Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • زندگی ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے تحریر :شفقت سجاد دشتی

    زندگی ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے تحریر :شفقت سجاد دشتی

     

    تاجر و دکاندار اور سرمایہ دار ہمیشہ حساب وکتاب اور بازار کا اتار چڑھاؤ دیکھنے میں لگے رہتے ہیں، اگر ایسا نہ کریں تو دیوالیہ ہو جائیں اور ان کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا، ہماری زندگی ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے جو کہ ایک دکان کے سامان سے کہیں بڑھ کر قیمتی ہے، لہذا ضروری ہے کہ اچھے اور پسندیدہ طریقے سے زندگی گزارنے کا سلیقہ سکیھا جائے، اپنے وقت کو بہترین اور مفید ترین اور اولی ترین کاموں میں صرف کیا جائے،

    اس سے پہلے کہ قیامت میں ہمارا حساب لیا جائے، ہم خود جائزہ لیں، محاسبہ کریں اور اپنے کاموں، فرصتوں اور اعمال کے نقاد بنیں۔

    حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں: عباد اللہ زنواانفسکم من قبل ان تو زنوا و حاسبو ھا من قبل ان تحاسبوا: 

    اللہ کے بندو، اپنے نفوس کا وزن خود کرو اس سے پہلے کہ تمہارے اعمال کا وزن کیا جائے اور اپنا محاسبہ خود کرو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے۔

    ہم اپنی عمر کے شب و روز اور فرصت کے لمحات کے سوالوں کے ذمہ دار اور جوابدہ ہیں کہ یہ سب بطور امانت ہمارے اختیار میں دیئے گئے ہیں اور ایک دن اس بارے میں کہ ہم نے کس طرح سے ان کو صرف کیا ہے ہم سے سوال کیا جائے گا، امام علی علیہ السلام نے فرمایا، من حاسب نفسہ ربح و من غفل عنہ خسر، جو اپنا خود محاسبہ کرے اس نے فائدہ حاصل کیا اور جو اپنے آپ سے غافل رہے گا اس نے نقصان اٹھایا۔

    محاسبہ نفس۔ سبب بنتا ہے کہ خطاؤں، گناہوں و نامناسب اعمال اور گزشتہ غفلتوں اور اپنی زندگی کے خسارے کو ہم پہچان سکیں اور پھر انکی تلافی کی بھرپور کوشش کریں۔ زمانے کے شب وروز سے ہمارا سرد و گرم اور نفع و نقصان وابستہ ہے، عمر و جوانی ونشاط اور سلامتی کو وقت دیتے ہیں، لیکن ان کے بدلے میں کیا حاصل کرتے ہیں؟ فائدہ حاصل کرتے ہیں یا نقصان؟  نیکی و ہدایت میں اضافہ ہو رہا ہے یا گمراہی وتاریکی میں جا رہے ہیں؟  کمال کی طرف جا رہے ہیں یا پستی کی طرف؟ ہم اپنی عمر کا عظیم الشان سرمایہ کس چیز کی خاطر خرچ کر رہے ہیں؟

    زندگی ایک زراعت کی مانند ہے فصلِ جب کٹے گی تب معلوم ہو گا کہ ہم نے کیا بویا اور کیا کاٹا ہے۔ ضروری ہے کہ زندگی کے خزانے میں کیا ہے؟ 

    اس بارے میں امام علی علیہ السلام نے فرمایا، کماتزرع تحصد، جو بویا ہے وہی کاٹو گے۔

    اگر محاسبہ کرنے کو اپنا معمول بنا لیں تو بعد والے نقصانات سے بچ سکتے ہیں آب شیریں کو صحرا میں پھینک کر ضائع نہیں کیا جاتا، اسی طرح زندگی کے قیمتی اوقات کو بیہودہ صرف کرنا ایسے ہی ہے جیسے آب شیریں کو صحرا میں ضائع کیا ہو، جو اپنی عمر کا حساب نہیں رکھتا وہ اپنے آپ کو ضائع کر دیتا ہے۔ جب عمل کرنے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے، پھر وہ حسرت و غم سے کہتا ہے۔ بہت افسوس کہ جب عمر گزر چکی تب اس کا معنی میں سمجھا ہوں۔ میری عمر تین روز کی مانند،اس ترتیب سے گزر گئی۔

    بچپن کھیل کود میں، جوانی اوباشی و عیاشی میں، پیری غفلت و حسرت میں۔

    امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں اہل ذکر و معرفت انسانوں کی تعریف کرتے ہیں اور ان کے حالات کی خصوصیات اور ان کے کاموں کا محاسبہ کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں، ان کو دیکھو، اپنے دفتر و کتاب عمل کو کھول کر اس میں غور وفکر سے کام لیتے ہوئے، اپنی چھوٹی بڑی کوتاہیوں اور خامیوں پر نظر ڈال رہے ہیں۔ 

    ۔یہ محاسبہ ذات ہے۔

    اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر ان لوگوں میں شمار ہو گا کہ جن کی عمر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے، ایک حصہ امید کا اور دوسرا حسرت و یاس کا۔ پس ہر  چیز میں حساب کرنا لازم بھی ہے اور مفید بھی۔ 

     

    @balouch_shafqat

  • زیادتی کے بڑھتے واقعات تحریر خالد عمران خان

    ویسے تو پاکستان اسلام

    کا قلعہ کہلاتا ہے ،ایک اہم اسلامی ملک ہے لیکن کچھ ایسی انہونیاں اور واقعات رونماء ہوجاتے ہیں کہ انسان کہ سوچ میں دور دور تک شاید اس کا نام و نشان تک نہ ہو آج ایک ہم مسئلے کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہوں گی جو کہ یقین قارئین میری تحریر سے اتفاق کریں گے۔

    ہمارے ملک میں گذشتہ کچھ سالوں سے زیادتی کے واقعات میں کثیر تعداد میں اضافہ ہوا،آئے روز اس طرح کے واقعات میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہتے ہیں اور اس میں خطرناک حد تک اضافہ بچوں سے زیادتی ھے جو کہ پریشان کن بات ھے پاکستان کے مختلف علاقوں سے ایسے کیسز سامنے آتے ہیں یہاں ایک بات یہ بھی گوش گزار کرتی چلوں کہ یہ کیسز وہ ہیں جو پولیس کے پاس فائل ہوتے بعض جگہوں پر بچوں کے والدین خوف،بدنامی اور شرم و حیا کے باعث یا پھر غربت کی وجہ سے کیسز درج نہیں کرواسکتے ہیں جو کہ بے بسی کی انتہا ھے اور معصوم بچوں کو انصاف بھی نہیں مل سکتا حال میں دیکھا جائے تو "زینب ریپ کیس” کو میڈیا میں ہائی لائٹ کیا گیا جس کے کاروائی عمل میں لائی گئی شہروں میں تو خدانخواستہ اگر کسی کے ساتھ ایسا واقع ہوجاتا ھے تو پولیس کے پاس رپورٹ درج کروائی جاتی ہیں لیکن دیہی علاقوں میں بہت کم لوگ ہمت کرپاتے زیادہ تر خاموشی اختیار کیے رکھتے جس کی وجہ سے ایسے دردندوں کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے اور پھر سے نیا کیس سامنے آتا ہے ھے۔

    ایسے کیسز وقوع پذیر ہونے کی ایک وجہ دین اسلام سے دوری بھی ہے لوگ خاص طور پر نوجوان نسل انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھنے کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہوچکی ہے،اب تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں فحش مواد پر پابندی لگانے کی جسارت نہیں کی زیادتی کیسز کے بڑھتے واقعات میں فحش مواد قاتل کے طور پر کام کررہا ھے اگر حکومت ایسے مواد اور لٹریچر پر مکمل پابندی عائد کردے تو یہ نوجوانوں کو سدھارنے کے لئے ایک احسن اقدام ہو گا۔

    2020 کے بارہ ماہ میں بچوں سے زیادتی کیسز میں 17 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جب کہ شرح بتدریج بڑھ رہی ھے حکومت کا اس سلسلے میں کوئی رول دیکھنے میں نہیں آیا اس کے لئے سخت قوانین کی ضرورت ہے یہاں ضیاء الحق کے دور حکومت کا حوالہ دوں گی جب سرعام پھانسی دی گئی ریپ کیس کے مجرمان کو اس کے بعد ایک طویل عرصے تک ایسا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔

    زنا بالجبر ایک گھناؤنا فعل ھے جس کی اسلامی روح سے سختی سے ممانعت کی گئی پاکستان میں اس وقت ناصرف معصوم بچے بلکہ خواتین اور نوجوان لڑکوں کے ساتھ بھی زیادتی کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا حیران کن طور بہت سارے واقعات پولیس کی ملی بھگت سے ہوتے جو کہ ایک تشویشناک بات ہے سب سے پہلے پولیس کے نظام کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ھے بعض جگہوں پر پولیس کے ڈر سے غریب عوام تھانے کچہریوں میں جانے سے خوف زدہ ہوتے ہیں کیونکہ الٹا لینے کے دینے پڑ جاتے اگر کوئی لڑکی زیادتی کا شکار ہوجاتی ہے تو پولیس مرہم رکھنے کی بجائے اسے مذید اذیت کا شکار کردیتی ہے ایسے کیسز کو جلدی نمٹانے کی بجائے طوالت دی جاتی جان بوجھ کر پھر بھری عدالت میں وکلاء کے معنی خیز سوالات مزید زہنی آزمائش میں ڈال دیتے ہیں شریف گھرانے کی لڑکیوں کے والدین ایسے بہت سارے کیسز میں چپ سادھ لیتے اور بعض اوقات معملات صلح صفائی سے نمٹانے کو ترجیح دیتے ہیں ایسے میں زیادتی کرنے والے کو فرق نہیں پڑتا لیکن اس لڑکی کی زندگی مکمل تباہ ہوچکی ہوتی ھے اکثر کیسز میں لڑکیاں طعنوں اور بدنامی کے خوف سے خود سوزی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

    اب تیسرے اور اخری حصے میں نوجوان لڑکوں سے زیادتی واقعات کا زکر کروں گی جس میں شرمناک حد اضافہ دیکھنے میں آیا ھے نوجوانوں سے زیادتی کے واقعات میں زیادہ تر وڈیرے ملوث پائے جاتے ہیں،جنہوں نے غنڈوں کو کرائے پر بھرتی کیا ہوتا ھے زیادہ تر کمزور اور غریب لڑکوں کو ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کے بعد ظلم کی انتہا یہ کہ ان کو زبان درازی کرنے پر قتل کی دھمکیاں تک دی جاتی بعض واقعات میں تو جان سے بھی مار دیے جاتے ہیں جو کہ دوہرا جرم ہے لیکن ایسے مجرموں کے تعلقات پولیس اور دیگر اداروں میں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ درندے بچ کر نکل جاتے ہیں اور پھر سے نئے جرم کے لئے دندناتے پھرتے ہیں اگر کوئی پکڑا بھی جاتا ہے تو متاثرہ نوجوان کی فیملی کو پریشرائز کروا کر راضی نامہ کروا لیا جاتا ہے۔ میرے اپنے علاقے کوٹلی ستیاں سے بھی کیسز سامنے آرہے ہیں جن پر اب آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں حال میں ایک یتیم بچے کو ہوس کا نشانہ بنایا گیا ھے جو کہ انہتائی افسوسناک واقع ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے بہرحال اس کیس میں کافی پاور فل آواز اٹھائی گئی ھے امید ہے مجرمان جلد کیفر کردار تک پہنچ جائیں گے۔۔۔۔

    زیادتی ایک سنگین اور ناقابل معافی جرم ہے جس کی سزا موت ہونی چاہیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں لازمی ہونی چاہیے تاکہ اس گھنائونے جرم پر قابو پایا جاسکے نہیں تو یہ معاشرے کے لئے ناسور بن چکا ھے جو کہ خطرناک ہے اگر زیادتی کیسز کے واقعات کے بروقت تدارک کے لیے اقدامات نہ کئیے گئے اور فوری سزا نہ دی گئی تو اس کا شکار کوئی بھی ہوسکتا ھے۔۔۔اور ویسے بھی پاکستان کافی مسائل میں گھرا ہوا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان کی مخالف قوتیں ہمارے ملک کو شہریوں کے لئے ” most unsafe country of the world ” قرار دے دیں جو کہ انتہائی شرمناک ترین بات ہوگی بحیثیت پاکستانی ہم سب کے لئے.

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • اہلبیتؓ سے محبت تحریر:سید عمیر شیرازی 

    اہلبیتؓ سے محبت تحریر:سید عمیر شیرازی 

    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "اللہ تبارک و تعالی سے محبت کرو ان کی نعمتوں کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا کیں اور مجھ سے اللہ تبارک وتعالی کی محبت کے سبب محبت کرو اور میرے اہل بیت سے میری محبت کی خاطر محبت کرو۔”

    (بحوالہ جامع ترمذی حدیث نمبر 3789)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیتؓ سے محبت کے بارے میں امت کو واضح پیغام دیا ہے کہ اہل بیتؓ سے محبت ہم مسلمانوں کے ایمان کا لازمی جزو ہے

    حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں میرے بعد جب تک تم انہیں پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے،ایک ان میں دوسری سے عظیم تر ہے وہ ایک تو اللّه کی کتاب ہے اور اللہ تعالی کی آسمان سے زمین کی طرف پھیلی ہوئی رسی ہے، اور دوسری میری اولاد میرے گھر والے ہیں اور وہ الگ الگ نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وہ میرے پاس آپہنچں گے پس تم لوگ سوچ لو کہ تم میرے بعد ان سے کیا معاملہ کرتے ہو اور کیسے پیش آتے ہو۔

    (حوالہ حدیث کی کتاب ترمذی)

    اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کی طرف اپنی امت کو توجہ دلائی ہے اور اپنے 

     اہل کے حقوق بھی یاد دلائے ہیں اور اہل بیت کی فضیلت و عظمت بیان فرمادی ہے کہ تم لوگ میری نسبت کے خیال سے ان کے حقوق کی ادائیگی میں جتنا زیادہ سرگرم رہو گے اور ان کی ہر طرح خبر گیری میں جتنا حصہ لوگے تو اتنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور تمھیں دنیا و آخرت میں خیر و عافیت نصیب ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایسے ہی ہے جیسے کوئی شفیق باپ دم رخصت پر اپنی اولاد کے بارے میں وصیحت کرتا ہے کہ یہ میں اپنی اولاد کو چھوڑ کر جا رہا ہوں تم ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا،

    اور یہ دونوں الگ الگ نہیں ہوگی یعنی قیامت کے تمام مراحل پر ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور اہل بیت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ رہے گا کہیں بھی یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ یہ دونوں مل کر میرے پاس حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گی اور دنیا میں جس جس نے ان دونوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کیے ہوں گے اس اس کا نام لے کر میرے سامنے شکریہ کرے گی اور پھر میں بدلہ میں ان سب کے ساتھ نہایت اچھا سلوک اور احسان کروں گا اور اللہ تعالی بھی ان سب کو کامل جزا اور انعام عطا فرمائیں گے اور جن لوگوں نے دنیا میں ان دونوں کے حق تلافی کی ہوگی ان دونوں کے ساتھ کفران نعمت کیا ہوگا ان کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہوگا۔

    پس تم سوچ لو یعنی میں نے ان دونوں کی حیثیت واہمیت تمہارے سامنے واضح کر دی ہے اب تمھیں خود احتساب کرنا ہے کہ ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور میرے اہل بیت کے ساتھ تم کیا معاملہ کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ایک تقاضا ہے کہ اہل بیت سے محبت ہو جیسا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ کی محبت کے بنا پر مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی بنا پر میرے اہل بیت یعنی میرے گھرانے کے افراد سے محبت کرو (بحوالہ ترمذی) اور اہل بیت بھی وہ کہ جن کے متعلق اللہ تعالی صحیفہ آخر میں ان کی طہارت و پاکیزگی کا اس طرح اعلان فرماتا ہے:

    "اے پیغمبر کے گھر والو! اللہ تو بس یہی منظور ہے تم سے ہر طرح کی گندگی کو دور کردے اور تمہیں ایسا پاک صاف کردے جیسا کہ پاک صاف کرنے کا حق ہوتا ہے۔” (الاحزاب 33) 

    وہ اہل بیت جن کی فضیلت کعبے کا دروازہ تھام کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا:

    دیکھو! میرے اہل بیت کی مثال تم میں کشتی نوح کی سی ہے جو اس میں سوار ہوا وہ بچ گیا اور جو شخص اس کشتی میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ ہلاک ہوا (بحوالہ مسند احمد)

    اللہ پاک ہم سب مسلمانوں کو اس کشتی میں سوار فرما دے جو کہ ہماری فلاح و بقا کا ذریعہ ہے اور یا اللہ ہمیں ہلاکت سے محفوظ فرما دے اور اہلبیتؓ کی ہمارے دلوں میں صحیح عقیدت و احترام نصیب عطا فرمائے آمین۔

    @SyedUmair95

  • سگریٹ نوشی زندگی سے اہم کیوں؟   تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی زندگی سے اہم کیوں؟ تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جو لوگ کہتے ہیں کہ سگریٹ کی لت اگر ایک دفعہ لگ جاۓ تو چھوڑی نہیں جا سکتی۔

    میرے خیال سے وہ غلط کہتے ہیں۔

    یہ خیالات اُن لوگوں کے تو ہو سکتے ہیں،

     جو کمزور قوت فیصلہ کا شکار ہوں۔

    مگر جن لوگوں کو اپنی قوت ارادی یا

    Will power 

    پر یقین ہوتا ہے،

    وہ ایسا نہیں سمجھتے ہیں۔

    مضبوط قوت ارادی سے اس گورکھ دھندے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

    جب بھی آپ سگریٹ نوشی ترک کریں گے،

    شروع شروع میں آپ بے چینی سی محسوس کریں گے۔

    اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے آپ کو کسی دوسرے کام میں مصروف کر لیں،

    اپنا دھیان سگریٹ سے ہٹا کر کچھ ایسا سوچنا شروع کر دیں،

    جو آپ کو سگریٹ کی طلب سے دور لے جاۓ۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ رمضان المبارک میں کئی چین سموکر قسم کے لوگ بھی روزے رکھتے ہیں،جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ہر پانچ دس منٹس کے بعد سگریٹ پھونکنے کے عادی ہوتے ہیں،

    وہ روزے کی وجہ سے گھنٹوں،پہروں اس مُوذی لت سے دور رہتے ہیں۔

    بے شک رمضان المبارک چونکہ ایک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہوتا ہے،

    اسی وجہ سے بندے کے ساتھ روزے کی حالت میں خداۓ بزرگ و برتر کا خاص کرم شامل حال رہتا ہے،

    جو سگریٹ نوشی کے عادی افراد کو بھی صبر عطا کر دیتا ہے۔

    مگر اسکے ساتھ ساتھ انسان کی اپنی فیصلہ کرنے کی قوت یعنی قوت ارادی کا مرکزی طور پر عمل دخل ضرورہوتا ہے۔

    انسان کو اللہ پاک نے 

    اشرف المخلوقات بنایا ہے۔

    وہ اگر چاہے تو اپنی مستقل مزاجی اور فیصلوں پر ڈٹ جانے کی صلاحیت سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

    ایسے میں سگریٹ نوشی ترک کرنا کونسی بڑی بات ہے؟

    سگریٹ چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ تک شائد آپ کبھی کبھار مضطرب ہونے کے عمل سے گُزریں۔

    مگر یہ کیفیت میرے پروردگار نے چاہا توآہستہ آہستہ ختم ہوتی جاۓ گی۔

    اس جان لیوا عادت سے چھٹکارے کے بعد آپ اپنے اندر ایک نئی سرشاری محسوس کرنے لگیں گے۔

    آپ اپنے آپ کو پہلے سے کہیں بہتر چاک و چوبند،تازہ اورترو توانا پانے لگیں گے۔

    سگریٹ سے نجات پانے کے بعد آپ کے پاس کچھ ایکسٹرا رقم بھی بچنا شروع ہو جاۓ گی۔

    سگریٹ چھوڑنے سے آپکی زندگی سے کئی ادویات بھی خود بخود کم ہونا یا ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں،

    جو رقم بچنے کا زریعہ بنتا ہے۔

    آپ اس بچی ہوئ رقم سے چاہیں تو اپنے بچوں،ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لئے پھل وغیرہ یا کچھ اور قسم کے تحائف بھی گھر لاسکتے ہیں۔

    ایسا کرتے وقت آپ اُن لذتوں اور خوشگوار ساعتوں سے آشناس ہوں گے،

    جو منحوس سگریٹ نے آپ کو کبھی نہیں دی ہوں گی۔

    سگریٹ چھوڑنے کے لئے مصمم ارادہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

    اپنے کئے گئے فیصلے کے آگے اپنے آپ کو کبھی کمزور نہ پڑنے دیں۔

    سگریٹ چھوڑیں تو ایسا چھوڑیں کے آپ کے ہاتھ میں کبھی یہ بدبُو دار چیز نظر نہ آۓ۔

    سگریٹ نوش حضرات کو خود تو اس کی گندی بدبُو  محسوس بھی نہیں ہوتی،

    مگر جب وہ کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں ،

    جو سموکر نہیں ہوتا،

    تو ایسے افراد کو طبیعت پہ سخت گراں گزرنے والی یہ ناگوار بُو ضرور محسوس ہوتی ہے۔

    ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ مروت کے مارے اپنی ناگواری کا اظہار نہ کریں۔

    مگر اس لت کی وجہ سےآپ کی شخصیت ان کے نزدیک پسندیدہ ترین نہیں رہتی،

    وہ لوگ آپ سے ملاقات کو بوجھ سمجھ کر کر تو لیتے ہیں،

    مگر دل سے وہ آپ کے جلدجانے کی دعائیں کر رہے ہوتے ہیں۔اُنہیں آپ سے مجبورا” ملنا پڑتا ہے،

     انہیں اندر سے کراہت کے باوجود بعض دفعہ آپ کواپنے فرائض منصبی  کی بدولت برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    انتہائ معذرت کے ساتھ یہ میرا زاتی تجربہ ہے کہ میں جب بھی کبھی کسی ایسے شخص سے ملوں جو سگریٹ پیتا ہو تو میری کوشش ہوتی ہے کہ جلد باۓ باۓ کے لمحات نصیب ہوں۔

    میرا اس پر اختیار نہیں،کئی دوسرے لوگوں کی طرح مجھے بھی سگریٹ کے دھوئیں اور بُو سے الرجی ہے۔

    ان باتوں کے علاوہ ایک سائینسی ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی اوسط” آپکی عمر دس سال کم کر دیتی ہے،

    کیا یہ بہت بڑا المیہ نہیں کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا چراغ گُل کرنے کے درپے ہوتے ہیں،؟

    کیا یہ بیوقوفی کی انتہا نہیں کہ ہم اپنے ہاتھوں،

    اپنے خون پسینے کی کمائ سے موت خرید رہے ہوتے ہیں ؟

    ایک اور سائینسی ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی ،دل،سانس،بلڈ پریشرشوگر اور کئی قسم کے سرطان کے علاوہ مردوں میں جنسی قوت میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے،

    جبکہ سگریٹ نوش خواتین دوران حمل کئی بیماریوں،

    بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی اور لاغر و بیمار بچوں کی ولادت جیسے مسائل سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

    سگریٹ نوشی کے بارے میں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ عادت آپ کو غیر محسوس طریقے سے ایک خوشگوار زندگی سے دور کرتی جاتی ہے۔

    آپ سگریٹ پی پی کر آپ اپنے آپ کو ایک ایسے دلدلی کنوئیں میں گرا رہے ہوتے ہیں،

    جس سے نکلنا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دشوار تر ہوتا جاتا ہے۔

    قبل اس کے وہ جان لیوا اور ہمارے پیاروں کے لئے وہ مشکل گھڑی آن پہنچے۔

    اپنا فیصلہ ابھی کیجیے !

    ابھی جناب اعلی

    بلکل اسی گھڑی کہ 

    آپ نے اللہ پاک کی دی گئی زندگی جیسی عظیم نعمت کو سگریٹ نوشی کی نظر نہیں ہونے دینا۔

    ابھی فیصلہ کیجیے !

    اور اُس فیصلے پر ڈٹ جائیے ایک 

    مرد آہن کی طرح !#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • بدعائے محبت تحریر بسمہ ملک

    بدعائے محبت تحریر بسمہ ملک

    (گزشتہ کیساتھ پیوستہ)
    ضروری نہیں ہم جس سے محبت کرے اس سے ہماری شادی بھی ہو جائے جائے مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جس سے ہماری شادی ہو گئی اس سے ہمیں محبت بھی ہو جائے محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں اور کچھ خاص انسان بھی میں جانتی تھی کہ عادی کسی لالچ میں مجھ سے محبت نہیں کرتا کتا مگر کسی بھی بات پہ سہی
    مجھے تو اس کو ذلیل ہی کرنا تھا تھا
    اس کے بعد جب مجھے موقع ملا میں نے اسے خوب بےعزت کیا
    میں نے زندگی میں کوئی دکھ نہیں دیکھا تھا
    تھا شاید اس لیے مجھے کسی کے دکھ کا احساس بھی نہیں تھا
    میں بہت بے حس تھی
    دولت کی فراوانی نے مجھ میں تکبر، انا اور نخرہ حد سے زیادہ تھا
    پھر ایک دن میں نے اپنے دوستوں سے کہہ کر اسے یونی میں بے عزت کرایا
    میری دوست اس کی محبت اور غربت پہ طنز کرتی رہی عادی نے سب ہمت سے سنا اور فقط اتنا کہا تھا کہ کزن۔۔۔۔۔۔!!!
    کسی کی محبت کا مذاق نہیں اڑاتے اگلا بندہ اپنی محبت میں واقعہ سچا اور مخلص ہے تو محبت کی بد دعا لگ جاتی ہے مذاق اڑانے والوں کا ایک دن اپنا مذاق بن سکتا
    اور ہم نے اس بات پر بھی اس کا خوب مذاق اڑایا تھا میرا یونی میں آخری سال تھا ابو کو میرے لیے ایک لڑکا پسند آگیا
    اعلی تعلیم یافتہ اور امیر ترین گھرانا تھا ان کی بھی ہماری طرح فیکٹریاں اور دیگر کاروبار تھا
    لڑکے والے مجھے دیکھنے آئے اور پسند کر گئے ہمارے گھر والوں کو بھی لڑکا پسند آگیا
    منگنی کی تاریخ مقرر کردی گئی منگنی سے ایک دن پہلے ہی عادی بہانہ بنا کر اپنے گاؤں چلا گیا شاید اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ مجھے کسی اور کے نام ہوتے دیکھ سکتا وہ تین چار دن بعد واپس آیا
    اس کے آتے ہی میں نے اسے اپنے منگیتر سعد کی تصویر دکھائے اور کہا کہ دیکھو ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے محبت کی جاتی ہے اور جو کسی قابل بھی ہوتے ہیں
    یہ سب میں نے فقط اسے جلانے کے لئے کہا تھا اسے تڑپانے کا ایک نیا طریقہ میرے ہاتھ آ گیا تھا
    میں جان بوجھ کر موبائل کان سے لگا کر عادی کے قریب سے گزرتی قدرے اونچی آواز میں نہیں جانو جان وغیرہ کہتی ہاں یار میں جانتی ہوں تو میرے لئے جان بھی دے سکتے ہو سعد مجھے جتاتا رہتا تھا کہ میں اسے بے حد پسند ہو اور وہ میرے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے
    کمال کا حوصلہ تھا عادی کا بھی اس نے کبھی مجھ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا تھا بس کبھی کوئی شعر سنا دیتا یا پھر دھیمی سی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے رکھتا پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ میری ایک ٹانگ میں مستقل درد رہنے لگا بہت علاج کرایا ملک اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو دکھایا مگر کسی کی بھی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا
    ایک دن پڑوسن امی سے کہہ رہی تھی کہ نوش کو کسی عامل کے پاس لے جاؤ ہو سکتا ہے کسی نے کوئی جادو ٹونہ کرا دیا ہوگا پتہ کسی نے کالا جادو گرا دیا ہو پڑوسن کی امی سے کالا جادو کا سن کر میرے ذہن میں پہلا خیال یہی عادی کا آیا تھا اور ضرور اسی کمینے نے حسد میں ایسا کیا ہوگا مجھے اپنی طرف مائل کرنے کے لئے میرے دماغ نے کہا تھا
    اور میں بنا سوچے سمجھے اس بات پر ایمان لے آئی تھی میری عادی سے نفرت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا تھا اب میں اسے اپنے گھر سے ذلیل کرکے نکالنے کا بہانہ ڈھونڈ نے لگی میں اب اس کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں تھی
    چھ سات ماہ کے بعد ٹانگ کا درد ختم ہو گیا تھا مگر بے تحاشہ پین کلر کھانے سے میرے گردے ناکارہ ہوگئے تھے ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ دونوں گردے ختم ہیں نکالنے پڑیں گے کہیں سے ایک گردے کا بندوبست کر لیجئے
    گردہ خریدنا ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں تھا مگر مجھے یقین تھا کہ میرا منگیتر سعد مجھے اپنا ایک گردہ دے گا وہ مجھ سے اکثر کہتا تھا کہ وہ میرے لئے جان دے سکتا ہے
    ابو نے اپنے جاننے والوں سے بات کی کہ وہ جتنے پیسوں میں بھی ہو سکے کہیں سے ایک گردے کا انتظام کریں
    سعد میرے لئے بہت پریشان تھا
    مجھے یقین تھا کہ وہ کہے گا نوشی میری جان پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
    میں ابھی زندہ ہوں میں دوں گا اپنا گردہ تمھیں
    مگر سعد نے ایسی کوئی بات نہیں کی سعد نے اتنا ضرور کہا تھا کہ پریشان نہیں ہونا
    ہم کوشش کر رہے ہیں جلد ہی کوئی انتظام ہو جائے گا
    پھر
    میں نے ایک رات فون پر خود ہی اسے کہہ دیا کہ جانی اپنا ایک گردہ مجھے دے دو نا ۔۔۔؟؟؟
    میں نے بڑے مان سے کہا تھا مجھے یقین تھا کہ سعد کہے گا کہ گردہ کیا چیز ہے تم جان بھی مانگو تو حاضر ہیں
    سعد کچھ پل کے لیے چپ ہو گیا تھا

    نوشی یار۔۔۔۔۔ میں تمہیں کیسے اپنا گردہ دے سکتا ہوں۔۔۔؟
    کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے کہا
    تو میرے مان اور بھروسے کا محل زمین بوس ہوگیا
    دو دن بعد مجھے ہسپتال داخل کرلیا گیا گردے کا انتظام ہو گیا تھا
    مجھے پتا تھا ابو کروڑوں خرچ کر کے بھی گردے کا انتظام کر لیتے اور انہوں نے لیا تھا
    جب سے میری ٹانگ میں درد شروع ہوا تھا عادی بہت پریشان رہنے لگا تھا
    مگر میں جانتی تھی وہ مجھے صرف دکھانے کے لئے پریشان ہونے کا ڈرامہ کرتا تھا تاکہ مجھے اس پہ شک نہ ہو ورنہ اندر سے تو یہ بہت خوش ہوگا

    پھر میرے گردوں کے ناکارہ ہونے کا سن کر تو مزید پریشان ہو گیا تھا
    شاید اس نے جو عمل مجھ سے کرایا تھا اسے اس کی اس حد تک توقع نہیں تھی۔۔۔؟
    عادی میرے پاس آیا تھا اور اس نے مجھے تسلی دی تھی
    کہ پریشان نہیں ہونا اللہ بہتر کرے گا
    مجھے اس کی شکل سے بھی الجھن ہونے لگی تھیں میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ کچھ دیر بیٹھا رہا میں نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا پھر وہ خود ہی اٹھ کر چلاگیا
    آپریشن کامیاب ہوا تھا ہسپتال میں سعد اور اس کے گھر والے میرے عیادت کو آئے تھے
    عادی تو پہلے دن سے ہی ہسپتال میں تھا وہ میرے لئے سفید پھول لے کر آیا تھا وہ جانتا تھا کہ مجھے سفید پھول بہت پسند ہے مگر میں نے اپنی نفرت کا اظہار کرنے کے لیے اس کے لائے پھولوں کو اسی کے سامنے توڑ کر پھینک دیا تھا
    میں جس حال میں تھی اس کا ذمہ دار عادی ہی تھا اگرچہ میرے پاس اس کا ثبوت نہیں تھا مگر عادی کے سوا اور کوئی ایسا نہیں تھا جو مجھ سے انتقام لینا چاہتا ہوں میری ہر بےعزتی کو اس میسنے انسان نے ہنس کر اسی لئے سہا تھا کہ بعد میں وہ مجھے روتا ہوا دیکھے گا
    عادی نے اپنے لائی بھولوں کا حشر دیکھ کر بس اتنا ہی کہا تھا
    کزن یار غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا بلاوجہ کسی سے اتنی نفرت بھی نہ کرو کہ آپ کی نفرت سے کسی کے دل پر لگے زخم بعد میں آپ کے لئے ناسو بن جائے
    عادی کہ الفاظ سے مجھے لگا جیسے وہ مجھے جاتا رہا ہوں کے مجھے اس حال تک لانے والا وہی ہے
    میں ہسپتال سے گھر آئی تو عادی کی امی یعنی میری مما نے مجھ سے ملنے آئیں یہ دو تین بار پہلے بھی میری عیادت کو آ چکی تھیں
    کچھ ہی دنوں میں میں مکمل ٹھیک ہو چکی تھی مجھے بس ایسے موقع کی تلاش تھی کہ عادی کو سب کی نظروں میں ذلیل کرکے اس گھر سے نکلو سکوں ۔ اس نے مجھے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور ایک دن مجھے اچانک ہی ایک شیطانی خیال سوجھا

    ہمارے گھر کام کرنے ایک بیس بائیس سال کی لڑکی آتی تھی میں نے اسے 10ہزار دیا اور کہا میں تمہیں جو کچھ کہونگی وہی سب ابو کے پوچھنے پر ان کے سامنے دوہرا دینا
    دس ہزار کی رقم دیکھ کر وہ فورا تیار ہو گئی تھی میں نے رات کو ابو کے کان بھر دی ہے کہ کام کرنے والی لڑکی نے کہا ہے کہ وہ یہاں کام نہیں کرے گی
    جب تک عادی اس گھر میں ہے
    کیونکہ وہ اسے پیسے کا لالچ دے کر اپنے ساتھ رات گزارنے کا کہتا ہے
    دو تین بار تو اس نے دست درازی بھی کی ہے اگلے دن کام والے آئی تو میں اسے ابو کے پاس لے گئی اس نے بھی وہی کچھ کہا جو میں رات کو ابو کو بتا چکی تھی
    ابو نے عادی سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا اور اسے بلایا اور گھر سے نکل جانے کا حکم دے دیا
    عادی ہکا بکا رہ گیا تھا تم نے ہم پر نیکی کی اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم جو مرضی کرتے پھرو
    ابو نے عادی سے کہا میں نے کیا کیا ہے۔۔۔؟
    عادی نے سوال کیا تھا
    تم نے جو کچھ کیا وہ کوئی بے شرم اور بے غیرت ہی کر سکتا ہے اس سے پہلے کے ابو کچھ بولتے میں نے عادی کو جواب دیا تم بس اور اس گھر سے دفع ہو جاؤ میں نے بڑی بڑی اکڑسے اس سے کہا
    عادی نے مزید کچھ نہ پوچھا اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور چپ چاپ گھر سے نکل گیا
    جانے سے پہلے وہ مجھے کہہ گیا تھا
    نوشی۔۔۔۔!!! مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اس حد تک چلے جاؤ گے کیونکہ میں نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کو یہاں سے نکلوانے میں میرا ہاتھ ہے
    میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا
    عادی نے کہا
    تو میں نے ہنس کر تکبر سے کہا تھا تم سے معافی کون مانگ رہا ہے۔۔۔۔؟
    اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور چلا گیا
    (جاری ہے)

    @BismaMalik890

  • سگریٹ نوشی اور شعرو ادب تحریر :سیدہ ام حبیبہ

    سگریٹ نوشی اور شعرو ادب تحریر :سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم تمباکو نوشی پہ متعدد مضامین اور تحقیقات نظر سے گزریں ہر تحریر میں تمباکو نوشی کو مضر صحت لکھا گیا.
    مگر کیا کہنے ان شعراء کے ان کانٹینٹ کریٹرز کے جنہوں نے سگریٹ نوشی کو مضر صحت تو لکھا مگر اس کے نقصانات کو اسقدر رومانوی انداز میں بیان کیا اور پردے پر دکھایا کہ دیکھنے والے کو سب بھول گیا مگر انگلیوں میں سگریٹ دبائے وجاہت سے بھرپور ہیرو یاد رہ گیا.
    شعراء حضرات کے ہاں سگریٹ کچھ یوں ہے

    کمرے میں پھیلتا سگریٹ کا دھواں
    میں بند کھڑکیوں کی طرف دیکھتا رہا
    کفیل آزرامروہوی

    سگرٹیں چائے دھواں رات گئے تک بحثیں
    اور کوئی پھول سا آنچل کہیں نم ہوتا ہے
    والی آسی

    گریباں چاک دھواں جام ہاتھ میں سگریٹ
    شبِ فراق عجب حال میں پڑا ہوں میں
    ہاشم رضا جلالپوری
    اور شاعر افضل خان تو باقاعدہ ایک غزل لکھ بیٹھے سگریٹ کی شان میں
    نہیں تھا دھیان کوئی توڑتے ہوئے سگریٹ
    میں تجھکو بھول گیا چھوڑتے ہوئے سگریٹ

    الغرض انصاف ادب و سخن پہ بھی سگریٹ کا دھواں اپنے نشانات چھوڑنے سے باز نہ آیا
    اگر کبھی کسی طالبعلم کو تمباکو کے مضر صحت ہونے پہ لیکچر دینا چاہا بھی تو اس نے اقبال کے آخری ایام کا تذکرہ کر دیا کہ جی علی بخش تو ان کو حقہ دیا کرتا تھا وہ بھی تو پکے مومن تھے اب بندہ کیا کہے اردو ادب سگریٹ اور اقبال اور ہماری گہری خاموشی.
    اب اس جملے سے ادب میں سگریٹ کی اہمیت کا اندازہ لگائیے
    مشرف عالم ذوقی صاحب فرماتے ہیں

    "سگریٹ اور چائے میں ان دو بڑی عادتوں کا غلام ہوں”

    سگریٹ اور غمگین زندگی کا تو پوچھئے مت

    سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگا
    غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ

    کسی فلم یا ڈرامے کے ہیرو کو غمگین ہونے کے بعد سگریٹ یا شراب پینا گویا حکایت ہو گئی
    اور ہو بھی کیوں نہ پہلے دس بار اقساط میں ہیرو کے ساتھ انسیت اور ہمدردی کے جذبات ابھارے جاتے ہیں اور ہیرو کی عادات سے مرعوب کیا جاتا ہے
    ہیرو کی دس اچھی عادتوں کا قائل ناظر کیا اس کی گیارہویں بری عادت کو برا گردانے گا؟

    امیرانہ زندگی کا کون ہواہشمند نہ ہوگا.ہمارا ادب ہمارا میڈیا سگریٹ نوشی کو اتنا جاذب اور پرکشش بنا کر پیش کرتا ہے کہ نوجوان نسل ان ہیروز کو ان شعراء کو آئیڈیلائز کرتے ہوئے بھی اس لت کا شکار ہو جاتے ہیں.

    تمباکو نوشی کے خلاف ہر مہم ناکامیاب اس لیے رہ رہی ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف ایک دن منایا جاتا ہے اور اس کے استعمال پہ سارا سال اشتہار اور اشعار چلتے ہیں.
    کاروبار صحت پہ سبقت لے جاتا ہے سگریٹ کو انڈسٹری کہہ کر پلا جھاڑ لیا جاتا ہے. گھر کے گھر تباہ ہو گئے اس انڈسٹری کے ہوتے ہوئے.
    دنیا میں ایسی کمپنیاں ہیں جو سگریٹ نوشی کرنے والوں کو نوکریاں نہیں دیتیں.بہت سے مقامات پہ سگریٹ نوشی ممنوع ہے.
    اگر روک تھام کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں تو ممکن ہے چند سالوں میں یہ لعنت ختم کی جا سکے.
    ابھی حال ہی میں کرونا ویکسین لگانے پہ جس طرح مجبور کیا گیا اسی طرح ہر ادارے میں اگر میڈیکل ریپورٹ لازمی قرار دی جائے سگریٹ نوشی کرنے والے اور نشے کے عادی ملازمتوں سے برطرف کیا جائے اور بھرتی کے قوانین میں بھی یہ شق شامل کر لی جائے.یہ ایک ناممکن تجویز ہے لیکن اگر چاہت ہو تو کیا نہیں ممکن.
    اور سگریٹ کو رومانوی انداز میں پیش کرنے والے ہیروز اس سے ہونے والی بربادی بھی بیان کرتے ہیں
    مگر وہ بربادی سبق آموز انداز میں بیان نہیں کی جاتی.

    خدا سے دعا ہے کہ ہم تمباکو نوشی اور دیگر منشیات کے خلاف حقیقی معنوں میں اقدامات کریں محض دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا.

    سگریٹ پہ میرا پسندیدہ شعر

    میری بھی کیوں خراب کی مٹی
    جاتے جاتے بتا تو دے سگریٹ

    اور ہم سب جانتے ہیں سگریٹ کچھ نہیں بتائے گا قارئین بتائیں گے کہ یہ تحریر کا حد تک حقیقت رکھتی ہے آپکی آراء کی منتظر

    @Hsbuddy18

  • تمباکو نوشی مضر صحت ہے تحریر مدثر حسن

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے تحریر مدثر حسن

    یہ جملہ آپکو سگریٹ کے ہر ڈبے پر لکھا نظر آے گا، ساتھ ہی ایک بھیانک اور گلے سڑے منہ کی تصویریں بنی ہو گی لیکن اس کو دیکھ کر اور پڑھ کے بھی لوگ عبرت نہیں پکڑتے ہیں۔

    نشہ ایک لعنت ہے جو کسی بھی چیز کا ہو جائز نہیں ہے۔
    کچھ لوگ دوستوں کے کہنے پر ایک دو کش لگانا شروع کرتے ہیں اور پھر سگریٹ پینے میں وہ اپنے نشئ دوستوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔

    کچھ لوگ شوقیا پینا شروع کرتے ہیں اور اتنے سگریٹ پیتے ہیں کے سگریٹ بھی کبھی کبھی تنگ آ کے کہتا ہوگا "او بس کر دےماما ہن ”

    کچھ لوگوں کی عجیب منطق ہے سگریٹ پیتے ہوئے ویڈیو بنا کر سٹیٹس بھی ڈال دیتے ہیں جیسے بڑے کُول لگ رہے ہیں لیکن میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کے نہیں لگتے بھائی تم کُول بلکے بہت منحوس لگتے ہو۔

    ایک اور بری عادت جو ہے کے آپ کسی کے گھر جاؤ یا کوئی آپ کے گھر آ جاۓ تو آپ سگریٹ لگا لو اور یہ لمبے لمبے دھویں والے کش لو، بھئ یہ بھی عجیب جہالت ہے۔

    کچھ لوگ ویسے شغل میلے میں سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں اور پھر اس کے عادی ہو جاتے ہیں جو کے بہت نقصان ده ثابت ہوتا ہے، عموماً لوگ سگریٹ کے بعد چرس اور افيم بھی شروع کر لیتے ہے جس سے وہ نشہ کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں جو کے انکے اپنے اور ان کے گھر والوں کے لیے ایک نہایت تکلیف ده بات ہے،

    کچھ لوگ اپنی ٹینشن کو کم کرنے کے لئے بھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں، کچھ لوگ پیار میں دھوکھا کھانے کے بعد اپنے محبوب کی یاد کو دل سے نکالنے کے لیے بھی سگریٹ پیتے ہیں جب کہ میرا ماننا ہے ہے محبوب اپکا بےغیرت نکل ہی آیا ہے تو اپنے آپکو اسکی سزا کیوں دیں،

    ہمارے معاشرے میں اور بھی بہت سے نشے ہیں جو کے لوگ عام طور پر استعمال کرتے ہیں۔
    ماہرین کہتے ہیں سگریٹ کا دھواں سگریٹ پینے والے سے زیادہ اس انسان کے لیے نقصان دے جو سگریٹ پیے بغیر سگریٹ کا دھواں اپنے سانس کے ساتھ اپنے اندر لے جاتا ہے۔

    سگریٹ سے آپ بیشمار بیماریاں کا شکار ہو سکتے ہیں، جیسے کے کینسر ، سانس لینے کا مسلہ، دل کا مسلہ ، پھیپھڑوں اور جگر کی بیماری، دانتوں کا مسلہ، سگریٹ نوشی آپکی سماعت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

    @MudasirWrittes

  • جنگیں، بغاوتیں کیوں ؟ کیسے؟ اور کب تک؟  تحریر۔ آمنہ امان

    جنگیں، بغاوتیں کیوں ؟ کیسے؟ اور کب تک؟ تحریر۔ آمنہ امان

    حضرت آدم کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ہوئی لڑائی بظاہر تو اک قتل پر ہی تھم گٸ تھی مگر درحقیقت وہ صرف شروعات تھی آدم کے بیٹوں کی تعداد بڑھی تو لڑاٸیاں جنگوں میں بدلتی چلی گٸیں اور وجوہات بھی بڑھتیں گٸیں۔
    کہتے ہیں زر ۔زن اور زمین ہی انسانوں کے درمیان وجہ جنگ رہے ہیں تاریخ دیکھیں تو کسی حد تک وجہ درست معلوم ہوتی ہے۔ قدیم یونانی دیو مالائی داستانوں کے مطابق تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ۔۔جنگ ٹراۓ یا ٹراۓ کی جنگ ہے وجہ فساد زن یعنی شہزادی ہیلن تھی اس طرح زمین کی خاطر سکندراعظم مقدونیہ سے نکلا اور آدھی زمین تخت وتاراج کرگیا۔ انگریزوں نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا سمجھا اور زر کیلیے لاکھوں میل دور آگۓ اور کٸ چھوٹی بڑی جنگوں کے بعد ہندوستان پر قبضہ کیا۔ مگر کیا جنگوں کی صرف یہ تین وجوہات ہی ہیں؟
    نہیں اک پہلو مذہب بھی ہے ۔ اور تاریخ میں سب سے زیادہ جنگیں مذہب کو لے کر ہی ہوٸیں اور اب تک ہوتی چلی جارہیں ہیں ۔یہ جنگیں پہلے تو حقیقت میں کلمتہ اللہ کی سربلندی کے لیے کی جاتیں تھیں ۔حق اور سچ کی فتح شیطانیت کا خاتمہ اور پوری دنیا پر اللہ کا حکم امن اوسلامتی کے راج کے نفاز کے لیے تھیں مگر رفتہ رفتہ ماضی کی جنگوں کی طرح یہ بھی بس اک وجہ بن کے رہ گیا۔ اب حالت یہ ہے کہ ممالک تو چھوڑ مذہب کے اندر بھی اپنا اپنا گروہ بنا کر فرقوں کے نام دے کر لڑتے ہیں گویا ہابیل اور قابیل کے محض نام ہی بدلے ہیں۔
    درحقیقت اقتدار کی خواہش اور طاقت کا حصول ہی جنگ کی اصل وجہ ہوتا ہے اپنی بات اور اپنے آپ کو صحیح منوانا اور دوسرے کو مطیع کرنا یہی ہابیل قابیل کے درمیان لڑاٸ کی اصل وجہ تھی اور یہی آج تک کی ہر جنگ کی وجہ ہے۔
    اسلحے اور ٹیکنالوجی کی نت نٸ خوفناک ایجادات کے بعد اب ممالک کو کمزور کرنے کے لیے جنگ کی اک نٸ قسم سامنے آٸ ہے ففتھ جنریشن وار ۔۔محض افواہیں اڑاٸیں اور جھوٹ اتنی شدت سے پھیلا دیں کہ سچ لگنے لگے اس کا مقصد کسی ملک کی عوام کو تقسیم کرنا اور اتنی نفرتیں پھیلا دینا ہے کہ جب اتحاد درکار ہو وہ اک دوسرے پر الزامات میں مصروف ہوں۔ فرقہ واریت لسانیت اور صوباٸیت کا فروغ اس کے اہم اہداف ہوتے ہیں اور اداروں کے مابین نفرت پھیلانا بھی اس جنگ کا مقصد گویا ملک کے جڑیں اتنی کھوکھلی کر دی جاٸیں کہ اس کا انتظامی ڈھانچہ گرانے کے لیے اک ہلکا سا دھکا ہی کافی رہے شام لیبیا اور عراق اس کی حالیہ مثالیں ہیں۔
    جنگیں لڑنے اور اس سے بچنے کے لیے ہر ملک دفاعی بجٹ مختص کرتا ہے اور اگر زرا بھی دھیان دیں تو دفاعی بجٹ بذات خود بہت سی جنگوں اور بغاوتوں کو جنم دیتا ہے۔
    دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ کی حامل سوکالڈ سوپر پاورز کے سالانہ بجٹ کا اور خراجات کا تقابل کریں تو انسان ورط حیرت میں گم ہوجاتا ہے کہ یہ کیا گورکھ دھندا ہے۔
    امریکہ یا چاٸنہ کا دفاعی بجٹ ہی دیکھ لیجیے کیا اس میں لاکھوں کی آرمی کی تنخواہیں یونیفارمز کھانا پینا رہاٸش پینشنز دفاعی آلات کی خریداری مشینری کی مرمت پیٹرول اور ٹریننگ کے اخراجات ہی پورے ہوجاٸیں تو بہت ہے جبکہ اک جنگی بحری بیڑا مع الات خریدیں تو سالانہ بجٹ بہت کم پڑ جاۓ تو یہ سارے باقی اخراجات کیا پورا سال روکے رکھے جاتے ہیں؟ ابدوزیں لیزر گنز حساس سینسرز کے لیس جوتے ہیلمٹ اور لباس کی قیمت لاکھوں ڈالرز میں ہوتی ہے پھر یہ اخراجات کیسے پورے کیے جاتے ہیں ؟
    تو چلیے دیکھتے ہیں کچھ ہوشربا انکشافات جن سے اندازہ ہو کہ سپر پاورز اپنے اخراجات کیسے پورے کرتیں ہیں۔ دنیا میں منشیات کی چالیس فیصد پیداوار برما یعنی میانمر میں ہوتی ہے یہیں تیار ہوتی یہیں سے سپلاٸ کی جاتی ہے۔دوسرا پیداواری مقام افغانستان ہے تیسرا میکسیکو اور پھر ٹیکساس۔ ان علاقوں میں کبھی امن نہیں ہوا عوام کی حالت خستہ ہے غربت اور خانہ جنگی نے عوام سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی ہیں ۔ یہی حال پٹرولیم مصنوعات کے قدرتی وساٸل رکھنے والے ممالک کا ہے۔ وہی شام عراق ہو یا تنزانیہ ان کے خزانے سے سپر پاورز خوشحال اور وہ خود تباہ حال ۔افریقی ممالک کا تو جرم بالکل ناقابل معافی ہے کیونکہ ان کی زمین سونا اور ہیرے اگلتی ہے لہذا خانہ جنگی اور بھوک افلاس ان کا مقدر ٹھہرا دٸیے گۓ۔ اب منشیات کی سمگلنگ ہو یا سونا ہیروں اور پیٹرول کی لوٹ مار ان سب کے پیچھے آپ کو سپر پاورز کی ایجنسیز کا ہاتھ ملے گا اور اس ملک کی عوام کے ہاتھوں میں انہی سپر پاورز کا بنایا اسلحہ نظر أۓ گا۔ کسی بھی ملک میں کوٸ بھی قیمتی معدنیات ہوں یا اس کی جغرافیاٸ اہمیت ہووہاں جنگ یا بغاوت ضرور ہوگی اور اسلحہ سپر پاورز کا دکھتا ہے۔ یعنی اک پنتھ دو کاج۔ آپس میں لڑوا کر اسلحہ بیچ کر پیسے بناٶ اور ساتھ وہاں کے وساٸل بھی لوٹو۔ تو جناب یوں بناۓ جاتے ہیں بحری بیڑے جدید سیٹلاٸٹ اور ابدوزوں کے ذخیرے۔
    اب ایسے میں کسی ملک کی ارمی حلال طریقے سے بیکریز سیمنٹ اور ہاٶسنگ سوساٸیٹیز بنا کر بجٹ کی کمی پورا کرنا چاہے تو اس کے خلاف پروپیگنڈا آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اب سوال تو یہ ہے کہ پورے پورے ملک تباہی اور بربادی کی آگ میں جھونک کر انسانیت کے علمبردار بن جانا اور پھر سپر پاور کہلانا کیوں؟
    مذہب کے لیے لڑنے والوں میں نوے فیصد لوگوں کی اپنی زندگی اسی مذہب کے أصولوں کے خلاف ہوتی ہے جس کی خاطر وہ دوسرے کی جان تک لے لیتا ہے۔ تو کیا وجہ مذہب ہے؟ یا اپنے آپ کو درست ثابت کرنا اپنی بات منوانا اور دوسرے کو غلط ثابت کرنا؟
    آج یہودیوں کو دجال کا انتظار ہے ہندو کالکی کے اوتار کے انتظار میں ہیں عیساٸ حضرت عیسی کے منتظر مسلمان امام مہدی کے منتظر ہیں مگر کیوں؟
    کیا یہ سب اپنی اپنی زندگیاں اپنے اپنے دین ومذہب کے عین مطابق گزار رہے ہیں ؟ یا گزارنے کو تیار ہیں؟ ہرگز نہیں یہ بس اس وعدے کے ایفا ہونے کے منتظر ہیں کہ ان کا نجات دہندہ اۓ گا اور پھر اس کے ساتھ مل کر وہ باقی سب کا خاتمہ کرکے پوری دنیا پر راج کریں گے۔ مطلب خواہش وہی ہابیل وقابیل والی ہے اپنا آپ درست منوانا اور دوسرے کو زیر کرنا۔ مگر انسان اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے خالق کی زمین پر جتنا بھی کشت وخون بہا لے ہوگا وہی جو خالق چاہے گا رسی درزا ضرور ہو گی مگر کھینچی بھی اتنے زور سے جاتی ہے کہ سپر پاورز منہ کے بل آگرتیں ہیں۔ اپنی انا کی تسکین اور غرور کی خاطر چاہے ساری نسل انسانی کا خاتمہ کردے کوٸ الله أكبر کی گونج برقرار رہے گی۔ ان شاء اللہ
    رہے نام اللہ کا۔
    @AmanHarris

  • آزادی کے بعد بھی آزادی کی ضرورت۔ تحریر: سریر عباس

    14 اگست 1947 کو ملک پاکستان کاغذی طورپہ آزاد ہوا۔
    لیکن ذہنی طورپہ آج بھی یہ ملک اور اس ملک کی عوام آزاد نہ ہوسکی البتہ حکمران آزاد ہیں۔
    کیونکہ ملک کی آزادی کیلئے اصل کردار اداء کرنے والے ملک کے آزاد ہوتے ہی پیچھے ہوگئے اور لوٹیروں نے قبضہ کر لیا۔
    علماء و صوفیاء جنہوں نے بھرپور انداز میں تحریک پاکستان اور مسلم لیگ کو قوت بخشی جب پاکستان بننے کے بعد انہیں عہدوں کی آفر کی گئی تو اکثر نے اس آفر کو ٹھکرا دیا جن میں سب سے بڑا نام شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ (سیال شریف سرگودھا) کا ہے۔
    اسی طرح مولانا عبد الستار خان نیازی جنہوں نے تحریک پاکستان کیلئے تن من دھن قربان کیا۔
    پاکستان بننے کے بعد 1953 کی تحریک ختم نبوت میں صف اول کے مجاھد ہونے کی وجہ سے قید ہوئے اور سزائے موت کی سزاء سنائی گئی۔
    یعنی ملک پاکستان کے اصل وارث اسی دن سے ظلم ستم و جبر کا شکار ہونا شروع ہوگئے جس دن بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو جس ایمبولنس پہ لے جایا جارہا تھا اس کا راستے میں پٹرول ختم ہوگیا۔
    پٹرول ختم ہوگیا یا ختم کیا گیا۔۔۔
    اس پر بہت ساری بحث و تکرار ہو چکی ہے اور اب بھی وقتاً فوقتاً یہ موضوع زیر گردش رہتا ہے۔
    لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد جب بانی پاکستان کی وفات اور پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی وفات کے بعد
    ملک پاکستان کو کوئی مخلص لیڈر نہیں ملا۔
    اگر کوئی مخلص ہوکے سامنے آیا تو اسے ایسا دبایا گیا کہ وہ دوبارہ یا تو سر نہیں اٹھا سکا یا پھر سانس ہی نہیں لے سکا۔
    یہ جاگیردارانہ نظام دن بدن ترقی کرتا چلا گیا
    اور آج یہ نظام اتنا طاقتور ہوگیا ہے کہ قومی اسمبلی میں بیٹھے یہ قوم کے لٹیرے
    جو من میں آتا ہے اپنی عیاشی کیلئے بل پاس کرکے آزاد ہوتے جارہے ہیں حالانکہ اس ملک کا آئین شریعت کا پابند ہے۔
    لیکن یہاں جو نفاظ شریعت کی بات کرتا ہے اس کیلئے ذہنی و جسمانی سختیاں تو ہیں ہی ساتھ میں غیر شرعی قانون بھی پاس کر کے مزید پابند کرتے چلے جارہے ہیں۔
    قومی و عوامی مسائل پہ کارکردگی صفر، معیشت پہ کارکردگی صفر، وزارت داخلہ و خارجہ پالیسی صفر،
    لیکن مہنگائی و بے رزگاری بڑھانے میں یہ حکمران مکمل آزاد ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں لیکن
    عوام مکمل طورپہ ظلم و ستم اور مہنگائی کے چنگل میں جکڑی ہوئی ۔
    ملک آزاد حاصل کیا لیکن ہم آزاد نہ ہوسکے.
    پاکستان میں نظام عدل اس قدر کمزور ہوچکا ہے کہ پاکستان کے اکثر تھانوں میں تعنیات کیا ہوا "ایس۔ایچ۔او” کی اتنی قدر نہیں ہوتی جتنی قدر ہمارے منتخب کردہ "ایم۔این۔اے” یا "ایم۔پی۔اے” کی زبان کی ہوتی ہے۔
    لیکن اس زبان کو طاقت دینے میں ہمارا اپنا بھرپور ساتھ ہوتا ہے
    کیونکہ ہم نے پڑوسی کے ساتھ جھگڑا کرنا اپنی وراثت سمجھا ہوا ہے اسی طرح اگر پڑوسی نے بھی ہم سے لڑنے کا ٹھیکہ اٹھایا ہوتا ہے۔
    اور جب پڑوسی یا کوئی بھی رشتہ دار ہم سے لڑ پڑے تو "ڈائریکٹ” قانون کا دروازہ نہیں کھٹکٹاتے
    بلکہ ہم ایم این اے کا دروازہ کھٹکٹاتے ہیں جنکے ہم نے نعرے لگائے ہوتے ہیں
    اب ان ایم این اے کو مزید نعروں کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور تھانوں کو جس طرح پہلے یرغمال بنایا ہوتا ہے وہاں اب مزید دب دبا جما کے اپنا رعب ظاہر کرنا ان کا کام بن جاتا ہے۔
    وہ ایم این اے جس کا کام خارجہ پالیسی کو مضبوط کرنا ہوتا ہے
    وہ صرف اپنے ماتحتوں کو مضبوط کرتا ہے۔
    تھانے دار کو رشوت دلواتا ہے اور اپنی مرضی کے فیصلے کراکے اس ذہنی غلام قوم سے اپنی واہ واہ سمیٹ لیتا ہے اور ساتھ میں اگلے الیکشن کیلئے ووٹ بھی پکا کر لیتا ہے۔
    سوچنے کی بات تو یہ ہیکہ اس ایم این کا اپنا کیس کبھی ایسا نہیں آتا جس میں پڑوسی کا جھگڑا یا رشتہ دار کا معمولی جھگڑا شامل ہو
    بلکہ یہ کام اس نے اپنے سپورٹروں کے ذمہ لگائے ہوتے ہیں۔
    ہمیں اپنی سوچ اپنے معیار اور اپنے انتخاب کو بدلنا ہوگا
    تانکہ ہم اس معاشرے کو ذہنی غلامی سے نکال کر آزاد ہو سکیں۔
    @1sareer

  • مورنگا  تحریر -محسن ریاض

    مورنگا تحریر -محسن ریاض

    مورنگا کو ایک کرشماتی پودا کہا جاتا ہے اس کو عام زبان میں سوہانجنا کہتے ہیں اس کو صدیوں سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کو پاکستان میں شجر کاری کرتے وقت لازمی کاشت کریں کیونکہ اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ ایک سخت جان پودا ہے اور موسم کی شدت آسانی سے برداشت کر سکتا ہے اس کے علاوہ اس کی بڑھوتری بہت تیزی کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ ایک سال میں نو سے دس فٹ تک بڑھ سکتا ہے اس کو برسات کے موسم میں باآسانی قلم کے ذریعے اگایا جا سکتا ہے اسں کی علاوہ اس کا بیج کے ذریعے بھی زبردست اگاؤ ہے یہ کسی بھی علاقے میں نرسری پر بھی دستیاب ہوتا ہےاور یہ دودھ والے جانوروں کے لیے بھی ایک مفید غذا ہے جس کی مدد سے مقدار کو بڑھایا جا سکتا ہے اور صحت پر بھی مثبت اثرات رونما ہوتے ہیں انسانی صحت کے لیے بھی یہ بے حد مفید ہے کیونکہ اس میں پروٹین کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے اس کے علاوہ اس میں وٹامن سی اور آئرن بھی پایا جاتا ہے اس کے انسانی صحت پر فوائد بیان کریں تو اس میں سب سے پہلے یہ بلڈ شوگر کو کم کرتا ہے اس کی علاوہ اس میں اینٹی بیکٹیریل زرات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ جلد کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے اس میں کیلشیم اور فاسفورس ہوتا ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے بہت مفید ہے اس کو کئی طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے جس میں سب سے مقبول طریقہ اس کا پاؤڈر کی شکل میں استعمال ہے اس طریقہ کار کے مطابق اس کو چھاؤں میں خشک کیا جاتا ہے اور اس کی بعد اس کو پیس کر پاوڈر بنایا جاتا ہے اور کھانے کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ قہوے کی شکل میں اسے استعمال کیا جاتا ہے جس میں اس کی چھال اور پتوں کو پانی میں ابال کر قہوہ بنایا جاتا ہے اس کے علاوہ اس کا جوس بھی پیا جاتا ہے اس کے پیسٹ کو چہرے پر جھریوں اور کیل مہاسوں سے بچاو کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور آجکل ایک اور طریقہ بے حد مقبول ہو رہا ہے جسے مورنگا پیسٹ کہتے ہیں اور آجکل یہ ملک کی اکثر سٹورز پر دستیاب ہوتا ہے اور آنلائن بھی آپ اسے منگوا سکتے ہیں پاکستان میں اس وقت ڈاکٹر شہزاد بسرا صاحب اس کی پروموٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور لوگوں کو اس کے فوائد بتا رہے ہیں -تاکہ اس کو زیادہ سے زیادہ کاشت کیا جاسکے اس کے علاوہ وہ اپنے یوٹیوب چینل ہیلتھی لائف سٹائل کے ذریعے بھی لوگوں کو صحث مند زندگی گزارنے کے رازبتا رہے ہیں اور وہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر بھی ہیں۔ڈاکٹر شہزاد بسرا صاحب نے بتایا کہ صرف چار ماہ کے استعمال سےان کا کولیسٹرول لیول اڑھائی سو سے ڈیڑھ سو پر آ گیا تھا اور اپنی چینل میں برطانیہ پلٹ شخص گلزار سے ان کی صحت میں بہتری سے متعلق چند سوال پوچھے تو ان کے جوابات یہ تھے کہ ان کی عمر اسی سال کے قریب ہے اور طرح طرح کی ادویات استعمال کر کے ان کا جگر اور گردے تقریباً ناکارہ ہو چکے تھے مگر مورنگا پاؤڈر کے استعمال کے بعد وہ ایک اچھی زندگی گزار رہے ہیں -مورنگا کے تمام فوائد تو شائد گنے نا جا سکیں مگر ان تمام فوائد کو دیکھتے ہوئے ہر انسان کو ایک بار ضرور اس کا استعمال کرنا چاہیے اس کا پہلا فائدہ تو ماحول پر ہوتا ہے اور دوسرا اس سے انسانی صحت بھی لاجواب رہتی ہے اگر ہم عہد کریں کہ شجرکاری کرتے وقت اس کو لگائیں تو ماحول دوستی کےساتھ ساتھ اور بھی کئی طرح کے فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں

    ٹویٹر-mohsensays@