Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • جہیز کیا ہے یہ  اس باپ سے پوچھو  جس کی زمین بھی چلی گئی اور بیٹی بھی   تحریر: امبر سیف 

    جہیز کیا ہے یہ  اس باپ سے پوچھو جس کی زمین بھی چلی گئی اور بیٹی بھی  تحریر: امبر سیف 

    ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اس وجہ سے اداس نہیں  ہوتے ہیں کہ بیٹی پیدا ہوئی ہے بلکہ اس وجہ سے بھی اداس ہوتے ہیں کہ ہماری بیٹی تو پیدا ہوئی ہے جو ہمارے گھر کی رحمت ہے لیکن جب یہ بڑی ہو گی تو جہیز نہ دینے کی وجہ سے کنوارہ نہ رہ جائے گی۔۔۔۔۔۔

    آپ کو پتا ہے جو باپ جہیز میں فرنیچر دیتا ہے وہ کس طرح قرضے میں ڈوب کے یہ خریدتا ہے؟ اس فرنیچر کی پالش اتر جاتی ہے لیکن اس باپ کا قرضہ نہیں اترتا۔جہیز کے پیسے جمع کرتے کرتے ایک باپ لوگوں کے آگے بک جاتا ہے اس معاشرے میں بیٹیاں جہیز کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔پتہ چلتا ہے ساس نے تیل ڈال کے آگ لگا دی،آگ کیوں لگائی کیوں کہ وہ جہیز میں کچھ نہیں لے کے آئی۔کچھ لڑکیوں کی طلاق ہو جاتی ہے صرف جہیز نہ دینے کی وجہ سے۔جہیز نے لوگوں کے گھر تباہ کر دیئے لیکن آج بھی یہ مسلہ حل نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو سکتا ہے.ہم لوگ اپنے بچوں کو اس قابل نہیں بناتے کہ وہ زندگی میں اتنا کما سکیں کہ اس انتظار میں نہ رہیں ۔کب ہماری شادی ہو گی کب لڑکی اپنے ساتھ کار،اےسی،فرنیچر اور گھر کی ایک ایک چیز لے کے آئے گی۔

    ماں بیٹے کے پیدا ہوتے ہی یہ سوچنا شروع کر دیتی ہے کہ یہ جب بڑا ہو گا اس کی شادی ایک ایسے گھر میں کروں گی جہاں لڑکی بھی خوبصورت ہو اور اپنے ساتھ جہیز میں بھی سب کچھ لے کے آئے اور یہ سوچ بیٹے کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے

    لیکن جب بیٹے کی شادی ہوتی ہے اور وہ جہیز میں وہ سب نہیں لاتی جو اس نے سوچا ہوتا ہے تو پھر شروع ہو جاتی ہیں لڑائیاں۔ جس میں لڑکی جو اپنے ساتھ بہت سے خواب لے کے آتی ہے کہ کب میری شادی ہو گی اور کب میں نئے گھر میں نئے لوگوں کو اپنا بنائوں گی۔لیکن اس کی سوچ یہ نہیں ہوتی کہ جہیز نہ لانے کی وجہ سے اسے کن تکلیفوں سے گزرنا پڑے گا۔سسرال والے اسے حقیر کیڑے سے بھی کم سمجھتے ہیں۔

    اب اس لڑکی کی زندگی کو دیکھ کر بہت سے ماں باپ ڈر جاتے ہیں کہ اگر ہم نے بھی اپنی بیٹی کو کچھ نہ دیا تو ہماری بیٹی کی زندگی بھی اسی عذاب سے گزرے گی۔باپ اپنی بیٹی کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے خود کو قرضے میں ڈبو لیتا ہے۔بہت سے لوگ بیٹی پیدا ہوتے ہی جہیز بنانا شروع کر دیتے ہیں اور ساری زندگی ان کی چیزیں جمع کرنے میں گزر جاتی ہے۔ماں باپ ساری زندگی یہ ہی سوچتے رہتے ہیں کہ ہماری بیٹی کی سسرال میں عزت ہو اسے کسی کا طعنہ سننے کو نہ ملے۔ماں باپ یہ سوچتے ہیں کہ ہم جتنا بیٹی کو دیں گے بیٹی کے سسرال والے اس کا اتنا خیال رکھیں گے،اس کے آگے پیچھے پھریں گے۔اس سب کی جگہ میں وہ ان لوگوں کی عادت خراب کر دیتے ہیں۔اسی طرح کچھ لوگ اتنے کمظرف ہوتے ہیں جو شادی میں جو جہیز ہوتا ہے وہ تو ایک طرف لیکن شادی کے کچھ دیر بعد اس کی ڈیماند بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔وہ لوگ کاروبار کا بہانہ بنا کر پیسے لینا شروع کر دیتے ہیں کہ اپنے باپ سے بولو میری مدد کریں مجھے کاروبار کرنا ہے اور اگر تم پیسے لائو گی تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے،تمہاری زندگی آسان ہو جائے گی۔

    کبھی کار کی فرمائش کبھی موبائل کی اور کبھی گھر کی اور ضرورت کی چیزوں کی۔وہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جو جہیز آیا ابھی تو اس کا قرضہ بھی نہیں اترا اور نئی فرمائشیں شروع ہو جاتی ہیں۔لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر انسان اپنے جسم کا حصہ انہیں دے رہا ہے کہ باقی اس کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔شادی کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ روز نئی فرمائشیں شروع ہو جاتی ہیں۔اس کے بدلے میں لڑکی کے ماں باپ اس ڈر سے یہ ساری فرمائشیں پوری کرتے رہتے ہیں کہ کہیں ہماری بیٹی کو طلاق نہ ہو جائے یا اسے گھر سے نہ نکال دیں۔

    اس کا حل کیا ہے؟کیسے ہم اس جہیز جیسی لعنت کو ختم کر سکتے ہیں؟ ہر انسان جب خود کو دوسرے کی جگہ رکھ کر دیکھے کہ لوگ کیسے کہ لوگ کیسے جہیز اکھٹا کرتے ہیں،کیسے قرض کے نیچے دب کر اپنی بیٹی کی کھوکھلی خوشیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔یہ ہم سب نے سوچنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اس قابل بنائیں کہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہ پڑے وہ کسی کی بیٹی اس وجہ سے نہ لے کہ اسے جہیز میں بہت کچھ ملنا ہے۔وہ یہ سوچے کہ لڑکی کی تربیت اچھی ہوئی ہے،وہ اچھے خاندان سے ہے،پڑھی لکھی ہے اور اسے یہ یقین ہو کہ زندگی کی ساری خوشیاں دینا اس کا فرض ہے نہ کہ اس کے ماں باپ کا۔

    ماں باپ کا گھر بکا تو بیٹی کا گھر بسا

    کتنی نامراد ہے یہ رسم جہیز بھی  

    twitter.com/Ambersaif3

  • نفسیاتی دباو   تحریر : تعمیر حسین

    نفسیاتی دباو تحریر : تعمیر حسین

    زندگی میں کوئ نا کوئ واقع ایسا رونماں ہوتا ہے جس سے انسان ڈپریشن کا مریض بن جاتا ہے اس کو نفسیاتی بیماری کہا جاتا ہے کیونکہ اس بیماری کا زیادہ اثر دماغ پہ پڑتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  جسمانی کمزوری بھی ہونے لگتی ہےنفسیات ۔۔۔

    نفسیات ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو ماضی سے نہیں نکلنے دیتی ایک نفسیاتی انسان تلخ ہونے کے ساتھ ساتھ الگ تھلک رہنے لگتا ہے اسکو یہی لگتا ہے میں الگ دنیا کا ہوں مجھے کوئ سمجھ نہیں سکتا اور ہوتا بھی ایسے ہی ہے ایسے انسان کو ہم سمجھنے کے بجائے اور تکلیف دیتے ہیں اور وہ مزید تلخ ہوتا جاتا ہے

    ایسا انسان توجہ کے ساتھ پیار چاہتا ہے انسان کو نفسیاتی بنانے میں اس کے اردگرد کا ماحول اور وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جن سے وہ جوڑا ہوا ہوتا ہے سوشل میڈیا کے تعلقات انسان کو  نفسیاتی بنانے میں سب سے پہلے ہے وقت گزاری سے کہیں لوگوں کی زندگیاں برباد ہوگئ عارضی تعلقات دکھ کا باعث بن کے انسان کو روحانی طور پہ ختم کررہے ہیں

    دوسروں کو تکلیف دینا دل آزاری کرنا ہمارا مذہب اسلام نہیں سیکھاتا دوسروں کو محبتوں کے جال میں پھنسانا  اور کسی کا ناجائز فائدہ اٹھانا 

    کیا یہ جائز ہے؟؟ جو ہر کوئ اس راہ پہ گامزن ہورہا ہے ہمارا مستقبل یہ تو نہیں تھا کہ اپنوں کی بربادی کا خود ہی سبب بنے خدارا ہوش کیجیے دوسروں کو عزت دیجیے استعمال نا کیجئے نفساتی بنانے اور کسی کو زندہ مار دینے میں کوئ فرق نہیں کسی کا دل دکھانے کی کوئ معافی نہیں

    ایک نفسیاتی انسان یا تو خاموش ہوجاتا ہے یا پھر مختصر جواب دینے لگتا ہے وہ اپنی الگ دنیا میں رہنے لگتا ہے اسکو کسی سے لگاو نہیں رہتا نا وہ اپنا صیح خیال رکھ پاتاہے نا کھانے پینے کی اسکو خبر ہوتی ہے اور نا روز مرہ کے  کاموں پہ توجہ دے  پاتا ہے تنہا رہنے لگتا ہے اور کمتری کا شکار ہوجاتا ہے 

    اور مایوسی میں جینے لگتا ہے 

    ایسے انسان کو کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ڈپریشن کا علاج باتوں سے بھی کیا جاسکتا ہےوہ یہی چاہتا ہے  کوئ اسکے سنے اور سمجھے 

    وقت سب سے زیادہ قیمتی ہے دوسروں کو اچھا وقت دے انکے کام ائے اور نفسیاتی انسان پاگل نہیں ہوتا لہذا اس کو سمجھنے کی کوشش کریں اور دوسروں کے لیے ذہنی سکون کا باعث بنے اور سوشل میڈیا کے تعلقات سے پرہیز کیا جائے کیونکہ ہر کوئ اپنی اصل شناخت سے موجود نہیں ہوتا ایک انسان کے سو نام اور پہچان بنی ہوتی ہے اور مختلف چہروں میں چھپا ہوا ہوتا ہے اور سوشل میڈیا پہ ویسے بھی ہر کوئ نیک پرہیزگار بنا ہوتا ہے لازمی نہیں حقیقت میں وہ ویسا ہی ہو جیسا وہ ثابت کر رہا ہو خوشیار رہے خود کو ایسے لوگوں سے بچا کے رکھے جو اپکو ذہنی طور پہ بیمار کر دے اپنا خیال رکھا جائے  اور خود کو کاموں میں مصروف رکھے تاکہ اکیلا پن ڈپریشن کی بیماری میں مبتلا نا کرے 

    تلخ ہونا کوئ عداوت نہیں 

    مٹھاس میں زہر پوشیدہ نا ہو
             

    Official Twitter Account ‎@J_Tameer

  • سماجی سرگرمی میں دلچسپی کا نقصان تحریر خالد عمران خان

     تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ طلاق بچوں کو سماجی طور پر بھی متاثر کر سکتی ہے۔ جن بچوں کا خاندان طلاق سے گزر رہا ہے انہیں دوسروں سے متعلق مشکل وقت درپیش ہوسکتا ہے ، اور ان کا سماجی رابطے کم ہوتے ہیں۔ بعض اوقات بچے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا ان کا خاندان ہی واحد خاندان ہے جس نے طلاق حاصل کرلی ہے۔اور ان کے ماں پاب اس طرح الگ ہو رہے ہیں وہ اپنے ماں اور پاب کے ساتھ ایک ساتھ نہں رہ سکیں گے. یہ بات ان پے بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔

     تبدیلی کو اپنانے میں دشواری۔
     طلاق کے بعد بچوں کو زیادہ سے نئے ماحول کو قبول کرنے میں مسئلہ ہوتا ہے۔ فوراََ ہونے والی تبدیلی کو وہ جلدی قبول نہں کر پاتے انکو بہت مشکل لگ رہا ہوتا ہے خود کو تبدیل کرنا اور نئے تبدیل ماحول میں خود پہلے جیسا رکھنا خود کو اس ماحول میں ڈھالنا اس کی سیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ نئی خاندانی حرکیات ، نیا مکان یا رہائشی صورتحال ، اسکول ، دوست اور بہت کچھ ، سب پر بہت اثر پڑ سکتا ہے۔

     

    جذباتی طور پر حساس ہوتے ہیں بچے ہمیں انکے رویوں کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے تعلق جیسے معاملات کے لڑائی جھگڑوں کو اور گھر کے بدلتے ماحول کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں بچے اپنے آپ کو محفوظ بھی نہں محسوس کرتے اپنے دل کی بات کسی سے شیئر نہں کر رہی ہوتے اور اندر ہی اندر جب اس طرح کے غصے یہ پریشانی والے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو وہ انکو کنٹرول بھی نہں کر پا رہے ہوتے ایسے وقت انکو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ماں باپ کی کوشش ہونی چاہیے کے طلاق جیسے معاملے تک پنچھنے سے پہلے لازمی اگر گھر میں بچے موجود ہیں تو ان کے بارے میں ضرور سوچیں اور سوچ سمجھ کے اس قسم کا فیصلہ کریں کیوں کے اس قسم کے فیصلوں سے سب سے زیادہ اگر کسی پے اثر پڑتا ہے تووہ ہمارے بچے ہیں جن کے لیے اس بات کو قبول کرنا کے ماں باپ ساتھ نہ ہوں اور زندگی بلکل تبدیل ہوجائے اور انکو کسی نئی ماحول کی عادت ڈالنا بہت ہی مشکل ترین مسئلہ ہے ساتھ ہی ان کے تعلیمی معاملات کا خراب ہونا بھی مد نظر رکھنے والی بات ہے۔بچوں سے بات کریں انکے خیالات اور احساسات جانیں اور انکو سمجھنے کے بعد ماں باپ سوچ سمجھ کے اس طرح کے قدم اٹھائیں۔
     طلاق گھر کے افراد میں کئی طرح کے جذبات کو سامنے لا سکتی ہے ، اور اس میں شامل بچے بھی مختلف نہیں ہیں۔ نقصان ، غصہ ، الجھن ، بے چینی ، اور بہت سے دوسرے کے احساسات ، سب اس منتقلی سے آ سکتے ہیں۔ طلاق بچوں کو مغلوب اور جذباتی طور پر حساس محسوس کر سکتی ہے۔ بچوں کو اپنے جذبات کے لیے ایک ظاہر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے انکو ضرورت ہوتی ہے کے کوئی بات کرنے والا ، کوئی سننے والا ، وغیرہ – بچے اپنے جذبات پر عمل کرنے کے ذریعے طلاق کے اثرات محسوس کر سکتے ہیں۔

    Twitter handle
    @KhalidImranK

  • ففتھ جنریشن وار اور ہم   تحریر : شفقت مسعود عارف

    ففتھ جنریشن وار اور ہم تحریر : شفقت مسعود عارف

    ففتھ جنریشن وار

    دراصل hybrid  war ہے یعنی مخلوط طریقہ جنگ

    جس میں 

    عسکری

    انفارمیشن

    ڈس انفارمیشن

    مسلسل پروپیگنڈا سے رائے کی تبدیلی

    پر تسلسل سے کام کیا جاتا ہے اور عام رائے کو اپنے مقصد کیلئے کسی ریاست کے حق میں یا خلاف ہموار کرنے کیلئے منصوبہ بندی سے کوشش کی جاتی ہے

    اس کے کئی حصے ہیں

    1۔ مخالف ریاستوں میی کسی حکومت ، ادارے یا کسی عالمی یا مقامی موقف کے حق میں یا خلاف

    2۔ اپنی ریاست کے حق میں

    3۔ اپنی ہی ریاست میں کسی خاص علاقے، ادارے یا عالمی و مقامی موقف کے حق میں یا خلاف

    4۔ عالمی رائے عامہ کو کسی موقف کے حق میں یا خلاف بدلنے کیلئے 

    5۔ چونکہ اسے وار فیئر کا نام دیا گیا ہے اس لئے ہر ملک کی افواج  کے حق میں یا خلاف رائے بدلنے کیلئے بھی یہی وارفیئر مسلسل استعمال کی جاتی ہے

    ففتھ جنریشن وار فیئر کا پروپیگنڈا بھی ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے جہاں آپ کے اعصاب کو تناؤ میں رکھ کر متوقع ردعمل کو استعمال کیا جاتا ہے یہ تہہ در تہہ پلاننگ ہے

    اسلئے اسے درست طور پر سمجھنا ضروری ہے 

    قریبا ہر ملک میں کچھ شخصیات ، ادارے اور شعبے مقدس ٹھہرائے جاتے ہیں 

    جن کے حق میں ملک کے اندر سے اور انکے خلاف باہر سے اس طریقہ جنگ کے تحت پلاننگ کی جاتی ہے

    جس کا مثبت اور منفی استعمال یہی شخصیات ، ادارے اور شعبے بھی کرتے ہیں اور ففتھ جنریشن وار کے نام پر من مانی کرنے کے ساتھ ذاتی ایجنڈے بھی پروموٹ کرتے ہیں

    اسلئے میڈیا اور سوشل میڈیا 

    ‏کیلئے صحیح بات معلوم ہونا ضروری ہے پھر وہ خود فیصلہ کریں کہ کیا بتانا اور کیا چھپانا مناسب ہے

    مثبت پروپیگنڈا کے ساتھ ساتھ ڈس انفارمیشن اس طریقہ جنگ کا بڑا ہتھیار ہے

    جس سے رائے کیلئے check لگا کر تجزیہ کر کے آئندہ کیلئے پلاننگ کی جاتی ہے

    اسے ہم ابھی اگر صرف پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو

    پاکستان کے خلاف دہشتگردی کا لیبل لگانے کیلئے اسے استعمال کیا گیا اور ہم اس کا دفاع خاصے عرصے تک نہ کر سکے

    ہمیں عالمی پابندیوں، سیاحت کے نقصان اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات میں مشکلات کا سامنا رہا بڑے فورمز پر ہمیں کئی دفعہ شکست کا سامنا کرنا پڑا جس میں اب جا کر کسی حد تک تبدیلی آ سکی ہے

    لیکن 70 کی دہائی سے اس جنگ کا ایک حصہ اندرون ملک بھی لڑا جارہا ہے جسے عسکری ادارے lead کر رہے ہیں

    بطور پاکستانی ہمارے لئے اس جنگ کا درست طریقہ کار کیا ہے

    ہماری ترجیحات کی کسوٹی پاکستان کا مفاد ہو

    کوئی حکومت

    کوئی شخصیت

    کوئی ادارہ

    اسکی کسوٹی نہ ہو

    کوئی حکمران ، کوئی جج کوئی جرنیل کوئی بیوروکریٹ کوئی میڈیا آئیکون کوئی رائٹر جس کا کوئی کام پاکستانی مفاد سے متصادم ہو ہم اسے گرفت کر سکیں

    مگر اس سے پہلے بیرونی ممالک کے عالمی فورم پر launched پروپیگنڈا کو سمجھنے اور اس کا جواب دینے کی اہلیت بھی ہم پیدا کریں

    اور

    عالمی اور مقامی سطح پر کوئی پروپیگنڈا لانچ کرتے ہوئے یا کسی پروپیگنڈا کا جواب دیتے ہوئے ہم یہ مدنظر ضرور رکھیں کہ اس کا اثر پاکستان کیلئے کیا ہو گا

    اس کیلئے کئی دفعہ ہمیں اپنے الفاظ ، اور کئی دفعہ حقائق بھی دبا کر رکھنا پڑیں گے 

    ففتھ جنریشن وار

    بڑی سطح پر کھیلی جانے والی وہ شطرنج ہے جس میں بعض دفعہ ایک چھوٹی سی چال کسی بڑے معاملے کو سلجھا یا خراب کر سکتی ہے

    ففتھ جنریشن وار کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ 

    آپ وہ موقف تسلیم کر کے اس جنگ کا حصہ بنیں جو اس وار فیئر کے ڈیزائنر آپ کو بتاتے ہیں وہ ڈیزائنر غیر ملکی ہوں یا ملکی

    اسی وجہ سے چھوٹے چھوٹے گروہ ہیں جو اس جنگ میں حق میں یا خلاف ایک ہی مخصوص ایجنڈا پر کام کرتے نظر آئیں گے ‏ایسے میں ہم کس طرح دشمن کا آلہ کار بننے سے بچ سکتے ہیں

    جبکہ اداروں کی طرف سے پالیسیز پر مکمل خاموشی کیلئے وجہ سیکیورٹی بتائی جاتی ہے

    آج کل کوئی معاملہ انفرادی نہیں ہے ہر چھوٹے بڑے معاملے کا تعلق مقامی اور عالمی پالیسی ، سسٹم اور براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول سے جڑا ہوا ہے

    اسی طرح صرف اس چیز کی وضاحت کیلئے ایک کتاب بھی ناکافی ہے کہ ہم کب کیا اور  کس طرح سمجھیں اور ردعمل کا اظہار کریں

    مسلسل نظر، درست معلومات، تجزیہ اور سیاق و سباق سے واقفیت ضروری ہے جو سب کو میسر نہیں اور اسی چیز سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے

    اسلئے ضروری ہے کہ ہر لیول پر غیر جانبدار تھنک ٹینک اور ڈسکشن بورڈ ہوں جو تازہ ترین صورتحال پر بات کر کے واضح کر سکیں

    ‏ڈس انفارمیشن سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں

    پہلا موثر ترین طریقہ حکومتی سطح پر ہے لیکن بدقسمتی سے وہ سب سے زیادہ غیر فعال ہیں

    دوسرا طریقہ وہ ہے جس میں انفرادی یا چھوٹی جماعتوں اور ٹیموں کی شکل میں انالسز ونگ اور جوابی سٹریٹجی اختیار کرنے کے ہیں لیکن اس معاملے میں اکثر صحیح واقفیت نہ ہونا رکاوٹ ہے درحقیقت اس پر بڑے لیول پر کام کرنے کیلئے میدان قریبا خالی پڑا ہے

    ‏بیانیہ کی جنگ میں ہم پاکستانیوں میں صبر اور صحیح تجزیہ کی کمی ہے کیونکہ ہم فوری ردعمل ضروری سمجھتے ہیں

    اور درحقیقت یہی وہ چیز ہے جو ففتھ جنریشن وار کے منصوبہ ساز استعمال کرتے ہیں

    ہمیں رکنا ، دیکھنا ، سوچنا اور سمجھنا شروع کرنا پڑیگا

    "کسی ردعمل سے پہلے”

    Twitter handle 

    @ShafqatChMm

  • بوڑھوں کو بوجھ نہ سمجھئے  تحریر:محمد سدیس خان

    بوڑھوں کو بوجھ نہ سمجھئے تحریر:محمد سدیس خان

    بوڑھے عام طور پر بوجھ سمجھے جاتے ہیں، بہت سے گھروں میں ان کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی، ان کے مشوروں اور نصیحت آمیز باتوں کو ” بکواس” سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر کاروبار کرنے اور پنشن پانے والے بزرگوں کو برداشت کرلیا جاتا ہے۔ مگر جن بزرگوں کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا وہ پوری طرح سے گھر والوں کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ ان کی حالت گھر میں کسی اجنبی کی سی ہوکر رہ جاتی ہے۔

    کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ایسے بزرگ جو کما کر لاتے ہیں یا کاروبار کرتے ہیں یا پھر پنشن کی موٹی رقم پاتے ہیں، تب تک ان کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی۔ اور انہیں بوجھ نہیں سمجھا جاتا، وقت پر کھانا ہی نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً گھر والوں کا پیار بھی ملتا رہتا ہے۔ بیمار ہونے پر ان کی تیمارداری بھی کی جاتی ہے کیونکہ وہ دواؤں کا خرچ خود برداشت کرتے ہیں۔

    ایسے بزرگوں کی بھی اس وقت تک عزت کی جاتی ہے جن کے نام زمین جائیداد ہوتی ہے، اور ان کی تیمارداری یا ان پر محبتیں اس لیے لڑائی جاتی ہیں کہ انہیں اس جائیداد سے بھاری بھر کم رقم مل جائے۔

    یعنی کہ کمانے والے، کاروبار کرنے والے یا بے شمار دولت رکھنے والے بزرگوں کو سرآنکھوں بٹھایا جاتا ہے، وہ بھی اس وقت تک جب تک ان کے پاس دولت ہوتی ہے یا وہ کمانے کے قابل ہوتے ہیں۔

    جہاں ان کے پاس دولت نہیں رہ جاتی یا وہ کمانے کے لائق نہیں رہ جاتے انہیں گھر میں بوجھ سمجھا جانے لگتا ہے، ایسا ہر گھر میں نہیں ہوتا، لیکن آج بیشتر گھروں میں بزرگوں کو اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

    بات پھر وہیں پر آکر رک جاتی ہے کہ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا وہ بچے جن کی پرورش ان ہی بزرگوں نے بڑے ناز و انداز سے تو کی، لیکن انہیں بزرگوں کی عزت کا سلیقہ نہیں سکھایا، انہیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کبھی اپنے بچوں کے بیمار ہونے پر انہیں بوجھ نہیں سمجھا کرتے تھے، انہوں نے کبھی یہ سوچ کر انہیں تعلیم سے محروم نہیں رکھا کہ چھوڑو کون تعلیم دلوائے کہ اس میں اتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں۔

    انہوں نے اپنے بچوں کو کبھی یہ احساس بھی نہیں ہونے دیا کہ انہیں اچھے اور عمدہ لباس پہنانے کیلئے دن رات کتنی محنت کرنا پڑتی تھی، ان کا پیٹ بھرنے کے لیے بعض اوقات وہ خود بھوکے رہ جایا کرتے تھے، لیکن انہیں پیٹ بھر کھانا کھلائے بغیر کبھی نہیں سلایا، بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کردیا، پھر ان کے ساتھ برا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟

    کیا نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے؟ اپنے والدین اور بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی اور بدتمیزی کرنے والے نوجوان والدین یہ بھول جاتے ہیں، کہ کل کو ان کی بھی اولاد جوان ہوگی اور کل وہ بھی بوڑھے ہوں گے، اور جو سلوک وہ اپنے ماں باپ اور بزرگوں کے ساتھ کررہے ہیں، ویسا ہی سلوک ان کے بچے ان سے کریں گے، اس لئے ضروت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کو اپنے آپ پر بوجھ نہ سمجھیں، بلکہ ان کی قربانیوں اور ان کی بزرگی کا خیال کرتے ہوئے ان کی تیمارداری, ان کی دل بستگی، ان کی پسند، ناپسند، ان کے آرام اور ان کی ضروریات کا بھر پور خیال رکھیں۔

    مانا کہ بزرگ بڑھاپے میں تھوڑے سخت اور چڑچڑے ہوجاتے ہیں، لیکن یہ عمر کا تقاضا ہے، ے ہیں کہ بچہ اور بوڑھا برابر ہوتے ہیں، یعنی جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے تو وہ بچوں جیسا برتاؤ کرنے لگتا ہے، اس کا ضد کرنا، بات بات پر چڑچڑاپن کا مظاہرہ کرنا بہت عام بات ہے، بزرگ بلکل اس بچے کی طرح ہوجاتے ہیں جو اپنی بات پوری نہ ہونے یا کسی چیز کے نہ ملنے پر ناراض ہوجاتا ہے یا چڑ جاتا ہے۔ ہمیں ان کی خدمت یوں کرنا چاہئے جیسے ہم اپنے بچے کی کرتے ہیں، ان کی خدمت نہ صرف دنیا میں آپ کو سرخرو کرے گی۔

    بلکہ آپ کی آخرت بھی سنور جائے گی، بوڑھوں کا بیمار ہونا، بات بات پر نکتہ چینی کرنا یا گھر ہی میں موجود رہنا بے شک آپ کو پریشان کرتا ہوگا، لیکن ان حالات میں ہی آپ کی صحیح آزمائش ہوتی ہے کہ آپ اپنے والدین کو یا گھر کے بزرگوں کو کتنی اہمیت دیتے ہیں، اور ان کی کتنی تیمارداری کرتے ہیں۔

    ایک طرح سے یہ آپ کا امتحان ہوتا ہے، اور اس امتحان میں کامیابی کے بعد ہی آپ دنیا و آخرت میں سرخرو ہوسکتےہیں۔

    یہاں بزرگوں سے بھی ایک گزارش ہے کہ وہ اپنے آپ کو اتنا کمزور اور لاچار نہ بنائیں، کہ بچے آپ کو بوجھ سمجھنے لگیں یا آپ سے چڑنے لگیں، یہ اس وقت ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ جب بزرگ نہ صرف اپنے آپ کو مثالی والدین بنا کر پیش کریں گے، بلکہ بچوں کی تربیت بھی اس انداز میں کریں گے، کہ وہ عمر کے کسی بھی حصے میں آپ سے بدتمیزی کرنے کی ہمت نہ کرسکیں، اور نہ ہی آپ کے مشوروں کو رد کرسکیں، تو یقیناً حالات ٹھیک ٹھاک رہیں گے۔

    بعض بزرگ بلاوجہ گھر کے معاملات میں دخل دینے ہیں یا اپنی بات منوانے کے لیے بچوں کو برا بھلا بھی کہتے رہتے ہیں، بھلے ہی ان کی بات غلط ہو وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انہیں کی بات مانی جائے، ایسے میں حل کچھ نہیں نکلتا بلکہ اولاد اور والدین کے درمیان تلخیاں بڑھ جاتی ہیں۔

    اس لیے بزرگوں کو بھی عمر اور تجربے کی بناء پر سمجھداری اور مصلحت سے کام لیتے ہوئے اپنے خاندان کو آگے بڑھانے میں مدد دینی چاہئے اور نوجوانوں کو بھی ان کا ساتھ دینا چاہئے۔ تب جاکر نوجوانوں اور بزرگوں کے بیچ کی اس خلش کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ مسلم معاشرے میں اسلامی تعلیمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بزرگوں کے احترام اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔

    Twitter: @msudaise0

  • افغان افیئرز تحریر: فروہ نذیر

    افغان افیئرز تحریر: فروہ نذیر

    افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ہے۔ 1842 میں اس وقت کے سپر پاور برطانیہ کو کابل چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ 1989 میں اس وقت کی سپر پاور بدمست ہاتھی سوویت یونین کو بھی آخر کار افغان سرزمین چھوڑ کر اپنی اشتراکیت سمیت واپس جانا پڑا، اور 2021 میں چودھری امریکہ بھی اپنا بوری بستر شریف گول کر کے افغانستان میں اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے بعد شکست خوردہ حالت میں واپس بھاگ گیا۔
    اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ کونسے عناصر ہیں جن کی بدولت افغانستان پر کوئی بھی حملہ آور قبضہ نہیں کر سکا۔
    سب سے بڑی وجہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت ہے۔ افغانستان ایک پہاڑی ملک ہے اور اکثر راستے تنگ دروں اور پہاڑی بھول بھلیوں کی صورت میں ہیں۔ زمینی راستے سے ٹارگٹ تک پہنچنا گویا شیر کے پنجرے میں گھسنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ پہاڑوں میں موجود گوریلا جنگجو تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں اور آنے والا ہر شخص اور گاڑی ان کی کلاشنکوف کے نشانے پر ہوتی ہے۔
    افغان قوم کی جنگجویانہ طبیعت بھی اس عمل میں ایک اہم کردار رکھتی ہے۔
    امریکہ کی شکست سے جہاں خطے میں امریکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا وہیں ہمارے پڑوسی انڈیا کی بلند و بانگ چیخیں بھی ان کی انویسٹمنٹ کے ضیاع کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ انڈیا کی افغانستان میں بنائی گئی سڑکیں اور ڈیمز اب طالبان حکومت کے پاس ہیں اور اشرف غنی کے ساتھ بڑھائی گئی پینگیں بھی ٹوٹ چکی ہیں۔ اس پوری لڑائی میں بھارت کی چھترول خواہ مخواہ ہو گئی۔
    طالبان نے اب پنج شیر سمیت پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس وقت پورا افغانستان لا الہ الااللہ کے علم کے زیرنگیں ہو چکا ہے۔ امریکہ بھاگتے ہوئے اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی یہیں چھوڑ گیا جو کہ اب طالبان کے قبضے میں ہے۔ ویسے تو پوری دنیا افغانستان کی عوام کی فکر میں انتہائی پریشان ہے لیکن کسی نے بھی ابھی تک کسی قسم کی کوئی امداد نہیں بھیجی۔ دنیا کا دوغلا چہرہ دیکھئے کہ یورپی بینکوں میں موجود افغان حکومت کی ساری رقم امریکہ نے فریز کر دی۔ افغانستان میں موجود سرمایہ اشرف غنی اپنے ساتھ طیارہ بھر کر منی لانڈرنگ کے ذریعے اڑا لے گیا۔ اس وقت افغانستان کو آٹے سے لے کر ادویات تک ہر چیز کی کمیابی کا سامنا ہے لیکن کسی بھی انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار ملک نے امداد نہیں کی۔
    کتنی خود غرض ہے نا یہ دنیا۔
    طالبان پھر بھی افغانستان کو ایک مثالی اور اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لئے پرامید ہیں۔
    طالبان کی فتح کے ساتھ ہی سمجھ میں آئی کہ جس اسلامی بلاک کی باتیں ہو رہی تھیں وہ کیسے بنے گا۔
    پاکستان میں موجودہ حکومت کے آتے ہی ریاستِ مدینہ کی پیروی کی باتیں ہونا شروع ہو چکی تھیں۔ اب افغانستان، پاکستان، ایران اور ترکی مل کر ایک عظیم الشان طاقت بن سکتے ہیں۔ بلاشبہ امریکی دشمنی میں روس اور چین بھی ان کا ساتھ دیں گے جس سے طاقت کا توازن بڑھ جائے گا اور امریکہ کی چودھراہٹ خطرے میں پڑ جائے گی۔ بہت جلد امریکی اجارہ داری کا خاتمہ ہونے والا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں اسرائیل کے اثر و رسوخ پر بھی خاصا اثر پڑے گا۔
    خیر مندرجہ بالا باتیں تو پھر کبھی سہی، یہاں بتانے والی اصل بات یہ ہے کہ
    "ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹلیجنس لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید آنے والی افغان حکومت کے قیام کے لائحہ عمل سے متعلق اہم فیصلوں میں شرکت کے لئے افغانستان پہنچ چکے ہیں”
    یہ ایک لائن ہی امریکی اور روسی شکست کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے
    مارخور اپنا شکار کبھی بچنے نہیں دیتا!!!!
    پاکستان ہمیشہ زندہ باد

  • دفاعِ پاکستان _ تجدیدِ ایمان تحریر بینیش عباس

    دفاعِ پاکستان _ تجدیدِ ایمان تحریر بینیش عباس

    حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْاِیْمَانِ "وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے”

    بچپن سے پڑھتے سنتے جوان ہوئے اس مشہور مقولے کو صحت کے اعتبار سے نبی ﷺ سے منسوب نہ بھی کیا جائے تو آپ ﷺ کی وطن سے محبت بہت سے مقامات پر عیاں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ مکرمہ کو چھوڑ کر ہجرت کی تو شہر مکہ کو مخاطب کرکے یہ الفاظ ارشاد فرمائے، جو ترمذی شریف میں موجود ہیں "اے مکہ! تو کتنا پیارا شہر ہے، تو مجھے کس قدر محبوب ہے، اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی دوسرے مقام پر سکونت اختیار نہ کرتا” معلوم ہوا کہ اپنے شہر، صوبے اور مُلک سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو شرعاً بھی پسندیدہ ہے۔

    آج فیملی میں بیٹھے ایک انتہائی پیارے اور قریبی رشتے سے یہ بحث ہو گئی کہ "شادی کے شروع دنوں میں ہی بیوی کی بات مان کر کسی یورپی ملک میں سیٹل ہو جاتا تو آج پانچ سالہ جڑواں بچے بھی یورپ نیشنل ہوتے بروقت فیصلہ نہ کرنے اور اولاد کو پرسکون زندگی سے دور رکھ کر ان کا مستقبل داو پر لگا دیا” وطن اور جھنڈے کی حرمت پہ قربان مجھ جیسے آشفتہ سر کو بات دل سے رُلا گئی، میں نے کہا کہ حاجی صاحب اللہ کی دنیا کی سیر کرنے کی حد تک تو ٹھیک لیکن اپنے وطن جیسا تو کچھ بھی نہیں ہے، تم اچھی زندگی کا حق رکھتے ہو، لیکن اپنی جوانی کے 30-40 سال دشتِ غیر میں سکون سے گزارنے کے بعد آخر وہ کیا چیز ہے جو بیماری زدہ وجود کو وطن واپس آنے پہ مجبور کرتی ہے؟ وہ کونسی گیدڑ سنگی ہے جو لاشوں اور تہذیب سے عاری جوان اولاد کو وطن واپس کھینچ لاتی ہے؟ تو حاجی صاحب کہنے لگے وہ بے وقوف ہوتے ہیں جو ایسے فیصلے کرتے ہیں، لاش کا کیا ہے کہیں بھی دبا دو میں اولاد کا مستقبل کبھی داوء پر نہیں لگاوں گا۔ اور اس مسقتبل کو محفوظ کرنے کے لئے وہ حاجی صاحب جنہوں نے ساری جوانی باپ دادا کی وراثت شدہ مال پہ گزاری اب 41 سالہ عمر میں تن من سے انگریزی سیکھنے پہ لگے ہیں کہ زبان کا مسئلہ نہ ہو کہ بہرحال سال کے اندر اندر سویڈن یا کسی بھی دوسرے یورپی ملک کا ورک پرمٹ لے کر یہاں سے نکلنا ہے۔ اس ساری بحث میں آوازیں اونچی بھی ہوئیں اور رشتے کا احترام بھی پسِ پشت ڈالا گیا، دل بھی رویا کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کی پرسکون نیندوں کے لئے ہزاروں جوان اپنی راتیں قربان کرتے ہیں، سینکڑوں خاندانوں کے اثاتے اپنی جان دے کر دن کا سکون قائم رکھتے ہیں۔ میرے بس میں ہو تو ان جیسوں کی لاشیں وصول کرنے سے بھی انکار کر دوں کہ یہ بھی غداری ہی ایک شکل ہے۔

    یاد کریں لیبیا، شام، ایران، عراق کو۔۔۔ اور سوچیں دوسروں کی عطا کردہ زندگی کسی بھی سرزمین پر بھلا کیسے سکون دے سکتی ہے؟اسرائیل کی مثال سامنے ہے انسانیت دشمن ممالک کسیے کسی پرسکون زندگی کی ضمانت ہو سکتے ہیں؟ زیادہ پرانی بات نہیں افغانستان سے امریکہ کا حالیہ انخلاء ہم سب کے سامنے ہے کہ کس طرح لوگوں نے اچھی زندگی کے ڈھونگ( بروقت ضرورت امریکی مقاصد کے لئے استعمال) میں آ کر کیسے بزرگوں اور بڑوں اور بچوں نے کوششیں نہیں کی، کس طرح جہازوں سے لاشیں گریں اور ابھی ہفتہ بھی نہیں گزرا کہ افغان کیمپوں میں موجود لوگوں کو خوراک کی کمی اور بنیادی ضرورت کے مسائل کے انبار تلے دبا دیا، شکایت کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ زندگی ان کا ذاتی انتخاب تھا۔

    ہر بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کا کردار بھی ایک جیسا نہیں، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو خاندان اور وطن کی خاطر دیارِ غیر میں اپنی زندگی کاٹ دیتے ہیں کہ اولاد کو اسی ملک میں روشن مستقبل دے سکیں، قرضے میں ڈوبا ملک غیر ملکی معاشی تسلط سے باہر آ سکے یقین جانیں ان کی یہ زندگی جہاد سے کم نہیں ان کو ممتاز کرنے والی چیز بھی ان کی وطن سے محبت و وفاداری ہی ہے۔ جن کو یہ ملک پاکستان پسند نہیں وہ بصد شوق اپنے اثاثے اور خاندان سمیٹ کر کسی بھی دوسری جگہ جا کر اپنی زندگی گزارنے میں آزاد ہیں لیکن پھر ایسوں کی لاشیں بھی ہم لینے سے انکار کرتے ہیں یہ وطنِ عزیز قبرستان نہیں ہے کہ ایسی لاشوں کے لئے خون دے کر اس کی سالمیت کو تو قائم نہیں رکھا ہوا۔

    صد شکر کہ اللہ نے وطن سے محبت و وفاداری کو دل میں ایمان کی طرح غیر مشروط ہی رکھا، پرودگارا دعا کرتی ہوں ان لوگوں میں سے اٹھانا جو وطن کی حرمت کے لئے دل، دماغ، قلم، جان و مال اپنے ذاتی مفاد و آرام کو پس پشت ڈال کر قربان کرتے ہیں کہ یہ عزت یہ مقام سب کے حصے میں نہیں آتا۔ آمین۔ اس دفاع کے دن آئیے عہد کریں خود سے کہ اپنی اولادوں کو مال اور دین کی طرح وفا و حب الوطنی بھی وراثت میں دیں گے۔

    ‎@BetaGirl__

  • فتنہ قادیانیت اور آئین پاکستان. تحریر تیمور خان

    جو چیز بھی اللہ تبارک و تعالٰی نے اس کائنات میں مکرم اور مشرف پیدا فرمائی ہے اور جن جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں عزت اور تکریم سے نوازا ہے ان چیزوں کے وقات کو ختم کرنے کیلئے اس دنیا میں بہت ساری شیطانی اور  قواتیں  پیدا ہے

     جو چیز جتنی معزز اور مشہور ہوتی ہیں اس چیز کی بہت سارے دشمن  بھی پیدا ہوتے ہیں.

     اللہ تعالیٰ نے ایک معزز اور مکرم دین بنا کے ہمارے لئے بیجھا ہے پوری دنیا میں اسلامی تعلیمات کو حاصل کرنے کے لئے غیر بھی فائدہ حاصل کرتے ہیں اسی طرح اسلامی تعلیمات کو ختم کرنے کے لئے بہت ساری قوتیں اس دنیا میں آج بھی موجود ہے اسلام کو بدنام اور ختم کر نے کے لئے 14 سو سال سے تحریکیں چل رہی ہے کچھ ظاہر ہے کچھہ پوشیدہ ہیں

     لکین چونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسولﷺ کو وہ دین دے کے بیجھا ہے وہ حق دے کے بیجھا ہے کہ جس نے تمام ادیان پہ پوری دنیا پہ غالب آجانا ہے اور اس پہ کوئی چیز بھی غالب نہیں آنی.

     اسی غلبے کے لئے ہر دور میں جتنے بھی دشمنانے اسلام آئے اور جو انہوں نے ظاہر اور پوشیدہ اسلام کے خلاف منصوبے بنائے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر زمانے میں ان کے منصبوں کو خاک میں ملایا انہی منصبوں میں سے انہی مظلوم مقاصد میں سے اسلام کو ختم کرنے کے لئے اور خصوصاً مسلمانوں کے دلوں میں سے اسلام کے وقات کو مٹانے کے لئے حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عشق و محبت کو ختم کرنے کے لئے دنیا میں جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں ان تمام تحریکوں میں ایک بنیادی تحریک جو چل رہی ہے وہ ہے ختمِ نبوت کے قانون کو ختم کرنے کی کوشش کرنا.

     سرکارِ دوعالم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہی یہ پیشنگوئی فرما دی تھی، کہ میرے بعد تیس 30 اسے قذاب اور جھوٹے آئنگے قیامت تک  ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نعوذ باللہ نبی ہیں لیکن وہ جھوٹے ہونگے آپﷺ نے اپنی امت کو جتنے بھی فتنوں سے آگاہ کیا ان میں سے ایک فتنہ یہ بھی تھا کہ ہر دور میں ہر علاقے میں ایک مدعی نبوّت پیدا ہوگا جو کہ نبوّت میں اپنی شراکت ظاہر کریگا۔

     اسی لیے سرکارِ دوعالم ﷺ کے حیات طیبہ کے آخری ایام میں یمن میں ایک شخص اٹھا جس کا نام مسلمہ تھا اس نے نبوّت کا دعویٰ کیا اسی زمانے میں ایک دوسرا شخص تھا جس کا نام اسود انسی اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اسی زمانے میں ایک عورت اس نے بھی العیاذ بااللہ نبوّت کا دعویٰ کیا لیکن جونہی اسی زمانے حضرت صدیق اکبر 

      کا دور خلافت آیا، آپ نے اسی زمانے میں جتنے بھی سازشیں کرنے والے قوتیں، اسلام سے انکار کرنے والے اور ختمِ نبوت کے قانون میں ترمیم کرنے والے تمام قوتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔

     لیکن سرکارِ دوعالم ﷺ کی حدیث مبارک ہے آپ نے فرمایا کہ قیامت تک تیس دجالی پیدا ہونگے انہی دجالین میں سے ہمارے برصغیر پاک وہند میں ایک فتنہ پیدا ہوا جنہیں قادیانی فتنہ کہا جاتا ہے قادیانی فتنے کو بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ اٹھایا گیا لیکن جن جن قادیانیوں اور کذابوں نے نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے ان میں ضرور یہود اور نصاریٰ کا ہاتھ ہے جب 1856 میں انگریزوں کو شکست ہوئی تو انہوں نے  مرزا غلام احمد قادیانی جو کہ ہندوستان کے علاقے قادیان کا رہنے والا تھا اس شخص کو اٹھایا ان کا یہ مشن تھا کہ کے مسلمانوں میں اسے فتنے پیدا کیے جائیں تاکہ کے یہ تقسیم ہو سکے۔ لیکن آج تک فتنہ قادیانیت ایک چیز کے لئے ہم مسلمانوں کے دلوں میں شکوک وشبہات ڈالنے کے لئے استعمال کرتاہے  کہ ہم مسلمان جب بھی قادیانی کے خلاف جب بھی ختمِ نبوت کی بات کرتے ہیں کہ ہمارے نبی خاتم النبیین ہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی اور آج بھی ان کے پیروکار وں کا یہی طریقہ ہے کہ ہم ختمِ نبوت کے منکر نہیں ہے لیکن اگر آپ ان کو کہیں کے ختمِ نبوّت کا آپ معنیٰ کیا کرتے ہیں تو پھر معنیٰ  وہ غلط کرتے ہیں جو اسلام کے خلاف ہے البتہ یہودیوں اور عیسائیوں میں بھی یہ بات  ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، حضور نبی کریم ﷺ کے ختمِ نبوّت کا جو عقیدہ ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں یہ صرف اسلام کا عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے کتابوں میں بھی موجود ہے یہ ہمارا چودہ سو سالہ اجماعی عقیدہ ہے ہے کہ جو شخص بھی نبوّت کا دعویٰ کرے گا وہ کافر ہوگا اور اس کا یہ دعویٰ یہ نبوت بلکل باطل ہوگا۔ اور جو شخص اس کو نبی مانے گا یا اس کے متعلق دل میں اس کے نبوت کا ارادہ کرے گا کہ ہو سکتا ہے یہ ایسا ہو تو اس شخص کے ایمان کو بھی خطرہ ہے  یہ شخص بھی دائرہ  اسلام سے خارج ہے ۔ 

    یاد رکھیں فتنہ قادیانیت ہمارے برصغیر پاک وہند میں بہت بڑا فتنہ ہے اور سب سے بڑی دلیل اس کی بطلان کی یہی ہے کہ یہودی اور عیسائی اس کے پشت پہ ہے یہ غیروں کی پیداوار ہے صرف اور صرف انتشار پھیلانے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے۔ بہت سارے اسلامی ممالک نے فتنہ قادیانیت کو اپنے آئین میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا اور الحمدللہ ہمارے ملک پاکستان میں بھی یہی ستمبر کا مہینہ تھا 7 ستمبر  1974 کو ہمارے ملک پاکستان کے آئین میں بھی پوری قومی اسمبلی نے یہ قرارداد پیش کی اور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے دستخط کر کے یہ مہر سبت کر دی کہ جب تک پاکستان قائم رہے گا اس میں قادیانی کافر ہی رہے گا اسی لئے ستمبر کا مہینہ اور 7 ستمبر کا دن اسی لئے بھی اہم  ہے کہ فتنہ قادیانیت کو یہاں سے جھڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا اور ذولفقار علی بھٹو کے تاریخی الفاظ کے زندگی میں شاید کوئی اچھا کام کیا ہو لیکن اس ایک دستخط کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ میری مغفرت نصیب فرمائے گا الحمدللہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قادیانی کافر ہی اور رہے گا اسی لئے ہمیں خود بھی فتنہ قادیانیت سے بچنا ہے اور اپنے دوست احباب کو بھی بچانا ہے۔,,

    @ImTaimurKhan

  • دفاع” پارٹ اوّل تحریر : اے ار کے

    دفاع” پارٹ اوّل تحریر : اے ار کے

     
    یومِ دفاع ہر سال 6 ستمبر کو  پاک بھارت جنگ 1965ء میں افواج پاکستان کی فتح   ، دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
    اس کا مقصد پاکستان کے دفاع اور عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کی یاددہانی ہے تا کہ ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے سے بطریق ءاحسن نمٹا جا سکے
    اس دن سکول کالجز اور جامعات کے علاوہ سرکاری دفاتر میں6ستمبر 1965کی پاک بھارت جنگ کے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور بھارت کے اس حملے کی پسپائی کا تذکرہ کیا جاتا ہے جس میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا،
    ہر پاکستانی اپنی فوج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے،
    6ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخردن ہے جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک پاکستان ہے
    1965ء کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔ پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اورجانثاری کے جرأت مندانہ جذبے نے ملکر نا ممکن کو ممکن بنا کر دکھایا،
    پاکستان پر1965ء میں ہندوستان کی طرف سے جنگ کا تھوپا جانا پاکستانی قوم کے ریاستی نصب العین دوقومی نظریہ،قومی اتحاد اور حب الوطنی کو بہت بڑا چیلنج تھا۔ جسے جری قوم نے کمال و قار اور بے مثال جذبہ حریت سے قبول کیا اور لازوال قربانیوں کی مثال پیش کر کے زندہ قوم ہونے کاثبوت دیا۔ دوران جنگ ہر پاکستانی کو ایک ہی فکر تھی کہ اُسے دشمن کا سامنا کرنا اور کامیابی پانا ہے۔جنگ کے دوران نہ تو جوانوں کی نظریں دشمن کی نفری اور عسکریت طاقت پر تھی اور نہ پاکستانی عوام کا دشمن کو شکت دینے کے سوا کوئی اورمقصد تھا۔ تمام پاکستانی میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔اساتذہ، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار ، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضا کار ،مزدور،کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ” اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا”ستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائز لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹے سے پاکستان نے وہ کون سا عنصر اورجذبہ تھا، جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی نا قابل عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔ مثلاً ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ سرحد”رن آف کچھ” پر طے شدہ قضیہ کو ہندوستان نے بلا جواز زندہ کیا فوجی تصادم کے نتیجہ میں ہزیمت اٹھائی تو یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ جنگ کے لیے اپنی پسند کا محاذ منتخب کرے گا اس کے باوجود پاکستان نے ہندوستان سے ملحقہ سرحدوں پر کوئی جارحانہ اقدام نہ کیے تھے۔ صرف اپنی مسلح افواج کومعمول سے زیادہ الرٹ کررکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چھ ستمبر کی صبح جب ہندوستان نے حملہ کیا تو آناً فاناً ساری قوم، فوجی جوان اور افسر سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف گئے۔ صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ایمان فروز اور جذبۂ مرد حجاہد سے لبریزقوم سے خطاب کی وجہ سے ملک اللہ اکبر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے اس جملے”پاکستانیو! اٹھو لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اوردشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا”ان کے اس خطاب نے قوم کے اندر گویا بجلیاں بھردی تھیں۔ پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اورپیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انہیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔ ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ میں شام کو شراب کی محفل سجائیں گے۔ ہماری مسلح افواج نے جواب میں کمانڈر انچیف کے منہ پر وہ طمانچے جڑے کہ وہ مرتے دم تک منہ چھپاتا پھرا۔ لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے سنبھالا، جان دے دی مگر وطن کی زمین پر دشمن کا ناپاک قدم قبول نہ کیا۔

    جاری۔۔۔۔

    ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan 

  • صرف عنواں تھے اصل داستاں تم ہو تحریر: تماضر خنساء

    صرف عنواں تھے اصل داستاں تم ہو تحریر: تماضر خنساء

    آزادی کی جلتی چنگاری اب بھی مدھم نہیں ہوگی.. ولولہ اور جوش وہی رہے گا جو سید صاحب نے اس نسل کو دیا ہے… سید صاحب خود تو چلے گئےمگر اپنے پیچھے آزادی کی بے شمار شمعیں روشن کر گئے ہیں… جن سے مقبوضہ کشمیر ہمیشہ روشن رہے گا….
    ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے تعلق رکھنے والے سید علی گیلانی بھارتی جارحیت کے خلاف ایک توانا آواز تھے…اعلی تعلیم انہوں نے لاہور سے حاصل کی… کئ کتابیں بھی لکھیں جن میں مشہور کتاب "روداد قفس ” جو انہوں نے قیدو بند کے دوران لکھی… فارسی اور اردو میں ماسٹرز کرنے کے بعد انہوں نے صحافت اختیار کرلی… 1950 میں  انہوں نے سیاست کے میدان میں  قدم رکھا تو مودودی افکار سے بے حد متاثر ہونے کے باعث جماعت اسلامی کو ہی چنا…
    پاکستان کے 73 ویں یوم آزادی کے موقع پر انکو انکی استقامت اور ہمت کی بدولت ” نشان پاکستان ” کا اعزازبھی ملا…
    سید صاحب نے اپنی زندگی کے بیشتر سال قید و بند میں گزارے جس کی وجہ سے دل اور گردے کے عارضے لاحق ہوئے مگر اس سب کے باوجود ایک لمحے کیلیے بھی ہمت و جرات کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ڈٹے رہے اور قابض  بھارت سرکار کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر اپنی آزادی کیلیے آواز بلند کرتے رہے …پاکستان سے محبت کو ایمان کا بنیادی حصہ شمار کرتے تھے اور یہی تو انکا جرم تھا کہ وہ دل سے پاکستانی تھے…
    جب انکو اندازہ ہوگیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پہ قابض رہنے کی ٹھان چکا ہے مذاکرات تو محض دکھاوے کا ڈھونگ ہے تو انہوں نے کشمیر کی روایتی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی …1989 میں سیاست سے دوری اختیار کرلینے کے بعد بھی اپنے خیالات کا اظہار ببانگ دہل کیا کرتے تھے اور آزادی کے پروانوں کیلیے مشعل راہ بنے رہے… جہاں جہاں ممکن ہوسکا انہوں نے حق کا ساتھ دیا حق کیلیے بولا…
    بانوے سال کی عمر میں بھی قیدوبند اور جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں مگر پھر بھی ڈٹے رہے آواز، نحیف مگر لہجہ وہی اٹل رہا …وہ وفا نبھاتے رہے اور آزادی کی جنگ میں کبھی پیچھے نہ ہٹے
    قابض حکومت کے سامنے ڈٹے رہے مگر کوئ انکو گرا نہ سکا….. اپنے اس بات پہ کہ ” ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے پورا اترے اور پاکستان سے وفا نبھا چلے…
    انکے آنکھوں نے نہ جانے کتنے آزادی کے متوالوں کے جنازے دیکھے… دنیا نے بھارت کی انسانیت سوزی بھی دیکھی کہ جس کو وہ چپ نہ کراسکے اسکو ہمیشہ کیلیے نظر بند کردیا گیا… صرف یہی نہیں اس مرد مجاہد کے لاشے سے بھی وہ بزدل اتنے خوفزدہ تھے کہ رات کے اندھیرے میں انکودفنادیا گیا انکے گھر والوں کو بھی ان تک پہنچنے نہیں دیا….
    جس انسان کے جنازے سے دشمن اتنے خوفزدہ ہوں تو اسکی زندگی نے ان بزدلوں کو کتنا ڈرایا ہوگا…
    رات کے اندھیرے میں دفنادینے سے بھی انکا جلایا گیا آزادی کا شعلہ بجھے گا نہیں ” اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبائیں گے
    پاکستان سے محبت کا عالم تو دیکھیے کہ وفات سے قبل وصیت کرگئے کہ میرا جسد خاکی پاکستان کے پرچم میں لپیٹا جائےاور کہتے تھے کہ
    جب قدرت کی رحمت سے ہم دریائے جہلم کی اُچھلتی اور اٹھلاتی لہروں کی طرح پاکستان کے وجود کے ساتھ ہم آغوش ہوجائیں تو ہماری قبروں پر آکر ہمیں یہ روح پرور خوش خبری سنا دینا تاکہ عالم بزرخ میں ہماری ارواح سکون و طمانیت سے ہمکنار ہوجائیں۔
    … اس میں کوئ شک نہیں کہ وہ پکے سچے پاکستانی تھے جو ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے…
    جب تک زندہ رہے تب بھی بھارتی قابض بزدلوں پہ دہشت طاری رہی اور مرنے کے بعد بھی خوف میں مبتلا کیے رکھا
    وہ کردار کے غازی تھے … آج ہم اس مرد مجاہد سے شرمندہ ہیں کہ ہم انکے لیے کچھ نہ کرسکے اور وہ آزادی کا خواب آنکھوں میں لیے ہی رخصت ہوگئے مگر یقین رکھیں ان کا یہ خواب بہت جلد پورا ہوگا اور وہ آسمانوں پر خوشیاں منائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم بھی اپنا سر اوپر اٹھاسکیں گے….
    انکی وفات پہ پاکستان بھر میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئ ،پاکستان کا پرچم سرنگوں رہا …پورا پاکستان سوگوار رہا کہ ہم نے اپنا قیمتی اثاثہ آزادی کی اس راہ میں کھودیا ..
    دعا ہے کہ رب ذوالجلال انکا آزادی کا یہ خواب جلد پورا کردیں اور انکی لحد پہ جا کر یہ خوشخبری سناسکیں کہ آپ کا کشمیر آج آزاد ہے اور پاکستان کا ہے 🇵🇰
    آخر میں سید صاحب کے نام ایک شعر :
    میر کارواں ہم تھے روحِ کارواں تم ہو
    ہم تو صرف عنواں تھے اصل داستاں تم ہو 🇵🇰
    @timazer_K