Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک کے موجودہ اور مستقبل کے ظل سبحانیاں آٹے کی لائنوں میں لگی یہ قوم کی دست بستہ درخواست کرتی ہے کہ جو ناکردہ گناہ اس قوم نہ کر لئے ان پر اس قوم کو معاف کردیں۔ٹوپی ڈرامے ختم کرکے تباہ حال اور مجبور قوم کا مزید امتحان نہ لیں۔ ان سے روز گارتم نے چھینا ،رو مرہ کی ضروریات زندگی سے کوسوں دور کردیا ۔ بجلی گیس تم نے چھین لی۔ لے دے کے ان کے پاس جان تھی اب وہ لے رہے ہو۔ شاہی دستر خوانوں کو لپیٹ کر خوشنما نعرے دینے کی بجائے ان کے مسائل کا حل پیش کریں۔ ملک کے وقاراس کی عزت ملکی اداروں کی عزت کو بھی اب اُچھال رہے ہو ۔ قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ پر چڑھ دوڑے ہو ۔ پاکستان اور اس کی عوام سے آپ سب کس دشمنی کا بدلہ چکا رہے ہو۔

    پاکستان آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے اس کو مزید کس مقام پر لے جا کر چھوڑنا چاہتے ہو؟ آئین اور جمہوریت کے ساتھ مذاق کرنے کی بجائے جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ۔ باری کے چکر میں ملک کو تباہی میں نہ جھونکا جائے۔ جمہوری اداروں کو بچانے ملک کی بقا اور سالمیت کی فکر کرنے، عوام کی زندگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ بھٹو خاندان کی سیاسی تاریخ خون سے رنگین ہے ملک کی ترقی ،بقا اور استحکام و سالمیت کے لئے اس خاندان نے جتنی قربانیاں دی ہیں تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی افسوس آج کی پیپلزپارٹی کے سامنے آئین کی خلاف ورزی کی باتیں سینہ تان کر جا رہی ہیں چند ایک کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی آئین شکن کی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے ۔ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا خاکی وجود ہی نہیں جمہوریت کے لیے طویل سیاسی جدوجہد سے عبارت ایک سیاسی عہد کو بھی دفن کیا جا رہا ہے۔پیپلزپارٹی کی آج کی سیاست لمحہ فکریہ ہے ۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ موجودہ پیپلزپارٹی کی قیادت کے سامنے آئین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے۔ عدلیہ کی اصل مدد میڈیا اور عوام ہیں۔ سیاسی جماعتیں پہلے فوج پر حملہ آور ہوئیں سلیکٹڈ اور امپورٹڈ کا مطلب کیا تھا؟ دونوں طرف سے فوج پر حملہ ، اور اب عدلیہ پر حملہ ہو رہاہے یاد رکھیے اس ملک کی بقا و سلامتی کے لئے آئین اور انصاف کے مسئلے پر عوام ، میڈیا اور فوج عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ اس سلسلے میں کسی بھی سیاسی قوت کی پروا نہیں کی جائے گی۔

  • رمضان اور یوم پاکستان ،تحریر:محمد نعیم شہزاد

    اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور احسان ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کی مبارک ساعتيں ایک بار پھر میسر ہیں۔ یوم پاکستان اور پہلا روزہ دونوں خوشیاں اکٹھی نصیب ہوئیں مگر فی زمانہ میری ارض پاک، ملک پاکستان کچھ مختلف حالات سے دوچار ہے۔ جہاں ایک طرف اقتصادی طور پر ملک قرضوں کے بوجھ تلے ڈوبا ہے تو دوسری طرف اندرونی خلفشار اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے میرے وطن میں اچھے حکمرانوں کا فقدان رہا ہے مگر اس بار خرابی حالات کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ عوام بھی ملکی سلامتی اور اجتماعی مفاد کو بھول کر ایک سیاسی راہنما کی فکر میں محو ہیں۔
    انسان فطری طور پر کمزور ہے اور خواہشات کا اسیر بن کر بہت سے غلط افعال کا مرتکب ہو جاتا ہے مگر کبھی کسی کی اس قدر مخالفت نہیں کرنی چاہیے کہ بات مخاصمت اور مجادلت تک بڑھ جائے۔ چار برس پہلے جب ایک منتخب وزیراعظم کی نااہلی عمل میں آئی اور ایک دوسری پارٹی کو برسر اقتدار آنے کا موقع ملا تو سب کچھ مبنی بر انصاف لگا اور ہر نااہلی عین قانونی اور آئینی معلوم ہوئی مگر جب اگلے چند برسوں کے بعد خود یہ منصب چھوڑنا پڑا تو سب غیر آئینی اور اداروں کی مداخلت نظر آنے لگا۔ وہ ادارے جن کے ساتھ یکجہتی دکھائی گئی انھیں مورد الزام ٹھہرا کر سب سیاہ و سفید کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ اپنے حق میں ہونے والی ہر بات کو حق اور اپنے خلاف ہونے والی بات کو باطل تسلیم کر لیا گیا۔ قرض تلے ڈوبی ہچکولے کھاتی معیشت کا مذاق اڑایا جانے لگا اور عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ نازیبا سلوک کو محض موجودہ حکومت کی نالائقی اور ناکامی قرار دیا گیا۔
    بحثیت ذمہ دار شہری ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ ملکی حالات کی نزاکت کا ادراک کرے اور اپنی سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وسیع تر قومی مفاد میں سوچے۔ الزامات کی سیاست کو پروان چڑھانے کی بجائے ہر سیاسی رہنما اور جماعت سے مطالبہ کرے کہ وہ قومی سلامتی اور ترقی کے لیے کام کرے۔ بے جا کسی رہنما یا جماعت کی حمایت نہ کی جائے اور ملک و قوم کو افراد اور جماعتوں سے بالاتر سمجھا جائے۔
    بحثیت مسلمان ہمیں خوب جان لینا چاہیے کہ اس جہان رنگ و بو میں صرف ایک ہی ہستی اقتدار اعلیٰ کی مالک ہے اور وہ سب سے قوی و عزیز تر ہے۔ آج ہی قرآن مجید کا مطالعہ کرتے درج ذیل آیت قرآنی نظر سے گزری تو فوراً ملکی حالات کی طرف خیال گیا۔ سورہ اعراف میں جہاں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے دربار میں موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں جادوگروں کی شکست اور رجوع الی اللہ کا بیان کیا اور فرعون کے اپنی طاقت کے نشے میں چور بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرنے اور خواتین کو زندہ چھوڑنے کا ذکر کیا اس سے متصل دنیا میں حکومت اور آخرت کے حسن انجام کا معاملہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ۔

    قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ (الاعراف ، ۱۲۸)

    موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اللہ سے مدد طلب کرو اور صبر کرو ۔بیشک زمین کا مالک اللہ ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔

    حاصلِ کلام یہ ہے کہ حکمرانی اور بادشاہت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے مگر حسن عاقبت تو صرف پرہیز گاروں کے لیے ہی ہے۔ تو ہم کیوں اس دنیا کی حکومت کے لیے ہر جائز ناجائز کام کر گزرنے کو تیار ہیں ۔ ہم عمل کے مکلف ہیں مگر اسلامی حدود میں رہتے ہوئے ۔ ہمیں ہر ایسے فعل و عمل سے ضرور بچنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ناپسندیدگی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس ماہ مبارک میں ہمارے ملک پر خصوصی فضل و کرم فرمائے اور ارض پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔

  • اب عدلیہ نشانہ کیوں؟ تجزیہ. شہزاد قریشی

    اب عدلیہ نشانہ کیوں؟ تجزیہ. شہزاد قریشی

    پاکستان بطور ریاست ہی نہیں جمہوریت، سیاستدان، عوام اور ملکی ادارے ایک بہت بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اگر کہلانے کا دعویدار ہے تو پھر دیکھنا ہوگا عدلیہ کا اسلام میں کیا مقام اور مرتبہ ہے اسلام کا بنیادی درس ہی برابری کا ہے اور اس سلسلے میں حضور نبی کریم ﷺ جن کی ہم امت ہیں کا آخری خطبہ ہم سب کے لئے کافی ہے۔ ہماری پارلیمنٹ جمہوری جدوجہد کے بعد وجود میں آئی ہے خدا نہ کرے اس پر دوبارہ کوئی آنچ آئے۔ تاریخ گواہ ہے ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے حق حکمرانی سے محروم ہو گئے۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک کامیابی کا راز بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں آزاد عدلیہ ، بدقسمتی سے وطن عزیز میں کوئی ایسا دور حکومت نہیں جس میں حکمران آزاد عدلیہ کے نعرے تو بلند کرتے نظر آتے ہیں لیکن ذاتی مفادات گروہی جنگ میں خود میں پڑنے والی ضرب کو روکنے کے لئے عدلیہ کا وقار مجروح کرتے ہیں۔ طاقت کے کھیل میں ملکی وقار اور عزت کو سب سے مل کر دائو پر لگا دیا ہے۔

    آج ایک طرف عدل و انصاف اور دوسری طرف من مانیوں کا راج ہے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی پاکستانی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی پر تنقید نہیں کر سکتا اگر وہ تنقید کرے تو قابل مواخذہ ہے اورعدلیہ کی تضحیک پر پارلیمانی رکنیت بھی معطل ہو سکتی ہے۔ سیاستدانوں نے فوجی آمروں کے خلاف عدالتوں کے دروازے پر دستک دی اور بحال بھی ہوئے۔ یقیناً نظریہ ضرورت دفن ہو چکا ہے۔ سب کو مل کر ملک کے مستقبل اور اس بے بس عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیاستدان کب سدھریں گے غلطی پر غلطی کرتے چلے آرہے ہیں عوام کی اکثریت ان کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے سیاستدانوں کی باہمی چپقلش اور غیر جمہوری حرکات آمریت کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔ وطن عزیز ایک انقلاب کی صورت میں معرض وجود میں آیا اور اس انقلاب کا جو مقصد تھا اس کا نفاذ تمام سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔

  • سیاسی دشمنی کا نشانہ بن رہی عوام، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی دشمنی کا نشانہ بن رہی عوام، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ایک ایسے وقت میں جب عوام کا ایک بڑا حصہ ناقابل تصور مہنگائی کا سامنا کررہاہے ۔ ملک کی سڑکوں پرمفت آٹا لینے کے لئے بزرگ لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ وطن عزیز کے شہریوں کو پولیس اٹھا کر جیلوں میں بند کر رہی ہے ۔ شہریوں کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو ، ہیں تو وہ پاکستانی شہری ، ان کا قصور یہ ہے کہ یہ ان سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں جن کے ووٹوں سے اقتدار اور اختیارات سیاستدانوں کو ملتے ہیں۔ دنیا کی شاید واحد قوم ہے جن کی ووٹوں سے اقتدار حاصل کرنے والے سیاستدان ان کے بنیادی مسائل حل کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان دلخراش حالات میں وزیر داخلہ نے پنجابی فلموں والا ڈائیلاگ بول کر ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز کردیا۔ کیا سیاسی گلیاروں میں پُتر شاہیا دا اور جگا ڈاکو فلموں والے ڈائیلاگ بولے جائیں گے؟ وزیر داخلہ کے بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) ذاتی دشمن بن گئے ہیں۔ کچھ اسی قسم کا رویہ عمران خان کا رہا ماضی میں وہ بھی پنجابی فلموں کے ڈائیلاگ کا سہارا لیتے رہے۔ آج کے سیاستدانوں پر حیرت ہے کہ سیاست کو ذاتی دشمنی میں بدل دیا۔ وطن عزیز میں جمہوریت مستحکم نہیں جمہوریت پر سوالیہ نشان بھی ہے اور زوال بھی ہے ۔ آئین اورقانون کی حکمرانی کا زوال ۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو کمزور کرنا ، اعلیٰ عدلیہ پر روز مرہ کے حملے ۔ سول انتظامیہ اورپولیس کا غلط استعمال جمہوری ڈھانچے کے منہدم ہونے کے واضع اشارے ہیں۔

    ذرا سوچئے اس وقت عالمی سطح پر وطن عزیز کا جو نقشہ پیش کیا جارہا ہے۔ دنیا میں پاکستان بطور ریاست کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کیا عالمی دنیا کے لیڈران آج کے پاکستان میں جاری جمہوریت پریقین کرلیں کہ ملک میں جمہوریت ہے۔ کیا شہباز شریف ، عمران خان اورپی ڈی ایم میں شامل جماعتیں عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار اور عزت میں اضافہ کررہی ہیں؟ جن حالات میں اس وقت وطن عزیز گزر رہا ہے اور عوام ،سیاسی گلیاروں میں لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ملکی سرحدیں پاک فوج نے مضبوط کردی ہیں ۔ ہمارے جوان وطن عزیز کو مستحکم کرنے کے لیے شہادتیں دے رہے ہیں تاہم ایک جمہوری حکومت کے لئے ایک ہوشیار ذہین اور چالاک حکمران کی ضرورت ہے جو ملک کے مسائل حل کرسکے۔

  • ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    جس ملک میں الیکشن کمیشن کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہو۔ پارلیمنٹ بے سود، الیکشن کمیشن مشکوک، سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، دہشت گرد، غیرملکی ایجنٹ قرار دینے میں ایڑھی چوٹی کا زولگاتے ہوں وہاں جمہوریت کیسی؟ پانامہ لیکس میں سینکڑوں شخصیات ملوث تھیں ۔ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص فرد واحد کو تاحیات نااہل کر دیا گیااور سزا سنا دی گئی۔ اب ملک کے ایک اور سابق وزیراعظم عمران خان کو غدار اور دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا پانامہ لیکس میں دوسرے افراد پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟ سیاستدان کب سمجھیں گے ؟-

    اس وقت مسئلہ جمہوری نظام کے مستقبل کا ہے۔ اس وقت کوئی ایسا سیاستدان نظر نہیں آرہا جو جمہوریت کا دفاع کرے ۔شہبازشریف جو اس وقت ملک کے وزیراعظم بھی ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر بھی ہیں نے نوازشریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دفن کر کے ایسے راستوں کا انتخاب کیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو عوام میں وہ پذیرائی نہیں مل رہی جو نوازشریف کے بیانیے کو مل رہی تھی۔ لاہور، پنجاب جو کسی زمانے میں بھٹو کا تھا پھر نوازشریف پنجاب میں سیاسی طاقت بن گئے اور اب عمران خان لاہور میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔

    روزانہ کی بنیاد پر پنجاب کے مختلف تھانوں میں غداری اور دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے سے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم سے الگ سیاست کر رہی ہے ۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ،ملک اس وقت انتہائی مشکل معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہے مہنگائی کا بے لگام گھوڑا عوام کی لاشوں کو بے دردی سے سڑکوں پر گھسیٹ رہا ہے ۔ایک طرف آٹے کی لائنوں میں لگے بے بس مرد و زن کی لاشیں گر رہی ہیں اور دوسری طرف سیاستدان انتقامی سیاست کی حدود کو کراس کر رہے ہیں۔

    یہ وطن کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے ۔عوام کے بنیادی اور ریاست کے مسائل کو حل کرنے میں عمران خان سمیت پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی اپنا کردار ادا کرے ۔کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی معاشی قاتلوں کے جال میں گھر چکا ہے اور ہمارے سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو غدار اور دہشت گرد قرار دینے کی فرصت ہی نہیں کہ وہ ملکی مفاد کے بارے میں بھی سوچیں۔

  • ہلاکو خان ،چنگیز خان کے راستے کا انتخاب غلط۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    ہلاکو خان ،چنگیز خان کے راستے کا انتخاب غلط۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    اس وقت ملک کی بائیس کروڑ عوام آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے رحم و کرم پر ہے اسے ہی جمہوریت کے ثمرات کہتے ہیں۔ سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور چنگیز خان کا مذہب ہے۔ دوسری طرف پی ڈی ایم جماعتوں نے عدلیہ کے کچھ ججوں کیخلاف طبل بھی بجا دیا ہے۔ عام آدمی حکومت کی جارحانہ حکمت عملی سے بے حد پریشان ہے۔ قوم مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہے حیرانگی کی بات ہے جمہوریت، قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ لگانے والے آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ آئین کو سیاسی گلیاروں میں گھر کی لونڈی سمجھ لیا ہے۔ سب جانتے ہوئے کہ آئین شکن کی آئین میں کیا سزا ہے ؟زیادہ عرصہ نہیں گزرا سابق چیف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف مرحوم کو انہی سیاستدانوں نے آئین شکنی پر آرٹیکل 6 لگا کر مقدمہ چلایا پھر انہیں اسی مقدمہ میں سزائے موت سنائی گئی۔ آج وہی سیاستدان آئین شکنی پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔ انہی سیاسی جماعتوں میں وہ سیاستدان موجود ہیں جنہوں نے جمہوریت کی خاطر آمریت کے دور میں جیلیں کاٹیں کوڑے کھائے بدترین تشدد کا بھی سامنا کیا سیاسی جماعتوں میں ایسے سیاستدانوں کی تعداد بہت کم رہ چکی ہے جو آئین اور قانون جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے سیاستدان دعویدار تو جمہوریت کے ہیں مگر غیر جمہوری اعمال میں مصروف ہیں

    حیرانگی عمران خان پر بھی ہے وہ ملک کے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی تاحیات نااہلی پر بھنگڑے ڈال رہے تھے اور آج اپنے اوپر بنائے سینکڑوں مقدمہ کا رونا رو رہے ہیں ایک دوسرے خلاف جنگ میں مصروف سیاستدانوں نے اس ملک اور عوام کو آج یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ لائنوں میں لگے آٹا لینے کی خاطر وہ مر رہے ہیں کیا یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں عوام ووٹ بھی لائن میں لگ کر دے اور آٹا بھی لائنوں میں لگ کر لے؟ اگر سیاسی جماعتوں نے ماضی سے سبق نہ سیکھا تو تو بڑا نقصان ہونے کا خطرہ موجود ہے سیاسی جماعتیں تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرتی سیاسی جماعتیں ملکوں اور قوموں کو ان کی مشکلات سے نکالتی ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کے راستے دکھاتی ہیں۔ لوگ مہنگائی کی وجہ سے بلبلا اٹھی ہیں اس وقت ایک راستہ مذاکرات کا راستہ باقی تمام راستے غلط ہیں۔ اس ملک اور عوام کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہلاکو خان اور چنگیز خان کے راستے کا انتخاب ہرگز ہرگز غلط ہے۔

  • مولانا آزادؒ کی سحر طراز سخن سرائی

    مولانا آزادؒ کی سحر طراز سخن سرائی

    مولانا آزادؒ کی سحر طراز سخن سرائی
    حیدرعلی صدّیقی

    امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کی جامع اور ہمہ جہت شخصیت سے کون واقف نہیں! جو بیک وقت بلند پایہ مفکر، عظیم دانشور، زبردست صحافی، محقق مصنف، بالغ النظر مفسر، عبقری سیاست دان، آفتاب علم و دانش، مجتہد بالغ نظر، کوہِ عزم و ثبات، سالارِ حریت، خطیب معجز بیان، ادیب سحر طراز، صاحب اسلوب انشاء پرداز، شاعرِ سخن رس کے عملی تصویر تھے۔ متضاد حیثیتوں پر مبنی زندگی کے مالک مولانا آزاد نے جس میدان میں بھی قدم رکھا تو کامیابیوں اور کامرانیوں کو اپنا مقدر پایا۔ آزاد جی بظاہر ایک جسم و جان تھے لیکن شورش کاشمیریؒ کے بقول ابوالکلام آزاد کئی دماغوں کا ایک انساں تھے۔ نثر نگاری اور انشاء پردازی تو جیسے آپکا خاصہ تھا، جس کے متعلق بڑے بڑے ادیب انگشت بدنداں تھے اور یہ اقرار کرکے رہ نہ سکے کہ مولانا آزاد نثر میں شاعری کرتے ہیں۔ آپ کی نثر کے متعلق بلند پایہ غزل گو شاعر جناب حسرت موہانی نے کہا تھا: ؎

    جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
    نظم حسرت میں بھی مزا نہ رہا

    اللہ کریم کے طرف سے ہر انسان کو مختلف تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا جاتا ہے، لیکن انسان حالات، معاشرتی رجحان یا ستم ہائے روزگار کے وجہ سے خود کو ایک کام کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں اور باقی دیگر تخلیقی صلاحیتوں کا ان سے خاطر خواہ اظہار نہیں ہوتا۔ مولانا ابوالکلام آزاد بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھی، جو بظاہر تو ایک حق گو صحافی، مفسر اور نثر نگار تھے۔ لیکن اس کے ساتھ وہ ایک سحر طراز قسم کے شاعر اور سخن ور بھی تھے۔ شعر و شاعری کا شوق انھیں بچپن سے تھا، اور کیوں نہ ہوتا کہ آپ کے والد گرامی مولانا خیرالدینؒ ایک پیر و مرشد ہونے کے ساتھ ایک بلند پایہ عربی شاعر اور مصنف بھی تھے۔ مولانا آزاد کے بڑے بھائی غلام یاسین ابونصر آہ جنکا جوانی میں انتقال ہوگیا تھا، وہ بھی ایک بے مثل شاعر تھے، اور داغ دہلوی سے شعرگوئی کی اصلاح لے چکے تھے۔ مولانا آزاد کی بہنیں بھی تعلیم یافتہ اور اعلی شعری اور ادبی ذوق کی حامل تھیں۔ مولانا آزاد کی ذوق سخن آرائی میں اس ماحول کا دخل تو تھا ہی، لیکن عملی طور آزادؔ کے شعر گوئی کے متحرک مولوی عبدالواحد خان سہسرامی تھے۔ مولانا آزاد ان سے بے تکلفی اور آزادی کے ساتھ شعر گوئی اور ادب کے موضوعات پر گفتگو کرتے تھے۔ مولانا آزاد کی طبیعت بچپن میں زوروں پر تھی لیکن کم عمری میں خود اعتمادی کے فقدان کے وجہ سے وہ اپنے اشعار کسی کو سنا نہ سکے، حتی کہ اپنے شعری ذوق کے متحرک مولوی عبدالواحد خاں کو بھی نہیں سنائے، اور اسی طرح آزاد جی کے سینکڑوں اشعار کا مجموعہ محفوظ نہ رہا۔ مولانا آزاد کی پہلی غزل کی سرگزشت سن 1898ء کی بات ہے، کہ ان دنوں بمبئی سے حکیم عبدالحمید فرخؔ نے ایک گلدستہ ”ارمغان فرخ“ نکالا تھا، اس میں دی گئی طرحوں پر شعرا غزلیں بناتے اور پھر ماہوار مشاعرہ ہوتا تھا۔ اس گلدستے کی ایک طرح ”پوچھی زمیں کی تو کہی آسمان کی“ پر مولوی عبدالواحد خاں نے غزل بنائی اور اس کے چند اشعار مولانا آزاد کو سنائے۔ پھر کیا تھا کہ یہ اشعار مولانا آزاد کے ذوق سخن سرائی کے لیے متحرک بنے۔ مولانا آزاد کی افتاد زوروں پر تھی، چنانچہ آپ نے اس طرح پر تیس اشعار نکالے، جن میں سے سترہ اشعار منتخب کرکے غزل بنائی۔ لیکن طبیعت مطمئن نہیں تھی اور کسی کو سنانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے، بار بار اصلاح اور کوشش کے بعد آزاد جی نے مولانا عبدالواحد خاں کو مطلع سنائی تو وہ چیخ اٹھے اور خوب تحسین و تعریف کی۔ مولانا آزاد نے اور اشعار سنائے اور وہ ہر ایک شعر پر خوب داد و تحسین سے نوازتے۔ اس کے بعد مولانا آزاد نے اگلے دن ہونے والے مشاعرے میں اس غزل کو سنانے کا ارادہ کیا، لیکن ابھی ان کی عمر بمشکل دس بارہ برس تھی، خود اعتمادی کا فقدان تھا، مجمع عام میں سنانے کا حوصلہ نہ تھا، اور پھر کچھ خاندانی روایات اور والد محترم کے خوف سے اس مشاعرے میں شرکت مناسب نہیں سمجھا۔ مولانا آزاد نے اس غزل کو مولوی عبدالواحد خاں کو دی کہ وہ مشاعرے میں سنائے، جب انھوں نے یہ غزل مشاعرے میں سنائی تو مجمع عام بھی داد و تحسین سے نوازے نہ رہ سکا۔ مذکورہ غزل کے چند ابیات قارئین کے پیش خدمت ہیں: ؎

    نشتر بہ دل ہے آہ کسی سخت جان کی
    نکلی صدا تو فصد کھلے گی زبان کی
    گنبد ہے گردباد تو ہے شامیانہ گرد
    شرمندہ میری قبر نہیں سائبان کی
    ہوں نرم دل کہ دوست کے مانند رو دیا
    دشمن نے بھی جو اپنی مصیبت بیان کی
    آزادؔ بے خودی کے نشیب و فراز دیکھ
    پوچھی زمین کی، تو کہی آسمان کی

    جب مولانا عبدالواحد خاں کے ذریعے مولانا آزاد کو مجمع عام کی طرف سے داد و تحسین کا پتہ چلا تو آزاد جی خوشی سے شادماں اور مخمور ہوگئے۔ ایک ماہ بعد یہ غزل ”ارمغان فرخ“ میں بھی شائع ہوئی، اور اسی طرح یہ آزاد جی کی پہلی باقاعدہ غزل ہونے کے ساتھ پہلی مطبوعہ غزل بھی قرار پائی۔ زندگی میں پہلی بار اپنا کلام اور نام کسی رسالے میں چھپا ہوا دیکھ کر مولانا آزاد کو جو خوشی محسوس ہوئی اس کے متعلق وہ خود چھتیس (36) برس بعد مولانا غلام رسول مہر کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں کہ وہ خوشی میں آج بھی اسی طرح محسوس کر رہا ہوں۔

    مولانا آزاد علمی اور تحقیقی، قلم آرائی اور سخن وری ہر ایک میدان میں امتیازی حیثیت رکھتے تھے، جس طرح وہ نثر نگاری میں ممتاز تھے اسی طرح وہ شعر گوئی اور سخن سرائی میں بھی ممتاز تھے۔ آپکی یہ رباعی تو قارئین سے بارہا داد وصول کرچکی ہے ؎

    تھا جوش و خروش اتفاقی ساقی
    اب زندہ دلی کہاں ہے باقی ساقی
    مے خانے نے رنگ روپ بدلا ایسا
    میکش میکش رہا، نہ ساقی ساقی

    عام طور شعراء حمد یا نعت بہت کم ہی کہتے ہیں، زیادہ تر انکی شاعری محبت، وصال، فراق، احساسات، ارمانوں اور تمناؤں سے عنوان ہوتی ہے، اور اسی طرح وہ حمد یا نعت کو اپنے شاعری کے لیے بطور تمہید کہتے ہیں، خصوصا جب اپنا شعری مجموعہ شائع کرتے ہیں۔ لیکن مولانا آزادؒ اس حوالے سے بھی ممتاز حیثیت کے حامل ہیں، جو شعراء دنیا جہاں کے باتیں اپنی شاعری میں سمو دیتے ہیں، لیکن نعت گوئی کے لیے ان کے پاس الفاظ نہ ہو تو ایسے شاعروں پر آزاد جی طنز کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ؎

    شمہ ثنائے شاہ رسلﷺ کا نہ لکھ سکے
    بیکار شاعروں کی سخن گستری ہوئی

    مولانا آزاد اپنی نعتیہ شاعری کو اپنے لیے ذخیرۂ آخرت، وجہ شہرت اور قیامت میں آرزوئے شفاعت مانتے ہیں۔ آزاد جیؒ کے نزدیک جب وہ کائنات کی عظیم ہستی اور افصح العرب کا ثنا خواں ہے تو اس کی سخن وری اور قلم آرائی میں فصاحت و بلاغت کیونکر نہ ہو؟ فرماتے ہیں: ؎

    میں افصح العرب کا ثنا خواں ہوں دوستو
    کیونکر نہ ہو سخن میں فصاحت بھری ہوئی

    یوں تو مولانا آزاد ؒ نے نثر نگاری سے پہلے شعر گوئی شروع کی تھی، اور اس دور میں مشاعروں کے علاوہ اس دور کے ”مخزن“ جیسے مؤقر رسائل میں آپ کا کلام شائع ہوتا تھا۔ لیکن بعد میں آپ نے شاعری کو یکسر چھوڑ کر خود کو نثر نگاری کے دائرے میں داخل کردیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک سخن وری میں مولانا آزاد کے شعوری عمل کا دخل تھا۔ مولانا آزادؒ نے انتہائی کم سنی میں 1898 کے قریب شاعری کا آغاز کیا تھا، جبکہ ابھی انکی عمر کے بچے کھیل کھود سے فارغ نہیں ہوئے تھے۔ سن 1902 کا دور آپ کی شاعری کا دورِ عروج ہے۔ اس کے بعد مولانا آزادؒ تراجم، مضمون نویسی اور علمی و ادبی تالیفات کو شعر گوئی پر ترجیح دیتے تھے، یعنی اب مولانا کا رجحان شعر نگاری کے بجائے نثر نگاری کے جانب ہوگیا۔ اور بالآخر انھوں نے 1904 میں شعر گوئی ترک کردی، اور اس کا محرک یہ تھا کہ مولانا آزاد شاعری سے بڑے علمی و مذہبی کاموں کے لیے وقت نکال سکے۔ اور ایک طرح انکی ترک شعرگوئی اچھی ثابت ہوئی، کیونکہ اگر آپ شعرگوئی میں منہمک رہتے تو آج ہم ان کی اس نثر سے محروم ہوجاتے جس نثر سے فصاحت و بلاغت کے چشمے نکلتے ہیں، جس میں علم و تحقیق، ادب و دانش کا دریا جاری ہے۔

    مولانا آزادؒ کے کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے کلام میں تخیل آفرینی، صفائی زبان، معاملہ بندی، زور بیان، قادر الکلامی، فصاحت و بلاغت، خلوص، صداقت، علمیت اور روانی جیسے خصوصیات پائے جاتے ہیں۔ محبان آزاد کے نام ایک رباعی پیش خدمت ہے: ؎

    آفتِ جاں ہے قصّۂ جوانی میرا
    ظاہر ہے حالِ نوحہ خوانی میرا
    اک جان بچاؤں میں کس طرح آزادؔ
    دل کا دشمن ہے یارِ جانی میرا

    مولانا آزادؒ کی شعر گوئی صرف اردو زبان تک محدود نہیں، آپ نے فارسی زبان میں بھی خوب سخن آرائی کی ہے۔ ایک رباعی قارئین کے ذوق کے لیے پیش خدمت ہے: ؎

    ساقی تو نگاہ کن بریں ابر و بہار
    یک ساغرے دیدہ و بیں لطف خمار
    وقتیست کہ ماہ روئے با ناز و ادا
    یک زیر نظر باشد و یک زیر کنار

    مولانا آزادؒ کی نثرنگاری انتہائی مشکل ہے، جو بہت سعی طلب ہے، جس میں علم و دانش، شعور و ادراک کے علاوہ الفاظ کا ایک خزانہ موجود ہے، تاہم انھوں نے شعر گوئی میں سہل اندازی اور سلاست سے کام لیا ہے اور بہت ہی آسان لفظوں میں اپنے مطلب کو بیان کیا ہے جس سے روانی ابھر کر ظاہر ہورہی ہے جس کے بدولت انکے کلام میں رنگینی اور دلکشی پیدا ہوتی ہے اور قاری پر وجد طاری ہوجاتا ہے۔ مولانا آزادؒ کے شاعری سے اس وجہ سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ یہ صرف پندرہ برس سے کم عمر ایک بچے کا کلام ہے، کیونکہ مولانا آزاد کا کلام کسی بھی طور اردو کے متوسط درجے کے شعراء کے کلام سے کم نہیں ہے۔ جس سخن ور کے کلام کو دیکھ کر غزل خواہوں کے امام حسرت موہانی بھی اپنے نظم کو ” بے مزہ“ کہنے لگے تو اس بچے کے کلام کو ناپختہ کہنا سراسر ناانصافی اور دیوالیہ پن ہے۔ مولانا آزاد کے شاعری اس دور کی مقبول عام شاعری تھی اور ”مخزن“ جیسے معیاری ادبی پرچے میں تواتر کے ساتھ ان کے کلام کا شائع ہونا ان کی عظمت کا بین ثبوت ہے۔ اور پھر امیرمینائی، شوق اور شوخی جیسے بڑے اور بلندپایہ شعراء بھی آپ کی شاعری کو قابل اعتناء نہیں سمجھتے تھے، اور ان کے کلام کی اصلاح کرتے تھے اور مولانا آزاد نے ان سے خود بھی اصلاح لی تھی اور بارہا امتحان لینے کے باوجود یہ تینوں مولانا آزاد کی سخن وری سے استعجاب میں تھے۔ اگر چہ ان دنوں داؔغ کی شہرت کا ڈنکا بج رہا تھا لیکن مولانا آزاد کے نزدیک استادی کے لیے معیار شہرت اور ہردلعزیزی نہیں تھا، اس معیار پر داؔغ تو پورے نہ اترے لیکن یہ فضیلت کی دستار اور جبۂ معلمی شوؔق کے قامت زیبا پر موزوں ہوا۔
    مولانا آزاد کی سخن وری علم و ادب کے شہ پاروں سے بھری ہوئی ہے جو علم و ادب کے شائقین، اور تشنگان سخن آرائی کے لیے دعوت عام دے رہی ہے۔ جن لوگوں کو سخن وری کا شوق ہے تو ان کو مولانا آزاد کی علم و ادب سے بھر پور سخن سرائی کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے، اور کیونکر چاہیے کہ آزاد جی خود صلائے عام دے رہے ہیں: ؎

    اے گلشن سخن کے ہوا خواہ شائقو
    آؤ آؤ بہارِ بے خزان کے مزے لوٹو

  • اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی

    اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی

    اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی
    نجی ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا پر عدلیہ ، پاک فوج کے سابق جرنیلوں اور موجودہ جرنیلوں کے بارے میں جو زہر اگلا جا رہا ہے اسے کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملکی بقا ،ملکی وقار اور ان اداروں کا وقار پوری دنیا میں مجروح ہو رہا ہے۔ پی ڈی ایم سمیت پی ٹی آئی ملکی سلامتی کے پیش نظر ہوش کے ناخن لے، دنیا کے کسی بھی ملک میں فوج اور اعلیٰ عدلیہ بڑے اہم کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ سلیکٹڈ کے الزام سے لے کر امپورٹڈ کے الزام تک کا ملبہ ان نام نہاد سیاستدانوں نے اپنے اداروں پر ڈالا۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے ملکی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کے ججوں کو عالمی دنیا میں بدنام کیا جا رہا ہے۔ خدا نہ کرے محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک کے خلاف ایک بھیانک سازش ہو رہی ہے اور اس سازش کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ عوام اور اداروں کا ٹکرائو اداروں کو متنازعہ بنائو اور وطن عزیز کو اس قدر کمزور کردیا جائے کہ زندہ تو رہیں مگر بھارت سمیت دیگر پاکستان مخالف قوتوں کو آنکھیں نہ دکھا سکیں۔

    یہ ملک نہ تو پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی جاگیر ہے اور نہ پی ٹی آئی سمیت دیگر اپوزیشن کا ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے یہ چند خاندانوں، چند لینڈ مافیا، چند شوگر مافیا ، چند آٹا ملز مالکان کا نہیں۔ کسی زمانے میں قوم بڑی منظم ہوا کرتی تھی آج اس قوم کو غیر منظم کرنے کا کردار کس نے کیا؟ ملک کے تازہ ترین حالات کا عوام جائزہ لے اپنے مسائل کا اور ملکی معیشت کا جائزہ لے اور پھر عوام اپنے ان نام نہاد رہبروں کا جائزہ لے ۔سب اس وقت مشکوک نظر آتے ہیں ملکی دانشور قومی فریضہ ادا کریں قوم کے بنیادی مسائل اور اس ملک کے وقار اور عزت میں اضافے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ناقابل برداشت مہنگائی، دہشت ناک بدامنی، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس وقت سے ڈریں جب عوام انہیں اپنا رہبر ماننے سے ہی انکار کر دیں گے ایک بے ہنگم شور اور ہنگامہ ملک بھر میں برپا ہے کیا ملک کی سیاسی جماعتوں میں جمہوری مزاج سیاستدانوں کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ جن کی قومی ادارے عزت کرتے تھے اور وہ ان اداروں کی بقا کی جنگ لڑتے تھے۔ یاد رکھئے اداروں کو بقا حاصل ہے اور شخصیات کو فنا حاصل ہے۔

  • سیاست، ریاست اور عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاست، ریاست اور عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قرضوں اور معاشی بدحالی میں گرے وطن عزیز میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ فکر انگیزہے ، حکمرانوں سمیت اپوزیشن اورپنجاب کی نگران حکومت نے تو حد کراس کرلی ہے ۔ عالمی دنیا وطن عزیز میں جاری ہوس اقتدار اور اقتدار کو طول دینے کی جنگ کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ وطن عزیز کی سڑکیں اشرافیہ کی آپس کی جنگ میں لہولہان ہیں۔ ریاستی ملازمین اور یاست کی عوام ایک دوسرے پرحملہ آور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام حالات کا ذمہ دار کون ہے۔؟ ہمارے سیاستدانوں فیصلہ ساز اداروں کو علم ہے کہ عام آدمی موجودہ ماحول اورمعاشی بحران میں کیسے زندگی بسر کررہا ہے۔ اسے دو وقت کی روٹی ملتی بھی ہے یا نہیں۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کہاں ہے اور کس صوبے اور کس شہر میں ہے ؟ عوام ان حالات میں زندہ رہیں گے اور اگر رہیں گے تو کب تک ؟ ۔ حیرت ہے اس ملک کے کل کے مڈل کلاس کے سیاستدان آج اربوں پتی کیسے بن گئے ؟ غضب خدا کا کھربوں پتی کیسے اور کس طرح ہو گیا ؟ انہی شخصیات کی بدولت آج ریاست اور عام آدمی کنگال ہو چکا ہے۔ اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ معاشرے کا بڑا حصہ رینگتا سسکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور دوسراایک ایسا جو اربوں کھربوں پتی ہے وہ ٹی وی ٹاک شوز میں بھی روزانہ کی بنیاد پر نظر آتا ہے

    کسی زمانے میں سیاست نظریاتی لوگوں میں ہوا کرتی تھی ۔ نظریات کے فروغ کے لئے سیاست کرتے تھے اب سیاست میں تشدد اور انتقام کی سیاست کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ایک دوسرے کو دہشت گرد اور غدار کہا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں وہی پرانی ہیں مگر اب ان میں ایسے لوگ آگئے ہیں جو بے باک نہیں منہ پھٹ اور سیاسی بدتمیز ہیں۔ سیاسی بدتمیزی کا مظاہرہ پی ٹی آئی ، مسلم لیگ(ن) اوردیگر سیاسی جماعتوں میں روزانہ نظر آتا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ اپنی زندگیوں سے مایوس سیاستدان اس سیاست کو خراب کردیں بلکہ خراب کردیا ہے۔ دشمنوں سے گرا ملک آج کے سیاستدانوں سے شدید پریشان ہے۔گزشتہ روز سینٹ میں رضا ربانی کے سوال پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں جواب دیا جو موضوع بحث رہا۔ سیاسی جماعتوں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ وطن عزیز ایک نظریاتی ملک ہے اور اسلامی نظریاتی ملک کے اس اثاثے کی حفاظت پاک فوج اور جملہ ریاستی عسکری ادارے اس کی حفاظت پر مامور ہیں۔ ہماری پاک فوج اور جملہ ریاستی عسکری ادارے وطن عزیز کو ناقابل تسخیر بنا چکے ہیں ۔ بلاشبہ وطن عزیز کو دفاعی لحاظ سے مضبوط کرنے والے نظریاتی سیاستدانوں کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا

  • ملکی سیاست، جمہوریت اور جمہور کا مستقبل؟ تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    ملکی سیاست، جمہوریت اور جمہور کا مستقبل؟ تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    ملک کے وہ سیاستدان جنہوں نے جمہوریت، آئین قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے جیلیں کاٹیں۔

    کوڑے کھائے۔ بدترین تشدد کا سامنا کیا ۔ جن کی تعدادسیاسی جماعتوں میں بہت کم رہ گئی ہے وہ مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ (ن) کے پرویز رشید سمیت چند ایک دوسرے سیاستدان اور اسی طرح پیپلزپارٹی کے سینیٹررضا ربانی سمیت چند ایک جمہوریت،آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچار کرنے والے سیاستدان بتائیں کیا اس وقت ملک میں قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی ملک میں موجود ہے؟اگر نہیں تو اس کے ذمہ دار کون ہیں ؟

    ملک کا آئین اتنا بے بس اور لاورث کیوں ہے ؟ اس آئین کو بے بس اور لاوارث بنانے میں کس کا کردار ہے؟ ملکی آئین آزادی سے سانس کیوں نہیں لے پاتا؟ آمروں نے اس آئین کو بوٹوں کے نیچے روندا اور اشرافیہ نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا؟ اگر پاکستان کے مسائل کا حل 1973 ء کے آئین میں موجود ہے تو پھر اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا ؟

    ملک میں جاگیردارنہ نظام کا خاتمہ کیوں نہ ہو سکا ملک آمریت اورجمہوریت کے درمیان کیوں جھولتا رہا؟ ملک کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، سابق سینیٹر مصطفی کھوکھر کہہ رہے ہیں کہ موجودہ آئین ملک کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے ۔ کیا ملک میں پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے اگر پارلیمانی نظام ناکام ہوچکا ہے تو کون سا نیا نظام قائم ہوگا جس سے ملک میں قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی ، جمہور کے مسائل کا حل ہوگا؟ ایک وزیراعظم کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    اُس کی بیٹی کو سڑک پر شہید کردیا گیا۔ نواز شریف کو تاحات نااہل کردیا گیا ۔اب عمران خان اپنی زندگی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہے ۔عمران خان کے مطابق اُسے قتل کردیا جائے گا۔ کیا یہ اس ملک اور 22 کروڑ عوام کے ساتھ زیادتی نہیں کہ اُن کی لیڈر شپ کو عبرت کا نشانہ بنا دیا جائے۔ بقول عمران خان اُن کے قتل کی سازش موجودہ وزیراعظم اور دیگر ہیں تو پھر بھٹو کے عدالتی قتل میں کون شامل تھا؟ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے تاحیات نااہلی میں کون شامل تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ملکی وزرائے اعظم کے قتل اور تاحیات نااہلی میں ایک دوسر ے پر الزامات ہیں تو پھر ملکی سیاست ،جمہوریت اور جمہور کا مستقبل کیا ہوگا؟