Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ۔ڈریم لینڈ "اٹلی میں پانی کا شہر تحریر فرزانہ شریف

    ۔ڈریم لینڈ "اٹلی میں پانی کا شہر تحریر فرزانہ شریف

    اٹلی جیسے عام زبان میں ہم "ڈریم لینڈ "بھی کہہ سکتے ہیں اس خوبصورت ترین ملک میں اتنے خوبصورت مقامات ہیں کہ انسان کو لگتا ہے وہ خوابوں کی دنیا میں آگیا ہے ۔۔جہاں گھومنے پھرنے کے لیے بہت ذیادہ خوبصورت مقامات ہیں وہیں ایک شہر پانی میں بنا ہوا ہے جیسے اٹالئین میں
    Venezia
    اور انگلش میں وینس ۔عام زبان میں پانیوں کا شہر اور۔روشنیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے یہ اول نمبر پر ہے خوبصورتی کے لحاظ سے کہ انسان ایک دفعہ وہاں سے ہوکر آئے تو اپنا دل وہی پہ چھوڑ آتا ہے بار بار جانے کو دل چاہتا ہے۔ اٹلی کے بالکل ساتھ ہی سوئٹزر لینڈ ہے یہ ہمارے لیے ایسے ہی ہے جیسے آپ اسلام آباد سے لاہور جاتے ہیں اور جرمنی فرانس ایسے ہی ہیں جیسے آپ اسلام آباد سے کراچی جاتے ہیں ۔بس پر بھی جاسکتے ہیں جہاز پر بھی اور ٹرین پر بھی ۔۔۔!!!
    جب آپ وینس میں داخل ہوجاتے ہیں آپکو لگتا ہے کسی الگ ہی دنیا میں داخل ہوگے ہیں ایک ایک منظر آپکو اپنے سحر میں گرفتار کرلیتا ہے آپکو یہاں دنیا کے ہر ملک کے لوگ نظر آئیں گے گھومتے پھرتے۔۔ بس وہاں کے رہائشی لوگ بہت کم نظر آئیں گے اگر آپکو ان سے ملنے کی خواہش ہے دیکھنے خواہش ہے تو آپ ان سے وقت لیکر ان کے گھر جاکر ان سے مل سکتے ہیں لیکن وہاں گے بندے کے دیکھنے کے لیے اتنا کچھ ہوتا ہے کہ ان لوگوں سے ملنے کا آپ کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ۔۔!!
    یہ پورا شہر پانی میں تعمیر کیا گیا ہے کئی سو سال پہلےپرانی طرز پر بنے ہوئے مضبوط اور خوبصورت ترین گھر ۔پرانی تاریخی عمارتیں آپکو اپنے سحر میں گرفتار کرلیں گی۔دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر اور اس کے اندر کے مناظر دیکھ کر آپ کو لگے گا اپ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گے ہیں۔۔
    دنیا کا سب سے بڑا میوزیم ہاوس بھی یہاں ہے آپ ایک دفعہ وینس میں داخل ہوجائیں گھومتے پھرتے آپکو وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا ایک ایک سین آپکو اپنے سحر میں گرفتار کرلے گا آپکو وینس شہر میں داخل ہونے کے لیے بھی بحری جہاز کا ٹکٹ لینا پڑتا ہے پھر چاہیں تو آپ سارا دن اس ٹکٹ پر بحری جہاز کے ذریعے وینس کا شہر جہاز میں بیٹھے بیٹھے انجوائے کرو 24 گھنٹے اس ٹکٹ کی معیاد ہوتی ہے آپکو کوئی کرایہ نہیں دینا پڑتا جہاز کے ٹکٹ کا ۔۔آپ چاہیں تو جہاز سے اتر کر وینس کی گلیوں میں داخل ہوجائیں اور ایک جگہ پر وینس کے خوبصورت تاریخی مجسمے اور تاریخی آئاٹمز آپکو دیکھنے کو ملیں گے قدیم طرز کی بنی خوبصورت عمارتیں یہاں کا حسن ہیں ایسے ایسے شاہکار آپ کو دیکھنے کو ملیں گے کہ چند لمحے آپ مہبوت ہوکر رہ جائیں گے وینس کی گلیاں پانی پر بنی ہوئی ہیں لیکن پانی کی اونچائی سے اتنی اوپر کرکے بنائی ہوئی ہیں جیسے پل ٹائپ کی چوڑی گلیاں۔۔
    یہ ایسا شہر ہے، جس میں سڑکوں کی جگہ نہریں اور گاڑیوں کی جگہ کشتیاں چلتی ہیں وہاں کے رہائشیوں نے اپنے گھروں کے ساتھ کشتیاں رکھی ہوئی ہیں جس کے ذریعے وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں ۔امیر لوگوں نے جدید طرز کی مہنگی اور بڑی کشتی رکھی ہوئی ہے اور اپر مڈل کلاس لوگوں نے نارمل ضرورت کے مطابق کشتی رکھی ہوئی ہے ۔کوئی گھر ایسا نہیں جس کے دروازے کے ساتھ کشتی بندھی نظر نہ آئے ۔۔۔!!
    یہاں بڑے بڑے ریسٹورینٹ ۔کافی شاپس۔پاکستانی ریسٹورینٹ ۔بھی ہیں جس سے عام سیروتفریح کرنے والے لطف اندوز ہوتے ہیں عام طور پر یہاں دوسرے ممالک سے لوگ ذیادہ آتے ہیں امریکہ انگلینڈ اور دنیا کے ہر کونے سے ۔۔جو ایک دفعہ اس پانی کے شہر میں آیا اس کا بار بار دل چاہتا ہے دیکھنے کو گھومنے کو بندہ دل چھوڑ جاتا ہے وینس کی خوبصورت وادیوں میں ۔۔!!
    وینس کے شہر کی سیر کرنے کا بہترین موسم فروری سے مئی۔اور ستمر سے نومبر ۔۔ان مہینوں میں آپ بھرپور ایک ایک پل انجوائے کرسکتے ہیں نہ گرمی نہ سردی ۔۔سب سے مزے کی چیز مجھے یہاں کشتیوں میں بیٹھ کر پورے وینس کی سیر کرنا لگی آپ کو لگتا ہے بس آپ کسی اور ہی دنیا میں آگے ہو کافی ذیادہ تاریخی عمارتیں اور ان کی ہسٹری آپکو کشتی چلانے والا ساتھ ساتھ بتاتا جاتاہے ۔یہاں اٹالئین بھی دوسرے صوبوں کی اٹالئین سے الگ ہے۔۔جی ہاں جیسے پاکستان میں ہر صوبے کی اپنی زبان ہے یہاں بھی ہر صوبے کی اپنی اٹالئین لینگویج ہے یہ ہے کہ آپکو سمجھ آجاتی ہے اور ہماری ذبان ان کو بھی سمجھ آجاتی ہے ۔۔کشتی والا آپ سے 80 یورو لیکر 35 منٹس تک آپ کو وینس شہر میں گھوما سکتا ہے اور جتنے پیسے آپ ذیادہ دیتے جاو گے آپکو اتنا ذیادہ وقت دے گا اپ دوسرا روٹ لینے کے لیے کشتی چینج بھی کرسکتے ہو ۔۔وینس کااپنا الگ جھنڈا بھی ہے بےشک یہ اٹلی کا ہی شہر ہے لیکن کئی سو سال پہلے جو ان کا ریڈش میرون جھنڈا ہے وہ آج بھی ہر جگہ اٹلی کے جھنڈے کے ساتھ برابر لگا ہوا نظر آئے گا ۔۔
    وینس پورے یورپ کا سب سے امیر ترین شہر ہے ماضی میں وینس نے صلاح الدین ایوبی کو بحری جہاز بھی دیے تھے اس کے شروع سے مسلمان ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں اس حساب سےوینس کی تاریخ بہت دلچسپ رہی ہے ایک وقت تھا یہ پوری دنیا کے لیے تجارت کا مرکز تھا یہاں لوگ دوردراز ملکوں سے اپنا سامان لیکر آتے تھے جن کے پاس بکریاں ہوتی تھیں وہ بکریاں لے کر آتے جب کے پاس چاول دالیں۔ہوتی تھیں وہ چاول دالیں لیکر آتے تھے جن کے پاس گائے اونٹ یا باقی جانور ہوتے وہ لیکر آتے پھر کرتے ایسے تھے کہ وہ اپنی بکریاں دے کر جس چیز کی انھیں ضرورت ہوتی وہ دوسروں سے لے لیتے تھے مطلب چیزوں کے بدلے چیزیں
    ۔۔
    صلیبی جنگوں میں وینس کا بہت کردار رہا ہے یہ بحری جہاز دیتے تھے جنگوں میں ۔ٹھیٹھر کا آغاز بھی پہلی دفعہ وینس ہی سے ہوا تھا یہاں بڑے بڑے ٹھیٹر لگتے تھے ۔۔اب بھی لگتے ہیں لیکن پہلے کی طرح نہیں ۔۔
    آپکو وینس کے بازاروں میں گھومتے پھرتے اتنا مزہ آتا ہے کہ شائد دنیا کے مہنگے ترین شاپنگ سنٹرز پر بھی گھوم کر وہ خوشی نہ ملے جو اس بازار میں ملتی ہے پھر جب آپ واپس آجاتے ہو وینس سے تو بہت دن تک بھی اس کے سحر میں گرفتار رہتے ہو ایسا خوبصورت پیارا شہر ہے ۔۔اللہ اس شہر کی روشنیاں ایسے ہی روشن رہیں اور اس شہر کو ایسے ہی آباد رکھے آمین
    میرا دل ہے اٹلی اور پاکستان ۔
    شاد آباد رہے انگلستان اٹلی اور پاکستان آمین ۔۔

    تحریر فرزانہ شریف

    موضوع تحریر ۔۔ڈریم لینڈ "اٹلی میں پانی کا شہر "

  • لوڈشیڈنگ ‘‘کا جن کب قابو میں آئیگا ؟ تحریر: محمد انور

    پاکستان میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی بے حد اضافہ ہو گیا ہے ۔بجلی کی پیداوارمیں کمی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے اور شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں سولہ گھنٹے سے زائد کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ لوڈشیڈنگ سے جہاں صنعتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے وہیں عام تاجر بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں اور ان کا روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا ہے ایک طرف توسال 2020 کوویڈ کی نذر ہوگیا۔ تاجر حضرات کورونا کے باعث کاروبارنہ کرسکے اور اب گرمیوں میں کوویڈ میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے تو ان کو بجلی کی قلت نے متاثر کردیا۔
    توانائی کے بحران نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اورملک میں ہرطرف روشنیاں گل ہورہی ہیں۔ صنعتی پیداوار‘ گھریلو زندگی اورسماجی ، معاشی اور دفتری معمولات درہم برہم ہوچکے ہیں۔ معاشی ترقی بے روزگاری میں اضافہ اور غربت کے پھیلاؤ میں بھی بجلی کی کمی اور اس کی قیمت میں اضافہ ایک اہم عنصر ہے۔ ملک کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جو بجلی کی اس قلت سے متاثر نہ ہو کھانے پینے سے لیکر پیداوار تک ہر چیز تو بجلی کے تابع ہے۔ اگر بجلی نہ تو انسان ایسے ہوجاتا ہے جیسے بینائی کے بغیر ہو۔
    لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو بجلی نہیں مل رہی لیکن بجلی کے بل میں کوئی کمی نہیں ہو رہی، الٹا اضافہ ہی ہورہا ہے۔ اس وقت جو بجلی عوام کو میسرکی جارہی ہے وہ نہ ہونے کے مترادف ہے۔ عام روٹین میں جو وولٹج مہیا کئے جاتے ہیں وہ 220 یا اس سے زائد ہوتے ہیں مگر اس وقت جو وولٹج عوام کو مل رہے ہیں وہ صرف 100ہیں جو گھریلو برقی آلات کونہیں چلا سکتے ۔ لوگ اتنی گرمی میں پانی سے بھی تنگ ہیں کیونکہ 100وولٹج سے واٹر پمپ نہیں چلتے بلکہ جل جاتے ہیں اورعوام پانی کے لیے باہر نہروں یا نلکوں کا رخ کرتے ہیں۔ فریج کا چلنا تو ممکن ہی نہیں بلکہ اس گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کئی سوروپوں سے زائد کا برف بازار سے خرید کر استعمال کرنا پڑتا ہے جبکہ بجلی کا بل اپنی آب و تاب کے ساتھ آرہا ہے۔ بجلی ملے نہ ملے مگر بل ہر بار گھر کے دروازے پر پہنچ جاتا ہے۔
    پاکستان میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہونا کوئی نئی بات نہیں یہ تواب معمول کا حصہ ہے۔ جس کو پورا رکھنے کے لیے ہر قدم اٹھانا منظور ہے۔ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ نئے پاکستان یا پرانے پاکستان کا نہیں ہے یہ ہردور کا مسئلہ ہے نوازشریف، پرویز مشرف ، زرداری اور اب عمران خان کی حکومت میں بھی لوڈشیڈنگ زوروں شور سے جاری ہے۔ ہر دور میں اس پر قابو پانے کے بلندو بانگ دعوے کئے جاتے رہے مگرحقیقت میں مکمل قابوپانے کے لیے خاص اقدامات نہیں کئے ہرحکومت نے تھوڑا بہت قدم اٹھا کریہ ثابت کرنے کے کوشش کی جیسے لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کردیا ہے۔ گرمی کی شدت جون کے وسط سے لیکر اگست تک بھرپور عروج پر ہوتی ہے اور ان ماہ میں ہی حکومت کی کارکردگی کا پتہ چلتا ہے۔
    گرمی کی شدت کو دیکھ کر سکولوں کی چھٹیاں کردی جاتی ہیں ، دفتری اوقات میں تبدیلی کردی جاتی ہے مگر اس کا کیا کریں کہ گھر بیٹھے وقت میں جب گرمی آگ برسا رہی ہوتی ہے اوراوپر سے بجلی بھی نہ ہوتو پھر گرمی سے بچنے کے لیے کیافارمولااستعمال کرنا چاہیے؟مجھے یاد ہے ہر سال لوڈشیڈنگ جب عروج پر ہوتی ہے اور وام کا جینا مشکل ہورہا ہوتا ہے تو عوامی فرمائش پرایک دو کالم لکھنے پڑتے ہیں اوریہ بھی پتہ ہے کہ کالم لکھنے سے اس کا حکومتی سطح پر کبھی کوئی اثر نہیں ہوگا مگر اتنا ضرورہے کہ اپنا ضمیر مطمئین ہوجاتا ہے کہ عوام کی پریشانی حکام بالا تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کردیا ہے ۔
    حکومت کو چاہیے کہ بجلی کی پیداوار بڑھانے اور ڈیم بنانے میں سنجیدہ ہو کیونکہ مسائل ہمارے مستقبل کے دشمن ہیں جن کی وجہ سے ہم نقصان اٹھا سکتے ہیں۔ میٹرو بس یا اورنج ٹرین ہو، ہاؤسنگ سکیم ہو یا قرضہ سکیم ، ان سب سے زیادہ ضروری ہے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے کے لیے حکومت ترجیح بنیادوں پر اقدام اٹھانا ہوں گے کیونکہ ہرکاروبار، ادارہ، انڈسٹریز اور انسانی ضروریات زندگی کا تعلق بجلی سے ہے اگر بجلی نہ ہو تو ہرشے متاثرہوتی ہے۔ اس لئے حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ لودشیڈنگ کے خاتمے کے مسئلہ جلد ازجلد حل کرے تاکہ عوام سکون سے جی سکے۔

  • افغانستان میں امن تحریر : عفراء مرزا

    افغانستان میں امن تحریر : عفراء مرزا

    افغانستان میں آخرکار طالبان اپنے پاؤں مضبوط کرنے میں کام یاب ہوچکے ہیں ۔ عسکری محاذ پر تو ان کی مہارت سے دنیا واقف ہوچکی تھی اب سفارت کاری و سیاست میں بھی وہ دنیا کو حیرت زدہ کیے ہوے ہیں۔ امریکا کی شکست نے جہاں دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کیا ہوا ہے وہی پر آنے والے سالوں تک افغانستان کی فتح پر محقق اپنے اوراق طالبان کی پالیسیوں کے نام کرتے رہے ہیں ۔

    جدید ترین ٹیکنالوجی و اسلحہ اور دنیا کے بہ ترین اذہان کو شکست سے دوچار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ آج بھی جذبوں اور دعاؤں سے جنگ جیتی جاسکتی ہے ۔ کابل ہوائی اڈے سے آخری امریکی کے انخلا کے بعد جب طالبان نے کنٹرول سنبھالا تھا اور سجدہ شکر ادا کرکے اپنی فتح یابی کو اللہ وحدہ لاشریک کے نام کیا تھا تو کتابوں میں لکھی وہ باتیں سچ ثابت ہوئی تھیں ۔ طالبان کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اسلامی نظام کے صرف حامی نہیں بلکہ اس وقت حتی المقدور کوشش میں ہیں کہ دنیا کے ساتھ تعلقات کو پرامن رکھتے ہوے باہمی اتحاد و اتفاق کی فضا کو قائم رکھا جاے ۔ ماضی میں ہوئی غلطیوں اور سختیوں سے وہ اچھا خاصا محتاط رویہ اختیار کیے ہوے ہیں ۔
    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کا اظہار کرتے ہوے کہا ہے کہ "ہم افغانستان پر مسلط نہیں ہوے بلکہ عوام کے خادم ہیں اور قوم سے وعدہ کرتے ہیں کہ اسلامی روایات ، آزادی و خود مختاری کی حفاظت کریں گے ۔

    انھوں نے مزید کہا ہے کہ تمام افغان ملک اور مذہب کے لیے متحد ہو جائیں۔” کابل میں ایک تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوے ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ "امریکا ایشیائی ممالک میں دراندازی کے لیے مضبوط فوجی اڈہ بنانے کے لیے افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا اور اس کا ایک مقصد قدرتی وسائل کو لوٹنا بھی تھا ۔ ہم غیرملکی سرمایہ کاروں کو افغانستان میں لانے کی کوشش کریں گے ۔ ہم دنیا کو یقین دلاتے ہیں کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔”

    افغانستان میں طالبان اپنے پاؤں جما چکے ہیں ۔ ایک چھوٹے علاقے کے سوا پورا افغانستان طالبان نے فتح کرلیا ہے اور اب ان کی نظریں تعلقات کو سازگار کرنے اور 20 سال تک قابض رہنے والے امریکا و ناٹو کو بھی امن و خیر سگالی کی دعوت و پیام دے رہے ہیں ۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ جہاں طالبان امن کی کوششوں میں مصروف ہیں وہی پر امریکا و ناٹو سمیت دیگر ممالک بھی طالبان کے مستقبل کے طرز عمل کی بنیاد پر ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

    موجودہ ساری صورت حال میں پاکستان کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے ۔ پاکستانی کردار کو اس بات سے دیکھیے کہ امریکا تک پاکستانی قیادت پر تکیہ کیے ہوے ہے اور اپنے فوجیوں کو نکالنے کے لیے پاکستان کی طرف دیکھا گیا تھا ۔ پاکستان دنیا اور طالبان کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کررہا ہے ۔ جہاں وہ طالبان کو حکومتی طرز عمل کی الف ب سکھا کر پٹری پر چڑھانے کی سعی کررہا ہے وہی پر امریکا و دیگر مقتدر ریاستوں کو بھی سمجھا بجھا کر سیدھا کرنے میں لگا ہوا ہے ۔ پاکستان کا واحد مقصد اپنے پڑوس کو پرامن دیکھنا ہے تاکہ پاکستان مزید خاک و خون سے بچا رہے اور افغان باشندے اپنے ملک میں سکون کی نیند سے سو سکیں۔ سی پیک ایک طرح سے افغان امن کے ساتھ وابستہ ہے اور اسی لیے چین بھی افغان امن میں دل چسپی لے رہا ہے ۔

    بھارتی دل چسپی تو کسی سے چھپی نہیں کہ وہ پاکستان و چین کو سبق دکھانے کے خواب دیکھ کر افغانستان میں لمبی چوڑی سرمایہ کاری کی آڑ میں دہشت گردانہ کارروائیاں کروا رہا تھا ۔ طالبان قیادت بھارت کو متنبہ کرچکے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف افغانی زمین کا خیال دل سے نکال دے ۔ اس وقت اگر کوئی سخت مضطرب ہے تو وہ بھارت ہے کہ وہ توسیع پسندانہ مقاصد کو ناکام ہوتا دیکھ نہیں پارہا ۔ اس لیے اگر کوئی بھارت کو ہلکی سی تھپکی بھی دیتا ہے تو وہ بھارت افغانستان و پاکستان کی امن کی خواہش کو ملیا میٹ کرسکتا ہے ۔ امریکا و ناٹو ممالک کو بھارت جیسے ملک پر گہری نظر رکھنا ہوگی تاکہ افغان امن کا قیام شرمندہ تعبیر ہوسکے ۔

    ٹویٹر اکاونٹ : @AframirzaDn

  • تم ہی غالب رہو گے ۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

    تم ہی غالب رہو گے ۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے ۔
    وَلَا تَهِنُواْ وَلَا تَحۡزَنُواْ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
    "تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو.”
    سورة آل عمران 139
    20 سال قبل امریکہ میں دہشت گردی کی مبینہ واردات کے بعد دنیا بدل گئ کل کے مجاہد امریکہ کے منظور نظر وائٹ ہاوس کے مہمان ایک دم سے مجرم اور دہشت گرد ٹھرے۔۔ امریکہ نے دنیا کو پیغام دیا جو ہمارے ساتھ نہیں وہ ہمارا دشمن ہے اور پاکستان کو عجلت میں فون کرکے دھمکا کر ساتھ دینے کا وعدہ لے لیاگیا
    افغانستان میں امارت اسلامی کو سخت پیغام دیے گئے اسلام آباد میں موجود طالبان کے دنیا میں واحد سفارت خانے کو بند کر دیا گیا سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو گرفتار کرکے گوانتا نامو بے کے عقوبت خانے پہنچا دیا گیا ۔
    افغانستان پر جدید ترین بی52 طیاروں سے بمباری کرکے طالبان کی برائے نام دفاعی قوت کو ختم کیا گیا مدرسوں سکولوں اور ہسپتالوں پر بےدریغ بمباری کر کے وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا۔
    جب متوقع مزاحمت مکمل ختم ہونے بارے پختہ یقین ہوگیا تو امریکہ اکیلے زمین پر اترنے کی بجائے نیٹو اتحاد کو اپنے ساتھ لے آیا اور پختون افغانوں پر مظالم کا نیا باب رقم ہوا ۔افغانستان میں اپنا قبضہ مضبوط بنانے کے لئے شمال کے فارسی بولنے والے کرائے کے قاتلوں کو ساتھ ملا کر قلعہ جنگی ننگرہار قندہار ہلمند میں طالبان کا قتل عام ہوا اور بدنام زمانہ عقوبت خانے معرض وجود میں آگئے جبر کے ذریعے طالبان کو پہاڑوں غاروں میں پناہ لی وہاں پر بھی تورا بورا جیسی تباہی مچائی کچھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے یہاں پر بھی انکا پیچھا کیا گیا اور پاکستانی سابق حکومتوں کی خاموش اجازت سے قبائلیوں علاقوں میں ڈرون حملوں کے ذریعے سول آبادی پر آگ اور بارود برسا کر ہزاروں معصوم لوگوں کو قتل کر کے امریکہ نے کابل میں کٹھ پتلی حامد کرزئی عبدالرشید دوستم اور اشرف غنی جیسے کرداروں پر سرمایہ کاری کی اور اپنے قبضے کو مضبوط بنانے کی اپنے تئیں بھرپور کوشش کی لیکن حاصل ضرب کیا ملا ۔
    طالبان نے اپنی بچی کچھی قوت کے بل پر اتحادی فورسز پر حملے شروع کر دیئے وقت کے ساتھ ساتھ ان گوریلا کاروائیوں میں شدت آنے لگی امریکہ نے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی کے پاکستان طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت نے بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں ڈالیں پاکستان کے ازلی دشمن کو ڈیورنڈ لائن کے ساتھ ساتھ سفارت خانوں کے نام پر تخریب کاری کے اڈے فراہم کئے گئے جہاں سے پاکستانی سیکورٹی فورسز پولیس اور عوام پر دہشت گردانہ کاروائیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔
    لیکن افغان طالبان نے مسلسل اتحادی افواج پر حملے جاری رکھے اور کٹھ پتلی افغان حکومت کو کابل اور شمال تک محدود کردیا ۔امریکہ نےاس مکمل ناکامی کا الزام پاکستان پر لگانا شروع کیا اور
    پاکستان پر دباؤ ڈالا جانے لگا کے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے اور امریکہ اور اتحادی افواج کو پاکستان کے اندر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی کی اجازت دی جائے۔
    پاکستان دفاعی قیادت نےامریکی مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے پیغام دیا کہ پاکستان اپنے علاقے میں جو کاروائی کر گے خود کرے کسی کو اجازت نہیں کے سرحد پار آئے۔
    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کردار ادا کیا اور قربانیاں دیں وہ ایک الگ باب ہے اس پر گفتگو پھر کبھی۔۔۔
    پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان نے کئ سال قبل کہا تھا کہ اس دہشت گردی کے خلاف جنگ ایسے نہیں جیتی جا سکتی طالبان سے مذاکرات کرنے کے لیے پشاور میں طالبان کا دفتر کھولا جائے اس وقت لوگوں نے عمران خان کی بات کا مزاق اڑایا اور عمران خان کوطالبان خان کہا گیا۔۔
    لیکن چند ہی سالوں بعد دنیا نے دیکھا کہ عمران خان کی تجویز کے مطابق قطر کے درالحکومت دوحہ میں طالبان کو دفتر کھول کر دیا گیا۔مذاکرات کے کئ ادوار ہوئے طالبان نے کئ دفعہ امریکی بات سننے سے انکار کر دیا پھر پاکستان کی منت سماجت کی جاتی کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے ۔
    پاکستان نے افغانستان میں امن کے لئے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا جسکی دنیا معترف ہے۔
    امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت میں آتے ہی عندیہ دیا کے سابقہ حکومتوں نے امریکہ کو غیر ضروری جنگوں میں الجھا کر نقصاں پہنچایا ہم افغانستان جنگ سے نکلیں گے ۔
    افغانستان میں طالبان نے مذاکرات کے ساتھ ساتھ اپنے حملے تیز کردیے بتدریج صوبے فتح ہونے لگے ۔امریکہ میں جو بائیڈن حکومت میں آتا ہے اور 31 اگست تک امریکی فوج کے مکمل انخلاء پر مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں ۔پاکستان کے وزیر اعظم کو رام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد پاکستان میں امریکہ کو مستقل اڈا دیا جائے تاکہ بوقت ضرورت طالبان پر فضائی حملے کرکے افغان کٹھ پتلی حکومت کو مضبوط کیا جائے وزیراعظم عمران خان کے تاریخی الفاظ "Absolutely Not ” سے امریکی امید اور خواہش دم توڑ گئ اور اس نے مکمل رخت سفر باندھ لیا ۔
    قصہ مختصر طالبان نے روس دور کی ٹوٹے پھوٹے اسلحہ اور ایمانی قوت کےزور سے دنیا کی سپر پاور اور بڑے فوجی اتحاد کو شکست دی اور امریکہ کی بنائی ہوئی افغان کرایہ کی فوج جو اٹک تک آنے کی پاکستان کو گیدر بھبکی دیتے تھے وہ ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور زیادہ تر فوجیوں نے اپنا امریکی اسلحہ طالبان کے قدموں میں ڈھیر کرکے سرنڈر کردیا کچھ دیگر ممالک میں فرار ہوگئے۔طالبان کابل میں بغیر کسی مزاحمت کے داخل ہوئے اور عین 15 اگست بھارتی یوم آزادی کے روز کابل پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا اور بھارت نواز اشرف غنی صدارتی محل چھوڑ کر فرار ہوگیا۔اور بھارت میڈیا میں صفحہ ماتم پچھ گئ۔۔۔
    امریکہ نے اپنے لوگوں کو نکالنے کے لیے تقریبا 4ہزار مزید فوجی بھیجے جو کابل سے فرار ہونے والوں کو سی 130 طیاروں میں بیٹھا کر روانے کر رہے تھے کہ کابل ایئرپورٹ پر خود کش حملہ میں کئ امریکی فوجی اور بےگناہ لوگ مارے گئے امریکہ نے معاہدے کے مطابق 31 اگست کی شب افغانستان سے اپنے تمام فوجیوں کو نکالنے میں ہی عافیت سمجھی اور نکل گیا۔ طالبان ثابت قدمی ہزاروں قربانیوں اور قوت ایمانی کے سبب غالب اور فتح یاب ہوئے۔
    @Educarepak

  • یوم دفاع (۲)  ریاست جموں وکشمیر کے تنازعہ کا تاریخی پس منظر   تحریر: احسان الحق

    یوم دفاع (۲) ریاست جموں وکشمیر کے تنازعہ کا تاریخی پس منظر تحریر: احسان الحق

    روز اول سے ہندوستان برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے خلاف تھا. تقسیم برصغیر کے بعد، ہندوستان پاکستان کے خلاف ہو گیا اور مختلف طریقوں سے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے پاکستان کے وجود کو نقصان پہنچانے میں مصروف عمل رہا ہے.

    برصغیر کی تقسیم کے کچھ دن بعد دونوں ممالک کے درمیان، ریاست جونا گڑھ، رن کچھ، حیدرآباد دکن اور ریاست کشمیر کے قبضے اور الحاق پر جھگڑا ہو گیا. پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کی اہم ترین اور پیچیدہ ترین وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ "مسئلہ کشمیر” ہے. یہ غلط نہ ہوگا اگر میں یہ کہوں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام جنگوں کی وجہ بھی مسئلہ کشمیر ہے. مسئلہ کشمیر کو سمجھنے کے لئے اس کے تاریخی پس منظر کو جاننا لازمی ہے.

    14 اگست 1947 کو تقسیم برصغیر کے وقت تاج برطانیہ کا راج ختم ہو گیا. برصغیر میں موجود 562 ریاستوں کو اپنی مرضی سے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے یا خودمختار ریاست کی حیثیت سے رہنے کا حق حاصل ہو گیا. ریاست جوناگڑھ کے حکمران نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا. ریاست میں ہندوؤں کی اکثریت تھی اور اسی بنیاد پر ہندوستان نے فوج کشی کرتے ہوئے جونا گڑھ پر ناجائز قبضہ کر لیا. حیدرآباد دکن خود مختار حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی تھی مگر بھارت نے ستمبر 1948 میں ریاست حیدرآباد دکن پر ناجائز قبضہ کر لیا. ریاست رن کچھ پر کافی سال تک پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ چلتا رہا، چھوٹی بڑی کافی جھڑپیں بھی ہوئیں. خیر، رن کچھ کا مفصل موضوع ہے جس کی تفصیل یہاں مناسب نہیں.

    ریاست کشمیر کا مسئلہ جونا گڑھ، رن کچھ اور حیدرآباد کی ریاستوں سے مختلف ہے. ریاست کشمیر کا حکمران ہندو تھا مگر یہاں کی 80 فیصد آبادی مسلمان تھی. جغرافیائی لحاظ سے بھی یہ علاقہ پاکستان کے ساتھ ملا ہوا تھا. مذہبی، سیاسی، جغرافیائی اور ثقافتی لحاظ سے ریاست کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ بنتا تھا اسی لئے مہاراجہ کشمیر نے معاہدہ جاریہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا. ریاست کے تمام امور اور فرائض پاکستانی حکومت نے سنبھال لیے. اس معاہدے کے پیچھے ایک سازش تھی کہ وقتی طور پر مسلم اکثریتی آبادی کو کسی قسم کی بغاوت یا تحریک سے باز رکھا جائے تاکہ اندر کھاتے ریاست کشمیر کا الحاق بھارت سے کیا جا سکے. جواہر لال نہرو اور گاندھی کی ملی بھگت سے مہاراجہ کشمیر نے یہ چال چلی تاکہ مسلم اکثریت آبادی مہاراجہ سے اعلان بغاوت نہ کر دے. پاکستان اور کشمیری مسلمانوں کو بیوقوف بناتے ہوئے درپردہ وہ ہندوستان سے الحاق چاہتا تھا. جب کشمیری مسلمانوں پر اصلیت عیاں ہوئی تو مسلمانوں نے اپنی مدد کے بل بوتے پر 24 اکتوبر 1947 کو کشمیر کا کچھ حصہ آزاد کروا لیا. جس کو آزاد کشمیر کا نام دیا گیا اور اس کے پہلے صدر ابراہیم منتخب ہوئے. ہندو مہاراجہ وادی کشمیر سے بھاگ کر جموں میں روپوش ہو گیا جہاں اس نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو خط لکھا کہ بھارتی فوج کی مدد درکار ہے. چونکہ قانونی طور پر کشمیر پاکستان سے ملحق تھی اس لئے بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل نہیں ہو سکتی تھیں. مہاراجہ نے لکھا کہ ریاست کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں. چنانچہ غیر قانونی طور پر 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہو گئی اور جموں وکشمیر کو مقبوضہ بنا لیا.

    یکم جنوری 1948 کو بھارت نے سلامتی کونسل کے سامنے کشمیر کے مسئلے کو پیش کیا مگر اس سے پہلے مکار ہندوستان کشمیر پر قبضہ کر چکا تھا. 16 جنوری کو پاکستان نے بھی رجوع کر لیا. سلامتی کونسل نے دونوں فریقین کی شکایات سنیں اور حسب روایت ضروری نصیحت کی کہ ایک دوسرے کے خلاف انتہائی قدم اٹھانے سے پرہیز کیا جائے اور ہندوستان کو فوج کے انخلاء کا کہا گیا مگر بھارت کی طرف سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ دیکھتے ہوئے پاکستان نے بھی مئی 1948 کو اپنی فوج کشمیر میں اتار دی. سلامتی کونسل نے ایک کمیشن تشکیل دیا جس کو "کمیشن برائے پاک وہند” کا نام دیا گیا. کمیشن کی کوششوں سے فریقین یکم جنوری 1949 کو جنگ بندی پر راضی ہو گئے.

    جنگ بندی کے بعد ایڈمرل ٹمنز کو ناظم استصواب رائے مقرر کیا گیا، 7 ماہ بعد 27 جولائی 1949 کو خط متارکہ جنگ کا تعین بھی کر دیا گیا مگر بھارت کے مسلسل انکار کی وجہ سے یہ سمجھوتہ بھی سود مند ثابت نہ ہوا.

    مارچ 1949 کو کمیشن برائے پاک وہند نے فریقین کے ساتھ مل کر فوج کے انخلاء پر اتفاق کیا. پاکستان فوجی انخلاء پر راضی ہو گیا مگر بھارت نے پہلے مہلت مانگی اور بعد میں انکار کر دیا. کمیشن نے تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کی 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کی پاس شدہ قراردادوں پر پیدا شدہ اختلافات کو ناظم رائے شماری ایڈمرل ٹمنز کے سامنے ثالثی کے لئے پیش کیا جائے. امریکی صدر ٹرومین اور برطانوی وزیراعظم اٹیلی نے دونوں فریقین کو مزکورہ تجویز پر آمادہ کرنے کی کوشش کی. اس تجویز کو پاکستان مان گیا مگر بھارت نے ایک بار پھر انکار کر دیا.

    دسمبر 1949 کو اس وقت کے صدر سلامتی کونسل جنرل میکناٹن ریاست جموں وکشمیر سے فوجوں کے انخلاء کی تجویز پیش کی مگر بھارت نے ہمیشہ کی طرح انکار کر دیا جبکہ پاکستان رضامند ہو گیا. مارچ 1950 میں سلامتی کونسل نے ڈکسن کو اپنا نمائندہ مقرر کرتے ہوئے کہا کہ 5 ماہ کے اندر اندر فوجیوں کے انخلاء کو یقینی بنائیں. ڈکسن فریقین سے ملتے رہے اور آخر کار اپنی تجاویز مرتب کیں اور سلامتی کونسل میں پیش کیں. ان تجاویز کو پاکستان نے قبول کیا مگر بھارت پھر انکاری رہا.

    جنوری 1951 میں دولت مشترکہ کے وزرائے اعظم نے ریاست جموں وکشمیر میں غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے کی پیش کش کی اور مندرجہ ذیل تجاویز پیش کیں.

    1. آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دولت مشترکہ کی طرف سے فوج مہیا کریں گے.

    2. بھارت اور پاکستان کی مشترکہ فوج

    3. مقامی لوگوں کی فوج جسے ناظم رائے شماری تیار کرے.

    پاکستان نے تینوں تجاویز مان لیں اور بھارت نے تینوں تجاویز کو ماننے سے انکار کر دیا. مارچ 1951 میں برازیلی سفیر نے تجویز پیش کی اور اسی دوران سلامتی کونسل نے بھی اپنی قرارداد کے ذریعے فوجوں کے انخلاء کے متعلق تجویز دی مگر اسکو بھی بھارت نے رد کر دیا. 20 مارچ 1951 سے 22 دسمبر 1951 کے درمیان اقوام متحدہ کے نمائندے ڈاکٹر فرینک گراہم نے متعد تجاویز دیں کہ کسی طرح جموں وکشمیر سے فوجوں کا انخلاء ہو اور رائے شماری کرائی جا سکے مگر ہمیشہ کی طرح بھارت ہٹ دھرمی دکھاتا رہا. دسمبر 1951 سے مارچ 1956 تک مختلف اوقات میں مختلف ذرائع اور مختلف طریقوں سے پاکستان کوشش کرتا رہا کہ کسی طرح مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے مگر بھارت مکروہ چہرہ دکھاتا رہا. 

    29 مارچ 1956 کو لوک سبھا میں نہرو نے تقریر کی اور کہا کہ "پاکستان کو امریکی امداد کا حصول، معاہدہ بغداد اور جنوب مشرقی ایشیاء کی رکنیت نے خطے کی سیاست تبدیل کر دی ہے لہذا مسئلہ کشمیر کو ازسر نو دیکھنے کی ضرورت ہے”. اپریل 1956 میں قومی اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر عام بحث ہوئی اور وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ براہ راست مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، مسئلے کے حل کے لئے دوبارہ سلامتی کونسل میں جانے کی ضرورت ہے. مسئلے کو حل کرنے کے لئے پاکستان نے براہ راست آخری کوشش کے طور پر جولائی 1956 میں پاکستانی وزیراعظم نے لندن میں جواہر لال سے ملاقات کی مگر نہرو نے صاف انکار کر دیا. نومبر 1956 سے لیکر اپریل 1958 تک مختلف اوقات میں سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کے حل کرنے کے حوالے سے بات ہوتی رہی.

    1960 میں جب نہرو نے پاکستان کا دورہ کیا تو صدر ایوب خان نے مسئلہ کشمیر پر بات کی مگر ہمیشہ کی طرح بے سود ثابت ہوئی. یکم فروری 1962 کو مسئلہ کشمیر ایک بار پھر سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا. روس نے بھارت کے حق میں قرارداد کو ویٹو کر دیا. جون 1962 میں آئرلینڈ کے نمائندے نے قرارداد پیش کی مگر ایک بار پھر روس نے ویٹو کر دیا. فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کی کوششوں سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے 27 اکتوبر 1962 تا 16 مئی 1963 کے دوران، کراچی، راولپنڈی، نئی دہلی اور کلکتہ میں وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت ہوتی رہی مگر بے نتیجہ.

    16 دسمبر 1963 میں بھارتی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ریاست جموں وکشمیر کے 85000 مربع میل رقبے میں سے 34000 مربع میل کا علاقہ پاکستان کو دینے کے لئے تیار ہیں مگر وزیر خارجہ ذوالفقار بھٹو نے انکار کر دیا. 20 جنوری 1964 کو سلامتی کونسل میں پاکستانی مندوب ظفراللہ خان نے 15 صفحاتی یاداشت جمع کروائی جس میں کہا گیا تھا کہ 30 مارچ 1951 اور 24 جنوری 1957 کی قراردادوں پر عمل کروایا جائے. سلامتی کونسل میں 100ویں مرتبہ مسئلہ کشمیر اٹھایا جا رہا تھا. 1965 میں صدر جنرل ایوب خان نے روس کا دورہ کیا جہاں روس نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان کو اپنی مدد اور حمایت کا یقین دلایا.

    (جاری ہے)

    @mian_ihsaan

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 07) تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 07) تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 6 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح ضمیر کی سودے بازی ہوتی ہے کیسے لوگ ایمان بیچتے ہے کیسے لوگوں نے دھوکے بازی کرکے انسانی زندگی کو مفلوج کیا ہوا ہے یہ ایسا ناسور ہے جو نسل در نسل تباہ کر دیتا ہے  اِسی مقصد کیلئے آج واضع کریں گے کہ کس طرح موبائل مارکیٹ میں جعلی اور کاپی فون ، جعلی سرف جعلی شیمپو سب اصل ٹیگ کے ساتھ ، 2 نمبر ادویات اصل پیکنگ میں ، ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز ، بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ جو چیز ہم استعمال کر رہے ہیں کیا آیا کہ وہ سہی بھی ہے کہ نہیں اسی کو اج بے نقاب کریں گے

    موبائل مارکیٹ میں جعلی اور کاپی فون: 

    جب بھی ہمارے ذہن میں سوال آتا کہ ہم نے موبائل فون خریدنا ہے تو سب سے پہلے یہ خیال آتا ہے کہ یہی فون مارکیٹ میں یوزڈ میں بہت عام سیل رہا ہے  جعلی فونز اصل موبائل کی بانسبت بہت عام ہیں اس لیے بہت سے لوگ بہت شوق سے اُن فون کا استعمال کرتے ہیں  لیکن جعلی فونز جلدی خراب ہو جاتے ہیں اور بعد میں ہمیں بہت سے مسائل کا سامنہ کرنا پڑتا ہے   پاکستان میں موبائل فون کا کام بہت عروج پر ہے ملک میں سال 2021 کے پہلے 7 ماہ میں ایک کروڑ 22 لاکھ 70 ہزار موبائل فونز تیار کیے گئے اور اس کے مقابلے 82 لاکھ 90 ہزار موبائل درآمد کیے گئے اگر آپ موبائل فون خریدنے کے خواہش مند ہیں اور آپکو معلومات نہیں ہے کہ اصلی اور جعلی فون کون کونسے ہیں اس بارے میں کچھ چیزوں کا جاننا بہت ضروری ہے 

    جیسے کہ اسکرین کو اچھی طرح چیک کرلیں کہ موبائل کی روشنی مدھم تو نہیں اس کے بعد تمام بٹن چیک کرلیں کیونکہ بعض فونز کے Alphabet اپنی جگہ سے تبدیل ہوتے ہیں اس کے بعد ویلکم سکرین ضرور چیک کریں وہاں لوگو آتا ہے تو اصلی ہے اکثر کاپی فونز میں صرف ویلکم لکھا آتا ہے  کیمرہ سے تصویر بنا کہ دیکھنا چاہیے جعلی فونز میں تصویر دھندلی اور بلر ہوتی ہے اس کے ساتھ سکرین کے دائیں بائیں جانب سکرول کر کے چیک کریں اگر موبائل ہینگ ہو جائے تو اس کا مطلب فون کاپی ہے سب سے خاص بات جب موبائل خریدے تو موبائل کا سیریل نمبر ضرور اونلاین چیک کریں جیسے کے موبائل کے about پہ yes کرکے سیریل نمبر نکال کر جس برانڈ کا موبائل ہے اس کی ویب سائٹ پر  IMEI number چیک کریں اگر ویب سائٹ اسے جعلی قرار دے تو فون جعلی ہے  

    جعلی سرف جعلی شیمپو سب اصل ٹیگ کے ساتھ: 

    جعلی سرف اور جعلی شیمپو بنانے والے مختلف قسم کے کیمکل اور سٹیرائڈز استعمال کرتے ہیں جس سے جِلد بہت جلد متاثر ہوتی ہے مارکیٹس میں مختلف قسم کے برانڈ کی صورت میں ملنے والے شیمپو ، کریمیں  جلد کو جلا رہے ہیں اس سے بہت سے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ہمیں چاہیے کہ خاص کمپنی کی ایشیاء کو استعمال کریں ان ایشیاء پہ موجود بارکوڈ کو اسکین کرکے تسلی کرنی چاہیے کہ آیا جو برانڈ ہم استعمال کر رہے ہیں  کی اصلی ہے یا جعلی

    ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز: 

    ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز کا دھندہ عروج پر ہے ہمارے معاشرے میں لوگ افس بواۓ کا کام کرتے کرتے ڈاکٹر بن جاتے ہیں ایک واقع میری انکھوں کے سامنے سے بھی گزرا کہ ایک غریب آدمی جو زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا بمشکل میٹرک پاس کی پھر کام کی تلاش کرنے لگا ایک دن ایک دندان ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی اس نے اسے اپنا تمام احوال بتایا اس نے مشورہ دیا کہ میرے پاس آجاؤ آفس بوائے کے ساتھ میری مدد کرتے رہنے اور اپنی اجرت لیتے رہنا ۔ وقت گزرتا گیا وہی لڑکا سب سیکھتا گیا کیسے ڈاکٹر مریض سے گفتگو کرتا ہو کیا میڈیسن لکھ کے دیتا ہے وغیرہ وغیرہ تین سال کے عرصہ کے بعد اس غریب ادمی نے محسوس کیا  کہ اسے اب اپنا کلینک بنا لینا چاہیے اسے کام کی نوعیت کا پتا چل گیا ہے خیر اس نے کلینک بنا کر اپنا کام شروع کردیا 

    اب وہ شخص پیشے سے ڈاکٹر نہیں ہے لیکن ڈاکٹر کا بورڈ لگا کر دن رات لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے اسی طرح بہت سارے ہسپتالوں میں آپ کو ایسی مثالیں روزانہ کی بنیاد پر ملیں گی اس کی روک تھام کیلئے حکومت کو ہر وقت الرٹ رہنا چاہیے 

    بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے:

    بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے معاشرے کا ایسا ناسور ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا پہلے وقت اچھے تھے لوگوں میں عزت احترام تھا رشتوں میں تقدس تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سب سفید ہو گیا ہر ماں باپ کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے بچے کی اچھی تربیت ہو دن رات محنت کرے اپنے ماں باپ کا نام روشن کرے لیکن آج کل نفسہ نفسی کے دور میں صحبت سے بہت لوگ متاثر ہو رہے ہیں جس انسان میں شعور ہے کہ میں اگر کسی کی بہن ، بیٹی کی طرف بدنگاہی سے دیکھوں گا تو کوئی میرے گھر کی طرف بھی بدنگاہی رکھے گا اسی لئے آج کل تعلیم بہت ضروری ہوگی ہے کہ ہر انسان میں شعور آجاۓ رشتوں کی قدر کا احساس ہو جاۓ ہمارے معاشرے میں 95٪ لوگوں کے جھگڑے بدنگاہی کی وجہ سے جنم لے رہے ہیں اس کی عام وجہ گھر گھر میں موبائل کے غلط استعمال کی وجہ سے مسائل در پیش ہو رہے ہیں موبائل ہر گھر کی اب ضرورت بن گیا ہے لیکن موبائل کا ستعمال صرف گھر کے سربراہ کے پاس ہونا چاہیے نا بچے فحاشی کی طرف گامزن ہوں نا معاشرے میں بدنگاہی عروج پہ ہو

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح امتحانات میں نقل ، مسلمان لڑکیوں میں قرآن پاک کی جگہ فحاشی کے ڈائجسٹ ، ناپ تول میں کمی ، دوستی میں خود غرضی ، محبت میں دھوکہ ، ایمان میں منافقت کیسے ہو رہی ہے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

  • سید علی گیلانی صاحب پاکستان حقیقی کے بیٹے کشمیر کے سربراہ تحریر   فرزانہ نیازی

    سید علی گیلانی صاحب پاکستان حقیقی کے بیٹے کشمیر کے سربراہ تحریر فرزانہ نیازی

    ۔

    ‏اسلام کی نسبت سے اسلام کے تعلق سے اسلام کی محبت سے
    ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ہوا کو چلنے سے کوئی روک سکا ہے اور نہ ہی خوشبو کو مہکنے سے
    ٹھیک اسی طرح سید علی گیلانی صاحب کی پاکستان سے محبت اور آزادی کشمیر کے جذبے کو بھی کوئی طاقت نہیں روک سکی
    ‏جبر جیل اور تشدد کا کوئی مرحلہ ان کے عزم آزادی کو کبھی کمزور نہ کر پایاانکی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی سید علی گیلانی صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی منزل حاصل کریں گےوہ تحریک آزادی کے سرخیل اور مزاحمت کااستعارہ تھےان کی رحلت ناقابل تلافی نقصان ہے ‏انہوں نے کشمیرکی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کی
    انہوں نے قید وبند کی صوبتیں برداشت کیں لیکن کبھی بھی بھارت کے غاضبانہ قبضے کے سامنے سر نہیں جھکایا
    وہ کشمیریوں کے ایسے ہیرو ہیں جن پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی
    کشمیر کی تحریکِ آزادی کا ہر رہنما قابلِ قدر اور قابلِ احترام ہےمگر سید علی گیلانی صاحب کی کوئی نظیر ہی نہیں لیکن سید علی گیلانی کی اصل قوت ان کا اسلام ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورآپؐ کی امت اور امت کے شہداء سے ان کی محبت ہے سید علی گیلانی صاحب کے لیے پاکستان کے فوجی اور سیاسی حکمرانوں کی طرح پاکستان کوئی جغرافیہ کوئی دکان کوئی لمیٹڈ کمپنی نہیں کوئی جائیداد نہی اُن کے لیے پاکستان ایک نظریہ ہے اُن کے لیے پاکستان کا مطلب لاالٰہ الااللہ محمدرسول اللہ کے سوا کچھ نہیں یہی وجہ ہے کہ سید علی گیلانی مدتوں سے روئے زمین پر موجود سب سے بڑے پاکستانی ہیں پاکستان کے جرنیلوں اور سیاست دانوں کے لیے پاکستانیت کا مظاہرہ سراسر فائدے کا سودا ہے اس سے پاکستان میں ان کی حب الوطنی کو چار چاند لگتے ہیں ان کی عزت میں اضافہ ہوتا ہےان کے عہدے اور مناصب بڑھتے ہیں یہاں تک کہ ان کی پاکستانیت سے انہیں مالی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں مگر مقبوضہ کشمیر میں پاکستانیت کے مظاہرے کا مطلب یقینی موت ہے مگر سید علی گیلانی عرصے سے یقینی موت کو للکار رہے اس کا تعاقب کررہے ہیں ان کی پاکستانیت کا ہر دن خون آلود رہا غمزدہ کردینے والا اعصاب شکن مایوس کردینے والا مگر سید علی گیلانی پر غزوۂ بدر کی روایت کا سایہ تھا انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی امت سے محبت کی انہیں ہر وقت یہ خیال دامن گیر رہتا ہے کہ اگر انہوں نے کشمیر کے شہداء کے خون کا سودا کیا تو وہ میدانِ حشر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دیں گے ہمارے پاس ایک مصدقہ اطلاع ایسی ہے جسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اگر سید علی گیلانی صاحب نہ ہوتے تو برسوں پہلے کشمیر پر سودے بازی ہوچکی ہوتی اس تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ صرف بھارت ہی نہیں پاکستان کے حکمران طبقے میں سے بھی کئی لوگ اس بات کے انتظار میں ہوں گے کہ سید علی گیلانی صاحب کب منظر سے ہٹتے ہی لیکن اب اس بات کی کیا اہمیت ہے کہ سید علی گیلانی صاحب کب تک ہمارے سامنے رہیں گے ہم کیا ہزاروں لاکھوں لوگ میدانِ حشر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گواہی دیں گے کہ سید علی گیلانی صاحب نے اسلام کی سربلندی جہاد شہدا کے خون کی پاسداری کی
    ‏عظیم مجاہدآزادی کشمیر اور الحاق پاکستان کی توانا ترین آوازحریت اور جہد مسلسل کا استعارہ تمام ظلم اور جبر کے سامنے بے خوف کلمہ حق کہنے والے سید علی گیلانی صاحب کو ہم سب کا سلام
    آپ کا نام رہتی دنیا تک ظلم کے خلاف برسرپیکار مظلوموں کے لیے ہمت اور صبر و استقلال کا استعار اور امید کی کرن کا کام کرتا رہے گا پاکستان کا سب سے وفادار بیٹا چل بسا دل اداس ہے آنکھیں نم تعزیت کس سے کریں ، پرسہ کون کسے دےآج کشمیر میں ہماری طاقتور ترین آواز نہیں رہی آہ سید علی گیلانی آہ اللہ آپ سے بہترین معاملہ کرےآپ کو نبی مہربان کی ہمسائیگی عطا کرے آمین یارب العالمین ۔۔!!
    تحریر

    @miss__niazi

  • الوداع سید علی گیلانی صاحب  تحریر  ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    الوداع سید علی گیلانی صاحب تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    سید علی گیلانی حریت رہنما وہ عظیم کشمیری لیڈر جس نے ساری زندگی جدوجہد آزادی ء کشمیر میں گزار دی ،انڈین حکومت کی طرف سید علی گیلانی صاحب پر بڑا ظلم وستم کیا گیا ،ٹارچر سیل میں رکھا گیا بڑھاپے میں کئ سال قید میں رکھا گیا تو دوسری طرف ہر طرح کی آرائش سے بھری پرسکون زندگی گزارنے کی لالچ دی گئ لیکن اس مرد مجاہد نے انڈیا کی طرف سے تمام آفرز ٹھکرادی انڈین سرکار کے تمام ظلم وستم کو ہنس کر برداشت کیا اور
    سری نگر کی وادی سمیت کشمیر کی ہر گلی کوچے میں ایک ہی نعرہ بلند کرتے رہے کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ،اس مرد مجاہد نے تمام تر اذیتوں ،ظلم وستم کے باجود ہر وقت کشمیر کی آزادی ،کشمیر کا پاکستان سے رشتہ کیا کے نعرے بلند کئے ،ہمیشہ پاکستان کے پرچم کو بلند رکھا اور تمام کشمیریوں کے دل میں پاکستان سے محبت کا رشتہ نا صرف قائم رکھا بلکہ اسے مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا ،ایسے مرد مجاہد صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ،سید علی گیلانی کی موت کی خبر سن کر آج دنیا جہان میں بسنے والے کشمیری اور پاکستانی غم میں مبتلا ہیں آج مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کی بھی آنکھیں اشکبار ہیں ،آپ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو جس طرح سنبھالے ہوئے تھے یقینن آپ کا خال پر کرنا بہت مشکل ہے لیکن جو جذبہ آپ نے کشمیر کے نوجوانوں میں پیدا کیا وہ یقینن کشمیر کی آزادی تک جاری رہے گا اور ایک دن ضرور وہ دن آئے گا جب آپ کے نعرے ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے حقیقت بن کر ابھرے گا ،کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہوکر رہے گا کیونکہ کشمیر تو جنت ہے اور جنت کبھی کسی کافر کو نہیں مل سکتی
    سید علی گیلانی صاحب کی شہادت کی خبر پر پوری پاکستانی قوم غمزدہ ہے اور حکومت پاکستان نے بھی سرکاری سطح پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ،اس عظیم لیڈر کا جنازہ سری نگر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر گاوں اور شہر میں پڑھائ جائے گی اور آپ کی شہادت پر ہم بحثیت پاکستانی قوم آپ کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائے اور کشمیر کی آزادی کی تحریک چلانے والے تمام عظیم کرداروں کے ساتھ پوری پاکستانی قوم کھڑی ہے انشااللہ آپ کا خواب کشمیر کی آزادی بہت جلد حقیقت بن کر اس دنیا میں ابھرے گا
    اللہ پاک آپ کو جنت میں اعلی مقام عطا کرے آمین

  • الوداع سید من! تحریر:فلک شیر چیمہ

    الوداع سید من! تحریر:فلک شیر چیمہ

    آپ نے جبر کے سامنے ہمیشہ سینہ ہی رکھا، پشت دیکھنے کی اسے حسرت ہی رہی

    آپ ہمارے قافلے کے سالاروں میں سے تھے، خود میدان میں استادہ و مقیم سالار

    ہر صدی میں آپ جیسی دو چار نشانیاں ایمان والوں کے سینوں میں روشنی پھر سے بھڑکانے کو ربِ ذوالجلال والاکرام عطا فرماتے ہیں

    ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور…یہ مصرعہ وادی کشمیر کے کوچوں بازاروں میں آپ کی دلیل اور جذبہ، دونوں میں گندھی للکار سن کر سمجھ آیا

    آپ امید ، سر تا پا امید اور توکل و تیقن کی تجسیم تھے

    جبر میں تو یہ تاب تھی ہی نہیں، آپ کے نفسِ گرم کا سامنا منصب و ثروت کے بل پہ کوئی منافق اور نام نہاد "اپنا” بھی نہ کر سکا

    لکیریں، دیواریں، سرکاریں، بندوقیں اور غلاموں کی مجبوریاں…کچھ بھی آپ کے نظریہ حیات کی طاقت و صلابت کے سامنے کھڑا نہ رہ پایا

    بہت سے لوگ آزادی کے اس کٹھن سفر پہ چلے تھے، کئی تھک گئے، کئی دنیا کی چکاچوند سے ہار گئے اور کئی تاویل کی زلفِ تصنع صفت کے اسیر ہو گئے… پر آپ قدیم چنار کی مانند سیدھے، اونچے اور دراز کھڑے رہے

    حق آپ کی زبان پہ جاری تھا اور ہمہ دم اسی کا رعب لاکھوں گنا طاقتور دشمن پہ طاری تھا

    پاکستانی آپ تھے، پاکستانی آپ ہیں اور پاکستانی آپ رہیں گے۔ پاکستان آپ کا تھا، پاکستان آپ کا ہے اور پاکستان آپ کا رہے گا۔ آپ کے پیغام کی گونج میں یہ فقیر کہتا ہے کہ ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے، ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔ اسلام کی نسبت سے، قرآن کی نسبت سے، سیدِ گیلان کی نسبت سے ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔

    ڈل کی گہرائی اور جہلم کی تیزی، پیر پنجال کی اونچائی، وادی کے ہر شہداء قبرستان کی وسعت اور آپ کے اس محبوب کشمیر کے چپے چپے پہ فطرت کے انڈیلے حسن سے آپ کے پیغام کی خوشبو پھوٹتی اور صدا گونجتی رہے گی…. کہ یہ خوشبو دار صدا فطرت کی طرح سادہ، سچی اور عدل کی صدا تھی

    کتنی خوش نصیب ہے کشمیر کی سرزمین، کہ اسے غلامی میں ایک "مرد آزاد” میسر آیا، رول ماڈل ملا اور پیچھے چلنے کو اس کے جمے ہوئے قدم ملے۔

    آپ کا پاکستان آپ کے لیے اداس ہے، بلا تفریق رنگ و نسل، بلا تمیز مسلک و مشرب۔ ہم آپ کے بیٹے بھائی اور ہماری آنکھیں آپ کے لیے پرنم اور دل حزیں ۔

    آرام سے سوئیں اب گیلانی صاحب، بہت تھکے ہوں گے آپ اس لمبے سفر سے۔ آپ نے اپنا حق ادا کر دیا، ہم گناہ گار بندے اپنے علم کی حد تک آپ کی بھلی گواہی دیتے ہیں، خالق سے مغفرت و رحمت کی دعا کرتے ہیں۔

    بے شماررحمت ہو آپ پر اس پروردگار کی، جس کی رضا کے لیے آپ نے حیات مستعار کا لمحہ لمحہ بسر کیا۔

    آمین یا رب العالمین

    ‎#SyedAliGilani

  • سید علی گیلانی یک عہد ساز شخصیت تحریر: محمد عبداللہ گِل

    سید علی گیلانی یک عہد ساز شخصیت تحریر: محمد عبداللہ گِل

    کچھ شخصیات  دنیا میں آتے ہیں ان کا مقصد ان کے کارناموں میں صاف واضح ہوتا ھے۔ان کی محنت،مقصد کے حصول کے جدوجہد دنیا کے سامنے عیاں ہوتی ہیں۔یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو قائد کہلاتے ہیں۔
    انھی قائدین میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے قائدین حریت میں سے موجودہ صدی کا عظیم ترین قائد اور حریت کے لیے جدوجہد کرنے والی عظیم ہستی کا نام سید علی گیلانی ھے۔
    یہ کیسی عظیم شخصیت کا مالک شخص تھا کہ بچپن سے لے کر اب تک ایک ہی نعرہ بلند کر رہا تھا
    "ہم پاکستانی ہیں
    پاکستان ہمارا ھے”
    یہ وہی شخص تھا جس نے ہندو بنیے کو کشمیر جنت نظیر وادی پر قابض ہوتے دیکھا تھا۔جس نے پھر اس قوم کشمیر کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ فرمان سنا پڑھا تھا
    "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے”
    سید علی گیلانی وہی شخص تھا کہ جس نے ہمیشہ دن رات گرمی سردی،بہار،خزاں میں کشمیری قوم کو پاکستان سے محبت کا درس اور سبق گھول کر پلا دیا تھا۔یہ وہی شخص تھا کہ جس کا نام کشمیر کے بچے بچے کی زبان پر ھے۔ہر وہ شخص جو تحریک آزادی کشمیر کے نام سے آشنا ہے وہ سید علی گیلانی کے نام سے واقف ہو گا۔
    یہ وہی شخصیت تھی کہ 91 سال عمر پائی ان 91 سال میں ایک بار بھی ہندو بنیا اور اس کی فوج،پھر فوج کا تارچر کرنا،کبھی عقوبت خانوں میں بند ہونا،کبھی نظر بندیوں کی مشکلات سے گزرنا ان کی زبان سے یہ نہ ہٹا سکا کہ
    "ہم پاکستانی ہیں
    پاکستان ہمارا ھے”
    میں نے اس عظیم شخصیت کے بارے میں اس وقت سننا شروع کیا جب سے میں نے ہوش سنبھالا کبھی ٹیلی ویژن پر کبھی ریڈیو پر کہ سید علی گیلانی نے ہڑتال کی کال دی ھے۔
    کبھی یہ سنا کہ سید علی گیلانی نے انڈین الیکشن کا بائیکاٹ کیا ھے۔جب ان ہڑتالوں،ان جلوسوں،ان جلسوں،ان بائیکاٹ کی اصل وجہ ایک ہی تھی
    "جیے گے بھی پاکستان کے ساتھ
    مرے گے بھی پاکستان کے ساتھ”
    معزز قارئین! سید علی گیلانی وہی شخصیت تھی کہ جب دنیا پاک فوج کو گالیاں دے رہی پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ عروج پر تھا تب سید علی گیلانی نے
    "پاک فوج زندہ باد
    پاکستان زندہ باد ”
    کا نعرہ لگایا تھا بلکہ نہ صرف خود لگایا بلکہ ہر زبان زدعام کروایا۔اس شخصیت کہ محنت اور روعب و دبدبے کی تو کیا بات ھے۔کہ سید علی گیلانی جب زندہ تھے تو ان کو نظربند کر دیا جاتا تھا کیوں کہ انڈین میڈیا کو بھی پتہ تھا کہ سید علی گیلانی کی ایک کال پر کشمیریوں نے سر تسلیم خم کر دینا ھے۔لیکن غور کرنے کی بات یہ گے کہ جب سید علی گیلانی کا آج انتقال ہوا ھے ان کے انتقال کے فورا بعد کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ھے کیوں کر دیا گیا ھے کیونکہ دشمن انڈیا کو بھی پتہ ھے کہ یہ اکیلا ایک علی گیلانی نہیں ھے اس عظیم قائد نے پوری کشمیری قوم کو سید علی گیلانی بنا دیا ھے۔
    سید علی گیلانی رحمہ اللہ کی زندگی پوری کی پوری آزادی کشمیر کی جدوجہد میں گزری۔اس جدوجہد کے دوران تحریک آزادی کشمیر میں عروج و زوال بھی آیا لیکن اس شخصیت نے اپنی قوم کو درس تھا
    "اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں”
    بلکہ کرنے کا کام ایک ہی ھے "لھم یوقنون” اسی ذات باری تعالی پر یقین رکھنا ھے۔
    سید علی گیلانی رحمہ اللہ کی جدوجہد کے ثمرات دشمنان  نے برہان مظفر وانی شہید رحمتہ اللہ کی صورت میں دیکھ لیے ہیں۔سید علی گیلانی نے پوری قوم کو ہی برہان وانی کا جانشین بنا دیا تھا۔اسی وجہ سے ان کی جدوجہد سے گھبرا کو ان کو سینکڑوں بار قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا گیا
    لیکن مجھے یہاں حسرت موہانی کا ایک شعر یاد آ رہا ھے
    ہے مشق سخن بھی جاری اور چکی کی مشقت بھی
    ایک طرفہ تماشا ھے حسرت کی طبیعت بھی
    لیکن سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے ان صعوبتوں کو آڑے نہیں آنے دیا بلکہ نوجوانوں کو تیار کیا امت کی ماؤں بہنوں کو کشمیر کے لیے کھڑا کر دیا۔اسی کیفیت کو اگر میں شاعر کے الفاظ میں قلم بند کروں تو
    ہر چند ہے دل شیدا حریت کامل کا
    منظور دعا لیکن ہے قید محبت بھی
    سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے 91 برس کی عمر میں یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان رب تعالی پر یقین رکھنے والی قوم ھے۔دیٹھ سیل میں رکھے جانے کے باوجود اور خراب طبیعت میں مناسب طبی سہولیات بھی نہ دی گئی جو کہ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی تھی لیکن سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے کبھی بھی اپنے لیے کال نہیں دی بلکہ کشمیریوں کے اور پاکستانیوں کے لیے جدوجہد کی
    "جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلو
    پر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شکایت بھی”
    آج امت مسلمہ کو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے پشت پناہی کی ضرورت ھے جیسا کہ اقبال کا شعر ھے 
    کافر ھے تو شمشیر پر کرتا ھے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ھے سپاہی
    سید علی گیلانی نے بے تیغ ہو کر اپنی سیاسی فکر کے ذریعے کشمیر جدوجہد آزادی کی حمایت کی بلکہ بچوں کی زبان پر بھی یہ جاری کروا دیا
    پاکستان ہمارا ھے
    پاکستان زندہ باد
    ان شاءاللہ ایک وقت آئے گا جب کشمیر کو آزادی نصیب ہو گی جب سید علی گیلانی کی محنت رنگ لائے گی۔وہ وقت آنے والا ھے جب کاروان حریت کو کامیابی ملے گی۔میرے نزدیک قائد حریت سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے پورے کفر کا مقابلہ کیا ھے۔سید علی۔گیلانی نے اپنی جدوجہد کے ذریعے بچوں سے لے کر ڈگری ہولڈر تک کو بھارت کے خلاف کھڑا کر دیا تھا۔اسی وجہ سے دشمن کو ان کے نام سے خوف تھا۔اس عظیم شخصیت کو تا قیامت آزادی کے متوالوں میں یاد رکھا جائے۔اللہ تبارک و تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے