Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ۔ڈریم لینڈ خوبصورت اٹلی تحریر فرزانہ شریف

    ۔ڈریم لینڈ خوبصورت اٹلی تحریر فرزانہ شریف

    اٹلی یورپ کا ایک خوبصورت ترین ملک ہے جسے ہم ڈریم لینڈ بھی کہہ سکتے ہیں ۔اور پورے یورپ کے لیے ایسے ہی حثیت رکھتا ہے جیسے ہمارے لیے سعودی عرب ۔مطلب مقدس شہر ۔۔
    ۔یہاں اتنے تاریخی مقامات ہیں کہ آپ اگر گھومنا شروع کردیں ایک سال لگ جائے دیکھنے میں اور تاریخی مقامات ختم نہ ہوں یہاں کے لوگ بہت اچھے بہت بااخلاق ہر دم مدد کے لیے تیار رہنے والے ۔اور خوبصورتی میں دنیا کے پہلے نمبر پر ہیں وجہ یہاں لوگ اپنی فٹنس کا بہت خیال رکھتے ہیں اتنا خیال کہ آپ کو یہاں 90فیصد لوگ سلم سمارٹ نظر آئیں گے ۔90 سال کے لوگ آپ کو ایسے لگیں گے جیسے یہ 40 سال کے ہیں صرف وجہ حد سے ذیادہ فٹنس اور ہشاش بشاش ۔۔۔
    ۔یہاں کی قومی خوراک پیزا۔ہے پاستا اور پیزا یہاں ایسے کھایا جاتا ہے جسے ہم پاکستان میں دال سبزی کھاتے ہیں ۔۔۔۔اور مچھلی ۔یہاں کی مرغوب غذا جیسے پاکستان میں ہم بریانی پسند کرتے ہیں دنیا کی ہر قسم کی یہاں پنیر ۔چیز تیار کی جاتی ہے یہاں زیتوں کا تیل عام کھانوں میں یوز کیا جاتاہے صرف فرائی چیزوں میں مکئی یا پھر مونگ پھلی ۔سورج مکھی کا تیل یوز کیا جاتا ہے ۔چونکہ یہاں زیتون کثرت سے کاشت کیا جاتا ہے اس وجہ سے یہاں زیتون کھایا بھی بہت جاتا ہے اور تیل بھی نارمل قیمت سے ملتا ہے کہ ہر انسان کی پہنچ میں ہے ۔یہاں 99فیصد لوگ تعلیم یافتہ ہیں ۔یہاں کی گورنمنٹ ہر ترقی یافتہ ملک کی طرح سفید پوش عوام کا بہت خیال رکھتی ہے ان کی بجلی گیس کے بل معاف ہوتے ہیں ان لوگوں کےجن کے تین بچے18 سال کی عمر سے کم ہوتے ہیں۔۔ ہر بچے کا 100 یورو پر منتھ ملتا ہے ۔۔۔
    کھانے پینے کی مارکیٹس میں ہر ہفتے مختلف چیزوں کی پرائس کم کی ہوتی ہے تو متوسط طبقہ پورے ماہ کی شاپنگ کرلیتے ہیں جو چیزیں عارضی طور پر سستی کی ہوتی ہیں کیونکہ اگلے ہفتے وہ چیزیں اصل پرائس پر آجاتی ہیں ۔یہاں لوگ گورنمنٹ کو گالیاں نہیں دیتے بلکہ قانون کو فالو کرتے ہویے اپنے ٹیکس خوشی سے ادا کردیتے ہیں ۔ہر انسان خوشی سے کام کرنا پسند کرتا ہے اگر کوئی ذیادہ تعلیم حاصل کرلے اور اس کی تعلیم کے مطابق جاب نہ ملے تب تک وہ صفائی سے لیکر ریسٹورینٹ میں برتن دھونے تک ہر کام خوشی سے کرتا ہے ایسے کام کرنے میں اپنی توہین نہیں سمجھتا حتی کہ واش روم بھی صاف کرتے ہیں ۔۔جب لڑکی لڑکا 18 سال کے ہوجاتے ہیں تو اسے گورنمنٹ سے پیسے ملنے بند ہوجاتے ہیں تو وہ لڑکا لڑکی اپنی تعلیم کے ساتھ پارٹ ٹائم جاب بھی سٹارٹ کردیتے ہیں ۔اس طرح تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کو کام کرنے کا تجربہ بھی آتا جاتا ہے ساتھ ان کا دل ودماغ بھی مصروف رہتا ہے جس وجہ سے وہ غلط صحبت سے بچ جاتا ہے۔۔
    اگرچہ یہاں بہت آزادانہ ماحول ہے آپ کو ہر حرام حلال کام کرنے کی مکمل آزادی ہے 18 سال کے بعد لڑکیاں لڑکے مکمل آزاد ہوتے ہیں اپنی ذندگی کے فیصلے کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔لیکن والدین کی اچھی تربیت بچوں کو اپنے والدین کے ساتھ جوڑے رکھنے کی وجہ سے 70 فیصد بچے اپنی روٹین کے مطابق ٹھیک سمت پر چلتے رہتے ہیں ۔۔
    18 سال سے کم عمر بچوں کو والدین مارپیٹ نہیں سکتے اگر ایسا وہ کریں تو ان پر کیس بن جاتا ہے اور بچہ یہاں کی کونسل لے جاتی ہے پھر بچے کی مرضی کے بغیر بچہ والدین کو واپس نہیں ملتا ۔۔
    یہ تاثر غلط پھیلایا جاتا ہے کہ یورپ میں ذیادہ والدین اولڈ ہاوس میں بچوں کی نافرمانی کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔اس میں 30 فیصد اولاد نافرمان ۔آذادی کی ذندگی گزارنے کی شوقین مجبورآ والدین کو اولڈ ہاوس جانا پڑ جاتا ہے ۔40فیصد والدین اپنی جائیداد گھر اپنے نام رکھتے ہیں مرتے دم تک تو وہ اولاد والدین کو نہیں چھوڑتی۔۔ 20فیصد بچے اپنے والدین سے محبت کرنے کی وجہ سے اپنے والدین کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور ان سے لاڈ پیار ایسے ہی کرتے ہیں جیسے ہم پاکستانی اپنے والدین سے کرتے ہیں۔۔
    یہاں والدین اپنے بچوں کو دنیا کی ہر اچھی چیز مہیا کرنے کے لیے دونوں میاں بیوی کام کرتے ہیں بہت کم ایسے گھرانے ہیں جہاں صرف شوہر کام پر جاتا ہو اور بیوی گھر سنبھالتی ہو ۔۔بچے صبح سکول نرسری میں چھوڑ کر خود کام پر ہوتے ہیں جس وجہ سے یہاں غربت کا تناسب 5 پرسنیٹ ہے۔۔!!
    ۔یہاں پاکستان کی طرح زمینداری کا بہت کام ہے مکئی وسیع پیمانے پر کاشت ہوتی ہے اور جدید ترین مشینری کے ذریعے اس کا سارا کام کیا جاتا ہے اور ملک کی ضرورت سے بہت ذیادہ کاشت ہونے کی وجہ سے باقی یورپین ممالک اور انگلینڈ کو فراہم کی جاتی ہے ۔یہاں سے باقی ممالک میں زیتون ۔پاستا ۔مچھلی ۔سبزیاں بھیجی جاتی ہیں ۔عام مزدور کی تنخواہ 5یورو فی گھنٹہ سے لیکر 10 یورو تک ہے فیکٹری ریسٹورینٹس میں کام کے حساب سے تنخواہ ملتی ہے۔۔
    یہاں کی ذندگی بہت پرسکون ہے ہر انسان اپنے کام سے کام رکھتا ہے آپ پھٹے پرانے کپڑے پہن کر بھی پبلک پلیس پر جاسکتے ہیں مارکیٹ میں جائیں کوئی اپ کی طرف حقارت کی نظر سے نہیں دیکھے گا لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا یہ سب چیزیں نوٹ کرنے کا ۔۔۔
    یہاں رہنے کے لیے آپکو یہاں کی زبان آنی بہت ضروری ہے اٹالئین لینگویج کے بغیر نہ آپ کام کرسکتے ہو نہ آپ ڈاکٹرز کے پاس جاکر اپنی پرابلم بتاسکتے ہو یہاں انگلش لینگویج کو سخت ناپسند کیا جاتا ۔کسی کو آتی ہی نہیں سلیبس میں ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے جیسے ہمارے ہاں گورنمنٹ سکول میں انگلش کی ایک کتاب۔۔
    کھانے پینے کی چیزوں کے ہر مارکیٹ میں مختلف ریٹس ہوتے ہیں لیکن فکس پرائس ۔۔ عام عوام کے لیے یہاں سب سے مشہور اور انتہائی سستی گروسری کی مارکیٹس ایرو سپن۔اور MD۔ہیں کہ غریب سے غریب بندہ بھی اچھی کوالٹی کی چیزیں مناسب قیمت سے خرید سکتا ہے ۔
    یورپ کی ذندگی بہت آسان ہے اللہ تعالی کی پتہ نہیں کیا حکمت ہے اس میں کہ یہ ملک جتنے خوبصورت ہیں۔ اتنا ہی یہاں امن ہے بم دھماکے یا دہشت گردی کے بارے میں لوگوں کو پتہ ہی نہیں ۔ان کے خیال میں یہ دہشت گرد ملک پاکستان ہے ان کو لگتا ہے ہمارا ملک انتہا پسندوں کا ملک ہے انھیں لگتا ہے ہمارے مرد ظالم ہیں یہ اپنی بیویوں پر سختی کرتے ہیں اپنی بیویوں کو مارتے ہیں ۔۔۔۔!!
    ایک پاکستانی ہوتے دل کو کافی تکلیف ہوتی ہے پاکستان کے بارے میں ان کے خیالات جان کر پتہ نہیں اس کا ذمہ دار کون ہے میں جب سے سوشل میڈیا پر ہوں میری سمجھ میں تو وہی بیرونی طاقتیں ہیں جو ہمارے ملک کے ناسمجھ لوگوں کو اپنے ساتھ لگا کر پاکستان کا غلط چہرہ دوسرے ممالک میں پیش کررہے ہیں بہت سالوں سے لیکن اب ان کی ساری محنت سارا پراپوگنڈہ خاک میں مل چکا ہے پاکستانی عوام کو خان صاحب نے جگا دیا ہے اب ہمارے خلاف کسی کو منفی پراپوگنڈہ کرنے کی جرآت نہیں ہوسکے گی ہم خود لوگوں کو اپنے کردار اپنے رویے سے بتائیں گے کہ ہم دہشت گرد شدت پسند نہیں ہیں بلکہ جتنی ہوسکتی ہے ہر اوورسیز پاکستانیوں کا فرض ہے اپنے ملک کا اچھا چہرہ دوسرے ممالک میں پیش کریں انھیں بتائیں کہ ہم شدت پسند نہیں ۔انھیں بتائیں کہ ہمارے ہاں عورت کو جو مقام دیا جاتا ہے عزت محبت دی جاتی ہے ایسی کسی مذہب میں نہیں دی جاتی بیٹی ہے تو والدین کے جگر کا ٹکڑا بیوی ہے تو شوہر کے دل کا سکون ۔ بہین ہے تو بھائی کی عزت ۔۔
    جتنا پروپیگنڈہ پاکستان کے خلاف ہونا تھا ہوچکا اب ملک خلاف قوتوں کا چورن نہیں بکے گا ان شاءاللہ ہم فخر سے سر اٹھا کر چلیں گے کہ ہمارے ملک کا سربراہ جرات مند دلیر اور اپنے ملک کا سچا وفادار ہے کہ دشمن اس کی للکار سے دبک کر بیٹھ جاتے ہیں ۔اب وہ وقت دور نہیں پاکستان بھی یورپ ممالک کی طرح ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوجائے گا بلکہ ان شاءاللہ بہت جلد سپر پاور ممالک کی لائن میں کھڑا ہوجائے گا چین اور امریکہ کی طرح !!

    "

  • تمباکو نوشی اپنوں اور دین سے دوری کا سبب ہے!!!  تحریر عقیل احمد راجپوت

    تمباکو نوشی اپنوں اور دین سے دوری کا سبب ہے!!! تحریر عقیل احمد راجپوت

    تمباکو نوشی کرنے والوں کو اپنے پیاروں سے بچھڑنے کا کچھ احساس ہو تو وہ پیسے بربادی اور اپنی موت کی جانب تیزی سے پیش قدمی چھوڑ کر اپنی زندگی میں خوشیاں لا سکتے ہیں تمباکو نوشی پیسوں کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے گینگرین دل کی بیماری، سانس کی بیماری اور کینسر جیسے مہلک ترین مرض تمباکو نوشی کرنے والوں میں عام انسانوں کی نسبت زیادہ ہونے کا خدشہ ہوتے ہیں مگر ہماری نوجوان نسل میں یہ بیماری بہت تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے پوری دنیا اس وبا کے باعث لاکھوں لوگوں کو روز نگل رہی ہے اور ہنستے ہوئے چہرے چند ہی لمحوں میں بے جان لاشوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور پیچھے پچھتاوا چھوڑ جاتے ہیں نوجوان نسل اس عمل کو فیشن کے طور پر استعمال کرنا شروع کرتی ہے اور دھیرے دھیرے وہ اس کے عادی ہوجاتے ہیں جس کو چھوڑنے کی لاکھ کوشش کے باوجود یہ لت چھوڑنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے پاکستان میں نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے بڑے کیس سامنے آرہے ہیں جو حکومت کے لئے سوچنے کا مقام ہے سگریٹ کے پیکٹ پر موجود وارننگ کے باوجود عام عوام میں رہنمائی نا ہونے کی وجہ سے بچوں تک کو بآسانی دستیاب ہے ایک نوجوان دن میں ایک سے دو پیکٹ سگریٹ پینے والوں کی تعداد ہزاروں سے بڑھ کر کروڑوں میں پہنچ چکی وزارت صحت اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کے پاس چلی گئی صحت وفاق اور صوبوں میں ایسی بٹی کے ملک کے مریضوں کو آدھا تیتر آدھا بٹیر بنا دیا گیا چھوٹے چھوٹے بچوں میں تمباکو نوشی سراہیت کرتی جارہی ہے جس کا ادراک کرنا بہت ضروری ہے ورنہ معاشرے میں صحت مند معاشرے کا قیام انتہائی ناگزیر ہو جائے گا مسلمان ہونے کے ناطے ویسے بھی نشہ حرام ہے مگر ہمارے معاشرے میں نشہ اور فضول خرچ پر اربوں روپے ضائع ہو جاتا ہے مگر دوسرا تاثر یہ بھی ہے کہ لوگ اسی کاروبار سے پیسے کمانا جائز سمجھتے ہیں ورنہ دیکھا جائے تو تمباکو نوشی کا کام کرنے والوں کا پیسہ جائز ہے یا نہیں اس پر بحث شروع ہوجائے گی تمباکو نوشی سے منسلک ملازمین جو تنخواہیں وصول کرتے ہیں اس پیسے سے صدقے اور حج کرتے ہیں وہ جائز ہے ان پیسوں سے دی جانے والی زکوٰۃ خیرات اللہ بہتر جانتا ہے مگر دین میں نشہ حرام ہے تو نشے کا کاروبار حلال کیسے ہوگیا میرا ذہن قبول نہیں کرتا انتباہ کا نوٹس لگا کر زہر کا کاروبار کرنے والی کمپنی اگر اپنے دل میں یہ سوچ کر مطمئن ہو کہ ہم نے تو لوگوں کا آگاہ کردیا ہے کیا انکے اپنے دل اس بات کو قبول کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ سہی عمل کے ذریعے رزق کمارہیں ہے یہ فیصلہ ان مالکان کے ظمیر کی آواز بن کر ان کے کانوں میں ضرور گونجتا ہوگا بحرحال چھوٹے سے کیبن سے لیکر بڑی بڑی فیکٹریاں اس زہر کو بیچنے کی زمہ دار تو ہیں اس بات سے کوئی لاتعلقی نہیں کرسکتا ہمارے معاشرے میں اس چیز کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہمارے مفتیانِ کرام اور علماء حضرات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنے خطابات اور پیغامات کے زریعے لوگوں کو اس چیز سے بچنے کی تلقین کریں تاکہ جن لوگوں کو معلومات نہیں ہیں وہ اس عمل سے دور ہوسکیں اور انجانے میں سرزد ہونے والی ان غلطیوں سے خود کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں معاشرے میں آگاہی فراہم کرنا جن کا فرض ہے وہ بھی اس معاملے پر اجتماعات اور سیمینارز منعقد کریں تاکہ لوگوں کو گناہ سے توبہ اور بچانے اور اپنی آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا وسیلہ مل جائے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہوجائیں

  • منشیات کی لت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ   تحریر: زاہد کبدانی

    منشیات کی لت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان میں منشیات کا استعمال 2013 سروے رپورٹ ، نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن ، پاکستان شماریات بیورو اور اقوام متحدہ کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 7.6 ملین منشیات کے عادی ہیں ، جن میں سے 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین ہیں۔

    بھنگ پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوا ہے ، جس میں تقریبا 40 لاکھ لوگ بطور صارف درج ہیں۔ افیون ، یعنی افیون اور ہیروئن ، کل منشیات استعمال کرنے والوں کا تقریبا  ایک فیصد استعمال کرتے ہیں ، 860،000 دائمی ہیروئن استعمال کرنے والے۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 30 لاکھ منشیات پر منحصر افراد کو پیشہ ورانہ علاج کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم ، بحالی کا دستیاب ڈھانچہ مدد کے محتاج افراد کے ایک حصے سے زیادہ مدد نہیں کر سکتا۔

    ایک قدامت پسند اندازے کے مطابق منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافے کی شرح سالانہ 40،000 ہے۔ سروے کے ذریعے سامنے آنے والی سب سے پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ہیروئن کے عادی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ صارفین کی اوسط عمر 24 سے کم ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ، مرد بنیادی طور پر بھنگ اور افیون کا استعمال کرتے ہیں ، جبکہ خواتین ٹرانکلیوائزرز ، سیڈیٹیوٹس اور تجویز کردہ امفیٹامائنز پر انحصار کرتی ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس رپورٹ نے ملک بھر میں نسخہ ادویات کے غیر طبی استعمال کا زیادہ پھیلاؤ (1.6 ملین) ظاہر کیا ، خاص طور پر خواتین میں۔ رپورٹ میں پایا گیا کہ تقریبا all تمام سروے کی گئی خواتین نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اوپیئڈ پر مبنی درد کش ادویات (مورفین وغیرہ) کا غلط استعمال کیا اور کچھ حد تک پرسکون اور دواؤں کو استعمال کیا جو کہ فارمیسیوں میں آسانی سے دستیاب ہیں۔

    زیادہ تر منشیات افغانستان سے آتی ہیں ، جو دنیا کی کم از کم 75 فیصد ہیروئن کی پیداوار اور رسد کا ذمہ دار ملک ہے۔ یو این او ڈی سی کا حساب ہے کہ 15 سے 64 سال کی عمر کے 800،000 سے زائد پاکستانی باقاعدگی سے ہیروئن استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 44 ٹن پروسیسڈ ہیروئن استعمال کی جاتی ہے ، استعمال کی شرح جو امریکہ سے دو یا تین گنا زیادہ ہے۔ افغانستان سے مزید 110 ٹن ہیروئن اور مارفین پاکستان کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں میں اسمگل کی جاتی ہے۔ ایک قدامت پسند اندازے کے مطابق ، خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں منشیات کی غیر قانونی تجارت سے سالانہ دو ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

    منشیات کے استعمال کرنے والوں کی تعداد خاص طور پر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں زیادہ ہے ، جہاں تقریبا 11 11 فیصد آبادی منشیات کی لپیٹ میں ہے۔ 2013 میں بلوچستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد 280،000 تھی۔ حالیہ برسوں میں انجکشن کے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2007 میں ، پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 90،000 منشیات استعمال کرنے والے تھے ، لیکن یہ تعداد 2014 تک بڑھ کر 500،000 تک پہنچ گئی۔

    یہ اضافہ ایچ آئی وی مثبتیت میں اضافے کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ تازہ ترین تحقیق کے مطابق 2005 میں 11 فیصد پاکستانی منشیات استعمال کرنے والے ایچ آئی وی پازیٹو تھے۔ یہ تعداد 2011 میں بڑھ کر 40 فیصد ہو گئی تھی۔

    سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ منشیات کے عادی افراد کی اکثریت عام طور پر نرم منشیات جیسے چھالیہ ، گٹکا اور پان سے شروع ہوتی ہے ، اور پھر ہیروئن ، افیون اور کوکین وغیرہ جیسی سخت ادویات کی طرف بڑھتی ہے۔ ‘ایجنٹ’ ، جو صرف ایک فون کال کے فاصلے پر ہیں۔ ان کے نمبر آسانی سے ایک شخص سے دوسرے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ رابطہ نمبر بھی بڑے پیمانے پر ہوسٹلوں ، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر تقسیم کیے جاتے ہیں جو عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں سے چھپے ہوتے ہیں۔

    منشیات کے استعمال اور اس کے متاثرین کے خلاف معاشرے کا ردعمل ناقص اور ناکافی رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ، علاج اور ماہر کی دیکھ بھال کی کمی ہے۔ 30،000 سے کم منشیات استعمال کرنے والوں کو علاج دستیاب ہے۔ سروے سے ظاہر ہوا کہ 64 فیصد جواب دہندگان نے علاج کروانے میں مشکلات کی اطلاع دی۔ بھاری اکثریت (80 فیصد) کے لیے علاج ناقابل برداشت ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی سہولیات کی کمی کو 23 فیصد جواب دہندگان نے علاج میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ 44 فیصد نے اپنی زندگی کے کسی مرحلے پر منشیات کے مسئلے کا علاج حاصل کیا ، اور 96 فیصد کا علاج ہیروئن کی علت کے لیے کیا گیا۔

    ماہرین کے مطابق سب سے آسان اور موثر حل یہ ہوگا کہ نشے کے عادی افراد کو بحالی مرکز میں بھیج دیا جائے۔ منشیات کے عادی افراد سے نمٹنے کے لیے علاج کی ایک انسانی شکل سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ لیکن ، سب سے پہلے ، آگاہی اور روک تھام گھر سے شروع ہونا چاہیے ، والدین کے ساتھ۔ والدین کو چوکس رہنا چاہیے اور ان کے بچوں کی کمپنی اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ سکولوں کی سطح پر بھی منشیات کے تباہ کن اثرات پر بات ہونی چاہیے ، اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ اس علم میں محفوظ کہ انہیں چھوا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ان سے حساب لیا جا سکتا ہے ، منشیات کے کارٹیل ان کی تجارت کو معافی کے ساتھ چلاتے ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس حکومت کا ایک وفاقی ایگزیکٹو بازو ہے جسے پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ اور استعمال سے نمٹنے کا کام سونپا گیا ہے ، لیکن اس کا سکور کارڈ بہترین ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری ادارے منشیات کے کارٹلز پر سختی سے اتریں ، جو ملک میں منشیات کے استعمال کے واقعات کو کم کرنے کا واحد راستہ ہے۔

    @Z_Kubdani

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 06) تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 5 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح ضمیر کی سودے بازی ہوتی ہے کیسے آدم زاد بکتا ہے کیسے لوگوں نے دھوکے بازی کرکے انسانی زندگی کو مفلوج کیا ہوا ہے یہ ایسا ناسور ہے جو نسل در نسل تباہ کر دیتا ہے  اِسی مقصد کیلئے آج واضع کریں گے کہ کیسے بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا ،شوارمے میں مرہ جانوروں کا گوشت ،شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت ، منرل واٹر میں نلکے کا پانی کی ملاوٹ کس طرح سے کر رہے ہیں

    بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا:

    بھینسوں کو ٹیکہ لگانے کی وجہ سے عورتوں میں ہارمونز کی تبدیلی اور بہت سی دوسری بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے ہر جگہ پر ٹیکے کھولے عام دستیاب ہوتے ہیں ٹیکوں سے بھینس کی عمر میں کمی کے ساتھ خواتین میں ہارمونز کی تبدیلی اور چہروں پر ضرورت سے زیادہ بال اگنے جیسی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے گائے اور بھینسوں میں دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے انہیں اوکسیٹوسن نامی ٹیکہ لگایا جاتا ہے جس سے مویشیوں کے دودھ دینے کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ دوسری جانب زہریلا دودھ پینے سے انسانی جانوں کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے حکومت کو چاہیے اس کی روک تھام کیلئے چھاپے مارے جائیں تاکہ جو دودھ دیہات سے شہروں کی طرف جاتا ہے اس میں انسانی جان کے خطرات کم سے کم ہوسکے

    شوارمے میں مرہ جانوروں کا گوشت:

    کھلی جگہوں سے مردہ گاۓ ، بھینس کے گوشت کو اکٹھا کیا جاتا ہے اس کے بعد مختلف جگہوں پر پہنچا دیا جاتا ہے اور وہاں سے سپلائی کرکے مردہ جانوروں کا گوشت سیل کیا جاتا ہے حکومت اس کی روک تھام کےلئے اقدام کر رہی ہے کہ کسی طرح ایسا گوشت جو تلف کرنا چاہیے استعمال کرتے ہیں ان کو پکڑا جا سکے جب ہم ہوٹل میں یا شوارما کھاتے ہیں تو ہمیں اندازہ نہیں ہوتا جو ہم گوشت استعمال کر رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام

    شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت: 

    شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت بہت دفعہ پکڑا گیا ہے لیکن قرار واقع سزا نا ملنے کی وجہ سے دن بدن یہ کام عروج پکڑتا جا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مرغیاں رکھنے والے صحیح طریقے سے خیال نہیں رکھتے جیسے کہ اگر ناقص  صفائی کا انتظام ہو تو مرغیوں میں بیماریوں کے اثرات واضع ہو جاتے ہیں وہی مرغیاں مارکیٹ میں سستے داموں بیچ کر انہیں ختم کیا جاتا ہے جبکہ شادیوں میں جب گوشت کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم آرڈر دے کر چلے جاتے ہیں کہ فلاں وقت آ کر لے جائیں گے حالانکہ ہمیں چاہیے کہ جتنی مقدار میں بھی مرغیوں کا گوشت لینا ہو اسے اپنے ہاتھوں سے زبح کروانا چاہیے لیکن اج کل کے دور میں نفسہ نفسی کے عالم میں وقت کی قلت بہت زیادہ ہے اسی وجہ سے تاجر / دوکاندار اس چیز کا فائد اٹھاتے ہیں اور مردہ مرغیوں کا گوشت سیل کر دیتے ہیں بات رسوائی کی ضرور ہے مگر ہے حقیقت 

    منرل واٹر میں نلکے کے پانی کی ملاوٹ: 

    منرل واٹر میں نلکے کے پانی کی ملاوٹ بہت عام ہے اس کی خاص وجہ جو ملاوٹ روکنے والے ادارے ہیں ان کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ملاوٹ عروج پر ہے منرل واٹر کی جگہ نارمل پمپ کا پانی استعمال کیا جارہا ہے جبکہ پانی کو فلٹر کرکے پھر پیکنگ کرنا چاہیے لیکن مارکیٹس میں مختلف قسم کے برانڈ کی شکل میں بہت سی پیکنگ دستیاب ہیں کسی بھی برانڈ کو جانچنا کے صحیح کونسا ہے کیا ہم پینے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں کہ نہیں ۔ بہت مشکل ہے جانچنا

    حدیث میں آتا ہے "جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں”

    دن رات ہر چیز میں ملاوٹ ہو رہی کے اور ہم بخوشی سے استعمال کر رہے ہیں اس ملاوٹ کی روک تھام کیلئے حکومت وقت کو چاہیے متحرک ہوکر کاروائیاں کرے اور پکڑے جانے والے کو قرار واقع سزا دلوائیں تک جا کر یہ قوم سدھرے گی

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح موبائل مارکیٹ میں جعلی اور کاپی فون ، جعلی سرف جعلی شیمپو سب اصل ٹیگ کے ساتھ ، 2 نمبر ادویات اصل پیکنگ میں ، ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز ، بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ جو چیز ہم استعمال کر رہے ہیں کیا آیا کہ وہ سہی بھی ہے کہ نہیں ۔ اگر سہی نہیں ہے تو اس کی جانچ پڑتال کیسے کرنی ہے اب آپ فیصلہ کریں کہ کیا ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

     

  • سگریٹ زہر ہے جو پی رہا ہے انسان  تحریر  : حشام صادق

    سگریٹ زہر ہے جو پی رہا ہے انسان تحریر : حشام صادق

    میرے دادا جان اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین دادا جان کو لوگ استاد کہ کر پکار کرتے تھے 80 کی دہائی میں دادا جان کے پاس اپنی ویگن تھی اور اس زمانے میں ویگن بہت بڑی سواری تھی۔ دادا جان اسی ویگن سے اپنی حق ہلال کی روزی روٹی کماتے تھے ۔ مطلب پبلک ٹرانسپورٹ۔

    دادا جان کے بارے یہ بات سارے علاقے میں مشہور تھی کہ استاد کسی بھی سواری کو گاڈی میں سگریٹ نوشی نہیں کرنے دیتے تھے بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ اگر کوئی سگریٹ نوشی کرنا چاہتا تو دادا جان گاڑی روک کر اس بندے کو اتار دیتے تھے۔ ہمیں بھی ہمارے والدین نے بچپن ہی سے اس چیز سے دور رکھا الحمدللہ اللہ پاک کا شکر ہے کہ میرے نہ تو دادحال نہ ننہال میں کوئی ایسا ہے جو سگریٹ نوشی کرتا ہو۔ میں اگر اپنی بات کروں تو مجھے بچپن سے ہی سگریٹ کی ناخوشگوار سی خوشبو بلکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی
    سکول کالج کے دور میں بھی اللہ پاک کی کرم نوازی رہی میرا کوئی دوست بھی ایسا نہ تھا جو سگریٹ نوشی کرتا ہوں۔

    کالج کے ٹائم پے ایک تجسس تھا کہ لوگ آخر سگریٹ نوشی کرتے ہی کیوں ہیں؟
    مجھے آچھی طرح یاد ہے ہم نے کالج کے دور میں ایک کیمپ بھی کیا تھا اس ہوالے سے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہے۔آج پھر سے باغی ٹی وی نے یہ کیمپین چلا کے مجھے میرے کالج کے دن یاد دلا دیئے جس کی وجہ سے میں بہت شکرگزار ہو باغی ٹی وی والوں کا اللہ پاک آپ کو بہت ترقیاں نصیب فرمائے اور آپ اسی طرح اپنے ملک کے لیے کام کرتے رہیں۔آمین

    قارئین سگریٹ نوشی اس قدر جان لیوا نشہ ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ اور اندر ہی اندر کھا جاتا ہے۔اور انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا
    سگریٹ نوشی کرنے والا وقتی سکون کے لیے یہ جان ہی نہیں پاتا کہ وہ کتنے گھاٹے کا سودا کررہا ہوتا ہے۔ یہ ایک زہر ہے۔اور وہ یہ زہر نہ صرف خود اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے بلکہ انجانے میں اپنی نسلوں کو بھی اس تباہی میں شامل کرلیتا ہے۔سگریٹ نوشی کرنے والا بندہ یہ سمجھتا ہے بس وہ خود سگریٹ پیتا ہے تو باقی گھر والے اس کے نقصانات سے بچے رہیں گے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔سگریٹ کے دھویں سے آپ کے گرد جو بھی ہو گا وہ لازم متاثر ہو گا۔چھوٹے بچوں سے لیکر بیوی بہین بھائی والدین اس دھویں سے متاثر ہورہے ہوتے ہیں اتنا ہی ان کے پھیپھڑوں پر اثر پڑرہا ہوتا ہے جتنا سگریٹ نوشی کرنے والے کے پھیپھڑوں پر

    میرے نزدیک سگریٹ نوشی کسی بھی نشے کی پہلی سیڑھی ہے اور یہاں سے ہی ایک آچھے بھلے انسان کی تبائی کی بنیاد شروع ہوتی ہے سگریٹ کا عادی انسان اس نشے کا اتنا عادی ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ اس سے پھر اور کوئی بھاری نشے کی تلاش میں نکل پڑھتا ہے لا شعوری طور پر نسوار، گھٹکا،پان سے ہوتا ہوا ایک دن خدانخواستہ ہیروئن تک جا پہنچتا ہے۔اسے لگتا ہے یہ بھی سگریٹ کی طرح سکون دے گی لیکن پھر انسان کی واپسی کے سب راستے بند ہوجاتے ہیں انسان اپنی تباہی کو خود انتظام کرتا ہے تو ایسے لوگوں کی منزل پھر اندھیرے راستوں اور موت کی وادی کے سوا کچھ نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے نشے کے لیے تڑپتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے۔ ایسے بھی لوگ دیکھے جو اپنا گھر باربیچتے پر مجبور ہوئے اس نشے کی وجہ سے زلیل رسوا ہوتے رہے ۔ایک انسان کے نشے کی لت سے پورا خاندان اجڑ جاتا ہے آج کل کے حالات و وقیات دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ اب تو سکول کالج اور یونیورسٹی میں یہ عام ہوتا جا رہا ہے ۔

    میں موجودہ حکومت سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ حکومت اس جان لیوا نشے کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرئے ۔ تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو اس زہر سے دور رکھا جا سکے۔ایک بار پھر سے باغی ٹی وی اور اس کے عملے کا شکریہ ادا کرنا چاہوں اور دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے جو پاکستان میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو۔آمین

    @No1Hasham

  • میرا جسم میری مرضی تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    میرا جسم میری مرضی تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    اس موضوع پر ایک عرصہ سے قلم اٹھانا چاہ رہا تھا لیکن موقعہ و وقت نہ مل سکا۔اس موضوع کو احاطہ کرنا ایک مشکل امر ہے لیکن کوشش ہوگی کہ انصاف سے کام لیا جائے۔

    ایک زمانے سے بحث رہی ہے کہ جناب عورت کے حقوق نہیں ادا ہوتے۔عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا۔مرد استحصال کا مرتکب ہوتا ہے۔یہ کہانی آج کی نہیں ہے بلکہ صدیوں سے یہ آوازیں بلند ہیں اور آئندہ ان میں شدت آتی رہے گی۔
    اللہ سب کا خالق ہے۔انسان کو خلقت کے اعتبار سے مرد و عورت میں تقسیم نہیں کیا گیا۔یہ عجب معاملہ ہے کہ عورت اپنے آپ کو الگ تصور کرے یا مرد خود کو الگ مان لے۔جبکہ خلقت و تولید کا سلیقہ و قرینہ ایک ہے۔
    اسلام نے عورت کی حفاظت کیلئے بہت سے قوانین بنائے ہیں جو عام شریعت سے ہٹ کر ہیں۔مثال کے طور پر،قتل کے گواہوں کی تعداد دو (2) شریعت نے مقرر کی لیکن جب زنا کی بات آئی تو یہاں چار عادل گواہ طلب کئے۔حالانکہ قتل سرعام ہو سکتا ہے،جبکہ زنا کا سرعام ہونے احتمال نہ ہونے کے برابر ہے۔مقصد عورت کی عزت و حرمت کو محفوظ کرنا ہے۔اسی طرح جب کوئی حاملہ خاتون کسی بھی جرم کی مرتکب پائی جائے تو اس کی سزا مؤخر کرنے کا حکم آتا ہے۔طلاق حاملہ عورت کی نہیں ہو سکتی۔حتاکہ بدکردار عورت کو جس کی گواہیاں پوری نہ ہو سکیں، بھی چھوڑنے کا حکم ہے مارنے کا نہیں۔یہ سب کچھ عام عورت کیلئے حفاظتی اقدامات کئے گئے جن میں سے چند بیان کئے ہیں اشاراتی طور پر۔تفصیل اس کی خود ایک ضغیم باب بن سکتا ہے۔
    معاشرے میں استحصال اور ظلم ہی تب ہوتا ہے جب کسی کا حق روک لیا جائے۔مثلا” خواتین کی اجرت کم کر دی جائے مرد کے مقابلے میں، بسوں اور ویگنوں میں سیٹیں کم ہوں حالانکہ آبادی کے لحاظ سے خواتین مردوں سے زیادہ تعداد میں ہیں، جائیداد میں حصہ نہ دینا، بغیر عورت کی اجازت کے اسکی شادی طے کرنا، بچیوں کو انکی عمر سے بہت زیادہ یا بہت کم عمر سے شادی کروانا فقط جائیداد بچانے کیلئے، ظلم تو یہ ہے کہ جب کسی گاؤں میں بچی کی شادی قرآن سے کی جاتی ہے (استغفراللہ) تاکہ جائیداد گھر میں رہے تو میرے خیال میں اس طرح کے ظلم سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اگر مرد طلاق دے تو دوسری شادی کر لے لیکن معاشرے میں طلاق یافتہ عورت کو اتنا ذلیل سمجھا جانا کہ جیسے وہ اچھوت ہو گئی، ظلم ہے۔ اللہ نے عورت کو معاشرے میں بہت بلند اور عزت کا مقام دیا ہے۔ ماں (عورت) کے پاؤں تلے جنت رکھی، بہن (عورت) کو رحمت کہا، بیٹی (عورت) کو والد کیلئے رحمت قرار دیا، بیوی (عورت) چار رشتوں (شوہر، بیٹا، بھائی اور والد) کو جنت لیجانے کی صلاحیت رکھتی ہے اگر وہ ایمان والی ہے۔
    میرا جسم میری مرضی نہیں ہوتی، بلکہ مرضی اللہ کی ہے کہ زندگی کیسے گزاریں۔ وحشی جانور بن کر ہم بستری اور ننگے پن سے منع فرمایا، ستر ڈھانپنے کا حکم ہے ناکہ شلوار قمیض یا کسی مخصوص لباس میں قید کیا گیا۔ لیکن اگر ویسے عام طور پر دیکھیں تو مرد کو حاکمیت اللہ نے دی ہے جو 4 شرطوں کی وجہ سے ہے۔
    1۔ نان نفقہ
    2۔ محبت و خلوص کیساتھ نگہداشت
    3۔ حقوق کی بجاآوری
    4۔ شریعت کی پابندی

    اسی طرح عورت کو بھی پابند کیا
    1۔ شوہر و اولاد کی نگہداشت
    2۔ گھر کی نگہداشت
    3۔ ایمان پر قائم ہونا
    4۔ محبت و خلوص

    دونوں کیلئے مشترکہ شرائط بہت ہیں جیسے۔
    ۔ بدکاری سے اجتناب
    ۔ بدکلامی سے اجتناب
    ۔ ایکدوسرے کی عزت و تکریم
    ۔ بچونکی تعلیم و تربیت
    ۔ معاشرے میں مثبت کردار
    ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

    اگر خواتین جو میرا جسم میری مرضی پر یقین رکھنے والی یا مرد جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور وہ مرد و خواتین جو اس نعرہ سے سخت اختلاف رکھتے ہیں، سب ہی ایک بار اسلامی قوانین اور احکامات الہی کا مطالعہ کر لیں تو یقین جانیں کہ مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔ آئے روز جو زنا بالجبر وغیرہ کے معاملات ہیں، ان پر بہت سخت قوانین موجود ہیں، قرآن میں بھی اور پاکستان پینل کوڈ میں بھی۔ مسئلہ ہمارے یہاں قوانین کا ہونا یا نہ ہونا نہیں بلکہ ان قوانین کا درست اور سختی سے نفاذ ہے۔مجرموں کا بچ نکلنا فقط عدلیہ اور تحقیقی اداروں کی غفلت یا انکے ذاتی مفاد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کوئی قانون بنا لیں لیکن جب تک قانون کے نفاذ کیلئے صاحبان کردار نہ ہونگے، وہ قوانین ردی کا ٹکڑا ہی رہیں گے اور معاشرہ انحطاط کا شکار۔

    میری گزارش ہے کہ اس فضول بحث کو سمیٹ دیں۔ اسکا حاصل کچھ نہیں۔ اپنے فرائض کی طرف سب توجہ دیں، حقوق خود ملنا شروع ہونگے۔ ادارے اپنا کام کریں اور چیک اینڈ بیلنس کو قائم کریں۔
    والسلام۔

    لاہور

  • جہیز اور فضول رسومات محض ایک نمائش  تحریر : اقصٰی صدیق

    جہیز اور فضول رسومات محض ایک نمائش تحریر : اقصٰی صدیق

    ہمارا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں بیٹی جب باپ کے کندھے تک پہنچنے لگتی ہے تو والدین کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔
    آج مہنگائی کے اس دور میں جب اخراجات میں آئے دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، تو اس ترقی یافتہ اور جدید دور میں بھی متوسط طبقہ والدین شادی بیاہ میں بیٹیوں کو بھاری بھر کم جہیز اور سونے کے زیورات دینے کی فکر میں وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں۔
    موجودہ دور میں چند تولے زیورات کی قیمت ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے تک پہنچ گئی ہے۔
    اس لیے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے سونے کے زیورات دینا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے۔
    مہنگائی کے اس دور میں اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے عام آدمی کا جینا مرنا محال کر دیا ہے۔
    اور مہنگائی کے اس دور میں شادی کے اخراجات بیس، پچیس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔
    ایسے میں والدین بیچارے بیٹیوں کی شادی کے اخراجات کے بارے میں سوچ سوچ کر ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جہیز اور غیر ضروری رسموں کے سبب بابل کی دہلیز پر بیٹھے لڑکیوں کے بالوں میں سفیدی آ جاتی ہے۔
    کم جہیز یا جہیز نہ دینے پر بنت حوا تشدد و جبر کا نشانہ بنتی آ رہی ہے، سسرال میں ساری زندگی طعنہ زنی کا شکار ہوتی رہتی ہے، اور کبھی تو جہیز کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے، اور کبھی تیزاب پھینک کر جلا دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی سطح پر جہیز کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
    انہیں صرف یہی فکر رہتی ہے، کہ کسی طرح بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔
    والدین بیٹی کے پیدا ہونے سے لے کر اس کے جوان ہونے تک اس کیلئے جہیز جمع کرتے ہیں، تاکہ آنے والے وقت میں ان کی اور ان کی اولاد کی عزت میں آنچ نہ آئے۔
    ایک زمانہ تھا جب شادی کرنا بہت آسان تھا، بیٹی کو جہیز میں دیا جانے والا سامان محض چند سکوں یا زیادہ سے زیادہ ہزاروں روپوں میں ہوتا تھا، اگرچہ مہنگائی کا اس وقت بھی رویا جاتا تھا۔لیکن اس دور میں اتنے فضول رسم و رواج نہیں تھے، جو آج کل کے دور میں والدین کے لئے وبال جان بن گئے ہیں۔
    رنگ برنگے پکوان تیار نہیں کیے جاتے تھے، صرف ایک ہی کھانا بنتا تھا۔
    اور بیٹی والے جہیز میں اتنا قیمتی سامان بھی نہیں دیتے تھے، جتنا آج کل لڑکی کے سسرال والے فرمائشیں کر کے مانگتے ہیں۔سادہ لوح لوگ تھے، ہر طرح کی بناوٹ سے عاری۔
    والدین حسب استطاعت بیٹی کو جہیز اور زیورات دے کر خوشی خوشی رخصت کر دیتے تھے۔پرانے وقتوں میں ایک کنبہ میں درجنوں افراد کی کفالت صرف گھر کا ایک فرد جو گھر کا کفیل ہوا کرتا تھا، اس کی ذمہ داری ہوتی تھی۔اس وقت تقریباً لڑکی لڑکے کا تناسب برابر تھا جبکہ روپے پیسے کی اتنی ریل پیل نہ تھی۔
    اور نہ ہی موجودہ دور کی طرح آسائشیں میسر تھی، کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی انسان کو ذہنی سکون میسر تھا۔
    دور جدید میں ہر کام میں تیزی آ گئی ہے، آج جدید دور میں داخل ہونے کی وجہ سے ہم نمود و نمائش میں پڑ گئے ہیں۔ہم نے بہت سی غیر اسلامی اور غیر ضروری رسومات اپنا لی ہیں۔
    جوں جوں بیٹیاں جوان ہوتی ہیں، انہیں دیکھ کر والدین کی کمر جکھتی جاتی ہے۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ حکومتی سطح پر بے تحاشا مہنگائی ہوئی ہے، لیکن اس کے برعکس یہ بات بھی قابل قبول ہے کہ ہم نے معاشرے میں اعلٰی مقام کی خاطر کئی فضول رسمیں اپنا رکھی ہیں۔
    نفسا نفسی کے اس دور میں ہم سادگی کو بھول کر آگے نکلنے کی کوشش میں دلی سکون کھو بیٹھے ہیں۔
    ہم نے یہ بات ذہن میں بٹھا لی ہے کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو شادی پر اتنا جہیز دیا ہے تو ہم کیونکر پیچھے رہیں،
    دھاگہ ڈالنے والی سوئی سے لے کر گاڑی تک جہیز میں دے کر اپنی حیثیت کا لوہا منواتے ہیں۔

    لڑکے والے بھی اپنا حق سمجھ کر سب کچھ رکھ لیتے ہیں، چاہے گھر میں رکھنے کے لیے جگہ ہی نہ ہو۔
    ہمارا مذہب ہب اسلام بھی ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے،اسلام میں جہیز کی کوئی گنجائش نہیں۔
    عورت کا بہترین زیور اس کی تعلیم و تربیت ہے،
    فضول رسم و رواج کو ترک کر کے ہم شادی بیاہ پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں۔
    لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہل کون کرے گا؟

    اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ امراء لوگ جنہوں نے شادی کے دنوں کو ہفتوں میں تبدیل کر دیا ہے انہیں چاہیے کہ وہ غیر ضروری اور غیر اسلامی رسومات کی نفی کریں، انسان کی اصل حیثیت اس کا روپے پیسہ نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔جہیز سے ہٹ کر آج کل پارلر آنے جانے کے چکروں میں بھی ایک کثیر رقم ضائع کر دی جاتی ہے۔
    یہ بات بھی حقیقت ہے کہ روپے پیسے کی فراوانی اور جہیز کی زیادتی سے آپ اپنی بیٹی کی قسمت تو نہیں بدل سکتے۔لڑکی نے اپنا گھر خود بسانا ہے، اس لیے اچھی تربیت اور عادات و اطوار ہی اس کے لیے اس کا قیمتی زیور اور اثاثہ ہیں۔جسے اپنا کر وہ اپنا گھر بسا سکتی ہے، اور اسی سے ہی آگے چل کر ایک اچھا گھرانہ، اور اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
    بے شک ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سادگی کو پسند فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میانہ روی کی تلقین کی۔بحثیت مسلمان ہمیں روز محشر ہر چیز کا حساب دینا ہے، یہ ظاہری نمود و نمائش کہیں ہمارے لیے باعث فخر کی بجائے باعث عذاب ہی نہ بن جائے، لہٰذا اس بارے میں ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی بیحد ضرورت ہے۔ کیوں کہ بات محض جہیز کی ممانعت پر تبصرے کرنے کی نہیں ہے، بلکہ عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرنے کی ہے۔

    @_aqsasiddique

  • قصہ ایک سیاہ فام عورت کا   تحریر: احسان الحق

    قصہ ایک سیاہ فام عورت کا تحریر: احسان الحق

    اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کے بہت سارے فائدے ہیں. اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے. بندے کو اس تعلق کے ثمرات دنیا میں بھی ملتے ہیں اور آخرت میں تو حقیقی ثمرات ملیں گے جب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سوا کوئی امید اور آسرا نہ ہوگا.

    ایک سیاہ فام عورت تھی، جس کا خیمہ مسجد نبویؐ میں گاڑھا ہوا تھا. ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ عورت نظر نہ آئی اور آپﷺ کے دریافت کرنے پر صحابہؓ نے عرض کی کہ یارسولﷺ وہ عورت فوت ہو گئی ہے اور ہم نے اس کی تدفین کر دی تھی. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کیوں نہیں اطلاع کی؟

    عرض کی گئی یارسولﷺ آپ آرام فرما رہے تھے، ہم نے آپ کے آرام میں خلل پیدا کرنا مناسب نہیں سمجھا. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مجھے اس کی قبر پر لے چلو. اس کی قبر جا کر آپ نے جنازہ پڑھایا. رحمت اللعالمین اور امام الانبیاء کا تشریف لے جانا یہ اس عورت کی عظمت اور فضیلت کی نشانی ہے. یہ واقعہ امام بخاری رحمہ الله نے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے.

    وہ عورت واقعی ہی عظیم عورت تھی. کبھی کبھی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا کرتی تھی. ایک دن وہ عورت ایک شعر کو بار بار دہرا رہی تھی اور پھر شعر پڑھتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی. شعر کا مطلب یہ تھا کہ

    "اس دن ہم نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت ساری نشانیاں دیکھیں، اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل کو اس قوم  سے اچاٹ کر دیا، سب سے بڑی نشانی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دارالکفر سے نجات عطا فرمائی”

    ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وجہ دریافت کرتے ہوئے سارا معاملہ پوچھا. اس عورت نے اپنا قصہ سنایا.

    میں ایک قوم کی لونڈی تھی. ان کی ایک بچی کی دیکھ بھال اور نگرانی کرنا میری ذمہ داری تھی. اس بچی کے گلے میں یمن کے سرخ جواہرات سے بنا ہوا ایک قیمتی ہار تھا. ایک دن میں نے اس بچی کو نہلانے کی غرض سے ہار اتار کر ایک طرف رکھ دیا. اسی اثنا میں ایک چیل آئی اور گوشت کا ٹکڑا سمجھ کر ہار لے اڑی. قبیلے والوں نے مجھ پر چوری کا الزام لگایا، میں نے انکو واقعہ سنایا مگر میری بات پر کسی نے یقین نہیں کیا. میری تلاشی لی گئی. ہار نہ ملنے پر قبیلے کے چند سرداروں نے حکم دیا کہ اس کو برہنہ کیا جائے، اس نے اپنی شرم گاہ میں ہار چھپا رکھا ہوگا. برہنہ کرنے والی بات سن کر میں پریشان ہو گئی، قریب تھا کہ لوگ میرے کپڑے اتار کر میری تلاشی لیتے…. 

    ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قصہ سناتے ہوئے عورت کہتی ہے میرے دل میں اچانک خیال آیا کہ میری کافر قوم جب بھی کسی بڑی مصیبت میں پھنستی ہے تو اپنے جھوٹے اور خود ساختہ خداؤں کو چھوڑ کر صرف ایک ذات کو پکارتی ہے جس کو وہ "اللّہ” کہہ کر مدد طلب کرتے ہیں. میں نے بھی اسی مجلس میں کھڑے ہو کر دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کو پکارا اور اللہ تعالیٰ نے میری التجا سن لی اور میرے اوپر خاص رحم وکرم فرمایا. اسی اجتماع میں وہی چیل آئی اور سب کے سامنے ہار پھینک کر چلی گئی. میں برہنہ ہونے کی شرمندگی سے بچ گئی. قوم والوں نے تسلیم کیا کہ تو چور نہیں ہے، پھر میری تعظیم اور عزت کی مگر میرا دل اس قوم سے بے زار ہو چکا تھا اور میں وہاں سے نکل جانے کے لئے بے قرار تھی.

    راتوں کو جاگتی تھی کہ کوئی قافلہ گزرے اور میں ان کے ساتھ شامل سفر ہو کر یہاں سے کوچ کر جاؤں. میں تنہا اور کمزور عورت تھی، اکیلی سفر نہیں کر سکتی تھی. ایک رات مجھے دور سے قافلہ آنے کی آواز سنائی دی. اسی اللہ کا نام لیکر قافلے میں شامل ہو گئی جس اللہ کو پکارا تھا اور پھر اسی ذات نے میری نصرت فرمائی تھی.

    میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ قافلے والے بات بات پر، اٹھتے بیٹھتے اور کھاتے پیتے اسی اللہ کا ذکر کرتے ہیں، کبھی الحمدلله، کبھی الله اکبر. یہ سب دیکھ کر میں حیران بھی ہوئی اور خوش بھی. میں نے غور کیا کہ یہ لوگ ایک ہستی کا نام بڑی عزت اور بڑے احترام کے ساتھ لیتے ہیں وہ نام تھا محمد رسولﷺ. میرے دل میں اللہ تعالیٰ اس نام اور اس ہستی کی محبت اور عقیدت ڈال دی. اس قافلے کے ساتھ مدینہ میں آ گئی.

    یہ سب اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کے ثمرات ہیں. اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس عورت برہنہ ہونے کی شرمندگی سے بچایا، پھر دارالکفر سے نکالا، اصحاب رسولﷺ کا ہم سفر بنایا، مسجد نبویؐ کا مکین بنایا، اصحابِ رسولﷺ اور ام المؤمنین کی خادمہ اور ساتھی بنایا اور بالخصوص خاتم النبیین اور امام الرسل کا خود تشریف لے جا کر جنازہ پڑھانا. یہ سعادتیں اور انعامات و ثمرات صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ہیں. یہ انعام اور اکرام تو دنیاوی تھے. اصل انعامات اور ثمرات تو یوم حساب ملیں گے.

    @mian_ihsaan

  • جنسی جرائم کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے، تحریر:ذیشان علی

    جنسی جرائم کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے، تحریر:ذیشان علی

    حال ہی میں جنسی جرائم کے بہت سے واقعات رونما ہوئے اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے،
    کچھ دن پہلے پیرودھائی کا واقعہ ایک مدرسہ کی طالبہ کو استاد کی طرف سے زیادتی کا نشانا بنایا گیا،
    اس کی والدہ کے مطابق مدرسہ والوں نے گھر فون کر کے کہا کہ ان کی بیٹی مدرسے میں بے ہوش ہو گئی ہے اسے آ کے لے جائیں، والدین جب بیٹی کو گھر واپس لائے تو بیٹی نے ماں سے کہا کہ اسے استاد نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور وہ پہلے بھی کئی مرتبہ میرے ساتھ نازیبا حرکات کر چکا ہے،
    ایسے میں پولیس استاد کو پکڑتی استاد نے عدالت سے 30 آگست تک عبوری ضمانت منظور کروا لی،
    یہ نا سمجھ آنے والی بات ہے کہ ایسے افراد کو کیسے رعایت دی جاتی ہے لیکن حیرت کی بات بھی نہیں ہم قانون اور انصاف کے معاملے میں بہت سستی سے کام لیتے ہیں خاص کرکے جب کسی غریب کو انصاف فراہم کرنا ہو،
    اور حال ہی ایک اور خبر سننے کو ملی کہ 65 سالہ شخص نے سات سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کی ہے،
    دیکھئے ذرا غور تو کیجئے کہ 65 سالہ شخص نے سات سال کی بچی کو اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بنا دیا ایسے لوگوں کو کڑی سے کڑی سزا دینی چاہیے جو معصوموں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں میں تو کہتا ہوں انہیں معاشرے میں عبرت کا نشان بنا دیا جائے لیکن میں اکیلا کیا کروں جب تک یہ سسٹم ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کے لیے سخت سے سخت قانون اور اس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوتا شاید تب تک ان جرائم میں اضافہ ہوتا رہے گا،
    ہمیں ملک بھر روزانہ ایسے بیسوں واقعات سننے کو ملتے ہیں یہ تو وہ واقعات ہیں جو میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں ایسے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں تم میڈیا تک یا آس پاس کے محلے تک یا پولیس تک نہیں پہنچ سکتے ہمارا ہاں ایک اور دستور ہے جو بہت زیادہ عام ہے کہ اگر کسی بیٹی کی عزت چلی بھی جائے تو گھر والے اپنی عزت بچانے کے لیے اس واقعے کو دبا دیتے ہیں کہ پورے خاندان میں ہماری بدنامی ہوگی اور بیٹی کو خاموش کرو دیتے ہیں،
    اس میں اس بچاری کا تو کوئی قصور نہیں وہ تو معصوم تھی اور رہے گی اس میں ایسے درندوں کا قصور ہے جو معاشرے میں کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں خاندان اور گھر والوں کی طرف سے سخت ردعمل ان لوگوں کی عقل کو ٹھکانے لگا سکتا ہے بیٹی کی عزت چلے جانے پر خاموشی ایسے درندے اور بھیڑیوں کو مزید طاقت گویا حوصلہ فراہم کرتی ہے کہ چلو کوئی بات نہیں کسی اور کی بیٹی کے ساتھ ظلم کریں گے وہ بھی خاموش ہو جائیں گے، یہ لوگ کڑی سے کڑی سزا کے مستحق ہیں اور ان لوگوں کی تعلیم و تربیت میں ان کے والدین کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،
    کم سے کم انہیں معاشرے کے آداب تو سکھانے چاہیے کہ کسی کی بیٹی کسی کی بہن اپنی بہن اور بیٹی جیسی ہے جو ظلم وہ کوئی اپنی بہن کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا وہ ظلم کسی دوسرے کی بہن کے ساتھ کیوں کرے،
    اور ایک اور خبر کے متعلق بات کروں گا جو سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا میں رپورٹ ہوئی ڈکیتی کرنے والوں نے اس خاتون کے تمام اہل خانہ کے سامنے ایک عورت کو اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بنایا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ ظلم یہ درندگی ایک تو ان کے گھر میں گھس کے ان کا مال لوٹا دوسرا ان کی عزت بھی لوٹ لی،
    یہ ہو کیا رہا ہمارے ہاں کون ایسے واقعات کو ہونے سے روکے گا؟ ریاست کو ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر قانون سازی کرنی پڑے گی میری اپنی رائے ہے کہ ایسے ظلم کرنے والوں کو کم سے کم موت کی سزا مختص کرنی چاہیے،
    اور انہیں موت کی سزا بھی ایسی عبرتناک دینی چاہیے انہیں پھانسی دے کر چوکوں اور چوراہوں میں لٹکا دیا جائے ان کی لاشیں چوکوں اور چوراہوں میں لٹکی رہیں جب تک ان کا گوشت چیل کوے نوچ نوچ کر کھا نا لیں،
    ان کے اہل خانہ کے لیے بھی عبرت ہو جو ایسے درندوں کی پشت پناہی کرتے ہیں انہیں ایسے کام کرنے سے روکتے نہیں جب وہ قانون کی گرفت میں آئیں تو انہیں بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں،
    جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم اہل خانہ کے علم ہوتے ہیں مگر وہ انہیں روکنے کی کوشش نہیں کرتے،
    دعا ہے کہ ہمارا معاشرہ ہمارا ملک ایسے جرائم سے پاک ہو جائے جو ہماری تباہی کا سبب بن سکتے ہیں،

    @zsh_ali

  • دیکھ ٹک اپنے گریبان میں منہ ڈال کے!!! تحریر ؛ علی خان

    سال رواں بھی قوم نے یوم آزادی مکمل جوش و خروش سے منایا۔ اس سے قبل یوم پاکستان، یوم یکجہتی کشمیر، یوم استحصال کشمیر اور دیگر کئی قومی دن بھی اس جوش و خروش سے منائے گئے۔، آزادی کا یہ ولولہ نہایت خوش کن ہونے کے ساتھ ایسے سوال چھوڑ گیا کہ جو کئی سال سے پوچھے جارہے لیکن جواب یا تو ملتا نہیں اور اگر ملے تو تشنگی باقی رہتی ہے ،، ہر ذی شعور ذہن یہ ضرور یہ سوچتا ہے کہ کیونکر یہ قوم آزادی کی ساڑھے سات دہائیوں بعد بھی دنیا میں وہ مقام نہیں حاصل کرسکی کہ جسکا خواب اسکے بانیان دیکھتے تھے؟؟؟کیوں وطن عزیز کا شمار ترقی پذیر یا کچھ صورتوں میں پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے؟؟؟ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایسے ان گنت سوالات ہیں جو اذہان میں گونجتے ہیں
    وطن عزیز میں ان مسائل کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا روایت بن گئی ہے۔ لیکن شاید حکومتوں اور حکمرانو ں کا شکوہ کرتے، انکی جانب انگلی اٹھاتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک شہری یہ بھول جاتا ہے کہ باقی چار انگلیوں کا رخ اپنی ہی جانب ہے۔ آئیے کچھ دیر کے لیے خود احتسابی کرتے ہوئے ایمانداری ان سب خرابیوں اور مسائل میں اپنا حصہ تلاش کرتے ہیں۔ پہلی ذمہ داری جس سے عوام غفلت برتتے ہیں وہ انتخابات میں ووٹ دالنے کا عمل ہے۔ ہر قسم کے انتخابات میں ایماندار، تعلیم یافتہ، عوامی مسائل کا شعور رکھنے والے امیدواروں کی جگہ ذات برادری، ذاتی فائدے، تعلق داری اور تھانے کچہری میں مدد جیسے امور کو مد نظر رکھ کر امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور پھر بعد میں اسی نمائندے سے مسائل حل نہ کرنے، بدمعاشی اور ترقیاتی کام نہ کروانے جیسے شکوے سامنے آتے ہیں
    یہاں ایک اور دلچسپ دلیل دی جاتی ہے کہ مسائل کی اصل ذمہ دار تو نوکر شاہی المعروف بیوروکریسی ہے جو سرکاری و حکومتی ڈھانچے کا مستقل حصہ ہے۔ انکے انتخاب میں تو عوام کا عمل دخل نہیں ہوتا ۔ حضور والا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ جب بھی ہمارا واسطہ کسی سرکاری ادارے یا اہلکار سے پڑتا ہے تو ہم کتنی بار اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ ریلوے ٹکٹ خریدنے سے لے کر ریلوے پھاٹک تک کہیں بھی انتظار ہمیں گوارہ نہیں ہوتا۔ لائن توڑ کرشناختی کارڈ، ڈومیسائل پاسپورٹ بنوانا، بل بھرنا، بغیر ٹیسٹ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا، ٹکٹ خریدنا گویا من حیث القوم ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کاموں کے لیے رشوت دینے والے، سفارش ڈلوانے والے اور کسی بڑے افسر کا حوالہ دینے والے بھی ہم ہی ہوتے ہیں
    یہ لاقانونیت اور بے حسی صرف انفرادی سطح پر نہیں پائی جاتی بلکہ پیشے ذات برادری کی بنیاد پر اسکا تحفظ بھی کیا جاتا ہے۔ بار وکلا کی قانون شکنی کا محافظ بن جاتا ہے۔ کم تولنے، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے مرتکب تاجر کی مدد کے لیے انجمن آڑھتیان اور تاجران میدان میں آجاتے ہیں ۔ یہ سلسلہ ہر شعبے، ہر شہر غرضیکہ چہار سو پھیلا ہوا ہے
    قصہ مختصر یہ کہ اگر ہمیں اس ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا ہے تو ابتدا خود سے ہی کرنا ہوگی۔ ووٹ ایمانداری سے ڈالنا ہوگا۔ خود کو برائیوں سے دور کرنا ہوگا۔ رشوت کی بجائے قانون کی ماننا ہوگی۔ اس سرزمین کو اپنے گھر کی طرح صاف رکھنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ جس روز ہماری اکثریت اس پر عمل پیرا ہوگئی تو یقین مانیے حکمرانوں پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اگر ہمارا یہی وطیرہ رہا تو بقول شاعر
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

    تحریر ؛ علی خان
    @hidesidewithak