Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اللہ سبحانہ وتعالی کا شکر ادا کریں تحریر: خالد عمران خان

    عام زندگی میں جب ہمیں کوئی چیز ملتی ہے یہ کوئی شخص ہم کچھ دیتا ہے تو ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ، اور ان چیزوں کو ہم چیزوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات ہم جس مالک نے ہمیں اتنے نعمتیں عطا کی اس کا شکر ادا نہں کرتے جب کے یہ سب سے اہم ہمیں ہمیشہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والی روزانہ کی نعمتوں کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ بحیثیت مسلمان ، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہماری زندگی میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ پاک کی طرف سے ایک تحفہ ہے اور اس کے بدلے میں ہم اس کے شکر گزار رہیں۔ ہزاروں نعمتوں میں سے سات یہ ہیں کہ ہمیں اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

    1. ہر چیز کا خالق۔

    ہمیں اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں بطور انسان اور اس وسیع کائنات کی دیگر تمام چیزوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے پیدا کیا ، کیونکہ اللہ پاک نے جو کچھ بنایا ہے وہ اچھا اور منصفانہ ہے اور کسی بھی چیز کو رد نہیں کیا جا سکتا.اور اس کی دی گئی ہر نعمت کو ہمیں شکریہ کے ساتھ وصول کرنا چاہیے۔

    2. ہمیں معاف کرنا۔

    زندگی میں ہم سے اتنے گناہ ہوتے ہیں اگر اللہ پاک نے ہمارے گناہوں کو معاف نہیں کیا تو وہ ہماری زندگی کے بہت سے پہلوؤں کو متاثر کریں گے اور ہماری خوشیاں چھین لیں گے۔ ہمیں معافی کے تحفے کے لیے شکر گزار ہونا چاہیے کہ اللہ پاک ہمیں عطا کرتا ہے جب ہم جرم محسوس کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں۔

    3. ہمیں آفت سے نجات دلانا۔

    مایوسی ہر کسی کی زندگی میں ہوتی ہے۔ لیکن ہم مطمئن ہو سکتے ہیں کہ ہمارے پاس اللہ پاک ہے جو ہمیں آفات ، آزمائشوں اور خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ اللہ پاک کے لیے کوئی بڑی آفت ایسی نہیں جو اسے حل نہ کر سکے۔ کوئی پہاڑ بہت اونچا نہیں ہے وہ اسے حرکت نہیں دے سکتا۔ کوئی طوفان بہت طاقتور نہیں ہے اللہ پاک اسے پرسکون نہ کر سکے.

    4. وفادار ، یہاں تک کہ جب ہم منہ پھیر لیں۔

    وفاداری اللہ پاک کی ذات ہے۔ کوئی دن ، منٹ یا سیکنڈ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ پاک وفادار نہ ہو۔ وہ وفادار ہے یہاں تک کہ جب ہم بے وفا ہیں وہ وفادار ہے یہاں تک کہ جب ہم اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ ہم ہمیشہ اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔

    5. وعدے نہیں توڑتا۔

    اللہ پاک اپنے وعدوں کو کبھی نہیں توڑے گا۔ انسان اپنے ذہن بدلتے ہیں ، اور اپنے الفاظ کو توڑ دیتے ہیں۔ لیکن اللہ کبھی اپنا ارادہ نہیں بدلتا ، اور اسی لیے وہ اپنے وعدوں کو کبھی نہیں توڑتا۔

    6. نافرمان کے ساتھ صبر کرنا۔

    اللہ پاک کسی نافرمان انسان کو غلطی کرتے ہی سزا نہیں دیتا۔ وہ وقت دیتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ ہم توبہ کریں اور اسی کی طرف رجوع کریں۔ اگر اللہ پاک ہر کسی کو اس کی نافرمانی کی سزا دیتا ہے تو اس زمین پر ایک بھی جان باقی نہیں رہے پائی گی تو ہمیں اس مالک کا شکر گزار ہونا چائیے۔

    7. محمد پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے لیے بھیجا۔

    اللہ پاک نے اپنے پیارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو ہماری رہنمائی کے لیے بھیج کر ہم پر رحم کرنے کا وعدہ پورا کیا۔ یہ ایک بہترین چیز ہے جس کے لیے ہمیں اللہ پاک کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
    شکر ادا کریں اللہ پاک کی دی ہوئی سینکڑوں نعمتوں کا.

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • بیروزگاری کا دیمک عقیل راجپوت کے قلم سے تحریر عقیل احمد راجپوت

    بیروزگاری کا دیمک عقیل راجپوت کے قلم سے تحریر عقیل احمد راجپوت

    سفید پوش لوگوں کے لئے بیروزگاری موت سے بھی بدترین ہوتی ہے حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں کے باعث ملک میں بیروزگاری کی شرح میں اضافے کی وجہ سے سفید پوش طبقہ انتہائی اذیت سے دوچار ہے فلاحی تنظیمیں لوگوں کے لئے بہت سے اقدامات کررہی ہیں مگر مہنگائی اور بیروزگاری میں کمی نا ہونے اور مزید اضافےکے سبب وہ بھی ان لوگوں کی معاونت فراہم کرنے سے قاصر ہیں

    کورونا کے باعث دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بیروزگاری کی شرح میں اضافے کی وجہ سے لوگ فاقوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کراچی کا ایکوکیٹڈ نوجوان فوڈ پانڈا اور بائیکیا پر ڈیلیوری کرکے اپنا گزر بسر کررہا ہے کاروبار ختم ہورہےہیں فیکٹریاں بند ہورہی ہے لوگ بیروزگاری کے دلدل میں پھنسے جارہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں 

    بیروزگاری کی وجہ سے کئی لوگ خود کشیاں کر چکے باپ اپنے بچوں کو زہر دے کر خود زہر پی رہا ہے بچوں کو بھوک سے بلکتے ہوئے دیکھتی مائیں نہروں میں بچوں کے ساتھ چھلانگ لگا رہی ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے مہنگائی ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں سے جینے کی امید چھین رہی ہے کاروبار کرنے والے نوکری پر اور نوکریوں پر جانے والے لوگ گھروں تک پہنچ گئے ہیں اور یہ سلسلہ روز و شب بڑھتا چلا جارہا ہے 

    ہر محلے میں کارخانوں کی جگہ دستر خوان کھل رہے ہیں لوگ چندہ جمع کرکے لوگوں کو ایک وقت کی روٹی دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں مگر دستر خوان اور پناہ گاہ اس کا حل نہیں ہیں جب تک حکومت لوگوں کو روزگار فراہم نہیں کرے گی یہ لنگر خانے بڑھتے جائیں گے عوام غربت کی لکیر سے نیچے جاتے جائیں گے ملک میں فوری طور پر معاشی پالیسیوں کے بنائے جانے اور ان پر جنگی بنیادوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے 

      

    بیروزگاری کی وجہ سے بچوں کی تعلیم چھوٹ رہی ہیں معاشرے میں جاہلیت پروان چڑھنے کا اندیشہ ہے لوگ بیروزگاری کی وجہ سے ایک وقت کی روٹی نہیں کھا پارہے تو وہ اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دلوا سکتے ہیں سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا نظام نا ہونے کے برابر ہے ایک غریب آدمی اگر اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کروا بھی دے تو بھی اس کے بچوں کا مستقبل تاریک ہی ہونا ہے

    حکمرانوں ملک میں ہنر مند افراد پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے  پوری دنیا اپنی قوم کے ہنر سے فائدے حاصل کرکے ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں مگر ہمارے انجینئر ڈاکٹر بیروزگاری کی حالت میں جوکر بن کر روڈوں پر بھیک مانگنے کے بعد ہی اگر نوکریوں پر جائیں گے تو یہ حکمرانوں کے ظلم کی اعلیٰ مثال ہے   تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں لیکر برگر چپس اور چائے کا اسٹال لگا رہا ہے مایوسی میں گھرا انجینئر اپنی ڈگریاں فروخت کر رہا ہے ملک کا مستقبل بیروزگاری کی وجہ سے ایک نوکری کے لئے ہزاروں درخواست کے نیچے دبتا چلا جارہا ہے میرے ملک کا نام روشن کرنے والا پڑھا لکھا طالب علم اپنی ڈگری کو آگ لگا کر اپنا مستقبل تاریک کررہا ہے اور ہم سب اچھا ہے کا گیت گا رہے ہیں 

    میں ملک کی عدلیہ افواج پاکستان کے کمانڈر سول سوسائٹی اور سیاست دانوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ ملک کی بنیادوں پر لگی اس بیروزگاری کی دیمک کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ خدا نا خواستہ یہ دیمک ملک کے مستقبل کو کھا نا جائے اور میرا پیارا پاکستان ترقی کی راہ سے ہٹ کر آپ لوگوں کی بے حسی کو کبھی بھول نا پائے اور تاریخ میں یہ بات نا کہی جائے کے ہر شعبے میں ہنر مندی رکھنے والی قوم کو اس کے فیصلہ ساز ایسے ملے کے وہ ملک کو ترقی کی بجائے پستی کی طرف لے چلے 

  • پاکستان کے ہمسایہ ممالک تحریر:فرقان اسلم

    پاکستان کے ہمسایہ ممالک تحریر:فرقان اسلم

    وطنِ عزیز پاکستان 14 اگست 1947ء کو معرضِ وجود میں آیا۔ پاکستان بننے کے لیے مسلمانانِ ہند نے ایک طویل جدوجہدکی اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔ اور طرح طرح کے ظلم و ستم سہے۔ پھر کہیں جاکر اللّٰہ پاک نے اس عظیم نعمت سے نوازا۔ پاکستان ایک نور ہے اور نور کو زوال نہیں آتا۔

    بظاہر تو تقسیم کے وقت وطنِ عزیز کے مسلمانوں کے ہاتھ کچھ خاص زر و دولت نہ آیا۔ بلکہ یہاں آکر بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اللّٰہ پاک کے خاص کرم اور فضل کی بدولت کئی مسائل اور جنگوں کے باوجود پاکستان قائم ہے اور انشاءاللہ تاقیامت قائم رہے گا۔ 40 سال کے قریب ملک پر فوج نے حکمرانی کی اور 34 سال یہ ملک جمہوری حکمرانوں کے زیرِ تسلط رہا۔

    اب ہم پاکستان کے محل وقوع پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان براعظم ایشیا میں ایک انتہائی اہم اور سٹریٹجک لوکیشن پر واقع ہے۔ جس پر ہر ملک کی نظر ہے۔ پاکستان دنیا میں دفاعی اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اب پاکستان کے ہمسایہ ممالک کی بات کرتے ہیں۔

    (1) پاکستان کے ایک طرف ہندوستان ہمارا ایک بڑا ہمسایہ ملک واقع ہے۔ جو رقبے میں پاکستان سے سات گنا بڑا ہے اور آبادی میں بھی پاکستان سے بہت بڑا ہے۔ جس کے ساتھ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک امن قائم نہیں ہوسکا۔ کیونکہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اور کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اس لیے جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔ اس لیے اس مسئلے کا جلد سے جلد حل ضروری ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس کی وجہ سے کئی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ اس مسئلے کا سب سے آسان اور پرامن حل ریفرنڈم ہے کہ کشمیر کے عوام کیا چاہتے ہیں۔ لیکن ہندوستان یہ کرنے پر راضی نہیں کیونکہ کشمیری عوام پاکستان کا ساتھ دیتے ہیں۔ 

    (2) پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا ہمسایہ افغانستان ہے دونوں ملکوں کی سر حد تقریباً 2500 کلومیٹر طویل ہے۔ جیسا کہ افغانستان کی تاریخ کا سب کو علم ہے کہ یہ ملک تقریباً پچھلے 45 سال سے حالت جنگ میں ہے اور پاکستان نے اتنے سالوں سے افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور 50 لاکھ افغان مہاجرین کو گھر کا فرد بنا کے رکھا ہے لیکن افغان جنگ صرف ان تک محدود نہ رہی بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ بالخصوص خیبر پختونخواہ اور پورے پاکستان کو متاثر کیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں کیونکہ دونوں اسلامی ملک ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو لیکن شرپسند عناصر نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ اب افغانستان کے حالات پہلے کی نسبت بہت حد تک ٹھیک ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید بہتری کی توقع کی جارہی ہے۔ 

    (3) تیسری جانب ایران ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔ جو گزشتہ کئی دہائیوں سے تقریباً پوری دنیا کی طرف سے پابندیوں کا شکار ہے۔ حالانکہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن عالمی پالیسیوں کی وجہ سے ہم ایران کے ساتھ زیادہ اچھے تجارتی تعلقات استوار نہیں کر سکتے اور ہماری خوشحالی میں بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ حالانکہ اگر ہمارے اچھے تعلقات قائم ہوں تو دونوں ممالک کو بہت فائدہ ہوگا۔ پچھلے چند سالوں ایران اور ایران کے تعلقات میں کافی بہتری آرہی ہے۔

    (4) چوتھا ہمسایہ ملک چین ہے جو پاکستان کا بہترین دوست ہے۔ اور ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کی مدد بھی کرتا ہے۔ بلکہ ایک محاورہ بھی بنا ہوا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے۔ پاکستان اور چین کے ہمیشہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور دونوں ملکوں کے مفادات کیلئے بہت اہم اور ضروری ہے اور پاکستان کیلئے امید کی کرن اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اس کوریڈور کی تکمیل کے بعد پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہو گا۔ انشاءاللہ 

    اگر آپ کا ہمسایہ اچھا ہو تو یہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کیونکہ ان کے ہر طرح کا لین دین اور تعلقات ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ممالک کے بھی تعلقات ہوتے ہیں۔ اصل میں خارجہ پالیسی اس معاملے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کسی ملک کی سفارت کاری بہترین ہوگی تو اس ملک کے تعلقات بھی بہترین ہوں گے۔جب بھی پاکستان کے کسی ملک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ 

    اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّٰہ پاک وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور اسے اسلام اور امن کا گہوارہ بنائے۔ ہمیں بھی اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے دن رات کوشش کرنی چاہیئے اور اللّٰہ سے امید رکھنے چاہیئے۔ اللّٰہ تعالیٰ ملک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ 

    سدا رہنا پاکستان زندہ باد۔۔!!

    @RanaFurqan313

  • ‏پاکستان کا مطلب کیا؟؟؟  (از قلم محمد وقاص شریف

    ‏پاکستان کا مطلب کیا؟؟؟ (از قلم محمد وقاص شریف

    ایک حاجی صاحب بہت ہی دیندار، نماز کے پابند، ہر وقت ذکر کرنے والے تھے,اور ہر ایک سے محبت سے پیش آتے، یہاں تک کہ سب ان سے محبت کرتے اور انکی باتیں توجہ، دھیان سے سنتے اور انکی ہر بات مانتے تھے۔

    حاجی صاحب نے لوگوں سے کہا: کہ ہم سب مسلمان ہیں، اس علاقے میں اکثر ہندو ہیں اور ہمارے علاقے میں قریب کوئی مسجد نہیں، ہمیں اپنے علاقے میں ایک مسجد کی ضرورت ہے تاکہ اپنے علاقے میں ہی ہم پانچ وقت نماز پابندی سے پڑھ سکیں،اور ہمارے بچے بھی دینی تعلیم حاصل کریں،جس کے لیے آپ سب کو اس کام میں ہمارا ساتھ دینا ہوگا،کیونکہ یہ ایک بندے کا کام نہیں۔

    تمام لوگوں نے حاجی صاحب کا ساتھ دیا، اور حاجی صاحب کے پاس اتنی طاقت آگئی کہ وہ مسجد بناسکیں،لیکن انہی دنوں حاجی صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی، اور حاجی صاحب نے اس کام 

    میں اپنے ساتھ ایک کمیٹی بنالی۔

    حاجی صاحب نے کئی دفعہ اپنی کمیٹی کو صاف الفاظ میں کہا : کہ لوگوں کے پیسے ہمارے پاس امانت ہیں،لوگ چاہے ہم سے مطالبہ نہ بھی کریں لیکن ہمارا فرض ہے کہ ہم نے جس مقصد کے لیے لوگوں سے مدد مانگی، اور لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا ہم وہ کام پوری ایمانداری سے سر انجام دیں۔

    حاجی صاحب کا کچھ ہی دنوں بعد انتقال ہوگیا اور پھر کمیٹی کا صدر ایک لالچی اور مفاد پرست شخص بن گیا،اور حاجی صاحب کے آخری رسومات میں بہت سا وقت گذر گیا۔

    کمیٹی کے کچھ لوگوں نے کہا بھی کہ اب ہمیں کام شروع کرا دینا چاہیے، لیکن صدر ٹال مٹول کرتا رہا، اور اس طرح کے لوگوں کو کمیٹی سے نکال کر اپنے مطلب کے لوگوں کو کمیٹی میں رکھ لیا جو اس کی ہر بات میں ہاں ملاتے ہوں۔

    اب وہ مسجد کی جگہ بھی موجود ہے، کمیٹی بھی موجود ہے لیکن مسجد نہیں بن رہی، لوگوں نے جب اس معاملے کو اٹھایا تو صدر نے بڑے طریقے سے کاغذات اپنے نام کراکر انہیں ہی فساد کرنے والا ثابت کرکے ڈنڈے مرواے۔

    صدر نے کچھ پیسے کھلا کر وہ مسجد کا پلاٹ اپنے نام کرالیا، اور اس پر اپنی کوٹھی اور بنگلہ بنالیا۔

    لیکن عوام کو جب یہ معلوم ہوا کہ اندر ہی اندر کام خراب ہوچکا ہے عوام اس صدر کے خلاف کھڑی ہوگئی، صدر نے عوام کو تھانوں سے ڈرایا اور ان پر لاٹھی چارج بھی کروائی۔

    اب آپ مجھے بتائیں! 

    کہ مسجد کے پلاٹ پر صدر نے جو اپنا ذاتی بنگلہ بنالیا اور کاغذات وغیرہ سب اپنے نام کرالیے لیکن یہ دھوکے سے کیا، کیا یہ صحیح ہے اسے عوام تسلیم کرلے؟ 

    یا عوام جنہوں نے مسجد کے لیے چندہ دیا، جنہوں نے لوگوں کو اس کے لیے راغب کیا، وہ اب تک بھی موجود ہیں، وہ اپنے حق کے مطالبہ پر ہیں کہ پلاٹ مسجد کا ہے،اسے وقف کرنے والوں نے مسجد کے لیے وقف کیا، اور ہر ایک نے مسجد کے نام پر مسجد کے لیے جو ہوسکا دیا۔ 

    وہ کہتے ہیں کہ ہم پر جو تشدد کروانا ہے کروا لو، جو ظلم کرنا ہے کرلو، اور جو نام دینا ہے دیدو! لیکن ہم مسجد کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔

    بظاہرا چاہے وہ صدر کمٹی طاقتور ہے لیکن وہ غلط ہے، اور 

    بظاہرا یہ عوام چاہے کمزور ہیں، اور کوئی بھی حق کے لیے انکا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں لیکن یہ حق پر ہیں! 

    اب آپ بتائیں! 

    آپ کس کا ساتھ دینگے!

    سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا!

    کیونکہ اگر صدر کمیٹی کاساتھ دو گے تو قیامت کے دن اسی ظالم کے ساتھ جاو گے۔

    اور اگر عوام کا ساتھ دو گے تو ہوسکتا ہے تمھیں بھی ظلم کا نشانہ بنایا جاے تم پر بھی تشدد کیا جاے؟؟؟

    جی اگر آپ نے فیصلہ کرلیا ہے تو اب پورے غور و توجہ سے سنیں۔

    مسلمانوں کو پاکستان کا مطلب کیا

    لاالہ الہ الا اللہ کے نام پر اپنے ساتھ کیا گیا۔

    اسی کے نام پر ان سے قربانیاں مانگیں گئیں۔

    اور اسی کے نام پر مسلمانوں نے اتنی بڑی قربانیاں دیں۔مسلمانوں نوجوان بیٹیوں کی عزتیں اسی کلمہ کے لیے تار تار کی گئیں۔

    اسی کلمہ کے لیے شہیدوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

    اسی کلمہ کے لیے اپنے بچے قربان کیے۔

    اسی کلمہ کے لیے اپنے گھر بار،کاروبار،زمین، خاندان اور وطن تک قربان کیا گیا۔

    لیکن پھر ہوا کیا؟ 

    یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ صرف قائد اعظم کا صرف سیاسی نعرہ تھا۔ لیکن قائد اعظم کی سچائی ایمانداری، ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اس طرح کرسکتے ہیں۔ 

    بلکہ ان کے بعد والوں نے اس وطن کو جو کلمہ کے نام پر بنا۔

    جس کا مطلب ہی لا الہ الا اللہ تھا۔

    اس لاالہ کے دیس کو اس کے مقصد سے دور کردیا۔

    اس پاک سرزمین پر پلید انگریزوں کے قانون کو نافذ کیا اور جاری رکھا۔

    اس وقت سے اب تک علماء کرام بتاتے آرہے ہیں کہ یہ 

    اللہ سے عہد شکنی ہے۔

    اور تمام مسلمانوں سے جنہوں نے پاکستان کی آزادی کے لیے لالہ کے نام پر قربانیاں دیں، ان سے وعدہ خلافی ہے۔

    شہیدوں کی روحوں سے بے وفائی ہے۔

    اور اسی وجہ سے اللہ ناراض ہے اور اسی وجہ سے ہم پر دنیاوی عذاب بھی آئے ہیں، اور جب تک ہم واپس اپنے وعدے کو پورا نہیں کرتے ہمارے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔

    لیکن ان انگریز کے کتے نہلانے والوں کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی۔

    افسوس اس بات کا نہیں کہ آج تک اس ملک میں اسلامی نظام کیوں نافذ نہیں ہوا؟

    افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے اپنی قربانیاں بھلادیں۔

    ہم مسلمانوں نے صرف نوکری، مال و دولت کے لیے یہ یہ قربانیاں نہیں دی تھی، اس سے زیادہ مال و دولت تو مسلمان وہاں چھوڑ کر کلمہ کے نام پر آگئے تھے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ

     اسلامی نظام کی کوشش میں رکاوٹ بننے والے بھی مسلمان ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ جس ملک کا آئین اسلامی ہو اسی ملک میں اسلام کے نفاظ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتیں ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے

    جو ہمیں ہمارا بھولا سبق یاد دلاتے ہیں ہم انہیں ہی برا سمجھتے ہیں بلکہ انہی کو غدار کہا جاتا ہے۔

    آپ مجھے نظریہ پاکستان، لاالہ الاللہ اور شریعت کاغدار کیا پاکستان کا غدار نہیں!

    افسوس اس بات کا ہے

    لاالہ کے دیس میں بے حیائی جان بوجھ کر پھیلائی جارہی ہے۔ کوئی کہنے والا نہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ 

    لاالہ کے دیس میں شراب خانوں کی اجازت باقاعدہ حکومت دیتی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ لاالہ کے دیس میں

    رنڈی خانوں،لال بازار اور چکلوں کی باقاعدہ اجازت، سرپرستی اور حفاظت کی جاتی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ

    لاالہ کے دیس میں آئے روز قادیانیوں کے لیے راہیں ہموار کی جارہی ہیں، انہیں عہدے دیے جارہےہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ لاالہ کے دیس میں

    گستاخوں کو عدالتوں سے سزا ہوجانے کے بعد بھی یہودیوں کے کہنے پر عزت سے رہا کردیا جاتا ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ 

    لاالہ کے دیس میں بڑے بڑے نامور علماء کرام پر خود کش حملے کیے جاتے ہیں اور انہیں شہید کردیا جاتا ہے اور پھر انکے قاتل یا تو ملتے ہی نہیں یا پھر انہیں سزا نہیں ملتی۔

    میں عوام اور وقت کے حکمرانوں سے صاف صاف،علی الاعلان، ببانگ دھل،ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے اللہ سے کیے گئے وعدے،شہیدوں کی قربانیوں کو دیکھو!

    اور اپنے مقصد کے لیے جو بھی ہوسکے کرو،تم کمزور ہو نہیں کرسکتے تو جو کررہا ہے جو اس کے لیے آواز بلند کرے اس کا ساتھ دو!

    ورنہ ہم اللہ سے عہد شکنی کے مجرم ہیں۔ شہیدوں کی روحوں سے وعدہ خلافی کے مجرم ہیں۔

    اور جن کو کلمہ کے نام پر قربانیوں کے لیے تیار کیا تھا۔ ان سے بے وفائی کے مجرم ہیں۔

    اور جب تک اس مقصد پر نہیں آتے جس کے لیے یہ ملک حاصل کیا تھا،تمھاری نمازیں،تمھارے روزے تمھارے وظیفے اور تمھاری نیکیاں خود سوچو کہ اللہ کے پاس انکا کیا وزن ہوگا۔

    @joinwsharif

  • سگریٹ نوشی کے انٹرنیشنل بہانے  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی کے انٹرنیشنل بہانے تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جس طرح سگریٹ نوشی ایک بین الاقوامی ،خطرناک اور مضر صحت مسئلہ ہے۔
    اسی طرح سگریٹ پینے والے افراد سگریٹ پُھونکنےکے بھی انٹرنیشل قسم کے جواز گھڑتے رہتے ہیں۔
    حالانکہ ان کی یہ توجیحات غالب کے اس شعر کی طرح دل کی تسلی کے لئے ہی ہوتی ہیں کہ
    ہم کو معلوم ہے،جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو ،غالب یہ خیال اچھا ہے۔
    سگریٹ نوش افراد عرصہ دراز سے سگریٹ نوشی کا یہ جواز گھڑتے آرہے تھے کہ سگریٹ پینے سے وزن کم رہتا ہے۔
    مگر تازہ ترین سٹڈی میں یہ تھیوری غلط اور خود ساختہ ثابت ہو چُکی ہے۔
    امریکی ریاست اوریگان کے ایک تجرباتی سنٹر میں 400افراد پر دو سال تک جو تجربات کیے گئے،
    اُن کے مطابق جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے تھے،
    اُن کا وزن ایسے افراد سے تین گُنا زیادہ بڑھتا ہے،
    جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے۔
    اسی طرح کچھ سگریٹ نوش خواتین و حضرات یہ بھی کہتے پاۓ گئے کہ سگریٹ پینے سے اُن کا جسم ہلکا رہتا ہے۔
    اُن کا خیال ہے کہ سگریٹ پینے سے ان کے ہاضمے کا نظام چونکہ درست رہتا ہے،
    لہذا انہیں اپنے جسم میں بھاری پن کا احساس نہیں ہوتا۔
    نئی ریسرچ سے یہ سب تھیوریاں اُلٹ ثابت ہو چکی ہیں۔
    بھاری پن یا بدہضمی کی وجوہات میں بزات خود سگریٹ نوشی شامل ہے،
    کیونکہ جسم کے ہر حصے کا دوسرے سے براہ راست تعلق ہوتا ہے،
    اگر سگریٹ نوشی سے آپکے پھیپھڑے متاثر ہوں،آپکا نظام تنفس درست نہ ہو،
    آپ امراض قلب کا شکار ہوں،
    بلڈ پریشر کا سامنا کر رہے ہوں،
    یا سگریٹ نوشی سے آپ کو زیا بیطس جیسے موذی مرض نے آ گھیرا ہو تو کامن سینس کی بات ہے کہ آپ کا معدہ بھی متاثر رہے گا۔
    اور اگر آپ کا معدہ درست طریقے سے کام نہ کر رہا ہو تو پھر آپ بھاری پن محسوس کریں گے نا کہ ہلکا پن۔
    لہذا سگریٹ نوشوں کا یہ استدلال بھی بغیر کسی جاندار دلیل کے ہے کہ وہ سگریٹ نوشی سے ہلکا پن محسوس کرتے ہیں۔
    یہ وہم کے سوا کچھ نہیں۔
    یہ سوچنا بھی اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے برابر ہے کہ سگریٹ آپ کو کسی قسم کا طبعی فائدہ پہنچا رہا ہے۔
    بس آپ اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کے لئے یہ کریں کہ اپنے آپ کو سگریٹ کی لت نہ لگنے دیں۔
    شروع میں اس عمل کو روکنا آسان ہوتا ہے،
    مگر جب آپ پوری طرح سگریٹ نوشی کا شکار ہوجائیں گے تو پھر اس بری عادت کے چُنگل سے نکلنا مُشکل ہو گا۔
    اس سے چھٹکارے کے لئے آپ کو بہت سے پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔
    ہو سکتا ہے آپ کو کسی ایسے ہیلتھ سنٹر جانا پڑے جہاں ایسے ہی منشیات کے عادی مریضوں کا علاج کیا جاتا ہو۔
    سگریٹ نوشی کے بعد آپکا سٹیٹس بھی ایک مریض کا ہو گا۔
    اور اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ آجکل کے دور میں کسی بھی مرض کے لئے کتنے بھاری اخراجات درکار ہوتے ہیں۔؟
    کچھ بعید نہیں کہ آپ کو بھی سگریٹ نوشی سے جان چھڑوانے کے لئے ایسے ہی کچھ اخراجات بھی برداشت کرنا پڑیں۔
    سگریٹ نوشی کے بعد لگنے والی بیماریوں کا علاج شروع کرنے کے ساتھ ہی ڈاکٹر سگریٹ نوشی ترک کرنے کی شرط رکھ دیتا ہے۔
    اس عالم میں آپ کو دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے،
    ایک بیماری سے اور دوسرا سگریٹ نوشی کی جان لیوا عادت سے۔
    سگریٹ نوشی کی عادت موجودہ دور میں صرف سگریٹس تک محدود نہیں ہے
    بلکہ اب تو سگار،حُقہ اور شیشہ جیسی وبائیں بھی دن بدن پھیل رہی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم سے حقے کا رواج ہی سگریٹ،گُٹکا،نسوار،بیڑی،سگار ،پان اور شیشہ جیسی قباحتیں معرض وجود میں لے کر آیا۔
    بدقسمتی سے متزکرہ بالا سب چیزوں میں تمباکو ہی استعمال ہوتا ہے۔
    جو سب بیماریوں کی جڑ ہے۔
    اسی تمباکو میں نکوٹین نامی زہریلا مادہ ہوتا ہے،
    جواکثر وبیشتر دل کے امراض کا باعث بنتا ہے۔
    سگریٹ نوشی کےشکار افراد میں سے 20فیصد ،امراض قلب کا شکار ہو کر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
    محتاط اندازے کے مطابق سالانہ ایک لاکھ بیس ہزار افراد اسی مرض سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔
    امراض قلب کی سنگین ترین صورت میں آپکو اوپن ہارٹ سرجری جیسے مشکل ترین آپریشن سے گزرنا پڑتا ہے،
    اوپن ہارٹ سرجری ڈاکٹرز اسی وقت تجویز کرتے ہیں،
    جب دل کو خون سپلائ کرنے والی نالیاں اور بلڈ ویسلز سُکڑ کر بہت تنگ ہو چکے ہوتے ہیں،
    جس سے دل کو خون کی فراہمی ایک تسلسل سے نہیں ہو پاتی جو ہارٹ اٹیک کا بھی باعث بنتی ہے۔
    ہارٹ اٹیک سے کچھ ہی خوش قسمت افراد ہی بچ پاتے ہیں۔
    بعض دفعہ تو مریض آپریشن سے پہلے ہی ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
    سگریٹ نوش افراد میں دل کی ان نالیوں کو تنگ کرنے کا باعث بھی یہی نکوٹین ہی ہوتی ہے،
    ہر قسم کا تمباکو اس نکوٹین کامنبع ہوتا ہے۔
    کچھ لوگ سگریٹ کا استعمال ترک کرنے کے لئے نسوار پان،کافی یا حقے کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔
    یہ بھی ایک بے کار فارمولہ اور بے مقصد پریکٹس ہے،
    اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں ہونے والا،
    آپ کنواں چھوڑ کر کھائ میں گرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    سگریٹ چھوڑنے کے لئے بہترین تدابیر میں سے کچھ درج زیل ہیں
    سگریٹ نوشی کی طلب بڑھنے کی صورت میں کُھلی فضا میں چلے جائیں،
    لبے لمبے سانس لیں،ہلکی پُھلکی ورزش کریں،
    اپنے خیالات کو سگریٹ سے ہٹانے کے لیے کچھ اور سوچنا شروع کر دیجیے،
    پانی زیادہ پیجیے تاکہ نکوٹین سے بننے والے فاسد مادے آپ کے جسم سے نکل سکیں،
    کھانا کھانے کے بعد سگریٹ کی طلب ہونے پر پودینہ والی یا لیموں والی سبز چاہے پئییں،
    سگریٹ نوش دوستوں سے میل ملاقات کا سلسلہ بوقت ضرورت ہی جاری رکھیے۔
    سگریٹ نوشی ترک کیجیۓ
    زندگی کی طرف لوٹیے،
    آپ کے پیارے آپ کے منتظر ہیں۔
    خدارا۔
    اُنہیں کسی امتحان میں مت ڈالیے#

    @lalbukhari

  • تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: فرح بیگم

    تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: فرح بیگم

    تمباکو نوشی کرنے والا نہ صرف اپنی قبر کھودتا ہے بلکہ تمباکو نوشی کرنے والے انسان کے ساتھ رہنے والے افراد بھی بہت ساری مہلک بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن کوئی بھی اس کے خلاف عملی اقدامات کرنے کو تیار نہیں ہوتا تعلیمی اداروں خاص طور پر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تمباکو نوشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے لڑکوں کے اب کثرت میں لڑکیاں بھی تمباکو نوشی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کئی نوجوان تو تمباکو نوشی کو ایک فیشن سمجھ کر کرتے ہیں جو جانے انجانے میں اپنی زندگی کا دیا اپنے ہی ہاتھوں گُل کررہے ہوتے ہیں۔ نشہ کسی بھی قسم کا ہو ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش کی جاۓ

    تمباکو انسان کو سست اور پست حوصلہ بنا دیتا ہے تمباکو قوت ارادی کا بڑا دشمن ہے۔ اس کے استعمال سے جسم ڈھیلا اور کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہ دماغ، بینائی، جگر، پھیپھڑوں اور دل کو کمزور بنا دیتا ہے۔

    تمباکو نوشی پیسے کے ضیاع کے علاوہ متعدد بیماریوں کا باعث بنتی ہے جس میں سرفہرست کینسر ہے۔ تمباکو نوشی سے مختلف قسم کا کینسر ہوسکتا ہے جس میں گلے کا کینسر، منہ کا کینسر اور لبلبے کا کینسر قابل زکر ہیں اس کے علاوہ تمباکو نوشی کرنے والوں کے پھیپھڑے بھی بہت متاثر ہوتے ہیں

    دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جن میں سے اسی فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جاپان اور چائنہ کے ساٹھ فیصد مرد حضرات سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ نوش آبادی میں بارہ فیصد خواتین شامل ہیں جب کہ روزانہ ایک لاکھ بچے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی سے دنیا بھر میں سالانہ آٹھ لاکھ سے زائد افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر لوگ تمباکو کا استعمال نیکوٹین کی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    ‎تمباکو کی تمام مصنوعات نقصان دہ ہیں اور یہ مختلف قسم کے کینسر اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ لہذا ، تمباکو نوشی سمیت تمام تمباکو کی مصنوعات کے استعمال کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔ 

    آ پ سگریٹ نوش ھوں آپ جتنی ذیاہ سگریٹ نوشی کریں گے، اتنا ہی مسائل میں اضافہ ھو گا۔ نفسیاتی بیماریاں ہونے کے امکانات، بے چینی اور ڈپریشن، الکحل( شراب نوشی) اور منشیات کا ذیادہ استعمال ان کی وجہ سے زہنی صحت کے مزید خراب ہونے کے امکانات ہیں۔

    اساتذہ، والدین اور دیگر معززین کو تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے اکثر شریف اور ہونہار نوجوان سگریٹ نوشی شروع کرتے ہی برے کاموں میں پڑ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا مستقبل تباہ ہوجاتا ہے۔

    ترک سگریٹ نوشی سے آپ اپنےآپکونہ صرف صحت مند،چست و توانامحسوس کریں گے بلکہ لمبی زندگی پائیں گے  
    سگریٹ نوشی کو ترک کرنے کے سلسلے میں مدد حاصل کرنا آپ کا حق ھے۔

    Twitter ID: @Iam_Farha

  • رشتے کیسے نبھائیں؟؟ تحریر:  زہراء مرزا

    رشتے کیسے نبھائیں؟؟ تحریر:  زہراء مرزا

    .
    انسان جب جنت میں اکیلا تھا تو اسے حوا عطا کی گئی. پھر آدم و حوا کا ایک رشتہ تخلیق ہوا. آدم و حوا سے نسل آدم بڑھتی گئی اور بہن بھائی، چاچو، ماموں، خالہ، پھوپھی جیسے اجزاء ملے. خاندان بنے اور خاندان سے ایک بات بڑھتی ہوئی معاشرے تک جا پہنچی.
    دنیا میں رہتے ہوئے ہر انسان کی کچھ بنیادی ضروریات ہیں. جن میں رشتے بھی ایک بڑی اور اہم ضرورت ہیں. رشتوں سے محنت اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت سلیم میں رکھ چھوڑی ہے.
    اولاد کی ماں باپ سے الفت اس دنیا کی حسین ترین الفت ہے. خاوند اور بیوی کا تعلق ایک خوبصورت ترین تعلق ہے. بہن بھائیوں کی ایک دوسرے کے لیے کشش اور محبت کی لازوال کہانی ہے.
    .
    جوں جوں معاشرہ بڑھنے لگا تعلقات بڑھتے رہے. لوگ بڑھنے لگے ضروریات بڑھنے لگی.
    مادیت پرستی کی جانب جب معاشرے نے سفر شروع کیا تو انسان خدا کی عطا کردہ فطرت سلیم سے اعراض برتنے لگا.
    فطرت پر جب مادی ضروریات کو اہمیت ملنے لگی تو عداوتوں کے نئے باب کھلنے لگے.
    جب ہمارے مادی مفادات کو ٹھیس پہنچنے لگی تو ہم نے محبت سے منہ موڑ لیا.
    خدا کی فطرت سے ہٹ کر کسی چیز کو پانے کی جستجو نے پہلا قتل کروا دیا.
    جب معاشرے میں طاقتور نے وسائل کو غصب کرنا شروع کیا تو بھوک نے چوری اور لوٹ مار کی راہ دکھا دی.
    بات بڑھتی گئی اور آج کے حالات آپکے سامنے ہیں.
    دنیا میں ہر فرد، گروہ اور سوسائٹی اپنے مفادات کے تحفظ میں کارفرما ہے. بات فقط اپنے مفادات کے تحفظ تک رہتی ہو شاید اتنی نہ بگڑتی.
    بات بڑھنے لگی اور معاملہ لوگوں کو نیچا کر کے اور پیروں تلے روند کر آگے بڑھنے کی جانب چل نکلا.
    .
    آج معاشرے میں جہاں اتنی خرابیاں ہیں وہیں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے رشتوں سے دور ہوتا جا رہا ہے.
    .
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رشتوں کو کیسے بچائیں.
    .
    اس ضمن میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں ایثار اور قربانی کا بنیادی سبق ازبر کرنا ہوگا.
    اپنی ضروریات اور خواہشات پر اپنے ساتھ جڑے لوگوں کی ضروریات اور خواہشات کو ترجیح دینا ہوگی.
    اگر کسی رشتے کو بچاتے ہوئے آپکا مالی نقصان ہو رہا ہے تو اس بات کی فکر نہ کریں.
    .
    دوسری اہم بات یہ ہے کہ برداشت کرنا سیکھیں.
    ہمارے استاد محترم کہا کرتے ہیں کہ بیٹا رشتہ داری نبھانا ایسے ہے جیسے آپ ون وے ٹریفک میں چل رہے ہیں.
    جہاں آپکو اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ آپ اصول نہ توڑیں اور اپنی لائن میں رہیں. وہیں اس بات پر بھی خصوصی توجہ دینی ہے کہ کوئی اصول توڑ رہا ہے تو نقصان سے کیسے بچا جائے.
    اگر کوئی گاڑی مخالف سمت سے آ رہی ہو تو آپ یہ سوچ کر اپنی دھن میں نہیں چل سکتے کہ میں تو ٹھیک ہوں بلکہ آپ فوری طور پر نقصان سے بچنے کی پیش بندی کرتے ہیں. اور نقصان سے بچنے کے بعد فریق ثانی کو پیار سے سمجھاتے ہیں. اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ آپ غلطی پر ہیں.
    اسی طرح رشتوں میں بھی دوسروں کی غلطیوں کو برداشت کرنا سیکھیں. اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو یقیناً سب کا نقصان ہوگا.
    .
    تیسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک دوسرے کو عزت دیں.
    اگر آپ خود کو دوسروں سے سپریم سمجھیں گے تو ہمیشہ معاملات میں الجھے رہیں گے. خود کو دوسروں سے اہم سمجھنے والے کبھی کسی کو بنیادی عزت و احترام نہیں دے سکتے.
    ایسے افراد بلا کے ہٹ دھرم ہو جاتے ہیں. جب اس طرح کی صورتحال پیش آ جائے تو انسان اپنی غلطی تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے. بلکہ خود کو غلط سمجھتا ہی نہیں. لہٰذا خود کو بھی انسان سمجھیں اور اپنی غلطی کی اصلاح کرتے رہیں.
    .
    چوتھی اہم چیز جو رشتوں کی بقا کے لیے بے حد ضروری ہے کہ آپ رشتہ داروں سے جھوٹ مت بولیں. جھوٹ ویسے بھی ایک لعنت ہے. مگر جب آپ اپنے رشتہ داروں کو اندھیرے میں رکھتے ہیں اور قدم قدم جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں تو یقینا لوگ آپ کا اعتبار کرنا چھوڑ دیں گے.
    اور اعتماد اور اعتبار کسی بھی رشتے کو چلانے کا ایندھن ہوتے ہیں.
    اگر اعتبار یا اعتماد ختم ہو جائے تو رشتوں کی گاڑی کا چلنا محال ہو جاتا ہے.
    پھر آپ جھوٹ اور دھوکے کے جتنے چاہیں دھکے لگا لیں. زندگی کی گاڑی اپنی رفتار سے نہیں چل سکتی.
    .
    یہ چند بنیادی باتیں ہیں جو رشتوں کو بچانے اور محبتوں کے فروغ کا ذریعہ ہیں.
    عمل کیجیے اور اپنے پیاروں کے ساتھ ہنستے مسکراتے رہیں..
    شکریہ

     

    @zaramiirza : ٹویٹر اکاونٹ

  • منشیات معاشرے کا ناسور 

    منشیات معاشرے کا ناسور 

    آج کے اس معاشرے میں جہاں بے شمار مسائل پائے جاتے ہیں وہیں

     ایک بڑا مسئلہ منشیات کا بھی ہے.. 

    منشیات میں ہر طرح کا نشہ شامل.ہے پھر وہ ڈرگز ہو یا شراب ،بھنگ ہو یا افیون ہو ہر طرح کا نشہ انسان کیلیے ایک لعنت ہے جو اسے آہستہ آہستہ کرکے مارڈالتا ہے

    نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئ منشیات کی عادت اور لت انکو بربادی کے دہانے پر لے جارہی ہے… صرف یہی نہیں بلکہ اونچے طبقے کے لوگوں میں میں اب یہ فیشن بن چکا ہے… آج کی نسل میں منشیات کے بڑھتی لت انکے مستقبل اور انکے خوابوں کو کس طرح موت کے دہانے پہ لے جارہی انکو اس چیز کا شعور ہی نہیں ہے ….اس معاشرے میں برائ سے زیادہ تیزی سے منشیات کا استعمال بڑھتا جارہا ہے جس سے نہ صرف آج کی نوجوان نسل بلکہ آگے آنے والی نسل بھی اس لعنت کا خمیازہ بھگتے گی…منشیات کی بڑھتی ہوئ  عادت ہمارے ملک کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوگی…. منشیات کا استعمال نئ نسل کیلیے ایک قاتل زہر ہے جو انکی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو برباد کررہا ہے اور ایک صحت مند انسان کو موت کے دہانے پر لے جارہا ہے اس نسل کا مستقبل برباد کررہا ہے…. …. 

    پہلے وقت کے لوگوں میں لوگوں میں نشہ کرنا ایک معیوب عادت سمجھی جاتی تھی اور منشیات کا استعمال ہر کسی کی دسترس میں نہیں تھا مگر آج کے اس ترقی یافتہ دور میں منشیات کا استعمال ایک فیشن بن چکا ہے، فلموں کا ہیرو عادی شرابی دکھایا جاتا ہے اور ہمیں اس میں کوئ برائ بھی نہیں لگتی کیونکہ یہ ایک ٹرینڈ سیٹ کردیا گیا ہے ہمارے ذہنوں میں کہ نشہ کرنا قابل فخر بن گیا ہے… منشیات تک اب ہر ایک کی پہنچ ہے چاہے وہ غریب ہو یا امیر… غریب ماں باپ جو نہ جانے کتنے جتن کر کر کے اپنی اولاد کو پڑھانے لکھانے کا بندوبست کرتے ہیں مگر یہ معاشرہ اسے منشیات کا عادی بنادیتا ہے اور اسکے بعد وہ کہیں فٹ پاتھ پہ پڑا پایا جاتا ہے یہ ہےمنشیات کے استعمال کا بھیانک چہرہ! 

    نوجوان نسل کو برباد کرنے کیلیے منشیات کی فروخت اب ایک عام سا جرم بن چکا ہے… جو کہ ہم جانتے ہی نہیں کہ یہ معاشرے کا ناسور بن چکا ہے جس سے چھٹکارہ پانا بھی ایک انتہائ مشکل عمل بن چکا ہے…. یونیورسٹیز اور اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کو منشیات کا عادی بنادیا جاتا ہے…. منشیات کے اڈوں کو روکنے والا کوئ نہیں… بڑے بڑے اسرو رسوخ رکھنے والے لوگ پس پردہ منشیات کا کاروبار چلاتے ہیں اور اپنی ہی آنے والی نسل کو اس ناسور کا عادی کردیتے ہیں… 

    منشیات سے پھیلنے والی تباہی کا ازالہ بعد میں کوئ بھی نہیں کرسکتا اسلیے اس ناسور کو ابھی ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا اوراس نسل اور آنے والی نسل کو تباہی سے بچانا ہوگا جو اس ملک کا مستقبل ہیں…. 

    اللہ کے رسول نےبھی شراب کو ام الخبائث قرار دیا ہے یعنی نشہ ہر برائ کی جڑ ہے اسی لیے اسلام میں نشہ حرام کردیا گیا تاکہ مسلمان اس تباہی و بربادی سے بچا رہے بلاشبہ رب العزت کے ہر حکم میں مصلحت پوشیدہ ہے… 

    آج کے پرفتن دور میں لوگوں میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ نشہ منشیات کا استعمال انسان کیلیے صرف اور صرف تباہی ہے اور نشہ ایک مسلمان کیلیے اسی لیے حرام کردیا گیا ہے ….خدارا محض فیشن کا حصہ بننے کیلیے اپنی آگے کی پوری زندگی داؤ پر نہ لگائیں… 

    منشیات کا استعمال عام طور پر تب کیا جاتا ہے جب انسان ذہنی کشمکش اور اذیت سے دوچار ہو… منشیات کی روک تھام کیلیے نوجوانوں کو سہی سمت پر لگانا ہوگا… 

    ہمیں اپنے معاشرےسے اس برائ کا خاتمہ کرنے کیلیے ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی اپنی نوجوان نسل کا مستقبل بچانا ہوگا… تاکہ ہمارا معاشرہ منشیات کی لعنت سے پاک ہو اور اسکی روک تھام کیلیے خصوصی اقدامات کرنا ہونگے وگرنہ منشیات کی لت اس معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ جائے گی اور معاشرے کاآنے والا کل بہت تاریک ہوگا… 

    @timazer_K

  • قسمت ، محنت اور کامیابی    تحریر : مقبول حسین بھٹی

    قسمت ، محنت اور کامیابی  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    1997 میں ، مشہور سرمایہ کار اور کثیر ارب پتی ، وارن بفیٹ نے ایک سوچے سمجھے تجربے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا ، "تصور کریں کہ آپ کے پیدا ہونے سے 24 گھنٹے پہلے ایک جنتی آپ کے پاس آئے گا۔”

    "جینی کہتی ہے کہ آپ جس معاشرے میں داخل ہونے والے ہیں اس کے قوانین کا تعین کر سکتے ہیں اور آپ جو چاہیں ڈیزائن کر سکتے ہیں۔ آپ کو سماجی قواعد ، معاشی قواعد ، حکومتی قواعد وضع کرنا ہوں گے۔ اور یہ قوانین آپ کی زندگی اور آپ کے بچوں کی زندگی اور آپ کے پوتے پوتیوں کی زندگی کے لیے غالب رہیں گے۔ "لیکن ایک پکڑ ہے ،” انہوں نے کہا۔ "آپ نہیں جانتے کہ آپ امریکہ یا افغانستان یا پاکستان میں امیر یا غریب ، مرد یا عورت ، کمزور یا قابل جسم پیدا ہونے والے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ آپ کو ایک بیرل سے ایک گیند نکالنی ہوگی جس میں 5.8 بلین گیندیں ہوں گی۔ اور یہ تم ہو۔ ”

    "دوسرے الفاظ میں ،” بفیٹ نے مزید کہا ، "آپ اس میں حصہ لیں گے جسے میں ڈمبگرنتی لاٹری کہتا ہوں۔ اور یہ سب سے اہم چیز ہے جو آپ کی زندگی میں آپ کے ساتھ ہونے والی ہے۔ یہ اس بات کا تعین کرنے جا رہا ہے کہ آپ کس اسکول میں جاتے ہیں ، آپ کتنی محنت کرتے ہیں ، ہر قسم کی چیزیں۔ جب اس طرح وضاحت کی جائے تو ، زندگی میں قسمت ، بے ترتیب اور اچھی قسمت کی اہمیت سے انکار کرنا مشکل لگتا ہے۔ اور واقعی ، یہ عوامل ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن آئیے ایک دوسری کہانی پر غور کریں۔ جب اس طرح وضاحت کی جائے تو ، زندگی میں قسمت ، بے ترتیب اور اچھی قسمت کی اہمیت سے انکار کرنا مشکل لگتا ہے۔ اور واقعی ، یہ عوامل ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن آئیے ایک دوسری کہانی پر غور کریں۔

    1969 میں ، ویت نام کی جنگ کے چودھویں سال کے دوران ، یو یو نامی چینی سائنس دان کو بیجنگ میں ایک خفیہ تحقیقی گروپ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ یونٹ صرف اس کے کوڈ کے نام سے جانا جاتا تھا: پروجیکٹ 523۔ چین ویت نام کے ساتھ ایک اتحادی تھا ، اور پروجیکٹ 523 اینٹی ملیریا ادویات تیار کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جو فوجیوں کو دی جا سکتی ہیں۔ بیماری ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی تھی۔ ویت نام کے بہت سے فوجی جنگل میں ملیریا سے مر رہے تھے۔ ٹو نے اپنے کام کا آغاز سراگ ڈھونڈ کر کیا جہاں وہ انہیں مل سکتی تھی۔ اس نے پرانے لوک علاج کے بارے میں دستی کتابیں پڑھیں۔ اس نے قدیم تحریروں کی تلاش کی جو سینکڑوں یا ہزاروں سال پرانی تھیں۔ اس نے پودوں کی تلاش میں دور دراز علاقوں کا سفر کیا جس میں کوئی علاج ہو سکتا ہے۔ کئی مہینوں کے کام کے بعد ، اس کی ٹیم نے 600 سے زائد پودے اکٹھے کیے اور تقریبا 2،000 2 ہزار ممکنہ علاج کی فہرست بنائی۔ آہستہ آہستہ اور طریقے سے ، ٹو نے ممکنہ ادویات کی فہرست کو 380 تک محدود کر دیا اور لیب چوہوں پر ان کا ایک ایک کر کے تجربہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے کا سب سے مشکل مرحلہ تھا۔ "یہ ایک بہت ہی محنت طلب اور تکلیف دہ کام تھا ، خاص طور پر جب آپ کو ایک کے بعد ایک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔”

    سینکڑوں ٹیسٹ کیے گئے۔ ان میں سے بیشتر نے کچھ حاصل نہیں کیا۔ لیکن ایک ٹیسٹ چنگھاؤ کے نام سے مشہور میٹھے کیڑے کے پودے کا ایک اقتباس امید افزا لگتا ہے۔ ٹو اس امکان سے پرجوش تھا ، لیکن اس کی بہترین کوششوں کے باوجود ، پلانٹ کبھی کبھار ایک طاقتور اینٹی ملیریا ادویات تیار کرتا تھا۔ یہ ہمیشہ کام نہیں کرے گا۔ اس کی ٹیم پہلے ہی دو سال سے کام پر تھی ، لیکن اس نے فیصلہ کیا کہ انہیں شروع سے دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ تو نے ہر امتحان کا جائزہ لیا اور ہر کتاب کو دوبارہ پڑھا ، کسی چیز کے بارے میں کوئی اشارہ تلاش کیا جس سے وہ چھوٹ گیا تھا۔ پھر ، جادوئی طور پر ، وہ دی ہینڈ بک آف پرسکیپریشن فار ایمرجنسی کے ایک جملے پر ٹھوکر کھا گئی ، جو 1500 سال پہلے لکھی گئی ایک قدیم چینی تحریر ہے۔ مسئلہ گرمی کا تھا۔ اگر نکالنے کے عمل کے دوران درجہ حرارت بہت زیادہ تھا تو میٹھے کیڑے کے پودے کا فعال جزو تباہ ہو جائے گا۔ ٹو نے کم ابلتے نقطہ کے ساتھ سالوینٹس کا استعمال کرتے ہوئے تجربے کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا اور بالآخر ، اس کے پاس اینٹی ملیریا ادویات تھیں جو 100 فیصد وقت کام کرتی تھیں۔ یہ ایک بہت بڑی پیش رفت تھی ، لیکن اصل کام ابھی شروع ہوا تھا۔ ہاتھ میں ثابت ادویات کے ساتھ ، اب یہ انسانی آزمائشوں کا وقت تھا۔ بدقسمتی سے ، چین میں اس وقت کوئی نئی سنٹر نہیں تھیں جو نئی ادویات کی آزمائشیں کر رہی ہوں۔ اور منصوبے کی رازداری کی وجہ سے ، ملک سے باہر کسی سہولت پر جانا سوال سے باہر تھا۔ وہ مردہ انجام کو پہنچ چکے تھے۔ تب جب آپ نے رضاکارانہ طور پر ادویات کی کوشش کرنے والا پہلا انسانی موضوع بننے کی کوشش کی۔ میڈیکل سائنس کی تاریخ کی ایک جرات مندانہ حرکت میں ، وہ اور پروجیکٹ 523 کے دو دیگر ممبران نے خود کو ملیریا سے متاثر کیا اور اپنی نئی دوا کی پہلی خوراک وصول کی۔ یہ کام کر گیا. تاہم ، اس کی ایک کامیاب دوا کی دریافت اور اس کی اپنی زندگی کو لائن پر ڈالنے کی خواہش کے باوجود ، ٹو کو اپنی نتائج کو بیرونی دنیا کے ساتھ شیئر کرنے سے روکا گیا۔ چینی حکومت کے سخت قوانین تھے جو کسی بھی سائنسی معلومات کی اشاعت کو روکتے تھے۔ وہ بے قرار تھی۔ ٹو نے اپنی تحقیق جاری رکھی ، بالآخر دوا کی کیمیائی ساخت کو سیکھنا – ایک کمپاؤنڈ جسے سرکاری طور پر آرٹیمیسنین کہا جاتا ہے – اور دوسری اینٹی ملیریا ادویات بھی تیار کرنے جا رہا ہے۔ یہ 1978 تک نہیں تھا ، اس کے شروع ہونے کے تقریبا ایک دہائی بعد اور ویت نام جنگ ختم ہونے کے تین سال بعد ، آخر کار ٹو کا کام بیرونی دنیا کے لیے جاری کیا گیا۔ اسے سال 2000 تک انتظار کرنا پڑے گا اس سے پہلے کہ عالمی ادارہ صحت ملیریا کے خلاف دفاع کے طور پر علاج کی سفارش کرے۔ آج ، ملیریا کے مریضوں کو 1 ارب سے زیادہ بار آرٹیمیسینن علاج دیا گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔ ٹو یویو پہلی خاتون چینی شہری ہیں جنہوں نے نوبل انعام حاصل کیا ، اور میڈیکل سائنس میں اہم شراکت کے لیے لاسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی چینی شخصیت ہیں۔

  • تمباکو نوشی لعنت ہے”  تحریر: حسیب احمد

    تمباکو نوشی لعنت ہے” تحریر: حسیب احمد

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کا استعمال کیا جاتا ہے اور دنیا میں آئے لوگ لاکھوں لوگ اس کو خریدتے ہیں اور نوش کرتے ہیں۔ دنیا میں سگریٹ وہ واحد چیز ہے جو ہر جگہ دستیاب ہوتی ہے اور لاکھوں سگریٹ روزانہ کی بنیاد پر تیار کیئے جاتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی سگریٹ پینے والے لوگ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور اندازہ لگائیں روزانہ کی بنیاد پر کتنے لوگ خرید کرتے ہیں اور کتنا ریونیو جنریٹ ہوتا ہے سگریٹ کمپنیوں کا۔ اور ہم اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں سگریٹ نوشی کرکے۔ 

    پہپہڑوں کی بندش ہوجاتی ہے اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے ہمیں ہی تکلیف ہوگی ناکہ ان کمپنیوں کو ان کو صرف پیسے سے مطلب ہے۔ اگر ہم لعنت سے اپنی جان چھڑا لیں تو خدا کی قسم جو یہ پیسہ ان چیزوں پر خرچ کررہے اس کو بچا سکتے ہیں اور یہ پیسہ مستقبل میں ہمیں کام ائے گا اور اگر ہم تمباکو نوشی کرتے رہے تو ایک دن اس ہماری جان جائے گی اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہونگے۔

    تو آج سے ہی عزم کرلیتے ہیں ہم جتنا ہوسکے گا اس لعنت سے اپنی اور اپنے پیاروں کی جان بچائیں۔ اپنی نسلوں کو تحفظ دیں یا ناکہ اس تمباکو نوشی سے اپنی نسلوں کی جائیں خطرے میں ڈالیں۔

    تمباکو نوشی کو توڑنا ایک مشکل عادت ہے کیونکہ تمباکو میں بہت زیادہ نشہ آور کیمیکل نیکوٹین ہوتا ہے۔ ہیروئن یا دیگر نشہ آور ادویات کی طرح ، جسم اور دماغ تیزی سے سگریٹ میں نیکوٹین کی عادت ڈالتے ہیں۔ جلد ہی ، ایک شخص کو صرف نارمل محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ 

    کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ای سگریٹ باقاعدہ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ ان میں تمباکو نہیں ہوتا۔ لیکن ان میں موجود دیگر اجزاء بھی خطرناک ہیں۔ در حقیقت ، ای سگریٹ استعمال کرنے والے لوگوں میں پھیپھڑوں کو شدید نقصان اور یہاں تک کہ موت کی بھی اطلاعات ہیں۔ لہذا ماہرین صحت ان کے استعمال کے خلاف سختی سے خبردار کرتے ہیں۔ ہکہ پانی کے پائپ ہیں جو منہ کے ساتھ نلی کے ذریعے تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ دھواں ٹھنڈا ہوتا ہے جب یہ پانی سے گزرتا ہے۔ لیکن کالے گنک کو دیکھو جو ایک ہکہ نلی میں بنتا ہے۔ اس میں سے کچھ صارفین کے منہ اور پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اور چونکہ ان کے پاس فلٹرز نہیں ہیں اور لوگ اکثر انہیں طویل عرصے تک استعمال کرتے ہیں ، ان کی صحت کے خطرات اور بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ہکہ عام طور پر مشترکہ ہوتے ہیں ، لہذا پائپ کے ساتھ ساتھ جراثیم کے گرد پھیلنے کا اضافی خطرہ ہوتا ہے۔

    آج سے عہد کریں نا خود نوش کریں گے نا کسی کو کرنے دیں گے اور اپنے مستقبل کے ایک اچھا اقدام اٹھائیں گے۔

    تمباکو نوشی ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو برباد اور تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہے۔ 

    پاکستان میں ہزاروں لوگ اس کے ادی ہوجاتی ہیں. لوگ خود کو اس نشے میں اندھا کرتے ہیں اور اپنی صحت والی زندگی سے کھیلتے ہیں. پاکستان میں لوگ نشے سے ایسے لیپٹ جاتے ہیں جیسے سردیوں میں کمبل سے لوگ لیپٹ جاتے ہیں۔غیر قانونی طور پر کمپنیاں بغیر ٹیکس اس ملک میں بیچتے ہیں۔ اس سے عوام کو ان کمپنیوں کی وجہ سے بھر پور ٹیکس دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور ٹیکس ریونیو جمع نا ہونے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں پھر پاکستان کے غریب سے غریب تر ہوجاتے ہیں اور فائدہ صرف یہ نشہ آور کیمیکل نیکوٹین بنانے والی کمپنیاں اٹھاتی ہیں۔

    @jaanbazHaseeb 

    https://twitter.com/JaanbazHaseeb?s=09