Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • تمباکو نوشی اور کینسر    تحریر: ادیبہ

    تمباکو نوشی اور کینسر  تحریر: ادیبہ

     

    قارئین کرام، آج ہم بات کریں گے کہ تمباکو نوشی کینسر کے خطرے کو کیسے بڑھاتی ہے،جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی ایک انتہائی مہلک آلودگی پیدا کرتی ہےاور اسی آلودگی کی وجہ سے بہت سے امراض جنم لیتے ہیں۔ان امراض میں سے ایک مہلک مرض کینسر ہے۔عوام الناس میں بہت سے افراد ایسے ہوں گے جو آلودگی کے بارے میں اس حد تک نہیں جانتے ہوں گے کہ وہ اس چیز کا تعین کر سکیں کہ کونسی چیز آلودگی کے زمرے میں آتی ہے۔آئیے! پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ درحقیقت آلودگی کیا ہے؟اگر سادہ الفاظ میں آلودگی کو بیان کیا جائے تو اس کا تعارف کچھ یوں ہوگا کہ آلودگی ماحول میں نقصان دہ مواد کا دوسرا نام ہے یہ اور یہی نقصان دہ مواد آلودگی کہلاتا ہے۔اگر سگریٹ نوشی کی بات کی جائے تو سگریٹ کے دھوئیں میں ہزاروں کیمیائی مادے ہوتے ہیں ان میں سے سینکڑوں نقصان دے ٹاکسن کے طور پر جانے جاتے ہیں اورحالیہ تحقیق کے مطابق ان سیکڑوں کیمیائی مادوں میں سے 65 فیصد سے زیادہ کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں سے بہت سارے زہریلے اور کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز کی وجہ سے سگریٹ نوشی ماضی قریب میں کئی قسم کے کینسر کی قلیدی وجہ کے طور پر پہچانی جائے گی۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی جسم کے اندر اہم افعال کو بھی متاثر کرتی ہے جو کینسر کے خلاف جسم کی قوت مدافعت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مثال کے طور سگریٹ نوشی کرنے والے شخص کے جسم میں کسی بھی قسم کی سوزش ہونے کی صورت میں یہ سوزش بڑھتی چلی جاتی ہے جو کہ کینسر اور بہت سی دیگر بیماریوں کے خطرات کو جنم دیتی ہے۔حالیہ تحقیق کے مطابق عوامل کے اس امتزاج پر غور کرتے ہوئے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سگریٹ نوشی سرطان کے ابتدائی مرحلے سے کینسر کے بڑھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔کیا سگریٹ پینے سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟ اور کتنا آئیے جانتے ہیں۔ کینسر پر ریسرچ کرنے والے ادارے کینسر ڈاٹ نیٹ کے ایک معتبر پروفیسر اینتھونے جے ایل برگ نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کے زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی پھیپھڑوں کے کینسر کی بنیادی وجہ ہے لیکن جو بات کم مشہور اور عوام الناس میں کم لوگ جانتے ہیں وہ یہ کہ سگریٹ نوشی کئ دیگر اقسام کے کینسر کی وجہ بھی بنتی ہے، دیگر کینسر کی اقسام میں سرفہرست یہ ہیں: مثانے کا کینسر، گریوا کا کینسر، کولور کٹل کینسر، غذائی نالی کا کینسر، گردے کا کینسر، لاریجیل اور ہائپو فریجنل کینسر، جگر کا کینسر، لبلبے کا کینسر شامل ہیں۔مختصرا مندرجہ بالا تحقیق اور وجوہات کی بنا پر یہ کہنا غلط ہرگز نہ ہوگا کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے بہت ہی مہلک ہے،حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے اور ہماری جو نوجوان نسل اس لت میں مبتلا ہو چکی ہے اسے جلد سے جلد ریہیبلیٹیشن سنٹرز میں منتقل کرے اور ان کی کاؤنسلنگ کرے تاکہ وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کاربن ثابت ہوں۔اس کے علاوہ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ ایسے ادارے قائم کرے جو نچلی سطح پر رہتے ہوئے روزمرہ کی روٹین میں اس چیز کو مانیٹر کرے اور ساتھ ہی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرے جو انسانوں کی زندگی کے لئے موت کا سامان تیار کر رہے ہیں۔آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام دنیاوی آفات و امراض سے محفوظ رکھے (آمین)

    @adibaarain

  • 1965 کی جنگ کے حالات و واقعات اور پاکستان کی فتوحات   تحریر: احسان الحق

    1965 کی جنگ کے حالات و واقعات اور پاکستان کی فتوحات تحریر: احسان الحق

    متحدہ ہندوستان یا اکھنڈ بھارت کے ناپاک عزائم لئے بھارتی فوج اندھیرے میں چوروں کی طرح مغربی پاکستان فتح کرنے واہگہ بارڈر کے راستے لاہور میں گھسنا چاہتی تھی. بھارتی کمانڈر انچیف جنرل چودھری نے اپنے ساتھیوں کو جمخانہ میں محفل شراب و شباب منانے کی نوید بھی سنا دی. بھارتیوں کا خیال تھا کہ ہم 72 گھنٹوں میں سارے مغربی پاکستان پر قبضہ کر لیں گے. مگر ابتداء سے ہی بھارتی فوج کی ذلت آمیز شکست شروع ہو گئی جب ستلج رینجرز، گشتی پولیس اور چرواہوں نے 60 ہزار بھارتی فوجیوں کو گھنٹوں پیش قدمی سے روکے رکھا.

    ستمبر 1965 میں پاکستانی فوج نے بہادری اور جوانمردی کے ناقابل فراموش اور ناقابل یقین کارنامے سرانجام دیتے ہوئے دشمن فوج جو کہ تعداد اور وسائل کے لحاظ سے پاکستان سے بڑی فوج تھی کو عبرت ناک شکست دی. اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد کی مداخلت سے 23 ستمبر 1965 کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا.

    کانگریس اور ہندو برصغیر کی تقسیم اور قیام پاکستان کے خلاف تھے. جب ان کی کوششوں اور سازشوں کے باوجود پاکستان کا قیام عمل میں آ چکا تھا تو انہوں نے ہر طریقے سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی. آگے بڑھنے سے پہلے قیام پاکستان کے دوران ہندوستانی اور کانگریسی راہنما پاکستان کے خلاف اپنے مکرو عزائم کا اظہار کرتے رہے.

    17 مئی 1947 لندن کے اخبار اکانومسٹ نے لکھا

    "کانگریس برصغیر کی تقسیم کو اس امید پر تسلیم کرے گی کہ یہ تقسیم بعد ازاں برصغیر کو اتحاد کی طرف لے جائے گی. کانگریس اب بھی برصغیر کی تقسیم کے خلاف ہے”

    3 جولائی 1947 کو ڈاکٹر شیام پرشاد مکھرجی نے کہا

    "ہمارا نصب العین یہ ہونا چاہئے کہ پاکستان کو دوبارہ ہندوستان میں ضم کر لینا چاہئے اور یہ ہر قیمت پر ہو کر رہے گا”

    (دیوان چمن لعل 3 جولائی 1947)

    "اتحاد کا خواب دیکھنے والوں کو رنج پہنچا ہے، ہمیں امید ہے جلد یا بدیر دونوں ملکوں کا اتحاد ہو جائے گا” سردار پٹیل

    امرت بازار امر پتریکا. 16 اگست 1947

    15 اگست 1947 کو کلکتہ میں کانگریس کے صدر اچاریہ کا کہنا تھا کہ

    "کانگریس اور قوم متحدہ ہندوستان کے دعوے سے دستبردار نہیں ہوئے”

    نیشنل ہیرالڈ لکھنو کے 6 نومبر 1950 کے مطابق وی جی دیش پانڈے نے کہا کہ

    "ہمارا مقصد اکھنڈ بھارت میں ہندو راج قائم کرنا ہے”

    6 ستمبر کو جب اہل لاہور سو رہے تھے، چوروں کی طرح اندھیرے میں بھارتی فوج نے لاہور پر حملے کرنے کے لئے پاکستان میں داخل ہوئی اور واہگہ پر ایک فوجی چوکی پر قبضہ کر لیا. اس وقت گشتی پولیس، ستلج رینجرز اور ایک سرحدی دستہ معمول کی نگرانی اور گشت پر مامور تھا. 60 ہزار بھارتی فوجیوں کو ان مختصر نیم فوجی دستوں نے گھنٹوں تگنی کا ناچ نچوایا. بھارت کا خیال تھا کہ چوری چپکے لاہور پر قبضہ کر لے گا.

    بھارتی فوج کا خیال تھا کہ پاکستان اچانک اور چوری حملے کی تاب نہ لا سکے گا اور یوں مغربی پاکستان کو 72 گھنٹوں میں فتح کر لیں گے مگر پاک فضائیہ نے ان کے سارے ناپاک عزائم چند گھنٹوں میں خاک میں ملا دیئے. بھارتی کمانڈر انچیف جنرل چودھری نے اپنے سپاہیوں کو لاہور جم خانہ میں ناشتہ کرنے اور محفل رقص برپا کرنے کی نوید بھی سنا دی تھی.

    صدر پاکستان جنرل ایوب خان نے ولولہ انگیز تقریر کرتے ہوئے قوم اور جوانوں کے خون کو گرمایا اور کہا کہ”

    10 کروڑ عوام تیار ہو جائے، جس بلا نے تمہارے سروں پر سایہ ڈالا ہے اس کی موت اور تباہی یقینی ہے”

    پاک جوانوں کے پہلے ہی وار میں 800 بھارتی ہلاک ہوئے اور 10 ٹینک اور 50 گاڑیوں پر پاک فوج نے قبضہ کر لیا. پہلے ہی دن پاک شاہینوں نے 22 بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو مار گرایا. شدید خطرے کے باوجود پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر انتہائی نچلی پرواز کرتے ہوئے 13 طیاروں کو تباہ کیا گیا. اسی روز سکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی اور فلائیٹ یونس حسن نے ہلواڑہ ہوائی اڈے پر زبردست حملہ کرتے ہوئے 5 طیاروں کو تباہ کیا مگر یہ دونوں شیر دل شاہین حملے میں شہید ہو گئے.

    1965 کی جنگ کے پہلے ہی روز بھارت بے تحاشا جانی، مالی اور فضائیہ کا نقصان کروا چکا تھا. بھارت کے تمام ناپاک عزائم خاک میں مل چکے تھے. اقوام متحدہ میں بھارتی لابی شروع سے ہی موجود اور مضبوط تھی. اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھان نے ہنگامی دورہ کرتے ہوئے 7 ستمبر 1965 کو راولپنڈی میں جنرل ایوب خان سے ملاقات کی اور جنگ بندی کے لئے قائل کرنے کی کوشش کی. جناب صدر نے اوتھان کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا گہرائی، سختی اور تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے بھارت کو ذمہ دار قرار دیا.

    7 ستمبر کو انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو ایوان صدر جکارتہ میں کہا کہ انڈونیشیائی حکومت اور عوام پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں. انڈونیشی طلبہ نے جکارتہ میں بھارتی سفارتخانے کے باہر بھرپور احتجاج کیا. صدر سوئکارنو نے پاکستان اور کشمیر پر 24 گھنٹوں میں کابینہ کے 3 ہنگامی اجلاس بلائے.

    بھارتی فضائیہ نے مغربی پاکستان کے پانچ شہروں، چاٹگام، جیسور، کریم ٹولا، لال منیر ہاٹ اور رنگ پور اور مغربی پاکستان کے 3 شہروں کراچی، سرگودھا اور راولپنڈی پر بمباری کی. مشرقی پاکستان کی فضائیہ نے بھی دشمن کو ذلیل کرتے ہوئے مجموعی طور پر اس کے 15 طیاروں کو تباہ کر دیا. 7 ستمبر کو مجموعی طور پر 31 بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو تباہ کیا گیا یوں 1 ستمبر سے 7 ستمبر کے دوران بھارتی فضائیہ کے تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد 60 ہو گئی تھی. اسی روز سرگودھا میں بھارتیوں نے پاک فضائیہ کے اڈوں پر ناکام حملے کی کوشش میں اپنا طیارہ بھی تباہ کروا بیٹھے.

    7 ستمبر 1965 کو شام 6 بجکر 5 منٹ پر دشمن کے 4 ایف6 ہنٹر اور ایک ایف104 طیارے سرگودھا کو نشانہ بنانے کے لئے آئے. پاکستان کے ایف86 طیاروں کی فارمیشن کے قائد سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم تھے. ایم ایم عالم کا پہلا نشانہ خطا گیا مگر فوراً ہی دوسرے نشانے سے ایک ہنٹر طیارے کو مار گرایا اور ایم ایم عالم نے اگلا وار کرتے ہوئے چند لمحات میں دشمن کے 4 ہنٹر طیاروں کو تباہ کر دیا.

    21 ستمبر کو بھارتی وزیر اعظم نے جنگ بندی کے لئے کہا کہ اگر پاکستان جنگ بندی کے لئے تیار ہو تو ہم بھی جنگ بندی کے لئے تیار ہیں.

     

    22 ستمبر کو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں پاکستان کو جنگ بندی کے لئے راضی کیا گیا. سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لئے ایک قرارداد پیش کی. وزیر خارجہ ذوالفقار علی نے اقوام متحدہ سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دی. کہا کہ 18 سالوں سے تم لوگوں نے کشمیر اور مسئلہ کشمیر کو کھلونا سمجھا ہوا ہے.

    سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں صدر ایوب خان نے 22 ستمبر کو اعلان کیا کہ 23 ستمبر صبح 3 بجے تک جنگ بندی ہو جائے گی اور اپنے جوانوں کو کہا کہ اپنی اپنی جگہوں پر ڈٹے رہیں. اس وقت تک گولی نہ چلائیں جب تک دشمن پہل نہ کرے.

    بھارت کے خلاف جنگ کی فتح پر 24 ستمبر کو ملک بھر میں یوم تشکر کے طور پر منایا گیا. ڈھاکہ، راولپنڈی، لاہور اور کراچی سمیت تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں نماز شکرانہ ادا کی گئی.

    غیر جانبدارانہ ذرائع اور اعداد وشمار کے مطابق بھارت کو فوجیوں کی تعداد، جنگی طیاروں، ٹینکرز کے علاوہ تمام جنگی سازو سامان میں برتری حاصل تھی.

    بھارتی فوج 700،000

    جنگی طیارے 700 سے زیادہ

    ٹینکرز 720 

    جبکہ پاکستان کی نمبرز کافی کم تھے

    فوج 260،000

    طیارے 280

    ٹینکرز 756

    جنگ کے اختتام پر بھارتی فوج کے 8200 فوجی ہلاک، 500 ٹینکس تباہ یا پاکستان کے قبضہ میں آ گئے. 110 سے 113 طیارے مارے گئے اور جبکہ پاکستان کے محض 19 طیاروں کا نقصان ہوا.

    @mian_ihsaan

  • سیگریٹ نوشی ایک لعنت ہے اسکو کیسے روکیں  تحریر    اکرام اللہ نسیم

    سیگریٹ نوشی ایک لعنت ہے اسکو کیسے روکیں تحریر    اکرام اللہ نسیم

    پاکستان کے طول وعرض میں سیگریٹ نوشی انتہائی درجے تک بڑھ گئی تقریبا ہر دوکان پر سیگریٹ با آسانی سے مل جاتا ہے یوں سمجھیں موت کا سامان ہر دوکان پر باآسانی مل جاتا ہے 

     چھوٹا ہو یا بڑا سیگریٹ نوشی کو صحت کے لیے نقصان دہ نہیں سمجھتا بس جب من کیا سیگریٹ نکالا جلایا بغیر کسی ٹینشن کے سیگریٹ نوشی کی اور چل دئیے

    اب اس لعنت سے لوگوں کو بچانے کے لئے کون کون سی ترکیبوں کو عمل میں لاکر لوگوں کو اس لعنت سے بچائیں

    سب سے پہلے اسمبلی سے سیگریٹ نوشی کے خلاف ایسا سخت قانون پاس کیا جائے تاکہ لوگ اسکے چھوڑنے پر مجبور ہو رہ جائے تاکہ عوام اس لعنت سے بچ سکیں اور لوگوں کی زندگیاں محفوظ ہوسکیں

    جب اسمبلی سے اس کے بارے میں بل پاس ہوجائے گا جب پکڑ دھکڑ شروع ہوجائے گی تو سیگریٹ نوشی میں کافی حد تک کمی آجائے گی ان شاءاللہ

    اس میں سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ دوکانداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے چونکہ دوکانداروں کی تعداد معلوم ہوتی ہے جب گاہک کی تعداد معلوم نہیں ہوتی لہذا ریاستی ادارے دوکانداروں کے خلاف گھیرا تنگ کرے

    ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ محلے یا بازار  کے دوکانداروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ اگر کسی بھی دوکاندار کے پاس سیگریٹ مل گئی یا کسی کو فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا اس بندے کا بائیکاٹ پورا محلہ کرے گا اور اس سے کوئی چیز بھی محلے والا نہیں خریدے گا

    نہ اسکے ساتھ کوئی تجارتی لین دین کرے گا کیونکہ یہ دوکاندار فساد کا جڑ ہے

    بعض علاقوں میں جرگے کا سسٹم رائج ہوتا ہے وہاں سیگریٹ نوشی کو روکنا اتنا مشکل نہیں ہوتا

    کیونکہ جو بات جرگے میں رکھ دی جاتی ہے پورا علاقہ پورا محلہ اس بات کی پابندی کرتا ہے

    یہ جرگہ سسٹم قبائلی علاقوں اور شمالی علاقوں میں اب بھی رائج ہے

    سیگریٹ نوشی کے روک تھام کے لئے والدین سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں

    اگر والدین بچوں کی بچپن ہی میں ذہن سازی کریں کہ سیگریٹ کے یہ یہ نقصان ہیں اگر آپ سیگریٹ نوشی کرو گے تو آپ کے پھیپھڑے ختم ہو جائیں گے آپ سانس لینے کے قابل بھی نہیں رہیں گے 

    جب والدین بچپن سے یہی ذہن سازی کریں گے

    ممکن ہی نہیں کہ کل وہی بچہ بڑا ہو کر سیگریٹ نوشی کرے اور سیگریٹ نوشی جیسے لعنت کے ذریعے اپنے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچائے 

    انفرادی طور پر بھی اگر آپ کا کوئی دوست بھائی سیگریٹ نوشی کے بدترین لعنت میں مبتلاء ہیں اسے ترغیب دیں اور اسکو سیگریٹ نوشی جیسے لعنت سے بچانے کے لئے اپنی قوت خرچ کریں تاکہ پاکستان کا معاشرہ سیگریٹ نوشی جیسے بدترین لعنت سے بچ سکیں

    اگر کسی سگریٹ میں اس قسم کا تمباکو ہو کہ جس سے اعضاء رئیسہ دل و دماغ وغیرہ کو سخت نقصان پہونچتا ہو تو اس کا پینا ناجائز اور سخت مکروہ ہے اگر ایسا نہ ہو تو بھی اس کا ترک بہرحال احوط و بہتر ہے سگریٹ پینا "بلا ضرورت شوقیہ پینا مکروہ ہے

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل

    @realikramnaseem

  • کلدیپ نئیر اور ڈاکٹر عبد القدیر خان کے درمیان ملاقات   تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    کلدیپ نئیر اور ڈاکٹر عبد القدیر خان کے درمیان ملاقات تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    28 جنوری 1987 کی سہ پہر پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اسلام آباد کے علاقے E-7 میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ اکیلے موجود تھے کہ جب سکیورٹی افسر نے چند مہمانوں کی آمد کی اطلاع دی۔

    سکیورٹی افسر نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بتایا کہ مہمانوں میں سے ایک کو وہ پہچانتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کے معروف صحافی مشاہد حسین سید ہیں۔ جو اب سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے ممبر ہیں۔  ڈاکٹر خان نے سکیورٹی افسر سے کہا کہ مہمانوں کو اندر لے آئیں اور انھیں ڈرائنگ روم میں بٹھائیں۔

    ڈاکٹر عبد القدیر خان مہمانوں سے ملنے آئے تو مشاہد حسین سید نے دوسرے مہمان کا تعارف کلدیپ نیئر کے طور پر کرایا جو انڈین پنجاب سے تعلق رکھنے والے مشہور صحافی تھے۔

    مشاہد حسین سید نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بتایا کہ کلدیپ نیئر میری شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان تشریف لائے ہیں۔ یہ تقریب اس ملاقات سے ایک ہفتے بعد ہونا تھی۔ چائے پیتے ہوئے ڈرائنگ روم میں موجود تینوں افراد کے درمیان انڈیا، پاکستان تعلقات، انڈین تاریخ اور ہندو مسلم تعلقات اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام تک کے موضوعات پر طویل بات ہوئی۔ پاکستان کا جوہری پروگرام حال ہی میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی زیر نگرانی شروع ہو چکا تھا۔

    کلدیپ نیئر نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ ‘میں سیالکوٹ سے ہوں اور اب نئی دہلی میں رہتا ہوں۔جوابا ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا کہ میں بھوپال سے ہوں اور اب اسلام آباد میں رہتا ہوں۔’

    جب ان تینوں مہمانوں کی پاکستان کے جوہری پروگرام پر گفتگو شروع ہوئی تو کلدیپ نیئر کا کہنا تھا کہ ‘اگر پاکستان دس بم بنائے گا تو انڈیا ایک سو بم بنائے گا۔’ اس بات کے جواب میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا کہ ‘اتنی بڑی تعداد میں بم بنانے کی ضرورت نہیں۔ تین یا چار ہی دونوں اطراف کے لیے کافی ہوں گے۔’

    ڈاکٹر عبد القدیر خان بتاتے ہیں کہ ‘میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا  کہ ہم اس قابل ہیں کہ مختصر ترین مدت میں بم بنا لیں۔’

    کلدیپ نیئر نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد القدیر خان کے ساتھ ہونے والی اس غیر رسمی گفتگو کو انٹرویو بنا کر ‘لندن آبزور’ کو 20 ہزار پاونڈز میں بیچ دیا۔ یہ انٹرویو  نہیں تھا۔ یہ تو چائے پر ہونے والی محض ایک گپ شپ تھی۔’

    یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی تھی جب پاکستان اور انڈیا کی فوجیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے راجستھان اور پنجاب سیکٹرز میں عالمی سرحد پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آرا تھیں۔

    سرحد کے دونوں جانب حملہ کرنے والی بری افواج کے دستے جمے ہوئے تھے، فضائیہ ہائی الرٹ پر تھی جبکہ توپ خانے بھی سرحد کے قریب پہنچا دیاگیا تھا۔ اس بحران کو براس ٹیک (انڈین فوج کی جنگی مشق) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    پاکستان کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ ان انڈین جنگی مشقوں کا رُخ اور پیش قدمی پاکستان کی طرف ہے جو پاکستان کے سیاسی خلفشار کا شکار صوبہ سندھ پر بڑے حملے میں بدل سکتی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کا جوہری پروگرام اپنے ابتدائی مراحل میں تھا اور پاکستان باقاعدہ جوہری حیثیت حاصل کرنے سے 12 سال دور تھا۔

    اس زمانے میں ‘براس ٹیک’ کو پاکستان کی سالمیت کے لیے سٹرٹیجک خطرے کے طور پر دیکھا گیا۔

    کلدیپ نیئر کے نام سے لندن آبزرور میں شائع ہونے انٹرویو میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کے نام سے منسوب کرکے لکھا گیا کہ ‘کوئی ملک پاکستان کو ختم نہیں کر سکتا اور نا ہی ہم تر نوالہ ہیں۔ ہم قائم رہنے کے لیے بنے ہیں اور کوئی شک میں نہ رہے کہ اگر ہماری بقا کو خطرہ ہوا تو ہم ایٹم بم چلا دیں گے۔’

    یہ بات بھی کلدیپ نئیر نے ڈاکٹر عبد القدیر خان سے منسوب کر کے لکھی کہ پاکستان نے ہتھیاروں میں استعمال کی سطح تک یورینیم کو افزودہ کر لیا ہے اور یہ کہ لیبارٹری میں اس کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔

    اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد سے پاکستان میں عوام اور میڈیا نے عام طور پر یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ کلدیپ نئیر کی خبر میں مخفی اس ‘جوہری دھمکی’ نے انڈیا کو پاکستان پر کوئی بڑا حملہ کرنے سے روکا تھا۔

    بی بی سی نے اپنے انٹرویو میں جب ڈاکٹر اے کیو خان سے استفسار کیا کہ کیا کلدیپ نئیر سے ان کی گفتگو سے متعلق اخباری خبر نے کشیدگی کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا تھا؟ ان کا جواب تھا کہ ‘بالکل۔ ایسا ہوا۔ اس کشیدگی کے خاتمے کے پیچھے ایک اور وجہ بھی تھی۔’

    ‘زیادہ کردار ضیاء کی دھمکی نے ادا کیا جب وہ جے پور میں راجیو گاندھی سے ملے تھے جہاں وہ کرکٹ میچ دیکھنے گئے تھے۔ ضیاء نے راجیو سے کہا کہ اگر بھارتی فوج فوری واپس نہ ہوئی تو وہ جوہری حملے کا حکم دے دیں گے۔ راجیو اس پر گھبرا گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ انھوں نے بھارتی فوج کی فوری واپسی کا حکم دے دیا۔’

    ڈاکٹر عبد القدیر خان بتاتے ہیں کہ براس ٹیک سے چند ہفتے قبل انھوں نے جنرل ضیاء کو ایک تحریری پیغام بھجوایا تھا کہ پاکستان دس دن کے نوٹس پر جوہری بم بنانے کے قابل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘اس سے ضیاء کو راجیو گاندھی سے بات کرنے اور دھمکی دینے کا اعتماد ملا تھا۔’

    آج وہی ڈاکٹر عبد القدیر خان پاکستان میں بڑی دشواری کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، سرکاری سطح پر بھی انکو عوامی مقامات پر جانے کی اجازت نہیں ہے اور حالیہ دنوں میں وہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں جن کو ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں داخل کر دیا گیا ہے۔ ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں ڈاکٹر عبد القدیر خان کے ساتھ ہیں کہ الله تعالٰی انکو جلد صحتیابی عطاء فرمائے تاکہ وہ مزید پاکستان کے لیے اچھے کام کر جائیں، جن سے آنے والی نئی نسلیں انکے کام سے استفادہ حاصل کر سکیں۔

  • آخری معرکہ تحریر : سیف الرحمان

    افغانستان میں حالیہ تبدیلی اورافغانستان میں طالبان کی اشرف غنی اور اسکے اتحادیوں   کو شکستِ فاش دینا تاریخ میں  ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا اور یاد کیاجائے گا۔  امریکہ اب شاہد براہ راست  اس جنگ کا حصہ نا بننے لیکن ضرورت پڑنے پر  پراکسی وار جاری  رکھ سکتا ہے۔

    افغان جنگ میں بھارت سب سے بڑا لوزر نظر آتا ہے۔بھارت نے پاکستان دشمنی میں اپنے مورچے افغان سرزمین پر بنا ئے۔ وہاں  بیٹھ کر بھارت نے  BLAاور TTPجیسی دہشتگر تنظیمں بنائی اور پاکستان پر حملے کرواتا رہا۔  بھارت نے  افغانستان میں  اچھی خاصی سرمایہ کاری کی۔ افغان پارلیمنٹ کا سارا خرچہ بھارت نے اٹھایا۔ ڈیم بنایا۔ اس سب کا مقصد افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کرنا تھا لیکن طالبان کے آنے سے یہ سب کچھ مٹی میں مل گیا۔

    طالبان نے تقریبا 90فصد افغانستان سر زمین  بغیر جنگ کے ہی فتح کر لی لیکن وادی پنجشیر اب بھی احمد ولی مسعود کے پاس ہے۔ وادی پنجشیر اس وقت سار ی دنیا کی نظروں کا محور  بنا ہواہے۔ امن دشمن طاقتوں کی آخری امید بھی وادی پنجشیر ہی ہے۔ اگر طالبان یہ معرکہ بھی جیت گئے تو زمینی جنگ 100فیصد طالبان جیت جائیں گے۔

    تاجکستان کا وادی پنجشیر کی ہار جیت میں بہت اہم رول ہو گا۔  پنجشیر ایک طویل ، گہری اور پہاڑوں کے درمیان  وادی ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریبا 120کلو میٹر بنتا ہے -یہ کابل کے جنوب مغرب سے شمال مشرق  میں واقع ہے۔ یہ اونچی پہاڑیوں کی چوٹیوں سے محفوظ ہے – یہ پہاڑ وادی سے 9،800 فٹ بلند ہیں ۔ تاریخی طور پر وادی پنجشیر کان کنی کے لیے بھی مشہور ہے۔وادی میں ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ افراد کے رہنے کی اطلاعات ہیں۔یہاں  ذیادہ طر لوگ دری بولتے ہیں جو کہ افغانستان کی اہم زبانوں میں سے ایک ہے اور تاجک نسل سے ہیں ۔

    اس وادی میں داخلے کیلئے ایک راستہ ہے جو ایک تنگ سڑک  ہے  ۔ یہ سڑک بڑے بڑے پتھریلے راستوں اور دریائے پنجشیر کے درمیان سے ہو کر نکلتی ہے۔ جس کو اگر بند کر دیا جائے تو  خوراک اور ادویات کی فراہمی بند ہو جائے گی۔   اب  وادی پنجشیر کے باسیوں کی زندگی کا دارومدار تاجکستان کے راستے خوراک ادویات  اسلحہ بارود پر منحصر رہ جاتاہے۔ طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پنجشیر میں بغاوت کا آغاز ہو گیا تو شمال کے صوبوں تک پھیل جائے گا۔اس لئے وادی پنجشیر کو حاصل کرنا طالبان کیلئے بہت ضروری ہے۔ 

    دوسری طرف تاجکستان میں بھارت کا اثرورسوخ  غیر معمولی نظر آتا ہے جس کی مثال بھارت کا  تاجکستان میں ایک فوجی اڈے کی موجودگی ہے۔ اس کے علاوہ جب آپ دوشنبہ ہوائی اڈے کی عمارت میں داخل ہوتے ہیں تو  وہاں بھارتی اداکاروں کی بڑی بڑی  تصاویر لگی نظر آتی ہیں۔اس سے تاجکستان اور بھارت دوستی کا پتہ چلتا ہے۔   پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بار بار تاجکستان کے دورے بھی کر رہے ہیں کہ کہیں بھارت کی دوستی کی وجہ سے تاجکستان افغان امن کی راہ میں روکاوٹ نہ بنے۔

    تاجک حکمران  یہ سمجھتے ہیں کہ اگر طالبان مستحکم ہو گئے اور اسلامی نظام نافذ کر لیا تو عین ممکن ہے کہ نشاہ اسلامیہ کی اسلامی تحریک islamic renaissance partyپھر سے نا سر اٹھانے لگ جائے۔ احمد مسعود کے بہت سے کمانڈروں کی حلاکتوں کی بھی تصدیق ہو رہی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے آدھے سے ذیادہ علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور باقی پر پیش رفت  جاری ہے۔  عرب میڈیا کےمطابق طالبان نے  تاذہ دم دستے 3اگست کو وادی پنجشیر کی طرف روانہ کر دیئے ہیں۔ اس وقت پنجشیر میں موبائل اور انٹر نیٹ مکمل بند ہے ۔   بعض اطلاعات کے مطابق احمد مسعود اور امرﷲ صالح تاجکستان فرار ہو گئے ہیں۔  اگر ایسا ہے تو پنجشیر میں طالبان کی فتح کو کوئی بھی نہیں روک پائے گا۔   

    حال ہی میں بھارت کے ایک ریٹائر فوجی جس کا نام میجر گوروآریا ہے اس نے احمد مسعود کو مودی حکومت کی طرف سے ہر ماہ 200ارب دینے کی آفر کروائی۔ اس آفر کا  مقصد افغانستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کروانا ہے۔ بھارت کی مثال اس وقت اس بزدل لومڑی  جیسی بنی ہوئی ہے جو چاہتی ہے کسی طرح کوئی شیر شکار کرے اور وہ اس مردہ گوشت پر جا کر منہ مار لے۔ لیکن حالات یکسر بدلے نظر آ رہے ہیں۔ شاہد بھارت کا یہ خواب کبھی پورا نا ہو پائے کیونکہ افغانستان میں  ہر آنے والا دن گزرے دن سے بہتر لگ رہا ہے۔ امن و امان کی صورت حال بھی کافی بہتر نظر آ رہی ہے۔ طالبان کی   موجودہ  قیادت اس وقت کافی سمجھدار اور دور اندیش نظر آ  رہی ہے۔

    طالبان کے مطابق وادی پنجشیر کا حصول ان کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہےوہ اس وادی کو ہر صورت فتح کریں گے۔ اس آخری معرکہ کی فتح افغان امن و امان  کیلئے بہت ضروری ہے۔ دوسری طرف طالبان نے باقاعدہ طور پر سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا بھی اظہار کر دیا ہے۔ طالبان کو افغانستان کا مستقبل نظر آ رہا ہے وہ کسی بھی قیمت پر وادی پنجشیر ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔  

    @saif__says

  • توبہ کا قانون۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کا قانون۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    اس دنیا میں انسان کو آزمائش کے لیے بھیجا گیا ہے اور ہر وقت اُس کا امتحان ہو رہا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے جب آپ آزمائش سے گزر رہے ہوتے ہیں تو غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور گناہ بھی سرزد ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کا ایک قانون دیا ہے۔ جب کوئی شخص  کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو فوراً اپنے رب کی طرف پلٹ آئے۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔

    عام طور پر توبہ اور استغفار ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، اصل میں یہ دو الگ الگ الفاظ ہیں۔ توبہ کا مطلب ہے لوٹنا، یعنی مجھ سے ایک غلطی کا ارتکاب ہوا ہے، ایک گناہ سرزد ہوا ہے، میں اس کو چھوڑ کر صحیح راستے کی طرف آتا ہوں تو اس کو توبہ کہا جاتا ہے۔عربی زبان میں اس کا مطلب لوٹنے کا ہے۔ یعنی آپ نے ایک گناہ کا کام کیا اور اس کو چھوڑ دیا، اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا اور اب آپ وہ کام نہیں کریں گے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی شراب پیتا تھا اس نے کہا کہ میں آج کے بعد شراب نہیں پیوں گا، جھوٹ بولتا تھا اس نے کہا کہ آج کے بعد جھوٹ نہیں بولوں گا  تو یہ توبہ ہے۔

    استغفار کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہنا، بخشش کی دعا کرنا۔ عام طور پر توبہ اور استغفار ایک ہی معنی میں بولے جاتے ہیں۔ توبہ و استغفار اس لیے بھی ایک ساتھ بولے جاتے ہیں کہ جس وقت آدمی کسی گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو یہا ں ایک دوسری چیز یہ بھی ہے کہ اس نے گناہ کیا تو تھا، چنانچہ جو کچھ کیا ہے اس پر مغفرت چاہے گا، اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کرے گا۔ اس لیے یہ دونوں الفاظ ایک ساتھ بول لیے جاتے ہیں پر دونوں میں فرق ہے۔ دونوں الفاظ کو ملا کر ہم توبہ و استغفار کہہ رہے ہوتے ہیں، گویا دونوں باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ گناہ چھوڑ بھی دو اور اللہ سے مغفرت بھی طلب کرو۔

    صرف توبہ کا لفظ بول لینا توبہ نہیں ہے۔ توبہ کی حقیقت یہ ہےکہ آپ نے گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آپ اگر یہ کہہ دیں کہ میں نے توبہ کی ہے اور اس کا معنی یہ لیں کہ  میں نے توبہ کا لفظ بول دیا ہے تو یہ توبہ نہیں ہے۔

    اگر توبہ کا مطلب گناہ کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ کو "تواب” کہنے سے کیا مراد ہو گا؟
    عربی زبان میں الفاظ اپنے فاعل کے لحاظ سے اپنے معنی تبدیل کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اللہ تعالیٰ کے لیے شاکر کا لفظ استعمال کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ جو آپ کے جذبہِ شکر گزاری کو قبول کرتا ہے، اور جب بندے کے لیے شاکر کا لفظ استعمال کریں گے تو اس کا مطلب وہ جو شکر ادا کرتا ہے۔
    اسی طرح یہاں "تواب ” سے مرا د ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و برکت کے ساتھ آپ کی طرف آتا ہے، یعنی وہ جو آپ کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔

    قرآن مجید نے توبہ کا قانون بھی بتا دیا ہے۔ یعنی جب آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو آپ سب سے پہلے اس گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کریں گے پھر یہ کہ آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کا فیصلہ کریں گے اور اپنے ایمان کی تجدید کریں گے۔ جب کوئی آدمی گناہ کرتا ہے تو حقیقت میں وہ ایمان سے خالی ہو جاتا ہے، کیونکہ ایمان کے ساتھ گناہ کا ارتکاب نہیں ہو سکتا۔ آپﷺ نے اس لیے فرمایا کہ جب کوئی بدکاری کرتا ہے یا چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ قانونی لحاظ سے تو وہ مسلمان ہی شمار ہو گا لیکن وہ حقیقتِ ایمان سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب تک ایمان کی حقیقت کا شعور ہے تب تک آپ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر گناہ نہیں کر سکتے۔

    توبہ کے قانون میں ہے کہ جب کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً اس پر توبہ کی جائے۔ گناہ کی ایک کیفیت ہوتی ہے جو انسان پر طاری ہو جاتی ہے، بالخصوص جنس سے متعلق جو گناہ ہیں ان میں تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ انسان جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے۔ باقی گناہوں میں بھی یہی ہوتا ہے کہ ایک پردہ پڑ جاتا ہے اور اس میں آدمی کسی گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فوراً توبہ کر لی، یعنی جیسے ہی شعور بیدار ہوا، غفلت ختم ہوئی تو آپ بیدار ہو گئے اور آپ نے کہا کہ نہیں یہ گناہ میں آئندہ نہیں کروں گا، یہ وہ چیز ہے جس کے اوپر اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں نے اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے کہ میں اس رجوع کو قبول کر لوں گا۔

    یہ قانون ان گناہوں کے بارے میں ہے جن کا تعلق بندے اور اللہ کے درمیان ہے، بعض ایسے معاملات بھی ہوتے ہیں جس میں کوئی دوسرہ بندہ بھی متاثر ہوتا ہے تو ایسی صورتحال میں توبہ کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟
    اس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ انشاءاللہ بہت جلد باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر میرے اگلے کالم میں آپ اس بارے میں  پڑھ سکیں گے۔ تب تک کے لیے اللہ نگہبان۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • ہمارے خود ساختہ معیارات تحریر: صبیحہ ابراہیم

    ہمارے خود ساختہ معیارات تحریر: صبیحہ ابراہیم

    ٹیلی ویژن دیکھیں یا اخبارات سوشل میڈیا کھولیں تو سامنے ایک جیسی خبریں گردش کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔جنسی تشدد ،جسمانی تشدد ،قتل اور ایسی بہت سی خبر رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہیں۔۔ایسا کیوں ہے؟ کون سی چیز ہے جس نے انسان کو انسان کے مرتبے سے گرا دیا اور حیوان بننے پر مجبور کر دیا ہے؟بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ان میں سے ایک وجہ ہمارا خودساختہ معیار ہے۔جس کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں اور اس چیز کا شکار بھی ہو خود ہیں۔ہم ایک ایسا معاشرہ بن چکے ہیں جہاں انسانوں کا رہنا مشکل ہے۔جہاں لوگ روٹی کپڑے سے تنگ اور پریشان تھے اب اس بات سے پریشان ہیں کہ باہر جائیں گے تو باعزت زندہ واپس آئیں گے بھی کہ نہیں۔۔جہاں بچے ماؤں کے ساتھ محفوظ محسوس کرتے تھے اب ماٸیں ہی قومی شاہراہ پر محفوظ نہیں ہیں۔یہ اتنی شرم ناک بات ہے کہ لکھتے ہوئے قلم بھی لرز جاۓ۔۔ان سب کی وجہ ہمارا خودساختہ معیار ہے ہم نے خود کو brandsاورstandard میں اس قدر الجھا لیا ہے کہ اب ہم اس کے شکنجے میں جکڑے جاچکے ہیں۔ نکاح سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ہم نے اس سنت کو خود سے گلے کا پھندا بنا لیا ہے۔آج کے دور میں سب سے آسان چیز زنا اور سب سے مشکل چیز نکاح ہے اور اس حقیقت سے جتنی بھی نظریں چرائی جائیں حقیقت تو یہی ہے اور نکاح کو مشکل بنانے والے بھی ہم خود ہیں ہم نے نکاح کے نام سے اتنے لوازمات جوڑ لئے ہیں کہ جب تک لاکھوں جمع نہ ہوں تو سنت پوری نہیں کر سکتے۔اور دوسری وجہ تربیت ہے والدین زمانے کی بھاگ دوڑ میں اس قدر مصروف ہو چکے ہیں کہ انہیں اولاد کی پرواہ ہی نہیں ہے۔ایسے گھروں سے نکلے ہوئے بچے جنہیں اچھے برے کی تمیز نہ سکھائی جائے حلال اور حرام میں فرق نہ سکھایا جائے تو ان کے لئے کوئی بھی گناہ ، گناہ ہی نہیں ہوتا۔انہیں رشتوں کے تقدس کا پتہ ہی نہیں ہوتا بچے کی سب سے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے جب درسگاہ میں وہ گرم جوشی ہی نہیں اور وقت کی قلت ہوگئی تو بچے بھی معاشرے کے لیے ناسور ہوں گے۔۔اور تیسری وجہ ہماری بے وجہ کی خواہشات ہیں ہم نے اپنی خواہشات کو بے لگام کیا ہوا ہے کہ خواہشات کے سامنے حلال اور حرام کا فرق نہیں کر پاتے۔کہاوت ہے کہ” چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں“لیکن اب ہمیں چادر کے چھوٹے اور بڑے ہونے سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہیں گھر کی خواتین۔جنہیں پتہ ہونے کے باوجود کے گھر کے سربراہ کی کمائ اتنی نہیں ہے کہ وہ بے جا خواہشات پوری کرسکیں لیکن پھر بھی وہ سب چاہیے جو امیر لوگ بآسانی خرید سکتے ہیں۔مڈل کلاس طبقے نے خود کو brandsاورstandard کی دوڑ میں خود شامل کیا ہے سارا دن کام کرکے شام کو تھکا ہارا گھر آنے والا مزدور جب حالات کا رونا روتی اور غربت کو کوستی عورت کو دیکھے گا تو دماغی بے سکونی کا مریض بنے گا۔جس کے نتیجے میں پھر ان کی درندگی کی خبریں ہم روز سنتے ہیں۔ہمیں بحیثیت مسلمان رب کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔بہتری کی کوشش کرتے رہنا چاہیے لیکن حلال اور حرام کی تمیز کے ساتھ۔اور دوسری طرف بچوں کی تربیت پر توجہ کی ضرورت ہے خدارا اپنے بچوں کو انسان بنائیں۔انہیں انسان کی مکمل تعریف عملی طور پر کرکے بتائیں۔انہیں عورت کا مرتبہ سمجھاٸیں۔انہیں مردکا وقار بتائیں۔اچھا انسان بنائیں۔اور والدین سے گزارش ہے کہ ذات پات امیری غریبی کے دوہرے معیار سے نکل آئیں۔دوسری ذات میں یا غریب گھر میں شادی کرنا زنا سے بہت افضل ہے۔۔ذات پات کے چکر میں بچوں کو پنکھے سے لٹکنےاور حرام موت مرنے سے بچائیں۔نکاح کو عام کریں رزق کا وعدہ میرے رب کا ہے۔اس بات پر یقین رکھیں وہ بھوکا نہیں سونے دے گاہم لوگ ہی اب اس معاشرے کو پھر سے انسانی معاشرہ بنا سکتے ہیں ورنہ رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔

    (سٹی: صادق آباد)

  • محبتوں کےاسیر(قیدی )بے آبرو تحریر:افشین

    محبتوں کےاسیر(قیدی )بے آبرو تحریر:افشین

    رشتوں کے تَقّدس کو پامال کرنا عزت دینے کے بجائے بدنام کرنا ۔
    اس دور کی نوجوان نسل یہ سمجھ نہیں پاتی کہ پیار محبت عشق ہوتا کیا ہے؟ کسی سے دو چار باتیں کر کے انکو لگتا ہے محبت ہوگئ یا کسی کی خوبصورتی، کردار ،بول چال کو دیکھ کے اس سے محبت ہوگئ ۔پیار کیا ہے محبت کیا ہے ؟ عشق کیا ہے ؟ اس احساس کو سمجھنے کے بجائے انکو ہر دوسرے تیسرے انسان میں دلچسپی ہورہی ہوتی ہے۔ دل پھینک نہیں ہونا چاہیے۔ پیار کی ایک حد ہوتی ہے ۔پیار اور محبت کا جذبہ دونوں میں واضع فرق ہے ۔ محبت جس سے ہوجائے اس انسان کو کسی سے بانٹا نہیں جا سکتا اسکی ہر ادا سے محبت ہو جاتی ہے وہ کچھ برا بھی کرے پھر بھی آپکو اچھا لگے گا ۔ آپ اسکا خیال رکھتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں اسکو ہر خوشی دیں۔محبت کی بھی حدود ہوتی ہیں کچھ محبتوں میں جنون بھی شامل ہوجاتا ہے اور جنونیت خطرناک ہوتی ہے ۔ محبت بھروسے کا نام ہے شک بھی بلاوجہ پیدا نہیں ہوتا تیسرا انسان دو انسانوں کے درمیان جب نظر آنے لگے اور اپنی حدود پار کر رہا ہو پھر شک بھی تب ہی پیدا ہوتا ہے کھونے کا ڈر انسان کو شک تک لے جاتا ہے محبت پاکیزہ رشتہ ہے مگر نوجوان نسل اس رشتے کو بے آبرو کر رکھا ہے۔ محبت ہے تو ملنے آجاو محبت ہے تو یہ کرو وہ کرو ناجائز کام کرواتےہیں کیا یہ محبت ہیں؟؟ نہیں یہ محبت نہیں حوس ہے یہ بات بھی درست ہے کہ محبت میں قربت خود بخود ہوجاتی ہے پر انسان خود پہ قابو رکھے اپنی محبت کو بے آبرو نا کرے ۔ محبت کے نام پہ بہت سی لڑکیوں کو بے آبرو کردیا جاتا ہے جب نکاح نہیں کرسکتے زنا بھی مت کریں ۔ یہ کیسی محبتیں ہیں؟؟ محبت تو عزت دینے کانام ہے کوشش کی جاتی ہے جس سے محبت ہو اسکو عزت دی جائے بے آبرو نا کیا جائے ۔ زمانے بھر میں محبت کو رسوا کرنے والے محبت کے طلب گار ہو ہی نہیں سکتے۔ محبت نہ تو وقت گزاری کا نام ہے نا ضرورت کا ۔لازمی نہیں جن سے محبت ہو انکو پا لیا جائے سچی محبتیں میں زیادہ ادھوری ہی دیکھی ہیں ۔ جو نہیں مل پاتے انکو میں ایکدوسرے کے نام پہ جیتے دیکھامحبت تب کرنا جب عزت دینا سیکھ جائیں نام کی محبتیں بے آبرو کر دیتی ہیں۔ محبت کے نام پہ نا جائز کام کروائے جاتے ہیں اگر آج آپ کسی کے ساتھ برا کریں گے آپ کے حصے میں بھی وہی کچھ آئےگا ۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں بہن بھائی کے رشتے کو بھی بے آبرو کر رکھا ہے کہتے بہن ہیں پھر نیت خراب رکھتے ہیں۔ بہن کہنا مطلب گھر میں موجود بہنوں جیسی عزت دو صرف منہ سے بہن کہنے والے اور بعد میں کچھ اور کہہ دینے والے بے شرم ہوتے ہیں پاک رشتوں کو بے آبرو کرنے والے عزت دار نہیں ہوسکتے حدود میں رہنا سیکھے جس کو بہن بولا ہے اسکو دل سے عزت دیں بہن کو دوست کہنا اور پھر حدود پار کرنا ہمارا مذہب اسلام تو ایسے نہیں سیکھاتا عزت دار لڑکیوں کے لیے میرا پیغام ہے ایسے مردوں سے دور رہیں ۔ اور مرد حضرات برائے مہربانی کسی کو بے آبرو ناکریں نا محبت کے نام پہ نا کسی اور جھانسے میں ۔
    محبت کرنے والا تم سے نکاح کرے گا اگر کسی مجبوری میں یہ ممکن نہیں پھر بھی وہ تم کو بے آبرو نہیں کرے گا ۔
    ایسے مرد حضرات پہ ہرگز یقین کر کے اپنی دہلیز پار مت کرنا جن کو عزت دینا نہ آتی ہو داغ کا دھبہ عورت کے کردار پہ ہی لگتا ہے چاہے قصور ہو یا نہ ہو ۔ اپنی عزت اللّلہ کے بعد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔کسی بھی نا محرم رشتے پہ اندھا بھروسہ کر کے خود کو نقصان نہ پہنچائیں ۔کچھ مرد حضرات آپکو بہت عزت دیں گے پھر وہی تمھاری عزت کو داغ دار کر دیں گے اکیلے ملنا حد سے زیادہ خطرناک ہے بہت سے واقعات رونماں ہوتے دیکھے ہیں عزت دینے والا کوئی نا جائز مطالبہ نہیں کرتا ۔ عورت کا ہمارے معاشرے میں محبت کرنا بھی گناہ ہے جبکہ مرد جو بھی کرئے اسکی عزت پہ داغ نہیں لگتا کیونکہ وہ مرد ہے ۔
    اسیر محبت میں نہ کر خود کو رسوا ۔ توڑ دے وہ زنجیر جس میں توں ہے جھکڑا۔
    بناصرف اسی کو توں اپنا جو سیکھائے عزت میں کیسے رکھتے ہیں مان اپنا ۔

    @Hu__rt7

  • گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔  تحریر زولفقار علی۔

    گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ تحریر زولفقار علی۔

    بدھ مت نے ہندو مذہب سے جنم لیا اور ہندوستان نے دنیا کو یہ مذہب دیا۔ سال 563 قبل مسیح میں سدھودنا سے پیدا ہونے والا بیٹا۔ اس کا نام سدھارتھا تھا اور بعد میں اسے گوتم بدھ کہا جانے لگا۔ اسوکا جس نے برصغیر پر C 268 سے 232 قبل مسیح تک حکومت کی بدھ مت قبول کیا اور ایک پرجوش بدھسٹ بن گیا۔ اس کی تبدیلی کے بعد اس نے بدھ مت کو سرکاری مذہب کے طور پر اپنا لیا۔ اس نے پڑوسی ممالک میں مشنری بھیجے اور یہ اشوک (269-232 بی سی) کے زمانے میں تھا جب خانقاہوں اور ستوپوں جیسی عمارتیں کھڑی کی گئیں اور پتھروں پر بدھ کی تصاویر بھی بنائی گئیں۔ اشوک کے زمانے میں جس نے گلگت اور کشمیر کے درمیان راستہ کھولا اور گلگت بدھ مت اور بدھ بھکشوؤں کا مرکز بن گیا۔.یہ شاہراہ ریشم تھی جو بدھ مت کو ہندوستان سے چین لے گئی۔ بدھ مت پہلی صدی عیسوی میں چین پہنچا۔ شہنشاہ منگ تی کے زمانے میں مختلف ایلچی بھارت بھیجے گئے تھے تاکہ بدھ مت سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔ اس وقت کے دوران حجاج چین سے اپنے اصل ماخذ ، صحیفوں اور مقدس مقامات کی تلاش میں ہندوستان جانے لگے اور شاہراہ ریشم کے ذریعے مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔ انہوں نے قراقرم کو عبور کیا اور پامیر گندھارا سے گزرتا ہے کیونکہ یہ بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے دوسری مقدس سرزمین تھی۔گندھارا بدھ مت سیکھنے کی جگہ بن گیا۔ گندھارا اور کشمیر سے بدھ مت گلگت اور سکردو میں داخل ہوا۔ بدھ مت تقریبا 200 C اور 100AD یا C150BC کے درمیان گلگت آیا۔ جان بڈلوفا کے مطابق بدھ مت کے نروان کے بعد تقریبا 150bc قبل مسیح یا تین سو سال بعد اس خطے میں آیا۔ کچھ مشہور چینی زائرین/راہبوں کے بارے میں جانا جاتا ہے کہ انہوں نے گلگت کے ذریعے اڈیان (سوات) کا دورہ کیا ہے۔
    یہ شاہراہ ریشم تھی جو بدھ مت کو ہندوستان سے چین لے گئی۔ بدھ مت پہلی صدی عیسوی میں چین پہنچا۔ شہنشاہ منگ تی کے زمانے میں مختلف ایلچی بھارت بھیجے گئے تھے تاکہ بدھ مت سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔ اس وقت کے دوران زائرین نے اپنے اصل ماخذ ، صحیفوں اور مقدس مقامات کی تلاش میں چین سے ہندوستان کا سفر شروع کیا اور شاہراہ ریشم کے ذریعے مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔فا ہین نے اپنا سفر 400 عیسوی کو شروع کیا اور گلگت کے راستے ٹولی (چلاس کی وادی دریل) سے اڈیان (سوات) میں داخل ہوا۔ اس نے گلگت اور آس پاس کے علاقوں میں بدھ مت کو پھلتا پھولتا پایا۔ سانگ یون تاشکورگن سے مسگر گاؤں میں داخل ہوا (ہنزہ) اڈیان (سوات) اور گندھارا گیا۔ ایک اور چینی مسافر اور راہب چی مونگ نے پامیر پار کیا گلگت کا سفر کیا اور برزیل پاس سے کشمیر میں داخل ہوا۔ ایک اور چینی راہب فو ینگ نے پامیر سے یہی راستہ اختیار کیا۔ آٹھویں صدی کے آخر میں حاجی ایلچی وو کانگ نے یاسین اور گلگت کے راستے پر چل کر انڈس اور اڈان تک رسائی حاصل کی۔ گلگت روٹ برصغیر اور چین کے درمیان ایک اہم رابطہ تھا۔ منٹاکا ، کلک ، قراقرم ، درکوٹ ، بروگھیل اور پامیر پاس برصغیر کے داخلی راستوں پر تھے۔ چٹان کندہ کاری اور نقش و نگار شاہراہ قراقرم کے ساتھ شتیال (کوہستان ، کے پی کے) سے چلاس (گلگت بلتستان) تک پھر گلگت اور ہنزہ ندیوں کے سنگم پر مرکوز ہیں۔ کچھ نقش و نگار جدید زمانے تک پہلی صدی قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔
    جاری ہے

  • خوش رہیں اور خوشی پھیلائیں تحریر:نثاراحمد


    خوش رہو اور خوشی پھیلاؤ یہ ایک ایسا فارمولا ہے جس پر عمل کیا جائے تو بہت ساری پریشانیوں کا خاتمہ ہمارے معاشرے سے خود بخود ختم ہو جائے گا۔ دنیا کا ہر انسان خوشی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ بعض کو دوسروں کی مدد کرنے میں خوشی ملتی ہے تو بعض کو دولت وثروت میں، غرضیکہ مختلف مختلف چیزوں سے بنی نوع انسان کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مگر ہمیں دیکھنا یہ چاہیے کہ ہماری خوشی کا راستہ کسی کا دل توڑتے ہوئے تو نہیں گزر رہا۔ مثلاً اگر کسی کی خوشی دولت حاصل کرنے میں ہے تو ٹھیک ہے، لیکن دولت صحیح طریقے سے حاصل کرنا چاہیے نہ کہ کسی غریب کا مال غصب کرکے کیوں کہ آپ کے چند سکوں کی وجہ سے کسی غریب کا پورا گھر تباہ ہو سکتا ہے۔
    غصب کیے ہوئے ان چند سکوں سے آپ کو وقتی خوشی تو حاصل ہو سکتی ہے لیکن دایمی نہیں۔ کیوں کہ اس غریب کے دل سے نکلی ہوئی آہ آپ کے پورے وجود کو تہ و بالا کر دے گی یوں ہی جب ہم جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو طرح طرح کی گھناؤنی چیزوں میں خوشی تلاش کرتے ہیں، جو در اصل نفس کی پیروی ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک ہے دوسرے کا مذاق کے نام پر دل آزاری کرنا عام طور پر چند دوستوں کے ایک گروپ میں کسی کو منتخب کر کے اس کی خوب دل آزاری کی جاتی ہے اور اس کو مذاق کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو اصل میں مذاق نہیں دل شکنی ہوتا ہے۔ کیوں کہ مزاح تو وہ ہوتا ہے جو دل کو برا نہ لگے۔ کسی کا دل ریزہ ریزہ کر دینے کو مزاح نہیں دل آزاری کہتے ہیں۔
    اس طرح کسی کا مذاق بنا کر لہو و لعب کے طور پر دل دکھا کر ہم خود تو خوش ہو جاتے ہیں، لیکن جس کا مذاق بنایا جا رہا ہے اس کے دل پر کیا گزرتی ہے ہم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ کیوں کہ اگر دریا میں پتھر مارا جاۓ تو ہم اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ پتھر کتنی گہرائی میں گیا ہے بسا اوقات بعض لوگوں کی اس مذموم حرکت کی وجہ سے پریشان ہو کر کئی لوگ ذہنی بیماری کا شکار ہو کر خود کشی جیسے قبیح فعل کا اقدام بھی کر لیتے ہیں۔ لہذا ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ہماری خوشی کا راستہ کسی کے دل کو چھلنی کرتے ہوئے نہ گزرے۔ قرآن و حدیث میں دوسروں کی دل آزاری کرنے سے سخت منع کیا گیا ہے چناں چہ قرآن پاک میں ہے اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کیے ستاتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے ۔(پ،۲۲ الاحزاب) اور حدیث پاک میں ہے تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کروگے۔
    اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف مزاج کا حامل بنایا ہے۔ کوئی سخت مزاج ہوتا ہے تو کوئی نرم مزاج۔ کوئی چڑچڑا تو کوئی پر سکون۔ اسی طرح قوت برداشت بھی انسانوں میں مختلف طور پر ہوتا ہے۔ کسی میں زیادہ تو کسی میں کم جس میں قوت برداشت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ ہر جگہ فٹ ہو جاتا ہے لیکن جس میں کم ہوتی ہے اسے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور زیادہ تر وہ تنہائی میں رہنا پسند کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے ذہنی بیماری depression کا شکار ہو جاتا ہے عام طور پر لوگ اس موضوع پر گفت و شنید سے پرہیز کرتے ہیں اور اسے برا گمان کرتے ہیں جو کہ غلط ہے دیگر بیماریوں کی طرح depression بھی ایک بیماری ہے جس کے شکار بہت سارے لوگ ہو جاتے ہیں اور treatment احتیاطی تدابیر کے بعد بالکل ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں ہمارے آس پاس میں بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو depression کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن اپنی پریشانی کسی کے سامنے پیش نہیں کرتے اگر آپ کو کوئی ایسا شخص ملے تو اس کا خاص خیال رکھیں اس سے باتیں کریں اس سے نکلنے میں اس کی مدد کریں ہندوستان میں روز بہت سارے لوگ ذہنی بیماری ڈپریشن کی وجہ سے اپنی جان تلف کر لیتے ہیں۔ جس کے قصوروار ہم سب ہیں اگر ہم ایسے لوگوں کی مدد کریں ان کی باتیں سنیں ان کی درد پر مرہم رکھنے کی کوشش کریں تو بہت ساری جانیں ہم تلف ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
    اگر اصل خوشی کی بات کی جائے تو وہ دوسروں کو خوش کرنے میں ہے کیوں کہ اگر آپ کسی کی ہونٹوں پر مسکان کی وجہ بن رہے ہیں تو واقعی آپ ایک بہترین انسان ہیں خواہ وہ مدد کے ذریعہ ہو،دل جوئی کے ذریعہ ہو، خدمت کے ذریعہ ہو یا کسی بھی طرح سے ہو کیوں کہ جس دن ہم دوسروں کی خوشی سے خوش ہونے کا ہنر سیکھ لیں گے اس دن خوشی ہمارے دامن سے ایسے لپٹ جائے گی کہ ہم چاہ کر بھی اسے خود سے جدا نہیں کر پائیں گے۔
    انسان اور خصوصاً مسلمان ہونے کے لحاظ سے ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم دوسروں کی راحت کا خاص خیال رکھیں مشکل حالات میں دوسروں کے کام آئیں کسی بھی حال میں کسی کو تکلیف نہ دیں دوسروں کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اپنے باہمی تعلقات ملنساری،نرمی حسن اخلاق خیر خواہی اور عاجزی پر استوار کریں۔ معاشرے میں شفقت و محبت،ہمدردی، بھائی چارہ کو فروغ دینے کی کوشش کریں اسلام نے ہمیں انہی چیزوں کا حکم دیا ہے بے جا شدت ، لوگوں کی دل آزاری، سختی، لڑائی جھگڑا، نفرت و عداوت،بغض و کینہ اور ان جیسے تمام امور سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا آئیے آج سے ہم سب یہ عہد کرتے ہیں کہ خوش رہیں گے اور خوشی پھیلائیں گے۔اپنے ملنے جلنے والے دوست و احباب کا خاص خیال رکھیں گے اور ان کی باتیں سن کر ان کی پریشانیوں کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

    ‎@Nysar7