Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ماہ و سال اور ہمارے اعمال!!! —- بلال شوکت آزاد

    ماہ و سال اور ہمارے اعمال!!! —- بلال شوکت آزاد

    اَوَ لَا یَرَوۡنَ اَنَّہُمۡ یُفۡتَنُوۡنَ فِیۡ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوۡ مَرَّتَیۡنِ ثُمَّ لَا یَتُوۡبُوۡنَ وَ لَا ہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾ (سورہ توبہ)

    اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں ۔

    ہر سیکنڈ, ہر منٹ, ہر گھنٹہ, ہر دن, ہر ہفتہ, ہر مہینہ, ہر سال اور ہر صدی فقط اللہ کی ہے, اللہ کی جانب سے اور فقط اللہ کے لیے ہی ہے لہذا اے زمانے کو کوسنے والو۔ ۔ ۔ ماہ و سال کے گزرنے پر ان کی اچھی یا بری تخصیص اور تفریق کرنے والوں خدارا اللہ سے ڈر جاؤ اور توبہ و استغفار کی کثرت کرو کیونکہ کوئی سیکنڈ, کوئی منٹ, کوئی گھنٹہ, کوئی دن, کوئی ہفتہ, کوئی مہینہ, کوئی سال اور کوئی صدی اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ ہمارے اعمال اور اقوال کے نتائج ہیں جو ہماری اچھی یا بری تقدیر کے ذمہ دار ہیں نا کہ وقت یا کوئی مخصوص زمانہ۔

    اللہ نے وقت کی قسم لی ہے مطلب وقت خود اللہ کی ایک صفت ہے اور ایسے میں ہم وقت کے مخصوص حصے کو اپنے اعمال و اقوال سے تباہ کی ہوئی تقدیر کا ذمہ دار ٹھہرائیں تو ہم سے بڑا ظالم اور مفسد کون ہوگا؟

    اللہ کی قسم دو ہزار بیس، اکیس اور بائیس میں جو بھی مشکلات اور مصائب جھیلے اور جن بھی آزمائشوں کا شکار ہوئے وہ سب بھی منجانب اللہ اور ہمارے اعمال و اقوال کا نتیجہ تھے لہذا ان پر صبر و شکر اور استغفار کے علاوہ اور کوئی عمل یا ردعمل قطعی اللہ والوں کا شیوہ اور سنت محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم نہیں۔

    بیشک ہر شہ پر اللہ قادر ہے اور بیشک اللہ ہی رازق اور شافی ہے لہذا سال بھر ہوئی رزق کی تنگدستی اور طاری ہوئی بیماریوں کے باوجود اللہ کا شکر اور صبر ہم پر واجب ہے کہ ہم جو ان کے باوجود زندہ اور صحت مند ہیں تو اللہ کا ہم پر خاص کرم رہا اور دامے درمے سخنے ہی صحیح پر ہم اللہ کی طرف سے آئی مشکلات و مصائب کو جھیل کر نئے سال میں داخل ہورہے ہیں۔

    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تمام عالم اسلام اور تمام انسانیت پر رحم کرے, اس سال ہوئی ہماری کمی کوتاہیوں اور گناہوں کو درگزر کرکے نئے سال کو امن و آشتی کا گہوارہ اور تمام انسانیت کے لیے خوشحالی اور برکت کا سال بنا دے۔

    اللہ ہمارے انفرادی و اجتماعی گناہوں کو درگزر فرمائے اور ہمارے لیے زمانے میں خیر و برکت شامل فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اللہ کے فرمانبردار اور برگذیدہ بندے بن جائیں۔ آمین۔

  • اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    میرے ایک جاننے والے ہیں جن کی بیٹیاں ہماری یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں۔ ہمارے گھر کے قریب والی ایک مسجد میں نماز پر پچھلے دو تین دن سے ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھ لیا کہ آپ کا گھر تو مسلم ٹاؤن کی طرف ہے تو یہاں خیریت سے روز آتے ہیں۔ کہنے لگے کہ میری بیگم کا ایک بیماری کی وجہ سے آپریشن کروانا پڑا ہے۔ گھر میں کھانا وغیرہ وہی بناتی تھیں تو اب جب سے وہ بستر پر پڑی ہیں تو یہاں سے شام کو اپنی بہن کو لے کر جاتا ہوں وہ کھانا وغیرہ بنا آتی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کی تو ماشاءاللہ تین بیٹیاں جوان ہیں اور تینوں گھر ہیں تو پھر بھی کھانے پکانے کے بہن کو لیجانے کی ضرورت پڑتی ہے؟

    کہنے لگے کہ ماں نے بیٹیوں کو کھانا پکانا سکھایا ہی نہیں۔ بس پڑھائی میں مصروف رہیں اس لیے کسی کو بھی نہیں آتا۔

    میں نے کہا کہ بھائی اگر پہلے نہیں سیکھا تو اب سکھا دیں تاکہ یہ محتاجی ختم ہو۔

    وہ مجھے ایسے گھورنے لگے جیسے میں نے پتہ نہیں کیا بات کر دی ہو۔

    میرے لیے یہ انتہائی حیرت کی بات تھی۔ لیکن ایسی ہی باتیں اکثر مختلف لوگوں کے رشتے کی بات کہیں چلے تو اکثر سننے کو ملتی ہے کہ بیٹی کو کھانا پکانا تو ہم نے سکھایا ہی نہیں۔ ہماری بیٹی تو نازوں میں پلی ہے۔

    ایسے لوگ جو بیٹیوں کو کھانا بنانا نہیں سکھاتے وہ ان میں سے کونسی بات سوچ کر ایسا کرتے ہیں

    1۔پہلی آپشن یہ ہے کہ اس کا شوہر ہی کھانا پکا کر اسے کھلائے گا۔ اب اس میں یہ صورتیں ممکن ہیں:

    یا تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی جاب کر کے کما کر لائے اور ان کا داماد گھر سنبھالے، کھانا وغیرہ پکائے۔ خود بتائیں کہ ہمارے معاشرے میں ایسا کوئی بھی پسند کرتا ہے؟ یہاں تک کہ نہ کوئی بھی شوہر یہ پسند کرے گا اور نہ ہی کوئی بھی بیوی یہ پسند کرتی ہے۔
    اسی میں دوسری صورت یہ بنتی ہے کہ کما کر بھی شوہر لائے اور پھر کھانا وغیرہ بھی وہی بنائے۔
    اگر کوئی بھی یہ سوچتا ہے تو پھر یہ بھی بتا دیں کہ کوئی بھی مرد کسی عورت کو بیاہ کر ہی کیوں لائے گا جبکہ گھر اور باہر خود اس نے ہی سنبھالنے ہیں تو پھر مزید ایک شخص کی ذمہ داریاں وہ کیوں اپنے سر لے؟

    2۔دوسری آپشن یہ ہو سکتی ہے کہ شوہر کمائے اور بیوی کوئی بھی کام نہ کرے یا پھر وہ بھی جاب کرے اور کھانا بنا نا سب نوکروں کے ذمہ ہو۔ بظاہر یہ ممکن لگتا ہے لیکن حقیقت میں دیکھیں تو ایسے گھروں کا حلیہ دیکھنے لائق ہوتا ہے جس میں گھر سنبھالنا نوکروں کے ذمہ ہو۔ نوکرانی شاید ہی کوئی ایسی ملے جو دل سے اچھا کھانا بناتی ہو ۔ پھر صفائی کا بھی کوئی خاص خیال نہیں رکھتی ہیں۔ کوئی بہت ہی امیر کبیر گھرانہ ہو جس نے کئی باورچی رکھے ہوں اور وہ کل وقتی ملازم ہوں تو صرف وہاں یہ چل سکتا ہے لیکن ایسا عام گھرانوں میں ممکن نہیں۔

    3۔تیسری آپشن یہ ہے کہ سارا کھانا باہر ہی کھایا جائے یا پھر باہر سے منگوایا جائے۔ یہ کبھی کبھار تو ممکن ہے لیکن ہر وقت نہیں کیوں کہ ایک تو باہر والے ریٹ ہی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ہر وقت منگوانا افورڈ ہی مشکل ہو پائے گا اور پھر اس سے صحت کا جو کباڑہ ہو گا اس کا سب کو معلوم ہے۔

    دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، چاہے عورت گھر رہتی ہو یا کام کرتی ہو، کھانا بنانا اس کی ذمہ داری ہے اور وہی اس کو احسن طریقے سے کر سکتی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ بہت سے ایسے دوسرے کام ہیں جو ہمارے معاشرے میں صرف مرد ہی کرتا ہے اور عورت کر سکتی ہو تب بھی نہیں کرتی۔ تھوڑا سا بھی غور کریں تو بہت سے ایسے کام مل جائیں گے۔ فرانس میں بھی میں نے دیکھا تھا کہ زیادہ تر گھروں میں کھانا عورت ہی بناتی تھی ۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہ وہاں اس پر مزیدکمانے کی بھی پوری ذمہ داری ہوتی ہے۔

    یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ پڑھائی کسی بھی کلاس کی ہو اتنی مشکل نہیں ہوتی کہ اس میں تھوڑا سا وقت بھی گھریلو کاموں کےلیے نکالا نہ جا سکے۔ میٹرک اور ایف ایسی سی کو تھوڑا سا ایسا بنا دیا گیا ہے لیکن اس سے پہلے اور اس کے بعد والی تعلیم میں ایسا کچھ نہیں کہ بیٹیوں کو گھر داری سکھانے کا بھی وقت نہ ہو۔ اس میں سب سے زیادہ نااہلی ماؤں کی ہے۔

    کسی بھی ماں کے لیے کہوں گا کہ اگر آپ کو گھر کے کام کرنے میں عار محسوس نہیں ہوتی تو یہ آپ کی بیٹی کے لیے بھی باعث عار نہیں ہے۔ اگر آپ اپنے شوہر کے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کھانا بنا کر خوشی محسوس کرتی ہیں تو یہی خوشی اپنی بیٹی کو بھی محسوس کرنے دیجیے ۔ اگر آپ یہ پسند نہیں کرتیں کہ آپ کا شوہر، آپ کا باپ یا آپ کی ماں، آپ کا بیٹا یا بیٹی گھر آئے اور اسے کہوں کہ خود بنا لیں یا باہر سے کھا لیں تو پھر اپنے بیٹی کے لیے بھی یہ پسند نہ کریں کہ وہ اپنے سے جڑے رشتوں کے لیے ایسا سوچیں۔

    گھر میاں بیوی دونوں مل کر بناتے ہیں۔ اس میں دونوں پر کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اسلام نے مرد کو قوام بنا کر کمانے کی اور حفاظت کی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے۔ عورت کو معاشی معاملات اور باہر کے معاملات سے بالکل آزاد کر کے صرف گھر کے اندر کی ذمہ داری عورت پر ڈالی ہے۔ اگر میاں بیوی میں سے کوئی بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گا تو گھر کا سکون برباد ہو جائے گا۔

    اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں۔ اگر گھر میں یہ کام کر کے راضی نہیں ہونگی تو یاد رہے کہ کمانے کی ذمہ داری مرد لینا چھوڑ دے گا اور پھر بہت سی عورتوں کو یہی کام گھر سے باہر سارے مردوں کے لیے کرنے پڑیں گے۔ نہیں یقین تو ذرا غیر مسلم ممالک کا ایک چکر لگا کر دیکھ لیجیے۔

  • ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    سب سے پہلے انسانیت ہے انسانیت کا خیال رکھنا ہمارا اولین فرض ہے
    ایسی چیزوں کی روک تھام نہایت ضروری ہے جس سے انسانیت کو نقصان پہنچے
    سگریٹ نوشی ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ایک بدترین خصلت ہے جسکو چھوٹے بڑے فیشن سمجھ کر استعمال کرنے لگ گئے ہیں ۔کچھ اسکو ٹینشن سے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔کچھ اسکو فیشن کے طور پہ اپناتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں یہ انکی صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔تمباکو نوشی پہ ٹیکس لگانے سے اسکا استعمال کم کیا جا سکتا ہے لہذا اس حوالے سے 2019 میں کابینہ نے بل پاس کیا ” ہیلتھ لیوی” لیکن اسکا نفاذ ابھی تک نہ ہو سکا۔ آخر اتنی تاخیر کیوں؟؟اس بل کے پاس سے ہم نوجوان نسل کو کافی حد تک اسکا استعمال کرنے سے روک سکتے ہیں ۔ اگر اسکا استعمال آسان بنا دیا گیا تو ہر بچہ باآسانی اسکو استعمال کرلےگا اور اپنی زندگی تباہ کرلےگاجتنا جلدی ہوسکے اسکا نفاذ کیا جائے ۔انتہائ ضروری اقدام فوری طور پہ کرنے ہونگے ۔اس پہ ٹیکس سے ملک کے بیشتر کام کیے جا سکتے ہیں ۔ اس میں فائدہ تو ہے نقصان نہیں ۔ اس بل کے مطابق ٹیکس کی جو ادائیگی ہوگی اس سے ملک کو بہت فائدہ ہے حکومت اس سے سیلاب زدگان کی بھی امداد کر سکتی ہے ۔
    ایک بچہ گھر سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے اسکے ہاتھ میں اگر سگریٹ تھما دیا جائے وہ اسکا استعمال کر کے نا صرف اپنا مستقبل تباہ کرئے گا بلکہ اپنے اردگرد کی زندگیوں کو بھی متاثر کرئے گا اس میں کسی ایک کا نقصان نہیں ہونا اس معاشر ے میں موجود ہر فرد کا نقصان ہے اسلیے اسکا نفاذ فوری طور پہ کرنا اس ملک کے ہر بچے کو بچانا ہے ہر بچے کے روشن مستقبل کے لیے ہمیں یہ قدم جلد از جلد اٹھانا ہوگا ۔کیا ہم اپنی نوجوان نسل کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتے ۔ جس سے ہماری نوجوان نسل کو فائدہ ہو ہم انکو بچانے کے اقدام کریں

    تمباکو نوشی سے بہت سی ایسی بیماریاں جنم لیتی ہیں کہ جو جسم کے اندر گھر بنا لیتی ہیں اور جان لیوا ثابت ہوتی ہیں ۔
    یہ ایک ایسی دلدل ہے جدھر سے نکلنا آسان نہیں ۔ایک بار یہ لت لگ جائے جان نہیں چھوڑتی ۔احتیاط ہی بہترین حل ہے ۔ہمارا فرض ہے ہم اپنے معاشرے کو اس دلدل کا حصہ نا بننے دیں ۔ مفاد پرستی سے نکلے اور دوسروں کی جانوں کی فکر کریں ہمارا پہلا فرض ہے کہ ہم انسانیت کا احترام کریں سب سے پہلے انسانیت ہے اگر ہمارے دل میں انسانیت نہیں تو ہمارا ہونا نا ہونا بے معنی ہے ۔ اپنی زندگیوں کو اس طرح سنوارے کہ جو دوسروں کے کام آجائیں اور آخرت بھی سنور جائے
    بظاہر سگریٹ ایک چھوٹا سا ہے مگر پانچ چھ فٹ کے انسان کو قبر تک پہنچا دیتا ہے سگریٹ میں موجود کیمیائی مادے سانس کی نالیوں اور پھپڑوں سے ایسے چِپک جاتے ہیں کہ مختلف بیماریوں کی وجہ بن کر انسان کو اندر ہی اندر ختم کرنے لگتے ہیں نوجوان نسل کے لیے سگریٹ ایک معمولی شئے ہوگا کاش وہ یہ سمجھ پائیں یہ وبالِ جان ہے ۔ جان لیوا مرض خود کو نہ لگائے نا دوسروں کو لگائیں خود کو بھی بچائے اور دوسروں کو بھی ۔

    بچوں کی موجودگی میں آپکی سگریٹ نوشی اُنکی صحت بھی متاثر کر سکتی ہے آج کل لڑکیاں بھی سگریٹ نوشی کر کے اخلاقیات سے گِر گئ ہیں ۔کیا ہمارا معاشرہ یا مذہب اس چیز کی اجازت دیتا ہے ؟بہت سے گھرانے سگریٹ نوشی کی وجہ سے سکون کھو چکے ہیں ۔ کیونکہ جو افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں انکی اسکی اتنی عادت لگ چُکی ہوتی ہے انکو یہ نشہ ہر حال میں پورا کرنا ہوتا ہے اور گھر میں جھگڑے بھی معمول بن جاتے ہیں ۔جس سے گھر کا ماحول خراب تو ہوتا ہی ہے ساتھ ہی بچوں کا ذہنی سکون بھی تباہ ہوجاتا ہے اور وہ پڑھائ بھی نہیں کر پاتے اور ایک روشن مستقبل سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ہمیں آواز اٹھانی ہوگی اس جہالت کے خلاف ، اپنی نسلوں کے روشن مستقبل ، اور اچھی صحت ، اچھے ماحول کی فراہمی کے لیے۔

    ہیلتھ لیوی کی اہمیت اور افادیت اگر سب جان لیں اسکے نفاذ میں تاخیر نا ہو ۔ اسکے نفاذ سے 60 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے بہت سے بچے تمباکو نوشی سے متا ثر ہو کے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں نا جانے اور کتنے اپنی زندگی برباد کریں گے ۔ تقر یباً 31 ملین افراد سگریٹ نوشی کا شکار ہو چکے ہیں اب اس تعداد میں کمی لانی ہوگی اس بل کے نفاذ سے ہی یہ سب ممکن ہے سگریٹ نوشی ترک کرنے سےآپ بہت سے جسمانی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں ۔ بہت زیادہ سگریٹ نوشی سے آپ کو سانس اور دل کی بیماریاں،شوگر کی بیماری اورنہ صرف پھیپھرے بلکہ بہت سی دوسری اقسام کی بیماریاں ھونے کے ذیادہ امکانات ھوں گے۔ہیلتھ لیوی بل پاس تو ہوگیا ہے پر اسکا نفاذ جب تک نہیں ہوگا تب تک ہم اس کے لیے حکومت سے اسکے نفاذ کی اپیل کرتے رہیں گے کیونکہ اس کے نفاذ سے ہم بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں ۔ اس کے بہت فائدے ہیں مجھے امید ہے حکومت جلد از جلد اس پہ فوری ضروری اقدام کرئے گی ۔ اسکے علاوہ ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
    آپنے بچوں پہ نظر رکھیں انکے دوست کون ہیں وہ کس سے میل جول رکھتے ہیں اور ایسی سرگرمیوں میں شامل تو نہیں ۔
    اور ایسی جان لیوا اشیاء کا استعمال تو نہیں کرتے ہمیں باخبر رہنا ہوگا امید کرتی ہوں میں جو پیغام اپنی تحریر سے پہنچانا چاہ رہی ہوں اس پہ ہم سب اور حکومت لازمی اور فوری طور پہ عمل پیرا ہو گی ۔

  • ڈیلیٹ ہسٹری — ریاض علی خٹک

    ڈیلیٹ ہسٹری — ریاض علی خٹک

    ہمارا بچپن تو بہت سادہ تھا. جب ہمیں ایک ایسی گھڑی ملی تھی جس میں روزانہ تاریخ بدلتی تھی تب ہم یہ سمجھتے تھے اس میں ضرور کوئی چھوٹا سا آدمی ہوگا جو روزانہ رات کو تاریخ بدل دیتا ہے. لیکن آج کل کے بچے بہت عقلمند ہیں. کیونکہ یہ کمپیوٹر موبائل فون کا دور ہے. بچہ بچہ انٹرنیٹ کو جانتا ہے.

    یہ کمپیوٹر موبائل بنانے والوں نے سائنس انجینئرنگ سے ایک شاہکار مشین تخلیق کر دی. یہ ایسی مشین ہے جس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا ہے. لیکن اس مشین کے خالق اس کے اندر نہیں بیٹھے. ہم سب مانتے ہیں یہ انٹرنیٹ کے ذریعے گلوبل کنیکشن بناتے ہیں. ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس مشین کا اچھا برا استعمال ہم نے خود ہی سیکھنا ہے. کیونکہ یہ مشین بیک وقت آپ کو اچھائی سے بھی جوڑ سکتی ہے اور برائی سے بھی.

    ہمیں پتہ ہے اس مشین کہ کوئی اپنے جذبات نہیں. محبت نفرت غصہ کینہ اچھائی برائی نفع نقصان سب اس کو استعمال کرنے والے آپریٹر کے ہوتے ہیں. مشین تو تابعدار بس حکم کی تعمیل کرتی ہے. ایسے ہی اس دُنیا میں انسانیت کا بھی ایک نیٹ ورک ہے. اللہ رب العزت اس کا خالق ہے. ہم میں سے ہر ایک کو جسم کی ایک مشین ملی ہے.

    دنیا کے انٹرنیٹ کا نظر آنے والا حصہ بہت کم اور نظر نہ آنے والا یعنی ڈارک ویب بہت بڑا ہے جس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے. یہی انسانوں کا مزاج ہے. لوگوں کو ہمارے نظر آنے والے اعمال اور پوشیدہ زندگی کا بھی یہی تناسب ہے. کل یوم حشر لیکن جو ہمارا حساب ہوگا اس میں سب کچھ سامنے ہوگا . اسی مشین کا پرزہ پرزہ ہم پر گواہ ہوگا.

    قرآن سورۃ التوبة میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے. اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوٰٮهُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ‌ ۞”کیا انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ اللہ ان کی تمام پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو جانتا ہے اور یہ کہ اس کو غیب کی ساری باتوں کا پورا پورا علم ہے ؟ ” دوستو جیسے کمپیوٹر میں ہم توبہ کرتے ہیں ہسٹری صاف کرتے ہیں سب کچھ برا ڈیلیٹ کر دیتے ہیں. ایسا سسٹم اللہ رب العزت نے صرف ایک دیا ہے. اسے توبہ استغفار کہتے ہیں. کل کیلئے اچھے استعمال کی ہسٹری اور برے استعمال پر توبہ کریں. معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں. ہمیں کوئی پتہ نہیں کب کون ہمیشہ کیلئے لاگ آف ہو اور پھر سامنا اس میدان حشر میں ہو جہاں توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہو.

  • نجم سیٹھی اور رمیز راجہ — ضیغم قدیر

    نجم سیٹھی اور رمیز راجہ — ضیغم قدیر

    نجم سیٹھی سے میرا بطور کرکٹ فین بس ایک مسئلہ ہے کہ یہ الاؤنس کھانے کے لئے ٹی سی کرکے آنیوالوں میں سے ایک ہے۔ جبکہ رمیز نے کوئی الاؤنس نہیں لئے، وہیں پر پرفارمنس بھی واضح ہے۔

    آپ پی سی بی کی انکم اور دوسری ہسٹری دیکھ لیں۔

    پی سی بی کی 2018-19 کی انکم 700 ملین روپے تھی۔ تب منافع کم جبکہ خرچ زیادہ تھے کیونکہ چئیرمین صاحب کو کروڑ کروڑ اپنا ٹریول الاؤنس لینا تھا بی او جی کی میٹنگز کے بل لینے تھے۔

    جبکہ

    رمیز کے انڈر یہی پی سی بی کی انکم بڑھ کر 3.4 بلین روپے ہوگئی تھی۔

    زمیز کی اچیومنٹس اس کے علاوہ پی ایس ایل کا پاکستان انعقاد، پاکستان کرکٹ ٹیم کا تاریخ میں پہلی بار لگاتار تین فائنل کھیلنا، آسٹریلیا کو 25 سال بعد ون ڈے سیریز ہرانا، بنگلہ دیش، سری لنکا کو تاریخی ریکارڈز کیساتھ ہوم سیریز ہرانا رہی ہیں۔

    وہیں پر،

    سیٹھی کے دور میں پی سی بی کی ایسی کوئی تاریخی اچیومنٹس نہیں تھی ماسوائے چیمئنز ٹرافی کے، ہماری ٹیم 2018 سے پہلے تک ون ڈے سیریز تک مشکل سے جیت پاتی تھی۔

    لے دے کر نجم سیٹھی کا واحد اچھا کام پی ایس ایل کا انعقاد تھا لیکن اپنے گرو صاحبان کی طرح اس کے اس نے فی ٹورنامنٹ ایک کروڑ سے زیادہ پیسے لئے۔

    وہیں پر

    رمیز نے پی ایس ایل سے اربوں کی کمائی کے بعد بھی چوانی کا حصہ نہیں لیا۔

    یہاں مسئلہ بس مائنڈ سیٹ کا ہے،

    مجھے نجم سیٹھی سے بھی بطور پی سی بی چئیرمین مسئلہ نہیں ہے لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کسی کی ٹی سی کرکے فقط الاؤنس کھانے کے لئے نا آئیں۔

    رمیز راجہ پر اگر کوئی الزام لگائے کہ وہ عمران خان کی پسند سے آیا تھا تو وہ فوائد گنوا دے جو رمیز نے چئیرمین بن کر اٹھائے۔

    جبکہ رپورٹس کے مطابق چڑیا نے ٹریول الاؤنس میں کروڑوں کھائے، پی ایس ایل انعقاد میں کروڑوں کھائے حتی کہ میٹنگز کروانے کے الاؤنس کھائے۔

    اور یہی مسئلہ پوری پڈم کا ہے کہ یہ پاور فل شخص کے خوب اٹھاتے ہیں اور پھر اٹھانے کے بعد اپنا کمیشن کھاتے ہیں اور یہ کمیشن بیرونی دوروں، الاؤنسز اور ذاتی کمپنیوں کے ٹھیکوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔

    جبکہ رمیز نے پی سی بی سے چوانی کا کمیشن بھی نہیں کھایا وہ ایک دیانت دار اور محنتی شخص تھا اس کا سیٹھی جیسے ٹی سی ایکسپرٹ سے موازنہ ہی غلط ہے۔

  • بلی کے گلے میں گھنٹی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بلی کے گلے میں گھنٹی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان جیسے زرعی ملک میں کسان ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں ہیں جنکے بل پر پوری معیشت کا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ مگر اعداد و شمار دیکھیں تو یوں لگتا ہے یہ ملک چلا کسان رہے ہیں مگر اُنکا ہے نہیں۔

    2010 کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق زراعت کے شعبے سے وابستہ 80 فیصد لوگ قابلِ کاشت زمینوں کے محض 28 فیصد کی ملکیت رکھتے ہیں۔ جبکہ کروڑوں کی آبادی کے اس ملک میں تقریباً 1 لاکھ لوگ 50 ایکڑ یا اس سے زائد زرعی زمین کے مالک ہیں۔ جو کل زرعی زمین کے مالکان کی تعداد کا 1.44 فیصد بنتا ہے مگر یہ لوگ قابلِ کاشت رقبے کے 29 فیصد کے مالک ہیں۔ اسی اعداد و شمار کے مطابق ںڑے زمینداروں کی تعداد تقریباً 19 ہزار ہے جن میں سے ہر ایک 150 ایکڑ یا اس سے زائد کا مالک ہے۔ یہ تقریبآ 9 کروڑ ایکڑ زمین بنتی ہے جو صرف 0.3 فیصد زمینداروں کے پاس ہے۔مگر یہ زمینی رقبہ67 فیصد غریب کسانوں کی کل ملا کر زمین سے بھی زیادہ ہے۔

    یہ اعداد و شمار ہوشربا اور نیندیں اُڑا دینے والے ہیں۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مملکتِ خداد دراصل وڈیروں اور جاگیرداروں کا ملک ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں 40 فیصد سے زائد لوگوں وگوں کا روزگار زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے اور معیشت کا 23 فیصد سے زائد اسی شعبے سے منسلک ہے جس میں 60 فیصد سے زیادہ برآمدات کا حصہ بھی شامل ہیں۔

    ورلڈ بینک کے 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا زیرِ کاشت رقبہ ملک کے کل رقبے کا تقریباً 40 فیصد ہے۔ اس میں وہ تمام زمین شامل ہے جو کاشت کے قابل ہے چایے عارضی طور پر یا مستقل طور پر۔ ان اعداد و شمار سے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ زمینوں اور وسائل کی تقسیم میں غریب کسان ہمیشہ مارا جاتا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پوری دنیا اس وقت خوارک کی قلت کے خطرے سے دوچار ہے جسکے لیے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں کئی اہم پالیسیاں مرتب کی جا رہی ہیں جنکا مرکز کسانوں کو زرعی ضروریات کے حوالے سے سہولیات مہیا کرنا اور اُنہیں جدید زرعی طریقوں کی تربیت دے کر پیداوار کو بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    اسکے علاوہ اربن فارمنگ کی طرف بھی شہرہوں کی توجہ دلائی جا رہی ہے جس میں وہ اپنے گھروں میں اور مصنوعی فارمز میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خوراک پیدا کر سکیں۔

    پاکستان میں دن بدن زرعی زمین ماحولیاتی تبدیلیوں اور زراعت میں غیر موثر اور پرانے طریقوں سے کاشت کے باعث کم ہو رہی ہے۔ اسکے علاوہ گندم اور دیگر اجناس کی سٹوریج ، منڈیوں تک بہتر رسائی نہ ہونے اور کسانوں کے استحصال کے باعث خوراک مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو زرعی ہو وہاں گندم، چاول اور دیگر اجناس کا غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔

    ان سب میں بنیادی وجہ کسان دوست پالیسیوں کا فقدان ہے ۔ ملک کی آبادی بڑھنے، شہری آبادیوں میں اضافے کے باعث غریب کسانوں کی زمینیں ختم ہو رہی ہیں۔ اسکے علاوہ وسائل کے بدترین ضیاع اور آبی وسائل کی دیکھ بھال میں مجرمانہ غفلت اس صورتحال کو مزید ابتر کر رہا ہے۔

    موجودہ معاشی اور معاشرتی سائنس یہ کہتی ہے کہ کسان دوست پالیسیاں اپنا کر نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کو اپنے حق میں کیا جا سکتا ہے بلکہ پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ اسکے علاوہ سیلاب کے بعد کسانوں کے ساتھ مل کر اُنکے فہم و فراست جو صدیوں سے اُنہوں نے ان علاقوں میں رہ کر حاصل کیا، کی مدد سے آئندہ آنے والی آفتوں سے بچا جا سکتا ہے۔ مگر بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالے گا کون؟

  • خشک آلوؤں کا چورا (potato flakes) — ابن فاضل

    خشک آلوؤں کا چورا (potato flakes) — ابن فاضل

    پاکستان میں اوسطاً پچاس لاکھ ٹن آلو پیدا ہوتا ہے جبکہ ہمارا استعمال تیس لاکھ ٹن سالانہ کے قریب ہے. پچھلے سال ہم نے تقریباً چھ لاکھ ٹن آلو برآمد کیے. اس حساب سے اگلے سال کے بیج کو چھوڑ کر کوئی سات سے دس لاکھ ٹن آلو ہمارے پاس سالانہ وافر ہوتا ہے. جس کا بیشتر حصہ یقیناً ضائع ہوتا ہوگا. آلو کے موسم میں آلو کی اس بہتات کہ وجہ سے موسم میں اس کے منڈی میں نرخ دس روپے فی کلو تک چلے جاتے ہیں.

    دوسری طرف آپ جان کر حیران ہوں گے کہ سال دوہزار انیس میں دنیا بھر میں چھ ارب ڈالر کا آلوؤں کا چورا بکا. آلوؤں کا چورا یعنی (potato flakes ) ہر اس کام کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جس کیلئے تازہ آلوؤں کی پیسٹ استعمال ہوتی ہے. اس سے آلو کے کباب اور چپس تو بنائے ہی جاتے ہیں ساتھ ہی ہر قسم کے شوربہ کو گاڑھا کرنے کے لیے، دودھ اور مشروبات کو گاڑھا کرنے کے لیے، آئس کریم اور چاکلیٹ وغیرہ کی شکل اور ذائقہ بہتر کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے.

    مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ بھارت میں سینکڑوں چھوٹی بڑی فیکٹریاں سالانہ لاکھوں ٹن خشک آلوؤں کا چورا بنا کر دنیا بھر کے ممالک کو برآمد کررہی ہیں. ستم بالائے ستم یہ کہ بھارت سے درآمدات پر پابندی سے پہلے پاکستانی تاجران بھی سینکڑوں ٹن سالانہ خشک آلوؤں کا چورا سالانہ بھارت سے منگواتے رہے. ( دستاویزات تصاویر میں). جبکہ دوسری طرف وطن عزیز کے ننانوے فیصد لوگ آلوؤں کی اس بیش قدر مصنوعہ کے نام سے بھی واقف نہیں. جبکہ لاکھوں ٹن آلو سالانہ ضائع ہورہے ہیں.

    آلو میں اوسطاً پچہتر فیصد نمی ہوتی ہے. یوں اگر آلوؤں کو خشک کیا جائے تو چار کلوگرام آلو سے ایک کلو آلو کے فلیکس بنائے جاسکتے ہیں. پچھلے سال سیزن میں انکی تھوک کی قیمت دس روپے کلو گرام تھی. اس سال اگر بیس بھی رہے تو گویا اسی روپے کے خام مال سے ایک کلو چورا تیار ہوجائے گا. اگر اتنا فی کلوگرام بنانے کا خرچ بھی آئے (جو کہ ہر صورت اس سے کم آئے گا). تو بھی قریب اسی فیصد منافع پر برآمد کیا جاسکتا ہے. کیونکہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت ایک اعشاریہ تین ڈالر سے ایک اعشاریہ پانچ ڈالر تک ہوتی ہے. گویا کم ازکم تین سو روپے فی کلوگرام.

    یوں تو اس کے درمیانے سائز کے پلانٹ پانچ سے آٹھ ٹن روزانہ استعداد کے ہوتے ہیں. جن کی لاگت دس کروڑ سے بیس کروڑ تک ہوتی ہے. اور اوسطاً پچیس فیصد ریٹ آو ریٹرن پر چلتے ہیں. مگر میرے خیال میں اسے بہت آرام سے گھریلو صنعت کے طور پر بھی اپنایا جاسکتا ہے.

    آلو سے چورا بنانا انتہائی آسان عمل ہے. انہیں چھیل کاٹ کر ابال لیں. اچھی طرح ابلے آلوؤں کو پیس کر پیسٹ بنالیں. اس پیسٹ کو فیکٹریوں میں تو سٹین لیس سٹیل کے گھومتے ہوئے رولز پر کہ جن کے اندر سے بھاپ گذاری جارہی ہوتی ہے، چپکا کر خشک کیا جاتا ہے. انہیں potato drum dryers کہتے ہیں. یہ چھوٹے پیمانے پر بھی بنائے جاسکتے ہیں. لیکن اس پیسٹ کو ڈی ہائیڈریٹر کی ٹرے پر باریک تہہ کی صورت میں لگا کر خشک کرنے سے بھی چورا حاصل کیا جاسکتا ہے. پہلے اس سے باریک پاپڑ نما چیز بنے گی جسے تھوڑا سا پیسنے پر چورا بن جائے گا. گھر میں خواتین فارغ وقت میں دس بیس کلو چورا روزانہ بنا سکتی ہیں. جس سے انکو ہزار سے دوہزار کی فالتو آمدنی ہونے کی توقع ہے.

    اسی طرح کچھ کسان مل کرکم سرمایہ سے چار پانچ سو کلو روزانہ کے یونٹ لگا سکتے ہیں. آلو برآمدگان خشک آلو کے چورے کے بھی آرڈر پکڑیں. اور ان چھوٹی فیکٹریوں سے معیاری مال لیکر باہر بھجوائیں. جو تاجران باہر سے منگوا کر پاکستانی ہوٹلوں اور فوڈ کمپنیوں کو سپلائی کررہے تھے وہ بھی مقامی لوگوں سے مال خریدیں. یقین کریں دو چار سال میں اربوں روپے کی نئی صنعت کھڑی ہوجائے گی جس سے ہزاروں لوگوں کو باعزت روزگار ملے گا.. انشاءاللہ.

  • مال خرچ کرنے کی توفیق!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مال خرچ کرنے کی توفیق!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مال وزر کمانے کی توفیق جیسے سب کو برابر نہیں ملتی ایسے ہی مال خرچ کرنے کی توفیق بھی ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ ہر کسی کو مال و زر کی محبت سے بچائے رکھے کیونکہ جو مال و زر کی محبت میں مبتلا ہو جائے اس کا دھیان ہر وقت مال کمانے میں لگا رہتا ہے اور مال خرچ کرتے ہوئے اسے موت پڑتی ہے۔

    آپ جو بھی کما رہے ہوں، اس کو ہمیشہ دو حصوں میں تقسیم کریں، ایک حصہ آج کے لیے اور دوسرا حصہ کل کے لیے۔ جو حصہ آج کے لیے ہے اس کے مزید دو حصے ہونگے، ایک حصہ اپنے اوپر خرچ کریں اور دوسرا حصہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں ۔ اسی طرح جو حصہ کل کے لیے ہے اس کے بھی مزید دو حصے ہونگے، ایک حصہ اس دنیا میں اپنے کل کے لیے بچائیں اور دوسرا حصہ آخرت میں اپنے کل کے لیے غریبوں مسکینوں پر خرچ کریں۔

    اگر آپ کی آمدن کم ہے تو جو حصہ غریبوں مسکینوں پر خرچ کرنا ہے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں تو اس کے ثواب کے بھی مستحق ٹھہریں گے اور جو حصہ اس دنیا میں اپنے لیے بچا رہے وہ بھی اسی لیے ہے کہ جب ضرورت ہو اس میں سے خرچ کر لیاجائے۔

    اکثر لوگ ان میں سے کوئی نہ کوئی بے اعتدالیاں کرتے ہیں۔ جیسے کچھ لوگ سب کچھ ہی اپنے اہل و عیال پر خرچ کر دیتے ہیں لیکن خود پر کچھ خرچ نہیں کرتے۔ یہ درست رویہ نہیں ہے، جو کما رہے ہیں اس میں سے خود پر بھی خرچ کرنا سیکھیں۔ ایسے ہی کچھ لوگ کل کے لیے ہی بچا کر رکھنا چاہتے ہیں اور حد درجہ کنجوسی کرتے ہیں۔ ایک چوتھائی سے زیادہ اگر آپ بچا رہے ہیں تو کنجوسی کے زمرے میں ہی آئے گا کیونکہ آپ کی آمدن کے لحاظ سے آپ کا آج بہتر ہونا ضروری ہے، پہلے آج ہے اور بعد میں کل۔

    ایسے ہی ضرورت کے تحت صدقہ والا حصہ بھی اہل و عیال پر خرچ کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ضرورت ہے یا فضول خرچی۔ ضرورت ہو تو یہ خرچ بھی باعث ثواب ہو گا اور فضول خرچی ہوئی تو وبال کا باعث۔

    صدقے والے حصہ میں یہ یاد رکھیں کہ سب سے زیادہ حق آپ کے غریب رشتہ داروں کا ہے، اس کے بعد محلے والوں کا اور اس کے بعد کسی اور کا۔

    اللہ ہمیں اپنے دیے ہوئے مال میں سے صحیح طریقے سے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • اصل جیت؟ — ریاض علی خٹک

    اصل جیت؟ — ریاض علی خٹک

    کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا. یہ اربوں کھربوں پتی دنیا کے دولت مند ترین انسان کسی ایسے غریب کو مکمل نظر آتے ہوں گے جو ان جیسا بننے کے خواب دیکھ رہا ہو لیکن وہ دولت مند ہندسوں کے ایک ایسے جال میں ہوتا ہے جو ایک کہ بعد ایک کروڑ ارب سے اپنی تکمیل چاہتا ہے. نہ کوئی مشہور شہرت یافتہ اداکار کھلاڑی اپنی شہرت کو مکمل سمجھتا ہے. وہ بھی اور مشہور ہونا چاہتا ہے.

    انسان فطری طور پر ریس پسند کرتا ہے. اس لئے آپ دیکھیں تو کونسی دوڑ نہیں جو انسان کھیلتے ہیں؟ . خود بھی ریس لگاتے ہیں اور کار، موٹر-سائیکل، گھوڑے کتے جو چیز ان کو دوڑ کے قابل لگتی ہے اسے بھی دوڑا دیتے ہیں. جیتنے کی جبلت ہماری فطرت کا حصہ ہے. یہی جبلت ہماری بے چینی محرومی حسد بغض ناکامی مایوسی جیسے ان گنت جذبات کی بنیاد بنتی ہے.

    لیکن اسی جبلت میں سکون کا ایک راز بھی چھپا ہے. مثال کے طور پر آپ ریس میں کھڑے ہیں. لیکن آپ آس پاس دوسرے کھلاڑیوں سے ریس کرنے کی بجائے یہ فیصلہ کریں کے میں نے صرف منزل ٹارگٹ تک پہنچنا ہے. مجھے کسی پوزیشن کی خواہش ہی نہیں تو آپ کا دماغ دوسروں کے ساتھ آگے پیچھے کا حساب چھوڑ کر منزل پر فوکس کر لے گا.

    زندگی چلنے اور چلتے جانے کا نام ہے. دوڑ پھر بھی آپ رہے ہوں گے لیکن آس پاس کون آگے کون پیچھے کا حساب نہیں رہے گا. آپ پھر منزل ہی نہیں اس سفر سے بھی لطف لیں گے. زندگی اس سفر کا نام ہے موت جس کی منزل ہے. اس دنیا کی منزلیں تو اس سفر میں پھیلے بہت سے چیک پوائنٹس ہیں جن سے ہو کر آپ نے گزرنا ہے.

    اصل جیت وہی ہوتی ہے جو ہم خود سے جیت جائیں.

  • اللہ مسبب الاسباب ہے!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    اللہ مسبب الاسباب ہے!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    یہ تقریباً سولہ سال پہلے کا واقعہ ہے جب زرعی یونیورسٹی میں بی ایس سی میں پڑھتا تھا۔ مہینے میں ایک بار فیصل آباد سےاپنے گاؤں فتح پور لیہ جانا ہوتا تھا۔فیصل آباد سے فتح پور تب ایک ہی اے سی ٹائم جاتا تھا خواجہ ٹریولز سے ڈیڑھ بجے۔ اگر کبھی یہ مس ہو جاتا تھا تو بہت خوار ہو کر جانا پڑتا تھا۔ تب عید کا یا محرم کا موقع تھا۔ ایسے مواقع پر ہوسٹلز بند ہو جاتے تھے اس لیے لازمی جانا ہوتا تھا سب کو۔

    میں نے فون پر ہی سیٹ بک کروا لی تھی۔ کلاس لے کر آیا تو جلدی جلدی کھانا کھایا اور بیگ اٹھا کر زیرو پوائنٹ تک پہنچتے پہنچتے ایک بج چکا تھا۔ عام طور پر زیرو پوائنٹ سے یا تو رکشہ مل جاتا تھا یا پھر موٹرسائیکل پر مین گیٹ یا جی پی گیٹ تک لفٹ مل جاتی تھی اور وہاں سے رکشہ لے لیتے تھے۔ لیکن اس دن نہ کوئی رکشہ خالی ملا نہ ہی کوئی لفٹ۔ سوا ایک ہوا تو اب مجھے پریشانی ہونے لگی۔ مزید ایک دو منٹ گزرے تو اب مجھے لگا کہ اگر فوراً سے رکشہ نہ ملا تو نہیں پہنچ پاؤں گا۔

    یہ گاڑی مس ہو جاتی تو پھر کوئی اور نان اے سی بھی نہیں ملنی تھی کیوں کہ سب فل ہو نی تھیں۔ اس لیے صدقِ دل سے دعا کی کہ یا اللہ کوئی سبب بنا دے اور مجھے گاڑی تک پہنچا دے۔ اس قدر خشوع وخضوع سے شاید ہی میں نے کبھی دعا کی ہو۔ ابھی دعا کی ہی تھی کہ ایک گاڑی آئی ، میں نے لفٹ مانگی۔ وہ رک گئی۔میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گاڑی میں دو لوگ سوار تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ مجھ سے انھوں نے کچھ نہیں پوچھا کہ کہاں تک جانا۔ میں نے یہی سوچا کہ اگر تو نڑوالا روڈ کی طرف مڑے تو بیٹھا رہوں گا، اگر کسی اور طرف مڑے تو اتر جاؤں گا۔ مین گیٹ سے وہ نڑوالا کی طرف ہی مڑ گئے۔ آگے میں نے یہی سوچا کہ کوتوالی روڈ کی طرف مڑے تو بیٹھا رہوں گا ورنہ کہوں گا کہ اتار دیں۔ وہ عید گاہ روڈ سے ہوتے ہوئے کوتوالی روڈ پر آئے۔ اب مجھے یہی تھا کہ چناب چوک کے پاس اتر جاؤں گا۔ چناب چوک سے پہلے ایک چھوٹا سا روڈ خواجہ ٹریولز کی طرف جاتا ہے وہاں سے تو مڑے اور خواجہ ٹریولز کے سامنے رکے۔

    میری گاڑی بس تیار کھڑی تھی۔ میں جلدی سے کار سے نکلا اور گاڑی کی طرف بھاگا۔ کنڈیکٹر مجھے دیکھتے ہی بولا کہ فلاں سیٹ آپ نے بک کروائی تھی، میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے مجھے گاڑی میں چڑھنے کو کہا اور میرے بس میں داخل ہوتے ہی ڈرائیور نے بس چلا دی۔

    تب مجھے خیال آیا کہ یار کاروالوں کا تو شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ میں نے باہر دیکھا مگر وہ کار جا چکی تھی۔ بڑا افسوس ہوا کہ شکریہ ادا نہیں کر سکا۔مجھے نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ اس ساتھ والے کو اڈے پر چھوڑنے آئے تھے یا پھر کسی کو لینے آئے تھے۔ نہ انھوں نے مجھ سے کوئی بات کی نہ میں نے ان کی باتوں میں کوئی مداخلت کی۔ بس اللہ نے میری دعا کے نتیجے میں ایسا سبب بنایا کہ مجھے پورے وقت پر اڈے پر پہنچا دیا۔

    کیا آپ کےساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ صدقِ دل سے کوئی دعا مانگی ہو اور وہ یوں پوری ہوئی ہو۔ اب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کیسے اس نے میری دعا قبول کی تھی۔

    اس وقت میری پریشانی وہی تھی، چھوٹی تھی یا بڑی مگر یوں اس کا سبب بنے گا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ یقیناً اللہ مسبب الاسباب ہے۔ اگر کوئی بھی پریشانی، دکھ ہے تو اللہ سے سچے دل سے مانگیں۔ وہ ایسے پوری کرے گا کہ جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا۔