Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ماؤں کی تاریخ میں ایک روشن مثال…. حضرت ہاجرہ  تحریر :اقصٰی صدیق

    ماؤں کی تاریخ میں ایک روشن مثال…. حضرت ہاجرہ تحریر :اقصٰی صدیق

    "ماں” پیکر ہے لازوال شفقت و محبت، وفا اور بے مثال قربانی کا!
    اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر حیثیت میں عزت و عظمت عطا کی۔
    دنیا کی پوری تاریخ ایسی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتی، جو ماں کی مثال سے بڑھ کر ہو۔یہ ماں کی ممتا اور ماں ہی کا جگر ہے جو اپنی اولاد کے لیے بڑی سے بڑی آزمائش اور تکلیف برداشت کر لیتی ہے۔ماں کی خدمت اس کے خلوص اور اس کے ایثار و قربانی کے جذبے کا کوئی نعم البدل نہیں۔
    کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
    "ماں ایک احساس ہے جو فطرت کے لطیف ترین جذبوں کو لباس اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔جس طرح دنیا کی ہر زبان کے حروف تہجی کی ابتداء الف سے ہوتی ہے، بالکل اسی طرح محبت کی انتہا اور ابتداء لفظ ماں سے ہوتی ہے۔
    ” ماں کا دل موم کی مانند ہوتا ہے جو اولاد کی محبت میں پگھل جاتا ہے "۔ (بحوالہ : ڈاکٹر محمود الرحمن /ماں کی عظمت)
    محبت، شفقت، خلوص اور ایثار و قربانی یہی وہ جذبہ ہے جو ہر وقت اور ہر دم بچوں پر سایہ اور ڈھال بنا رہتا۔ماں اولاد کے ہر دکھ، ہر مصیبت اور ہر تکلیف میں سایہ رحمت اور سائبان بنی نظر آتی ہے، ہر دکھ سہہ کر اولاد کو راحت پہنچاتی ہے۔
    لفظ "ماں ” کے تین حروف "م” ” ا” اور” ن ” کا مجموعہ ایثار و محبت سے بنا ہے۔
    "م” محبت کا پیکر، "ا” ایثار اور "ن” کی اساس ناز ہے۔ لفظوں کا یہ مجموعہ ماں شفقت و محبت اس کا شیوہ، ایثار اس کا ایمان اور اولاد پر ناز اس کی کمزوری ہے۔
    اگر انسانیت کی پوری تاریخ دیکھی جائے اور ماں کی محبت احترام، تقدس اور ایثار کا جائزہ لیا جائے تو حضرت ہاجرہ ؑ کا کردار بے مثل، بے پناہ محبت اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نگہداشت کا کوئی اور واقعہ اتنا تاریخ ساز اور منفرد نظر نہیں آئے گا۔
    اگر ماؤں کی تاریخ مرتب کی جائے تو صرف حضرت ہاجرہ ؑ کا تذکرہ اس پورے تذکرے پر اس طرح حاوی ہو جائے گا کہ دوسری تمام مائیں اس کی قربانی اور محبت سے فیض یاب ہوتی نظر آئیں گی۔
    عرب کا تپتا ہوا صحرا، دور دور تک کوئی سبزہ نہیں، آگ کی مانند چٹانیں اور پہاڑیاں، جن پر نگاہ ڈالنے سے آنکھوں میں بھی تپش اور جلن سی محسوس ہونے لگے۔
    تو اس آگ اَگلتی ہوئی وادی میں انسانی وجود کا تصور اور وہ بھی کیسے انسان، ایک شیر خوار بچہ اور اس کی ماں جسے صنفِ نازک کہا جاتا ہے، اس میں اس طرح بیٹھے ہوں جنہیں اپنے پروردگار کی قدرت پر پورا ایمان و یقین ہو۔شریکِ حیات، روٹی کے چند ٹکڑے اور پانی کا ایک مشکیزہ رکھ کر واپس جا رہا ہو۔
    ہاجرہ ؑ پوچھ رہی ہوں کہ اے ابراہیم علیہ السلام یہ سب کیا کر رہے ہو۔ روٹی کے چند ٹکڑوں اور پانی کے ایک مشکیزہ پر ہم کیسے گزارہ کریں گے، اور پھر اس کے بعد ہمارا کیا ہوگا۔
    اور وہ یہ کہتے ہوئے جا رہے ہوں کہ اللہ پر بھروسہ رکھو، اور میں اسی کے حکم سے تم دونوں کو یہاں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔
    ماں کا صبر و شکر دیکھنے کے قابل ہے، اپنی پرواہ نہیں کرتی بلکہ بچے کی معصوم صورت پر نظر ڈال کر اللہ کے آگے سر جھکا لیتی ہے، اس وقت ماں کے دل پر کیا گزر رہی ہو گی؟
    ماں کی ممتا تڑپ رہی ہو مگر وہ پیکر تسلیم و رضا بنی اپنے جگر گوشے کو سینے سے لگائے ہوئے قدرت خداوندی کے کرشمے کی منتظر ہے۔
    آخر کار وہی ہوا پانی کا ایک مشکیزہ آخری قطرے بھی اپنے اندر سے انڈیل کر اپنی بے چارگی کا اظہار کر رہا ہے۔ شرم کے مارے آنکھیں خشک ہو گئی ہیں، مشکیزہ اپنی بے چارگی اور بے بسی پر افسردہ ہے۔
    کاش! اس وقت ندامت کے کچھ آنسو ہی مشکیزہ سے نکل پڑتے کہ معصوم کی جان بچ جاتی۔
    حضرت ہاجرہ ؑ بے چین اور بے قرار ہو جاتی ہیں، پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگتی ہیں، لیکن کہیں پانی موجود نہیں اور بچے کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ بچے کو لیے سوچتی ہیں کہ پانی کہاں سے لاؤں۔
    سامنے ایک پہاڑی نظر آتی ہے سوچتی ہیں کہ اس پر چڑھ کر دور کہیں نظر دوڑائیں شاید کہیں پانی نظر آ جائے۔صفا پر جاتی ہیں پانی نظر نہیں آتا، تھوڑی دور ایک اور پہاڑی نظر آ رہی ہے جو صفا کے سامنے ہے، دوڑتی ہیں اور اس پہاڑی پر جا کر نظر دوڑاتی ہیں۔
    اس طرح صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا کی دوڑ ہو رہی ہے۔
    ادھر اللہ رب العزت فرشتوں کو حکم دے رہا ہے کہ دیکھو، غور کرو اس ماں کی محبت کی یہ ادا ہمیں تمام امت مسلمہ کے لیے فرض کرنا ہے۔میں آنے والی نسلوں کو تاقیامت یوں ہی بے قرار دوڑتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔
    اس کے بعد ہی ماں کی بے قراری پر اللہ رب العزت کی رحمت کو جوش آتا ہے اور اچانک حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیوں کی رگڑ سے پتھر کا دل موم ہو جاتا ہے۔آبِ شیریں کا چشمہ ابل پڑتا ہے، جس میں سے پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے، یہ پانی نہیں بلکہ آبِ حیات تھا۔
    صرف ان ماں بیٹے کے لیے نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والی تمام نسلوں کے لیے تھا، جنہوں نے ابراہیم علیہ السلام کے دین کو پڑھنے کا عہد کیا۔
    حضرت ہاجرہ ؑ زم زم کہہ کر اسے روکتی ہیں، اور بچے کو یہ پانی پلا کر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتی ہیں۔
    مینڈھ باندھ کر پانی کو روک لیا گیا ہے، خوش نوا پرندے پانی کی تلاش میں ادھر آتے ہیں، قبیلہ جرہم پرندوں کو اڑاتا ہوا دیکھ کر آ کر یہیں قیام کر لیتا ہے۔
    یہ قبیلہ شاید اسی لیے آیا تھا کہ ان ماں بیٹے کی نگہداشت کر سکے۔
    درحقیقت ماں کی محبت اور قربانی کا یہ واقعہ تاریخ کے صفحات میں اس طرح پھیلا ہوا ہے کہ ہر صفحے سے ماں کا تصور اس طرح ابھرتا ہے، کہ آدمی ماں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں سوچ سکتا۔

    @_aqsasiddique

  • زِندَگی تحریر:افشین

    زِندَگی تحریر:افشین

    زِندگی وہ پھول ہے جو اپنی خوشبوں سے چاروں اِطراف کو مہکا دیتا ہے پھول میں اگرچہ کانٹے بھی موجود ہوتے ہیں پر وہ بھی پھول کا حصہ ہیں ۔ جیسے تکلیفیں ،آزمائشیں زندگی کا حصہ ہیں ۔ زندگی اس سفر کا نام ہے جو مسافروں کی بھیڑ میں طے کیا جائے پر منزل پہ تنہا پہنچا جائے ۔ ہماری زندگی اس کتاب کی مانند ہے جو لکھ دی گئ ہے لکھنے والا رَبّ پاک ہے۔ ہماری زندگی کی کتاب کو پڑھنے والا ہر کوئی نہیں ہوتا کچھ ادھورا پڑھ کے چھوڑ دیتے ہیں کچھ مکمل اور کچھ پَرکھ کے اپنی رائے خود ہی قائم کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ مطلب یہ کتاب دلچسپ نہیں لہذا پڑھنی ہی نہیں ۔ کچھ لوگ پڑھ کے بھی سمجھ نہیں پاتے ۔زندگی خوابوں کا افسانہ ہے جس میں خواب تو بہت ہیں مگر ادھورے ۔زندگی وہ حقیقت ہے جس میں کڑواہٹ بھی ہے پھر سچائی سے بھری ہوئی ہےزندگی نعمتِ خدا ہے خوشیاں غم سب اسکا حصہ ہیں ۔زندگی ان لوگوں کے لیے حسِیں سفر کی مانند ہے جو یہ سوچتے ہیں یہ لطف اندوز ہونے کے لیے ہے اور وہ اپنی زندگی بہترین انداز میں جیتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کے لیے زندگی تلخ ہے جو زندگی کو با مقصد جینا چاہتے ہیں کچھ خواب بناتے ہیں انکی تکمیل کے لیے ہر طرح کے حالات سے لڑتے ہیں مشکلات جھیلتے ہیں ۔زندگی بہت کچھ کھونے اور پانے کا نام ہے ۔ زندگی سب کے لیے آسان نہیں ہوتی ۔کچھ جی لیتے ہیں اور کچھ کو یہ زندگی تھکا دیتی ہے ۔ زندگی سانس لینے اور رکنے تک کا نام ہے ۔ زندگی ایک امتحان ہے جیسے پاس ہونے کے لیے محنت اور کوشش درکار ہے، ایسے ہی زندگی کے امتحان بھی کوئی آسان نہیں ہوتے کچھ پانے کے لیے کوشش کی جاتی ہے اور کوشش اور محنت سے پھل ملتا ہے ۔زندگی کے اس سفر میں صبر ایک اہم جُزو ہےصبر و تحمل سے ہی زندگی کا سفر آسانی سے طے کیا جاسکتا ہے۔ اگر اللّلہ پاک کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پہ چلیں گے تو کامیابی آپکے قدم چومے گی راہ بھٹکنے پہ دنیا و آخرت میں سزا منتخب ہے ۔دوسروں کی زندگی آسان بنائیں تاکہ آپکی زندگی کے سب کانٹے خود بخود ہٹ جائیں ۔زندگی رنگوں سے بھری ہے اپنے اردگرد دیکھے ہر طرف رنگ بکھرے پڑے ہیں ۔ ان رنگوں کو سمٹ کے اپنی بے رنگ زندگی میں رنگ بھر لیں ۔ زندگی کو جینا سیکھیے ہمت نہ ہاریں ۔انسان چرند پرند جانور سب کو زندگی دینے والا ایک رِبّ العزت ہی ہے جس اس دنیا کو بنایا اورسب کی تخلیق کی ۔ وہ جب چاہے زندگی لے لے اور جس کو جتنی چاہے زندگی دے دے ۔یوں تو ہر طرف لوگوں کا میلا ہے پھر بھی انسان اکیلا ہے دنیا میں آئے بھی اکیلے ہی تھے جانا بھی اکیلا ہی ہے ۔ پھر کیا گلے شکوے رضائے الٰہی ربِ کائنات کے فیصلوں پہ خوش رہیں۔ اپنی زندگی کو نعمتِ خدا سمجھیں اور اسکو حالات سے تنگ آ کے ختم کرنے کے بجائے مقابلہ کریں اور رَبّ پاک کا شکر ادا کریں کیونکہ زندگی کانٹوں کی سیج ضرور ہے پر یہی کانٹے پھولوں تک پہنچانے کا ذریعہ بھی ہیں ۔زندہ رہنے کے لیے ہوا پانی غذا اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ انسان جی تو رہے ہوتے ہیں مگر انکا کہنا ہے ہم بس زندہ ہیں۔ زندگی گزر رہی ہے انکے لفظوں میں مایوسی ٹپک رہی ہوتی ہے مطلب انکا جسم ہوا پانی خوراک آکسیجن سب لے رہا ہے پھر بھی وہ خود کو مردہ تصور کر رہے ہوتے ہیں ۔ صرف جسم کا زندہ ہونا ضروری نہیں روح کا زندہ ہونا بھی لازم ہےزندگی گزارنے اور جینے میں بہت فرق ہے ۔اپنی روح کو زندہ رکھے اور اللّلہ پاک پہ سب چھوڑ دیں اللّلہ پاک کے فیصلوں پہ خوش رہے مایوسی زندگی کو دشوار بنا دیتی ہے پُر امید رہیں۔ خوش رہے ۔ دوسروں میں خوشیاں بانٹ کے خود بھی جئیں، خود سے پیار کریں ۔ یہ زندگی بہت قیمتی ہے اسکی قدر کریں۔

    @Hu__rt7

  • پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے تحریر کاوش لطیف

    پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے تحریر کاوش لطیف

    ایک شخص کو کہا جائے میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں شادی کرنا چاہتا ہوں وہ شخص کی بھی آپ کے لیے احساس فیلنگ ہو لیکن کسی کی مداخلت کرنے سے حالانکہ دوسرے کی غلطی بھی نہ ہو وہ پھر بھی چھوڑ جائے اس شخص نے مداخلت کا نہ کہا ہو اس کو پتہ بھی نہ ہو اس کے پیٹھ پیچھے کیا چل رہا ہے لیکن اگلا شخص آپ سے بھی ناراض ہو جائے تو یا تو پہلے دور جانا چاہتا ہوگا بس موقع نہیں مل رہا ہوگا یا اس کے قریبی دوست نے کہا ہوگا مداخلت کا بہانہ بنا کر وہ ساتھ چھوڑ جائے جو کہ میں مانتا ہوں کہ مداخلت کرنا بھی غلط ہے کوئی یہ برداشت نہیں کرے گا کہ ہمارے درمیان یہ مداخلت کر رہا ہے لیکن اس کو بھی سوچنا چاہیے رشتے ایسی باتوں پر ختم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جو لوگ نبھانا چاہتے ہیں تو وہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں نبھا جاتے ہیں جو نہیں نبھانا چاہتے ان کےلئے صرف ایک بہانہ کافی ہے چھوڑ کر جانے کے لئے

    زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے ہر صفحے پر ہماری مرضی کی کہانی نہیں لکھی ہوتی لیکن ہر صفحہ ہمیں پڑھنا ہی پڑتا ہے کسی کو اپنی جان سے زیادہ چاہنے کا انعام درد اور آنسوؤں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اس لیے اپنی راتیں ان کے لئے خراب کرنا چھوڑ دو جن کو یہ بھی پروا نہیں کہ تم صبح اٹھو گے بھی کہ نہیں یہ مطلبی زمانہ ہے نفرتوں کا قہر ہے یہ دنیا دکھاتی شہد ہے اور پیلاتی زہر ہے

    انسان نے اگر زندگی میں دھوکا نہیں کھایا تو جان لو کہ زندگی میں سے کچھ سمجھا ہی نہیں یہ دنیا بھی بڑی عجیب ہے یہاں مطلب کی بات تو ہر کوئی سمجھتا ہے پر بات کا مطلب کوئی نہیں سمجھتا یہاں پر لوگ محفل میں بد نام اور منہ میں سلام کرتے ہیں

    ہم نے اپنی سی بہت کی وہ نہیں پگھلا کبھی اس کے ہونٹوں پر بہانے تھے بہانے ہی رہے ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا کہ رشتہ دھیرے دھیرے ہی ختم ہوتا ہے بس پتا اچانک چلتا ہے

    ہیرے کو پرکھنا ہے تو تو اندھیرے کا انتظار کروں کیوں کہ دھوپ میں تو کانچ کے ٹکڑے بھی چمکنا شروع ہو جاتے ہیں

    اپنی زندگی کا یہ اصول بناؤ کہ جتنا آپ کے پاس ہے اس سے کم دکھاؤ اور جتنا آپ جانتے ہیں اس سے کم بولو سفر کا مزا لینا ہے تو سامان کم رکھوں اور اگر زندگی کا مزہ لینا ہے تو ارمان کم رکھو کیوں کہ کبھی نہیں سنا کہ انسان کو اس کی عاجزی لے ڈوبی انسان کو ہمیشہ اس کا تکبر ہی لے ڈوبتا ہے

    جیسے ایک چھوٹا سا چھید پوری ناؤ کو ڈبو دیتا ہے ویسے ہی چھوٹی چھوٹی غلطیاں بہت بڑے بڑے نقصان کروا دیتی ہے

    آسمانوں کو زمینوں سے ملانے والے جھوٹے ہوتے ہیں تقدیر بتانے والے اب تو رشتہ ہی برے وقتوں میں مر جاتا ہے پہلے مر جاتے تھے رشتوں کو نبھانے والے جو تیرے عیب بتاتا ہے اسے مت کھونا اب کہاں ملتے ہیں آئینہ دکھانے والے

    پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے اگر لوٹ کر آیا تو آپ کا اگر نہ آیا تو آپ کا تھا ہی نہیں کسی بھی رشتے میں بھروسا ہونا ضروری ہے پیار کرنے سے بھی زیادہ ضروری ہے اس لیے اپنا پیار ہمیشہ اس کے لئے سنبھال کے رکھوں جس سے اس کی قدر ہو

    زندگی میں جو گزر گیا ہے اسے پیچھے مڑ کر مت دیکھو ورنہ جو ملنے والا ہے اسے بھی آپ کھو دو گے زندگی میں ہمیشہ دلوں کو جیتنے کا مقصد رکھنا ورنہ دنیا جیت کر بھی تو سکندر بھی خالی ہاتھ گیا تھا پیسے کمائیں یا نہ کمائیں لیکن دعائیں ضرور کمانا کیونکہ پھر جھونپڑی میں محل جیسا سکون ملے گا

    @k__Latif

  • سگریٹ و تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    سگریٹ و تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    آج کل نوجوان نسل میں تمباکو و سگریٹ نوشی کا رجحان دن بدن بڑھتی جارہا ہے ہماری نوجوان نسل کی صحت کے لیے تمباکو و سگریٹ ایک ناقابل یقین حد تک نقصان دہ ہے اگر آپ اپنے تمباکو کو سگار ، یا حقے سے تبدیل کرکے خود کو تسلیاں دیتے ہیں یہ آپ کی صحت پر کیسی بھی خطرات کا موحب نہیں تو یہ آپ کی احمقانہ سوچ ہے

    سگریٹ و تمباکو میں تقریبا چھ سو سے زائد اجزاء شامل ہیں ، جن میں سے بہت سے سگار اور حقے میں بھی مل سکتے ہیں۔جب یہ اجزاء جل جاتے ہیں تو ،سات ہزار کے قریب انتہائی مضر صحت کیمیائی مادے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔ ان میں سے بہت سے کیمیکل زہریلے ہیں اور ان میں سے کم از کم 69 کینسر سے منسلک ہیں۔.

    اس کے برعکس سگریٹ میں موجود تمباکو کے اندر جو کیمیائی جزو دراصل جو سب خطرناک اور متاثر کن سرطان کاباعث بنتا ہے وہ نکوٹن کہلاتا ہے۔ تاہم نکوٹن کے علاوہ بھی تقریبا چار ہزار قسم کے دوسرے کیمیائی اجزا سگریٹ میں موجود ہوتے ہیں۔ جو نہ صرف زہریلا اور متاثر کن اثر رکھتے ہیں بلکہ کینسر پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ تقریبا ساٹھ اجزا کینسر کا محرک ہیں۔ جن میں زہر آلود کیمیائی اجزاء کے نام کاربن مونو آکسائیڈ، ٹار، بینزیں، کیڈمیم، امونیا، ایسی ٹلڈ یٹائیڈ، نائیٹروسوامانٹین وغیرہ شامل ہیں۔

    اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ اسے تمباکو نوشی کیسے کرتے ہیں ، تمباکو آپ کی صحت کے لئے خطرناک ہے۔. کسی بھی تمباکو کی مصنوعات میں ایسیٹون اور ٹار سے لے کر نیکوٹین اور کاربن مونو آکسائڈ تک کوئی محفوظ مادہ نہیں ہے۔. آپ جو مادہ سانس لیتے ہیں وہ صرف آپ کے پھیپھڑوں کو متاثر نہیں کرتے ہیں۔. وہ آپ کے پورے جسم کو متاثر کرسکتے ہیں۔.

    سگریٹ و تمباکو نوشی بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے جیسے قلبی امراض (سی وی ڈی) ، پھیپھڑوں اور کینسر کی دیگر اقسام اور سانس لینے میں دشواری کے علاوہ گردے، مثانہ، حلق، سانس کی نالی، نرخرہ، پیٹ اور غذا کی نالی کا کینسر بھی تمباکو نوشی کے سبب ہو سکتے ہیں نوجوان نسل بھی اپنے والدین کی سگریٹ نوشی کی سزا بھگتتی ہے۔ کم وزن کا بچہ پیدا ہونا، وقت سے پہلے بچہ کی پیداٸش ہو جانا، مرا ہوا بچہ پیدا ہونا، سڈ یعنی اچانک ہی کسی بچے کا پیدا ہوتے ہی مر جانا ۔

    سگریٹ و تمباکو نوشی جسم میں مختلف قسم کی جاری پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے ، نیز آپ کے جسمانی نظام پر طویل مدتی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔. اگرچہ تمباکو نوشی کئی سالوں میں آپ کے مختلف قسم کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتی ہے ، لیکن جسمانی اثرات میں سے کچھ فوری طور پر ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق ، ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے 128،000 افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔. ایک رپورٹ کے مطابق ، پاکستان کے 19.1٪ (23.9 ملین) بالغ سگریٹ نوشی میں مشغول ہیں ، جس میں 31.8٪ مرد اور 5.8٪ خواتین شامل ہیں ، جو روزانہ کی بنیاد پر تمباکو کی مصنوعات استعمال کرتی ہیں۔. شہری علاقوں میں 10٪ کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں تمباکو نوشی کرنے والوں کا تناسب 3.9٪ ہے۔. اکثر ، تمباکو نوشی تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے واقف ہوتے ہیں لیکن وہ سگریٹ میں نیکوٹین کے عادی ہونے کی وجہ سے اس کو چھوڑ نہیں سکتے ہیں۔.

    سگریٹ نوشی نہ صرف تمباکو نوشی کرنے والوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اس سے تمباکو نوشی کرنے والوں کو بھی نقصان ہوتا ہے جو غیر فعال سگریٹ نوشی کے ذریعہ اس دھواں کو کھاتے رہتے ہیں۔.

    حکومت پاکستان کو خاص طور پر یونیورسٹیوں میں نوجوانوں میں سگریٹ و تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لئے جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔. حکومت سگریٹ و تمباکو پر ٹیکس بڑھا دے یا فروخت کی قیمتوں میں اضافہ کرے۔. طویل مدت تک ، پاکستان میں تمباکو کمپنیوں پر پابندی عائد کی جانی چاہئے۔. اس عادت کو قابو کرنے کے لئے خاص طور پر دیہی علاقوں میں تمباکو نوشی کے خلاف مختلف آگاہی پروگراموں کا انعقاد کیا جانا چاہئے۔. مذکورہ بالا اقدامات کرکے حکومت بہت ساری جانیں بچا سکے گی۔.

    ضروری ہے کہ ہم آنے والی نوجوان نسلوں کیلٸے سگریٹ و تمباکو نوشی کے خلاف متحرک ہو جائیں۔ اور ان اپنی نسل نو کو سگریٹ و تمباکو چھوڑنے میں مدد دیں جو اس لت کا شکار ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی مہم کا حصہ بنائیں۔ اور انہیں سگریٹ اور تمباکو کے جان لیوا مرض سے بچاسکے۔

    ‎@HamxaSiddiqi

  • زندگی ، غیر متوقع لمحات کا خوبصورت مجموعہ  تحریر :جہانتاب احمد صدیقی

    زندگی ، غیر متوقع لمحات کا خوبصورت مجموعہ تحریر :جہانتاب احمد صدیقی


    ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ خوش رہے۔ صحت مند رہے، اسے کسی قسم کی رنج و ملال نہ ہو۔ مگر زندگی غیر متوقع لمحات کا خوبصورت مجموعہ ہے، اگر زندگی میں سبھی چیزوں پر غور کیا جاٸیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی غیر متوقع لمحات کا ایک دلکش و خوبصورت مجموعہ ہے۔

    زندگی کے غیر متوقع رفتار کو کیسی بھی لمحے سے جوڑنے کی کوشش کرنے کے بجائے ، زندگی کو غیر متوقع طور پر اور خوبصورت لمحات کے ساتھ گزارا جاٸیں کیونکہ زندگی میں اتار اور چڑھاؤ ، اچھے اور برے دن ، کامیابیاں اور ناکامیابیاں کا مجموعہ ہے ۔ یہ ساری چیزیں زندگ کا حصہ ہیں ، کبھی ماضی کی تلخ یادیں تو کبھی مستقبل کی فکر یہ سب زندگی کا حصہ ہے

    زندگی میں آپ کے سامنے بہت سے غیر متوقع چیلنجز آئیں گے، بہتر انسان وہ ہی ہے جو چیلنج کو کامیابی میں بدل دے کیونکہ ہم کبھی نہیں جان پائیں گے کہ ہمارے لئے زندگی کا کیا ذخیرہ ہے ، لیکن ہم اس حقیقت پر قائم رہ سکتے ہیں کہ مستقبل میں ماضی کی نسبت اس سے کہیں بہتر چیزیں ہیں۔.

    ہماری زندگی کے دوران ، ہم ناکام ہونے جا رہے ہیں ، لیکن ہم جو کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ ہمارے حقیقی کردار کو ظاہر کرتا ہے۔. اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم واقعتا کون ہیں اور ثابت قدم رہنے اور آگے بڑھتے رہنے کے لئے اپنی طاقت کی جانچ کرتے ہیں۔.

    ایک بار جب آپ چٹان کے نیچے سے ٹکراتے ہیں تو صرف ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے ، اور سرنگ کے آخر میں روشنی کا ماضی میں رہنے سے کہیں زیادہ انعام ہوتا ہے۔. جب آپ آخر کار کامیاب ہوجاتے ہیں تو آپ کو جو احساس ہوتا ہے وہ اپنے آپ پر افسوس اور ہار ماننے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔.

    ایسا لگتا ہے جب کوئی آپ کو کبھی بھی ہار نہ ماننے کے لئے کہتا ہے ، لیکن آپ اس جملے کے حقیقی معنی کو نہیں سمجھتے جب تک کہ آپ کو ایسی صورتحال میں نہ ڈال دیا جائے جو حقیقت میں اس کی پاسداری کرنے کی آپ کی صلاحیت کی جانچ کرے۔

    ناکامی ایک ایسی چیز ہے جس سے ہم سب کو نپٹنا پڑتا ہے ، کچھ جلد سے جلد ہوجائیں گے اور کچھ کو یہ محسوس ہوگا کہ وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کثرت سے ناکامی کا سامنا کرتے ہیں۔. آپ گیم جیتنے والی شاٹ سے محروم ہوجاتے ہیں یا آپ نوکری کا انٹرویو اڑا دیتے ہیں۔. یہ حالات آپ کے خود اعتماد کو کم کرتے ہیں اور آپ کے سامنے جو مثبت رویہ تھا وہ ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔.

    میں نے اپنی زندگی میں بہت سے کھوٹے سکوں کو چلتے اور بہت سے ڈگری ہولڈرز کو رسوا ٕ ہوتے دیکھا ہے۔زندگی میں اوروں کے لیے دروازہ بنیں دیوار نہیں، کوشش و محنت کریں اور زندگی اپنی میں حرکت جاری رکھیں، زندگی میں آپ کیلٸے اعتماد ،ہمت ، جنون محنت و لگن اور آپ کی ساکھ سب سے اہم ہوتی ہیں۔ کبھی نہیں سنا کہ کسی انسان کو عاجزی لے ڈوبی ہو مگر تکبر و غرور سے ڈوبنے والے بہت دیکھے اس لیے متکبر نہ بنیں بالکل عاجز بنیں ۔

    زندگی کی خوبصورتی غیر متوقع واقعات میں ہی ہے ، اگر زندگی میں سب ہماری منصوبہ بندی کے مطابق ہو تو اس میں کوئی مزہ نہیں کیونکہ زندگی کامیابیاں اور ناکامیاں، دکھ سکھ کا زیور ہے کیونکہ جب زندگی میں وہ سب ہوتا ہے ،جس کا ہم نے سوچا نہیں ہوتا، تو اس سے ہماری زندگی ایک نئی ڈگر پر چل پڑتی ہے اور پھر ہم نئے سرے سے ان حالات کے مطابق منصوبہ بندی کرنے لگ جاتے ہیں اور ان کا مقابلہ کرتے ہیں اور ایسے کرتے کرتے ہماری زندگی تمام ہو جاتی ہے۔

    ‎@JahantabSiddiqi

  • کوڑے کا ڈھیر، انتظامیہ کا پول کھول گیا۔ تحریر: فرح بیگم

    کوڑے کا ڈھیر، انتظامیہ کا پول کھول گیا۔ تحریر: فرح بیگم

    ۲۰۲۱ کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی تقریباً 7.9 بلین ہے ۔ 62.8 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے. اگر ملک ترقی پزیر ہو تو یہ اعدادو شمار وسائل اور فنڈز کی تقسیم بھی برابر کی ہوتی ہے۔
    جیسا کے شہری علاقوں میں ترقیاتی کام زیادہ ہوتے ہیں اور ان کاموں کو انجام دینا اقتصادی لحاظ سے سہل ہوتا یے۔ اس لیے ہی زیادہ توجہ شہری ترقی کو دی جاتی ہے۔زیادہ تر سیاست دان بھی شہری منصبوں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انکو اس سے اپنا فائدہ پہنچتا ہے۔ انہیں علاقوں میں سرکاری عمارتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ اور چونکہ یہاں پر لوگوں کی اقتصادی سرگرمیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں اس لیے ترقیاتی منصوبے کے اخراجات بھاری نہیں ہوتے۔اگر یہی بات دیہی علاقوں کی جاۓ تو فوائد کی توقع زیادہ نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کے یہ علاقے پستی کا شکار ہیں اور بہت سے مسائل سے دو چار ہیں۔
    شہری علاقوں میں زیادہ فنڈز ہونے کے باوجود ہر محلہ ، ہر گلی بنجر، ٹوٹ پھوٹ اور گندگی کا شکار ہے۔ جگہ جگہ گندگی اور کوڑا کرکٹ کا ڈھیر نظر آتا ہے۔ اور یہی نتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ راولپنڈی ممبر کینٹ بورڈ نے کہا ہے کہ علاقے کی سڑکوں، گلیوں کی مرمت ، خراب سٹریٹ لائٹس ،گندگی، کوڑا کرکٹ کے انتظامات کو بہتر بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک سروے کیا ہے جو کہ مکمل ہو گیا ہے جیسے ہی فنڈز مہیا کیے جائیں گے تو کنٹونمنٹ بورڈ کی مطابق کام شروع کر دیا جائے گا۔ خاتکہ انہوں نے ایک عملہ تشکیل دیا جو کہ ہر وقت واڈ میں موجود رہے گا تاکہ لوگ صفائی کے متعلق کوئی بھی شکایت درج کروا سکیں لیکن اس کا بھی کوئی خاطر خواہ اثر نہ ہوا۔ انتظامیہ کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گۓ اور کوڑا کرکٹ کو ابھی تک صاف نہیں کیا گیا جس سے تمام اہل محلہ پریشانی اور وبا میں ممبتلا ہے۔ محلے کی چھوٹی چھوٹی جگہ کچرا کنڈی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ کوڑے کے ڈرم خالی نہ کرنے کی وجہ سے کوڑے کے ڈھیر لگ گۓ ہیں۔ کوڑا کرکٹ اتنا بڑھ گیا ہے کہ اہل محلہ اب کوڑا وہاں ہی پھینکتے ہیں۔ راہ گزارنے والے اور علاقہ مکین گندگی اور بدبو سے بے حد پریشان ھیں۔ اہل محلے کا کہنا ہے کہ صفائی کی صورتحال کو جلد سے جلد بہتر بنایا جائے ۔

    Twitter ID: @iam_Farha

  • انگلش ۔دوست یا دشمن تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    ہم پی آئ اے کی فلائیٹ پر چھ لوگ محو سفر تھے،

    یہ فلائیٹ اسلام آباد سے ابو ظہبی جا رہی تھی،

    ہم 6لوگوں کاتعلق ایک ہی شہر سے تھا۔

    اتفاق سے ہم ایک ہی کمپنی کے ورک ویزوں پر وہاں جا رہے تھے۔

    مزید اتفاق یہ کہ ہم سب کا جاب بھی ایک ہی تھا۔

    ہم سب قدرے گھبراۓ ہوۓ بھی تھے کہ نہ جانے وہاں پہنچ کر ہم کلک کر پائیں گے یا نہیں؟

    ہمارے اس گروپ میں ہم سب کی فنی تعلیم تو برابر تھی۔

    مگر تجربے کے لحاظ سے میں اُن سب سےپیچھے تھا۔

    میرا کام کا تجربہ اُن سب سے کم تھا۔

    اس لحاظ سے میری گھبراہٹ کا ان سے زیادہ ہونا فطری تھا۔

    یہ چیز مجھے مسلسل پریشان کیے جا رہی تھی۔

    پورے سفر میں طرح طرح کے خیالات آتے رہے،

    کیونکہ ایک تو ویزہ بہت مہنگا خریدا تھا تو دوسرا فیملی کی بہت زیادہ توقعات بھی ہم سب سے وابستہ تھیں۔

    شام کے وقت ہم جونہی ابوظہبی 

    ائیر پورٹ پر لینڈ ہوۓ تو دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہو گئیں کہ اب نجانے کیا ہو؟

    نہ جانے کن حالات سے گزرنا پڑے؟

    ائیر پورٹ سے لینے ہمارا ایک مشترکہ دوست آیا ہوا تھا۔

    اُسکی لش پش کرتی نئی گاڑی،

    ہاتھ میں گولڈ لیف کا سگریٹ اور آنکھوں میں رے بین کا چشمہ دیکھ کر ہم سب کے دلوں میں بھی حسرت جاگی کہ نہ جانے کتنے کٹھن مرحلوں کے بعد ہم بھی اسی طرح کی شان وشوکت کے حامل ہوں گے؟

    مگر ابھی کہاں؟

    ابھی تو عشق کے کئی امتحاں باقی تھے۔

    دوست کی رہاشگاہ پررات جیسے تیسے کروٹیں بدلتے گزری۔

    اگلی صبح اُٹھ کر بے دلی سے ناشتہ زہر مار کیا،

    کیونکہ مستقبل کو لیکر زہنی طور پر 

    بے یقینی کی سے کیفیت تھی۔

    جس کے باعث کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا!

    اگلی صبح کپنی کے ہیڈ آفس گئے تو انہوں نے میڈیکل وغیرہ کے لئے ایک دن بعد آنے کو کہا،

    یوں کرتے کراتے چند دنوں بعد ہمیں ایک ورک سائیٹ پر جانے کا پروانہ تھما دیا گیا۔

    کمپنی ڈرائیور کے ہمراہ ہم سب دوست متحدہ عرب امارات کے شہر العین جا پہنچے،

    جہاں پہ ہمارا پراجیکٹ تھا۔

    مجھے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک شاکر نامی شخص کے کمرے میں رکھا گیا۔

    شاکر بھائ انتہائ ملنسار اور تعاون کرنے والے شخص تھے۔

    اُن کے ساتھ ٹائم کافی اچھا گزرا۔

    اگلی صبح ہمیں بس کے زریعے پراجیکٹ کے سائیٹ آفس پہنچایا گیا،جہاں ہماری ملاقات ہمارے فلسطینی پراجیکٹ مینیجر انجینئر فتحی سے کروائ گئی۔

    انجینئر فتحی پہلی ہی ملاقات میں کافی سخت آدمی لگا۔

    اُس نے ملاقات کے شروع ہی میں بتا دیا کہ ہمارا اس پراجیکٹ پر رہنا کنسلٹنٹ کمپنی کے ریذیڈینٹ انجینئر مصر سے تعلق رکھنے والے امریکن  پاسپورٹ ہولڈراللہ دین میکاوی کے انٹرویو پر انحصار کرے گا!

    یہ سُنتے ہی تقریبا” ہم سب ہی کے اوسان خطا ہو گئے کہ پتہ نہیں اس انٹرویو میں کیا پوچھا جاۓ گا؟

    پتہ نہیں کتنے مشکل سوالات ہوں گے؟

    یہ سب باتیں ہمیں اگلی صبح تک مضطرب رکھنے کے لئے کافی تھیں۔

    رات رہائشی کیمپ میں واپسی پر شاکر بھائ سے اس انٹرویو کی بابت استفسار کیا،

    مگر انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ آئیڈیا نہیں کہ انٹرویو کیسا ہو گا؟

    کیونکہ بقول شاکر بھائ کے۔

    یہ انٹرویوز کا سلسلہ ابھی ہی شروع ہوا ہے۔

    پہلے تو بغیر انٹرویو کے ہی ڈیوٹی پر لگا دیا جاتا تھا۔

    یہ سُن کر اپنی قسمت پر اور زیادہ افسوس ہونے لگا کہ

    یااللہ ہم سے کونسی غلطی ہوئ ہے کہ جب ہم نے آنا تھا تو انٹرویو پروگرام بھی شروع ہونا تھا۔

    کاش ہم بھی اسی وقت آجاتے جب بغیر انٹرویوزکے نیا پار چڑھ جاتی تھی۔

    مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا،

    سواۓ انٹرویو والی پُل صراط سے گزرنے کے۔

    انٹرویو سے پہلی والی اس رات ہم سب دوستوں نے ڈائریاں کھول کر کچھ نوٹس اور تھیوری و فارمولوں وغیرہ کا مطالعہ کیا مگر شومئی قسمت کہ انٹرویو کے پریشر کے باعث کچھ نیا زہن میں جانے کے بجاۓ پرانا بھی نکلتا محسوس ہوا۔

    خیر کُفر ٹوٹا خدا خدا کر کے،

    بالاخر انٹرویو کی فیصلہ کُن گھڑی آن پہنچی۔

    انٹرویو کے لئے ہم سب کو باری باری اسی کنسلٹنٹ ریذیڈینٹ انجینئر اللہ دین میکاوی کے کمرے میں بھیجا گیا۔

    میری باری پر جونہی میں کمرہ میں داخل ہوا تو سلام دعا کے فورا” بعد میکاوی سر نے مجھے کہا کہ 

    :لگتا ہے مسٹر بخاری کہ آپ کی نیند پوری نہیں ہوئ؟

    یہ سُن کر میرے تو جیسے ہاتھوں کے طوطے ہی اُڑ گئے،

    مجھے لگا کہ یہ بندہ بڑا تیز ہے،

    اس نے میری ہڑبڑاہٹ ہی سے اندازہ لگا لیا ہے کہ مجھ میں تجربے کی کمی ہے۔

    خیر جوں توں کر کے یہ ایک گھنٹہ طویل انٹرویو اختتام پزیر ہوا۔

    انٹرویو کے دوران میکاوی سر نے مجھے دس منٹ کا چاۓ پینے کے لئے وقفہ دیا تو میں نے سُکھ کا سانس لیا۔

    ان غنیمت دس منٹوں میں چاۓ کا تو حلق سے اترنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا،

    تاہم اس وقت کو میں نے اپنی سانسیں بحال کرنے اور چہرے پر تھوڑا بہت اعتماد بحال کرنے کے لیے صرف کیا۔

    دس منٹ کے وقفے کے بعد جب میں دوبارہ انٹرویو کے لئے کمرے میں گیا تو میری کیفیت کچھ اچھی تھی،کیونکہ انٹرویو کے پہلے مرحلے میں مجھے کچھ ان جانا سا حوصلہ ملا تھا۔

    میرے بعد ہم سب چھ کے چھ دوستوں کے انٹرویو مکمل کراۓ گئے۔

    انٹرویو کے خاتمے کے بعد میکاوی سر نے ہم سب کو کہا کہ اب تم چلے جاؤ اور اپنی اپنی نیند پوری کرو۔

    میں کل تک انٹرویو کے رزلٹس سے آپ کے پراجیکٹ مینیجر کو آگاہ کر دوں گا۔

    ہم سب شکریہ ادا کر کے ایکبار پھر کمپنی کیمپ میں واپس آگئے۔

    اگلی رات ہم سب کے لئے پچھلی راتوں سے بھی بھاری تھی،

    کیونکہ اگلے دن ہماری قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔

    اگلی صبح ہم سب کے کیرئر کے لئے بہت ہی اہم تھی۔

    بس یوں سمجھیے کہ یہ رات بھی کانٹوں پر ہی گزری،

    نیند تو جیسے کوسوں دور تھی۔

    کروٹیں بدلتے بدلتے رات گزری اور صبح پھر ہم سائیٹ آفس جا پہنچے۔

    کچھ دیر انتظار کے بعد ہمیں ہمارے پی ایم نے اپنے دفتر بُلایا اور انٹرویوز کے رزلٹ کے بارے میں بتاتے ہوۓ ہوۓ جو انکشاف کیا،

    وہ سواۓ میرے ،

    باقی سب کے لئے بہت ہی شاکنگ تھا۔

    میکاوی سر نے صرف مجھے کامیاب قرار دیا تھا،

    کیونکہ بقول اُن کے،

    میں ان کے سوالوں کے زبانی اور تحریری جواب دینے میں کافی حد تک کامیاب رہا تھا۔

    اگرچہ ان میں پچاس فیصد جواب تو غلط تھے مگر میں ان کے سوالوں کے جواب میں بے تکان بولتا رہا اور جب انہوں نے لکھنے کا کہا تو میں لکھنے میں بھی کامیاب رہا۔

    بتاتا چلوں کہ ہمارے یہ انٹرویوز انگلش زبان میں تھے۔

    اور میری اکیڈمک کوالیفیکیشن دوسرے دوستوں سے زیادہ ہونے کی وجہ سے انگلش میں جواب دیتے وقت کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہوئ۔

    جبکہ باقی دوستوں کا ہاتھ انگلش میں بہت تنگ تھا،

    جیسا کہ ہم میں سے اکثر پاکستانیوں کے ساتھ یہ مشکل رہتی ہے۔

    وہ  سب میکاوی سر کے زیادہ تر سوالات اس وجہ سے سمجھ ہی نہیں پاۓ کیونکہ یہ سوالات انگریزی زبان میں پوچھے گئے تھے۔

    میرا فیلڈ کا تجربہ اُن سب سے کم تھا،

    ٹیکنیکی طور پروہ سب مجھ سے اچھے پروفیشنل تھے۔

    مگر کمزور انگلش کی وجہ سے مار کھا گئے۔

    انٹرویو کی ناکامی سے میرے اُن دوستوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،

    کیونکہ پہلے تین مہینے ہم سب کا پروبیشن پیریڈ چل رہا تھا،

    جس میں کمپنی کے پاس ورکرز کو اپنی توقعات پر پورا نہ اترنے کے باعث تادیبی کاروائ کااختیار ہوتاہے۔

    میرے ان دوستوں کے پیکیج بھی تبدیل کئے گئے،

    انکی تنخواہوں میں چالیس فیصد تک کمی کر کے دوسری سائیٹ پر ٹرانسفر کر دیا گیا۔وہاں بھی انکی مشکلات کم نہ ہوسکیں اور وہ لمبا عرصہ جدوجہد میں رہے۔

    میں انگلش پر قدرے عبور اور اپنی خوش قسمتی سے اکیلا آدمی تھا،

    جو اسی پراجیکٹ پر سروائیو کر گیا،

    جس کے لئے ہمیں پاکستان سے لایا گیا تھا۔

    میں تقریبا” پراجیکٹ کے اختتام تک وہیں رہا اور الحمدللہ پراجیکٹ کی  کامیاب تکمیل میں بھرپور حصہ ڈالا۔

    اس زاتی تجربے اور مشاہدے کو آپ کے گوش گزارنے پر مجھے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اس بیان نےمجبور کیا،جس میں انہوں نے چند روزانگلش زبان کے بارے میں کچھ ناپسندیدگی کا تاثر دیا۔

    مجھے وزیر اعظم کے اس بیان سے جزوی طور پر اختلاف ہے،

    ہم انگلش سے دور نہیں رہ سکتے،

    ایسا کرنے سے ہم دنیا سے دور ہو جائیں گے،

    انگلش بیرون ملک خصوصا” گلف میں نوکریوں کے لئے اہم ترین ٹُول ہے۔

    اس پر عبور حاصل کرنا بہت اہم اور ضروری ہے،

    ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم جو کہنا چاہ رہے ہوں،

    ہم ان کی بات اس تناظر میں سمجھ نہ پاۓ ہوں۔

    تاہم ہو سکتاہے کہ عمران خان کا مدعا یہ ہو کہ انگلش نہ آنے کی وجہ سے اپنے آپ کو احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیں۔

    یہ بات وزن رکھتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنی سوچ کو اتنا ہی اہم سمجھیں،

    جتنا گورے اپنی بات کو سمجھتے ہیں۔

    مگر انگلش ایک انٹرنیشنل زبان ہے،

    اسے سیکھنا ہمارے بچوں کے لئے بہت ضروری ہے۔

    بیرون ملک کام کرنے کے لئے یہ زبان انکی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔

    اسلئے انگلش کی بطور زبان ،

    قدروقیمت سے انکار ممکن ہی نہیں۔

    کیا پتہ آپکی فیلڈ میں ٹیکنیکل تجربے کی کمی کو انگلش زبان دور کر کے اسی طرح قسمت کا دروازہ کھول دے۔

    جس طرح مجھ پر اللہ پاک نے اپنا کرم کیا#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • اولاد کی تربیت کا آسان طریقہ  تحریر: خالد عمران خان

    اولاد کی تربیت کا آسان طریقہ تحریر: خالد عمران خان

    آجکل کے دور میں جب دنیا بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور دن با دن مصروفیت بڑھتی جا رہی ہے ایسے وقت میں ماں باپ اپنی مصروفیات کے ساتھ اپنی اولاد کی پرورش کے لیے پریشان ہیں بہت آسان طریقے کار کو اپنا کر آپ بچوں کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں.

    بچوں کو دین کے بارے میں سیکھانا سب سے اہم ہے جب اذان سنتے ہی آپ ٹیلی ویژن بند کر دیتے ہیں اور فورا نماز کے لئے تّیاری کرتے ہیں تو عنقریب آپ اپنے اس طرز عمل سے اپنے بچوں کو نماز کا پابند بنانے کا طریقہ سیکھا دیں گے جب بچے ماں باپ کو نماز پڑھتا دیکھتے ہیں جب بچے اور ازان کا احترام کرتا دیکھتے ہیں تو بچے آپ سے سیکھتے ھیں وہ نماز کے بھی پابند بنتے ہیں اور ازان کے وقت ازان کو احترام سے سنتے ہیں.

    جب آپ گھر میں داخل ہوتے وقت سب سے پہلے سب کو سلام کرتے ہیں تو بچے بھی آپکی یہ عادت اپنا لیتے ہیں بچے آپ کے عادت کو خاص طور پر دیکھتے ہیں اور اور لازمی اپنے والدین کی عادات اپنانے کی کوشش کرتے ہیں.

    والدین خاص طور اس بات کا خیال رکھیں کے جس رویئے سے وہ اپنے بڑوں سے پیش آتے ہیں اسّی طرح جب آپ اپنے والدین کا احترام کر تے ہے تو اپنے بچوں کے سامنے اور ان کے ہاتھوں کو بوسا دیتے ہیں تو آپ کے بچے آپکے اس عمل سے ماں باپ کی عزت کرنا سیکھتے ہیں اور وہ آپ سے عزت آی پیش آتے ہیں.

    جب والدین یہ میاں بیوی مختلف کام کاج میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں تو اس سے آپ کے بچے بھی سیکھتے ہیں اور ایک
    دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے تعاون کرنا سیکھتے ہیں اس طرح کی چیزیں وہ بچپن سے ہی سیکھ رہے ہوتے ہیں تو لازمی آپ ان باتوں کا خیال رکھیں اور اپنے رویے گھر میں خاص طور پر ٹھیک رکھیں۔بچوں کے سامنے خاص طور پر کسی قسم کے جھگڑے سے دور رکھیں ایسا کوئی عمل ان کے سامنے نہ کریں تاکہ ان میں بھی اس طرح کی عادت نہ پڑے۔

    جو ماں باپ نماز اور تلاوت قرآن کی پابند ہو تو اسے دیکھ کر اس کی بچے بھی نماز اور
    تلاوت قرآن کی پابند بنیں گے.

    جو ماں باپ گھر میں مُحبت کا ماحول رکھتے ہیں باہمی اتفاق و مفاہمت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، اپنی اولاد کے سامنے لڑائی جھگڑا اور بلند آواز سے بات نہیں کرتے تو ان کے بچے گھر سے ماں باپ سے بہن بھائیوں سے محبت کرنے والے، اپنے اِرد گرد کے لوگو کے ساتھ الفت و محبت اور باہمی اتفاق ومفاہمت سے زندگی گزارنے والے بن جاتے ہیں.

    7- جو والدین اپنے رشتے داروں سے نرمی برتے ہیں کر اپنے عزیز و اقارب کی عزت کرتے ہیں تو ان کی اولاد بھی اس سے نرمی اور حسن سلوک سیکھتی ہے۔

    جو والدین آپس میں با ہمی مشورے سے مختلف امور میں ایک دوسرے سے رائے لیتے ہیں اور بچوں سے بھی راۓ مشورے لیتے ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر گفت و شنید کر تے ہیں اور اپنے بچوں کی رائے کا بھی احترام کر تے ہے تو اس سے بھی ان کے بچوں میں بھی باہمی راۓ مشورے اور مثبت رویہ اپنانے کی عادت پیدا ہوتی ہے آسان اور چھوٹے چھوٹے سے طریقے اپنا کر آپ اپنے گھر کا ماحول بہتر کر سکتے ہیں.

    Twitter handle
    @KhalidImranK

  • اپوزیشن حکومت کے اقدامات کو بدنام کرنا آسان سمجھتے ہیں    تحریر: زاہد کبدانی

    اپوزیشن حکومت کے اقدامات کو بدنام کرنا آسان سمجھتے ہیں  تحریر: زاہد کبدانی

    بدقسمتی سے یہ رجحان پاکستان میں زیادہ نمایاں ہے جہاں اپوزیشن قومی وجوہات کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بنائے گئے سیاسی بحرانوں کو بھڑکانے پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔

    ایک مدت کے دوران حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ، کسی کو نقطہ آغاز اور فاصلے کو دیکھنا ہوگا جو طے کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے 2018 میں اقتدار سنبھالا تو معیشت کی حالت پر ایک دیانت دار اور متضاد نظر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مکمل تباہی کا شکار تھی۔ حکومت کے پاس قرض ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے اور زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم تھے۔ اگر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور چین نے اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کو بھرنے میں مدد نہ کی ہوتی تو پاکستان اپنے قرضوں میں نادہندہ ہو جاتا اور روپیہ ناقابل برداشت ڈوب جاتا۔ اس صورتحال نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے پر بھی مجبور کیا۔

    لہذا ، وزیر اعظم کے اس دعوے کو لے کر مشکل ہے کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا ، زرمبادلہ کے ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے ، محصولات کی وصولی 3800 ارب روپے تھی۔ اس کے مقابلے میں ، اس وقت کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 1.8 بلین ڈالر ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر 27 بلین ڈالر کے آس پاس ہیں اور ٹیکس محصولات کی وصولی 4700 ارب روپے ہو گئی ہے۔ ترسیلات زر 29.4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ، صنعت میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے اور تعمیراتی شعبے میں سیمنٹ کی فروخت میں 42 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ زراعت میں کسانوں کو 1100 ارب روپے کی اضافی رقم گئی ہے۔

    فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح نیب کی جانب سے کرپٹ عناصر سے ریکوری میں زبردست بہتری آئی ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے ، 18 سالوں میں جسم کی جانب سے 299 ارب روپے کی وصولی کے مقابلے میں ، پی ٹی آئی حکومت کے تین سالوں میں بازیابی 519 ارب روپے رہی۔ تمام سابقہ ​​اعداد و شمار قابل تصدیق حقائق ہیں۔

    وراثت میں ملنے والی صورتحال اور کرونا وائرس کے حملے کی وجہ سے معیشت نے 2019-20 کے دوران 0.4 فیصد منفی شرح نمو درج کی تھی۔ پی ٹی آئی نے سال 2020-21 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 2.1 فیصد کا تصور کیا تھا جبکہ آئی ایم ایف نے شرح نمو 1.5 فیصد کے آس پاس کی پیش گوئی کی تھی۔ لیکن حقیقی شرح نمو 3.4 فیصد نکلی ، جس سے اپوزیشن نے یہ الزام لگایا کہ حکومت نے معیشت کے بہتر نقطہ نظر کو پیش کرنے کے لیے اعداد و شمار کو دھوکہ دیا ہے۔ تاہم ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے حکومتی دعووں کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے سابقہ ​​اندازوں کو تبدیل کیا اور حکومت کی طرف سے اعلان کردہ اعداد و شمار کو دیکھا۔

    یہ کامیابی یقینی طور پر حکومت کی جانب سے زندگی بچانے اور معیشت کو لات مارنے کے درمیان توازن پیدا کرنے کی حکمت عملی کی وجہ سے ہے۔ اس نے غریب خاندانوں کو 1200 ارب روپے نقد امداد فراہم کرنے کے علاوہ معیشت کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا اقدام تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر کو صنعت کا درجہ دینا اور سرمایہ کاروں کے لیے مراعات کے پیکج کا اعلان تھا۔ تعمیراتی صنعت کم از کم 40 دیگر صنعتوں سے جڑی ہوئی ہے ، اور یہ بجا طور پر سوچا گیا تھا کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کا ان صنعتوں پر کافی زیادہ اثر پڑے گا۔ اس سے کرونا وائرس کے منفی اثرات کو کم کرنے میں کافی حد تک مدد ملی۔

    حکومت غربت کے خاتمے کے لیے قابل اعتماد اقدامات کرنے میں بجا طور پر فخر کر سکتی ہے ، خاص طور پر احساس پروگرام جس کے تحت غریبوں کی مدد کے لیے 134 مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ کم لاگت والے گھر کی پہل حکومت کا ایک اور مثبت قدم ہے۔ غریب خاندانوں کو ہیلتھ کارڈز کا اجراء اور احساس کیش امداد کے لیے بجٹ میں مختص رقم میں اضافہ 211 ارب روپے سے بڑھ کر 260 ارب روپے ہونے سے بھی حکومت کے حامی ادارے کے طور پر اس کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے لڑنے میں حکومت کا قابل رشک ریکارڈ بھی ہے۔ اس کے 10 ارب درخت لگانے اور نئے جنگلات بڑھانے کے پروگرام نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی ہے۔

    پاکستان نے ان تین سالوں کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی سفارتی کارروائی کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس نے افغان صورتحال اور امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کو آسان بنانے اور تنازع کے افغان قیادت میں اور افغانی ملکیت کے حل کو فروغ دینے میں اس کے کردار کو بڑے پیمانے پر سراہا ہے۔ اب بھی ، یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی حمایت کو اکٹھا کرنے میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے کہ افغانستان میں ایک جامع حکومت تشکیل پائے اور ملک چار دہائیوں پرانے تنازعے کو الوداع کہتا ہے جس کا پڑوسی ممالک میں بھی اثر پڑا ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے سب سے زیادہ آواز اٹھانے والے بھی رہے ہیں۔ یہ حکومت کی سفارتی کوششوں کی وجہ سے ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں ، بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے کی جانے والی کارروائی کی غیر قانونی حیثیت کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو آگاہ کیا جائے۔ اس مسئلے کے بھارتی بیانیہ کو بھارت کا اندرونی معاملہ ماننے سے انکار کر دیا۔ مذکورہ بالا کے پیش نظر ، یہ محفوظ طریقے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے ان تمام چیلنجوں پر قابو نہیں پایا ہوگا جن کا سامنا تھا ، لیکن یہ یقینی طور پر بہتر ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے پرچم بردار معیشت کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کی وجہ سے ، کرونا وائرس، احتساب کے عمل اور خارجہ تعلقات کے انتظام کو مضبوط کریں۔

    @Z_Kubdani

  • تمباکو نوشی مضر صحت تحریر ہما عظیم

    تمباکو نوشی مضر صحت تحریر ہما عظیم

    آپ نے کٸی مرتبہ پڑھا ہو گا آپ پوری دنیا آپکی تو نہیں مگر کسی کے لیٸے آپ پوری پوری دنیا ہوتے ہو
    اور ایسا ہونا بےشک ہم سب کے لٸیے باعث فخر اور باعث خوشی ہوتا ہے۔
    پھر ہم امانت ہو جاتے ہیں اپنے چاہنے والوں گی ۔ان کی جو ہماری لمبی عمروں کی دعاٸیں کرتے ہیں۔ہماری صحت و تندرستی کے لٸیے ہر وقت دعا گو ہوتے ہیں۔اورچاہتے ہیں حتی الامکان باخدا راضی وہ ایک لمبا عرصہ ساتھ گزاریں۔
    پھر ہم ایسا کام شروع کردیں جس سے ہماری زندگی دن بدن کم ہوتی جاۓ ۔جسم میں بیماریاں حملہ کر دیں۔۔اور موت کی طرف بڑھتے قدموں میں تیزی آجاۓ تو یہ ہم اپنے ساتھ ہی نہیں اپنے چاہنے والوں کے ساتھ بھی دشمنی کرتے۔
    جی ہاں جب کوٸی تمباکو نوشی کرتا ہے وہ اپنے صحت تو خراب کرتا ہے ساتھ ہی اپنے سے جڑےلوگوں کے ساتھ بھی غلط کرتا ہے۔انہیں خود جان کر دکھ دینے والے بات کرتا ہے۔ بلکل ایسے ہج جیسے سگریٹ کی ڈبی پر بڑے لفظوں سے لکھا ہوتا ہے مضر صحت ہے۔مگر اس وارننگ سے آنکھ بچا کر استعمال کی جاتی ہے۔ کیوں ۔۔؟
    کیوں کہ ہمیں خود سے پیارنہیں ہے۔اپنے پیاروںسے پیار نہیں ہے۔۔ ہر جگہ اویرنس دی جارہی ہوتی ہے تمباکو پھیپھڑوں کو ختم کرتا ہے۔دماغ کی آفزاٸش روکتاہے۔دل کے لٸیے نقصان دہ ہے۔بےشمار بیماریوں کے حملہ کرنے کے لٸیے جسم ایک آٸیڈیل کمزور جگہ بن جاتا ہے۔مگر تمباکو نوشی کرنے والے کسی صورت باز آتے نظر نہیں آتے۔
    آج کل تمباکو نوشی کے ساتھ مختلف قسم کےنشےمارکیٹ میں بطور فیشن آگۓ ہیں۔۔شیشہ ، آٸس نشہ وغیرہ۔ کوٸی ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے اور ہم خوشی خوشی تباہ ہونے چل پڑے ہیں۔
    صحت مند جسم انسان بطور نعمت عطا کیاجاتا ہے ۔
    اور ہم اس کوخود مضر صحت چیزوں کواستعمال کر کے بیمار کرتے ہیں۔۔کیا یہ امانت خیانت نہیں
    اپنے رب کج دی ہوٸی امانت میں خیانت
    اہنے ارد گرد جو بھی آپ کا پیارا تمباکو نوشی یا کسی بھی طرح کے فیشنی نشے کا عادی ہے۔اسے بتاٸیے خدارا اس لعنت سے چھٹکارا خاصل کیجیٸے آپ کی زندگی ہماری ضرورت ہے۔۔
    خود بھی اس لعنت سے بچیں اور اپنے پیاروں کو بھی اس لعنت سے چھٹکارا دلاٸیے۔
    اصل میں تمباکو میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جس کا نام ہے نکوٹین۔ اب آپ نکوٹین کسی بھی ذریعے سے لیں، خواہ سگریٹ، یا نسوار یا پان کا تمباکو وغیرہ۔ خون میں ملنے کے بعد چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ کے اعصاب تک پہنچ جاتی ہے. نکوٹین کے اثر سے ہمارا دماغ ڈوپامائن (dopamine) نام کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت اچھا احساس ہوتا ہے۔ جب بھی دماغ ڈوپامائن چھوڑتا ہے تو ہمیں بہت مزا آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمیں کسی کام کا اجر ملا ہے۔ یعنی دماغ کو یہ اشارہ جاتا ہے کہ اگر آپ سگریٹ پئیں یا نسوار لیں یا پان کھائیں گے تو آپ دماغ محسوس کرے گا کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ دماغ یہ جان بوجھ کر نہیں کرتا بلکہ وہ ایسا وہ نکوٹین کے اثر کی وجہ سے کرتا ہے۔لیکن جلد ہی دماغ کو نکوٹین کی ایسی لت لگ جاتی ہے کہ آپ بار بار اس کو لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ لت ٹھیک ویسی ہی ہوتی ہے، جیسے کسی منشیات کی لت، مثلاً ہیروئن۔ نکوٹین کا نشہ اس قدر طاری ہوتا ہے کہ وہ آپ کے رویّے کو کنٹرول کرنے لگتا ہے۔ نہ لینے کی صورت میں جسم ٹوٹنا، چڑچڑا پن، کمزوری، بے چینی اور دیگر کئی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ دماغ کی ساری توجہ نکوٹین حاصل کرنے کی طرف لگ جاتی ہے اور پورا جسم بیکار اور بے جان محسوس ہونے لگتا ہے
    بےشک جو عادی ہو چکے ہیں ان کے لٸیے آسان نہیں ہے۔مگر اگر ارادہ پختہ ہو انسان کیا نہیں کر سکتا
    جب آپ کسی کے لٸیے اپنی جان دے سکتے ہیں تو آپ اپنے پیاروں کے لٸیے اپنی جان بچا بھی تو سکتے ہیں۔
    اپنے آپ سے پیار کیجٸے اور تمباکو نوشی اور ہر طرح کے نشے کو اپنی زندگی سے دفع کیجٸیے۔

    @DimpleGilr_PTi