Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ظالم سماج تحریر: نوید خان

    ظالم سماج تحریر: نوید خان

    مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
    مُنصف ہو اگر تو حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے۔۔

    میں اکثر سوچتا ہوں
    اسلام کی آمد سے پہلے جب لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تو
    وہ بڑا ظلم تھا؟
    یا موجودہ زمانے میں
    معصوم کلیوں سے جنسی درندگی کرنا اور پھر جان سے مار دینا بڑا ظلم ہے؟
    گُٹھن زدہ اس ماحول میں جب بے چینی حد سے بڑھ جائے تو دل سوال کرتا ہے۔۔
    آخر وہ کونسا عارضہ ہے جو حضرت انسان کو حیوان بنا دیتا ہے؟
    کب تک ہم افسوس مزمت ماتم اور لعن طعن کرنے کے بعد خود کو بری اُلزِمہ سمجھے گے؟
    کیا ہمیں اس کی وجوہات پر غور نہیں کرنا چائیے
    آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے
    اسکا سدِباب ناگزیر ہوچکا
    ورنہ یہ سانحات ہوتے رہے گے
    چار دن کا ماتم بھی ہوگا
    اور پھر کسی افسانے پر بنے ڈرامے کی آخری قسط
    پر ایک نئی بحث ہوگی
    آٹھ سالہ نور کو اکیلے والدین نے کیوں بھیجا؟
    مولوی شمس نے بچے کو سو بار ریپ کیا اور والدین کو خبر تک نہ ہوئی آخر کیوں؟
    لاہور کی عائشہ مینارِ پاکستان کے ہجوم میں کیوں گئی؟

    ہوس کسی کی مجبوری نہیں دیکھتی، نہ عمر دیکھتی ہے نہ جنس دیکھتی ہے چاہے وہ جانور ہو، مدارس میں پڑھنے والے کمسن بچے ہوں، اسکولوں میں اساتذہ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوتے طلبہ و طالبات ہو۔
    اس معاشرے میں ہونے والی درندگی پر جنگل کے درندے بھی حیران و پریشان ہیں۔
    عوامی مقامات،پارک اور فوڈز کی جگہ پر آپکو وہ لفنگوں کا ٹولہ ملے گا جنکی طوفانِ بدتمیزی کی وجہ سے آپ اپنی فیملی کو ایسی جگہ لے کر جانے کا سوچے گے بھی نہیں

    ہمارے معاشرے میں اخلاقیات اور حیا کا بہت فقدان ہیں
    روز ایسے ایسے واقعات رونماع ہورہے ہیں
    جن پرانسان شرمندگی کی کسی کھائی میں گِر جاتا ہے
    ہمارا قانونی نظام بہت کمزور ہے
    اس لئے مجرم ایسے گھناؤنے جرم کرتے ہوئے بھی نہیں گھبراتا۔
    اور یہ جو مذہب کا نقاب اوڑھے سفاک بھیڑیے ہیں نا جو معصوم بچوں کا ریپ کرتے ہیں ان کو تو سرعام پھانسی دینی چاہئیے لیکن بچوں کے ماں باپ کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ پھولوں کی نگہداشت کیسے کرتے ہیں؟
    دنیا کے کسی ملک میں بچوں کو اپنے گھر اکیلا نہیں چھوڑا جاتا اور یہ والدین اپنے پھولوں کو بھیڑیوں کے آگے چھوڑ دیتے ہیں۔
    اس معاشرے کی بقا ماضی کی شاندار روایات تھی، جب انسانوں کے کردار کی عزت ہوتی تھی ناکہ دولت یا چمک دمک کی؛ جب پڑوسیوں کے بچے بھی اپنے بچوں کی طرح عزیز ہوتے تھے۔ جب بڑے بوڑھے، اجنبی لوگوں کے ساتھ محلے کے بچے جاتے دیکھ کر روک کر سوال پوچھتے تھے۔ جب کوئی بدمعاش لڑکا اسکول کالج میں کسی چھوٹے کو ستاتا تھا تو کوئی اعلیٰ کردار کا بہادر لڑکا بچاتا بھی تھا۔وقت آگیا ہے کہ ہمارے لوگ ایسے سفاک لوگوں کا بائیکاٹ کرے اور جو بائیکاٹ نہ کرے اسے بھی اس جیسا سمجھا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ کوئی ایسا جدید سسٹم لائےجس سے ایسے لوگ سزا کاٹنے کے بعد جب جیلوں سے باہر آجائے اورکسی شہر میں جائےتو ان کے بارے میں ہر شہر میں متعلقہ تھانے سے ایس ایم ایس پورے شہر کو جائے کہ ایک بچوں کا شکاری درندہ اس شہر میں آگیا ہے، اس پر آنکھ کُھلی رکھو،محتاط رہو اور بندوقیں صاف کرلو تاکہ اسے پتا چلے کہ اب کسی بچے پر آنکھ اٹھائی تو دوبارہ وہ جیل میں نہیں، سیدھاجہنم جائے گا۔
    اب ان بدبُودار کہانیوں کو رُکنا چاہیے
    وقت آ گیا ہے، کہ ہم اس برائی کو جڑ سے اُکھاڑ کر ختم کردے تاکہ ہر دیکھنے والا پناہ مانگے۔
    ہماری ماؤں کو چاہیے آنے والی نسلوں کی اچھی تربیت کرے، بعد میں ان پر کوئی وظیفے، کوئی دعائیں اور کوئی عبادتیں اثر نہیں کرتی۔
    ویسے تو یہاں نا خواتین محفوظ ہیں اور نا ہی بچے
    انسانوں کے اس معاشرے میں حیوانوں کا راج اور ہوس کے پُجاری بستے ہیں تو
    اپنا خیال خود رکھیں؛ بچوں کا خیال رکھیں! اکیلے مت نکلیں؛ نکلیں تو رش والا راستہ لیں؛ ڈرائیو کرنے والی خواتین پرس میں لیڈیز پستول رکھیں!
    پولیس مجرموں کو پکڑ سکتی ہے؛ وقت کو واپس نہیں لا سکتی!

    ہم جو اِنسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
    ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

    Name: Naveed Khan
    @Naveedmarwat55

  • علم وہ شجر ہے جو دل میں اگتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔

    علم وہ شجر ہے جو دل میں اگتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔

    _(حضرت علی ع)_
    اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم انسان میں شعور اجاگر کرتی ہے اور انسان کی اصلاح اور خود شناسی میں مدد کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے ایک انسان اپنی وجہ تخلیق کے بارے میں جان پاتا ہے۔ تعلیم اس ستون کی مانند ہے جس کے سہارے چھت کی مضبوطی قائم رہتی ہے اور اگر اس ستون میں شگاف ہو تو وہ چھت زیادہ دیر کے لیے نہیں ٹھہر پاتی اور نست و نابود ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جن قوموں نے ترقی کی ، انہوں نے تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی۔
    _اسی حوالے سے قائدِ اعظم نے کیا خوب کہا ہے:_
    *”علم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہے اس لیے علم کو اپنے ملک میں بڑھائیں کوئی آپ کو شکست نہیں دے سکتا۔”*
    پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور پاکستان کے نظریے کو عام عوام کو سمجھانے کے لئے جس قوت نے مدد کی اس عظیم الشان قوت کا نام تعلیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قائدین نے فرد وملت کی ترقی کا دارومدار تعلیم کو دیا اور لوگوں کو غلامی کی زنجیروں سے چھٹکارا دلا کر شاہینوں جیسے کھلی فضا میں اڑنے کی ترغیب دی۔
    اب زرا آج کے پاکستان میں نظر ڈالیے اور سوچئے کہ کیا پاکستان کا نظامِ تعلیم ویسا ہے جیسے ان اقوام کا ہوتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں، یہ لمحہ فکریا ہے کہ ہم اپنے ناقص اور پرانے تعلیمی اصولوں کے باعث آج کہاں کھڑے ہیں اور ہم سے بعد میں وجود آنے والے ممالک ترقی کی کئی منزلیں طے کر چکے ہیں۔
    اب سوال یہ اجاگر ہوتا ہے کہ وجہ کیا ہے؟ کیوں ہم ابھی تک ترقی پذیر ممالک کی صف میں ہیں؟ کیوں ہم اپنے ملک کے معماروں کو وہ نظامِ تعلیم دینے سے کاسر ہیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ اس کی وجہ اور کوئی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم صدیوں پرانے سلیبس کو پڑھا رہے ہیں، ہم سکولوں میں بچوں کو نمبر لانے پر تو بھرپور زور دے کر پیسے کمانے کی مشین تو بنا رہےہیں لیکن ان کی کردار سازی اس طرح نہیں کر رہے کہ وہ مشین کے بجائے قابل بنیں، ہم ڈگریاں تو حاصل کر رہے ہیں لیکن صرف اپنے روزگار کی خاطر، اور ایک وجہ کہ صوبوں میں الگ الگ نظامِ تعلیم کے باعث مشکلات جنم لیتی ہیں۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اول تو ہم یکساں تعلیم کے نظام کو متعارف کروائیں اور پرانے سلیبس کو تبدیل کر کے نئی اور مویسر طرض کے سلیبس کو شامل کیا جائے۔ سب سے اہم یہ کہ بچوں کو دور جدید میں ہونے والی نت نئی ایجادات کے بارے میں بتانے کے لیے باقاعدہ سیشنز کا احتمام کیا جائے تاکہ بچے میں آگے بڑھنے کا جذبہ اجاگر ہو اور دوسرے ملکوں کے ساتھ علم کی دور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہر بچے کو سکھایا جائے کہ نہ صرف اپنے لیے علم حاصل کرے بلکہ اس پر عمل کے ذریعے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرے۔
    *”علم تمہیں راہ دکھاتا ہے اور عمل تمہیں مقصد تک پہنچاتا ہے۔”*
    اس لیے ضروری ہے کہ جو علم ہم سیکھیں اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں اور نظم و ضبط کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر تاریخ کے پنوں میں امر ہو جائیں۔ اگر ہم پاکستان کو ترقی کی راہوں پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا ۔ جیسے ہمارے قائد نے کہا کہ *” تعلیم ہماری قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسلہ ہے ۔”* لہذا ہمیں آگے بڑھنے کے لیے آپس کے جھگڑوں سے نکل کر ایک قوم ہو کر پاکستان کے مستقل کے بارے میں سوچنا ہو گا، اور اس میں ہر ایک کو اپنا کردار نبھانا ہو گا۔ _اقبال کیا خوب لکھتے ہیں:_
    *” افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر،*
    *ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا۔*
    انشاللہ،ہم سب مل کر پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کی نئی داستان قلم کے زور پر خود تحریر کریں گے ،جو ہمیشہ بہترین الفاظ میں یاد رکھی جائے گی۔
    *پاکستان ذندہ باد*
    @hamzatareen4

  • ٹرینڈنگ انصاف تحریر: علی خان

    ٹرینڈنگ انصاف تحریر: علی خان

    "یہ عدالت نہیں کچہری ہے جی یہاں انصاف نہیں ملتا ! یہاں صرف تریخیں ملتی ہیں اور بندے کے پاس پیسہ ہو تو فیصلہ بھی مل جاتاہے لیکن انصاف نہیں ملتا” ۔ گرمی سے بچنے کے لیے سر پر ململ کا صافہ رکھے، ہاتھ میں کاغذوں سے بھرا تھیلا پکڑے اور پسینے میں شرابور نوجوان کی آواز میں چھپا کرب ، مایوسی اور بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔میں لاہور کی مقامی عدالت کے باہر کسی کام کے لیے موجود تھا۔پتا معلوم نہ ہونے پر نوجوان سے ایک عدالت کا راستہ پوچھا تو اس نے اپنے تئیں میری ان الفاظ سے تصحیح کی۔استفسار پر معلوم ہوا کہ دادا کی زمین پر بااثر زمیندار نے قبضہ کیا تھا ۔ دادا سے شروع ہونے والا کیس سے پوتے تک آن پہنچا لیکن فیصلے کا کوئی اتا پتا نہیں ۔
    "سوچتا ہوں کہ میرے دادے کے ٹائم میں نیٹ والا موبائل ہوتا تو شاید ہمارا بھی مسئلہ حل ہوجاتا” داد اللہ نامی اس نوجوان کی بات نے میری پوری توجہ اسکی جانب مبذول کروادی۔ "کیوں بھئی نیٹ والے موبائل کا تمہارے کیس سے کیا تعلق؟؟؟ "۔ ” او جی اب توجس ماملے کی خبر نیٹ پر آجائے و ہ اے سی، ڈی سی وزیراعظم سب کو پتا لگتی ہے اور مسئلہ فٹافٹ حل ہوجاتا ہے”۔ داد اللہ نے میرے علم میں تسلی بخش اضافہ کیا۔
    دور جدید میں یہ خواہش صرف داد اللہ نامی اس نوجوان کی ہی نہیں بلکہ عدالتوں اور تھانوں کے چکر کاٹتے ، انصاف کے منتظر ان لاکھوں پاکستانیوں کی ہے جو لین دین کے تنازعات سے لے کر قتل کے مقدمات تک میں انصاف کی راہ تک رہے ہیں ۔روایتی نظام انصاف میں ایک بار معاملہ عدالت تک جاپہنچے تو دن مہینوں میں ، مہینے سالوں میں اور سال دہائیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن انصاف کی دیوی مہربان ہی نہیں ہوتی۔ کمزور فریق یا تو تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے یا پھر نسل در نسل انصاف کی دہائیاں دیتا رہتا ہے۔ اس صورتحال میں اللہ داد کی یہ تھیوری سو فیصد درست بیٹھتی ہے کہ اگر آپکا مسئلہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوجائے تو انصاف گویا آپکی دہلیز تک آن پہنچتا ہے۔ حالیہ کچھ سالوں میں زینب قتل کیس ہو یا شہریوں کی جائیدادوں پر قبضے کا معاملہ، کسی بچے کا مرغا زہریلا پانی پینے سے مر جائے یا پھر کسی طاقتور نے غریب پر ظلم کیا ہو، جو ویڈیو یا خبر سوشل میڈیا پر مقبول ہوگئی ، ٹوئٹر پر ٹرینڈنگ میں آگئی،فیس بک پر شیئر ہوگئی واٹس ایپ پر وائرل ہوگئی تو اس پر لمبی تانے سوئے حکام گڑبڑا کر جاگ اٹھتے ہیں اور مظلوم کی داد رسی ہوجاتی ہے۔
    اسی صورتحال کے پیش نظر اب کسی بھی مسئلے میں گھرے شہری کی توجہ تھانے، سوئی گیس دفتر، واپڈا، کے الیکٹرک اور دیگر محکموں کی جانب نہیں جاتی بلکہ فون نکال کر ویڈیو یا پوسٹ بنائی جاتی ہے اور اس امید پر اپ لوڈ کردی جاتی ہے کہ اگر کسی صاحب اختیار کی نظر پڑ گئی تو داد رسی ہوجائے گی۔ یہاں اداروں پر کم ہوتے عوامی اعتماد کا تو سوال اپنی جگہ لیکن یہ سوچنا زیادہ ضروری ہے کہ وہ علاقے اور خطے جہاں انٹرنیٹ کی مکمل رسائی نہیں ہے، جہاں عوام ٹیکنالوجی کی سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے وہاں انصاف کی فراہمی کی صورتحال کیا ہے؟انہی پسماندہ علاقوں میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرنے اور امیر وڈیروں کے غریبو ں پر انسانیت سوز مظالم کی کہانیاں کئی کئی ماہ بعد سامنے آتی ہیں۔ بعض صورتوں میں جرم کا سراغ لگانا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ارباب دانش کو اس جانب بھی توجہ دینا ہوگی کہ انصاف کا پیمانہ صرف ٹرینڈنگ ہی نہ بن جائے بلکہ نظام انصاف کی کمزوریاں اور خامیاں دور کی جائیں تاکہ ہر عام و خاص تک انصاف کی فراہمی بلاتفریق یقینی بنائی جاسکے۔

  • یکساں نصابِ تعلیم کےفائدے تحریر:شعبان اکبر

    یکساں نصابِ تعلیم کےفائدے تحریر:شعبان اکبر

    کسی بھی قوم کی ترقی کے لیےتعلیم کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔تعلیم انسانی شعورکوبیدارکرکےانسان کی اصلاح کاسامان کردیتی ہے۔تعلیم اخلاقی پختگی کی اساس ہے۔اگراساس کمزورپڑجائےیاسرے سےہی نہ ہوتوانسانی ترقی کاخیال عبث ہے۔تمام ممالک میں تعلیم کی ترسیل کےلیےتگ ودو جاری وساری ہے اوراس ضمن میں بہترین طرائق کواپناکراہداف حاصل کرنےکی کوشش کی جاتی ہے۔پاکستان میں بھی عوام الناس کوتعلیم سےآراستہ کرنے کےلیےمختلف ادارےقائم ہیں۔ان اداروں میں عمر کی بنیادپردرجات(کلاسز)طےہیں۔
    تعلیم”علم اورعمل”کامجموعہ ہے۔پاکستان میں درس وتدریس کےلیےسکولز،کالجزاورجامعات کاوسیع سلسلہ قائم ہے۔جہاں حکومت کی جانب سےادارےقائم کیےگئےہیں وہیں نجی شعبہ بھی عصری علوم کی تعلیم کے لیےسرکرداں ہے۔پاکستان میں نظامِ تعلیم کی بہتری کے لیےسابقہ ادوارمیں کافی اصلاحات کانفاذکیاگیا۔کسی بھی قوم کوعلوم پہنچانےکےلیےاس قوم کی قومی زبان کوترجیح دی جاتی ہے۔تاکہ اس قوم کےلوگ عصری علوم کابہتراندازمیں ادراک پاسکیں۔
    بدقسمتی سےپاکستان میں آغازسےہی علوم کی ترسیل کے لیے قومی زبان اردو کوذریعہ نہیں بناگیا۔جس کی بنا پرتعلیم کی ترسیل بہتراندازمیں نہ ہوسکی۔نوجوان نسل کے لیے غیرملکی زبانوں میں علوم کوسمجھنا خاصا مشکل رہا۔اس لیے اکثرطالب علم تعلیم میں عدم فہم کےباعث نمایاں کامیابی حاصل نہ کرسکےاوراکثرطالب علم کثیروجوہات کی بناپرتعلیم سے دورہوگئے۔تعلیمی اہداف کے حصول میں ناکامی کی ایک وجہ یکساں نصابِ تعلیم کا نہ ہونا ہے۔مگرامسال حکومت نےجماعت اول سےلےکرپنجم جماعت تک یکساں نصابِ تعلیم لاگو کرنے کافیصلہ کیا ہے،جوکہ نہایت قابلِ ستائش ہے۔عوام الناس میں اِسے خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔یکساں نصابِ تعلیم سےنوجوان نسل کو کافی فوائد حاصل ہوں گے۔طالب علم جس قسم کے نصاب تعلیم کوپڑھتاہے،اس نصابِ تعلیم کامعیاراس کی عملی زندگی پرکافی اثراندازہوتاہے اوراس کےشعوری درجہ کی نشاندہی کرتاہے۔اگرتمام طلباء یکساں معیاری نصاب پڑھیں گے توان کی یکساں فکری نشوونما ہوگی اورمعاشرے میں موجود طبقات کی تقسیم کوختم کرنے میں مدد ملے گی۔صوبوں کاروزِاول سےشکوہ رہاہےکہ ان کی عوام کومعیاری تعلیمی سہولیات سے قصداً محروم رکھاجاتاہے،اس لیےصوبوں میں یکسانیت کی کمی ہے۔لٰہذایکساں نصابِ تعلیم سےصوبائی تفاوت کاخاتمہ بھی ہوگا۔اساتذہ کے لیےطالب علم تک معلومات پہنچانے میں آسانی ہوگی۔اگر یکساں نصاب ہے توپاکستان کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی مدرس بآسانی فرائض سرانجام دےسکتاہےاوراساتذہ کی تقرریوں اورتبادلوں کےحوالے سے تحفظات بھی دورہوجائیں گے۔
    پاکستان کے بعض نجی سکولزمیں بچوں کی پڑھائی کے لیے بھاری معاوضہ لیاجاتاہےاوراتنی بڑی رقم والدین ہنسی خوشی اداکردیتےہیں کیوں کہ سکول انتظامیہ کی طرف سےیہ دعویٰ کیاجاتاہےکہ ان کےادارےمیں سب سےمعیاری نصاب پڑھایاہے۔نصابی تضاد کےباعث یہ نجی ادارے تعلیم کے نام پرعوام سےپیسہ لوٹتے ہیں۔یکساں نصابِ تعلیم لاگوہونے کی صورت میں نجی اداروں کادھندہ بند ہوجائے گا کیوں کہ ملک کے تمام تعلیمی ادارے یکساں نصاب کوپڑھانے کے پابند ہوں گے۔
    معاشرے کی اصلاح کے لیے افراد کا اخلاقی لحاظ سے عمدہ ہونا لازمی ہےاور تعلیم کے بل بوتے پرہی شعوری بالیدگی کی منازل کوطےکیاجاسکتاہے۔

    @iamshabanakbar

  • چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی     تحریر: ثویبہ نازنین

    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی تحریر: ثویبہ نازنین

    تھی اے ارض پاک!! تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا، اے پاکیزہ ریاست!! تو نے پکارا تو دخترانِ اسلام سیاہ چادروں میں نہاں اپنے مردوں کی ہمراہ چلی آتی ہیں۔ برصغیر کی گلیوں کوچوں میں بہتا آدم زاد کا لشکر جس میں سیاہ برقعے میں ملبوس خواتینِ اسلام، اسلام کی شہزادیاں اپنی نمایاں شان و عظمت کے ساتھ چلی آتی ہیں. سنا ہے کہ کالا رنگ ہر رنگ ، ہر شے پر غالب آجاتا ہے، اور ڈھا دیتا ہے اسے، مگر یہ کیسا جذبہ تھا یہ کیسا ولولہ تھا جو دشواریوں اور سیاہ حجاب کے باوجود نہ ٹلا ۔ کیا تھا جو پاکستان کی ماؤں کو ان کے حصے کی جروجہد سے نہ باز رکھ سکا، ایسی کیا تدابیر تھیں انکی جو بیٹیوں کی عصمتدری سے بے خوف تھے والدین ان کے، کیا تھے چلن بیویوں کے جو رہیں معتبر خاوند کی نظروں میں، بن کر طاقت اپنے شوہروں کی کھڑی رہیں آزادی کے سفر میں اور واضح رہیں قربانیاں ان کی پورے سفر میں۔ اولاد کھونے سے لے کردامن اجڑ جانے تک ہجرت میں مردوں کے شانہ بہ شانہ چلتی گئیں قدم رکے تو محض حصولِ اسلامی ریاست، پاکستان ذندہ باد کی گونج پر۔ یہ اسلامی ریاستِ پاکستان فقط مردوں کی کاوش نہیں بلکہ عورتوں کی بھی ممکن جستجو تھی۔
    یہ خیال سوچ سے اکثر پھسلتا ہے کہ میری ماؤں کے اطوار و طریق کیا تھے بہنوں کے کونسے زیور تھے جس کے سہارے وہ قربانی کی ادیت سے بیگانہ رہیں حتی کہ ان کے مردوں نے نہ ان کی مخالفت کی نہ قید رکھنے کی تمنا نہ ظلم و جبر ۔ کیسے موثر وظیفے تھے ان کے جو مرد کا ساتھ ہر دم حاصل رہا اور شاملِ محاذ رہیں ۔ کیسے ممکن ہے کہ گھروں سے تنہا نکلیں اور رسوا نہیں ہوئیں ۔ اور خیالات کے درمیان حکم الله کی ندا "یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾ ترجمہ: اے نبی ! تم اپنی بیویوں ، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے ( منہ کے ) اوپر جھکا لیا کریں ۔ ( ٤٧ ) اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی ، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا ۔ ( ٤٨ ) اور اللہ بہت بخشنے والا ، بڑا مہربان ہے.”(سورة الاحزااب) خیال کے ہر زاویے کو روشن کر دیتی ہے. رب الکریم کے فرمان، اسکی ضمانت کی روشنی..روشنی نہیں نور ،نور جسکے بعد ظلمت، جبریت، وحشت، بربریت، غلامی، گھمراہی، حق تلفی جیسے سبھی اندھیرے چھٹ جاتے ہیں. یہ حکم کی تابعداری تھی ان عورتوں کا سرمایہ. مالک و ملک دو جہاں نے ضمانت لی ان سے کے خود پرچادر جھکا لو، عزت میں تمھیں دونگا، میں الحفیظ ہوں تم سے تمہاری حفاظت کا وعدہ لیتا ہوں، مجھ سے بھڑ کر کون تمہاری حفاظت کرے گا، کون ہوگا مجھ سے بہتر رفیق تمہارا، کون مجھ سے زیادہ حق دینے والا ہے ؟؟ تم چھپا لو خود کو سیاہ برقعوں میں اور ہوجاؤ شامل ِلشکر اور کرو صدا بلند ملکِ خداداد پاکستان کے لئے کیونکہ یہ سرحدِ اسلام ہوگی اور تمہاری قربانی اسکا روشن چمکتا ہلال ہونگی!!
    یہ پاسداری حکم کی اور ڈھانپ لینا خود کو چادروں میں تقدس تھا میری ماؤں کا، کوئی کیونکر رسوا کرے انکو ضامن تو خدا تھا انکا، کیوں ظلمت کی نگری میں رہیں وہ جبکہ خود انکے مرد انکا حوصلہ ہوتو، کیوں سوچے وہ تاکلیف کا، مشقت کا جبکہ بدلہ اصل سے دوگنا ہوتو، کیوں نہ کریں میاں یقین انکا جب انداز اتنا شاہانہ اور مزاج مستقل ہوتو. ان سب کی وجہ صرف ایک حکم الله کی حکمت پہچننا اور عملدرآمد کرنا۔ وہ عاقل عورتوں تھیں جنہوں نے خود میں اور غیر مسلموں میں فرق واضح کیا، اپنا شاہانہ طرز پیدا کیا اور امر ہوگئی.
    میری سوچ اس حقیقت کو کیسے تسلیم نہ کرے کہ ان ماؤں بہنوں نے انگریزوں کے مقابل آنے کے لئے برہنہ ہونے یا اسلام کے حکم کو رد کرنے کو قطعا ضروری نہ سمجھا جبکہ میرے سامنے یہ نمایاں مثال سرزمینِ پاکستان بطور شاہد ہے. آج کے دور میں کون ایسی ضمانت لیتا ہے جو الله رب الکریم لے رہے ہیں، کون ایسی صاف گوئی سے کام لیتا ہے جیسا الله سبحان وتعالی قرآن کریم میں لیتے ہیں کہ اسلام کی عورتوں تم اسلام کی شہزادیاں ہوں تمہیں ہر کوئی کیوں دیکھے . ایک بار اس بات کو محسوس کر کے تو دیکھیں..اس ایک جملے میں عورت کی فلاح ہے۔
    جب ہم کہیں نوکری کی دارخوست دیتے ہیں تو انکی ہر پیشکش قبول کرتے ہیں جس کے اویس ہم گھنٹوں کی خواری بھی جھیلتے ہیں مگر الله تعالیٰ کی پیشکش جسکے بدلے ہمیں کچھ نہیں دینا پڑتا اسے رد کر دیتے ہیں کیوں؟؟ اکثر کو یہ باتیں بے معنی لگتی ہیں کیا یہ بیوقوفی کی انتہا نہیں؟؟ الله کے حکم کو صرف مانا جاتا ہے رد نہیں کیا جاتا، تو کیا ہم الله کے حکم کے انکاری ہیں؟؟ ہم عورتیں بےلباس ہو کر تحفظ کی اپیل کرتی ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟؟ ہم نے بہ ذات خود خود کو صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ (وہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں) گردان لیا ہے، کیا خستہ حالی ہمارے باعث نہیں؟ کیا ہم نے ان ماؤں بہنوں کی عزت کی قربانی کو ضائع نہیں کر دیا؟؟ کیا یہ وہ ریاست ہے جسکا خواب ایک مسلمان کی آنکہ میں تھا؟ یاد رہے ابتدا خود سے کی جائے تو کارگر ثابت ہوتی ہے یہ الزامات کا کھیل تو جہالت کی نشانی ہے. میں کہتی ہوں کہ سفر آزادی ابھی پایہ تکمیل کو نہیں پنہچا، ابھی وہ سحر نہیں ہی جو فکر کے کے پہلوؤں کو بدل دے اور راستے روشن کردے.
    نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

    Twitter id: @SowaibaNazneen

  • ماہرین کس چیز پر توجہ دیں  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    ماہرین کس چیز پر توجہ دیں تحریر : مقبول حسین بھٹی

    بہترین کارکردگی کے ماہرین ایسی باتیں کہتے ہیں ، "آپ کو توجہ دینی چاہیے۔ آپ کو خلفشار کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک چیز کا ارتکاب کریں اور اس چیز میں عظیم بنیں۔ یہ اچھا مشورہ ہے۔ جتنا میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے کامیاب لوگوں – فنکاروں ، کھلاڑیوں ، کاروباری افراد ، سائنسدانوں کا مطالعہ کرتا ہوں – اتنا ہی میرا یقین ہے کہ توجہ کامیابی کا بنیادی عنصر ہے۔ لیکن اس مشورے میں بھی ایک مسئلہ ہے۔ آپ کے سامنے بہت سے اختیارات میں سے ، آپ کیسے جانتے ہیں کہ کس چیز پر توجہ مرکوز کرنی ہے؟ آپ کیسے جانتے ہیں کہ اپنی توانائی اور توجہ کو کہاں بھیجنا ہے؟ آپ ایک چیز کا تعین کیسے کرتے ہیں جو آپ کو کرنے کا عہد کرنا چاہئے؟ میں تمام جوابات کا دعویٰ نہیں کرتا ، لیکن جو کچھ میں نے اب تک سیکھا ہے اسے مجھے شیئر کرنے دیں۔ زیادہ تر کاروباریوں کی طرح ، میں نے اپنے کاروبار کی تعمیر کے پہلے سال میں جدوجہد کی۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے اپنی پہلی پروڈکٹ لانچ کی کہ میں اسے کس کو بیچوں گا۔ (بڑا تعجب ، کسی نے اسے نہیں خریدا۔) میں نے اہم لوگوں تک رسائی حاصل کی ، توقعات کا غلط انتظام کیا ، احمقانہ غلطیاں کیں ، اور بنیادی طور پر ان لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کا موقع ضائع کر دیا جن کا میں نے احترام کیا۔ میں نے اپنے آپ کو کوڈ سکھانے کی کوشش کی ، اپنی ویب سائٹ میں ایک تبدیلی کی ، اور پچھلے تین مہینوں کے دوران میں نے جو کچھ کیا تھا اسے حذف کردیا۔ سیدھے الفاظ میں ، میں نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ میری کئی غلطیوں کے سال کے دوران مجھے ایک اچھا مشورہ ملا: "چیزوں کو اس وقت تک آزمائیں جب تک کوئی چیز آسانی سے نہ آجائے۔” میں نے اس مشورے کو دل سے لیا اور اگلے 18 مہینوں میں چار یا پانچ مختلف کاروباری آئیڈیاز آزمائے۔ میں ہر ایک کو دو یا تین ماہ کے لیے ایک شاٹ دوں گا ، تھوڑا سا فری لانس کام میں گھل مل جاؤں گا تاکہ میں سکریپنگ اور بلوں کی ادائیگی جاری رکھ سکوں ، اور اس عمل کو دہراتا رہوں۔ آخر کار ، مجھے "کوئی ایسی چیز ملی جو آسانی سے آئی” اور میں ایک آئیڈیا تلاش کرنے کی بجائے ایک کاروبار کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرنے میں کامیاب رہا۔ دوسرے الفاظ میں ، میں آسان بنانے کے قابل تھا۔ یہ پہلی چیز تھی جس کے بارے میں میں نے دریافت کیا کہ کس چیز پر توجہ دی جائے۔ اگر آپ کسی کام کے بنیادی اصولوں پر عبور حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ، آپ کو متضاد طور پر ، ایک بہت وسیع نیٹ ڈال کر شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سی مختلف چیزوں کو آزمانے سے ، آپ اس بات کا احساس حاصل کر سکتے ہیں کہ آپ کے لیے کیا آسانی سے آتا ہے اور اپنے آپ کو کامیابی کے لیے مرتب کریں۔ کسی بری سوچ کے ساتھ جدوجہد کرنے کے بجائے کام کرنے والی چیز پر توجہ مرکوز کرنا بہت آسان ہے۔ فرض کریں کہ آپ چیزوں کو آزمانے اور تھوڑا سا تجربہ کرنے پر راضی ہیں ، اگلا سوال یہ ہے کہ ، "میں کیسے جان سکتا ہوں کہ میرے لیے آسانی سے کیا آرہا ہے؟” میں جو بہترین جواب دے سکتا ہوں وہ توجہ دینا ہے۔ عام طور پر ، اس کا مطلب ہے کسی چیز کی پیمائش کرنا۔ اگر آپ کاروباری ہیں تو اپنی مارکیٹنگ اور پروموشن کی کوششوں کو ٹریک کریں۔ اگر آپ پٹھوں کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اپنے ورزش کو ٹریک کریں۔ اگر آپ کوئی آلہ سیکھ رہے ہیں تو اپنے پریکٹس سیشنز کو ٹریک کریں۔ یہاں تک کہ جب آپ چیزوں کی پیمائش کرتے ہیں ، تاہم ، ایک نقطہ آتا ہے جہاں آپ کو کال کرنا ہوتی ہے اور فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس چیز پر توجہ دی جائے۔ میرے ذہن میں ، فیصلہ کا یہ لمحہ انٹرپرینیورشپ کے مرکزی تناؤ میں سے ایک ہے۔ کیا ہم نئی چیزوں کی کوشش جاری رکھتے ہیں یا ہم ایک حکمت عملی سے دوگنا ہو جاتے ہیں؟ کیا ہم اختراع کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا ہم ایک کام کو اچھی طرح کرنے کا عہد کرتے ہیں؟ ہر کوئی آسان کرنے اور ایک چیز پر توجہ مرکوز کرنے کا صحیح وقت جاننا چاہتا ہے ، لیکن کوئی نہیں کرتا۔ یہی وہ چیز ہے جو کامیابی کو بہت مشکل بنا دیتی ہے۔ انٹرپرینیورشپ کیک پکانے کی طرح نہیں ہے۔ کوئی نسخہ نہیں ہے۔ کوئی گائیڈ بک نہیں ہے۔ اس مرحلے پر ، آپ کا بہترین آپشن فیصلہ کرنا ہے۔ آپ سب کچھ آزما نہیں سکتے۔ کسی موقع پر ، آپ کو مزید معلومات کی ضرورت نہیں ہے ، آپ کو صرف ایک انتخاب کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو لکھنا اور لکھنا ہوگا اور کچھ اور لکھنا ہوگا۔ آپ کو اپنی آواز ڈھونڈنے کے لیے سیکڑوں ہزاروں الفاظ لکھنے کی ضرورت ہے ، شاید لاکھوں۔ پھر آپ کو ان الفاظ میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے اور ان کو ممکنہ طور پر طاقتور ترین ورژن میں تبدیل کرنا ہے۔ تکرار مکمل ہونے کے بعد ہی آپ سمجھ سکیں گے کہ کام کے کون سے ٹکڑے کامیابی کے لیے بنیادی ہیں۔ اب ، آخر کار ، بہت سی چیزوں کو آزمانے اور یہ جاننے کے بعد کہ کس چیز پر توجہ مرکوز کی جائے اور کافی نمائندے لگائے جائیں ، آپ آسان بنانا شروع کر سکتے ہیں۔ آپ چربی کو تراش سکتے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری۔ جیسا کہ فرانسیسی بلیز پاسکل نے اپنے صوبائی خطوط میں مشہور طور پر لکھا ، "اگر میرے پاس زیادہ وقت ہوتا تو میں آپ کو ایک چھوٹا خط لکھتا۔” بنیادی اصولوں پر عبور حاصل کرنا اکثر سب سے مشکل اور طویل ترین سفر ہوتا ہے۔

    Twitter handle
    @Maqbool_Hussayn

  • وزیراعظم عمران خان کی کارکردگی کےپہلے تین سال تحریر فرزانہ شریف

    وزیراعظم عمران خان کی کارکردگی کےپہلے تین سال تحریر فرزانہ شریف

    خان صاحب نے جیسے ہی اعلان کیا تھا کہ قوم سے خطاب کریں گے اور اپنی تین سالہ کارکردگی اپنی قوم کے سامنے رکھیں گے اس سے پہلے ہی مریم نواز کا میڈیا سیل حرکت میں آگیا تھا عوام کا دل عمران خان سے کھٹا کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا رہا تھا کہ لوگ خان صاحب سے بد ظن ہوجائیں لیکن عوام اب جان چکے ہیں جس مشکل حالات میں گورنمنٹ خان صاحب کو ملی تھی سرکاری خزانہ منہ چڑھارہا تھا پاکستان بینک کرپٹ ہونے کے نزدیک پہنچ چکا تھا شہباز شریف نے اپنی حکومت کے آخری دن تقریر کرکے کہا تھا کہ اب عوام جانے اور عمران خان جتنی بھی لوڈشیڈنگ ہوگی ہم ذمہ دار نہیں مطلب اتنی بھی بجلی ملک میں نہیں تھی کہ وہ دعوے سے کہہ کر جاتے ہم نے اتنی بجلی ملک میں پیدا کردی ہے کہ 6 ماہ تک کم ازکم لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی ۔پھر خان صاحب نے جیسے ہی حکومت سنبھالی ایک طوفان بدتمیزی آگیا ان پر کہ نیازی نے یہ کردیا وہ کردیا ابھی تین ماہ حکومت کے مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ "حکومت فیل ہوگی ہے کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا تھا ان کرپٹ پارٹیوں کی طرف سے جھنیں ملک نوچتے ہوئے 30 سال ہوگے تھے وہ خان صاحب سے 90 دن کا حساب مانگنے میدان میں آچکے تھے اور ان کے کرائے کے سپوٹرز نے دن رات سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی اٹھائے رکھا اور کچھ بکاو چینلز نے بھی خان صاحب کی کارکردگی پر سوال اٹھانے شروع کردیے جن کو نون لیگ اور زرداری کی حکومت میں سانپ سونگا ہوا تھا لیکن خان صاحب کے ساتھ اللہ کی مدد اور ماوں بہنوں اور قوم کی دعائیں تھی جتنا کرپٹ مکس اچار پارٹیوں نے خان صاحب کو بدنام کرنے کی کوشش کی اللہ تعالی نے انھیں اتنی ذیادہ عزت عطا فرمائی۔اور خان صاحب اور ان کی ٹیم نے مل کر ملک کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خاص طور پر شاہ محمود قریشی کی کامیاب خارجہ پالیسی ۔اسد عمر ۔حماد اظہر ۔فواد چوہدری ۔مراد سعید جیسے مضبوط ستون کے ساتھ خان صاحب دنیا کو دکھا دیں گے کہ جذبہ اگر سلامت ہو ہر مشکل کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے جہاں وفاقی وزراء نے دل جمعی سے
    دن رات دل لگا کر کام کیا سوائے کچھ صوبائی وزراء کے جن کی رپورٹس کچھ اچھی نہیں۔ اس پر جلد خان صاحب کا ایکشن پاکستان عوام دیکھے گی ان شاءاللہ
    خان صاحب نے چھٹی کے دن بھی کام کیا اور ایک انسان مسلسل کام کرنے سے جب تھک گے صرف تین دن کے لیے نتھیا گلی کیا چلے گے نون لیگ بشمول بکاو میڈیا نے چیخنا چلانا شروع کردیا یہ نہ سوچا کہ اپنے دور حکومت میں نواز شریف پورے ٹبر سمیت سرکاری خزانے کے خرچ پر ہر ملک کا دورہ کرتے تھے جبکہ خان صاحب اپنے کسی بچے کو تو کیا خاتون اول تک کو ساتھ لیکر کبھی نہیں گے ایک دورہ بھی انھوں نے خاتون اول کے ساتھ نہیں کیا پاکستان کے کروڑوں ڈالرز بچائے ہر دفعہ اپنے دورے پر سرکاری پیسہ کم سے کم خرچ کر کے ۔اور کارکردگی اتنی اچھی کہ پاکستان دشمن قوتیں انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے دن کا چین اور راتوں کی نیندیں اڑ گئیں اور پاکستان میں موجود کرپٹ پارٹیوں نے بیرونی طاقتوں سے مل کر آخری زور لگایا کہ حکومت چلی جائے کسی طرح سے بھی اور کچھ ماہ پہلے تو ہم انصافین کو بھی یقین ہوگیا تھا کہ شائد اب حکومت ذیادہ نہ چل سکے لیکن جس کے ساتھ اللہ کی طاقت ہو اسے پھر کوئی قوت شکست دے سکتی ہی نہیں اور آج پاکستان پر اچھا وقت آچکا ہے۔۔
    اپنے اس دورے حکومت کے پہلے تین سال میں جہاں خان صاحب نے اور بہت سے منصوبے شروع کیے وہاں سب سے بڑا منصوبہ وہ دس ڈیم ہیں جن پر کام تیزی سے شروع ہے جنرل ایوب کے بعد یہ پہلی دفعہ ہورہا ہے کہ پاکستان میں ڈیم بن رہے ہیں جو 2028 تک مکمل ہوجائیں گے ان شااللہ ۔۔
    امریکہ کے ڈو مور کو خان صاحب نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
    ‏‎ ‎AbsolutelyNot میں بدلا تو امریکہ کے ساتھ ساتھ باقی پوری دنیا کے لوگ بھی حیران رہ گے خان صاحب کی جرات پر ۔۔
    امریکہ سے امداد مانگا کرتے تھے جو اب ماضی کا حصہ بن گیا کیونکہ خان صاحب نے ان کو منہ توڑ جواب دے کر ثابت کردیا کہ ہم اپ کی مدد کے بغیر بھی ملک چلا سکتے ہیں
    ہر صوبے میں صحت کارڈ کا حصول ممکن بنایا کہ غریب لوگ اپنا مفت علاج کروا سکیں بےگھروں کے لیے پناہ گاہیں بنائی اور ان کو چھت کے ساتھ کھانا مہیا کرنے کا بھی انتظام کیا
    جنوبی علاقوں پر آج تک توجہ نہی دی گئی تھی اب وہاں بھی تیزی سے کام ہو رہے ہیں
    احساس پروگرام کے تحت ہر غریب گھرانے کو پہلے 12ہزار روپے اب 13 ہزار روپے مقرر کردیے گے ہیں بزرگ لوگوں کی پینشن میں اضافہ کیا ۔گرین پاکستان کا منصوبہ کامیاب کیا پرویز رشید جیسے بےشرم لوگ جو کہتے تھے خان صاحب ایک ارب درخت نہیں کروایا اب وہ بھی مان رہے ہیں کہ پاکستان میں اتنے درخت لگ چکے ہیں کہ اب انھیں ڈر لگنے لگا ہے کہیں پاکستان چنگل ہی نہ بن جائے ایسے ایسے مضیحک خیز باتیں کرتے ہیں کہ عام انسان بھی حیران رہ جاتا ہے یہ ہمارے ماضی کے وزیر مشیر رہے کہ پہلے خان صاحب کے جلسے کی کرسیاں گنتے تھے اب درخت ۔۔
    پاکستان پر اچھا وقت آچکا ہے اب ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے مہنگائی ہے لیکن ان شاءاللہ بہت جلد اس پر بھی قابو پالیا جائے گا چین سپر پاور ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اب وہ دن دور نہیں پاکستان سپر پاور ممالک کی دوڑ میں شامل ہوجائے گا اور ہر پاکستانی اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرے گا ان شاءاللہ

  • دور جدید  اور مسلمان!! تحریر: ناصرہ فیصل

    دور جدید اور مسلمان!! تحریر: ناصرہ فیصل

    انسانی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بہت سے شاہانہ ادوار گزرے ہیں جس میں مسلمانوں نے اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں اور ہزاروں سالوں تک اس دنیا پر حکمرانی کی اور اپنی دور حکومت میں دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا
    اور لوگوں کو ایسے معاشرتی حقوق و اصول دیے جو آج تک دنیا میں قائم ہیں اور ان اصولوں میں رد و دبدل کرکے نظام دنیا کو اب تک چلایا جارہا ہے ۔۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کے ایسے سنہرے باب ہیں جو تاریخ میں سنہرے ابواب کی طرح رقم ہیں۔۔آنے والے ادوار نے ان سے سیکھ کر اپنے آپ کو بہتر کیا،، مغربی اقوام نے انہی کے اصولوں پر عمل کرنے کے اپنے لیۓ بہترین سسٹم بنائے اور آج وہ پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ اسکے برعکس مسلم اُمہ اور اسکے حکمران اپنے سنہری اصولوں کو بھول کر عیش و عشرت کی دنیا میں گم ہو گئے اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اب مسلم اُمہ میں کوئی ایسا حکمران نہیں جو خود کو صحیح معنوں میں ایک لیڈر کہہ سکے اور اس اتنی برّی امت کی رہنمائی کر سکے۔
    حضرت عمر بائیس لاکھ مربع میل کے فاتح تھے انہوں نے اپنے دور میں بیت المال قائم کیا اور عدالتی نظام بنایا اور ان میں قاضی تعینات کیے اور عدالتی نظام آج تک چل رہا ہے اور اس میں کچھ ردوبدل کرکے سب ممالک میں قائم ہے۔ انہوں نے جو اصول ایک عظیم سلطنت کو چلانے کے وضع کیے اُن پر آج بھی ترقی یافتہ اقوام عمل کر کے خود کو منوا چکی ہیں۔
    عظیم الشان ادوار گزارنے والے مسلمان آج پستی کا شکار ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ اپنے اسلاف کی پیروی کو جھٹلانا اللہ اور اس کے پیارے نبی حضرت محمدصلی علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے دوری ہے۔ ہم آج بھی اگر انکی تعلیمات پر پوری طرح سے عمل کرنا شروع کردیں تو کوئی مشکل نہیں کے ہم آج بھی پوری دنیا پر حکمرانی کر سکیں۔۔ لیکن ہم اپنی زمہ داریاں بھی دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کے سب ایک دن ایک سال میں ٹھیک ہو جائے لیکن ہم خود کو ایک لمحے کے لیے بھی بدلنے کو تیار نہیں ہیں۔ یقین مانیں جس دن ہم خود کو بدلنے میں کامیاب ہو گئے وہی دن آغاز ہوگا ہماری کامیابی و کامرانی کا۔۔ انّ شاء اللہ
    آج کے دور کا مسلمان بربادی کے دہانے پر ہے اور آپس میں منتشر اور فرقوں میں بٹا ہوا ہے جس کی ایک بڑی اور اہم وجہ آپس میں بنے ہوئے فرقے اور ایک دوسرے پر خود کو اعلی سمجھنا ہے۔ جبکہ اسلام میں اس چیز کی سختی سے ممانعت ہے۔ بڑائی کا معیار تو تقویٰ اور پرہیز گاری ہے اسلام میں۔۔ اسکے علاوہ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔
    اسلام ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے مگر ہم اس سے کوسوں دور مغربی تہذیب میں دھنس کر رہ گئے ہیں اور اپنے طورطریقے چھوڑ کر مغربی تہذیب کے گرویدہ ہوکر رہ گئے ہیں جوکہ ہماری تباہی اور آنے والی نسلوں کی بربادی کا سبب بن رہی ہیں۔
    ہماری صبح کا آغاز ہم رب کو یاد کرنے کی بجائے ڈسکو سے کرتے ہیں اور سارا دن غفلت میں گزار دیتے ہیں۔ سارا دن پیسے کمانے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں لیکن اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے۔۔
    مغرب کا غلبہ اب ہمارے ذہنوں میں سوار ہوچکا ہے اور ہم مغربی غلام بن کر رہ گئے ہیں۔
    اس پر علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے

    ””نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
    یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

    اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
    ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریدار””
    ان اشعار میں اقبال نے دریا کو کوزے میں بند کرکے رکھ دیا ہے مگر یہ بات اب ہماری سمجھ سے بالاتر ہوچکی ہے کیونکہ ہم اس برے طریقے سے اس دلدل میں پھنس چکے ہیں کہ اب اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈھ پا رہے۔
    اس سے نکلنے کا واحد حل یہی ہے کہ ہمیں خود کو پہچاننا ہوگا ہم کیا تھے کیا بن گئے ہیں ہمارا مقصد کیا ہے اور ہم کس مقصد پر لگ گئے ہیں اگر یہ سب اسطرح چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنا سب کچھ کھو چکے ہوں گے اور اس وقت سوائے پچھتاوے کے ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا۔۔
    لہذا ہمیں اس دلدل سے نکلنے کے لیے ایک ہونا پڑے گا اور اپنے مقصد کو پہچان کر اس پر عمل کرنا ہوگا ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے اپنے ماضی پر پچھتا رہے ہوں گے۔۔
    آئیے مل کر عہد کریں کے ہم خود کو بدلنے کی حتی المکان کوشش کریں گے تاکہ ہم ایک نئے سنہری دور کا آغاز کر سکیں۔۔آمین۔

    ⁦‎@NiniYmz⁩

  • سگریٹ نوشی کی تباہ کاریاں  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی کی تباہ کاریاں تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    زندگی میں بہت کم لوگوں کو آپ نے اپنی موت کا سامان کرتے دیکھا ہو گا۔
    مگر ایسے بہت سے چہرے ہیں،
    جو ہر وقت ہمارے ارد گرد گھوم رہے ہوتے ہیں۔
    یہ نہ صرف اپنی موت کو اپنے قریب تر کر رہے ہوتے ہیں،
    بلکہ دوسروں کو بھی زندہ درگور کئے جانے کے امکانات بڑھا رہے ہوتے ہیں !
    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ایسے کون سے لوگ ہیں جو خود تو ڈُوبے ہیں صنم ،مگر تجھے بھی لے ڈوبیں گے-؛
    کے مصداق اپنی زندگی کے اندھیرے سفر میں مگن آنے والے خطرات کو جانتے بوجھتے اندھے کنوئیں میں چھلانگ لگانے خراماں خراماں چلے جا رہے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جو نہ صرف اپنا پیسہ جلا رہے ہوتے ہیں بلکہ اپنے خون کی سُرخی کوسیاہی میں بدلنے کے درپے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جنہیں اپنی رگوں میں دوڑنے والے اس زہر کا قطعا” کوئی احساس نہیں ہوتا کہ اپنی ہی رگوں میں دوڑ رہے اس زہر کو انکی رگوں میں ڈالنے والا کوئی دشمن نہیں،
    بلکہ وہ خود ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جو اپنے دشمن خود ہوتے ہیں۔
    انہیں اپنی زندگی کی بجائے اس دھوئیں سے پیار ہوتا ہے،
    جو ان کی زندگی کو دھواں بنا رہا ہوتا ہے۔
    ان میں سے کئی تو ایسے ہوتے ہیں،
    جو جانتے بوجھتے موت کو گلے لگا رہے ہوتے ہیں۔
    زہر کی پڑیا پر لکھی تحریر پڑھنے کے باوجود یہ لوگ اسی زہر کو خوشی خوشی اپنے اندر انڈیل کر اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہوتےہیں۔
    ان کی مثال اس کبوتر جیسی ہوتی ہے،
    جو خطرہ سامنے دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے،
    جس سے خطرے کے لئے آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ کبوتر کی گردن دبوچ لیتا ہے۔
    یہ لوگ بھی ایک ایسی منزل کے راہی ہوتے ہیں،جو کبھی نہیں ملتی،
    جو منزل نہیں بلکہ ایک خوفناک گھاٹی ہوتی ہے،
    جس میں بالاخر گر کے یہ لوگ اسی دھوئیں کے مرغولوں کی طرح غائب ہو جاتے ہیں،
    جو دھواں انکی رگوں کو سکیڑ کر دل کی حرکتوں کا بھی کام تمام کر چکا ہوتا ہے۔
    یہ وہی لوگ ہیں،
    جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے مذہب میں خود کشی حرام ہے،
    کچھ ایسا دانستگی،نادانستگی میں کر رہے ہوتے ہیں،
    جو کسی طور بھی خودکشی سے کم نہیں۔
    یہ ہومیوپیتھک قسم کی خودکشی کا ساماں بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایلو پیتھک دوائیوں سے اس خودکشی کو قدرے تاخیر سے آنے کے حربے اور نسخے بھی کر رہے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جو گھنٹوں آپکا لیکچر سننے کے بعد ہونے والا ڈیپریشن ریلیز کرنے کے لئے اسی چیز کا سہارا لے رہے ہوتے ہیں،
    جس سے منع کرنے کے لئے آپ اپنا سر دیواروں سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہیں جو ایک وقتی اور عارضی و مصنوعی سہارے کی خاطر اپنے خاندانوں کو ہمیشہ کے لئے بے سہارا کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جنہیں نہ اپنی اولاد کی پرواہ ہوتی ہے ،نہ بیوی بچوں کی اور نہ ہی اپنے ماں باپ کی۔
    انہیں نہ تو اپنے مستقبل کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے سے وابستہ لوگوں کے حال اور مستقبل کی۔
    جی ہاں !
    میں زکر کر رہا تھا اپنے ان احباب کا،
    جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہیں،جوجانتے بوجھتے ہوئے اپنے لئے ایک ایسی بند گلی کا انتخاب کرتے ہیں،
    جس میں روشنی اور امید کی کوئی ایک کرن ،نکلنے کا کوئ راستہ بھی نہیں ہوتا۔
    سگریٹ ایک ایسا خاموش زہر قاتل ہے،
    جسے پینے والا سمجھتا ہے کہ سگریٹ پینے سےکچھ نہیں ہو گا۔
    اور پھر بدقسمتی سے اسی کچھ نہ ہونے والی سوچ سے بہت کچھ ایسا ہو جاتا ہے،
    جس کے ہونے کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
    بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے،
    مگر جانتے بوجھتے موت کو گلے لگانا خودکشی کہلاتا ہے۔
    اور خود کشی کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا۔
    سگریٹ نوشی بھی میرے نزدیک خودکشی کی طرف بڑھتے ہوئے وہ قدم ہیں،
    جنہیں بطور ایک زمہ دار شہری کے روکنا ہم سب کی زمہ داری ہے۔
    سگریٹ نوشی سے سب سے زیادہ نقصان ہمارے دل کے پٹھوں اور جگر کے خلیوں کو ہوتا ہے۔
    جو لوگ سگریٹ پی رہے ہوتے ہیں،وہ بدقسمتی سے اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو یہ زہریلا دھواں فراہم کر کے گویا مفت موت بانٹ رہے ہوتے ہیں۔
    امراض قلب کے ایک ماہر ڈاکٹر اور میرے دوست ڈاکٹر جنجوعہ نے مجھے ایک دفعہ دوران انٹرویو بتایا تھا کہ دل کے امراض کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ نوشی کا بڑھناہے۔
    جس کی لت چھوٹے چھوٹے بچوں اور خواتین کو بھی پڑ چُکی ہے۔
    سگریٹ کی ڈبیا پر لکھی وارننگ میں واضح طور پر یہ پیغام درج ہوتا ہے کہ سگریٹ نوشی مضر صحت ہے،
    جو پھپھڑوں کے کینسر میں مبتلا کر سکتی ہے۔
    مگر لوگ پھر بھی پرواہ نہیں کرتے۔
    وہ پھر بھی اسی خام خیالی میں مبتلا رہتے ہیں کہ بس چند کش ہی تو ہیں !
    ارے بھائی کیا ہو جائے گا؟
    اور پھر اسی گھن چکر میں پڑ کر سگریٹ نوشی کا شکار افراد ایسے ایسے خطرناک امراض کا شکار ہوجاتے ہیں،
    جن کا علاج نہ صرف مہنگا ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو ہم لوگوں کی پہنچ سے بھی دور۔
    کتنے ہی لوگ ہیں جو دنیا میں روزانہ سگریٹ نوشی کی بدولت اپنی اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
    پوری دنیا میں سگریٹ نوشی کے خلاف مہمات چلائی جاتی ہیں۔
    ایسی ہی ایک کاوش باغی ٹی وی کی ٹیم بھی کر رہی ہے،
    باغی ٹی وی کی یہ کوشش لائق صد تحسین ہے۔
    ایسی کوششیں سب اداروں کو بھی کرنی چاہییں،
    جس سے سگریٹ نوشی کے مضمرات سے نوجوان نسل میں آگاہی پیدا ہو سکے۔
    ہم سب کا بھی بطور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرض ہے کہ ہم اس سگریٹ نوشی کے خلاف مہم میں اپنا حصہ ڈالیں۔
    خصوصا” جو لوگ باغی ٹی وی کے لئے کالم لکھتے ہیں،
    ہر ہفتے کم ازکم ایک کالم سگریٹ نوشی سے ہونے والے تباہ کن نقصانات پر بھی لکھیں۔
    معاشرے میں سگریٹ نوشی کے بڑھتے رجحان کو کم کرنے کے لئے حکومتی سطح پر مزید کوششوں کی ضرورت ہے،
    صرف سگریٹ کی قیمتیں بڑھا دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    قیمت بڑھانے والی یہ حکومتی ترکیب الٹا لوگوں کےگلے پڑ رہی ہے،
    لوگوں کا مطلوبہ برانڈجب مہنگا ہوتا ہے تووہ کوئ سستا برانڈ ڈھونڈ لیتے ہیں،
    کچھ لوگ شائد یہ جان کر حیران اور پریشان بھی ہوں کہ مارکیٹ میں بکنے والے سگریٹ کے جتنے سستے برانڈز ہیں،
    وہ زیادہ نقصان دہ ہیں،
    کیونکہ ان میں زہریلے نشہ آور مادے نکوٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
    اس کالم میں میں نے آگاہی کی غرض سے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ کی طرح کچھ کڑوی کسیلی سچائیاں اور حقائق بیان کیے،
    جو شاید ہمارے سگریٹ نوش دیوانے بھائیوں کو برے بھی لگے ہوں مگر جاتے جاتے پاکستان ٹیلی وژن کے ماضی کے ایک شہرہ آفاق مزاحیہ پروگرام ففٹی ففٹی میں قاضی واجد مرحوم کا ایک ڈائیلاگ سنا کو ماحول کی تلخی کو کچھ کم کرنے کی کوشش کروں گا۔
    اس پروگرام میں کسی نے قاضی واجد سے کہا کہ یار سگریٹ نوشی چھوڑ دو،یہ تمہیں مار دے گی-؛
    قاضی واجد نے جواب دیا کہ یار سگریٹ تو چھوڑ سکتا ہوں،
    مگر نوشی کو نہیں چھوڑ سکتا،
    کیونکہ وہ تمہاری بھابھی ہے۔
    آخر میں ایکبار پھر باغی ٹیم کی سگریٹ نوشی کے خلاف چلائی جانے والی مہم پر باغی ٹی وی کی پوری ٹیم بالخصوص مبشر لقمان،ممتاز حیدر ملک اور طہ بھائی کو خراج تحسین اور شاباش #

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • اللہ کے”شکر”کی کمی  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    اللہ کے”شکر”کی کمی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    میں نےجب پہلی کار خریدی تو آنکھوں میں آنسو آگئے بیگم پوچھنے لگیں کیا ہو گیا کیوں رو رہے ہیں۔میں نے جواب دیا کہ ابا جی کی یاد آگئ ساری عمرانہوں نے بس میں ہی سفر کیا اور آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو دل کرتا ہے کہ خوشی کے اس لمحے میں وہ میرے ساتھ میری نئ کار میں میرےبرابر میں بیٹھے ہوتے کاش میں ان کو ان کی زندگی میں ہی کچھ آسودگی دے سکتا۔۔۔
    دوستوں یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے بزرگ رتبے اور مرتبے میں ہم سے کہیں آگے تھے۔۔۔ لیکن ان کی زندگی میں کوئ خاطر خواہ آسائشیں نہی تھیں۔۔ میرے والد مرحوم جب ہجرت کر کےپاکستان آئےتو کلیم آفس میں کلیدی عہدے پر فائز ہوئے لیکن جلد ہی رشوت زدہ ماحول دیکھتے ہوئے انہیں نوکری چھوڑنی پڑی اور بعدازاں وکالت شروع کر دی۔۔۔گو کہ والد مرحوم شہر کراچی کی جانی پہچانی پڑھی لکھی سیاسی اور سماجی شخصیت اور نامور وکیل تھے لیکن نا جانے کیوں انہیں پیسوں سے سے کوئ شغف نہ تھا بلکہ ایسا لگتا تھا وہ پیسے سے نفرت کرتے ہیں۔ کہتے تھے "پیسہ ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے” بیٹا جی "گھر میں اتنے کمرے نہیں ہونے چاہئے کہ سب ایکدوسرے کی شکل کو ترسیں”۔۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو آسائشوں بھری زندگی سے دور رکھا مجھ سے اکثر کہتے تھے کہ بیٹا میں مرنے کے بعد کچھ چھوڑ کے ہی نہیں جاونگا کہ تم بہن بھائ آپس میں لڑو اور ایسا ہی ہوا۔۔۔ اللہ کا بہت شکر ہے اس موضوع پر آج تک ہم بہن بھائیوں میں کوئ اختلاف نہیں ہوا اور انکو گزرےاکیس برس ہو چکے ہم بہن بھائیوں کی محبت وہسے ہی قائم ہے جیسے پہلے تھی۔انکی زندگی میں ہی میری شادی ہوئ اورانہیں اللہ تعالی نے اتنی سعادت مند بہو دی جس نے انکی بیماری کے زمانے میں انکی اتنی خدمت کی جس کی مثال نہیں ملتی۔۔وہ بہت خوددار انسان تھے ہمیشہ اپنا کام خود کیا کرتے تھے۔۔ میں چونکہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائ تھا اور بہنوں کے لاڈ کی وجہ سے کوئ کام نہیں کرتا تھا ۔۔۔اکثر مجھے ڈانٹتے ہوئے کہتے تھے کہ بیٹا دنیا کا گھٹیا ترین شخص وہ ہے جو اپنا کام دوسروں سے کرائے۔۔
    کیا وقت تھا نہ گاڑی نہ موٹر سائیکل لیکن سارے خاندان کی تقاریب میں بھی پیش پیش ہوتے تھے۔۔۔گھومتے پھرتے بھی تھے بلکہ جب مضافاتی علاقوں کے رشتہ داروں کے گھر جاتے تو رک بھی جاتے تھے، دوسرے دن واپسی ہوتی تھی۔۔ ایک اور بڑی دلچسپ بات تھی نہ کوئ موبائل اور نہ کوئ گوگل میپ لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نئ جگہ نہ پہنچ پائے ہوں اور ہم کہیں گئے ہوں اور ویاں تالا لگا ہو۔۔
    ویسے دوستوں غور کریں ۔۔ہم میں سے تقریبا نوے فیصد لوگ اپنے گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں، میں خوداگر اپنا چائزہ لوں تو یہ بات غلط نہی ہوگی کہ میں اپنےوالد سے بہتر زندگی گزار رہا ہوں۔ آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے بھکاری بھی اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارتے ملیں گے‘ ان کے والدین سارا شہر مانگ کر صرف دس بیس روپے گھر لاتے تھے جب کہ کراچی اور لاہور کے بھکاری آج چھ سات ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔
    ہمارے گھر میں بچپن میں صرف پنکھے ہوتے تھے ائر کنڈیشن کاتو تصور بھی نہ تھا سارا بچپن چاچا برف والے سے برف خرید کر لاتے رہے ریفریجریٹر تو بہت بعد میں آیا۔۔۔ ریفریجریٹر آنے کے بعد فریزر میں برف زیادہ جمائ جاتی تھی کیونکہ ہمسائیوں کو بھی دی جاتی تھی۔۔۔۔ اچھا ایک بات اور تھی کہ ہمسایوں سے سالن مانگ لینا، شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا، پرانی کتابیں لے لینا معیوب نا تھا۔۔ہمارے تقریب اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے۔۔۔دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا۔۔ سویٹ ڈش میں صرف زردہ اور شاہی ٹکڑے ہی بنتے تھے۔۔۔مرغی تو صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی وہ بھی لوکی ڈال کے اور بیمار بے چارے کوتو صرف اس کا شوربہ ہی مل پاتا تھا۔۔۔ہمارے پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا تھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان کا بچہ بلانے آتا رہتا تھا کہ آپ کا فون آیا ہے۔۔۔ہمارے گھر جب ٹیلی ویژن آیا تو اجتماعی طورپر دیکھا جاتا تھا اور محلے کہ "مستقل ناظرین” بچوں کے لئے ابا جی نے دری کا بھی اہتمام کروا دیا تھا۔۔۔ ہم سب کو نئے کپڑے اور نئے جوتے صرف عید پر ہی ملتے تھے۔۔۔مجھے یاد ہے کہ ابا جی نے ایک کباڑی سے پرانی تین پہئے والی سائیکل ٹھیک کروا کےدلادی تھی ہم اسے بھی روز چمکا کر بڑی حفاظت اور احتیاط سے رکھتے تھے۔۔پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا۔۔۔سردیوں میں پتیلے میں پانی گرم ہوتا تھا کوئ گیزر کا تصور نہیں تھا۔۔اسکول جاتے ہوئے باورچی خانے میں ہی بیٹھ کرامی جان کے ہاتھ کے دو کرکرے پراٹھےچائے سے کھاتے۔۔ کوئ مارجرین اور بریڈ نہیں تھی۔۔ کیا سادہ اور مطمئن خوش باش زندگی تھی ۔۔اب اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور رہن سہن میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟
    صرف اور صرف "ناشکری”۔۔ ہم بحیثیت قوم ہی "ناشکرے” ہو چکے ہیں۔۔۔ انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ” بے اطمنانی” میں مبتلا ہو جاتا ہے اورپھر یہ بیماری مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔
    یاد رکھیں ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پانچ سو روپے سے پچاس لاکھ اور کروڑ تک پہنچ چکے ہیں لیکن خوش پھر بھی نہیں ہیں۔۔ اپنے حال کا ماضی سے موازنہ کرتے جائیں اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں ۔۔۔بار بار کریں۔۔ یقین جانیں ہمارا” شکر” ہماری زندگی بدل کے رکھ دے گا نہیں تو ہم ایک ادھوری، غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔

    @Azizsiddiqui100