Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • نعمتوں کی قدر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نعمتوں کی قدر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کووِڈ کے دوران ایک سینئیر پروفیشنل انجنئیر خلیجی ملک سے اپنی نوکری سے فارغ ہوگئے اور کئی ماہ بے روزگار رہنے کے بعد بالآخر ہماری فرم میں ایک منیجمنٹ پوزیشن کے لئے منتخب ہوگئے۔ پراجیکٹ سائٹ ان کے گھر ملتان سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ایک ضلعی ہیڈ کوارٹر سطح کے شہر میں تھی جہاں انہوں نے ہر وقت موجود رہ کر اپنی ٹیم سے کام کروانا تھا سوائے ہفتہ وار چھٹی کے جو کہ تعمیراتی منصوبوں میں جمعہ والے دن ہوتی ہے۔

    شروع میں چند دن انہوں نے ٹھیک ٹھاک کام کیا لیکن پھر روزانہ پراجیکٹ کی گاڑی پر ملتان سے آنا جانا شروع کردیا۔ مجھ تک بات پہنچی تو ان سے رابطہ کرکے کہا کہ آپ کو ہر وقت سائٹ پر ہونا چاہئے جہاں کمپنی نے آپ کو رہائش ، کھانے اور ٹرانسپورٹ کی سہولت دی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے والدین کی خراب صحت کا بتایا اور وعدہ کیا کہ یہ چند دن کی بات ہے اور والدین کی صحت بہتر ہوتے ہی وہ دوبارہ سائٹ پر شفٹ ہو جائیں گے۔

    تاہم وہ دن نہ آیا اور اب انہوں نے روزانہ دس گیارہ بجے سائٹ پر پہنچنا اور تین بجے ملتان واپسی کرنا شروع کردی۔ پھر ہر ہفتے ایک آدھ دن ناغہ مارنا شروع کردیا ۔ ہمارے بار بار رابطہ کرنے پر وہ بتاتے کہ وہ سائٹ پر مکمل رابطے میں ہیں اور کلائنٹ کو بھی سنبھالا ہوا ہے جس کا دفتر ملتان میں تھا۔ تاہم ہم نے انہیں فوراً سائٹ پر شفٹ ہونے کا کہا لیکن ان کی روٹین تبدیل نہ ہوئی ۔ ان کے بقول وہ بیمار والدین کو کسی کے حوالے نہیں کر سکتے جس پر ہم نے انہیں ایک دو ماہ چھٹی لینے یا پھر جاب تبدیل کرنے کی آفر کی مگر انہوں نے سابقہ روٹین برقرار رکھی۔

    ہم نے پراجیکٹ کی بگڑتی صورت حال کے پیشِ نظر ایک اور قابل بندے کو سیلیکٹ کرکے ان کی جگہ بھیج دیا کہ چارج ان کے حوالے کردیں۔ وہ فرم کے صدر دفتر حاضر ہوئے معافی تلافی کی اور آئندہ سے نظم و ضبط کی پابندی کے وعدے کے ساتھ پھر سے سائٹ پر شفٹ ہو گئے۔ ایک آدھ مہینہ صحیح نکالنے کے بعد وہ دوبارہ پرانی روٹین پر آگئے اور کلائنٹ کے لوگوں کے ساتھ گروپ بنا کر ہفتے میں دو تین دن غائب رہنے لگے۔

    ہم نے انہیں ایک مہینہ کا ایڈوانس نوٹس دے کر نیا انجنئیر سائٹ پر بھیج دیا اور ان کو گھر بھیج دیا۔ کچھ عرصہ تو انہوں نے مختلف ذرائع سے دباؤ ڈلوا کر واپس آنے کی کوشش کی لیکن الحمدللّٰہ ناکام رہے اور اس عرصے میں نئے بندے نے کام سنبھال لیا اور پراجیکٹ سیدھا ہونے لگا۔کبھی کبھار پرانے بندے کو فارغ کرنے پر افسوس بھی ہوتا لیکن ان کی وجہ سے کام بھی کافی متاثر ہورہا تھا۔

    کچھ دن پہلے ان کا دوبارہ میسیج آیا ہے کہ آپ نے تو مجھے فارغ کردیا تھا لیکن میں پھر خلیج آگیا ہوں، اس سے کئی گنا بہتر جاب پر۔ سوچ رہا ہوں اس کے بیمار والدین کس حال میں ہوں گے؟ اس پراجیکٹ پر تو وہ ہفتے میں ایک دو دن انہیں ملنے جا سکتا تھا لیکن خلیج سے تو شائد ایک دو سال بعد ہی واپس آنا نصیب ہو۔ ہم کیوں نہیں اپنی موجود نعمتوں کی قدر کرتے؟

  • گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ —  ڈاکٹرعدنان نیازی

    گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ یا پاکستان میں نمازی خواتین گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں ہے؟
    اگر یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں تو پھر خواتین کے لیے نماز کی جگہ کیوں نہیں بنائی جاتی؟

    یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر شاید ہی کسی نے بات کی ہو لیکن ہر روز لاکھوں خواتین کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موٹروے کے علاوہ آپ پاکستان کی کسی بھی سڑک پر کسی بھی علاقے میں سفر کر لیں یا پاکستان کے کسی بھی بازار میں چلے جائیں، یا کسی پارک یا ٹورسٹک پوائنٹ پر چلے جائیں، ہر جگہ آپ کو مردوں کے لیے جا بجا مساجد نظر آتی ہیں لیکن ان میں شاید ہی کوئی ایسی مسجد ملے جس میں خواتین کے لیے بھی مخصوص جگہ ہو جہاں وہ نماز پڑھ سکیں۔ ہاں جو غیر ملکیوں نے بنائی ہو گی جیسے موٹروے، کوئی ملٹی نیشنل پلازہ یا شاپنگ مال، یا غیر ملکی بڑا پٹرول پمپ، وہاں ایسی مساجد بھی مل جائیں گی۔

    حالانکہ نماز کے لیے جتنی فرضیت مسلمان مردوں پر ہے اتنی ہی خواتین پر ہے۔ خواتین کے لیے گھر میں پڑھنا افضل ہے لیکن یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ خواتین جہاں بھی ہوں ، نماز کا وقت ہوتے ہی فوراً سے گھر پہنچیں اور پھر نماز ادا کریں؟

    اگر کسی مسجد میں کچھ حصہ پردے وغیرہ لگا کر خواتین کے لیے مختص کر دیا جائے جیسا یورپ میں عام طور پر ہوتا ہے یا پھر مسجد کا ایک مکمل الگ حصہ بنا دیا جائے جیسا کہ موٹروے پر آپ دیکھ سکتے ہیں تو اس سے لاکھوں خواتین کی نماز قضاء ہونے سے رہ جائے گی۔ اور اکثر دیکھتا ہوں کہ جب اس طرح خواتین کی کچھ نمازیں قضاء ہونا شروع ہوتی ہیں تو رفتہ رفتہ وہ سستی کی وجہ سے وہ نمازیں بھی ترک کرنا شروع کر دیتی ہیں جو وہ پڑھ سکتی ہیں کیونکہ وہ جو نماز چھوڑنے پر گناہ کا اور ندامت کا احساس ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ کم ہو کر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ نمازیں ان کی نہیں بلکہ معاشرے کی غلطی کی وجہ سے قضاء ہو رہی ہوتی ہیں۔

    نمازی خواتین کی جو اس طرح نمازیں قضاء ہوتی ہیں اس پر انھیں تو شاید اللہ تعالیٰ معاف کر دے گالیکن ہم سب اس میں قصوروار ضرور ہونگے اور اس میں ہمارا دینی طبقہ اور علماء کرام خاص طور پر پکڑے جائیں گے جو ہر گلی میں ہر مسلک کی الگ الگ مسجد تو بنا دیتے ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں کرتے کہ ان میں سے کسی مسجد کا تھوڑا سا حصہ خواتین کے لیے مختص کر دیں۔

    احباب سے گزارش کروں گا کہ اس پر آواز بھی اٹھائیں، اور جب بھی کسی مسجد کو چندہ دیں تو وہاں بھی یہ بات ضرور کریں۔ یہ خواتین کا دینی حق ہے کہ وہ مجبوری کی حالت میں گھر سے باہر بآسانی نماز پڑھ سکیں۔ خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے اس پر کبھی بات نہیں کریں گے، ہمیں ہی اس پر بات کرنی ہے۔

  • کب تک؟ — خطیب احمد

    کب تک؟ — خطیب احمد

    ایک اندازے کے مطابق صرف پنجاب کے دیہاتوں شہروں، گلی محلوں میں موجود چھوٹے بڑے پرائیویٹ سکولز کی تعداد 50 ہزار کے قریب ہے۔

    کسی بھی نوعیت کی معمولی معذوری کے حامل صرف 2 بچوں کو اگر ایک پرائیویٹ سکول داخلہ دے تو اس نئے سال میں 1 لاکھ آوٹ آف سکول سپیشل بچے تعلیمی دھارے میں آسکتے ہیں۔ ایسا ہی اگر پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں ہو تو لاکھوں بچے سکول جا سکتے ہیں۔

    محکمہ سپیشل ایجوکیشن پنجاب کے زیر انتظام چلنے والے 300 اداروں میں اس وقت لگ بھگ 35 ہزار سپیشل بچے زیر تعلیم ہیں۔ ہمارے سکول پنجاب کے ہر ضلع، تحصیل، ٹاؤن اور چند بڑے قصبات میں موجود ہیں۔ آپ کسی بچے کے داخلے کے لیے اپنے قریبی سپیشل ایجوکیشن سنٹر کے متعلق مجھ سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔

    آپ کا کوئی پرائیویٹ سکول ہے تو آپ نیکی کا ارادہ کیجئے۔ سکول کے بچوں سے ہی پوچھیے کہ انکا کوئی بہن بھائی یا گلی محلے میں کوئی سپیشل بچہ ہے تو آپ کو بتائیں۔ میں اس پر آج کل ہی میں ان شاءاللہ تفصیلی مضمون لکھتا ہوں کہ کن بچوں کو آپ آسانی سے انرول کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے بس دل میں خود سے یہ بات آنے کی دیر ہے۔

    آپ سپیشل بچوں کے والدین ہیں تو آپ سے میری گزارش ہے۔ بچے کے علاج کے ساتھ اسکا تعلیمی سفر بھی شروع کیجیے۔ اسے ایک وہیل چیئر لے کر دیجئے اور قریبی کسی سکول اسے پڑھنے بھیجئے۔ سکول انتظامیہ کے خدشات ہم انکو گائیڈ کرکے دور کردیں گے ان شاءاللہ۔ وہ یہی اعتراض کرتے کہ وہ بچہ دوسرے بچوں کو تنگ کرے گا اور دیگر بچوں کے والدین کمپلین کریں گے۔

    پاکستان میں ہوئی بے شمار تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ نارمل بچوں کے والدین اپنے بچوں کو سپیشل بچوں کے ساتھ ایک کلاس یا سکول میں نہیں پڑھانا چاہتے۔ تو پی ٹی ایم پر والدین کو اچھے طریقے سے گائیڈ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کا محض ایک وہم ہے۔ نہ تو کسی کی معذوری ساتھ پڑھنے سے کسی کو لگ سکتی ہے۔ نہ ہی آپکے بچے کی تعلیم کا ان شاءاللہ کوئی حرج ہوگا۔

    کب تک اپنے سپیشل بچے کو چارپائی پر پڑا یا وہیل چیئر پر بیٹھا دیکھ کر روتے رہیں گے؟ کب تک اسے شہر شہر ایک سے دوسرے تیسرے چوتھے ہسپتالوں میں لیجاتے رہیں گے؟ اسے پلیز اب سکول کا رستہ دکھائیے۔ اسے اسکی زندگی اسکے مخصوص مدار میں ہم سے مختلف رہ کر جینے دیجئے۔

    چند ایسی معذوریاں ہوتی ہیں جن میں ایک استاد کے ساتھ ایک ہی بچہ پڑھنے پڑھانے یا سیکھنے سکھانے کے کام میں موجود ہوتے ہیں۔ جیسے آٹزم ، ADHD شدید دانشورانہ پسماندگی، یا سماعت و بصارت سے ایک ساتھ محروم ہونا جیسے ہیلن کیلر تھی۔

    اس کے علاوہ Rare سنڈروم یا معذوریاں ہوتی ہیں جو لاکھوں کی آبادی میں ایک دو ہی کیس ہوتے۔ یا ایک ساتھ دو یا دو سے زائد معذوریاں ہونا۔ جیسے سی پی کے ساتھ ہی اس بچے میں سماعت کا کم ہونا یا نہ ہونا۔ سی پی کے ساتھ انٹلیکچوئل ڈس ابیلٹی ہونا وغیرہ۔

    ان کے علاوہ تقریباً تقریباً تمام ہی اقسام کے سپیشل بچوں کو کسی بھی گلی محلے کے سکول میں بھیجا جا سکتا ہے۔ ہاں اس سکول کے ساتھ قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول یا کوئی سپیشل ایجوکیشن کی تعلیمی بیک گراؤنڈ رکھنے والا ٹیچر مسلسل رابطے میں ہو یا معذوری کی نوعیت دیکھتے ہوئے وہاں مستقل ڈپیوٹ کیا جائے۔

    اشاروں کی زبان یا بریل سیکھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ چند ماہ میں ہی ایک ٹیچر یہ چیزیں سیکھ جاتا ہے۔ اور سکول میں آکر کتابیں پڑھنا ہی پڑھائی نہیں ہوتی۔ ٹائم مینجمنٹ ، سیلف کئیر ، اخلاقیات، سوشلائزیشن، فرینڈ شپس، گیمز میں حصہ، اسمبلی میں جانا، صفائی ستھرائی سیکھنا، تنہائی کی قید سے باہر نکلنا کیا تعلیم کا حصہ نہیں ہے؟

    کیوں کاپی کتاب اور کلاسز پاس کرنے کو ہی تعلیم سمجھ لیا گیا ہوا ہے؟ ایک سپیشل بچہ اپنی ذہنی اور جسمانی استعداد کے مطابق لکھنا پڑھنا سیکھ کر پی ایچ ڈی بھی کر سکتا ہے۔ اور کئی سالوں کی محنت کے بعد صرف لکھنا پڑھنا ہی سیکھ پاتے۔ بنیادی حساب اور خدا رسول یا مذہب کو جان پاتے، یا دیگر کچھ معلومات عامہ انکی یاداشت کا حصہ بن جاتیں۔

    مسئلہ یہ ہے کہ سپیشل بچوں کے والدین کا ایک گروپ تو بچوں کو کسی قابل ہی نہیں سمجھتا کہ یہ کیا کر سکتے ہیں۔۔اور دوسرے ان کو انکی قابلیت سے بہت آگے سمجھ لیتے اور سکول پر سکول بدل رہے ہوتے کہ ہمارے بچے کے ساتھ ٹھیک سے کام ہی نہیں ہورہا۔ تیسرا گروپ ان والدین کا ہوتا جو تھوڑا نہیں ٹھیک ٹھاک پڑھے ہوتے ہیں انکا مطالعہ بڑا وسیع ہوتا اور اپنے بچے کی ڈس ابیلٹی کو ٹھیک سے جان کر قبول کر چکے ہوتے۔ اور بچے کو اپنی کپیسٹی اور مخصوص سپیڈ میں آگے بڑھنے کا موقع دیتے۔

    بات کو آسان کرکے کہوں تو تمام سپیشل بچوں کو کسی نہ کسی طرح سکول بھیجنے کا انتظام کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ بچے میں کتنی مثبت تبدیلیاں چند ماہ میں ہی نظر آنا شروع ہونگی۔ اچھا ایک اور غلط فہمی کہ ہمارا سپیشل بچہ سپیشل بچوں کے یا دوسرے بچوں کے سکول جائے گا تو اسے دوسرے بچے ماریں گے یا اسکا برا نام رکھیں گے تو ہم بھیجتے ہی نہیں ہیں۔ یہ بلکل غلط سوچ ہے۔ اس سوچ کو بھی بدلیے اور باقاعدہ فالو اپ رکھئیے۔

  • مزدور کے حقوق — ریاض علی خٹک

    مزدور کے حقوق — ریاض علی خٹک

    کل ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں سودا سلف اکھٹا کرتے کافی وقت لگ گیا. ان بڑے سٹورز میں سب کچھ ملتا ہے. سبزی کراکری کپڑے جوتے الیکٹرانکس سے لے کر امور خانہ داری کا سب کچھ دستیاب ہوتا ہے. لیکن تھکاوٹ کم کرنے کیلئے بیٹھنے کا کوئی سٹول بینچ آپ کو نہیں ملے گا.

    اسی تھکن میں دھیان اُن سیلز گرلز اور سیلز بوائز پر گیا جو اپنے اپنے حصے کے شیلف کے ساتھ کھڑے گاہک کو سہولت دیتے ہیں. میں نے سوچا ہم جو کچھ وقت میں یہاں تھک کر سٹول بینچ ڈھونڈ رہے ہیں ان کا صبح سے شام تک کیا حال ہوگا.؟

    اللہ رب العزت نے انسانی جسم کچھ اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ نہ یہ لگاتار بیٹھنا برداشت کر سکتا ہے نہ کھڑا رہنا. میڈیکل سائنس کہتی ہے اگر آپ کا کام کرسی پر بیٹھنے کا ہے تو درمیان میں بار بار کھڑے ہوا کریں اور اگر کھڑے ہونے کا ہے تو بیٹھ جایا کریں. کیونکہ لگاتار بیٹھنے پر دل بیمار ہوتا ہے اور لگاتار گھنٹوں کھڑے رہنے سے رگوں میں سوزش ہوتی ہے اور جوڑوں کا درد ساتھی بن جائے گا.

    کرسیوں والے تو کسی بہانے کھڑے ہو ہی جائیں گے لیکن یہ کھڑے مزدور جن کو ٹائٹ کپڑے پہنا کر شیلف کے سامنے ایک ڈیکوریشن پیس بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان کے پاس تو بیٹھنے کا آپشن ہی دستیاب نہیں ہوتا. مزدور کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں. کاش ان بڑے بڑے سٹورز کی انتظامیہ اپنے ورکنگ انوائر مینٹ میں گاہک کیلئے نہ سہی لیکن اپنے مزدور کیلئے ہی ایک سٹول رکھ دیں.

  • کارنیل ٹرانسپلانٹ (keratoplasty) —- خطیب احمد

    کارنیل ٹرانسپلانٹ (keratoplasty) —- خطیب احمد

    (کسی کو آنکھیں عطیہ کرنا)

    انسانی آنکھوں کو دنیا کی ہر زبان کے ادب میں موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ کوئی محبوب کی آنکھوں کو سمندر سے تشبیہ دیتا ہے تو کوئی ان آنکھوں کی سیاہی میں اپنی زندگی کی روشنی تلاش کرتا ہے۔ بقول عدیم ہاشمی

    کیا خبر تھی تری آنکھوں میں بھی دل ڈوبے گا
    میں تو سمجھا تھا کہ پڑتے ہیں بھنور پانی میں

    آنکھیں جہاں خوبصورتی کا ایک پیمانہ ہیں تو وہیں آنکھوں سے جڑے امراض بھی پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 10 لاکھ افراد بینائی سے مکمل یا جزوی محروم ہیں۔ دنیا بھر میں 4 کروڑ افراد بینائی سے مکمل محروم ہیں اور اڑھائی ارب جزوی طور پر کسی نہ کسی درجے میں محروم بصارت ہیں۔ اس موضوع پر تو کئی کتب لکھی جا سکتی ہیں۔ آج ہم بات کریں گے کارنیا کے ٹرانسپلانٹ پر۔ اسے ڈاکٹرز keratoplasty ھی کہتے ہیں۔

    کارنیا ہماری آنکھ کے نظر آنے والے گہرے گول سے حصے کے اوپر ایک صاف شفاف شیشہ سا ہے۔ جو آنکھ کے اندرونی حصے میں جراثیم، دھول، مٹی، انفیکشن جانے سے روکتا ہے۔ کورنیا روشنی کو اندر جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اور روشنی کی شعاعوں کو اس طرح موڑتا ہے کہ فوکس پر آ جائیں۔ یعنی ہماری آنکھ کا فوکس کارنیا بناتا ہے۔ کارنیا میں پیدائشی یا بعد میں کسی خرابی ہو یا کسی بیماری و حادثے کی صورت میں کارنیا ڈیمج یا خراب ہوجائے تو دنیا بھر میں خراب کارنیا نکال کر نیا کارنیا لگا دیا جاتا ہے۔

    کارنیا کا مکمل خراب ہونا بینائی سے ممکل محرومی کا سبب بن جاتا ہے۔ امریکہ میں ہر سال 50 ہزار لوگوں کا کارنیل ٹرانسپلانٹ ہوتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں سالانہ کارنیل ٹرانسپلانٹ کی تعداد 2000 کے آس پاس رہتی ہے۔ جن میں سے 800 ٹرانسپلانٹ سالانہ تو الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میں ہوتے ہیں۔ ہر پیدائشی نابینا فرد کو ضروری نہیں کارنیا ڈال کر بصارت لوٹائی جا سکے مگر چیک ضرور کروا لینا چاہیے کہ کارنیا تو خراب نہیں۔ اگر وہ ہے تو کوشش کرکے ٹرانسپلانٹ کروا لیں۔

    پاکستان میں کارنیا عموماً امریکہ اور سری لنکا سے آتے ہیں۔ وہاں لوگ مرنے سے پہلے وصیت کر جاتے ہیں کہ ان کی وفات کے بعد آنکھیں عطیہ کر دی جائیں۔ جیسے ہی فرد فوت ہوتا ہے 6 گھنٹوں کے اندر اس کی دونوں آنکھوں کی اوپری ٹرانس پیرنٹ جھلی یعنی کارنیا 8 یا 9 ملی میٹر گولائی میں کاٹ لی جاتی ہے۔ اسے محفوظ کر لیا جاتا ہے اور جلد ہی کسی انسانی آنکھ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں اب تو آرٹیفشل کارنیا بھی موجود ہیں مگر وہ پائیدار اور قابل اعتماد نہیں ہیں۔ کسی جانور کا کارنیا انسان کو نہیں لگایا جا سکتا۔

    ہم پاکستان میں بھی کارنیا ٹرانسپلانٹ سنٹرز جیسے الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میں جاکر وصیت لکھ سکتے ہیں۔ اپنے گھر والوں کو اس بارے میں بتا سکتے ہیں۔ کہ ہماری موت کے بعد ہماری آنکھوں سے کارنیا لیکر کسی نابینا فرد کو ڈال دیا جائے۔ کچھ علماء اسے حرام کہتے ہیں اور کچھ حلال۔ میرا ماننا ہے کہ ہمارا جسم ہمارے مال کی طرح اللہ کی طرف سے دیا گیا ایک عطیہ ہے۔ جیسے ہم مال اسکی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں ویسے ہی ہماری آنکھ کی ایک معمولی سی جھلی کسی کی تاریک دنیا کو روشن کر سکتی ہے تو یہ کام ضرور کرنا چاہیے۔ میں انشاء اللہ اپنی آنکھوں کے عطیہ کی وصیت بہت جلد کردونگا۔۔کہ میری وفات کے بعد کارنیا لے کر کسی نابینا فرد کو لگا دیے جائیں۔ زندگی میں ایسا کرنا کسی کو ایک یا دو کارنیا دینا مناسب نہیں۔ ایک گردہ یا جگر کا ایک حصہ دے سکتے ہیں۔ مگر ان سب کی کوئی قیمت نہ وصول کی جائے۔

    اعضا کے ہم مالک نہیں ہیں۔ اور کسی کو زندگی یا موت کے بعد دے نہیں سکتے۔ میرا اس بیانیے سے اتفاق نہیں ہے۔ بے شمار جید علماء اکرام بھی اسے درست نہیں مانتے۔ مولانا اسرار احمد مرحوم کا بھی یہی موقف تھا جو میرا ہے۔ تقریباً تمام عالمی سطح کے اسکالرز کا یہی موقف ہے۔ اور یہ کام پاکستان میں ہو بھی رہا ہے۔

    آئیے اس پیغام کو عام کریں۔ اپنے آس پاس نابینا بچوں و افراد کے والدین کو گائیڈ کریں کہ وہ انکی آنکھوں کا چیک اپ کروائیں۔ اگر کارنیا ٹرانسپلانٹ سے بینائی لوٹ سکتی تو ان کے لیے کارنیا ارینج کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک لمحے کے لیے تصور تو کریں آپ نابینا ہو جائیں تو کیا ہو؟ اگر کسی نابینا کو بینائی مل جائے تو اسکی زندگی کیسی خوبصورت ہوجائے گی؟

  • "ٹیم پاس”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "ٹیم پاس”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم ستاروں کی خاک ہیں گویا!!
    خود میں ہی کائنات ہیں گویا!!

    یہ شعر ویسے تو جون ایلیا صاحب کا نہیں بلکہ ناچیز کا ہے مگر کیا فرق پڑتا ہے ۔ جون ایلیا بھی کمال لکھتے تھے مگر وہ غمِ حیات میں اُلجھے رہتے اور ہم غمِ کائنات میں۔

    ایک کہاوت تھی:
    "کائنات کو سمجھنے کے اُتنے راستے ہیں جس قدر اس میں ذی روح ہیں’

    مگر یہ ایک فلسفیانہ بات ہے۔ یہ بات گو کہ درست کہ کائنات کو سمجھنا آسان نہیں۔ انسان کی عقل محدود ہے۔۔انسان اسی کائنات میں رہ کر کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے مگر کیا یہ بات کم ہے کہ سوچتا ہے!!
    وہ جو سوچتے ہی نہیں، وہ جو فکر ہی نہیں کرتے کیا وہ اس امیبیا سے زیادہ اہم ہیں جو اُنکی طرح زندگی گزار کر مر جاتا ہے ۔۔خوراک حاصل کر کے بس جی رہا ہے اور نسل در نسل اپنے جینز منتقل کر رہا ہے۔

    فنا یعنی مر جانا انسان کے شعور کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایسا مسئلہ کہ یہ اسے کسی طور چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ آج ہم جو ایجادات، سائنسی ترقی، جدید معیشت، طب میں جدت، بیماریوں کا علاج، خلاؤں میں جانا وغیرہ وغیرہ یہ سب دیکھتے ہیں تو یہ سب کیا اور کیوں ہے؟ یہ سب انسان کی لاشعور میں چھپی موت سے جنگ ہے۔ یہ بقا کی جنگ ہے۔ ہم ہر لمحہ بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایسے میں ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہماری عقل ہو گی۔ کیونکہ ہماری عقل نے ہی ہمیں موت سے آگاہ کیا ہے۔ ایک جانور یہ نہیں جانتا کہ اُس نے کم و بیش کتنے سال زندہ رہنا ہے۔ مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم اوسطاً اس زمین پر کتنے سال زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہم نے ان سالوں کو مختلف کاموں اور مقاصد کے حصول میں تقسیم کر رکھا ہے۔ تعلیم مکمل کرنا، شادی کرنا، بچے پیدا کرنا، بہتر روزگار رکھنا، گھر، گاڑی، بچوں کی تعلیم ، ریٹائرمنٹ وغیرہ وغیرہ ۔
    اس سب میں تگ و دو تو ہے مگر جستجو کہاں ہے؟ نئے علم کی تلاش کہاں ہے؟ انسانی عقل کی معراج کہاں ہے؟

    اقبال نے کہا تھا:
    عروج ِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
    کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہہِ کامل نہ بن جائے

    اقبال نے یہ ہمارے جسیوں کے لیے ہرگز نہیں کہا تھا۔ ہم نے دنیا کو دیا ہی کیا ہے؟ یہ بات اقبال نے اُنکے لیے کہی ہے جو ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جنہیں علم کی اس قدر پیاس ہے کہ خلاؤں میں جا کر بھی نہیں بجھ رہی۔ کیا علم حاصل کرنا اور نئےعلوم کی راہیں استوار کرنا مذاق ہے؟

    کائنات کو سمجھنے کے کئی راستے ہونگے مگر وہ جڑتے ایک ہی راستے سے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کائنات کو زندہ رکھیں۔ کائنات محض اُنکو نوازتی ہے جو اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب بھی اور آئندہ بھی۔

    ہم جتنا سیاست میں اُلجھتے ہیں اتنا سائنس میں اُلجھیں تو کئی مسائل اپنی عقل سے حل کر لیں مگر وہ جو ہم پہ مسلط ہیں اُنکے بقا کی ضمانت ہماری جہالت کا قائم رہنا ہے۔غربت مجبوری ہے مگر جہالت پرسنل چوائس ہے۔ باقی آپ خود سمجھیں۔ دنیا میں "ٹیم پاس” کرنا ہے یا صحیح معنوں میں کچھ بامقصد کرنا ہے۔

  • اچھا سامع — ریاض علی خٹک

    اچھا سامع — ریاض علی خٹک

    انڈیز پہاڑوں میں بسے پیرو کے شامان اپنے علاج کیلئے بہت مشہور تھے. مسئلہ یہ تھا کہ وہ شامان کہتے علاج کیلئے تمہیں اوپر پہاڑوں پر آنا ہوگا. مریض کو خچروں پر یا کندھوں پر اٹھا کر اوپر پہاڑوں پر جب لے جایا جاتا تو وہ کہتے اسے اب چھوڑ جاو. وہ قدرتی جڑی بوٹیوں سے اسکا علاج کرتے. اکثریت کو شفا ملتی اور ان شا مانوں کا دور دور تک شہرہ تھا. آج بھی ان کی نسل دستیاب ہے.

    آج جب تحقیق ہوتی ہے تو کئی باتیں سمجھ آتی ہیں. مریض کا ماحول بدل جاتا قدرتی پرفضا ماحول میں فطرت کے ساتھ رہتا فطرتی چیزیں استعمال کرتا اپنے شامان کی تسلی سنتا یہ مریض اصل میں اپنی ایک زندگی سے کٹ کر ایک نئی زندگی میں داخل ہوجاتا تھا. مایوسی کی جگہ اُمید دنیا کی بھاگ دوڑ کی بجائے فطرت کا سکون اس کے آس پاس ہوتا. اور زندگی پھر انگڑائی لے کر جینے کیلئے بیدار ہو جاتی.

    ہمارے ہاں یہ شامان نہیں ہوتے. لیکن مریض بہت ہیں. ان کے دل و دماغ پر اندیشے خوف مایوسیاں بے بسی اور بے اعتمادی کے اندھیرے وہ پہاڑ بن چکے ہیں جن کے نیچے اکثریت پس چکی ہے. یہ دوسروں سے ڈرتے ہیں. کیونکہ ہماری اکثریت بہت ججمنٹل ہوگئی ہے. یہاں ظالم سے زیادہ مظلوم کو الزام دیا جاتا ہے. اس ڈر سے کوئی مظلوم بولتا بھی نہیں کہ اپنے اوپر ہوئے ظلم کا مجرم کون بننا چاہے گا.؟

    ایک ایسا انسان جو دوسرے کو صرف سن سکتا ہو. بنا کوئی فیصلہ سنائے بنا کوئی عدالت سجائے یہ سننے والا آج کا وہی شامان بن سکتا ہے جو دوسروں کی شفا کا سبب بن جاتے تھے. کیونکہ ایک مریض کو اچھا سامع مل جائے تو اُمید اسے خود ہی اس اندھیرے سے کھینچ کر روشنی کے پہاڑوں کی طرف لے آتی ہے.

  • دنیا میں دو طرح کے لوگ!!! — ضیغم قدیر

    دنیا میں دو طرح کے لوگ!!! — ضیغم قدیر

    دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں!

    اچھی زندگی گزارنے والے
    اچھی زندگی گزارنے والوں سے جلنے والے

    حماد صافی نامی پبلک فگر پر اس لئے تنقید ہو رہی ہے کہ وہ مغرب کیخلاف بات کرکے وہیں جوانی کو انجوائے کرنے چلا گیا ہے۔ مگر وہ بچہ بالکل درست کر رہا ہے۔ اس کے پیرنٹس کو پتا ہے کہ یہاں ہمارے ملک میں مغرب دشمنی کا چورن بیچ کر وہ پیسہ تو کما سکتے ہیں مگر لائف انجوائے نہیں کر سکتے، اس لئے انہوں نے اپنے بچے کو باہر بھیجنا مناسب سمجھا۔ اب میرے یا آپکے جلنے سے نا اسکی زندگی کا مزہ کم ہوگا نا ہی سکون، ہاں مگر کچھ دن تک حماد صافی پہ ہر جگہ ہوتی تنقید سے یہی نظر آ رہا ہے کہ بہت سے لوگ بس اس کنویں سے فرار چاہتے ہیں اور ان کو مسئلہ کسی کے فرار سے نہیں اپنے پیچھے رہ جانے سے ہے کہ وہ آگے کیوں نہیں بڑھ پا رہے۔

    وہ بچہ سچ بول کر گیا ہو یا جھوٹ بول کر، ایٹ لیسٹ وہ اپنی ٹین ایج سے لیکر تھرٹیز تک ایک بہترین زندگی جئیے گا۔ یہی ہر خود غرض انسان کا مقصد ہوتا ہے دوسرے کو کنویں میں دھکا دیکر اس کے کندھوں پہ پاؤں رکھ کر خود کو اس کنویں سے نکالو اور پھر کنارے پر کھڑے ہو کر کنویں کے کیچڑ میں جینے کی فضیلت بیان کرو۔

    اگر نہیں یقین تو ٹاپ لیڈرشپ کو دیکھ لیں 99% بیسویں سکیل کے افسر سے لیکر تمام سابق آرمی چیفس، وزرائے اعظم اور صدور تک سب کی اولاد پاکستان سے باہر ہے۔ خود یہ بھی چھ سات مہینے باہر گزارتے ہیں۔

    وہیں

    عام شخص کو بس بتایا جاتا ہے کہ کنویں میں جینا بہترین ہے اور اس کو بدلنا ناممکن ہے۔

    وہ دو بکریوں والی کہانی سنی ہوگی، جس میں سے ایک بکری دوسری کو کنویں میں بلاتی ہے کہ بہت مزے کی زندگی ہے اور وہ پھر اسی بھولی بکری کے کندھوں پہ چڑھ کر باہر نکلتی ہے۔

    بس وہی کہانی یہاں چل رہی ہے۔

    ضیغم قدیر

  • ہماری کنولیج (knowledge) — حنیف سمانا

    ہماری کنولیج (knowledge) — حنیف سمانا

    ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ

    "اداکارہ میرا انگریزوں کی زبان کے ساتھ وہی کر رہی ہیں جو انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں برِصغیر کے غریب باشندوں کے ساتھ کیا”

    مگر صاحب میرا پر کیا منحصر…خود ہم اکثر انگریزی کی

    Mother Sister together

    مطلب ماں بہن ایک کرتے رہتے ہیں .

    خود ہمیں شاہِ برطانیہ نے کئی بار اپنے سفارت کار کے ذریعے خفیہ پیغام بھیجا کہ

    "اگر تم انگیزی بولنا چھوڑ دو تو میں تمہارا سالانہ ١٠٠ پونڈ کے حساب سے وظیفہ مقرر کر دیتا ہوں“

    مگر ہم نے بھی اپنے آباٶ اجداد کے نام پر آنچ نہیں آنے دی۔ 100 پونڈز پر لات ماری اور کہا

    ” اے طاٸر لاہوتی، اس رزق سے موت اچھی …جس رزق سے آتی ہے پرواز میں کوتاہی” وغیرہ وغیرہ ..

    ہاں البتہ ہم نے سفارت کار کے کان میں کہا کہ شاہ سے کہو 100 پونڈز کم ہیں.

    بچپن میں ہمارے ایک استاد نے ہم سے کہا کہ انگریزی کی زیادہ سے زیادہ پریکٹس کے لئے آپ اپنے کسی دوست سے تہہ کر لیجئے کہ جب بھی آپ ملیں گے..صرف انگریزی میں بات کریں گے.

    ہمیں یہ آئیڈیا پسند آیا۔ ہم نے اپنے جان سے پیارے دوست مولوی سے یہ وعدہ لیا کہ اب ہم دونوں جب بھی ملیں گے انگریزی میں بات کریں گے یا پھر خاموش رہیں گے.

    اس "شملہ معاہدے” کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم دونوں غیبت جیسے بڑے گناه سے بچ گئے…

    ہم اکثر گھنٹوں ساتھ ہوتے ….

    مگر خاموش ……

    آہستہ آہستہ ہم ایک دوسرے کی کمپنی سے بور ہونے لگے.

    اور پھر ملنا جلنا چھوڑ دیا…

    کئی ہفتے کے گیپ کے بعد ایک روز مولوی صبح صبح وارد ہوئے اور آتے ہی انگریزوں کو پنجابی زبان میں تین چار ناقابلِ اشاعت گالیاں دیں…

    پھر کہنے لگے یہ بھی کوئی زبان بناٸی ہے بالکل تھرڈ کلاس…

    بتاؤ …جب "بی یو ٹی” بَٹ(but) ہوتا ہے اور "سی یو ٹی” کَٹ (cut) …تو پھر "پی یو ٹی” پَٹ (زبر کے ساتھ) کیوں نہیں ہوتا…پُٹ (پیش کے ساتھ) کیوں ہوتا ہے…

    کسی نائی نے یہ زبان بنائی ہے…

    بتاؤ… جب ایک لفظ کو پڑھنا ہی نہیں تو اس کو لکھنے کی کیا ضرورت ….

    جاہل لوگ کنولیج کو بھی نولیج پڑھتے ہیں”

    ہمیں مولوی کی بات میں وزن نظر آیا…

    ہم نے بھی مولوی کے ساتھ مل کر اس وقت انگریزی کی اور انگریزوں کی خوب برائی کی…

    ولیم شیکسپئیر کے "چار باپ” (Forefathers) کو خوب برا بھلا کہا….

    اور انگریزی بولنے سے توبہ کرلی.

  • دیوالیہ کے قریب!!! —- ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دیوالیہ کے قریب!!! —- ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان اس وقت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ کرپشن اور لوٹ مار پاکستانی معیشت کے دیوالیہ پن میں اہم ہے مگر بہت سے لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں پیسہ بنانے کا کوئی خاص طریقہ کار نہیں ہے۔ باہر کے ممالک میں بر آمدات سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی سے نئی پراڈکٹس سے کی جاتی ہیں۔سویڈن جیسے چھوٹے ملک کے معیشت پاکستان سے دوگنی ہے جبکہ وہاں کی آبادی 1.5 کروڑ سے بھی کم ہے۔ پیسہ بنانے کا عمل کاروباری ماحول اور صنعتی ترقی سے ممکن ہے۔ گنجی دھوئے گی کیا اور نچوڑے گی کیا کے مصادق۔ پاکستان کی برآمدات کی نسبت درآمدات زیادہ ہیں۔ یہاں روایتی طریقوں سے گندم، گنا اور کپاس اُگائی جاتی ہے۔ ہر سال سیلاب اور قدرتی آفات زراعت کے بڑے حصے کو نقصان پہچاتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو زرعی ہے اور جہاں 40 فیصد روزگار زراعت کے شعبے سے منسلک ہے وہاں سب سے زیادہ نظر انداز یہی شعبہ رہا ہے۔

    دوسرے ممالک کی کمپنیاں پاکستان میں کیونکر پیسہ لگائیں گی جہاں نہ کاروباری سہولیات میسر ہیں، نہ ہی سرخ فیتے کی رکاوٹیں دور کی گئی ہیں، اقربا پروری الگ، ریاست کے اندر بندوقوں والے ایک نمبر کے بدمعاش پراپرٹی ڈیلرز الگ۔ اس پر سیکورٹی، دہشتگردی، امن و امان کا نقص الگ۔اور سب سے بڑھ کر بغیر سکلز یا کم سکلز کے لوگ الگ۔ اب ایسے میں کون باہر سے آ کر یہاں فیکٹریاں لگائے گا، یہاں اپنا پیسہ جھونکے گا؟ کیا لاہور میں بیٹھے پاکستان ہی کی کاروباری شخصیات وزیرستان میں جا کر کاروبار کریں گے؟ ماسوائے اّنکے جنہیں شاید وہاں چلغوزے کے درخت نظر آتے ہوں۔

    ہماری معیشت نے دیوالیہ نہیں ہونا تھا تو اور کیا ہونا تھا؟ کیا پلاٹوں پر پلاٹ لیکر اور سوسائٹیوں پر سوسائٹیاں بنا کر ملک میں پیسہ آئے گا؟ نہ ہم نے انسانوں پر خرچ کیا نہ انسانوں کے دماغوں پر۔ پچھلی نسل کے نوجوانوں پر ریاستی تجربات کر کے انہیں جنونی بنا دیا گیا۔ یہی نظریات لیکر وہ اگلی نسلوں کو یہ وائرس منتقل کر چکے۔ جہالت ملک کے طول و عرض میں بک رہی ہے اور مزے کی بات یہ کہ وہ جو اس جہالت کے پیشِ نظر زندگی سے تنگ ہیں، وہی اسکی حفاظت پر مامور ہیں۔ اختر لاوا سے لیکر دھوکے بازی سے ہوٹلوں میں روٹی کھانے والی مزاحیہ ویڈیوز ہر شخص کی زبان پر ہیں۔ عقل کی بات کیجائے تو کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔ علم سے ڈر لگتا ہے۔ ہر چیز سازش لگتی ہے۔ ذہنوں پر قفل پڑے ہیں۔ اصل سوچ کا فقدان یے۔ باہر کے ممالک انسانوں پر ، انکے دماغوں پر خرچ کر کے انہیں معاشرے اور دنیا کے لیے کارآمد انسان بناتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں دولو شاہ کے چوہوں کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں۔ اشرافیہ سے لیکر عوام تک، اونچے اونچے عہدوں پر بیٹھے افسران سے لیکر نیچے کلرک بابوں تک سب کے سب جدید دور کے تقاضوں، بدلتی دنیا کے رجحانات وغیرہ سے لا علم زندہ زومبیاں ہیں۔

    سمجھ نہیں آتی کہاں سے شروع کیا جائے، مگر پچھتر سال میں جب انسانوں پر کچھ خرچ نہیں ہوا تو اب ملک محض قرضوں پر تو چل نہیں سکتا۔ سو یہ کمپنی بھی نہیں چلے گی۔ اور کیجئے تجربات ، اور دور رکھیے عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار کے مواقعوں سے۔ اور دیجیے اّنہیں کھوکھلے نعرے، روایتی جملے اور گھسے پٹے نظریات۔ کشتی جب ڈوبتی ہے تو مکمل ڈوبتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ پچھلا حصہ ڈوبا اور اگلا بچ گیا۔ بچنا کسی نے نہیں۔ باقی بابوں کی خیر ہو، اُنہوں نے ہمیں سائیں بنا کر اس حالت میں خوش ہی رکھنا ہے۔ سائنس گئی تیل لینے۔

    منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ