Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • انتخابات،پہلے مشکلات اور پھر امیدیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات،پہلے مشکلات اور پھر امیدیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عین الیکشن کے وقت الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالات کا اٹھنا درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شفاف الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے پریزائیڈنگ آفیسرز سے حلف اٹھانے کے بعد الیکشن کے عمل کا آغاز ایک احسن اقدام ہے۔ ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے نعروں سے فضا گونج رہی ہے مگر ملک کی ترقی آسان نہیں ہے۔ جب تک ملکی وسائل، تعلیم پر خصوصی توجہ نہیں دی جائے گی ترقی ممکن نہیں۔

    پاکستان زرعی ملک ہے اس پر توجہ کی ضرورت ہے اس وقت ملک کی بظاہر تین بڑی سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، جبکہ مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی، تحریک لبیک، جمعیت علمائے پاکستان، تمام جماعتوں کے حامی اپنے قائدین کو معاشی بحران سے دوچار پاکستان کو آخری امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آخری امید سے مرادمعیشت کو مستحکم کرنے والا قائد، پاک فوج اور جملہ اداروں کا کردار ملکی سلامتی ملکی بقا پر مرکوز ہے جس کا بھرپور عملی مظاہرہ ایران سے ہونے والی دراندازی پر منہ توڑ جواب دے کر کیا گیا۔ آٹھ فروری کے بعد منتخب ہونے والی سیاسی جماعت کو ملکی معیشت پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے عوام مہنگائی ، نوجوان بیروزگاری اور دیگر معاشرتی مسائل میں مبتلا ہیں ان کو مسائل سے نکالنے کی ذمہ داری نئی حکومت پر ہوگی۔ آیئے نئے وزیراعظم عہد کریں، ملک و قوم کے مسائل کو حل کرنے کا عہد کریں۔

  • اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،سیکنڈل اور حقائق،تحریر: ارشاد احمد ارشد

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،سیکنڈل اور حقائق،تحریر: ارشاد احمد ارشد

    پاکستان کی معروف قدیمی درس گاہ ۔۔۔۔اسلامیہ یونیورسٹی بہالپور اور اس کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو بدنام کرنے کےلئے جو جھوٹ بولے گئے ۔۔۔وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب اور یونیورسٹی کو بدنام کرنے کا اسیکنڈل جب منظر عام پر آیا تو اسی وقت ہی معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہر شخص سمجھ گیا تھا کہ یہ سازش ہے اور الزام تراشی ہے ۔اس کے بعد جو حقائق منظر عام پر آئے اور خاص کر وزیر اعلیٰ پنجاب کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جو ٹربیونل بنایا اس نے بھی اپنی آزادا نہ تحقیقات کے بعد یہ بتا دیا ہے کہ آئی یو بی کو بدنام کرنے کےلئے جو سکینڈل بنایا گیا وہ سب جھوٹ تھا ۔
    اب آئیں مختصراَ َ اس واردات کا جائزہ لیتے ہیں ۔ کسی بھی ادارے میں انتظامی اعتبار سے چیف سکیورٹی آفیسر کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، چیف سکیورٹی آفیسر ادارے کے حفاظتی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔لہذا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سب سے پہلے یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر ریٹائرڈ میجر اعجاز شاہ کو ٹارگٹ کیا گیا۔ اس مقصد کےلئے جو سیکنڈل گھڑا گیا وہ یہ تھا کہ یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر سے منشیات اور اس کے موبائل سے 5,500 یونیورسٹی کی طالبات کی نازیبا ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں اس سے یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ یونیورسٹی کا چیف سیکورٹی آفیسر ایک جرائم پیشہ اور اخلاق باختہ شخص ہے ۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کے کچھ دیگر سٹاف کے بارے میں تواتر کے ساتھ منشیات اور ویڈیوز برآمدگی کی خبریں چلائی گئیں جنھیں اور سن کر یوں لگتا تھا جیسے یونیورسٹی میں اساتذہ اور سٹاف نہیں اٹھائی گیر ہیں اور یہ اسلامیہ یونیورسٹی نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد اور منشیات کا اڈاہے ۔

    یہ ایسی ہولناک سازش تھی کہ جس نے ملک بھر میں غم وغصے اور اضطراب کی کیفیت برپا کردی۔ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی یونیورسٹی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ اس سازش کا پردہ چاک کیا جاتا چنانچہ ڈاکٹر اطہر محبوب نے سب سے پہلے خود کو اور اپنے سٹاف کو احتساب اور خون ٹیسٹ کروانے کےلئے پیش کیا ۔ آئی جی پنجاب کو مراسلہ لکھ کر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔کئی ادارہ جاتی کمیٹیاں قائم کی گئیں جن میں جنوبی پنجاب سے ہائر ایجوکیشن کے ممبران بھی شامل کیے گئے تھے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی دو ڈی آئی جی لیول کے پولیس اہلکار اور ایک صوبائی سیکرٹری پر مشتمل ایک اعلی تحقیقاتی کمیٹی بھیجی ۔ ان سب نے مکمل تفتیش اور تحقیق کے بعد کہا کہ اس سکینڈل کا کوئی وجود نہیں ہے نہ کوئی ویڈیو بنی اور نہ برآمد ہوئی ہے ۔ اس سلسلہ میں مزید کاروائی یہ کی گئی کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ایک حاضر سروس جج کے تقرر کےلئے درخواست ارسال کردی ۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے جسٹس سردار محمد ڈوگر کو بطور ٹربیونل جج نامزد کیا تاکہ وہ یونیورسٹی کے طلبہ کے منشیات استعمال کرنے ،بلیک میلنگ اور جنسی استحصال کرنے کی تفتیش کریں ۔

    جسٹس سردار ڈوگر نے پوری تحقیق کے بعد جو رپورٹ تیار کی اس کے درج ذیل نکات ہیں :
    یونیورسٹی کی حدود میں نہ تو مبینہ منشیات استعمال ہوئیں اور نہ ہی جنسی استحصال ہوا ۔ اور اس ضمن میں کوئی گینگ بھی نہیں پایا گیا جو ایسا ارتکاب کرتا ہو ۔ کسی پکے ثبوت یا شہادت کے بغیر ہی جنسی ہراسگی یا منشیات کے استعمال کے الزام پر پولیس نے اس کیس کو مس ہینڈل کیا اور یوں یونیورسٹی کو بدنام کیا گیا ۔ یوینورسٹی میں طالبات یا ارکان جامعہ کے جنسی ہراسانی یا منشیات کے استعمال میں ملوث ہونے کی خبریں سوشل میڈیا کے لوگوں نے پھیلا ئیں جن سے یونیورسٹی کو بدنام کیا گیا اور طالبات اور پروفیسرز کی عزت اور وقار پر بھی حرف آیا ۔
    ٹربیونل نے درج ذیل افراد کو سازش رچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا
    جمشید ڈی ایس پی /سی آئی اے
    ایس ایچ او تھانہ دراوڑ
    سید محمد عباس ڈی پی او بہاولپور
    عبداللہ نامی ٹاﺅٹ پولیس جس کے خلاف کریمنل مقدمے کی سفارش کی گئی
    اقرار الحسن سید ٹی وی اینکر ، یوٹیوبر /ولاگر اور ثاقب مشتاق یوٹیوبر اور بلاگر( لودھراں )

    ٹربیونل نے اپنی رپورٹ نے واضح طور پر لکھا کہ ان ولاگر نے بغیر تصدیق کے ولاگ کئے اور یونیورسٹی کو بدنام کیا ۔
    جسٹس سردار ڈوگر کی اس رپورٹ سے بھی یہ بات بالکل واضح ہورہی ہے کہ آئی یو بی ، اس کے سٹاف سابق وی سی اور طالبات کو ایک دانستہ سازش کے تحت بدنام کیا گیا ہے ۔

    یہاں ایک بہت اہم سوال بھی ہے کہ آئی یوبی کے خلاف یہ گھناﺅنی سازش کیوں کی گئی اور اس کے مقاصد کیا تھے ۔۔۔۔ ؟
    اس کا جواب یہ ہے پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے چار سال کے عرصہ میں یونیورسٹی کے تعلیمی اور تدریسی معیار کو بہتر بنانے کےلئے جو کاوشیں کیں ۔۔۔۔انھیں ناکام بنانا مقصود تھا ۔ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب ایک طرف امریکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں،نامور ماہرِ تعلیم اور مثالی منتظم ہیں تو دوسری طرف وہ دین سے ، قرآن سے ، علما سے اور مساجد سے گہری محبت رکھتے ہیں۔انھوں نے اپنے دور میں یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کےلئے بیشمار اقدامات کئے ہیں ۔۔۔مثلاََ طلبہ وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کےلئے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں ، لائق اور ذہین طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلئے وظائف جاری کئے گئے،ایسے مفید ڈگری پروگراموں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جن کی معاشرے میں بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے ، طلبہ وطالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر متعدد شفٹوں میں کلاسوں کا اجرا کیا گیا ، مختلف کیمپس میں ضروریات کے مطابق سہولیات میں اضافہ ہوا ، آمدو رفت کےلئے پہلے سے موجود ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو نہ صرف بہتر کیا گیا بلکہ ان میں اضافہ بھی کیا گیا ، صحت مند سرگرمیوں کے لئے کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں جاری کی گئیں ۔یہ وہ قدامات تھے جنھوں نے ایک طرف یونیورسٹی کے معیار تعلیم کو چار چاند لگا دیے تو دوسری طرف اس کی مقبولیت میں بھی بے حد اضافہ ہونے لگا ۔طلبہ وطالبات جوق در جوق یونیورسٹی کا رخ کرنے کےلئے اور یونیورسٹی کی کلاسز تنگ داماں کا شکوہ کرنے لگیں ۔فیکلٹیز جو پہلے صرف چھ تھیں ان کی تعداد13تک جاپہنچی ۔ پہلے یونیورسٹی میں کل وقتی اساتذہ 400تھے پھر ایک وقت آیاجب کل وقتی اساتذہ کی تعداد 400سے بڑھ کر 1400تک جاپہنچی ۔جب لائق فائق اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ یونیورسٹی کی زینت بنے توطلبہ وطالبات کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب کے اسلامیہ یونیورسٹی میں آنے سے پہلے طلبہ وطالبات کی تعداد صرف 13,000تھی جو 65,000ہزار تک جاپہنچی ۔ اسی طرح ڈاکٹر اطہر محبوب کے اس جامعہ میں آنے سے پہلے طالبات کی تعداد صرف 4000تھی جو 27,000تک چلی گئی ۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کے یونیورسٹی میں آنے کے بعد والدین کا خصوصاََ بچیوں کے حوالے سے یونیورسٹی پر اعتماد میں اضافہ ہوا ۔

    یہ ہے ڈاکٹر اطہر محبوب کی تعلیمی کاوشوں کا مختصر تذکرہ ۔ ان کاوشوں کی وجہ سے علاقے میں موجود بعض نجی تعلیمی اداروں کے کاروبار مانند پڑنے لگے تھے اس کے ساتھ یہ خبریں بھی گردش کررہی تھیں کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی مزید توسیع دی جائے گی ۔ اسلئے مبینہ طور پر یونیورسٹی کو بدنام کرنے اور ڈاکٹر اطہر محبوب کا دوسری ٹرم کےلئے راستہ روکنے کی خاطر یہ ڈرامہ پلے کیا گیا ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈرامہ جنھوں نے پلے کیاانھوں نے اچھے مسلمان اور شہری ہونے کا ثبوت نہیں دیا بلکہ چند ٹکوں کی خاطر اپنے ہی منہ پر کالک ملی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے عدالتی ٹربیونل نے اس شرمناک ڈرامہ کے جن کرداروں کی نشاندھی کی ہے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی توسیع دی جائے تاکہ انھوں نے پسماندہ علاقے کی جس یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کا جوسفر شروع کیا تھا وہ چلتا رہے ۔

    بہاولپوراسلامیہ یونیورسٹی میں خواتین ٹیچرزکاسی آئی اے پولیس پر ہراسانی کاالزام

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،بزدار دورمیں وائس چانسلرکو نکالنے کی سفارش ہوئی تھی

    سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو امریکہ جانے سے روک دیا گیا
    irshad arshad

  • پانچ فروری اظہار یکجہتی کشمیر کاسوال ،فیصلہ کن اقدام کاوقت کب آئے گا ؟تحریر: ڈاکٹر سبیل اکرام

    پانچ فروری اظہار یکجہتی کشمیر کاسوال ،فیصلہ کن اقدام کاوقت کب آئے گا ؟تحریر: ڈاکٹر سبیل اکرام

    مقبوضہ جموں کشمیرکی خصوصی حیثیت کاخاتمہ بھارت کے ترکش کاآخری تیر تھاجسے اس نے تحریک آزادی کشمیرکوکچلنے اورناکام بنانے کے لئے استعمال کیا ہے گویا اب بھارت کے ترکش میں کوئی ایسا تیر نہیں بچا جسے وہ کشمیریوں پرچلااورتحریک آزادی کودباسکے۔ یہ درست ہے کہ ظلم کے ان حربوں اورہتھکنڈوں سے اہل کشمیر کے سینے شق اورلہولہان ہیں لیکن ان کے حوصلے بلندہیں۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں جوکچھ ہورہا اوربھارتی نیتا ﺅں کے پاکستان کے بارے میں جو عزائم وارادے ہیں یہ حالات بھارتی جارحیت کے سامنے مضبوط بندباندھنے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے عملی اقدام کے متقاضی ہیں۔یہ بات معلو م ہے کہ کشمیرتقسیم ہندکانامکمل ایجنڈاہے ان حالات میں یہ کافی نہیں کہ ہم سال میں ایک باراظہاریکجہتی کرلیں اور اس کے بعد لمبی تان کرسوجائیں ۔پانچ فروری تجدید عہد کادن ہے ۔ اس بات کاعہد کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں،مظلوم ہیں ،پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں اور ان کی مددوحمایت کرنا ہمارافرض ہے۔

    پانچ فروری اظہار یکجہتی کا مقصدمظلوم کشمیریوں کی آواز اور پیغام کو دنیا تک پہنچانا ، بین الاقوامی سطح پرمسئلہ کشمیر کواجاگر کرنااوراہل کشمیرکویہ بتلانا مقصودہے کہ آزادی کے سفرمیں وہ تنہانہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے۔پانچ فروری اظہار یکجہتی میں ہمارے لئے یہ بھی پیغام ہے کہ مسئلہ کشمیر کسی فرد یاجماعت کانہیں بلکہ پوری قوم کااجتماعی مسئلہ ہے۔انگلی،بازو،ہاتھ،پاﺅں کٹ جائے توانسان زندہ رہ سکتاہے لیکن شہ رگ کٹنے کے بعد روح اورجسم کارشتہ برقراررہنے کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ۔بانی پاکستان نے کہاتھا ”کشمیرہماری شہ رگ ہے“پھراس بیان کوحقیقت میں بدلنے کے لئے عملی قدم بھی اٹھایا تھا۔بعدازاں جب 1947میں جہادکشمیر شروع ہواتو پاکستانی قوم نے ایمانی جذبے کے ساتھ اس میں حصہ لیا تھا۔

    1947ءکی طرح آج بھی کشمیری مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور اپنے وطن میں ہونے کے باوجودہر قسم کی خوشی سے محروم قید بامشقت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔80لاکھ آبادی والے خطے میں 10لاکھ بھارتی فوجی دندنارہے ،کشمیریوں کا خون بہا رہے اوران کی لاشیں گرار ہے ہیں۔ ہردس کشمیریوں پرایک خونخوار فوجی بندوق تانے کھڑاہے۔ اتنی کم آبادی والے خطے میں اتنی بڑی تعدادمیں فوج کے تعینات ہونے کی دنیا میںکوئی مثال نہیں ملتی ہے۔

    آج مقبوضہ جموں کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ظالمانہ اقدام کوساڑھے پانچ سال ہوچلے ہیں ۔ جیساکہ یہ بات پہلے ذکر ہوچکی ہے کہ یہ اقدام بھارت کے ترکش کاآخری تیر ہے جووہ آزماچکااور چلاچکا ہے ۔ 5اگست2019ءکے اقدام کے بعد بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں کشمیرمیں جوظلم کیاوہ 1947ءکے بعد اب تک کے تمام مظالم پر حاوی اور بھاری ہے ۔ بھارتی فوجی بستیوں کا گھیراﺅ کرتے ، رگوں میں خون جمادینے والی یخ بستہ ہواﺅں ، برفباری میں بچوں،ب وڑھوں،خواتین اور بیماروں کو گھروںسے باہر کھلے آسمان تلے گھنٹوں کھڑارکھتے ہیں ۔

    ایک طرف برفانی موسم کی سختیاں ہیں تودوسری طرف بھارتی فوج کے مظالم ہیں۔بھارتی فوج کے ہاتھوں بستیاں، مکانات، باغات، دکانیں،تباہ اورنذرآتش ہونے کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگاراوربے گھر ہوچکے ہیں۔5اگست 2019 کے دنیا کے طویل ترین کرفیو کے نفاذ کے بعد کشمیری تاجروںکو اربوں روپے کانقصان ہواہے ۔نہایت ہی قابل احترام بزرگ سید علی گیلانی قید کی حالت میں وفات پاگئے جبکہ سید شبیرشاہ،میرواعظ عمر فاروق،مسرت عالم بٹ،یسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت حریت کانفرنس کی تقریباََ ساری قیادت اس وقت سے جیلوں میں قید ہے یاگھروں میںنظربندہے ان کومساجدمیں نماز جمعہ اداکرنے کی بھی اجازت نہیں ہے ۔
    جموں کی حالت وادی سے بھی بدتر ہے۔شیوسینا،بجرنگ دل،آرایس ایس،وی ایچ پی کے مسلح دستے جموں کی شاہراﺅں ،راجوری،بدرواہ،کشتواڑ اوردیگر علاقوں میں گشت کرتے اورمسلمانوں کی بستیوں پرحملے کرتے ہیں۔وہ بھارتی غیر ریاستی ہندو فوجی جنہوں نے کسی وقت ریاست جموں کشمیر میں خدمات انجام دی تھیں ۔۔۔ان کی نسلوں کوجموں میں لایا اورآبادکیا جارہا ہے۔ جب1990ءمیں تحریک شروع ہوئی تب ایک لاکھ پنڈت بھارت جابسے تھے اب ایک لاکھ کی بجائے نولاکھ پنڈتوں کی آباکاری کامنصوبہ ہے۔اس طریقے سے بھارتی حکمران اسرائیلی طرز پرجموں میں آبادی کاتناسب بدلنے اوراسے فوجی چھاﺅنی بنانے پرتلے بیٹھے ہیں۔

    جہاں تک مقبوضہ جموں کشمیرکے مسلمانوں کاتعلق ہے وہ نامساعد اورسخت ترین حالات میں بھی خوف زدہ اورپسپا ہونے کی بجائے آزادی کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہرقسم کی جانی ومالی قربانیاں دے رہے ہیں۔بھارتی فوج کے ظلم وستم کا کوئی بھی حربہ ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکاہے ۔ وہ آج بھی
    ”پاکستان سے رشتہ کیالاالہ الااللہ۔۔۔۔“
    کے نعرے لگاتے ہیں اور اس بات کا پختہ عزم وارادہ کئے ہوئے ہیں کہ آخری بھارتی فوجی کے انخلا اوروطن کی آزادی تک تحریک جاری رہے گی۔بھارتی فوج تمام تر مظالم کے باوجود آزادی کاجذبہ کچلنے میں ناکام ہے اس کاغصہ وہ سویلین کشمیریوں پر اتارتے ہیں ۔

    حقیقت یہ ہے کہ تحریک آزادی کشمیر فیصلہ کن موڑ پرپہنچ چکی ہے ۔۔۔۔ اب یا کبھی نہیں کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔بچوں ،بوڑھوں ،جوانوں،خواتین کے عزم وحوصلے بلند تر ہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ اہل کشمیر اپنا حق اداکررہے ہیں ۔اس لئے کہ ۔۔۔۔۔پاکستان توکشمیری بچوں ،جوانوں ،بزرگوں اور ماﺅں بہنوں کاجزوِ ایمان ہے پاکستان ان کے دلوں میں بستا ہے۔بھارت کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کادعوی کرتاہے ،کشمیری جب یہ دعوی سن کر پاکستان کی طرف امدادطلب نظروں سے دیکھتے ہیں تویہاں سے جواب ملتاہے ہم مجبورہیں،مصلحتوں اورمفادات کے اسیرہیںلہذاآپ اپنے مسائل خود حل کریں۔حالانکہ اس وقت سیاچن، سرکریک، زراعت، تجارت،معیشت، پانی،بجلی ، سکیورٹی ، سلامتی ، دہشت گردی اورملک کے استحکام سمیت جتنے مسائل درپیش ہیں ۔۔۔سب کاحل صرف اورصرف مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ مشروط ہے۔گویا ایک ہی بات ہے کہ اگر۔۔۔۔۔ مسئلہ کشمیر حل ہوجائے توہمارے تمام مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے۔یہ ایسی حقیقت ہے جسے75سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود ہم سمجھ نہ سکے جبکہ بھارتی حکمرانوں نے تقسیم ہندسے پہلے ہی اس حقیقت کوجان لیا تھا۔بھارتی پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ جس دن مسئلہ کشمیرحل ہوگیا پاکستان جغرافیائی اعتبار سے مکمل ہوجائے گا۔بات صرف جغرافیائی تکمیل کی نہیں اہل کشمیر کے ساتھ ہمارادین وایمان کارشتہ بھی ہے جوہم سے عملی مدد واقدام کامتقاضی ہے۔

    بھارت کے تمام سیاستدان، جماعتیں ،اخبارات ،چینلز کشمیریوں پرظلم ڈھانے اور اپنی پالیسیاں اہل کشمیر پالیسی مسلط کرنے کے بارے میں یکسوہیں۔ایسے میں ہمارافرض بھی ہے کہ ہم مظلوم کشمیری مسلمانوں کی مدد کے لئے یک دل ویک جان اوریک قدم ویک آوازہوجائیں۔ خاص کرایسے حالات میں کہ جب بھارت کے پاکستان کے بارے میں ارادے بالکل واضح ہیں۔

    بھارتی نیتا پوری ڈھٹائی وبے شرمی سے پاکستان میں کھلی اوراعلانیہ مداخلت کے مطالبے کررہے ہیں اوردوسری طرف دکھ یہ ہے کہ ہمارے حکمران کشمیرکی آزادی کے لئے عملی قدم اٹھاتے ہوئے ،شرماتے اورگھبراتے ہیں۔ ہم 1990ءسے پانچ فروری کادن اظہار یکجہتی کشمیرکے طور پر مناتے چلے آرہے ہیں لیکن مسئلہ کشمیرکے حل کے لئے آج تک ایک بھی عملی قدم نہیں اٹھاسکے ۔ جبکہ پانچ فروری کادن عملی اقدام کامقتاضی ہے ۔پانچ فروری کے دن میں ہمارے لئے پیغام ہے کہ ظلم وجبرسے قوموں کودبایا اورغلام نہیں بنایاجاسکتا۔ انگریز اورہندوتقسیم ہندکے خلاف،پاکستان کے قیام دشمن اورمسلمانوں کوغلام بناکررکھناچاہتے تھے لیکن پھرجو ہواوہ دنیا نے دیکھا انگریز اورہندودونوں ناکام ہوئے ،ہندوستان تقسیم ہوااورپاکستان قائم ہوا۔ ایسے ہی ہماراایمان ہے کہ ان شاءاللہ مقبوضہ جموں کشمیر بھی بھارتی تسلط سے آزادہوگا۔ لہذا ضروری ہے کہ ہمارے حکمران اسے نتیجہ خیز بنانے کے لئے عملی قدم اٹھائیں۔بھارت کے ساتھ تعلقات،ترجیحات اورمذاکرات میں مسئلہ کشمیر سرفہرست رکھیں،دنیا کے تمام ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کئے جائیں،مظفرآباد کوصحیح معنوں میں بیس کیمپ بنائیں اورسلامتی کونسل کی قراردادوں کوبنیادبناتے ہوئے عالمی عدالت انصاف سمیت تمام بین الاقوامی فورمز سے رجوع کریں۔

  • سیاست میں جھوٹ کی فیکٹریاں، کوئی پوچھنے والا نہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاست میں جھوٹ کی فیکٹریاں، کوئی پوچھنے والا نہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قصہ مختصر ،8 فروری کو الیکشن کے بعد ہمیں وہ صدر اور وزیراعظم ملے گا جس کے ہم مستحق ہیں،بلاشبہ لفظ جمہوریت ایک عمدہ لفظ ہے لیکن ہمارے سیاستدانوں سیاسی قائدین نے اس لفظ جمہوریت کو بے کار بنا دیا ہے امریکہ میں صدارتی امیدوار ٹرمپ اور بائیڈن ایک دوسرے کو بوڑھا قرار دے رہے ہیں اب ان دونوں میں نوجوان کون ہے اس کا فیصلہ امریکی عوام کریں گے،تاہم ہمارے ملک میں آئین، جمہوریت، قانون کو ہمارے سیاستدانوں نے مذاق بنا کر رکھ دیا ہے جیسے پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں عوام سے ایک مذاق کیا تھا آج پھر الیکشن کا اور ووٹ لینے کا وقت قریب ہے پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چل کر عوام کو گھر دینے کا وعدہ کر رہی ہے عوام سن رہے ہیں کوئی پیپلزپارٹی سے سوال کرے وہ کون سے وسائل ہیں جو بروئے کار لاکر ان سہولیات سے عوام کو فیض یاب کریں گے، تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ مگر کیسے؟

    ہماری سیاست میں جھوٹ، افواہ سازی ایک فیکٹری کی حیثیت رکھتی ہے،مہنگائی، بیروزگاری کے عذاب میں مبتلا عوام کو جھوٹے وعدوں پر اپنا گرویدہ بنا کر انہیں خط غربت سے نیچے گرانا سیاست نہیں انتقام ہے،سیاستدانوں کی اکثریت نے اور کچھ موقع پرستوں نے پاک افواج کو اور جملہ اداروں کو بدنام کیا جسے کسی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا،یہ کہاں کی عقلمندی ہے کون سی سیاست ہے ملکی دفاع پر مامور افواج اور جملہ اداروں کو بدنام کیا جائے کیا کبھی کسی نے سوچنے کی زحمت گواراکی کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقاءحاصل ہے اداروں کو بدنام کرنا ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے،ان اداروں کی ایک اہمیت ہے 8 فروری کوعوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ووٹ ڈالتے وقت غور کریں کس سیاسی جماعت نے کیا وعدے کئے اور کتنے وعدوں پر عمل کیا؟ اور آج ہم کس مقام پر کھڑے ہیں، پارلیمنٹ ہائوس میں جانے والے راستوں پر کس سیاسی جماعت کو اکثریت سے کامیاب کرنا ہے۔

  • آنیوالی حکومت کے لیے چیلنجز، تجزیہ، شہزاد قریشی

    آنیوالی حکومت کے لیے چیلنجز، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے 8 فروری کے انتخابات کے بعد آنے والی حکومت کو بہت سی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی تبدیلی جس سے پاکستان اور عوام ، خوشحالی کی زندگی گزار سکیں۔ پاکستان کو کسی ایسے وزیراعظم کی ضرورت نہیں جو اقتدار او اختیارات کے خود بھی مزے لوٹے اور کابینہ کے ارکان بھی عیاشیاں کریں۔ اور عوام اندھیروں میں زندگی گزارے سب سے پہلا کام معیشت کو مستحکم کرکے ، بجلی اورگیس کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے ۔ بے روزگاری اور مہنگائی پر توجہ دے۔ ملکی وسائل پر توجہ دے کر ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں سے نجات دلائے ۔ خارجہ پالیسی پر از سر نو توجہ دے ۔ سیاستدانوں کو سڑکوں کی سیاحت سے نکل کر ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔دھرنا ہو گا مرنا ہوگا کی سیاست کو دفن کرنا ہو گا۔ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کو دفن کرنا ہو گا۔ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست سے عوام بیزار ہو چکی ہے ۔

    دنیا میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں ۔ نئی پالیسیاں سامنے آرہی ہیں۔ سیاستدان ایک ذمہ دار قوم کا اور سیاستدان کا ثبوت دیں۔ صدق دل سے اس ملک و قوم کے لئے اپنے آپ کو تبدیل کریں۔ آج سے 40,30 سال بعد اس ملک کو چلانے کی ذمہ داری نوجوانوں پر ہوگی۔ پڑھے لکھے نوجوانوں پر خصوصی توجہ د یں انہیں کا ہل اورناکارہ نہ بنائیں نوجوانوں کو نااُمیدی کی غار میں دھکیل دیا گیا ہے نوجوان بھی اپنے آپ کو اس ملک کے لئے کسی کے پروپیگنڈے میں نہ آئیں وطن عزیز کو آپ پر ناز ہے وطن عزیز کا آپ مستقبل ہیں۔آنے والی حکومت سے گذارش ہے کہ آپ کی ترجیحات ہیں ۔ ملک کے نوجوان سر فہرست ہونے چاہئیں ان کے لئے روزگار کے لئے اچھی جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم کے مواقع فراہم ہونے چاہئیں۔ سیاسی گلیاروں میں ایسے ایسے منظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جن کا تصور ممکن نہ تھا۔

  • کرپٹ افسران کے اثاثے کیسے بڑھے، تحقیقات ضروری، تجزیہ: شہزاد قریشی

    کرپٹ افسران کے اثاثے کیسے بڑھے، تحقیقات ضروری، تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں پاک فوج کی کاوشیں اور پاک فوج کے جملہ اداروں کی کاوشوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جبکہ پولیس کی قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور میں تین دن رہنے کے بعد پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ۔ آئی جی پنجاب کی محکمانہ فلاح و بہبود سمیت لاہور کو جرائم پیشہ افراد سے محفوظ بنانے کی کاوش پر آئی جی پنجاب کی اور ان کی ٹیم کے کرداروں کو بالخصوص ڈی آئی جی احسن یونس جو سیف سٹی کے انچارج ہیں، لاہور کو محفوظ بنانے میں ان کے کردار کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ نگران وزیراعلیٰ کے جاری منصوبوں جو عوامی فلاح کے ہیں امید ہے الیکشن کے بعد کامیاب ہونے والی سیاسی جماعت جاری رکھے گی۔ سیف سٹی کا دائرہ کار پنجاب کے بڑے بڑے شہروں میں بڑھایا جا رہا ہے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کی جائے گی۔ پنجاب سمیت راولپنڈی میں تعینات قابل محنتی افسران تعینات ہیں لیکن کچھ افسران ایسے بھی تعینات ہیں جو نگران وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب کے لئے سوالیہ نشان ہیں.

    راولپنڈی میں تعینات سی پی او کی محنت ،تگ و دو کی وجہ سے اغواء برتاوان گاڑیوں کی چوریوں میں کمی واقع ہوئی لیکن کچھ ڈی ایس پی اور ایس پی کے عہدوں پر تعینات ایسے افسران ہیں جو اعلیٰ پولیس افسران کے لئے بدنامی کا باعث ہیں سیاستدانوں کے اثاثوں کی تحقیقات تو ہوتی ہیں اگر پنجاب سمیت راولپنڈی میں تعینات پولیس افسران کے اثاثوں کی تحقیقات ہوں تو عوام کو معلوم ہوگا کہ ان کے بھرتی کے وقت کیا اثاثے تھے آج بڑے بڑے فارم ہائوسز کے مالک کیسے بن گئے۔ لینڈ مافیاز، ڈرگز مافیا، سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والے افراد سے یارانے، بڑے بڑے جوئے کے اڈے چلانے والوں سے ماہانہ بھتہ، ڈی جی نیب کو سیاستدانوں کے علاوہ ان افسران کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل دینا ہوگی۔

    بلاشبہ آنے والی حکومت اگر ایمانداری سے ملک چلانا چاہتی ہے تو اسے وطن عزیز اور عام آدمی کو ان مافیاز سے محفوظ بنانا ہوگا۔ ملکی وسائل پر توجہ کی ضرورت ہے۔ حسد اور لالچ سے پاک سول بیورو کریسی افسران اور پولیس افسران کو تعینات کرنا ہوگا سچ پوچھئے تو پاکستان بطور ریاست کرپٹ ترین سیاستدانوں، کرپٹ ترین پولیس افسران سول انتظامیہ، قصیدے لکھنے ، بولنے والے دانشوروں سے تنگ آچکی یہ خدا کی زمین پر اور پاکستان پر بوجھ ہیں ان کو اتار پھینکیں۔

  • محمد الرسول اللہ ﷺ ،غیر مسلموں کی نظر میں ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    محمد الرسول اللہ ﷺ ،غیر مسلموں کی نظر میں ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    محمد الرسول اللہ ﷺ ۔۔۔۔تاریخ عالم کی ۔۔۔۔۔وہ باکمال اور لاجواب ہستی ہیں جن کی تعریف وتوصیف صرف زمین والے ہی نہیں آسمان والے بھی کرتے ہیں، مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی کرتے ہیں ۔ اسلئے کہ نبی ﷺ خالق کائنات کا انتخاب ہیں اور انتخاب ِ لاجواب ہیں ۔سمندروں کی سیاہیاں ختم ہوسکتی ہیں ، قلم ٹوٹ سکتے ہیں اور الفاظ ختم ہوسکتے ہیں لیکن نبیﷺ کی شان ، مقام اور احترام کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ ہمارے نبی ﷺ کا مقام واحترام تو وہ ہے کہ جہاں مسلم ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہیں ۔ کفارِ مکہ سے لے کر آج تک بے شمار غیر مسلموں نے بھی اپنے اپنے انداز میں نبی ﷺ کی صداقت ، دیانت ، شرافت ، عظمت ، شجاعت اور سخاوت کو تسلیم کیا ہے۔ ایک غیر مسلم نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ” فقط مسلم کا محمد ﷺ پہ اجارہ تو نہیں “ ۔مطلب یہ ہے محمد ﷺ صرف مسلمانوں کے ہی نہیں تمام انسانوں کے ہیں اسی لئے تو قرآن مجید میں رسالت ماٰب ﷺ کو رحمة العالمین کہا گیا ہے ۔ بارگاہ ِ نبوت میں گلہائے عقیدت پیش کرنے کا جو سلسلہ کوہ فاران سے شروع ہوا تھا وہ آج تک جاری ہے اور قیامت کی دیواروں تک جاری رہے گا ۔ اسے کہتے ہیں ” فضلیت ، عظمت اور بڑائی وہ ہے جسے دشمن بھی تسلیم کریں “ ۔
    ہر دور میں اور چہار وانگ عالم میں بڑے بڑے محقق اور مفکرین اپنی تحریروں میں سرورِ کائنات ﷺ کو گلہائے عقیدت پیش کرتے رہے ہیں۔۔۔۔۔ ان میں سے کچھ تروتازہ اور ایمان افروز پھول نذر قارئین ہیں مقصد یہ ہے کہ ہمارے ایمان ، محبت اور عقیدت میں اضافہ ہو ۔

    اپنے وقت کا عظیم جرنیل اور مدبر نپولین بوناپارٹ نبی ﷺ کی بارگاہ میں ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتا ہے”محمدﷺ سالارِ اعظم اور محبت ِ فاتح ِ عالم تھے۔ آ پ ﷺ نے اہلِ عرب کو محبت اور اتحاد کا درس دیا ، بکھرے ہوﺅں کو جوڑا ۔ ان کے آ پس کے تنازعات ، اختلافات اور مناقشات اس طرح سے ختم کیے کہ تھوڑی ہی مدت میں آ پ ﷺ کی امت نے نصف دنیا کو فتح کر لیا۔جب نبی ﷺ دنیا میں تشریف لائے اس وقت عرب خانہ جنگی میں مبتلا تھے اور یہ خانہ جنگی سینکڑوں سال سے چلی آرہی تھی ۔ دنیا کی اسٹیج پر دیگر قوموں نے جو عظمت و شہرت حاصل کی اہل ِ عرب نے بھی اسی طرح ابتلاءو مصائب کے دور سے گزر کر عظمت حاصل کی، اپنی روح اور نفس کو تمام آلائشوں سے پاک کر کے تقدس و پاکیزگی کا جوہر حاصل کیا اور دنیا کو اتحاد واتفاق کا درس دیا “ ۔یورپ کا مشہور عالم فلسفی ، ریاضی دان ، معلم ، مترجم ، مورخ تھامس کارلائل نبی ﷺ کی صداقت وعظمت کا اظہار ان الفاظ میں کرتا ہے۔”صحرائے عرب کی یہ عظیم شخصیت جنہیں دنیا ”محمد“ کے نام سے جانتی ہے پاکیزہ روح، شفاف قلب و بلند نظری اور مقدس خیالات رکھتا تھا۔ جن کو خدا ہی نے حق و صداقت کی اشاعت کے لیے پیدا کیا“ ۔موھن چند کرم داس گاندھی کہتے ہیں”نبی ﷺ وہ ہستی ہیں جنھوں نے تمام دنیا سے خراج تحسین وصول کیا ہے ۔ جب مغرب پر تاریکی اور جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں اس وقت مشرق سے ایک ستارہ نمودار ہوا۔ ایک روشن ستارہ جس کی روشنی سے ظلمت کدے منور ہو گئے۔ اسلام دین باطل نہیں ہے، ہندوﺅں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی میری طرح اس کی تعظیم کرنا سیکھ جائیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام نے بزورِ شمشیر سرفرازی اور سربلندی حاصل نہیں کی بلکہ اس کی بنیادنبی کا خلوص، وعدوں کا پاس، غلاموں ، دوستوں اور احباب سے یکساں محبت ہے ۔ آ پ ﷺ کی جرات و بے خوفی ، اللہ اور خود پر یقین جیسے اوصاف ِ حمیدہ دنیا کو گرویدہ کرلیا ۔ لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ اس کی فتوحات میں یہی اوصاف حمیدہ شامل ہیں اور یہی وہ اوصاف ہیں جن کی مدد سے مسلمان تمام پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود پیش قدمی کرتے چلے گئے“۔عالمی شہرت یافتہ روسی ادیب کاﺅنٹ لیوٹالسٹائی کہتا ہے”محمد ﷺ عظیم الشان مصلح ہیں، جنہوں نے اتحاد امت کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ ان کے فخر کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے وحشی انسانوں کو نورِ حق کی جانب ہدایت کی اور ان کو اتحاد، صلح پسندی اور پرہیز گاری کی زندگی بسر کرنے والا بنا دیا اور ان کے لیے ترقی و تہذیب کے راستے کھول دیئے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا بڑا کام صرف ایک فرد واحد کی ذات سے ظہور پذیر ہوا“مشہور مستشرق سر ولیم میور اپنی کتاب لائف آ ف محمد ﷺ میں لکھتے ہیں ”ہمیں بلا تکلف اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ تعلیم نبوی ﷺ نے ان تاریک توہمات کو ہمیشہ کے لیے جزیرہ نمائے عرب سے باہر نکال دیا جو صدیوں سے اس ملک پر چھائے ہوئے تھے، ب±ت پرستی نابود ہو گئی، توحید اوراللہ کی بے پناہ رحمت کا تصور محمد ﷺ کے متبعین کے دلوں میں جاگزیں ہو گیا ، معاشرتی اصلاحات کی گئیں ۔ ایمان کے دائرہ میں برادرانہ محبت، یتیموں کی پرورش، غلاموں سے احسان و مروت جیسے جوہر نمودار ہو گئے۔ امتناع شراب میں جو کامیابی اسلام نے حاصل کی کسی دوسرے مذہب کو نصیب نہیں ہوئی“۔بھارت کے بانی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کہتے ہیں”سچی توحید نے مسلمانوں کے اندر خوف ، جرات، بے باکی ، شجاعت و بسالت پیدا کر دی اور عزم و ارادوں میں اس درجہ پختگی پیدا کردی کہ پہاڑوں کو اپنی بلندی اور مضبوطی ان کے سامنے ہیچ نظر آنے لگی اور ان کے مقابل سمندروں کا جوش ٹھنڈا ہو گیا۔ توحید کی ایسی تعلیم آ پ ﷺ نے مسلمانوں کو دی کہ جس سے ہر قسم کے توہمات کی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں۔ ہر قسم کا خوف دلوں سے نکل گیا۔ یہ سب اس ہستی کے سبب تھا جس کو مسلمانوں نے نبی آخر الزماں کہا اور دوسروں نے اس کو بنی نوع انسان کا ایک عظیم رہنما جانا“۔مشہور فرانسیسی مورخ موسیو سیدیو نبی کریم ﷺ کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں”محمد ﷺ یوں تو محض امی تھے۔ مگر عقل و رائے میں یگانہ روزگار تھے۔ ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیشانی ملتے ۔ مساکین کو دوست رکھتے۔ کبھی فقیر کو فقر کے سبب حقیر نہ جانتے اور نہ کسی بادشاہ سے اس کی بادشاہی کے سبب سے خوف کھاتے تھے“۔

    بیسویں صدی کا مشہور مفکر اور دانشور جارج برناڈ شالکھتا ہے”میں نے رسول اکرم ﷺ کے دین کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ آ پ ﷺ عیسائیوں کے دشمن تھے۔ میں نے اس حیرت انگیز شخصیت کی سوانح مبارک کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ میری رائے میں نبی ﷺ نوع انسان کے محافظ تھے “۔مسٹر ایڈورڈ مونٹے کہتے ہیں”آ پ ﷺ نے سوسائٹی کے تزکیہ اور اعمال کی تطہیر کے لیے جو اسوہ حسنہ پیش کیا ہے وہ آپ کو انسانیت کا محسن اوّل قرار دیتا ہے“۔ڈاکٹر جی ویل نے حضور اکرم ﷺ کی ان الفاظ میں تعریف کی ہے ’ ’بے شک حضرت محمد ﷺ نے گمراہوں کے لیے ایک بہترین راہ ہدایت قائم کی اور یقینا آ پ ﷺ کی زندگی نہایت پاک صاف تھی۔ آ پ ﷺ کا لباس اور غذا بہت سادہ تھی۔ مزاج میں تمکنت نہ تھی یہاں تک کہ وہ اپنے متبعین کو تعظیم و تکریم کے رسمی آ داب سے بھی منع فرماتے تھے۔ اپنے غلام سے کبھی وہ خدمت نہ لی جس کو آپ خود کر سکتے تھے۔ بازار جا کر خود ضرورت کی چیزیں خریدتے، اپنے کپڑوں میں پیوند لگاتے، خود بکریوں کا دودھ دوہتے اور ہر وقت ہر شخص سے ملنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ بیماروں کی عیادت کرتے تھے ، ہر شخص سے مہربانی کا برتاﺅ فرماتے تھے۔ “اب تاریخ کے صفحات سے ایک اورگواہی ملاحظہ فرمائیں ۔ یہ مشہور امریکی تاریخ دان ، ماہر فلکیات ڈاکٹر مائیکل ایچ ہارٹ ہیں جو کہ مذہباََ یہودی ہیں اور دنیا بھر میں اپنی کتاب
    The 100 A Ranking Of The Most Influential Persons History
    ” تاریخ کی سو انتہائی متاثر کن شخصیات “ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب میں سو ایسی عظیم شخصیات کا تذکرہ کیا ہے جنھوں نے تاریخ عالم پر گہرے اور انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اس کتاب انھوں نے نبی ﷺ کا تذکرہ سب سے پہلے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ” میں نے اپنی کتاب میں ان سو آدمیوں کا تذکرہ کیا جنہوں نے تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں سب سے پہلے محمد ﷺ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے بعض لوگ حیران ہوں گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے ۔۔۔۔؟ ایسا کرنے کی میرے پاس ایک ٹھوس دلیل موجود ہے وہ یہ کہ کائنات میں جتنی بھی ہستیاں آئیں جب ہم ان کے حالات پڑھتے ہیں تو وہ ہمیں اپنے بچپن سے لڑکپن میں کسی نہ کسی استاد کے سامنے بیٹھے تعلیم پاتے نظر آ تے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان تمام ہستیوں نے پہلے مروجہ تعلیم حاصل کی پھر اس کو بنیاد بنا کر انہوں نے زندگیوں میں کچھ اچھے کام کر دکھائے لیکن دنیا میں فقط ایک ہستی ایسی نظر آ تی ہے کہ جس کی زندگی کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو پوری زندگی کسی کے سامنے شاگرد بن کر بیٹھی نظر نہیں آ تی۔ وہ ہستی ہیں محمدﷺ ۔ یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے دنیا سے علم نہیں پایا بلکہ دنیا کو ایسا علم دیا کہ اس جیسا علم نہ پہلے کسی نے دیا اور نہ بعد میں کوئی دے گا۔ لہٰذا اس بات پر میرے دل نے چاہا کہ جس شخصیت نے ایسی علمی خدمات سرانجام دی ہوں میں غیر مذہب کا آدمی ہونے کے باوجود ان کو تاریخ کی سب سے اعلیٰ شخصیات میں پہلا درجہ دینے پر خود کو مجبور پاتا ہوں۔ریمنڈ لیروگ نبی ﷺ کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتا ہے”نبی عربی ﷺ اس معاشرتی اور بین الاقوامی انقلاب کے بانی ہیں جس کا سراغ اس سے قبل تاریخ میں نہیں ملتا۔ انہوں نے ایک ایسی حکومت کی بنیاد رکھی جسے تمام کرہ ارض پر پھیلنا تھا اور جس میں سوائے عدل اور احسان کے اور کسی قانون کو نہیں ہونا تھا۔ ان کی تعلیم تمام انسانوں کی مساوات، باہمی تعاون اور عالمگیر اخوت تھی“۔

    غیر مسلم مورخین کے ان گلہائے عقیدت سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ رسالت ماٰ ب ﷺ کی محبت وعقیدت ان کے دلوں میں بھی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان بھی دل وجان سے رسول مقبول ﷺ کے اقوال ، افعال اور احوال کو حرز جان بنائیں اور ان پر عمل کریں اسی میں ہماری دین ودنیا کی کامیابی اور کامرانی ہے ۔

  • رام مندر کی تعمیر ۔۔۔سوگئی قوم مسلم کی تقدیر ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    رام مندر کی تعمیر ۔۔۔سوگئی قوم مسلم کی تقدیر ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی سوچ اور اپروچ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی علمی وجاہت اور ثقاہت سے انکار ممکن نہیں ۔ مولانا ابولکلام آزاد کی ایک مشہور تقریر کااقتباس ہے جس میں وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ” وہ ہمارے ہی آباءتھے جو سمندروں میں اتر گئے ، پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا ، بجلیاں آئیں تو ان پہ مسکرا دیے ، بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا ، صرصر اٹھی تو رخ پھیر دیا، ہوائیں چلیں تو کہا جاﺅ تمہارا راستہ یہ نہیں۔۔۔۔۔ آج ہمارے ایمان کی جان کنی کا یہ عالم ہے کہ بڑے بڑے شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آپس میں دست وبہ گریبان ہیں اور خدا سے اس درجہ غافل ہیں کہ جیسے کبھی اس پر ایمان نہ تھا ۔ یاد کرو ۔۔۔۔! وہ وقت جب تم ہندوسان میں آئے ، تب تم انگلیوں پر گنے جاتے تھے تم نے گنگا اور جمنا کے پانیوں سے وضو کرکے بتکدہ ہند میں نعرہ توحید بلند کیا تھا ۔ اس وقت تمہارے لئے نہ خوف تھا نہ ڈر تھا ۔“

    توحید کی برکت سے جس ہندوستان پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی تھی ۔۔۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسی ہندوستان کی سرزمین مسلمانوں کےلئے اجنبی ہوچکی ہے ۔ اس ہندوستان میں مسلمانوں کی عزتیں محفوظ رہیں ، نہ مسجدیں اور نہ جان ومال ۔ جس کی تازہ مثال بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ہے ۔ بابری مسجد نہ تو اچانک شہید کی گئی تھی اور نہ ہی اس جگہ راتوں رات رام مندر تعمیر ہوا ہے بلکہ سالہاسال میں یہ دونوں پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں ۔ بابری مسجد جب شہید کی گئی اس وقت بھارت کے مسلمانوں نے مقدور بہ احتجاج کیا اگرچہ اس احتجاج کی انھیں بھاری جانی مالی قیمت ادا کرنا پڑی لیکن اب جبکہ نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی پہلی منزل کا افتتاح کیا ہے تو چہار سو سناٹا ہے ۔پاکستان جو بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کا وکیل تھا اس پاکستان کے حکمرانوں نے رام مندر کی تعمیر کو ایک اخباری بیان پر ٹرخا دیا ہے ۔ جہاں تک بھارت کے مسلمانوں کا تعلق ہے ۔۔۔وہ بیچارے کریں تو کیا کریں۔۔۔۔ جائیں تو کہاں جائیں ۔ جس پاکستان کے قیام کےلئے انھوں نے جانی مالی قربانیاں دی تھیں ۔۔۔۔اس پاکستان نے ان سے آنکھیں پھیر لی ہیں ۔ اب تو یوں لگتا ہے جیسے بھارتی مسلمانوں میں احتجاج کی سکت بھی نہیں رہی ۔ یہ سب اسلئے ہورہا ہے کہ پاکستان بھارت میں رہ جانے والے اپنے مسلمان بھائیوں کو بھول چکا ہے۔پاکستان کے قیام کےلئے سب سے زیادہ قربانیاں ان علاقوں کے مسلمانوں نے دی تھیں جہاں وہ خود اقلیت میں تھے اور ہندو اکثریت میں تھے ۔ اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے پاکستان کےلئے سب کچھ قربان کرنے کا نہ صرف عہد کیا بلکہ یہ عہد ایفا بھی کردیا تو وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں تھے انھوں نے کہا تھا ہمارے بھائیو۔۔۔۔! پاکستان بن جانے کے بعد ہم تمہیں بھولیں گے نہیں ۔

    23مارچ 1940ءکو جب لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا تو اس میں ہندوستان بھر کے مسلمانوں نے شرکت کی تھی ۔ اس اجلاس میں جب وہ قراداد پیش کی گئی جو تاریخ میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی تو اس کے بعد مسلمانوں کی خوشی کا دیدنی عالم تھا ۔ تب میرٹھ سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندے سید رﺅف شاہ نے مسلم اکثریتی صوبوں سے آئے ہوئے وفود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا”جان سے عزیز بھائیو!جب آپ آزاد اور خود مختار ہوجائیں گے تو بھارت کے ہندو ہمیں نیست ونابود کر دیں گے۔ ہمیں پاکستان کے ساتھ محبت کی سزا دی جائے گی ،ہمیں شودروں کی طرح زندگی بسر کرنا ہوگی،اس کے باوجود ہم خوش ہوں گے کہ کم از کم آپ تو آزاد فضا میں سانس لیں گے۔جب آپ آزاد ہو جائیں اور آزاد مملکت میں زندگی بسر کرنے لگیں تو کبھی کبھی ہمارے لئے بھی دعائے مغفرت کر لیا کرنا۔“سید رﺅف شاہ اپنی ساری تقریر کے دوران روتے رہے ،ہزاروں شرکائے اجلاس کوبھی رولادیا ۔ آخر میں کہنے لگے”بھائیومیرے آنسو اس لئے نہیں کہ ہندو ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے،ہمیں چیریں پھاڑیں گے بلکہ یہ تو خوشی کے آنسو ہیں کہ آپ ایک ایسے ملک میں زندگی بسر کریں گے جو آزاد ہو گا اور جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر ہو گی۔“سید رﺅف شاہ نے جب یہ بات کہی تو مجمع پر عجب کیفیت طاری ہو گئی،آنسو بے قابو ہو گئے ، ضبط کے بند ھن ٹوٹ گئے اور ہچکیاں بندھ گئیں۔تب حاضرینِ اجلاس میں سے بعض اٹھے اور کہاپاکستان صرف ہمارا ہی نہیں آپ کابھی ہو گا ،یہ اسلام اور قرآن کا ملک ہو گا۔ ہم بھارت میں رہ جانے والے اپنے بھائیوں کوبھولیں گے اور نہ بے یارومددگا ر چھوڑ یں گے۔آپ کا تحفظ اور مدد ہمارا اولین فرض ہو گا۔بھارت میں رہ جانے والے مسلمان سمجھتے تھے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہوگا ان کی عزت وعصمت کا محافظ ونگہبان ہوگا ۔ پاکستان سے پھر محمد بن قاسم اور محمود غزنوی جیسے مجاہد پیدا ہوں گے جو ان کی ماﺅں بہنوں ، بیٹیوں اور مسجدوں کی حفاظت کریں گے ۔ان کی طرف بڑھنے والے ہندﺅوں کے ہاتھ کاٹیں گے ۔

    یہ تھے 23مارچ1947ءکے موقع پر مسلمانوں کے احساسات اور جذبات ۔افسوس صد افسوس آج ہم یہ سب کچھ بھول گئے ۔ بابری مسجد شہید کر دی گئی ہماری غیرت ایمانی نہ جاگی ۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر ہوگیا ۔۔۔۔۔تب بھی ہمارے حکمران ، سیاستدان ،تمام مذہبی سیاسی جماعتیں اور میڈیا خاموش تماشائی بنے رہے ۔

    بابری مسجد۔۔۔۔ جو کعبہ کی بیٹی تھی ،عالی شان تھی اس کانام ونشان بھی مٹادیا گیا ۔بابری مسجد کو شہید لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے ، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں یہ سوچ کر کہ جب گاﺅ ماتا اور بتوں کے پجاری اس کے گنبدوں پر چڑھے ، ان پر کدالیں چلانا شروع کیں تو کعبے کی بیٹی چلاتی رہی کہ محمود غزنوی کے فرزند کدھر ہیں ؟ ظہیر الدین بابر کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں کیوں خاموش ہیں ؟ ۔۔۔۔ کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے ، کون ہے جو مجھے گاﺅ ماتا کے پجاریوں سے بچائے ۔

    بابری مسجد کو بچانے پاکستان پہنچا نہ کوئی دوسرا مسلمان ملک ۔ مسجد کو بچانے کےلئے صدائے احتجاج بھارت کے مسلمانوں نے ہی بلند کی جس کی انھیں بھاری جانی مالی قیمت چکانا پڑی ۔ اس کے بعد مسلمان سپریم کورٹ پہنچے ان کا خیال تھا کہ شائد سے انھیں یہاں سے انصاف ملے گا ، وہ سمجھتے تھے کہ یہ عدلیہ کا سب سے اعلیٰ ادارہ ہے جہاں انصاف کا ترازو تھامے منصف بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ عدلیہ میں بیٹھے جج بھی ہندو پہلے اور جج بعد میں ہیں ۔یہی وجہ تھی کہ جس طرح بابری مسجد کی شہادت کے وقت جنونی ہندﺅوں نے مسلمانوں کا خون بہایا ایسے ہی بھارتی عدلیہ نے بھی انصاف کا قتل عام کیا ۔ سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی پٹیشن کے جواب میں جو فیصلہ سنایا وہ بھی دنیا کی تاریخ کا انوکھا فیصلہ تھا ججوں نے اپنے فیصلے میں لکھا اگرچہ ہمیں کسی مندر کے آثار نہیں ملے تاہم جھگڑا نمٹانے کےلئے ضروری ہے کہ یہاں مندر بنادیا جائے ۔ بہر حال مندر بن گیا اس کا افتتاح بھی ہوگیا ۔ حقیقت میں دیکھاجائے تو یہ مندر زمین پر نہیں مسلمانوں کی غیرت ایمانی سے تہی لاشوں پر بنا ہے ۔ جب غیرت مر جائے اور ایمان مردہ ہوجائیں تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے ۔ اب بھی وقت ہے مسلمان سنبھل جائیں ، پاکستان کے حکمران ،سیاستدان ، جرنیل اپنی ذمہ داری کو سمجھیں نفرت اور انتقام کی جس آگ میں ہمارے ہندوستانی مسلمان جل رہے ہیں اسے بجھائیں ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ جب یہ آگ ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔

  • کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو اپنے دور کے صاحب طرز ادیب عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنی پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔

    hussain saqib

  • مسنگ پرسن اور واویلا،سب بے نقاب ہو گیا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسنگ پرسن اور واویلا،سب بے نقاب ہو گیا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    پاکستان کی 25 کروڑ عوام کو ایران سے یہ توقع نہیں تھی جو ایران نے کیا ۔ ایک طرف بھارت دوسری طرف احسان فراموش افغانستان، مسلح چھیڑ چھاڑ اس ماحول میں اب پاکستان کو بطور اسلامی ایٹمی پاور ریاست دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا ،پاک فوج کا اس موقع پر کردار قابل تحسین ہے ۔ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے ۔مسنگ پرسن کو لے کر جو واویلا کیا جا رہا تھا اور پاک فوج اور جملہ اداروں پر الزامات لگائے جا رہے تھے وہ بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ۔ افسوس یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت پر مامور افواج اور جملہ اداروں کو ناحق تنقید کا نشانہ بنا کر اپنی سرزمین کے دشمنوں کو موقع فراہم کررہے ہیں۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو اب مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔

    اب اس جنگی ماحول میں انتخابات کیسے ہوں گے یہ ایک سوال ہے ،فوج پرائمری سکولوں میں انتخابات کی ڈیوٹی دے یا سرحدوں کی حفاظت کرے ۔ ؟ سیاسی جماعتوں کے قائدین آہستہ آہستہ انتخابی ماحول بنا رہے ہیں ۔ میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز نے جلسوں کا آغاز خود کردیا ہے مسلم لیگی رہنما اور نواز شریف کے قریبی ساتھی پرویز رشید نے بتایا کہ مزید جلسوں میں میاں نواز شریف خود شرکت کریں گے جبکہ بلاول بھٹو ، امیر جماعت اسلامی اور دیگر بھی جلسے کر رہے ہیں۔ تاہم یہ خبر نگران حکومت میں ملی ہے کہ آئی ایم ایف نے 70 کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان کو دی ہے جبکہ یو اے ای نے قرض رول اوور کردیا ۔ اس وقت مہنگائی کو لے کر عام آدمی کی حالت قابل رحم ہے ۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بھاری بلوں نے عام آدمی کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین لیا ہے ۔ اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔یہ عام آدمی وہ ہیں جو ملک کے حالات سے باخبر ہیں اور وطن عزیز کے ساتھ مخلص بھی ہیں اس وقت بُر ے حالات سے گزر رہے ہیں۔ ملک میں عد ل و انصاف قائم ہونا چاہیئے ۔ انصاف کا حصول ہر شہری کو بلا تفریق ہونا چاہیئے ۔

    ملکی سیاست میں دو سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں ایک جماعت نواز شریف کو لاڈلہ قرار دے رہی ہے یعنی عمران خان اور اُن کی جماعت ۔ کیا عمران نے جنرل مشرف( مرحوم) سے 70 سیٹیں نہیں مانگی تھی؟ کیا عمران خان کو جنرل ضیاء الحق نے بیٹا نہیں کہا تھا؟ کیا لاڈلہ بننے کی کوشش نہیں کی ؟ ۔ آپ کے 2018 ء میں ملاح کون تھے؟ جس کشتی میں سوار ہو کر وزارت عظمیٰ تک پہنچے ۔ اُس کشتی کے ملاح کون تھے ؟ بلاشبہ پی ٹی آئی مقبول جماعت اس پورے ملک میں مگر دوسروں پر الزام تراشی درست نہیں ، نواز شریف کو جواب میں بقول شاعر جواب دینا چاہیئے
    سورج کو لگے دھبہ قدرت کے کرشمے ہیں
    بت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے