Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ہاتھی پاؤں یا لمفیٹک فلئرائسس (Elephantiasis) — خطیب احمد

    ہاتھی پاؤں یا لمفیٹک فلئرائسس (Elephantiasis) — خطیب احمد

    لاکھوں میں ایک فرد آپ کو ایسا نظر آئے گا جس کا ایک پاؤں ٹانگ ہاتھ یا بازو دوسرے کی نسبت بہت موٹا ہوگا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بیماری ایک مچھر کے کاٹنے سے لاحق ہوتی ہے؟ جی ہاں ایک ایسا مچھر جس کے اندر filarial parasites کے لاروا ہوتے ہیں۔ ان کو (roundworms) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لاروا انفیکٹڈ مچھر کے کاٹنے سے مچھر سے انسانی جسم داخل ہوتے اور وہاں اپنا اگلا لائف سائیکل پورا کرکے بڑے ہوجاتے۔

    جس طرح کسی عمارت میں پانی کی نکل و حرکت کے لیے ایک سیورج سسٹم ہوتا ہے بلکل اسی طرح انسان جسم میں بھی خون کی نالیوں سے خودکار نظام کے تحت نکلنے والی رطوبتوں کو ٹھکانے لگانے کے Lymphatic system کام کرتا ہے۔ اب فلیرئل لاروے بڑے ہو کر لمف نارڈ lymph nodes کو بند کر دیتے۔ اور وہ رطوبتیں اپنی مطلوبہ جگہ جانے کی بجائے وہیں ٹانگ کے نچلے حصے یا بازو میں کہنی کے نچلے حصے میں جمع ہونا شروع ہو جاتیں۔ ایک طرف تو وہ پانی جمع ہو رہا ہوتا دوسری طرف جسم میں موجود پیراسائٹ تیزی سے اپنا سائز اور اپنی تعداد بڑھا رہے ہوتے۔

    نتیجتاً پاوں ٹانگ ہاتھ یا بازو کا سائز ایسے ہوجاتا جیسے ہاتھی کا پاؤں ہے۔ ایک طرف تکلیف تو دوسری طرف سوشل سٹگما الگ سے جان لے رہا ہوتا۔ لوگ ڈرنا شروع کر دیتے کہ اس متاثرہ فرد کو کاٹنے والا مچھر ہمیں بھی کاٹ کر انفیکٹڈ نہ کر دے۔ اور انکا یہ ڈر کسی نہ کسی حد تک درست ہوتا ہے۔ مگر ایسا ہر قسم کے مچھر کے کاٹنے سے بلکل نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثریت کیسز میں مچھر کی ایک خاص قسم Culex کے کاٹنے سے منتقل ہوتی ہے۔ اور نہ ہی خدا نخواستہ ایسا ہوتا ہے اس فرد کو کاٹنے والا مچھر جسے کاٹے گا وہ بھی ایسا ہی ہوجائے گا۔

    ڈاکٹرز کی طرف سے اس مرض سے متاثرہ مریض کو ہدایت کی جاتی کہ وہ ہر ممکن حد تک خود کو مچھر کے کاٹنے سے بچائے۔ پرسنل ہائی جین کا بہت خیال رکھے۔ جن لوگوں کا امیون سسٹم مضبوط ہوتا ان کو انفیکٹڈ مچھر کاٹنے کے بعد بھی عموماً لاروا اپنا لائف سائیکل مکمل نہیں کر پاتا اور ہمیشہ لاروا سٹیج میں ہی رہتا ہے۔ جسکی وجہ سے انکو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

    ہاتھ پاؤں ٹانگ یا بازو موٹا ہونے سے پہلے ہی عموماً گردن کے دائیں سائیڈ پر خون کی نالیاں بڑی نمایاں ہو کر اسکن سے باہر ابھری ہوئی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس اسٹیج پر مرض کا آغاز ہو رہا ہوتا ہے اور کیمو تھراپی سے اسے کافی حد تک بڑھنے اور نقصان کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ایک عام ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک ڈرما ٹالوجسٹ Dermatologist اس مرض کی تشخیص اور علاج کرتا ہے۔ علاج میں ابھی تک کوئی ایسا نہیں ہے جو اس چیز کو سو فیصد ختم کر سکے۔ ڈاکٹرز پوری دنیا میں Diethylcarbamazine (DEC) نامی دوائی ان مریضوں کو دیتے ہیں۔ اس دوا کا بنیادی مقصد جسم میں موجود adult worm کو مارنا ہوتا ہے۔ پانی کو خشک کرنے یا نکالنے پر کام کیا جاتا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اندر گوشت بڑھ گیا ہوا ہے اور آپریشن کرکے ایک ہی بار ٹانگ یا بازو کو نارمل کر دیا جائے۔ احتیاط اور علاج لمبے عرصے تک جاری رہتا ہے۔

    ایسے افراد سے ڈرنے کی بجائے ان سے محبت کی جائے۔ اور انکو تنہائی سے نکال کر ہر قسم کے فیملی و سوشل ایونٹس میں ضرور شریک کیا جائے۔ اور ایسے افراد خود بھی کوئی ایسی سافٹ ہا ہارڈ اسکل سیکھ کر خود کو مصروف رکھیں جس میں کہیں آنے جانے کی ضرورت کم سے کم ہو۔

  • افغانستان کی سرزمیں پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کا بیس کیمپ — بلال شوکت آزاد

    افغانستان کی سرزمیں پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کا بیس کیمپ — بلال شوکت آزاد

    افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہ استعمال آج بھی بدستور جاری و ساری ہے، کچھ گروہ جیسا کہ ٹی ٹی پی حملوں کی منصوبہ بندی اور تعاون کے لیے ملک کے پہاڑی اور زیادہ تر غیر حکومتی علاقوں کو استعمال کرتے ہیں جن کو کسی نا کسی افغان طالبان گروہ کی پشت پناہی حاصل رہتی ہی ہے۔ یہ مسئلہ اب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بن رہا ہے، اور اس کے خطے کے استحکام اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے لیکن اگر امارت اسلامیہ افغانستان چاہے تو بات چیت سے مسئلہ سلجھ سکتا ہے۔

    اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بعض عسکریت پسند گروپوں نے پاکستان پر حملوں کے لیے افغانستان کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کیا ہے اور آج بھی یہ ان کا بیس کیمپ ہے۔ مثال کے طور پر، افغان طالبان کا ایک ناراض دھڑا جو خود کو تحریک طالبان پاکستان عرف ٹی ٹی پی کہتے ہیں، جو افغانستان میں بھی کئی سالوں سے سرگرم ہے، اور یہی گروہ پاکستان میں حملے کرنے کا میں سر فہرست ہے۔ یہ گروپ خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں سرگرم رہتا ہے، جہاں وہ سرحد کی غیر محفوظ نوعیت اور افغان اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی محدود موجودگی کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہتا ہے۔

    افغانستان میں ان گروپوں کی موجودگی پاکستان کے لیے ہمیشہ سے تشویش کا باعث رہی ہے، کیونکہ افغانستان نے انہیں نسبتاً آسانی کے ساتھ پاکستانی سرزمین پر حملے کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس کے علاوہ، ان گروہوں نے افغانستان میں جو محفوظ پناہ گاہیں اور تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان نے انھیں جنگجوؤں کو بھرتی کرنے، تربیت دینے اور مسلح کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، جس نے خطے میں عدم استحکام اور تشدد کو مزید ہوا دی ہے۔

    افغانستان میں جاری سالوں کے تنازعے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب تر ہوئی ہے، جس نے عسکریت پسند گروپوں کو افزائش نسل فراہم کی ہے اور افغان حکومت کے لیے ملک کی سرزمین پر اپنا کنٹرول رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ اس نے تحریک طالبان پاکستان جیسے گروپوں کو نسبتاً استثنیٰ کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، اور پاکستان اور افغانستان کے لیے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مؤثر طریقے سے تعاون کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

    دن بہ دن دونوں ممالک کی سرحدوں پر کشیدگی کی خبریں بڑھ رہی ہیں جو کہ کسی محدود پیمانے کی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتیں ہیں۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے قیام پاکستان سے لیکرآج تک افغانستان کے ساتھ دوستانہ بلکہ برادرنہ تعلقات کی کوشش کی ہے لیکن افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو سوائے فتنوں اور نقصانات کے اور کچھ نہیں ملا۔

    یہ بات اظہر الشمس واضح ہوچکی ہے کہ افغانستان پر خواہ اسلامسٹ نظریات کے حامل حکمران مسلط ہوں یا لبرل نظریات کے حکمران, دونوں صورتوں میں پاکستان کو افغانستان سے فقط تعصب, نفرت اور جانی و مالی نقصانات کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔

    پاکستان میں تب تک امن نہیں ممکن جب تک افغانستان سے متصل سرحدیں بند نہ ہوں اور اکثر یہ سوال دانشور طبقے میں زور پکڑتا جارہا ہے کہ پاکستان کے علاوہ دیگر اور ممالک کی سرحدیں بھی افغانستان کو لگتی ہیں لیکن اس ملک سے حملے فقط پاکستان پر ہی ہوتےہیں, کیوں؟ اس کیوں کا جواب ہم تو جانتے ہیں لیکن دنیا کو منوانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

    مجموعی طور پر یہ بات واضح ہے کہ افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اس کے خطے کے استحکام اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات اور اس سلسلے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔

  • نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

    نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

    نیا سال پھر چپکے سے آ دھمکا ہے۔ اب وہی فارمل باتیں ہوں گی۔ دیکھا جائے تو وہ ہورہی ہیں، اور بڑے طمطراق سے ہو رہی ہیں۔ دسمبر کے آخری ہفتے سے تو کان پک گئے ہیں۔ کیا کریں جنوری کے اینڈ جنٹل تک یہی ہوگا۔ کوئی بن بلائے مہمان کی طرح ملے ہتھوڑا اور برسائے: ”نیا سال مبارک ہو”۔جواب میں ہم زچ ہوکر کہیں: ”شکریہ، آپ کو بھی نیا سال مبارک ہو۔”

    جمعہ جمعہ آٹھ دن گزریں گے تو مبارک بادیں کچھ اس انداز کی ہوں گی: ”معاف کریں موقع نہیں ملا” یا ”بھئی کئی بار فون کیا مگر بات ہی نہیں ہو سکی ” یا پھر”معاف کرنا میں گاؤں کیا تھا لہٰذا مبارک باد تاخیر سے دے رہا ہوں…بہر حال آپ کو نئے سال کی ڈھیر ساری مبارکبادیں ہوں۔” مطلب آپ کو نئے سال کی مبارک باد کہے بنا کوئی نہیں چھوڑے گا۔

    اس کے بعد گردش ایام پھر وہی ہوں گے، جو گذشتہ سال تھے، جو اس سے پچھلے سال تھے۔ یا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ کتنے نئے سالوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ یعنی میٹاڈاروں کے دھکّے، کھڑکیوں پر قطاریں، بیگم کی جھڑکیاں، کرم فرماؤں کی بھڑکیاں، ٹی وی کی جلی کٹی "خبریاں”، باس کی یک چشم گل نظر، دفاتر میں سیاست، دوستوں کے سبزی خور جوک جنہیں وہ نان ویج انداز میں سنا کر طبیعت کو اور بھی مکدّر و پُرخشم کر دیتے ہیں۔

    جب ایک شناسا نے مجھے نئے سال کی مبارک باد ماری تو میں نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا نیا سال کسی پابند سلاسل وقت کا محتاج نہیں۔ وہ تو بغیر اجازت آتا رہتا ہے۔ سال کے معنی ہیں سورج کے گرد زمین کا ایک چکّر۔ اور یہ چکّر چلتے رہتے ہیں۔ زمین جہاں اس وقت ہے وہاں وہ اب سے ٹھیک ایک سال پہلے تھی۔ اور اب ٹھیک ایک سال بعد دوبارہ پھر اس جگہ آئے گی۔ لہٰذا ہر گزرتا پل ایک نیا سال ہے۔ وہ صاحب اردو کے سات کے ہندسے کی طرح منھ کھولے میری باتیں سنتے رہے۔ اس کے بعد آنکھیں جھپکاتے ہوئے گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر بولے، ”چلئے ، آپ کو ہر نئے پل نیا سال مبارک ہو”۔ اور میں اپنا سا منھ لے کر رہ گیا۔

    جنوری کی پہلی صبح کے کُہر کے قہر میں میں نے ایک کانپتے آٹو ڈرائیور پر افلاطونیت کا نسخہ آزمانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا: ”برخوردار جانتے ہو یہ دنیا اس وقت اپنے محور پر اس قدر سست رفتار سے گھوم رہی ہے کہ اس کا ایک چکّر ایک کھرب ایک ارب ایک کروڑ ایک سو چھیاسی کے ہندسے کو اتنے ہی بڑے ہندسے سے 11 بار ضرب دے کر جو حاصلِ ضرب آئے گا اتنے سال میں پورا ہوتا ہے۔ اور پوری کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس قدر آہستہ گھومنے کے باوجود اس کے سب سے باہری سرے پر گھومنے کی رفتار ایک لاکھ کھرب میل فی سیکنڈ ہے۔ اور تم ہو کہ بڈشاہ چوک سے مہاراج گنج تک دو کلومیٹرکے دو سو روپے مانگ رہے ہو اور وہ بھی برائے نام سیٹ کے۔”

    یہ سن کر ڈرائیور بار بار آنکھیں جھپکانے لگا اور اپنے دوست سے، جو اس کے ساتھ ہی اس کی آدھی سیٹ پر براجمان تھا، کہا "صاحب سے کرایہ نہیں لیتے ہیں، لگتا ہے یہ کوئی بھٹکی ہوئی روح ہیں، لہٰذا انہیں حفاظت سے مہاراج گنج میں اتاریں گے”۔ کائنات کے اس چکّر نے مجھے پھر چکّرایا۔

    ایک "پکے” مسلمان کے طور پر میں نے سائنس نہیں پڑھی ہے۔ خلائی سائنس کی تو بات ہی نہیں کیونکہ وہ تو انکل سام کی "سازشی تھیوری” ہے۔ کوئی چیز اپنی جگہ پر ٹہری ہوئی نہیں ہے۔بلکہ سوائے کتابوں کے ہر چیز کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔ چاند زمین کے چکر میں دیوانہ ہے۔ زمین سورج کے عشق میں اس کے چکّرکاٹ رہی ہے۔سورج اپنی کہکشاں کے ساتھ گل چھرے اڑا رہا ہے۔ کہکشاں، کسی اور کہکشاں کے پیار میں فریفتہ ہے۔ اور وہ والی کہکشاں لگتا ہے کسی اور کہکشاں کے چکّر میں جھکڑ سہ رہی ہوگی۔ یہ سب دیکھ کر مجھے تو خود کائنات کے چال و چلن پر بھی شک ہے۔ یہ نیک بخت بھی یقیناً کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔

    ایک دن ایک خلائی "سائنس کار” نے میں مجھے نئی خلائی تحقیقات کی نوید نہیں بلکہ وعید سنائی۔ ہوا یوں کہ وہ یک لخت زور زور سے کمرے چکّر کاٹنے لگے اور چکّروں کے اس عمل میں خود چکّر کھا کر گر پڑے۔ میں نے گھبرا کر ان کی پُرشکن جبین پر ہاتھ رکھا۔ وہ ایک دم اٹھے، سیدھے کھڑے ہو کر ٹائی درست کی اور ہمیں تسلّی دیتے ہوئے بولے:” ڈونٹ وری، آئ ایم اوکے، بس ذرا چکّر سا آگیا تھا۔”

    میں نے اس نئے چکّر کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے: ”کوئی خاص معاملہ نہیں۔ بس مجھے اچانک یہ سوجھی کہ اس وقت جو میں تمہارے ڈرائنگ روم میں سکون سے بیٹھا ہوا ہوں توحقیقت میں سب کچھ ایک دم ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ سب گردش میں ہے، زمین، سورج، چاند، ستارے، سیارے کہکشاں، حالات، خبریں، کردار، اطوار، دن مہینے اور سال۔ بس یہ سوچتے سوچتے چکّر سا آگیا…باقی آئی ایم اوکے۔”

    یہ سن کر کچھ دیر کے لئے مجھے چکر سے لگے کیوں کہ خلائی علوم میں وہ ناسا کی بھٹکی ہوئی آتما ہے۔ خلائی سائنس تو کیا سائنس کی ابجد کے لحاظ سے میں پہنچا ہوا ناواقف ہوں۔

    بہر حال نئے سال کی مبارک بادیں بغیر مٹھائی، بریانی اور ہریسہ کے آپ وصول کرتے رہیں۔ وہ اس لیے کہ سیاسی لیڈران، مختلف شعبوں کے ہیڈز، دفتروں کے باسز، یونینوں کے رہنما اور دوست، عزیز و اقارب، گرل اور بوائے فرینڈ اور تو اور سوشل میڈیا کے نیٹی زن دوست آپ کو نئے سال کی مبارک بادیں پیش کرنے میں کڑھائی میں زندہ مچھلیوں کی طرح تڑپ رہے ہیں۔

  • منجا — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    منجا — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    شادی سے دودن پہلے دُولہے کے دوست دُولہا کے ہمراہ محلے کے ہر گھر سے جا کر ایک ایک منجا اکٹھا کرتے۔ منجے کے پاوے پر اس گھر کے سربراہ کا نام لکھا جاتا۔ منجے کی صحت سے گھر کی معاشی حالت کا اندازہ ہوجاتا۔ کچھ بہتر حالات والے گھر سے منجے کے ساتھ ایک عدد سرہانہ یا چادر بھی مانگ لی جاتی ۔ ملک صاحب کے گھر سے سرخ پایوں والا منجا اور نئے سرہانے ملتے۔

    منجے شادی والے گھر کے مردان خانے کی چار دیواری کے اندر یا پھر کُھلے میں ایک ترتیب سے لگا دئے جاتے جہاں اگلے دودن شادی کی تقریبات جیسے سہرا بندی اور بارات کی روانگی وغیرہ کے لئے لوگ ان پر بیٹھتے۔ دور سے آئے ہوئے مہمان دو چار دن پہلے ہی چکے ہوتے اور وہ ان منجوں پر دن رات بیٹھک جماتے۔ کبھی کبھی کسی منجی کا شیرو ، بانہہ یا پاوا مہمانوں کے بوجھ ٹوٹ جاتا۔ ایک کڑاک کی آواز آتی اور مہمان چاروں شانےچِت۔اس زخمی منجی کو ایک طرف کھڑا کر دیا جاتا تاکہ شادی کا رولا ختم ہونے کے بعد اسے ٹھیک کروا کر مالک کے گھر بھیج دیا جائے۔ اکثر لوگ اپنی زخمی منجی اٹھا کر کے جاتے اور مرمت کروا لیتے۔

    یہ نہیں کہ اکٹھے کئے گئے سارے منجے مرد ہی استعمال کرتے، کوئی پانچ دس منجیاں زنان خانے میں بھی بجھوا دی جاتیں جن پر مہمان خواتین شادی والے دنوں میں اپنے چھوٹے بچے سلاتیں۔ ہ منجیاں ان کی ڈائننگ ٹیبل، صوفہ اور بچوں کا باتھ روم ہوتیں۔ صاف منجی دیتے ہوئے گھر والے کہتے “پتر اس نوں زنانے میں نہ دینا”

    موسم کی مناسبت سے ان منجوں کو لوگ سائے یا دھوپ میں خود ہی گھسیٹ لیتے اور وقت کی مناسبت سے ان پر لمے ہو جاتے یا بیٹھ جاتے۔فنکشن کے وقت ایک ایک منجے پر چھ سے دس دس لوگ بیٹھ جاتے۔

    وقت بدلا ، ٹینٹ سروس آئی، منجوں کی جگہ اسٹیل کی کرسیاں آئیں، پھر دریاں اور قالین بچھائے جانے لگے اور اب حالت یہ ہے کہ میرے چھوٹے سے قصبے کُندیاں میں دلہا دلہن تیار ہو کر پارلر سے سیدھے مارکی آتے ہیں۔ شادیوں میں منجوں پر بیٹھ کر لگنے والے مارکے (اکٹھ)ختم ہو چکے۔ تین گھنٹے میں ٹِک ٹاک شادی ختم۔

  • ریاضت بہتر بناتی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ریاضت بہتر بناتی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فون ہاتھ میں ہوتا ہے ہمیں نمبر ڈائل کرنا ہوتا ہے. ہمیں معلوم ہوتا ہے یہ نمبر میرے پاس سیو ہے. ہمیں یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ فون کیوں کرنا ہے کیا کہنا ہے لیکن اسکا نام یاد نہیں رہتا جسے فون کرنا ہو. جن لوگوں کے فون نمبرز کی ڈائریکٹری بڑی ہوتی ہے جن کے کام کی نوعیت پھیلی ہوئی ہو ان کو اکثر یہ مسئلہ درپیش ہو جاتا ہے.

    لیکن ہمیں اچانک وہ نام بھول کیوں جاتا ہے.؟ اسکا جواب اس تعلق میں ہے جو ڈائریکٹری میں نام ہوتے بھی یاد نہیں آتا. جو روزانہ کے تعلقات ہوں گے وہ آپ نہیں بھولیں گے. جو کبھی کبھار کا تعلق ہوگا وہ سیو کرتے ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ نہیں بھولیں گے لیکن بھول جاتے ہیں.

    بلکل ایسے ہی زندگی کے بہت سے چیلنج ہوتے ہیں جو ہم سمجھتے ہیں ہم کر سکتے ہیں ہم کرنا چاہتے ہیں. لیکن پھر جب ہم کرنے جاتے ہیں تو کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا. ہم کلیو لیس ہو جاتے ہیں. ایک جھنجھلاہٹ ایک شرمندگی خود سے ہوتی ہے. یار ہم سے اتنا بھی نہیں ہو پایا.؟ اسکا حل بھی روزانہ کے رابطے میں ہے. اسے پریکٹس کہتے ہیں تربیت کہتے ہیں مشق کہتے ہیں.

    ہم وہی کر سکتے ہیں جس کی ہمیں پریکٹس ہو. پریکٹس وہ روزانہ کی کوشش ہے جو آپ کو کل کیلئے تیار کرتی ہے. جیسے دوڑ ہو آپ بیشک دوڑ سکتے ہیں لیکن پریکٹس نہ ہو تو تھوڑا سا دوڑ کر ہی ہانپ رہے ہوں گے سانس لینا دوبھر ہو جائے گا. اور آپ خود سے شرمندہ ہو جائیں گے.

  • روایات کی طرف لوٹ آئیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    روایات کی طرف لوٹ آئیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    میری دو دن قبل والی تحریر پڑھ کرکل ایک دوست نے اپنی سٹوری سنائی۔ اسے دوسرے ذرائع سے کنفرم کر کے لکھ رہا ہوں۔

    وہ بتانے لگے کہ میرے والدین دوسرے شہر میں ہیں۔ مجھے جاب کے سلسلے میں فیصل آباد رہنا ہے تومیں نے شادی بھی یہیں کرنے کا سوچا۔ مختلف رشتہ داروں، جان پہچان والوں اور رشتہ سنٹرز کو رشتے کے لیے کہا۔ چونکہ میری جاب بہت اچھی ہے، تنخواہ لاکھوں میں ہونے کی وجہ سے رشتہ ڈھونڈھنا کچھ خاص مشکل نہیں تھا۔ میں نے سب رشتہ کرانے والوں کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ مجھے جاب والی لڑکی نہیں چاہیے۔ مجھے گھریلو لڑکی چاہیے ، چاہے اس کی تعلیم کم ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے باہر کے کھانے نہیں پسند تو اسے کھانا بنانا بھی آنا چاہیے، جہیز مجھے بالکل ہی نہیں چاہیے بس میری طرح شریف ہوں، اخلاق اچھا ہو۔

    ایک جگہ بات تھوڑی آگے بڑھی تو والدین کے ساتھ دیکھنے گئے۔ وہاں کھانا بھی بہترین پیش کیا گیا۔ ہر چیز پر کہا گیا کہ میری ہونے والی بیوی نے ہی بنایا ہے۔ باقی سب کچھ بھی والدین کو اور مجھے پسند آیا تو یہ رشتہ طے ہو گیا۔

    شادی کے بعدجب اسے فیصل آباد اپنے ساتھ لایا تو اس نے بتایا کہ مجھے تو کچھ بھی بنانا نہیں آتا۔ میں نے پوچھا کہ پھر شادی سے قبل آپ کے گھر والوں نے کیوں کہا تھا کہ سب آپ نے بنایا ہے۔

    وہ بتانے لگی کہ رشتہ کروانے والوں نے کہا تھا کہ کھانے کا اچھا انتظام کر لینا اور کہہ دینا کہ لڑکی نے بنایا ہے سب۔ رشتہ ہو جائے گا تو پھر کون ان باتوں کو دیکھتا ہے۔ لاکھوں میں تنخواہ ہے لڑکے کی۔ وہ نوکرانی کا انتظام بھی کر ہی لے گا۔ تو امی اور خالہ نے مل کر بنایا اور کہا کہ میں نے بنایا ہے۔

    وہ دوست کہنے لگے کہ مجھے اس جھوٹ پر غصہ تو آیا مگر اب شادی ہو چکی تھی۔ اس لیے اپنی بیوی سے کہا کہ چلیں اب سیکھ لیں۔ یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ کچھ یو ٹیوب سے مدد لیں، کچھ امی ہے۔ کچھ کام والی بتا دے گی اور مدد بھی کروائے گی۔ لیکن آپ سیکھ لیں۔ مجھے نہ باہر کے کھانے پسند ہیں اور نہ ہی کام والی یہ اچھے سے کرتی ہے۔ لیکن میری بیوی نے اس پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ پہلے میں پیار سے سمجھاتا رہا، پھر تھوڑا غصہ کیا مگر اسے تو گویا کچن میں جانے سے ہی چڑ تھی۔

    چھ ماہ تک گزارا کیا مگر جب اس نے اس معاملے میں بالکل ہی کوئی بات ماننے سے انکار کر دیا تو مجبوراً اسے میکے بھجوا دیا کہ شاید کچھ حالات بہتر ہوں۔ چار پانچ ماہ وہاں رہی لیکن اس کے والدین کا بھی یہی کہنا تھا کہ ہم نے بیٹی کی شادی کی ہے، نوکرانی بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ کے لیے کھانے بنائے۔

    بیچ میں بزرگوں کو ڈالا تاکہ معاملہ سلجھ سکے ۔ مزید تین چاہ ماہ کے لیے اسے لے آیا۔ یوں ایک سال گزر گیا لیکن وہ اس پر بالکل بھی راضی نہ ہوئی۔

    وہ دوست افسردہ لہجے میں کہنے لگے کہ جب بالکل ہی کوئی صورت نہ رہی تو میں نے ایک طلاق دے کر گھر بھیج دیا کہ شاید اس سے ہی کوئی فرق پڑے اور وہ کچھ لچک دکھائے۔ عدت تک انتظار کیا لیکن ان کی طرف سے ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

    اس کے بعد میں نے دوسری شادی کی سوچا۔دوسری شادی تھی تو اچھی نوکری اور تنخواہ کے باوجود اب کی بار رشتہ ڈھونڈھنے میں بہت زیادہ مشکل پیش آئی۔ اب کی بار جہاں بھی رشتے کی بات چلی تو میں نے ہر جگہ یہ بھی شرط رکھی کہ ہونے والی بیوی سے گھر والوں کی موجودگی میں خود بھی یہ بات کروں گا۔جہاں بھی بات چلی تو پہلی شادی کی ناکامی کی وجہ ضرور بتائی تاکہ دوسری ناکام نہ ہو۔

    دوسرا یہ کہ پہلے منگنی کی، کچھ عرصہ منگنی رہی۔ پھر گھر والوں کو بہنوں کو کہا کہ ان کے گھر اس دوران جائیں اور دیکھیں کہ وہ کچھ بناتی بھی ہے یا پھر سے ویسا ہی نہ ہو ۔ پھر جا کر دل مطمئن ہوا اور اب اللہ کا شکر ہے کہ دوسری شادی کے بعد میرا گھر پرسکون چل رہا ہے۔ میں اپنی بیوی کا خیال رکھتا ہوں اور وہ میرا۔

    وہ دوست بتانے لگے کہ آج کل جاب والی لڑکی کا رشتہ تو بآسانی مل جاتا ہے، والدین لاکھوں کا جہیز بھی دینے کو تیار ہوتے ہیں لیکن گھر سنبھالنے کی بات کریں تو ایسے گھورتے ہیں جیسے پتہ نہیں کتنی غلط بات کر دی ہے۔ حالانکہ یہ کتنا خوبصورت نظام ہے کہ میاں بیوی زندگی اچھے سے گزارنے کے لیے مل کر رہیں، مرد باہر کے کام بہت احسن طریقے سے کر سکتا ہے تو وہ کمانے کی ذمہ داری نبھائے، باہر کے سارے کام کرے اور عورت گھر کے اندر کے سارے معاملات کو دیکھے۔

    ہمارے والدین کی زندگیوں میں اسی وجہ سے سکون تھا اور کم پیسے میں بھی سب بہترین چلتا رہا۔ اب پیسے کی دوڑ میں دونوں کمانے کے چکروں میں اپنا سکون ہی برباد کر بیٹھے ہیں۔ نہ بچوں کو توجہ، پیار ملتا ہے نہ شوہر کا خیال رکھ پاتی ہے۔لیکن عورت جاب بھی کرتی ہو تب بھی گھر کے کاموں کا اضافی بوجھ بھی اسی پر ہوتا ہے۔ کاش کہ ہم پیسے کے لالچ کی بجائے اپنی روایات کی طرف لوٹ آئیں اور پرسکون زندگی گزاریں۔

  • پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ بے نمازیوں کو نماز کی طرف راغب کیسے کر سکتے ہیں؟

    برصغیر کے علاوہ آپ کہیں بھی چلے جائیں ایک واضح فرق یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہاں مسلمان تعداد میں کم ہونے کے باوجود بھی مساجد بھری ہوئی ملتی ہیں۔ جبکہ یہاں پاکستان میں حال یہ ہے کہ جمعہ کی نماز پر کسی بھی مسجد میں جگہ نہیں ملتی جب کہ کسی بھی دوسری نماز پر ایک بھی صف پوری نہیں ہوتی۔ اس کی وجوہات اور ان کے حل پر لکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم زیادہ لوگوں کو نماز کی طرف راغب کر سکیں۔

    اس کی وجوہات جو مجھے سمجھ آتی ہیں ان میں یہ تین بہت اہم ہیں۔

    1۔ نماز کی قدرو منزلت واہمیت۔۔۔ نہ پڑھنے کی وعید

    کسی بھی کام کے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بندے کو اس کی قدرو منزلت واہمیت کا ادراک ہو۔ وہ کام دین سے متعلق ہو تو اس کے کرنے کی صورت میں اجروثواب اور نہ کرنے کا گناہ وعذاب کے بارے معلوم ہو۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب بہت کم لوگ دین سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگوں کے دین سیکھنے کا واحد ذریعہ یا تو عصری کتب میں موجود چند ایک اسلامی مضامین ہیں یا جمعہ کہ خطبات۔ عصری تعلیم میں چند ایک واجبی سی باتوں کے علاوہ کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو دین کی صحیح تعلیم دے سکے۔ جمعہ کے خطبات میں مولویوں کو مسلکی لڑائیوں سے ہی فرصت ہی نہیں ہے۔ قرآن مجید ہی کوئی نہیں کھولتا تو احادیث کی کتب کا مطالعہ کون کرے گا۔

    کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ قرآن پاک اور سنت میں سب سے زیادہ تاکید اور حکم نماز کے بارے ہی ہے اور اس کو کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑ سکتے۔ یہاں تک کہ بیمار ، معذور، لاغر حتیٰ کہ موت کے منہ میں پہنچے ہوئے کو بھی نماز معاف نہیں ہے۔ سب سے پہلے اسی کے بارے ہی سوال ہونا ہے۔ خدانخواستہ ہم پہلے ہی سوال میں فیل ہو گئے تو پھر کیسے کامیابی ملے گی؟

    2۔ فرض نماز کتنی ہے؟فرض نماز پر کتنا وقت لگتا ہے؟ کوئی سنت نماز نہ پڑھے تو گناہ ہو گا؟

    دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو فرض، سنت ، نفل کا فرق معلوم نہیں ہے اور اکثریت کے نزدیک عشاء کی سترہ اور ظہر کی بارہ رکعت پڑھنی لازم ہیں۔ فرانس میں عربیوں کا دیکھتا تھا کہ سخت سردی میں بھی جماعت کے لیے لازمی مسجد آتے تھے لیکن فرض پڑھتے ہی نکل کر کام میں لگ جاتے تھے۔ تب بڑا غصہ آتا تھا کہ سنت پڑھتے ہی نہیں۔ شروع میں مساجد سے آئمہ کرام سے اس بابت پوچھا تو جواب ملا کہ سنت چھوڑنے پر گناہ ہو گا۔ جب خود مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ سنت نماز دراصل نوافل ہیں ، کچھ وہ (سنت مؤکدہ )جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لازمی پڑھتے تھے اور کچھ وہ جو کبھی پڑھ لیتے تھے کبھی نہیں۔ ان سب کی تاکید تو کی ہے اور بہت زیادہ ثواب بھی بتایا ہے لیکن حکم نہیں ہے۔ یعنی پڑھیں تو بہت ہی زیادہ اجروثواب ہے لیکن کوئی نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہے۔ بعد میں علماء کرام سے پوچھا تو دیوبندی اور اہل حدیث علماء کرام نے اس کی تصدیق کی کہ کوئی سنت مؤکدہ بغیر کسی وجہ کے بھی نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہوگا۔ اور نوافل تو پتہ نہیں کس نے شامل کر دیے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اکثر دیکھتا ہوں کہ یہ فرق معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ جلدی جلدی پڑھنے لگے ہوتے ہیں حالانکہ وقت کی کمی ہے تو صرف فرض پڑھ لیں لیکن سکون سے پڑھیں۔ گھر میں اکثر خواتین کو خشوع وخضوع کی بجائے بس جلدی جلدی ختم کرتے دیکھتا ہوں۔

    بے نمازیوں کو اگر یہ بتا دیا جائے کہ صرف پانچوں فرض نمازوں کی سترہ فرض کی رکعتیں ہیں جن کی باز پرس ہونی ہے اور وہ لازمی پڑھنی ہیں اور باقی پڑھو یا نہ پڑھو تو ان کی اکثریت جماعت کے ساتھ نماز کا اہتمام کر لے گی۔ سنت ونوافل کی اہمیت بہت ہے اور اس کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ جو کمی کوتاہی ہماری نماز میں رہ گئی ہو اس کے لیے ہمارے سنت ونوافل کام آجائیں لیکن کبھی وقت کی کمی ہو یا جلدی ہو تو صرف فرض پڑھ لیں۔

    اور بے نمازی لوگ پہلے صرف فرضوں کا اہتمام کر لیں پھر جب نماز کی عادت پختہ ہو جائے تو سنت ونوافل کے اہتمام کی کوشش کر لیں۔ یاد رہے کہ فرض نماز کا جہاں بھی قرآن وسنت میں تذکرہ ملے گا تو واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پڑھنے پر کیا اجروثواب ہے اور نہ پڑھنے پر کیا عذاب و وعید۔ لیکن سنت ونوافل کی بات جہاں بھی کی گئی ہے صرف اور صرف اجروثواب کا ذکرہے، کہیں بھی اشارے کنایوں میں بھی گناہ یا وعید کا تذکرہ بھی نہیں ہے۔

    3۔شفاعت کا غلط تصور

    برصغیر کے لوگوں کا اپنا من پسند اسلام ہے۔اکثریت کی سوچ یہ ہے کہ ہم کچھ بھی کرتے رہیں، چاہے دین کے کسی بھی حکم پر عمل نہ کریں پھر بھی ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو جائے گی اور ہمیں تو جنت سب سے پہلے ملنی ہے۔ پھر اس پر مستہزاد یہ کہ پیروں فقیروں سے امیدیں کہ وہ بخشش کروا دیں گے۔ اس کے لیے یہ بھی نہیں سوچتے کہ جس رب کی وہ دن میں پانچ بار نافرمانی کررہے ہیں اور حکم عدولی کر رہے ہیں اس رب کے سامنے کوئی ان کی شفاعت کیونکر کر سکے گا؟

    شفاعت اس کی تو ہو سکتی ہے جس سےجانے انجانے یا بشری کمزوریوں کی وجہ سےگناہ ہو گئے ہوں لیکن ایک عادی نافرمان اور جانتے بوجھنے حکم عدولی کرنے والا خود کو اس کا مستحق کیسے سمجھ سکتا ہے۔

    اگر خدانخواستہ آپ نماز کی پابندی نہیں کرتے تو آج سے ہی اس کا اہتمام کیجیے۔ ابھی صرف فرض اور وترنماز پڑھنا شروع کردیں۔ پھر سنتوں کا اہتمام کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ضرور دے گا انشاءاللہ۔

  • مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    اختلافات مٹائیے مُلک بچائیے
    No Consensus – No Country
    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے
    قومیں اور مُلک یکجا ہو کر ترقی کرتے ہیں یا پھر اختلافات میں گِھر کر بِکھر جاتے ہیں۔ سوویت یونین، افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستانی جب بھی متحد ہوئے،تو نا صرف مُشکلات پر قابو پایا بلکہ سُرخرو بھی ہوئے۔

    قیام ِ پاکستان ہو یا 1965کی جنگ،2005 کا زلزلہٰ ہو یا 2010 کا سیلاب،1998 کے ایٹمی دھماکے ہوں دہشت گردی کے خلاف جنگ یا2019 میں بھارتی جارحیت، کووڈ 19ہو یا حالیہ غیر معمولی سیلاب،قوم نے متحد ہو کران چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ قران میں ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں اختلافات نہ کرو، ورنہ تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔

    قرآن میں مشاورت کا خصوصی ذِکر کیا گیا ہے کہ اپنے معاملات مشاورت سے حل کرو۔پاکستان میں ایک کثیر الجماعتی سیاسی نظام بھی موجود ہے۔ کوئی ایک شخص یا پارٹی پُورے پاکستان، علاقوں یا قومیت کی نمائیندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے حالیہ معاشی اور دہشتگردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی وحدت اور یگانگت کا عملی مظاہرہ کیا جائے

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

  • ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں، تحریر: امان الرحمان

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں، تحریر: امان الرحمان

    ہیلتھ لیوی
    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:
    ہیلتھ لیوی اک اضافی ٹیکس ہے جسے مختلف ممالک جیسے بھارت ،آسٹریلیا اور میکسیکو وغیرہ میں مضر صحت اشیإ پر عاٸد کیا گیا ہے۔ اس اضافی ٹیکس کا مقصد ان اشیإ کی قیمت خرید کو بڑھاوا دے کر عام لوگوں کی پہنچ سے دور رکھنا ہوتا ہے۔ ان اشیإ میں خاص طور پر کاربونیٹڈ اور شوگری مشروبات، تمباکو پر مشتمل اشیإ جیسے سگریٹ اور شوگری فلیورڈ جوسز شامل ہیں۔ یہ تمام اشیإ مختلف بیماریوں کی بنیاد ہیں۔ ذیابیطس کا مرض دنیا میں اس قدر پھیل چکا ہے کہ ہر پانچ افراد میں سے ایک شخص اس مرض میں ضرور مبتلا ہوتا ہے ۔ مزید براں دل کے امراض ، فالج، کینسر اور دماغ کی شریان پھٹنے جیسے مہلک امراض کی وجہ بھی یہی مضر صحت مشروبات اور تمباکو نوشی ہی ہیں ۔ ان کی وجہ سے سالانہ کروڑوں لوگ مختلف امراض میں مبتلا ہوتے ہیں اور لاکھوں لقمہ اجل بنتے ہیں۔ اس لیے بیشتر ممالک ان بیماریوں کے پھیلاٶ کو روکنے کیلیے ان بیماریوں کی وجوہ بننے والے محرکات کا تدارک کررہے ہیں۔ جن میں ایک اہم قدم ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہے۔ لیوی ٹیکس چونکہ عدالت وغیرہ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اس لیے یہ زیادہ مٸوثر ثابت ہوتا ہے۔ شوگری مشروبات اور سگریٹ جیسی اشیإ پر ہیلتھ لیوی کے اطلاق سے ممالک سہہ رخی فواٸد حاصل کر رہے ہیں۔ اک تو ان اشیإ کی وجہ سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے جو خزانے پر براہ راست مثبت اثرات مرتب کرتا ہے دوسرا حکومتوں کو ہیلتھ سیکٹر پر کم خرچ کرنا پڑتا ہے کیونکہ مضر صحت اشیإ کا استعمال کم ہونے سے بیماریوں کی شرح بھی کم ہوجاتی ہے ۔ اور تیسرا اہم فاٸدہ عوام کی عمومی صحت میں بہتری ہے ۔ جن ممالک میں بیماریوں کی شرح کم ہوتی ہے وہاں پیداواری شرح زیادہ دیکھی گٸ ہے کیونکہ صحت مند افراد بیمار افراد کی نسبت ہر شعبے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہیلتھ لیوی کے اطلاق سے کٸ ممالک یہ سب فواٸد حاصل کررہے ہیں ۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی کا عدم نفاذ اور اس کے اثرات۔
    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لاکھوں افراد پان چھالیہ اور گٹکے کے بکثرت استعمال کی وجہ سے منہ ، گلے اور پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہوچکے ہیں مگر پھر بھی ان کا بے تحاشا استعمال جاری ہے۔ کیونکہ یہ تمام اشیٕا بشمول سگریٹ نہایت ارزاں قیمتوں پر جابجا دستیاب ہیں جس کی وجہ سے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی اس سلو پواٸزن کے عادی ہوۓ چلے جارہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 615 بلین روپے سالانہ صرف تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے امراض کے علاج میں حکومت خرچ کرتی ہے۔ اور روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی کرتے پاۓ جاتے ہیں ۔ پاکستان کے کسی بھی شہر حتی کہ دور دراز دیہات کا بھی سفر کریں تو آپ کو سگریٹ پان اور گھٹیا شوگری کاربونٹیڈ مشروبات بکثرت اور عام ملیں گے ان کی قیمتیں بھی انتہاٸ کم ہوتیں ہیں جن کی وجہ سے بچے اور بڑے سبھی ان کا بے دریغ استعمال کرتے دکھاٸ دیتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان شوگر کے مرض میں دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ ایک ایسا جان لیوا مرض ہے جو کٸ دوسرے امراض کو جم دیتا ہے جن میں فالج ، لقوہ، دل کے امراض ، شریان پھٹنا اور گردوں کافیل ہونا بھی شامل ہے ۔ ان امراض کا علاج بھی کافی پچیدہ اور مہنگا ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان وہ ملک ہے جہاں عوام کی صحت سے متعلق ناں تو حکومتی سطح پر مناسب آگاہی کا انتظام کیا جاتا ہے ناں مضر صحت اشیإ کے پھیلاٶ کے تدارک کیلیے عملی اقدامات اٹھاۓ جاتے ہیں۔

    2019 میں پاکستان میں پہلی دفعہ مختلف سماجی تنظیموں کے مطالبے پر تمباکو پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کا بل پاس کیا گیا۔ مگر FBR کی وجہ سے یہ بل سینیٹ ، وزارت خزانہ اور دیگر اداروں کے درمیان چکراتا رہ گیا اور اس پر عمل کی نوبت ناں آسکی۔ جبکہ اگر اس بل کا بروقت عملی اطلاق ہوجاتا تو پاکستان کو سالانہ 55 ارب روپے اضافی ٹیکس میسر آتا۔
    چند روز قبل کرومیٹک کے زیر اہتمام سوشل میڈیا انفلوٸینسرز اور ماہرین پر مشتمل ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میں کرومیٹک کے سی ای او ملک عمران نے حاضرین کو اگاہ کیا کہ پاکستان ہیلتھ لیوی کے فوری نفاذ سے 60 ارب روپے کا ریونیو جمع کرسکتا ہے جو کٸ وباٸ امراض کے روک تھام پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ جو فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے پھیلتے چلے جارہے ہیں اور کٸ قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سیمینار کے تمام مقررین نے بھی حکومت وقت سے مضر صحت شوگری مشروبات اور تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ہیلتھ لیوی نافذکرنے کا یک زبان مطالبہ کیا۔ اور ہیلتھ لیوی کا فوری نفاذ اس وقت پاکستان کی اہم ضرورت ہے کیونکہ شوگری کاربونیٹڈ مشروبات اور تمباکو نوشی کے باعث پاکستان میں کروڑوں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر ہسپتالوں کے چکر لگارہے ہیں جن کے علاج معالجے کے مد میں اربوں روپے سرکاری خزانے سے خرچ ہوتے جبکہ ان اشیإ کے استعمال جو کم کرکے یہ روپے بچاۓ جاسکتے ہیں اور انہیں کہیں اور مثبت مقاصد کیلیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت پاکستانی معیشت شدید زبوں حالی کا شکار ہے سگریٹ پر ٹیکس نافذ کرکے حکومت فوری طور پر اربوں روپے جمع کرسکتی ہے۔ ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے پاکستان میں سگریٹ ، پان، چھالیہ ، شوگری اور کاربونیٹڈ مشربات کے بکثرت استعمال کو کم کیا جاسکتا ہے اور انہیں بچوں کی دسترس سے بھی دور کیا جاسکتا ہے۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ایمرجنسی بنیادوں پر تمام مضر صحت اشیإ پر بلاتخصیص بھاری ہیلتھ لیوی نافذ کرے اور معاشرے کو صحیح معنوں میں مثبت راہ پر لائے۔ اب نہیں تو کب؟
    تحریر۔۔ امان الرحمن

  • ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    تمباکو نوشی اور اس سے متعلقہ دیگر مصنوعات پر یکسر پابندی کا مطالبہ کرنا ایک بات ہے جبکہ ان کی خرید و فروخت اور ترغیبات پر قدغن لگانا یا محدود کرنا ایک بات ہے, اور ان میں آخر الذکر بات حقیقت کے زیادہ قریب ترین ہے کیونکہ تمباکو نوشی پر مکمل پابندی یا اس کو صفحہ ہستی سے مٹانا وغیرہ آج کی دنیا میں ممکن نہیں کہ ادھر سماجی و سیاسی کارکنان کی محنت سے کوئی حکومت ایسا قدم اٹھانے لگے گی تو کسی کونے کھدرے سے کوئی نا کوئی انسانیت اور انسانی حقوق کا چورن منجن بیچنے والا گروہ, ادارہ یا شخصیت ٹپک پڑے گی اور نجانے کہاں سے اور کیسے تمباکو نوشی جیسی مضر صحت, مضر ماحول, مضر اخلاقیات اور مضر معیشت گھٹیا عادت اور زہریلی شہ بابت قوانین اور اصول و ضوابط لے آئیں گے کہ یہ بنیادی انسانی حق ہے بلا بلا بلا اور جو اس کا خاتمہ یا محدودیت چاہتے ہیں وہ ظالم اور انسان دشمن لوگ ہیں۔

    جبکہ ایک محتاط اندازے اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تمباکو کی سستی قیمتوں کی وجہ سے 10.7 فیصد پاکستانی نوجوان جن میں 6.6 فیصد لڑکیاں اور 13.3 فیصد لڑکے شامل ہیں، تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں۔

    مزید یہ کہ تقریباً 1200 پاکستانی بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ کیا ایک معاشرے کے طور پر، ہمیں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو لاگو کرکے اپنے بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچانے کے لیے ایک اہم قدم نہیں اٹھانا چاہیے؟

    اور آپ کو آگاہی بہم دیتے چلیں کہ ہماری آبادی کا تقریباً نصف، مطلب 45% فیصد حصہ 18 سال سے کم عمر بچوں پر مشتمل ہے۔ اور یہ کہ پاکستان میں بھی پاکستانی بچوں کے بنیادی حقوق کو مانا اور محفوظ کیا جاتا ہے بلخصوص پاکستان کی جانب سے عالمی برداری کو دلائی یقین دہانیوں اور عہد و پیمان کے تناظر میں کیونکہ تمباکو نوشی دراصل اور درحقیقت ایک وبائی بیماری ہے جو بچوں کی زندگی، بقاء اور ترقی، صحت، تعلیم اور صاف اور سرسبز عوامی مقامات تک رسائی کے حق کی براہ راست خلاف ورزی کرتی ہے۔

    فرسٹ ہینڈ سموکنگ تو بہرحال بچوں اور نوجوانوں کی زندگی تباہ و برباد کرتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جو سب سے زیادہ نقصان نان سموکر بچوں اور نوجوانوں کا ہوتا ہے اسکی بنیادی وجہ سکینڈ ہینڈ سموکنگ اور تھرڈ ہینڈ سموکنگ ہے جو کہ دراصل بلاواسطہ اثرات سے مزین ہے جو ایک تمباکو نوش کے مقابلے دگنے اور خطرناک ہیں۔

    پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری دراصل تمباکو خریدنے اور استعمال کرنے کے مختلف حربوں سے بچوں اور نوجوانوں کے کچے ذہنوں کو فتح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بچوں کو تمباکو نوشی اور اس کے مضر صحت اثرات سے بچانے کے لیے، 2019 میں، وفاقی کابینہ نے تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی (اضافی ٹیکس) لگانے کے بل کی منظوری دی تھی تاکہ کھپت کو کم کیا جا سکے اور سالانہ 60 ارب پاکستانی روپے کما کر خزانے کو فائدہ پہچایا جاسکے اور بعد میں یہی روپیہ صحت کے مسائل حل کرنے پر خرچ کیا جاسکے۔ تاہم پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے اندر تک موجود اثر و رسوخ کی بدولت بہت سے پالیسی سازوں نے اس بل کو مسلسل بلاک کر رکھا ہے جس وجہ سے پاکستان میں تمباکو نوشی کی اقتصادی لاگت 615.07 بلین روپے تک پہنچ گئی ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر ہے لیکن تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی صرف 20 فیصد ہے۔ پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری نے بچوں کی صحت کو داؤ پر لگا کر بلکہ بچوں کی صحت کی قیمت پر اب تک اربوں کھربوں کمائے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری اسے شرافت سے واپس کرے وگرنہ آج چند آوازیں اٹھ رہی ہیں تو کل یہ شور میں بدل جائیں گی اور پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کو جان بچا کر بھاگنا مشکل ہوجائے گا۔

    خیال رہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے ہاتھوں تباہ ہونے دینا ایک ایسے معاشرے کے لیے انتہائی شرم کی بات ہوگی جو پہلے ہی اپنے عہد و پیمانوں کو اپنے بچوں تک پہنچانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہا ہے اور ابھی تک عشر عشیر بھی کامیاب نہیں ہوسکا اس لیے ایسے میں تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کے نفاذ میں تاخیر صرف بچوں کے حقوق کے حوالے سے ہمارے معاشرے کے غیر معمولی رویے کو اجاگر کرے گی اور ہماری بے حسی و خود غرضی کا نقاب اتارنے کا باعث بنے گی۔

    تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہمارے بچوں اور ہماری قوم کے مفاد میں ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی) کے تحت پاکستان نے بچوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے کے لیے پرو چائلڈ اقدامات کو نافذ کرنے کا عہد کیا ہے۔ جبکہ تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کا نفاذ ہمیں بچوں سے اپنے وعدے کو پورا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے لیکن ایف بی آر اور حکومت وقت میں بیٹھی کچھ کالی بھیڑیں اور سماج دشمن انسان مل کر اس بل کو روکے ہوئے ہیں اور ان کی درپردہ کوششیں جاری ہیں کہ اس بل کو کسی طرح کالعدم قرار دلوادیں اور پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری سے اپنی خاطر خواہ قیمت وصول لیں اور اپنی وفاداریوں پر مہر ثبت کرلیں۔

    واضح کردوں کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان سے بارہا کہا ہے کہ سگریٹ کی قیمت کم از کم 30 روپے فی پیکٹ تک بڑھا دی جائے تاکہ سگریٹ کی کھپت کو کم کیا جا سکے اور صحت کے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ حکومت کو قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے اس پائیدار حل سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور بیشک یہ ہی وہ ٹیکس ہے جس کے لیے 2019 میں ٹوبیکو ہیلتھ لیوی بل منظور کروایا گیا تھا لیکن وہ تاحال سردخانے میں پڑا ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق پاکستان ٹوبیکو انڈسٹری کے جی ایم صاحب کے بھائی آج کل ہمارے وزیراعظم شہباز شریف کے قرب و جوار میں پائے جاتے ہیں اور ایک اعلی سرکاری عہدہ جس کا براہ راست تعلق وزیراعظم سے ہے پر براجمان ہیں تو یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہے کہ وہ اس بل یا دیگر کسی ایسے سخت قدم پر اثر انداز نہیں ہوئے, ہورہے یا ہوں گے جو پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے خلاف ہو یا ہے۔

    قصہ مختصر کہ ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ 80 ارب سیگریٹ پھونکے جاتے ہیں جس میں عمر کی کوئی تفریق اور تخصیص نہیں, جبکہ میرے خیال میں 80 ارب سیگریٹ تو وہ ہوئے جو رجسٹرڈ کمپنیوں کی جانب سے تیار اور فروخت ہوئے ہونگے جبکہ لگھ بگھ 20 ارب کے قریب وہ سیگریٹ بھی ہیں جو مارکیٹ میں کسی نہ کسی نام رنگ اور ہجم میں بکتے ہیں لیکن ان کا کوئی کھاتہ درج نہیں تو اس طرح پاکستان میں 100 ارب سیگریٹ سالانہ پھونک کر قوم کا پیسہ اور صحت ساتھ پھونکی جارہی ہے جس پر ہمیں سر پھروں کی طرح سوچنا اور سخت ترین اقدامات کرنے ہونگے اور ہیلتھ لیوی بل کی منظوری اور اب اس کا بے رحم نفاذ دراصل اس حوالے سے شروعات ہوگی, ہمیں صحت مند معاشرہ اور پھلتی پھولتی معیشت و معاشرت چاہیے تو ملکر اس مدعے پر جاندار اور شاندار آواز اٹھانی ہوگی وگرنہ یہ یاد رکھیں کہ آپکی آبادی کے 45% فیصد اور 65% فیصد حصے پر مشتمل بچے اور نوجوان روزانہ کی بنیاد پر تمباکو نوشی کا شکار ہورہےہیں اور یہ تعداد 1200 سے فی دن کے حساب سے جاری و ساری ہے, اب آپ سوچ لیں کہ یہ تعداد کم کرنی اور ختم کروانی ہے یا اس میں روز بروز اصافہ ہو؟

    بچےآپ کے, صحت آپ کی سو فیصلہ بھی آپ ہی کریں کہ تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کا نفاذ ہونا چاہیے کہ نہیں اور اگر ہونا چاہیے تو اس میں تاخیر پر آپ شور مچانے میں پیش پیش رہیں۔