Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • آبی سالنامہ  2022 — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آبی سالنامہ 2022 — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ہم پاکستان کی آبی تاریخ کے شاید سب سے ظُلمی سال کو الوداع کہنے جا رہے ہیں جس کے پہلے چھ ماہ پانی کی کمی سے لوگ اور جانور مرتے رہے تو اگلے چھ ماہ بارشی سیلابی پانی کی زیادتی سے۔

    اس سال کی شروعات ہی تاریخ کی بدترین خشک سالی سے ہوئی۔تربیلا ڈیم 22 فروری کوئی ڈیڈ لیول پر آگیا تھا۔ محکمئہ موسمیات کے مطابق اس سال مارچ اور اپریل کے مہینوں میں ملک بھر یں معمول سے 62 فی صد سے لے کر 74 فی صد تک کم بارشیں ہوئیں اور یہ مہینے گزشتہ چھ دہائیوں کے اب تک کے سب سے زیادہ گرم مہینے تھے۔گرمی کی شدت کا اندازہ لگائیں کہ مئی میں ژوب کے پاس ضلع شیرانی کے ہزاروں ایکڑ پر پھیکے زیتون اور چلغوزوں کے باغات میں آگ بڑھک اٹھی جس پر کئی ہفتوں کی کوشش کے بعد ہی قابو پایا جاسکا۔ 10 کلومیٹر لمبائی کا علاقہ راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ہزاروں درخت جل گئے اور اس زیادہ جنگلی حیات مر گئی۔

    مار چ اپریل میں ہی سندھ اور پنجاب جے کاشتکار پانی کی کمی کی وجہ سے سڑکوں پر آگئے تھے جب نہروں میں ضرورت کا صرف ایک چوتھائی پانی چل رہا تھا اور خریف کی فصل خصوصاً گندم پانی کی کمی کی وجہ سے تباہی سے دوچار تھی۔

    دوسری طرف مئی میں چولستان اور ڈیرہ بگٹی میں لمبی خشک سالی سے پانی کے ٹوبے ،کنڈ اور تالاب خشک ہو چکے تھے اور جانوروں کے ریوڑ کے ریوڑ پیاس سے مر رہے تھے اور ان علاقوں کی انسانی آبادی خطرے کو بھانپتے ہوئے ہجرت پر مجبور تھی۔ پیر کوہ میں تو کئی انسانی اموات بھی ہوئیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس مسئلے کے اجاگر ہونے سے ریسکیو 1122 اورکئی فلاحی تنظمیں متحرک ہوئیں اور ہنگامی بنیادوں پر ان علاقوں میں ٹینکرو سے پانی پہنچایا گیا۔ یاد رہے کہ پاکستان کا 17 فی صد سے زیادہ زمینی رقبہ صحرا پر مشتمل ہے جس میں صحرائے تھل، چولستان، تھر، نوشکی اور خاران کے علاقے شامل ہیں جہاں انسان اور جانور خشک سالی سے متاثر ہوئے۔

    جہاں ایک طرف خشک سالی اور گرمی کی شدت زور پر تھی وہیں محکمئہ موسمیات نے اپریل کے آخر میں اس سال ایک ظالم مون سون آنے کی پیش گوئی کر دی تھی جسے زیادہ سنجیدگی سے نہ کیا گیا۔مئی کے آخر (22مئی) میں چولستان میں تیز بارش اور ژالہ باری ہوئی اور روہیلوں نے اس کا استقبال جشن منا کر کیا۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں اس سال معمول سے زیادہ بارشیں اور 2010 سے بھی بڑا سیلاب آنے کی خبر سنا دی لیکن خشک سالی کے ماحول میں اس اعلان کو توجہ نہ دی گئی۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل مئی تک مون سون سے نپٹنے کے اپنے اپنے منصوبے بنا کر حکومت کو جمع کروا دیتے ہیں لیکن ملک میں اُس وقت جاری سیاسی سرکس کی وجہ سے معمول کا یہ کام بھی صحیح طریقے سے نہ کیا گیا۔

    جون کے آخر میں ملک سے سب بڑے شہر کراچی میں طوفانی بارشوں سے سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی۔ ہر طرف جل تھل ہو گئی اور پورے شہر کی آبادی کئی دنوں اپنے گھروں میں قید ہوگئی کیونکہ سڑکوں پر بارش کا پانی کھڑا تھا۔ انہی دنوں میں کراچی میں امان خان کاکاخیل ستون نیکی والے ابھر کر سامنے آئے جو کراچی میں بارشی پانی سے زمینی پانی کو ری چارج کرنے کے انتہائی سادہ اور کسی حد تک بالکل بنیادی مگر بے حد مفید طریقے سے خشک کنوؤں کو تر کرنے کے مشن پر نکلے ہوئے تھے۔

    جب ملک کراچی کے ڈوبنے کو دیکھ رہا تھا تو جون کے آخر اور جولائی کے شروع میں میانوالی میں کوہِ نمک اور ڈی جی خان میں کوہِ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں سے پہاڑی نالوں میں آنے والے سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی۔ کرک، لکی مروت اور ڈی آئی خان کے پہاڑوں کے دامن کے علاقے بھی طوفانی ریلوں کی زد میں آگئے لیکن سرکار ابھی تک بھی سوئی ہوئی تھی اور راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا تھا۔

    اس سال جولائی کے شروع ہوتے ہی شمالی بلوچستان میں مون سون شروع ہوگئی جس یں ژوب، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ ، لورا لائی، با رکھان، ہرنائی، پشین اور کوئٹہ تک میں بارشیں شروع ہو گئیں۔یہ عیدالاضحیٰ کے دن تھے۔ 6 جولائی سے شروع ہونے والی یہ بارشیں اگست تک جاری رہیں جو کہ بلوچستان کے کیے ایک غیر معمولی صورت حال تھی کیونکہ بلوچستان کے صرف مشرقی اضلاع ہی مون سون کی آخری حد ہیں جس کے بعد ان کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ تاہم اس دفعہ جنوبی بلوچستان میں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی جس میں آواران اور تربت جیسے علاقے بھی شامل تھے۔کئی ڈیم اور بین الصوبائی رابطہ سڑکوں کے پُل ٹوٹ گئے۔ ہزاروں کلومیٹر سڑکیں سیلابی پانی کے ساتھ بہہ گئیں۔

    جولائی کے تیسرے ہفتے تک سندھ بھی طوفانی مون سون کی زد یں آچکا تھا اور ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔بلوچستان اور سندھ میں ہونے والی اس سال کی مون سون اس لئے مختلف تھی کہ بارش کا ایک دورانیہ ختم ہوتے ہی دوسرا دور شروع ہوجاتا اور زمین جو پہلے ہی گیلی پڑی ہوتی اس میں پانی سینچنے کی بجائے فوراً سیلابی صورت حال اختیار کر لیتا۔ دوسرے ایک دو اسپیل کی بجائے بارش کے چھ سے سات اسپیل ہوئے اور چند دنوں میں ہی پانچ چھ سالوں کے حجم برابر مینہہ برس گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق معمول سے چھ گنا زیادہ بارشیں ہوئیں۔یہ پہلی دفعہ ہورہا تھا کہ سندھ میں دریائے کابل اور تربیلا سے چلے ہوئے سیلابی ریلے ابھی نہیں پہنچے تھے لیکن صوبے کا بڑا حصہ بارشی پانی سے زیرِآب آچکا تھا۔

    اسی دوران کوہِ سلیمان کے سیلابی ریلے تونسہ اور ڈی جی خان یں تاریخی تباہی لے کر آئے اور کئی بستیوں کو آنِ واحد میں اُجاڑ کر رکھ دیا۔جولائی کے آخر تک کراچی کے لئے پانی ذخیرہ کرنے والا حب ڈیم بھر چکا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر مون سون کی سر زمین پنجاب میں معمولی بارشیں ہورہی تھیں۔

    اگست کے آخر (26 اگست) میں مون سون نے وادئی سوات میں تباہی مچادی اور دریائے سوات اپنے کناروں سے چھلک پڑا۔ دریا کنارے بنائے گئے بیشتر سیاحتی ہوٹل تنکوں کی طرح پانی یں بہنے لگے۔ کے پی میں کوہستان کی وادئی دبیر میں پانچ بھائیوں کی سیلابی ریلے میں پھنسنے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چار بھائی سیلابی ریلے کے ساتھ مدد پہنچنے سے پہلے ہی بہہ گئے۔

    سندھ اور بلوچستان کے ملحقہ علاقوں پر 100 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر سیلابی پانی نے عارضی جھیل بنا دی جس کے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری بھی غمگین ہو گئے اور انہوں نے اس سیلاب کو “a monsoon in steroids” کہا۔ حکومت بھی جاگی اور سیلابی علاقوں میں فلاحی تنظیمیں متحرک ہو گئیں۔ صرف الخدمت کی طرف سے قائم کی گئی عارضی خیمہ بستیوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی۔

    ان تباہ کن بارشوں کو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ قرار دیا گیا اور عالمی سطح پر پاکستان سے ہمدردی کے جذبات دکھائے گئے کیونکہ پاکستان کا عالمی ماحول کو خراب کرنے والی گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر تھا لیکن یہ اس موسمی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا تھا۔ سیلابوں سے پاکستانی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا، تین کروڑ سے زیادہ آبادی متاثر ہوئ، 2 ہزار سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور 8 لاکھ سے زیادہ جانور ہلاک ہوئے۔

    نومبر کے پہلے ہفتے میں مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونیوالی عالمی ماحولیاتی کانفرنس (COP27) میں مصر نے پاکستان کو اس کی مشترکہ صدارت پیش کی ۔ پاکستان نے اس کانفرنس میں نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ G77 کی سربراہ کے طور پر شرکت کی۔پاکستانی وفد نے عمدہ طریقے سے اپنا کیس لڑا اور دریائے سندھ کی بحالی کے منصوبے کو عالمی سطح پر تسلیم کروانے میں کامیاب ہوگیا۔

    تاہم اکتوبر سے دوبارہ خشک سالی والے حالات بننا شروع ہو گئے ہیں ۔ سال کے آخری تین مہینوں میں معمول سے کم بارشیں ہوئی ہیں۔ شہری علاقوں خصوصاًلاہور کی فضاسموگ سے زہر آلود ہو چکی ہے۔

    سال ختم ہونے کو ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت سندھ اور بلوچستان کے نشیبی علاقوں سے سیلابی پانی پچھلے چار مہینوں سے نہیں نکال سکی۔ کھجور، چاول اور کیلے کی فصل تو سیلاب نے پہلے ہی تباہ کردی ، اب کھڑے پانی میں گندم کی فصل بھی کاشت نہیں ہو سکتی۔ چشمہ رائٹ بنک کینال، کچھی کینال اور پٹ فیڈر کینال میں بھی سیلابی تباہی کے بعد بحالی کا کام ابھی تک نہ ہو سکنے کی وجہ سے نہری پانی نہیں چل رہا۔ کسانوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور یہ حالات ایک آنے والے دنوں میں خوراک کی قلت کا سنگین مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ آنے والا سال پاکستان کے آبی وسائل کی بہتری کا سال ہو۔

  • نیل پالش لگی ہو تو وضو کی کیا صورت ہوگی؟ — ابو بکر قدوسی

    نیل پالش لگی ہو تو وضو کی کیا صورت ہوگی؟ — ابو بکر قدوسی

    غامدی صاحب سے سوال پوچھا گیا،

    نیل پالش لگی ہو تو وضو کی کیا صورت ہو گی ۔۔۔۔ تو انہوں نے پہلے ایک اصول بیان کیا کہ

    "اس سے ملتا جلتا کوئی واقعہ ماضی میں گزرا ہو گا تو اس سے استدلال کیا جائے گا”

    اور اس کے بعد محترم نے جرابوں پر مسح کے حکم کو دلیل بناتے ہوئے ” اجتہاد” کیا کہ نیل پالش لگی ہو تو وضو نماز سب ہو جائے گا ۔۔یعنی جب نیل پالش لگے ناخنوں سے گزرے گا تو یہ ایک طرح کا مسح ہو جائے گا ۔

    ان کا مزید فرمانا تھا کہ عورت جب تک نیل پالش نہیں اتارتی تو ” مسحے ” کی یہ صورت یعنی اجازت قائم رہے گی ۔ یعنی سال بھر بھی اگر وہ نیل پالش نہیں اتارتی تو اس کے اوپر ہی اوپر وضو کرتی رہے ۔۔۔ان کا موقف آپ کمنٹس میں دیے گئے لنک پر براہ راست بھی سن سکتے ہیں

    ہمارا کہنا یہ ہے کہ اگر کسی جدید مسلے پر کسی قدیم واقعے سے استدلال کرنا یے تو موصوف نے ان واضح اور صحیح احادیث سے استدلال کیوں نہیں کیا کہ جو اس معاملے میں زیادہ قرین قیاس ہے کہ

    نبی ﷺ کا فرمان ہے :

    عن عبدِالله بنِ عَمرو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ مِنْ مَكَّةَ إِلَى المَدِينَةِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَاءٍ بِالطَّرِيقِ، تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ العَصْرِ، فَتَوَضَّؤُوا وَهُمْ عِجَالٌ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ، وَأعْقَابُهُمْ تَلُوحُ لَمْ يَمَسَّهَا المَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ: «وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أسْبِغُوا الوُضُوءَ. (مسلم :241)

    ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کو واپس لوٹے یہاں تک کہ جس وقت ہم پانی پر پہنچے جو راستہ میں تھا تو کچھ لوگوں نے نماز عصر کے لیے وضو کرنے میں جلدی کی اور وہ لوگ بہت جلدی کرنے والے تھے ، چنانچہ جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں (خشک رہ جانے کی وجہ سے) کیونکہ ان تک پانی نہیں پہنچا تھا (ان خشک ایڑیوں کو دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ کی صورت میں ہلاکت ہے، مکمل طور پر وضو کرو۔

    اس حدیث میں اعضائے وضو کے کسی حصے کے خشک رہ جانے کے سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تنبیہہ کی اور ظاہر سی بات یہ ہے کہ تنبیہ کا سبب لاپروائی کے سبب ایسا کرنا ہے ، اور نیل پالش کا لگا ہونا تو اس سے بھی آگے کی صورت ہے ۔یعنی خاتون کو باقاعدہ علم ہے کہ اس کے ہاتھ کے ناخن بسبب رکاوٹ کے خشک ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ یہ وضو ہو جائے ۔

    اسی طرح دوسری حدیث میں ہے کہ ایک صاحب کا ناخن جتنا حصہ خشک رہ گیا تو آپ نے انہیں دوبارہ وضو کرنے کا حکم دیا ۔۔۔۔
    رأى رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ رجلًا توضَّأَ فترَكَ موضعَ الظُّفرِ على قدمِهِ فأمرَهُ أن يعيدَ الوضوءَ والصَّلاةَ قالَ فرجعَ(صحيح ابن ماجه:546)
    رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اپنے پیر پہ ناخن کے برابر حصہ چھوڑ دیا ۔(یعنی ناخن کے برابر پیر پہ خشک رہ گیا)۔ آپ نے اسے وضو اورنماز لوٹانے کا حکم دیا۔

    یہ بھی یقیناً اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا اہتمام رہا ہو گا کہ حدیث میں ناخن بھر جگہ کا لفظ استعمال ہوا ، یقیناً اللہ سبحانہ وتعالی کو علم تھا کہ آنے والے زمانے میں لوگ آئیں گے اور ناخن بھر جگہ کی رعایت مانگیں گے اور دینے والے انہیں جواز عطا کریں گے ۔۔۔۔

    اب آتے ہیں غامدی صاحب کے مسح کے استدلال کی طرف کہ ان کا فرمانا ہے کہ وضو کر کے نیل پالش لگائی جائے تو مسح کیا جا سکتا ۔۔
    حقیقت یہ ہے کہ وضو کر کے مسح کرنا بالکل ایک الگ معاملہ ہے جس کے احکام واضح ہیں ، اور دل چسپ معاملہ یہ ہے کہ غامدی صاحب اس سے بھی غلط استنباط کر رہے کہ اس میں واضح حکم ہے کہ ایک روز کے لیے مسح کر سکتے ہیں یعنی پانچ نمازیں ۔۔

    جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلّى الله عليه وسلّم- ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ. يعني في المسح عَلَى الخُفَّيْن،،(مسلم برقم:۲۷۶)
    حدیث:رسول اللہﷺنے موزوں پر مسح کے لئے تین دن اور تین رات مسافر کے لئے اور ایک دن اور ایک رات مقیم کے لئے متعین فرمایا ۔
    ۔۔اور موصوف نیل پالش والی خواتین کو لامحدود وقت کے لیے رخصت دے رہے ہیں کہ جب کبھی زندگی میں نیل پالش اتاریں گی تب دوبارہ وضو کر کے لگا لیں ۔۔۔۔۔وگرنہ اس کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے ۔۔

    اب سوال یہ ہے کہ جرابوں کے مسح سے غامدی صاحب نے ناخنوں کا ” مسح ” کا جواز کشید کیا تو اس حدیث سے مدت کیوں نہ کشید کی اور یہاں ذاتی طور پر ” شریعت سازی” کرتے ہوئے نیل پالش لگا کر ” مسح ” کرنے کی مدت کو لامحدود کر دیا ، سوال یہ ہے کہ سوائے ذاتی رائے کو دین بنانے کے اس کی کیا دلیل ہے ؟

    آپ سن لیجیے کہ محترم فرماتے ہیں کہ جب تک نیل پالش نہ اتارے تب تک ناخنوں کا یہ مسح چلتا رہے گا ۔

  • ناریل سے لوگ — ریاض علی خٹک

    ناریل سے لوگ — ریاض علی خٹک

    ناریل اندر سے انتہائی نرم اور باہر سے انتہائی سخت ہوتا ہے. کبھی آپ نے سوچا ایسا کیوں ہے.؟ ناریل کا صحت بخش بہترین پانی پیتے یا اس کی گری کھاتے کبھی اس سخت چھلکے کو دیکھا ہے جس نے یہ لذت سنبھال کر رکھی ہوتی ہے.؟ آپ نے بھلے نہ سوچا ہو ناریل یہ صدیاں سوچ سوچ کر اپنی شکل بنائی ہے.

    ناریل کے پیڑ بہت اونچے ہوتے ہیں. پھل اسکا کل ہے. اس کی نسل ہے. اس نسل کو زمین سے جوڑ بنانے کیلئے گرنا ہوتا ہے. ناریل اپنی بقا کیلئے جب بلند سے بلند ہو رہا تھا تو اس نے اپنی نسل کو زمین پر گرنے کی تکلیف سہنے کیلئے اس کا چھلکا انتہائی سخت کر دیا. اب یہ پھل بھلے اونچائی سے گر جائے ٹوٹے گا نہیں.

    انسانوں میں بھی انتہائی سخت مزاج کڑوے لوگ بلکل ناریل کی طرح ہوتے ہیں. وقت کی سختیاں جھیلتے بقا کی جبلت میں ان پر سخت چھلکے چڑ جاتے ہیں. ہم بھلے ان کو بے حس پتھر سمجھ لیں لیکن ہر پتھر کے سینے میں ایک دل ہوتا ہے. جس میں ایک سہما ہوا خوفزدہ بچہ چھپا بیٹھا ہوتا ہے. جسے ٹوٹ جانے سے ڈر لگتا ہے.

    ان کو توڑنے کی خواہش کی بجائے جب کوئی پپار سے ان کا حول اتار کر دیکھے تو پتہ چلتا ہے یہ تو زندگی سے بھرپور بہترین انسان ہے. تب ہم حیران ہوتے ہیں تو باہر سے یہ اتنا سخت کیوں تھا.؟ انسانوں کی اکثریت میں صبر نہیں اور جہاں صبر کم ہو آب حیات نمکین ہو وہاں پھر ناریل زیادہ ہوتے ہیں.

  • آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی
    اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر سیاسی جماعتیں کون سا اخلاقی برتری کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ ا یک دوسرے کی آڈیو وڈیو لیک کے بل بوتے پر سیاست کا آغاز کرنے والے سیاستدانوں نے بلیک میلنگ کی روش اپنا کر اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کا جو راستہ اپنایا اُس کی اجازت اسلام بھی نہیں دیتا ۔ اسلام رواداری،برداشت، شرم و حیا اور دوسروں کی عزت و احترام کا جہاں درس دیتا ہے، وہاں بدی کو نیکی سے، شر کو امن ، اندھیرے کو روشنی سے، ظلم کو امن سے ختم کرنے کا بھی درس دیتا ہے ۔

    آڈیو اور وڈیو پر لیکس کے ڈرامے سے مقتدر ایجنسیوں کا کوئی لینا دینا نہیں وہ وطن عزیز کے دفاع اور سلامتی کی ضامن ہیں۔ اس وقت ملکی سلامتی کے اداروں کی پوری توجہ دہشت گردی کے جن کو قابو رکھنے پ مبذول کی ہوئی ہے ۔ کسی بھی سیاسی شخصیت یا پارٹی کو اپنے اخلاقی دیوالیہ پن کا ملبہ قومی سلامتی کے اداروں پر ڈالنے سے اجتناب برتنا چاہیئے ۔ موجودہ قومی سلامتی ادارے کے سربراہ جنرل ندیم انجم پاک فوج کا فخر ہیں ان کا تعلق غازیوں، شہیدوں کی سرزمین کے ساتھ ساتھ شہیدوںاور غازیوں کے خاندان سے ہے ۔ ان کی تربیت ان کے حقیقی ماموں( مرحوم) بطور کیپٹن پاک فوج میں سرانجام دیتے رہے جبکہ ان کے حقیقی بھائی افواج پاکستان میں بطور آفیسر جام شہادت نوش فرما چکے ہیں۔

    کسی کی ذات پر کیچڑ اُچھالنا یا کسی کو بے توقیر کرنا ان کی شخصیت اور خاندان اورتربیت کا ہرگز خاصا نہیں ۔ایک بے داغ بے لوث اور اعلٰی اخلاقی دار کے حامل خاندان سے ان کا تعلق ہے ۔ کسی بھی سیاسی سرکل کو بے جا الزام تراشیوں سے گریز کرنا چاہیئے ۔ پاک فوج اور قومی سلامتی کے ادارے اس وقت دشمنان پاکستان کے بدخواہوں کی سازشوں کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں کسی بھی غیر مناسب پروپیگنڈے کو عوام پاکستان وطن عزیز کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں ۔ سیاستدان معاشی، بدحالی اور سیاسی بے یقینی اور مالیاتی دیوالیہ پن کے خطرات جو منڈلا رہے ہیں اُس پر توجہ دیں۔ سیاستدان آڈیو اور ویڈیو کے کاروبار کو فوری بند کریں ان کے اس کاروبار سے وطن عزیز کے مستقبل کی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اخلاق سوز جنگ کا بائیکاٹ کریں اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے ۔

  • توہمات اور اُنکی وجوہات!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    توہمات اور اُنکی وجوہات!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ دور سائنس و ٹیکنالوجی کا ہے مگر ضعیف العتقادی اور توہم پرستی اب بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہے۔ ایسی کئی توہمات ہیں جن پر لوگ آج بھی یقین کرتے ہیں۔ توہم پرستی دراصل وہ خیال ہے جو بغیر کسی منطق کے لوگ سچ سمجھتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ کسی خاص عمل کے کرنے یا ہونے سے اُنکی زندگی پر اثر پڑے گا۔

    اس سلسلے میں کچھ مثالیں بیان کرتا ہوں اور اُنکے پیچھے وجوہات تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ ان توہم پرست رویوں کے بننے کے محرکات کیا تھے۔

    1. کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو کچھ برا ہو گا۔

    یہ ایک فضول بات ہے، بلی کے راستہ کاٹنے سے آپکی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دراصل پرانے زمانے میں لوگ گھوڑا گاڑی یا بیل گاڑی کا استعمال کرتے تھے۔ تو رات کے وقت کسی ویران راستے سے گزرتے ہوئے کوئی بلی راستہ کاٹتی تھی تو اُسکی آنکھوں کی چمک سے گھوڑا یا بیل ڈر سکتے تھے جس سے گاڑی کا توازن خراب ہونے کا اندیشہ رہتا۔ اسی لئے پرانے زمانے میں لوگ ایسا کچھ ہونے سے گاڑی کو کچھ دیر کو روک دیا کرتے تھے تاکہ نقصان نہ ہو۔ مگر آج کے دور میں نہ آپ گدھا گاڑی چلاتے ہیں اور نہ ویران جنگلوں میں رہتے ہیں لہذا بلی کو کاٹنے دیجئے رستہ اس سے کچھ نہیں ہو گا۔

    2. رات کو جھاڑو دینے سے گھر میں غربت آتی ہے۔

    یہ بھی ایک بے تکی بات ہے۔ صفائی کرنا صحت کے لیے ضروری ہے چاہے دن میں کریں یا رات میں۔ یہ بات اس لئے مشہور ہوئی کہ پرانے دور میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی۔ گھروں میں رات کو ایک آدھا دیا ہی روشن ہوتا۔ ایسے میں اگر رات کو جھاڑو دیا جاتا تو اس بات کا اندیشہ رہتا کہ کوئی بھی قیمتی شے جھاڑو کیساتھ کوڑے میں چلی جائے گی۔ اسی سبب رات کو جھاڑو دینے کو غربت سے جوڑا جاتا رہا مگر فی زمانہ آپکے گھر رات کو بجلی اور برقی روشنی سے چمچما رہے ہوتے ہیں تو رات کو جھاڑو یا صفائی کرنے میں اب کوئی مسئلہ نہیں۔

    3 رات کے وقت بال یا ناخن کاٹنا بدشگونی ہے

    اسکے پیچھے بھی یہی منطق تھی کہ پرانے زمانے میں رات کو اندھیرا ہونے کے باعث دیے کی روشنی میں بال یا ناخن کاٹنے سے زخم لگنے کا اندیشہ رہتا۔ مگر آج ایسا کچھ نہیں ۔ آپ روشن کمرے میں بال کاٹیں یا ناخن، کوئی بدشگونی نہیں ہوگی۔

    4. کسی کام سے پہلے دہی اور شکر کھانے سے کام اچھا ہوتا ہے

    دہی دراصل پیٹ کو ٹھنڈا رکھتی ہے اور شکر میں گلوکوز ہوتا ہے جو فورآ دماغ تک پہنچتا ہے جس سے آدمی کا ذین مستعد ہوتا یے۔ لہذا کام کے دوران آپ کا پیٹ ٹھنڈا اور جسم مستعد رہے گا تو کام کے بہتر ہونے کے امکان بڑھ سکتے ہیں۔ مگر آپکے کام کے اچھے ہعنے یا نہ ہونے کا تعلق آپ پر منحصر ہے نہ کہ دہی اور شکر سے۔ ایسا ہوتا تو ایلان مسک کی جگہ آج کوئی دودھ دہی بیچنے والا شخص امیر ترین ہوتا۔

    5. سورج گرہن یا چاند گرہن کے وقت حاملہ عورت کو باہر نہیں جانا چاہیے ۔ اس سے بچے معذور پیدا ہونگے۔

    یہ بھی ایک بے تکی بات ہے جسکی کوئی سائنسی وجہ نہیں۔ سورج گرہن یا چاند گرہن میں جانے سے پیدا ہونے والے بچے ہر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ چاند گرہن میں باہر جانا بالکل محفوظ ہے البتہ سورج گرہن کے وقت سورج کو سیدھا دیکھنے سے آنکھوں کی بینائی جا سکتی ہے۔ مگر اس سے بچے کی معذوری بلاواسطہ ہرگز ہرگز کوئی تعلق نہیں ۔ دراصل سورج گرہن کو آنکھوں پر بغیر کسی حفاظتی عینک کے سیدھا دیکھنے سے بینائی متاثر ہوسکتی ہے۔۔لہذا بینائی کے متاثر ہونے سے حاملہ عورت کے معمولات زندگی ہر اثر پڑ سکتا ہے جس سے حمل کے دوران بچے کی افزائش بھی متاثر ہو سکتی ہے مگر یہ اس صورت میں جب کوئی حاملہ عورت دیدے پھاڑ کر سورج گرہن دیکھے اور اپنی بینائی متاثر کر بیٹھے ورنہ سورج گرہن میں حفاظتی تدابیر کے ساتھ باہر جانے سے نہ ہی بچہ متاثر ہو گا اور نہ ہی ماں۔

    پرانے دور کی اور بھی کئی توہمات ہیں مگر کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی شے پر جو صدیوں سے سنتے آئے ہوں اُن پر اندھا یقین کرنے سے پہلے اس بارے میں سوچیں تو شاید پتہ چلے کہ زمانہ بدل چکا ہے لہذا یہ فرسودہ خیالات بھی ترک کر دئے جائیں تو بہتر ہے۔

  • مانگنے کی نفسیات!!! — محمود فیاض

    مانگنے کی نفسیات!!! — محمود فیاض

    مانگنے کی نفسیات ۔ ۔ ۔ بھکاری یا بادشاہ ۔ ۔ چوائس آپ کی اپنی ہے؟

    میں نے جب کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز ڈگری کے لیے کالج جوائن کیا تو شائد کلاس کا سب سے غریب لڑکا ہونگا۔ ۔ کالج میں متمول گھرانوں کے لڑکوں سے دوستی ہو گئی ۔ ۔ ۔ جن کا کام تھا کہ ہر بریک میں کسی ایک کی گاڑی میں بیٹھ کر قریبی ریسٹورنٹ چلے جانا اور من مرضی کے اسنیکس کھانا۔ ۔ ۔ آئس کریم ، کافی، ڈرنکس وغیرہ ۔ ۔

    ان چار سالوں میں میں نے کیسے گزارا کیا، یہ اپنے ایک دوست کی زبانی بتاتا ہوں، جو کالج گریجوئشن کے بعد ایک روز ملنے گھر چلا آیا۔ ۔ یہ ان دوستوں میں سے ایک تھا جو انیس سو بانوے (ورلڈ کپ والا 🙂 ) میں گاڑی پر کالج آتے تھے ( اب تو نو دولتیے بہت ہو گئے ہیں) ۔ ۔ ۔ اس دوست نے جب میرا گھر دیکھا تو دوستوں والی بےتکلفی سے بولا، اوئے محمود تم نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ تم اس قدر غریب ہو ۔ ۔ ۔ میں نے شرمیلی ہنسی ہنسی ۔ ۔ بس یار ۔۔۔ یہی سب ہے جو تمہارے سامنے ہے ۔۔۔

    (دھیان کیجیے، میں نے شرمیلی ہنسی کہا شرمندگی والی نہیں۔ ۔ کیونکہ ان چار سالوں میں نہ کبھی اپنی حیثیت چھپانے کی کوشش کی اور نہ بڑھا کر بتانے کی۔ یعنی نہ امیروں جیسا دکھنے کی جھوٹی کوشش کی، ۔ ۔ اور نہ اپنی غربت کو اشتہار بنایا۔ ۔ بس دوستوں کے ساتھ دوستی ہی نباہی۔ )

    دوست نے کہا، ۔ ۔ ۔ مگر ان تمام سالوں میں تم نے کبھی احساس نہیں ہونے دیا۔ ۔ کہ تمہاری جیب میں پیسے نہیں رہے۔ تم اپنے پیسے خود دیتے تھے۔ ۔ اگر کبھی ہماری ٹریٹ ہوتی تھی، تو کبھی تمہاری ٹریٹ ہوتی تھی۔ ۔ ہمیں لگا ہی نہیں کبھی کوئی فرق۔ ۔

    دوستو، فرق تھا۔ ۔ ۔ بہت بڑا فرق تھا۔ ۔ انکے کپڑے جوتے ہر سیزن بدل۔جاتے تھے۔ فیشن کے مطابق ہوتے تھے۔ ۔ میرے کپڑے جوتے صاف تو ہوتے تھے مگر پرانے تھے۔ ۔ جوتا اوپر سے پالش ہوتا تھا مگر اسکا تلا اتنا پتلا تھا کہ گرمی میں سڑک کی گرمی اور سردی میں کنکریٹ کی ٹھنڈک پاؤں تک آتی تھی۔ ۔ ۔

    دوسرا فرق یہ تھا کہ جس روز میری جیب میں اپنے ڈرنک کافی کے پیسے نہیں ہوتے تھے، میں خاموشی سے کسی اسائنمنٹ کو پورا کرنے کے بہانے آئی ٹی لیب میں گھس جاتا تھا، ۔ ۔ اور وقت گزر جاتا تھا۔

    جانے یہ ہماری جنریشن تک تھا یا اب نوجوانوں میں بھی کچھ ایسے ہی خوددار نوجوان ہونگے جو جیب میں اپنے پیسوں کے علاوہ کسی سے امید یا لالچ نہیں رکھتے۔ ۔ ۔ کیونکہ میں مسلسل مشاہدہ کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا پر بھی اور عام میل جول میں بھی اکثر ایسے لوگ سامنے آتے ہیں جو دعوت دینے سے زیادہ دعوت کھانے کی خواہش کرتے نظر آتے ہیں۔ ۔ ۔ تحفہ دینے کی بجائے مانگنے کا رواج چل پڑا ہے شائد۔ ۔ ۔ کالج گوئنگ کی اکثر بات چیت میں دوسرے سے پارٹی چھیننے کی پلاننگ ہوتی ہے، ۔ ۔

    اس سے زیادہ شرمندگی والا رویہ آنلائن سیلز کے اشتہار میں ہوتا ہے، جہاں لوگ ڈھٹائی سے مفت مانگنے کا کام کرتے ہیں۔ کتاب کے اشتہار یا ریویو پر کتاب مفت مانگنے والوں کی قطار لگ جاتی ہے۔ ۔ اور کوئی پوچھے تو اپنی تہی دستی، تنگ دامنی، غربت کا رونا رویا جاتا ہے۔

    مجھے لگتا ہے کہ بھکاری نفسیات ہماری اگلی جنریشنز میں بڑھتی جا رہی ہے، اور خود داری اور مہمانداری پرانے قصے ہوتے جا رہے ہیں۔ مادیت پرستی ہے، کردار و تربیت کی کمی ہے، یا گھٹیا تربیت جو کچھ قبائل سے اب مین اسٹریم میں داخل ہو رہی ہے، ۔ ۔ جو بھی ہے، اس سے ایسی سماجی روایت بن رہی ہے جس میں مفت بری کوئی عیب نہیں ہے۔

    دوسری جانب، اللہ کی نعمتوں کا کفران ہے جب آپ ٹھیک ٹھاک ہوتے ہوئے محض ایک پیزے، ایک برگر، ایک بریانی، یا ایک کتاب کی خاطر اپنی جیب خالی ہونے کا رونا روتے ہو۔ ۔ ۔ خدا شکر کرنے والوں کو نوازتا ہے اور ناشکری والوں کو ناپسند کرتا ہے۔ انکا رزق یقینا سکڑ جاتا ہے۔

    میں نے اپنے دوست کو اپنے دادا جی کی نصیحت سنائی، جو وہ مجھے ہمیشہ کرتے تھے۔ کہ انسان اپنی جیب سے نہیں اپنے دل سے امیر ہوتا ہے۔ دل امیر ہو تو جیب میں چند روپے بھی پادشاہئ ہے، اور دل غریب ہے تو ایک وسیع سلطنت کا بادشاہ بھی غریب ہے۔ ۔ ۔

    بس میں نے کالج کے ان سالوں میں دادا جی کی اس نصیحت پر عمل کیا اور کچھ نہیں۔ ۔ ۔ بادشاہ پیاسا بھی ہو تو وہ کتے کی مانند جوہڑ پر منہ نہیں جھکاتا۔ ۔

    اللہ ہمیں بھکاری نفسیات سے بچائے اور ہمارے بچوں کو بادشاہوں جیسا جینا سکھائے۔ آمین۔

  • میٹھا میٹھا زہر!!! — ابو بکر قدوسی

    میٹھا میٹھا زہر!!! — ابو بکر قدوسی

    ایک صاحب کی چند برس پہلے سوال جواب کی نشست تھی ، خاتون نے سوال پوچھا کہ کیا مسلمان عورت کسی غیر مسلم سے شادی کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔ تو آسان سا جواب تھا کہ جو شریعت محمد رسول اللہ پر نازل ہوئی ہے اس میں کوئی گنجائش نہیں۔۔۔۔ لیکن ایسے جواب سے موصوف مفتی کی روشن خیالی متاثر ہوتی تھی سو انہوں نے اس خاتون کو میٹھا زہر کھلا دیا ۔

    ان کا جواب یہ تھا کہ شریعت نے شرک سے شادی کو حرام قرار دیا ہے ۔ بظاہر یہ بڑا اچھا جواب ہے اور بہت سے لوگ لوگ اس جواب کے اندر چھپا زہر کھا جائیں اور ان کو معلوم بھی نہ ہو کہ انہوں نے کیا کھایا ہے ۔

    اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس میں زہر کیا ہے ۔ زہر اس میں یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو کہے کہ

    "وہ اللہ کے سوا سوا کسی کو خالق مانتا ہے نہ اس کے سوا کسی کی عبادت کو درست سمجھتا ہے ، لیکن (محمد) کو نبی نہیں مانتا , نہ وہ اللہ کے پیغمبر تھے اور نہ ہی وہ سچے تھے ”

    تو اوپر بیان کردہ اصول کے تحت ایسے شخص سے بھی مسلمان عورت شادی کر سکتی ہے ، کیونکہ یہ شخص مشرک نہیں ہے یا اس دعویٰ واحدانیت پر ایمان کا ہے۔۔۔۔

    یاد رہے کہ وہ سوال کرنے والی خاتون یورپ کے کسی ملک کی مقیم تھی اور اس نے اس سوال کا پس منظر بھی بتایا تھا ۔ اور اس جواب کے تحت خاتون کے لئے راستہ کافی آسان ہوگیا تھا ۔ یہ ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے کے اشارہ ابرو کو دیکھ کر ایسا جواب دے دیا جائے کہ جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔

    جبکہ دین نے اسلام عوام ایسی مداہنت کا ہرگز قائل نہیں نہیں ، وہ صاف سیدھی بات کرتا ہے اور سیدھی بات کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
    اسلام رویے میں نرمی کا قائل ہے نہ کہ لوگوں کے چہرے دیکھ کر اصولوں کو نرم کر لینے کا نام۔۔۔

  • ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں —- ریاض علی خٹک

    ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں —- ریاض علی خٹک

    احسان اللہ مونی ایک بنگالی فلسماز ہے. اس نے تقریباً 60 ملین ڈالر خرچ کر کے ڈھاکہ میں ڈپلیکیٹ تاج محل بنایا. احسان اللہ نے بتایا کہ 1980 میں وہ جب آگرہ گیا اور اس نے تاج محل دیکھا تو وہ اسے دیکھتا ہی رے گیا. اس نے سوچا کتنے غریب بنگالی ہوں گے جو زندگی بھر اس حسن تعمیر کو دیکھ ہی نہیں پائیں گے. اور اسی سے اسے خیال آیا کیوں نہ بنگلا دیش میں بھی ایک تاج محل بنایا جائے.

    بنگلا دیش میں تاج محل بن گیا. بیشک یہ اصلی تاج محل نہیں نہ حسن تعمیر میں اسے مات کر سکتا ہے. لیکن آج کوئی بنگالی خاندان جب اپنے بال بچوں کے ساتھ سیر کیلئے چار ایکڑ پر پھیلے اس تاج محل میں آتا ہے تو اپنے بچوں کو یہ ضرور بتا سکتا ہے آگرہ کا تاج محل بلکل ایسا ہی ہے.

    ہم لوگ جب کسی خوبصورت حسین یا تاریخی مقام پر جاتے ہیں تب ہم ایک خوف کا شکار ہو جاتے ہیں. یہ خوبصورت پل یہ حسین یادیں کہیں ہم کھو نہ دیں. ہم ان کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں. تاکہ آنے والے وقتوں میں ہم بتا سکیں ہم نے یہ مقام دیکھا ہے. اس لئے ہم دھڑا دھڑ وہاں تصاویر نکالتے ہیں. کچھ بے وقوف اسی خوف کا شکار ہو کر وہاں اپنے نام لکھنا شروع کر دیتے ہیں.

    آپ آج بھی اپنی آنکھیں بند کر کے اپنی زندگی کے وہ حسین پل خوبصورت مقامات کا سوچیں تو آپ کو اکثریت یادیں وہ ملیں گی جو تصاویر میں نہیں ہوں گی. خوف کی ہر یاد دماغ بھول جاتا ہے. اپنی ماضی کی تصاویر آپ کو اجنبی لگیں گی. کچھ احسان اللہ مونی کی طرح لوگ بھی ہوتے ہیں. وہ یہ حسن اپنے ساتھ لے آتے ہیں. اپنی یادوں میں سب کو شامل کر لیتے ہیں.

    لندن پیرس سوئٹزرلینڈ کے حسن اور یادیں بیان کرتے لوگ یا دوسرے معاشروں کے انصاف اور انتظام کی کہانیاں سنانے والے ہمارے لوگ بھی اگر اپنے خوف سے نکل کر یہ حسن صفائی انتظام اور انصاف اپنے ساتھ لاتے اپنے آبائی علاقوں میں وہی مثل بنا کر دکھاتے تو یہاں کے غریب بھی اپنے بچوں کو دکھاتے دیکھو سوئٹزرلینڈ لندن پیرس کی سڑکیں گلیاں ایسی ہوتی ہیں. وہاں انصاف ایسا ہوتا ہے.

    لیکن ہمارے پاس کوئی احسان اللہ مونی نہیں. ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں جن کو دیکھنے کیلئے ہماری نسل باہر جانے کے خواب دیکھتی ہے. ان دشوار راستوں پر یہ قوم اپنے لاکھوں بچے ہار گئی ہے.

  • ہمت اور حوصلہ — ریاض علی خٹک

    ہمت اور حوصلہ — ریاض علی خٹک

    آپ کو اگر جانوروں کی دنیا میں کوئی دلچسپی ہو اور آپ انکا مشاہدہ کرتے ہوں تب بہت سی عجیب باتیں آپ دیکھتے ہیں. جیسے زیبرا کے غول کے سب سے بڑے دشمن شیر ہوتے ہیں. لیکن آپ دیکھیں گے زیبرے اُسی وقت اطمینان اور سکون سے میدانوں میں گھاس چر رہے ہوتے ہیں جب شیروں کا خاندان دھوپ میں سامنے لیٹا ہو.

    لیکن جب شیر نظر نہ آرہے ہوں تو پورا غول خوفزدہ ہوتا ہے. ہوا سے بھی لمبی گھاس ہلے تو ڈر کر دوڑ لگا لیتے ہیں. آپ کو ان کی سراسیمگی باقاعدہ محسوس ہو رہی ہوتی ہے. ان کے کان کھڑے ہوتے ہیں. یہی حال انسان کا بھی ہوتا ہے. بس ہمیں اسے سمجھنا ہوتا ہے.

    وہم اندیشے ہمارے وہ خوف ہیں جو ہمیں تب ڈراتے ہیں جب ہمارا خوف ہمارے سامنے نہ ہو. جیسے ناکامی کا خوف ہو جیسے دوسروں کے سامنے مذاق بن جانے کا ڈر ہو. جیسے کچھ کھو دینے کا خوف ہو. سامنا کرنے کا ڈر ہو. ہمارا دماغ اس ان دیکھے خوف کا مختلف زاویوں سے تجزیہ کر رہا ہوتا ہے اور ہر تجزیے پر ہمارا ڈر مزید بڑھ رہا ہوتا ہے.

    ہم اس وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نہ زیبرا ہیں نہ کوئی دوسرا جانور جسے خوف کا انتظار کرنا پڑے. ہم انسان ہیں اور ہمارے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ بجائے خوف کے انتظار کے ہم خود اس خوف کے سامنے کھڑے ہو جائیں. ہم بھول جاتے ہیں کہ تقدیر ہماری لکھی جا چکی ہے.

    ہمت اور حوصلہ کسی دوسرے کو زمین پر گرانے کا نام بلکل نہیں ہے. یہ اپنے خوف کو ڈھونڈ کر اسے آزمانے کا نام ہے. یہی وہ تربیت ہے جو آزمائش سے پہلے جب ہم آزما لیتے ہیں تو کل جب وہ آزمائش سامنے کھڑی ہو تب ہم سکون سے اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں. مقابلہ پھر بھی لازم ہوگا لیکن وہ خوف ڈر نہیں ہوگا جو آپ کو لڑنے سے پہلے ہی ہرا چکا ہوتا ہے.

  • حسن و خوبصورتی — ریاض علی خٹک

    حسن و خوبصورتی — ریاض علی خٹک

    دنیا میں ایک سے ایک حسین و خوبصورت پھل موجود ہیں . کینیڈا سے لیکر جنوبی اشیاء تک نارنجی بیر اگر آپ ان بیر کے درختوں پر دیکھیں گے تو دل فوری کھانے کو مچلے گا. سردی کے موسم میں شوخ سرخ رنگ کے بیر یورپی جنگلات میں دکھائی دیتے ہیں. بندہ دیکھتا ہی رے جائے.

    لیکن یہ آپ کھا نہیں سکتے. اگر غلطی سے کھا بھی لیا تو پچھتاتے رے جائیں گے. ہمارے بیر بظاہر اتنے خوبصورت نہیں لیکن آپ بے فکر کھا سکتے ہیں. بظاہر بدشکل مٹیالا چیکو بھی اندر سے مٹھاس کا خزانہ ہے. سمندر کا نیلگوں پانی بے تحاشا ہے. لیکن کسی پیاسے کی پیاس نہیں بجھا سکتا. صحرا میں بارش کا پانی سنبھالے تالاب بھلے گدلا ہو لیکن انسان اور مویشی اسے پی سکتے ہیں.

    حسن پر ہم کچھ دیر آنکھ جھپکنا ضرور بھول جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہماری آنکھوں کو پندرہ سے انیس ہزار بار روز جھپکی لینی ہی ہوتی ہے. ہمیں نیند لازم چاہئے اور یہ آنکھیں سب کچھ بھول کر بند ہو جاتی ہیں. لیکن دل ہمارا چوبیس گھنٹے دھڑکتا ہے. اچھے اخلاق اور اچھے لوگوں کا دل خوبصورت ہوتا ہے. ایسے لوگ دل کو اچھے لگتے ہیں.

    حسن و خوبصورتی کا تعلق آنکھوں سے جوڑ بناتا ہے اس لئے ہر حسن کو زوال ہے. جبکہ اچھائی اور دل کی خوبصورتی نسل سے جوڑ بناتی ہے اس لئے وقت کے ساتھ اسکا حسن دوبالا ہوتا چلا جاتا ہے. یہ حسن اللہ کی نعمت اور ایسے حسین لوگ زندگی میں ہوں تو اللہ کی رحمت ہوتی ہے.