Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • بامقصد نشست معاشرتی ترقی کی ضمانت،تحریر:طلحہ ملک

    بامقصد نشست معاشرتی ترقی کی ضمانت،تحریر:طلحہ ملک

    ماضی قریب کی بات ہے کہ لوگ اپنے روز مرہ معاملات سے فارغ ہو کر شام میں مل بیٹھا کرتے اور دن بھر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے دوست احباب سے خوش گپیاں لگاتے، اب کی نسبت بہت اچھا دور تھا لوگ زیادہ پڑھے لکھے بھی نہ تھے مگر سلجھی ہوئی گفتگو کرتے بہت سے لوگ اپنی ان بیٹھکوں سے بہت کچھ سیکھتے باہم مل بیٹھنے سے جن تجربات اور مشاہدات کو اخذ کرتے انہیں لکھ لیا کرتے یا بہتر خوبیوں کو زندگی میں ڈھال لیا کرتے یوں ان کی یہ بیٹھکیں ان کے لیے مفید ثابت ہوا کرتیں

    وقت نے ایک دم سے کروٹ لی اور موبائل انٹرنیٹ کا دور آیا فلموں ڈراموں سے بچوں نے جو سیکھا اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا چائے ڈھابے کی جگہ سینیما گھروں یا پان سگریٹ کے اڈوں نے لے لی دن بھر کی تھکان اتارنے کے مقصد سے کی جانے والی باتوں کی جگہ گالی گلوچ اور فحش گوئی نے لے لی۔ دیکھا جائے تو اس زمانے اور اُس زمانے میں بہت زیادہ گیپ موجود نہیں اگرچے ہم نے اُن ڈھابوں پر لگی با مقصد بیٹھکوں جس نے بہت سے ادیب و شعرا کو جنم دیا میں شمولیت اختیار نہیں کی مگر ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے ایسی مجالس سے استفادہ کیا ہے اور اپنی کامیابی کا لوہا منوایا ہے مگر افسوس اس بات پر ہے کہ نوجوان نسل نے اپنا مقابلہ اپنے سے بہتر لوگوں کے ساتھ کرنے کے لیے روایات کو ترک کر کے مادیت کو پسند کیا اور عام سادے اور کچے گھروں میں رہنے والے نوجوان بھی اسی پان شاپ یا کسی ایسی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں جہاں ان کی پہنچ بھی بہ مشکل ہوتی ہے شوق نوابوں والے اور عادتیں خرابوں والی اپنا لیتے ہیں ان میں عام طور پر ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے والدین مذہبی گھرانے سے تعلق ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور صاحبزادہ گھر سے باہر امیروں کی بیٹھکوں میں بیٹھ کر شیشہ پینے، گلیوں میں آوارہ گردی کرنے پان تھوکنے اور قہقہے لگانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔

    اگرچے زمانہ بدل چکا ہے اور اس زمانے کے ساتھ ترقی کرنا بھی ضروری ہے مگر ایسا نہیں کہ آپ اچھی اور بُری مجلس کی سوجھ بوجھ ہی نہیں رکھتے ہر دور میں اچھائی اور برائی کے پہلو موجود رہے ہیں آج اگر پان شاپس، سنوکر، ویڈیو گیمز یا دیگر اڈے موجود ہیں تو وہیں بہت سی ایسی جگہیں بھی موجود ہیں جو نوجوانوں کے مستقبل کے لیے بہترین تربیت گاہ بن سکتی ہیں اگر ہم کتاب لائبریری یا ای لائبریری کی بات نہ بھی کریں تو وقت گزاری کے لیے آج بھی ہر شہر میں چائے ڈھابے موجود ہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس کا رجہان بڑھتا جا رہا ہے یہ بات ایک طرف تو خوش آئند بھی ہے مگر کسی حد تک مایوس کن بھی کہ اگر چند لوگ بیٹھ کر اچھی گفتگو کر بھی رہے ہوں تو وہ جلدی وہاں سے محض اس لیے اٹھ کر چلے جاتے ہیں کہ قریبی میز پر اونچی آواز سے یا تو کوئی میوزک چلا لے گا یا گالی گلوچ اور فحش گوئی شروع ہو جائے گی وغیرہ

    اگر اب ایسی بیٹھکوں کا رواج عام ہو ہی رہا ہے تو ہمیں چاہیے کہ دیگر لغویات اور فضولیات کی بیٹھکوں کے عوض ان کو اپنا لیا جائے اور اکٹھے بیٹھ کر فضول مباحثے اور سیاست کی بجائے ملکی مفاد میں مثبت گفتگو کی جائے کاروبار کی بہتری کے لیے مشاورتیں کی جائیں ادب و آداب والی مجالس کو دوبارہ بحال کیا جائے تو کم از کم یہ جو چند سال کا خلا آیا ہے شاید یہ پُر ہو سکے

  • لاہورمیں ’’سیاسی قیامت صغریٰ‘‘تجزیہ : شہزاد قریشی

    لاہورمیں ’’سیاسی قیامت صغریٰ‘‘تجزیہ : شہزاد قریشی

    گذشتہ سے پیوستہ روز لاہور کے زمان پارک میں پاکستان تحریک انصاف اور پولیس کے درمیان جو ہنگامہ آرائی مشاہدہ کی گئی اس کے دوران ایک کارکن جاں بحق ہوا، متعدد گرفتار کیے گئے، خواتین پر بھی واٹر اور لاٹھی چارج کیا گیا، عام شہریوں کو ٹریفک جام کے عذاب میں مبتلا کیا گیا ، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور سب سے اہم بات یہ کہ ایک سیاسی جماعت کی طرف سے شروع کی گئی اس کی انتخابی مہم کے سامنے دفعہ 144کے نفاذ کی دیوار کھڑی کر دی گئی۔ ظاہر ہے کہ حکومت کی طرف سے تو اس قابل افسوس صورت حال کی ذمہ داری پی ٹی آئی پر ہی عائد کی جا رہی ہے لیکن حقائق اس کی تائید سے قاصر ہیں۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ پولیس ذرائع کے مطابق ’’ہلاک ہونے والا شخص ایک پرائیویٹ گاڑی میں ہسپتال لایا گیا تھا‘‘۔ حکومت نے یہ حیرت انگیز دلیل بھی پیش کی ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین مذکورہ ریلی میں شرکت کے لیے اپنی رہائش گاہ سے باہر نہ نکلے۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے شاید اسی تناظر میں یہ ارشاد فرمایا کہ اداروں کی رپورٹ کے بعد لاہور میں دفعہ 144نافذ کی گئی، عمران خان قانون سے بھاگ رہے ہیں اور اب ان کو گرفتار کر کے لانا پڑے گا۔ ایک عامی بھی ان حالات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ لاہور میں ہونے والی مذکورہ ہنگامہ آرائی اس لحاظ سے تو کوئی نیا واقعہ نہیں کہ ماضی میں ایسے بے شمار واقعات رونما ہو چکے البتہ اس حوالہ سے یہ واقعہ بلاشبہ فکر انگیز ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا اعلان کیے جانے کے بعد کسی پارٹی کی انتخابی ریلی اور مہم پر ایسی یلغار نہایت افسوسناک بلکہ شرمناک ہے۔

    ادھر ایسے ہی حالات کا سامنا مختلف شہروں(لاہور، حیدر آباد، سکھر، گھوٹکی، ملتان اور مظفر گڑھ وغیرہ )میں ان خواتین کو بھی رہا جنہوں نے عالمی یوم خواتین کے سلسلہ میں ریلی اور جلوس کا اہتمام کیا تھا۔ اس نشاندہی کی چنداں ضرورت نہیں کہ پولیس کی ایسی کارروائی سے مہذب دنیا میں وطن عزیز کا وقار اور شناخت مجروح ہوئی۔ اس روز یوں محسوس ہوا جیسے لاہور میں ’’سیاسی قیامت صغریٰ ‘‘ برپا ہو گئی ہے، خیال ہے کہ ماضی کی کسی کہانی اور داستان کو سننے اور سنانے سے گریز کرتے ہوئے درپیش حالات اور احوال کی اصلاح کی طرف توجہ دی جانی چاہیے اور اس سلسلہ میں سب سے زیادہ ذمہ داری خود حکومت پر عائد ہوتی ہے جس میں سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا ۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ پاک سرزمین کو پولیس سٹیٹ نہ بنایا جائے اور یہ بات ہمہ وقت ذہن نشین رکھی جائے کہ قوانین عوام کے لیے ہوتے ہیں، عوام قوانین کے لیے نہیں ہوتے۔

  • بدلتی عالمی سیاست اورپاکستان کے حالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بدلتی عالمی سیاست اورپاکستان کے حالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    روس اور یوکرائن جنگ کے بعد عالمی دنیا کے حالات بہت بدل چکے ہیں بہت سے برطانیہ سمیت یورپی ممالک کو لگتا ہے کہ خطرہ ان کی دہلیز پر ہے بہت سے ممالک اس عالمی بحران کو حل کرنے کے لئے بیتاب ہیں لیکن ہاتھ جلائے بغیر وہ ضامن بننے میں ہچکچاتے ہیں کوئی بھی امریکہ اور روس دشمن کا سامنا کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم روس یوکرائن جنگ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد روس کی امریکہ نیوکلیئر معاہدے میں شراکت داری معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر پیوٹن نے کہا کہ نیٹو ممالک روس یوکرین تنازعہ کو عالمی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ چین نے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ روس یوکرین جنگ کی آگ کو بھڑکانے کی کوشش نہ کرے بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ روس اسی طرح پھر بکھر جائے گا جس طرح سوویت یونین کو افغانستان میں پھنسا کر اس کا شیرازہ بکھیر دیا گیا تھا اور وہ بالاخر روس بن گیا تھا۔ تاہم عالمی طاقتوں کے درمیان جاری اس جنگ کے اثرات نے برطانیہ مغربی ممالک اور عالمی دنیا کی معیشت پر اثرات ڈالے ہیں برطانیہ سمیت مغربی ممالک میں مہنگائی نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے اس جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر معاشی انحطاط کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اس جنگ کے اثرات عرب ممالک سے لے کر دنیا کے دیگر ممالک پر بھی پڑے ہیں۔

    پاکستان اس وقت عالم اسلام کا واحد ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے حکمرانوں سمیت ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ان بین الاقوامی حالات کا بغور جائزہ لے کر سیاست کرنا ہوگی ملکی وقار ، ملکی سلامتی کے پیش نظر ایسے راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا جس سے عالمی سیاسی کھلاڑیوں کا مقابلہ کر سکیں، عراق، شام، سوڈان، یمن، لبنان اور افغانستان کے حالات ہمارے سامنے ہیں، کسی بھی عالمی سازش کا حصہ بننے سے ہمیں دور رہنا ہوگا ہمیں پہلے اپنے ملک کی سلامتی اپنے ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر سیاست کرنا ہوگی، ہماری معیشت اس وقت کمزور ہے ملک کی سیاسی جماعتوں کو انتقامی سیاست فوری بند کر کے مذاکرات کرنا ہونگے یہ وقت ملک میں افراتفری، جلائو گھیراؤ اور سیاسی عدم استحکام کا نہیں ہے ملکی فیصلہ ساز اداروں کو حکمرانوں سمیت اپوزیشن کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دنیا کی بدلتی ہوئی سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت مذاکرات ہی واحد راستہ ہے،

  • ریاستی اداروں پر یلغارکیوں؟تجزیہ :  شہزاد قریشی

    ریاستی اداروں پر یلغارکیوں؟تجزیہ : شہزاد قریشی

    اس امر کی نشاندہی بلاشبہ قابل فخر ہے کہ وطن عزیز ایک جمہوری ملک ہے جہاں پر اگرچہ جمہوریت ابھی کسی نومولود بچے کی طرح رینگ رہی ہے لیکن یہ کسی غیر منتخب حکومت اور خاص طور پر مارشل لاء انتظامیہ سے بہرحال بہتر ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ صورت حال بھی توجہ طلب ہے کہ جملہ ریاستی ادارے یعنی انتظامیہ المعروف بیورو کریسی، مقننہ اور عدلیہ کی کارکردگی پر عوام کی طرف سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ مذکورہ ریاستی اداروں میں اگر میڈیا کو بھی شامل کیا جائے تو یہ صورت حال مزید گھمبیر محسوس ہوتی ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ آزادی اظہار کے نام پر ریاستی اداروں پر تنقید کا معیار اور جواز اس قدر بوسیدہ اور کم درجہ ہے کہ دور اندیش حلقوں میں اس بارے تشویش پائی جاتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سیاسی جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے پر جو تنقید کرتے ہیں وہ تنقید کم اور تضحیک زیادہ ہوتی ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ سیاسی قیادت اس حوالہ سے اپنے کارکنوں کی ذہنی، فکری اور نظریاتی تربیت کا فرض ادا کرے لیکن مشاہدہ یہ کیا جا رہا ہے کہ یہ سیاسی قیادت خود بھی مذکورہ روش پر ہی گامزن ہے۔ کسی بھی دن کا اخبار ملاحظہ اور مطالعہ کیا جائے یا کسی بھی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا مشاہدہ کیا جائے تو چند منٹ میں ہی یہ افسوسناک حقیقت اجاگر ہو گی کہ سیاسی کارکردگی دراصل سیاسی شعبدہ بازی اور بازی گری میں تبدیل ہو چکی ہے۔ معلوم نہیں نام نہاد ناقدین کس طرح یہ حوصلہ رکھتے ہیں کہ وہ کسی ثبوت اور دلیل کے بغیر اور اپنی شرائط پر عدلیہ سے انصاف کے حصول کا مطالبہ اور تقاضا کریں۔ اسی طرح یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ کسی انتخاب میں نتائج کی تہہ میں دفن کوئی سیاسی جماعت اپنی مد مقابل اس سیاسی جماعت کے احتساب کا مطالبہ کرے جس پر عوام نے اپنے اعتماد اور یقین کا برملا اظہار کیا ہے۔

    ایسے میں یہ مشاہدہ بھی عام ہے کہ انتظامیہ عرف بیورو کریسی کے ساتھ کسی تنازعہ اور محاذ آرائی کی صورت میں اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک اختیار کیا جاتا ہے جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ ایسے واقعات بھی اب راز نہیں رہے کہ ہماری آزادی، خود مختاری اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی مسلح افواج کے بارے میں بھی ہرزہ سرائی کی گئی۔ یہ مذموم روش سوشل میڈیا پر نمایاں دیکھی گئی۔ ارباب فکر و دانش اور خاص طور پر سیاسی اکابرین کا یہ خیال نہایت درست اور بروقت ہے کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں اپنے ریاستی اداروں کا احترام کرنا چاہیے اور ان اداروں کو بھی پسندیدہ اور با اثر شخصیات کے اثر و رسوخ سے بے نیاز ہو کر محض خوف خدا کے تحت اپنے سرکاری فرائض سر انجام دینے چاہئیں۔ یہی وہ وقت ہے جس کے لیے فیض احمد فیض نے یہ دعا کی تھی کہ ’’میرے وطن ، تیرے دامان تار تار کی خیر ‘‘۔

  • عوام کے منتخب وزرائے اعظم کا مقتل ،تجزیہ :   شہزاد قریشی

    عوام کے منتخب وزرائے اعظم کا مقتل ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    عوام کے منتخب وزرائے اعظم کا مقتل ،تجزیہ : شہزاد قریشی
    حالیہ دنوں میں قومی سیاسی حلقوں میں جہاں انتخابات، مہنگائی اور سرکاری کفایت شعاری کے حوالہ سے بحث مباحثہ جاری ہے وہاں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی سلامتی اور حفاظت کے حوالہ سے بھی اظہار خیال کیا جاتا ہے۔ اس عنوان سے تجزیئے اور تبصرہ کی نوبت اب یہاں تک آن پہنچی ہے کہ عمران خان کی زندگی کو درپیش خطرات اور خدشات کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ گذشتہ سے پیوستہ روز اسلام آباد میں سابق وزیر قانون اور اب پی ٹی آئی کے صف اول کے رہنما بابراعوان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو سنائپر یا خود کش حملے میں نشانہ بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔ابھی لانگ مارچ شروع نہیں ہوا تھا کہ ہمیں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کی اطلاع ملی تھی ۔ حتیٰ کہ عمران خان نے خود بھی 2 مرتبہ یہ بات دہرائی۔ بابر اعوان نے مزید کہا کہ میں نے ماضی قریب میں میڈیا کے روبرو یہ انکشاف کیا تھا کہ عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوگا جس پر بعض لوگوں نے میرا تمسخر اڑایا اور میرے اس بیان کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ میں اب دوبارہ قوم کو اس خطرہ سے آگاہ کر رہا ہوں کہ عمران خان کو سیکیورٹی کے حوالے سے تنہا کیا جارہاہے اورعمران خان کو اسلام آباد کچہری بلا کر بم سے اْڑانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے چنانچہ ہمیں یہ تحریرفراہم کی جائے کہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو اس کا کون ذمہ دار ہوگا۔ ادھر ایک ٹویٹ میں پی ٹی آئی کے مرکزی سینئر نائب صدر فواد چوہدری اور سینئر رہنما افتخار درانی نے بھی اپنے اپنے ٹوئٹ میں بیان کیا ہے کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی سامنے آ چکی ہے لہذا ان کی سیکورٹی کو جامع بنایا جائے۔ اسلام آباد کچہری میں عمران خان پر سنائپر یا خود کش حملہ کروانے کی سازش ہے ، اعلیٰ عدلیہ فوری نوٹس لے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان پر یکے بعد دیگرے اور بلاجواز مقدمات اس لئے بنائے جا رہے ہیں تا کہ ان پر ایک اور قاتلانہ حملے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

    ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے جن خدشات اور خطرات کا اظہار کیا جا رہا ہے، ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ایسا کیا بھی نہیں جانا چاہیے کیونکہ ماضی میں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ عوام کو خوب یاد ہے کہ وطن عزیز کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں (جو اب ان کے نام سے منسوب ، لیاقت باغ ہے) 16اکتوبر 1951ء کو اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا جب انہوں نے ایک جلسہ عام میں اپنے خطاب کا آغاز ہی کیا تھا۔ اسی طرح وطن عزیز کے پہلے منتخب وزیراعظم اور قائداعظم کے بعد سب سے زیادہ مقبول سیاستدان، ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979ء کو راولپنڈی میں ہی سنٹرل ڈسٹرکٹ جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کی ذہین و فطین صاحبزادی اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو 27دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے سامنے اس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد واپس جا رہی تھیں۔ اب سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھیوں کی طرف سے ان کی زندگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے تو اس پر عوام کی طرف سے تشویش پر مبنی ردعمل ایک قدرتی بات ہے۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب 3 نومبر 2022ء کو وزیرآباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا تو اس کے بعد خود عمران خان نے کئی مرتبہ یہ بیان دیا کہ ان کو منظر عام سے ہٹانے کے لیے سازشیں ہو رہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عمران خان پر ہونے والے حملے کی فوری اور شفاف تفتیش کرائی جاتی لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ تفتیش کا یہ مرحلہ ابھی تک طے نہیں ہوا اور ایسے میں گرفتار شدہ ملزم کے خلاف ہنوز کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ سیاسی حریف اس واقعہ پر ایسی تبصرہ آرائی کرتے ہیں جس کو نرم سے نرم الفاظ میں شرمناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر سیاسی مخالفین کے بارے میں انتقامی جذبہ اور سلوک کا یہی عالم رہا تو اس کا نتیجہ کس صورت میں سامنے آئے گا کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ ایوان اقتدار میں کسی کا قیام بھی مستقل نہیں ہوتا ۔ دربار سے بازار تک اور بازار سے دربار تک کا سفر ہر کسی کا مقدر بن سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ حقیقت بھی فراموش نہ کی جائے کہ اگر وطن عزیز اپنے وزرائے اعظم کا اسی طرح مقتل بنتا رہا تو اس سے مہذب اور عالمی برادری میں ہماری شناخت اور وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

  • معاملہ فہمی سے کام لیا جائے ،تجزیہ  شہزاد قریشی

    معاملہ فہمی سے کام لیا جائے ،تجزیہ شہزاد قریشی

    معاملہ فہمی سے کام لیا جائے ،تجزیہ : شہزاد قریشی
    وطن عزیز کے سیاسی میدان میں آج کل جو سرگرمیاں مشاہدہ کی جا رہی ہیں، ان کو بجا طور پر دھینگا مشتی اور ہاتھا پائی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ سلسلہ اب عدالتوں کے ماحول کو بھی مکدر کر رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ، عمران خان کی اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس میں آمد کے موقع پر جو ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی وہ اس کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے خلاف جو اقدامات کیے ان کو اگر ’’انتقامی روئیے ‘‘ سے منسوب نہ بھی کیا جائے تو وہ عملی طور پر اسی زمرے میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی وسوسے اور خدشات کو جنم دیتی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ ، رانا ثناء اللہ خان نے عمران خان کی جوڈیشل کونسل میں آمد کے موقع پر اور اسی حوالہ سے یہ بیان دیا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ عمران خان کو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں گرفتار کریں۔ ایک عامی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ سیاسی اختلاف رائے کو ذاتی دشمنی اور انتقام کا درجہ کیوں دیا جاتا ہے۔

    اگرچہ نام نہاد دانشور اور انگریزی سیاسی اصطلاحات زدہ طبقہ ملکی امور کے سلسلہ میں ’’چائے کی پیالی میں طوفان ‘‘ اٹھانے پر ہی اکتفا کرتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں محب وطن عوام کی ایک بڑی تعداد ان احوال کے حوالہ سے فکر مند ہے ۔
    دریں اثناء عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں عندیہ دیا ہے کہ ہم مسلط ٹولہ کو الیکشن سے بھاگنے نہیں دیں گے یعنی وہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ الیکشن کے لیے ان کی تیاری مکمل ہے۔ اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے ساہیوال میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ کارکن، الیکشن کی تیاری کریں۔ ایسے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ردعمل سے بھی یہ تاثر نمایاں ہوتا ہے کہ عدالتی کارروائی سے قطع نظر، الیکشن کا انعقاد ہی سیاسی پیش رفت کا بنیادی اور کلیدی نکتہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا پہلو ہے جس کو کسی طور بھی سیاسی صورت حال سے الگ اور دور تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کے لیے یہ بات بجا طورپر تشویش کا باعث ہے کہ سیاسی قیادت خوش فہمی اور غلط فہمی کے معاملہ میں خود کفیل ہے اور اس کو شاید اس بات کا احساس نہیں کہ مہنگائی، بیروزگاری، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، جرائم میں اضافہ اور آئی ایم ایف کے احکامات کے نتیجہ میں ٹیکسوں کی بھرمار کا شکار عوام ان (سیاست دانوں) سے اب بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ قومی امور اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کم از کم سیاسی سطح پر خوش فہمی اور غلط فہمی کی بجائے معاملہ فہمی سے کام لیا جائے۔

  • سیاست میں اخلاق سنجیدگی سب کیلئے لازمی،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں اخلاق سنجیدگی سب کیلئے لازمی،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں اخلاق سنجیدگی سب کیلئے لازمی،تجزیہ، شہزاد قریشی
    عوام کی اکثریت نیم مردہ حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں تاہم سیاسی گلیاروں میں سیاسی رونقیں عروج پر ہیں ۔ ایک بے معنی پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔ کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر ایم کیو ایم والے اور جماعت اسلامی سمیت پیپلز پارٹی نجی ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کی ضروریات پریس کانفرنسوں میں پوری کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم مردم شماری اورجماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی والے میئر کراچی بنائو مہم کا رونارو رہے ہیں۔ اب کون بنے گا کروڑپتی والا کھیل جاری ہے۔ اسلام آباد کی تو بات ہی نرالی ہے جہاں ہرروزقانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی صدائیں بے معنی پارلیمنٹ سے لے کر نجی ٹی وی چینلز پرسنائی دیتی ہیں۔ اسلام آباد سیاسی شہر تو بن گیا لیکن یہاں کے سیاسی ہاتھوں نے قوم کی تباہی کردی ناقابل برداشت مہنگائی ، دہشت ناک بدامنی ، گھر گھر اس اسلام آباد میں بسنے والے سیاستدانوں کے ہاتھوں برباد ہو چکے۔ جمہوری مزاج سیاستدان نہیں ورنہ جمہوریت میں جمہوربرباد نہیں ہوتی۔ سیاست میں متانت ،سنجیدگی اور اخلاق کو جو اہمیت اور درجہ حاصل ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ موجودہ بیان بازی کو کسی طور بھی نیک فال تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ موجودہ حالات میں تعمیری اور مثبت طرز بیان اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ شومئی قسمت ایسا نہیں ہو رہا ۔

    ملکی سیاسی تاریخ کی نگاہ اس وقت عمران خان ،مریم نواز شریف پراور ان کے بیانات پر مرکوز ہے اوران دونوں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ تو عوام نے کرنا ہے کاش عمران خان اور مریم نوازشریف اس حقیقت کا ادراک کرسکیں کہ سیاسی مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ٹویٹ اورتقاریر میں چیخ وپکار سے دور رہیں۔ مثبت اور تعمیری سیاسی بیانات دیں بلاشبہ مریم نواز شریف اپنے والد میاں محمد نواز شریف کا مقدمہ عوامی عدالت میں لے کر اُتری ہیں جس طرح وہ اپنے والد کا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے کر اتری ہیں اس سے قبل مسلم لیگ(ن) اپنے قائد نواز شریف کا مقدمہ لڑنے میں ناکام رہی اس ناکامی کے ذمہ دارمسلم لیگ(ن) کے نام نہاد مرکزی رہنما ہی ہیں کوئی اور نہیں۔ مسلم لیگ(ن) اپنے قائد کی خدمات کو پس پشت ڈال کراقتداراور صرف اقتدار کی دوڑ میں شامل رہی۔ اس وقت ملکی سیاسی گلیاروں میں عمران خان اور مریم نواز کا سیاسی مستقبل تو روشن نظر آرہا ہے تاہم دونوں پرسیاسی تاریخ کی نگاہ مرکوز ہے ۔ لہذا اخلاقی ، متانت اورسنجیدگی لازمی شرط ہے ۔

  • معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی
    قوم کے بنیادی مسائل سیاستدانوں کے بے معنی شور شرابے تلے دب کر رہ گئے ہیں معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام نے ملک اور عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ملکی سیاسی جماعتوں بشمول حکمران جماعت کی طرف سے پاک فوج اور عدلیہ بارے پروپیگنڈے نے تو دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسری طرف ایک سیاسی جماعت کے ارکان اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان اور کارکن عہدیداروں سمیت زنجیریں پہن کر گرفتاریاں دے رہے ہیں یعنی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے عجب بے معنی شور ہے نہ جانے ہمارے سیاستدانوں کا آئین کو لیکر حساب کتاب اتنا کمزور کیوں ہے سیاست کی دنیا میں دھند دن بدن بڑھتی جا رہے آئین کی کتاب میں سب درج ہے بلکہ پوری وضاحت کے ساتھ درج ہے اگر یہ آئینی سوال کہ الیکشن کب ہوں کس طرح ہونگے الیکشن کی تاریخ کون دیتا ہے ، دو چار کی طرح بالکل آسان ہے حیرت ہے ہمارے سیاستدانوں سے یہ پھر بھی حل نہیں ہو رہا ہے

    اس وقت ملک کی سیاست آئین اور الیکشن ، محسوس ہوتا ہے کہ 75سالوں اور1973ء میں آئین بنایا گیا مگر 1973سے لیکر تا دم تحریر ملک میں خالص جمہوریت نہیں رہی اگر خالص جمہوریت قائم رہتی تو آج جمہور کے بنیادی مسائل حل ہو چکے ہوتے آمریت نے اس آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا اور آج کی جدید واٹس اپ گروپس اور ٹویٹ جمہوریت بھی آئین سے کھلواڑ ہی کر رہی ہے حیرت ہے ایک طرف جمہوریت کا نعرہ، پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ ،قانون کی حکمرانی کا نعرہ اور دوسری طرف آئین کے ساتھ کھلواڑ سیاسی جماعتوں پر یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟عدالتوں کا احترام کریں ادب اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں ملکی سلامتی کے اداروں بشمول عدلیہ کے بارے میں زہریلا پروپیگنڈہ نہ کریں کسی بھی ملک کے یہ ادارے انتہائی اہم ہوتے اور ان کا کردار بھی اہم ہوتا ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور مسائل کی گتھی کو سلجھایا جائے جمہوریت کی خاطر اس سلسلے میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ اپنا کردار ادا کریں ورنہ شاید پھر کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔۔۔!

  • پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    برطانوی حکومت نے بھٹو خاندان کو اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ کیوں عطاء کیا۔
    تجزیہ : شہزاد قریشی
    وطن عزیز کو درپیش موجودہ سیاسی ، اقتصادی اور مالیاتی حالات بلکہ مشکلات کا معروضی تجزیہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ان کا حقیقی سبب جاگیرداری کا وہ نظام ہے جس نے پاک سرزمین اور اس کے عوام کو کسی عفریت کی طرح اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ حال ہی میں مجھے اس موضوع اور عنوان بارے جائزہ اور محاکمہ کا موقع میسر آیا تو حقیقی معنوں میں چشم کشا حقائق کا علم ہوا۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ بھٹو خاندان جو بلاشبہ وطن عزیز کا سب سے با اثر، مقبول اور قابل ذکر سیاسی خاندان ہے ، اس کے بزرگوں نے برطانوی راج کے دوران غیر ملکی اور غاصب آقاؤں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا تھا۔ اس کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ جب 1843ء میں چارلس نیپئر کی قیادت میں انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کیا تو انہوں نے یہاں پر اپنا یہ قبضہ برقرار اور مضبوط رکھنے کے لیے علاقہ میں ٹیکس کی وصولی اور غریب عوام کے استحصال کے لیے ایک خاص طبقہ تشکیل دیا جس کے ذمہ ان غریب عوام سے لگان اور ٹیکس کی وصولی تھا۔اس طبقہ میں بھٹو خاندان بھی شامل ہوا۔ شاہنواز بھٹو لاڑکانہ (سندھ) سے تعلق رکھنے والے واحد سیاستدان تھے جو حکومت بمبئی کے مشیر اور مسلم ریاست جونا گڑھ کے دیوان بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ انگریزوں کی بمبئی پریذیڈنسی کے وزیر بھی تھے۔ شاہنواز بھٹو کی تعاون کی مذکورہ پالیسی کے نتیجہ میں ان کو برطانوی حکومت نے سر(Sir) اورسی آئی ای (CIE) کے خطابات دیئے۔ برطانوی حکومت نے ان کو اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ بھی الاٹ کیا جس کے نتیجہ میں وہ سندھ بلکہ برصغیر کے سب سے بڑے جاگیر دار بن گئے۔ آج بھی یہ خاندان سکھر اور جیکب آباد کے علاقہ میں وسیع اراضی کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔

    یہ درست ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ماضی کی طرح آج بھی وطن عزیز کے ایک مقبول اور عوامی سیاستدان تسلیم کیے جاتے ہیں اور ملک و قوم کے لیے نہ صرف ان کی بلکہ ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو ، صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو اور صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کی سیاسی خدمات تاریخی اعتبار سے نہایت معتبر ہیں لیکن اس افسوسناک حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بھٹو خاندان نے ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ‘‘ کا نعرہ بلند کرنے کے باوجود موروثی سیاست کو ہی فروغ اور استحکام دیا۔ اس حوالہ سے یہ مثال ہی کافی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی موت کے بعد ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور ایوان اقتدار تک رسائی حاصل کی۔ ان کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری صدر مملکت کے عہدہ پر براجمان ہوئے اور اب ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے وزارت خارجہ کا وہ قلمدان سنبھال رکھا ہے جو کم و بیش 6عشرہ قبل موصوف کے نانا ، ذوالفقار علی بھٹو کے پاس رہا۔ برطانوی راج میں جاگیریں اور انعامات و اعزازات حاصل کرنے والے خاندان آج بھی ایک آزاد اور خود مختار قوم کی گردن پر سوار مشاہدہ کیے جاتے ہیں۔ اس حوالہ سے جنوبی پنجاب کے قریشی خاندان کے احوال آئندہ قسط میں بیان کیے جائیں گے۔

  • اپنے پاؤں پر ہی کھڑا ہونے کا نام ترقی ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    اپنے پاؤں پر ہی کھڑا ہونے کا نام ترقی ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    عوام کی اکثریت کو مہنگائی، غربت، بیروزگاری کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا سامنا رہا اور موجود ہے۔ ملک میں معاشی عدم استحکام، سیاسی عدم استحکام کی لپیٹ میں تھا اور موجود ہے۔ پاکستان نے امریکہ کی خاطر ہمیشہ فرنٹ لائن میں کردار ادا کیا وہ ضیا الحق کا دور حکومت ہو یا پرویز مشرف کا دور حکومت جس کے اثرات آج تک پاکستان بطور ریاست اور قوم بھگت رہے ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاک فوج، قومی سلامتی کے اداروں، سول سوسائٹی، پولیس نے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قربانیاں دیں۔ جس کا عالمی دنیا اور امریکہ اعتراف کرتا ہے۔ آج ملک میں معاشی عدم استحکام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا افغانستان میں قیام امن کے لئے کردار ادا کیا ضرب عضب اور رد الفساد کے ذریعے ملک سے دہشت گردوں اور انتہاپسندی کا خاتمہ کیا آج ایک بار پھر ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ معاشی عدم استحکام سیاسی عدم استحکام محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور پھر میاں محمد نوازشریف کادور حکومت کا خاتمہ ہوا ہے ملک میں عدم استحکام ہی رہا ہے۔ نوازشریف کو پانامہ کیس میں سزا کے بجائے اقامہ پر سزا دی گئی وہ اپنے بیٹوں اور بیٹی کو ساتھ لے کر جے آئی ٹی سے لے کر عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔

    نوازشریف کے بعد عمران خان کے دور حکومت کا آغاز ہوا انہوں نے بھی اس ملک کو معاشی مستحکم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا جس کا خمیازہ تادم تحریر پاکستان بطور ریاست اور عوام بھگت رہی ہے۔ ملکی سیاسی جماعتوں میں پرلطف زندگی گزارنے والے سیاستدانوں نے ملکی وسائل پر توجہ دینے کی عالمی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کا سہارا لیا اور وقتی راحت پر توجہ دی جبکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے لئے قرض در قرض لے کر ترقی کرنا ممکن ہی ہیں اپنے پاؤں پر ہی کھڑا ہونے کا نام ترقی ہے۔ آج سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور نے مشکلات میں گھرے عوام کے کان مائوف کر دیئے ہیں۔ کہیں آئینی بحران کی صدائیں کہیں قانون کی حکمرانی کی صدائیں۔ کہیں الیکشن کی صدائیں ۔ سیاست ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے پورے ملک اور اس کی عوام کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ان حالات میں اور یہاں تک پاکستان کو پہنچانے میں کس کا اور کن کرداروں کا ہاتھ ہے فیصلہ عوام خود کریں۔