Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ایسا کچھ میرا مطلب نہیں تھا!!! — محمد جمیل احمد

    ایسا کچھ میرا مطلب نہیں تھا!!! — محمد جمیل احمد

    جب میں اپنی ایک کلاس فیلو کے ساتھ کچھ کھانے کسی ریسٹورنٹ پر گیا تھا تو یہ میرا کسی لڑکی کے ساتھ ریسٹورنٹ پر جانے کا پہلا تجربہ تھا ۔۔۔ کلاس ختم ہونے پر گیٹ تک جاتے چار پانچ دوستوں کا کچھ کھانے کا پلان بن رہا تھا جو کہ ناران کاغان، مری، جھیل سیف الملوک، وادی سُون اور آزاد کشمیر کی سیر کے پلان کی طرح تقریباً کینسل ہو ہی رہا تھا ۔۔۔ مگر پھر ہم دو لوگ بچ گئے ۔۔۔ مجھے تو ہاسٹل واپس جانا تھا اس وجہ سے کوئی جلدی نہیں تھی اور اس بیچاری کو بھوک نے ستایا تھا اسکی مجبوری تھی ۔۔۔

    اب جیسا کہ ہمارا کوئی سین تو کیا ش اور ع یہاں تک کہ غ بھی نہیں تھا اس وجہ سے میری پوری توجہ صرف ایک ہی چیز پر تھی اور وہ تھا بروسٹ ۔۔۔ میں چاہتا تھا میں زیادہ کھالوں تاکہ خدانخواستہ پیسے مجھے بھی دینے پڑ جائیں تو دُکھ نہ ہو ۔۔۔ اس نے دو ریگولر بوتلیں آفر کیں تو میں نے کہا کہ ایک ہالف لٹر منگوا لو اور ساتھ دو گلاس منگوا لو ۔۔۔ دو ریگولر سے ایک ہالف لیٹر سستی پڑ جائے گی ۔۔۔ لیکن نہیں پائی ۔۔۔ اسکا بھائی تو بارلے ملک ہوتا ہے ۔۔۔ اس نے ریگولر ہی دو منگوانی تھیں ۔۔۔

    ٹھیک ہے منگوا لو ۔۔۔

    اس نے اپنے گلابی گالوں پر گِری بالوں کی لٹ کو سلیقے سے ہٹاتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ دیتے مجھ سے پوچھا ۔۔۔

    "تم بروسٹ زیادہ اسپیڈ سے نہیں کھارہے۔۔۔”

    میں: نارمل اسپیڈ ہے ۔۔۔ ویسے تم بھی اسپیڈ سے کھالو، تمہیں بھوک کافی لگی تھی ۔۔۔

    (اس نے اخلاقیات کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔ )

    وہ: تمہیں کہیں جانا ہے اب ؟؟؟

    میں: کیوں ؟؟؟ ۔۔۔

    وہ: میرے ساتھ آجاؤ، مجھے کچھ نقشے خریدنے ہیں ۔۔

    میں: میرے ابو کونسا نقشے بنانے والے محکمے میں ہوتے ہیں جو میں نقشے خریدنے تمہارے ساتھ جاؤں۔۔۔

    وہ: تو نہ جاؤ ۔۔۔ بروسٹ کھانے کے لئے آنے کا پتا تھا, اب نقشے خریدنے کے لئے وہاں تک جاتے تکلیف ہوتی ہے ؟؟؟

    میں: شکر کر میں تیرے ساتھ بروسٹ کھانے آگیا۔۔۔ مجھے کتنے ضروری کام ہیں تیری سوچ ہے ۔۔۔

    وہ: جانا ہے یا نہیں ۔۔۔ ہاں یا ناں ؟؟؟

    میں: ہاں ۔۔۔

    اس نے بِل دیا، ہم نقشے خریدنے چلے گئے ۔۔۔ اگلے دن کلاس ختم ہوئی تو میں نے پوچھا ۔۔۔

    "آج کوئی نقشے وغیرہ تو نہیں خریدنے ؟؟؟”

    وہ: نہیں ۔۔۔

    میں : چلو کوئی گل نہیں ۔۔۔ میں اپنے لئے کوئی ریگولر نقشوں والی ڈھونڈ لیتا ہوں ۔۔۔

    وہ: تیرے ساتھ جو جائے گی وہ بڑے امیر باپ کی بیٹی ہی ہوگی ۔۔۔ تم نے کچھ کھانے سے لیکر واپس جانے تک کسی ایک جگہ بھی نہیں پوچھنا ہوتا کہ پیسے میں دے دوں ۔۔۔

    میں: مطلب پیسوں کا تعلق ہے بس ؟؟؟ (جذبات کا وار کرتے ہوئے)۔۔۔

    وہ: ارے نہیں وہ مطلب نہیں تھا میرا ۔۔۔

    میں: او رہنے دے ، تیرا جو مطلب تھا ۔۔ بتا کل کتنے پیسوں کا بروسٹ کھلایا ہے ۔۔۔ رکشے کا کرایہ بھی بتا اور بھی کوئی لگے تو بتا۔۔۔ (میں اپنا بٹوہ جیب سے نکالتے ہوئے ۔۔۔) تعلق پیسوں کا ہی ہے تو حساب کرلیتے ہیں ناں۔۔۔ کونسا کوئی دیکھ رہا ہے ۔۔۔ اسطرح بندے کو ذلیل کرنے کے لئے پیسے پیسے نہیں سناتے ہوئے، نہ کوئی اوقات ہوتی ہے پیسوں کی ۔۔۔ بتا کتنے لگے کل ۔۔۔

    وہ: یار سیریسلی ایسا کچھ میرا مطلب نہیں تھا ۔۔۔

    میں: مطلب وغیرہ نہیں چاہیں یار مہربانی۔۔۔ کلاس کے بعد مجھے سب کے پاس کھڑے کرکے پیسوں کے لئے ذلیل کررہی ہو مزید تیرے مطلب نہیں جاننے مجھے ۔۔۔

    بات گلے شکوے کرنے تک پہنچی تو ہم نے کیفے بیٹھ کر ساری غلط فہمیاں دور کیں، چائے پی، نگٹس کھائے اس نے پیسے دئیے اور ہم ہنسی خوشی گھر چلے گئے۔۔۔

  • استاد شاگرد کا رشتہ!!! — سیدرا صدف

    استاد شاگرد کا رشتہ!!! — سیدرا صدف

    کل والدہ کے لیے خشک میوہ جات لینے بازار گئے۔۔۔ہول سیل ایک دو دکانوں سے معیار اور قمیتیں چیک کرتے تیسری دکان پر جا پہنچے۔۔۔معیار اور قمیت دونوں مناسب لگے اور واضح طور پر پہلی دو دکانوں سے بہتر تھے۔۔۔لہذا درکار میوہ جات کا آرڈر دے دیا۔۔۔

    اچانک کاؤنٹر پر موجود صاحب نے مخاطب ہوئے۔۔آپ میڈم (والدہ کا نام) کی بیٹی ہیں نا۔۔۔میں نے جواب دیا جی بالکل۔۔۔کہتے میں پہچان رہا تھا۔۔ میڈم سے شکل ملتی ہے۔۔آپکو ایک بار میڈم کے ساتھ دیکھا تھا۔۔۔۔میں انکا شاگرد رہا ہوں۔۔۔۔میڈم کیسی ہیں۔۔۔بہت پہلے ملاقات ہوئی تھی۔۔ میں نے بتایا ہارٹ پیشنٹ ہے۔۔۔کافی کمزور ہو گئی ہیں۔۔

    میں نے کہا آپ اپنا نام بتا دیجیے میں والدہ کو بتاؤں گی۔۔ نام بتایا پھر کہا آپ تشریف رکھیں۔۔۔میڈم سے ہم پانچوں بہن بھائیوں نے گورنمنٹ اسکول سے پڑھا ہے۔۔۔ہم بہن بھائی جو کچھ بھی ہیں انکی وجہ سے ہیں۔۔۔ میں نے چھوٹے بھائی کے ساتھ پڑھنے کے بعد آبائی کاروبار سنبھالا۔۔باقی بھی سیٹل ہیں۔۔۔میڈم ہمیں اسکول کی پڑھائی کے ساتھ درس بھی دیتی تھیں۔۔میں زیادہ کمزور تھا پڑھائی میں شام کو آپکے گھر بھی آتا تھا میڈم مفت ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔۔

    خیر سامان پیک ہونے کے بعد لڑکے نے بل اور سامان پکڑا دیا۔۔میں نے پیسے نکالنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو آواز آئی۔۔رک جائیں پلیز۔۔۔یہ میری طرف سے میڈم کے "قدموں میں رکھ دیجیے گا” اور کہیے گا میرے اور میرے بچوں کے لیے دعا کر دیں بس۔۔۔یہ پیسے میں نہیں لے سکتا ہوں۔۔اور آئیندہ سے میڈم نے کچھ لینا ہو مجھے بس فون کر دیں۔۔

    اگر استاد نے محنت اور کسی غرض کے بنا شاگرد کو پڑھایا ہو اور شاگرد بھی اس محنت اور خلوص کو یاد رکھے تو استاد شاگرد ایک مضبوط ترین رشتہ ہے۔۔۔رشتہ ہمیشہ عزت کے دم پر قائم ہوتا ہے اور مجھے فخر ہے میری والدہ نے یہ عزت کمائی ہے کیونکہ ہمیں والدہ کے حوالے سے پہچان کر احترام پہلی بار نہیں ملا ہے۔۔۔

  • مردوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں!!! — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    مردوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں!!! — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    رابی پیر زادہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے کہ جس میں وہ یہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے ہاں ایک خاص کلاس میں عورتیں مردوں کے حقوق ادا نہیں کرتیں بلکہ ان کے ساتھ زیادتی کرتی ہیں۔ اس پر لبرلز کو آگ لگی ہوئی ہے۔ فیمنسٹوں اور لبرلز کا اس قدر اثر ہے کہ اب تو بہت سے مذہبی حلیے والوں کو بھی یہ پسند نہیں آتا کہ آپ مرد کے حق میں خیر کے دو جملے ہی کہہ دیں۔ ان کے خیال میں مرد ہر صورت اور ہر کلاس میں ظالم ہی ہے اور ہوتا ہے۔ یہی حققیت ہے، اسی کو قبول کرو۔

    یہاں کوئی بھی کبھی مردوں کے حق میں دو جملے لکھ دے یا کہہ دے تو ایک خاص کلاس کی عورتوں کو آگ لگی جاتی ہے کہ عورت کے خلاف لکھا ہے۔ تو جب عورت کے حقوق پر لکھا جاتا ہے تو کیا وہ مرد کے خلاف لکھا جاتا ہے۔ اس وقت عورتوں کے حقوق کی این جی اوز بہت زیادہ ہو گئی ہیں، کیا مرد اور کیا عورتیں، دونوں ہی عورتوں کے حقوق کے ترانے پڑھنے میں لگے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مردوں کے حقوق پر بھی بات کی جائے۔

    اس دنیا میں ہر طبقہ اپنے حقوق کی جنگ لڑتا ہے، کوئی مزدور سے نہیں کہتا کہ وہ سرمایہ دار کے حقوق کی بات کرے، کوئی مالک سے توقع نہیں رکھتا کہ وہ ملازم کے حقوق کی جنگ لڑے۔ لیکن مرد صرف وہ مظلوم طبقہ ہے کہ جس سے یہ امید لگائی جاتی ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق کی جنگ بھی لڑے اور اپنے حق کی بات بھی نہ کرے۔ کیا منافقت ہے!

    ایک مرد اگر اپنے حقوق کی بات نہیں کرے گا تو کون کرے گا! دنیا کا ہر طبقہ اپنے حقوق کی جنگ لڑتا ہے نہ کہ دوسرے کی۔ یہ فطری امر ہے۔ صرف مرد سے یہ توقع کیوں ہے کہ وہ عورت کے حقوق کی جنگ لڑے اور وہ بھی اپنے آپ سے، کمال ہے۔ عورتیں صرف اظہار زیادہ کرتی ہیں ورنہ مردوں کی تکلیف، اذیت ان سے بہت بڑھ کر ہوتی ہے۔ اسے اللہ نے مرد بنایا ہے، وہ اپنی مرادنگی کے خلاف سمجھتا ہے کہ زیادہ رونا دھونا کرے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ زیادہ رونا دھونا کرنے والیوں کے مسائل بھی زیادہ ہیں اور تکلیف بھی۔

    اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسا ادب تخلیق کیا جائے جو مرد کے درد کو اظہار کی زبان دے، ایسا آرٹ تخلیق کیا جائے، جو مرد کی تکلیف کی صورت گری کرے۔ عورتوں کے حقوق کے ترانے بہت پڑھے جا چکے ہیں اور پڑھے جا رہے ہیں، کوئی خدمت خلق کرنی ہے تو مردوں کے حقوق کی این جی او ہی کھول دیں۔ اور کچھ نہ سہی، کم از کم یہ تاثر تو زائل ہو کہ عورت ہی ہر جگہ اور ہر صورت مظلوم ہوتی ہے۔

    یہاں ہر طبقے کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے، خاص طور عورتوں کے حقوق پر تو مارچ بھی ہوتے ہیں، کبھی مردوں کے حقوق کے عالمی دن کا سنا ہے کہ جس سے توقع یہ ہے کہ وہ سب کے حقوق کا عالمی دن مقرر کرے۔ تو اس کے اپنے کوئی حقوق نہیں ہیں، اس نے صرف دینا ہی دینا ہے، لینا اس کا کام نہیں ہے کیا۔ وہ کہیں سے لے گا تو آگے دے گا۔ جب اسے کچھ ملے گا ہی نہیں تو آگے کیا بانٹے گا۔ اسے بھی تو تعلق چاہیے، محبت چاہیے، عزت چاہیے، احترام چاہیے بلکہ وہ سب کچھ چاہیے جو عورت مرد سے مانگتی ہے۔

  • نفاذِ اُردو: افادیت و اہمیت — اشرف حماد

    نفاذِ اُردو: افادیت و اہمیت — اشرف حماد

    اردو ہماری تہذیبی زبان ہے جو بہت شیرین اور خوبصورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص اچھی اور رواں اردو بولتا ہے، اس کی بات سنتے ہوئے لطف آتا ہے۔ اردو کو ہندوستان کی Native زبان قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی پیدائش ہندوستان میں ہی ہوئی۔ باقی زبانیں تو باہر سے آئی ہوئی ہیں۔ فارسی مغلوں کے ساتھ آئی جبکہ عربی زبان عربوں نے درآمد کی۔ اسی طرح انگریزی انگریزوں کے ساتھ یہاں آئی۔ لیکن اردو زبان نے یہیں جنم لیا اور یہیں نشوونما پایا۔

    متحدہ ہندوستان میں اردو زبان فطری، خلقی اور رواداری کی زبان ہے جسے بلا تمیز رنگ و نسل و مذہب بڑے شوق اور اعتماد سے بولتے ہیں۔ یہ گنگا جمنی ثقافت کی روادار زبان ہے۔ اردو بر صغیر کی جدید زبانوں میں ایک زبان ہے لیکن جس تیزی سے اس نے لسانی اور زبان دانی کے اعتبار سے جلد ہی ارتقائی منازل طے کیں وہ رفتار حیرت انگیز ہے۔

    انہوں نے اردو زبان سے عربی کے الفاظ نکال کر سنسکرت زبان کے چند الفاظ شامل کرکے اسے ہندی زبان کا نام دے دیا، جس کی وجہ سے ہندی اردو تنازعات نے جنم لیا۔ جبکہ اس سے قبل سب اردو زبان ہی بولتے تھے اور ہندوؤں کی اصل زبان سنسکرت تقریباً معدوم ہوچکی تھی۔

    ہم نے جو حال اپنی ثقافت کے ساتھ کیا اس سے کہیں برا حال ریاستی سرکاری زبان اردو کے ساتھ کیا۔ ہم نے ریاست میں اردو کے بجائے انگریزی زبان نافذ کردی اور گزشتہ تہتر سال سے یہی زبان نافذ ہے۔ سرکاری و پرائیویٹ دفاتر، تعلیمی ادارے اور عوامی مقامات انگریزی زبان سے ہی بھرے پڑے ہیں۔ اردو زبان کی یہ اہمیت ہے کہ ہر بچہ معاشرے سے یہ زبان سیکھ لیتا ہے، اس کے بعد اسے انگریزی سیکھنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر اس کے سیکھنے میں کچھ کمی رہ جائے یا نہ سیکھ پائے تو اس کےلیے جینا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ یہاں تو ہر جگہ انگریزی کا راج ہے اردو زبان کو پوچھتا ہی کون ہے؟ وہ جیسی کیسی بھی بول یا سمجھ لی تو کام چل جاتا ہے لیکن انگریزی میں کسی قسم کی کمی پائی گئی تو کتنا ہی محب وطن کیوں نہ ہو جاہل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ دفاتر میں جائے تو وہاں انگریزی میں حکمنامے پکڑا دیے جاتے ہیں جنہیں پڑھنے اور سمجھانے کےلیے انگریزی دان کی ضرورت پیش آتی ہے۔ عوامی مقامات پر انگریزی اشارات پر مشتمل بورڈ لگے ہوتے ہیں جنہیں ایک ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ شخص کےلیے پڑھنا نہایت مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔

    اسکول و کالج میں انگریزی کی کتب کی بھرمار ہے۔ انگریزی کا مضمون تو لازمی ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی جس کتاب پر نظر دوڑائی جائے سبھی انگریزی میڈیا کی ہی دکھائی دیتی ہیں اور طلبا بھی انہیں انگریزی مضمون ہی تصور کرتے ہیں اور رٹے لگا کر امتحانات میں کامیابی بلکہ زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ باقی انہیں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اصل میں یہ کتا ب کہہ کیا رہی ہے؟ یعنی اصل علم و فن پر توجہ دینے کے بجائے پوری توجہ انگریزی زبان پر صرف کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حاملین اسناد (ڈگری ہولڈرز) تو بہت ہیں لیکن ماہرین فن نہیں ہیں۔

    ترقی اصل میں کسی خاص زبان کے سیکھنے سے نہیں ہوتی بلکہ ترقی کے لیے علوم و فنون میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ اردو بھی تو ایک زبان ہے لیکن اس کے ماہرین کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ اس لیے لوگ اردو کے بجائے انگریزی پر زیادہ جان کھپاتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ انگریزی میں ماسڑز کی ڈگری کی بہت اہمیت ہے۔ ہمارے تمام امتحانات انگریزی زبان میں ہوتے ہیں۔ کوئی طالب علم کسی علم و فن میں مہارت حاصل کرلے یا کسی دوسری زبان بالخصوص اردو میں ماسٹرز کرلے بلکہ حقیقی معنوں میں ’’ماسٹر‘‘ ہوجائے، لیکن اسے ہر قیمت پر انگریزی زبان میں ماہر ہونا پڑتا ہے۔ اگر وہ انگریزی میں ماہر نہیں تو کوئی امتحان بالخصوص آئی اے ایس وغیرہ جیسے اہم ترین امتحانات پاس کرنا ناممکن ہے۔

    پھر انگریزی زبان کا ایسا رعب ہمارے اذہان پر چھایا ہوا ہے کہ ہمیں اردو میں دو چار الفاظ انگریزی کے ملائے بغیر سکون ہی نہیں ملتا۔ بلکہ دوران گفتگو اردو میں انگریزی کے دو چار الفاظ نہ بولنے والے کو پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یعنی تمام علوم و فنون میں ماہرین کو خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کےلیے اردو زبان کو زخمی کرنا پڑتا ہے۔

    اگر صرف انگریزی ہی اعلیٰ تعلیم کا معیار ہوتی تو یورپ و امریکا میں ریڑھی بان بھی روانی کے ساتھ انگریزی بولتے ہیں لیکن انہیں تو تعلیم یافتہ خیال نہیں کیا جاتا لیکن ہمارے معاشرے میں علم کا معیار ہی کچھ اور ہے۔ ہمارے کچھ مفکرین کا خیال ہے کہ اردو زبان میں لچک ہے اور وہ دوسری زبانوں کے الفاظ قبول کرتی ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ ہم خود ہی زبردستی انگریزی کو اس میں ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا یہ خیال کہ اردو زبان میں لچک ہے، یہ بھی انگریزی کو اردو میں شامل کرنے کی کوشش ہے۔ اگر اسی طرح اردو میں لچک باقی رہی تو پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اردو کی شکل یہ ہوگی کہ تمام الفاظ انگریزی زبان کے ہوں گے اور چند ایک الفاظ اردو کے رہ جائیں گے اور اس اردو ملی انگریزی کو اردو زبان کہا جائے گا۔

    انہی غلط خیالات کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ترقی میں پیچھے ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر دوڑائیں تو ہم یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ انہوں نے اپنی قومی زبان کو ہی اپنایا، اسی میں تعلیم دی۔ جس کی وجہ سے ان کے ہاں ماہرین فن پیدا ہوئے، جنہوں نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر ہم بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو دیگر اہم اقدامات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت بڑا قدم ہے کہ ہم انگریزی زبان کو اپنا مخصوص مقام دیں لیکن اس کو دوسری زبانوں کی قیمت پر حاوی نہ ہونے دیں، خاص طور پر اردو زبان پر اس کو سوار نہ ہونے دیں اور زیادہ سے زیادہ اردو زبان کو اشاعت و ترویج دیں۔

    انگریزی زبان ایک بین الاقوامی زبان ہونے کی حیثیت سے بہت اہمیت کی حامل ضرور ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اسے اس حد تک استعمال کرنے لگیں کہ اپنی زبان کی تباہی کی پرواہ نہ رہے۔ اس لیے انگریزی کی اہمیت کے پیش نظر اسے صرف ایک مضمون کے طور پر چند ابتدائی درجات میں پڑھایا جائے۔ باقی اگر کسی کو انگریزی سیکھنے کا شوق یا ضرورت ہو تو اس کےلیے الگ سے کورسز کا اہتمام کیا جائے، پوری قوم پر اس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ تمام نصابی کتب کا سلیس اردو زبان میں ترجمہ کیا جائے اور اسی کو لازمی قرار دیا جائے۔ دفاتر سے بھی انگریزی کو نکال کر اردو کا نفاذ کیا جائے اور تمام سرکاری کارروائیاں اردو میں ہی انجام پذیر ہونی چاہئیں۔ اسی طرح انگریزی زبان کے الفاظ کو من و عن اردو میں استعمال کرنے کے بجائے ان کا ترجمہ کیا جائے اور حقیقت پسندی سے ترقی یافتہ ممالک کے ان اقدامات کا جائزہ لیا جائے جو انہوں نے اپنی قومی و ثقافتی زبان کی ترقی و ترویج کےلیے اٹھائے۔ تہذیبی اور قومی زبان ہی ملک و قوم کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔

  • کامیابی کا کھویا — ابن فاضل

    کامیابی کا کھویا — ابن فاضل

    مانسہرہ سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر، قومی شاہراہ سے آٹھ دس کلومیٹر اندر دشوار گذار پہاڑی راستہ پر واقعہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے. بفہ.. یہاں ایک صاحب ایک قسم کی مٹھائی بناتے ہیں جسے یہ لوگ کھویا کہتے ہیں. دودھ کی ربڑی کو دیسی گھی میں پکانے کے بعد مناسب مقدار میں شکر شامل کرکے ایک دانے دار براؤن سی حلوہ نما یہ مٹھائی بہت ہی خوش ذائقہ ہوتی ہے.

    لوگوں میں اس کی پسندیدگی کا یہ عالم ہے کہ بغیر پیشگی بکنگ اس کی دستیابی ناممکن ہے. حالانکہ منوں کے حساب سے روزانہ بنایا جاتا ہے. ملک کے طول وعرض سے لوگ بطور سوغات اسے منگواتے ہیں بلکہ بیرون ملک بھی بجھواتے ہیں. پچھلے دنوں مانسہرہ جانا ہوا تو جی میں آئی کہ تھوڑا سا کھویا ہم بھی لیجائیں. ایک دوست کو لینے کے لئے بھیجا. معلوم ہوا کہ ایڈوانس بکنگ کے بغیر آئے ہیں اس لیے نہیں مل سکتا. بہر حال بمشکل تمام کچھ مذاکرات کے بعد کسی اور گاہک کے بڑے آرڈر میں سے کچھ ڈبے ہمارے حصہ میں آئے.

    اب دیکھیں کہ کیسی حوصلہ افزا کامیابی کی داستان ہے. کسی بھی بڑے شہر سے دور، دشوار گزار پہاڑوں کے درمیان اس صاحب ہنر نے اپنی سوچ اور محنت سے کیسا راستہ نکالا. اس مشکل کے باوجود کہ اس مٹھائی کی تیاری کےلیے دودھ بھی مقامی طور پر دستیاب نہیں، ساہیوال کے نواح سے منگوایا جاتا ہے. اس خطے میں جہاں نوے فیصد لوگ مواقع اور وسائل کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں اس صاحب عمل نے ایسی مثال قائم کردی ہے کہ ناکامی کے دیگر تمام نوحے تن آسانی اور غیر عملیت پسندی کا شاخسانہ لگنے لگے ہیں.

    پیغام بڑا سادہ اور واضح ہے. بے شک مسائل ہوتے ہیں. بے شک وسائل اور مواقع کی عدم دستیابی اور معاشرتی منفی رویوں کے سپیڈ بریکر موجود ہیں. مگر مستقل مزاجی، محنت اور حکمت سے راستہ بنانے والے منزل پا ہی لیتے ہیں. اگر آپ کی مایوسی کی وجہ بھی وسائل اور مواقع ہیں تو ازسر نو غور کی صلاح دی جاتی ہے.

  • اے چاند خوبصورت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اے چاند خوبصورت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    صدیوں سے شاعروں کے حسن و تخیل کا استعارہ، بیوی ہو یا محبوبہ لے دے کر چاند میاں ہی اُنکی تعریف کے لئے بطور مثال استعمال کیے جاتے ہیں۔ دیوداس فلم میں پارو کو دیو بابو کہتا ہے۔ اتنا غرور تو چاند کو بھی نہیں۔ جس پر پارو نہایت فلمی انداز میں جواب دیتی ہے کہ کیسے ہو چاند پر داغ جو ہیں۔

    کچھ عرصہ تک پاکستان ٹیلیوژن پر ایک کپڑے دھونے کے پاؤڈر کا اشتہار قوم کو یہ باور کراتا رہا کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ اور اس اشتہار سے وہ اپنا پاؤڈر بیچ کر چاندی کماتے رہے۔ لیجئے چاندی میں بھی چاند آ گیا۔

    مگر سوال یہ ہے کہ چاند پر داغ کیوں ہیں؟ اسکے لیے ہمیں چاند کی کچھ تاریخ سمجھنا ہو گی۔

    ہم یہ جانتے ہیں کہ نظامِ شمسی آج سے قریب 4.6 ارب سال پہلے بنا۔ پہلے پہلے سورج بنا پھر اسکی دیکھا دیکھی باقی بچے کچھے نبیولا سے زمین اور دیگر سیارے۔ زمین کے بننے کا عمل تقریباً 4.5 ارب سال پہلے شروع ہوا۔ اسے ہم پروٹو ارتھ یعنی بنیادی زمین کہہ لیتے ہیں۔ اب جب زمین بنی تو نظامِ شمسی میں کوئی نظم و ضبط نہیں تھا۔ یوں سمجھیں کہ برتھ ڈے پارٹیاں چل رہی تھیں۔ کوئی سیارہ بن رہا ہے، کوئی کہاں سے کہاں ناچ رہا یے, کہیں گیس اور خلائی گرد بہک رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے میں سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ زمین کے پاس مریخ جتنا بڑا ایک اور سیارہ "تھییا” ٹکرایا۔ اس سیارے کے ٹکرانے سے سیارے کا کچھ حصہ زمین میں شامل ہوا اور زمین اور تھییا کا کچھ حصہ خلا میں بکھر گیا جو زمین کے گرد گریویٹی کے باعث چکر کاٹنے لگا۔ بالکل ویسے ہی جیسے آج زحل کے گرد رنگز ہیں جو مختلف چھوٹی بڑی چٹانوں پر مشتمل ہیں۔ وقت کیساتھ ساتھ یہ ٹکڑے آپس میں جڑتے گئے اور چاند کی شکل اختیار کر گئے۔
    یہ نظریہ اس وقت کا سب سے زیادہ مانا جانے والا نظریہ ہے جسکے حق میں کمپیوٹر ماڈلز اور کئی اور ثبوت پیش کیے جاتے ہیں مثال کے طور پر چاند کے مدار اور زمین کی محوری گردش ایک سمت میں ہونا۔ چاند اور زمین کی چٹانوں کے تجزیے ، کائنات کے دوسرے ستاروں کے نزدیک انکے سیاروں میں ایسے واقعات کے مشاہدات وغیرہ وغیرہ۔

    شروع شروع میں چاند زمین کے بے حد قریب تھا یعنی محض 22 ہزار 500 کلومیٹر دور۔ (آج چاند ہم سے تقریباً 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دور ہے) جو آہستہ آہستہ زمین سے دور ہوتا گیا ۔ چاند آج بھی زمین متواتر 3.8 سینٹی میٹر دور ہو رہا ہے۔ وجہ زمین اور چاند کا کھچاؤ اور سمندروں میں ٹائڈز۔

    اس سے چاند تو دور ہو رہا ہے مگر زمین بھی اپنے محور کے گرد گھومتے ہوئے آہستہ ہو رہی ہے جس سے دن کا دورانیہ بتدریج بڑھ رہا ہے۔ آج سے 3.8 ارب سال پہلے جب زمین پر زندگی وجود میں آئی تو دن کا دورانیہ 12 گھنٹے سے بھی کم تھا۔

    سو ماضی میں چاند زمین سے روٹھے محبوب کیطرح دور ہوتا گیا اور ستم ظریفی کہ زمین سے جدائی کی پاداش کہئے یا اسکا مقدر کہ اس پر کئی چھوٹے بڑے شہاب ِ ثاقب گرتے رہے۔ چاند پر لاوے سے گھاٹیاں بنتی گئے شہابیوں سے بڑے بڑے گڑھے ہوتے گئے۔ جہاں جہاں لاوا پگھل کر ٹھنڈا ہوا وہاں کی مٹی اور چٹانیں باقی چاند کی نسبت کالی رہی۔

    چاند پر آج دکھنے والے داغ ماضی میں اس پر ہولناک تباہیوں کے آثار ہیں جو ہمیں اسکے داغدار ماضی کے بارے میں بتاتے ہیں۔سو پارو کا یہ کہنا کہ چاند کو غرور اس لیے نہیں کہ اس پر داغ ہیں، تھوڑی زیادتی ہے کیونکہ چاند بیچارے نے تو خوبصورت ہونے کے لیے بڑے داغ سہے ہیں۔

    اور بقول فیض:
    ہر داغ ہے اس دل پہ بجز داغِ ندامت

    خیر اب حالت یہ ہے کہ چاند ہمارے آسمان کا سب سے خوبصورت جُز ہے۔ اسکے استعمال سے نہ شاعروں نے اور نہ ہی مجبور عاشقوں نے باز آنا ہے اور نہ ہی سامنے بیٹھے محبوباؤں یا بیگمات نے اس استعارے سے دھوکہ کھانے سے رکنا ہے۔ کیونکہ چاند ہے ہی اتنا خوبصورت۔

  • ہماری دودھیا کہکشاں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری دودھیا کہکشاں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ساحر لدھیانوی (ساحر لودھی نہیں) برصغیر کے مشہور نغمہ نگار اور شاعر گزرے ہیں۔ اُنکی ایک خوبصورت نظم "انتظار” کا ٹکڑا تھا:

    دور وادی میں دودھیا بادل
    جھک کے پربت کو پیار کرتے ہیں

    دل میں ناکام حسرتیں لے کر
    ہم ترا انتظار کرتے ہیں

    ان بہاروں کے سائے میں آ جا
    پھر محبت جواں رہے نہ رہے

    زندگی تیرے نامرادوں پر
    کل تلک مہرباں رہے نہ رہے!

    اب ساحر صاحب تو ٹھہرے بڑے شاعر، دودھیا بادلوں کے چکر میں پوری نظم کہہ گئے مگر ہم کس خوبصورت شے پر کس خوبصورت زبان میں لکھیں؟

    چلیے ہم شاعری کی بجائے سائنس کی زبان استعمال کرتے ہیں اور دودھیا بادلوں کی جگہ دودھیا کہکشاں کا ذکر چھیڑتے ہیں۔ وہ کہکشاں جو قدیم دور میں مصنوعی روشنیاں نہ ہونے کے باعث رات کو صاف آسمانوں پر دودھیا لکیر سی دکھتی اور دیکھنے والوں کو وطیرہ حیرت میں ڈال دیتی۔ ایک سفید راستہ دور کہیں پراسرار آسمان کے بیچوں بیچ۔ نجانے وہاں کیا ہو گا؟

    مگر آج ہم جانتے ہیں کہ ہم بھی اسی دودھیا کہکشاں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ اس کہکشاں کو ملکی وے کہتے ہیں۔ ہمارا سورج اس کہکشاں کے کئی ارب ستاروں میں سے ایک معمولی سا ستارا ہے۔

    یہ کہکشاں کتنی وسیع ہے؟ اگر آپ روشنی کی رفتار سے سفر کریں(جو کہ ناممکن ہے مگر فرض کیجئے) تواسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے کے لیے آپکو کم و بیش 1 لاکھ سال درکار ہونگے۔ گویا اس کہکشاں کا قطر تقریباً 1 لاکھ نوری سال ہے۔

    ملکی وے پرانے دور کے کمپیوٹر کی سی ڈی کیطرح چپٹی اور گول نہیں ہے بلکہ یہ ایک سپائرل شکل کی ہے یعنی بھنور جیسی اور اسکے اسکے چار بڑے اور پھیلے بازو ہیں جیسا کہ تصویر میں دِکھ رہے ہیں۔ ہمارا نظام شمسی، ہماری زمین اور ہم ان میں سے ایک بازو میں کہیں نقطے کی مانند موجود ہیں۔ ملکی وے کی موٹائی تقریباً 1 ہزار نوری سال ہے۔ تو نہ ہی یہ سی ڈی کیطرح چپٹی ہے اور نہ ہی مکمل گول۔

    اس کہکشںاں میں موجود تمام ستارے بشمول سورج اسکے مرکز میں موجود ایک بہت بڑے بلیک ہول کے گرد گھوم رہے
    ہیں۔ اگر یہ بلیک ہول نہ بھی ہوتا تو بھی سورج اور ستارے اس کہکشاں کے مرکز کے گرد ہی گھومتے۔ایسا کیوں؟ یہ بحث پھر کبھی۔ اس کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول کا ماس، سورج کے ماس سے 40 لاکھ گنا زیادہ ہے!! مگر گھبرائیں نہیں ، ہماری زمین اس بلیک ہول سے کافی دور ہے یعنی تقریباً 28 ہزار نوری سال دور۔

    آپ اس وقت جو یہ تحریر پڑھ رہے ہیں اور میں جو یہ تحریر لکھ رہا ہوں، ہم دونوں اس کہلشاں کے مرکزی بلیک ہول کے گرد 28 ہزار نوری سال فاصلے پر 80 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہے ہیں۔ اگر آپ اس تحریر کو ڈیڑھ منٹ میں پڑھتے ہیں تو تحریر کے ختم ہونے تک آپ کہکشاں میں موجودہ مقام سے، کہشکشاں کے مرکز کا محور کرتے 20 ہزار کلومیٹر دور جا چکے ہونگے۔ اسی رفتار سے ہمارا نظامِ شمسی ہر 23 کروڑ سال میں ہماری کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر لگاتا ہے۔ یعنی آخری بار سورج اس کہکشاں میں جس مقام پر اب ہے ، وہ تب تھا جب زمین پر ڈائناسورز اج سے 23 سے 25 کروڑ سال پہلے نمودار ہوئے تھے۔

    ہماری کہکشاں میں موجود اربوں ستاروں کے گرد کئی سیارے اپنے اپنے مدار میں ویسے ہیں گھوم رہے ہیں جیسے ہمارے سورج کے گرد اسکے آٹھ سیارے۔ سائنسدان اب تک تقریباً 5 ہزار ایسے سیارے ڈھونڈ چکے ہیں جن پر شاید کسی یا کئییوں پر زندگی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہو۔

    ہماری کہکشاں سے بڑی اربوں اور کہکشائیں اس کائنات میں موجود ہیں جن میں اب تک کی دریافت کردہ سب سے بڑی کہکشاں کا نام IC1101 ہے اور یہ 40 لاکھ نوری سالوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ یعنی یہ ہماری کہشاں سے بھی کئی گنا بڑی ہے۔ کائنات اتنی وسیع ہے یہ سوچ کر ذہن چکرا سا جاتا ہے۔ ویسے ساحر لدھیانوی صاحب کو اس پر بھی کچھ لکھنا چاہیے تھا مگر وہ تو 1980 میں دارِ فانی سے کوچ کر گئے تو چلیے ہم ہی ایک شعر کہے دیتے ہیں:

    وسعتِ ابتدا؟ نہیں معلوم
    وسعتِ انتہا؟ نہیں معلوم
    ہم کو معلوم ہے جو ہے معلوم
    اور جو معلوم تھا، نہیں معلوم

  • ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بڑھتی شرح سود،امریکی ڈالر کی مضبوطی، ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان سمیت دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، بڑھتی ہوئی شرح سود اور امریکی ڈالر کی مضبوطی ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں ایک بحران جنم لے رہا ہے۔ دی اکانومسٹ نے 53 ممالک کی نشاندہی کی ہے جو یا تو اپنے قرضے ادا کر چکے ہیں یا قرض کی وجہ سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ ورلڈ بنک کے مطابق تقریباً ساٹھ فیصد ممالک زیادہ قرض دار بن چکے ہیں۔ دی اکانومسٹ نے جن 53 ممالک قرضوں کی وجہ سے پریشانی کی نشاندہی کی ہے وہ دنیا کی اٹھارہ فیصد آباد ی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بہت سے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے قرض دینے والے کم آمدنی والے ممالک کے لئے قرض میں ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ان کو لازمی طور پر ادا کرنا چاہئے۔ درمیانی آمدن والے ممالک جیسے لبنان، سری لنکا اور سورنیام پہلے ہی نادہند ہ ہیں۔ جبکہ مصر، گھانا، پاکستان، تیونس سمیت دیگر کو قرض کی شدید پریشانی کا سامنا ہے ارجنٹائن اور ایکواڈور نے پہلے ہی 2020 میں اپنے غیر ملکی قرضوں کی تنظیم نو کر لی ہے عالمی معاشی ماہرین نے آئی ایم ایف ورلڈ بنک اور عالمی مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو وہ ریلیف دیں جس کی انہیں ضرورت ہے

    ورلڈبنک یا علاقائی ترقیاتی بنکوں کے لئے کریڈٹ کی سہولت فراہم کریں جس سے پریشان قرض دہندگان رضاکارانہ طور پر استعمال کریں۔ یہ سہولت تمام دوطرفہ اور تجارتی قرضوں اور مساوی شرائط پر لاگو ہو اور قرضوں پر دوبارہ گفت و شنید کے دوران اس عمل کا انتظام کرنے والے کثیر الطرفہ بنک کی طرف سے سخت نگرانی کی جائے عالمی معاشی ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اس میں شامل ممالک کو تکمیلی کریڈٹ کی پیشکش کر کے قرضوں کی تنظیم نو کے معاہدوں میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کو ہر معاملے کی بنیاد پر ریلیف کے بارے میں فیصلے کرنے چاہئیں۔ اس کی تکمیل کثیر الجہتی ترقیاتی بنکوں کی طرف سے مزید عالمی امداد سے کی جانی چاہئے۔ صرف ان ممالک کے لئے جن کو قرضوں میں ریلیف کی ضرورت ہے بلکہ ان کے لئے بھی جو نہیں کرتے اور یقینا تمام ترقی پذیر ممالک کو طویل مدتی قرضوں کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لئے ساختی اور مالیاتی اصلاحات کو نافذ کرنا چاہئے۔

  • خان صاحب کا ورلڈ ریکارڈ — ابن فاضل

    خان صاحب کا ورلڈ ریکارڈ — ابن فاضل

    آئن سٹائن نے جب نظریہ نسبیت theory of relativity پیش کیا تو اس کی بہت دھوم تھی. دور دور سے یونیورسٹیوں کے اساتذہ انہیں اپنے ہاں بلاتے اور نظریہ بیان کرنے کی دعوت دیتے، اس پر سوال جواب کرتے.

    ایک روز وہ حسب معمول کسی دور دراز سفر پر تھے. راستے میں ان کا ڈرائیور کہتا، سر یہ جو آپ لیکچر دیتے ہیں میں نے اتنی بار سن لیا ہے کہ مجھے سارے کا سارا لفظ بہ لفظ ازبر ہوگیا ہے. اگر آپ چاہیں تو آج لیکچر میں دے سکتا ہوں. آئن سٹائن نے کہا کہ سناؤ تو ذرا..

    ڈرائیور نے واقعی حرف بہ حرف درست سنادیا. بیسویں صدی کے اوائل میں ابھی ٹیلی ویژن وغیرہ تو تھا نہیں صرف اخبار میں ایک آدھ بار تصویر چھپی ہوگی. لہذا بہت کم لوگوں نے انہیں دیکھ رکھا تھا.

    سو یونیورسٹی پہنچنے سے پہلے آئن سٹائن صاحب ڈرائیور بن گئے اور ڈرائیور صاحب آئن سٹائن. لوگوں نے ڈرائیور کی بہت آو بھگت کی اس نے بھی بہت مزے سے لیکچر دیا. جب سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو تو وہ ایک سوال پر پھنس گیا مگر گھبرایا نہیں.. کہتا یہ تو بہت آسان سوال ہے اس کا جواب تو میرا ڈرائیور بھی دے سکتا ہے… اور پھر ڈرائیور نے جواب دے بھی دیا.

    یونیورسٹی کے زمانے میں کسی استاد سے سنا یہ واقعہ آج خان صاحب کی تقریر سنتے ہوئے یاد آیا.. میرا خیال ہے اگر ایک ہی تقریر بار بار کرنے پر کوئی گینئس بک کا ورلڈ ریکارڈ ہوتا تو خان صاحب وہ آئن سٹائن سے چھین چکے ہوتے. ایک ہی تقریر بار بار سننے کا ریکارڈ البتہ ان کے پیروکاروں سے شاید ہی کوئی چھین سکے.

  • نظامِ شمسی کے باہر چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    نظامِ شمسی کے باہر چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    چاند کی تعریف وہ نہیں جو آپکا محبوب ہے بلکہ سائنس میں اسکی تعریف یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سیارچہ ہو جو کسی سیارے کے گرد گھومے۔ مثال کے طور پر زمین کا چاند جسے نجانے کتنے دیوداسوں(اسلم, شکیل، غفور وغیرہ) نے پارو ("فرسٹ” کزن رقیہ خالہ کی بیٹیوں) سے تشبیہ دی ہو گی۔
    یا وہ چاند جسے دیکھنے کے لئےہر سال محلے والی رخسانہ آنٹی کیطرح کمیٹیاں ڈالی جاتی ہیں۔

    مگر کیا چاند محض زمین کا ہے؟ یا کسی سیارے کے گرد بھی اُنکے چاند موجود ہیں؟ 1609 میں جب گلیلیو نے دوربین کی مدد سے آسمانوں کو دیکھا تو اُسے مشتری کے گرد گھومتے اجسام نظر آئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب انسانوں کو معلوم ہوا کہ نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں کے گرد بھی چاند گھومتے ہیں۔

    نظامِ شمسی میں عطارد اور زہرہ کے علاوہ باقی تمام سیاروں کے چاند ہیں حتیٰ کہ پلوٹو کے بھی جسے اب سیارہ نہیں مانا جاتا۔
    زمین, مریخ ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون اور دیگر بونے سیاروں جیسے پلوٹو ،ایریس وغیرہ کے کل ملا کر 214 چاند بنتے ہیں۔
    نظامِ شمسی میں سب سے زیادہ چاند جس سیارے کے ہیں وہ زحل ہے جسکے 82 چاند ہیں جبکہ سب سے کم جس سیارے کے چاند ہیں وہ زمین ہے جسکا محض ایک ہی چاند ہے۔

    مگر کیا نظامِ شمسی سے باہر کے دریافت کردہ سیاروں یا Exoplanets کے بھی چاند ہیں؟ یہ جدید فلکیات کا ایک اہم سوال ہے۔ ہم سے کئی نوری سال دور موجود کسی چھوٹے سے سیارے گرد اُسکا چاند ڈھونڈنا ایک مشکل کام ہے۔ زمین پر پہلی کا چاند اتنی مشکل سے دکھتا ہے کہ مرغوں کی لڑائی سے بھی دلچسپ لڑائی ہوتی ہے اور یہاں تو بات کسی دورافتادہ سیارے کے گرد گھومتے چاند کی ہو رہی ہے۔ تو کیا طریقہ ہے جس سے ان سیاروں کے گرد چاند ڈھونڈا جائے؟

    اسکا ایک طریقہ موجود ہے اور وہ ہے سیاروں سے آتی مدہم سی روشنی میں معمولی سے بدلاؤ کو جانچنا۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین اور چاند ایک دوسرے کو اپنی طرف مسلسل کھینچتے ہیں۔ اس "رسہ کشی” سے چاند اور زمین اپنے اپنے مدار میں ہلکا سا ڈولتے ہیں جسے Wobbling کہتے ہیں۔ اس معمولی حرکت سے سیاروں سے آتی اس مدہم سی روشنی کو جانچ کر ہم بتا سکتے ہیں کہ سیارے کے مدار میں گھومنے کے دوران معمولی سا بدلاؤ آ رہا ہے۔ اگر ہم یہ بدلاؤ معلوم کر لیں تو ہم جان سکیں گے کہ سیارے کے گرد کوئی چاند گردش کر رہا ہے۔ ا

    کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس طریقے سے ہم کائنات میں بھٹکے سیاروں یعنی وہ سیارے جو کسی ستارے کے گرد نہیں بلکہ خلا میں آزادانہ گھوم رہے ہیں کے گرد چاند بھی زیادہ آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔

    تو سوال یہ کہ کیا اس طریقے سے ہم نے اب تک نظامِ شمسی سے باہر کے کسی سیارے کا چاند ڈھونڈا ؟

    اب تک کی معلومات کے مطابق دو ایسے اجسام ملے ہیں جو ممکنا طور پر نظامِ شمسی سے باہر کے کسی سیارے کے چاند ہو سکتے ہیں۔ ہمارے زمین سے 8 ہزار نوری سال دور مشتری جیسا ایک سیارہ Kepler 1625b جو اپنے ستارے کے گرد گھوم رہا یے۔ اس سیارے کے گرد نیپچون کے ماس کا ممکنہ چاند موجود ہیں۔ اسکو نام دیا گیا ہے Kepler 1625b-i.

    جبکہ دوسرا ممکنا چاند زمین سے تقریباً 5ہزار 6 سو نوری ساک کے فاصلے پر ایک اور مشتری جسیے سیارے Kepler-1708 کے گرد گھوم رہا ہے۔یہ بھی کم و بیش نیپچون جتنا ہے۔ اسے سائنسدانوں نے نام دیا ہے Kepler-1708 b-i۔ مگر ان دونوں متوقع چاندوں کے بارے میں فی الحال متفقہ رائے موجود نہیں کیونکہ مشاہدات کا ڈیٹا اتنا نہیں کہ اس پر حتمی رائے دی جا سکے۔ تاہم مستقبل میں اُمید کی جا سکتی کے کہ جیمز ویب اور دیگر ٹیلیسکوپس کی مدد سے ہم نظامِ شمسی سے باہر کے چاندوں کو دریافت کر سکیں۔

    ہو سکتا کے کسی دوسرے سیارے پر موجود کوئی اسلم آج بھی اپنی دردانہ کو نیپچون جتنا بڑا چاند کہتا ہو اور وہ ڈائٹنگ کرنے کی بجائے خوشی سے اور پھولتی ہو۔