Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پانی  تحریر : سید محمد مدنی

    پانی تحریر : سید محمد مدنی

    دنیا کے تین حصوں پر صاف پانی ہے کہا جاتا ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے مطلب قیامت کے آثار ہوں گے ہر چیز تباہی کی طرف جائے گی پانی انسان کے لئے کتنا ضروری ہے یہ ﷲ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت بھی ہے جدید سائنسی دور میں پانی کو مناسب طریقے سے  استعمال کرنے پر بھی زور دیا جاتا ہے

    ہر سال ٢٢ مارچ کو دنیا میں پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کے پانی کی قدر کریں اور صاف پانی کو بے دریغ استعمال کرنے سے گریز کریں.

    ہم مسلمانوں کے لئے پانی سے متعلق تو ہمارے نبی حضرت محمد صلی ﷲ علیه وسلم نے کتنی تاکید کی ہے کے پانی کو ضائع کرنے سے بچاؤ یہ ایک نعمت ہے یہاں تک کے وضو میں سب سے لمبا اسٹیپ سر کا مسح کرنے کا ہوتا ہے اور اس وقفے کو بھی رسول الله ﷺ نے ہمیشہ یہ فرمایا کے جب وضو کرتے ہوئے سر کے مسح کرنے لگو تو اس وقت پانی بند کر دو ورنہ ضائع ہوگا اب آپ اندازہ لگائیں کے کتنا زور دیا گیا ہے پانی کے مناسب استعمال پر.

    ہم روزانہ بلکہ دن میں کئی کئی بار دیکھتے ہیں کے لوگ پانی کو کس کس طرح سے ضائع کرتے ہیں کئی ممالک تو سمندری پانی کو صاف کر کے اسے پینے کے قابل بناتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کے لوگ گھروں میں گاڑیاں دھوتے ہیں اور بے جا پانی ضائع کرتے ہیں یہ قدرتی چیز کا ضائع کرنا نہیں تو اور کیا ہے اس میں سب افراد شامل ہیں گھر میں اگر کوئی نوکر نوکرانی رکھا ہؤا ہوئی ہے تو ان میں بھی کچھ لوگ بے دردی سے پانی کا استعمال کرتے ہیں.

    جو لوگ پانی ضائع کرتے ہیں کیا انھوں نے کبھی سوچا ہے کے پاکستان میں کتنی کھیتی باڑی ہوتی ہے اور اگر بارشیں نا ہوں اور افراد پانی ضائع کریں تو کتنا نقصان ہوگا کھیتوں اور کسانوں کو.

    ماہرین کا کہنا ہے کے پانی کی کمی کی سب سے بڑی وجہ بارشیں اور پھر لوگوں کا پانی کو ضائع کرنا ہیں اگر ہر شخص تھوڑی سی احتیاط کرے تو کتنا پانی ضائع ہونے سے بچ سکتا ہے. کہا جاتا ہے کے دوہزار دس میں جنوبی افریقہ میں پانی سے متعلق ایک مہم کا آغاز ہؤا تھا کیونکہ وہاں پانی کی کمی ہوئی تو ماہرین نے کہا کے کچھ مہینوں میں پانی ختم ہو جائے گا پھر انتظامیہ نے عوام میں معلومات اور شعور پیدا کرنے اور پھیلانے کے لئے مہم چلائی کے اگر روز استعمال ہونے والا پانی کی کھپت کو اگر ہر گھر آدھا کرے تو مہم کا آغاز کیا کہ روز مرہ استعمال ہونے والے پانی کی کھپت کو اگر ہر گھرانہ آدھا  کردے تو حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے اور یہ ترکیب کامیاب ہوئی.

    اب چونکہ انٹرنیٹ کا دور ہے تو پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کے زریعے پانی کے ضائع نا کرنے سے متعلق معلومات اور تنبیہ پھیلانی چاہیے تاکہ پاکستان میں بھی پانی کی کمی نا ہو خاص کر گھریلو ملازمین ، ڈرائیور ، کسان ، غرض یہ کہ ہر کسی کو بار بار یہی سمجھایا جائے کے پانی بہت اہم چیز ہے اس کا بے دردی سے استعمال مت کریں.

    ہم خود اپنے آپ سے وعدہ کریں تو بہت سے مسائل خود ہی حل ہو سکتے ہیں.

    Twitter id @ M1Pak

  • یوم تاسیس جماعت اسلامی تحریر:۔ رانا عمر فاروق

    یوم تاسیس جماعت اسلامی تحریر:۔ رانا عمر فاروق

    آج سے ٹھیک 80 برس قبل 75 افراد اور 74 روپے اور 14 آنے سے شروع ہونے والی جماعت اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے قرآن کے الفاظ میں
     کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿سورة فتح آیت۲۹﴾
    گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی ، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی ،پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں ۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لاۓ ہیں اور جنہوں نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ۔ ع
    آج وہ جماعت ایک عالمی تحریک کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جس نے اس دنیا کے رہنے والوں کو زندگی کا مقصد بتایا، امت مسلمہ کے ایک فرد کی حیثیت سے ان ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جو ان پر عائد ہوتی ہیں، اس جماعت نے ایسے پاک باز اور پاک سیرت انسان تیار کئے جو اسی معاشرے کے رہنے والے افراد تھے، اسی معاشرے میں ان کا روزگار تھا، اسی معاشرے میں ان کے روزوشب گذرتے تھے لیکن ان کی زندگیاں اس بات کی علامت تھیں کہ یہ اس معاشرے کے افراد نہیں بلکہ یہ کسی اور ہی معاشرے کے افراد ہیں، اس کی مثال آپ ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ آپ نے چنبیلی کا پھول دیکھا ہوگا، یہ پھول کس ماحول میں کھلتا ہے؟ کہاں سے وہ غذا لے رہا ہوتا ہے، کس ماحول میں وہ سانس لے رہا ہوتا ہے، کس ماحول سے وہ پانی حاصل کر رہا ہوتا ہے؟ یعنی ایک گندے جوہڑ میں کھلنے والا یہ پھول، اسی جوہڑ سے اپنی غذا، پانی اور آکسیجن حاصل کرنے والا یہ پھول اُن تمام آلائشوں اُن تمام گندگیوں اور اس تعفن زدہ ماحول سے پاک ایک خوبصورت پھول ہوتا ہے جس پر اس ماحول کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ الحمد للہ جماعت اسلامی نے جو افراد تیار کیے وہ بھی اسی کردار کے حامل افراد ہیں۔
    آج اس بات پر ہم صرف اللہ کے شکر گذار ہیں کہ جس نے ہمیں ایسی صالح اجتماعیت عطا کی جس نے ہمارے بچپن، ہمارے لڑکپن، ہماری جوانی کی حفاظت کی اگر یہ جماعت نہ ہوتی تو ہم جیسے ہزاروں افراد معاشرے میں موجود برائیوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہوتے، اس تحریک نے ہمیں سینما سے بچا کر مسجد  کی طرف ہمارا رخ پھیرا۔مجھے آج بھی وہ گھر، وہ بیٹھک اور وہ افراد یاد ہیں جہاں مجھے میرے مرحوم والد مجھے اسلامی جمعیت طلبہ کے پہلے پروگرام میں لے کر گئے تھے۔
    ایک ہی سمت میں  کب تک کوئی چل سکتا ہے
    ہاں کسی نے مجھے رستہ نہ بدلتے دیکھا
    مجھے یاد آرہا ہے کہ میں جب پہلی مرتبہ اعتکاف پر بیٹھا تو ہمارے امام مسجد مولانا اسمعاعیل حمادؔ صاحب نے ہمارے رشتہ میں دادا لگتے تھے ان سے کہا کہ یہ نوجوان اب آپ میں سے نہیں رہا ان کا اشارہ *راجبپوت* برادری کی طرف تھا اس لیے کہ ہماری قوم کے نوجوانوں کے شب و روز تو کسی اور طرح کی رنگ و نور کی محافل میں گذرا کرتے تھے۔
    خیر بات کہیں اورنکل گئی، مجھے یاد آتا ہے کہ میری زبان بچپن میں توتلی ہوتی تھی، اور میں مرغے کو مردا کہا کرتا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ وہ توتلا پن دور ہوا اور ایک ہچکچاہٹ جو بولنے میں تھی اسے دور کرنے میں جہاں میرے والد محترم رانا عبدالمجید خان ای ڈی او لٹریسی (ریٹائرڈ) ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کاوشوں مسلسل محنت اور حوصلہ افزائی کا دخل ہے وہیں اس تحریک نے بھی ہماری تقریری صلاحیتوں کو نکھارنے میں ایک مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے والد محترم کو ادب سے بہت لگاؤ تھا ان کی اپنی ذاتی لائبریری میں تفسیر، حدیث، سیرت، افسانے، شاعری غرض تمام قسم کا ادب موجود تھا۔ انہیں فارسی زبان پر بہت عبور حاصل تھا، حافظ، سعدی اور اقبال کے فارسی اشعار اور اسی طرح اردو اشعار بلا مبالغہ انہیں ہزاروں کی تعداد میں یاد تھے۔ جب وہ خود تقریر کرتے تھے تو ان کا انداز انتہائی  ادبی اور جگہ جگہ موقع اور محل کے لحاظ سے بہترین اشعار کے انتخاب کا مجموعہ ہوتی تھی۔ مجھے یاد آرہا ہے کہ بچپن میں جب اسکول میں پہلی مرتبہ تقریری مقابلے میں حصہ لیا تھا میری تقریرکا موضوع *سیرت النبیؐ* تھا۔  چالیس پنتالیس سال گذرنے کے باوجود  آج بھی اس تقریر کے اشعار اور چیدہ چیدہ الفاظ مجھے یا دہیں۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ہم مختلف قسم کے مظاہروں سے کالج اور اسکول کے طلبہ سے کسی سڑک  پر ، کسی کھلے میدان میں، کسی تھڑے پر کھڑے ہوکر، کسی پولیس کے دفتر کے سامنے تقریر کرتے نظر آتے یہ سب نکھار تحریک اسلامی کا عطا کردہ ہے۔
    1995 میں زمانہ طالب علمی سے فارغ ہوا تو غم روزگا کے چکروں میں پڑتے ہوئے جماعت اسلامی کی رکنیت  کے لیے درخواست دی، مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں نے اس رکنیت فارم پر اپنے جذبات کا اظہار کچھ اس طرح کیا تھا
    کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف
    ورنہ میں بھی جانتا تھا عافیت ساحل میں ہے

  • پاکستان میں ماحولیاتی مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے حل کیا جائے؟   تحریر: زاہد کبدانی 

    پاکستان میں ماحولیاتی مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے حل کیا جائے؟ تحریر: زاہد کبدانی 

    آپ نے سمندری سطح کی بڑھتی ہوئی سطح ، برف پگھلنے ، موسم کے نمونوں میں زبردست تبدیلی اور خبروں پر کئی پرجاتیوں کی آبادی میں نمایاں کمی کے بارے میں سنا ہوگا۔ اگرچہ آپ کو لگتا ہے کہ یہ واقعات آپ پر براہ راست اثر انداز نہیں ہوتے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ سب موسمیاتی تبدیلی کی علامات ہیں جو پورے سیارے کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ لہذا ، پوری دنیا کی طرح ، پاکستان میں بھی کئی سنگین ماحولیاتی مسائل ہیں جن پر فوری طور پر توجہ دینے اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

    یہ بات درست ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستان میں ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے کئی اقدامات شروع کیے ہیں۔ تاہم ، اور بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ایسی دنیا میں رہیں جہاں کم از کم پینے کے قابل پانی ، سانس لینے کی ہوا ، قابل برداشت موسم اور کھانے کی پیداوار ہو۔

    پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اور ایجنسیاں

    1997 میں ، اس وقت کی حکومت نے پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ نافذ کیا تاکہ پائیدار ترقیاتی اقدامات اور آلودگی کنٹرول کے ذریعے پاکستان کے ماحول کی حفاظت ، تحفظ ، بحالی اور بہتری ہو سکے۔

    پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن کونسل جو کہ پہلی بار 1984 میں قائم کی گئی تھی ، 1997 کی قانون سازی کے بعد دوبارہ تشکیل دی گئی۔ اس کا بنیادی کام پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ کے نفاذ کی نگرانی کرنا ہے۔

    پاکستان میں اہم ماحولیاتی مسائل

    ہم بنیادی طور پر ایک زرعی ملک میں رہتے ہیں جہاں مجموعی آبادی کا تقریبا٪ 60 فیصد دیہی علاقوں میں رہتا ہے جہاں صاف پانی اور صفائی ستھرائی کی مناسب سہولیات نہیں ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی ، اقتصادی شعبے کی توسیع ، شہریاری ، ناقص ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر کئی عوامل کی وجہ سے پاکستان میں ماحولیاتی مسائل ہر گزرتے وقت کے ساتھ بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

    یہ پاکستان کے 2 بڑے ماحولیاتی خدشات ہیں جن کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔

     1 جنگلات کی کٹائی۔

     2 پانی کی آلودگی

    آئیے پاکستان میں ان سنگین ماحولیاتی مسائل پر گہرائی سے نظر ڈالیں اور اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کریں۔

    1 جنگلات: سیدھے الفاظ میں ، جنگلات کی کٹائی اس وقت ہوتی ہے جب انسان درختوں کو کاٹ کر جنگلات کو تباہ کرتے ہیں اور پھر دوبارہ نہیں لگاتے۔ یہ عام طور پر لکڑی اور ایندھن کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے۔ تاہم ، شہری کاری ، بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کی توسیع بھی جنگلات کی کٹائی کی اہم وجہ ہیں۔ قدرتی خوبصورتی کو تباہ کرنے کے علاوہ ، جنگلات کو کاٹنے سے ہمارے ماحولیاتی نظام پر بھی بہت بڑا اثر پڑتا ہے کیونکہ یہ جنگلی حیات کے مسکن کو متاثر کرتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کی شرح بہت زیادہ ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ دیہی علاقے کھیتوں اور شہری مراکز میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ وسائل کی کمی اور غربت کی وجہ سے ، بہت سارے لوگ سردیوں کے مہینوں میں گرم رکھنے یا گھر بنانے کے لیے درختوں کی لکڑی پر بھی انحصار کرتے ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو ، آپ جنگلات کی کٹائی کے خلاف بحث نہیں کر سکتے جو ہمارے ماحول کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔

     حل۔ اس ماحولیاتی مسئلے کا حل بالکل واضح ہے: ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور اپنے جنگلات کو بچانے کی ضرورت ہے۔ خوش قسمتی سے حکومت پاکستان میں درخت لگانے کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے بہت کچھ کر رہی ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ، پاکستان میں پہلے ہی پنجاب میں ایک بہت بڑا انسان ساختہ جنگل ہے جسے چھانگا مانگا کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا کی طرف سے شروع کیا گیا ایک ارب درختوں کا اقدام بھی اس سلسلے میں قابل ذکر کامیابی ہے۔ ابھی حال ہی میں ، وزیر اعظم عمران خان نے ملک گیر شجرکاری مہم کا آغاز کیا اور 18 اگست کو ‘پلانٹ فار پاکستان’ ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ مزید یہ کہ اگر ہم اپنے سرسبز جنگلات سے محروم نہیں ہونا چاہتے تو ہمیں کاغذ کا استعمال کم کرنے کی ضرورت ہے۔

    2 پانی کی آلودگی: پانی کی آلودگی اس وقت ہوتی ہے جب زہریلے مادے جیسے کیمیکلز ، فضلہ اور بعض مائکروجنزم پانی کے جسم کو آلودہ کرتے ہیں اور اسے انسانی استعمال یا استعمال کے لیے نقصان دہ بناتے ہیں۔ آلودہ ندیوں ، ندیوں ، جھیلوں اور تالابوں سے پینا ، یا اس کے پانی کو نہانے یا پکانے کے لیے استعمال کرنا ، کسی کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ پانی کی آلودگی کی وجوہات سیوریج کا ناقص نظام ، فیکٹریوں سے کیمیائی فضلہ سمندر میں پھینکنا اور گندگی میں اضافہ ، خاص طور پر پلاسٹک ہو سکتا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس میں خشک آب و ہوا ہے ، پانی کی آلودگی ہماری فصلوں اور زمین کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ بھی ایک اہم وجہ ہے کہ ملک میں آبادی کے ایک بڑے حصے کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان میں پانی کی آلودگی کو صحت عامہ کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

     حل۔ پاکستان میں اس ماحولیاتی مسئلے کا مقابلہ کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ مناسب سیوریج ٹریٹمنٹ اور مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جائے۔ ملک کے زرعی شعبے کو کیڑے مار ادویات اور کھادوں کے استعمال کو کم کرنے کی بھی ضرورت ہے ، کیونکہ ان میں نقصان دہ کیمیکل ہوتے ہیں جو آسانی سے آبی ذخائر تک پہنچ جاتے ہیں اور آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔ لوگوں اور کمپنیوں کو ان کے فضلے اور کوڑے کو جھیلوں ، دریاؤں اور سمندروں میں ٹھکانے لگانے سے روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

  • پاکستان کرکٹ،دل کا روگ     تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کرکٹ،دل کا روگ   تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جب سے ہوش سنبھالی ہے،اپنے وطن کی جمہوریت اور اپنی کر کٹ ٹیم کی بیٹننگ کو خطرے ہی میں پایا ہے۔

    لیکن بیٹنگ والی یہ کہانی ہوئ پرانی،اب تو اکثر باؤلنگ بھی دھوکا دے جاتی ہے۔

    جبکہ ہماری فیلڈنگ کی رنگ بازیاں تو دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

    ابھی ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی گئی حالیہ سیریز ہی کو لے لیں۔

    اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ ہمیں جیتنا چاہیے تھا،

    مگر اس بہت ہی کلوز میچ کے آخری فیصلہ کن مرحلے میں کئی کیچز چھوڑ کر ہم نے ایک سنسنی خیز میچ ہار کر سیریز جیتنے کا موقع بھی گنوا دیا۔

    گزشتہ رات دوسرا اور سیریز کا آخری ٹیسٹ ایک اعصاب شکن مقابلے کے بعد جیت کر ہم نے وہ سیریز بمشکل برابر کر لی،

    جو ہمیں آرام سے جیتنی چاہیے تھی۔

    اگر دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جاۓ تو پاکستان ٹیم ٹیسٹ کر کٹ کے لحاظ سے ویسٹ انڈیز سے بہت مضبوط نظر آتی ہے۔

    ہماری ٹیم کا ہر دور میں مسئلہ رہا ہے کہ ٹیم کا بوجھ محض چند ایک کھلاڑی اٹھاتے ہیں،

    بقیہ کھلاڑیوں کی پرفارمنس دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ کسی تفریحی دورے میں گئے ہوۓ ہیں۔

    جیسا کہ آجکل ٹیم کو مشکلات سے نکالنے کا بیڑا بلے بازی میں بابر اعظم،محمد رضوان اور فواد عالم جبکہ باؤلنگ میں شاہین شاہ آفریدی نے اُٹھا رکھا ہے۔

    اس دوسرے ٹیسٹ کی جیت میں فواد عالم کی سنچری اور شاہین شاہ آفریدی کی دس وکٹوں نے اہم کردار ادا کیا۔

    اس میچ میں ہمارا مقابلہ ویسٹ انڈیز ٹیم کے ساتھ ساتھ بارش اور خراب موسم سے بھی تھا۔

    اس فیصلہ کن ٹیسٹ کو ہم نے 4دنوں میں اپنے حق میں کر کے فیصلہ کن بنانا تھا،

    کیونکہ ایک مکمل دن پہلے ہی بارش کی نظر ہو چکا تھا۔

    پھر کرتے کراتے جب ٹیسٹ میچ کےآخری دن لنچ کے بعد میچ بارش کے سبب رکا تو ،میچ ڈرا ہونے کے امکانات بھی پیدا ہو گئے تھے،

    کیونکہ اس وقت ویسٹ انڈیز کی آخری تین وکٹیں باقی تھیں۔

    تاہم ایمپائروں نے اس ٹائم کو کور اپ کرنے کے لئے ٹائم سے پہلے ہی چاۓ کے وقفے میں تبدیل کر کے بہتر حکمت عملی سے میچ کنڈکٹ کیا۔

    اس میچ میں قسمت کی دیوی مہربان رہی اور بالاخر آخری سیشن کا میچ شروع ہوا اور پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے آخری تین کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگا کر ملک  کی لاج رکھ لی اور ہم یہ سیریز بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

    سیریز ہارنے سے سیریز ڈرا کر لینا بحرحال ایک اچھا شگون ہے،

    جو کم ازکم ٹیم کا مورال تو بلند رکھے گا،

    جو ہمیں آنے والے ٹی20ورلڈ کپ میں ایک نئی توانائ فراہم کرے گا۔

    اس سیریز میں شاہین شاہ آفریدی شہنشاہ آفریدی کے روپ میں نظر آۓ۔

    انہوں نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 18وکٹیں لیکر پاکستان کی طرف سے ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔

    اس سے پہلے آج تک کوئ بھی پاکستانی تیز باولر دو ٹیسٹ میچوں میں اتنی وکٹیں نہیں لے سکا تھا۔

    کارکردگی کے لحاظ سے یہ سیریز عمران بٹ،عابد علی،اظہر علی اور یاسر شاہ جیسے کھلاڑیوں پر بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔

    جو کھلاڑی ویسٹ انڈیز جیسی قدرے کمزور ٹیم کے خلاف کارکردگی نہیں دکھا سکے،وہ آسٹریلیا،بھارت اور انگلینڈ جیسی تگڑی ٹیموں کے خلاف کیسے کارکردگی دکھائیں گے؟

    عمران بٹ نے سیریز میں کیچز کا ریکارڈ قائم کیا،

    انہوں نے کئی ناممکن کیچز بھی لئے۔مگر اپنے اصل شعبے یعنی بیٹنگ میں بری طرح نا کام رہے۔

    اب رمیز راجہ کے بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بناۓ جانے سے امید پیدا ہوئ ہے کہ اب ٹیم سے سفارش اور اقربا پروری کا کلچر ختم ہو گا اور ٹیم میں صرف اہل کھلاڑی جگہ پانے میں کامیاب ہوں گے،

    جبکہ ریلو کٹوں کی چھٹی ہو جاۓ گی_

    ٹیم میں کچھ نئے کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

    اظہر علی،شعیب ملک اور محمد حفیظ کو اور کتنے مواقع دئیے جائیں گے؟

    یہ کھلاڑی ہر بار کسی نہ کسی ڈومیسٹک یا علاقائ ٹورنامنٹ میں اچھی پرفارمنس دکھا کر یاپھر بورڈ کے خلاف بیان بازی کر کے ٹیم میں آجاتے ہیں۔

    جیسا کہ ابھی حالیہ دنوں میں ہونے والی کشمیر لیگ میں شعیب ملک نے پھر اچھے رنز بناۓ ہیں،

    جس کے بعد اسے پاکستان ٹیم میں دوبارہ شامل کرنے کے لئے لابنگ شروع ہو چکی ہے۔

    حتی کہ کپتان بابر اعظم نے بھی شعیب ملک کی واپسی کی درخواست کر دی ہے،

    جسے تادم تحریر بورڈ ماننے سے انکاری ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی اچھی پرفارمنس کے حامل کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کروانا کپتان کا استحقاق ہوتا ہے،

    مگر صرف بڑے نام کی وجہ سے یازاتی تعلقات نبھانے یا کچھ پریشر گروپوں کے زیر اثر آکر کسی کو ٹیم میں ڈالنے کی بات نا مناسب لگتی ہے،

    خصوصا” ایک ایسے کھلاڑی کو لانے کی ضد،

    جو کئی سیریز میں مسلسل ناکام رہا ہو۔

    ہمیں پاکستان ٹیم میں سلیکشن کے معیار کو شفاف بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    پرچی مافیا کی بدولت ٹیم کو پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان پہچ چکا ہے۔

    ہماری رینکنگ تینوں شعبوں میں نیچے گر چکی ہے۔

    اگر ابھی بھی ٹیم سلیکشن میں شفافیت اور میرٹ آگے  نہ آیا تو پھر کبھی بھی نہیں آۓ گا۔

    کیونکہ اس وقت کا وزیر اعظم پاکستان عمران خان بزات خود دنیاکرکٹ کا ایک عظیم کھلاڑی رہا ہے۔

    ابھی تک کرکٹ ورلڈ اسے کامیاب ترین کپتان،نمبر ون آل راؤنڈر اور شاندار کھلاڑی کے طور پر جانتی ہے۔

    وہی عمران خان جس نے اپنے پورے کیرئر میں ایک بھی نو بال نہیں کروائ وہ کرکٹ بورڈ میں اتنی لوز بالیں کیسے برداشت کر سکتا ہے؟

    وقت آگیا ہے کہ بطور پیٹرن انچیف پاکستان کرکٹ بورڈ عمران خان کرکٹ بورڈز کے معاملات بشمول ٹیم سلیکشن اور مالی نظم ونسق کے،

    کچھ ایسا کر جائیں،

    جس سے دنیا ان کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کرکٹ میں ہونے والی بہتری کے خالق اور موجد کے طور پر بھی اسی طرح یاد رکھے،

    جس طرح بطور کرکٹر یاد رکھتی ہے۔

    اور جس عمران خان کو میں جانتا ہوں،اسکے لئے کرکٹ بورڈ کے معاملات اور کرکٹ ٹیم کو ٹریک پر لانا کوئ مشکل کام نہیں ہونا چاہیے#

     

    تحریر۔سیدلعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    Regards,

  • لکھیئے۔۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

    لکھیئے۔۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے
    نٓۚ وَٱلۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُونَ
    "ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں.”
    لفظ لکھنا سے مراد حروف تہجی کی اشکال کو کسی چیز پر بنانا یا اتارنا مزید یہ کہ حروف تہجی کو اس ترتیب سے لکھنا کہ بیان کی گئ بات سمجھ میں آسکے۔۔۔
    نثر اور شاعری کی اصناف کے لئے لوگ کتب رسائل اور اخبارات کے لئے لکھا کرتے تھے۔ لکھاری ہاتھ سے تحریری مواد لکھتا بار بار غلطیوں کے بعد جب مسودہ تیار ہوجاتا پھر اخبار یا رسائل کے دفاتر تک پہنچانا اور وہاں پر بھی واقفیت اور جان پہچان کے بغیر تحریر کا شائع ہوجانا جان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف ہوتا تھا کیونکہ وہاں پر پرانے اور نامور کالم نویسوں کا قبضہ تھا جس کی وجہ سے نئے لکھاریوں کی کاوشیں زیادہ تر ردی کی ٹوکری میں جاتی تھیں۔
    اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا کا دور آیا اور پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کی بھرمار ہوگئ اور لکھنے کی اجارہ داری صرف پرانے اور معروف مصنفین تک محدود ہوکر رہ گئ اور مزید ان کو اپنی تجزیہ کاری کے لئے ٹی وی چینلز کے پرائم ٹائم اور ٹاک شوز کی سہولت میسر آگئ اور یوں نئے لکھاریوں نے لکھنے اور کوشش کرنے کو ایک لمبے عرصہ تک خیرآباد کہ دیا۔
    پھر پاکستان میں ڈیجیٹل سوشل میڈیا نے انقلاب برپا کر دیا اور صارفین کو اپنے نظریات کے پرچار کے لئے فیس بک ٹویٹر اور بلاگر پیج میسر آگئے اور یوں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ بڑے اور معروف مصنفین کی اجارہ داری بھی ختم ہوگئ۔ نئے لکھاریوں نے دھڑا دھڑ لکھنا شروع کیا یوٹیوب چینلز معرض وجود میں آگئے اور تحریریں صفحہ قرطاس کی محتاجی سے آزاد ہوگئیں ۔ لکھنے کے شوقین حضرات نے انفرادی طور پر اپنی اپنی بلاگ ویب سائٹس بنالیں اور کچھ نے ویب ٹی وی چینلز کے لئے کالم اور مضامین لکھنے شروع کردئیے ۔
    ویب ٹی وی چینلز کی صف میں باغی ٹی وی کا خوشگوار اضافہ ہوا اور باغی ٹی وی کی مقبولیت اور مستند مواد کو دیکھتے ہوئے سماجی روابط کے پلیٹ فارم ٹویٹر نے باغی ٹی وی کے آفیشل اکاونٹ کی تصدیق کردی اور ساتھ سوشل میڈیا کے مقبول ترین اور کئ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ٹیمز کے ساتھ کام کرنے والےباغی ٹی وی کے ایڈیٹر طہ منیب کا اکاؤنٹ ٹویٹر سے اس وقت ویریفائی ہوگیا جب پاکستان میں صرف چند سو افراد کے اکاونٹس ٹویٹر سے ویریفائیڈ تھے طہ منیب نے ویریفیکیشن کے اگلے ہی روز اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس اور چینلز کے ذریعے دیگر ٹویٹر صارفین کی رہنمائی کی کہ کس طرح آپ اپنا ٹویٹر اکاونٹ ویریفائی کرواسکتے ہیں اور ساتھ ہی نئے لکھاریوں کو باغی ٹی وی پر بلا کسی سفارش اور روک ٹوک کے اپنے مضامین اور کالمز لکھنے کی سہولت فراہم کردی جس کے بعد دیکھا دیکھی نئے لکھاریوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا صرف تین چار مضامین لکھنے والوں کی باغی ٹی وی پروفائل بن گئیں اور کئ لوگوں کے ٹویٹر اکاونٹس ویریفائی بھی ہوگئے۔ طہ منیب کا یہ رویہ قابل تحسین ہے بصورت دیگر ویریفائیڈ ٹویٹر اکاونٹ کے حاملین اپنے آپ کو سلیبریٹی سمجھنے لگتے ہیں اور چھوٹے اکاونٹس والے صارفین کے سلام کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کرتے ۔
    اب آپ کے پاس باغی ٹی وی کا پلیٹ فارم دستیاب آپ لکھیئے آپ کے پاس معاشرے میں بےشمار موضوعات ہیں کسی ایک کا انتخاب کریں اور لکھ ڈالیں ۔شوبز تعلیم سماجی ٹیکنالوجی سیاست ادب حکومتی پالیسیوں اصلاحات شہری مسائل لاقانونیت اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اور طب سمیت اپنی دلچسپی کے موضوع لکھیں اور باغی ٹی وی کو ارسال کر دیں۔
    میں باغی ٹی وی مینجمینٹ
    طہ منیب ممتاز اعوان اور ادارتی ٹیم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری تحریروں کی اشاعت کے لئے اپنے پلیٹ فارم مہیا کیا اور مجھ سمیت سینکڑوں نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کی۔
    @Educarepak

  • قید مسلسل  تحریر: سید مصدق شاہ

    قید مسلسل تحریر: سید مصدق شاہ

    وہ پورا دن گھر میں بند رہتی کوئی محلے والے بھولے بھٹکے میلاد قرآن خوانی کی دعوت دینے آ جاتی تو آجاتی
    زیادہ تر تو اس سے خائف نہیں رہتیں
    بڑے نخرے ہیں نہ ملنا نہ جلنا
    دیوار سے دیوار ملی ہے
    مگر مجال ہے جو کبھی آس پڑوس میں چکر لگا لیں۔
    نہ کبھی کسی دعوت میں گئی نہ جنازے میں ۔
    ایسا بھی بھلا کیا ہے
    عورت ہے پیٹھ پیچھے اس کی برائیاں کرتی اور وہ جو سب کی نظر میں بری تھی کسی سے کیا کہتی
    اسے تو اس کے سگے بہن بھائی خائف رہتے باقی رشتہ داروں کا کیا کہنا
    تم تو عید میں بھی نہیں اتی اب میں نہیں آؤں گی دو سال پہلے بہن عید پر ملنے آئیں تو کہتے ہوئے گئی تھی دو سال سے وہ بہن سے ملیں بھی نہ تھی
    باجی ملنے نا او فون پر ہی بات کر لیا کرو چھوٹا بھائی سال بھر پہلے شدید بیماری سے صحتیاب ہو کر آیا تھا تو شکوہ کر گیا تھا پھر وہ بھی نہ آیا وہ کسی کو کیا بتاتی وہ کیسے ان سب سے ملنے کو تڑپتی ہے بھائی کی بیماری پر اس کا بس نہ چلتا تھا کہ اڑ کر اس کے پاس پہنچ جائے بہن بھانجے بھانجی بھتیجے بھتیجی سب سے ملنے کو ترستی مگر وہ تو ایک قید مسلسل میں مبتلا تھی۔
    اس کو یاد تھا کہ اس کی شادی کیلئے بیوہ ماں نے کتنے مشکلیں اٹھائی تھی کہیں بات ہی نہ بن پاتی تھی
    عمر تھی کہ نکلتے ہی جارہی تھی اور رشتہ ہو ہی نہیں پاتا باپ سر پر نہ تھا۔ چھوٹا بھائی اور ماں روز و شب اس کے لیے پریشان رہتے۔ بہن الگ ہر جگہ رشتہ تلاش کرتی پھرتی
    کمی کوئی نہ تھی بس کسی کو عمر پر اعتراض ہوتا تو کسی کو رنگ پر ہوتا تھا آخر کار اس نے امید توڑ دی ماں کے پیچھے لگ کر چھوٹے بھائی کی شادی کرادی گئی یہ کیوں میری وجہ سے جوگ کاٹے
    میرے نصیب میں ہوئی تو ہو ہی جائے گی ماں نے نمناک آنکھوں سے حامی بھرلی بیٹے کئی دنوں سے بدلہ راویہ ماں کو ہولا رہا تھا جیسے امبر نے زبان دے دی تھی بھابی آئیں تو مانو گھر میں بہار آگئی
    کچھ عرصہ بعد ہی امبر کے لیے ایک رشتہ آگیا لڑکا کویت میں 13 سال گزار کر آیا تھا یہاں آکر کاروبار کرنے لگا تھا آگے پیچھے کوئی تھا نہیں
    بس عمر چالیس سے قریب تھی کوئی
    ماں کو اعتراض ہوا مگر پھر ہاں کردی بہو آگئی تھی اس کا کھوٹا کمزور ہوچکا تھا جیسے تیسے امبر کی شادی ہوگی شادی کے دو ماہ بعد ماں ہی دنیا سے رخصت ہو گئی جیسے بس بیٹی کی شادی کا ہی انتظار تھا
    اطہر اور امبر کے مزاج میں آسمان زمین کا فرق تھا شادی کے اگلے دن ہی امبر کو اطہر کے تنگ نظر ہونے کا پتہ چل گیا تھا مگر وہ ماں سے چھپا گئی وہ پہلے ہی اس کی وجہ سے اکتیس سال اذیت میں مبتلا رہی تھی
    بس پھر امبر اطہر کی لگائی گئی پابندیوں میں جینا سیکھ ہی گئی
    اسے اپنے گھر جانے کی اجازت نہ تھی ماں کی زندگی میں بھی اطہر کی مرضی ہوتی تو لے جاتا ورنہ وہ تڑپتی رہ جاتی اور اب تو اطہر کے نزدیک اس کا میکہ ختم ہو چکا تھا امبر کے بہن بھائی سے اطہر کو چیڑ تھی اسے وہ بہت تیز لگتے تھے بہکانے والے،
    محلے میں جانے کی امبر کو اجازت نہ تھی اطہر کو عورتوں کا مفل میں جانا آوارگی لگتا تھا اطہر گروسری وہ خود لاتا عید کے کپڑے تک خود ہی لا دیتا امبر سارا دن گھر میں قید رہتیں دروازوں کھڑکیوں پر اطہر نے بڑے بڑے پردے ڈال رکھے تھے کہ بے پردگی نہ ہو چھت پر اسے جانے کی اجازت نہ تھی کبھی باہر گول گپے والا آتا تو وہ تڑپ جاتی ہیں
    شادی سے پہلے وہ ان چیزوں کے شوقین تھے اطہر نے شادی کی رات ہی اسے موبائل کے نقصانات پر درس دیتے ہوئے اس سے عہد لیا تھا کہ وہ اس خرافات سے دور رہے گی اماں سے رابطہ وہ اطہر کے فون سے کر سکتی ہے مجبوری اتنی کے وہ یہ سب کسی سے شیئر بھی نہ کرسکتی بہن بھائی سالوں میں آجاتے تو اطہر ان کے ساتھ ہی چپکارہتا اب تو وہ بھی نہ اتے۔ بس زندگی گزر رہی تھی ایک قید تھی جو ختم نہ ہوتی تھی کوئی روزن نہ تھا نہ ہی کوئی کھڑکی کے ہوا آئے یا روشنی
    اطہر روز بن ٹھن کر کام پر جاتا اسے تو لپ سٹک لگانے پر لتاڑ دیتا کہ کون انے والا ہے آج۔
    وہ پھر دنوں میک آپ کے پاس نہ جاتی کیا شاری قائم رکھنے کے لئے یہ قید ضروری تھی؟
    اگر ہاں تو وہ قید کاٹ رہی تھی اور نہ جانے کتنی ہی لڑکیاں یہ قید کاٹ رہی ہیں۔ کچھ کم کچھ زیادہ۔ ان کے رشتہ دار ناراض ہیں کہ وہ ان سے ملتی نہیں ہیں باتیں نہیں کرتیں مگر قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے
    لڑکیوں کو سکھایا جاتا ہے کہ شادی کے بعد گھر آنگن عورت کے دم سے ہی چلتا ہے کچھ معاف کر دو، کچھ نظر انداز کر دوں، مگر گھر ٹوٹنے نا دو۔
    مگر بعض اوقات کچھ عورت ساری زندگی ایک ایسی ہی قید مسلسل کو کاٹنے میں لگا دیتی ہے جن سے زندگی بہت کوئی کونپل نہیں پھوٹتی۔
    سارے رشتے چھوٹ جاتے ہیں اور بس عمر ختم ہو جاتی ہیں
    Tweeter ID Handel @SyedmusaddiqSy4

  • نوجوان نسل اور ترجیحات تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    نوجوان نسل اور ترجیحات تحریر:سیدہ ام حبیبہ


    قارئین محترم پاکستان 60 فی صد نوجوانوں پہ مشتمل ایسا ملک ہے جس کی بیشتر افرادی قوت بے کار ہے.
    وجوہات مختلف بیان کی جاتی ہیں مگر آج جن نکات پہ قلم آزمائی کروں گی ان کو بہت قریب سے دیکھا ہے.
    اگر ہم نوجوان نسل کو تین درجوں میں تقسیم کر لیں تو ہمارا مضمون عام فہم ہو جائے گا.
    پہلا درجہ 9 سے 14 سال، دوسرا 15 سے 20 سال اور تیسرا 21 سے 30 سال تک کے افراد پہ مشتمل ہے.
    بات کرتے ہیں اول الذکر نو خیز جوانوں کی جو بچپن کی دہلیز چھوڑ کر جوانی میں قدم رکھ رہے ہوتے ہیں.ان نوجوانوں کی زیادہ تر تعداد چونکہ سکولوں سے وابستہ ہوتی ہے اس لیے انکی ترجیحات رحجانات اور دلچسپیاں اپنے ماحول کے مطابق ہوتی ہیں.
    اس دور کے یہ نوجوان انٹرنیٹ کی دنیا میں اسقدر مگن ہیں کہ ان کو اپنے معاشرتی اور سماجی فرائض کی ہوش نہیں.یہ وقت کردار سازی اور تعلیمی اور معاشی مستقبل طے کرنے کا بہترین وقت مانا جاتا ہے جب سمت کا تعین کر کے تمام تر توانائیاں اسی مقصد کے حصول میں صرف کرنا ہوتی ہیں.
    بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے ان نوجوانوں کو ان کے حال پہ چھوڑ دیتے ہیں اور نصابی کتب کے رٹے اور گریڈز کے حصول تک مقید کر دیتے ہیں.
    مثال لے لیجئے کہ ہر بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے مگر شعبہ طب کے اندر موجود شعبہ جات سے آشنا نہیں کروایا جاتا.مختصراً گلہ کروں تو کیرئر کونسلنگ نہیں کی جاتی.
    اس نسل کو Swaggerبننے کی دھن ہے اور ایسے میں بے راہروی کی جانب جانا نہایت Charming اور Adventure سے بھرپور بن جاتا ہے .
    انگریزی الفاظ کے لیے معذرت مگر یہ الفاظ رائج ہیں کوئی متبادل لفظ حق ادا نہیں کر سکتا.
    اس نسل کو سب سے بڑی بیماری بی ایف اور جی ایف کی لگ جاتی ہے.جو انکی ذہنی اور جسمانی صحت تباہ کر جاتی ہے.

    ثانئ الذکر کی بات کی جائے تو یہ نسل خاصی آذادی حاصل کر چکی ہے اس طبقے کا تعلق کالجوں سے ہے.کالجوں کا ماحول سازگار ہو تو ان کو اپنی ترجیحات اور آزادی کے بل پہ بڑے بڑے کارنامے انجام دیتے ہیں.
    مہم جوئی کے نام پہ سگریٹ نوشی اور شیشے کے چھلے بنانا..
    جی ایف بی ایف کو اعلانیہ ساتھ گھومنا گھمانا شروع ہو جاتا ہے.
    کیونکہ والدین کی اکثریت گھروں سے ہی ساری ذمہ داریاں پوری کرنے کے قائل ہیں تو انکو بھرپور مواقع کے ساتھ اپنا آپ اپنی ساکھ اپنی زندگی تباہ کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے.
    موٹر سائکل گاڑی موبائل فون اور نت نئے لباس جنس مخالف کو متاثر کرنے کے لیے حاصل کرنا انکی تمام تر کوششوں کا مرکز ہوتا ہے.
    ثالث الذکر طبقہ یو کہیے تو
    دہری ذہنی اذیت سے دوچار ملتا ہے .جو ماضی سے نالاں اور مستقبل کے لیے متفکر اور حال کے متعلق بلکل بے بس مایوس نظر آتا ہے.
    کیا کہیے کہ سب کچھ لٹا کے آئے ہیں کچھ بھی بچا نہیں کے مصداق ترجیحات کے انتخاب میں چُوک جاتے ہیں.
    دیھاڑی دار اور مزدور بن جانے والے پھر ڈال روٹی چلا لیتے ہیں
    جبکہ SWAG والے جوان اپنے سویگ کی توہین سمجھتے ہوئے نوکریوں کے حصول کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں.
    اپنے جوانوں کو افرادی قوت کے طور پہ استعمال کرنے کے لیے ہمارے پاس نہ تو منصوبے ہیں نہ فکر.
    ان کو حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد سیانپ آ جاتی ہے کہ اس وقت اس کی بجائے یہ کیا ہوتا تو یہ نہ ہوا ہوتا…
    مگر کب تک ہم اپنے نوجوانوں کو شتر بے مہار چھوڑ دیں گے؟
    کب تک دبئی ترکی اور یورپ ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ لیتے رہیں گے؟
    ہم خود کب ان کے لیے ترجیحات طے کرنا شروع کریں گے.
    ان سوالوں کے ساتھ آپکی آراء کی منتظر

    ‎@hsbuddy18

  • ‏شبِ قدر کی فضیلت  تحریر: محمد اسعد لعل

    ‏شبِ قدر کی فضیلت تحریر: محمد اسعد لعل

    شبِ قدر کے بارے میں فرمایا جاتا ہے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ قرآنِ مجید کی سورۃ القدر میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن ایک غیر معمولی اور فیصلوں کی رات میں نازل کیا گیا۔ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔)
    اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، وہ کتاب جس نے قیامت تک لوگوں کو خبردار کرنا ہے, جب نازل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ اس کے لیے میں نے رمضان کے مہینے کا انتخاب کیا۔ اور یہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں وہ رات آئی، جس کو قرآنِ مجید نے "لیلۃالقدر”سے تعبیر کیا، ایک اور جگہ سورۃ الدخان میں” لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ”(برکت والی رات) سے تعبیر کیا۔ اور بتایا کہ تم اس کی عظمت کا اندازہ نہیں کرسکتے۔
    وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ۔ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
    یہ ہزار مہینے سے اللہ کے ہاں بہتر رات ہے، بلکہ مزید اللہ تعالیٰ نے اس کی تشریح کی ہے کہ اس میں ملائکہ اور روح الامین اترتے ہیں۔ اور جب یہ رات آتی ہے تو صبح تک سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے۔ یہ اس رات کی فضیلت ہے۔
    جس طریقے سے اس دنیا کے ساتھ معاملے کے لیے اللہ نے فرشتوں کو ذمہ داریاں دے رکھی ہیں بالکل اسی طرح کائنات کے بعض معاملات کے لیےخاص خاص دن بھی مقرر کر رکھے ہیں۔
    قرآنِ مجید کے نزول کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ بھی اسی طرح کی ایک رات میں نازل ہو گا، یعنی وہ رات جو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے فیصلوں کے لیے مقرر کر رکھی ہے جس میں فرشتے اور روح الامین وہ فیصلے لے کر زمین پر آتے ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ سلامتی کی رات بنا دیتے ہیں۔
    حضرت محمدﷺ کو بعد میں یہ بتایا گیا کہ قرآن مجید رمضان میں نازل کیا گیا تھا۔ سورۃ القدر قرآن کی پہلی سورت نہیں ہے، یہ کافی بعد میں نازل ہوئی تھی۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ "ہم نے اس کو اُس فیصلوں والی رات میں نازل کیا تھا جو بڑی عظیم رات ہے۔”
    ظاہر ہے یہ جو اس رات کی غیر معمولی حیثیت بتائی گئی ہے تو آپﷺ کے دل میں بھی یہ چیز پیدا ہوئی کہ ایک بندہ مومن کی حیثیت سے میں یہ تلاش کروں کہ وہ رحمت، برکت اور فیصلوں کی رات کب آتی ہے۔ اللہ نے بتا دیا کہ وہ رات رمضان میں آئی تھی، یہ بھی بتا دیا کہ اس میں قرآن نازل ہوا تھا۔ چنانچہ آپﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا، ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تو یاد رہ جاتا ہے۔ ایک وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو متنبہ کر دیا جائے تو وہ چیز ہمیشہ کے لیے یاد رہتی ہے لیکن کچھ عرصے بعد کسی بات کے بارے میں بتایا جائے تو آدمی پلٹ کے پیچھے دیکھتا ہے اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ کب کی بات ہے، تو اس کے بارے میں آپ ﷺ کو یہ خیال ہوا کہ غالباً رمضان کے آخری عشرے کی کوئی طاق رات تھی۔
    اگر آپ کو معلوم ہو کہ ایسی رات جس میں کائنات کے پروردگار کی عنایت ہو گی، جس میں فیصلے ہوتے ہیں، جس کی اتنی بڑی عظمت ہے تو ایک بندہ مومن کی حیثیت سے آپ اس رات کو تلاش کریں گے۔ تلاش کرنے کا مطلب ہے کہ آپ یہ کوشش کریں گے کہ جب وہ رات آئے، جب وہ رحمت کی گھڑی آئے تو آپ جاگ رہے ہوں، آپ خدا کو یاد کر رہے ہوں، آپ خدا کی عنایتوں کے طلب گار ہوں اور آپ اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہوں۔ یہ فطری خواہش ہے، چنانچہ آپﷺ کے دل میں بھی یہ پیدا ہوئی اور آپﷺ عام طور پر اس کا اہتمام کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے رمضان کے اس عشرے کو اپنے لیے اعتکاف کے لیے مقرر کیا۔
    یہ رات دعا کی قبولیت کی رات ہے، اپنے لئے، دوست و احباب کے لئے اور والدین کے لئے دعا مغفرت کرنی چاہیے، اس رات میں دعا میں مشغول ہونا سب سے بہتر ہے اور دعاؤں میں سب سے بہتر وہ دعا ہے جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے۔
    اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ
    اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا، کرم کرنے والا ہے، تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔
    https://t.co/mBQmJwgVeU‎
    ‎@iamAsadLal

  • اسلامی نظام تحفظ کا ضامن۔  تحریر: محمد جاوید حقانی

    اسلامی نظام تحفظ کا ضامن۔ تحریر: محمد جاوید حقانی

    تاریخ انسانیت ہزاروں واقعات سے لبریز ہے
    حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر نبی کریمﷺ کی ذات اقدس تک بہت سارے انبیاء کرام علیہ السلام کے واقعات الہامی کتابوں میں موجود ہیں۔
    ہر نبی و رسول نے اسلام کی تبلیغ کی
    روئے زمین پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے313 رسول معبوث فرمائے
    ہر سول کو الگ شریعت دے کے زمین میں بھیجا
    کئی انبیاء کے ادوار کا تذکرہ، انکی قوم کا حال، ماننے اور جھٹلانے والوں کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔
    جن قوموں نے نبی و رسول کی تعلیمات کو تسلیم کیا وہ فائدے میں رہے ار جنہوں نے جھٹلایا ان پر سخت ترین عذاب نازل فرمائے گئے۔
    بالآخر حضور خاتم النبیینﷺ تشریف فرما ہوئے اور دین اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا
    مکہ کی سرزمین سے اس دین کی تبلیغ کا آغاز ہوا۔
    بظاہر ایک چھوٹی سے دکھنے والی جماعت نے مختصر وقت میں انتہائی درد ناک تکلیفیں برداشت کرنے بعد ریاست مدینہ کا قیام عمل میں لایا
    اور دیکھتے ہی دیکھتے اس ریاست مدینہ کا باب اتنا وسیع ہوا کہ مجاھدین اسلام نے یورپ تک دستک دے دی
    یہاں تک پہنچنے کیلئے ہزاروں مجاھدین اسلام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔
    ان عظیم شخصیات کی قربانیاں صرف ایک نظام کو پوری دنیاء میں پھیلانے اور اس نظام کی حفاظت کیلئے تھیں۔
    ایسا نظام کہ جس نظام کے تحت صرف ایک چٹھی کی اہمیت اس قدر ہو کہ وہ چٹھی بھی حاکم کو معزول کردے۔
    آج سے چودہ سو سال پہلے اور پھر اس کے بعد میں پیش آنے والے واقعات نے بھی یہ ثابت کیا کہ "اسلامی نظام” ہر شخص کے جان و مال عزت و آبرو کا محافظ نظام ہے۔
    جب یہ نظام پوری دنیاء پہ رائنج تھا تو ہر چھوٹا بڑا اس نظام کے ماتحت تھا۔
    اس نظام کے نفاظ یعنی دور خلافت کے سینکڑوں واقعات ہیں لیکن میں یہاں صرف ایک واقع پیش کروں گا۔
    ثمر قند اور بخارا ایک دور کے اندر دو بہت اہم شہر رہے ہیں
    قرآن مجید کے بعد احادیث کی سب سے معتبر کتاب "بخاری شریف” کے مصنف امام اسماعیل بخاری اسی "بخارا” شہر کے تھے۔
    اس بخارا شہر سے ایک مجوسی مسلمانوں کے خلیفہ کے پاس شکایت کرنے کیلئے چلتا ہے
    اس وقت مسلمانوں کا دار الحکومت شام کا شہر "دمشق” تھا
    جب یہ قاصد دمشق کی گلیوں میں پہنچا تو خلیفہ کا پتہ پوچھا
    لوگوں نے اشارے سے بتایا کہ وہ سامنے مسلمانوں کے خلیفہ کا گھر ہے
    وہ شخص اس گھر کے پاس جاکے دیکھتا ہے تو اسے ایک شخص دیوار کو مٹی کے ساتھ لپائی (پلستر) کرتا دکھائی دیتا ہے اور ایک عورت ہے جو اس شخص کی مدد کر رہی ہے پیوند لگے کپڑے اس شخص نے زیب تن کئے ہوئے ہیں۔
    قاصد واپس پلٹا اور لوگوں سے کہا کہ میں نےآپ سے خلیفۃ المسلمین کا پتہ پوچھا ہے
    وہ تو کسی غریب شخص کا گھر ہے
    لوگوں نے کہا کہ وہی غریب شخص مسلمانوں کا خلیفہ ہے
    قاصد دوبارہ پہنچا اور دروازے پہ دستک دی
    اندر سے پیوند لگے کپڑوں والے خلیفہ عمر ثانی حضرت عمر بن عبد عزیز رحمۃ اللہ علیہ باہر تشریف لائے۔
    قاصد نے شکایت پیش کی جو اس نے ایک کاغذ کی چٹھی پہ لکھی ہوئی تھی کہ
    مسلمانوں نے بغیر اطلاع دئے ہمارے شہر پر حملہ کرکے شہر کو قبضے میں لے لیا ہے۔
    امیر الموئمنین نے اسی چٹھی کی دوسری طرف لکھ دیا کہ۔
    حاکم بخارہ ایک قاضی مقرر کرے اور اس شخص کی شکایت کو قاضی کے سامنے پیش کرے۔
    قاصد مایوس ہوا کہ اس بات پر کون عمل کرے گا
    لیکن اس نے بات تعمیل کی اور حاکم بخارا کو وہ چٹھی دکھائی کہ آپ کے خلیفہ نے یہ لکھا ہے۔
    حاکم نے قاضی منتخب کیا اور اس مجوسی کا مقدمہ اس کی عدالت میں رکھا
    قاضی نے سوال پوچھا
    کیا آپ نے یہ شہر فتح کرنے سے پہلے شہر والوں کو دین کی تبلیغ کی تھی؟
    جواب ملا کہ اگر ہم ایسا کرتے تو شہر والے ہمارے مخالف ہوجاتے اور وہ ہارے خلاف جنگ کی تیاریاں کرتے
    قاضی نے دوبارہ سوال دوہرایا
    جواب آئیں بائی شائیں ملا
    قاضی نے دوسرا سوال کیا
    کیا آپ نے شہر والوں کو جزیہ دینے کا کہا تھا؟
    جواب ملا کہ اگر ہم ایسا کرتے تو جنگ کے خطرات بڑھ جاتے اور آئیں بائیں شائیں۔۔۔
    قاضی نے سوال دوہرایا
    پھر وہی جواب
    قاضی نے تیسرا سوال کیا۔
    کیا آپ نے حملہ کرنے سے پہلے اطلاع دی تھی؟
    جواب ملا کہ جناب قاضی صاحب یہ جنگی چالیں ہوتی ہیں اگر ہم حملے کی اطلاع دیتے تو شائد یہ شہر فتح نہ کر پاتے
    قاضی صاحب نے فیصلہ سنایا ۔
    اسلامی قوانین کے لہاظ سے مسلمانوں نے شریعت کی مقرر کردہ حد سے تجاوز کیا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کی ہے
    لہذا یہ شہر غیر مسلموں کے حوالے کیا جائے
    اور تین دن کے اندر اندر تمام مسلمان اس شہر کو خالی کردیں۔۔۔
    اسی دن مغرب سے پہلے پہلے پورا شہر خالی تھا اور لوگ قافلہ در قافلہ واپس جارہے تھے۔
    مجوسیوں نے یہ منظر دیکھا تو انگلیاں دانتوں میں دبائے ہکے بکے رہ گئے کہ آخر یہ لوگ کس مذہب کے ماننے والے ہیں کہ اپنے خلیفہ کی ایک چٹھی پر اتنا اہم شہر چھوڑ کے واپس جارہے ہیں۔۔۔
    مجوسیوں نے تمام مسلمانوں کو واپس بلایا اور شہر ان کے حوالے کرتے ہوئے خود بھی مسلمان ہوگئے۔
    اللہ اکبر
    ‎@JavaidHaqqani

  • ‏جب کبھی غصّہ آئے تو یہ بات یاد رکھنا – تحریر صادق سعید

    ‏جب کبھی غصّہ آئے تو یہ بات یاد رکھنا – تحریر صادق سعید

    یہ کہانی ہے ایک چھوٹی سی بچی کی جس کو بہت غصّہ آتا تھا بات بات پر غصّہ آتا تھا اور جب أس کو غصّہ آتا تھا تو وہ یہ نہیں دیکھتی تھی کے سامنے کون ہے؟ جو أس کے دل میں آتا تھا وہ سب بول دیتی تھی کئ بار تو وہ کچھ چیزیں اوٹھاتی اور زمین پر پھینک دیتی اور توڑ دیتی أس کے ماں باپ بہت پریشان ہوگئے۔

    أن کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیا کریں أنھوں نے بہت کوشش کی أس بچی کو سمجھانے کی الگ الگ طریقے سے لیکن وہ بچی سمجھ ہی نہیں رہی تھی۔

    پھر ایک دن أس کی ماں نے أس کی ٹیوشن ٹیچر سے بات کی کیونکہ ٹیوشن ٹیچر ہی ایک ایسی تھی جس کی وہ بچی بات سنتی تھی۔

    ٹیوشن ٹیچر نے أس بچی کی ماں کی ساری باتوں کو سنا اور أن کو بولا کے آپ پریشان نہیں ہو۔ آنے والے کچھ دنوں کے اندر اندر ہی اس بچی کا غصّہ پوری طریقے سے ختم ہو جائے گا أس کی ماں کو سمجھ نہیں آیا لیکن پھر بھی کہا کوشش کرنے میں کیا جاتا ہے ۔

    پھر أس دن روز کی طرح وہ ٹیچر آئی اور وہ کلاس شروع ہونے والی تھی۔ تو أس بچی کی ٹیچر نے بچی سے کہا کے آج ہم پڑھائی نہیں کریں گے آج ہم ایک گیم کھیلیں گے اور بچی یہ بات سن کر بہت خوش ہوگئ پھر ٹیچر أس بچی کے ساتھ پیچھے ایک دیوار کے پاس کھڑی ہوگئی اور أس ٹیچر نے بچی کو کہا کے گیم یہ ہے کہ جب بھی تم کو غصّہ آئے تو تمہیں ایک کیل لینی ہے اور یہاں پر آکر اس دیوار میں گاڑ دینی ہے تھوڑی سی جتنی ہو سکے۔

    پھر أس بچی نے ٹیچر سے پوچھا اس سے کیا ہوگا؟ تو ٹیچر نے کہا جب یہ گیم ختم ہو جائے گا تو تم کو آخر میں ایک گفٹ ملے گا۔

    پھر أس بچی نے بلکل ویسہ ہی کیا جیسا اس کی ٹیچر نے کہا تھا اب أس بچی کو جب بھی غصّہ آتا تو وہ جاتی اور جا کر ایک کیل أس دیوار میں گاڑ دیتی تو جیسا کے اس بچی کو بہت غصّہ آتا تھا تو پہلے ہی دن أس دیوار پر دس سے زیادہ کیلیں گڑھ گئی۔

    لیکن ان کیلوں کو گاڑھنے کے لیئے بچی کو بار بار گھوم کر پیچھے جانا پڑھتا اور جا کر کیل کو گاڑنا پڑھتا تو بچی کے دماگ میں آیا کے میں جتنی محنت میں لگاتی ہوں اس کیل کو گاڑنے میں اس سے کم محنت میں غصّے کو کنٹرول کر سکتی ہوں اگلے دن آٹھ کیلیں گڑی۔ أس کے اگلے دن 6 پھر 4 پھر 3 پھر 2 پھر 1 اور پھر ایک ایسا بھی دن آیا جب ایک بھی بار أس کو غصّہ نہیں آیا اور ایک بھی کیل أس دیوار میں نہیں گڑی اور وہ بچی بہت خوش ہوگئ خوشی خوشی وہ اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور جا کر بتایا کے ٹیچر دیکھیں آج میں نے ایک بھی کیل أس دیوار میں نہیں گاڑی ہے کیونکہ میرے کو ایک بار بھی غصّہ نہیں آیا تو ٹیچر نے أس بچی کو تھوڑی سی شاباشی دی اور ٹیچر بچی کے ساتھ أس دیوار کے سامنے کھڑی ہوگئی اب ٹیچر نے بچی کو کہا کے گیم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اب تمیں کیا کرنا ہے جس بھی دن تمہیں بلکل بھی غصّہ نہیں آتا ہے أس دن کے آخر میں تم ایک کیل کو اس دیوار سے نکال دینا۔

    لیکن کیونکہ کیلیں بہت زیادہ تھی تو ایک مہینے سے بھی زیادہ ٹائم لگ گیا أن ساری کیلوں کو باہر نکلنے میں لیکن ایک دن ایسا بھی آیا جب ساری کیلیں أس دیوار سے باہر نکل گئی پھر وہ بچی بہت خوش ہوکر اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور جا کر بولی کے اب أس دیوار میں ایک بھی کیل نہیں ہے تو ٹیچر بچی کے ساتھ أس دیوار کے سامنے گئی اور ٹیچر نے دیکھا ایک بھی کیل نہیں ہے دیوار میں پھر ٹیچر نے بچی کو أس کی پسندیدہ چاکلیٹ گفٹ کی اور بولی کے تم اس پرائز کو جیت گئی ہو بچی بہت خوش ہوگئ پھر ٹیچر نے أس بچی سے پوچھا کیا اس دیوار میں تم کو کچھ نظر آرہا ہے؟

    تو بچی نے کہا نہیں ٹیچر اس میں تو کچھ بھی نہیں ہے ساری کیلیں نکل چکی ہیں پھر ٹیچر نے کہایا ایک بار دیہان سے دیکھو شاید کچھ نظر آئے؟

    أس بچی نے پھر دیکھا اور کہا وہ جو کیلیں میں نے گاڑی تھی أس کے کچھ نشان ہیں جو نظر آرہے ہے دیوار پر جب بچی نے یہ دیکھ کیا تو ٹیچر نے کہا جیسے تم نے اس دیوار میں کیل گاڑی اور اب تم أس کیل کو تو نکال سکتی ہو لیکن أس کے نشان کو نہیں مٹا سکتی ٹھیک اس ہی طرح سے ہوتا ہے جب تم غصّہ کرتی ہو جب تم غصّہ کرتی ہو اپنے ماں باپ پر یا کسی پر بھی تو أن کے دل پر چوٹ لگتی ہے درد ہوتا ہے اور وہاں پر ایک نشان رہ جاتا ہے أس نشان کو تم چاہ کر بھی نہیں مٹا سکتی پھر چاہے تم أن سے جتنی مرضی معافی مانگو یہ سن کر بچی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ رونے لگی اور بچی بھاگتے ہوئے گئی اور اپنی ماں سے جاکر گلے لگ گئی اور اپنی ماں کو بولی کے ماں میں آج کے بعد کبھی غصّہ نہیں کروں گی مجھے سمجھ آگئی ہے میں نے کیا غلطی کری ہے اور أس دن کے بعد أس بچی نے کبھی غصّہ نہیں کیا۔

    Name: Sadiq Saeed
    Twitter: ‎@SadiqSaeed_