Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد کی صورتحال تحریر: خالد عمران

    افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد کی صورتحال تحریر: خالد عمران

    افغانستان میں اشرف غنی کے اقتدار کا سورج غروب ہوچکا ھے اور اب تک کی صورتحال کے مطابق زیادہ تر لوگ امریکہ سے آزادی حاصل کرکے خاصا سکون محسوس کررہے ہیں، باقی دنیا کی طرح چند مسلم ممالک کی نظریں بھی ہر لمحہ بدلتی صورتحال پر مرکوز ہیں سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟

    ایران
    ایران، افغانستان کا اہم ہمسایہ ملک ہے جو موجودہ صورتحال کی وجہ سے کافی تشویش میں مبتلا ہے بہت سے افغان فوجیوں نے جان بچا کر ایران میں پناہ لے رکھی ھے اگر ہم ماضی کی بات کریں تو 1998 میں طالبان نے ایک ایرانی صحافی کو قتل کردیا تھا جس کی وجہ سے اس وقت ایران افغان طالبان پر حملہ کرنے والا تھا لیکن اگر ابھی کی بات کی جائے تو کچھ عرصے کے سے ایران کے طالبان سے تعلقات خاصے بہتر ہوئے ہیں اور طالبان کے افغانستان پر مکمل کنٹرول سے پہلے ایرانی نمائندوں کی طالبان نمائندوں سے تہران میں ملاقات ہوچکی تھی تو مستقبل قریب میں یہ ممکن ھے کہ ایران طالبان کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعلقات قائم کرے گا۔

    ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان

    وسطی ایشیا کے ان تینوں ممالک پر افغانستان کی بدلتی صورتحال کا گہرا اثر پڑتا ھے
    کیونکہ اکثر افغان مہاجرین ان ممالک رخ بھی کرتے ہیں گزشتہ کچھ عرصے سے ازبکستان اور تاجکستان کی جانب سے پناہ گزینوں کے لئے سخت قوانین بھی مرتب کئے گئے تھے جس کی وجہ سے جب جولائی کے مہینے میں کچھ افغان فوجی جان بچانے کی غرض سے بھاگ کر ازبکستان پہنچے تھے تو ازبک حکومت نے ان فوجیوں کو واپس کو واپس لوٹاتے ہوئے سرحد پر سختی کردی تھی یہی اقدامات تاجک حکومت نے بھی سرحد پر سختی برتتے ہوئے تقریباً بیس ہزار مزید فوجی تعینات کردئے تھے۔ازبکستان اور تاجکستان نے افغانستان کی صورتحال دیکھتے ہوئے بچ باہمی اتحاد کو فروغ دیتے ہوئے مشترکہ جنگی مشقوں کا بھی انعقاد کیا تھا۔وہیں ترکمانستان نے طالبان سے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ھے، سرحد پر طالبان کا کنٹرول مضبوط ہوتے ہیں ترکمانستان نے طالبان رہنماؤں کو مذاکرات کے لئے بلایا تھا حالانکہ طالبان نے واضح اعلان کردیا تھا کہ وہ اپنے ہمسائیوں کے لئے سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی افغان سرزمین کسی ہمسائے ملک کے خلاف استعمال ہونے دیں گےباوجود اس کے ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان میں افغانستان کی صورتحال کے باعث فکرمندی کا ماحول بنا ہوا ھے۔
    وسطی ایشیا کے ان ممالک نے ابھی تک طالبان حکومت سے متعلق کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ھے۔

    ترکی

    طالبان کو افغانستان میں اپنے مقاصد میں مل رہی کامیابی کے باوجود ترکی ابھی بھی کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کا کنٹرول اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ترکی نے دو روز قبل جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ کابل ایئر پورٹ کا استعمال میں رہنا فائدہ مند ہو گا۔ ترکی نے امریکی فوجیوں کی افغانستان سے واپسی کے بعد کابل ایئر پورٹ کے کنٹرول کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

    ترکی نے کہا تھا کہ وہ ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لے گا۔

    حالانکہ طالبان ترکی کے ان ارادوں سے خوش نہیں ہیں۔ طالبان نے ترکی کو دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ کابل ایئر پورٹ پر اپنی فوج نہ بھیجے۔ترکی کے صدر رجپ طیب اردغان نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا ’ہماری نظر میں طالبان کا رویہ ویسا نہیں ہے جیسا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے طالبان سے اپیل کی تھی کہ وہ دنیا کو جلد از جلد دکھائیں کہ افغانستان میں امن بحال ہو چکا ہے۔

    انھوں نے کہا تھا ’طالبان کو اپنے ہی بھائیوں کی زمین سے قبضہ چھوڑ دینا چاہیے۔‘

    طالبان نے کابل ایئرپورٹ کو کنٹرول کرنے کی ترکی کی پیشکش کو ’نفرت آمیز‘ قرار دیا ہے۔ طالبان نے کہا تھا ’ہم اپنے ملک میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی کسی بھی صورت میں موجودگی کو قبضے کی طرح دیکھتے ہیں۔‘

    وہیں ترکی کے صدر نے اس موضوع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کا رویہ صحیح نہیں ہے۔

    ترکی نیٹو اتحاد کا رکن ہے۔ حالانکہ ترکی کے فوجی افغانستان میں موجود نہیں رہے ہیں۔ لیکن ترکی نے افغانستان میں نیٹو افواج کی کارکردگی کی حمایت کی ہے۔
    ترکی کے پاکستان کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں اور پاکستان کے طالبان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ بھی اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان طالبان اور ترکی کو قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پاکستان
    دعووں کے مطابق پاکستان کے طالبان کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ بات چیت میں پاکستان ان تعلقات کا استعمال کرتا رہا ہے۔ حالانکہ طالبان اپنے اوپر پاکستان کے اثر و رسوخ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں اور پاکستان کو محض اپنا ایک اچھا ہمسایہ قرار دیتے ہیں۔افغان حکومت پاکستان پر طالبان کی مدد کرنے اور افغانستان میں دخل دینے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ حال ہی میں صدر اشرف غنی اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے درمیان تاشقند میں کھلی بحث ہو گئی تھی۔طالبان کے افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے کے بعد تازہ صورت حال پر پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ ‘پاکستان افغانستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان سیاسی سمجھوتے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔’ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ تمام افغان فریق اس اندرونی سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔کابل میں پاکستان کا سفارت خانہ پاکستانیوں، افغان شہریوں اور سفارتی اور بین الاقوامی برادری کو قونصلر کے امور اور پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے تعاون اور ضروری مدد فراہم کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ سفارتی عملے، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، بین الاقوامی تنظیموں، میڈیا اور دیگر کے لیے ویزا/آمد کے معاملات کو آسان بنانے کے لیے وزارت داخلہ میں ایک خصوصی بین وزارتی سیل قائم کیا گیا ہےپاکستان میں تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین بھی رہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ڈھائی ہزار کلومیٹر لمبی سرحد ہے۔ ایسے میں پاکستان کو طالبان کے لیے سب سے اہم ہمسایہ ملک بھی سمجھا جاتا ہے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات
    اسلامی دنیا کے سب سے اہم سنی ملک سعودی عرب نے افغانستان کے مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

    سعودی عرب کے افغانستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ ہی تاریخی تعلقات رہے ہیں۔ سعودی عرب نے طالبان سے بھی تعلقات قائم رکھے ہیں۔ حالانکہ 2018 میں قطر میں طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات شروع ہونے کے بعد سے ہی سعودی عرب نے مذاکرات سے خود کو دور رکھا ہے۔

    سعودی عرب پاکستان کے ذریعے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا تو چاہتا ہے، لیکن افغان تنازعے پر کھل کر کچھ نہیں بول رہا۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو 1980-90 کی دہائیوں میں روس کے خلاف سعودی عرب نے افغان مجاہدین کی حمایت کی تھی۔ لیکن موجودہ تنازعے سے سعودی عرب نے فاصلہ قائم کیا ہوا ہے۔

    ادھر متحدہ عرب امارات نے بھی موجودہ افغان تنازعے سے دوری برقرار رکھی ہے۔

    قطر
    قطر مسلم دنیا کا ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن افغان تنازعے میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔ طالبان کا سیاسی دفتر قطر میں ہی ہے۔ امریکہ کے حامی ملک قطر نے اپنی زمین پر طالبان کو امریکہ سے مذاکرات کے لیے ٹھکانہ فراہم کیا اور تمام سہولیات دیں۔

    2020 میں طالبان کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے تحت ہی امریکہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے۔

    اس سارے تجزیئے کے بعد یہ واضح کردوں کہ افغانستان کی ہر لمحہ بدلتی صورتحال میں آگے کیا ہونے جارہا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، فی الحال ایشیا چین بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ھے اور دیگر ممالک بھی اب عالمی برادری کیا فیصلہ کرتی ھے اور اس میں پاکستان کیا کردار ادا کرے گا آنے والے دنوں میں صورتحال کے واضح ہوجائے گی۔
    KhalidImranK

  • اپنے غموں اور پیاروں کو دھوئیں میں نہ اڑائیں تحریر : اقصٰی صدیق


    دنیا بھر میں 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف” ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے ” منایا جاتا ہے۔عالمی سطح پر اس دن کے منائے جانے کا مقصد انسانی صحت کو تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصان سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سگریٹ بچینے والی کمپنیاں اپنے نفع کی خاطر لوگوں کی صحت سے کھیل رہی ہیں ۔اخبارات و رسائل اور ٹی وی چینلز میں لوگوں کو تمباکو نوشی کی طرف مائل کرنے والے بڑے بڑے رنگین اشتہارات ان کی اخلاقیات و احساسات کے کھوکھلے پن کا واضع عکس ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت نے اس ضمن میں کسی بھی قومی مہم میں ان کی مداخلت کے خاتمے پر زور دیا ہے، جب تک تمباکو انڈسٹری حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کرتی، عوام کی اس موذی نشے سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔
    یوں تو سگریٹ کے علاوہ پان، چرس، بھنگ، افیون اور ہیروئین سمیت سب ہی نشے کے زمرے میں آتے ہیں۔
    مگر سگریٹ کے استعمال کو نقصان دہ ہونے کے باوجود بھی معاشرے میں معیوب نہیں سمجھا جاتا۔
    پاکستان میں 65 سے 75٪ فیصد آبادی کسی نہ کسی شکل میں تمباکو نوشی ضرور کرتی ہے،
    اسطرح ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک اعشاریہ تین کھرب افراد تمباکو نوش ہیں۔
    اور یہ سب نقصانات سے آگاہی کے باوجود اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔

    ماہرین کے مطابق ایک شخص جب سگریٹ پیتا ہے تو اس کے سگریٹ کے دھوئیں سے اور سگریٹ نوشی کی عادت سےنا صرف وہ بلکہ اس کے اردگرد میں رہنے والے افراد خصوصاً بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے کے پھیپھڑے متاثر ہونے کے باعث اس کو کورونا لگنے کے امکانات 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔
    تمباکو نوشی میں تمباکو سگریٹ اور اس کے علاوہ کئی نشہ آور چیزوں میں جیسا کہ نسوار، افیون اور ہیروئین میں استعمال ہوتا ہے۔
    تمباکو کو عام طور پر ہلکی نشہ آور خصوصیات رکھنے والی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،
    تمباکو کو امریکہ، چین اور اس کے علاوہ کئی ممالک میں منافع بخش پیداوار کے لحاظ سے کاشت کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان دنیا کا اعلٰی معیار کا تمباکو پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست آتا ہے۔
    تمباکو کی کئی اقسام ہیں،ایک تحقیق کے مطابق تمباکو میں موجود 300 کیمیائی اجزاء انتہائی خطرناک ہیں۔خاص طور پر تمباکو میں پایا جانے والا ایک کمیکل نکوٹین ایک نشہ آور مضر صحت کمیکل ہے۔
    نیز تمباکو نوشی صحت کے لیے بہت نقصان دہ چیز ہے۔
    یہ کس طرح نقصان دہ ہے اور اس کے کیا نقصانات ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
    جلتے ہوئے سگریٹ کا دھواں اور اس میں شامل زہریلے اجزاء نہ صرف تمباکو نوشی کرنے والے کے دل، دماغ، پھیپھڑے، معدے اور دیگر جسمانی اعضاء کو نقصان پہنچاتے ہیں، بلکہ اس کے دھوئیں سے اہل خانہ سمیت ارد گرد کے معصوم لوگ خاص طور پر بچے متاثر ہوتے ہیں۔
    دنیا بھر میں تقریباً ہر سال 53،000 افراد سگریٹ کے زہریلے دھوئیں سے متاثر ہو کر پھیپھڑوں کے مختلف امراض حلق، ہونٹ منہ کے کینسر، ہائی بلڈ پریشر، چھاتی کے امراض اور خاص طور پر ٹی بی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
    نیز تمباکو نوشی بیماریوں کی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتی ہے،
    نقصان دہ کمیکلز میں ٹار، نکوٹین اور کاربن مونو آکسائیڈ سر فہرست ہیں۔ٹار پھیپھڑوں پر داغ کی صورت میں حملہ آور ہو کر سرطان (کینسر) کا سبب بنتا ہے۔
    کینسر میں مبتلا عموماً وہ افراد ہوتے ہیں جو نوجوانی سے ہی تمباکو نوشی شروع کردیتے ہیں۔
    دیگر کمیکلز میں نکوٹین سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے، اس کے زہریلے اثرات جسم میں خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور اس کے سبب افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور بعض اوقات بلند فشار خون ہارٹ اٹیک کی وجہ بن جاتا ہے،
    نکوٹین کا ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ اس کے استعمال سے خون میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔جس کی وجہ سے رگیں سکڑ کر مزید تنگ ہو جاتی ہیں، اور جب جسم سے دماغ کو خون پہچانے والی رگوں میں خون کی گردش کم یا منقطع ہو جائے تو فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔
    نکوٹین کی وجہ سے پھیپھڑوں میں ایک سے زیادہ امراض کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
    اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سب نقصانات کے باوجود بھی لوگ سگریٹ پینا کیوں نہیں چھوڑتے؟
    انسان کی فطرت ہے کہ جس کام سے اسے روکا جائے وہی زیادہ کرتا ہے، کسی کو چائے کا نشہ لگ جاتا ہے، تو کسی کو نسوار، پان یا گٹکے کی لت،
    اور تو کوئی اپنے غم سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا رہا ہوتا ہے۔
    اور ویسے بھی تمباکو نوشی زیادہ تر غریب آدمی ہی کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس یہی سب سے بڑی تفریح ہے۔
    تمباکو نوشی جیسی بری عادت چھوڑنا تھوڑا مشکل ضرور ہے، مگر نا ممکن نہیں۔
    موجودہ دور تمباکو نوش افراد سگریٹ کے علاوہ پائپ، حقہ اور شیشے کی طرف بھی راغب ہیں، یاد رہے کہ حقہ اور آج کل نوجوان نسل میں مقبول ہونے والا شیشہ اتنا ہی نقصان دہ ہے، جتنا کہ سگریٹ ۔
    مسلسل تمباکو نوشی سے کئی اندرونی جسمانی نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔
    اس سے مرد و عورت دونوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جلد بھی متاثر ہو سکتی ہے، دانتوں پر دھبے پڑ جاتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر تمباکو نوش کی تو سانس سے بھی بدبو آنے لگتی ہے، جس سے آس پاس کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کئے جائیں؟

    دنیا کے تمام ممالک کو چاہیے کہ
    ریڈیو، ٹی وی، اخبارات و رسائل میں سگریٹ کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔
    تمام مواصلاتی ذرائع جیسا کہ انٹرنیٹ اور اخبارات ہر فورم پر تمباکو کے نقصانات، وضاحت اور معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
    دکانوں اور سڑکوں پر سگریٹ کے بورڈز لگانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔
    کھیل اور شوبز سے وابستہ افراد کو ٹی وی اس کی تشہیر سے روکا جائے۔
    پبلک مقامات اور ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد کردی جائے۔خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ کیا جائے۔
    اور سب سے اہم بات یہ کہ تمام تعلیمی اداروں، اسپتال، لائبریریوں اور سرکاری دفاتر میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
    تمباکو نوشی کرنے والوں سے بس ایک ہی درخواست ہے کہ، نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پیاروں اور آس پاس کے لوگوں کی صحت کی خاطر آج ہی سے تمباکو نوشی کی عادت چھوڑ دیں۔
    اور تمباکو نوشی سے خود بھی بچیں، دوسروں کو بھی بچائیں۔

    ‎@_aqsasiddique

  • ہمارا تعلیمی نظام  تحریر مدثر حسن

    ہمارا تعلیمی نظام تحریر مدثر حسن

    ہمارے ملک میں تعلیم کے مختلف معیار ہیں،
    اور ہم اس سے مطمئن بھی ہیں کیوں کے ہماری ترجیح تعلیم نہیں بلکے سڑکیں، پل ، گلی اور نالی پکی کروانا، ایم این اے سے سفارش کروا کے اپنی میٹرک پاس نکمی اولاد کی نوکری لگوا لینا، ایم پی اے یا علاقے کے کونسلر سے تعلقات بنا کر لوگوں پر رعب جھاڑ لینا اور سب سے بڑھ کر اگر کبھی پولیس پکڑ لے تو فون لگا کر کہنا ک” اے رانا صاھب نئی اے اپنے پرا نے”

    پاکستان کے آزاد ہونے سے لے کر اب تک عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا ہے، انکو تعلیم اور شعور سے دور رکھا گیا ہے کے اگر عوام سمجھدار ہو گئی تو کچھ لوگوں کی سیاسی دکان بند ہو جائے گی،
    پاکستان میں تین طرح کا تعلیمی نصاب پڑھایا جاتا ہے، اور سونے پر سہاگا ہر صوبے کا تعلیمی نظام بھی وکھرا ہے۔
    پہلے ہم صوبہ سندھ اور اس کے تین مختلف تعلیمی نظاموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    اگر آپ غریب کے بچے ہیں تو آپ کے لیے گورنمنٹ فری تعلیم مہیا کرے گی۔ جس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔ ایسے ایسے استادزہ رکھے جاتے ہیں جو اسکول انے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے اور اگر آ بھی جایں تو سواۓ مکھیاں مارنے کے اور بچوں کے لنچ باکس خالی کرنے کے علاوہ کوئی خاطر خواہ کام سر گرمی انجام نہیں دیتے ہیں، کبھی کبھی تو آپکو اسکول میں بھینسیں اور گدھے بھی بندھے مل جایں گے، ظاہر ہے انکا بھی دل کرتا ہوگا تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس میں کون سا بڑی بات ہے، کہیں قبضہ مافیا سر گرم ہوتا ہے تو کہیں نقل مافیا،، آپ اردو میڈیم میں آٹھ دس جمعاتیں پڑھیں اور پھر اپنے باپ دادا کے ہی آبائی پیشے میں سر کھپایں، کیوں کے آپ کو اعلی تعلیم دلوا دی گئی تو کہیں بھوٹو صاھب نا انتقال کر جایں۔

    اگر آپ کو یہ نظام پسند نہیں اور آپ کے اچھے حالات ہیں تو آپ اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکول میں بھی داخل کروا سکتے ہیں، جہاں آپ کے بچوں کو انگلش میڈیم پڑھایا جاتا ہے،آپ کے بچے تو اچھی تعلیم حاصل کر لیں گے لیکن آپ کی جائیداد رہے نہ رہے اس کے بارے میں کچھ کہ نہیں سکتے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری کے لیے دھکے کھانا ایک الگ ٹوپک ہے۔

    اگر آپ سیاست دان ہیں، کسی جرنل، کرنل یا کسی جج کی اولاد ہیں تو آپ کے لیے مثلا ہی کوئی نہیں ، آپ پاکستان میں رہ کے آکسفورڈ کی کتابیں پڑھیں آپ کے لیے اعلی سے اعلی نظام ہے،نوکری پلیٹ میں رکھ کے ملے گی آپکو اور اس کے بعد دل کرے تو پاکستان نہیں تو بیرون ملک جا کر اپنی خدمات پیش کریں۔

    پنجاب کے حالات بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں، لیکن یہاں اتنا فرق ہے کے آپکو اسکول میں گدھے اور بھینسیں نظر نہیں آیئں گی اور نا ہی نقل مافیا سر گرم لیکن استاتذہ کی حالت تقریباً ملتی جلتی ہی ہے،
    یہاں بھی بہتر تعلیم کے لیے آپکو پرائیویٹ اسکولز کا رخ کرنا پڑتا ہے، اور نوکری کے لیے دھکے کھانا پڑتے ہیں، کیوں کے میرٹ کا اور ہمارا تو دور دور تک کوئی تعلق واسطہ ہی نہیں ہے۔ یہاں بھی آپکو تین مختلف تعلیمی نظام ہی نظر ایں گے۔ کیوں کے اچھا اور بہترین تعلیمی نظام ہونے سے شیر آنے کے بجاے جا بھی سکتا ہے۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا خاں کے حالات پہلے دہشت گردی کی وجہ سے ابتر رہے لیکن ہماری آرمی کی خاطر خواہ قربانیوں کی وجہ۔ سے اب حالات کافی بہتر ہیں اور ایک اچھا تعلیمی نظام آپکو میسر ہے۔

    موجودہ حکومت نے پورے ملک میں۔ ایک تعلیمی نظام کے لیے کچھ اقدامات لئے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کے اب سے تمام بچوں کو برابر ترقی کے حقوق ملیں گے۔

    ‎@MudasirWrittes

  • کیا عورت اس معاشرے کا حصہ نہیں؟ تحریر: محمد وسیم

    کیا عورت اس معاشرے کا حصہ نہیں؟ تحریر: محمد وسیم

    جب یہ دنیا بنی تھی تو اس وقت زمانہِ جاہلیت تھی ۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے اور بیٹیوں کیلۓ ان کے دلوں میں نفرت تھی۔ جب حضرت محمدﷺ اس دنیا میں تشریف لاۓ اور لوگوں کو اللہ کے دین کے بارے میں بتایا تو تب لوگوں کو احساس ہوا۔
    یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیۓ ہے وہ دنیا میں کسی اور مذہب کو نہیں دیۓ گۓ۔ اسلام میں اس بندے کو منحوس اور شیطان کا ایجنٹ بولا گیا ہے جو عورتوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کرتا ہو۔
    اللہ نے سب سے پہلے عورت کو برابری کا اعزاز دیا ہے اور اللہ فرماتے ہے کہ ” پھر ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔
    اسلامی معاشرے میں رہتے ہوۓ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اسلاام ہمیں کیا کہتا کہ ہم نے کس طرح عورتوں کو ان کے حقوق دینے ہے ۔ آج ہمارا معاشرہ مغربی طرز پر چل رہا ہے اور عورتوں کو غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ آج بھی ہمارا معاشرہ عورتوں کو اپنے حواس نکالنے کیلۓ استعمال کرتی ہے ۔
    عورتوں کو ہر جگہ نوکری دینے سے پہلے اپنی حواس نکالنے کا کہا جاتا ہے تب عورت کو نوکری دی جاتی ہے ۔ حالانکہ حضورﷺ کے دور میں بھی عورتیں باقاعدہ جہاد کرنے جاتی تھی۔ حضرت سمیہؓ وہ پہلی خاتون تھی جنہوں نے اسلام کیلۓ قربانی دی تھی۔ یہ وہ عظیم عورت تھی کہ سرداران قریش ان پر ظلم اور زیادتیاں کرتے تھے لیکن پھر بھی یہ عورت اللہ کے دین پر قائم رہی ۔
    عورت اس معاشرے کی زینت ہے اگر عورت نہ ہوتی تو یہ دنیا نہ ہوتی ۔ عورت ایک ماں کا نام ہے ۔ عورت ایک بیٹی کا نام ہے ۔ عورت ایک بہن کا نام ہے ۔ اگر دیکھا جاۓ تو اس دنیا میں اللہ نے عورت کو کتنا اہم مقام دیا ہے ۔ اس کے ساتھ آج سے چودہ سو سال پہلے اللہ پاک نے قرآن پاک میں بھی عورت کے حقوق کے بارے میں واضح کیا ہے کہ مردوں کا اپنی عورتوں پر اس طرح حق ہے جس طرح
    عورتوں کا اپنے مردوں پر ہے ۔
    اگر اس دنیا میں مرد ہے تو مطلب یہاں عورت بھی ہے کیونکہ عورت اور مرد ایک حقیقت ہے ۔ حضرت آدمؑ کے ساتھ حضرت حوا اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اللہ نے ایک مرد کے ساتھ عورت کو شامل کرکے یہ دنیا بنائ۔ یہ دنیا عورت کے بغیر بڑھنا مشکل تھا.
    اب اگر بات میرے ملک پاکستان کے کی جاۓ تو یہاں آج لوگ مغرب کے طرز پر جارہے ہے اور لڑکیوں کو اپنی غلامی اور اپنے حوس نکالنے کیلۓ استعمال کرتے ہے ۔ آج ہمارا معاشرہ عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم کر رہا ہے اور انہیں وہ عزت اور حق نہیں دے رہے جو ہمیں اسلام نے بتایا ہے.
    آج یہاں عورت مخفوظ نہیں ہے نہ گھر میں نہ گھر سے باہر۔ میں یہ مانتا ہو کہ آج کل ہماری عورتوں نے مغربی لباس پہننا شروع کیا ہے جس سے مرد یہ سمجھتے ہے کہ ہا‌ں یہ لڑکی واقعی خراب ہوگی ۔ لیکن دوسری طرف یہا‌ں تو وہ عورتیں بھی محفوظ نہیں ہے جو پردہ کرتی ہے ۔
    عورتوں پر یہ پابندی لگانا کہ وہ گھر سے باہر نہیں جائیگی یہ بلکل غلط ہے ۔ جب جنگ احد ہورہا تھا تو اس میں عورتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور زخمیوں کو پانی پلاتے تھے.
    میرے اس کالم کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ آج یہاں عورت درندوں کا شکار ہورہی ہے ۔ابھی کچھ ہی دن پہلے عورتوں کے ساتھ لاہور میں درندگی کے بےشمار واقعات سامنے آۓ ہے ۔ ہمیں اپنی ماؤں اور بہنوں کی عزت کے بارے میں سوچنا ہوگا ورنہ تو اس کی سزا ہمیں اللہ بہت سخت دے گا۔

    Waseem Khan
    Twitter id: ‎@Waseemk370

  • اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے تحریر: عاصمہ قریشی

    ‏”
    جب آپ مصیبت کے چہرے میں ہمت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو، آپ اپنی زندگی اور دوسروں کو تبدیل کرتے ہیں۔
    دنیا میں سب سے زیادہ اشتعال انگیز لوگ وہی ہیں جو اوسط کے لئے حل نہیں کریں گے اور مصیبت کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے. ہم سب سے زیادہ ان لوگوں کی طرف سے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جنہوں نے مشکل کا سامنا کیا ہے اور، کبھی حوصلہ نہیں چھوڑتے ہیں.

    قسمت بہت اچھی ہے، لیکن زندگی کے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ بعض اوقات کشیدگی سے باہر کا واحد راستہ اس کے ذریعے ہے۔ زندگی میں چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں سبق سکھانے میں مدد کے لئے کئی بار جدوجہد ہوتی ہے۔ ہم یا تو اس سبق سے سیکھ سکتے ہیں یا اس سے انکار کرسکتے ہیں۔
    ایک ارتقائی نقطہ نظر سے انسانی ذہن کا بنیادی مقصد آپ کو محفوظ رکھنا ہے۔ کبھی کبھی یہ خود کو سبوتاژ کرنے کی طرف جاتا ہے کیونکہ آپ کے آرام کے زون میں رہنا اور خطرے سے بچنا آسان ہے۔ تاہم، بڑے بڑے کام کبھی ماداوکراٹی سے آتے ہیں۔ اوسط کے لئے حل کرنا چھوڑ دیں اور غیر معمولی کے لئے کوشش کریں۔
    ذیل میں وہ الفاظ ہیں جو میں نے طاقتور زندہ بچ جانے والوں سے متاثر ہوکر لکھے ہیں۔ ایک محرک اسپیکر کی حیثیت سے، میں بہت سے ایسے لوگوں سے ملتا ہوں جو بدقسمتی سے بچ گئے ہیں اور بھگت رہے ہیں۔ کشیدگی میں طاقت تلاش کرنے، خوف کو فتح کرنے اور اپنے خوابوں کو زندہ کرنے کے لئے ایک حوصلہ افزائی تقریر کے لئے مندرجہ ذیل نقطہ نظر ہے.
    حوصلہ افزائی تقریر ٹیمپلیٹ، کبھی بھی اپنے خوابوں کو ترک نہ کریں۔
    دلیری کے ساتھ آپ کے خواب کی سمت میں جاتے ہیں۔

    قد کھڑے ہیں اور دنیا کو دکھائیں جو آپ بنا رہے ہیں. جب دنیا آپ کو ہرا دیا، واپس دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ایک وجہ تلاش کریں۔ کبھی کامیابی پر ہاریں۔
    کوشش کریں، کوشش کریں، کوشش کریں اور دوبارہ کوشش کریں۔ کامیابی کے اپنے دماغ کے خیالات کو کھانا کھلانا، ناکامی نہیں.
    یاد رکھیں، اگر آپ کو چھوڑ دو تو آپ ناکام ہوسکتے ہیں. جب بھی آپ ناکام ہوجاتے ہیں، آپ کامیابی کے ایک قدم قریب آجاتے ہیں۔
    آپ خوفزدہ نہیں ہیں۔ آپ باہمت ہیں۔ آپ کمزور نہیں ہیں۔ آپ طاقتور ہیں۔ آپ عام نہیں ہیں، آپ قابل ذکر ہیں.
    پیچھے نہ ہٹیں، ہار نہ مانیں۔
    جب آپ اپنی زندگی پر نظر آتے ہیں، تو افسوس نہیں ہے. اپنے آپ پر یقین کریں، اپنے مستقبل پر یقین کریں، آپ کو اپنا راستہ مل جائے گا۔

    آپ کے اندر ایک آگ جل رہا ہے جو بہت طاقتور ہے ؛ یہ روشن جلانے کے لئے انتظار کر رہا ہے. آپ بڑے بڑے کام کرنے کے لئے کیا مراد ہیں۔
    آپ کے خواب کے بعد خوفناک اور دلچسپ دونوں ہو سکتے ہیں۔
    ہمت کو خوف کا سامنا ہے۔ ناکامی کا خوف زیادہ تر لوگوں کو پیچھے رکھتا ہے۔ آپ زیادہ تر لوگ نہیں ہیں۔
    دوسروں کو اپنے منصوبوں کے بارے میں برقرار رکھیں اور قائل کریں، کیونکہ وہ حقیقی ہیں۔ کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا لیکن آپ. ہمارے خوابوں کی راہ میں کوئی نہیں ملے گا۔

    زیادہ تر لوگ واضح مالک ہیں; آپ ایسی چیز بنا رہے ہیں جو پہلے نہیں تھا. یہ جلی ہے، یہ خوبصورت ہے اور یہ آپ ہے۔
    اسے اپنی پوری کوشش کرو، اور آپ کے خواب زندگی میں آئیں گے۔ کامیابی آپ کا ہے۔
    آپ کے خواب کے لئے جانا۔ یہ آپ کی باری ہے۔

    ٹویٹر اکاؤنٹ:
    ‎@AQsmt2

  • پاکستان کی ساکھ ، پاکستانیوں کے ہاتھوں برباد تحریر : حیأ انبساط

    پاکستان کی ساکھ ، پاکستانیوں کے ہاتھوں برباد تحریر : حیأ انبساط

    ۱۴ اگست ، اُس پاکستان کی آزادی کا دن جسے اسلام کے نام پہ لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کیا گیا لیکن بد قسمتی سے اس وطن کی آزادی کے جشن کے نام پہ جو تماشہ ملک بھر میں ہر سال لگایا جاتا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی.
    کل بادشاہی مسجد کا ایک ویڈیو کلپ نظر سے گزرا جس میں پاک سرزمین کی بیٹیاں مسجد کے احاطے میں کھلے سر اور تنگ لباس میں موجود فوٹوشوٹ میں مصروف دیکھائی دیں جبکہ دوسری طرف اسی بادشاہی مسجد میں غیر ملکی سیاحوں کا کافی بڑا گروہ ( جس میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی) سر پہ دوپٹہ اوڑھے مسجد کے تقدس کا پورا پورا خیال رکھ رہا تھا۔ غیر مسلموں کا مسجد کیلئے احترام اور مسلمان عورتوں کی مسجد میں بےحیائی دیکھ کر شرم سے نظریں جھک گئیں۔

    پاکستان کی آزادی کا جشن منانے کا آخر یہ کون سا طریقہ ہے کہ سبز اور سفید لباس زیب تن کر کے فوٹوشوٹ کروا کے اسٹیٹس اپڈیٹ کرنا اور غیر مردوں سے واہ واہ وصول کرنا ۔ ان لوگوں کو یہ کیوں نہیں یاد رہتا کہ اس ملک کو حاصل کرنے کے لیئے خاندان کے خاندان شہید ہوئے ہیں ان بچیوں کو ان کے بڑے کیوں نہیں بتاتے کہ عزّت اتنی قیمتی شۓ ہے کہ تقسیمِ ہند کے موقعے پہ جوان بیٹیوں نے اپنی آبرو بچانے کی خاطر کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنی عزت کو پامال ہونے سے بچایا تھا اور آج ان قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کے نام پہ پاکستان میں کیا کچھ ہو رہا ہے ہماری نظروں کے سامنے ہے۔

    حال ہی میں ہوئے سانحہ مینار پاکستان کے بارے میں بات کی جائے تو اپنے اجداد سے شرمندگی ہوتی ہے کہ وہ جگہ جہاں اسلام کے نام پہ ایک علیحدہ ملک بنانے کی قرارداد پیش کی گئی وہ ملک جس میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی خواہش میں لاکھوں لوگوں نے خاندان کے خاندان گنوائے اس جگہ اتنی بےحیائی کا مظاہرہ کیا گیا ۔میں اس معاملے کی شدید مذمت کرتی ہوں جو ہوا نہیں ہونا چاہئے تھا وہ خاتون مکمل لباس میں تھیں تو پھر کیوں ۴۰۰ درندوں نے اس خاتون کا لباس تار تار کیا ؟ بہت غلط کیا ،نوچ کھسوٹ کی، گناہ کیا۔ اس خاتون کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں لیکن کچھ سوالات ذہن میں سر اُٹھا رہے ہیں ؛ خاتون کا پچھلا ٹریک ریکاڈ کہیں سے بھی مہذب نہیں دیکھائی دیتا ، لباس کے انتخاب سے لیکر ان کی ویڈیوز کے مواد ( کانٹینٹ) تک میں کوئی ایسی چیز نہیں جو کے قابل ستائش ہو ، ہاں قابلِ شرم کافی زیادہ کچھ ہے ۔ میڈم کا کانٹینٹ جس نچلی سطح کا ہے اسی لحاظ سے پست ذہنیت والے اس کانٹینٹ کے شیدائی ان کے فالورز بھی ہیں جو ایسا مواد دیکھنا اورسراہنا پسند کرتے ہیں ۔ اب میڈم نے جب ان کو کھلے عام ملنے کیلئے دعوت عام دی تو کیسے انکے مداح اپنی اسٹار کو دیکھنے حاضر نہ ہوتے ؟
    جب آپ خود اپنی فکر کیے بغیر ، ایک پبلک پلیس پہ دعوت دے کر غیر محرموں سے ملنے کیلئے ، غیر محرم کے ہی ساتھ تشریف لائیں گی تو آپکی حفاظت کی ذمہ داری کون لے گا؟ وہ گندی ذہنیت والے مداح جو آپکی غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھ کے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں یا پھروہ برائے نام دوست یا منگیتر جو بھرے مجمعے میں آپ کو ڈھکنے کے بجائے موقع پہ چوکہ لگاتا دیکھائی دیا گیا ہے ۔ اگر اس منگیتر صاحب کی جگہ آپ کسی محرم کے ساتھ ہوتیں تو میں شرطیہ کہہ سکتی ہوں وہ آپ کی عزت پہ آنچ نہ آنے دیتا ۔

    اب تھوڑے حقائق جو منظر عام پہ آئے ہیں انکی بات کی جائے تو پارک کے گارڈ کا بیان سامنے ہے ، محترمہ کا اگلے دن کا انسٹاگرام پوسٹ جس میں وہ خوش باش دیکھائی دے رہی ہیں ، انکے بقول ان کے جسم پہ کہاں کہاں زخم ہیں وہ دیکھا بھی نہیں سکتیں لیکن چہرہ ، ہاتھ، پاؤں سب بےداغ ہیں ، محترمہ کا انٹرویو کسی اور کے گھر میں ہوا، جس کو اپنا گھر اور والدین کہا وہ پہجاننے سے انکاری ہیں ، انکے ٹک ٹاک پیغامات میں دیکھائی دیتا ان کا اطمینان اور اس سب سے بڑھ کے اب محترمہ کا پولیس سے تحقیقات روکنے کا مطالبہ مجھے آزردگی میں مبتلا کر گیا ہے۔

    بہت اچھی بات ہے کہ حکومت نے نوٹس لیا ، تحقیقات کروائی جا رہی ہیں اور ان درندوں کو سزا بھی ضرور ملے گی لیکن مجھے اس بات کا جواب چاہئیے کہ اگر یہ سب پہلے سے طے شدہ پبلسٹی اسٹنٹ ہوا تو کیا اس خاتون بمع ان کے منگیتر اور وہ تمام حضرات (جو ملک پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ، ذلت و رسوائی کے ذمہ دار ہیں ) سے کوئی ہرجانہ مانگا جائے گا؟؟ ان ۴۰۰ لوگوں کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف بھی کوئی کاروائی ہوگی ؟ کیونکہ ان کے ایک فالتو اور فضول کے میٹ اپ پروگرام کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر جس درجے کا نقصان پہنچا ہے ان لوگوں کی سات نسلیں بھی اس نقصان کی تلافی نہیں کر سکتیں ۔ سستی شہرت کی بھوکی خاتون اور اسکے حامی و مددگار افراد نے پاکستان میں آنے والے ٹورسٹ کے دلوں میں اس قدر خوف و ہراس بھر دیا ہے کہ غیر ملکی جو پاکستان کو محفوظ تصور کرکے یہاں سیاحت کی غرض سے آنے لگے تھے ہزاروں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ تھے ان کی روزی روٹی پہ لات مارنے کے جرم کی کیا سزا ہوگی؟ ہزاروں خاندانوں کو بےروزگار کرنے پہ کیا یہ حکومت ان میڈیا ہاؤسز سے کوئی سوال کرے گی جن کے واویلے نے دنیا میں پاکستان کو ایک مشکوک ملک بنا دیا ہے ؟؟

    میں حکومت پاکستان سے درخواست کرتی ہوں کے اس واقعے کی تحقیقات مکمل کروائی جائیں ہر ایک کو جو ذمہ دار ہے ان ۴۰۰ لوگوں سمیت سزا دی جائے کہ کسی اور کی آئندہ پاکستان پہ کیچڑ اچھالنے کی ہمت نہ ہو ساتھ ہی میں یہ بھی درخواست کرتی ہوں کہ پاکستان کو مکمل ریاست مدینہ نہ بھی بنا سکیں تو کم از کم اس واہیات ایپ ٹک ٹاک کو پاکستان میں مکمل طور پہ بین کیا جائے ساتھ ہی ان ٹک ٹاکرز کے اکاؤنٹ اگر کسی بھی ڈیوائس سے لاگ ان ہوں تو ان ڈیوائس کو بھی بلاک کیا جائے ۔ اسکرین پہ صرف مکمل سطر پوشی کے ساتھ آنے کی اجازت ہو کیونکہ اصل فساد کی جڑ بےحیائی ہے۔ اسلام نے عورت کو بہت تحفظ فراہم کیا ہے چاہے وہ معاشرے میں ہو یا جائیداد میں لیکن آج کی خواتین کو جائیدار میں حصہ والا اسلام تو یاد رہتا ہے لیکن پردے کے حکم پہ میرا جسم میری مرضی کا قانون لاگو کرنے کیلئے تیار رہتی ہیں انہیں کوئی بتائے کے اللّٰہ جسے عزت بخشتا ہے اسی کو ڈھانپنے کا حکم دیتا ہے خانہ کعبہ کے کسوہ کی تبدیلی کا طریقہ کار اس کی واضح مثال ہے ،قرآن مجید کا غلاف قرآن اس عزت کی واضح تعریف ہے تو جب اسی اللّٰہ نے عورت کو پردے کا حکم دے کر عزت دی آپکو آخر یہ عزت کیوں راس نہیں آرہی ؟ جب آپ سلیو لیس ، ٹاپ لیس ، بیک لیس پہن کے عوام کو اپنا جسم دیکھانے کیلئے ذہنی طور پہ تیار ہیں تو پھر ستائش بھری اٹھتی نظروں کے ساتھ بڑھتے ہاتھوں کے لیئے بھی تیار رہیے ۔

    نہ بھولیں کہ آپ جس ملک میں رہتی ہیں اسکا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے یہ کوئی سیکیولر ریاست نہیں اگر آپ میں اسلام کے خلاف زیادہ جراثیم پنپ رہے ہیں تو کسی ایسی ریاست تشریف لے جائیں جہاں آپکو کوئی پوچھنے والا نہ ہو پر برائے مہربانی جس تھالی میں کھائیں اسی میں چھید کرنے سے گریز کریں۔ شکریہ

    Twitter handle : ‎@HaayaSays

  • ٹک ٹاکرز بے لگام  تحریر :فاطمہ

    ٹک ٹاکرز بے لگام تحریر :فاطمہ

    14اگست کو لاہور میں مینار پاکستان پر ایک ٹک ٹاکر خاتون کے ساتھ لوگوں نے بدتمیزی کی گٸ اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔

    میں نے سنا ہے کہ بہت سے لوگ ٹک ٹاک پر فولوز لینے کے چکر میں اپنے آپ کو ننگا بھی کر دیتے ہیں اور نہایت نازیبا
    قسم کی ویڈیوز بھی بناتے ہیں جو کہ یقینا آپ لوگوں نے بھی کم و بیش دیکھا یا سنا ہی ہو گا
    آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے فالوورز کس قسم کے لوگ ہونگے۔
    اور پھر یہی لڑکیاں جب پبلک میں کھڑی ہو تی ہیں تو یہ ثابت کرنے لگ جاتی ہیں کہ میرے اتنی زیادہ چاہنے والے لوگ ہیں تو اس قسم کے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔
    انہیں بس اس بات سے غرض ہے کہ بہت چاہنے والے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ کس قسم کے چاہنے والے ہیں اللہ ہی حافظ ہے ان لوگوں کا۔
    پاکستان ایک مسلم ملک ہے اور مسلمان ہوتے ہوئے کیا ہمیں اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ ہم ٹک ٹاک پر بیہودہ قسم کی وڈیوز بنا کر اپلوڈ کریں؟
    سنا ہے سعودیہ میں ٹک ٹاک پر نوجوان لڑکوں کو جنسی جذبات ابھارنے پر بہت ساری لڑکیوں کو جیل ہوئی اور بہت سخت جرمانے ہوئے پاکستان میں بھی اس قسم کے قانون کی سخت ضرورت ہے۔ بیہودہ وڈیوز بنانے والوں کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔ سخت سزا اور جرمانے کیے جائیں۔

    لڑکوں کا تو پھر بھی مسئلہ نہیں لیکن اگر لڑکیوں کے ساتھ ایسے مسائل ہوتے رہے تو پاکستان کی بہت بدنامی ہوگی۔
    ایسا ہو بھی سکتا ہے کہ یہ لڑکی کا شہرت پانے کے لۓ ایک ڈرامہ اور سکینڈل ہو کیونکہ ہم نے بہت زیادہ ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے ویڈیوز میں ننگی ہو جائے یا سر عام لوگوں کے ہاتھوں سے کپڑے پھٹ وا لیں۔ اب وہ لڑکی باقاعدہ سوشل میڈیا پر اپنا چہرہ بھی دیکھا رہی ہیں کہ میں ہی وہ لڑکی ہوں۔
    ویڈیو میں لوگ دیکھیں نہ دیکھیں اور اس طرح اس کو سب نے دیکھ لیا۔
    کینیڈین روزی بھی ایک عورت ہے پورا پاکستان اکیلے گھوما ہے، لوگوں نےفری بائیک ٹھیک کرکے دی جہاں گئیں کھانے کےپیسے نہیں لیےگئے لوگوں نےاپنے گھروں میں فری رہائش دی ،
    400 کیا ہزاروں لوگوں سے ملی پورا پاکستان دیکھا اور دنیا کو پاکستان کی مثبت چہرہ دکھایا۔
    ا سے کسی ایک نےبھی بری آنکھ سےنہیں دیکھا کیونکہ روزی ناچ گانا نہیں کرتی تھی، اس نے بےحیا لوگوں کو اپنا فین نہیں بنایا تھا خدارا پاکستانی معاشرے کے مردوں کو اس طرح سے رسوا نہ کریں۔ کچھ ان بے ہودہ ٹک ٹاکروں کو بھی لگام دی جائے ۔
    قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس پر سخت سے سخت ایکشن لیتے ہوئے اس ٹک ٹاکر کے ساتھ آنے والے لڑکوں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے ۔
    وہ لڑکی جسے اتنے لوگوں نے تنگ کیا تب اس کے ساتھ آنے والے ٹک ٹاکر لڑکوں نے اسے کیوں نہیں بچایا؟
    اتنے سارے مردوں کے مجمع میں اس واحد لڑکی کو ہر ایک کی طرف فلائنگ کس کرنے سے اس کے دوستوں میں سے کسی نے کیوں نہیں روکا؟
    400 لوگوں کے درمیان ہی اس کا ایک ساتھی اس لڑکی کے گلے میں بانہیں ڈال کر کیوں کھڑا تھا؟
    کیا اسلامی معاشرہ میں یہ سب حرکتیں زیب دیتی ہیں؟
    میرا سوال ہے سب پڑھنے والوں سے

    ‎@Khak_e_Taiba

  • مدینہ کی ریاست کی چاہت۔ تحریر ہما عظیم

    مدینہ کی ریاست کی چاہت۔ تحریر ہما عظیم


    مدینہ کی ریاست۔۔۔نام لیتے ساتھ ہی ایک احترام ایک سرور سا اترتا ہے دل میں۔۔پاک ریاست پاک لوگ۔۔۔پاک زندگیاں۔۔۔
    ہمارا نعرہ مدینہ کی ریاست ہماری چاہت مدینہ کی ریاست۔۔۔ہماری مانگ آج ہی پوری ہو ۔۔۔کیسے ہو۔۔۔کیسے ہو۔۔۔
    ہم کتنے قابل ہیں اس ریاست کے۔۔مدینہ کی ریاست مدینے ولوں نے بناٸی اپنی پاک بازی سے۔اپنی سچاٸی سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر بھوکے رہ کر فاقے کر کے بنا کسی کو الزام لگاۓ اپنےبل بوتے پر اپنی سود، ذخیرہ اندوزی، جھوٹ، نفا ق سے پاک تجار ت ایک دوسرے کادرد محسوس کر کے۔۔ صبح خالی پیٹ گھر سے نکلنا شان کو واپسی پر کچھ کھانے کو نہ ملنے پرایک کجھور پانی کے ساتھ کھا کر صبر شکر کر کے سونا ۔۔۔اللہ پر توکل۔۔ نہ گالی نہ گلوچ۔۔اخلاق اتنے کہ کوٸی پتھر مار دے تو دعا دینا۔۔۔
    ہم مانگ رہے مدینہ کی ریاست
    کون ہیں ہم
    دسترخوان پہ پیٹ بھر کھانا ہے مگر ایکسٹرا بریانی کی چاہت ہے نہیں کھا سکتے گنجاٸش نہیں دو حکومت کو گالیاں اسی دکھ میں باہر نکلے کسی سے منہ ماری ہو گٸی دو اسے ماں بہن کی گالیاں۔۔۔
    کام پہ گۓ۔۔سو جھوٹ سو چالبازیاں منافقت سے بھری خوشامدوں کے بعد گھر واپسی تھکے ہوۓ آۓ ہیں بیوی بچوں پہ غصہ۔۔ماں سے بدتمیزی ۔۔۔
    پھر ا س سب کے بعد جب اپنے کرتوتوں سے رزق میں کمی حالات خراب ہوں تو اپنے سے اونچوں سے حسد شروع۔۔۔
    معاشرتی طور پر اتنا بگاڑ پیدا کر رکھا ہے۔۔
    ٹک ٹاک پہ منہ بنا بنا کے ایک آنکھ بند کر کر کے ویڈیوز دیکھتے ہیں۔۔استغفار کرتے جاتے ہیں آنکھوں کا زنا ہاتھوں کا زنا باتوں زنا کرتے جاتے ہیں
    جہاں زلیخا دیکھی یوسف کو بھول کر اس کی اداٶں پر مرمٹنے کو تیار ہو جاتے ہیں
    نہ عورت فاطمہ ؓ جیسی بننے کو تیار ہیں
    نہ مرد یوسف بننے پر راضی ہے
    اور تو اور یہ عالم ہے
    ہمارے ہاں عورت برقع میں ہو نظروں سے پھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں

    کیا ہم بنا پاٸیں گے ریاست مدینہ۔۔۔
    ہم سے ایک دن تیل کے بغیر شوربے والی ہانڈی نہ کھاٸی جاۓ۔۔مبادا کہ پیٹ پہ پتھر باندھنا
    ہم اپنے آگے کسی کی بات برداشت نہیں کرتے مبادا کہ پتھر کھا کہ دعا دینا
    ہم بغیر جھوٹ کے اپنا مال نہیں بیچ سکتے
    زخیرہ اندوزی کے بغیر ہم اپنے عید تہوار پر سسستاسامان نہیں بیچ سکتے
    ہم کیسے بنا پاٸیں گے ریاست مدینہ
    مدینہ کی ریاست میں حکم ربی اترتا تھا سب گردن جھکا کر لبیک کہتے تھے۔۔
    آج ہم مدینے کی ریاست میں چودہ سو سال پہلے اترے حکم ربی میں حجتیں کرتے ہیں دلیلیں گھڑتے ہیں۔پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

    دسروں کو حکم ربی سنا کرخود فادغ ہو جاتے ہیں
    کون ہیں ہم۔۔۔
    کیا چاہتے ہیں ہم
    مدینے کے اسلام میں اور ہمارے آج کے اسلام میں ہم نے وہ فرق ڈال دیا ہے۔کہ آج مدینے والے پلٹیں تو ہمیں کسی اور نٸے مذہب پہ پاٸیں
    خدارا پہلے خود کو اس قابل بناٸیں کہ
    آپ کے ارگرد خود آپ کو مدینے کا حساس ہو
    پہلے اپنے اندر احساس پیدا کریں
    مدینہ میں پہلے حکم جاری ہوۓ تھے۔۔سزاٸیں بعد میں اتری تھیں۔حکم ماننے والوں نے سزاٸیں اترنے کا انتظار نہیں کیا تھا۔۔سزاٸیں تو نافرمانوں کے لٸیے اتری تیں۔۔تم فرمابردار کیوں نہیں بنتے۔۔؟
    کیوں نافرمان ہو کر انتظار کرتے ہو کہ سزاوٶ ں کی بات ہو پھر ہی سدھرو گے۔۔معاشرہ بناٶ تم بناٶ
    مدینہ بناٶ تم بناٶ۔۔۔خود کو پہلے سے فرمانبردار بناٶ
    لبیک کہو۔۔
    کسی کو کہنے روکنے ٹوکنے سے کچھ نہیں ہوگا
    پہلے اپنا دل مدینہ بناٶ
    مدینہ پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے
    پہلے پاک ہو جاٶ
    پہلے پاک ہو جاٶ
    تحریر ہما عظیم
    ‎@DimpleGirl_PTi

  • معاشرے میں عورت کی اہمیت تحریر:سید عمیر شیرازی

    معاشرے میں عورت کی اہمیت تحریر:سید عمیر شیرازی

    ایک زمانہ تھا جب عورت کو کسی قسم کی ملازمت کرنے کی یا ڈاکٹر بننے یا نرس کا پیشہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی لوگوں کا یہ خیال تھا کہ عورتوں میں برداشت کرنے کی قوت کم ہوتی ہے اور ڈاکٹر بننے کے دوران وہ مشکلات برداشت نہیں کر سکتیں اور نہ ہی ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ صحیح سے فرائض انجام دے سکتی ہیں
    دوسرے شعبوں کی طرح ڈاکٹر کا پیشہ بھی مردوں کی ذات تک محدود رہ کر رہ گیا تھا
    لیکن بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ ہو کر ہر محاذ پر اپنا کردار ادا کیا۔
    مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سماجی فلاح و بہبود معاشرتی نظم و ضبط،سیاست معاشی استحکم اور دیگر شعبوں میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہیں کیوں کہ روئے زمین پر نوح انسانی کی بقا کا سفر تنہا کسی ایک صنف کے دائرے اختیار سے باہر ہے لہذا خواتین کی اہمیت سے انکار کا جواز ہی نہیں عورت ہر روپ میں ہر رشتے میں عزت و وقار کی علامت اور وفاداری اور ایثار کا پیکر سمجھی جاتی ہے انسان کسی بھی منصب اور حیثیت کا حامل ہو زندگی کے سفر میں کسی نہ کسی مرحلے پر کسی خاتون کا مرہون احسان ضرور ہوتا ہے بارہا سننے میں آتا ہے ہر کامیاب انسان کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اگر یہ سچ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ صنف نازک کی شخصیت میں کہیں نہ کہیں ایک ناقابل تسخیر طاقت ضرور موجود ہے تو پھر اس کی ذات میں کم مانیگی کے احساس نے کب اور کیسے جنم لیا؟اس سلسلہ میں موجود الزام مردوں کو ٹھہرایا جائے یا پھر عورت ہی عورت کی حریف واقع ہوئی؟
    یہ وہ معمہ ہے جسے حل کرنے اہل علم ودانش برس با برس سے سرگردہ ہیں۔

    دیکھیے کیا نتائج سامنے آتے ہیں ہماری تو بس ایک چھوٹی سی عرض ہے کہ خود کو پہچانیں بنت حوا کا وہ چہرہ جس کے نقوش وقتی تقاضوں،مفروضوں اور دیگر نام نہاد جدت طرازیوں سے گرد آلود ہو کر رہ گئے ہیں
    ان کی شناخت کریں ترقی کا سفر روایات اور جدت کے توازن کے بغیر ممکن نہیں مانا کہ جدت اور اپناپن خود میں ایک بے ساختہ تازگی کا احساس لئے ہوتا ہے جیسے بہاروں میں پھولوں کا کھلنا مسرت اور شادمانی کا باعث ہوا کرتا ہے۔
    خود خواتین کا احترام دراصل نوح انسانی کے احترام کے مترادف ہے کیوں کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت بی بی حوا کے علاوہ دنیا میں کوئی نفس ایسا نہیں آیا جسے ماں نے جنم نہ دیا ہو اگر ہمارے لئے ماں محترم ہے تو دنیا کی ہر خاتون (محترم) ہونی چاہیے یوں بھی عورت کا احتصال اور اسے کمزور و حقیر سمجھنا عہد جاہلیت کے شرمناک رواجوں میں سے ایک ہے،
    اسلام نے جدید ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں حقوق کو غصب کرنا ظلم و جبر تکبر طاقت بےجا استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے بیٹیوں کی ولادت کو باعث شرم سمجھنا اور اس جیسے دیگر اطور کی حوصلہ شکنی بھی کی انسان تو انسان بلکہ ہر جاندار کے حقوق کا احترام سکھایا
    عورت کو ایسا باعزت مقام عطا کیا کہ جو رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعل راہ ہے نیز خواتین کو بھی انتہائی باوقار طرز حیات تعلیم کیا ہمیں سمجھنا ہوگا کہ خواتین کو اپنا تشخص قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے پہلا قدم خود ہی اٹھانا ہے معاشرہ مرد کا ہی سہی کیا کبھی یہ ثابت کیا جا سکا کہ اس مرد کے معاشرے کی تشکیل کی ذمہ داری میں کبھی عورت کا کوئی عمل دخل نہیں رہا؟نہیں ایسا ممکن ہی نہیں درحقیقت ابتدائے آفرنیش سے آج تک یہ اپنی شخصیت کے بھرپور احساس کے ساتھ ایکسٹ کر رہی ہے یہ الگ بات ہے کہ کچھ مراحل پر اسے اپنی اہمیت کا احساس نہ رہا۔۔
    صنف نازک کہلانے والی یہ مخلوق اپنے آہنی ارادوں اور انقلابی عزم و ہمت کا پیکر ہونے کے باوجود وسیع القلبی شفقت و مہربانی اور درگزر جیسی خصوصیات کا مجموعہ ہے اور یہ خواص کسی خاص خطہ اراضی کیا کسی خاص قوم کی خواتین کی ملکیت نہیں بلکہ ہر خاتون کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہے لیکن اس سے بھرپور استفادہ اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب عورت کو اس کے بنیادی حقوق بہم پہنچائے جائیں
    جن میں پہلا حق تعظیم و اکرام ہے جن اقوام نے اپنی خواتین کو معزز جانا اور ان کا احترام کیا ان کے حقوق کی پاسداری کی ان کے نام افق کی بلندیوں تک پہنچے۔

    @SyedUmair95

  • تھکن اور اسکی وجوہات تحریر حُسنِ قدرت

    تھکن اور اسکی وجوہات تحریر حُسنِ قدرت


    سائنسدانوں کے مطابق تھکن کی تعریف یہ ہے
    "کسی کام کو کرنے کےلئے آپ میں انتہائی قلیل انرجیکپیسٹی کا ہونا”
    ہم لوگ یہ سنتے رہتے ہیں کہ ذہنی مشقت کرنے والے لوگ جلدی تھک جاتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے اگر آپ دماغی کام کر رہے ہیں تو آپ کے تھکنے کے چانسز اس آدمی کے مقابلے میں جو جسمانی کام کر رہا ہے کم ہیں
    اس بات کو ثابت کرنے کےلئے سائنسدانوں نے تجربات کیے انہوں نے کچھ ایسے لوگوں کے بلڈ سیمپلز لیے جو آفس میں کام کرتے ہیں اور چند ایسے لوگوں کے بلڈ سیمپلز بھی لیے جو محنت مزدوری کرتے ہیں اور جسمانی مشقت کا کام کرتے ہیں
    جب بلڈ ٹیسٹ کے نتائج آئے تو یہ پتہ چلا کہ ذہنی مشقت کرنے والے لوگوں میں تھکن سے پیدا ہونے والے زہریلے مادے جنہیں ہم انگریزی میں fatigue toxins اور ان سے بننے والے پراڈکٹس جنہیں ہم fatigue products جسمانی مشقت کرنے والوں کی نسبت انتہائی کم تھے
    ماہر نفسیات اس بات کو کلیئر کر چکے ہیں کہ تھکن دماغی کام کرنے سے نہیں ہمارے ذہنی رویے اور جذباتی رویے کی پیداوار ہے اور یہ بات سو فیصد درست ہے کہ کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا انسان اگر صحت مند زندگی گزار رہا ہے تو اسکی وجہ بلاشبہ اسکا جذباتی رویہ ہی ہے
    اور ایسے ہی اگر کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا انسان تھکن محسوس کرتا ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر کام کو جلدی میں کرنے کے لیے اسے اپنے اعصاب پہ سوار کر لیتا ہے وہ ایگزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ جتنا اچھا وہ کام کر رہا ہے اسکی اسے داد موصول نہیں ہو رہی یہ چند بنیادی اور بڑی جذباتی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پہ ایک کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا یا آفس ورک کرنے والا انسان تھکن اور پریشانی محسوس کرتا ہے جسکی وجہ سے اسکی کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور وہ شدید ترین سر درد کے ساتھ گھر جاتا ہے
    اس کی تمام تر پریشانی کی جڑ اس کا جذباتی رویہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اعصاب تناؤ کا شکار ہو جاتے جنکا نتیجہ شدید سر درد کی صورت میں نکلتا ہے
    اکثر اوقات ایک بھر پور نیند تھکن کا بہترین علاج ہوتی ہے لیکن یہ علاج تب کارآمد نہیں ہوتا جب ہم پریشانی،ٹینشن یا جذباتی اتار چڑھاؤ کا شکار ہوں کیونکہ ایک ٹینس مسلز ایسا مسل ہوتا ہے جس پہ مسلسل دباؤ پڑ رہا ہوتا ہے اور وہ کام کر رہا ہوتا ہے جب ہم نیند کرتے ہیں تو بھی سوتے وقت ہم اس پریشانی کو سر پہ سوار کرکے سوتے ہیں جسکی وجہ سے مسلز پہ دباؤ کم نہیں ہوتا اور نیند بھی کار آمد ثابت نہیں ہوتی
    اس لیے یہ ضروری ہے کہ خود کو تھوڑا ہلکا محسوس کریں کسی بھی چیز کو سر پہ سوار نہ کریں اور اپنی انرجی کو زیادہ اہم کاموں کے لیے بچائیں
    رکیں! خود کا ابھی تجزیہ کریں کیا آپ اپنی آنکھوں پہ ایک دباؤ محسوس کر رہے ہیں؟ کیا آپ اپنی کرسی پہ پر سکون محسوس نہیں کر رہے ہیں؟ یا آپکے کاندھے اکٹھے ہوئے ہیں ؟ کیا آپ کے چہرے کے مسلز پہ تناؤ موجود ہے؟ اپنے جسم کو ریلیکس فیل کرائیں خود کو ڈھیلا چھوڑیں کیونکہ آپ خود ہی اپنے لیے اعصابی تناؤ اور اعصابی تھکن پیدا کر رہے ہیں اپنے ذہن کو خالی اور جسم کو ڈھیلا چھوڑنے سے آپ خود کو کافی حد تک پر سکون محسوس کریں گے
    آخر کار کیوں ہم لوگ ذہنی کام کرتے ہوئے غیر ضروری اعصابی تناؤ کا جنم دیتے ہیں؟
    اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی ہے اور ہمارے ذہن میں یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم سخت محنت کر رہے ہیں چونکہ محنت تھکن کو جنم دیتی ہے اس لیے ہم تھک جاتے ہیں جب تک ہم خود کو تھکا ہوا محسوس نہیں کرتے ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے محنت نہیں کی

    آج میں نے تھکن اور اسکی وجوہات پہ بات کی ان شاءاللہ اس آرٹیکل کے اگلے حصے میں ہم اس پہ مزید بات کریں گے اسکی مزید وجوہات اور اسکے علاج پہ بات کریں گے