Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اسلام اور ہمارا کردار تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    اسلام اور ہمارا کردار تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    آجکل ہمارے معاشرے میں مغرب سے ایک نیا شوشہ چھوڑا گیا ہے جس سے اسلام میں تقسیم کی جا رہی ہے۔ لبرل اسلام، متشدد اسلام، متوازن اسلام وغیرہ جو لایعنی اور لغو باتیں ہیں۔ دین اسلام یا تو قبول کیا جاتا ہے یا نہیں قبول کیا جاتا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ایسی فضول تقسیم سے مسلم امہ اپنے آپکو متوازن مسلمان بنانے کے چکر میں لغویات میں کھونا شروع کر دیتے ہیں۔
    اسلام کا لفظ "س- ل- م” سے مشتق ہے جس کے معنی صحت، عافیت اور ہر قسم کی عیب، نقص اور فساد سے دوری کے ہیں۔
    نیز اسلام کا ایک معنی بغیر کسی قید و شرط کے مکمل اطاعت اور فرمانبرداری بھی ہے اسی طرح خدا کے حکم پر کامل یقین اور اس کی عبادت میں اخلاص رکھنے کو بھی اسلام کہا جاتا ہے۔
    یعنی اگر ایک شخص اسلام قبول کر لے لیکن احکاماتِ اسلام سے منحرف ہو تو یا تو گناہگار تصور کیا جائے گا یا پھر دائرہ اسلام سے خارج۔ مثلا” ایک شخص نماز کو فرض تو سمجھتا ہے لیکن سستی، کاہلی، مصروفیت، طہارت وغیرہ کو بہانہ بنا کر نماز سے دور رہے تو اسے گناہگار تصور کیا جائیگا لیکن اگر نماز سے انکار کرے یا فرض نہ مانے تو ایسا شخص دائرہ اسلام میں نہیں رہتا۔
    کسی شئے کو حلال یا حرام ماننا اور اس کو اپنانا یا دور رہنا بھی اسی مثال کی طرح احکامات پر عمل کرنا ہے۔ اسلام میں انسان کے کردار کی اہمیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ جیسے ایک شخص روزہ دار ہو تو اس کے روزے کا علم فقط اللہ کو ہوتا ہے یا روزہ دار کو خود علم ہوتا ہے۔ قریب ترین شخص بھی اس کے روزے پر گواہ نہیں ہو سکتا۔ بالکل اسی طرح نماز کیلئے طہارت و وضو کرنا اور پھر خلوت میں نماز ادا کرتے ہوئے فقط اللہ سبحانه وتعالى کے حضور ہوتا ہے۔ کیسے ادا کی، کتنا خشوع و خلوص تھا، یہ بھی اللہ ہی گواہ ہے ناکہ کوئی دوسرا۔ یہ فقط نمازی کے کردار پر منحصر ہے کہ وہ کیسے ادا کرے۔ خیانت کرنے والے کو اللہ ڈھیل دیتا ہے مگر ایک دن اس سے جواب لازمی طلب ہو گا۔

    اسلام میں جو کچھ ہم کرتے ہیں، سونا، اٹھنا، بیٹھنا، چلنا پھرنا، آنکھ کا استعمال، ہاتھ کا استعمال، زبان کا استعمال، کان کا استعمال وغیرہ۔۔۔ سبھی پر سوال ہوگا۔

    کردارسازی ماں کی گود سے ہوتی ہے۔ اگر کسی انداز سے ماں باپ بچے کو دھوکہ دہی، جھوٹ بولنا سکھاتے ہیں تو یوں اس بچے کا کردار بنیاد سے تباہ ہو جاتا ہے۔ جیسے کئی بار مشاہدہ میں آتا ہے کہ کوئی مہمان ضرورتمند آجائے تو صاحبِ خانہ ملاقات کسی وجہ سے نہ کرنا چاہیں تو اپنے بچوں کے ذریعہ کہلوا بھیجتے ہیں، "انکل! ابو گھر پر نہیں ہیں۔ آپ بعد میں آ جائیں۔” وغیرہ۔

    ایک باپ یا ماں اپنے بچے کی تربیت کیلئے ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر بچپن سے ہی ایسے کبیرہ گناہوں کو عملی سبق بنا کر بچوں کو سکھایا جائیگا تو بچے جھوٹ بولنے کو کبھی غلط نہیں مانیں گے۔ یہ وہ بنیادی معاملہ ہے جس کی وجہ سے تمام بچے بڑے ہوکر جھوٹ بولنا عام سے بات سمجھتے ہیں۔ یہی بچے جو کل بڑے ہوکر ملک کی قیادت سنبھالتے ہیں، سیاستدان، ڈاکٹر، انجینئر، سرکاری افسران، حکام، عمال، حتاکہ عام مزدور بھی بنتے ہیں تو سب کا اگر کردار جھوٹ کی بنیاد پر تعمیر کیا گیا ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان عہدوں پر بیٹھ کر جھوٹ سچ ملا کر کیسے عوام کو بےوقوف بنایا جاتا ہے۔

    اسی طرح رشوت بھی خاص دخل رکھتی ہے ہماری زندگی میں۔ بچوں کو سکول بھیجنے کیلئے، کسی کام کے کرنے کیلئے اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین لالچ دیتے ہیں کسی انعام کا۔ اب جب بچونکو بچپن سے ہی لالچی بنا دیا جائے اور انعام کے نام پر رشوت کی برائی سے آشنا کر دیا جائیگا تو سوچئے کہ وہی بچے معاشرے میں بڑے ہوکر اہم منصب پر بیٹھ کر کیسے تباہی لاتے ہیں۔
    اسلام ہر ایسے عمل سے روکتا ہے۔ اسلام میں اگرچہ بظاہر لالچ نظر آتا ہے کہ صالح لوگوں کیلئے جنت کی لالچ اور بدعنوان لوگوں کیلئے جہنم کا خوف رکھا گیا ہے۔ لیکن وہ وعدے اس دنیا کیلئے نہیں بلکہ ابدی زندگی کیلئے ہیں۔
    بنیادی عبادات کو لالچ اور خوف سے پاک رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ جیسے حضرت علی علیہ السلام کا مشہور فرمان ہے، "میں اپنے رب کی عبادت نہ تو جنت کی لالچ میں کرتا ہوں اور نہ ہی جہنم کے خوف سے بلکہ وہ وحده لاشريك اس لائق ہے کہ فقط اس کی عبادت کی جائے۔” اس پیغام میں بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے۔ یہ لالچ اور خوف کو عبادت سے رد کرنے کا نظریہ ہے۔ عبادت اگر خالص نہ ہو تو کردارِ عبادت اور کردارٍ عبد دونوں ہی مشکوک ہو جاتے ہیں۔
    اسلام فقط دینِ عبادت بھی نہیں۔بلکہ دینِ اسلام مکمل ضابطہُ حیات ہے۔ اس میں معاشرت سے لیکر اخلاقیات، سیاست سے لیکر معاشیات تک ہر شئے کا نظام موجود ہے۔ اسلام قبول کرنے والے کسی ایک کو قبول اور باقی کو رد کرنے کی نہ تو طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی اہلیت۔ لازم ہے اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔ یہی قرآن میں اللہ ارشاد فرماتا ہے:

    يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِى السِّلْمِ کَاۤ فَّةً ۖ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۗ اِنَّهٗ لَـکُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ
    البقرۃ (٢:٢٠٨)

    ترجمہ: اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

    یہاں پورے پورے داخل ہونے سے مراد یہی ہے کہ احکاماتِ الہی کو جوں کا توں بغیر حیلہ و حجت تسلیم کیا جائے۔ احکامات میں تدبر اختیار کرنے کا حکم نہیں، کہ انسان اپنی مرضی سے کسی عمل کو بدلنے کی کوشش کرے۔ مثلا” اگر فجر کی دو رکعت رکھی ہیں تو کوئی مواحد یہ چاہے کہ وہ چار رکعت پڑھے تو نماز باطل ہے۔
    اسلام میں سب کے فرائض موجود ہیں، اور دوسروں کو دینے کیلئے حق بھی بتا دیے گئے ہیں۔ فرائض کیلئے کسی کو انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ وقت افضل میں ادا کر لے تو مناسب ترین ہے۔ جبکہ حق ادا کرنا بھی اسی طرح فرض اولین ہے، کہ کوئی حق مانگے، اس سے پیشتر ہی حق ادا کر دیا جائے۔
    آج ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں وہاں تربیت کا فقدان ہی اس لئے ہے کوئی کام بھی ہم فرض جان کر نہیں کرتے، اور دوسروں کو حق ناصرف روک لیتے ہیں بلکہ انکی حق تلفی کرتے ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے۔
    اگر ہم اپنے فرائض سرعت سے انجام دیں تو حق ہمیں خود بخود ملیں گے۔ لیکن ہمارے یہاں تو گنگا ہی الٹی بہتی ہے۔ ہمارا حق دو جبکہ فرائض کی ادائیگی کیلئے کوئی تیار نہیں۔
    قارئین کرام! اگر ہم اپنے بچوں کی تربیت گھروں میں درست راہ پر کرنا شروع کر دیں تو یقین جانیں ہمارا معاشرہ جنت بن سکتا ہے۔ یہ موضوع بہت طویل اور وقت قلیل ہے۔ مجھے ڈر ہوتا ہے کہ میرے قارئین مضمون کی طوالت سے اپنی دلچسپی چھوڑ بیٹھیں۔ لیکن اہم پیغام یہی ہے کہ تمام احباب کو اپنی سعی کرنا ہے تاکہ ہم معاشرے میں اپنا کردار احسن اور مثبت انداز میں ادا کر سکیں۔
    والسلامُ عليكم ورحمة الله وبركاته
    لاہور
    ٤ ستمبر ٢٠٢١ء

  • ‏تمباکو نوشی کی عادت کے مضر اثرات  تحریر: یاسر اقبال خان

    ‏تمباکو نوشی کی عادت کے مضر اثرات تحریر: یاسر اقبال خان

    تمباکو نوشی کیا ہے:

    ہر زندہ انسان کے ساتھ اس کی اچھی صحت ایک عظیم نعمت ہے اگر کسی شخص کے پاس صحت نہیں تو خواہ اس کے ساتھ دولت کے انبار بھی موجود ہو اس کے پاس دنیا کی تمام آسائشیں ہو تو اس کی کوئی اہمت نہیں۔ پھر یہ سب اس شخص کیلئے بےکار ہوتا ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود لوگ تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں جس سے متعلق لوگوں کو پتا بھی ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی انسان کیلئے ذہنی و جسمانی طور پر مفید نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا استعمال عام ہو رہا ہے۔ مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد تمباکو نوشی کا استعمال کر رہے ہیں۔ دور جدید میں نوجوان نسل لڑکے اور لڑکیاں شروع میں تمباکو نوشی کا استعمال فیشن کے طور پر کرتے ہیں جب یہ نوجوان نسل خاص کر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تمباکو نوشی کا استعمال بطور فیشن شروع کردیتے ہیں تو پھر وقت گزرنے کے ساتھ یہ نوجوان لڑکے لڑکیاں اس تمباکو نوشی کے نشے کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔ پھر ان کیلئے تمباکو نوشی کے نشے سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے اور جوانی سے لے کر بڑھاپے تک تمباکو نوشی کے نشے کے ساتھ ان کی زندگیاں گزر جاتی ہے۔ تمباکو نوشی کے نشے کے انسانی صحت پر بہت مضر اثرات ہیں تمباکو نوشی کے نشے کے عادی لوگ بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی کا مطلب تمباکو سونگھنا مثلا سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ وغیرہ کے ناموں سے مختلف طریقے ہیں جس سے تمباکو سونگھنا جاتا ہے اور تمباکو کو کھاناجیسا کہ پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ جیسے طریقوں کا استعمال کرکے۔ تمباکو نوشی کرنے کے جتنے بھی طریقے ہیں یہ تمام عادات انتہائی خطرناک ہیں اور صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ ایک بہت افسوس اور فکر مند ہونے کی بات یہ ہے کہ پاکستان سمیت تمام ممالک میں سگریٹ و تمباکو نوشی کرنے والے لوگوں کی شرح تیزی سے زیادہ ہو رہی ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کے اس اضافے کا بڑا سبب ان تمام ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔

    سگریٹ نوشی کی وباء عالمی صحت کو لاحق خطرات میں سب سے زیادہ تباہ کن ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزشن کے ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر اپنی جان کی بازی ہار کر مر جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے مرنے والے افراد میں 6 لاکھ سے زیادہ اموات ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو خود تو تمباکو نوشی نہیں کرتے لیکن ان کے اردگرد ماحول میں موجود تمباکو نوشی کے دھوئیں کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کی عادت کیوں پڑ جاتی ہے:

    تمباکو کے اندر موجود نکوٹین ایک کیمکل ہوتا جو سگریٹ پیتے وقت انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ یہ نکوٹین انسانی دماغ میں موجود کیمیکل مثلاً ڈوپامائن اور اینڈروفائن کی سطح میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کیمکل کی وجہ سے انسان کو تمباکو کے نشے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ انسانی جسم میں یہ کیمیکل مصنوعی خوشی یا مستی کی حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس کی وجہ سے سگریٹ نوشی کرنے والوں کے اعصاب پر تمباکو کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ تمباکو نوشی کے صحت پر مضر اثرات ہونے کے باوجود پھر اس نشے کو ترک کرنا اس فرد کیلئے بہت مشکل ہوجاتا ہے اور فیشن کے نام پر تمباکو نوشی شروع کرنے والا نوجوان لڑکا یا لڑکی اس مضر صحت نشے میں پھنس جاتا ہے۔ یہ نشہ بہت آہستگی سے جسم کے مختلف اعضاء کو ایسے نقصانات پہنچانا شروع کر دیتی ہے کہ تمباکو نوشی کا عادی ایک مرد یا عورت کو کئی برس گزرنے کے بعد اس کے جسم کے اندر ہوتے ہوئے نقصانات واضح نہیں ہو پاتے لیکن جب اسکو نقصانات واضح ہوجاتے ہیں تو تب اس انسان کا جسم تمباکو کے نشے کا مجموعی طورپر عادی ہوا ہوتا ہے اور پھر اس کو اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

    تمباکو نوشی کے انسانی جسم پر مضر اثرات:

    تمباکو کے دھوئیں میں تقریباً 4000 کیمیکلز ہوتے ہیں، جو انسانی صحت کیلئے نہایت نقصان ده ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انسان بہت ساری بیماریوں کا شکار ہوتا ہے ان بیماریوں میں کچھ یہ ہیں:

    1) تمباکو میں 50 سے زائد ایسے کیمیکلز ہیں، جو انسانی جسم کو کینسر میں مبتلا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    2) سگریٹ کے ذریعے تمباکو کے دھوئیں سے انسانی جسم میں خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں، جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔

    3) تمباکو کے دھوئیں میں کاربن مونواکسائیڈ گیس ہوتی ہے، جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بن جاتی ہے جس کی وجہ سے  سگریٹ نوش سانس کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ 

    4) تمباکو نوشی انسانی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے اس سے انسان پھیپھڑوں کے كینسر جیسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے جس سے سانس لینے میں دشواری اور پھیھپڑوں کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی، جس سے دوسرے اعضاء خاص طور پر دماغ بہت متاثر ہوتا ہے اور تمباکو نوشی سے متاثرہ مریض کا سانس بند ہونے سے موت واقع ہو جاتی ہے۔

    5) سگریٹ نوشی کرنے والے لوگوں کیلئے عام افراد کی نسبت دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔

     6) تمباکو کی وجہ سے خون کی شریانیں سخت ہوجاتے ہیں اور پھر دل کے پھٹوں کو خون کی فراہمی بند ہوتی ہے اور انسان کو دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ 

    7) سگریٹ نوشی کرنے کی وجہ سے انسانی دماغ کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اور وہ شخص ہیمبرج کا شکار ہو جاتا ہے۔

     8) تمباکو نوشی سے جسم کی ہڈیاں کمزور ہوتے ہیں اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    9) اکثر کیسز میں سامنے آتا ہے کہ تمباکو نوشی منہ، خوارک کی نالی، گلا، جگر، معدے، لبلبہ، مثانہ اور گردے کے کینسر کا باعث بھی بنتی ہے۔ 

    10) تمباکو چبانے اور سونگھنے والے افراد کو منہ، مسوڑھوں اور گلے کا کینسر جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

    تمباکو نوشی کے انسانی جسم پر ان تمام برے اثرات کو دیکھتے ہوئے نوجوان نسل کو یہ مضر صحت نشہ بلکل بھی اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ والدین کیلئے ان کے نوجوان اولاد ایک سہارا ہوتے ہیں تو تمباکو نوشی جیسے نقصان ده عادات کو کبھی نہیں اپنانا چاہئے مضر صحت بیماریوں سے بچ کر اپنے خاندان کو اپنی قربت سے محروم نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ہم تمباکو نوشی جیسے  مضر صحت نشے سے اجتناب کریں گے تو اپنے خاندان پر کبھی مالی و ذہنی بوجھ نہیں بنیں گے۔

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • تعلیمی سلسلہ اور کورونا کا وار   تحریر:- محمد عبداللہ گِل 

    تعلیمی سلسلہ اور کورونا کا وار  تحریر:- محمد عبداللہ گِل 

    کورونا وائرس کے آنے کے بعد دنیا بھر میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگوں کو نقصان ہوا۔تجارتی مراکز بھی بند رہے،فیکٹریاں،ملز،سرکاری دفاتر الغرض ہر شے کو منجمند کر دیا گیا۔لیکن اگر کسی تاجر کا نقصان ہوا تو وہ وقتی تھا بعد میں وہ منافع کما لے گا،اگر کسی نجی کمپنی یا ادارے میں کام کرنے والے پر کورونا کی وجہ سے مشکل وقت آیا تو وہ بھی گزر گیا اب تو اس پر خوشحالی آ جائے گی اس کا وقت گزر گیا لیکن ان سب سے ماورا ایک ایسا شعبہ ھے جس کو تعلیمی میدان کہا جاتا ھے اس سے وابستہ طلباء کا جو نقصان ہوا اس کی بھرپائی ممکن ہی نہیں ھے۔ملک پاکستان میں جب ہی کورونا کے تناسب میں اضافہ ہوا تو تعلیمی اداروں کو سب سے پہلے بند کیا گیا یقینا میں حسن ظن کو گردانتے ہوئے یہ ہی مان لیتا ہوں طلباء کہ صحت کی وجہ سے اقدام کو اٹھایا گیا۔

    قارئین کرام! آپ دنیا بھر کے کسی بھی ملک کی پالیسی بنانے کا انداز دیکھے گے وہ پاکستان سے مخلتف ہو گا۔جس ملک میں بھی پالیسی کو بنایا جاتا ھے تو اس سے متعلقہ افراد کو اعتماد میں لیا جاتا ھے۔مغربی ممالک میں وہ سروے کرواتے ہیں اور عوامی رائے کو۔مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی کو بناتے ہیں کیونکہ جو پارلیمنٹ کا ممبر ہے وہ عوامی ووٹ بنک کی وجہ سے اسمبلی میں پہنچا ھے  اس کے لیے لازم ھے کہ وہ عوامی رائے کا خیال رکھے۔

    لیکن ملک پاکستان میں طلباء کے حوالے سے جب بھی پالیسی کو بنایا گیا کسی بھی طالب علم سے اس کی رائے نہیں لی گئی کہ طلباء کیا چاہتے ہیں۔جب حالات غیر یقینی ہو تو حکومت کا کام ہوتا ھے کہ وہ عوام کو اعتماد میں لے۔لیکن افسوس صد افسوس لاکھوں روپے لینے والے بیوروکریٹ،تعلیمی دانشور،وزرائے تعلیم عوامی پیسہ سمندر کے پانی کی طرح بہا کر میٹنگز کر کے اب تک ایک ایسی پالیسی نہیں بنا سکے جس سے طلباء راضی ہو۔جب انٹر اور میٹرک کے طلباء کے امتحانات کا معاملہ تھا اس طرح صورتحال غیر یقینی بنا دی گئی کہ طلباء کو اس پر  بھی شک تھا کہ کل پرچہ ہو گا یا نہیں۔پھر جب طلباء احتجاج کے لیے نکلے تو ان کے قائدین کی گرفتاری کی گئی۔اور کہا گیا کہ ہم نے وقت دیا ھے سلیبس بھی شارٹ ہے۔تمام طلباء نے امتحان دیا اب اگر ملک کا لٹریسی ریٹ کم ہوتا ھے تو اس کی ذمہ داری وزرائے تعلیم کو لینی چاہیے کیونکہ پاکستان میں آدھے سے زیادہ آبادی کے پاس تو انٹرنیٹ کنیکشن ہی نہیں ھے اور ملک کے کسی بھی حصے میں سگنل مکمل نہیں ہوتے۔اور آن لائن کلاسز کا تو سب کو ہی پتہ ھے کہ کیا تماشہ بنایا گیا تعلیم کا۔میرا ایک دوست مجھے یہ واقعہ بتا رہا تھا کہ اس کے والد کو زوم ایپ چلانا ہی نہیں آتا تھا۔وہ وقت طلباء نے جیسے تیسے نکال لیا لیکن اب جب میڈیکل کے طلباء انٹری ٹیسٹ جس کو ایم ڈی کیٹ بھی کہا جاتا ھے اس کی تیاری کے لیے آئے تو PMC کے سلیبس میں وہ سارے ٹاپک شامل ہیں جو کہ وزارت تعلیم نے مختصر سلیبس میں سے نکالے تھے۔ظاہری سی بات ھے اساتذہ نے اس کی تیاری بھی نہیں کروائی ہو گی اب وزارت تعلیم کی نااہلی یہ ہے کہ ٹیسٹ اسی تاریخ سے ہی ہورہے ہیں لیکن اکیڈمیز کو بند کر دیا گیا ھے اب جن طلباء نے جو ایک ٹاپک پڑھا ہی نہیں اب بھی وہ نہیں پڑھ رہے تو اس کا PMC ٹیسٹ کس بنیاد پر لے رہی ھے۔یہ سراسر طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہیں والدین نے تو اکیڈمیز کی ہزاروں میں فیسیں بھی بھر دی ھے جب طلباء فیل ہو گے تو اس کا ذمہ دار بھی وزیر تعلیم ہو گا۔اب تک جو رزلٹ آیا ھے انٹری ٹیسٹ کا اس کے مطابق آدھے سے زیادہ بچے فیل ہوئے اس کی وجہ ایک ہی ھے کہ آن لائن کلاسز میں رٹہ تو لگ سکتا ہے لیکن استاد بچے کو Conceptual

    سٹڈی نہیں کروا سکتا جبکہ انٹری ٹیسٹ میں تو رٹہ سسٹم کامیاب ہی نہیں  ہوتا جس کی وجہ سے وہ فیل ہو گے ہیں اور اس کہ ذمہ دار حکومت وقت ھے چنانچہ سب سے پہلے خ

    وزیراعظم پاکستان کو وزرائے تعلیم کو ہدایت کرنی چاہیے کہ طلباء کو اعتماد میں لے پھر ان کے حوالے سے پالیسی بنائے تاکہ طلباء کو اس کا فائدہ پہنچے 

    واسلام 

    @ABGILL_1

  • ٹویٹر پہ فالورز بڑھانے کا انتہائی آسان طریقہ تحریر:محمد عمران خان

    میں کافی عرصے سے ٹویٹر استعمال کر رہا ہوں شروع میں تو مجھے بالکل ٹویٹر کا کچھ خاص علم نہیں تھا پھر آہستہ آہستہ سب چیزیں سمجھ آنا شروع ہو گئیں۔ میں اپنے فالورز کو بڑھانے کیلئے کافی کوشش کرتا رہتا تھا مگر ہر کوشش ناکام ہو جاتی ۔
    کئ بار فالورز بڑھانے کیلئے لوگوں نے فالورز لسٹوں میں بھی شامل کیا مگر زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ میں بہت لوگوں کو فالو کر لیتا تھا مگر زیادہ تر لوگ فالو بیک نہیں دیتے تھے۔ ایک دن غصے میں میں نے چند لوگوں کو چھوڑ کر اکثر کو انفالو کر دیا۔ پھر میری فالونگ لسٹ، میری فالورز لسٹ سے بہت کم ہو گئ۔ یعنی اب میرے فالورز زیادہ تھے اور میں نے کم لوگوں کو فالو کر رکھا تھا باقیوں کو انفالو کر دیا۔ پھر آہستہ آہستہ خود ہی فالورز آنا شروع ہو گئے اور میں صرف انہیں فالو بیک دیتا گیا ۔
    میں نے نئے لوگوں کو جو میرے فالورز نہیں تھے انہیں فالو کرنا چھوڑ دیا، صرف جو فالو کرتا اسے فالو بیک کر دیتا یہ سلسلہ چلتا رہا جو کہ ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ اور میرے فالورز گواہ ہیں کہ اب الحمداللہ ایک ہفتے میں کم از کم میرے 1000 فالورز آجاتے ہیں ۔
    تو میں آپ سب کو فالورز بڑھانے کیلئے بہت آسان طریقہ بتاتا ہوں، سب سے پہلے تو آپ فالونگ لسٹ میں جائیں اور تمام ان لوگوں کو انفالو کرتے جائیں جنہوں نے آپکو فالو بیک نہیں کیا ہوا ۔ مثال کے طور اگر آپ کے فالورز 500 ہیں اور فالونگ لسٹ میں آپ نے 1500 لوگوں کو فالو کر رکھا ہے تو سب کو انفالو کر دیں۔ اب اگر آپ کے پاس 500 فالورز ہیں تو فالونگ لسٹ میں 450 لوگ ہونے چاہئیں۔ یعنی فالورز زیادہ ہوں اور فالونگ کم ہو ۔
    پھر آپ کو جو لوگ فالو کریں انہیں بروقت فالو بیک کرتے جائیں ۔
    اور اپنے اکاونٹ سے اچھے اچھے ٹویٹس کریں لیکن روزانہ ٹویٹس لازمی کریں ۔ فالورز تب آتے ہیں جب ٹائم لائن پہ آپکا کوئی ٹویٹ نظر آتا ہے ۔ جب آپ کوئی ٹویٹ ہی نہیں کریں گے تو آپ کسی کی بھی ٹائم لائن پر دکھائی نہیں دیں گے، جب کہیں نام و نشان نہیں ہوگا تو آپکو لوگ فالو کیسے کریں گے؟
    لہذا فالورز بڑھانے والی لسٹوں سے جان چھڑوائیں اور خود اپنے اکاونٹ سے کچھ نہ کچھ ٹویٹ کرتے رہا کریں ۔ چوبیس گھنٹوں میں کم از کم 10 ٹویٹس ضرور کیا کریں ۔ پھر آپ کے پاس اتنے فالورز آئیں گے کہ آپ فالو بیک کرتے کرتے تھک جائیں گے ۔
    اب کچھ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم فالونگ لسٹ کیسے کم کریں مثلا 500 فالورز ہیں تو فالونگ بھی تو 500 ہوگی نا ، جی ہاں آپ ٹھیک ہیں مگر تھوڑی سی مزید محنت کر لیں کہ کچھ فالورز کی پروفائل کا چکر لگا لیں ، بہت سارے لوگ ملیں گے جنہوں نے فحش تصاویر، فحاش ویڈیوز شئیر کی ہوتی ہیں اگر شئیر نہیں کی ہوتی تو لائک کی ہوتی ہیں، یا یہ چیز نہ ملے تو ایک اور چیز ضرور ملے گی وہ یہ کہ اکثر لوگوں نے پاک فوج کے خلاف ٹویٹس کیے ہوتے ہیں، ریاست مخالف ٹویٹ شئیر کیے ہوتے ہیں یا لائک کیے ہوتے ہیں، انہیں فورا انفالو کریں ۔ ہم اور نہیں تو کم از کم انہیں فالو نہ کرکے انکی حوصلہ شکنی ضرور کر سکتے ہیں ۔ اکثر لوگوں نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ٹویٹس میں حصہ لیا ہوتا ہے، انکو بے نقاب کریں اور فورا انفالو کریں، اچھے لوگوں کو فالونگ لسٹ میں رہنے دیں باقی صاف کر دیں ۔

    ان شاء اللہ میری باتوں پہ غور کر کے عمل کرنے سے تمام دوستوں کو فائدہ ہوگا ۔
    اللہ تعالی ہم سب کو سوشل میڈیا اچھے کاموں میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
    پاکستان زندہ باد
    @Imran1Khaan

  • کابل جو میں نے دیکھا اور سنا۔۔۔ تحریر  شاہد خان

    کابل جو میں نے دیکھا اور سنا۔۔۔ تحریر شاہد خان

    کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد 19 اگست کو میری اور میرے ساتھ خاتون صحافی سمیرا خان کی کابل آمد ہوئی۔ پچھلی بار 27 مئی 2021 کو ہم آئے تو ایک الگ سا نظام، سسٹم، ماحول اور حکومت تھی اس بار ہماری آمد ایک الگ فکر کے ساتھ تھی۔

    پاکستان کی جانب سے طورخم کراس کرکے زیرو پوائنٹ پر افغان طالبان کی جھنڈے لہرائے دکھائے دئیے۔ ایک طرف پاکستان کے فرنٹیئر کور کے جوان اور دوسری طرف طالبان کے جنگجو کھڑے تھے البتہ فرق یہ تھا کہ طالبان کے جنگجو کرسیوں پر بیٹھے تھے جب کہ پاکستانی ایف سی کے اہل کار الرٹ کھڑے تھے۔ تاہم اس دوران ہم سے کسی قسم کی زیادہ تفتیش نہیں کی گئی۔

    جلال آباد کی طرف سفر کے دوران ڈرائیور سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ ایک نقشہ ہمارے ذہن میں موجود ہو۔ ڈرائیور سے جب ہم نے طالبان کے کنٹرول کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ طالبان ہو یا کوئی اور اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں امن اور ترقی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں طالبان کی جانب سے سیکیورٹی کی پریشانی نہیں ہے تاہم معاشی مستقبل کی فکر ضرور ہے۔ بہر صورت وہ طالبان کی آمد سے خوش دکھائے دے رہے تھے۔

    صوبہ لغمان میں ایک ریسٹورنٹ پر رکیں ریسٹورنٹ کی باہر طالبان کی بکتر بندی گاڑی، جو انہوں نے افغان فورسز سے قبضے میں لی تھی، کھڑی تھی طالبان کے سیکیورٹی کے اہل کار اندر کھانا کھا رہے تھے ان سے میں نے کچھ معلومات لینے کی کوشش کی تاہم انہوں نے زیادہ معلومات دینے سے گریز کیا کہ ہمیں اجازت نہیں ہے۔
    جلال آباد شہر میں داخل ہوئے تو طالبان مین بازار میں مختلف جگہوں پر کھڑے نظر آئے۔ سمیرہ خان نے مائک اٹھایا اور رپورٹ بنانے لگی۔ طالبان اہل کاروں کی جانب سے ہمیں کچھ نہیں کہا گیا البتہ جب لوگ ہمارے ارد گرد زیادہ ہوگئے تو تو ٹریفک جام ہوا جس کے بعد طالبان کی جانب سے ہمیں جلد ختم کرنے کا کہا گیا۔

    طورخم بارڈر سے کابل تک طالبان مختلف جگہوں پر کھڑے تھے تاہم ہم سے زیادہ پوچھ گچھ نہیں کی گئی طالبان سیکیورٹی کے اہل کار جب ہمارے ساتھ خاتون کو دیکھتے تو روکنے کے بجائے جانے کا اشارہ کرتے تھے۔

    کابل شہر پہنچے تو جگہ جگہ طالبان کھڑے نظر آئے سیکیورٹی بھی سخت تھی ہر طرف طالبان کی سفیڈ جھنڈے دکھائی دے رہے تھے طالبان اہل کار بڑی گاڑیوں میں گشت کرتے نظر آئے۔
    پچھلی بار جب ہم کابل آئے تھے تو جگہ جگہ افغان سیکیورٹی فورسز کی چیک پوائنٹس ہوتے تھے کابل کے ہر روڈ پر سفر کرنا مشکل تھا تاہم اب کی بار تمام راستے کھلے ہیں عام لوگ ہر راستے سے کابل میں گھوم پھر سکتے ہیں چیک پوائنٹس ہٹا دئیے گئے ہیں تاہم مختلف جگہوں پر طالبان نے ناکے لگائے ہوئے ہیں اور لوگوں سے پوچھ گچھ بھی ہوتی ہے البتہ طالبان کی جانب سے ان ناکوں پر رویہ بہت نرم رکھا جا رہا ہے۔

    کابل کی صورت حال کے حوالے سے میں بات کروں تو اس کو میں دو کیٹیگریز میں تقسیم کروں گا۔

    کابل اور افغانستان کے عوام :

    کابل اور افغانستان کے عوام کے حوالے سے میں بات کروں تو جب سے طالبان نے کابل کا ٹیک اوور کرلیا ہے لوگ سیکیورٹی سیچویشن کو کافی بہتر محسوس کررہے ہیں کیوں کہ ان پندرہ دنوں میں کرائم ریٹ بہت کم ہوگیا ہے کابل اور افغانستان کی عوام کو چوروں سے سب سے زیادہ خوف رہتا ہے تاہم ان دںوں میں اس میں بہت زیادہ کمی آچکی ہے۔ تاہم افغان عوام مستقبل کے حوالے سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں جن لوگوں کی نوکریاں ہیں وہ اپنے نوکریوں کے حوالے سے پریشان ہے باوجود یہ کہ طالبان نے ان کو ان کی نوکریوں کے حوالے سے تسلی دی ہے لیکن اس کے باوجود عوام مستقبل کے حوالے سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔

    لوگوں کو ایک اہم ایشو اس وقت طالبان کی جانب سے حکومت کا باقاعدہ انتظامی ڈھانچہ کھڑا نہ کرنے کا بھی ہے کیوں کہ طالبان اس وقت سیکیورٹی کے حوالے سے منظم نہیں ہے طالبان کی سیکیورٹی اہل کاروں کی کوئی مختص یونیفارم نہیں ہے جس سے طالبان اور دوسرے لوگوں کے درمیان تفریق نہیں کی جاسکتی ہے اس بنیاد پر کوئی بھی طالبان کے نام کا استعمال کرکے لوگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس بنا پر افغان عوام چاہتی ہے کہ لوگوں کو ان کے نمائندے بتائے جائے جس کے سامنے وہ اپنے مسائل لے کر جائے۔

    اسی طرح اب تک بینک، اسکولز، کالجز، کمپنیاں باقاعدہ نہیں کھلی ہیں جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    افغانستان اور کابل کی صورت حال۔

    کابل کی سیکیورٹی سیچویشن کافی بہتر ہے لوگ خود کو محفوظ تصور کررہے ہیں کابل ائیرپورٹ کی صورتحال اس وقت خراب ہے۔ بنیادی طور پر ائیرپورٹ کے حالات کے زمہ دار اگر میں امریکہ پر عائد کروں تو میں غلط نہیں ہوں گا۔

    امریکہ نے سب سے پہلے اپنے ساتھ لوگوں کو بیرون ملک لے جانے کا اعلان کیا۔ لوگوں کو ایمیلز کیے۔ تاہم ان لوگوں کو جنہوں نے ان کے ساتھ کام کیے ہیں لے جانے کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔
    اس کا نقصان یہ ہوا کہ ہزاروں لوگ ائیرپورٹ کی طرف گئے ائیرپورٹ پر لوگوں کا ہجوم بنا امریکہ نے بغیر تصدیق کیے لوگوں کو طیارے میں ڈالا اور ان کو باہر لے جایا گیا اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہر ایک نے باہر جانے کی کوشش کی اور اب تک ان کو امید ہے کہ ہمیں بھی باہر جانے کا موقع ملے گا۔ اس وجہ سے ائیرپورٹ کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور داعش کو اس صورت حال سے فایدہ اٹھانے کا موقع ملا۔

    ایک اور مسئلہ جو اس وقت طالبان کو درپیش ہے اور افغانستان میں امن کے حوالے سے ایک چیلنج دیکھا جا رہا ہے وہ پنجشیر کی صورتحال ہے۔ پنجشیر کی صورتحال اس وقت یہ ہے کہ طالبان اور احمد مسعود کے درمیان اب تک مذاکرات جاری ہے طالبان کی کوشش ہے کہ پنجشیر بھی سرنڈر کریں اور کوئی خون خرابہ نہ ہو۔ میرے اطلاعات کے مطابق کافی حد تک مذاکرات کامیابی کی طرف جا رہے ہیں امید ہے دونوں طرفین مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کریں گی۔

    طالبان کی ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی کے ساتھ بھی اس وقت مذاکرات جاری ہے ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ کے ساتھ ملاقات میں معلوم ہوا کہ دونوں رہنماؤں کو ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے تسلی دی گئی ہے طالبان کی جانب سے ان کو سیکیورٹی بھی دی گئی ہے تاہم وہ اس وقت انتہائی مایوس دکھائی دے رہا ہے کیوں کہ ان کو ان کے مستقبل کے حوالے سے، حکومت میں شمولیت کے حوالے سے تسلی نہیں ملی ہے کہ ان کو حکومت میں شامل کیا جائے گا یا نہیں۔

    حزب اسلامی کے سرابراہ جناب گلبدین حکمتیار صاحب سے ہم نے ایک ملاقات میں حکومت میں ان کی شمولیت کے حوالے سے پوچھا تو ان کا کہںا تھا کہ ہم نے خود طالبان سے حکومت میں حصہ کا مطالبہ نہیں کیا ہے تاہم افغان عوام کے لیے ہم سے جو بھی خدمت لیا جائے گا ہم اس کے لیے تیار ہوں گے۔
    حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار کا کہںا تھا کہ ہم کابل میں نئی تبدیلیوں کی حمایت کرتے ہیں گلبدین حکمتیار نے طالبان کے خواتین اور حجاب کے حوالے سے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ مغرب ہم پر اپنا حجاب مسلط نا کریں پردہ ہماری روایت اور اقدار کا حصہ ہے۔ انہوں نے بھارت پنجشیر کے حوالے سے بھارت کی موقف اور کردار کی مخالفت کرتے ہویے کہا کہ بھارت کو مثبت رول اپنانا چاہیے جس طرح پاکستان نے امن کی بات کی ہے اس طرح بھارت کو بھی جنگ کی بجائے امن کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

    ہم پہلے پاکستانی تھے جنہوں نے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے ساتھ آزاںہ طور پر ملاقات کی۔ ذبیح اللہ مجاہد نے صحافیوں کی تحفظ کے حوالے سے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ایک باقاعدہ کمیٹی بنائی جائے جو صحافیوں کے تحفظ حوالے سے کام کریں گی۔ انہوں نے انتظامی ڈھانچہ کھڑا کرنے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ تمام ممالک کے ساتھ ہم اچھے تعلقات چاہتے ہیں پاکستان ہمارا پڑوسی ملک ہے ہم اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔

  • ۔۔سگریٹ نوشی        جان کی دشمن تحریر فرزانہ شریف

    ۔۔سگریٹ نوشی جان کی دشمن تحریر فرزانہ شریف

    آپ نے اکثر دیکھا ہوگا جس گھر میں سگریٹ کے عادی لوگ رہتے ہیں ان کے گھر کے در و دیوار میں بھی سگریٹ کی ناخوش گوار سی مہک رچی بسی ہوگی کہ طبعیت پر خوشگوار سا اثر محسوس ہورہا ہوتا ہے لیکن ایک انسان کی اس عادت سے باقی پورا گھر بھی اس زہر کا شکار ہورہا ہوتا ہے۔۔
    جو لوگ اپنے خاندان سے پیار کرتے ہیں وہ اس بری لت سے چھٹکارا پا لیتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ سگریٹ کا دھواں نہ صرف سگریٹ کے عادی بندے کے متاثر کررہا ہوتا ہے بلکہ اپنے پیاروں میں بھی یہ زہر لاشعوری طور پر بانٹ رہا ہوتا ہے جس سے انسان کے پھیپھڑے سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں اس کے بعد اس کو گلے کا کینسر بھی ہوجاتا ہے اور یہ کینسر لا علاج بیماری ہے ۔تو سوچتی ہوں کہ یہ کیسا اپنی فیملی سے پیار ہے کہ اپنے چند منٹس کے سکون کی خاطر اپنے پیاروں میں کینسر جیسی خوفناک بیماری بانٹ رہا ہوتا ہے وہ انسان جیسے نہ اپنی جان کی پرواہ نہ اپنے خاندان کی ۔۔میں تو اسے پھر بے حسی ہی کہوں گی کہ ایک تو کینسر جیسی بیماری اوپر سے پیسے کا ضیاع ۔
    میں نے اکثر لوگوں کو مہنگے ترین سگریٹ لیکر پیتے دیکھا ہے اورسوچتی ہوں اس بندے کی سوچ پر کہ کیا وہ یہ سمجھتا ہے اس سے وہ پھیپھڑوں کے کینسر سے بچ جائے گا نہیں ۔۔بےشک آپ مہنگے سگریٹ لے کر پئیں یا سستے اس نے آپکو اندر سے مکمل کھوکھلا کردینا ہے ۔اس سے ہڈیاں کمزور ہونی شروع ہوجاتی ہیں کہ ایک وقت آتا ہے کہ آپ کو تھوڑی سی بھی کہیں سے ٹھوکر لگ جائے تو ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ انسانی جسم کی ہڈی اندر سے کھوکھلی ہوچکی ہوتی ہے اسی طرح دل کے مریضوں کے لیے سگریٹ نوشی بہت نقصان دہ ہوتی ہے۔اس سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ انسان اس سٹیج پر پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہوجاتی ہے ہارٹ اٹیک ہونے کے خطرناک خطرات حد سے ذیادہ بڑھ جاتے ہیں کہ انسان خدانخواستہ موت کی وادی میں پہنچ جاتا ہے سوچیں آپکی ذندگی آپکی فیملی کے لیے کتنی ایم ہے کیا آپ اپنی فیملی کو آنسوووں کا تحفہ دینا پسند کریں گے جن سے آپ خود بےحد پیار کرتے ہیں ۔۔
    سگریٹ پینے والے کے دماغ کی حسیں آہستہ آہستہ کام کرنی چھوڑنے لگ جاتی ہیں کیونکہ سگریٹ کے تمباکو میں موجود نکوٹین ہمارے دماغ کے اس حصے کو کنٹرول کر لیتا ہے جس کے ذریعہ ہم سوچ بچار کرتے ہیں اور ذندگی کےفیصلے کرتے ہیں۔ جب نکوٹین دماغ تک پہنچتی ہے تو پھر لاشعوری طور پر انسان بار بار سگریٹ پینے لگ جاتا ہے

    اگر اسے بروقت سگریٹ نہ ملے تو وہ عادی نشئی جیسی حالت میں چلا جاتا ہے انتہائی چڑچڑاپن ۔روکھا پن اس کی طبعیت میں میں شامل ہوجاتا ہے جس سے اکثر گھریلو مسائل جنم لیتے ہیں گھر میں لڑائی جھگڑے بےسکونی جیسی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔۔!!
    میں نے آج تک کسی سگریٹ پینے والے کے دانت سفید نہیں دیکھے۔عجب سے بد نما پیلے سے دانت ۔۔
    ایسے دانت نہ صرف دیکھنے میں برےلگتے ہیں بلکہ جبڑوں اور دانتوں کی جڑوں میں پیلا سا پتھر نما ٹارسا جم جاتا ہے جو ان کو بہت کمزور بنا دیتا ہے۔ کہ آہستہ آہستہ انسان کے دانت بھی ختم ہوجاتے ہیں اور وہ وقت سے پہلے بوڑھا نظر آنے لگ جاتا ہے ۔
    پاکستان بلکہ پوری دنیا میں سگریٹ کی ڈبی پر کینسر ذدہ ہونٹ کی تصویر چھاپ کر وزارت صحت اپنا فرض ادا کردیتے ہیں بس جسے لوگ ڈر ہی تو جائیں گے ۔یہ لوگ ایک قسم کے نشے کے عادی ہوچکے ہیں جی ہاں نشے کہ عادی وہ اسطرح کی انسان کو نشہ نہ ملے وہ تڑپنا شروع ہوجاتا ہے اس کی عزت نفس ختم ہوکر رہ جاتی ہے سیم اسی طرح عادی سگریٹ نوش کو بھی اس کا نشہ نہ ملے تو پھر وہ بھی آوٹ آف کنٹرول ہوجاتا ہے اسے کھانے کے لیے روٹی ملے یا نہ ملے لیکن سگریٹ ضرور ملے ایسی حالت ہوجاتی ہے سگریٹ نوش کی کہ بعض اوقات اسے اپنی عزت نفس کا بھی سودا کرنا پڑ جاتا ہے ۔۔
    حکومت وقت کو اس کی روک تھام کے لیے کوئی عملی قدم اٹھانا چاہئیے صرف سگریٹ کی ڈبی پر کینسر کی تصویر لگا کر اپنا فرض پورا نہ کرے سگریٹ مہنگے کرے اور لوگوں کی عام کھانے پینے کی چیزیں سستی کرے کہ عام عوام بھی سکون سے جی سکیں ۔۔
    سگریٹ نوشی اور تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے باغی ٹی وی نے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں عوام کو اگہائی مہم شروع کرکے ۔۔ مبشر لقمان ۔جناب ممتاز حیدر اعوان اور ان کی ٹیم کو سرخ سلام جو معاشرے میں اس زہر کے خلاف دن رات اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں دوسرے ٹی وی چینلز کوبھی باغی ٹی وی کو فالو کرنا چاہئیے تاکہ معاشرے میں اس ناسور کی تقسیم سے روکا جاسکے اس کے لیے انفرادی طور پر ہر انسان کو بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہئیے ۔۔
    اللہ میرے وطن کو شاد آباد رکھے ہر قسم کی آفات سے بچا کررکھے اللہ میرے ملک کی عوام کو اتنا شعور عطا فرما دے اپنا اچھا برا سمجھنے کی صلاحیت عطا فرما دے کہ ہر وہ کام کرے جو اس کے لیے اس کی فیملی کے لیے اس کے ملک کے لیے سود مند ہو ۔۔آمین

  • یوم دفاع وطن۔۔ایک فکر تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    یوم دفاع وطن۔۔ایک فکر تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    پانچ ستمبر کی شام ہم یوم دفاع پاکستان کی تیاریوں میں مصروف تھے میری ہمیشہ سے عادت رہی ہے کہ چودہ اگست یوم آزادی اور اس کے بعد چھ ستمبر کو یوم دفاع بہت دھوم دھام سے منایا کرتا تھا اس زمانے میں یوم دفاع وطن بہت شایان شان طریقہ سے منائ جاتی تھی اپنے فوجی بھائیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا تھا۔غالبا اس وقت میں پرائمری کا طالب علم تھا.محلے کے تمام ہم عمر دوست تین دن پہلے سے اس کی تیاری کے لئےچندہ جمع کرنا شروع کر دیتے تھے اور پھر وہ پیسے ہم اپنے محلے کے ایک بزرگ واحد خان صاحب جنکو پورا محلہ تایا ابو کہتا تھا کو دے دیا کرتے تھے کیونکہ تایا ابو ہی ہماری یوم دفاع کی تیاری کے روح رواں تھے گو کہ ہمیں اندازہ تھا کہ ہمارے چندے کی رقم کی حیثیت بس علامتی سی ہی ہوتی تھی کیونکہ اس دن اخراجات بہت ہوتے تھے اور وہ سب تایا ابو ہی برداشت کرتے تھے۔۔دھاگے آتے تھے۔۔ جھنڈیاں آتی تھیں۔۔ پھر تایا کے گھر میں اسے چپکانے کے لئے "لئ”بنائ جاتی تھی۔۔ پھر رات کے وقت دھاگے باندھ کر اس پر جھنڈیاں چپکائ جاتی تھیں اور ان جھنڈیوں سے پورے محلے کو سجایا جاتا تھا اس کے علاوہ چھوٹے پرچم ہر گھر پر لہرائے جاتے تھے ۔۔۔سر شام ہی لاوڈ اسپیکر لگ جاتا تھا جس پر تیز آواز میں ملی ترانے بجائے جاتے تھے ۔۔اس کے علاوہ دوسرے دن صبح کے لئے اسٹیج تیار کیا جاتا تھا ۔۔کیونکہ صبح محلے کے بچوں کے درمیان ملی نغمے اور تقاریر کا مقابلہ منعقد ہونا ہوتا تھا۔۔ اسٹیج کے سامنے دریاں بچھائ جاتی تھیں اور کچھ کرسیاں محلے کے معززین کے لئے رکھی جاتی تھیں۔۔ اوراس تمام تر تقریب کی نگرانی تایا ابو ہی کرتے تھے ۔۔ہم صبح صبح اپنے اسکاوٹ کی وردی پہن کر تیار ہوتے تھے اور اپنے کو بالکل فوجی ہی سمجھتے تھے پھر ہم تقریب کا حصہ بن جایا کرتے تھے۔۔
    ہوا کچھ یوں کہ دھاگے میں جھنڈیاں لگاتے لگاتے اچانک "لئ”ختم ہو گئ تو میں "لئ”لینے تایا ابو کے گھر چلا گیا۔۔
    جیسے ہی ان کی بیٹھک میں داخل ہوا تو دیکھتا ہوں کہ تایا ابو کے والد صاحب جنہیں پورا محلہ دادا ابو کہتا تھا جو کم از کم بھی نوے سال کی عمر کے تو ہونگے۔۔بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں.۔میں دادا ابو کے اس انداز میں رونے پر ششدر رہ گیا۔۔۔ مجھے تشویش ہوئ کہ دادا ابو کس وجہ سے رو رہے ہیں؟۔۔۔کل ہم یوم دفاع پاکستان منانے جا رہے ہیں اور وہ ہیں کہ روئے جارہے ہیں۔۔۔ ان کو تو خوش ہونا چاہیے مجھے لگا شاید ان کی طبیعت خراب ہوگئ ہے ۔۔۔میں دادا ابو کے ساتھ بیٹھ گیا اور ان کے ہاتھ دباتے ہوئے پوچھا کہ دادا ابو خیریت تو ہے؟۔۔آپ کیوں رو رہے ہیں؟ یہ سن کے تو انہوں نے اور دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا اور ان کے ساتھ ان کے برابر بیٹھے ہوئے تایا ابو بھی رو رہے تھے۔۔۔ اب تو میں اور پریشان ہو گیا اور دادا ابو کا ہاتھ پکڑ کر تقریبا چیختے ہوئے کہا کہ دادا ابو خدا کے لئے مجھے بتائیں آخر ہوا کیا ہے؟؟؟پھر قدرے توقف سے دادا ابو گویا ہوئے کہ۔۔۔ "بیٹاجب پاکستان بنا اس وقت میں جوان تھا.۔۔ہمارا بڑا خوش حال گھرانہ تھا یہ واحد کےدادا سید عبد الکریم خان کا گھرانہ تھا سب سے زیادہ پردے والا گھرانہ تھا.۔۔ہمارے گھر کی خواتین رات کے اندھیرے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتیں اور صبح سورج کے طلوع ہونے سے پہلے پہلے واپس ان کو گھر لایا جاتا تھا کہ کوئی ان کو دیکھ نہ لے.۔۔جب آزادی اور علیحدگی کا اعلان کیا گیا تو واحد کےدادا نے گھر کی سب خواتین کو بلایا اور کہنے لگے کہ آج فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے.۔۔
    کچھ ہی دیر میں ہندو یہاں تم سب کو ہمارے سامنے برہنہ کریں گے اور تمہاری عزتوں کو ہمارے سامنے ہی پامال کرنا شروع کر دیں گے۔۔۔کیا کیا جائے؟۔۔ابا گلوگیر آواز میں کہے جارہے تھے اور خواتین پریشانی کی حالت میں ان کی باتیں سن رہی تھیں۔۔۔ ابا جی نے اپنی بات ختم کر کے سوالیہ نظروں سے سب کی طرف دیکھا توگھر کی سب خواتین نے بیک وقت یک زبان ہوکے ابا سے کہا کہ ہم نے تو آج تک کسی غیر مرد کو اپنا چہرہ تک نہیں دکھایا تو ہم آپ سب کے سامنے اپنی عزت کی پامالی کیسے برداشت کر سکتے ہیں.۔۔
    پھر وہاں فیصلہ ہو گیا کہ اس نیلامی سے اچھا ہے کہ عزت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو جایا جائے۔۔۔بڑے خان صاحب ایک تیز دھار چاقو اور پھٹہ لے کر بیٹھ گئے اور گھر کی خواتین باری باری آ کر اللہ اکبر کی تکبیر کے ساتھ عزت سے قربان ہوتی گئیں.۔۔(دادا ابو روئے جارہے تھے اور بتائے جارہے تھے)۔۔جب بڑےخان صاحب کی والدہ کا نمبر آیا تو بیٹا !!واحد کے دادا کے ہاتھ کانپنے لگے اور ہمت جواب دینے لگی…اور وہ اپنی اماں سے کہتے ہیں کہ”ماں جی آپ پر یہ چاقو نہیں چل سکتا”.
    (اور پتہ ہے ابا جی کو ان کی اماں نے کیا جواب دیا؟؟) ..انہوں نے کہا کہ بیٹا یاد کر… سوچ وہ وقت جب ہندو تیری ماں کی عزت کو نیلام کریں گے؟ تو پھر کیا ہو گا؟؟۔۔یہ کہ کرماں جی نے اپنے بیٹے کی آنکھوں پر خودپٹی باندھ دی۔۔۔ پھر بڑے خان صاحب نے اپنے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنی ماں کا گلا کاٹ کر عزت محفوظ کر دی.۔۔(اور یہ کہتے ہی دادا اور تایا زاروقطار رونے لگے) اور اب تو میرے آنسو بھی تھم نہیں پارہے تھے۔۔۔بحر کیف کچھ دیر اسی طرح گزری اور دادا ابو دوبارہ مخاطب ہوئے کہ بیٹااس طرح اس دن ہمارے گھر کی چالیس خواتین ذبح ہو گئیں مگر اپنی عزت پر آنچ گوارہ نہیں کی.۔۔دادا ابو کہنے لگے کہ خواتین اپنی مرضی سے آگے بڑھ رہی تھیں تاکہ ان کی عزت محفوظ رہ جائے.۔۔ دادا ابو کہنے لگے کہ بیٹا اس دن کا یہ سارا منظر میری آنکھوں کے سامنے منڈلانے لگتا ہے اور میں خون کے آنسو روتا ہوں.۔۔میں نے پوچھا کہ دادا ابو آپ کی کوئی بہن نہیں تھی کیا؟۔۔کہنے لگے ہاں ہماری ایک بہن تھی.۔۔ پاکستان بننے کے وقت اس کی عمر سات سال تھی.۔۔میرا ایک چھوٹا بھائی اور یہ بہن ایک دوسری جگہ چھپے ہوئے تھے کہ وہاں اچانک سکھ پہنچ گئے.۔۔ یہ دونوں ایک کونے میں دبک گئے۔۔۔ سکھوں کے جانے کا انتظار کرنے لگے لیکن بدقسمتی سےمیری بہن کو شدید پیاس لگنے لگی۔۔۔ سامنے ہی پانی کا مٹکا رکھا تھا.۔۔چھوٹا بھائی بہن کو تسلی دیتا رہا کہ سکھ چلے جائیں پھر پانی دیتا ہوں۔۔۔ پروہ چھوٹی تھی پیاس برداشت نہیں کر سکی اور وہ پیچھے سے نکل کر مٹکے تک چلی گئی۔.۔پانی کا پیالہ ابھی اس کے لبوں کے قریب ہی پہنچا تھا کہ ایک سکھ نے اس کا سر اس کے دھڑ سے الگ کر دیا۔۔(یہ سن کر ایک دم دم سناٹا ہو گیا اور میرے آنسو رکنے کا نام نہ۔لیتے تھے) میں نے روتے ہوئے ہی دادا سے پوچھا کہ آپ سب لوگ الگ الگ کیوں رہتے تھے؟۔۔۔
    دادا ابو کہنے لگے کہ بھگ دڑ مچی ہوئ تھی بھائ !!! جو جہاں تھا وہ وہیں سے روانہ ہو گیا.۔۔جو کھیت میں کام کر رہے تھے وہ وہاں سے ہی پاکستان والی سرزمین کی جانب روانہ ہوئے.۔۔سب ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے.۔۔ کوئی کچھ دن بعد مل گیا تھا۔۔۔ تو کوئی کئ کئ سالوں بعد۔۔ تو کسی کی خبر آج تک نہیں کہ زندہ بھی ہے یا نہیں.۔۔بیٹا!! اس وقت ٹرینوں میں مسلمانوں یا انسانوں کی جگہ لاشیں سفر کر رہی تھیں.۔ کنویں پانی نہیں دے رہے تھے بلکہ زہر دے رہے تھے اور سورج روشنی کی جگہ آگ اگل رہا تھا.۔۔ بہت برا وقت تھا۔۔۔جگہ جگہ لاشوں کے ڈھیر پڑے تھے.۔۔
    کیا بچہ، کیا بوڑھا، کیا جوان کیا مرد اور کیا عورت.۔۔بڑے بڑے زمیں دار خالی ہاتھ تھے.۔۔
    کھانے کو کچھ تھا نہ ہی پینے کو پانی میسر تھا.۔۔پانی سامنے ہوتے ہوئے بھی نہیں پی سکتے تھے۔۔۔ جگہ جگہ پانی میں زہر ملا دیا گیا تھا تا کہ جب مسلمان یہاں سے گزریں تو زندہ نہ بچ سکیں۔۔۔تلواریں اور تیر جگہ جگہ انسانوں کو کچل رہے تھے.۔۔
    یہ آزادی تو تمہارے لئے تھی۔۔۔ ہمارے لئے تو قربانیاں اور جنازے تھے۔۔۔اپنوں سے دوری تھی.۔۔ اپنے آبائی علاقے چھوڑنے کے دکھ کے ساتھ ساتھ اپنوں کے بچھڑنے کا غم بھی تھا.۔۔جن ہیں اہنے ہی سامنے کٹتا ہوا دیکھا تھا۔۔۔مگر یہ سب کچھ ہم نے آنے والی نسلوں کی آزادی اور کامیابی کی خاطر قربان کیا تھا.۔۔مگر آج تم آزاد ہو کر بھی آزاد نہیں ہو.۔۔
    یہ وطن تو ہم نے اسلام کا جھنڈا لہرانے کیلئے حاصل کیا تھا….
    مگر آج اسی وطن میں اسی جھنڈے کے نیچے اسلام فروخت نہیں ہو رہا ہے کیا؟۔۔کیایہ وطن اس لئےحاصل کیا گیا تھا کہ ہماری آنے والی نسلوں کی رگوں میں ہندو رسم و رواج کا خون دوڑے۔۔ کیا آج الگ وطن ہو کر بھی تمہارے اندر یہ ہی رسم و رواج اور تربیت پروان نہیں چڑھ رہی ہے؟؟
    وہاں ہندو مسلمان کا دشمن تھا مگر یہاں مسلمان خود مسلمان کا دشمن نہیں ہے۔۔۔کیا ہم فرقہ بندی میں نہیں پھنس گئے۔۔۔ اب ہر شخص یہاں دیوبندی۔بریلوی۔شیعہ۔ سنی نہی ہو گیا۔۔
    وہاں ہماری عبادتوں میں خلل ہندو ڈالتے تھے مگر یہاں مسجد کے ساتھ والے گھر میں گانوں کی آوازیں اسپیکر پر گونجتی ہیں۔۔۔ کیا یہ وہی کردار ادا نہی کر رہے ہیں جو کردار ہندو مسجد کے باہر ڈھول بجا کر کرتے تھے.۔۔ یہاں تو مسلمان کی عبادات میں خلل خود مسلمان ڈال رہا ہے…
    کیا تم پھر آزاد ہو؟ ہم تو قید ہو کر بھی آزاد تھے…
    ہماری قربانی پرجشن آزادی مناو۔۔۔ یا پاک فوج کی قربانی پر یوم دفاع۔۔۔ یہ تمہارا حق ہے مگر خود کو آزاد کروانے کا عزم بھی تو کرو.۔۔تم اب تک ہماری قربانیوں کا پھل کھا رہے ہو جبکہ اس وطن کی مٹی ایک بار پھر سے قربانی مانگ رہی ہے۔۔۔تعیش کی قربانی۔۔۔نفرتوں کی قربانی۔۔جھوٹ اور کرپشن کی قربانی۔۔۔ مگر تم لوگ اپنی سوچ کی غلامی میں دھنس چکے ہو.۔۔
    آج آزادی کیلئے تمہیں صرف خود کو بدلنے اور اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔۔۔ مگر تم سے اتنا بھی نہیں ہو پا رہا۔۔۔ جبکہ ہم نے آزادی کیلئے سب کچھ قربان کر دیا تھا.۔۔
    آج یہ وطن، یہ مٹی اور یہ سر زمیں تو آزاد ہے مگر اس میں رہنے والے اور بسنے والے آج بھی اپنی سوچ کے غلام ہیں.۔۔ غلامی کا پنجرہ تمہاری سوچ پر بیٹھا ہوا ہے؟

    یہ تھےدادا ابا کے وہ سوالات جو اتنے سال گزر جانے کے باوجود ہرچھ ستمبر کو میرے کانوں میں گونجنے لگتے ہیں۔۔۔اور میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا واقعی ہم بحیثیت قوم بیرونی سازشوں کا شکار ہو کر فرقوں میں بٹتتے نہیں جارہے اور بجائے پاکستانی ہونے کے سندھی۔۔ مہاجر ۔۔پنجابی۔۔ پشتون ۔۔۔بلوچی ہوتے نہیں جارہے ۔۔۔ذرا زرا سے اختلاف پر احتجاج کے نام پر اپنی ہی املاک کا نقصان نہیں کر رہے۔۔۔یقیننا ایسا ہی ہے اور دادا ابا کے زمانے سے بھی زیادہ ہے۔۔۔

    چلیں آج یوم دفاع وطن کے دن ہم عہد کرتے ہیں کہ اپنے ملک خداداد میں اتحاد اور یگانیت کو فروغ دیں گے اور بناء تفریق رنگ و نسل و فقہہ سب سے محبت کریں گے اور ایک متحد قوم ہو کے رہیں گے۔۔۔چھوٹے چھوٹے اختلافات پر احتجاج کے نام پر اپنی املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔۔۔انشاءاللہ۔۔۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فوجی بھائیوں کی طرح اپنے ملک پر قربان ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں محب وطن بنا آمین ثم آمین
    پاکستان زندہ باد۔۔پاک فوج زندہ باد

    @Azizsiddiqui100

  • علم ایک طاقت ہے تحریر: عاصمہ قریشی

    علم ایک طاقت ہے تحریر: عاصمہ قریشی

     اس جملے کے مختلف ورژن ثقافتوں کیساتھ زمانے بھر میں موجود ہے۔ 10 ویں صدی میں فقرہ کی تاریخ کے پہلے ورژن، جیسے نہج البلاگہ میں:

     "علم طاقت ہے اور یہ اطاعت کا حکم دے سکتا ہے،”

     یا پھر فارسی شاعر فردوسی کے الفاظ:

     "قابل وہ ہے جو عقلمند ہے۔”

     بائبل کتاب میں ایک عبرانی جملہ ہے جس کا تقریبا ایک ہی ترجمہ کیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر لاطینی میں سب سے پہلے:

     "ور ساپاانس اٹ فورٹاس ایسٹ اٹ ور دوکٹوس روبسٹوس اٹ والادو،”

     اور پھر انگریزی بادشاہ جیمز بائبل مثال کے طور پر:

     "ایک عقلمند آدمی مضبوط ہے، علم آدمی کی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔”

     علم طاقت کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو اس علم کا استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی پر تعلیم اور مکمل کنٹرول ہے. تعلیم یافتہ افراد زندگی میں چیزوں کو آسانی سے سنبھال سکتے ہیں۔ علم سب سے مضبوط ذریعہ ہے جو لوگوں کو طاقت فراہم کرتا ہے اور علم کو زمین پر کسی اور طاقت سے شکست نہیں دی جاسکتی ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ، علم ایک ایسے شخص کو طاقت دیتا ہے جو اپنے حقوق کی جنگ لڑتا ہے اور دنیا کا مقابلہ کرتا ہے۔ علم نے انسان اور جانور میں فرق پیدا کیا ہے۔ انسانوں کا جسمانی طاقت میں جانوروں سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا لیکن، انسان صرف علم کی طاقت کی وجہ سے زمین پر سب سے طاقتور مخلوق رہا ہے۔ انسان جسمانی طاقت میں جانوروں سے کمزور ہے. انسان علم سے قوت حاصل کرتا ہے اور جسمانی قوت پر انحصار نہیں کرتا۔ انسان زمین پر بہت تیز اور سمجھ دار مخلوق ہے کیونکہ وہ اپنے علم، تحقیق اور تجربات سے دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    علم انسان کو یہ جاننے کی طاقت دیتا ہے کہ فطرت کی قوتوں کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے اور فوائد حاصل کرنے کے لئے ان کا استعمال کرنا ہے۔ علم حاصل کرنا ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے۔ علم کے ذریعے ہم صحیح اور غلط، اچھا یا برا کے درمیان فرق کرنے کے قابل ہیں۔ علم ہماری مستقبل کی منصوبہ بندی میں ہماری مدد کرتا ہے اور ہمیں صحیح راستے پر گامزن کرتا ہے۔ اس سے ہمیں اپنی کمزوریوں، غلطیوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے اور ان پر جلد از جلد قابو پانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ علم انسان کو زندگی میں ذہنی اور اخلاقی ترقی دے کر زیادہ طاقتور بناتا ہے۔ معاشرے اور ملک میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لئے علم ایک نہایت اہم ذریعہ ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ علم ہی کامیابی اور خوشی کا ستون ہے۔ اس لیے ہمیں علم حاصل کرنا چاہیے اور ایمانداری سے کام کرنا چاہیے اور اپنے معاشرے کو برائی سے بچانا چاہیے مختصر یہ کہ علم لوگوں کو لڑائی جھگڑوں اور دیگر معاشرتی برائیوں سے دور رکھ کر معاشرے میں امن قائم رکھتا ہے۔

    سیاہ طرز میموری مٹانے والا چھڑی قسم کی صورتحال میں ایک مرد کی کمی، میں ایسی صورتحال کا تصور نہیں کرسکتا جہاں کوئی آپ سے آپ کا علم لے سکے۔

     یہاں تک کہ اگر باقی سب کچھ آپ سے، اپنے مال، آپ کی سماجی حیثیت، یا آپ کی صحت کی طرح لیا گیا تھا -آپ اب بھی آپ کو آپ کو یاد کرنے کا انتظام کر سکتے ہیں کہ سیکھا ہے تمام معلومات پڑے گا۔

    دراصل، اگر آپ نے اس طرح کے بدترین صورت حال کو برداشت کیا تو آپ شاید اس سے زیادہ علم کے ساتھ ختم ہوجائیں گے۔ حکمت بھی، یقینی طور پر۔ جو مجھے میرے اگلے نکتے پر لاتا ہے:

     یہ بہترین چاندی کی پرت ہے

     اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کی زندگی میں مکمل طور پر پاگل گڑبڑ چیزیں کم ہوجاتی ہیں، آپ تجربے کے لئے سمجھدار ہوں گے۔

     اگر اس مخصوص لمحے میں چیزیں خوفناک ہیں تو، آپ کم از کم اس حقیقت میں راحت حاصل کرسکتے ہیں کہ آپ کو یہ تسلی انعام کے طور پر ہوگی۔ کبھی کبھی یہ بھی اس سے زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کے لئے بھی جاتا ہے -صرف ایک خلاصہ زندگی میں شرکت کی ٹرافی کے بجائے کچھ حد تک مفید ہے.

    آپ کو یہ معلوم کرنا ختم ہوسکتا ہے کہ آپ نے جو کچھ سیکھا وہ اس سے کہیں زیادہ قیمتی تھا جس کے بارے میں آپ نے سوچا کہ آپ کھو گئے ہیں، یا فیصلہ کریں کہ آپ جو بھی تکلیف سے گزرے وہ اس کے قابل تھا جس کے بارے میں آپ کو اپنے بارے میں یا زندگی کے بارے میں معلوم ہوا۔

     یہ ہمیں آزاد کرتا ہے

     علم ہمیں دنیا میں زندہ رہنے اور پنپنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہ آزادی ہے، اور آپ کے اندر آزادی کے بغیر حقیقی طاقت نہیں ہے.

    مزید علم ہمیں بہتر طور پر فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے، نیز اس منطقی اور اخلاقی بنیادوں کا فیصلہ کرنا ہے جس پر ہم اپنے فیصلے کر رہے ہیں۔

     علم اور حکمت ہمیں بہتر انتخاب کرنے میں مدد کرتی ہے. جب ہم بہتر انتخاب کرتے ہیں تو ہم خود کا زیادہ احترام کرتے ہیں، اور جب ہم خود کا زیادہ احترام کرتے ہیں تو، ہم بہتر انتخاب جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ سائیکل طاقتور ہے۔

     جب یہ واضح ہوجائے کہ ہم اپنی عزت کرتے ہیں تو دوسرے بھی ہماری زیادہ عزت کرنے آتے ہیں جو بے حد طاقتور بھی ہے۔

     اس بات سے انکار نہیں ہے کہ علم طاقت ہے -لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے

     بڑی طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری آتی ہے.

     کبھی بھی سیکھنے سے باز نہ آئیں، اور اپنی طاقتوں کو اچھے کام کے لئے استعمال کرنا یاد رکھیں۔

    Twitter ID: ‎@AQsmt2

  • منگھو پیر کی کہانی  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    منگھو پیر کی کہانی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی پاکستان کا صنعتی اور کاروباری شہر ہے اس شہر کو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کا شرف بھی حاصل ہے صوبہ سندھ کو دارلخلافہ اور پاکستان کا معاشی حب بھی ہے۔۔یوں تو یہ شہر دور جدید سے ہم آہنگ بلند بالا عمارتوں بڑے بڑے شاپنگ سینٹروں اور یونیورسٹیوں اور کالجوں کا شہر ہے لیکن آج بھی اس شہر کے مضافات میں صدیوں پرانے آثار جا بجا نظر آتے ہیں۔ان میں سے ہی ایک "منگھو پیر کا مزار” ہے۔ جو شہر کے شمالی جانب سہراب گوٹھ سے تقریبا آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پہاڑی مقام ہے جو کراچی اور بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کی پہاڑی سلسلے کیرتھر رینج کی شاخ پر واقع ہے۔
    جب اس پہاڑی کے اوپر پہنچتے ہیں تو آپ کو ایک درگاہ ملے گی جو حضرت خواجہ حسن سلطان عرف” منگھو پیر” کی ہے اور یہ علاقہ ان کے ہی نام سے موسوم ہے۔
    المعروف منگھو پیر دراصل افریقی النسل تھے جو عراق میں رہائش اختیار کئے ہوئے تھے اورتیرہویں صدی میں جب منگول عراق پر حملہ آور ہوئے تو منگھو پیر عراق چھوڑ کر براستہ جنوبی پنجاب اور سندھ اس مقام تک پہنچے جہاں اب ان کا مزار واقع ہے۔ یہاں عبادت کے لئے کھجور کے بیسیوں درختوں کے سائے والی ایک پہاڑی مقام منتخب کیا اور وہیں سکونت اختیار کر لی ۔آپ پاک پتن شریف کے بابا فرید گنج شکر کے پیروکاروں میں سے تھے۔اس علاقے کے اطراف مایی گیروں کی بستی تھی جن میں افریقی نسل کے سیاہ فام آباد تھے یہ دراصل ان افریقی غلاموں کی اولادیں ہیں جنہیں 10 ویں اور 17 ویں صدی کے دوران عرب، فارسی، ترک اور یورپی حملہ آور یہاں لائے تھے جنہیں "شیدی”یا "مکرانی” کہا جاتا ہے یہ بلوچی زبان بولتے ہیں۔ یہ قوم اب زیادہ تر کراچی کے علاقے لیاری اور بلوچستان کے علا قے مکران میں آباد ہیں ،پھر آہستہ آہستہ وہاں کے مقامی لوگوں نے منگھو پیر کی پیروی شروع کر دی اور وہ شیدیوں کے روحانی پیشوا بن گئے۔ جب منگھو پیر کا انتقال ہوا تو ان کے مریدین نے اسی مقام پر ان کا مزار بنا دیا جس جگہ وہ عبادت کیا کرتے تھے۔
    منگھو پیر کے مزار کے ساتھ ہی ایک تالاب بھی موجود تھا جس میں سینکڑوں مگر مچھ ہر وقت موجود رہتے ہیں اس کے علاوہ گندھک کے پانی کا گرم اور ٹھنڈا چشمہ بھی موجود ہے۔آج بھی زائرین کی بڑی تعداد اس سے فیضیاب ہو رہی ہے۔
    کراچی شہر میں صدیوں سال قدیم اس مزار سے منسوب کئ دیومالائ داستانیں منسوب ہیں۔عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ کوئ بھی جلدی امراض کامریض پہلے چشمہ کے گرم پانی سے پھر ٹھنڈے پانی سے غسل کر لے گا تو بابا جی کی دعا سے وہ مریض فوری شفایاب ہو جاتا ہے اور تالاب میں موجود مگر مچھ کو جو گوشت کھلاتا ہے تو اس کی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں کہتے ہیں یہ مگرمچھ کئ ہزار سال سے یہاں موجود ہیں اور کوئ عقیدت مند تو یہاں تک کہتے ہے کہ یہ مگر مچھ دراصل بابا جی کی جوں تھیں جو ان کی کرامات سے مگر مچھ بن گئیں اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ وہاں کے مگر مچھ مٹھائ بھی کھالیتے ہیں۔بحر حال کچھ بھی ہو لیکن یہ بات درست ہے کہ زائرین کی ایک بڑی تعداد اس مزار پر آتی ہے اور چشمہ میں ڈبکی بھی لگاتی ہے اور مگر مچھ کو گوشت بھی کھلاتی ہے۔۔منگھو پیر کا عرس ہر سال زالحج میں منعقد ہوتا ہے۔علاوہ ازیں ہر سال ساون کے مہینے میں شیدی قبیلہ یہاں اپنا میلہ بھی بھی سجاتے ہیں چار روزہ اس میلے کا آغاز سب سے بڑے مگر مچھ جس کو "مور” کہا جاتا ہے،کوماتھے پر سندورکا ٹیکہ لگا کر تیار کیا جاتا ہے اس پر پھولوں کی چادر پہنائ جاتی ہے پھر بکرا زبحہ کر کے اس کا خون اس بڑے مگر مچھ کے جسم پر مل دیا جاتا ہے پھر شیدیوں کے زیلی قبیلہ کا سردار اسے اس بکرے کی کھوپڑی کھلاتا ہے اور اگر اس مگر مچھ نے وہ کھوپڑی کھا لی تو فورا ایک ڈرم س ڈھول بجنا شروع ہو جاتا ہے اس ڈھول کو "مگرمان”کہتے ہیں یہ مگرمان شیدیوں کا روحانی ساز ہے جس کی تھاپ پرمرد سور خواتین محو رقص ہو جاتے ہیں دوران رقص ان پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اس رقص کے ساتھ ہی ایک مخصوص زبان میں شیدی عورتیں کورس کے انداز میں ورد کرنا شروع کر دیتی ہیں اور باقی کچھ مرد ایک مخصوص دھمال شروع کر دیتے ہیں ان پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور لوگ ان سے مستقبل کے متعلق سوال کرنے لگتے ہیں۔ اور اسی دوران بکرے کا باقی ماندہ گوشت بھی اس مگر مچھ اور دیگر کو کھلادیا جاتا ہے۔دراصل ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر مگرمچھ ان کا گوشت کھا لے تو وہ سال بہت اچھا گزرے گا اور اسی لئے اس کے گوشت کھانے پر بہت خوشی منائ جاتی ہے جبکہ اسکے برعکس اگر مگر مچھ گوشت نہ کھائے تو پھر مجمع میں اداسی چھا جاتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آنے والا سال ان کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔۔اسی طرح دوسرا دن شیدیوں کے دوسرے قبیلے کا ہوتا ہے وہ بھی اسی انداز میں ایسا ہی کرتے ہیں جیسے پہلے بتایا گیا۔شیدیوں کے چار بڑے گروپ پاکستان میں آباد ہیں اور ہر روز ایک نئے گروپ کے سربراہ کو یہ موقع دیا جاتا ہے یوں یہ میلہ ہنستے مسکراتے ناچتے گاتے اختتام پزیر ہو جاتا ہے۔
    صدیوں سے جاری یہ رسم۔اور یہاں کی طلسماتی دنیا یقیننا دلچسپی سے خالی نہیں اگر اوقاف،آثار قدیمہ اور ٹورزم کے محکمے اس جگہ کو اور یہاں پر پائ جانے والی صدیوں پرانی روایات اور ثقافت کو جدید انداز میں اجاگر کریں اور اس مقام پر ملکی اور غیر ملکی ٹورسٹ کو سہولیات بہم پہنچائیں توقوی امید کی جاسکتی ہے کہ کثیر تعداد میں یہاں ٹورسٹ آنا شروع ہو جائیں اس طرح ملک کو زر مبادلہ بھی حاصل ہو اور مقامی لوگوں کو روزگار بھی۔

    ‎@Azizsiddiqui100

  • ‏جنسی زیادتیوں کو روکنے کا بہترین طریقہ قرآن اور سنت کے احکامات ہیں تحریر اکرام اللہ نسیم

    ‏جنسی زیادتیوں کو روکنے کا بہترین طریقہ قرآن اور سنت کے احکامات ہیں تحریر اکرام اللہ نسیم

    اللہ رب العزت کا ہم سب پاکستانیوں پر بہت بڑا کرم ہے
    کہ اللہ رب عزت نے ہمیں پاکستان جیسے آزاد ملک میں پیدا کیا جہاں ہر قسم کے مذہبی اعمال ایک مسلمان آزادی سے ادا کرتا ہے جس پر ہم رب کریم کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہیں
    اب ہمارے پیارے ملک پاکستان میں بے حیائی اور درندگی کا طوفان اٹھا ہے اور وہ بے حیائی کا درندگی کا طوفان جنسی زیادتیوں کی صورت میں پاکستان کے طول وعرض میں بہت تیزی سے پھیل چکا
    اب اسکے روک تھام کے لئے ہر شعبے سے وابستہ رہنے والا قاضی ہو یا قاری ہو
    خطیب ہو یا ادیب ہو صحافی ہو یا سپاہی ہو ڈاکٹر ہو یا کرکٹر سیاستدان ہو یا قانون دان ہو جنرل ہو یا کرنل فقیر ہو یا امیر ان سب کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ جنسی زیادتیوں کے روک تھام کے لئے آگے بڑھے اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ معاشرہ انسانوں کا معاشرہ لگے حیوانوں کا نہیں
    اب آئیں آپ کے سامنے صرف ایک شہر کا ریکارڈ رکھتے ہیں کہ
    رواں برس پاکستان کے دل لاہور میں زیادتی کے 369 کیس سامنے آئے جس میں کسی بھی ایک ملزم کو سزا نہیں ہوئی
    اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ جنسی زیادتیوں میں ملوث افراد کو نہ سزا دی جاتی ہے نہ انکو بھاری جرمانہ کیا جاتا
    اگر واقعتاً پاکستان کے باسی اور اسکے تمام ادارے پاکستان میں جنسی زیادتیوں کو روکنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے قرآن اور احادیث مبارکہ میں جو احکامات زانیہ عورت اور زانی مرد کے لئے ہیں اسکو عمل میں لایا جائے جسطرح کے قرآن مجید میں ہے
    الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ

    جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمھیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو۔
    یہاں اس آیت میں زانیہ اور زانی کے ساتھ نرمی کرنے سے واضح منع کیا گیا ہے
    ملک پاکستان میں زانی اور زانیہ کا قانون نرمی پر مبنی ہے اس نرمی کا اندازہ آپ لاہور میں 369 جنسی زیادتیوں کے کیسز سے لے سکتے ہیں کہ اسمیں سے کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی
    اور آئے روز جنسی زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے
    جب تک اللہ رب العزت کے نازل کردہ احکامات ملک پاکستان کا قانون نہیں بن جاتے جنسی زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوگا کمی نہیں ہوگی
    جنسی زیادتی میں شامل دو چار لوگوں کو اگر ڈی چوک میں کھڑا کرکے شرعی سزا دی جائے اور اسکو تمام ٹی وی چینلز پر لائیو دیکھا جائے
    اس سے لوگوں کے دلوں میں خوف آجائے گا کہ اسکی اتنی بڑی سزا ہے جب دل میں۔ خوف پیدا ہوجائے تو انسانی فطرت ہے کہ جس جگہ میں اسکو خوف ہو وہ اس کام سے رک جاتا ہے
    مگر بدقسمتی سے ایک اسلامی ملک کے اندر اسلام کے مطابق سزا کا نفاذ نہیں جنسی زیادتیوں میں ملوث درندے کبھی قبر سے عورت کا میت نکال کر کبھی چھ سال کی بچی کو کبھی دس کی بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں
    ‎@realikramnaseem ٹویٹر ہینڈل