Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • وطن کا محافظ عمران خان تحریر: نعیم عباس

    وطن کا محافظ عمران خان تحریر: نعیم عباس

    20 سال قبل جب امریکہ طاقت میں بدمست نے افغانستان پر حملہ کیا تو مرد قلندر نے ساری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اس کا فوجی حل نہیں اس بات پر ساری دنیا نے اس کا مذاق اڑایا اسکو مختلف ناموں سے پکارا طالبان خان وغیرہ وغیرہ !

    اس نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مشرف کو خبردار کیا کہ اس جنگ میں حصہ مت لو یاد نہیں جب 1935 میں انگریزوں نے پورے ہندوستان سے قبائیلی اضلاع اور افغانستان سائیڈ میں ڈپلائے کی ۔۔ یہ بندوق کی لڑائی ہرگز نہیں۔تاہم پارلیمنٹ میں اس کا ٹھٹہ اڑا اور کوئی اس کے حق میں نہیں بولا !

    اس نے زداری دور میں ڈرون اٹیکس کے خلاف لانگ مارچ کیا کہ اس کو بند کروا دو تو سب نے اسکا مذاق اڑایا کہ امریکہ کو کون منع کرسکتا ہیں یہ سب تو امریکہ کے ہاتھ میں ہیں (کیونکہ انہوں نے جو بوری بھر کر ڈالر لیے تھے اب اپنے آقا خوش کرنا تھا) معصوم لوگ مارے گئے قبائیلی علاقوں میں (وزیرستان) معصوم لوگوں کے گھر 🏠 اجڑ گئے لوگوں بے گھر کردیا تھا!

    مشرف سے لیکر گیلانی تک زرداری سے لیکر نواز تک سب کو سمجھایا کہ ہم امریکہ کی غلامی نہیں بلکہ برابری چاہتے ہیں اس پر سب ہنسے کہ امریکہ کے ساتھ برابری کیسے ممکن ہیں کیونکہ یہ سب تو پیسوں کے پجاری تھے (چند ٹکڑوں پر بھیکنے والے لیڈرز ہیں) ان سب کو پیسے عزیز تھے !

    پھر دنیا نے دیکھا اس نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی سپر پاور کی نیٹو سپلائی روکر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اس نے قوم کو سبق دیا کہ زمینی خداؤں سے الجھنا اتنا مشکل نہیں جتنا غلامی کے زنجیروں سے جکڑا ہوا سوچ رہے ہیں اور اگست 2018 میں آخری ڈرون گرا کر آج تک اس کی حکومت میں سپر پاور نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی اس نے ایبسلیوٹلی ناٹ (Absolutely Not) کہا اور سپر پاور کو اس کی اوقات دکھا کر برابری کے باتوں کو سچ ثابت کردیا بیس سال بعد بھی افغانستان میں اس کی پیشنگوئی سچ ثابت ہورہی ہیں کل دنیا نے دیکھا افغانستان کا اعلی سطحی وفد سب سے پہلے اسے ملنے پہنچا کل تک پاکستان کو اپنے جوتے کے دھول سمجھنے والوں کو اپنے فیصلے سے قائل کرکے پاکستان کے برابر ہونے کا ثبوت دیا کل تک دنیا میں تنہاء ہونے والے پاکستان کے فیصلوں کا آج ساری دنیا منتظر رہتی ہیں !
    ‏برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کی وزیراعظم عمران خان کو کال
    ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن کی عمران خان کو کال
    جرمن وزیراعظم اینگلا مرکل وزیراعظم خان کو کال کریں گی۔
    ترک وزیر اعظم کی وزیر اعظم خان کو کال

    کیا یہ وہی پاکستان نہیں ہے جو پچھلی حکومتوں میں دنیا میں تنہا ہو گیا تھا۔۔۔
    جی ہاں میں بات ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کا کررہا ہوں جنہوں نے دنیا کے سامنے پاکستان کا شان و شوکت بڑھایا!
    ماضی میں پاگل /طالبان خان / کرکٹر / جزباتی خان / یہودی ایجنٹ کہلانے والے کی فیصلوں سے آج پوری دنیا اس کی دیوانی ہوچکی ہیں

    ایک ملک میں ویسے تو لاکھوں کڑوروں لوگ رہتے ہیں اور سب ہی اپنے ملک سے بے انتہا محبت کرتے ہیں ۔ بہت سے اپنی جان تک نچھاور کر دیتے ہیں ۔ لیکن کچھ وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو صرف اور صرف انسانیت ہی کے لیے جیتے ہیں ۔ ایسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں پاکستان کی سرزمین پر عمران خان جیسے عظیم انسان نے جنم لیا جس نے زندگی کا آغاز ایک عام سے کرکت کھلاری سے کیا لیکن آخر پاکستان کو وہ دے گیا جو نا پہلے اور نا ہی اس کے بعد آج تک کوئی پاکستانی دے سکا ، وہ تھا کرکٹ ورلڈ کپ 1992. اس ورلڈ کپ کو جیتنا شائد عمران خان کے ایک خواب کی تعبیر کی طرف پہلا قدم تھا ۔عمران خان نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کا خواب دیکھا جب اس نے اپنی والدہ محترمہ کو کینسر کہ مرض میں مبتلا ہوتے دیکھا اور پھر اسی مرض کی وجہ سے زندگی کی بازی ہارتے دیکھا ۔ جو درد عمران نے محسوس کیا اپنی ماں کے لیے جب وہ کینسر جیسے مرض سے لڑ رہی تھی اسی درد کا نتیجہ تھا کہ پاکستان جیسے غریب ملک میں کینسر کا مکمل اور غریب کے لیے بغیر کسی پیسے کے علاج مہیا کر دیا ۔ آج لاکھوں اس ملک کے غریب اور بے سہارا لوگوں کا مسیحا ہے عمران خان ۔
    یہی جب عمران نے دیکھا کہ میانوالی جیسے پسماندہ علاقے میں تعلیم کا حصول کتنا مشکل ہے تو میانوالی کے لوگوں کو بڑیدفورڈ کی ڈگری بغیر پیسوں کے اسکالرشپ پر مفت تعلیم مہیا کر دی . عمران کی زندگی انسانیت سے شروع ہوتی ہے اور ختم بھی انسانیت پر ہوتی ہے نہیں جب عمران خان نے حکومت سنبھالی تو احساس پروگرام جیسے کام شروع کیے جس سے غریب آدمی کو 2 وقت کا کھانا مل رہا ہے رہنے کے لیے چھٹ مل رہی ہے ۔غریب لوگوں کو کاروبار کے مواقع مل رھے ہیں ۔ ہمیشہ سے عام آدمی کا درد عمران خان نے دل میں محسوس کیا ہے ۔ ایسے اللہ والے لوگ جو انسانیت کا درد رکھتے ہیں صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ۔ اس عظیم انسان کی زندگی ایسی بہت سے مثالوں سے بھری پڑی ہے اور ہمیشہ اسے یاد رکھا جاۓ گا ۔ داستانیں اور بھی ہیں اس عظیم وطن کے بیٹے کی جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں ۔ سب کو انسانوں کی خدمت ، مدد اور انکا احساس کرنے کی توفیق دے ۔ اللہ آمین
    پاکستان ذندہ باد
    عمران خان پائندہ باد
    @ZaiNi_Khan_NAK

  • ہم کیا ہیں تحریر  ہما عظیم

    ہم کیا ہیں تحریر ہما عظیم

    ہم کیا ہیں ایک مٹی کا پتلا جس کے اندر جان ڈال دی گٸی ہے۔۔کچھ عقل ڈالی گٸی ہے کہ کچھ خاص ہو جاٸے۔جیسے ایک کھلونے والا کھلونے بناتا ہے۔کسی کو ایسے ہی بنا دیتا ہے کہ ہاتھ سے چلاٶ۔کسی میں سیل ڈال کر کچھ خاص کر دیتا ہے
    ہم بھی کھلونا ہیں اپنے رب کا۔۔۔عقل ڈال کر خاص بنا دیا گیا ہے۔۔پھر کہا گیا تمہیں میں نے بنایا۔۔۔تمہارے پاس جو کچھ ہے میری نعمت کے طور پر امانت ہے۔جب چاہے لے لوں واپس۔مگر تم نے اس کی حفاظت کرنی ہے۔اور ویسے کرنی ہے جیسے میرا حکم ہے۔ زبان کی حفاظت آنکھ کی حفاظت ہاتھ پاٶں یہاں تک کہ سوچ کی حفاظت کرنی ہے بھٹکنے نہیں دینا ورنہ خسارے میں رہو گے۔
    ایک کھلونا اپنے بنانے والے کے زیر اثر ہوتا ہے۔
    اور ہم ۔۔۔۔ہم سرکش ہونے چلے ہیں۔۔”میرا جسم میری مرضی“ کے نعرے لگانے چلے ہیں
    یہ سوچے بغیر کہ بنانے والا توڑنا بھی جانتا ہے پھر۔۔جب اسے لگتا ہے میں نے جو بنایا ہے یہ” آٶٹ آف آرڈر“ ہو رہا ہے تو پرزے کھول دے گا۔۔
    پھر ۔۔۔۔۔پھر پکارو گے تم اپنے خالق کو۔۔پھر وہ بنانے والے کی مرضی چلے گی کہ تمہیں توڑے رکھنا ہے کہ پھر جوڑنا ہے۔۔
    اس نے تمہیں بنایا اور تمہیں چلانے کی کتاب دی ”رولز اینڈ آرڈر“ کی ”کی بک“ساتھ دی”قرآن پاک“
    اگر اپنے خالق کی مرضی سے ہٹ کر اپنی مرضی چلانے کی کوشش کرو گے۔تو پھر جب وہ جلال میں آۓ گا تو تم اپنی مرضی بھول جاٶ گے۔۔اور ہو گا تو وہی جو اسکی مرضی ہے۔اب جڑے جڑے قبول کرو یا ٹوٹ کر قبول کرو
    بات یہ ہے سادی سی کہ ہمارے پاس ہمارا سب کچھ ایک امانت ہے۔۔
    کیوں ہے۔۔؟ کیونکہ ہمیں کسی نے تخلیق کیا پھر دنیا میں اپنا ناٸب بنا کر بھیجا کچھ قاٸدے قوانین بتاۓ سمجھاۓ کہ آپ نے ایسے زندگی گزارنی اگر آپ اس سے روگردانی کریں گے تو آپ سے سوال ہو گا۔۔سزا ملے گی۔۔۔
    ہم اپنی مرضی سے اپنی تقدیر نہیں بدل سکتے۔۔
    ہم اپنی مرضی سے جنس نہیں لے سکے۔۔
    اپنی شکل وصورت پہ ہمارا کوٸی اختیار نہیں۔یہاں تک کہ ہم نے جس گھر میں پیدا ہونا تھا وہ تک خالق نے اپنی مرضی سے چنا۔
    ہم نے اپنا دانہ کہاں کہاں کھانا ہے یہ تک پہلے سے طے ہے تو کیا نتیجہ نکلا کہ ہم اپنی مرضی نہیں کر سکتے ہمیں اجازت نہیں ہے
    پھر کس زعم میں ہیں یہ میرا جسم میری مرضی والے۔۔صاف ظاہر ہے یہ نافرمانی کرنا چاہتے ہیں۔بغاوت کرنا چاہتے ہیں اپنے خالق کی حکمرانی سے۔۔دوسروں کو بھی ورغلا کر اپنا سورج چاند جیسےعیلحدہ اگانا چاہتے ہیں جو ناممکن ہے شیطان نے بغاوت کی آج تک زلیل ہے۔اور قیامت تک رہے گا۔
    اور اب انسان بغاوت پر اتر آیا ہے۔۔حکم الہی کی دھجیاں اڑاٸی جارہی ہیں۔۔دلیلیں دی جارہی ہیں تاویلیں گھڑی جا رہی ہیں۔۔آیتوں کا مزاق اڑایا جارہا ہے۔۔عورت عورت کے پردے پر تنقید کر رہی ہے۔
    مرد عورت کو ورغلا رہا ہے باہر آجاٶ میں تمہارا نام نہاد محافظ بنوں گا۔۔محرم دشمن بناۓ جا رہے ہیں نامحرم دوست بناۓ جارہے ہیں۔۔بچوں کی تربیت سوشل میڈیا کر رہا ہے۔جنھوں نے تربیت کرنی تھی وہ میرا جسم میری مرضی کے بینر اٹھاۓ نعرے لگاتے پھر رہے۔
    ارے اللہ کے بندو تم آج بیمار ہو جاٶ تم اپنی مرضی سے اپنی بیماری دور نہیں کر سکتے جب تک تمہارا رب نہ چاہے۔۔
    آج تمہں موت آ گھیرے تم اسے نہیں روک سکتے کہ مجھے ابھی اور جینا ہے
    تم اپنے جسم سے بچہ نہیں پیدا کر سکتے جب تک تمہارے رب کا حکم نہ ہو۔۔۔
    تو کیا کر لو گے یا کر لو گی تم اپنی مرضی سے سواۓ اس کے کہ تم نافرمانی کر کے بغاوت کر کے اپنے لٸیے جہنم میں جگہ بنا لو۔۔۔۔بس یہیں تک چلے گی مرضی ۔۔بس اسکے آگے
    نہ تم کچھ کر سکتے تھے
    نہ تم کچھ کر سکو گے۔

    @DimpleGirl_PTi

  • طالبان کو درپیش چیلنجز      تحریر: ثمرہ اشفاق

    طالبان کو درپیش چیلنجز تحریر: ثمرہ اشفاق

    15اگست بھارت کے یوم آزادی والے دن افغان طالبان باآسانی تمام صوبوں پر اپنا کنٹرول سنبھالنے کے بعد دارالحکومت قابل پہنچے۔خون ریزی اور افراتفری سے بچنے کے لئے صدارتی محل میں مذاکرات شروع ہوئے۔سابق صدر اشرف غنی یہ بھانپ چکے تھے کہ جہاں سرکاری فوج ریت کا ڈھیر ثابت ہوئی اور ہتھیار ڈال دیئے وہاں اقتدار سے الگ ہونا ہی مصلحت ہے۔اس لیئے ان سمیت تمام سرکاری عہدیداران نے ملک سے فرار اختیار کر لی۔
    یوں افغانستان میں ایک بار پھر اقتدار طالبان کے حصے میں آیا۔ اقتدار سنبھالتے ہی بدلے ہوئے طالبان کے بدلے ہوئے انداز تھے۔تمام لوگوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے طالبان نے کسی کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کیا۔خواتین کو تعلیم سمیت تمام شرعی حقوق دینے کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے پرامن رہنے اور بلا خوف وخطر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
    غیر ملکیوں سے سفارت خانے نہ بند کرنے اور انہیں مکمل سیکیورٹی کی یقین دہانی کروائی گئی۔
    گو کہ بظاہر افغانستان میں معمولات زندگی بحال ہونے لگے لیکن طالبان کو ابھی بیشتر چیلنجز درپیش ہیں،جن میں سب سے اہم مسئلہ معاشی ہے، امریکہ جو کہ افغانستان میں شکست سے دو چار ہو کر نکل رہا ہے اس نے افغانستان کے مرکزی بینک کے ساڑھے نو ارب ڈالر یہ کہہ کر منجمد کر دیئے کہ اس رقم کی رسائی ہرگز طالبان تک نہیں ہونے دیں گے۔اس کے بعد عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف نے بھی مالی امداد یہ کہہ کر روک دی کہ طالبان کو تسلیم کرنے کے حولے سے عالمی موقف غیر واضع ہے۔اس کے بعد جرمنی نے بھی 43 کروڑ ڈالر کی امداد بند کر دی۔تاہم یورپی یونین نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھی ہے۔اس طرح طالبان کے لیے امداد کے بغیر معیشت چلانا ایک بڑا چیلنج ہے۔
    معاشی چیلنج کے ساتھ ساتھ طالبان کے لیئے اقوام عالم کا اعتماد جیتنا اور خود کو تسلیم کروانا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں۔گو کہ طالبان کا انداز انتہائی محتاط ہے اور وہ کہیں بھی خود پر تنقید کا موقع نہیں دینا چاہتے لیکن عالمی برادری اس حکومت کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے اور پہل کرنے سے کترا رہی ہے۔پاکستان،روس اور چین کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر ہونے کے باوجود ابھی تک واضح حمایت حاصل نہ ہو سکی۔
    اس کے علاوہ بہت سے پڑھے لکھے اور ہنرمند افراد بھی افغانستان سے باہر یا تو جا چکے ہیں یا جانے کے انتظار میں ہیں۔جبکہ طالبان یہ اعلان کر چکے کہ اپنے ملک کی ترقی میں یہاں رہ کر کردار ادا کریں۔ان کا اعتماد حاصل کرنا بھی افغانستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
    تیسرا بڑا مسئلہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔
    امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارت بھی افغانستان سے ناکام اور مایوس ہو کر نکلا ہے۔بھارت افغانستان میں سرمایہ کاری کے بہانے وہاں کی سر زمین استعمال کر کہ امریکہ،اشرف غنی اور این ڈی ایس کی معاونت سے پاکستان میں بدامنی پھیلاتا رہا ہے۔اگرچہ سفارتی بہروپیے وہاں سے نکال لئے گئے لیکن بھارت بچے کچھے جاسوسوں اور دہشت گردوں کے ذریعے افغانستان میں بدامنی کی کوشش کرے گا۔
    چاہے وہ قومی پرچم کو لے افغان عوام کو شتعال دلانا ہو یا خواتین کے حقوق کے نام پر پراپیگنڈا،بھارت باز نہیں آئے گا۔
    دوسری جانب امریکہ بھی اپنا اثرورسوخ آسانی سے ختم نہیں کرے گا۔اپنی شکست کے گھاؤ بھرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
    جیسا کہ امریکہ نے خدشہ ظاہر کیا اور قابل ایئر پورٹ حملوں سے گونج اٹھا جس میں اب تک 183 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
    اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی اور اس کو جواز بنا کر صوبے ننگرہاری میں آج امریکہ کی جانب سے ڈرون حملا کیا گیا۔اور قابل دھماکے کے منصوبہ ساز کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔
    کہتے ہیں کہ افغانستان بادشاہوں کا قبرستان ہے،اس کو فتح کرنے کے خواب دیکھنے والے بس خواب ہی دیکھتے رہ گئے۔
    لیکن افغانستان مزید کسی بدامنی یا خونریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔پاکستان میں امن،افغانستان میں امن سے مشروط ہے۔طالبان متعدد بار یقین دہانی کروا چکے کہ اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔امید کرتے ہیں ایسا ہی ہو ۔اب افغان عوام طالبان کو تسلیم کر چکی ہے تو امید کرتے ہیں اقوام عالم بھی طالبان کو تسلیم کر کہ امن کی خاطر حکومت سازی کا موقع دیں گے۔اس خطے میں بہت خون بہہ چکا،اب چمن کو کھلنے دو۔

  • قانون امیر کا 

    قانون امیر کا 

    اس کائنات کا نظام تو خدا چلا رہا ہے مگر اس دنیا کا سماجی نظام امیروں کے ہاتھ میں آچکا ہے، اور وہ اس نظام کو اپنے فائدے کے لئے ہی چلا رہے ہیں۔ صرف پاکستان نہیں بلکہ اس دنیا کا قانون امیروں نے خود بنایا ہے، تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ کوئی امیر ایسا قانون بنائے گا جو اس کے نہیں کسی غریب کے فائدے میں ہو؟

    یقینا نہیں کوئی سرمایہ دار کسی مزدور کے لیے اچھی اجرت منتخب نہیں کرے گا۔ یہ تمام پارلیمنٹ میں امیر لوگ اپنے فائدے کے لیے ہی بناتے ہیں پاکستان کا قانون بھی امیروں کے فائدے کے لئے ہی بنا ہے۔
    اس قانون میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ جو پیسا باہر گیا ہے اسکا کوئی ثبوت نہ ہو۔ بلکہ اس میں کالے پیسے کو سفید کرنے کے لئے گنجائش رکھی ہوئی ہے۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب اکثر قانون کے دائرے میں رہ کر ہوتا ہے۔ اور اسکو عدالت میں ثابت کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ اس لیے زرداری، نواز شریف، جانگیر ترین وغیرہ وغیرہ جیسے کرپٹ لوگ پکڑے نہیں جاسکتے۔ سب سے مزیدار بات عمران خان سمیت یہ سب امیر لوگ اس قانون کو بدلناہی نہیں چاہتے، کیوں کہ یہ قانون ان کے فائدے میں ہے، غریب کو غریب تر امیر کو امیر تر بنانا اس قانون کا ہی کمال ہے۔ عمران خان نے یہ نعرے صرف عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے لگائے اور کیونکہ اکثر لوگ اس بات کو نہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،اور بار بار بیوقوف بنتے ہیں۔ عمران خان کے اپنے ساتھیوں پر کرپشن کا الزام لگے ،انہوں نے کیا کیا؟

    کچھ نہیں، یہ صرف پاکستان کا مسلہ نہیں، جیسا کہ یہ قانون پوری دنیا کے امیروں نے بنایا ہے اور اسکا مقصد انکے پیسے کو بڑھانا اور محفوظ کرنا ہے۔ تیسری دنیا کے اکثر ممالک اس کا شکار ہیں ۔ اور ایسی مثالیں ملنا بہت کم ہے کہ دنیا میں کبھی بھی کسی ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس ملا ہو۔جیسے کہ عمران خان سے نہ آج تک پاکستان کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لایا گیا نہ ہی چور پکڑے گئے، اور نہ ہی پکڑے جائیں گے یہ عوام کو پاگل بنانے کا ایک طریقہ ہے، جو عمران خان جیسے حکمران عوام کو بیوقوف
    بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ 2018 میں 300 کنال کے بنی گالہ میں بیٹھ کر ریاست مدینہ کا نعرہ لگا اور ہماری مظلوم عوام بھی اس پر ایمان لے آئی, کیوں کہ ان حکمرانوں نے عوام کا شور ختم کردیا ہے۔

    جب تک عوام اپنا شعور اجاگر نہیں کرے گی اور اپنے حق کے لیے کھڑی ہوکر پارلیمنٹ میں نہیں جائے گی، تب تک اسے مہنگائی غربت اور مفلسی میں ڈوبی زندگی گزارنی پڑے گی۔

  • حب وطنی کی خواہش تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    حب وطنی کی خواہش تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    حب وطن کے معنی ہیں اپنے وطن سے محبت کرنا اور وطن کی بھلائ اور بہتری کے لئے کوشاں رہنا یہ ایک قدرتی جزبہ یے جو پیدائشی طور پر ہر شخص کی جبلت میں شامل یے جومرتے دم تک اس کے ساتھ رہے گا اس جزبے کا نام محبت یے انسیت ہے ۔جو لوگ کسی ایک ہی مخصوص مقام یا مخصوص حدود اربعہ میں رہتے ہیں وہ ان کا وطن کہلاتایے۔۔ہس اپنے وطن سے اور اپنےوطن والوں سے محبت ایک قدرتی امر ہے ۔۔اگر یہ باہمی محبت ٹوٹ جائے تو دنیا والوں کے باہمی تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔۔
    حب الوطن ایمان کا حصہ ہے اور اس کی صحیح قدرو قیمت کا اندازہ ویی شخص کر سکتا یے جو اپنے وطن سے دور اپنے بچوں کی خوشیوں کی خاطر
    غریب الوطنی میں دھکے کھا رہا ہو انسان کسی دوسرے ملک میں خواہ کتنا ہی ترقی کر لے اور کتنا ہی امیر کبیر ہو جائے اور وہاں کام کے عیوض بھلے کتنا ہی خوشحال کیوں نہ ہو جائے پھر بھی وطن کی یاد اسے بے چین کر دیتی یے وطن کی زمین کا ایک ایک زرہ اسے تڑپاتا ہےاسے اپنا گھر۔ محلہ۔ گلی۔ دوست سب یاد آتے رہتے ہیں اس ماحول سے مانوسیت کے سبب پیارجاگتا رہتا ہے اسے وہیں راحت ملتی ہے اس کی نگاییں وہیں لگی رہتی ہیں چایے گاوں ہو یا قصبہ یا شہر اور چاہے کچے گھر ہوں یا پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے بچپن کے دوست۔۔ وطن کی حقیقی محبت کا تقاضہ ہے کہ انسان اپنے ہم وطنوں کی خیر خواہی اور فلاح بہبود کے لٙئے دل و جان سے کوشش کرے ۔کوئ بھی ایسا کام نہ کرے جس سے ملک کی بدنامی ہو اور ہمہ وقت ملک میں ہر سطح پر بہتری کی کوشش جاری رکھنی چاہئے یہاں تک کے ملک میں ہونے والے انتخابات میں بھی ایماندار اور مخلص لوگوں کا چناو کرے اور اپنی ذات سے ملک کی معاشرتی اور معاشی وسائل کو ترقی دے۔۔کوشش کرے کہ زاتی اغراض سے بے نیاز رہے۔۔ وطن کے دشمنوں کے خلاف صف آراء ہوکر اپنا خون بہانے سے بھی دریغ نہ کرے کیونکہ جس ملک کے باشندوں میں حب الوطنی کا جزبہ پورا یے وہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے اسکی صنعت و حرفت ترقی کرتی یے اور دوسرے ممالک میں اس کا اعتبار بڑھتا ہے۔
    وطن سے مجبت نہ کرنے والا شخص غدار یے۔بعض اوقات ایک وطن فروش غدار کی غلطی کا خمیازہ تمام قوم کو بھگتنا ہوتا ہےماضی میں کئ مثالیں موجود ہیں جیسے”میر جعفر” نواب سراج الدولہ کی فوج میں ایک سردار تھا۔ بعد میں ترقی کرتے ہوئے سپہ سالار کے عہدے تک پہنچ گیا یہ نہایت بد فطرت آدمی تھا۔ اس کی نگاہیں تخت بنگال پر تھیں اس نے نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے ان کی شکست اور انگریزوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا جس کے بعد بنگال پر انگریزوں کا عملاً قبضہ ہو گیا اب اس ایک شخص کی غداری نے پورے بنگال پر انگریزوں کا قبضہ کروا دیا ۔اسی طرح کی ایک تاریخی مثال "میر صادق” ہے جوریاست حیدرآباد دکن کا ایک شہری تھا۔ یہ ٹیپو سلطان کا معتمد خاص تھامیر صادق کے بارے میں یہ مصدقہ بات ہے کہ اس نے ٹیپو سلطان سے غداری کی اور سلطنت برطانیہ کا ساتھ دیا اس کی ہی سازشوں سے "شیر میسور” کو جام شہادت پینی پڑی اور پوری قوم شکست خوردہ ہوئ۔
    حکیم الامت، علامہ محمد اقبال اپنے ایک فارسی شعر میں کہتے ہیں !
    "جعفر از بنگال و صادق از دکن،ننگِ ملت، ننگِ دین، ننگِ وطن”
    یعنی بنگال کا جعفر اور دکن کا صادق ملت اسلامیہ کیلئے باعث ننگ ، دین اسلامی کے لئے باعث عار اور وطن کے لئے باعثِ شرم ہیں۔
    اسی طرح کے میر جعفر اور میر صادق آج بھی آپ کو ملیں گے جو رہتے تو پاکستان میں ہیں لیکن کام وہ اپنے ملک دشمن آقاوں کے لئے کرتے ہیں جن کا یہ کام ہے کہ اس ملک کی محب وطن قوتوں کو سبوتاژ کرتے رہنا ۔۔کیا ہمارے سامنے ماضی کی حکومتوں کا کردار نہیں ہے جن کے ایک ایک عمل نے پوری دنیا میں ملک کی عزت و توقیر کو نقصان پہنچایااورہمیں ایک مفلس اور مقروض ملک بنا کے رکھ دیا اور اب جب کہ کوئ محب وطن قیادت آئ ہے تو اسے بھی اپنے منفی پروپیگنڈے کی بھینٹ چڑھا کر دشمن کے بیانیہ کو فروغ دے رہے ہیں۔۔
    ۔یاد رکھو دوستو
    حب وطن کا نتیجہ آزادی اور جمہوریت ہے حب الوطنی ایک آگ ہے جب وہ بھڑکتی ہے تو انسان تن من دھن اور اہل و عیال کی بھی پرواہ نہی کرتااور دیوانہ وار وطن عزیز پر نثار ہو جاتا ہے اور انسان کا دل شجاعت اور بہادری کے جزبے سے لبریز ہو جاتا ہے کاش ہم پاکستانی اس جزبہ کو اپنائیں اور ملک وقوم کی بہتری کے لئے شب وروز ایک کر دیں اور اپنی صفوں سے غدار وطن کا صفایا کر نے کے ساتھ ساتھ ملک سے ہر اخلاقی بیماری کا خاتمہ کریں تاکہ پاکستان اتنا مضبوط ہو جائے کہ پاکستان کے دشمن بری نظر اٹھانے کی بھی جراءت نہ کر سکیں اور ہمارا ملک خوشحال اور مضبوط ممالک میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔

    @Azizsiddiqui100

  • منشیات ایک زہر قاتل ہے تحریر:شمسہ بتول

    منشیات ایک زہر قاتل ہے تحریر:شمسہ بتول

    منشیات ایک زہر ہے جو کسی بھی قوم کی تباہی کے لیے کافی ہے۔منشیات کا استعمال کوئی نئی چیز نہیں ہے ، بلکہ یہ صدیوں سے عمل میں ہے منشیات ایک ناسور ہے جو کسی بھی قوم کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے ۔ جدید دور میں منشیات ، تمباکو نوشی ، آٸس وغیرہ یہ تمام چیزیں سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں ۔ وہ تمام چیزیں ہیں جو بیزاری کی کیفیت پیدا کرتی ہیں وہ بھی ایک قسم کا نشہ ہے جیسے ہیروئن ، چرس ، الکوحل چارس ، نیند کی گولیاں وغیرہ۔
    پاکستان میں منشیات کی لت بڑھ رہی ہے۔ لوگ خاص طور پر ہمارے ملک میں ان کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ہمارے کالجز اور یونیورسیٹیز میں بھی کہیں نہ کہیں بہت سے سٹوڈنٹس انکا شکار ہو چکے ہیں اور اپنا مستقبل برباد کر رہے ہیں لیکن اگر یہ سب روکنے کے لیے ابھی سے اقدامات نہ کیے گۓ تو مستقبل میں مزید خطرناک نتاٸج سامنے آٸیں گے ۔ ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق، پاکستان میں ہیروئن کے عادی لوگوں کی تعداد 60 لاکھ سے تجاوز کر گٸی ہے جن میں زیادہ تر ہماری نوجوان نسل ہے ۔ صورتحال انتہائی تشویشناک اور غیر یقینی ہو گئی ہے۔
    ایک رپورٹ کے مطابق جب سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ تمباکو نوشی یا ڈرگز وغیرہ کا استعمال کیوں کرتے تو انکا جواب تھا کہ ہم ٹینشن اور ذہنی دباٶ سے نکلنے کے لیے ایسا کرتے لیکن دور حاضر میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں میں بھی منشیات کا استعمال ہو رہا ہے ایسے بہت سے کیسیز سامنے آٸیں ہیں نشہ میں مبتلا افراد کے بقول کہ ان کے لیے اس کے بغیر زندہ زندہ رہنا مشکل ہے ۔ نوجوان لڑکے منشیات کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔ ان سب کی وجوہات بالکل واضح ہیں بے. روزگاری ، غربت ، استحصال ، خاندانی جھگڑے ، ناانصافی اور مایوسی کشیدگی میں اضافہ کی وجہ سے وہ اس راہ پہ چل پڑتےہیں ۔ یہ تمام مسائل انہیں ذہنی تناؤ کو دور کرنے کے لیے نشہ آور ادویات کے استعمال پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ منشیات انہیں عارضی اطمینان دیتی ہیں۔مگر رفتہ رفتہ وہ ان کے اندر سرایت کر جاتی جو کہ ایک زہر قاتل ثابت ہوتیں۔
    ماضی کے مقابلے میں ہمارے ملک میں ہر قسم کی ادویات آسانی سے دستیاب ہیں قانون کا خوف ختم ہو گیا ہے مافیا بہت آسانی سے اس زہر کو نوجوان نسل میں پھیلا رہا ہے۔ ڈرگ پیڈیارس ، اینٹی نارکوٹکس اور بہت سے کرپٹ لوگوں کی ملی بھگت سے ، نشہ آور چیزیں بے خوف فروخت کرتے ہیں یہ ان تمام غداروں کے لیے منافع بخش کاروبار بن گیا ہے جو یہ منشیات فروخت کرتے ہیں۔ جسم اور روح پر ان منشیات کا اثر سحر انگیز ہے۔ یہ ہمارے پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ سب سے پہلے یہ تپ دق (ٹی بی) کا سبب بنتا ہے۔ یہ کسی شخص کی عزت اور وقار کو کم کرتا ہے۔ وہ دوسروں کے لیے ہنسی کا سامان بن جاتا ہے۔ تیسرا ، منشیات کا عادی مجرم ، ڈاکو اور چور بن جاتا ہے۔ وہ منشیات حاصل کرنے کے لیے پیسے یا کوئی اور چیز چوری کرسکتا ہے کیونکہ اس کے لیے ایک دفعہ اس نشے کی لت لگ جانے کے بعد دوبارہ اس سے نکلنا بہت مشکل ہو جاتا وہ اپنا نشہ حاصل کرنے کے لیے حلال حرام اور صحیح اور غلط کے تمام فرق بھول جاتا ہے جو صرف اس کی زات کے لیے نہیں بلکہ اس کے ارد گرد کے افراد اور معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ منشیات کا سب سے اہم نقصان یہ ہے کہ یہ دوسری قوموں اور ملکوں کی نظر میں کسی ملک اور قوم کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے۔
    لہذا اس نازک صورتحال میں منشیات کے ہر قسم کے استعمال کو کچلنا بہت ضروری ہے۔ اسے کچلنے کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ میڈیا کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے بڑے پیمانے پر میڈیا کو اس برائی کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کرنی چاہیے۔ کھیلوں ، سیاحت جیسی صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے ۔ والدین کو چوکس رہنا چاہیے اور اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے ان سے بات چیت کرنی چاہیے ایک دوسرے سے معاملات ڈسکس کرنے چاہیں۔ ان تمام اقدامات کے علاوہ سرکاری سطح پر بھی منشیات فروشی کو سختی سے کنٹرول کیا جانا چاہیے جو بھی ان میں شامل ہوں ان کے خلاف سخت کارواٸی عمل میں لاٸی جاۓ تا کہ دوسرے لوگ اس طرح کے کاموں میں نہ پڑے اور نشے سے چھٹکارا پانے کے لیے جو ادارے بناٸیں گے ہیں وہاں پہ بہتر اننتظامات کو ہر ممکن یقینی بنایا جاۓ بچوں میں سکول ، کالجز اور یونیورسیٹیز میں اس سے متعلق شعور اجاگر کیا جاۓان سب اقدامات کی بدولت ہی ہم اپنے معاشرے کو منشیات کی لت کے نقصانات سے بچا سکتے ہیں۔

    @b786_s

  • پاکستان میں شہری کاری کا عمل   تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان میں شہری کاری کا عمل تحریر: زاہد کبدانی

    شہری کاری ایک عالمی رجحان ہے جس میں مختلف ممالک دیہی شہری نقل مکانی کے مختلف نرخوں اور نمونوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ پوری دنیا ایک شہری مرکز میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں پچھلے چند دہائیوں کے دوران زیادہ تر لوگ بڑے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ ہر قوم ، ہر شہر ، ہر فرد کسی نہ کسی طرح اس عمل میں شامل ہے۔ وسط صدی سے پہلے ، شہری ترقی زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک تک محدود تھی لیکن تب سے یہ ترقی پذیر ممالک میں پھیل چکی ہے۔ اب دنیا کے تقریبا تمام ترقی پذیر ممالک شہری کاری کے تیز عمل کا سامنا کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں ایشیا پیسیفک خطے میں شہری آبادی کی ایک معتدل سطح ہے ، دونوں کی بنیاد پر ، شہری کاری کی سطح اور شہری ترقی۔ تاہم جنوبی ایشیائی ممالک میں شہری علاقوں میں رہنے والوں میں پاکستان کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ اعداد و شمار 1 میں ، ہم شہری کاری کی سطح دیکھ سکتے ہیں جو آبادی کے سنس پر مبنی ہیں۔ سال 2005 شہری آبادی کی 35 فیصد کی تخمینی قیمت ظاہر کرتا ہے۔ 1951 سے 1998 کے دوران شہری آبادی 17.4 فیصد سے بڑھ کر 32.5 فیصد ہوگئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2030 تک آدھی آبادی شہری مراکز میں رہائش پذیر ہوگی۔

    بڑے پیمانے پر شہری کاری پرانے ڈھانچے کو توڑ رہی ہے جو ہمارے معاشرے میں بنیادی انقلاب کا باعث بن رہی ہے۔ پاکستان میں اربنائزیشن کی ترقی اربوں نئے شہریوں کی خواہشات اور امیدوں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ایک سائیکلیکل عمل ہے جس کا ایک ملک تجربہ کرتا ہے کیونکہ یہ ایک زرعی سے ایک صنعتی معاشرے کی طرف بڑھتا ہے۔ وہ معاشی طور پر پسماندہ علاقوں سے ہجرت کر کے ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں بہتر مواقع پیش کیے جاتے ہیں۔ چاروں صوبوں کے درمیان شہری آبادی پھیلا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ شہری صوبہ سندھ (کراچی اور حیدرآباد) ہے جس کے بعد پنجاب (لاہور ، فیصل آباد اور پنڈی) ہے جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا سب سے کم شہری ہے۔ قدرتی اضافہ (آبادی میں اضافہ) اور دیہی شہری نقل مکانی شہری ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ اگرچہ شہری کاری صنعتی کاری کا بہترین امتحان ہے ، پاکستان کی صورت میں شہری کاری معاشی ترقی سے باہر نکل گئی ہے۔ زیادہ شہری کاری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ شہری سے دیہاتی کی طرف ‘کھینچنے’ کے مقابلے میں دیہی سے شہریوں میں زیادہ ‘دھکا’ ہے۔ بڑھتی ہوئی شہری کاری کے ساتھ مل کر ‘لائیو ایبلٹی رینکنگ’ میں اضافہ ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ تاہم موجودہ منظر نامہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا تو ‘لائیو ایبلٹی رینکنگ’ بہت کم ہو جائے گی۔ مسئلے کی سنگینی کو جانتے ہوئے ، اس کی تشویش سماجی سائنسدانوں اور حکومت پاکستان کے درمیان بڑھ رہی ہے کہ وہ شہری علاقوں کے محدود وسائل پر بڑھتے ہوئے بوجھ کی وجہ سے ان شہروں کی پائیدار ترقی کے لیے اصلاحی اقدامات کرے۔

    معیشت میں دیہی شہری نقل مکانی کی اہمیت

    انسان دوسرے جانداروں کی طرح ہیں جو اپنے اعمال کی ضمنی مصنوعات سے اپنے ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں۔ جب تک آبادی کم تھی ، ماحول ان تبدیلیوں کا انتظام کرنے کے قابل تھا۔ تاہم پاکستان کے معاملے میں ، ماحولیاتی تباہی خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔

    پچھلے 60 سالوں میں ، معاشی ترقی کے عمل نے متعدد تبدیلیاں لائی ہیں اور اس عمل کا سب سے اہم عنصر دیہی سے شہری نقل مکانی ہے۔ یہ بڑے شہروں اور دیہاتوں کے چہرے بدل رہا ہے۔ اس کے مزید بڑھنے کی توقع ہے حالانکہ بہت سے شہر پہلے ہی سنترپتی مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مزید آبادی سب کو بنیادی خدمات کی فراہمی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ کراچی ، لاہور ، فیصل آباد اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں اثرات کی شدت انتہائی اہم ہے جہاں شہری ادارے ان مسائل کو سنبھالنے میں بری طرح ناکام ہو رہے ہیں۔

    بڑے شہری خوابوں میں سے ایک ٹھوس کچرے کا انتظام ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت کی کمی اور مناسب ضیاع کو ٹھکانے لگانے کی وجہ سے ، 40 فیصد فضلہ اٹھایا نہیں جاتا اور گلیوں میں سڑتا رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ، زیادہ سے زیادہ لوگ ہوا اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ ماحولیاتی توازن کے لیے اہم سبز اور کھلی جگہ کا کھانا بھی ماحول کو خراب کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ہوا ماحول کے معیار کو کنٹرول کرتی ہے۔ پاکستان میں ہوا اتنی آلودہ ہے کہ اسے ننگی آنکھوں سے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

    تاریخی عمارت اب نہیں دیکھی جا سکتی اور یہاں تک کہ محفوظ یادگاروں میں بھی توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے۔ بغیر سوچے سمجھے درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ دیہی شہری نقل مکانی کے حوالے سے کوئی بھی ترقیاتی ایجنسیوں کے کام کو مربوط نہیں کرتا۔

    پاکستان میں شہری تباہی کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیوریج کا کوئی مناسب نظام نہیں ہے ، سڑکوں پر ٹریفک سنگین حادثات کا باعث بنتی ہے ، شہری مراکز میں جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور ہر ممکن جگہ پر گندگی دیکھی جا سکتی ہے۔ حکومت محدود وسائل کی وجہ سے سستی قیمتوں پر سیکورٹی ، پرائمری/سیکنڈری تعلیم کے اچھے معیار اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس وجہ سے ، نجی شعبہ اس طرح کے کردار ادا کرنے کے لیے آگے آیا ہے لیکن سماجی انصاف کی قیمت پر ، کیونکہ پیش کی جانے والی خدمات بہت مہنگی ہیں اور صرف ایک چھوٹا سا حصہ اسے برداشت کرنے کے قابل ہے۔

    مثالی صورت حال دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان لوگوں کی مساوی تقسیم ہوگی۔ تاہم ، مہاجرین بہتر معاشی اور تعلیمی مواقع اور بہتر معیار زندگی کے ساتھ شہری زندگی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کو موجودہ آبادیاتی رجحان کو چیک کرنے کے لیے سختی سے سوچنا چاہیے۔ اربنائزیشن زور سے چیخ رہی ہے ، مداخلت کی التجا کر رہی ہے۔

    @Z_Kubdani

  • تمباکو نوشی اور پاکستان  تحریر: عتیق الرحمن

    تمباکو نوشی اور پاکستان تحریر: عتیق الرحمن

    تمباکو نوشی موت کی ایک اہم وجہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تمباکو کا استعمال اس وقت دنیا بھر میں دس میں سے ایک بالغ کی موت کا ذمہ دار ہے اور ہر سال تقریبا million 5 ملین اموات ہورہی ہیں ۔ مزید یہ کہ ، جب تک حالات تبدیل نہیں ہوتے ، 25 سالوں میں سالانہ اموات کی تعداد دگنی ہو جائے گی۔ لاکھوں لوگ قبل از وقت تمباکو سے متعلقہ بیماریاں پیدا کریں گے جو دائمی معذوری کا باعث بنتے ہیں۔ 1،2 سگریٹ پینے والے افراد پھیپھڑوں کے کینسر سے مرنے کے 12 گنا زیادہ ، کورونری دل کی بیماری کے دو سے چار گنا زیادہ ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔ فالج ، اور پھیپھڑوں کی بیماری سے مرنے کا امکان 10 گنا زیادہ بڑھ چکا ہے
    پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تمباکو نوشی کا پھیلاؤ مردوں میں 36 فیصد اور خواتین میں 9 فیصد ہے۔ پاکستان میں نوجوان بالغوں خصوصا یونیورسٹی کے طلباء میں تمباکو نوشی کا پھیلاؤ 15 فیصد ہے جس میں اکثریت مرد تمباکو نوشی کرنے والوں کی ہے۔ یہ ملک کو آہستہ آہستہ صحت مند افرادی قوت سے محروم کر رہا ہے اور پہلے سے زیادہ بدحال صحت کے شعبے میں بیماری کا بوجھ بڑھا رہا ہے۔ نوجوانوں کے سگریٹ نوشی شروع کرنے کی وجہ پیچیدہ اور کثیر جہتی ہے۔ اس میں حیاتیاتی ، جینیاتی ، نفسیاتی ، معاشی اور معاشرتی متغیرات کا ایک میزبان شامل ہے۔ بلاشبہ سب سے زیادہ تبدیل کرنے والے عوامل سماجی اور ماحولیاتی نوعیت کے ہیں ، بشمول والدین ، ​​بہن بھائیوں ، دوستوں اور عام لوگوں کے تمباکو نوشی کی نمائش۔
    والدین کے سگریٹ نوشی کے رویے نہ صرف نوجوانوں کے آغاز میں بلکہ ان کی سگریٹ نوشی کی عادتوں کو بڑھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے پائے گئے ہیں۔ تحقیق سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کم از کم ایک سگریٹ نوشی کرنے والے والدین کے بچوں میں تمباکو نوشی کے اعلی درجے تک بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ، ان بچوں کے مقابلے میں جن کے والدین سگریٹ نوشی نہیں کرتے۔
    متعدد مصنفین نے مشاہدہ کیا ہے کہ ایک نوجوان کا تمباکو نوشی کرنے کا فیصلہ ساتھیوں کے تمباکو نوشی کے طرز عمل سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ ، دوسرے متغیرات کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد بھی۔
    نجی اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کی نمائش تمباکو کے استعمال کی ابتدا ، دیکھ بھال اور بندش کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اور تمباکو نوشی کرنے والوں کے مقابلے میں چھوڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جنہوں نے کام کیا ہو یا ایسے مقامات پر رہتے ہو جہاں تمباکو نوشی کی کوئی پابندی نہ ہو۔ جیسے کہ نیکوٹین متبادل مصنوعات وغیرہ جہاں کم میسر ہوں وہاں کے نوجوان تمباکو نوشی کم پائے گئے ہیں
    کراچی یونیورسٹی میں کروائے گئے ایک سروے کا مقصد یونیورسٹی طلباء کی منتخب آبادی کے درمیان سگریٹ نوشی کے پھیلاؤ کے بارے میں ابتدائی تخمینہ فراہم کرنا اور تمباکو کے استعمال اور خاندان کے تمباکو نوشی کی عادات ، گھر میں تمباکو نوشی سمیت مختلف سماجی عوامل کے درمیان ممکنہ تعلقات کو تلاش کرنا تھا۔ مفت عوامی مقامات اور سگریٹ نوشی کے خاتمے کے پروگرامز کا مشاہدہ کرنا تھا

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت سے تمباکو ، شیشہ اور دیگر خطرناک نشہ آور اشیاء کے خلاف عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کا بھی کہاہے۔ اس کے جواب میں پاکستان کی دارالحکومت انتظامیہ نے دارالحکومت اسلام آباد کو تمباکو نوشی سے پاک شہر بنانے کی کوششوں کا اعلان کیا۔ یہ اقدام کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے ، تمباکو کنٹرول قوانین کے بارے میں آگاہی اور نفاذ کے ذریعے ڈبلیو ایچ او پاکستان کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے: "ہم اس اقدام کو سراہتے ہیں کیونکہ اس سے لوگوں کی صحت کی دیکھ بھال میں بہتری آئے گی”۔ انہوں نے خان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مستقبل میں تمباکو کنٹرول کو مضبوط کرے ، خاص طور پر ڈبلیو ایچ او ایم پی اوور کے اقدامات پر عملدرآمد کے ساتھ تمباکو کے ٹیکس میں اضافہ ، تمباکو کے پیک پر بڑے سائز کی تصویری وارننگ ، اور تمباکو کی تشہیر ، تشہیر اور کفالت پر پابندی سے لوگوں میں سوچ پیدا کی جاسکے گی اور کافی حد تک ممکن ہے کہ آئندہ نسل تمباکو نوشی کے نقصانات سے اگاہ ہوجائے اور اس لعنت سے دور رہیں

    @AtiqPTI_1

  • تمباکو نوشی کے صحت پر مضر اثرات تحریر: ناصرہ فیصل

    تمباکو نوشی کے صحت پر مضر اثرات تحریر: ناصرہ فیصل

    آپ جس طرح اور جس طریقے سے بھی تمباکو کا استعمال کریں یقین مانیں یہ آپکی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، کسی بھی قسم کے تمباکو میں کوئی ایسی چیز نہیں جو صحت کے لیے اچھی ہو، ایسٹون اور ٹار سے لے کر نیکوٹین اور کاربن مونو آکسائڈ تک، کہیں کوئی محفوظ اور صحت بخش اجزاء نہی ہیں تمباکو میں۔ اور جو دھواں ہم اپنے اندر لے کر جاتے ہیں وہ صرف ہمارے پھیپھڑوں کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ پورے جسم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔
    تمباکو نوشی سے ہمارے جسم کے افعال میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ لمبے عرصے تک رہنے والے اثرات بھی جسم میں رونما ہو سکتے ہیں۔ جہاں تمباکو نوشی سے آنے والے سالوں میں بہت سی بیماریوں کے ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے وہاں ہمارا جسم دن بدن بہت سی مختلف بیماریوں کی آماجگاہ بنتا چلا جاتا ہے۔ تمباکو نوشی سے نا صرف ہم خود کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں بلکہ نادانستہ طور پر ہم اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی بیماریوں کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو بھی اس دھویں میں سانس لے گا جو تمباکو نوشی کرنے والا باہر نکالتا ہے، تو اس پر تمباکو نوشی کرنے والے سے زیادہ اثر ہوتا ہے اس دھویں کا اور یوں نہ چاہتے ہوئے بھی تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے خود کو دو چار پائے گا۔ بچے خاص طور پر اس دھویں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور بچوں میں بچپن سے ہی سانس اور دل کی مختلف بیماریاں پیدا ہی سکتی ہیں۔
    تمباکو نوشی چاہے سگریٹ کی شکل میں ہو یا سگار، پائپ، حقه اور شیشہ کی شکل میں ، اسکے مضر اثرات سے آپ بچ نہیں سکتے۔ تمام صورتوں میں یہ مضر صحت ہے۔ سگریٹ میں تقریباً چھ سو مختلف اجزاء پائے جاتے ہیں ، ان میں سے زیادہ تر سگار اور حقے میں بھی پائے جاتے ہیں. جب ان اجزاء کو جلایا جاتا ہے تو ان سے سات ہزار سے زیادہ کیمیائی مادے پیدا ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر زہریلے ہوتے ہیں اور کم از کم انہتر سرطان پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
    تمباکو نوشی کرنے والوں کی شرح اموات ، تمباکو نوشی نہ کرنے والوں سے 3 گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اگرچہ تمباکو نوشی کے اثرات فوری ظاہر نہ بھی ہوں تو اس سے پیدا ہونے ولی پیچیدگیاں اور نقصان سالہا سال تک آپکے ساتھ رہینگے۔ لیکن ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ اگر آپ تمباکو نوشی چھوڑ دیں تو ان میں سے بیشتر اثرات کو واپس کیا جا سکتا ہے۔ تمباکو کا ایک جزو نیکوٹین ہے جو کے نشہ آور ہے اور اسی کی وجہ سے تمباکو نوشی چھوڑنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، نیکوٹین سے انسان کے موڈ پر بڑا اثر پڑتا ہے، نیکوٹین انسان کے دماغ میں سیکنڈز میں پہنچ کر انسان کو چست کرتا ہے لیکن تھوڑی ہی دیر میں اسکا اثر زائل ہونے پر انسان تھکاوٹ محسوس کرنے لگتا ہے اور اسکو مزید کی طلب ہونے لگتی ہے۔ اسی وجہ سے اپنے آس پاس کے لوگوں پر خامخواہ غصّہ اور چڑچڑاپن ظاہر کرنے لگتا ہے۔۔ نیکوٹین سے دوری آپکی علمی کام پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور اس سے آپ چڑچڑے، مایوس اور اداس محسوس کرنے لگیں گے۔ اور آپکو شدید سر درد اور سونے میں مشکلات بھی پیش آ سکتی ہیں۔
    جو دھواں ہم اپنے اندر لے کر جا رہے ہوتے ہیں تمباکو نوشی کے ذریعے وہ براہِ راست ہمارے پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے بہت سی سانس کی تکالیف ہو سکتی ہیں۔ اس سے ہمارے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہو جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی بیماریوں اور پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
    تمباکو نوشی چھوڑنے سے تھوڑے وقت کے لیے سانس میں مسئلہ اور ریشہ پیدا ہونے کی تکالیف ہی سکتی ہیں کیونکہ ہمارے پھیپھڑے خود کو واپس صحتمند حالت میں لے کر کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی چھوڑنے پر زیادہ مقدار میں ریشہ پیدا ہونا اس بات کی نشانی ہوتا ہے کے اب آپ کے پھیپھڑوں نے صحیح طور پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔۔
    تمباکو نوشی سے ہمارا قلبی نظام بری طرح سے متاثر ہوتا ہے۔ اس سے ہماری خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں جس سے جسم میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ اس سے خون کی شریانیں پتلی ہو جاتی ہیں جس سے فشار خون زیادہ ہو جاتا ہے اور اس سے دل کی مختلف بیماریاں ہی سکتی ہیں اور دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔
    ذرا سوچئے ہم اپنے پیاروں کو کتنی تکلیف اور پریشانی سے گزارتے ہیں اپنی ان تمام بیماریوں کی وجہ سے ، جنکو ہم آسانی سے خود سے دور رکھ سکتے ہیں تمباکو نوشی نہ کر کے۔
    اسکے ساتھ ساتھ یہ جلد کے کینسر کا بھی باعث بن سکتا ہے۔ اس سے ہمارے ہاتھوں پاؤں کے ناخن بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں، اس سے دانتوں اور بالوں پر بھی مختلف قسم کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    یاد رکھیے صحت اللہ کی دی ہوئی ایک بہت برّی نعمت ہے اسکو ایسی فضول چیزوں میں ضایع مت کریں۔ خود کو اور اپنے آس پاس رہنے والے آپکے پیاروں کو اسکے مضر اثرات سے بچائیں۔ تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔ صحت مند انسان ہی ایک صحت مند معاشرہ بنائے میں فعال ہو سکتے ہیں۔ خود کو صحت مند رکھیے، اپنے گھر والوں کے لیے ، اپنے لئے۔۔

    @NiniYmz

  • سیگریٹ نوشی روح کا کینسر تحریر : فرزانہ شریف

    سیگریٹ نوشی روح کا کینسر تحریر : فرزانہ شریف

    مجھے بچپن سے ہی سگریٹ کی خوشبو اچھی نہیں لگتی تھی عجیب سی دم گھٹتی سی سانس روکتی ہوئی سی ۔ناخوشگوار سی۔۔پھر جوں جوں بڑی ہوتی گی اس کے بارے میں جاننا شروع کیا تو خوفناک انکشاف ہوتا گیا کہ کس قدر یہ جان لیوا نشہ ہے جو انسان کو سلو سلو انداز سے اندر سے کاٹنا نوچنا شروع کردیتا ہے اور سگریٹ نوشی کرنے والا وقتی سکون حاصل کرنے کے لیے یہ جان ہی نہیں پاتا کہ وہ کتنے گھاٹے کا سودا کررہا ہوتا ہے یہ زہر نہ صرف خود اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے بلکہ انجانے میں اپنی نسلوں کو بھی اس تباہی میں شامل کرلیتا اپنی نسلوں میں بھی یہ زیر بانٹ رہا ہوتا ہے سگریٹ نوشی کرنے والا سمجھتا ہے بس وہ خود سگریٹ پیتا ہے تو باقی گھر والے اس نقصان سے بچے ہوئے ہیں تو وہ بچے ہوئے نہیں ہوتے چھوٹے بچوں سے لیکر اس کی بیوی بہین بھائی ۔ والدین اس دھویں سے متاثر ہورہے ہوتے ہیں اتنا ہی ان کے پھیپھڑوں پر اثر پڑرہا ہوتا ہے جتنا سگریٹ نوشی کرنے والے کے پھیپھڑوں پر۔۔یہ نشے کی پہلی سیڑھی ہے یہاں سے ہی انسان کی تبائی کی بنیاد پڑتی ہے سگریٹ کا عادی انسان اس نشے کا اتنا عادی ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ اس سے پھر اور کوئی بھاری نشے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے لا شعوری میں کہ نسوار گھٹکا سے ہوتا ہوا ایک دن خدانخواستہ ہیروئن تک بھی رسائی حاصل کرلیتا ہے اسے لگتا ہے یہ بھی سگریٹ کی طرح سکون دے گی لیکن پھر انسان کی واپسی کے سب راستے بند ہوجاتے ہیں انسان اپنی تباہی کو خود انتظام کرتا ہے تو ایسے لوگوں کی منزل پھر اندھیرے راستوں اور موت کی وادی کے سوا کوئی منزل نہیں رہتی میں نے نشے کے لیے تڑپتے ہوئے لوگوں کو دیکھا گھر باربیچتے ہوئے دیکھا زلیل رسوا ہوتے دیکھا نہ صرف اس نشئی کو بلکہ اس کی فیملی کو نا حق زلیل ہوتے دیکھا صرف ایک انسان کے نشے کی لت سے پورا خاندان اجڑ جاتا ہے میں سوچتی ہوں گورنمنٹ اس زہر سے اپنی عوام کو کیوں نہیں بچا رہی کیوں ایسے سخت اقدامات نہیں کررہی کہ اس زیر سے ہم کم سے کم اپنی آنے والی نسلوں کو بچا سکیں ۔۔
    سگریٹ نوشی کرنے والا انسان اپنے پیسے کو اپنی صحت کو اس نشے میں جھونک رہا ہوتا ہے ایک سگریٹ پینے والا بندہ صرف اتنا حساب لگا لے ایک سال میں اس نے کتنے لاکھ روپے اس سگریٹ میں جھونک دیے اور بدلے میں کیا حاصل کیا اپنے پھیپڑے ختم کروا دیے جس کے بنا انسان سانس بھی نہیں لے سکتا اور آخر ایک دن اس کی ذندگی ختم ہوجاتی ہے اس نشے سے ۔۔
    بقول شاعر کے ۔۔زندگی کے رستے کیسے ہیں یہاں .ہر جوان رُوح کو گھُن لگا ہوا ہے اور کچھ لوگ اپنی وقتی ٹینشن کو دور کرنے کے لیے سگریٹ کا سہارا لےکر ایک ہی نشست میں آدھی ڈبی سگریٹ نوش کرجاتے ہیں یہ جانے بنا کہ یہ سگریٹ اپ کی ٹینشن دور نہیں کررہے بلکہ آپکو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرنے جارہے ہوتے ہیں آپ کو اندر سے کھوکھلا کررہے ہیں اور یہ سگریٹ نوش انسان کی خود غرضی ہی تو ہے کہ اپنے پیاروں کو ازلی جدائی کا دکھ دے جاتے ہیں موت کو گلے لگاجاتے ہیں۔۔!!
    صرف پاکستان کی گورنمنٹ ہی نہیں بلکہ یورپین ممالک بھی سگریٹ کی ڈبی پر سگریٹ نوشی کےخوفناک انجام کی پیکچر لگا کر بس اپنا فرض پورا کردیتے ہیں عوام کو یہ آگاہی نہیں دیتے کہ معاشرے میں یہ کینسر پھیل رہا ہے لوگ اس سے نفسیاتی اور ذہنی طور پر بھی متاثر ہورہے ہیں اس کی روک تھام کے لیے آج تک کوئی مہم نہیں چلائی گی کہ لوگوں کو اس کے نقصانات کی آگاہی ہو پہلی دفعہ باغی ٹی وی اور جناب ممتاز صاحب اور ان کے دیگر ساتھیوں نےاس پر آواز اٹھائی ہے اب ہر پاکستانی کو چاہئیےان کی آواز میں شامل ہوکر ان کی آواز کو اور مضبوط بنانا ہوگا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسل اس زہر سے بچ سکے۔۔۔۔
    وزیراعظم عمران خان کو چاہئیے کھانے پینے کی عام چیزیں سستی کردیں اور اس کے بدلے میں سگریٹ اتنے مہنگے کر دے کہ عام آدمی کی پہنچ سے ایسے ہی دور ہوجائیں جیسے نون لیگ کی حکومت میں غریب مظلوم کو انصاف ملنا مشکل بلکہ ناممکن تھا ۔۔
    اللہ باغی ٹی وی اور اس کے عملے کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے جو پاکستان میں اپنا مثبت کردار ادا کررہے ہیں حق سچ کی آواز مبشر لقمان ۔جناب ممتاز حیدر صاحب اور ان کا تمام سٹاف ۔۔۔