Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • انسانی شبیہ پر میڈیا کے اثرات — اشرف حماد

    انسانی شبیہ پر میڈیا کے اثرات — اشرف حماد

    میڈیا چاروں اطراف ہمیں محاصرے میں لیے ہوئے ہے۔ یہ ہمارے فون، ہمارے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر ہمارا ناکہ لگائے ہوئے ہے۔ یہ ٹیلی ویژن پر، پبلک ٹرانسپورٹ پر، شاپنگ سینٹرز پر، غرض ہر جگہ گھات میں ہے۔ چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں، ہم باقاعدگی سے میڈیا کو با دل نخواستہ فیس کرتے رہتے ہیں اور لامحالہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ، کسی کو یہ تسلیم کرنے کے لیے ماہر ہونے کی ضرورت نہیں ہے، لاشعوری طور پر، میڈیا وہ طریقہ بنا رہا ہے جس میں لوگ اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس کی دنیا کو دیکھتے ہیں۔ باڈی لینگویج، میڈیا کے تناظر میں، خاص طور پر میڈیا سے گہرا تعلق رکھتی ہے کیونکہ حسین اور خوبرو لوگ اکثر اشتہاری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ گلوٹین فری سیریل سے لے کر کار رینٹل سروس تک، اشتہارات اکثر خوبصورت خواتین یا مرد ماڈلز یا مشہور شخصیات کی ری ٹچ تصاویر دکھاتے ہیں جو مسلسل اپنی ظاہری شکل پر کام کرتے ہیں۔ اس طرح کے اشتہارات کو دیکھ کر، کسی کی ظاہری شکل، چاہے وہ جسم، جلد، یا بالوں کے بارے میں ہو، خود آگاہ نہ ہونا مشکل ہے۔ لہذا، میڈیا کا اثر، اس کی شکل اور منتقلی کے طریقہ کار سے قطع نظر، لوگوں کے باڈی لینگویج کے بارے میں منفی تاثر قائم کرنے میں نقصان دہ ہے

    محققین نے میڈیا کی مختلف شکلوں کے ساتھ لوگوں کی فعال مصروفیت اور ان کے جسم کے بارے میں ان کے تاثرات کے درمیان رابطوں کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا ہے۔ ہوگ اینڈ ملز کی ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سوشل میڈیا پر پرکشش ساتھیوں کے ساتھ مشغولیت نے جسم کی شبیہ کے بارے میں منفی تاثرات کو بڑھایا۔ تحقیق میں یارک یونیورسٹی کی 143 نوجوان خواتین کو شامل کیا گیا تھا اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر "بہتر” ظاہری شکل والے افراد کے ساتھ لوگوں کا موازنہ خواتین کی جسمانی تصویر کے خدشات کو کم کر سکتا ہے۔ اس طرح کے نتائج پچھلی سفارش کے ساتھ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ جب لوگ سماجی معیار کے مطابق پرکشش سمجھی جانے والی خواتین کی تصاویر دیکھتے ہیں تو ان کی شخصی اہمیت کو گہن لگ جاتا ہے۔یہ رجحان میڈیا کے استعمال کے منفی اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے باڈی امیج میڈیا لٹریسی پروگرامز قائم کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس تناظر میں، ذرائع ابلاغ کی خواندگی سے مراد کسی شخص کی معلومات کی ضرورت کے وقت سمجھنے کی صلاحیت ہے، ساتھ ہی یہ پہچاننا ہے کہ اس کا اندازہ کیسے لگایا جائے، اسے کیسے تلاش کیا جائے اور استعمال کیا جائے۔
    یہ چیز میڈیا کے ساتھ صحت مند تعلقات کے بارے میں عوام کو تعلیم دینے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ہمیں احساس دلاتا ہے کہ اسے کیسے منظم کیا جا سکتا ہے۔

    چونکہ ساری دنیا میڈیا پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، حالانکہ یہ بات الگ ہے کہ میڈیا پر کم ہی اعتبار کرتی ہے، اس لیے عام لوگوں پر کامیاب لوگوں کی تصویروں سے بمباری کی جاتی ہے جنہوں نے برسوں اور حتیٰ کہ دہائیوں تک اپنی تصاویر پر کام کیا ہے۔ یہاں پر بنیادی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مشہور لوگوں نے اپنے آپ میں وقت، محنت اور پیسہ لگایا ہے، بلکہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ خوبصورتی کا جو معیار مقرر کیا جا رہا ہے وہ عام لوگ اس کے لیے دلوں میں حسرتیں ہی پال سکتے ہیں۔ میڈیا کی بہت سی شخصیات جس انداز میں نظر آتی ہیں وہ نہ صرف بھاری میک اپ یا برسوں کی مشقوں کی وجہ سے حقیقت پسندانہ نہیں ہوتیں بلکہ ان کی تصاویر کی بہت زیادہ ری ٹچنگ کی وجہ سے ہی ایسا ہوتا ہے۔ ایسی بہت ساری مثالیں ہیں جن میں کمپنیاں اپنے اشتہارات کو ری ٹچ کرتے ہوئے پکڑی گئی ہیں، حالانکہ بظاہر ان کا مقصد حقیقت پسندانہ تصاویر دکھانا مطلوب تھا۔ مثال کے طور پر، ایک سکن کیئر برانڈ نے اپنے اشتہارات کو دوبارہ چھونے کا اعتراف کیا، جس کا پیغام ”حقیقی خوبصورتی” تھا۔ انہیں اس وقت کافی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جب یہ پتہ چلا کہ تصاویر کو فوٹو شاپ کیا گیا تھا تاکہ انہیں ناظرین کے لیے زیادہ پرکشش بنایا جا سکے۔ اب یہ جلی کٹی خبر بھی زوروں پر ہے کہ حقیقی خوبصورتی کو میڈیا پر تبدیل کیا جا رہا ہے، لوگوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کارپوریشنز پر یقین کریں گے، جس کے نتیجے میں، ان کے ذاتی خود خیالی کو نقصان پہنچتا ہے۔

    اگرچہ یہ توقع رکھنا کہ ٹی وی، اشتہارات اور سوشل میڈیا پر پوسٹس 100% سچائی پر مبنی ہوں گی، غیر حقیقی توقعات ہیں، لیکن ان کے اثرات کے بارے میں خدشات کو آواز دینا ضروری ہے۔ ماڈلز یا اداکاروں کی ایئر برش کی گئی تصاویر کمزور لوگوں میں خاص طور پر کم عمر لوگوں میں غیر صحت بخش عادات کا باعث بنتی ہیں۔ میڈیا کے منفی اثرات کے بارے میں کچھ اہم خدشات کھانے کی خرابی سے منسلک ہیں جو کسی کے جسم کے بارے میں غیر حقیقی توقعات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اینوریکسیا نروسا ایک ہاضمے کی خرابی ہے جس کی خصوصیت ایک ادراک کے مسئلے سے ہوتی ہے جسے باڈی ڈیسمورفیا کہتے ہیں۔ اس سے مراد کسی شخص کے دیکھنے کے انداز اور اس کے سوچنے کے انداز کے درمیان غلط فہمی ہے۔ کافی پتلا ہونے کے باوجود، اینوریکسیا کے شکار افراد محسوس کرتے ہیں کہ ان کا وزن زیادہ ہے اور وہ کھانے سے انکار کر کے یا زیادہ ورزش کر کے خیالی زیادہ وزن کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلیمیا نرووسا ایک ایسا عارضہ ہے جس کے دوران افراد روزہ رکھنے یا صاف کرنے کے ذریعے اپنے وزن کو کنٹرول کرتے ہیں، حالانکہ انوریکسیا کے مقابلے میں اس حالت کا پتہ لگانا مشکل ہے۔ لہذا، عام جذباتی پریشانی کے علاوہ، میڈیا پر غیر حقیقی تصاویر نفسیاتی حالت کو اس حد تک بڑھا دیتی ہیں کہ ایک سنگین دخل در معقولات کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

    میڈیا یہاں رہنے کے لیے ہے۔ لوگ غیر حقیقی تصاویر کے سامنے آتے رہیں گے کیونکہ بعد میں اشتہارات اور پیسہ کمانے کے لیے وہ محرک قوت ہیں۔ تاہم، عام خام کو، خاص طور پر نوجوان لوگوں کو تعلیم دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، کہ ان سے یہ توقع نہیں کی جاتی ہے کہ وہ ری ٹجنگ اور ایئر برش کرنے والی مشہور شخصیات کی طرح نظر آئیں گے۔ نوجوانوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ میڈیا معاشرے کا صرف ایک حصہ ضرور ہے اور لیکن تمام انسانی خصوصیات کی کبھی بھی بھرپور نمائندگی نہیں کرے گا۔ تاہم، اہم مقاصد میں سے ایک قبولیت کے ماحول کو فروغ دینا ہے جو ظاہری شکل، فکر، کیرئیر کے انتخاب اور نقطہ نظر کے تنوع کا جشن مناتا ہے۔ حالیہ عالمی انتشار کے تناظر میں، ہم سب کو اپنی طاقت کو منفی پر توجہ دینے کے بجائے مثبت چیزیں پیدا کرنے پر لگانا چاہیے۔

    یں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
    دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

  • چراغ تلے اندھیرا — ریاض علی خٹک

    چراغ تلے اندھیرا — ریاض علی خٹک

    دور سے اگر آپ زرافہ کو دیکھیں گے تو آپ کو یہ جانور عجیب ہی لگے گا. چھ فٹ لمبی اگلی ٹانگوں کے پیچھے دونوں ٹانگیں چھوٹی ہیں. اوپر سے گردن مینار پاکستان بنی ہوتی ہے. لیکن اتنی لمبی گردن نہیں کہ زمین کو چھو لے. اس لئے جب زرافہ پانی پیتا ہے تو بے ہنگم انداز میں دونوں ٹانگیں باہر کی طرف پھیلا کر گردن پہلے نیچے لاتا ہے.

    آپ سوچیں گے یہ صبح صبح لالہ کو زرافہ کیوں یاد آگیا.؟ تو وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ بھی زرافہ کی طرح ہی ہوتے ہیں. یہ دوسروں کو جب دیکھتے ہیں تو خود پہاڑ پر بیٹھ جاتے ہوں. کیونکہ دوسروں کو ان کے مسائل کے حل پھر ایسے بتا رہے ہوں گے جیسے پہاڑ پر بیٹھا شخص نیچے والے کو ہدایات دے رہا ہو.

    لیکن یہی شخص اپنے مسائل کو پھر ایسا دیکھتا ہے جیسے وہ مسائل نہ ہوں بلکہ کوہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ ہو جسے پار کرنا ہے. یہ آپ کو اور خود کو یہ یقین دلائیں گے کہ انکا قد چھوٹا نہیں بلکہ ان کے چیلنج ہی اتنے عظیم ہیں جو یہ ان کو حل نہیں کر پائے.

    آپ کو یقین نہیں تو کسی بھی محفل میں اپنے کچھ مسائل بیان کر کے دیکھیں. سب آپ کو ایسے حل بتائیں گے کہ جیسے ایک چھٹکی بھر مسئلہ ہی تو ہے. ایسے عظیم لوگوں سے بھرا یہ ملک یہ معاشرہ پھر اتنے مسائل کا شکار کیوں ہے.؟ اسکا جواب یہ ہے کہ ہم سب زرافے ہیں. ہمیں دور کی چیزیں تو نظر آتی ہیں لیکن اپنے قدموں کی گھاس نہیں چر سکتے. ہم سارا دن اپنے ملک ہی کیا دنیا بھر کے بڑے بڑے مسائل کا حل بتاتے ہیں لیکن اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل حل نہیں کرسکتے.

    زرافہ کی گردن اگر نیچے نہیں آسکتی تو اسے قدرت نے ایسا بنایا ہے. لیکن ہمارے چراغ تلے جو اندھیرا ہے یہ ہم نے خود تخلیق کیا ہوا ہوتا ہے. دکھاوے کے پہاڑوں سے نیچے اتر کر اگر اپنی زندگی اپنے مسائل کیلئے ہم وقت نکالیں. ان پر بات کریں انکا سامنا کریں یہ پھر پہاڑ جیسے نہیں لگتے.

  • تین شہر۔ تین ٹونٹیاں۔ تین کہانیاں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    تین شہر۔ تین ٹونٹیاں۔ تین کہانیاں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    پہلی ٹوٹی

    یہ ٹونٹی لاہور میں میری سوسائٹی کی مسجد میں لگی ہوئی ہے۔ اس کا شائد پیٹ کھل گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی ناب پوری طرح بند نہیں ہوتی لہذا اس سے پانی کی باریک دھار ہر وقت جاری رہتی ہے ۔ اس ٹونٹی کا بڑا دل کرتا ہے کہ کوئی مسیحا آکر اس کے لوز موشن بند کرے۔

    پچھلے جمعہ کی بات ہے کہ ایک حاجی صاحب بڑے خشوع وخضوع سے اس ٹونٹی پر وضو کررہے تھے کہ ان کا موبائل بجنا شروع ہوگیا۔ انہوں نے کھلی ٹونٹی کے نیچے پیر رکھتے ہوئے ہی جیب سے موبائل نکال کر سکون سے بات کی تاکہ دوسرا عضو دھونے تک پہلا عضو خشک نہ ہو۔

    مجھ سے ٹونٹی کی بے بسی اور پانی کی بے قدرے برداشت نہ ہوئی اور حاجی صاحب سے نرم لہجے میں شکایت کی تو وہ برا منا گئے۔ کہنے لگے کیا ہم مسجد کا چندہ دوسروں سے کم دیتے ہیں۔ان لوگوں کو کیوں نہیں کچھ کہتے جو استنجا خانے میں جاکر پہلے دوتین لوٹے پانی بہاتے ہیں اور پھر اپنا کام شروع کرتے ہیں۔

    اگر ہماری یہی اجتماعی سوچ رہی تو صرف چار پانچ سال بعداس مسجد میں دوسری اور تیسری قسم کی ٹونٹیاں لگی ہوں گی جن کی تفصیل نیچے دی گئی ہے۔

    دوسری ٹونٹی

    اس ٹونٹی سے میری ملاقات پچھلے ماہ پشاور رنگ روڈ کی ایک مسجد میں ہوئی۔ اس کی ناب اس مکینیکل طریقے سے فٹ کی گئی تھی کہ ایک ہاتھ سے اسے پکڑ کر اوپر کرنا پڑتا تھا تاکہ پانی کی قلیل فراہمی شروع ہو سکےاور دوسرے ہاتھ سے وضو کی کوشش کی جاتی۔ یہ پانی بچانے کا ایک نہایت اچھا طریقہ تھا۔ مجھ جیسے پانی ضائع کرنے والے میدانی علاقے والے کو یہ ٹونٹی ایک نری مصیبت ہی لگی کیونکہ میرے وضو کی تکمیل شک میں پڑ گئی۔ یہ شرارتی ٹونٹی مجھے پورے وضو میں چھیڑتی رہی۔لیکن اس ٹیکنیک سے یہاں پر ہر کوئی بڑے کم وقت اور کم پانی سے اپنا وضو مکمل کرکے نماز ادا کر رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہوسکتا ہے کچھ وقت پہلے شائد یہاں “پہلی قسم “ کی ٹونٹیاں لگی ہوئی ہوں گی۔

    اس مسجد کے باتھ روم بھی اس کفایت شعاری سے بنائے گئے تھے کہ آپ کوئی ایسی بڑی کاروائی نہیں ڈال سکتے تھے جس کی وجہ سے بعد میں دو دوتین لوٹے بہانے پڑیں۔ ہمیں تو یہاں چھوٹی موٹی کاروائی کی بھی ہمت نہ ہوئی کیونکہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے پبلک میں رسوا ہونے کا امکان تھا۔ باتھ روموں کے اس ڈیزائن کی وجہ سے اور کچھ ہو نہ ہو پانی کی بہت بچت ہورہی تھی۔

    واٹر مینیجمنٹ کے یہ زبردستی طریقے پشاور کے علاقے میں پانی کی فراہمی کی صورت حال میں تناو کو صاف ظاہر کر رہے تھے۔

    تیسری ٹونٹی

    یہ ٹونٹی کوئٹہ میں میرے محلے ارباب کرم خان روڈ کی مسجد میں لگی ہوئی ہے۔ اسے میں ایک دھائی سے بند ہی دیکھ رہا ہوں۔ اسے شائد عبرت کے لئے لگایا گیا ہے ورنہ ہم نے پچھلے دس سال میں اس سے پانی بہتا کبھی نہیں دیکھا۔ وضو کے لئے ایک چھوٹے سے ٹینک کا نل گیڑھ کر پلاسٹک کے چھوٹے سے لوٹے میں پانی لانا پڑتا ہے جس سے اکثر دو لوگ بھی وضو کر لیتے ہیں۔ اکثریت گھر سے وضو کرکے آنے والوں کی ہوتی ہے۔ اردگرد کی دکانوں والے تو ایک وضو سے دوتین نمازیں ادا کرنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔

    اس ٹونٹی سے بہتے پانی کو دیکھنا میرا ایک خواب ہے۔ یہ غم زدہ ٹونٹی بھی شائد اپنے بننے کا اصل مقصد بھول چکی ہے یا شائد پانی کے وچھوڑے کے غم سے پیرا لائز ہو چکی ہے۔ پرانے نمازی بتاتے ہیں کہ کبھی یہ بھی “پہلی قسم “ کی ٹونٹی تھی جس سے بے دریغ پانی بہتا تھا جب کوئٹہ کازیر زمین پانی ہزار فٹ سے نیچے نہیں گیا تھا اور پانی کے ٹینکر کا ریٹ ہزاروں روپے نہیں ہوا تھا۔ اب تو یہ ٹونٹی بھی بانجھ ہوگئی۔اس مسجد کے باتھ روم کو تالا لگا ہوا ہے۔

    جنتی ٹونٹی

    جنتی ٹونٹی ہم سب کے ذہن میں لگی ہے اس کی ناب ہماری سوچ کے دھارے کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ ٹونٹی ہم سارا دن اپنے گھر، دفتر، اسکول ، پبلک پلیس یا کاروبار کی جگہ پر استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے استعمال میں آنے والی ہر ٹونٹی کا پانی استعمال کرتے ہوئے اسے اپنی پانی بچانے والی سوچ کی ناب سے کنٹرول کریں گے تو کئی ٹونٹیوں کو بانجھ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو تازہ پانی کا تحفہ چھوڑ سکتے ہیں۔ اپنی آخرت سنوار سکتے ہیں۔

  • سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    غلط فہمی۔۔ "سائنسی تھیوری جب ثابت ہوتی ہے تو لا بن جاتی ہے”.

    یا پھر
    ” سائنس کی تھیوری فیکٹ نہیں ہوتی۔ ”

    بچپن میں ٹی وی پر ڈاکٹر نائیک سائنس کو غلط طریقے سے پیش کرتے اور ہم سائنس کا محدود علم رکھتے ہوئے واہ واہ کرتے ۔ جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے پتہ چلنا شروع ہوا کہ سائنس میں تھیوری کی کیا اہمیت ہوتی ہے اور جب ہم کسی شے کو سائنسی تھیوری کہتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سائنس میں یہ سب سے اونچے درجے پر ہے۔ ایسی غلط فہمیاں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں کہ اصل سائنس سکھانے والے پیچھے ہوتے ہیں، انہیں مجمع لگانا نہیں آتا اور وہ جنکو سائنس کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی وہ مجمع لگا کر اپنے مطلب کی سائنسی تشریحات کے کبوتر نکال نکال کر عوام کو مزید جاہل رکھتے ہیں۔ تو کیا سائنس میں تھیوری لا سے کمتر یا فیکٹ سے نیچے ہے؟ آئیں اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں۔

    درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں تھیوری ہمیشہ ایک مسلمہ حقیقت ہوتی ہے۔ سائنس کو سنجیدگی سے پڑھنے اور سمجھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنسی تھیوری دراصل انگریزی زبان میں عام فہم استعمال ہونے والی تھیوری سے مختلف معنی رکھتی ہے۔ کسی بھی تھیوری کو سائنسی تھیوری بننے میں تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔
    1. وہ تھیوری کسی مظاہرِ قدرت کو بیان کرے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسکے لئے ریاضی کا ایک مکمل فریم ورک بنایا جاتا ہے جو تفصیل سے اُس مظہر کو بیان کرے۔

    2. وہ تھیوری اپنے ثابت ہونے کے لئے پیشن گوئیاں کرے جسے تجربات اور مشاہدات سے ثابت کیا جا سکے۔

    3. وہ تھیوری ان تجربات اور مشاہدات سے مکمل ثابت ہو جائے۔

    اب آتے ہیں لا کی طرف۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی لا دراصل ایک مصدقہ اور ٹھوس قانون ہے جو ثابت شدہ ہے اور یہ کہ جب تھیوری ثابت ہو جائے تو یہ لا بن جاتی ہے۔
    سائنس میں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایک سائنسی لا دراصل ایک سائنسی تھیوری ہی سے نکلا ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ اّس تھیوری کی ایک محدود شکل یا حصہ ہوتا ہے۔
    مثال کے طور پر تھرموڈائنامک تھیوری یہ بتاتی ہے کہ حرارت کسی سسٹم میں کس طرح منتقل یا اُس سے خارج ہوتی ہے۔ اس تھیوری کے حصوں کو لا آف تھرموڈاینمکز کہا جاتا ہے۔
    اسی طرح گریوٹی کی تھیوری جو نیوٹن نے دی کہ ایک ان دیکھی قوت "گریوٹی” ہے جو ماس والی چیزیں ایک دوسرے پر لگاتی ہیں۔ اس تھیوری کے تحت لا آف گریوٹیشن بنا جو یہ بتاتا ہے کہ دو ماس کیسے اور کس قوت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔
    اسی طرح انفارمیشن تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ کہ کس طرح انفارمیشن کو سٹور اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیوری کے تحت "شینن” لا یہ بتاتا ہے کہ کسی چینل پر کس حد ریٹ سے انفارمیشن منتقل کی جا سکتی ہے۔
    بالکل اسی طرح ایولوشن کی تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر مختلف انواع میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا ایک حصہ لا آف نیچرل سلیکشن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت جانداروں میں اُن تبدیلیوں کو آگے بڑھنے دیتی ہے جو ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن سے اُس جاندار کو بقاء میں فائدہ ہوتا ہے۔

    لہذا اگلی بار کوئی آپ کو کہے کہ کوئی بھی سائنسی تھیوری محض تھیوری ہے لا نہیں تو اُسے سائنسی اعتبار سے یہ وضاحت ضرور دیجئے گا۔

  • یو ٹیوب چینل کی مونیٹائزیشن جائز ہے یا نہیں؟ —  پروفیسر ایچ ایم زبیر

    یو ٹیوب چینل کی مونیٹائزیشن جائز ہے یا نہیں؟ — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    مفتی تقی عثمانی صاحب نے یو ٹیوب کی مونیٹائزیشن کے ناجائز ہونے کے حوالے سے ایک فتوی دیا ہے جو سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ اس موضوع پر کافی عرصہ پہلے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی تھی جو بنیادی طور برادر مغیرہ لقمان کے ساتھ ایک ٹاک شو ہے۔ میرا ذاتی رجحان یہی ہے کہ مونیٹائزیشن سے بچنا چاہیے اگرچہ میں اب عام طور جدید مسائل میں حلال اور حرام کے الفاظ احتیاط کے پیش نظر استعمال نہیں کرتا ہوں کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ بس اتنا کہہ دیتا ہوں کہ یہ مناسب نہیں لگتا، یا یہ درست نہیں ہے، یا یہ جائز نہیں معلوم ہو رہا، یا بہتر ہے کہ یہ نہ کرے وغیرہ وغیرہ۔ ویڈیو کا لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے۔

    دوسرا اس مسئلے کو دیکھنے کا پہلو صرف حلال حرام کا نہیں ہے۔ آپ دیکھیں کہ انڈین موٹیویشنل اسپیکر سندیپ کا یو ٹیوب چینل 26 ملین سبسکرائبرز کے ساتھ مونیٹائز نہیں ہے حالانکہ حلال حرام اس کا مسئلہ بھی نہیں ہے کہ وہ تو ہندو ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ میری بات کے درمیان ایڈ چل جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ایڈ زیادہ اہم ہو گیا اور میری بات پیچھے رہ گئی۔ میں اپنی بات کی قدر کم نہیں کرنا چاہتا۔ یہی حال بہت سے اور بھی غیر مسلم مشاہیر کا ہے کہ انہوں نے چینل اسی بنیاد پر مونیٹائز نہیں کروایا ہوا۔

    اگرچہ اب یو ٹیوب نے کانٹینٹ کریئیٹرز سے معاہدہ بدل دیا ہے اور نئے معاہدے کے مطابق وہ آپ کے چینل پر ایڈ چلا سکتا ہے لیکن وہ چلاتا نہیں ہے۔اچھے چینل یعنی جس پر سبسکرائبر زیادہ ہو، تو اس پر وہ ہزار میں سے ایک کو ایڈ دکھاتا ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہاں البتہ جس کا چینل نیا ہے تو اس پر زیادہ ایڈز نظر آ سکتے ہیں بھلے وہ مونیٹائز نہ بھی ہو۔ یہ یو ٹیوب کی نئی پالیسی کے مطابق ہے۔ لیکن جیسے جیسے آپ کا سبسکرائبر بڑھے گا تو ایڈ کم ہو جائے گا۔ اگر یو ٹیوب آپ کے چینل پر پچاس فی صد بھی ایڈ چلانا شروع کر دے جبکہ وہ مونیٹائز نہ ہو تو پھر میرا مشورہ ہے کہ آپ اس کو مونیٹائز کروا لیں اور اس کا پیسہ اسی چینل کی مارکیٹنگ اور گروتھ میں لگا دیں۔ یہ درست معلوم ہوتا ہے۔

    فی الحال تو صورت یہ ہے کہ تلاوت قرآن کے چینلز پر واہیات اشتہارات چل رہے ہوتے ہیں۔ تلاوت سنتے سنتے اچانک کوئی بے ہودہ قسم کا اشتہار چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی درست نہیں ہے کہ یو ٹیوب آپ کو وہی اشتہار دکھاتا ہے، جو آپ دیکھتے ہیں۔ کچھ اشتہار تو ایسے ہیں جو ہم سب نے دیکھے ہوں گے اور ہر ویڈیو پر دیکھے ہوں گے جیسا کہ ان ڈرائیو، فوڈ پانڈا، گرلز گرامر وغیرہ وغیرہ کیونکہ اشتہار دکھانے والے نے بھی آئیڈیئنس سیٹ کی ہوتی ہے کہ کسے دکھانا ہے۔ اور عام طور اشتہارات میں میوزک اور عورت ہے۔ پھر آپ اس کو جائز بھی سمجھتے ہوں لیکن کسی درس قرآن یا درس حدیث کے دوران اس کا آ جانا کیسے مناسب ہو سکتا ہے جبکہ انسان یہ بھی پسند نہ کرتا ہو کہ اس کے درس کے دوران کوئی شاگرد یا سامنے بیٹھا ہوا بھی اس کی بات کاٹ دے۔ یہ اشتہارات آپ کی بات کی قدر کم کر دیتے ہیں اور دینی بات کی قدر کم کروانا مناسب امر نہیں ہے۔

    اور جو لوگ مونیٹائزیشن کے جواز کے بھی قائل ہیں، وہ بھی اسے فرض نہ بنا لیں۔ دیکھیں، آج کل کے زمانے میں روپیہ پیسہ کون چھوڑتا ہے، کسے برا لگتا ہے کہ گھر بیٹھے اس کے پاس پیسے آئیں۔ پس اگر کسی نے چینل مونیٹائز نہیں کروایا تو اسے تحسین کی نظر سے دیکھیں کہ کم از کم قیامت کے دن یہ تو کہہ سکتا ہے کہ یا اللہ، آپ کی خاطر یہ روپیہ پیسہ چھوڑ دیا تھا اگرچہ فتوی بھی تھا لیکن مجھے سمجھ ہی یہی آیا تھا کہ یہ پیسہ درست نہیں ہے۔ تو کیا اللہ عزوجل اسے اس تقوی پر آخرت میں کچھ اجر نہ دیں گے جبکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

    پھر جو ہم حدیثیں پڑھتے ہیں کہ حلال بھی واضح ہے، حرام بھی واضح ہے، اور اس کے مابین مشتبہ امور ہیں، جس نے ان سے اپنے آپ کو ان مشتبہ امور سے بچا لیا تو اس نے اپنا دین اور عزت دونوں بچا لیے۔ تو اب یہ کم از کم مشتبہ امور میں تو ہے اور علماء کو مشتبہات سے بھی بچنا چاہیے کہ ان کے مقام اور مرتبے کا تقاضا یہی ہے۔ واللہ اعلم

  • ہیلتھ لیوی، تحریر: عمر یوسف

    ہیلتھ لیوی، تحریر: عمر یوسف

    ہیلتھ لیوی، تحریر: عمر یوسف

    رائیٹر : عمر یوسف
    ایم فل سکالر ؛پنجاب یونیورسٹی لاہور،

    ہیلتھ لیوی کیا ہے ؟
    بنیادی طور پر ہیکتھ لیوی ایک ایسا ٹیکس ہے جو مجوزہ طور پر صحت کے لیے لگایا جاتا ہے ۔ تاکہ ناگہانی آفات اور بیماریوں کے وقت اس پیسہ کو عوام کی فلاح و بہبود پر لگایا جاسکے ۔
    چنانچہ ایسی اشیاء جو صحت کو نقصان پنچاتی ہیں ان پر ٹیکس لگا کر دو طرح کے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔
    ان نقصان دہ اشیاء کے مہنگا ہونے کے باعث ان کی خرید و فروخت میں واضح کمی لائی جاسکتی ہے اور اس ٹیکس کی بدولت صحت کے شعبہ کو مستحکم و مستقل بنایا جاسکتا ہے ۔

    ہیلتھ لیوی کیوں ضروری ہے ؟
    معاشرہ ہمیشہ اچھے اور برے افراد کا مجموعہ رہا ہے ۔ یہاں خیر اور شر کا امتزاج ہی زندگی کی عکاسی کرتا ہے ۔ چانچہ شریر لوگوں کو جب حرص و ہوس اور لالچ ستاتی ہے تو وہ دولت کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز راہ اپنانے پر تیار ہوجاتے ہیں ۔یہی معاملہ اشیاء خورد و نوش کے حوالے سے ہے ، اشیاء مضرہ اور صحت کو نقصان پہنچانے والی اشیاء کے حوالے سے ہے ۔ حرص و ہوس اور لالچ کے مارے جب اپنی اصلیت پر آتے ہیں تو وہ ایسی اشیاء فروخت کرتے ہیں جس میں واضح احتمال ہوتا ہے کہ یہ صحت کو برباد کردیں گے جیسے کہ شوگری ڈرنکس ، جنک فوڈز ، اور تمباکو نوشی پر مبنی پراڈکٹس وغیرہ ۔ حریص و لالچی کو اور مال و دولت کے پجاری کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس سے لوگوں کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ دھرا دھر ان کو بیچ کر دولت و دھن اکٹھی کرتا ہے تاکہ اپنی لالچ کی تسکین کی جاسکے ۔چنانچہ ایسے میں وقت کے حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ ان مہلک اشیاء کی روک تھام اور انسداد کے لیے کوشش کرے اور ان کے سدباب کا انتظام کرے ۔اور یہ انسداد اور سد باب ہیلتھ لیوی کے ذریعے کیا جاسکتا ہے ۔

    تمباکو نوشی کی پاکستان میں صورتحال:
    رپورٹس کے مطابق پاکستان میں صرف نوجوانوں کی تعداد ایسی ہے جو کثرت سے سگریٹ نوشی کرتی ہے ۔ نوجوان تو نوجوان پختہ و بوڑھے عمر کے افراد کی بھی بہت بہتات ہے ۔ صرف ایک دن میں اتنے بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی تشویشانک ہے اور یہ کام حساس ہونے کے باعث سخت حالات سے دوچار ہونے کا عندیہ دیتا ہے ۔

    نشہ آور ادویات کی کثرت اور اسباب
    موجودہ حالات سخت تشویشناکی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہر نوجوان نشہ کی لت کا شکار ہے ۔ اور مختلف طرح کے نشے آزماتے ہیں ۔جن کے مراحل بتدریج بڑھتے جاتے ہیں ۔ اگر ہم ان مراحل کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ان کا سبب انتہائی معمولی نوعیت کا ہوتا ہے۔ نوجوان شوق شوق میں پہلے سادہ اور عام سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں اور پھر یہ عام سگریٹ ان کو مزید بڑھے نشے کی طرف لے جاتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ نشہ کی روک تھام کے لیے جہاں دیگر اقدامات کیے جاتے ہیں وہیں پر ہیلتھ لیوی کا اطلاق کرکے بھی اس ناسور سے نجات دلانے کی کوشش کی جائے ۔ اسی میں اس موذی عادت اور مہلک نشے سے چھٹکارے کی راہ ہے ۔

    پاکستان اور نشہ آور ادویات کا بڑھتا ہوا رجحان۔
    پاکستان میں جہاں تعلیمی اداروں کے طلباء اس مہلک عادت کا شکار ہیں وہیں پر پسماندہ علاقوں کے نوجوان بھی ان ادویات کا استعمال کرکے اپنی محرومیوں کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چنانچہ برکی ہڈیارہ کے علاقے نڑور میں صرف ایک سال میں چالیس نوجوان اس مرض کی وجہ سے راہ عدم کے مسافر بنیں اور چالیس گھروں کے کفیل سینکڑوں لوگوں کو لاوارث چھوڑ گئے ۔
    دوسری طرف تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء نشہ کی لت میں مبتلاء ہوکر بجائے ڈگری حاصل کرنے کے کسی ری ہیب سنٹر میں داخل ہوتے ہیں اور پھر اس لت کا شکار ہونے کی کشمکش میں میں زندگی تباہ کردیتے ہیں ۔ جب اتنے سنگین نتائج نکل رہے ہوں تو حاکم وقت کا فرض ہے کہ وہ اس کے سدباب کا چارا کرے اور اس کے لیے بنیادی طور پر ہیلتھ لیوی کا نفاذ ثمر آور اقدام ثابت ہوگا ۔

    حفظان صحت کے قوانین
    ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو بنیادی حقوق دینے کے ساتھ ساتھ ایسے تمام اقدامات بھی اٹھائے جس سے شہریوں کی جان مال کا تحفظ ہو۔ چنانچہ صحت کو برقرار رکھنے اور بیماریوں سے نجات دینے کے لیے جہاں صحت کے مراکز بنانا ضروری ہے وہیں پر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ تمام چیزیں جو انسان کو نقصان پہنچانے کا موجب بنتی ہیں ان سے بھی چھٹکارا دلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہیلتھ لیوی کو اپلائے کرکے اشیاء مضرہ کے فروغ سے پہلے ہی اس کا سد باب کردیا جائے ۔

    سن ٹیکس
    گذشتہ دنوں حکومت وقت نے سگریٹ نوشی پر سن ٹیکس کا آغاز کیا جو کہ اپنی جگہ پر احسن اقدام ہے اس کے ساتھ ہی ہیلتھ لیوی کا دائرہ ذرا وسیع ہے جس میں تمام اشیاء مضرہ کے اوپر ٹیکس لگا کر دو طرح کے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ جہاں پر اشیاء مضرہ کا دائرہ چھوٹا ہوگا وہیں پر ٹیکس کی کولیکشن سے دیگر فلاحی پراجیکٹ پر بھی کام ممکن ہوگا ۔

    تعلیمات اسلام
    قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ رب العزت نے اس بات کو واضح کردیا ہے ۔
    ترجمہ : اے ایمان والوں اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو ۔
    یعنی ایسی وہ تمام چیزیں جس سے انسان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کی طرف جانا ممنوع ہے ۔ اور اس کا ارتکاب کرنا خلاف شرع اور خلاف اسلام ہے ۔چنانچہ مملکت اسلامیہ ہونے کے تعلق سے پاکستان کے حکام کا فریضہ ہے کہ وہ عوام کو شعور و آگہی دے اور ہلاکت خیز چیزوں سے روکنے کے لیے ہیلتھ لیوی جیسے اقدامات کرے تاکہ پاکستان ایک فلاحی ریاست بنے ۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی کی ترغیب کے لیے ہونے والا کام
    کرومیٹک کے پلیٹ فارم سے اس بات کو اٹھایا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے پاکستان کو دو طرفہ فوائد حاصل ہوں اور ایک طرف اشیاء مہلکہ و مضرہ سے نجات ملے تو دوسری طرف فلاحی و مفید پراجیکٹ کا حصول اور ان کو چلانا ممکن ہوسکے ۔

    نتائج بحث :
    ہیلتھ لیوی ایک ایسا ٹیکس ہے جو اشیاء مضرہ پر لگایا جاتا ہے ۔
    دیگر ممالک میں بھی اس کا اجراء ہوچکا ہے ۔
    پاکستان میں سگریٹ نوشی اور شوگری اشیآء کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے ہیلتھ لیوی کا نفاذ ضروری ہے۔
    ہیلتھ لیوی سے اشیاء مضرہ کی روک تھام ممکن ہے ۔
    ہیلتھ لیوی سے حاصل ہونے والے پیسوں کو فلاحی کاموں پر لگایا جاسکتا ہے ۔

    سفارشات و تجاویز :
    ہیلتھ لیوی کا نفاذ وقت کی ضرورت ہے ۔
    ہیلتھ لیوی کا نفاذ کرنا مملکت پاکستان کے مفاد میں ہے ۔
    ہیلتھ لیوی ترجیحی بنیادوں پر ہو نافذالعمل  ہونا چاہیے ۔
    ہیلتھ لیوی وفاقی ، صوبائی و مقامی حکومتوں کے تعاون سے نافذ کیا جائے ۔
    ہیلتھ لیوی پر قانون سازی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے ۔

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں عمر یوسف نےدوسری پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • دُھند کی نعمت سے فائدہ اٹھائیں!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دُھند کی نعمت سے فائدہ اٹھائیں!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ہمارے ہاشم عاشورہِ محرم میں سیکیورٹی کے نام پر موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند ہوجاتی ہے لوگوں کو رابطے میں دشواری ہوتی ہے اور آن لائن کاروبار ٹھپ ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل کمپنیوں کا کاروبار بھی کچھ دنوں کے لئے بند ہوجاتا ہے۔

    اسی طرح کسی بھی احتجاج کے دوران کنٹینر لگا کر راستے بند کردئے جاتے ہیں۔ بزرگ ، مریض، حاملہ عورتوں اور بچوں کو سکول، ہسپتال اور روزمرہ زندگی کے معاملات میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ عام کاروبار بھی کاروبار ٹھپ ہوجاتا ہے۔

    تازہ ترین یہ ہے کہ آج کل کے دنوں میں دُھند کے دوران موٹر وے بند کردیا جاتا ہے جس سے لوگوں کا سفر اور کاروبار ڈسٹری ہوتا ہے اور مہینے بھر کے لئے معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوتا ہے۔

    پتہ نہیں ہم ہر کام کا حل چلتی پھرتی زندگی کو جام کرنے اور اپنا نقصان کرنے میں ہی کیوں سوچتے ہیں۔ کیا ان مسائل کو مواقع میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا؟

    کہتے ہیں کام کرنے والے کام کرنے کی کوئی ایک وجہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں جب کہ نکمے اور سست لوگ سو وجوہات کے ہوتے ہوئے بھی کام نہ کرنے کا ایک بہانہ تراش لیتے ہیں ۔

    دُھند زدہ اس ایک مہینے کے بعد اب ہمارے ہاں پانی کی کمی کی وجہ سے گندم کی فصل کو نقصان پہنچنے پر واویلا ہوگا حالانکہ اس مضمون کے ساتھ شراکت کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دُھند کو پانی میں تبدیل کرنا تیکنیکی طور پر کتنا آسان اور قابلِ عمل ہے۔

    اس سے ملتے جلتے بے شمار طریقے استعمال کئے جا سکتے ہیں جس میں کپڑے کا نیٹ، پلاسٹک کی شیٹیں یا کوئی بھی اس جیسا اور میٹیرئیل استعمال کرکے دُھند کو پانی بنا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم کیوں نہ دُھند کی نعمت سے فائدہ اُٹھائیں۔

    یہ ایک اچھوتا بزنس آئیڈیا بھی بن سکتا ہے جس میں کوئی بھی زرعی مشینری سے متعلقہ سیٹ اَپ دُھند سے پانی بنانے والے متحرک (موبائل) یونٹ بنا کر کسانوں کو روزانہ کی بنیاد پر کرائے پر بھی دے سکتا ہے۔

    دُھند سے پانی بنانے والے یہ یونٹ اِس طرح بھی ڈیزائن کئے جاسکتے ہیں کہ مون سون کے موسم میں یہ افقی ہوکر بارش کا پانی بھی جمع کر سکیں ۔ یوں یہ مون سون اور دُھند، دونوں موسموں میں کارآمد ہو جائیں گے۔ ضرورت کے حساب سے ان کا سائز چھوٹا یا بڑا کیا جاسکتا ہے اور ہر وہ جگہ جہاں ترپال یا پلاسٹک شیٹ کا استعمال ہو تا ہے وہاں اس طرح کے یونٹ کے لئے بھی وہی کپڑا استعمال ہو سکتا ہے۔

    اسی اُصول پر بھَٹّوں اور کارخانوں کی چمنیاں بھی ، جو عام طور پر ڈھند میں بند ہوتے ہیں ، دُھند کو واپس اندر کھینچ کر پانی میں تبدیل کرنے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہیں یا پھر ایسی کئی موبائل چمنیاں بھی بنائی جا سکتی ہیں جو کھیتوں کی کنارے دُھند اپنے اندر کھینچ کر دوسری طرف نالے یا تالاب میں پانی نکال رہی ہوں۔

  • ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہم 2023 میں داخل ہونے والے ہیں۔ایک طرف بھارت اور افغانستان کی طرف سے وطن عزیز میں دوبارہ دہشت گرد ی خودکش حملوں کا سلسلہ جاری ہے فوجی افسران ،فوجی جوان، پولیس اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی انتشار اپنے عروج پر ہے ۔ اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار کو طول دینے کی سیاست ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بے یقینی کے ایسے خوفناک وقت میں ہم کیسے پُر امید ہو سکتے ہیں کہ ان حالات میں ہماری معیشت ، ملک میں امن ، دہشت گردی کا خاتمہ ۔ آنے والے سال میں ملک ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرے گا؟ ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے ۔سیاسی جماعتیں ریاست ااور اس میں بسنے والے عوام کے لئے متحد ہو جائیں۔ سیاسی انتشار میں کوئی معاشرہ اور ریاست ، اور معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔ قومی سلامتی کے لئے نئی حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی ۔ ترقی کے لئے پُرامن ماحول میں بہت ہی ضروری ہے۔

    21 ویں صدی میں مل کر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے پالیسیاں بنائی جائیں ۔ وطن عزیز کے وسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مگر کیا کیاجائے ہمارے سیاستدانوں کو اقتداراور صرف اقتدار چاہیئے۔ انہیں ریاست اور عوام کے مسائل سے دلچسپی نہیں ۔آج سیاسی گلیاروں میں اخلاقی اقدار کے معیار گر گئے۔ آج سیاست میں عوام کی موجودگی نہیں ۔ عوام کے بنیادی مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ۔ ہر طرف اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے کو چور ڈاکو سمیت غیر اخلاقی الزامات لگائے جارہے ہیں ۔سیاستدان سیاسی گلیاروں میں ایک دوسرے کی مائوں ، بہنوں ،بیٹیوں اوربیویوں کی سوشل میڈیا پر توہین کرتے نظر آرہے ہیں ان حالات میں سیاست اور ریاست کی حالت کیا ہوگی ؟ ۔

    زمینی حقائق سے کوسوں دورسیاست میں شوروغل مچا ہوا ہے۔ محسوس ہوتا ہے سیاست عوام اور ریاستی مسائل سے بے بہرہ ہو کر تماشوں تک محدود ہو گئی ہے ۔ موجودہ شور شرابے میں وطن عزیز کی معیشت مستحکم کیسے ہو سکتی ہے ؟۔اقتدار حاصل کرنے والے اوراقتدار کوطول دینے والے ہوش کے ناخن لیں ہمارے اطراف میں دہشت گردی کی آگ دوبارہ لگا دی گئی ہے ۔پاک فوج ،قومی سلامتی کے ادارے ، پولیس اس نئی آگ کو ملک و قوم کو محفوظ رکھنے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ سیاستدان بھی ملک وقوم کی خاطر انتشار کی سیاست کو دفن کرکے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں۔

  • آپ کا خاوند ، آپ کے گھر کی چھت!!! — ابو بکر قدوسی

    آپ کا خاوند ، آپ کے گھر کی چھت!!! — ابو بکر قدوسی

    کبھی سوچا تو ہو گا کہ روٹھتا ہے ، الجھتا ہے ، جھگڑتا ہے لیکن ایسا کیا ہے کہ ہمیشہ لوٹ کے آ جاتا ہے – بہت مضبوط دکھائی دیتا ہے ، اک دیوار کی مانند گھر کے گھر کو حصار باندھے سنبھالے رکھتا ہے ، لیکن ایسا کمزور سا ہوتا ہے کہ سوہنی کا اپنا کچا گھڑا بھی کیا کمزور ہو گا ، ایک دم سے ڈھے جاتا ہے – کبھی سوچیے تو سہی کہ کس ناز سے کہا گیا کہ :

    وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا.
    بس یہی بات اچھی مرے ہرجائی کی.

    جانتے ہیں یہ ناز سے کہا گیا جملہ مرد کی اس کمزوری کا جیتا جاگتا نشان ہے کہ وہ ہمیشہ ہار جاتا ہے –

    میں روز وہاں سے گزرتا ہوں ، بہت بار انکھوں میں پانی اترنے لگتا ہے لیکن اشارے کی بتی سبز ہو جاتی ہے – ایک چوراہے پر رات کو وہ فٹ پاتھ پر بیٹھی ہوتی ہے – ساتھ میں اس کے دو بیٹے ہوتے ہیں ، جو سات آٹھ برس کے رہے ہوں گے – ایک دم بہت پیارے بچے ہیں ، ایسے کہ دیکھتے ہی ان پر پیار آ جائے – میں کوئی ایسا پارسا نہیں کہ راہ چلتی عورت کو دیکھ کے اندھا ہو جاتا ہوں ، لیکن ایسا بھی نہیں کہ گھر چھوڑنے چلا جاؤں – لیکن اس خاتون کو میں نے بہت بار غور سے دیکھا ، بہت اہتمام سے نقاب کیا ہوتا ہے ، انکھیاں بھی بہت حد تک چھپی ہوئی سو ایسی راکھ کو کیا کریدا جا سکتا ہے اور کیا ڈھونڈا جا سکتا ہے ؟؟ –

    پھر میں اس کے بہت معصوم سے بچوں کو دیکھتا ہوں اور تب تک دیکھتا ہوں جب تک ٹریفک کی بتی سبز نہیں ہو جاتی –

    پیارے بچے کپڑے کا رومال لیے قطار اندر قطار گاڑیوں کے آگے پیچھے بھاگتے ہیں . اشارہ کھلنے سے پہلے ان کو کچھ بیچنا ہوتا ہے ، بہت سے لوگ ان کو پیسے دے کے آگے بڑھ جاتے ہیں – ایک روز کسی نے پولیسٹر کیا نیا لحاف پکڑا دیا . ایسا خوش کہ ہفت اقلیم کی دولت مل گئی -اس ایک آدھ منٹ میں میں مجھے یہی خیال آ رہا ہوتا ہے کہ اس گھر کی دیوار کیا ہوئی ، حصار کہاں گیا ، ان بچوں کا باپ کیا ہوا …کہ یہ سڑک پر آ گئے –

    معلوم ہے کہ بچے باپ کے بنا "رل” جاتے ہیں ، عورت کا اپنا سائبان دور ہواؤں میں بکھر جاتا ہے – زمانے کی تیز آندھیاں اس کے دامن کو ریگ گذار بنا چھوڑتی ہیں –

    اسی سڑک پر فیملی کورٹ ہے کبھی صبح کے وقت یہاں سے گزریئے – بہت سی مائیں اپنے بوڑھے باپوں کو ساتھ لیے اپنے طلاق کے مقدماٹکی تاریخ پر چلی آ رہی ہوتی ہیں – ساتھ میں بچے اس لیے کہ عدالت میں ان کے باپ منتظر ہوتے ہیں – کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ بچہ باپ کے پاس اور ماں کے آنسو جگر کو چھلنی کر رہے ہوتے ہیں –

    برا ہو اہل مغرب کی تھذیب کا کہ اس کے اثرات نے ہمارے اس سادہ سادہ سے اور آسان سے معاشرے کو برباد کر دیا ، گھرانے اور گھروندے ٹوٹ ، بکھر رہے ہیں – اس کا بنیادی سبب یہی نا قدر شناسی ہے اک دوسرے سے حقوق ، عزت سے اعراض ہے اور اپنے "زور بازو ” پر ضرورت سے زیادہ مان ہے – اس جملے اور سوچ نے برباد کر کے رکھ دیا کہ ” میں عورت ہوں لیکن کسی سے کیا کم ہوں "-

    خاوند ، محض بچوں کا باپ نہیں ہوتا ، نہ عورت کا شوہر ، اک حصار ہوتا ہے – جب رخصت ہوتا ہے تو سب کچھ بکھر جاتا ہے – چھت کے بنا کسی گھر کا تصور کیجئے ، دیواریں کاٹ کھانے کو دوڑیں گی –

    بہت شکوے ہوتے ہیں ، شکایت ہوتی ہیں ، بہت لاپرواہ ایسے کہ کبھی بہتے آنسوں کو بھی بھول جائیں اور کبھی معمولی سے دکھ پر خود بھی رو اٹھیں – لیکن ہمیشہ لوٹ کے بھی آتے ہیں اور چھت بھی بنے رہتے ہیں –

    چھت کی کہی کچھ ایسی غلط تو نہ کہی – اچھا ذرا تصور کیجئے نا – ایک گھر ہے اچھا سا دروازہ ، مکمل تیار دیواریں ، لیکن ان پر چھت نہیں ، ہے نا ایک دم ویرانی کا تصور –

    بھلے کوئی اس چھت کی جانچ نہ کر پائے ، لیکن مصائب کی بارش ہو یا وقت کی تیز دھوپ ان کو روکتی ضرور ہے – بہت اچھا نہیں ہوتا ، بے حس ، لاپرواہ ، دکھ کو نہ جاننے والا ، کبھی کبھی کٹھور دل ….. لیکن پلٹتا ہے تو ہمیشہ سائبان بن جاتا ہے –

    بہت کم حوصلہ ہوتا ہے ، لیکن ایسا حوصلے والا کہ کبھی کبھی آپ کی حد سے بڑھی ہوئی تلخ نوائی کو یوں ہنس کے سہہ جاتا ہے کہ بعد میں خود بھی حیران سا رہتا ہے –

    اچھا ! ظرف کا ممکن ہے کم ہو ، لیکن ایسا مضبوط "ظرف ” ہوتا ہے کہ آپ توڑ کے خود بھی ٹوٹ جائیں – اور جانتے ہیں ؟

    قیمتی اور مضبوط برتن جب ٹوٹتے ہیں تو جڑتے ہی نہیں – سو ان کو گنوایا نہ کیجئے ، ان کی قدر کیا کیجئے

  • جیت کااحساس — ریاض علی خٹک

    جیت کااحساس — ریاض علی خٹک

    مچھیرے جال پھینک کر مچھلیاں پکڑتے ہیں. لیکن انسٹاگرام فیس بُک پر فخریہ اپنی پکڑی کسی مچھلی کے ساتھ تصاویر شئیر نہیں کرتے. کیونکہ اس میں کمال مقام اور جال کا بھی شریک ہوتا ہے. لیکن ایک کانٹا لٹکائے شکاری صرف ایک مچھلی پکڑتا ہے اور جیت کا ایسا احساس اسے ملتا ہے کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتا ہے دیکھو میں نے مچھلی پکڑی. یہ میرا کمال ہے.

    یہ واقعی ایک کمال ہے. ایک مچھلی ساری جھیل دریا اور سمندر میں بکھری فطرت کی خوراک چھوڑ کر اگر اس کانٹے پر لپکے اور شکاری اسے شکار بنالے تو کمال ہی کہلائے گا. ایسے ہی ٹیکنالوجی کے اس دور میں کلک بیٹس ہنی ٹریپ اور آڈیو ویڈیوز کو سچ مان لینے والی مچھلیاں بھی کمال مثال ہوتی ہیں.

    ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب کچے کے ڈاکو بھی وائس چینجر سوفٹویر سے لڑکی کی آواز میں کوئی مرغا ایسا پھنسا لیتے ہیں جو سب کچھ چھوڑ کر جنگل میں چلا جاتا ہے. تو یہ اس ڈاکو شکاری کا کمال ہی ہے. البتہ اس مرغے کی یہ جہالت ہوگی. ایسے ہی سیاسی مقاصد کیلئے آڈیوز ویڈیوز کا استعمال کرنے والے ہوں یا انٹرنیٹ پر لوگوں کے کلکس سمیٹنے والے چینلز کی سرخیاں ہوں ان کو سچ سمجھنے والی آڈینس یہی بے وقوف مچھلیاں ہی ہوتی ہیں.

    جب تک دریا کی مچھلیوں کو عقل نہیں آئے گی شکاریوں کا شکار جاری رہے گا. ہمارے ہاں یہ شکار جس زور و شور سے جاری ہے یہ صرف یہاں جہالت کا حساب بتا رہا ہے.