Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • کیا پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    کیا پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ سوال مزید گہرا اور سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، انتظامی مسائل، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوامی شکایات نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ صوبے، خصوصاً پنجاب، آبادی اور رقبے کے لحاظ سے اتنے وسیع ہو چکے ہیں کہ ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے تحت مؤثر حکمرانی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور، سرائیکی خطہ اور کراچی جیسے علاقوں میں یہ احساس مسلسل بڑھ رہا ہے کہ فیصلے اُن کی ضروریات کے مطابق نہیں ہو پاتے۔ دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف تک رسائی کے لیے غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
    نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بہتر گورننس کو یقینی بناتے ہیں۔ جب دارالحکومت قریب ہو، فیصلہ سازی مقامی سطح پر ہو اور وسائل کی تقسیم علاقائی ضروریات کے مطابق کی جائے تو عوامی مسائل زیادہ تیزی سے حل ہو سکتے ہیں۔ دنیا کی کئی کامیاب ریاستیں اسی ماڈل پر چل رہی ہیں جہاں انتظامی تقسیم کو ترقی کا ذریعہ بنایا گیا۔
    تاہم اس بحث کا دوسرا رخ بھی ہے۔ ناقدین کے مطابق نئے صوبوں کا قیام محض انتظامی نہیں بلکہ ایک حساس آئینی اور سیاسی معاملہ ہے۔ اگر یہ عمل لسانی، نسلی یا سیاسی بنیادوں پر کیا گیا تو یہ قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے بھاری مالی وسائل، نیا انتظامی ڈھانچہ اور سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے، جو اس وقت ایک مشکل مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔
    اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر اور کس مقصد کے تحت بننے چاہئیں۔ اگر مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، محرومیوں کا ازالہ اور ریاستی نظام کو مؤثر بنانا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ لیکن اگر یہ مطالبہ صرف سیاسی نعرہ یا وقتی فائدے کے لیے ہو تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر جذبات کے بجائے قومی مفاد، آئینی تقاضوں اور زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے۔ ایک غیر جانبدار قومی کمیشن کے ذریعے آبادی، وسائل، انتظامی صلاحیت اور عوامی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ وسیع سیاسی مکالمہ اور اتفاقِ رائے کے بغیر اس سمت میں کوئی بھی قدم ملک کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔
    آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر نئے صوبے پاکستان کے عوام کی زندگی آسان بنانے، ریاست کو مضبوط کرنے اور احساسِ محرومی کم کرنے کا ذریعہ بنیں، تو یہ ایک قابلِ غور آپشن ہے—لیکن شرط یہ ہے کہ یہ فیصلہ جلد بازی، سیاست یا تقسیم کے بجائے تدبر، شفافیت اور قومی وحدت کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔

  • ایبٹ آباد کردار اکیڈمی ،صرف تعلیم نہیں کردار کی بھی تعمیر ،تحریر:ریحانہ جدون

    ایبٹ آباد کردار اکیڈمی ،صرف تعلیم نہیں کردار کی بھی تعمیر ،تحریر:ریحانہ جدون

    تعلیم ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تعمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور قتدار کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے ،یہاں آپ کے بچوں کو علم کے ساتھ اخلاق بھی سیکھایا جاتا ہے ،دین دنیا اور ڈسپلن ایک ہی منزل میں ، آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کےلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت ،محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں انہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں بچے پڑھتے بھی ہیں اور حفظ بھی کرتے ہیں اور اچھے انسان بھی بنتے ہیں کردار اکیڈمی میں حفظ قرآن کا بہترین انتظام آپ کو ملے گا یہاں بچوں کی اخلاقی اور اسلامی تربیت بھی ہوتی ہے سپونگ انگلش اور تربیت یافتہ اساتذہ ،نظم و ضبط اور والدین کے تعاون کے ساتھ کردار اکیڈمی بہترین کام کررہا ہے

    یہاں طلباء کے لئے کلاس رومز اور سہولیات مذید محفوظ اور بہتر ہیں تاکہ تعلیم کا ماحول بہترین اور موثر ہو،ایک منظم اور تجربہ کار قیادت میں کردار اکیڈمی ایسا ادارہ ہے جو آپ کے بچوں کو محفوظ دینی ماحول میں تعلیم دیتا ہے،روزانہ درس سے بچوں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ بچوں کے اسلامی علوم میں بھی اضافہ ہوتا ہے ،عملی سرگرمیاں بھی کروائی جاتی ہیں جس میں بچے مختلف ڈیزائن اور پروجیکٹ بناتے ہیں ،ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ یہاں اساتذہ کے تربیتی سیشن بھی ہوتے ہیں،یہاں پروجیکٹ بیسڈ لرننگ کے ذریعے طلباء میں تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے سیکھنے کے لئے سازگار ماحول ہے ،ایک اسکول کی نمایاں خصوصیات اور کامیابیوں پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک مربوط نظام ، متحرک قیادت ، تربیت یافتہ اساتذہ ، موثر پالیسی ، والدین کی شمولیت اور مسلسل بہتری کا عمل کارفرما ہوتا ہے،یہاں آپ کے بچوں کو علم کے ساتھ اخلاق بھی سیکھایا جاتا ہے

  • ٹرمپ امن بورڈ ، امید، خدشات اور عالمی سیاست،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ٹرمپ امن بورڈ ، امید، خدشات اور عالمی سیاست،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیا گیا ’’ٹرمپ امن بورڈ‘‘ عالمی سیاست میں ایک نیا اور غیر روایتی اقدام ہے، جس میں مختلف ممالک کی شمولیت نے بین الاقوامی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔ اس فورم کو بظاہر غزہ سمیت دیگر تنازعات میں جنگ بندی، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے لیے ایک متبادل پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    اس اقدام کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ طویل عرصے سے جاری خونریزی اور عدم استحکام کے شکار خطوں میں امن کی کوششوں کے لیے ایک نیا مکالمہ شروع ہوا ہے۔ اگر مختلف ممالک خلوصِ نیت کے ساتھ اس فورم کے ذریعے عملی اقدامات کریں، انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں اور متاثرہ عوام کی آواز کو سنا جائے تو یہ کوشش قابلِ ستائش قرار دی جا سکتی ہے۔

    تاہم، اس کے ساتھ سنجیدہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے پہلے ہی امن، ثالثی اور انسانی حقوق کے لیے موجود ہیں۔ ایسے میں ایک نیا بورڈ کہیں بین الاقوامی اتفاقِ رائے کو تقسیم نہ کر دے۔ مزید یہ کہ بعض بڑی عالمی طاقتوں اور یورپی ممالک کی عدم شمولیت اس فورم کی عالمی ساکھ اور مؤثریت پر سوالیہ نشان ہے۔

    اصل کسوٹی یہ نہیں کہ کتنے ممالک اس بورڈ میں شامل ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ فورم عملی طور پر جنگ بندی، انصاف پر مبنی حل اور متاثرہ عوام کی بحالی میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ پلیٹ فارم محض سفارتی بیانات، سیاسی مفادات یا طاقت کے توازن تک محدود رہا تو امن ایک بار پھر ایک نعرہ ہی بن کر رہ جائے گا۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی طاقتیں امن کو سیاسی برتری کا ہتھیار بنانے کے بجائے انسانیت کے مشترکہ مقصد کے طور پر اپنائیں۔ ٹرمپ امن بورڈ اسی صورت میں کامیاب کہلائے گا جب وہ طاقت کے بجائے انصاف، مفاد کے بجائے انسان اور سیاست کے بجائے پائیدار امن کو ترجیح دے۔

  • تبدیلی ، تحلل ، انقلاب،تحریر:پارس کیانی

    تبدیلی ، تحلل ، انقلاب،تحریر:پارس کیانی

    زندگی میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ انسان کی سوچ کی بنیادیں بدل دیتے ہیں۔ میرے ساتھ ایسا ہی ایک واقعہ دورانِ ملازمت پیش آیا۔ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر میں گھر جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھی۔ راستے میں گاڑی ایک جگہ رکی اور سامنے ایک پرانی، عام سی ویگن کھڑی تھی۔ اس کے پیچھے لکھا ہوا جملہ میرے اندر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا "میں بڑی ہو کر ڈیؤ (DAEWOO) بنوں گی!”

    اس وقت میں بے اختیار ہنس پڑی۔ برسوں گزر گئے، مگر اب میں سمجھتی ہوں کہ وہ محض مذاق نہیں تھا, یہ ایک علامت تھی۔ وہ ویگن اپنی موجودہ حالت میں "بڑی” نہیں ہو رہی تھی، بلکہ وہ بدلنے کا اعلان کر رہی تھی۔ وہ اپنی شکل، اپنی ساخت، اپنے معیار، اور اپنے اندر کی توانائی کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھتی تھی۔ اسی طرح انسان بھی کسی پیشہ، عمر یا مرتبے سے نہیں بڑھتا، وہ اپنے آپ کو بدل کر ہی کچھ بنتا ہے۔
    اور یہی وہ لمحہ ہے جب میں نے پہلی بار یہ سمجھا کہ انسان کے اندر کا پرانا وجود مکمل طور پر ختم ہوتا ہے، تب ہی وہ نئی شکل اختیار کر پاتا ہے۔ اس مرحلے میں وہ جو پہلے تھا، وہ اپنے اندر مار دیا جاتا ہے، اور جو نیا جنم لیتا ہے، وہی اصل ٹرانسفارمیشن ہے۔
    تبدیلی صرف ظاہری تبدیلی نہیں، بلکہ اندرونی انقلاب ہے۔ انسان کی شخصیت، اس کے رویے، اس کے خوف، اور اس کے ضمیر کی ساخت یہ سب ٹوٹ کر دوبارہ بناتے ہیں۔
    کائنات کی ہر حرکت اسی قانون کے تابع ہے: ستارے ٹوٹتے ہیں، پہاڑ بلند ہوتے ہیں، دریا رخ بدل لیتے ہیں۔ ہر شے مستقل حرکت میں ہے۔ انسان بھی اسی نظام کی کڑی ہے۔ اگر وہ ساکن رہے تو جمود میں رک جاتا ہے، مگر اگر وہ بدل جائے تو نئی تخلیق پیدا کرتا ہے۔

    یہ داخلی انقلاب وہ لمحہ ہے جب انسان کے اندر کا پرانا انسان مر جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان اپنے پچھلے خوف، پرانی عادتوں، محدود سوچ، اور پرانے تصورِ خود کو مکمل طور پر چھوڑ دیتا ہے۔ یہ مکمل موت ہے تاکہ ایک نیا وجود جنم لے۔
    یہی وہ لمحہ ہے جو فلسفیانہ اعتبار سے سب سے اہم ہے:
    جیسے خزاں میں خشک پتّا درخت سے الگ ہو کر مٹی میں مل جاتا ہے، مگر اسی مٹی سے نئی کونپل جنم لیتی ہے؛
    جیسے لوہار پُرانے لوہے کو بھٹی میں پگھلا کر نئی شکل دیتا ہے، مگر پہلے لوہے کی موت لازمی ہے؛
    اور جیسے کیڑا اپنے خول کو توڑ کر تتلی بنتا ہے۔
    یہ داخلی موت ہی انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے نئے آپ میں پیدا ہونے کے بعد واقعی کچھ بن سکے۔ یہی اصلی ٹرانسفارمیشن ہے۔

    تبدیلی نہ صرف نفسیاتی بلکہ ادبی اور علامتی سطح پر بھی واضح ہے۔
    ویگن کا جملہ، "میں بڑی ہو کر ڈیؤ بنوں گی”، ادبی طور پر ایک علامت ہے۔ ویگن کا یہ دعویٰ، اس کی موجودہ حالت پر مبنی نہیں، بلکہ اس کی تخلیقی صلاحیت اور اندرونی ارتقا پر مبنی ہے۔ انسان بھی ایسا ہی ہے:
    وہ اپنی موجودہ حالت کو بدل کر بڑا انسان بنتا ہے۔
    نفسیاتی مطالعے بھی یہی بات ثابت کرتے ہیں کہ انسان کی اصل تبدیلی اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنی پرانے انا کو فنا کر دیتا ہے۔ یونگ کے مطابق، "اندرونی خود کی موت” کے بغیر کوئی بھی شخص اپنی مکمل شخصیت کے بلند درجات تک نہیں پہنچ سکتا۔ "راجرز اور فرائیڈ” بھی یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی تبدیلی تب ہوتی ہے جب انسان اپنے اندر کے پرانے تصورات اور محدود یقینوں کو تحلیل کر دیتا ہے۔
    علامتی سطح پر بھی ہم زندگی میں کئی مثالیں دیکھتے ہیں جیسے
    بیج درخت بنتا ہے، مگر پہلے بیج کو مٹی میں تحلیل ہونا پڑتا ہے۔
    دریا اپنی راکھ اور ریت کو توڑ کر نیا رخ اختیار کرتا ہے۔
    ستارہ اپنی توانائی جلانے کے بعد روشنی میں بدل جاتا ہے۔
    یہ سب مشاہدات انسان کی انقلاب ذات کے فلسفے کو ظاہر کرتے ہیں: انسان بھی اگر بدل جائے تو نئے وجود میں پیدا ہوتا ہے، اور اپنے پچھلے خود کو مکمل طور پر ختم کر کے نئی شکل اختیار کرتا ہے۔

    انقلاب ذات انسان کی زندگی کا سب سے گہرا راز ہے۔ وہ بڑے ہونے سے نہیں بنتا، بلکہ بدلنے سے بنتا ہے۔ اس بدلاؤ میں انسان کے اندر کا پرانا وجود ختم ہوتا ہے اور نئی شخصیت، نئی سوچ اور نئی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان واقعی زندگی کے اصولوں کو سمجھ پاتا ہے اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔
    ویگن پر لکھا جملہ، "میں بڑی ہو کر ڈیؤ بنوں گی”، آج صرف مذاق یا سادگی نہیں لگتا۔ یہ علامتی اعلان ہے ہر انسان کے اندر چھپی ٹرانسفارمیشن کا۔ وہ “بڑی” نہیں ہونی تھی، وہ نئی ہونی تھی۔ اور نئی ہونے کے لیے ضروری تھا: اپنے پچھلے وجود کو دفن کرنا، اپنے اندر کے پرانے انسان کو مار دینا، اور اس جگہ ایک نیا وجود پیدا کرنا
    یہی انسانی ترقی، ارتقا اور اصلی تبدیلی transformation ہے۔ اور یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے:
    انسان سماجی طور پر بتدریج بڑا نہیں ہوتا
    نہ موجودہ حقیقت سے بڑا بنتا ہے بلکہ اپنے اندر کے "ممکنہ خود” سے بڑا بنتا ہے۔

  • مریم نواز کی خوش قسمتی، تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی خوش قسمتی، تجزیہ:شہزاد قریشی

    میرے نزدیک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں نہایت پیشہ ور، دیانتدار اور قوم سے مخلص پولیس افسران کی ٹیم ملی ہے۔ لاہور میں امن و امان، سیف سٹی کا مؤثر کردار اور رات گئے فیلڈ میں موجود اعلیٰ افسران اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت اور پولیس ایک صفحے پر ہیں۔ یہی تسلسل رہا تو لاہور مزید ترقی کرے گا۔ میرے نزدیک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں پنجاب میں نہایت قابل، مخلص اور پیشہ ور پولیس افسران کی ٹیم میسر آئی ہے جو صوبے بالخصوص لاہور میں امن و امان کی صورتِ حال کو مؤثر انداز میں برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ افسران نہ صرف اپنی قوم سے خلوص رکھتے ہیں بلکہ نظم و ضبط، دیانت اور دینی اقدار کے بھی پابند ہیں۔ میں اس وقت لاہور میں موجود ہوں اور اگر عام شہری سے پوچھا جائے تو ایک واضح رائے سامنے آتی ہے کہ موجودہ دور میں لاہور میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کا کردار قابلِ تحسین ہے، جسے اب بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے اور غیر ملکی ماہرین آ کر اسے ماڈل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو پنجاب پولیس کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔

    لاہور جیسے بڑے شہر میں رات بارہ بجے تک پولیس کے اعلیٰ افسران کا خود فیلڈ میں موجود ہو کر نگرانی کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قیادت اور عمل درآمد میں سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ آئی جی پنجاب، ڈی جی سیف سٹی، ڈی آئی جی آپریشنز اور دیگر افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔اگر یہی ٹیم اور یہی نظم و ضبط آئندہ دو برس برقرار رہا تو ان شاء اللہ لاہور نہ صرف امن کے اعتبار سے بلکہ ترقیاتی اور انتظامی لحاظ سے بھی ایک مثالی شہر بن کر ابھرے گا۔ بلاشبہ مریم نواز شریف خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایسے افسران میسر آئے ہیں۔

  • صحت، رب کی سب سے بڑی نعمت،تحریر:نور فاطمہ

    صحت، رب کی سب سے بڑی نعمت،تحریر:نور فاطمہ

    انسان کو عطا ہونے والی بے شمار نعمتوں میں اگر کوئی نعمت خاموشی سے انسان کی زندگی کو سہارا دیتی ہے تو وہ صحت ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو نظر نہیں آتی، مگر اس کی موجودگی میں زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ جب جسم تندرست ہو تو دن مختصر اور راتیں پرسکون لگتی ہیں، لیکن جونہی بخار، درد یا کمزوری دستک دیتی ہے، انسان کو اپنی حیثیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔بخار، بلڈ پریشر کا اتار چڑھاؤ، جسم میں درد، کمزوری، بے چینی، ڈاکٹر کے چکر اور دواؤں کا بوجھ،یہ سب تکلیفیں بظاہر بیماری لگتی ہیں، مگر درحقیقت یہ اللہ کی طرف سے ایک پیغام ہوتی ہیں۔ کبھی یہ آزمائش ہوتی ہیں، کبھی تنبیہ، اور کبھی انسان کو اس کی غفلت کا احساس دلانے کا ذریعہ۔اللہ تعالیٰ بندے کو فوراً نہیں پکڑتا، پہلے اشاروں میں سمجھاتا ہے۔ جسم کی تکلیف دراصل روح کو جھنجھوڑنے کا نام ہے کہ “اپنے آپ کو پہچانو، اپنی نعمتوں کی قدر کرو، اور اپنی زندگی کو سنوارو۔”

    بیماری میں ڈاکٹر کی دوائیں ضروری ہیں، مگر یہ یاد رکھنا بھی لازم ہے کہ شفا دوا میں نہیں، اللہ کے حکم میں ہے۔ دوا تو صرف ایک وسیلہ ہے۔ کتنے ہی مریض ایک ہی دوا کھاتے ہیں، مگر شفا کسی کو ملتی ہے اور کسی کو نہیں،کیونکہ شفا دینے والا صرف رب ہے۔اسی لیے دوا کے ساتھ دعا اور شکر کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ بیماری انسان کو عاجزی سکھاتی ہے، اور عاجزی بندے کو رب کے قریب لے جاتی ہے۔صحت ہو تو عبادت میں دل لگتا ہے،محنت آسان لگتی ہے،رزق کے دروازے کھلتے ہیں،رشتے نبھانا سہل ہو جاتا ہے،چھوٹی چھوٹی خوشیاں بڑی لگتی ہیں،لیکن جب صحت نہ ہو تو دولت بے معنی لگتی ہے،کامیابی بوجھ بن جاتی ہے،ہنسی تکلیف دیتی ہے،اور زندگی رک سی جاتی ہے،اسی لیے کہا گیا ہے کہ “صحت مند انسان ہزار خواہشیں رکھتا ہے، بیمار انسان صرف ایک۔”

    بدقسمتی سے ہم صحت کو ہمیشہ موجود رہنے والی چیز سمجھ لیتے ہیں۔ نہ کھانے پینے کا خیال، نہ آرام کی پرواہ، نہ ذہنی سکون اور جب جسم جواب دینے لگتا ہے تو شکوہ شروع ہو جاتا ہے۔حالانکہ اصل شکر یہ ہے کہ متوازن غذا اختیار کی جائے،وقت پر آرام کیا جائے،ذہنی دباؤ کم رکھا جائے،اللہ کی یاد کو زندگی کا حصہ بنایا جائے،کیونکہ جو انسان اپنی صحت کی حفاظت کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کی نعمت کی حفاظت کرتا ہے۔یہ ایک سادہ مگر گہرا سچ ہے کہ صحت ہوگی تو زندگی آسانی سے چلے گی۔ مشکلات آئیں گی، مگر ان کا سامنا کرنے کی طاقت ہوگی۔ آزمائشیں ہوں گی، مگر حوصلہ باقی رہے گا۔صحت انسان کو یہ ہمت دیتی ہے کہ وہ گرے تو اٹھ سکے، روئے تو سنبھل سکے، اور ہارے تو پھر کوشش کر سکے۔

    صحت اللہ کی وہ نعمت ہے جو ہر سانس کے ساتھ ہمیں عطا ہو رہی ہے۔ بیماری آئے تو شکوہ نہیں، سوچ میں تبدیلی آنی چاہیے۔ یہ وقت خود کو پہچاننے، سنورنے اور رب کی طرف لوٹنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔آئیے صحت کو معمولی نہ سمجھیں،اس کی قدر کریں،اور ہر دن یہ دعا کریں “یا اللہ! ہمیں صحتِ کاملہ عطا فرما، اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے والا بنا دے۔ آمین”

  • جنید صفدر کی شادی ، وزیراعلی پنجاب کی شاہ خرچیاں . تحریر: عائشہ اسحاق

    جنید صفدر کی شادی ، وزیراعلی پنجاب کی شاہ خرچیاں . تحریر: عائشہ اسحاق

    گزشتہ دنوں وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی دوسری شادی نہایت شان و شوکت سے ہوئی۔ جو وزیراعلی صاحبہ کی اپنی ہی عائد کردہ ون ڈش پا لیسی کے بیان پر طمانچہ ثابت ہوئی۔ اس سے واضح ہے کہ یا تو وزیراعلی صاحبہ کی یاداشت کمزور ہے یا وہ اپنی طاقت کے نشے میں ہیں اور اس قدر پر اعتماد ہے کہ انہیں ان کی ایسی من مانیوں پر کوئی سوال نہیں پوچھ سکتا۔ مغلیہ دور کی شاہانہ طرز زندگی اپنائے ہوئے بھارتی ڈریس ڈیزائنرز کے ڈیزائن کردہ قیمتی ملبوسات، بیش بہا قیمتی زیورات، دیگر غیر ملکی برانڈز پہنے ہوئے خاتون کی یہ تیاری انڈین اداکارہ سے کم نہیں یہ کوئی اور نہیں بلکہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ ہیں جو اپنے ہی بیان میں کہتی رہیں کہ ان کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں۔ اس کے علاوہ ان کے باقی ٹولے نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔

    ان سے پوچھا جائے کہ اخر یہ شاہ خرچیاں کہاں سے ہوئی ہیں ؟ایسے سیاست دان اندھی، لولی اور بہری عوام کو کہتے ہیں کہ پاکستان نازک حالات سے گزر رہا ہے ملکی خزانہ خالی ہے جب کہ خود عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور عوام بھوک و افلاس اور دیگر مسائل میں سسک رہی ہے بات وہی ا جاتی ہے کہ ایک مخصوص ٹولہ 25 کروڑ عوام کے حقوق کو دبائے ہوئے ہے اور عوام غفلت کا شکار ہے ان کے مکاریاں عیاریاں اور دھوکے بازیاں مکمل طور پر عیاں ہیں عوام کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔

  • خاموش آنکھیں، بولتا ہوا کرب،تحریر:اقصیٰ جبار

    خاموش آنکھیں، بولتا ہوا کرب،تحریر:اقصیٰ جبار

    آنکھیں کبھی جھوٹ نہیں بولتیں، چاہے زبان خاموش رہ جائے۔
    معاشرتی زندگی کی سب سے بڑی سچائی شاید آنکھوں میں چھپی ہوتی ہے۔ زبان کبھی مصلحت کی قید میں آ جاتی ہے، مگر آنکھیں چھپائی نہیں جا سکتیں۔ وہ ہر درد، ہر کرب اور ہر خاموشی کو ظاہر کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی خبر صرف سرخیوں یا خبروں میں نہیں، بلکہ انسانی آنکھوں میں چھپی ہوتی ہے۔

    آج ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں ہر طرف بولی اور شور ہے، مگر سچائی سننے والا کم ہے۔ ہنسی مذاق، مصروفیت اور سوشل میڈیا کے ہنگامے کے بیچ، وہ آنکھیں جو دن بھر کے دکھ کو سہہ کر بھی خاموش رہتی ہیں، سب کچھ کہہ جاتی ہیں۔ ایک طالب علم کی آنکھ میں خوف، والدین کی نگاہ میں فکر، مزدور کی تھکن اور بزرگ کی تنہائی،یہ سب خبریں ہیں جو کسی اخبار کے صفحے پر نہیں آتیں، مگر معاشرت کی اصل تصویر یہی ہیں۔

    دکھ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ خوشی ہمیں غافل رکھتی ہے، لیکن کرب ہمارے وجود کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ صوفیانہ روایت میں دکھ عبادت اور بیداری کا ذریعہ ہے، سزا یا مایوسی نہیں۔ جو انسان دکھ کے باوجود خاموش رہتا ہے، وہ سب سے مضبوط اور باشعور ہوتا ہے۔ہمارا سماج اکثر آنکھوں کے غم کو کمزوری سمجھتا ہے اور اسے چھپانے کا مشورہ دیتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خاموش آنکھیں سب کچھ کہہ دیتی ہیں۔ والدین جو دن بھر محنت کرتے ہیں، اکثر اپنی تھکن چھپاتے ہیں۔ بزرگ جو تنہائی میں بیٹھ کر زندگی کے لمحے یاد کرتے ہیں، ان کی آنکھیں ہر کہانی سناتی ہیں۔

    یہ آنکھیں کبھی شکایت نہیں کرتیں، نہ کوئی رونا دھونا کرتی ہیں، مگر ہر سچائی کا آئینہ ہوتی ہیں۔ شاید یہی خاموشی کا جادو ہے، جو لفظوں سے کہیں زیادہ اثر کرتی ہے۔قاری سے سوال یہ ہے کہ اگر خاموش آنکھیں اتنا کچھ کہہ سکتی ہیں، تو کیا ہم واقعی سننے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ سوال معاشرت کے لیے نہیں، بلکہ ہر فرد کے لیے ہے۔ جو آنکھیں بول سکتی ہیں اور ہم نہیں سنتے، وہ سچائی کبھی چھپ نہیں سکتی۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنے اندر سننے کی طاقت کو جگانا ہوگا، تاکہ یہ خاموش کرب، خاموش محبت، اور خاموش حقیقت ہمیں صرف دیکھنے والے نہیں، بلکہ سمجھنے والے بھی بنا سکے۔

  • شیشہ گر،تحریر:پارس کیانی

    شیشہ گر،تحریر:پارس کیانی

    الیگزے شیشہ بنانے والا تھا، مگر یہ پیشہ اس کی پہلی پسند نہیں تھا۔ حالات نے اسے "شیشہ گر” بنا دیا تھا۔ شہر کے پرانے حصے میں تنگ گلیوں والے بازار میں اس کی دکان تھی، ایک عام سی دکان جسے لوگ "شیشہ گھر” کہتے تھے۔ شفاف دیواریں، قطار اندر قطار آئینے، اور ان کے بیچوں بیچ ایک خاموش آدمی جو برسوں سے دوسروں کو خود سے ملواتا آ رہا تھا۔
    صبح سے شام تک لوگ آتے۔ کوئی اپنے چہرے کی جھریاں دیکھتا، کوئی اپنی آنکھوں میں جھانک کر چونکتا، کوئی شیشے پر انگلی رکھ کر مسکرا دیتا جیسے اسے اپنا آپ مل گیا ہو۔ شیشہ گر سب کو دیکھتا، سب کی بات سنتا، مگر خود بولتا کم تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شیشہ بولتا ہے، آدمی نہیں۔ آدمی اگر بولنے لگے تو شیشہ ٹوٹ جاتا ہے۔

    اس کی زندگی اسی ترتیب سے گزرتی رہی۔ دن، مہینے، ،سال سب ایک جیسے۔ اس نے بڑے بڑے لوگوں کے لیے آئینے بنائے تھے۔ ایسے آئینے جن میں سچ چھپ نہیں سکتا تھا۔ کئی بار لوگ ناراض ہو کر لوٹے، کئی بار تعریف کر کے۔ مگر کسی نے کبھی اس سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ خود کیا دیکھتا ہے، یا دیکھتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔؟

    رات کو جب دکان بند ہو جاتی تو الیگزے دیر تک وہیں بیٹھا رہتا۔ شیشوں کے درمیان۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ ایک ہجوم میں اکیلا بیٹھا ہو۔ ہر طرف عکس تھے، مگر ان عکسوں میں اس کی اپنی صورت کہیں گم ہو گئی تھی۔ کبھی کبھی وہ سوچتا کہ شاید اس نے خود کو دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ شاید اسے ڈر تھا، اس بات کا کہ اگر اس نے خود کو دیکھا تو سوال اٹھیں گے، اور سوال زندگی کا سکون چھین لیتے ہیں۔

    وہ یاد کرنے لگا کہ کبھی اس نے بھی کچھ اور بننے کا خواب دیکھا تھا۔ شاید کسی اور ہنر کی خواہش تھی، یا محض یہ آرزو کہ وہ بھی کسی دن بے فکر ہو کر اپنے آپ سے بات کر سکے۔ مگر یہ سب خیال ذمہ داریوں کے شور میں دب گئے تھے۔ گھر، وقت، ضرورت، سب نے مل کر اسے ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا جہاں وہ انسان کم اور مشین زیادہ بن گیا تھا۔

    ایک دن ایک لڑکا دکان میں داخل ہوا۔ اس کی آنکھوں میں تجسس تھا، انے والی زندگی کے خواب تھے، اس نے بے دھڑک شیشے میں خود کو دیکھنا شروع کیا۔ اس کم سن لڑکے نے خود کو سر سے پاؤں تک دیکھا اسے اپنے جسم میں جو نقص نظر آیا اس نے فوری طور پر اس کو درست کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔ "الیگزے” اس کی جرأت پر حیران تھا لڑکا شیشوں میں اپنا بغور جائزہ لینے کے بعد اس سے گویا ہوا؛

    کیا آپ نے کبھی خود کو ان شیشوں میں دیکھا ہے؟
    یہ سوال غیر متوقع تھا الیگزے چونکا۔ برسوں میں پہلی بار کسی نے آئینے کے پار نہیں، آئینہ بنانے والے کی طرف دیکھا تھا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر سچ بول دیا:
    “نہیں۔”
    لڑکا مسکرایا، جیسے اسے یہی جواب درکار تھا۔ اس نے کہا:
    "پھر شاید یہ شیشے ابھی مکمل نہیں ہوئے۔”
    وہ لڑکا چلا گیا، مگر اس کا جملہ دکان میں رہ گیا۔ اس رات الیگزے حسبِ معمول بیٹھا رہا، مگر اس بار خاموشی مختلف تھی۔ اس نے ایک شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھا۔ پہلی بار۔ کوئی وہم نہیں، کوئی خوف نہیں، بس ایک تھکا ہوا انسان، جس کی آنکھوں میں سوال تھے، مگر جواب کی خواہش بھی تھی۔
    اگلے دن اس نے دکان کی ترتیب بدل دی۔ ایک آئینے کا رخ اس نے اپنی طرف رکھ لیا، ایسا نہیں کہ لوگ اسے نہ دیکھ سکیں، بلکہ ایسا کہ وہ خود ہر دن اس کے سامنے سے گزرے۔ وہ جان گیا تھا کہ شیشہ گر ہونا برا نہیں، برا یہ ہے کہ آدمی خود کی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔

    اب بھی لوگ آتے ہیں، شیشے دیکھتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔ دکان اب بھی شیشہ گر کی ہی کہلاتی ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ اب وہاں ایک انسان بھی رہتا ہے،جو دوسروں کو سچ دکھاتے ہوئے، خود کو دیکھنا نہیں بھولتا۔
    اور یہی شاید کسی بھی شیشہ گر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔اس کی سوچ کی سوئی ایک جگہ اٹک گئی ۔۔۔۔

    میں نے شیشہ گر ہوتے ہوئے صرف دوسروں کو شیشہ دکھایا میں عیب جو بن گیا لوگوں کے عیب لوگوں کو دکھانے لگا اور لوگوں نے میرے آئینے میں خود کو دیکھا، میرے بنائے گئے شیشوں کی زبانی سن سن کر اپنے نقص دور کرنے شروع کر دئیے۔ اب میرے سامنے شفاف چہرے، شفاف جسم تھے لیکن آج جب وہی شیشہ میرے سامنے آیا تو مجھے اپنے چہرے پہ داغ دھبے، جھریاں، زخم خوردہ جلد، تھکی خشک آنکھیں اترا ہوا چہرہ نظر ا رہا ہے۔ میں نے اتنے سال تک خود کو کیوں نہ دیکھا۔ اپنی تھکن اپنے بدنمائی دور کیوں نہیں کی ۔۔۔۔؟
    شیشہ گر ہوں ۔۔۔جب میں نے اپنے لیے کوئی شیشہ نہیں بنایا تو میں
    "شیشہ گر” کیسے تھا ۔۔۔۔۔۔؟
    میں صرف عیب جو تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ سوچتے ہوئے اس نے سامنے شیشے میں دیکھا۔
    الیگزے خود سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا ۔

  • "ماحول دشمن سیاحت ، وادیوں کے مستقبل کا سوال” تحریر: عائشہ اسحاق

    "ماحول دشمن سیاحت ، وادیوں کے مستقبل کا سوال” تحریر: عائشہ اسحاق

    شمالی علاقہ جات کی وادیاں صرف خوبصورت مناظر نہیں،
    یہ ایک زندہ تہذیب، ایک حساس ماحولیاتی نظام اور صدیوں پر محیط ثقافت کی امین ہیں۔
    مگر افسوس کہ آج جاری سیاحت فطرت دوست ہونے کے بجائے آہستہ آہستہ ماحول دشمن بنتی جا رہی ہے۔

    غیر منصوبہ بند اور بے ہنگم سیاحت کے نتیجے میں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔بڑی تعداد میں ہوٹلز اور ریزورٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں،جس کے باعث سرسبز وادیاں کنکریٹ کے ڈھانچوں میں بدلتی جا رہی ہیں۔یہ ترقی نہیں، فطرت سے بغاوت ہے۔

    سیاحت کے ساتھ آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر، پلاسٹک شاپرز اور ریپرز اس بات کی گواہی دیتے ہیں،کہ ہم وادیوں کو سیرگاہ نہیں بلکہ استعمال کی جگہ سمجھنے لگے ہیں۔شور شرابا، اونچی آواز میں میوزک اور ہنگامہ آرائی،فضا کو شدید صوتی آلودگی سے دوچار کر رہی ہے،جس سے انسان، فطرت اور جنگلی حیات تینوں متاثر ہو رہے ہیں۔

    انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کئی ہوٹلز نے اپنی سیوریج اور گٹر لائنیں دریاؤں کی طرف موڑ رکھی ہیں۔وہ دریا جو ہماری زندگی، ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کی امید ہے،آج کچرے اور گندگی کی نذر ہو رہے ہیں ۔یہ صرف غفلت نہیں، یہ کھلا ماحولیاتی جرم ہے۔

    سیاحت کے منفی اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں رہے۔مقامی ثقافت اور روایات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔لباس، رویّوں اور طرزِ عمل میں عدم توازن ،مقامی معاشرے، اقدار اور خاص طور پر بچوں کی ذہنی کیفیات پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔یہ وہ نقصان ہے جو خاموش ہوتا ہے مگر گہرا ہوتا ہے۔

    آج کی سیاحت سے اصل فائدہ صرف کمرشل ازم کو ہو رہا ہے،جبکہ نقصان پوری وادی، پوری ثقافت اور پورا ماحول اٹھا رہا ہے۔

    اس بحران کا واحد پائیدار حلایکو ٹورازم (Eco-Tourism) ہے۔ایسی سیاحت جو ماحول کو نقصان نہ پہنچائے
    ، مقامی ثقافت اور روایات کا احترام کرے، فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو، ترقی کے ساتھ تحفظ کو یقینی بنائے
    سیاحوں کو ایجوکیٹ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ وادیوں میں آ کر مقامی روایات کا خیال رکھیں، مقامی لوگوں سے میل جول رکھیں، مقامی ٹور گائیڈز، جیپس اور سروسز استعمال کریں، اپنے ساتھ لایا گیا کچرا واپس بیگ میں رکھیں یا ڈسٹ بن میں ڈالیں

    سیاحت ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے،
    جس سے جُڑ کر ہم سب رزقِ حلال کما سکتے ہیں۔