منزل تک پہنچانا تو اُن کی سوچ نہیں۔ اس نیکی کا انھیں کچھ تو صلہ چاہیے
    اب اسے صلے کی چاہ کتنی لڑکیوں کے لئے عذاب بن رہی ہے انہیں اس سے کچھ غرض نہیں جو ان کے ساتھ آمدورفت کرتی ہیں وہ کون ہیں؟
    اور کیوں ان کو یہ لگتا ہے کہ سب ہی ان کی سواری میں بیٹھ جائیں گے ایک معمہ ہے میرے لیے۔۔۔۔
    میں خود بھی اس پہیلی کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر یہ لفٹ دینے کے بعد کا معاملہ کیا ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے پہلے تک ہم نے سڑکوں پر مرد حضرات کو لفٹ مانگتے دیکھا ہے
    مگر اس مدد کے طلبگار بھی بہت سارے لوگ جرائم پیشہ ہوتے ہیں جو سنسان راستوں پر لفٹ کی غرص سے سواری رکواتے ہیں بعد میں نہتے مجبور لوگوں کو لوٹ لیتے ہیں مگر یہ تو معاملہ مختلف ہے لفٹ دینے والا خود آفر کرتا ہے کہ وہ آپ کو مفت میں مطلوبہ منزل تک پہنچائے گا
    اس صورتحال کو پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والے جوان لڑکیاں اور خواتین بہتر سمجھ سکتی ہیں مگر ان میں سے کئی تو میری طرح لاعلم ہیں کہ سواری پہ بٹھانے کے بعد آگے کا مرحلہ کیا ہوگا مگر یہ اسٹاپ پر کھڑے خواتین کو ہراساں کرنے کا مسئلہ موجودہ وقت میں اب مزید سنگین صورت اختیار کرتا جا رہاہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سڑکوں پر پولیس تعینات کی جائے اور پولیس بھی وہ جو دیانتداری سے فرض ادا کرنے والی ہو جن کے خوف سے جرائم پیشہ لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوں
    پولیس کی خدمات سے متعلق ایک خبر چند گھنٹے پہلے ہی میری نظر سے گزری تفصیلات کے مطابق پٹرولنگ آفیسر انصر نے شادمان بس سٹاپ پر خواتین کے سامنے اپنے کپڑے اتار کر نازیبا حرکات کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے حوالات میں بند کر دیا سی ٹی او منتظر مہدی کا کہنا ہے کہ خواتین کو قول و فعل سے ہراساں کرنے والے رعایت کے مستحق نہیں۔
    ایسے تمام ناسوروں کے خلاف کارروائی کے لیے ہدایت کر دی گئی ہیں کیونکہ پچھلے 10 دن پہلے خواتین کے تحفظ کے مسائل پے پولس محکمہ کی خدمات پر بے حد سوال اٹھائے گئے اعلیٰ افسران معطل کئے گئے اور ان کے فرائض کی جانچ پڑتال کی گئی لہٰذا اب پولیس گلیوں بازاروں سے ان معاشرے کے ناسوروں کو گاہے بگاہے پکڑ رہی ہے تاکہ ان کی وردی محفوظ رہ سکیں ہیں حالانکہ اس ملزم یا ان جیسوں کی اخلاقیات سے گری ہوئی حرکات فقط ایک دن کی بات نہیں
    یہ تو آئے دن کا معمول ہے میں یہی صورتحال آدھا گھنٹہ پہلے اپنی کولیگ سے ڈسکس کر رہی تھی تو اس نے کہا یہ سچ ہے
    ایسی صورتحال سے میں خود بھی گزر چکی ہوں مسلم ٹاؤن والے علاقے میں پل کراس کرتے ہوئے ایک آدمی یونہی بنا لباس میرے سامنے آ گیا اور وہ اپنے جسم کے حصوں کو نمایاں کر رہا تھا اور حیرت کی بات وہ جب کوئی اکیلی عورت کو دیکھتا تب ایسا کرنا شروع کر دیتا ۔
    میں نے پل سے اتر کر نیچے کھڑے ڈولفن پولیس نمائندے کو جب بتایا تو بولا میڈم۔۔!
    جب اس کے خلاف کاروائی کرتے ہیں تب اسے بچانے لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور پاگل پاگل کہہ چھڑوا لیتے ہیں ہم کیا کریں کئی بار اس کی چھترول بھی کر چکے ہیں مگر وہی بات گندی فطرت اس نا مرد کی جوں کی توں ہی رہی۔
    میں نے غصے سے کہا پھر یہی پاگل شہہ ملنے پر پہلے ریپ کرتے ہیں بعد میں قتل اور پھر پاگل بن کے یہ اور ان جیسوں کے حمایتی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی قوانین اور اصول کی دھجیاں اڑاتے ہیں
    المیہ ہے ناں۔
    اسلامی جمہوریہ پاکستان جس میں نہ تو قانون ہے نہ ہی انصاف۔
    نفسیاتی مریض سڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہیں
    جبکہ ان مریضوں کا اصل ٹھکانہ مینٹل ہاسپٹل اور علاج الیکٹرک شاکس ہیں
    (ختم شدہ)
    Tweeter id Handel: @BismaMalik890

  • چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    سگریٹ نوشی کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے انسانی معاشرے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ سگریٹ نوشی کے کئی جسمانی اور ذہنی نقصانات سےواقف ہونے کے باوجود سگریٹ کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ، سگریٹ نوشی کے رحجان کوکم کرنے اور اس پر مکمل قابو پانے کے لیے  بہت  سی تحریرلکھی جاچکی ہیں اور
    حکومت نے تمباکو نوشی کے خاتمے کیلئے کئی اقدامات کئے، اس کے نقصانات سے آگاہ کیا ، لیکن سگریٹ نوشوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی

    سگریٹ باظاہر دیکھنے میں ایک چھوٹی سی شے ہے مگر جان لیوا امراض اور بےشمار نقصانات کا موجب ہیں۔سگریٹ میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جسے نکوٹین کہتے ہیں جب ایک فرد سگریٹ کا دھواں اپنے اندر کھینچتے ہیں تو اپنے پھیپھڑوں کی تہیں اس دھوئیں سے نکوٹین لینا شروع کر دیتی ہیں، چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ پر حاوی ہوجاتا ہے، جس کے بعد ہمارا دماغ ڈوپامائن نامی کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت تسکين ملتی ہے اور ، ڈوپامین دماغ میں خارج ہونے والا ایک ایسا کیمیائی مرکب ہے جو خوشی ، تسکين اور راحت فراہم کرتا ہے

    ڈوپاماٸن ڈوپاماٸن کیمیکل خوشی کے حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس سے جسم کو سگریٹ اور اس میں شامل ہونے والا نکوٹین مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ان تمام عادات کو چھوڑنا کسی بھی فرد کے لئے بہت کٹھن ہوتا ہے کیونکہ انسانی جسم میں نکوٹین کی کمی سے متاثرین افراد کی طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان رہنے لگتا ہے، نکوٹین کی اسی طاقت کا بھرپور فاٸدہ اٹھایا جاتا ہے سگریٹ بنانے والی كمپنياں اسی عادی کے بدولت نوجوان نسل کو سگریٹ کی لت لگوا دیتی ہے اور اس سے ہونے والے نقصان اور مرض کی حقیقت بھی چھپاتی ہیں

    سگریٹ نوشی بہت آہستگی کے ساتھ انسانی جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کرتی ہے اور متاثرہ افراد کو چند سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات سے ناآشنا ہوتاہے اور جب یہ نقصانات رونما ہونا شروع ہوتے ہیں تب تک انسانی جسم سگریٹ کے جان لیوا نشے کا مکمل طور پر عادی بن جاتا ہے اور متاثرہ شخص کو سگریٹ سے جان چھڑانا بہت دشوار ہو جاتا ہے

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ کے بعد ایک فرد موت کی گہری نیند سورہا ہے، اس طرح دنیا بھر میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔سگریٹ نوشی سے متاثرہ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ سگریٹ اور اسکے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب جسمانی و ذہنی صحت کیلئے نہایت نقصان ہے اور پچاس سے زائد ایسے زہریلے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو مختلف سرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔

    سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بہت حد تک بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ سگریٹ کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے جس کیوجہ سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے جو ہارٹ اٹیک کا موجب بنتاہے۔ سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا دماغ کو خون کی فراہمی بھی کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ہیمرج سٹروک ہوجاتاہے جودماغ میں موجود خون کی شریانیں کا پھٹنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے

    سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا سب سے زیادہ اور خطرناک و سنگین نقصان انکے پھیپھڑوں کو ہوتا ہے، کیونکہ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا افرا تقریباً نوے فیصد لوگ موجودہ یا سابقہ سگریٹ نوش ہوتے ہیں۔ ایک انسان جتنے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا سرطان ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے متاثرہ افراد سانس کی بیماریوں ،ہارٹ اٹیک ،فالج، اسٹروک ہیمرج ، گلا، پھیپھڑے کا، خوراک کی نالی ، معدہ، دانتوں، جگر، گردے، مثانہ، لبلبہ اور گردے کے سرطان کا موجب بنتا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں صرف ایک سگریٹ پینے والے افراد میں سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا پچاس فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے اور فیصد امکان فالج کا ہوتا ہے سگریٹ نوشی کی متاثرہ خواتین دل کی بیماریاں، بریسٹ کینسر ، جگر ، گردے معدہ، مثانہ لبلبہ کے سرطان کا زیادہ شکار ہوتی ہیں،تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو دل کا دورہ پڑنے کے امکانات مرد سے پچیس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

    اگر پاکستان کےمستقبل کو بچانا چاہتے ہیں تو سگریٹ نوشی پر روک تھام پر سختی سے عمل کیا جاٸے۔ والدین سے التماس گزارش ہے کہ اپنےبچوں کو سگریٹ نوشی جیسے لت سے دور رکھے اور متاثرہ افراد کو چھٹکارا حاصل کرنے میں انکی مدد کریں۔ متاثرہ انسان پر سختی کرنے اور مار پیٹ کے بجائے انہیں اس کے نقصان سے آگاہ کریں۔ چند لمحات کی تفریح اور مستی کی غرض سے پی جانے والی سگریٹ ہمارے بچوں کے آنے والے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل سکتی ہے

    ‎@HamxaSiddiqi

  • گلوبلاٸزیشن کے اثرات تحریر: شمسہ بتول

    گلوبلاٸزیشن کے اثرات تحریر: شمسہ بتول

    گلوبلائزیشن دنیا کے خیالات ، مصنوعات اور ثقافت کے دیگر پہلوؤں کے تبادلے کے ذریعے مختلف قوموں کے لوگوں ، کمپنیوں اور حکومتوں کا بین الاقوامی انضمام ہے۔ یہ جغرافیائی حدود کو پسماندہ کرتا ہے اور ایک انتہائی مربوط دنیا بناتا ہے۔ انجن ، ٹیلی کمیونیکیشن اور حال ہی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون جیسی ٹیکنالوجیز کے متعارف ہونے سے ، دنیا معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں کے باہمی انحصار کی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے اور ایک گلوبل ولیج بن گٸی ہے۔ گلوبلاٸزیشن کی وجہ سے بہت سی تبدیلیاں جیسے کہ آبادیاتی تبدیلیاں ، مواصلات اور ٹرانسپورٹیشن ٹیکنالوجیز میں بہتری ، سرمایہ داری اور معاشی لبرلائزیشن ، ڈی ریگولیشن اور پرائیویٹائزیشن وغیرہ شامل ہیں۔
    ادارہ جاتی یا دوسری صورت میں ، ‘گلوبلائزیشن پوری دنیا کے لوگوں کی زندگیوں پر کثیر اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ نہ صرف علاقوں کی معاشیات کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان کی ثقافتی ، سیاسی اور سماجی معاملات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ، دنیا کا طاقت کا ڈھانچہ یورپیوں سے امریکیوں کی طرف منتقل ہوا ، اور اقتدار بہت کم قوموں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ طاقت کی حرکیات میں تبدیلی نے دنیا بھر
    میں طاقت کی حرکیات میں تبدیلی نے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے مابین زیادہ خلیج پیدا کی۔ لہذا ، اس دور کے بعد گلوبلائزیشن کے اثرات ہم آہنگ نہیں تھے۔ پوری دنیا میں ، اس نے ہر خطے کو مختلف طریقے سے متاثر کیا اور پاکستان بھی مختلف نہیں ہے۔ دیگر تمام اقوام کی طرح اس پر بھی معاشی اور ثقافتی طور پر اثر پڑا ہے۔
    معاشی طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے پاس محدود وسائل ہیں محدود وساٸل اور موجودہ وساٸل کا بہتر طور پہ استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ہماری معیشت بہت کمزور ہے۔ نظریاتی طور پر ، لبرلائزیشن ، گلوبلائزیشن کا ایک اور بنیادی اصول ، ایک ایسا عمل ہے جس کا مقصد بالآخر مقابلہ کی حوصلہ افزائی ، معیار کو بہتر بنانے اور روزگار کی فراہمی کے ذریعے ایکسپورٹ مارکیٹ کو منافع بخش بنانا ہے۔ عالمی تجارتی برآمدات میں پاکستان کا حصہ گر گیا ہے۔ دوسری طرف امپورٹ لبرلائزیشن ایک بتدریج عمل ہے جہاں 1990 کی دہائی سے درآمدی ٹیرف کی شرح میں کمی کا رجحان نظر آتا ہے جس سے درآمد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہےجبکہ ہمیں ایسی پالیسیز بنانی تھی کہ ہماری درآمدات کم سے کم ہوں ۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایسی پالیسیاں اتنی کارآمد ثابت نہیں ہوئیں۔ ملک کا تجارتی توازن مزید وسیع ہو گیا ہے اور اس عمل کے دوران بہت سی گھریلو صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ گھریلو صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح1990-1981کے دوران اوسط% 3.5 فیصد سے بڑھ کر 2015 میں %6.0 فیصد ہو گئی۔
    پاکستان کی غربت پچھلے سالوں میں 2002 میں 36 فیصد سے کم ہو کر2011 میں11 فیصد ہو گئی تھی لیکن پچھلے کچھ سالوں میں غربت اور بے روزگاری اوربین الاقوامی قرضے میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔
    ، گلوبلائزیشن کا خیال ترقی پذیر ممالک میں پھیلنے سے پہلے ، یہ صرف یورپ ، شمالی امریکہ اور جاپان میں تھا۔ ان تینوں بلاکس کے پاس پالیسیوں کو مربوط کرنے اور عالمی اقتصادی منڈیوں کو کنٹرول کرنے کا اختیار تھا۔ بالآخر ، ترقی یافتہ ممالک سے چھوٹے سرمایہ کی منتقلی کی وجہ سے ، عالمگیریت نے عدم مساوات کو بڑھایا۔ دنیا کے اس سماجی ، جسمانی اور ثقافتی تانے بانے ، آبادیاتی تبدیلیوں ، شہریاری ، ثقافتی اثرات اور استحصالی ہتھکنڈوں نے دنیا کو مثبت اور منفی دونوں طرح متاثر کیا۔منڈیوں کی لبرلائزیشن کے خیال نے مقامی ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سامان ، مزدور ، خیالات اور خدمات کی آزاد نقل و حرکت کا راستہ دیا۔ نتیجے کے طور پر ، جیسے جیسے مقابلہ بڑھتا گیا ، ملک میں مزید تعلیمی اور پیشہ ور ادارے ابھرے اور تعلیم کا معیار بہتر ہوا۔لیکن ابھی بھی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک مکمل طور پر گلوبلاٸزیشن سے فاٸدہ اٹھانے سے قاصر ہیں ۔ گلوبلائزیشن سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو سیاسی استحکام ، جمہوریت کے استحکام اور اپنی پالیسیوں کے تسلسل پر مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
    پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو کہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کوریج کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔

    @b786_s

  • تمباکو سے پاک نوجوان قوم کا روشن مستقبل    تحریر: محمد اختر

    تمباکو سے پاک نوجوان قوم کا روشن مستقبل  تحریر: محمد اختر

    تمباکو نوشی کا استعمال کرنے والے  84 ممالک میں پاکستان  54 ویں نمبر پر ہے۔پاکستان ڈیموگرافک ہیلتھ سروے کے مطابق 46 فیصد مرد اور 5.7 فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں۔ یہ عادت زیادہ تر پاکستان کے نوجوانوں اور کسانوں میں پائی جاتی ہے، اور تمباکو نوشی ملک میں صحت کے مختلف مسائل اور اموات کا ذمہ دار ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں میں صحت کے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔قارئین کرام! جب میں یہ تحریر لکھ رہا تھا تو حالیہ تحیقی رپورٹ تلاش کرنے کی غرض سے جب جانچ پڑتال کی تو نومبر، 2008 جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کیجانب سے شائع کردا یک رپورٹ کا جائزہ لیا۔ اس رپورٹ کے مطابقپاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تمباکو نوشی کا پھیلاؤ مردوں میں 36 فیصد اور خواتین میں 9 فیصد ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں بالخصوص یونیورسٹی کے طلباء میں تمباکو نوشی کا پھیلاؤ 15 فیصد ہے جن میں اکثریت مرد تمباکو نوشی کرنے والوں کی ہے۔ تقریبا، 1200 بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔آئیے! اب یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کے تمباکو سے پاک نوجوان کیوں ضروری ہیں اور اکثرانسان تمباکونوشی کی طرف کب مائل ہوتا ہے۔تمباکو نوشی استعمال کرنے والوں کی بڑی اکثریت وہ ہوتی ہے جب وہ کم عمری میں پہلی بارسگریٹ نو شی کرتے ہیں۔در حقیقت، پاکستانمیں ہر روز، 18 سال سے کم عمر کے سینکڑو ں سے زیادہ لوگ اپنا پہلا سگریٹ پیتے ہیں، اور کئی نوجوان بالغ باقاعدہ تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کو سگریٹ نوشی کے لیے بہت زیادہ سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فلموں، میوزک ویڈیوز اور اشتہارات میں تمباکو نوشی تمباکو کے استعمال کو سماجی اصول کے طور پر پیش کیا جاتاہے، بچوں کو سگریٹ نوشی کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، جب ان کے والدین یا ساتھی تمباکو استعمال کرتے ہیں تو انکا تمباکو نوشبننے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اس کے علاو ہ نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کو متاثر کرنے والے دیگر عواملبھی  شامل ہیں: جیسے کہ کم معاشی حیثیت۔والدین کی توجہ کا فقدان۔احساسے کم تری کا شکار ہونا۔والدین یا خاندان میں تمباکو نوشی معیوب نا سمجھا جانا۔ خیال رہے، تمباکو نوشی کا اثر نہ صرف فوری طور پر ایک نوجوان کی صحت پر پڑتا ہے بلکہ اس کا مستقبل پر بھی اس کے اثرات مرتکب ہوتے ہیں۔ نوجوانوں میں تمباکو نوشی کرنے والوں میں بالغوں کے مقابلے میں نیکوٹین کے نشے کی شدید سطح پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ تمباکو کا استعمال جاری رہتا ہے۔ جہا ں تمباکو نوشی ماحول میں آلودگی کا سبب بنتی ہے وہیں انفرادی طور پر نیکوٹین خون کی شریانوں کو تنگ کرتا ہے، بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے اور دل پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ اس کا مطلب ہے سانس کی قلت، دمہ اور سانس کی بیماریا ں کینسر اور دیگر دائمی بیماریوں پیدا ہوتی ہیں۔ صحت کے اثرات کے علاوہ، تمباکو نوشی کے بہت سے منفی سماجی اثرات بھی ہیں۔ یہ بالوں اور کپڑوں کو بدبو دار بناتی ہے، دانتوں کو داغ دار کرتی ہے اور سانس کی بدبو پیدا کر تی ہے۔ اور دھواں نہ چھوڑنے والا تمباکو پھٹے ہونٹوں، زخموں اور منہ میں خون بہنے کا باعث بنتا ہے۔آخر میں اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے تمباکو کے استعمال کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ میرے نقطہ نظرمیں تمباکو کی روک تھام پاکستان کے نوجوانوں کی صحت اور مستقبل کے لیے انتہای ضروری ہے۔ تمباکو کی روک تھام میں و الدین، اسکول اور کمیونٹی کے تمام افراد بچے کے فیصلوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہم انہیں مختلف طریقوں سے سگریٹ نوشی کے خطرات سے بچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔والدین کو اپنے بچوں سے تمباکو کے خطرات کے بارے میں براہ راست بات کرنی چاہیے۔والدین کا رویہ اور جذبات بہت اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ آپ کا بچہ تمباکو نوشی کرتا ہے یا نہیں۔اگر آپ کے بچے کے دوست ہیں جو تمباکو نوشی کرتے ہیں تو ساتھیوں کے دباؤ سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں بات کریں۔اسکول طلباء کو تمباکو کی تعلیم اور تمباکو نوشی سے بچاؤ کے شدید نقصانات سے آگاہی دیں۔بطور والدین جو تمباکو نوشی کرتے ہیں تو وہ چھوڑنے کی کوشش کریں۔ جب آپ چھوڑ رہے ہو، اپنے بچے کی موجودگی میں تمباکو کا استعمال نہ کریں اور اسے وہاں نہ چھوڑیں جہاں وہ آسانی سے اس تک رسائی حاصل کر سکے۔والدین کی حیثیت سے، آپ کے رویوں اور آراء کا آپ کے بچے کے رویے پر زبردست اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمباکو کے خطرات کے بارے میں اپنے بچوں سے بات کرنا ضروری ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر اور قابلتحسین ہے کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا ادارہ باغی ٹی ویجس نے تمباکو نوشی کیخلاف بھرپور مٰہم جوئی کی۔ بطور نوجوان طالب علم اور مضمون نگارمجھے اس ادارہ کا سب سے اچھا پہلو یہ لگا کہ انہوں نے نوجوان لکھاریوں کو ایک مثبت سرگرمی  میں مشغول کیا اور ایک قومی سطح پر اس مسئلہ کو اجاگر کیا۔

    @MAkhter_

  • تمباکو نوشی مضر صحت ہے  تحریر : ثناء شاہ

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے تحریر : ثناء شاہ

    ” پھر ایک سگریٹ جلا رہا ہوں
    پھر ایک تیلی بجھا رہا ہوں
    تیری نظر میں یہ مشغلہ ہے
    میں تو اس کا وعدہ بھلا رہا ہوں
    سمجھنا مت اس کو میری عادت
    یہ دھواں جو میں اُڑا رہا ہوں
    یہ تیری یادوں کے سلسلے ہیں
    میں تیری یادیں جلا رہا ہوں ”

    اللّٰه تعالی کی دی گئی نعمتوں میں سے سب سے انمول نعمت تندرستی ہے۔ تندرستی کو ہزار نعمت بھی کہا گیا ہے ۔ سگریٹ پینے والوں نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ اس دھکتے جلتے سگریٹ سے اپنے ہاتھوں سے اپنی صحت بگاڑ رہے ہیں وہ اپنے وجود کو زہریلے دھویں کے حوالے کر کے نا صرف خود سے زیادتی کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ بیوی بچوں کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس جیتی جاگتی دنیا میں آنکھوں کے سامنے لاکھوں لوگ اس زہر قاتل کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں پھر بھی یہ لوگ عبرت نہیں پکڑتے۔

    سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگے
    غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ

    ریسرچ کرنے سے سگریٹ پینے کے ان نقصانات کا بھی پتہ چلا ہے جو پہلے کسی کے علم میں نہیں تھے۔ اس نشے سے صرف پھیپھڑوں کا کینسر ہی نہیں بلکہ اور اقسام کے دیگرکینسر کا بھی خطرہ ہے ان میں جگر اور بڑی آنت کے کینسر ، اندھا پن اور ذیابیطس جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔
    جو لوگ سگریٹ نہیں پیتے لیکن اس کے دھوئیں میں سانس لیتے ہیں، ان میں بھی دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    "بی بی سی کے رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سائسندانوں نے طویل عرصے تک سگریٹ نوشی کرنے کے باوجود کچھ افراد کے پھیپھڑوں کے صحت مند رہنے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی ہے۔
    50 ہزار سے زیادہ افراد پر کی گئی تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے ان افراد کے ڈی این اے میں مثبت تبدیلیوں کی وجہ سے پھیپھڑوں کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے اور یہ سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

    میڈیکل ریسرچ کونسل کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر پھیپھڑوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی موثر ادویات تیار کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

    تاہم سائنسدانوں کے مطابق سگریٹ نوشی سے اجتناب کرنا ہی بہترین عمل ہے”۔

    سگریٹ پینے والے کو سوچنا چاہیے کہ جلد یا بدیر اس نشے نے اسکے پورے جسم کو اپنے لپیٹ میں لے لینا ہے اور اسکا وجود نا صرف ناکارہ بلکہ دوسروں کے لئے بوجھ بنتا جاۓ گا اس کو پھیپھڑوں کے کینسر کے ساتھ ساتھ دوسری خطرناک بیماریوں کا بھی سامنا ہوگا تب انھیں احساس ہوگا کہ انھوں نے کس طرح بے دریغ اپنی زندگی ضائع کردی لیکن تب پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔

    آئیں ملک کر انسانیت کو اس ناسور سے نجات دلوانے میں مدد کریں پاکستان کو سگریٹ نوشی سے پاک و صاف کریں لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کریں ۔

    کوشش میں برکت ہوتی ہے اور کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی ۔

  • 6 ستمبر 1965ء کی جنگ  تحریر : اقصٰی صدیق

    6 ستمبر 1965ء کی جنگ تحریر : اقصٰی صدیق

    پاکستانی قوم ہر سال 6 ستمبر یومِ دفاع کو ایک قومی دن کےطور پر مناتی ہے، اس دن کو منائے جانے کا مقصد پاک بھارت جنگ 1965ء میں عسکری افواج کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد تازہ کرنا ہے۔
    اور دشمن کو بارآور کرانا ہے کہ ہماری افواج ہر مشکل گھڑی میں وطن عزیز کے تحفظ کی خاطر دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہے۔
    6 ستمبر 1965ء کی جنگ میں شہادت بہت سوں کا مقدر ٹھہری اور بہت سے غازی بن کر لوٹے۔
    اس سلسلے میں سکولز، کالجز اور جامعات میں سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں اور ہمارے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ان کی وطن عزیز کے دفاع کی خاطر دی گئی لازوال قربانیوں کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔پاکستان کی 67 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی اندرونی اور بیرونی دشمن نے وطن عزیز کو نقصان پہنچانا چاہا تو پاک فوج ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح اس کے سامنے ڈٹ گئی ۔ میدان جنگ میں ہر فوجی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسی جرأت مندی اور بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرے کہ پوری قوم اس پر فخر کر سکے۔
    آج بھی ہم میں سے ہر پاکستانی اپنی فوج کے دفاع اور لازوال قربانیوں پر فخر کرتا ہے اور یقین و ایمان رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے۔
    افواج پاکستان سے یکجہتی کا اظہار روح کو گرما دیتا ہے، دل جذبے سے سرشار ہو جاتا ہے اور ہمارے شہداء فوجی جوانوں کی لازوال قربانیوں کی داستانیں آنکھیں نم کردیتی ہیں۔ 6 ستمبر 1965ء کی اس جنگ کا تذکرہ ہمارے دلوں کو ایمان ویقین کی طاقت اور جوش و جذبے سے لبریز کر دیتا ہے۔ گویا 6 ستمبر کا دن رہتی دنیا تک کبھی نا بھولنے والا قابلِ فخر دن ہے۔
    6 ستمبر کی جنگ پاکستان اور بھارت کے مابین پہلی ایک عالمی جنگ تھی۔جس میں ہمسایہ ملک بھارت نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وطن عزیز پاکستان پر لاہور کے اطراف سے حملہ کیا،
    لیکن یہ مملکت خداداد کو تباہ کرنے اور لاہور پر قبضہ جمانے کی محض ایک ناکام کوشش ثابت ہوئی، دشمن نے منہ کی کھائی۔
    آپریشن جبرالٹر اور مقبوضہ کشمیر تنازعہ اس جنگ کی بنیادی وجہ ہیں۔
    برصغیر پاک و ہند کی تقسیم سے ہی دونوں ممالک کے درمیان کافی پیچیدگیاں رہی ہیں۔جن میں سے سب سے اہم مسئلہ کشمیر تھا، تقسیمِ برصغیر پاک و ہند کے بعد ہی بھارت نے عالمی برادری کے سامنے کشمیر کی آزادی کے متعلق کیے گئے فیصلوں کی نا صرف خلاف ورزی کی بلکہ آزادی کے مؤقف کو دبانے کی بھرپور کوششیں کیں، اور بالآخر نندا کمیشن رپورٹ میں اپنی طاقت کا مؤقف استعمال کرتے ہوئے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے دیا۔ بھارت کی جانب سے کی گئی یہ ناانصافی آج 73 برس گزرنے کے باوجود بھی حل طلب ہے،
    اور موجودہ دنوں کشمیر بھارتی سفاکیت و مظالم کا شکار ہے۔اور بھارت کشمیریوں کی آواز دبانے میں آج بھی ناکام ہے۔
    اس کے برعکس آپریشن جبرالٹر کے نتائج دونوں ممالک کے مابین مزید کشیدگی کا باعث بنے، اور 1965ء کی جنگ کو ہوا دی۔
    مسئلہ کشمیر تنازعہ اور اس کے بعد بھارت کا پاکستانی علاقے رن آف پر حملہ کرنا، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوابی کارروائی کی ضرورت محسوس ہوئی۔
    اور اسی تناظر میں چونڈہ کے مقام پر جنگ ہوئی۔
    جنگی ساز و سامان سے لیس اور طاقت کے نشے میں دُھت بھارتی فوج نے لاہور پر حملہ کرنے کے بعد پاک فوج کی توجہ اپنی طرف سے ہٹانے کے لیے 600 ٹینکوں اور ایک لاکھ افواج کے ساتھ سیالکوٹ کے اطراف میں حملہ شروع کر دیا۔
    لیکن پاک فوج کے نوجوان وطنِ عزیز کی سلامتی کی خاطر جسموں پر بم باندھے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے اور دشمن کے متعدد ٹینک تباہ کر ڈالے اور چونڈہ کے محاذ کو دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنادیا،
    تاریخ میں اس جنگ( 1965ء) کو دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
    6 ستمبر 1965ء کی اس جنگ میں پاک فضائیہ نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، پاک فضائیہ نے نہایت مستعدی سے کام لیا اور اس جنگ میں دشمن ملک بھارت کے 110 طیارے مار گرائے جبکہ صرف 19 پاکستانی طیارے ملکی دفاع کے کام آئے۔دشمن کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب 17 روز تک جاری رہنے والی اس جنگ میں دونوں ممالک اپنی اپنی فتح و کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں۔
    6 ستمبر 1965ء کی اس جنگ میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید ملک کا دفاع کرتے ہوئے بہت بہادری سے دشمن کے حملوں کا جواب دے رہے تھے کہ دشمن ٹینک سے ایک گولہ ان کے سینے پر آ لگا اور وہ موقع پر ہی جام شہادت نوش کر گئے۔ان کی اس بہادری پر حکومت پاکستان نے انہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا۔
    جنگ کے ان دنوں ملک تنزلی کا شکار تھا، دفاعی سامان اور افواج دونوں کی کمی تھی۔ لیکن قوت ایمانی سے سرشار قوم اور افواج نے دشمن کو گٹنیے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، غیور قوم نے اپنے ایمان، جوش اور جذبہ شہادت سے ثابت کیا کہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی ہر ممکن صلاحیت رکھتی ہے، اور انشاءاللہ آئندہ بھی دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔کیوں کہ ہمارے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

    @_aqsasiddique

  • پرائیویٹ اسکولز کا تعلیمی نظام (ایک کاروبار)  تحریر فرقان اسلم

    پرائیویٹ اسکولز کا تعلیمی نظام (ایک کاروبار)  تحریر فرقان اسلم

    "علم ایک لازوال دولت ہے”

    ہمارے مذہب اسلام میں تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس لیے کوئی بھی ذی شعور انسان تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ اسی بِنا پر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ معیاری تعلیم حاصل کرے۔ اب مسلہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کو کس تعلیمی ادارے میں داخل کروایا جائے۔ دو طرح کے تعلیمی ادارے ہوتے ہیں سرکاری تعلیمی ادارے اور پرائیویٹ (نجی) تعلیمی ادارے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی سرپرستی حکومت کرتی ہیں لیکن پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا کوئی خاص سرپرست نہیں ہوتا ملی بھگت سے کام چلتا ہے۔ چند پرائیویٹ ادارے اچھے بھی ہوتے ہیں۔ 

    ہمارے معاشرے میں اکثر والدین سرکاری اسکولز سے متنفر نظر آتے ہیں بعض کا ماننا ہے کہ سرکاری اداروں میں سہولیات کا فقدان ہے اور معیار کی کمی ہے۔ اسی اثنا میں وہ پرائیویٹ مافیا کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ چند پرائیویٹ اسکولز تعلیمی معیار پر پورا اترتے ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن نام نہاد پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار ہے جن کا معیارِ تعلیم انتہائی ناقص ہے بلکہ وہ تعلیم کے نام پر کاروبار کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پرائیویٹ اسکولز ہیں جبکہ بہت سے ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ یہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ اور ہماری عوام بھی انجانے میں ان کے دھندے کا شکار ہورہی ہے۔

    اگر دیکھا جائے تو بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے مگر میں دو اہم مسائل پر بات کرنا چاہوں گا۔

    من مانی فیسیوں کا مطالبہ: 

    پرائیویٹ اسکولز طلبہ اور انکے والدین کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹتے ہیں لیکن سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہر ماہ کے شروع میں والدین کو فیسوں کے نام پہ ہزاروں روپے اسکولز میں جمع کروانے ہوتے ہیں تا کہ انکے بچے تعلیم کی روشنی سے بہرہ مند ہو سکیں۔ چاہے کوئی امیر ہے یا غریب ہے لیکن فیس ہر صورت جمع کروانی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں ہر سال اضافہ ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ پیپر فنڈ اور پیپر کی شیٹوں کے پیسے الگ سے لیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک پیپر کی فوٹوکاپی پر دو یا تین روپے خرچ آتا ہے لیکن پیپر فنڈ ہزاروں میں لیتے ہیں۔

    سٹیشنری کا سامان : 

    اگر آپکا بچہ کسی مہنگے سکول میں زیرِ تعلیم ہے تو صرف ماہانہ فیس کے ساتھ ساتھ اسکول کے پرنٹڈ مونوگرام والی کاپیاں، کتابیں اور دیگر سٹیشنری کا سامان خریدنا بھی آپکی ذمہ داری ہے۔ جس کاپی کی قیمت باہر 30 روپے ہو یہاں پر یہ دوگنا قیمت پر ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کتابیں، یونیفارم اور دیگر سامان بھی انتہائی مہنگے داموں بیچتے ہیں اگر اس کو کاروبار کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اگر پرائیویٹ اسکولز کا بس چلے تو یہ اس بات کو بھی لازم کردیں کہ آپ کا بچہ جس آٹے کی روٹی کھاتا ہے وہ بھی ہمارے اسکول سے لیا جائے تاکہ اس کی نشوونما بہترین ہوسکے۔

    مکتب نہیں دوکان ہے، بیوپار ہے

    مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے

    ان مسائل کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف ایک موثر ایکشن لیا جائے تاکہ ان کی من مانی بند ہوسکے۔ پرائیویٹ اسکولز انتظامیہ ملی بھگت کرکے اپنا دھندہ چلا رہی ہے جس کا شکار بے چارے سادہ لوح عوام بن رہے ہیں۔ دوسرے ممالک میں پرائیویٹ اسکولوں کا نظام ہم سے کئی گنا بہتر ہے۔ وہاں ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہے۔ اگر کوئی اسکول زیادہ فیس وصول کرے یا ان کا معیار اچھا نہ ہو تو فوراً بند کردیا جاتا ہے بلکہ بھاری جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن وطنِ عزیز میں نظام اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسی وجہ سے آج ہم تعلیمی میدان میں بہت سے ممالک سے پیچھے ہیں۔ لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیویٹ اسکول مافیا کو بے نقاب کیا جائے اور تعلیم کی آڑ میں کاروبار کرنے والوں اور قوم کے معماروں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

    یہاں پر ایک بات ذکر کرتا چلوں کہ چند نجی اسکول ایسے بھی ہیں جن کا معیار تعلیم بہت اچھا ہے مگر ایسے ادارے بہت کم ہیں۔ زیادہ تر لوگ ان کی فیس ادا نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے ان کا ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اور تمام طلباء کے لیے یکساں تعلیم کی فراہمی ناممکن ہوجاتی ہے۔

    والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور بلاوجہ سرکاری تعلیمی اداروں پر تنقید نہ کریں کیونکہ وہ بھی عوام کی بھلائی اور آسانی کے لیے تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ہماری زیادہ تر آبادی مڈل کلاس ہے اس لیے وہ پرائیویٹ اسکولز کی فیس ادا نہیں کرسکتے اس لیے وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولز میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اللّٰہ پاک وطنِ عزیز کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں ہم سب کی مدد فرمائے۔۔۔آمین

    @RanaFurqan313