Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • تمباکو نوشی   تحریر – محسن ریاض

    تمباکو نوشی تحریر – محسن ریاض

    تمباکو نوشی کی روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے -قدیم دور میں اس کو حقے کی شکل میں یا پھر تمباکو کو پتوں میں لپیٹ کر بیڑی کی شکل میں استعمال کیا جاتا تھا آہستہ آہستہ اس میں جدت آتی گئی اور موجودہ شکل سگریٹ اورای سگریٹ کی شکل میں موجود ہیں اس ای سگریٹ نوجوانوں میں بے حد مقبول ہو رہا ہے جبکہ برطانیہ اور امریکہ میں اس پر پابندی لگانے کے حوالے سے قوانین بنائے جا رہے ہیں جبکہ برطانیہ میں اس حوالے سے باقاعدہ قانون موجود ہے کہ نکوٹین کی مقدار کتنی رکھنی چاہیے-دنیا میں تمباکو کا عالمی دن 31 مئی کو منایا جاتا ہے جس دن تمباکو نوشی کے اثرات پر اور اس کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی پھیلائی جاتی ہے تمباکو نوشی کے انسانی صحت پر بہت زیادہ مضر اثرات رونما ہوتے ہیں ہیں جن میں پھیپھڑوں کا متاثر ہونا ، سانس کے مسائل ، بلڈ پریشر ، سرطان ،دانتوں کا زرد اور کمزور ہونا اور گینگرین شامل ہیں گینگرین ایک سنگین طبی حالت ہے جس میں بعض اوقات نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ جان بچانے کے لیے صرف ٹانگ کاٹنے کا آپشن ہی موجود ہوتا ہے اس لیے بچپن میں تمباکو نوشی سے بچ کر ہم گینگرین سے بھی بچ سکتے ہیں-برطانیہ میں ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو میں سات ہزار کے قریب کیمیکلز ہوتے ہیں جن میں سے ستر کے قریب کینسر کا سبب بنتے ہیں جب ہم سانس لیتے ہیں تو یہ پھیپھڑوں کے ذریعے خون میں شامل ہو جاتے ہیں اور پھر وہاں سے جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچ جاتے ہیں اس وقت دنیا میں بیس فیصد بالغ افراد سگریٹ نوشی کی عادی ہیں جو کہ آنے والے سالوں میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے محکمہ صحت کی جانب سے صرف سگریٹ کی ڈبیوں پر اتنا لکھ کر ذمہ داری ادا کی جا رہی ہے کہ خبردار ! تمباکو نوشی منہ کے کینسر کا سبب بنتی ہے اور تمباکو نوشی گینگرین کا سبب بنتی ہے اس کے علاوہ کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے اس وقت سکول اور کالجوں میں سگریٹ کی فروخت سر عام ہو رہی ہے اور اس حوالے سے کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ سگریٹ کو تمام نشوں کی جڑ تصور کیا جاتا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے کوئی خاطرخواہ اقدامات بھی نہیں کیے جا رہے اور اس کی حوصلہ شکنی کے لیے بھی کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے-ترقی یافتہ ممالک میں اس کو بطور لت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس کے علاج کے لیے حکومت کی طرف سے بھر پور مدد بھی کی جاتی ہے-اس وقت سگریٹ نوشی کی عادت کو ترک کرنے کے لیے تین طریقے مقبول ہیں جن میں سکن پیچز ، نکوٹین چیونگم اور انحیلر شامل ہیں سکن پیچز میں جلد پر ایک خاص قسم کے پیچز لگائے جاتے ہیں جن میں نکوٹین شامل ہوتی ہے اور اس طرح نکوٹین کی مقدار پوری کی جاتی ہے جبکہ چیونگم میں بھی نکوٹین شامل ہوتی ہے جو جسم میں جا کر حل ہو جاتی ہے اس کے بعد انحیلر کے ذریعے بھی جسم میں نکوٹین کی مقدار پوری کی جاتی ہے اس طرح ترقی یافتہ ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ اس لت کو کسی طرح ختم کیا جا سکے -زیادہ تر لوگ شروع شروع میں اسے فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں مگر آہستہ آہستہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں اس عادت کو ترک کرنا بھی زیادہ مشکل نہیں مگر کمزور قوت ارادی کے حامل لوگوں کے لیے اسے ترک کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے -اس وقت سگریٹ نوشی کے حوالے سے پاکستان میں قوانین موجود ہیں جیسا کہ ہسپتال کی حدود میں ، پبلک مقامات پر ، پبلک ٹرانسپورٹ پر اور تعلیمی اداروں کی حدود میں سگریٹ نوشی پر پابندی ہے مگر ان قوانین پر ہم نہ عمل کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی عمل کروانے کے لیے تیار ہیں ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر باقاعدہ سزا اور جرمانے ہیں اگر ان قانین پر عمل درآمد کرتے ہوتے ہوئے چند لوگوں کو سزا اور جرمانے ہوں تو یقیناً اس میں کافی حد تک کمی واقع ہو سکتی ہے-

    ٹویٹر-mohsensays@

  • تمباکو نوشی سے مال کے ضیاع کے ساتھ ساتھ جان کو بھی خطرہ لاحق ہے تحریر:ذیشان علی

    تمباکو نوشی سے مال کے ضیاع کے ساتھ ساتھ جان کو بھی خطرہ لاحق ہے تحریر:ذیشان علی

    ایک مشہور واقعہ ہے شاید آپ نے بھی سن رکھا ہو کہ ایک شخص تھا جس نے کہیں یہ لکھا ہوا پڑھا کہ سگریٹ پینے والا سگریٹ پی کر شیر کا شکار بھی کر سکتا ہے،چنانچہ اس نے اسے عملی طور پر کرنے کی ٹھان لی وہ سگریٹ پی کر گاؤں کے قریب ایک چھوٹے سے جنگل کی طرف چلا گیا اور اس نے شیر کا شکار کرنا چاہا مگر شیر الٹا اس پر جھپٹ پڑا اب یہ شخص کسی طرح اپنی جان بچانے کے لئے درخت پر چڑھ گیا،
    لوگوں کو پکارا گاؤں والے مدد کو آئے اسے درخت سے اتارا تو اس کے جسم پر شیر کے پنجوں اور کچھ جگہ دانتوں کے زخم تھے،
    لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے زخم ہے اس نے کہا کہ میں نے شیر کا شکار کرنا چاہا لیکن مجھے لگتا ہے کہ شیر نے سگریٹ کی پوری ڈبی پی رکھی تھی،
    سگریٹ بنانے والی بیشتر کمپنیاں بڑے بڑے اشتہارات دیتی ہیں وہ بہت سے ایونٹس کو سپانسر کرتی ہیں،
    ایسے اشتہارات بھی دیکھنے کو ملے کہ سگریٹ پینے والے افراد کو لڑکیاں پسند کرتی ہیں، اور سگریٹ پینے سے پیٹ صحیح اور رنگ خوبصورت ہوتا ہے،
    لیکن یہ سب بیکار کی باتیں ہیں اپنی پبلسٹی کرنے کے لیے طرح طرح کے اشتہارات دیتے ہیں، حقیقت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں،
    تمباکو نوشی میں چاہے سگریٹ ہو، حقہ ہو، شیشہ ہو، سگار یا پھر پائپ ہو یا تمباکو کھانا یا تمباکو کو سونگھنا بیشتر بیماریوں کا موجب بنتا ہے،
    زیادہ تر تمباکو نوشی سے معدے کا کینسر دل کا کمزور ہو جانا اور دماغی طاقت یعنی ہوش و حواس کھو دینا لبلبہ اور گردوں کا ختم ہو جانا گلے کا کینسر اور سانس کی نالی کا کینسر پھیپھڑوں کا کینسر سانس کا پھول جانا اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ تمباکو نوشی کس حد تک انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے،
    اس کے تدارک کے لیے حکومتی سطح پر تمباکونوشی بنانے والی کمپنیوں کے اوپر بھاری بھر کم ٹیکس لگانے سے اور لوگوں میں آگہی مہم کو فروغ دینے سے اس کے استعمال کو کم کیا جا سکتا ہے،

    تمباکو نوشی کے استعمال کو بالکل ختم تو شاید کبھی نہیں کیا جا سکے گا ہاں البتہ مختلف قسم کے سیمینار منعقد کرکے لوگوں کو تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے متعلق آگاہ کیا جا سکتا ہے، اور حکومت کی جانب سے تمباکو نوشی کہ تمام اجزاء یعنی سگریٹ ہو کا شیشہ و سگار کی قیمتوں کو بڑھا کر لوگوں کی پہنچ سے دور کر دیا جائے،
    ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی سے ایک سال کے اندر کم سے کم پانچ سے چھ لاکھ افراد اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں،
    اور تحقیق کے مطابق پاکستان میں ان کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے،
    تنباکو نوشی ایک زہر ہے اور ہمارے ہاں جانتے بوجھتے لوگ یہ زہر پیے جا رہے ہیں، اور اپنی زندگیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں،
    سگریٹ اور حقہ سے نکلتے ہوئے دھوئیں سے قریب کے افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں شاید لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہے یا علم ہونے کے باوجود یہ کام کر رہے ہیں تو پھر یہ کہنا غلط نہیں کہ ہم جانتے بوجھتے اپنی اور اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں،
    اور اس سگریٹ کے دھوئیں سے امراض قلب میں مبتلا لوگوں کی تعداد 3 لاکھ سے اوپر اور ایک لاکھ 65 ہزار سانس کی نالی کے انفیکشن اور بیشتر دمہ کے مریض اور اکیس ہزار کے قریب پھیپھڑوں کی بیماری کا شکار ہوتے ہیں،

    اور یہ بیماریاں جانتے بوجھتے لوگ کو لگائی جا رہی ہیں، تمباکو نوشی کرنے والے افراد سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنی اس جان لیوا عادت کو ترک کریں تاکہ ان کی اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی صحت و زندگیاں محفوظ ہو سکیں،
    اور دوسرا یہ مال کا ضیاح ہے، آٹھ سو روپے ایک دن میں کمانے والا شخص اگر دن میں ایک ڈبی سگریٹ کی پیتا ہے تو وہ ڈیڑھ سو سے دو سو روپے کا نقصان کرتا ہے، اگر وہ زیادہ سگریٹ پیتا ہے تو پھر اس کی مزدوری کی کچھ ہی رقم وہ بچا پاتا ہے، اور ہمارے ہاں بیشتر افراد ایسے ہی ہیں،
    لیکن افسوس کے ساتھ ہی یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ہاں اسکول کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء وطالبات منشیات کا استعمال کرتے ہیں، یہ کتنا افسوس ناک اور دل کو تکلیف دینے والا معاملہ ہے کہ مستقبل کہ معار کیسے برے کاموں پر معمور ہیں،
    یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کے پاس آ گہی نہیں ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم جانتے بوجھتے وہ کام کرتے ہیں جو ہمارے لیے نقصان دہ ہو،
    تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اس حوالے سے سخت قانون ترتیب دے تاکہ کوئی بھی طالب علم ایسی سرگرمی میں ملوث نہ ہو جو اس کی زندگی اس کے مستقبل اور ہمارے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے،
    تمباکو سے بچیں اور سگریٹ نوشی سے اجتناب کریں اور اپنے معاشرے کو بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھیں،
    صحتمند معاشرہ صحتمند قوم

    @zsh_ali

  • حرف آخر  تحریر  وقاص چشتی

    حرف آخر تحریر وقاص چشتی

    آج سے تقریباً بیس سال قبل امریکہ نے طالبان حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا طالبان کے سینئر راہنماوں کو گرفتار کیا گیا سینکڑوں شہید ہوئے آہستہ آہستہ امریکہ نیٹو فورسز نے افغانستان میں قدم جما لیےاور طالبان نے بھی قدیمی جھنگ لڑی اور آخری بال تک ہار نہیں مانی. جھکے نہیں بکے نہیں کیوں کہ عاشق رسول تھے جھکتے بھی کیسے بہت قربانیوں کے بعد آخر کار عالمی دنیا کو حیران کرتے ہوئے سپر پاور کو شکست دی اور سجدہ شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ ریز ہوئے میں نے دیکھا جب مجاہدین کابل کو فتح کر کے باہر نکلے تو آنسوؤں سے شرابور تھے ان کو دیکھ کر ہمیں بھی رونا آتا تھا کے اللہ تعالیٰ نے مدد کی اور اسلام کی فتح و نصرت نصیب ہوئی وہ آنسو ڈر اور خوف کی وجہ سے نہیں آ رہے تھے بلکہ خوشی کے آنسو تھے کیوں کے سوکھی روٹیاں کھا کر ٹوٹے ہوئے جھوتے دیکھے میں نے افغان مجاہدین کے ان کے جسم بھی جو لباس تھا شاید ایسا ہمارے ہاں جو لنڈہ بازار لگتا ہے اس میں بھی ایسے نہ ہوں کپڑے سویٹر پٹھے پرانے کپڑے پہنے مگر ان کے پاس دو دو لکھ کی گن ہر بوڑھے نوجوان اور بچوں کے پاس بھی تھیں. ایسے ہی فتح نہیں ملتی امتحان سے گزرنا پڑھتا ہے امریکہ اور افغان فورسز کے پاس اسلحہ نہیں تھا کیا.؟ تھا مگر ان کے پاس وہ دل نہیں تھا وہ جگر نہیں تھا میں سن رہا تھا بھارتی میڈیا پہ ایک اینکر فرما رہی تھی کہ طالبان سو سال بھی لڑتے رہے افغانستان پہ قابض نہیں ہو سکتے. ساتھ یہ بھی بتا رہی تھی کہ افغان فورسز تین لاکھ ہیں اور طالبان مجاہدین صرف پہچھتر ہزار. اس پاگل کو کیا پتہ تھا ایک طرف ہزاروں کا لشکر دوسری طرف صرف تین سو تیرا مگر فتح کس کی ہوتی ہے جن کا ایمان مضبوط ہو جن کے ساتھ اللہ کی مدد ہو اس اینکر کے اس پروگرام کے 24 گھنٹے بعد کابل پہ قبضہ ہو گیا اشرف غنی ملک سے فرار ہو گیا طالبان نے فتح کے ساتھ ساتھ عام معافی کا اعلان کر دیا چودہ سو سال کی تاریخ کو دھورا دیا جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان کیا ہمارا جیسا بھی دشمن ہے ہم اسے معاف کرتے ہیں افغان طالبان نے بھی ٹھیک ایسا ہی کیا. مگر اس کے باوجود بھی لوگ افغانستان چھوڑ کر امریکہ جانے کی کوشش کر رہے ہیں کچھ تو بھاگنے میں کامیاب ہو گئے چند بد قسمت طیارے کے ساتھ چپک گئے جب طیارے نے پروان بھری تو ان کی قسمت ساتھ چھوڑ گئی اور طیارے سے گر کر جان کی بازی ہار بیٹھے ان میں ایک شخص ڈاکٹر تھا اور ایک افغانستان قومی فٹبال ٹیم کا ممبر بھی شامل تھا. اب بھی ہزاروں کی تعداد میں افغانی کابل ائرپورٹ کے باہر جمع ہیں مگر دوسری طرف ایئر پورٹ کی سیکورٹی امریکہ کی فورسز کے ہاتھ میں ہے وہ اپنے امریکیوں کو نکال رہے ہیں اوردوسری جانب پنج شیر میں بھی طالبان کی پیش قدمی ہو رہی ہے دنیا دیکھ رہی ہے کہ آیا طالبان حکومت کر سکے گے یا نہیں چند ممالک نے ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور دیگر ممالک ابھی سوچ بیچار میں ہیں کہ اب کیا کیا جائے. مجھے طالبان کی نیت پر کوئی شک نہیں. میں انہیں سو فیصد فیس ویلیو پر رکھنے کو تیار ہوں میں یقین کرنے پر آمادہ ہوں کہ وہ جو بھی کہہ رہے ہیں پوری ذمہ داری سے کہہ رہے ہیں مجھے یہ تسلیم کرنے میں بھی باک نہیں کہ وہ بھی اس تباہ حال کھنڈر کی تعمیر و ترقی کے اتنے ہی خواہش مند ہیں جتنا کوئی اور. چند بنیادی باتیں پچھلے چند دنوں سے لگا تار دھرائی جا رہی ہیں کہ ہم عورتوں کو دروازے کے پیچھے نہیں رکھے گے بلکہ شریعت کے دائرے میں رہتےہوئے تعلیم و روزگارکی اجازت دیں گے ہم اگرچہ مغربی طرزِ جمہوریت کو درست نہیں سمجھتے مگر مقامی ثقافتی دائرے میں مثبت تنقید کا خیر مقدم کریں گے اور بنیادی آزادیوں کا احترام کریں گے ہماری سرزمین آئندہ کسی بیرونی ملک کے خلاف کے خلاف استعمال نہیں ہو گی ایسی صورت میں امریکہ اور مغربی ممالک طالبان کو اپنی معاشی بقا کے لئے ان راستوں پر دھکیل دیں گے جن کے بارے میں مغرب سمیت کوئی بھی نہیں چاہتا کہ طالبان ان پہ چلیں اگر نئی حکومت اپنی سرزمین کو باقی دنیا کے خلاف استعمال نہ ہونے کا اگلے چند ماہ میں ٹھوس ثبوت فراہم کر دیتی ہے اور منشیات کی کاشت کی بیخ کنی کا وعدہ بھی ایفا کرتی ہے تو پھر معاشی ناکہ بندی کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہے گا ایک اچھی بات یہ ہے کہ پہلے کے برعکس انہوں نے تنظیمی سطح پر اپنا نظریاتی اور سیاسی بازو الگ الگ رکھنے کی کوشش کی ہے وہ نوے کی دہائی کا پٹھان قوم پرست مزہبی گرو نہیں رہے بلکہ اس بار ان کی درجہ اول و دوم کی قیادت میں تاجک. ازبک حتی کہ ہزارہ بھی شامل ہے اب طالبان پوری دنیا میں اسلام کا جھنڈا گاڑھے گے پورے عالم کی نظریں طالبان پہ لگی ہیں اور ترکی کو بھی 2023 میں بڑا فائدہ ہو گا اگر رجب طیب ایردوان نے مجاہدین کو کال کی تو. پاکستان میں ایک عالم دین کے الفاظ سونے کے حروف سے لکھنے چائیے کہ انہوں نے کہاں بندے کے اندر غیرت زندہ ہو تو اسلام کنڈ نہیں لگن دیندار اسلام اپنی پاور رکھتا ہے اور امریکہ سپرپاور کا ورد کر نے والوں سپر پاور میرے اللہ کی ذات ہے جس نے ہمیشہ رہنا ہے تا صبح قیامت. اللہ کی مدد ہو تو ہاتھی والوں کا حال دیکھ لو. قرآن بیان کر رہا ہے. اللہ مجاہدین کی مدد فرمائے اگلے چند دن طالبان کے اہم ہیں. جب تک اقتدار منتقل نہیں ہوتا. اپنے پاوں پہ کھڑے ہو جائیں پوری دنیا میں اسلام کا نفاز کرے گے

  • ہمارا معاشرہ اور بے روزگار نوجوان طبقہ تحریر:عائشہ عنایت الرحمان

    ہمارا معاشرہ اور بے روزگار نوجوان طبقہ تحریر:عائشہ عنایت الرحمان

    پاکستان دنیا کے ان ممالک میں
    شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اسے اگر نوجوانان پاکستان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ جس طرح زراعت کسی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اتنی ہی نوجوان طبقہ ملک کے لیے اہمیت رکھتا ہے، تو غلط نہ ہوگا۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر دوسرا نوجوان بے روزگار ہے اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ بھی بے روزگار ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان اس لئے بے روزگار ہے کہ سرکاری نوکری کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور حال یہ ہے کہ سرکاری نوکری ہزار میں سے کسی ایک دو کو نصیب سے ملتی ہیں۔

    روزگار کس طرح تلاش کیا جائے؟
    ضرورت اس امر کی نہیں کہ ہر ایک کو سرکاری نوکری مل جائے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جہاں ہر کسی کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکے جہاں ان کو موٹیویٹ کیا جا سکے جہاں ان کی مائنڈ سیٹ کیا جا سکے جہاں ان میں شعور پیدا کیا جاسکے کے روزگار صرف یہی نہیں کہ آپ کو سرکاری نوکری مل جائے بلکہ روزگاری ہیں کہ اگر آپ کو سرکاری نوکری نہیں مل رہی باوجود لاکھ کوشش کے تو آپ کو یوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھنا نہیں چاہیے اور ڈپریشن کا شکار نہیں بننا چاہیے بلکہ آپ اپنی سیلف اکیڈمی چلا لیں جہاں آپ ہزاروں بچوں کو ٹیوشن پڑھاؤ اور انکو انکی مستقبل کے لیے موٹیویٹ کرو کرو ۔
    جو کیڈمی نہیں بنا سکتے تو کسی دوسرے کی جوائن کرو اور اور اس میں کمال تک پہنچ جاؤں۔ ایسے بہت سے سکالر میں نے دیکھے ہے کہ جب سرکاری نوکری کے پیچھے ناکام ہوجاتے تو پھر یہی سیلف اکیڈمی کھول دیتے ہیں جہاں معاشرے کے ہزاروں بچے انکے مستقبل کے لیے موٹیویٹ کئے جاتے ہیں۔
    اگر آپ well educated نہ ہو تعلیم تھوڑی بہت ہے تو بھی بہت کچھ کر سکتے ہو ,بشرط کہ ارادہ ہو،لگن ہو۔
    ہر انسان میں ضرور کوئی نہ کوئی ٹیلنٹ چھپا ہوا ہوتا ہے اپنے اندر کی ٹیلینٹ کو اجاگر کرو اس میں کمال تک حاصل کرو ۔ روزگار کے لئے اعلی تعلیم یافتہ ہونا شرط نہیں، اور نہ روزگار صرف سرکاری نوکری کا نام ہے۔ آپ ارادہ کرو ،کوشش کرو اپنے ربّ پر کامل یقین رکھو ایک دن انشاللہ ضرور آپکی محنت رنگ لائے گی اور کامیابی آپکی قدم چومے گی۔ قاسم علی شاہ کا قول یاد آیا کہ محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ تمہاری کامیابی شور مچادے .
    ضروری نہیں کہ آپ سرکاری ملازم بن جاؤ اب بہت کچھ بن سکتے ہو بشرط کہ جزبہ موجود ہو آپ میں ۔ روزگار کے ساتھ ساتھ نام بھی کماؤ اور اپنے معاشرے کے لیے بھی کچھ ایسا کرو کہ مرنے کے بعد بھی آپکا نام زندہ رہے۔ ہمارے سامنے زندہ مثالیں موجود ہیں جیسے کہ عبدالستار ایدھی جس نے اپنا سب کچھ لٹا کر خالص جذبے کے ساتھ نئے سفر کا آغاز کیا آج اس کے مرنے کے بعد بھی اس کا نام زندہ ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک، جس نے زندگی لگا دی اپنے فیلڈ میں ، آج انکی بدولت لاکھوں غیر مسلم اسلام سے با مشرف ہوئے۔ قاسم علی شاہ اور اسی طرح اور بھی بہت سارے زندہ مثالیں ہیں ہمارے سامنے ۔
    بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ کہ اپنے اندر کی آواز کو سنو کہ تم کس لئے پیدا کئے گئے ہو ۔اپنے اندر کی پوشیدہ خوبیوں کو اجاگر کرو۔

    ایک کم ذہنی ہے کہ ہم ہر مصیبت اور مشکل کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔ اصل میں ہم میں شعور کی کمی ہے، جب شعور آجاے اور تخلیقی زہن بن جائے تو روزگار کا مسئلہ 50 فی صد حل ہوجائے گا.

    بل گیٹس نے CSS نہیں کیا.
    جیک ما نے CSS نہیں کیا. اسٹیوجابز نے CSS نہیں کیا .
    مارک زکر برگ نے CSS نہیں کیا ۔
    ان کی ایک کمپنی کی قیمت پاکستان کے 70 سال قرض سے زیادہ ہے۔
    اگر وہ CSS کرتے تو آج صرف ڈی سی( DC) لگے ہوتے ۔ایک مشہور دانشور کا کہنا ہے کہ قوم کو افسر نہیں تخلیقی ذہن چاہیے..

    آج کل کے زمانے میں اگر دیکھا جائے تو بے روزگاری کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں،کیونکہ یہ ماڈرن ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، ایسے ہزاروں آپلیکیشنز ہے موبائل فون میں جس کے ذریعے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، لیکن وہی بات کہ ایک تخلیقی زہن کی ضرورت ہے۔

    حکومت سے شکو
    اک تلخ حقیقت کہ اعلی تعلیم یافتہ سرکاری نوکری کے پیچھے خوار ہو رہے ہیں۔ یہ حکومت کی زمہ داری ہے کہ انکو انکی ڈگری کے حساب سے سیٹ دےدیں، ورنہ یہی نوجوان آخر میں دل برداشتہ ہو کر غلط اختیار کر جاتے ہیں۔ یہ صرف ان کی ذات کی حد تک نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لئے بھی تباہی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔اپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کرو کہ ہماری ٹیچرز تھی فزکس کی، انکا شوہر نشایئ تھا۔ میں نے ایک دن پوچھا کہ میڈم یہ ماجرا کیا ہے تو کہنے لگی کہ بیٹا میرے شوہر نے انجینئرنگ میں ڈگری کی ہے اور اپنی یونیورسٹی کا ٹوپر رہا ہے پر جب 7 ،6 سال مسلسل کوشش کے باوجود سرکاری نوکری نہیں ملی تو آخر میں دل برداشتہ ہو کر یہ راستہ اپنایا اور نشائ بن گیا ۔اسی طرح میرے جاننے والوں میں سے تعلیم یافتہ نوجوان جس نے 13 14 سال سرکاری نوکری کے پیچھے دھکے کھاے اور ہاتھ کچھ نہیں آیا تو آخر میں زد میں آکر کریمنل بن گیا۔ تو یہ کس کا نقصان ہوا ؟
    اگر حکومت ان کو بروقت روزگار فراہم کرے تو اس طرح جرائم کی نوبت نہیں آ ے گی اور اسی طرح یہ معاشرہ بہت سی برائیوں سے بچ سکتا ہے۔

    @koi_hmmsa_nhe

  • سندہ حکومت کی ١٣ سالہ کارکردگی ! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    سندہ حکومت کی ١٣ سالہ کارکردگی ! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    چند دن پہلے جب وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے اپنی تین سالہ شاندار کارکردگی قوم کے سامنے پیش کی تو ہم نے بزدار حکومت کے تین سالہ کارکردگی کو سندھ حکومت کی ١٣ سالہ کارکردگی سے جانچنے کی کوشش کی اس وقت پنجاب حکومت صوبے میں جس طرح بے شمار ترقیاتی کام ،تعلیمی اصلاحات ،پولیس نظام میں بہتری ،صحت کارڈ ،صنعتی انقلاب ،احساس پروگرام ،پناہ گاہیں ،لنگر خانے ،کوئ بھوکا نا سوئے پروگرام ،نیب ریکوریاں ،صحت کارڈ ،پنجاب کے تمام اضلاع میں یونیورسٹیز کے قیام ،لیہ اور رحیم یار خان جیسے پسماندہ علائقوں کی بہتری کے لئے اربوں کے ترقیاتی پیکجز ،کسان کارڈ ،لاری اڈوں کے بہتری ،صفائ ستھرائ ،سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر ،ایئر ایمبولینس سروس سمیت سینکڑوں ایسے پراجیکٹ دیکھنے کو ملے جو پنجاب حکومت بغیر کسی تشہیر کے خاموشی کے ساتھ کروارہی پی ٹی آئ کی پنجاب حکومت نے تین سالوں میں پنجاب کو بہتر سے بہترین بنادیا
    جبکہ دوسری جانب پپلزپارٹی کی سندہ حکومت کی ١٣ سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سندہ پہلے سے بھی ذیادہ بدترین حالات میں جاتا نظر آرہا ہے
    شہر کراچی کے حالات دیکھیں تو پپلزپارٹی ترجمان اور نئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب خود اعتراف کررہے ہیں کہ کراچی کے مسائل بہت ہیں ،سندہ کے کسی ایک شہر یا گاوں میں کہیں کوئ خاص ترقی ہوتی نظر نہیں آرہی صحت کا نظام اس حد تک تباہ ہے کہ کتا کاٹنے کی ویکسین تک دستیاب نہیں،پولیس مکمل سیاسی بنی ہوئ ہے جو پپلزپارٹی مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کا کام انجام دے رہی ہے ،کہیں کوئ نئ سڑکیں ،گلیاں بنتی نظر نہیں آئیں گی
    تعلیمی ادارے تو اس حد تک تباہ ہیں کہ سابق وزیر تعلیم سعید غنی کے اپنے حلقے کی اسکولوں میں گدھے گھوڑے بندھے ہوئے نظر آتے ہیں
    نوجوانوں کے روزگار کے لئے کوئ انتظام نہیں ،غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور سندہ حکومت کے وزراء امیر سے امیر ترین بنتے جارہے ہیں
    تھر میں آئے روز بچے غذائ قلت ،صحت کی سہولیات اور صاف پانی نا ملنے کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہے ہیں ،خودکشیاں بڑھتی جارہی ہیں ،رات کے وقت اکیلے سڑکوں پر نکل نہیں سکتے کیونکہ ڈاکو لٹیرے آزاد گھومتے نظر آتے ہیں
    جبکہ بلاول زرداری سمیت سندہ حکومت گلی گلی جاکر عوام کو اپنی ١٣ سالہ کارکردگی کا حساب دینے کی بجائے سندہ کی اس تباہ حال صورتحال کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو ٹھہراتے نظر آتے ہیں ،لیکن سندہ کی عوام بڑی باشعور ہے وہ سب جانتی ہے کہ ١٨ ترمیم جس کا کریڈٹ ہمیشہ پپلزپارٹی فخر سے لیتی ہے اس کے بعد اس تمام تباہی کی ذمیوار سندہ حکومت ہے ،صوبائ خودمختاری کے بعد صوبوں کو جو بجٹ دیا جاتا ہے وہ اپنی کرپشن کی نظر کرنے کی بجائے سندہ کی عوام پر خرچ کرنا چاہیے
    کبھی کسی دوسرے صوبے نے ١٨ ترمیم کے بعد اپنے صوبے کی بدحالی کا ذمہ دار وفاق کو نہیں ٹھہرایا کیونکہ یہ سب صوبائ حکومت کی ذمہ داریاں ہیں
    اب سندہ کا شعور پنجاب حکومت کے ٣ سالہ کارکردگی کا موازنہ پپلزپارٹی کی سندہ حکومت کے ١٣ سالہ دور اقتدار سے کرچکا اور پپلزپارٹی کی کرپٹ حکومت سے چھٹکارا پانے کے لئے وزیراعظم عمران خان صاحب کی قیادت میں نیا سندہ بنانے کو تیار ہے

  • اور سگریٹ نوشی جان لے گئی     تحریر: نصرت پروین

    اور سگریٹ نوشی جان لے گئی تحریر: نصرت پروین

    وہ نومبر کی سرد رات تھی۔ مہندی کی تقریب میں جہاں تمام لوگ مہندی کی رسم میں مگن تھے وہیں چند قدم کے فاصلے پر موجود کمرے میں ایک خوبصورت نوجوان صوفے پہ برا جمان بیٹھا نشے کے ابتدائی قدم سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہا تھا۔ جو گزشتہ دنوں ہی والد کے شفقت بھرے سائے سے محروم ہوا تھا۔ اور ماں کا عزم تھا کہ بیٹے کو معاشرے کے لئے مسیحا یعنی بہترین ڈاکٹر بنائے۔لیکن وہ کہاں جانتی تھی کہ جسے وہ معاشرے کے لئے مسیحا بنانے کے خواب دیکھ رہی تھی وہ تو معاشرتی لعنت نشے کا ابتدائی سفر طے کرتے ہوئے خود کو موت کے منہ میں دھکیل رہا تھا۔ پھر کافی ماہ گزر گئے اور وہ شہر میں مقیم بظاہرتو ڈاکٹر لیکن خفیہ طور پر نشے کی لعنت سے موت تک کا سفر طے کر رہا تھا۔ پھر ایک دن ماں کو واٹس ایپ پر ایک تصویر موصول ہوئی جسے دیکھتے ہی وہ ایک نہ ختم ہونے والی اذیت میں مبتلا ہو گئی۔ اس کا لختِ جگر اپنے دو عزیز دوستوں کے ساتھ بیٹھا شیشہ پینے جیسی لعنت میں مبتلا تھا۔ اور اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ دو دن بعد ہی ماں کو پتہ چلا کہ اس کا اکلوتا بیٹا کینسر جیسے تکلیف دہ مرض میں مبتلا ہسپتال میں موجود ہے۔ ماں آنسوؤں کے سمندر کو حلق سے اتار کر وہاں پہنچی۔ سامنے اپنے عزیز جان بیٹے کو دیکھا تو پہلے سے موجود شدید اذیت میں اور اضافہ ہوا۔ اور پھر وہ نوجوان مسلسل 53 دن کینسر جیسے مرض کے ساتھ زندگی موت کی کشمکش میں گزار کر آخر کار ایک شام دنیا سے چلا گیا اور تنہا ماں عمر بھر کے لئے ایک شدید اذیت ناک حالت میں مبتلا ہو کر اپنے حوش و حواس کھو بیٹھی۔
    یہ ہمارے معاشرے میں بہت سے گھرانوں کی کہانی ہے جن کا اغاز سگریٹ سے ہوتا ہے اور پھر نشے کی سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے خود کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں لیکن اپنے سے جڑے لوگوں کو بھی ہمیشہ کی اذیت میں مبتلا کر جاتے ہیں۔
    سگریٹ نوشی کے بارے میں کہا جاتا ہے:
    "گھر پھونک تماشا دیکھ”
    سگریٹ نوشی جسے نشے کی حرام لعنت کی پہلی سیڑھی کہا جاتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد کئی اور تاریک سیڑھیاں ہوتی ہیں جو انسان کو تباہی کے دہانے پہ لے جاتی ہیں۔ بد قسمتی سے سگریٹ نوشی ہمارے معاشرے میں فیشن کے نام پر چھوت کی طرح پھیل رہی ہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ اکثریت سگریٹ پینا برا نہیں سمجھتی۔ لیکن اس کے جان لیوا نتائج کسی سے چھپے نہیں۔ پھر بھی کھلا تضاد پایا جاتا ہے کہ ایک طرف سگریٹ پینے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اور دوسری طرف اس کے اذیت ناک نتائج بھی سب کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ بہت سے نوجوان جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ وہ جنہوں نے اپنا مستقبل شاندار بنانا ہوتا ہے اس لعنت میں مبتلا ہو کر موت کو پکار رہے ہوتے ہیں۔ اور اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی موت کا پروانہ تحریر کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ بہت تکلیف دہ ہے کہ جس قوم کے افراد ہی غیر صحت مند سرگرمیوں میں مشغول ہوں یا ان کی صحت ہی انحطاط پذیر ہو وہ قوم اپنی ترقی اور خوشحالی کے عظیم الشان منصوبوں پر کیسے عمل پیرا ہو کر اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے۔؟سگریٹ نوشی انسانی صحت کے لئے انتہائی مہلک کردار ادا کر کے تمام جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتا ہے۔ سگریٹ نوشی معاشرے کے لئے زہرِ قاتل کی حثیت رکھتی ہے۔ لوگوں کی کثیر تعداد ایسی ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ کام کے بوجھ اور ذہنی تناؤ دور کرنے لئے سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن میڈیکل تحقیقات سے ثابت ہے کہ ان اقوال میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انسان کو سگریٹ پیتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ تناؤ کم ہو رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا دراصل کچھ لمحے کام سے وقفہ مل جاتا ہے اور پھر سگریٹ میں موجود نیکوٹین دماغ کو متاثر کرتی ہے۔ اور انسان جب کام کرنے لگتا ہے تو سگریٹ کی طلب پھر سے ہونے لگتی ہے یوں وہ اس لعنت کا عادی ہوجاتا ہے۔ اور کیفییت ایسی ہوجاتی ہے کہ:
    "چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی”
    ہماری قومی دولت کا ایک بہت بڑا حصہ محض سگریٹ نوشی جیسی فضول عادت کی نذر ہوجاتا ہے اور پھر اس عادت کے باعث پیدا ہونے والے مہلک امراض کے مقابلے میں ہمارا گراں قدر زر مبادلہ ضائع ہوجاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل عالمی صحت کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والوں میں سے زیادہ تر لوگوں کے مرنے کی وجہ سگریٹ نوشی ہی ہوتی ہے۔ سگریٹ نوشی سے ہر سال مرنے والوں کی تعداد ستر لاکھ ہے۔ دنیا بھر میں اسی فیصد سگریٹ نوشی کرنے والے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اسلامی ممالک میں بھی بہت سے لوگ سگریٹ نوشی پر اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ صرف پاکستان میں سگریٹ نوشی اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر تین کھرب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ جبکہ سعودی عرب میں اٹھائیس ارب ڈالر، مصر میں گیارہ ارب پاؤنڈ اسی پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ ترکی میں صرف سگریٹ نوشی سے بیماریوں کا شکار ہونے والوں پر گیارہ ارب ڈالر کی رقم خرچ ہوتی ہے۔ اس طرح دنیا بھر میں آٹھ لاکھ نوے ہزار بچے ہر سال سگریٹ کے دھوئیں سے زہر آلودہ فضا کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ جو خود تو سگریٹ نوشی نہیں کرتے لیکن سگریٹ نوشی جیسے مضر اثرات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال پینسٹھ کھرب ڈالر کی خطیر رقم سگریٹ بنا کر اسے دھوئیں کی نظر کر دینے پر خرچ ہوتی ہے۔ اتنی بڑی رقم کو کنویں میں اڑانے کی بجائے اگر غربا اور ضرورتمندوں میں خرچ کیا جائے تو دنیا بھر کے ضرورتمندوں کا ایک بہت بڑا حصہ اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگی بہتر کر سکتا ہے۔ اور سگریٹ نوشی سے مرنے والے لاکھوں لوگ اپنی زندگیاں محفوظ بنا سکتے ہیں۔
    سگریٹ نوشی صرف خود سگریٹ پینے والوں کو ہی نہیں بلکہ ان کے ارد گرد موجود لوگوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ ایسے افراد جو خود سگریٹ نہیں پیتے صرف اس دھوئیں سے سانس لیتے ہیں ان کے لئے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    سگریٹ نوشی ایک ایسی لعنت ہے جو بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ بہت سے لوگ پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ کچھ کینسر جیسے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اخلاقی اعتبار سے دیکھیں تو بھی سگریٹ نوشی قابلِ مذمت ہے اس سے اور بہت سی اخلاقی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ بہت سے لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا فعل ہے جسے کسی بھی مذہب میں جائز نہیں سمجھا جاتا۔ آپ اسلام سے ہٹ کر کسی اور سکالر سے پوچھ لیں جس نے واقعی سگریٹ پر تحقیق کی ہو تو اس کے خلاف بہت کچھ بتا دے گا۔ اور اسلام کی بات کریں تو شریعت میں دو آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک کے مطابق یہ مکروہ ہے اور ایک کے مطابق حرام ہے اور حرام والی رائے زیادہ مضبوط ہے۔
    اللہ نے قرآن میں فرمایا:
    وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہلُکَةِ
    ترجمہ: اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔
    سورۃ البقرہ: 195
    اور سگریٹ نوشی کرنے والا خود کو موت کے منہ میں دھکیل کر ہلاکت کو دعوت دیتا ہے۔
    اِنَّ الۡمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّهٖ کَفُوۡرًا ﴿۲۷﴾
    ترجمہ: بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔
    سورۃ بنی اسرائیل:27
    اور سگریٹ نوشی پر ایک خطیر رقم فضول خرچی کے طور پر خرچ کر کے اس شیطانی فعل کو انجام دیا جاتا ہے۔
    اور کھانا تو رزق ہوتا ہے۔ اگر سگریٹ رزق ہوتا تو آپ اسے پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھتے۔ اسے پینے کے بعد الحمدللہ پڑھتے۔ اور کیا روٹی کا ٹکرا بچا کر اسے پاؤں میں کچل دیا جاتا ہے اسی طر ح اگر آپ چاول کھا رہے ہوں تو کیا آپ تھوڑے سے بچا کر یوں مسل کر پھینک دیں گے نہیں آپ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ وہ رزق ہے۔ لیکن سگریٹ تو رزق نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انسان اسے پاؤں تلے روند دیتا ہے۔
    آپ صرف اپنی فطرت سے پوچھیں جو اللہ نے آپ کو دی ہے۔ جس فطرت کی بنا پر اللہ نے آپ کو تخلیق کیا۔ اللہ نے آپ کو فطرتِ سلیم پر پیدا کیا ہے۔ آپ اپنے اندر سے پوچھیں یہ حلال ہے یا حرام؟ جواب خود ہی آجائے گا۔ کہ یہ اچھی چیزوں میں سے نہیں ہے۔ اگر آپ اس لت میں ملوث ہیں تو چھوڑ دیجئے۔ ایک مسلمان جو اپنے آپ کو پاکیزگی کی طرف لے جاتا ہے اسے یہ عمل زیب نہیں دیتا۔ اور اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ تو اس گھناؤنے فعل سے توبہ کیجئے اور پاکیزگی اختیار کیجیے۔
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • ‏کتابیں پڑھیں ایک اچھی عادات تحریر خالد عمران خان

    ‏کتابیں پڑھیں ایک اچھی عادات تحریر خالد عمران خان

    بعض اوقات ہمیں بہت سی چیزیں سمجھ نہں آرہی ہوتی اور دماغ بہت منتشر سا ہوتا ہے اور آپ کو سمجھ نہں آرہا ہوتا کے کس طرح سے دماغ‏کتابیں پڑھیں ایک اچھی عادات
    تحریر
    خالد عمران خان کو سکون میں لایا جائے تو اس کا ایک آسان طریقہ کوئی اچھی سی کتاب پڑھیں چائیے وہ کلام پاک ہو اِسکا سکون ہی الگ ہے لیکن اس کے علاوہ اگر آپ کہانیوں کی کتابیں پسند کرتے ہیں تو وہ یہ اپنے پسندیدہ مضبون کی کتاب پڑھیں کتاب پڑھا آپکے دماغ کو سکون پنہچاتا ہے۔آزما لیں.

    کتابیں آپکو ہر جگہ مل جاتی ہیں۔ لائبریریاں بڑی اور چھوٹی اور کتابوں کی دکانیں پورے کالج کیمپس اور بڑے شہروں میں آسانی سے ہر طرح کی کتابیں دستیاب ہیں۔ جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں وہ کتابیں تلاش کرنے کے لیے متعدد جگہوں کے بارے میں آپکو بتا بھی دیتے ہیں اچھی کتابیں تلاش کرنا مسئلہ نہں۔ جو لوگ کتابوں کے مداح نہیں ہیں وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کے کتابوں۔ میں ایسا کیا ہے کہ قارئین کو کتابوں کے بارے میں جنون میں مبتلا کرنے کا کیا سبب بن سکتا ہے۔ اگرچہ ان کے جنون کی ایک وجہ ہے۔ آپ اسے ہر وقت سنتے ہیں دوسروں سے سنتے ہیں.

    اگرچہ پڑھنا سادہ تفریح ​​کی طرح لگتا ہے ، لیکن سب سے اچھی بات یہ آپ کے یہ آپ کے جسم اور دماغ کی مدد کر سکتا ہے یہاں تک کہ آپ کو احساس بھی ہو کہ کیا ہو رہا ہے كس طرح سے کتابیں پڑھنا آپکی زندگی پر مثبت اثر ڈال رہا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر پڑھنا زیادہ اہم ہو سکتا ہے نہ کہ صرف علم۔ وہ لوگ جو کتابیں پڑھنے کی لذت نہں جانتے ایسے لوگوں کے لیے جو پڑھنا پسند نہیں کرتے فوائد کے بارے میں سن کر آپ اپنا خیال بدل سکتے ہیں۔ کیا پڑھنے جیسی آسان اور تفریحی چیز آپ کی زندگی میں اتنی مددگار ثابت ہو سکتی ہے کیا فائدے ہو سکتے آپ کو کتابیں پڑھنے کے؟ یقینا آپکو سمجھ آجائے گی کے کتابیں پڑھنا کتنا اثر رکھتا ہے اور یہ کیا اثر کر سکتا ہے! پڑھنا آپ کے لیے بہت سے مختلف طریقوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے – جیسے آپ کے ذہن ، تخیل اور لکھنے کی مہارت کو تیز کرنا۔ پڑھنے کے بہت سے فوائد کے ساتھ ، کم از کم کچھ پڑھنا روزانہ کا معمول ہونا چاہیے۔
    کتابیں پڑھنا ضروری ہے کیونکہ یہ ہمارے خیالات کو ترقی دیتا ہے ، ہمیں لامتناہی علم اور اسباق دیتا ہے جبکہ ہمارے ذہنوں کو متحرک رکھتا ہے۔ ہم بہت کچھ ان کتابوں سے سیکھتے ھیں وہ ہماری دینی کتابیں ہوں یا دنیاوی کتابیں.
    کتابیں ہمیں بہت کچھ سیکھا تی ہیں ہم اپنے کسی بھی کام میں بہتری لانا چاہتے ہیں اپنے مزاج میں بہتری لانا چاہتے ہیں یہ اِرد گِرد کے لوگو میں تو یہ علم بھی ہیں کتابوں آی حاصل کر سکتے ہیں دین دنیا دونوں کے متعلق ہمیں ان سے معلومات مل جاتی ہے۔ اس دنیا میں کسی بھی چیز کے برعکس ہر قسم کی معلومات ، کہانیاں ، خیالات اور احساسات رکھ سکتی ہیں۔ چیزوں کو سیکھنے اور سمجھنے میں ہماری مدد کے لیے کتاب کی خاصیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

    پر سکون نیند کے لیے بھی آپ کا کتابیں پڑھنا بہت فائدے مند رہتا ہے اگر آپ سونے سے پہلے کس اچھی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ آپکو کو سونے میں مدد کرتا ہے آپکے خیالات کو بھٹکنے سے روکتا ہے اور آپ ایک پر سکون نیند سو سکتے ہیں آزما کے دیکھیں۔

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • ہماری معیشت کو درپیش مساٸل تحریر:شمسہ بتول

    ہماری معیشت کو درپیش مساٸل تحریر:شمسہ بتول

    پاکستان کی معیشت کو اندرونی اور بیرونی طور پر بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اندرونی طور پر معیشت کو درپیش مساٸل میں کم برآمدی شعبے ، سستی درآمدات پر زیادہ انحصار ، ایندھن اور توانائی کی زیادہ قیمت ، اعلی شرح سود ، کم تربیت یافتہ لیبر فورس ، سرمایہ کاری پر کم منافع ، جدید ٹیکنالوجی کی کمی وغیرہ شامل ہے ۔ان معاشی مسائل نے ایک بڑی آبادی کے لیے موثر طریقے سے پیداوار کی فراہمی کو مشکل بنا دیا ہے اور ان سب کی وجہ سے بالواسطہ طور پر بیرونی معاشی بحران پیدا ہوا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہماری برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے کی وجہ سے توازنِ اداٸیگی میں بگاڑ ہیدا ہوتا جس نے ملک کو ایک بار پھر آئی ایم ایف کے قرض کے بوجھ تلے دبا دیا اور آٸی ۔ایم ۔ایف کی سخت پالیسیز کو اپنانے پہ مجبور کر دیا۔گھریلو صنعت اور پیداوار کو برقرار رکھنے اور بڑھانے کے لیے ہمیں معاشی پالیسیز کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر صنعت کو بڑھانے کے لیے مزید درآمدات کی جاٸیں تو اس طرح ہمارے اپنے غیر ملکی ذخائر میں کمی واقع ہو گی یا وہ ختم ہو جاٸیں گے۔ غیر ملکی ذخائر میں کمی ناپسندیدہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا باعث بنتی ہے جس سے ہماری معیشت مزید ابتری کی طرف جاۓگی۔ ہمیں اپنی درآمدات کو کم سے کم کرنا ہو گا اور متبادل ذراٸع دریافت کرنا ہوں گے تا کہ کرنٹ اکاٶنٹ خسارے سے بچا جا سکے ۔
    آئی ایم ایف کی سخت پالیسیز اور سود کی شرح میں اضافہ کی وجہ سے ہماری معیشت مزید کمزور ہو رہی ۔ ملک کا یہ کمزور معاشی ڈھانچہ ایک تنگ صنعتی بنیاد ، کم برآمدات ، زیادہ ایندھن اور توانائی کی قیمتوں ، متضاد تجارتی پالیسیوں ، غیر صنعت کاری کا نتیجہ ہے۔فاٸنل اشیاء کی برآمدات اور خام مال کی درآمدات ملکی وساٸل کا بہترین استعمال نہ کرنا یہ سب ناقص معاشی کارکردگی کی وجہ بنتی ہیں جب برآمدات درآمدات سے کم ہوتی ہیں تجارتی خسارہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ تجارتی خسارہ ملک کے قیمتی غیر ملکی ذخائر کو کھا جاتا ہے۔ یہ تجارتی خسارہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی پیدا کرتا ہے۔ پاکستان کی برآمدات تقریبا $ billion 22 فراہم کرتی جبکہ اس کی درآمدات $ 52bn کے گرد گھوم رہی ہیں۔ 30 بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ جو ہوا اسے قرض لے کر پورا کیا جاتا پھر world Bank ہو یا IMF یہ ترقی یافتہ ممالک کے اصولوں پہ عمل کرتے ہوۓ ترقی پزیر ممالک کو سخت شراٸط پر قرض دیتے جس سے آہستہ آہستہ ہماری معیشت مزید خسارہ کا شکار ہونے لگتی
    آئی ایم ایف سے قرض لینے سے عارضی طور پر تو کرنٹ اکاٶنٹ خسارہ کنٹرول ہو جاتا ۔ لیکن یہ مصنوعات کو مہنگا کر دے گا ہماری روپے کی قدر مزید گر جاتی اور اس طرح مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ۔ یہ معیشت کے لیے غیر متنازعہ صورتحال پیدا کرتا ۔
    موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد ڈالر کے مقابلے میں ہمارے روپے کی قدر مزید گری اور ڈالر 112 سے 165 روپے تک مہنگا ہوا۔ پاکستان قدرتی زخاٸر سے مالا مال ملک ہے ہمارے پاس وہ تمام وساٸل موجود ہیں جن کو بہتر طریقے سے استعمال کر کے ہم معیشت کے بہت سے مساٸل پر قابو پا سکتے۔ہمارے پاس لیبر فورس کی بھی کوٸی کمی نہیں لیکن ہمیں اس لیبر فورس کو ٹرینگز دینا ہو گی انہیں سکلز سکھانا ہونگی ۔ ہمارے پاس خام مال کے وسیع زخاٸر ہیں ہم ان وساٸل کو استعمال کر کے اشیاء کو اپنے ملک میں پیدا کرنے پر ترجیح دیں اور فاٸنل پروڈکٹس کو عالمی منڈی میں پیش کریں۔ ہماری صنعت تباہ حالی کا شکار اسلیے بھی ہے کیونکہ ہم خام مال سستے داموں درآمد کرتے اور مہنگے داموں ان سے اشیاء خریدتے جسکی وجہ سے توازن اداٸیگی بگڑ جاتا۔ لیکن اگر ہم اس خام مال سے خود اشیاء تیار کریں گے تو اس سے ہماری معیشت پر اچھا اثر پڑے گا ہماری گھریلو صنعت کو فروغ حاصل ہو گا لوگوں کو روزگار ملے گا اور ہمارے زرمبادلہ میں بہتری آۓگی
    ہزاروں مسائل سے دوچار معیشت کی بحالی کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور صرف اتنا ہی نہیں قرضوں کا یہ سلسلہ ہماری آنے والی نسلوں تک جا رہا 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ تقریباً 130,000 کا مقروض ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا ہوا ہی نظر آ رہا۔ اس وقت بیرونی قرضہ 116.3 بلین ڈالر ہے۔معیشت کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف ڈیل پر انحصار کرنا ایک خوفناک غلطی ہوگی۔ ہمیں اپنے وساٸل اپنی لیبر فورس اور انسانی سرماۓ کے وساٸل کو بروۓ کار لانا ہو گا ایک بہترین انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا ہو گا جو معیشت کو بحالی کی طرف لے جاۓ ورنہ مستقبل میں ہمیں مزید نقصان اٹھانا پڑے گا۔

    @b786_s

  • جنسی ہراسگی اور جنسی زیادتی کیسی روکی جائے  تحریر اکرام اللہ نسیم

    جنسی ہراسگی اور جنسی زیادتی کیسی روکی جائے تحریر اکرام اللہ نسیم

    پاکستان میں جنسی ہراسانی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ناقابل یقین درجے تک بڑھ چکے ہیں
    بچوں کے ساتھ زیادتی کو روکنا عام آدمی کے لئے کیا حکومت وقت کے لئے بھی روکنا کسی چیلنج سے کم نہیں
    صرف اگر ہم حال ہی کے مینار پاکستان واقعہ کو لے لیں اسپر غور و فکر کریں تب جاکرسمجھ آسکتا کہ معاشرے میں بستے انسانوں کے آنکھوں سے حیا دل سے ایمان اور انسانیت پر رحم کھانے کا حس مردہ ہوچکا
    کسی کے دل میں رحم باقی نہیں رہا انسانیت صرف نام کی حد تک رہ گئی دلوں کو زنگ لگ چکے زبان سے غلاظتوں کے تیر نکل رہے ہیں خوف خدا ختم ہو چکا
    جنسی ہراسانی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کے روک تھام کے لیے سب سے پہلے والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ذہن سازی کریں کہ بیٹا اگر کوئی عام آدمی آپکو پکڑتا ہے آپ کو پیار کرتا ہے مطلب چمی وغیرہ لیتا ہے اس آدمی کا کوئی حق نہیں کہ وہ آپ کو پیار کرے یہ صرف والدین کا حق ہے کسی دوسرے بندے کا حق نہیں
    دوسری بات والدین اپنے بچوں کو سمجھائیں ذہن سازی کریں اگر بیٹا ہے اسے سمجھائیں کہ کسی کی ماں بہن بیٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھنا کیوں کہ اسلام نے اس طرح کے افعال منع کیا ہے اس میں گناہ ہے اللہ ناراض ہوتا
    اور اگر بیٹی ہے تو اسے بھی سمجھائیں کہ بیٹی کسی غیر محرم مرد کے ساتھ باتیں نہ کرنا اسکی طرف نگاہیں اٹھا کر نہ دیکھنا اسلام نے ان چیزوں کو سختی سے منع کیا ہے
    اور یہ ذہن سازی اگر بچوں کی بچپن سے کی جائے تو اسکا بہت فائدہ ہوتا ہے
    جب بچہ اور بچی ان غیر شرعی افعال سے بچ جائیں گے اور معاشرے کے اندر جو موجودہ بگاڑ بچوں کے ساتھ زیادتی کی صورت میں سامنے آرہا ہے بلکل کم ہو جائے گا
    اسکے بعد ذمہ داری استاد کی بنتی ہے کہ استاد بچوں کو سمجھائیں انکو اس بارے میں لیکچر دیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مردوں اور عورتوں کے لئے احکامات بھیجیں ہیں
    قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰)
    ترجمہ
    مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے ۔
    اسی طرح نگاہیں جھکا کر رکھنے اور حرام چیزوں کو دیکھنے سے بچنے کی ترغیب دیں استاد
    اکثر احادیث مبارکہ میں بھی مسلمان مردوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو دیکھنے سے بچنے کا حکم دیاگیا ہے
    اور اسی طرح کا حکم عورتوں کے لیے بھی اللہ نے سورت النور کے اندر بیان فرمایا
    وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْـهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِىٓ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِىٓ اَخَوَاتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ اَوِ التَّابِعِيْنَ غَيْـرِ اُولِى الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّـذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرَاتِ النِّسَآءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ ۚ وَتُوْبُـوٓا اِلَى اللّـٰهِ جَـمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُـوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
    اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ
    اگر یہی ترغیب استاد ہفتہ وار بچوں کو دیں
    تو ان شاءاللہ اللہ رب العزت سے قوی امید ہے کہ معاشرے میں جو آئے روز جنسی زیادتیوں کے واقعات رونما ہوتے ہیں اس میں کافی حد تک کمی آجائے گی مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں نہ تو بچوں کی اس بارے میں ذہن سازی کی جاتی ہے اور نہ ہی انکو قرآن مجید اور احادیث میں ان افعال سے روکنے کے لئے ذکر کردہ احکام کی تعلیم دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات سے واقف نہیں جسکی وجہ سے جنسی ہراسگی کے واقعات تیزی سے بڑھتے چلے جارہے ہیں
    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل
    @realikramnaseem

  • مُضَرصحت”  (تمباکونوشی) تحریر:افشین

    مُضَرصحت” (تمباکونوشی) تحریر:افشین

    اس جَدید دور میں اب ایک عام انسان کے پاس بھی اتنی معلومات ہوتی ہے کہ اب ہر کوئی جانتا ہے تَمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے پھر بھی کچھ افراد اپنی صحت کا نہیں سوچتے اور اسکا استعمال مسلسل کرتے رہتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ۔ تمباکو میں ایک کیمیائی مادہ نکوٹین شامل ہوتا ہے جو کہ زہریلے اور نشیلے اثرات کا حامل ہوتا ہے جس سے وقتی طور پہ تسکین حاصل ہوتی ہے مگر یہ انتہائی زہریلا ہوتا ہے اس سے گردے بھی متاثر ہوتے ہیں اور زیادہ استعمال سے گردے فیل ہوجاتے ہیں ۔ اسکے علاوہ بھی بلڈ پریشر ،ہارٹ اٹیک انجائنا جیسی بیماریاں گھر کر لیتی ہیں ۔ پھیپھڑوں پہ بھی برا اثر پڑتا ہےسب کچھ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کتنا مضر زہر ہے سب یہ زہر خود خوشی سے خریدتے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی زندگی کے دشمن کیوں ؟ کیا لوگ یہ سب شوق سے کرتے ہیں ؟ انکی اس حالت کا ذمہ دار کون؟ یہ خود یا ان سے جڑے افراد یا پھر حکومت ؟؟بعض اوقات انسان اپنی زندگی کے مسئلوں میں اس کدھر الجھ جاتا ہے اسکو سکون تک میسر نہیں ہوتا افراتفری کا یہ عالم ہے کہ مصروفیت کے باعث اب انسان خود کے لیے بھی ٹائم نکال نہیں پاتا بعض افراد خود کو پریشانیوں کا گھر سمجھ کے تمباکو نوشی کا استعمال کر کے خود کو مسئلوں سے دور کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں انکو لگتا ہے اسکے استعمال سے انکے ذہن کو سکوں میسر ہوگا ۔جبکہ کچھ افراد دیکھا دیکھی میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ایسے دوستوں کے ساتھ بیٹھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جو تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں یہ کام صیحح سمجھ کے انکی نقل کرتے ہیں مگر کیا یہ صیحح عمل ہے ؟؟جب ایک بار یہ لت لگ جائے اس سے چھٹکارا آسانی سے نہیں ملتا بروقت روک تھام سے علاج سے ممکن ہے کہ وہ انسان صحت یاب ہوجاتا ہے پر جو پوری طرح سے اس دلدل کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں نشہ انکے اندر اس قدر سرایت کر چکا ہوتا ہے کہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے نشہ نا ملنے پہ وہ انسان گھر والوں سے جھگڑا کرتا ہے مار پیٹ کرتا ہے پیسے ادھار لیتا رہتا ہے نا صرف گھروالے گردونواح والے بھی اس سے تنگ آجاتے ہیں۔ ایسے افراد بہت سے جرائم کی وجہ بننے لگتے ہیں ۔یہ سب خریدنے کے لیے وہ گھروں میں چوری بھی کرنے لگتے ہیں اپنے بال بچوں کا بھی نہیں سوچتے ۔اسکی روک تھام جلد از جلد ہونی چاہیے حکومت کو ایسے افراد کو پکڑ کے سزا دینی چاہیے تاکہ وہ ان چیزوں کی فروخت نہ کرسکیں اور نوجوان نسل کو اس راہ پہ ڈال کے اس ملک کے نوجوانوں کو گمراہ نہ کر سکیں ۔ ایسے اقدام زیادہ تر سکول کالجز میں زیادہ ہوتے ہیں اساتذہ بچوں پہ نظر رکھیں اور والدین بھی اپنے بچوں پہ نظر رکھیں اور تمباکو نوشی سے بچا کے رکھیں -جو لوگ دوسروں کو نشہ لگانے میں مصروف ہوتے ہیں ایسے لوگ ایک ایماندار آفیسر کو تو ٹکنے نہیں دیتے جو بھی انکے راستے میں آئے یا انکے خلاف بولنے لکھنے کی کوشش بھی کردے اسکو نقصان ہی ملتا ہے حکومت سے اپیل ہے اس مسئلے پہ نظرِ ثانی کریں ۔تمباکو نوشی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہےنوجوان نسل کو پوری طرح سے تباہ کرنے میں یہ تمباکو نوشی ایک ہتھیار بنا ہوا ہے ۔ماوں کے لاڈلے بچوں کو اس راہ پہ چلا کے ان ماوں کا سہارا چھین لیا جاتا ہے پیسہ کی خاطر ضمیر فروش افراد اپنی ہی نسل کے دشمن بنے ہوئے ہیں احتیاط ضروری ہے بچوں پہ دھیان دیں ایسی سرگرمیوں میں شامل نہ ہوں ۔ اور ایسے افراد کو گرفتار کیا جائے جو نوجوان نسل کو نشے میں لگانے کی کوشش میں سرگرم ہیں ۔ خود پہ خیال رکھیں ایسے میل جول سے پرہیز کریں۔ جو اپکی ذات کو نقصان پہنچائے ۔

    #افشین
    @Hu__rt7