Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • آئین بنانے والے ہی آئین شکن کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    آئین بنانے والے ہی آئین شکن کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    اعتزاز اور کھوسہ نے ثابت کیا کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے
    قوم کو انقلاب سے ڈرایا جانے لگا جو پہلے ہی تہذیبی اقدار بھول چکی
    جنرل ندیم کی بہترین حکمت عملی سے سر اٹھاتی دہشتگردی کچلی گئی

    چوہدری اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کی آئین و قانون کی حکمرانی کی الیکٹرانک میڈیا پر باتیں حقیقت میں بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کا وہ نعرہ جو پیپلز پارٹی لگاتی ہے کہ کل بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے،دونوں کی سیاسی تربیت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو نے کی ہے،تاہم پی پی سمیت ملکی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کے خوبصورت پردے کی اوٹ میں کچھ رہنما آئین شکن ہوں گے،یہ کبھی نہ سوچا اور نہ کبھی ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا،ثابت ہوا جمہوریت کی آڑ میں جمہور کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے اور کیا جا رہا ہے،پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جو تجربہ کرنے جا رہی ہیں وہ نقصان دہ ہو گا ،یہ جمہوریت ،پارلیمنٹ اور آئین کے لئے خوفناک تجربہ ثابت ہو گا اور 23 کروڑ عوام کے ساتھ ظلم ہو گایہ تجربہ قومی مشکلات کی شکل اختیار کر سکتا ہے،تعجب ہے کہ ایک طرف جشن آئین اور دوسری طرف آئین کو ہی دفن ، پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی محاذ آرائی،آئین کے ساتھ کھلواڑ سے، قومی معیشت اور جمہوریت کو استحکام نصیب ہو گا؟ میرے اندازے کے مطابق پی ڈی ایم کا شور شرابہ ضرور ہے ، اس سے آگے کچھ نہیں،آئین میں سب کچھ درج ہے کہ وزیراعظم کیسے بنتا ہے اور کیسے جاتا ہے،پوری وضاحت کے ساتھ درج ہے،الیکشن کیسے ہوتے ہیں اور کب ہوتے ہیں عوام کے روز مرہ کے مسائل حل نہیں ہور ہے ، حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں، کوئی عالمی قوت ملک کے حالات درست کرنے میں رکاوٹ نہیں ،

    حالات کو درست سیاستدانوں نے ہی کرنا ہے، درست راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا اسی میں سب کی بھلائی ہے، آج کے حالات کو دیکھ کر جمہوریت شرمندہ ہے، اہل سیاست کی گلیوں میں داخل دوغلے لوگوں نے سیاست جمہوریت اور آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، مہنگائی کے خوف سے ڈری ہوئی عوام کو ہمارے بعض سیاستدان کسی خونی انقلاب کا ذکر کر کے اور ڈرا رہے ہیں۔ یہ خونی انقلاب کون لائے گا ہر سمت پھیلی اخلاقی تباہی کو دیکھ کرکوئی انقلابی دور دور تک نظر نہیں آتا، تاہم اپنے علاقائی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنرل ندیم انجم کے بارے میں سوشل میڈیا پر لکھا تھا رائٹ مین فار رائٹ جاب، لاکھوں لوگوں نے جہاں پسند کیا وہاں میرے نام کے ساتھ غیر اخلاقی القابات بھی لگانے کی کوشش کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم اخلاقی طور ہر تباہی کے دہانے پہنچ چکی ہے لیکن یہاں یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جنرل ندیم کی بہترین حکمت عملی سے جہاں وطن عزیز کی سرحدوں کو محفوظ بنایا گیا ہے وہاں دہشتگردی کی سر اٹھاتی لہر کو بھی کچل دیا گیا ہے۔

  • بیت النورآرفن سنٹر یتیم بچیوں کی تعلیم وتربیت اور کفالت کا مثالی ادارہ

    بیت النورآرفن سنٹر یتیم بچیوں کی تعلیم وتربیت اور کفالت کا مثالی ادارہ

    تحریر: ارشاد احمد ارشد
    پاکستان میں اس وقت متعدد ادارے یتیم بچوں کی ترتیب وکفالت کاکام کررہے ہیں لیکن یتیم بچیوں کی کفالت کرنے والے ادارے شائد نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے چوہدری محمد حسن ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھیوں نے ” بیت النور آرفن سنٹر “ کے نام سے یتیم بچیوں کی کفالت وتربیت کے لئے ایک ادارہ بنایا ہے جو لاہور میڈیکل ہاﺅسنگ سکیم مین کینال روڈ نزد ہربنس پورہ میں واقع ہے ۔ چوہدری محمد حسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں لاکھوں یتیم بچے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم نے صرف یتیم بچیوں کے لیے ہی یہ ادارہ کیوں بنایاہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ یتیم ہوجائے تو اس کےلئے خود کو سنبھالنا آسان ہوتا ہے بہ نسبت بچیوں کے ۔بچیاں پھولوں کی طرح نرم و نازک ہوتی ہیں، ان کے دل بھی نرم ونازک ہوتے ہیں ، بچیوں کےلئے مشکلات کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے، بچی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے تو وہ رشتے داروں اور معاشرے کے رحم وکرم پر ہوتی ہے ۔اسلئے بچیوں کو زیادہ محبت اور شفقت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بچی کی تربیت صحیح طرح سے کی جائے تو ایک خاندان سنور جاتا ہے۔ اسلئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بچیوں کی تربیت بچوں کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے اس پس منظر میں ہم نے بچیوں کا ادارہ بنانے کو ترجیح دی ہے ۔ تاکہ ایسی بچیاں جن کے باپ داغ مفارقت دے گئے ہیں اسلامی ماحول میں اور باعزت طریقے سے ان کی پرورش وتربیت کی جائے ۔ دینی ودنیوی علوم سے انھیں بہرہ مند کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں کوئی ہنر بھی سکھایا جائے ۔

    اپنا گھر اور ماں باپ کا نعم البدل تو کوئی بھی نہیں تاہم ہماری کوشش ہے کہ ادارے میں بچیوں کو بالکل گھر کا ماحول دیا جائے، انھیں ماں باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی جائے ، ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے ، ان کے غموں اور دکھوں کا مداوا کیا جائے ۔انھیں سیدہ فاطمہ ، سیدہ عائشہ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھن کی سیرت وکردار سے روشناس کروایا جائے ۔” بیت النور آرفن سنٹر “ میں 25بچیاں زیر کفالت ہیں ۔ ان کی تعلیم وتربیت کےلئے دینی ودنیوی علوم پر مشتمل بہترین نصاب اور قابل ترین اساتذہ ہیں ، عصری علوم سیکھانے کےلئے بہترین سکولنگ کا انتظام ہے ۔ہر بچی پر انفرادی توجہ دی جاتی ہے ، اس کی فطری صلاحیت اور قابلیت کے مطابق علم سے بہرہ مند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ عصری علوم کے ساتھ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اورٹیکنیکل تعلیم سے روشناس کروانا بھی ادارے کے منشور میں شامل ہے ، صوم وصلوة کا پابند بنایا جاتا اور نفلی روزوں کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ بچیوں کو علوم شریعہ ، دروس ، قرآن وحدیث ، حفظ وناظرہ ، تجوید وقرآت کے ساتھ ساتھ جدید نصاب کے مطابق اردو ، انگلش ، عربی ،سائنس، ریاضی و دیگر سبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں ۔الحمد للہ ہم نے ایسا نصاب ترتیب دیا ہے کہ جسے پڑھ کر یہ بچیاں دین کی عالمہ ومبلغہ بننے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ، انجئیر اور قانون دان بھی بن سکیں گی ۔ بچیوں کو مروجہ ہنر بھی سیکھائے جائیں گے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں ۔یہ بات معلوم ہے کہ صحتمند دماغ صحتمند جسم میں ہوتا ہے بچوں کےلئے تعلیم کے ساتھ تفریحی سرگرمیاں بھی بے حد ضروری ہوتی ہیں جس کےلئے مختلف تفریحی پروگرام کاشیڈول بھی ترتیب دیا جاتا ہے ، لاہور کے خوبصورت ترین تفریحی مقامات جیساکہ سکائی لینڈ، جوائے لینڈ اور دیگر مقامات وباغات کی انھیں سیر کروائی جاتی ہے ، پرائمری سے اعلیٰ تعلیم اور شادی کی ذمہ داری بیت النور آرفن سنٹر نے لے رکھی ہے ۔ ہمارے ادارے کا سٹاف 8افراد پر مشتمل ہے جس میں معلمات ، باورچی ، ایڈمن ، آیا ، صفائی کےلئے خاتون اور دیگر عملہ شامل ہے ۔ ادارے کے سالانہ اخراجات ایک کروڑ ہیں جن میں بلڈنگ کا کرایہ ، اساتذہ، دیگر عملہ کی تنخواہیں ، کچن کے اخراجات ، بجلی ، گیس کے بل اور بچیوں کے کپڑے جوتے وغیرہ شامل ہیں ۔ عمدہ تعلیم وتربیت کے ساتھ ہم بچیوں کو معیاری رہائش ، طبی سہولتیں، جسمانی نشو ونما کے مطابق اچھا کھانا ،کھانے کے ساتھ دودھ ، موسمی پھل ،پسند کے مطابق آئس کریم ، بسکٹ ، صاف ستھرا لباس ،صحت کی بحالی اور علاج معالجہ کےلئے ماہر نفسیات ، ان ڈور گیمز، ہر بچی کےلئے الگ الگ بیڈ ، اسٹڈی ٹیبل ، اسٹڈی چئیر ، الماری وغیرہ کی سہولیات دے رہے ہیں ۔ دن کا آغاز نماز فجر سے ہوتا ہے ، اس کے بعد صبح کے اذکار پڑھے جاتے ہیں ، اذکار کے بعد ایک گھنٹہ آرام کا وقفہ ہوتا ہے ، ساڑھے سات سے ساڑھے نوبجے تک قرآن مجید کی تلاوت ، تجوید اور گرائمر کا پیریڈ ہوتا ہے ۔ بعد ازاں ناشتہ اور سکول کی تیاری کا وقت دیا جاتا ہے پھر مختلف اسباق کے پیریڈ ہوتے ہیں ۔ ایک بجے سے دو بجے تک بریک ہوتی ہے جس میں نماز ظہر ادا کی جاتی ہے اور کھانا کھایا جاتا ہے ، دو بجے سے چار بجے تک سکول کی تعلیم دی جاتی ہے ، نماز عصر سے نماز مغرب تک چھٹی ہوتی ہے جس میں بچیاں کھیلتی ہیں ۔ ” بیت النور آرفن سنٹر “ کے اندر ہی کینٹین ہے جہاں سے بچیاں اپنی دلپسند اشیا لیتی اور کھاتی ہیں ۔ نماز مغر ب کے بعد ایک گھنٹہ تک قرآن کلاس ہوتی ہے ، پھر رات کا کھانا کھایا جاتا ہے ، اس کے بعد نماز عشا ادا کی جاتی ہے ، نماز عشا کے بعد پھر ایک گھنٹہ تفریح کےلئے وقت دیا جاتا ہے جس میں بچیاں کھیلتی ہیں ،اسلامی گیمز یا اسلامی کارٹون دیکھتی ہیں جبکہ ساڑھے دس بجے تعلیمی دن کااختتام ہوتا ہے اس کے بعد رات کے اذکار اور دعائیں پڑھ کر بچیاں سونے کےلئے لیٹ جاتی ہیں ۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عام طور پر یتیم بچوں یا بچیوں کے لیے بنائے گئے اداروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں کھانے پینے ، رہائش اور یونیفارم کا معقول انتظام نہیں ہوتا ۔جبکہ بیت النور آرفن سنٹر کے بارے میں میں اتنا ہی کہوں گا کہ ہماری کوئی ماں ، بہن بیٹی کسی وقت بھی اچانک ہمارے ادارے کا وزٹ کرے تو ان شاءاللہ یہاں دی جانے والی سہولتوں سے اس کا دل سو فیصد مطمن ہوگا ۔

    بیت النور آرفن سنٹر کرائے کی بلڈنگ میں ہے جبکہ کرائے کی مد میں ہمیں ہر ماہ بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے ۔ بیت النور آرفن سنٹر میں داخلے کی خواہشمند بچیوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن جگہ کی قلت کی وجہ سے زیادہ بچیاں رکھنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔ ادارے کی اپنی بلڈنگ ہو اور وسیع بھی ہو تو ہمارے لئے زیادہ بچیاں رکھنا ممکن ہوجائے گا ۔
    کوئی بھی کام کیا جائے تو اصل چیز ہوتی ہے اس کے ثمرات وفوائد ۔ مجھے خوشی ہے کہ جس مقصد کی خاطر ہم نے بیت النورآرفن سنٹر قائم کیا اللہ نے کم وقت میں ہمیں اس کے نتائج اور فوائد وثمرات دکھانا شروع کردیے ہیں ۔ جو بچیاں ہمارے پاس زیر تعلیم ہیں ان کی مائیں ہم سے مطئمن اور خوش ہیں ۔اس سلسلہ میں بے شمار واقعات ہیں ایک ماں نے ہمیں بتایا کہ جب میری بچی ماہانہ چھٹی پر گھر آئی تو وہ کہنے لگی ” امی جان ! رات کو ہم نے جلدی سونا ہے “ میں نے کہا بیٹی اتنی جلدی بھی کیا ہے؟ ۔ بیٹی کہنی لگی ” امی جان ! رات کو جلدی نہ سوئے تو صبح نماز کے وقت میں اٹھ نہیں پاﺅں گی اور اس طرح سے میری نماز رہ جائے گی ۔“ ایک اور ماں نے ہمیں بتایا کہ جب میری بیٹی چھٹی پر گھر آئی تو وہ رات کو بار بار اٹھ کرگھڑی سے ٹائم دیکھ رہی تھی ۔اس دوران اچانک میری آنکھ بھی کھل گئی میں نے پوچھا بیٹی کیا بات ہے ، خیریت تو ہے ، کیا وجہ ہے نیند نہیں آرہی کیا ؟ ۔۔۔۔؟ بیٹی جو جواب دیا وہ نہایت ہی ایمان افروز تھا ۔ کہنے لگی” امی میں نماز کا وقت دیکھ رہی ہوں یہ نہ ہو کہ میں سوئی رہ جاﺅں اور میری نماز ضائع ہوجائے “ یہ ہیں الحمدللہ ہماری تربیت کے اثرات ۔اگر کوئی صاحب یتیم بچی کی کفالت کرکے جنت میں رسول مقبول ﷺ کی ہمسائیگی چاہتے ہیں تو بیت النور آرفن سنٹر کے درج ذیل نمبر 0322-2211911 پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔

  • در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    یہ بات تقریباً سبھی لوگوں کے علم میں ہوگی کہ روٹی، کپڑا، مکان ہر باشندۀ ریاست کا بنیادی حق ہے اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ یہ حق مستحق کو بلا لحاظ رنگ و نسل، بلا تفریق مذہب و مسلک فراہم کرے۔
    مختلف حکومتیں اپنی اسی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے، اور عوام کو سہولت کے ساتھ ضروریات پورا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کونسی حکومت اپنی ان ذمہ داریوں کو پورا کرچکی ہے اور کونسی نہیں، اور کونسی اس سلسلے میں خاطر خواہ اقدامات کررہی ہے۔ عصر حاضر میں مہنگائی کے لہر سے بہت سے ممالک دوچار ہیں جن میں پاکستان کا نام بھی سر فہرست ہے، جہاں آئے روز مہنگائی اور گرانفروشی کی شرح اوپر جارہی ہے، مہنگائی کی حالیہ طوفانی لہر نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لوگ فاقوں پہ مجبور ہیں، غریب تو غریب متوسط طبقہ بھی ان حالات کو برداشت نہیں کرسکتا، اگر کوئی گرانفروشی کے خلاف آواز اٹھائے تو اس پر کوئی کان نہیں دھرتا۔ اشیائے خورد و نوش اور دیگر اشیائے ضرورت کے قیمتوں میں ظالمانہ اضافے کے وجہ سے ایک عام مزدور اسکا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا، لیکن ہر کوئی مجبوری کے سبب حتی الوسع کوشش میں ہے کہ وہ اپنا اور اپنے پیاروں کے پیٹ پالنے کے لیے کوئی اقدام کرے۔ حکومت پاکستان نے عوام کے لیے وزیراعظم میاں شہباز شریف کے حکم پر رمضان پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت عوام کو مفت آٹا ملے گا، اور اس حکمنامے پر باقاعده عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔ لیکن حکومت نے اس کے لیے کوئی پلان نہیں بنایا کہ یہ آٹا کس طریقہ کار سے تقسیم کیا جائے گا؟ اور کون کون اس پیکیج سے مستفید ہونگے؟
    اور اسی لیے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان کے دیگر بہت سی منصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی بدنظمی اور افراتفری کا شکار ہے۔ جہاں بھی آٹا فراہم کرنے کی سہولت ہے وہاں ایک ہلچل مچا ہوا ہے، آٹے کے غیرمنصفانہ تقسیم پر عوام میں بھگدڑ شروع ہے، شہریوں نے آٹے کے ٹرکوں پر ایک ہنگامہ آرائی برپا کی ہے، ہر کوئی اپنا اور اہل و عیال کا پیٹ پالنے کے لیے مسابقہ میں ہے۔ مہنگائی کے آگ میں جھلسے شہری سارا دن آٹا حاصل کرنے کے لیے دھکے کھا رہے ہیں، کیونکہ پیٹ کی ضرورت تو کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں اور نہ یہ صرف غریب باشندوں کی ضرورت ہے۔ ایک فرد کے پیچھے اہل و عیال بھوک سے نڈھال رہے ہوتے ہیں تو اس کے پاس یہ سب برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ سارا دن جھگڑوں پہ جھگڑے ہوتے ہیں، کئی قیمتی زندگیاں بھی فنا ہوئے، جس روٹی کے لیے قیمتی جان کھونا پڑے وہ مفت نہیں بلکہ بہت مہنگی ہے۔

    بظاہر تو یہ پیکیج غریب اور کمزور شہریوں کے لیے ہے لیکن کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ اپنے مستحقوں کو پہنچ رہا ہے، کیونکہ غریب تو غریب ساتھ میں گزار حال طبقہ بھی اس پیکیج سے بھرپور مستفید ہونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ نظم و نسق نہ ہونے کے وجہ سے مضبوط اور طاقتور لوگ آسانی سے آٹے کے دو تین تھیلے حاصل کرکے خوشی سے واپس جاتے ہیں، لیکن کمزور افراد اور خواتین سارا دن دھکے پہ دھکے کھا کر مایوس گھر لوٹتے ہیں۔ آٹے کے لائنوں میں بدنظمی کی صورتحال یہ ہے کہ رمضان کے مبارک مہینے میں ہر روز جھگڑے ہوتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر کئی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ نظم و نسق کے عدم موجودگی کے وجہ سے صورتحال انتہائی دل خراش ہے۔
    در اصل انسانی ضروریات میں آٹا انسان کی وہ بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ اگر روٹی ہو تو کوئی اس کو سالن، چٹنی، اچار حتی کہ سادہ پانی کے ساتھ بھی کھا سکتا ہے، لیکن اگر آٹا نہ ہو تو سالن وغیرہ اکیلے بھوک کا سامان مهیا نہیں کرسکتے۔

    بدقسمتی سے پاکستانی حکومت آٹے کے تقسیم کے اہم مسئلے کے حل میں ناکامی یا لاپروائی کا شکار ہوئی، اور بجائے اس کے کہ کوئی بہتر نظم و نسق کے ذریعے یہ آٹا مستحق افراد میں تقسیم کرتی تا کہ ان کی عزت نفس بھی محفوظ رہتی اور ضرورت بھی پوری ہوجاتی۔ لیکن معاملہ برعکس ہوا اور حکومتی نظم نہ ہونے کے سبب آٹے کے گاڑیوں پر عوام کا سیلاب امڈ آیا، کیا مزدور و کیا ملازم! کیا فقیر و کیا آسودہ حال! کیا مرد و کیا عورت! سب کے سب دوڑ پڑے، اور آٹے کے تھیلی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں نظر آئے۔ پاکستان کا حکمران اور بیوروکریٹ طبقہ اطمینان و سکون کے ساتھ اپنے حویلیوں میں آرام فرما ہے، لیکن ریاست کے غریب مائیں آٹے کے لائنوں میں کھلے آسماں کے تحت بارش کے قطروں میں بھیگ رہی ہیں، ریاست کا مزدور طبقہ اپنے حق دار ہونے یا نہ ہونے کےلیے لائنوں میں کھڑا انتظار کر رہا ہے، اور دن کے اختتام پر اسے نا امید لوٹنا پڑتا ہے۔ اور مجال ہے کہ کسی حکومتی اہلکار کی آنکھ کھلے اور اس طرف توجہ کرے، اور کوئی نظم و نسق وضع کرے! وزیر اعظم کی طرف سے اس کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت تو دی جاتی ہے لیکن نظم و ضبط کے لیے کوئی اقدام نہیں کی جاتی۔ آٹا سنٹر میں جو ذمہ داران بیٹھے ہیں انکی بھی اپنی من مانی ہے، جسے چاہے پہلے آٹا دے اور جسے چاہے اسے آخر میں کھڑا کردیتے ہیں۔ اگر آپ آٹا سنٹر کے ذمہ داران کے رشتہ داروں اور تعلق داروں سے ہے تو آپ خوش بخت ہے کیونکہ وہ آپ کو پہلے آٹا دیتے ہیں اگر چہ آپ تاخیر سے کیوں نہ آئے ہو۔ لیکن اگر سنٹر کے ذمہ داران سے آپ کا کوئی تعلق نہیں، آپ ایک عام شہری ہے تو پھر آپ کا خدا سہارا ہو کیونکہ پھر آپ کو کوئی بھی توجہ نہیں دے گا، لائن میں کھڑے تھکا دینے والے انتظار کے بعد جب آپ کی باری آئے گی تو آپ کو نا اہل یا آٹا ختم ہونے کا کہہ کر واپس کیا جاتا ہے۔ یہ فقط میرے جذبات نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے، اور یہی حال ہر آٹا سنٹر پر آپ دیکھیں گے، یہ ریاست کا اس اہم منصوبے کے لیے نظم و ضبط نہ ہونے کا وجہ ہے۔ پاکستان میں مردم شماری، پولیو، یا دیگر منصوبوں کے لیے گھر گھر گھومنے والے اہلکار بمع سیکیورٹی تو موجود ہیں لیکن آٹے کے تقسیم کے اس اہم پیکیج کے لیے حکومت کے پاس قحط الرجال ہے، علاج وغیرہ کے بغیر بھی انسان کے زندہ رہنے کی امید ہے لیکن روٹی کے بغیر انسان بالاخر مر ہی جاتا ہے۔ لیکن افسوس اس اہم منصوبے کی نظم و ضبط میں حکومت ناکام اور لاپرواہ رہی۔ اگر اب بھی حکومت نے اس پیکیج کے لیے کوئی نظم وضع نہیں کی تو آٹے کے غیر منصفانہ تقسیم کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا، اور اس سے وہ لوگ مستفید ہونگے جو پہلے ہی سے گزار حال اور آسودہ حال ہیں، اور مستحق اور حق دار لوگ محروم رہیں گے اور حکومت کے اس افراتفری کے شکار منصوبے کے وجہ سے ذلیل و خوار ہو کر مریں گے اور انکی لاشیں بزبان حال گویا ہوگی؂
    بظاہر روٹی تو ہم نے کھانی تھی
    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو

  • کاش، پولیس افسران ریاست کے ملازم بنیں حکمرانوں کے نہیں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    کاش، پولیس افسران ریاست کے ملازم بنیں حکمرانوں کے نہیں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ،تجزیہ، شہزاد قریشی
    ایک دوسرے سے خوفزدہ حکمرانوں اور اپوزیشن سے سوال ہے کہ پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس نہ تو حکمرانوں کے ذاتی ملازم ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کے۔ اسی طرح آئی جی اسلام آباد اور آئی جی پنجاب سے گزارش ہے کہ وہ اس ریاست کے ملازم ہیں ۔قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ،شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا۔ چوروں، ڈاکوئوں، لینڈ مافیا، اغوا کاروں، منشیات فروشوں سے عوام کو محفوظ کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ کر حکمرانوں کی غلامی زیب نہیں دیتی بااختیار پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے محکمے اپنے عہدوں کا خدارا خیال رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام کی خدمت کریں۔ آئی جی اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کو اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے جرائم نظر کیوں نہیں آتے؟ یہی صورت راولپنڈی اور اس کے گرد و نواح کی اس سے بدتر حالات پنجاب بھر کے ہیں۔ اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کی تمام تر توجہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ ، غداری اور دہشت گردی کے مقدمات پر ہوگی تو عام شہریوں، تاجروں، کو تحفظ کون فراہم کرے گا؟ راولپنڈی اسلام آباد میں زیادہ عرصہ نہیں گزرا ایسے پولیس افسران تعینات تھے جو قانون کی حکمرانی، کمزور لوگوں کے افسر تھے جن کے دفاتر عام آدمیوں کے لئے کھلے رہتے تھے آج عام آدمی کے لئے دروازے بند اور خاص آدمیوں کے لئے دروازے کھلے ہیں آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے پاس اس سوال کا جواب ہے کہ ان کے پاس جو وردی اور اختیارات ہیں وہ کسی خاص آدمی کی عطا کردہ ہے یا اس ریاست کی؟ خدا کی پناہ آج اسلام آباد کے شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور نہ ہی حکومت کو اور نہ ہی آئی جی پولیس کو اس کی پرواہ ہے۔ حکمرانوں کی خواہشوں پر عمل کرنا عوام کو ڈاکوئوں ، اغوا کاروں، لینڈ مافیا، قبضہ مافیا کے سپرد کرنا پولیس افسران کو زیب نہیں وردی اور عہدے دونوں کی توہین کے مترادف ہے ہر دور کے حکمرانوں کو افسر شاہی کی ضرورت ہوتی رہی ہے انہیں ایسے افسروں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے حکم کے تابع ہو اور کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہ کرے۔

    حکمرانوں کے پاس ان افسران کی پوسٹنگ کے اختیارات ہیں۔ کاش پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے ماتحت اہلکاروں اور اپنے محکمہ کے بہتر مستقبل اس محکمہ پولیس کی عزت میں اضافے کا سبب بنتے آنے والے افسران اور ماتحت ان کو یاد کرتے۔ آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

  • مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسرائیل کی پولیس نے بیت المقدس رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر درجنوں نمازیوں کو زخمی کیا۔ عالمی دنیا اور مسلمان ممالک نے حسب معمول صدیوں سے مذمت کی شاندار روایت کو برقرار رکھا ۔حیرت ہے کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت صدیوں سے اقوام متحدہ سمیت عالم اسلام مذمت کرتا چلا آرہا ہے۔ مگر ظلم ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی سالوں سے فلسطینی شہریوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جو اسرائیلی فوجی کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم اسرائیل میں عوام کی اکثریت نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے ان مظاہروں کا مقصد قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کی نتین یاہو کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیلی عوام انصاف کے اصول کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

    ہزاروں اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کی حکومت کی طرف سے اسرائیل کے عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ان دنوں شہبازحکومت بھی عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے جبکہ اپوزیشن شہباز حکومت کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے شہباز حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ عدالتی اصلاحات کر رہے ہیں نتین یاہو اور پاکستان کی موجودہ حکومت کو یاد رکھنا چاہئے جو قومیں اپنے ممالک میں حقیقی جمہوریت دیکھنا چاہتی ہیں وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ اسرائیل کو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا دنیا میں اسرائیل کا اس وقت تک خیر مقدم نہیں کیا جائے گا جب تک وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بنائے گا جب تک اسرائیل غیر یہودیوں کے لئے بھی وہ معیار مقرر نہیں کرے گا جو یہودیوں کے لئے مقرر ہے۔

    پاکستان میں بلاشبہ ماضی میں آمریت کو تحفظ دیا گیا مگر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے سابق صدر (مرحوم) پرویز مشرف کو تحفظ دینے کا انکار کردیا پھر ججز کے ساتھ جو کچھ ہوا عالمی دنیا گواہ ہے ججز کے حق وکلا شہریوں اور سیاسی جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئیں جس کی قیادت سیاسی جماعتوں نے کی تھی آج نوبت یہاں پہنچ چکی ہے کہ ایک مخلوط حکومت عدالتی احکامات ماننے سے انکاری ہے ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں پر تنقید سے شروع ہونے والا سلسلہ عدالتوں تک جا پہنچا جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا،

  • گیارہ سالہ نسرینہ کی دکھ بھری داستان،تحریر:اکمل خان قادری

    گیارہ سالہ نسرینہ کی دکھ بھری داستان،تحریر:اکمل خان قادری

    لنڈی کوتل کی گیارہ سالہ بچی نسرینہ (فرضی نام) اپنے خاندان کی واحد کفیل ہے جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے پاک افغان طورخم سرحد پر زمانے کی سختیاں جھیلتے ہوئے محنت مزدری کررہی ہے جوپل صراط سے کم نہیں ایک بم دھماکے میں والد کی وفات کے بعد خاندان کی کفالت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے زندگی بیت رہی ہے جس روزمزدری نہ ملے اس دن پورا خاندان فاقہ کرنے پر مجبورہوتا ہے۔

    پاک افغان بارڈر طورخم پر بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں محنت مزدوری کرتے ہوئے نظر اتے ہیں جس میں ہر ایک کی کہانی اپنی جگہ پر ایک منفرد اور انوکھی حیثیت رکھتی ہے جبکہ 11سالہ بچی نسرین (فرضی نام)کی کہانی کچھ الگ تھلگ ہے کیونکہ وہ محنت مزدری بھی کرتی ہے اور گھر کاکام کاج بھی ان کے ذمہ ہے۔ وہ کہتی ہے کہ 2015 میں کابل میں ایک دھاکہ میں ان کا والد جاں بحق ہوگیا اس وقت ان کی عمر پانچ سال تھی تاہم میری ماں نے گھر چلانے کے لیے آستین چڑھالی اوروہ دوسروں کے گھروں میں کام کاج کرکے پیٹ پالتی تھی میں بھی ان کے ساتھ جاتی تھی مگرآہستہآہستہ ماں کی صحت خراب ہورہی تھی اور ڈاکٹروں نے ان کی بیماری کو دمہ کی بیماری قرار دیدیا اور یوں 2021میں میری ماں کی صحت جواب دے گئی اور میں نے طورخم سرحد پر سامان لیجانے اور لانے کی محنت مزدوری کرنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ ہمارے پاس دوسرا آپشن نہیں تھا۔

    وہ کہتی ہے کہ طورخم سرحد پار کرنا ان کے لیے جان جوکھوں کے کام سے کم نہیں ہے کیونکہ کبھی کبھی ہم سرحد پر تعینات اہلکار کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بھی بنتے ہیں جو بہت ازیت ناک ہوتی ہے۔وہ کہتی ہے کہ دو لمحے ان کے لیے انتہائی دکھ درد بھری ہوتے ہیں ایک یہ کہ جس دن دیہاڑی نہ ملے اور دوسرا یہ کہ جب کمیشن کار انہیں وقت پر ان کو ان کی دیہاڑی کے پیسے نہ دے تو ایسی حالت میں گھر کو خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے جس سے ہمارے گھر میں فاقہ ہوتا ہے۔

    نسرین مزید کہتی ہے کہ محنت مشقت سے واپسی پر گھر کاکام بھی وہی کرتی ہے کیونکہ ان کی ماں بستر پر پڑی دمہ میں مبتلا مریضہ ہے کھانا بنانا، روٹی پکانا،برتن اور کپڑے دھونا،جھاڑو دینا ماں کو وقت پر دوائی دینا یہ سب ان کے ذمہ ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ جس دن ان کا والد دھماکہ کی زد میں آیا اس سے ایک ماہ پہلے ان کی ایک بہن پیدا ہوئی تھی جب کہ بہن سے ایک سال چھوٹاایک بھائی بھی ہے جن کی عمریں اب علی الترتیب 8اور 9سال کی بنتی ہیں تاہم وہ دونوں جسمانی طورپر معذور ہیں جو پڑھنے کے قابل ہیں اور نہ میری طرح کا کام کاج کا۔ وہ کہتی ہے کہ نو سال میں، میں نے بھی محنت مشقت شروع کی تھی اگر میری بہن جسمانی طورپر آج ٹھیک ہو تی تو وہ بھی میرے ساتھ کام پر جاتی اور میرا ہاتھ بٹاتا۔

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ بہت سی بچے گاڑیوں کے نچے اکر کچل گئے متعدد ذخمی ہوگئے ہیں دوسری طرف تشدد کے واقعات بھی اپ کے سامنے ہیں تو ایسے حالات میں اپ کو ڈر نہیں لگتی تو انہوں نے بتایا کہ یہ ڈر کم، ڈر وہ بہت زیادہ ہے کہ جس دن میں گھر کچھ لے نہ جاوں ماں کے لیے دوائی کا بندوبست نہ کرو اس لیے میں نہیں ڈرتی۔وہ کہتی ہے کہ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے تاہم وہ ایک خواب ہوکر رہ گیا ہے آخر میں انہوں نے بہت آہ کے ساتھ کہا کہ کھیل کود کے لیے بھی وقت نہیں ہے۔

    اس کے علاوہ رحیم گل (فرضی نام)کی ایک دس سالہ بیٹی بھی طورخم میں محنت مزدوری کرتی ہے جب ان کے والد سے پوچھا گیا کہ یہ بچی کے سکول جانے کا وقت ہے اپ کیوں اپنی بیٹی محنت مشقت کے لیے بھیجتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں دونوں ٹانگوں سے معذور ہوں اگر میری یہ بیٹی کام پر نہ گئی تو ہمیں کھانے کو کچھ نہ ملے گااس کمر توڑ مہنگائی میں گھر کے اور بھی بہت سی ضروریات اور لوازمات ہیں جن کو پورا کرنا اسان کام نہیں ہے جب ان کی بیٹی قدسیہ (فرضی نام) سے پوچھا گیا کہ محنت مزدوری کرتے ہوئے آپ کوڈر نہیں لگتا کیونکہ اپ جتنی عمر کی لڑکیاں سکول جاتی ہیں اور کھیلتی ہیں تو انہوں جواب دیا کہ میری سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ شام کو میں اپنے معذور والد کے ہاتھ میں دن بھر کی کمائی کا پیسہ تھما دوں ۔


    پاک افغان طورخم سرحد پر تعینات اہلکاروں کے تشدد اور پکڑنے سے بچنے کے لیے بچے اور بچیاں بڑی گاڑیوں کے نیچے چھپتے ہیں جن کے ہاتھوں میں سامان بھی ہو تا ہے۔ مگر وہ دنیا و ما فیہا سے بے خبر ٹائر وں کی زد میں آ کر کچل بھی جاتے ہیں ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے لیکر اب تک 6 بچے اس طرح کے حادثات میں جاں بحق جبکہ 10سے زائد ذخمی ہوئے ہیں۔ طورخم سرحد پر چائلڈ لیبر کم کرنے کے لیے کئی این جی اوز نے کام شروع کیا تھا مگر سب اپنا مشن ادھورا چھوڑ کر چلے گئے چائلڈ لیبر میں مصروف بچوں اور بچیوں کے لیے سکول قائم کیاگیا تھا انہیں عصر حاضر کی تعلیم دلوانے کا وعدہ کیا گیاتھا مگر وہ ایفائے عہد نہ کر سکا اور نہ بچوں اور بچیوں کی حصول تعلیم کی تشنگی پوری ہو سکی۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    پاکستان میں وفاقی اور خیبر پختون خوا کے صوبائی سطح پر کم و بیش تقریباً 2 0قوانین چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے بنائے گئے ہیں اس کے علاوہ چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے پاکستان بین الاقوامی سطح پر مختلف فورمز کا پارٹنر بھی ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان میں چائلڈ لیبر کا حجم بڑھ رہا ہے کیونکہ ان قوانین پر اس طرح عمل درامد نہیں کیاجا تا جس جذبہ سے وہ وضع کیے گئے تھے۔ ہیومن رائیٹس کمیشن رپورٹ کے مطابق خیبر پختون خوا میں چائلڈ لیبرنگ میں مصروف بچوں اور بچیوں کی تعداد 10لاکھ سے زیادہ ہے۔ پروٹیکشن اف چائلڈ رائیٹس کے ایک این جی او کے ڈائریکٹر عمران ٹکر نے بتایا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ قومی سطح پر چائلڈ لیبر کا ایک جامع سروے کرے کیونکہ بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے حقیقی ڈیٹا حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ان کی تعلیم کے لیے بجٹ کا ایک بڑا حصہ مختص کرنا چاہئے تاکہ ہر بچہ سکول جا سکے کیونکہ صرف تعلیم ہی کے زریعے اس کا خاتمہ ممکن ہے۔ووکیشنل تعلیمی اداروں خواہ رسمی ہو یا غیر رسمی کو قائم کیاجائے اور غربت کے خاتمہ کے لیے ایک پائیدار پروگرام کا اغاذکیاجائے اور ان بچوں کو اس پروگرام کا ہدف بنایاجائے جو چائلڈ لیبر کرتے ہیں یا سٹریٹ میں ہیں۔قوانین پر سختی سے عمل درامد کیاجانا چاہئے انسپیکشن نظام کو مظبوط کرناچاہئے اور بڑی سطح پر اگاہی پروگرامات کا انعقاد کیاجائے کہ بچوں اور بچیوں کو کام کی بجائے سکولوں کو بھیجا جائے۔

  • بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو یعنی بھٹو کے نواسے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے نے کسی ایمرجنسی اور مارشل لاء کا ذکر کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ بلاول زرداری ہیں۔ پیپلزپارٹی کے مطابق وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزارت عظمی کے اُمیدواروں کی دوڑ میں بھی شامل ہیں۔ دنیا جمہوریت کی ہے، دنیا نے اپنے معاملات حل کرنے کے سویلین حکومتیں بنا رکھی ہیں۔ا ن ممالک میں مارشل لاء کا کوئی تصور نہیں دنیا کے کسی بھی ملک کے باشندے سے سوال کریں مارشل لاء حکومت کیا ہوتی ہے تووہ آپ کا منہ دیکھتا ہے ان کے نزدیک مارشل لاء نام کی کوئی حکومت نہیں ہوتی لیکن بدقسمتی سے ہماری آج کی سیاسی جماعتوں میں ایسے کھوٹے سکے موجود ہیں جو مارشل لاء کی پیدوار بھی ہیں اور ہر سیاسی جماعت میں انہی لوگوں کا قبضہ بھی ہے ان کو خوشامدی بھی کہا جاتا ہے۔ فوج سرحدوں کی محافظ ہے انہوں نے ملک معاملات سیاستدانوں کے حوالے کر رکھے ہیں۔ تاہم سیاستدانوں نے اس ملک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیا ہے انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے 22 کروڑ عوام پر حکمرانی کرتے ہیں۔

    بھٹو کا نام آج بھی اگر زندہ ہے تو اس کی ایک وجہ بھٹو بے سہارا اور پسے ہوئے عوام کا نام لیتا تھا عوام کو سیاسی شعور دیا تاہم بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد کی پیپلزپارٹی کا حشر سب کے سامنے ہے۔ آج جس طرح حیر ت انگیز طورپر عوام کی اکثریت بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کا ساتھ دے رہا ہے اُس کی بنیادی وجہ وہ عوام ، قانون کی حکمرانی ، پارلیمنٹ کی بالادستی جمہوریت اور آئین کی بات کررہا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا دیکھ لیں یا ملکی سیاسی گلیاروں میں عمران کا طوطی بولتا ہے ۔ عمران خان کی عملی سیاست اس کو بین الاقوامی سیاستدان بنا گئی بلاشبہ وزارت عظمی کے دوران ان کی کارکردگی قابل ستائش نہیں تھی تاہم عمران خان کو سیاستدان بنانے میں پی ڈی ایم کی سیاست کا بھی اہم کردار ہے ۔ شاید عمران خان کی مقبولیت کو دیکھ کر بلاول بھٹو نے ایمرجسنی اورکسی مارشل لاء کا ذکر کیا ہے تاہم ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت پی ڈی ایم اورعمران کا مقابلہ ایک طرف ریاستی طاقت اور دوسری طرف سیاسی مقابلہ کہا جا سکتا ہے ۔ ایک طر ف سٹریٹ پاور اور دوسری طرف سٹیٹ پاور کا مقابلہ ہورہا ہے ۔ تاہم سب نے ملک کر اپنی نالائقی ثابت کر دی ہے پاک فوج اورعدلیہ دونوں اداروں پر بوجھ ڈال دیا ہے ۔ حالانکہ یہ سیاسی معاملات تھے اس کے لئے پارلیمنٹ اور سینٹ موجود تھی۔

  • آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک کے موجودہ اور مستقبل کے ظل سبحانیاں آٹے کی لائنوں میں لگی یہ قوم کی دست بستہ درخواست کرتی ہے کہ جو ناکردہ گناہ اس قوم نہ کر لئے ان پر اس قوم کو معاف کردیں۔ٹوپی ڈرامے ختم کرکے تباہ حال اور مجبور قوم کا مزید امتحان نہ لیں۔ ان سے روز گارتم نے چھینا ،رو مرہ کی ضروریات زندگی سے کوسوں دور کردیا ۔ بجلی گیس تم نے چھین لی۔ لے دے کے ان کے پاس جان تھی اب وہ لے رہے ہو۔ شاہی دستر خوانوں کو لپیٹ کر خوشنما نعرے دینے کی بجائے ان کے مسائل کا حل پیش کریں۔ ملک کے وقاراس کی عزت ملکی اداروں کی عزت کو بھی اب اُچھال رہے ہو ۔ قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ پر چڑھ دوڑے ہو ۔ پاکستان اور اس کی عوام سے آپ سب کس دشمنی کا بدلہ چکا رہے ہو۔

    پاکستان آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے اس کو مزید کس مقام پر لے جا کر چھوڑنا چاہتے ہو؟ آئین اور جمہوریت کے ساتھ مذاق کرنے کی بجائے جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ۔ باری کے چکر میں ملک کو تباہی میں نہ جھونکا جائے۔ جمہوری اداروں کو بچانے ملک کی بقا اور سالمیت کی فکر کرنے، عوام کی زندگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ بھٹو خاندان کی سیاسی تاریخ خون سے رنگین ہے ملک کی ترقی ،بقا اور استحکام و سالمیت کے لئے اس خاندان نے جتنی قربانیاں دی ہیں تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی افسوس آج کی پیپلزپارٹی کے سامنے آئین کی خلاف ورزی کی باتیں سینہ تان کر جا رہی ہیں چند ایک کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی آئین شکن کی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے ۔ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا خاکی وجود ہی نہیں جمہوریت کے لیے طویل سیاسی جدوجہد سے عبارت ایک سیاسی عہد کو بھی دفن کیا جا رہا ہے۔پیپلزپارٹی کی آج کی سیاست لمحہ فکریہ ہے ۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ موجودہ پیپلزپارٹی کی قیادت کے سامنے آئین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے۔ عدلیہ کی اصل مدد میڈیا اور عوام ہیں۔ سیاسی جماعتیں پہلے فوج پر حملہ آور ہوئیں سلیکٹڈ اور امپورٹڈ کا مطلب کیا تھا؟ دونوں طرف سے فوج پر حملہ ، اور اب عدلیہ پر حملہ ہو رہاہے یاد رکھیے اس ملک کی بقا و سلامتی کے لئے آئین اور انصاف کے مسئلے پر عوام ، میڈیا اور فوج عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ اس سلسلے میں کسی بھی سیاسی قوت کی پروا نہیں کی جائے گی۔

  • رمضان اور یوم پاکستان ،تحریر:محمد نعیم شہزاد

    اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور احسان ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کی مبارک ساعتيں ایک بار پھر میسر ہیں۔ یوم پاکستان اور پہلا روزہ دونوں خوشیاں اکٹھی نصیب ہوئیں مگر فی زمانہ میری ارض پاک، ملک پاکستان کچھ مختلف حالات سے دوچار ہے۔ جہاں ایک طرف اقتصادی طور پر ملک قرضوں کے بوجھ تلے ڈوبا ہے تو دوسری طرف اندرونی خلفشار اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے میرے وطن میں اچھے حکمرانوں کا فقدان رہا ہے مگر اس بار خرابی حالات کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ عوام بھی ملکی سلامتی اور اجتماعی مفاد کو بھول کر ایک سیاسی راہنما کی فکر میں محو ہیں۔
    انسان فطری طور پر کمزور ہے اور خواہشات کا اسیر بن کر بہت سے غلط افعال کا مرتکب ہو جاتا ہے مگر کبھی کسی کی اس قدر مخالفت نہیں کرنی چاہیے کہ بات مخاصمت اور مجادلت تک بڑھ جائے۔ چار برس پہلے جب ایک منتخب وزیراعظم کی نااہلی عمل میں آئی اور ایک دوسری پارٹی کو برسر اقتدار آنے کا موقع ملا تو سب کچھ مبنی بر انصاف لگا اور ہر نااہلی عین قانونی اور آئینی معلوم ہوئی مگر جب اگلے چند برسوں کے بعد خود یہ منصب چھوڑنا پڑا تو سب غیر آئینی اور اداروں کی مداخلت نظر آنے لگا۔ وہ ادارے جن کے ساتھ یکجہتی دکھائی گئی انھیں مورد الزام ٹھہرا کر سب سیاہ و سفید کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ اپنے حق میں ہونے والی ہر بات کو حق اور اپنے خلاف ہونے والی بات کو باطل تسلیم کر لیا گیا۔ قرض تلے ڈوبی ہچکولے کھاتی معیشت کا مذاق اڑایا جانے لگا اور عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ نازیبا سلوک کو محض موجودہ حکومت کی نالائقی اور ناکامی قرار دیا گیا۔
    بحثیت ذمہ دار شہری ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ ملکی حالات کی نزاکت کا ادراک کرے اور اپنی سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وسیع تر قومی مفاد میں سوچے۔ الزامات کی سیاست کو پروان چڑھانے کی بجائے ہر سیاسی رہنما اور جماعت سے مطالبہ کرے کہ وہ قومی سلامتی اور ترقی کے لیے کام کرے۔ بے جا کسی رہنما یا جماعت کی حمایت نہ کی جائے اور ملک و قوم کو افراد اور جماعتوں سے بالاتر سمجھا جائے۔
    بحثیت مسلمان ہمیں خوب جان لینا چاہیے کہ اس جہان رنگ و بو میں صرف ایک ہی ہستی اقتدار اعلیٰ کی مالک ہے اور وہ سب سے قوی و عزیز تر ہے۔ آج ہی قرآن مجید کا مطالعہ کرتے درج ذیل آیت قرآنی نظر سے گزری تو فوراً ملکی حالات کی طرف خیال گیا۔ سورہ اعراف میں جہاں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے دربار میں موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں جادوگروں کی شکست اور رجوع الی اللہ کا بیان کیا اور فرعون کے اپنی طاقت کے نشے میں چور بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرنے اور خواتین کو زندہ چھوڑنے کا ذکر کیا اس سے متصل دنیا میں حکومت اور آخرت کے حسن انجام کا معاملہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ۔

    قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ (الاعراف ، ۱۲۸)

    موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اللہ سے مدد طلب کرو اور صبر کرو ۔بیشک زمین کا مالک اللہ ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔

    حاصلِ کلام یہ ہے کہ حکمرانی اور بادشاہت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے مگر حسن عاقبت تو صرف پرہیز گاروں کے لیے ہی ہے۔ تو ہم کیوں اس دنیا کی حکومت کے لیے ہر جائز ناجائز کام کر گزرنے کو تیار ہیں ۔ ہم عمل کے مکلف ہیں مگر اسلامی حدود میں رہتے ہوئے ۔ ہمیں ہر ایسے فعل و عمل سے ضرور بچنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ناپسندیدگی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس ماہ مبارک میں ہمارے ملک پر خصوصی فضل و کرم فرمائے اور ارض پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔

  • اب عدلیہ نشانہ کیوں؟ تجزیہ. شہزاد قریشی

    اب عدلیہ نشانہ کیوں؟ تجزیہ. شہزاد قریشی

    پاکستان بطور ریاست ہی نہیں جمہوریت، سیاستدان، عوام اور ملکی ادارے ایک بہت بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اگر کہلانے کا دعویدار ہے تو پھر دیکھنا ہوگا عدلیہ کا اسلام میں کیا مقام اور مرتبہ ہے اسلام کا بنیادی درس ہی برابری کا ہے اور اس سلسلے میں حضور نبی کریم ﷺ جن کی ہم امت ہیں کا آخری خطبہ ہم سب کے لئے کافی ہے۔ ہماری پارلیمنٹ جمہوری جدوجہد کے بعد وجود میں آئی ہے خدا نہ کرے اس پر دوبارہ کوئی آنچ آئے۔ تاریخ گواہ ہے ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے حق حکمرانی سے محروم ہو گئے۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک کامیابی کا راز بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں آزاد عدلیہ ، بدقسمتی سے وطن عزیز میں کوئی ایسا دور حکومت نہیں جس میں حکمران آزاد عدلیہ کے نعرے تو بلند کرتے نظر آتے ہیں لیکن ذاتی مفادات گروہی جنگ میں خود میں پڑنے والی ضرب کو روکنے کے لئے عدلیہ کا وقار مجروح کرتے ہیں۔ طاقت کے کھیل میں ملکی وقار اور عزت کو سب سے مل کر دائو پر لگا دیا ہے۔

    آج ایک طرف عدل و انصاف اور دوسری طرف من مانیوں کا راج ہے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی پاکستانی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی پر تنقید نہیں کر سکتا اگر وہ تنقید کرے تو قابل مواخذہ ہے اورعدلیہ کی تضحیک پر پارلیمانی رکنیت بھی معطل ہو سکتی ہے۔ سیاستدانوں نے فوجی آمروں کے خلاف عدالتوں کے دروازے پر دستک دی اور بحال بھی ہوئے۔ یقیناً نظریہ ضرورت دفن ہو چکا ہے۔ سب کو مل کر ملک کے مستقبل اور اس بے بس عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیاستدان کب سدھریں گے غلطی پر غلطی کرتے چلے آرہے ہیں عوام کی اکثریت ان کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے سیاستدانوں کی باہمی چپقلش اور غیر جمہوری حرکات آمریت کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔ وطن عزیز ایک انقلاب کی صورت میں معرض وجود میں آیا اور اس انقلاب کا جو مقصد تھا اس کا نفاذ تمام سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔