Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • یوم دفاع  اسلام بمقابلہ ہندومت، تاریخ کے آئینے میں   تحریر: احسان الحق

    یوم دفاع اسلام بمقابلہ ہندومت، تاریخ کے آئینے میں تحریر: احسان الحق

    پاکستانی قوم حسب روایت بڑے جوش وجذبے اور حب الوطنی کے ساتھ 6 ستمبر کو یوم دفاع منا رہی ہے. پاکستان کی تاریخ کے چند اہم ترین دنوں میں سے 6 ستمبر 1965 کا ایک دن "یوم دفاع” کا ہے جب قوت ایمانی سے سرشار اور شہادت کی تمنا لئے پاکستان کے جانباز سپاہیوں نے ہمت و شجاعت کی ناقابل فراموش داستانیں رقم کرتے ہوئے اور ناقابل یقین جوانمردی کا مظاہر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دشمن کو تاریخی عبرت ناک شکست دی.

    ہندوؤں کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور دشمنی نئی بات نہیں، اس تعصب اور دشمنی کی ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ ہے. تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ہندو روز اول سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صف آراء رہے ہیں. قیام پاکستان کے بعد تعصب اور دشمنی میں اضافہ ہوا، بھارت نے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی، ثقافتی، دفاعی اور سیاسی الغرض ہر لحاظ سے کمزور کرنے کی کوشش کی ہے اور کرتا آ رہا ہے. اس کی بہت ساری وجوہات ہیں. قیام پاکستان کے بعد ہندوستان اور ہندوؤں کی پاکستان اور اسلام دشمنی سب پر عیاں ہو چکی ہے. آج ہم اسلام اور ہندو مت کے درمیان چیدہ چیدہ تاریخی معرکوں کے بارے میں جانتے ہیں.

    تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان معرکہ خلیفہ ثانی امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں پیش آیا. ہندو معاشرہ رنگ نسل، ذات پات میں بٹا ہوا تھا. امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون تھا. ہندو معاشرے میں برہمنوں اور دلتوں کے لئے الگ الگ نظام زندگی تھا. سن 14 ہجری میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے فارس کو فتح کرکے اسلامی ریاست میں شامل کر لیا. اس وقت برصغیر کے متعصب ہندو حکمرانوں کو یہ بات قطعی پسند نہ آئی کہ ہمارے پڑوس میں ایک ایسا نظام رائج ہو جس میں عدل و انصاف ہو، جہاں مالک اور نوکر، آقا و غلام اور امیر غریب کے لئے ایک جیسا انصاف ہو، جہاں کسی امیر کو غریب پر، کسی گورے کو کالے پر کوئی سبقت نہ ہو، جہاں ذات پات کی کوئی قید نہ ہو.

    چنانچہ سن 28 ہجری میں ہندوؤں نے اسلامی ریاست پر حملہ کرتے ہوئے ہرات پر قبضہ کر لیا. موجودہ ہرات اس وقت ایران میں شامل تھا. اس وقت خلیفہ ثالث امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مہلب بن صفرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی قیادت میں لشکر بھیجا. اسلامی لشکر نے برہمنوں کو شرمناک اور ذلت آمیز شکست دیکر ہرات کو واپس اسلامی ریاست میں شامل کر دیا. مگر ہندوؤں کو چین نہ آیا، وہ موقع کی تلاش میں رہتے اور وقتاً فوقتاً حملہ آور ہوتے رہتے تھے. حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی خَلافت میں مکران فتح ہوا. مکران کی سرحد سندھ سے ملتی تھی جہاں ہندو راجہ داہر کی حکومت تھی.

    امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے خلافت سنبھالی تو آپ نے ایک عرب سردار کو سندھ کے ساحلی علاقوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کے لئے مقرر فرمایا. خلافت راشدہ کے بعد اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کی خلافت میں عراقی گورنر حجاج بن یوسف نے سندھ کی طرف خصوصی توجہ دی. سندھ کا ہندو حکمراں راجہ داہر مسلمانوں کے لئے بہت ظالم اور جابر حکمران تھا. سری لنکا سے جانے والے مسلمان قافلے کو سندھ کے نزدیک سندھ کے بحری قزاقوں نے لوٹ کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا جن کو راجہ داہر کی سرپرستی حاصل تھی. حجاج بن یوسف کے خبردار کرنے کے باوجود راجہ داہر مغویوں اور سامان کو بازیاب کرانے میں عدم دلچسپی سے کام لیتا رہا اور عذر پیش کرتا رہا کہ بحری قزاق میرے دائرہ اختیار میں نہیں. حجاج بن یوسف نے نوعمر سپاہ سالار محمد بن قاسم کی سرپرستی میں لشکر بھیج کر راجہ داہر کو شکست فاش دیتے ہوئے سندھ فتح کر لیا.

    عہد سبکتگین میں پنجاب کے ہندو حکمراں جے پال غزنی پر حملہ آور ہوا مگر ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوا. تاوان کے بدلے سبکتگین نے امن معاہدہ کر لیا، بعد میں جے پال تاوان دینے سے مکر گیا. اگلے سال پشاور کے نزدیک سبکتگین نے جے پال کو شکست دی.

    سبکتگین کی وفات کے بعد محمود غزنوی نے پشاور کے نزدیک نہ صرف جے پال کو شکست دی بلکہ گرفتار کر لیا.

    جے پال کی موت کے بعد اس کا بیٹا انند پال تخت حکمرانی پر بیٹھا تو اس نے گردونواح کی ریاستوں بالخصوص دہلی، قنوج، کالنجر اور گوالیار کے حکمرانوں سے ملکر محمود غزنوی کے خلاف مشترکہ اور متحدہ حملہ کیا مگر حسب روایت اس بار بھی ہندوؤں کو شکست ہوئی.

    1021 میں انند پال کے بعد ترلوجن پال نے بھی محمود غزنوی کے خلاف جنگ کی مگر پنجاب پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا. 1025 میں محمود غزنوی نے ہندوؤں کے متبرک مندر سومنات پر حملہ کرتے ہوئے تمام بتوں کو توڑ ڈالا. بہت سارا مال غنیمت لیکر محمود غزنوی واپس غزنی روانہ ہو گئے.

    سن 1186 میں محمود غزنوی کے بعد محمد غوری نے پشاور اور لاہور فتح کر لئے. سن 1191 میں محمد غوری کو شمالی ہندوستان کے پرتھوی راج سے شکست ہوئی. بہت جلد ہی اگلے سال 1192 میں محمد غوری نے تقریباً ڈیڑھ لاکھ فوج اکٹھی کرکے ترائن کے مقام پر پرتھوی راج کو شکست دی اور اسی جنگ میں پرتھوی راج مارا گیا. 1194 میں محمد غوری نے قنوج اور بنارس کے ہندو حکمرانوں کو شکست دی.

    علاء الدین خلجی نے 1297 میں کاٹھیاواڑ بغیر لڑے فتح کیا. جب ہندو فوج کو علاء الدین کی پیش قدمی کا پتہ چلا تو وہ بھاگ گئی. 1527 میں مغل بادشاہ بابر نے میواڑ کے راجے رانا سنگرام سنگھ کو شکست دی. رانا سانگا یا سنگرام سنگھ کو بابر نے گرفتار کر کے قتل کر دیا. پھر کبھی بھی ہندوؤں کو مسلمانوں کے مقابلے میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی.

    1542 میں شیر شاہ سوری نے مالوہ فتح کیا اور 1544 میں رائے سیس کے قلعہ پر حملہ کیا. کالنجر کے قلعے کا محاصرہ کرتے ہوئے. اسکو بھی فتح کیا گیا. یہاں شیر شاہ سوری زخمی ہو گئے اور بعد میں 22 مئی 1545 کو خالق حقیقی سے جا ملے. 1576 میں بادشاہ اکبر نے ہلدی گھاٹ کے مقام پر رانا پرتاب کو شکست دی اور رانا پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا. 1614 میں شہزاد خرم نے میواڑ پر حملہ کر کے امر سنگھ کو شکست دی. 1676 میں اورنگ زیب کے خلاف ہندوؤں کے ایک سادھوؤں کے فرقے نے بغاوت کر دی جس کو کچل دیا گیا.

    (جاری ہے)

    @mian_ihsaan

  • آئیے خوشیاں تلاش کریں۔(میری سوچ) تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی لاہور

    آئیے خوشیاں تلاش کریں۔(میری سوچ) تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی لاہور

    قارئین نے پچھلے کچھ عرصہ میں دیکھا ہو گا کہ ہر دوسری سپیس (ٹوئیٹر پر) اسی موضوع پر ہو رہی تھی۔ اس وقت حالات حاضرہ، معاشی صورتحال، انحطاط کا شکار ہمارا معاشرہ، تربیت سے عاری نوجوان، والدین کی لاپرواہی سے رقم داستان، نوکریوں کا فقدان، کرونا کی بڑھتی گھٹتی غیر یقینی فضاء، امید و بیم میں پھنسی زندگی کی کشتی ہچکولے لیتی بڑھ تو رہی ہے لیکن ذہنی دباؤ، اور تناؤ کی صورتحال نے تقریبا” ہر شخص کو بےحال اور بدحواس کر رکھا ہے۔ صرف یہی معاملہ ہوتا تو شاید انسان وقتی طور پر صبر آزما حالات کا مقابلہ احسن طریقہ سے کر لیتا لیکن پاکستان میں رشوت ستانی کا بازار گرم ہے، اعمال کی بداعمالیوں سے پریشان ہے، سفارش اپنے عروج پر چل رہی ہے۔ اگرچہ حکومتی اقدامات بہت کئے جا رہے ہیں، لیکن جب قانون نافذ کرنے والے خود ملوث ہوں تو پرسان حال کوئی نہیں۔ ان تمام معاملات میں سونے پر سہاگہ مہنگائی کا اژدہا ہے کہ ہر شئے کو نگلنے کے درپئے محسوس ہوتا ہے۔ غریب انسان ایک جانب معاشی ابتری کا رونا ہی رو رہے ہیں کہ دوسری جانب امیر خاندانوں کے بے راہرو جوانوں نے غریب کی عزت کا جنازہ نکالنا شروع کردیا۔ آئے روز کے واقعات نے عجیب خوف کی فضاء پیدا کرکے ہر عزتدار انسان کو پریشان کر رکھا ہے۔ جہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہاں محکمہ پولیس کی نااہلی اور عدالتوں کی سست روی کا شکار معاشرے کو فقط بے انصافی اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رہی ہیں۔
    ان بیرونی حالات کے ساتھ ہی خاندانی نظام بھی ان عوامل کے اثرات سے بچ نہیں پا رہا۔ اثرات کم یا زیادہ ہر خاندان پر پڑتے نظر آتے ہیں۔ انفرادی طور پر قوم نظر نہیں آتی تھی تو اجتماعی طور پر نظام ناکام نظر آ رہا ہے۔ قریبی رشتوں نے بھی آنکھیں پھیرنا شروع کر دیں۔ سگے بہن بھائی کرونا کا سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں، لمبے زمینی فاصلے، سماجی فاصلوں میں تبدیل ہونے لگے۔ اولاد، والدین، بہن بھائی، اقرباء اور پڑوسی، یعنی سبھی سماجی بندھنوں سے نکل کر سماجی فاصلوں کے راستوں پر گامزن ہو رہے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے، کہ سب کام بخوشی اور رضا و رغبت سرانجام پا رہا ہے۔

    اب ان حالات میں ہر پاکستانی خوشی کی تلاش میں ہے۔ بظاہر اوپر والے حالات کسی کو بھی دل کا عارضہ عطا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ لیکن کیا یہ سب ایسے ہی ہے جیسا کہ نظر آ رہا ہے؟ سوال تو اٹھتا بھی ہے اور اکثر جہلاء میڈیا پر بیٹھ کر ان حالات کو مزید بڑھا چڑھا کر اپنی روزی روٹی کمانے میں مصروف ہیں۔ رہی سہی کسر یورپی میڈیا پوری کر دیتا ہے جو آئے دن ایسے ہونے والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا نظر آئیگا۔ اپنے آپ سے چند سوالات کریں۔
    ۔ کیا یہ جنسی، راہزنی، ڈکیتی، چوری، بدمعاشی وغیرہ کے واقعات پہلے نہ ہوتے تھے؟
    ۔ کیا سب واقعات "قومی سطح کی خبر” کی حیثیت سے پیش کئے جاتے تھے؟
    ۔ کیا ہمارا میڈیا اچھائیاں بھی اسی انداز سے خبروں میں اسی رفتار سے شامل کرتا ہے؟
    میرا خیال ہے کہ قارئین پر صورتحال بہت واضح ہو سکتی ہے اگر عمیق نگاہوں سے جائزہ لیا جائے۔ امید کا دامن چھوڑنا ناصرف عقلمندی نہیں بلکہ ناامیدی کو کفر کہا گیا ہے۔ کسی معاشرے کی تباہی اس کی قومی تباہی بن جاتی ہے۔ آئیے دو سطحوں پر الگ الگ بات کریں۔

    قومی سطح۔

    ہر پاکستانی کو چاہئیے کہ اپنے آپکو کسی بھی سیاسی پارٹی کا مستقل رکن یا سپورٹر نہ سمجھے۔ کسی بھی پارٹی کی سپورٹ فقط الیکشن تک محدود کر دیں۔ الیکشن کے بعد پوری قوم غیرجانبدار بن جائے۔ حکومت کا ساتھ ہر شخص غیر مشروط طور پر دے۔ لیکن ہر غلط کام پر سب ایک ہو کر آواز بلند کریں۔ سختی سے روکنے کی کوشش کریں۔ تصحیح کریں۔ درستگی کا عمل شروع کرائیں۔ ہر برائی کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں۔ رشوت لینے والوں کو بےنقاب کریں۔ سفارش کرانے والوں کے نقاب نوچ لیں۔ برائی سے نفرت کو عروج پر پہنچا دیں۔ حکومت کی تشکیل کے بعد اگلے الیکشن تک کسی سیاسی کال پر کان مت دھریں۔ یوں رفتہ رفتہ قائدین کی فہرست سے نااہل لوگ نکلتے رہیں گے۔ یاد رکھیں یہ ہم سب کا ووٹ ہے جو ایک عام آدمی کو کندھا دیکر ایوان اقتدار تک پہنچاتا ہے۔ تو آئیے اسی ووٹ کے ذریعے ایسے قائدین کو جو بداعمال ہوں، بدکردار ہوں یا نااہل ہوں، کندھا دیکر ہمیشہ کیلئے سیاسی قبرستان میں دفن کر دیں۔

    محدود اور خاندانی سطح۔
    اپنے اردگرد نگاہ رکھیں۔ کسی برائی پر آنکھ بند کرنا چھوڑ دیں۔ خود سے گریبان پکڑنے کی عادت ڈالیں۔ لیکن یہ سب تبہی ممکن ہے جب خود صاحب کردار ہونگے۔ اچھے برے کی تمیز رکھتے ہونگے۔ رشتوں کا تقدس اور خاندان کی اہمیت سے آگاہ ہونگے۔ یہ صبر آزما طویل راہ ہے اور مسافر کی قوت برداشت کا کڑا امتحان بھی ہے۔ حالات مقابلہ کرنے سے درست ہوتے ہیں ناکہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے خود بخود سدھرنے والے ہیں۔ ہر کام حکومت کے کرنے کا نہیں ہوتا۔ عوام کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ اپنے سے درستگی کا عمل شروع کرنے والے لوگ جلد ایسے حالات پر قابو پا سکتے ہیں۔ آخر بے راہرو لوگ کسی خاندان سے ہی تو ہیں، ہم سب سے ہی تو جڑے ہیں تو پھر صاحبان کردار کیوں بدکردار کی شامت بن کر سامنے نہیں آ سکتے؟
    میری چند تجاویز آخر میں ہر فرد کیلئے عرضی ہیں۔
    1۔ اپنے بچونکو درست و صحیح کی پہچان دیں۔
    2۔ اپنے بچونکو معاشرے پر بوجھ مت بنائیں بلکہ ہنرمند بنا کر معاشرے کیلئے رحمت بنا دیں۔
    3۔ اپنے گھروں میں بچونکو صاحبان کردار بنائیں۔
    4۔ یاد رکھیں کہ پریوں کی کہانیاں، یورپ کی تاریخ، فکشن وغیرہ سے زیادہ سبق آموز، جاندار اور کردار ساز کہانیاں اسلام کی تاریخ میں ہیں۔
    5۔ قرآنی تعلیمات کو فقط فرض ہی مت سمجھیں بلکہ انسان کی فطرتی ضرورت مان کر بچونکو کو سکھائیں۔
    6۔ رشتوں کا پاس، پڑوسی کے حقوق، اقرباء کے حقوق، عزت و احترام کے اسباق، استاد کے مقام کا تعین، کام پر اسلام کے قوانین کا اطلاق، زندگی میں شریعت کی اہمیت۔۔۔ سب ہی چھوٹی عمر میں بچونکی تعلیم کا نصاب ہونا لازم ہے جو والدین کی اولین ترجیحات میں ہونا لازم ہے۔
    7۔ انفرادیت سے نکال کر اجتماعیت کی طرف رغبت دیں۔

    حکومتی سطح پر بھی بہت سے کام ہونے والے ہیں جو بنیاد کو درست سمت دے سکتے ہیں۔ کسی زمانہ میں ہماری دینیات میں مضامین میں اہل بیت ع اور اصحاب رض کی کہانیاں اور اہم واقعات شامل تھے جنہیں رفتہ رفتہ نکال دیا گیا۔ ان سب کی موجودگی میں معاشرہ اتنا متشدد اور پریشانی سے دوچار نہ تھا اور ناہی منفی سوچ نظر آتی تھی۔ بہتر ہے کہ حکومت اس پر خاص توجہ دے اور نصاب کو بہتر انداز میں تشکیل دے تاکہ معاشرے کی تعمیر نو ہو سکے۔
    اگر ہم سب ایک مقصد زندگی میں بنا لیں تو انفرادی طور پر اس کے حصول میں کوشاں ہو جاتے ہیں اور ذہن میں منفی رجحانات ختم ہو جاتے ہیں۔
    یاد رہے خوشی کا تعلق ہی مثبت سوچ سے جڑا ہے۔ جس دن ذہن سے منفی سوچ کا خارج کرکے مثبت سوچ کو لے آئے، یہی معاشرہ خوشیوں کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

    ٣١ اگست ٢٠٢١ء

  • نشہ سے آپکی زندگی کیسے تباہی و برباد ہوتی ہے میری تحریر پڑھیںِ۔ تحریر۔ فرزانہ نیازی

    نشہ سے آپکی زندگی کیسے تباہی و برباد ہوتی ہے میری تحریر پڑھیںِ۔ تحریر۔ فرزانہ نیازی

    :
    نشہ کیا ہے یہ سوال ذہن میں آتا ہے جواب نشہ موت ہے جو آپکی زندگی کو آہستہ آہستہ سے کھوکھلا کرتا جاتا ہے نشے کی اقسام کون کون سی ہیں یہ جانیے
    افیون گانجا ہیروئن شراب آئیس پٹرول پالش ثمر بوند پوڈر اور انجیکشن نشہ کرنے والا شخص کسی کا نہیں ہوتا آخر میں وہ اپنے ماں باپ کو بھی بیچنا چاہے گا آپ سوچتے ہیں نہ نشہ کرنے میں کچھ نہیں ہوگا میں بتاتی جاؤں کہ
    آخر میں آپکے اپنے آپکے ماں باپ بلکے آپکی اپنی اولاد تک آپکا ساتھ چھوڑ جاتی ہے یہ اتنی بری علامت ہےاس شخص کی نہ اللّٰہ کے سامنے کوئی قدر رہتی نہ ہی دنیا میں کوئی عزت کرتا ہے یہ بات میں قسم کھا کر بھی کہ سکتی ہوں میں آنکھوں دیکھا حال بیان کر سکتی ہوں میری دوست بہت ہی اچھے گھرانے سے تعلق ہے ہمارے ساتھ کالج میں پڑتی تھی ہمارے کالج میں نشہ وار چیزوں کا عام استعمال ہوتا ایک دن ایک ایسی لڑکی سے اسکی دوستی ہوئی جو نشہ وار چیزیں بہت کرتی تھی کالج میں ٹیچرز کو کوئی پرواہ ہی نہیں تھی نہ وہ دیکھتے جا کے کیا ہو رہا ہے میری دوست نے انجکشن لگوا لیا وہ کسی کو کچھ نہیں بتاتی دوسرے دن پھر لگوا لیا مجھے پتا نہیں تھا ایسے گم سم رہنے لگی کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتی تھی یہ سلسلہ 1 مہینہ چلتا رہا اچانک سے اسکی شادی ہو گئی میرا ربطہ ہوا تو اس نے مجھے بتایا سب کچھ میں کافی پریشان ہو گئی سوچا اسکے گھر والوں کو بتاؤ پر اس نے مناہ کر دیا بہت ہی مشکل ٹائم تھا اس کیلئے اسے نشہ بلکل نہیں مل رہا تھا وہ نشے کی اتنی عادی ہو چکی تھی 1 دن نہیں ملتا تو سکا جسم ٹوٹتا تھا غصے سے چختی تھی چلاتی تھی بستر پر ہو جاتی تھی سسرل والے کافی سخت تھے انکو نہیں بتا تھا وہ ایسا کیوں کر رہی ہے نہ وہ گھر سنبھال سکتی تھی نہ کی سسرال والوں کی پروا تھی خود کو بھی بھول گئی فقیروں جیسی حالت ہوگئی کوئی دوا اثر نہیں کرتی اس نے اپنے سسرال والوں کو مجبور ہو کر بتایا میں نشہ کرتی ہوں انجکشن لگاتی ہوں خود کو تبھی چل پاتی ہوئی اگر انجکشن نہ ملے تو مجھے دنیا کا ہوش نہیں رہتا جیسے ہی شوہر نے سانس فارن طلاق ہوگئی آج وہ کہاں کچھ پتا نہیں بہت سمجھایا گھر والوں نے پھر انھوں نے بھی آہستہ آہستہ ساتھ چھوڑ دیا نہیں جانتی وہ کہاں ہے کس حال میں نشہ کی روک تھام کیلئے ہماری گورنمنٹ کو جلد از جلد ایکشن لینا ہوگا پاکستان میں نشہ کا استعمال بہت ہی عام ہوتا جارہا ہے اسکی وجہ گورنمنٹ کی نااہلی ہے کچھ شہروں میں عام میڈیکل سٹور زیادہ سیل نہیں ہو رہا پر ایسا ہو بھی رہا ہے عمران خان کے اپنے آبائی شہر میانوالی میں بڑے بڑے میڈیکل سٹورز پر نشہ بیچا جارہا ہے یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے ہماری آنے والی نشہ میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور قریب دس سے اٹھارہ سال تک کے بچے جو چائلڈ لیبر ہیں وہ عام سوسائٹی کی نسبت اس کا زیادہ شکار ہیں
    جبکہ کالج لیول اور یونیورسٹی لیول اور عام سوسائٹی میں شراب چرس آئیس اور انجیکشن وغیرہ کے نشے زیادہ مقبول ہیں نشے کی فراہمی بہت عام ہوتی جارہی ہے مجھے افسوس ہے اور یہ اندرونے اور بیرون ملک عام سے ماحول میں باآسانی سمگل ہو رہے ہیں ان سب میں اہم بات یہ کہ ان تمام نشہ آور نشوں میں جب عام نشوائی تک ترسیل ہوتی ہے تو کوئی بھی نشہ حالص حالت میں نہیں آتا بلکہ مختلف چیزوں کی ملاوٹ کے ذریعے مقدار بڑھا کر مزید خطرناک کیا
    جاتا ہے ۔۔۔!!!

    @Miss__niazi

  • فضائلِ اہل بیت تحریر : واجد خان

    جس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام کائنات میں سب سے افضل و اعلیٰ ہیں ، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس گھرانے کے افراد کا مرتبہ بھی کائنات سے بڑھ کر ہے ، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ،
    ” اے ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ) گھر والو ! اللّٰہ تعالٰی یہی چاہتا ہے کہ تم سے ( ہر طرح کی ) آلودگی دور کر دے اور تم کو خوب پاک صاف کر دے ۔
    ( سورتہ الاحزاب آیت نمبر 33)
    اس آیت مبارکہ کی تفسیر لکھتے ہوئے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے مراد بالخصوص آپ کی ازواجِ مطہرات، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت فاطمتہ الزہرا، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین اور آپ تمام کی اولاد مراد ہے ، ان میں سے کسی کو بھی خارج نہیں کیا جاسکتا، ورنہ اہل بیت کا مفہوم پورا نہیں ہو گا ۔۔۔
    یہ وہ اہل بیت ہیں جن کی محبت میں جینا عبادت اور مرنا شہادت ہے ، جن کا احترام، تعظیم و تکریم اور محبت شعائر ایمان ہے ۔
    جن کی عزت و شان یہ ہے کہ تمام مسلمان ہر نماز میں ان پر درود و سلام کا نذرانہ بھیجتے ہیں۔
    جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس بزم عالم میں تشریف لائے اور آپ نے اپنی امت کو توحید باری تعالیٰ ، اپنی نبوت و رسالت ، جنت و دوزخ ، حساب و کتاب اور عذاب وثواب کے علاؤہ ان کو دعوت اسلام دی ، پتھر کے پجاریوں کو ایک خدا کا پرستار بنایا ، کفروشرک کے سمندر میں ڈوبنے والوں کو ایمان کی دولت عطا کر کے کنارے لگایا تو اللّٰہ کی طرف سے حکم ہوا ،
    "اے محبوب ! آپ ان سے فرما دیجئے کہ اس دعوت دین اور اس کی تبلیغ واشاعت اور تم کو دولتِ ایمان عطا کرنے کے صلے میں تم سے کوئی مال و دولت طلب نہیں کرتا البتہ میں تمہیں کلمہ طیبہ پڑھانے کا صلہ تم لوگوں سے یہ مانگتا ہوں کہ میرے اہل
    بیت اور قرابت داروں سے محبت کرو "۔
    ( سورتہ الشوریٰ : آیت نمبر 23 )
    اس آیت مقدسہ میں اللّٰہ تعالٰی نے اپنے پیارے محبوب سے یہ اعلان کروا دیا کہ میرے محبوب کے قرابت داروں سے محبت کرو ، پتہ چلا کہ جس نے اہل بیت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے محبت نہ کی اس نے اپنے نبی کا حق ادا نہیں کیا ہے ۔۔۔
    حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے بارگاہ رسالت مآب میں عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ آپ کے قریبی کون لوگ ہیں جن سے محبت کرنا ہم پہ واجب ہے "؟
    حضور پاک نے ارشاد فرمایا، ” علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے یعنی حسن و حسین علیہم السلام ہیں ۔۔۔
    اللّٰہ پاک نے قرآن پاک کی ایک اور آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے : ؛ بے شک تمہارا حاکم اللّٰہ ہے ؛ رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے، نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دیتے ہیں ۔”
    تمام مسلمان اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے نماز کی حالت میں ایک سائل کو انگوٹھی عطا فرمائی تھی ۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ،
    ” میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ” ۔
    حضرت فاطمتہ الزہرا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی صاحب زادی تھیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بے حد محبت تھی، جن کے بارے میں حضور کا ارشاد ہے، ” فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے”۔
    حضرت فاطمہ جب آپ کی خدمت میں تشریف لاتیں تو آپ کھڑے ہو جاتے، ان کی پیشانی چومتے اور اپنی نشست گاہ سے ہٹ کر اپنی جگہ پر بٹھاتے ۔ جب کبھی سفر فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ کے پاس جاتے اور سفر سے واپس آتے تو جو شخص سب سے پہلے خدمت میں حاضر ہوتا ، وہ
    بھی حضرت فاطمہ ہی ہوتیں، آپ کی فضیلت کا اندازہ اس بات ہی لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، ” فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہوں گی "۔۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جہاں کے سردار ہیں آپ نے حسنین کریمین کو جنت کے نوجوانوں کا سردار قرار دیا ہے ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ” بے شک حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں ”
    حسنین و کریمین سے بغض رکھنا حضور سے بغض رکھنے کے مترادف ہے ۔ حضرت سلمان فارسی بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
    ” حسن و حسین دونوں میرے بیٹے ہیں اور جس نے ان دونوں کو محبوب رکھا اس نے اللّٰہ تعالٰی کو محبوب رکھا اور جس نے ان دونوں کے ساتھ بعض و کینہ رکھا اس نے اللّٰہ سے بغض رکھا ، اللّٰہ تعالٰی نے اس کو جہنم میں داخل فرمایا "۔۔۔۔
    حضرت امام حسن و حسین دونوں حضور نبی کریم کے ساتھ باطنی مشابہت کے آئینہ دار تھے ۔ اس امر کی اس سے بڑی دلیل کیا ہو سکتی ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
    حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، جو حسین کو محبوب رکھتا ہے اللّٰہ تعالٰی بھی اس کو محبوب رکھتا ہے۔”
    اہل بیت کی محبت دنیا و آخرت دونوں میں بھلائی کا ذریعہ ہے ، اللّٰہ ہمیں اہل بیت سے محبت کرنے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔
    ( آمین )
    ‎@Waji_12

  • ایشیا- اگلا ورلڈ لیڈر  تحریر : شفقت مسعود عارف

    ایشیا- اگلا ورلڈ لیڈر تحریر : شفقت مسعود عارف

    دوسری عالمی جنگ کے بعد اس وقت کی ایک سپر پاور برطانیہ کا زوال اور دو نئی سپر پاورز کا عروج بیک وقت شروع ہوا امریکہ اور روس
    دونوں طاقتیں ایک دوسرے سے براہ راست تصادم سے گریزاں تھیں اور ایک نئی طرز کی سرد جنگ کا آغاز ہوا دونوں کا میدان جنگ دوسرے ممالک تھے جہاں دونوں اپنی گرفت مضبوط بنانے اور اپنے اپنے بلاک کو وسیع کرنے کیلئے کوشاں رہیں اس دوران ایک ایسا دور آیا جب براہ راست ٹکر نہ ہونے کے باوجود روس کی دہشت امریکہ کی جارحیت سے زیادہ تھی لیکن جب زوال کا وقت آیا تو سب سے پہلے روس کے ٹکڑے ہوئے
    روس کے بعد امریکہ اسی سرزمین پر بھرپور فوجی طاقت سے اترا جہاں جنگ آزمائی کی غلطی روس کے ٹکڑے ہونے کا باعث بنی تھی اور اس سے بھی پہلے برطانیہ نے وہاں ایک تلخ سبق سیکھا تھا اس دور کی واحد عالمی فوجی قوت امریکہ بھی 20 برس بعد اپنی معیشت پر ناقابل بیان دباو اور میدان میں مسلسل ناکامیوں کا سامنا نہ کر پایا اور بالآخر اسطرح وہاں سے نکلا جیسے کوئی سویا ہوا اس وقت ہڑبھڑا کر اٹھ بھاگتا ہے جب اسے پتہ چلے کہ اس کے کمبل میں سانپ گھس آیا ہے
    یہ سارا منظر نامہ اس وقت تشکیل پا رہا ہے جب ایشیا سے اگلی سپر پاور چین کا ظہور ہو رہا ہے چین نے نہ صرف امریکہ سمیت دنیا کے بہت سے ممالک پر اپنی الگ ہی طرز کی معاشی گرفت مضبوط کی ہے بلکہ اپنی فوجی طاقت میں بھی بے پناہ اضافہ کے ہے
    سپر پاور بننے کیلئے بس ایک کمی تھی دوسرے ممالک تک آسان رسائی۔ جسے اس نے سی بیک کے ذریعے ممکن بنایا ہے
    چین کا کوئی قریبی مدمقابل تھا تو وہ تھا بھارت جو آبادی اور فوجی شماریات میں اس کے قریب تر تھا لیکن بھارت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک بند ملک ہے جس کے پاس دوسرے ممالک تک رسائی آسان نہیں
    بھارت کی زمینی سرحدیں چین اور پاکستان سے ملتی ہیں جن سے اس کی دشمنی ہے
    نیپال اور بھوٹان کا مشکل جغرافیہ اس کیلئے کسی کام کا نہیں
    سری لنکا میں دس سال دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت کے بعد وہاں سے کسی مثبت بات کی توقع نہیں رکھ سکتا بنگلہ دیش سے بھی بھارت کو کوئی خاص مدد نہیں مل سکتی
    اسلئے سپر پاور بننے میں بھارت کا راستہ باقی عوامل سے پہلے اس کے جغرافیہ نے روک دیا ہے
    چین کے علاوہ ایشیا میں ایک اور قوت بھی ہے حالات اور جغرافیہ جس کے حق میں خود بخود راہ ہموار کرتے نظر آتے ہیں وہ ہے پاکستان
    ایک طرف وسط ایشیائی ریاستوں اور دوسری طرف مشرق وسطی تک براہ راست آسان رسائی کے علاوہ افغانستان کے معاملات میں ہمیشہ سے مثبت کردار اور افغانوں سے تعلقات پاکستان کیلئے بہت اہم ثابت ہونگے دوسری طرف اسلامی دنیا میں امیر ترین ممالک بھی قیادت کیلئے اور مشکل میں مدد کیلئے پاکستان کی طرف دیکھنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں
    پاکستان کیلئے صرف ایک مشکل ہے وہ ہے معاشی مسائل لیکن بدلتے حالات میں واضح ہے کہ اگر پاکستان نے اپنے جغرافیائی حالات اور عالمی حقائق کے مطابق اپنی پوزیشن اور اہمیت کا صحیح ادراک اور استعمال کیا تو وہ بہت جلد ان مسائل سے چھٹکارا پا لے گا
    امریکہ کی سکڑتی معیشت اور عالمی معاملات میں بڑھتی مخالفت اسے بہت جلد زوال پذیر کر دیگی ایسے میں اگلی عالمی فوت بلاشبہ چین ہو گی لیکن چین کو اس سٹیٹس کو برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کے ساتھ کی ہمیشہ ضرورت رہے گی اور پاکستان کے کردار کی آئندہ عالمی سیاست میں اہمیت مسلسل بڑھتی چلی جائیگی ایک سیمی سپر پاور کی طرح جیسے اس وقت برطانیہ اور فرانس ہیں
    چین ہو یا پاکستان
    یا چین اور پاکستان کا اتحاد
    آئندہ سالوں میں ایشیا ہر حال میں عالمی معاملات کی قیادت کرتا نظر آئےگا

    Twitter handle
    @ShafqatChMM

  • آج کی دنیا -خاموش پیغام  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    آج کی دنیا -خاموش پیغام تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    آج کل ہم جس دنیامیں زندہ ہیں ، اس کےحالات بہت چونکا دینے والے ہیں۔ یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ ہمارے زمانے میں پریوں کی جوکہا نیاں تھیں وہ اب سچی ثابت ہوگئی ہیں ۔ اب انسان خلاء کی سیراتنے آرام سے کر رہے ہیں جیسے گھر کی چہار دیواری مں بیٹھے ہوں اور اب توانسان چاند پر ڈیرے ڈال چکا ہے اوراب تو وہ دوسرے سیاروں پر بھی کمند ڈالنے کی فکر میں ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک سے کوئی سامان خریدنا ہو تو بس گھر بیٹھےایک معمولی کارڈ سے ادائیگی کر کے منگایا جاسکتا ہے، ایک معمولی ساہٹن دباکر ہم اپنے مکان میں روشنی کا سیلاب لا سکتے ہیں، ایک بٹن دہاتے ہی گھر بیٹھے ہم رنگارنگ موسیقی سن سکتے ہیں اورفورا ہی دوسرابٹن دباکر زندہ تماشا یعنی ٹیلی وزن دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات چشم زدن میں آپ کے سامنے آجاتے ہیں، ایک چھوٹاسا آلہ کان اور منہ سے لگانے کے بعد هم ایک ایسے دوست کو دیکھتے ہوئے براہ راست بات چیت کر سکتے ہیں جو ہم سے آدھی دنیا کے فاصلے کے برابر دور بیٹھا ہے، ہم جب چاہیں گوگل کی مدد سےاپنے ذہنی دریچوں کوکھول سکتے ہیں ، ہم سیکنڈوں میں بادلوں اور بلندیوں پر چمکتے ہوئے ستاروں کے بارے میں قیمتی معلومات کا خرانہ حاصل کر سکتے ہیں، ان چٹانوں کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں جو ہمارے پاؤں کے نیچے دفن ہیں، اپنےجسم کی ساخت کو سمجھنااب کوئ مشکل نہیں رہا، اس کے ساتھ ہی ہم تندرست رہنے کے طریقے بھی معلوم کر سکتے ہیں اور یہ وہ معلومات ہیں جو کہ اب سے ہزاروں سال پہلے کےبڑے بڑے علماء کو بھی معلوم نہیں تھیں۔
    اب تو ہم قدیم بادشاہوں سے کہیں زیادہ بہتر موسیقی سن سکتے ہیں، اب ہم دنیا سے مختلف ممالک کی بہترین نقاشی اورسنگ تراشی کے نمونے بآسانی گھر بیٹھےدیکھ سکتے ہیں، ہم اگر چاہیں تو معمولی سی کوشش سے بہترین موسیقار، مصور اور مجسمہ ساز بن سکنے ہیں۔ اپنے خیالات و محسوسات کو بہترین پیرایوں میں ظاہرکرنے کے طریقے سیکھ سکتے ہیں۔ اب توآپ یہ کہھہ سکتے ہیں کہ یہ کوئی کمال کی بات نہیں اور نہ اسے پہلے کی طرح جادو کہاجاسکتاہے۔
    ہمارے آبا واجداد کے بچپن میں نہ ریڈیو تھے اور نہ ہوائی جہاز ۔ اسی طرح جب آپ کے والد بچے تھے تو ٹیلیوژن کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ آنے والی کل کو آپ کے بچے کیا کچھ دیکھیں گے آج آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن اب اس کا انحصار آپ کی زات پر ہے ہرنئی ایجا دکا فائدہ بخش پہلو بھی ہوتا ہے اور نقصان دہ بھی۔ ہوائی جہاز میں بیٹھ کر آپ دور دراز علاقوں میں جاکر تفریح کر سکتے ہیں لیکن یہ ہی جہاز مکانوں، کارخانوں اور شہروں پر بم گرا کر انہیں مٹی کے ڈھیر بھی بنا سکتے ہیں ۔ ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے آپ دنیا کی بہترین موسیقی اور تفریحی پروگرام دیکھ اورسن کر خوش ہوسکتے ہیں اور یہی ریڈیو اور ٹی وی دشمن کی فوجوں کوحملہ کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے ۔ ایٹم بم نیار کر نے والی مشینیں مہلک بم بھی تبار کرتی ہیں اور آپ کو تکلیف دہ امراض سے نجات بھی دلاسکتی ہیں۔ درسگاہوں میں ہم حکمت و دانائی کی باتیں سیکھتے ہیں لیکن کہیں کہیں ان درسگاہوں میں طالب علموں کو دوسرے انسانوں سے نفرت کرنے کی تعلیم بھی دی جاتی ہے یہ مقولہ بالکل درست ہے کہ "علم کے صحیح استعمال سے انسان ترقی کی بلندیوں پر چڑھتا ہے اور اس کے غلط استعمال سے تنزلی کی پستیوں میں جاگرتا ہے” ۔ہمیں دنیا کے تمام انسانوں سے وہی سلوک کرنا چاہیے جو ہم ان سے اپنے ساتھ چاہتے ہیں ۔ اگرہم نے اس سنہری اصول پرعمل نہ کیا تو ہمارے تمام منصوبے، زندگی کی تمام مسرتیں اور دنیا کی تمام نعمتیں خاک میں مل جائیں گی اورانسان اپنی مسلسل اور انتھک جدوجہد سے ترقی کی جس معراج پر پہنچا ہے ، وہ ماضی کا ایک بھیا نک خواب بن کر رہ جائے گی ۔

    @Azizsiddiqui100

  • بے پردگی اور ہماری عوام  تحریر: راجہ ارشد محمود

    بے پردگی اور ہماری عوام تحریر: راجہ ارشد محمود

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ملک ہے جس کو اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ جس کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ پر رکھی گئی۔پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔۔۔۔۔۔۔
    جسے حاصل کرنے کا سب سے بڑا مقصد ہی یہ تھا کہ یہاں مسلمان اپنے دین اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق اپنی زندگی پوری آزادی کے ساتھ گزاریں۔ کیونکہ برصغیر ہندوستان میں مسلمانوں پر ہر طرح سے زندگی تنگ کردی گئی تھی۔

    ان کا فقط جرم یہ ٹھہرا کہ وہ مسلمان تھے۔ اسی وجہ سے ان پر زور و شور سے ظلم و ستم کیا جاتا رہا۔ مسلمانوں سے انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی کروائی جاتی رہی۔ ان کے لیے وہاں نہ کوئی تحفظ تھا اور نہ ہی عزت۔

    بس ہر سوں مسلمانوں کا قتل عام تھا۔ مسلمان عورتوں کی عزت تو چار دیواری کے اندر بھی محفوظ نہیں تھی۔ ایسے میں اللّٰہ پاک نے مسلمانوں کو تکالیف سے نکالنے کے لیے ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کو بھیجا ۔ جنہوں نے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے لیے آزادی کی جنگ لڑی۔ اپنی انتھک محنت سے مسلمانوں کے لیے الگ وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان حاصل کیا۔

    پر انھیں کیا پتا تھا کہ وہ جس قوم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں وہ قوم آگے چل کر اسی مغرب کی پیروی کرنے والی یے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج پاکستان کی عوام بہت حد تک مغربی کلچر کے دلدادہ ہوگئے ہیں؟ پہلے تو بات صرف ان کے ڈرامے اور فلمیں دیکھے جانے تک کی تھی پر اب تو ہمارے معاشرے میں مکمل طور پر مغرب کا کلچر اپنی جڑیں گاڑ رہا ہے۔ اس میں قصور وار کوئی دوسرا تیسرا نہیں بلکہ صرف اور صرف ہم خود ہیں، ہمارا معاشرہ ہے۔

    جو مغربی کلچر کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ شادیوں بیاہوں کی تقریبات میں گھٹیا سے گٹھیا لباس تن کرنا اب کوئی بہت بڑی بات نہیں رہی۔ وہیں آج سرعام سڑکوں پر بےلباس گھومنا پھرنا بھی عام ہوگیا ہے۔ وہی ملک جسے آزادی کے ساتھ اسلام کی پیروی کرنے کے لیے حاصل کیا گیا تھا آج اسلام کے تمام احکامات کو رد کرتے ہوئے ہمارے معاشرے کی کچھ عورتیں جب میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔

    یہ سب باتیں صرف عورتوں تک ہی محدود نہیں رہیں ہمارے معاشرے کے مرد حضرات بھی کسی سے کم نہیں ۔ یہاں ایسے مرد بھی پائے جاتے ہیں جو اپنے بےشرم اور بےحیا ہونے کا مکمل ثبوت دیتے ہوئے راہ چلتی عورتوں کو حراساں کرتے ہیں اور پھر موقع دیکھتے ہیں بھوکے کتوں کی طرح انھیں نوچ ڈالتے ہیں۔ اس کے علاؤہ انھیں بےپردہ ہونے میں بھی وقت نہیں لگتا۔ ابھی کچھ روز قبل کی بات ہے جب سوشل میڈیا پر چند تصاویر وائرل ہوئیں۔

    جس میں ایک مرد فیشن کے نام پر اپنا پورا بدن برہنہ کیے ہوئے اپنے جسم کی نمائش کروا رہا تھا۔ تو پھر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کے اس قسم کی بےشرمی، بےحیائی اور بےپردگی کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ کردار پاکستان کی عوام کا ہے۔ جو ایسے نمونوں کو شوق سے دیکھتے ہوئے ان کی پزیرائی کرتے ہیں ۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @RajaArshad56

  • بددعائے محبت تحریر: بسمہ ملک

    بددعائے محبت تحریر: بسمہ ملک

    (گزشتہ کیساتھ پیوستہ )

    میں خوش تھی کہ میں نے اپنا انتقام لے لیا چھ ماہ بعد میری شادی ہونے والی تھی میں اور سعد پہلے کی طرح ایک دوسرے سے فون پر باتیں کرتے تھے میں بھول چکی تھی کہ سعد نے مجھے گردہ دینے سے انکار کیا تھا
    عادی کو گئے پانچ ماہ ہوئے تھے میں بھی اس کو بھول کر اپنی دنیا میں مست تھی کہ ایک دن فون آیا کہ عادی کوہاٹ اٹیک آیا ہے اور وہ ہسپتال میں ہے مجھے اس خبر سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا امی اور ثمرین اس کو دیکھنے گئی تھی دوسرے دن ثمرین نے مجھے فون کیا اور کہا عادی بھائی آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں میں نے صاف انکار کردیا
    ثمرین نے میری منت ترلے کیے اور یہ بھی کہا کہ ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے آپ ان کی خیریت پوچھ کر فون بند کر دینا
    شاید کچھ کہنا چاہ رہے ہوں آپ سے ۔۔۔؟
    مجھے کوئی ضرورت نہیں اس سے بات کرنے کی میری بلا سے وہ مرے یا جئے۔
    میں نے بے حسی سے کہا اور ثمرین کے کچھ بولنے سے پہلے ہی فون بند کر دیا
    کچھ دیر بعد ثمرین کے نمبر سے میسج آیا تھا میںسج عادی نے کیا تھا
    میرے تے مر داروں سے
    مسیحا جب یہ کہہ دیں گے
    دعا کا وقت آپہنچا
    یہ بیماری بہانہ تھی
    قضا کا وقت آ پہنچا
    تو کیا تم اتنی بے حس ہو
    یقین اس پر نہ لاؤ گی ؟؟
    تو کیا تم اتنی ظالم ہو
    مجھے ملنے نہ آ وگی؟؟؟؟

    نیچھے عادی کا نام لکھا تھا میں نے فورا ڈیلیٹ کردیا اور بھاڑ میں جاو لکھ کر ریپلائی سینڈ کر دیا جواب پڑھ کر اس کی جو شکل ہوئی ہوگی سوچ کر میں ہنس پڑی تھی اگلے دن صبح میرے فون کی بیل سے میری آنکھ کھلی
    اتنی صبح کو فون کر رہا ہے؟ میں نے بے زاری سے سوچتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا اور بمشکل ذرا سی نیم آنکھیں کھول کر نمبر دیکھنے کی کوشش کی ثمرین کا نام پڑھتے ہیں مجھے غصہ آ گیا تھا مجھے یقین تھا کہ فون عادی کر رہا ہوگا یا اس نے ثمرین سے کہا ہوگا کہ فون کر کے میری بات کرادؤ اتنی دیر میں فون خاموش ہو گیا تھا میں نے شکر ادا کیا اور کروٹ بدل کر پھر سونے کی کوشش کرنے لگی
    موبائل ایک بار پھر بج اٹھا میں نے غصے سے موبائل اٹھایا اور یس کا بٹن پریس کرتے ہی بےزاری سے بولی
    ثمی کیا مسئلہ ہے تمہیں؟
    اپی۔۔۔۔ عادی فوت ہوگئے ہیں،
    ثمرین روتے ہوئے بمشکل اتنا ہی کہا تھا
    میری نیند غائب ہو گئی شاید مجھے ایسے خبر کی توقع نہیں تھی مجھے ذرا سا دکھ سا ہوا میں کمبل لپیٹ کر سونے کی کوشش کی کی مگر نیند نہیں آئی تو میں نے اٹھ کر منہ دھویا یا اور ناشتہ بنانے لگی
    ابو کو اطلاع مل چکی تھی اور وہ عادی کے گاؤں جانے کی تیاری کر رہے تھے ابو نے مجھے کہا کہ تم بھی ساتھ چلو مگر مجھے ایسے رونے کے موقع سے الجھن ہوتی تھی
    میں وہاں کیا کروں گی؟
    ابو آپ لوگ چلے جائیں
    میں نے انکار کر دیا
    مجھے تھوڑا دکھ ضرور ہوا تھا مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ میں دل پہ لے لیتی
    ابو لوگ 3 دن بعد واپس آئے تھے
    ثمرین نے آتے ہی مجھ سے شکوہ کیا تھا اپی اپ نے اچھا نہیں کیا
    عادی بھائی کے ساتھ
    اگر ان سے بات نہیں کی تو کم از کم ان کے مرنے پر ہی آ جاتی
    ان سے ایسی بھی کیا ناراضگی تھی کہ آپ کی ۔۔؟
    اس کی آواز سے لگ رہا تھا جیسے وہ روتی رہی ہے
    میرے جانے سے کونسا اس نے زندہ ہو جانا تھا
    میں نے جان چھڑانے کے انداز میں کہا
    آپ کے جانے سے وہ زندہ تو نہیں ہو سکتے تھے البتہ اگر اپ ان سے بات کر لیتی تو شاید وہ زندہ ہی رہتے
    میں نے اسے مارا ہے کیا۔۔۔؟
    ثمرین کے جواب پر مجھے غصہ آ گیا تھا
    ہاں اپی آپ نے ہی ان کو مارا ہے اس انسان کو جس نے آپ کی زندگی بچائی تھی
    کیا مطلب۔۔۔؟
    ثمرین کے جواب پر میں نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا
    اپی آپ بھی آپ کو معلوم ہی نہیں کہ جس سے آپ نے آخری وقت بھی بات کرنا گوارا نہیں کیا اور جس سے آپ سب سے زیادہ نفرت کرتی تھی اسی عادی بھائی نے آپ کو اپنا ایک گردہ دیا تھا
    کک کیا۔۔؟؟؟
    میرے منہ سے بے ساختہ نکلا
    مجھے شدید حیرت ہوئی تھی بے یقینی سے میں ثمرین کا منہ تکنے لگی
    مجھے لگا شاید ثمرین جھوٹ بول رہی ہے۔؟
    یہ تم کیا کہہ رہی ہو ثمی؟
    تت تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟؟
    میں اس وقت دکھ، حیرت اور بے یقینی کے ملے جلے سے احساس میں ڈوبی ہوئی تھی
    یہ بات ابو اور میرے سوا کوئی نہیں جانتا
    ثمرین نے کہا
    عادی بھائی نے ہم دونوں سے وعدہ لیا تھا کہ یہ بات اپ سمیت کسی کو بھی نہ بتائی جائے
    ثمرین کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی
    مجھے لگا جیسے کوئی میرا دل ارے سے کاٹ رہا ہو
    آنکھوں میں آنسو کی وجہ سے ثمرین کا چہرہ دھندلانے لگا تھا
    شاید یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے محبت کی بددعا لگی تھی
    اس بے لوث محبت کی بددعا جس کا میں نے ہمیشہ مذاق اڑایا تھا
    اور زندگی میں پہلی بار لڑکی بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی
    پانچ سال گزر چکے ہیں مگر میرے دل کو صبر نہ آیا نہ قرار ایا
    پچھتاوا مجھے کھائے جا رہا ہے ان پانچ سالوں میں ان گنت بار میں عادی کی قبر بھی پہ جا کے معافی مانگ چکی ہوں
    مگر میرے دل کو سکون نہیں ملا شاید عادی نے مجھے معاف نہیں کیا کیونکہ میں نے جب اس پر بہتان لگا کے گھر سے نکلوایا تھا تو جاتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ” نوشی میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا ”
    میں جب بھی اس کی قبر پر جاتی ہوں ہو اس کی پسند کے سرخ گلاب لے کر جاتی ہوں
    میری خواہش ہے کاش وہ بھی میری طرح میرے لائے پھول توڑ کر پھینکے اور مجھے کہے یہاں سے چلی جاؤ مجھ سے نفرت کا اظہار کرے
    میں افف تک نہیں کروں گی بس
    ایک بار وہ مجھے معاف کر دے
    بس ایک بار
    میں نے سب کی مخالفت کے باوجود منگنی توڑ دی تھی اور آج تک شادی نہیں کی اور نہ کبھی کروں گی اب اندھیرے میرے مقدر ہیں
    روشنی کے دلدادہ لڑکی کو اب اندھیرا اچھا نہیں لگتا ہے
    میں جانتی ہوں کے عادی کی قاتل میں ہی ہوں
    مجھے یاد ہے عادی نے ایک بار ہارٹ اٹیک کی تشریح کی تھی کی اس نے کہا تھا کہ جب کسی انسان کو مسلسل دل پہ زخم لگتے ہیں تو اس کا دل کمزور ہو جاتا ہے اور جب مزید قوت نا رہے تو کوئی ایک بات یا الفاظ دھچکے کی صورت دل پہ لگتی ہے اور دل دھڑکنا بھول جاتا ہے
    لوگ کہتے ہیں اسے ہارٹ اٹیک آگیا
    وجہ نا کوئی جانتا ہے نہ جاننے کی کوشش کرتا ہے
    اس نے ٹھیک کہا تھا میرے راویے نے اسے مارا ہے اور جب اسپتال میں اس نے مجھ سے بات کرنا چاہے تو میں نے انکار کر دیا تھا
    شاید اسی بات نے اس کو مار دیا ہو
    میں خود کو اس کی قاتل سمجھتی ہو اور اس کی سزا مجھے بے سکونی تنہائی اور پچھتاوے کی صورت مل رہی ہے
    ایک اذّیت مسلسل ہے
    جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے
    عادی نے کئی بار کہا تھا کہ کزن یار کچھ بھی کر مگر تکبر نہ کیا کرو
    اللہ سے ڈرو ۔
    تکبر صرف اللہ کی ذات کو ہی جچتا ہے
    کائنات کا سب سے پہلا گناہ تکبر ہی تھا
    جس نے فرشتوں کے سردار کو قیامت تک کیلئے ملعوون بنا دیا ہے
    وہ بھی خود کو افضل سمجھ بیٹھا تھا وہ آگ سے بنا تھا اس نے آدم علیہ السلام کو مٹی کا سمجھ کر حقیر جانا اور سجدے سے انکار کر دیا
    عادی نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔
    کاش میں اس وقت اس بات کو سمجھ لیتی اور اسے انسان ہی سمجھتی تو پچھتاوا میرا مقدر نہ ہوتا
    کاش وہ ایک بار اکر اپنے مخصوص انداز میں کہے
    "کزن یار”
    کیوں پریشان ہو؟؟؟
    اور مجھے گلے سے لگا کر کہے
    اب میں آگیا ہوں
    سب ٹھیک ہو جائے گا
    اور میں اس کے گلے سے لگ کر اتنا رہا ہوں کہ میرا سانس تھم جائے
    پھر وہ مجھے ہمیشہ کے لئے اپنے ساتھ ہی لے جائے
    اب عجیب ہی سہی
    مگر یہ میری آخری خواہش ہے
    (ختم شدہ )

  • والدین و اولاد کے حقوق و فرائض تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    والدین و اولاد کے حقوق و فرائض تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    اولاد سے حق مانگتے ہیں مگر اس سے پہلے فرائض کا ادا کرنا نہایت اہم امر ہے۔جو آج والدین ہیں وہ کل خود اولاد تھے، جو آج اولاد ہیں وہ کل والدین ہونگے۔ سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ وقت کا چکر ہے، اگر حق کل چاہئیے تو آج حقوق ادا کریں اور اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی مت کریں۔

    پہلی بات تو سمجھنے کی ہے کہ اولاد ہے کیا؟ کیا آپ ان پر ولی ہیں یا ان کے آقا؟ کیا آپ ان کے مالک ہیں یا رکھوالے؟ اولاد اللہ نے عطا فرمائی ہے، والدین کو کچھ اہم ذمہ داریاں دے کر ان کو ولی کیا۔باپ کو فقط دو فرائض دیے گئے۔
    1۔ بہترین نام رکھو۔
    2۔ بہترین تعلیم و تربیت کرو۔
    "بہترین” ہر شخص کی استطاعت اور معاشی و معاشرتی حیثیت سے مشروط ہے۔ اس ضمن میں پہلی بات تو ہے کہ انسان دوسرے انسان کا آقا نہ بنے اور اولاد کو ایک امانت مان کر انکی بہترین حفاظت کرے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر انکی تربیت کا اہتمام کرے۔

    معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے، اگر لوگ ایک دوسرے سے شاکی رہنے لگیں تو معاشرے میں بے حسی، ابتری اور ایک دوسرے سے تناؤ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

    آج کل ہمارا معاشرہ بھی اسی ابتری کا شکار ہے اور ہر شخص دوسرے سے نالاں نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے حقوق کا تو پتا ہے مگر ہم نے اپنے فرائض بُھلا دیے ہیں۔ ہم برملا یہ تو کہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ادا نہیں کیے جاتے لیکن ہم خود اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتے نظر آتے ہیں۔ گھر کی چار دیواری سے لے کر محلے اور پھر ملکی سطح پر ایک خود غرضی اور بے حسی کی فضا مسلط ہے۔

    افسوس! قربانی، ایثار، وفا اور محبت کے اسباق ہم نے فراموش کر دیے ہیں۔ گھر کی چار دیواری میں والدین اولاد سے اور اولاد والدین سے، بہن بھائیوں سے اور بھائی بہنوں سے، بیوی شوہر سے اور شوہر بیوی سے نالاں ہے۔ ہمسائے، ہمسائے سے، رشتے دار رشتے داروں سے، استاد شاگرد سے، شاگر د استاد سے، عوام حکم رانوں سے اور حکم ران عوام سے غرض ہر شخص دوسرے سے بے زار ہے۔ ساتھ رہنا، نہ چاہتے ہوئے بھی تعلق نبھانا محض مجبوری ہے۔
    والدین کہتے ہیں اولاد ہماری نافرمانی کرتی ہے ہماری نگہہ داشت نہیں کرتی، ہمارا کہنا نہیں مانتی، ہمارا حق ادا نہیں کرتی، ہم نے اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر ان کی خواہشات پوری کیں مگر ان کے پاس ہمارے لیے وقت نہیں، انہیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، معاشرے میں باعزت روزگار کے لیے پیٹ کاٹ کر تعلیم دلائی مگر اب شادی بیاہ جیسے معاملات میں ہمیں چھوڑ کر دوسروں کو اولیت دیتی اور ہماری رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔

    اولاد کا کہنا ہے ماں باپ ہم سے محبت نہیں کرتے، ہمیں پیدا کیا اچھی پرورش کی، تعلیم دلائی یہ ان کا فرض تھا مگر ہمارے والدین ہم پر اب ہر وقت احسان جتاتے ہیں، ہم جوان ہوچکے ہیں انہیں اپنی لڑائی جھگڑے سے فرصت نہیں، ماں باپ کی ہر وقت کی لڑائی کی وجہ سے ہمارا گھر آنے کو دل نہیں چاہتا، گھر میں سکون نام کو نہیں، ہمیں اپنی مرضی نہیں کرنے دیتے جب ہم نابالغ تھے تو ان کی ہر بات مانی اب ہم اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں مگر ہمیں تھوڑی سی بھی آزادی میسر نہیں، ہم کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرسکتے، یہاں تک اپنی پسند سے مضمون کا انتخاب بھی نہیں کرسکتے۔ والدین ہمیں رشتے داروں اور دوستوں کے سامنے ڈانٹتے ہیں۔

    اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں اپنے حق کی بات تو کرتے ہیں مگر فرائض دونوں بُھول چکے ہیں۔ انسان کو زمانے کے مطابق تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ بات بالکل سچ ہے جو کل فیشن تھا وہ آج تبدیل ہو چکا ہے، والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں سے محبّت کریں، ان کی اچھی تربیّت کریں، انہیں اچھی تعلیم دلائیں، جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کی شادی کرائیں، ان سے دوستانہ سلوک کریں، کچھ ان کی مانیں اور کچھ اپنی منوائیں تاکہ انہیں احساس ہوکہ والدین کے نزدیک ان کی اہمیت ہے۔ کسی کے سامنے انہیں ڈانٹیں نہیں، لڑائی جھگڑا نہ کریں۔ اکثر بچے والدین کی آپس کی ناچاقی سے اور دوسروں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنے بچوں کو پُرسکون ماحول دیں۔ زمانے کی تبدیلی کے مطابق جینے کا حق دیں تاکہ بچے معاشرے کے مفید رکن بن سکیں۔ پرانی روایات کوجدید دور سے ہم آہنگ کریں تا کہ بچے اسے اپنانے میں عار محسوس نہ کریں۔ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

    ایسے والدین جو اپنے فرائض کو اچھی طرح سے سر انجام دیتے ہیں وہی جنّت میں گھر بنانے کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ گالی گلوچ، مار پیٹ اور اپنے فرائض کو درست طریقے سے انجام نہ دینے والے والدین سے جنّت بھی روٹھ جاتی ہے۔ اسی طرح اولاد کا فرض ہے کہ وہ والدین کی خدمت کریں ان کی حکم عدولی نہ کریں اگر کسی بات پر اختلاف ہے تو آرام اور تحمّل سے اپنی بات سمجھائیں ان کو وقت دیں اور یہ باور کرائیں کہ والدین ان پر بوجھ نہیں بل کہ والدین کے دم سے ان کے گھر میں برکت ہے۔

    اﷲ تعالیٰ اپنے حقوق میں پہلوتہی تو معاف کر دے گا مگر اس انسان کو اُس وقت معافی نہیں جب تک وہ انسان اُسے معاف نہ کرے جس کا اُس نے دل دکھایا ہو۔ ہمیں اپنے فرائض اور حقوق کا ادراک ہونا چاہیے تاکہ ہم اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

  • جمعرات بھری مراد تحریر:م۔م۔مغلؔ

    چھ ہزار سال قبل کا ایک غیر ارادی عمل جس نے چار کروڑ انسانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں، دروغ برگردنِ راوی کے مصداق ہمارا ذاتی طور پراس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کہتے ہیں ایک شخص راستہ بھٹک کر جنگل کی سمت نکل گیا، ابتدا میں تو اسے کسی شے کا خوف نہ تھا مگر چلتے چلتے جوں جوں جنگل گھنا اور مہیب ہوتا گیا اس کے اعصاب پر عجیب خوف سا طاری ہوتا گیا، جنگلی جانوروں کی آوازیں اور پرندوں کی چہکار فضا میں پرکیف نغمے گھول رہے تھے، اچانک بندروں کی ایک ٹولی نے اپنے ہم شکل کو دیکھا تو جوق در جوق زیارت کو جمع ہونے لگے اور خوخیا کر باقی ماندہ برادری کو دعوتِ نظارہ دینے لگے، بیچارہ بھٹکا ہوا شہر باسی ان بن باسیوں کی جانب سے پڑنے والی اس اچانک افتاد پر گھبرا کر بیٹھ گیا، بندروں نے سہمے ڈرے شخص کی گھبراہٹ کا فائدہ فیض کے ضرب المثل مصرع کی گردان کرتے ہوئے خوب اٹھایا، ۔۔۔۔ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

    اب کیا تھا کبھی ایک بندر شاخوں پر جھولتا ہوا نیچے اترا اور بیچارے کے سر پر دھول جما کر یہ جا اور وہ جا تو کبھی دوسرا، باقی بندروں کو تو جیسے کورونا کے لاک ڈاؤن کی فراغت کے ایام جیسا ایک مشغلہ سا مل گیا، باری باری بندر جھولتے لپکتے اور دھول جما کر پھدکتے ناچتے خوخیاتے۔۔ اس بساطِ دھماچوکٹری میں ایک نوجوان بندر نے کچھ نیا کرنے کی ٹھانی اور بھٹکے ہوئے شخص کا سامان اٹھا لیا اور چھلانگ مار کر درخت کی اونچی شاخ پر جا براجمان ہوا، مفلوک الحال شخص نےاس ناگہانی پر گھبرا کر جوتا اتارا اور نوجوان بندر کو دے مارا، شومئی قسمت جوتا درخت کی شاخ میں الجھ گیا، نوجوان بندر نے اس حرکت کا بھی خوب فائدہ لیا اور شاخ پر ہی رقص کرنا منھ چڑانا شروع کردیا، طیش میں آکر راہ سے گم کردہ شخص نےجذبات سے مغلوب ہوکر دوسرا جوتا بھی کھینچ مارا، جو نوجوان بندر کے رخسار کا بوسہ لینے کے بعد اسی شاخ پر جا مصلوب ہوا، اب ایک کو پڑی تو باقی بندروں کے ہوش ٹھکانے آئے یوں بندروں کی ٹولی خوخیاتے ہوئے فرار ہوگئی، راہ گم کردہ ضعیف شخص وہیں درخت کے نیچے تھک ہار کر سو رہا۔۔۔شنید ہے پھٹے کپڑوں میں ملبوس بھوک کے ہاتھوں مجبور مکان سے بے نیاز وہ شخص وہیں پڑے پڑے دنیا سے رخصت ہوگیا، موسموں نے اس کی لاش پر پتے گرائے ، وقت نے دھول اوڑھائی یوں مفلوک الحالی کی قدرتی قبر زمین کے سینے پر نقش ہوگئی، بعد ازں بھٹک بھٹک کر جنگل آنے والے اسی راستے سے گزرتے تو درخت پر لٹکے جوتے دیکھ کر ٹوٹکے کے طور پر اپنے جوتے بھی درخت کی شاخوں پر آویزاں کرنے لگے کہ کسی مراد کی شاخ کو پھل لگ جائے، ایک وقت وہ آیا کہ درخت پرپتوں کی بجائے جوتے ہی نظر آنے لگے ، کرتے کرتے جنگل شہر میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔۔۔ کہتے ہیں مفلوک الحال شخص کی قبر پر حاضری دینےکے بعد جنگل کے ٹمبر مافیا اور اس کی اولاد بعد ازاں سیاسیات کے کارزار کی جانب چل پڑی، قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ وہی جنگل ہے جس پر ٹمبر مافیا کی نسلیں راج کرتی ہیں، چھ ہزر سال قدیم تہذیب کا چسکا ایسا لگا کہ اب اس شخص کی اولادیں اس جنگل نمابھٹوستان یا بھوتستان صوبے کی حکومت کوجوتوں والا شجر سمجھ بیٹھی ہیں اب اس جنگل میں مفلوک الحال شخص کی قبر کی بجائے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان خاندان کے جدِ امجد کی قبر موجود ہے۔۔۔

    قصہ کوتاہ انسان کے بنائے ہوئے جراثیمی ہتھیار نے جہاں اقوامِ عالم کو پریشانی سے دوچار کیا ہے وہیں ایشیا کے ملک پاکستان میں شامل سندھ کی حکومت کی موج مستی اور عیاشی کا سامان ہوگیا، بالخصوص پاکستان کے سب سے بڑے اور دنیا کے تیرہویں بڑے شہر کراچی پر نام نہاد جمہوری عفریت نے اپنے دانت ایسے گاڑ رکھے ہیں جیسے ڈریکولا فلموں کے کردار سندھ کا رخ کرچکے ہوں۔۔۔ ۲۰۱۸ کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ نہ دے کر جو گناہ کراچی کے عوام نے کمایا ہے اس کی پاداش میں اس نام نہاد جمہوری بھوت نے شہر کو آسیب زدہ بنانے کی ٹھانی ہوئی ہے۔۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر گزشتہ مسلسل تیرہ برس سے مسلط سندھ سرکار عوام الناس سے روٹی کپڑا مکان نہ صرف چھین رکھا ہے بلکہ پانی بجلی صحت صفائی کے معاملات سے لا تعلق ہوکر اپنی جیبیں بھرنے پر زور دیا ہوا ہے، اقتدار کی روشنیاں صرف ذوالفقار علی بھٹو کے مزار اورمزار کے احاطے تک محدود ہیں، صوبے بھر میں حقیقی طور پر دیکھا جائے تو کتوں کا راج ہے جو جب چاہے کسی کو بھی کاٹ کھاتے ہیں بچوں کو بھنبھوڑ لیتے ہیں، ۔۔۔امن امان کی صورتحال کے بارے میں یہ کہنا کافی ہوگا کہ صوبہ بدامنی چوری ڈکیتی قتل کی اس نہج پر ہے جہاں قانون صرف کھسیانی ہی ہنسی ہنس کر رہ جاتا ہے۔۔۔ کورونا وبا کے نام پر سندھ کے باقی شہروں سے بڑھ کر پورے کراچی بالخصوص ضلع وسطی میں بسنے والوں پر عرصہ ٔ حیات تنگ کرنے کی روش شہر میں لسانی عصبیت کا شاخسانہ ہے، بغور مشاہدہ ہے کہٍ اندرون سندھ میں اور کراچی میں افغان کوئٹہ وال ہوٹلوں اور چائے خانوں کے لیے نرمی جبکہ دیگر قومیتوں والے علاقوں میں پولیس اور رینجرز کی نفری زیادہ تعینات ہے، وہ پولیس جسے کسی ہنگامی صورت میں مددگار پر کال کی جائے تو حیلے بہانے پیٹرول ڈیزل نہ ہونا یا موبائلوں کی کمی یا پھر نفری کی کمی کا رونا ہوتا ہے وہی پولیس فلمی انداز سے مخصوص علاقوں میں تھوک پرچون چھابڑی والوں پر پل پڑتی ہے، جیب گرم کرنا تو خیر ضمنی سی بات ہے وہ توا ٓپ سب جانتے ہی ہیں۔۔۔

    کورونا اور اس کی ویکسین پر سوال شکوک و شبہات تو اول روز سے ہی جاری ہیں مگر یہ بڑی بڑی ڈگریاں رکھنے والے کسی ایک سوال کا جواب نہیں سکے، ایسا نہیں کہ یہ سوالات صرف پاکستان میں اٹھائے جاتے ہیں، دنیا بھر میں کورونا نامی وبا اور اس کے مخصوص ایجنڈے کے تحت معیشت تباہ کرنے کا جو سلسلہ جاری ہے، کورونا اگر تو ایک وبا ہے تو وبا کے سدِ باب کے لیے علمائے کرام کو کیوں آگاہی پروگرام میں استعمال نہیں کیا گیا، پھر یہ کہ یہ وبا ایک مخصوص فرقے کے لیے کیوں تباہ کن نہیں ہے۔۔۔ ہر دوسرے شہری کے لب پر یہی شکوہ ہوتا ہے کہ ملک کی اکثریتی مذہبی عقیدرت رکھنے والوں اور ان کے مذہبی تہواروں پر کورونا کی اچانک لہر آجاتی ہے مگر جیسے ہی مؤخر الذکر مذہبی عقیدہ رکھنے والوں کے تہوار آتے ہیں اچانک لاک ڈاؤن ختم کردیا جاتا ہے اور کورونا نامی مہلک وبا اپنا مال اسباب سمیٹ کر رخصت ہوجاتی ہے، ریاست یا صوبے پر حکمران طبقے کو اس دوہرے رویے پر وضاحت دینا ضروری ہے، وگرنہ یہ سلسلہ یوں ہی جارہی رہے گا اور کورونا سے بچنے کے اہداف حاصل کرنا ناممکن ہی رہے گا، سب سے معاشی گڑھ کراچی پر تیس سال سے محرومی کا عفریت قابض ہے، کبھی ہڑتالیں کبھی قتل و غارت گری کے نام پر نچوڑا گیا، اب رہی سہی کسر کورونا کی وبا کے نام پر لاک ڈاؤن لگا کر پوری کی جارہی ہے، مراد علیشاہ کسی دن اچانک خوابِ گرانی سے جاگتے ہیں اور لاک ڈاؤن کا عندیہ دے دیتے ہیں،پیشگی کوئی حکمت عملی ہوتی ہی نہیں، سندھ سرکار نے نہ تو خاطر خواہ ویکسینیشن سینٹرز بنائے اور نہ ہی عملہ متعین کیا، عوام دشمن فیصلے کرتے ہوئے سندھ سرکا ر نے ایک لمحے کو نہ سوچا کہ وفاق کے تحت قائم ویکسینیشن سینٹر پر اچانک عوام الناس دھاوا بول دیں گے تو عملے کے اعتبارعددی ونفری اکثریت کم پڑ جائے گی، اور وہی ہوا کہ سب سے بڑے ویکسینیشن کے مرکز ایکسپو سینٹر میں چھ چھ گھنٹے قطاروں کی کھڑے گرمی کے مارے بھوکے پیاسے عوام ٹوٹ پر پڑتے نتیجہ میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور عملہ نے ویکسینیشن کا عمل روکا دیا، میڈیا میں خبریں آنے پر سندھ سرکار نے اپنی خفت مٹانے کے لیے ایک اور پریس کانفرنس کی اور لاک ڈاؤن میں نام نہاد نرمی کا اعلان کردیا، بہر کیف پولیس کی کمائی کا سلسلہ نہ رک سکا اور کھانے پینے کے مراکز کو استثنا ہونے کے باوجود جبراً بند کیا جاتا رہا،۔۔۔۔ نو روز کے غیر اعلانیہ کرفیو کی صورتحال نے صرف کراچی کو ۴۵۰ ارب کا نقصان پہنچایا، عام دیہاڑی دار طبقہ اور اشیائے خردونوش کی قیمتوں میں بے بہا اضافہ اور اس کے ردِ عمل میں ہونے والے نقصانات کا تو تخمینہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔۔ کورونا کے خلاف ایکشن تو سندھ حکومت نے کیا لینا تھا ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک ہزار کروڑ روپے کی خردبرد کا معاملہ سامنے آیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔۔ یہ تو رہی صرف کورونا کی باتیں جو دیگ کے ایک چاول سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی، آڈٹ رپورٹ کے مطابق ۱۶ کروڑ روپے مالیت کی گندم ذخیرہ کرنےکا محض کرایہ ایک ارب بتیس کروڑ روپے ہے۔۔ نچلی سطح پر دیکھا جائے تو بلدیہ نے اپنے نائب قاصد کو دفتری کام کے لیے ایک لاکھ بیالیس ہزار روپے مالیت کی سائیکل دلا کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام شامل کرنے کی کوشش کی ہے یاد رہے یہ عام سی سائیکل صوبے بھر کی کسی بھی دکان سے نو ہزار روپے میں باآسانی مل جاتی ہے۔۔۔۔

    سندھ سرکار جس کا حالیہ مسلسل حکومت کا دورانیہ تیرہ سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے کی کارکردگی دیکھی جائے اور معزز عدالت کے فیصلے کی روشنی میں دیکھا جائے تو سندھ پر مطلقا کتوں کا راج ہے آئے دن آوارہ کتے بچوں اور بڑوں کو کاٹ کھاتے ہیں کسی ہسپتال میں سگ گزیدگی سے بچاؤ کے انجیکشن موجود نہیں، نجی ہسپتالوں میں موجود ہیں مگر وہی بات کہ کتے نے مفت کاٹا اور ڈاکٹر پیسے لے کر کاٹے گا، پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں پینےکا صاف پانی تک دستیاب نہیں ہے، عیدِ قرباں کے جانوروں کی آلائشیں تا حال جابجا موجو د ہیں تعفن انسانی دماغوں کر مزاج پوچھتا پھرتا ہے،۔۔۔اٹھارہویں ترمیم ( جس کا مقصد اختیارات کو صوبوں کے حوالے کرکے وسائل کی نچلی سطح پر تقسیم تھا )کی باڑ قائم کرنے کے بعد صوبے کے عوام کے جان و مال کی حفاظت، صحت صفائی ستھرائی، کاروبار کے لیے موافق ماحول فراہم کرنا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، مگر صرف نعرے لگانے اور اپنا تسلط قائم رکھنے کے علاوہ سندھ سرکار نے کچھ نہیں کیا، کراچی کے ووٹرز سے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو مسترد کرکے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کی اور وفاق میں قائم حکومت کے نمائندوں کو ووٹ دے کر ایوان میں پہنچایا، گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ سے لے کر بارش کے بعد ہونے والی سیلابی صورتحال کسی شعبہ میں بھی سندھ حکومت کا حصہ صفر ہے، وفاق نے انسانی ہمددری اور اپنے ووٹروں کی لاج رکھنے کے لیے وفاقی صوابدیدی فنڈز کا اجرا کیا جس سے دہائیوں سے نظر انداز تباہ حال شہرمیں آٹے میں نمک برابر ہی کام ہوسکا ہے، قارئینِ کرام کسی بھی ملک کسی بھی ریاست کسی بھی حکومت نے جب جب کوئی قانون بنایا اور اس پر عمل درآمد کیا اس کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہوتی ہے، جبکہ سندھ میں مقتدر نمائندے جمعرات بھری مراد کے نعرے لگاتے خیر و عافیت سے قانون کوعوام کی زندگیاں اجیرن کرنے کے استعمال کرتےہیں،سندھ بالخصوص کراچی کے عوام میں احساسِ محرومی بڑھتی چلی جارہی ہے، عام آدمی کو اس بات کے قطعا غرض نہیں ہے کہ کوئی اٹھارہوئیں انیسویں یا بیسویں ترمیم کی ان کے بنیادی انسانی شہری حقوق کے سروں پر لٹک رہی ہے، عوام حالیہ حکومتی دورانیہ کا ستر فیصد عرصہ قید و بند کی صعوبتوں کی طرح جھیل چکی ہے اور وفاق سے متقاضی ہے کہ سندھ کے عوام کو نامرادی کے عفریت سے بچایا جائے۔۔۔ الخ