Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ڈی پرنٹر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈی پرنٹر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انجنئیرنگ یونیورسٹی سے گریجویٹ کرنے کے بعدپوری ربع صدی آنی وسائل کے غیر ملکی اور ملکی مشاورتی اداروں میں کام کرتے گزری ہے۔ دنیا بھر میں مشاورتی اداروں ( سول انجنئیرنگ کنسلٹنٹس) کے بارے میں کافی باتیں مشہور ہیں تاہم ایک بات جس پر شروع دن سے دل کڑھتا تھا وہ ہے ”کاغذ “ کا بے دریغ استعمال۔

    مشاورتی اداروں کو اپنی رپورٹس اور ڈارئنگوں کی پرنٹنگ کے لئے بے انتہا کاغذ چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیزائن فائنل کرنے تک ایک ایک ڈیزائن شیٹ کم ازکم دس سے بارہ دفعہ مختلف انداز میں ڈار فٹ پرنٹ ہو کر چیک ہو چکی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار ایک دفعہ کا پرنٹ کیا ہوا سینکڑوں ہزاروں صفحات پر مشتمل رپورٹوں کا پوار سیٹ ڈیزائن کی ایک معمولی سی تبدیلی سے دوبارہ پرنٹ کرنا پڑتا ہے۔ کلائنٹ کے کمنٹس آجاتے ہیں، دوران تعمیر سائٹ کے مسائل آجاتے ہیں۔ الغرض ہر تبدیلی کا مطلب ہے نئی پرنٹنگ۔

    یہ سب کچھ اتنا تکلیف دہ نہ ہوتا اگر آپ کو کاغذ کے ایک صفحے کے پیچھے ہونے والی قدرتی تباہی کا اگر پتہ نہ ہوتا۔ کاغذ کا ایک رِم بنانے کے کئے پتہ نہیں کتنے درختوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اور پھر درخت سے کاغذ بننے کے عمل میں بے انتہا پانی بھی پراسسنگ اور کولنگ میں ضائع ہوجاتا ہے۔ پاکستان کے اندر موجود پیپر انڈسٹری تو عالمی معیار سے کم ازکم دس گنا زیادہ پانی ضائع کرتی ہے۔

    کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ پچھلی ربع صدی میں اکیلے میں نے جتنے کاغذ پرنٹنگ میں استعمال کردئے ہیں ، اس سے تو کئی جنگل اس دھرتی کے سینے سے کٹ گئے ہوں گے اور پانی کی کئی ندیاں بہہ گئی ہوں گی۔ اس عمل کی تباہی کو کچھ کم کرنے کے لئے ہم ہمیشہ ضائع شدہ پرنٹ والے کاغذ سنبھال کر رکھ لیتے اور رف / ڈرا فٹ پرنٹنگ ان کی دوسری صاف سائیڈ پر کر لیتے۔ اس طرح کم ازکم اس تباہی کا اثر آدھا تو کم ہو جاتا۔

    تاہم اب ایک کمپنی “ڈی پرنٹر “ میدان میں لائی ہے جو کہ عام استعمال ہونے والے لیزر پرنٹر کے اُلٹ کام کرتا ہے۔ اس کے اندر اگر آپ ایک پرنٹ شدہ صفحہ ڈالیں تو یہ اسے سلیٹ کی طرح صاف کرکے دوسری طرف نکال دیتا ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ ایک صفحے کو آپ دس بار تک ڈی پرنٹ کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی ماحول دوست ایجاد سمجھی جارہی ہے جو کہ اس سیارے سے درختوں کی کٹائی کا عمل سست کرنے، پانی کی بچت اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

  • کیا اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا؟  — ابو بکر قدوسی

    کیا اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا؟ — ابو بکر قدوسی

    یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوئی لوگوں کو کہ اسلام نے کوئی نظامِ حکومت ہی نہیں دیا ، ایسا ہرگز نہیں ہے ۔

    اسلام نے بس اتنا کیا ہے کہ انتخاب حاکم کی حد تک مختلف آپشنز کو کھلا رکھا ، لیکن اس حاکم کو بھی طریق حکومت میں ہرگز مادر پدر آزاد نہیں چھوڑا ۔

    اور حاکم کا اگر عوامی انتخاب کیا جائے گا تو اس میں بھی لوگوں کو پابند کیا اور نظائر سے واضح کیا کہ معیار کیا ہونا چاہیے ۔

    اور کوئی حاکم انتخاب کے بغیر بھی سریر آرائے سلطنت ہو جاتا ہے تو اسے پابند رکھا کہ وہ ان امور کا خیال رکھے گا ۔یہی وجہ تھی کہ اموی اور عباسی دور حکومت میں ہرگز خلیفہ یا بادشاہ کی زبان سے نکلے الفاظ کو قانون نہیں سمجھا جاتا تھا جیسا کہ بعد میں عثمانی دور میں اور ہمارے ہاں برصغیر کی بادشاہت میں نظر آتا ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ان ابتدائی ادوار میں خلیفہ کے کسی اقدام کو اگر کسی نے چیلنج کیا ، یا اس کے دربار میں روکا اور ٹوکا تو بنیاد قران و سنت کے احکام کو ہی بنایا ۔

    اسی طرح اگر جمہوریت میں حکمران کا انتخاب ہوتا ہے تو بھی عوام اور حکام اس انتخاب میں مکمل آزاد نہیں ہیں ۔ بطور مثال ایک ضابطہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک معزز بزرگ نے کسی علاقے کی امارت طلب کی تو آپ نے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ ہم طلب پر عہدے نہیں دیتے ۔۔۔۔یوں یہ اصول طے پا گیا کہ طلبگار کو عہدہ دینا خلاف ضابطہ ہے ۔ یہ صرف ایک مثال ہے وگرنہ نظام امارت و حکومت کا مکمل طریقہ اسلام کے ہاں موجود ہے ۔

    اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا ۔

    اسلام نے جزیات تک پر بحث کی ہے اور یہ تک طے کر دیا ہے کہ حاکم کا لباس کیسا ہو گا ، اسے عوام کے سامنے کیسے جانا ہے ، ملکی خزانے کے ساتھ اس کا رشتہ کیا ہو گا ، اور اس کی ذمے داری کہاں سے کہاں تک ہو گی ، عوام کے حقوق اس پر کیا ہوں گے اور مملکت پر کیا ۔

  • لاوڈ سپیکر اور سماعت کے مسائل — خطیب احمد

    لاوڈ سپیکر اور سماعت کے مسائل — خطیب احمد

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ہر 5 میں سے ایک فرد سماعت کے مسائل کا شکار ہے۔

    دنیا میں اس وقت 49 کروڑ سننے کے مسائل کا شکار ہیں۔ یہ تعداد 2050 تک 1.5 ارب ہونے کا خدشہ ہے۔

    یہ تعداد بڑھتی کیوں جا رہی ہے۔

    جب پھول کی ایک ننھی کلی چٹخ کھلتی ہے۔ یا کسی شاعر کی محبوبہ بغیر آواز پیدا کیے مسکراتی ہے تو 5 ڈیسی بل کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ کلی کا چٹخنا اور کسی لڑکی کی بغیر آواز کی مسکراہٹ بھی سنی ج سکتی ہے۔ یہ آواز دنیا میں 0.5 فیصد لوگ سن سکتے ہیں۔

    نارملی ہم 15 سے 20 ڈیسی بل کی ہلکی سے ہلکی آواز سن سکتے ہیں۔ ہماری نارمل گفتگو 50 سے 60 ڈیسی بل تک کی ہوتی ہے۔ 70 ڈیسی بل تک کی اونچی آواز سننا کان کے لیے محفوظ ہے۔ 70 ڈیسی بل کی آواز موبائل فون سے ہینڈز فری لگا کر 7 نمبر والیوم پر سنی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد موبائل وارننگ دیتا ہے کہ آگے جائیں گے تو آپکی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔

    90 ڈیسی بل پر آواز کے ساتھ تھرتھراہٹ شامل ہوجاتی ہے۔ 90 سے اوپر کی آواز جو فرد سن سکے اسے ڈیف کہتے ہیں۔ 100 ڈیسی بل کی آواز یعنی موبائل کا ہینڈز فری میں فل والیوم کرکے 30 منٹ تک سننے پر ہم اپنے کان کے اتنا نقصان پہنچا لیتے کہ جیسے آپکی ایک انگلی کا ایک پورا کاٹ دیا جائے۔

    راک سٹار میوزک میں آوازیں 120 ڈیسی بل تک جا رہی ہوتی ہیں۔ مگر اس آواز میں ساؤنڈ اور تھرتھراہٹ مکس ہوتی ہے۔ ووفر لگے ہوتے ہیں۔ ماہر ڈی جے آوازوں کی فریکوئنسی ہر لمحے بڑھا گھٹا رہا ہوتا ہے۔ کہ کان کا پردہ نہ پھٹ جائے۔ صرف 20 منٹ تک 120 ڈیسی بل کی آواز کان میں ڈالی جائے تو کان کا پردہ ہی نہیں دماغ کو آواز کے سگنل دینے والی نسیں بھی پھٹ جائیں۔

    اب ہو کیا رہا ہے؟ مساجد امام بارگاہوں کے اندر لگے ریگولر اسپیکرز اور دیگر مذہبی رسومات جیسے مجلس محفل جلسے میں یا شادی پر مہندی وغیرہ کی رسم پر ہم جو ساؤنڈ سسٹم استعمال کرتے ہیں۔ آپکو پتا ہے اسکی فریکوئنسی کتنی ہوتی ہے؟ کم سے کم 100 ڈیسی بل سے اوپر جو آواز مسلسل ہمارے کان ڈیمج کر رہی ہوتی۔

    میں اس رمضان میں تراویح پڑھ رہا تھا۔ اسپیکر کی آواز 100 سے110 ڈیسی بل کی تھی۔ دوسری تروایح میں مجھے نماز توڑ کر سپیکر بند کرنا پڑا نہیں تو میرے کان کا پردہ پھٹ جاتا۔ لوگ اتنی اونچی آواز سے اوزار ہوتے ہیں مگر مذہبی آداب کی وجہ سے چپ بیٹھے رہتے۔ اور اوپر سے کئی مولوی صاحبان گلا پھاڑ پھاڑ کر آواز کی فریکوئنسی کو مزید بڑھا رہے ہوتے ہیں۔

    میں نے اپنے امام صاحب کو گائیڈ کیا کہ آواز کم رکھیں کیوں سارے نمازیوں کو بہرہ کرنا ہے۔

    مسجدوں کی چھتوں پر لگے یونٹ بھی بہت خطرناک ہیں۔ انکی جگہ آواز کی تھرو کی رینج بڑھانے والے سپیکرز انسٹال کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ اسپیکروں کی فریکوئنسی 120 سے 140 تک ہوتی ہے۔ مسجد کے قریب گھروں میں لوگوں کی سماعت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ابھی آپ میں سے کئی مجھ پر فتویٰ لگانے آجائیں گے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے۔ اذان اور قرآن روح کو سکون تب دے سکتے ہیں جب انکی آواز متوازن ہو اور 70 سے 80 ڈیسی بل تک ہی ہو۔

    محفل نعت، میلاد النبی کی محافل، مجالس عزا، جلسے، مہندی کے فنکشن میں خدارا اسپیکروں کی آواز کم رکھیں۔ ہینڈز فری کا والیوم کبھی بھی 7 سے اوپر نہ کریں۔ مساجد کی چھتوں پر لگے یونٹوں کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کریں۔ نماز اور جمعہ کی تقریر کے لیے مساجد میں استعمال ہونے والے ریگولر اسپیکرز کی آواز اگر کانوں کو سکون دینے کی بجائے بیزار کرتی ہے۔ تو قاری صاحب کو سمجھائیں کہ بلند آواز زیادہ اثر نہیں کرتی۔ اپنا مطالعہ وسیع کریں بات دلیل و منطق سے کریں دل بدل دے گی۔

    ہمارے کانوں کے ساتھ جو ظلم مذہبی اجتماعات میں ہوتا نجی محفلوں میں ہوتا۔
    مغرب میں یہ سب وہاں لوگوں کے ساتھ بار اور میوزیکل نائٹس میں ہوتا ہے۔

    وقتی تھرل Thrill کانوں کا بیڑہ غرق کر رہی ہے۔ یہاں بھی وہاں بھی۔

    ہمیں مساجد اور بڑے اجتماعات میں ڈیسی بل میٹرز لگانے کی ضرورت ہے کہ جس سے معلوم ہو سکے آواز محفوظ کی حد سے بڑھ تو نہیں رہی۔

    ہینڈز فری کا استعمال خدا را کم سے کم کریں۔ اپنی سماعت کو بچائیں۔ کوئی بھی آلہ سماعت قدرتی سننے کی صلاحیت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

  • اندر کا خاموش معمار — ریاض علی خٹک

    اندر کا خاموش معمار — ریاض علی خٹک

    اُردن کے تاریخی شہر جرش کی تاریخ بہت قدیم ہے. عیسی علیہ السلام سے چار صدی پہلے سکندرِ اعظم کے دور میں یہ شہر آباد ہوا. لیکن اسے عروج رومن دور میں ملا. آج یہ رومن دور کے آثارِ قدیمہ سے بھرا ایک مشہور سیاحت کا مقام ہے. اسکا تھیٹر ہو یا قدیم معبد آج بھی اپنی شان و شوکت سے دیکھنے والوں کو متاثر کرتے ہیں.

    دیکھنے والے جب رومن دور کے کھڑے وہ لمبے ستون دیکھتے ہیں جسے تراشے پتھروں سے کھڑا کیا گیا ہے یا تھیٹر کی سنگلاخ سیڑھیوں پر بیٹھ کر میدان میں دیکھتے ہیں تو ان نامعلوم معماروں کے فن کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس قدیم دور میں وہ تعمیر کھڑی کی جسے صدیوں کی مسافت بھی مکمل ڈھیر نہ کر سکی.

    ہم انسانوں کی یہ عادت ہے ہم متاثر دیکھ کر ہوتے ہیں. آپ کوئی گاڑی خریدنے جائیں تب بھی پہلے اس کی باڈی رنگ اور ڈیزائن دیکھیں گے. یہاں اگر آپ متاثر ہوئے تب انجن اور فیچرز سمجھنے کی کوشش شروع کریں گے. ہم دوسرے انسانوں کو بھی پہلے شکل لباس اور نشست و برخاست پر تولتے ہیں. اگر متاثر ہوئے تب ہی اس کے شعور اس کی شخصیت پر جاتے ہیں.

    رومنز کو یہ صدیوں پہلے پتہ تھا. اس لئے آج بھی بھلے ہم ان تاریخی مقامات کے معماروں کو نہیں جانتے لیکن ان کی پہچان زندہ ہے. جب کوئی اس انسانی وصف کے خلاف چلتا ہے تب اسے بہت مایوسی ہوتی ہے. لوگ تھیٹر کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ غریب نیچے میدان میں تماشا بن جاتے ہیں.

    لوگ آپ کا پہناوا سلیقہ اور تہذیب دیکھ رہے ہوتے ہیں. آپ کے اندر کا خاموش معمار اگر چاہتا ہے کہ لوگ اس سے متاثر ہوں تو اسے اس پر وقت محنت اور سرمایہ خرچ کرنا ہوگا. ہاں البتہ اگر کسی کو متاثر کرنے کی خواہش ہی نہیں تب آپ آزاد ہیں. دیو جانس قلبی کی طرح سکندرِ اعظم بھی آپ کے سامنے کھڑا ہو کر پوچھے کیا چاہتے ہو. آپ اسے بول سکتے ہیں سامنے سے ہٹو دھوپ آنے دو. مجھے کچھ دھوپ چاہئے.

  • ہوائی جہاز کے سفر کے دوران میرے زریں خیالات — شہنیلہ بیلگم والا

    ہوائی جہاز کے سفر کے دوران میرے زریں خیالات — شہنیلہ بیلگم والا

    چیک ان کاؤنٹر پہ جاتے وقت؛

    اللہ کرے لگیج کا وزن زیادہ نہ ہو. اللہ کرے چیک ان کاؤنٹر پہ کوئی انسان کا بچہ بیٹھا ہو. تین چار کلو زیادہ بھی ہو تو جانے دے.

    چیک ان کے بعد؛

    دیکھ لوں پاسپورٹ اور بورڈنگ پاسز بیگ میں رکھ تو لیے ہیں. یہ نہیں کہ بوکھلاہٹ میں وہیں چھوڑ آئی ہوں. اف لگیج ایکسس نہ ہو جائے اس چکر میں ہینڈ بیگ اتنا زیادہ بھر لیا ہے کہ کندھے شل ہو رہے ہیں.

    کس قدر ظلم ہیں ائیر پورٹ والے. فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس والوں کو کتنا زیادہ سامان لے جانے دیتے ہیں. لیکن سامان ہم اکانومی والوں کے پاس زیادہ ہوتا ہے. یہ تو چھوٹے چھوٹے دو بیگز لے کر چل پڑتے ہیں. کیا ان کو تحفے تحائف دینے نہیں پڑتے؟

    یہ بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس والوں کو اتنا ایٹیٹیوڈ کس بات کا ہوتا ہے. پہنچنا تو سب نے ایک ہی جگہ ہے اور ایک ہی وقت پہ. اونہہ خوامخواہ کے ششکے.

    اپنی اکانومی کلاس کی تنگ میلی سی سیٹوں پہ پہنچنے سے پہلے فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے rows سے گزرتے ہوئے؛

    ہائے کیا آرام دہ سیٹس ہیں. ریکلائنر ہیں ساری. آرام سے پاؤں پسار کے سو سکتے ہیں. کیسے نرم ملائم گداز سے کمبل ہیں. ابھی تو بیٹھے بھی نہیں ہیں اور فوراً فریش جوسز اور خشک میوہ جات لے کر آگے پیچھے پھر رہی ہے ائیر ہوسٹس. ہمیں تو پانی بھی دینے میں موت پڑتی ہے. ہمارے ساتھ تو سوتیلے والوں سلوک کیا جاتا ہے.

    اف کس قدر فقیر ائیر لائن ہے. کھانا بھی خریدنا پڑے گا. میں تو کوئی نہیں لے رہی پندرہ درہم کا سوکھا سینڈوچ اور دس درہم کی پیپسی.

    گھر پہ بھابھی نے سب کچھ میری پسند کا بنا رکھا ہوگا. گھر جا کر کھا لوں گی. بٹیا کو گھورتے ہوئے؛

    ہزار بار کہا کہ گھر سے کھا کر نکلو. اب کراچی پہنچ کر کھانا.

    یہ ائیر ہوسٹس کیا بتا رہی؟

    اوہ ایمرجنسی میں ایگزٹ کے طریقے. پورے جہاز میں اس پہ کوئی توجہ نہیں دے رہا. اس سے زیادہ غور سے تو لوگ بس میں منجن اور جوئے مار دوا بیچنے والوں کی بات سن لیتے ہیں.

    ائیر پورٹ پہ پہنچنے کے بعد؛

    ائیر ہوسٹس نے کیا بتایا تھا، کس بیلٹ پہ سامان آئے گا. میں کبھی اس بیچاری کی نہیں سنتی.

    پاس سے گزرنے والے قلی سے؛

    بھیا دبئی والی فلائیٹ کا لیگیج کس بیلٹ پہ ہے؟

    لیگیج بیلٹ پہ؛

    اف لوگ کتنا سامان لے کر آئے ہیں. اس فیملی کے اب تک سات پیس آچکے ہیں. ان کا بس چلتا تو پورے گھر کو پہیے لگا کر ساتھ ہی لے آتے.

    میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے. ہمیشہ میرا سامان آخر میں کیوں آتا ہے. میرے دو سوٹ کیس نہیں آئیں گے. لوگوں کے سات سات پیسز لگاتار آ جائیں گے.

    سامان ملنے کے بعد؛

    اف ٹرالی کتنی تھکی ہوئی ہے. پہییے زنگ آلود ہیں. مجھے ہی ہمیشہ گھٹیا ٹرالی ملتی ہے. میری زندگی میں یہ باریک باریک دکھ کتنے ہیں نا

    اللہ کرے کسٹم آفیسر مجھے گرین چینل سے گزرنے دے. ایسا کچھ ہے تو نہیں میرے پاس لیکن میں نے جلدی جلدی میں پیکنگ اچھی نہیں کی ہے. سب کے سامنے بیگز کھلیں تو لوگ سوچیں گے کہ سلیقے سے پیکنگ بھی نہیں کی. ( جیسے ائیر پورٹ کی افراتفری میں کسی کو کسی کا ہوش ہوتا ہے)

    الحمدللہ مجھے گرین چینل سے گزرنے دیا. مجھے ہمیشہ گرین چینل سے گزرنے دیتے ہیں. کون کہتا ہے کہ پاکستانی کسٹم والے برے ہیں. مجھے تو آج تک نہیں روکا الحمدللہ.

    ( پانچ سیکنڈز کے بعد ہی میں اپنے باریک باریک دکھ والے شکوے سے مکر چکی تھی)

    ائیر پورٹ پہ گھر والوں کو دیکھتے ہوئے؛

    میرے سب سے چھوٹے گڈے کو نہیں لائے.
    لائے ہیں. سو گیا ہے. یہ لیجیے.

  • بے لوث سلسلہ — ریاض علی خٹک

    بے لوث سلسلہ — ریاض علی خٹک

    دوستو جس دن میں صبح جلدی آفس آتا ہوں ایک منظر بڑی پابندی سے دیکھتا ہوں. یہ کوئی سفید ریش بڑے میاں ہیں جو غالباً کسی فیکٹری میں چوکیدار ہیں. آوارہ کتوں کی ان سے محبت دیدنی ہوتی ہے. اس راستے پر سینکڑوں لوگ گزر رہے ہوتے ہیں نہ وہ ان آوارہ کتوں کو نوٹس کرتے ہیں نہ کتے ان کو درخور اعتنا سمجھتے ہیں.

    لیکن جیسے ہی یہ بزرگ چوکیدار ایک شاپر لئے فٹ پاتھ پر نمودار ہوتے ہیں آس پاس دور دور سے آوارہ کتے ان کی طرف ایسے لپکتے ہیں جیسے غریب بچوں کا باپ شام کوئی شاپر لے کر گھر میں داخل ہوتا ہے. بچے ہنسنا رونا جھگڑنا کھیلنا چھوڑ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں. یہ چوکیدار پھر ان کے سامنے کھانا ڈالتا ہے.

    مجھے یہ منظر اچھا لگتا ہے. مجھے کتوں سے سچی بات ہے بہت ڈر لگتا ہے. میں جب اس چوکیدار کو دیکھتا ہوں جس سے یہ آوارہ کتے لاڈ و نیاز کرتے ہیں تو ایک عجیب سا رشک اس پر آتا ہے. میں سوچتا ہوں ان سرد راتوں میں یہ آوارہ کتے اس صبح اور اس مہربان شخصیت کا کتنا انتظار کرتے ہوں گے.

    قدرت کو بھی یہ پسند آتا ہے. کیونکہ ایسے سلسلے پھر جاری رہتے ہیں. بے لوث انتظار جس میں ایک خاموش تشکر کے سوا کچھ نہ ہو کوئی بدلہ کوئی حساب نہ ہو ایسے حساب پھر قدرت اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے. کیا آپ نے بھی ایسا کوئی خاموش بے لوث سلسلہ قدرت کے ساتھ جوڑ رکھا ہے.؟ کیا آپ کا بھی کہیں خاموش انتظار ہو رہا ہوتا ہے.؟

  • بیٹیاں بیاہنے سے پہلے انکی رائے لازمی لیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    بیٹیاں بیاہنے سے پہلے انکی رائے لازمی لیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    انیلہ کے کئی رشتے آئے لیکن والدین کو خالد ہی پسند آیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ خالد پاکستان سے باہر کسی عرب ملک میں کام کرتا تھا اور ہر ماہ ایک اچھی رقم پاکستان اپنی فیملی کو بھیجتا تھا۔اس رشتے کو ہاں کرنے سے پہلے انیلہ سے کسی نے رائے طلب ہی نہیں کی۔

    شادی کے بعد سب خوش تھے سوائے انیلہ کے۔ اس کا شوہر خالد شادی کے دوہفتے بعد ہی واپس چلا گیا تھا اور اس کی واپسی ایک سال کے بھی بعد ہوئی تھی۔ اب بھی چند دنوں کے بعد اسے واپس جانا تھا۔ انیلہ اسے فون پر تو اکثر کہتی ہی تھی لیکن اب کی بار اس کے آنے پر اس کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھاکہ یا مجھے بھی ساتھ لے جاؤ یا پھر تم بھی پاکستان آجاؤ۔

    خالد کی ماں، باپ، بھائی، بہن وغیرہ میں سے سب کو خالد کے پیسے سے غرض تھی، کسی کو بھی اس کے پاکستان سے باہر ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن انیلہ کو جسمانی طور پر بھی خالد کی ضرورت تھی۔ شادی سے پہلے تو جیسے تیسے زندگی گزر رہی ہوتی ہے لیکن شادی کے بعد مجرد زندگی گزارنا بہت ہی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

    یہ بات اس کے والدین نے بھی نہیں سوچی تھی کہ شادی پیسے سے نہیں انسان سے ہوتی ہے۔ اگر صرف کھانا پینا پہننا وغیرہ ہی چاہیے تو یہ ضروریات تو والدین کے گھر میں بھی پوری ہو رہی تھیں۔ شادی کے جو مقاصد ہوتے ہیں ان میں سب سے پہلے جسمانی (جنسی) ضروریات کو جائز طریقے سے پورا کرنا اور نسل ِانسانی کی بقا ہے۔

    اس شادی کے بعد اس کو پیسہ تو مل رہا تھا لیکن جسمانی ضروریات کو جائز طریقے سے پورا کرنا ممکن نہیں تھا۔ شادی کے بعد جب میاں بیوی کے درمیان یہ جسمانی تعلق ہو جائے تو پھر خود کو لمبے عرصے تک اس سے دور رکھنا بہت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک دوسرے سے لمبی جدائی ہو تو دونوں کا خود کو گناہ سے محفوظ رکھ پانا ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔

    یہی بات انیلہ اپنے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کا موقف یہی تھا کہ پیسے کم ہو جائیں کوئی مسئلہ نہیں لیکن ہم ساتھ تو ہوں۔ پاکستان میں کوئی چھوٹا موٹا کام ہی کر لو لیکن ہم ساتھ تو ہوں۔ آخری بات اس نے یہ کہ جتنے پیسے ہر ماہ پاکستان بھیجتے ہو، وہ آدھے کر دو اور آدھے اپنے پاس بچاتے رہو اور اگلے سال جب واپس آؤ تو ان پیسوں سے یہاں کام کا آغاز کر لینا۔

    انیلہ کی یہ بات جب خالد کے گھروالوں کو معلوم ہوئی تو گویا گھر میں بھونچال آگیا۔ ان سب کو یہی تھا کہ خالد واپس آگیا تو ان سب کی عیاشیاں ختم ہو جائیں گی۔ خالد جب پاکستان سے گیا تو انیلہ کے ساتھ سب گھروالوں کا رویہ بہت زیادہ برا ہو گیا۔ اس نے اس سب کے بارے خالد سے فون پر بات کی۔ خالد اور اس کے گھروالوں نے یہ شرط رکھ دی کہ اگر انیلہ کے گھر والے خالد کو یہاں کوئی بزنس سیٹ کر کے دے دیں تو وہ واپس پاکستان آجائے گا۔ یہ مطالبہ ماننا انیلہ کے گھر والوں کے بس سے باہر تھا۔

    اگلے دو سال بھی انیلہ نے اسی طرح گزارے۔ شادی کے ان تین سالوں میں ایک بیٹی کی پیدائش بھی ہوئی۔ تیسرے سال جب خالد واپس جانے لگا اور انیلہ کی بات نہیں مانی تو وہ ناراض ہو کر میکے آگئی۔ خالد یا اس کے گھروالوں نے منانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ چھ ماہ کے بعد انیلہ نے خلع لے لی کہ جو ایک خواہ مخواہ کی آس ہے وہ بھی ٹوٹ ہی جائے کہ کہیں اور بھی رشتہ جڑنے کا کوئی چانس ہو سکے۔

    لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ اسے شاید معلوم نہیں تھا کہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ بچوں والی عورت سے کوئی بھی شادی نہیں کرتا چاہے مرد خود بھی بچوں والا کیوں نہ ہو۔ جس اذیت سے بچنے کے لیے اس نے خلع لی تھی وہ اذیت اس کا شاید زندگی بھر کا مقدر تھی۔ ہر مرد چاہے وہ کنوارا ہو، شادی شدہ یا رنڈوہ۔۔۔ وہ انیلہ سے حرام تعلق تو قائم کرنے کے لیے تیار تھا لیکن کوئی بھی اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا۔ انیلہ بس یہی سوچتی ہے کہ

    زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

    والدین سے یہی کہوں گا کہ بیٹیوں کی شادی کرتے وقت یہ لازمی یاد رکھیں کہ خوشیاں صرف پیسوں سے نہیں، میاں بیوی کے ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے ملتی ہیں۔ صرف پیسہ ہی سب کچھ ہے تو وہ سب کچھ آپ کے پاس بھی مل رہا ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ اس رشتے کو اہمیت دیں جس میں میاں بیوی ساتھ رہیں اور الگ گھر بسائیں۔ پیسہ ضرورت تو ہے لیکن اتنا نہیں کہ اس کی وجہ سے میاں بیوی کا رشتہ سال میں دو چار ہفتوں کا رشتہ ہی رہ جائے۔

  • نظامِ شمسی کا کچرا!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    نظامِ شمسی کا کچرا!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    نظامِ شمسی آج سے 4.6 ارب سال پہلے اپنے انجام کو پہنچے ایک ستارے کے نیبولہ سے تشکیل پایا۔ یہ نیبولہ دراصل گیسوں اور خلائی گرد کا مجموعہ تھا جو وقت کیساتھ ساتھ گریویٹی کے زیرِ اثر جمع ہوتا گیا۔ ان میں سے ہائیڈروجن اور ہیلیئم کی گیسیوں سے سورج اور نظامِ شمسی کے بڑے سیارے جیسے کہ مشتری، زحل، وغیرہ بنے جبکہ خلائی گرد سے زمین اور دیگر چٹانی سیارے جیسے کہ مریخ، زیرہ، عطارد وغیرہ۔

    مگر کچھ خلائی گرد اور گیسیں کوئی باقاعدہ سیارہ نہ بن سکے۔ یہ سیارچوں، خلائی چٹانوں، شہابیوں کی صورت پورے نظامِ شمسی میں اب بھی موجود ہیں۔ یہ نظامِ شمسی میں کم و بیش ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ ان میں کئی آج بھی زمین پر شہابِ ثاقب کی صورت گرتے ہیں اور ماضی میں بھی زمین اور دیگر سیاروں پر گرتے رہے ہیں۔

    ان سیارچوں، شہابیوں اور خلائی چٹانوں کی سب سے زیادہ تعداد مریخ اور مشتری کے درمیان کے علاقے میں ہے۔ اس علاقے کو فلکیات کی دنیا میں "مین ایسٹرآیڈ بیلٹ” کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں موجود بونے سیارے، سیارچے، شہابیے، چٹانیں مختلف سائز اور ساخت کی ہیں۔ انکا قطر چند سینٹی میٹرز سے لیکر کئی سو کلومیٹر تک ہے۔ اس علاقے کی چوڑائی زمین اور سورج کے مابین فاصلے سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔ مگر ان تمام کا کل ماس محض زمین کے چاند جتنا ہے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ یہ ماضی میں کسی اور سیارے کی باقیات نہیں بلکہ نظامِ شمسی میں رہ جانے والا کچرا ہے۔

    ان سیارچوں اور شہابیوں میں نظامِ شمسی اور زمین کی تاریخ چُھپی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ فلکیات اور سائنسدان شہابیوں اور سیارچوں میں بے حد دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ شہابیے جو زمین پر گرتے ہیں اُنکا خصوصی تجزیہ کیا جاتا ہے کہ ان میں ہمارے وجود کی، ہمارے آغاز کی کہانی موجود ہو سکتی ہے۔

    2007 میں ناسا نے اسی علاقے کے سب سے بڑے سیارچے ویسٹا پر ایک مشن بھیجا جو اربوں کلومیٹر کی مسافت طے کر کے 2011 میں اسکے مدار میں پہنچا۔ جسکے بعد 2015 میں یہ اسی علاقے میں سب سے بڑے سیارچے یا بونے سیارے سیریس تک پہنچا۔ اس مشن سے ہمیں معلوم ہوا کہ ان سیارچوں اور بونے سیاروں کی تہہوں میں پانی ہو سکتا ہے۔ سیریس پر نامیاتی اجزا بھی ملے جو زمین پر زندگی کے وجود کی بنیاد ہیں۔ اس مشن سے ہمیں معلوم ہوا کہ ان سیارچوں پر نظامِ شمسی کی تاریخ کے کئی راز چھپے ہیں۔ سیریس اب تک جیولاجیکلی ایکٹو ہے اور اسکی تہوں میں پانی مائع حالت میں ہو سکتا ہے۔ سیریس پر ایمنیویا ملنے سے یہ شبہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شاید نظامِ شمسی کے باہری علاقے میں وجود میں آیا اور بعد اندرونی ایسٹرآیڈ بیلٹ میں شامل ہوا مگر اس پر مزید تحقیق جاری ہے۔

  • سوچوں کی فریکوئنسی!!! — خطیب احمد

    سوچوں کی فریکوئنسی!!! — خطیب احمد

    کوئی چار سال پرانی بات ہے۔ مجھے ایک لڑکی اچھی لگی اور بائیک سے گاڑی پر شفٹ ہونے کا خیال بھی آیا۔ کہ "وہ” بائیک پر بیٹھی اچھی نہیں لگے گی۔ اور اس پر مٹی بھی پڑے گی۔ میں ان دنوں بڑے لمبے لمبے وٹس ایپ سٹیٹس لکھا کرتا تھا۔ میرے قریبی دوست جانتے ہیں۔ جیسے اب فیس بک پر لکھتا ہوں ایسے ہی وٹس ایپ پر لکھتا تھا۔ بڑی آڈئینس کے سامنے اپنے وچار رکھنے کی ہمت نہ تھی۔ اور لکھنے میں تب یہ روانی بھی تو نہ تھی۔ انہی دنوں میں یہ کتاب دی سیکرٹ پڑھی۔ اور آنٹی بائرن کی اسکے بعد آنے والی تینوں کتب میجک، پاور، ہیرو بھی پڑھیں۔

    ان سب کتب کا مدعا یہ تھا کہ ہم جو بھی سوچتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ اپنی سوچوں کی فریکوئنسی سے ہم کائنات کو پیغام دیتے ہیں۔ اور جو ہم سوچتے ہیں وہ بس ہوجاتا ہے۔ اس بات میں نے سچ مان لیا۔ اور نہ صرف خود کچھ گولز سیٹ کیے بلکہ اپنے دوستوں کو بھی ترغیب دی کہ ہم خود ہی اپنی ایک لمٹ طے کر لیتے ہیں۔ اور اس سے باہر نہیں سوچتے۔ صرف سوچنا ہی تو کافی نہیں ہوتا۔

    اسکے بعد سامنے آنے والے مواقع و امکانات کو اویل بھی کرنا ہوتا ہے۔ مجھے تنخواہ کے حساب سے دو یوٹیوب چینلز نے آزاد کرایا جنکو میں سکرپٹ لکھ کر دیتا تھا۔ اور آمدن کا 30 فیصد مجھے ملتا تھا۔ پھر سپیشل بچوں کے والدین کو دی جانی والی کنسلٹنسی ایک اور آمدن کا حصہ بنی۔ اوپن یونیورسٹی کی ٹیوٹرشپ اور آن لائن لیکچرز سالانہ آمدن میں 2 سے 3 لاکھ اضافے کی وجہ بنے۔ اور کچھ نہ کچھ ایسا ہی ساتھ چلتا رہا۔

    میری یہ سوچ تھی کہ سرکاری جاب کو چلاؤں یا چھوڑ دوں میری آمدن ایک ہزار ڈالر سے کم نہ ہو بس۔ یورپ جانے کا خیال آیا پھر سوچا وہاں گاڑیوں میں پٹرول بھرنے یا کسی سٹور پر کام کرنے یا ٹرک چلانے سے تو رہا۔ جس فیلڈ کو زندگی کے قیمتی ترین 10 سال دے چکا اب وہی جینا مرنا ہے۔ اور اس 1 ہزار ڈالر والے گول کو میں نے 2021 کے آخر میں ہی حاصل کر لیا تھا۔ ہمیں بس اپنے کمفرٹ زون سے نکلنا ہوتا اور کچھ قربانیاں دینی ہوتی ہیں۔ چند سال راتوں کو کسی مقصد کی لگن میں جاگنا ہوتا ہے۔ اور اس سب کی قیمت ضرور ملتی ہے۔ ٹائم لگتا ہے مگر محنت کا پھل ملتا ضرور ہے۔ میری جاب بھی کوئی عام ملازمت تو ہے نہیں بلکہ میرا عشق ہے۔ جو بڑھتا ہی چلا گیا۔ کچھ بھی کروں وزیر اعظم پاکستان ہی کیوں نہ بن جاؤں ان سپیشل بچوں کے ساتھ براہ راست کام کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔

    پہلی لائن میں مذکورہ لڑکی کی شادی جلد ہی ہوگئی تھی۔ آس پاس ٹھنڈی اے سی والی ہوائیں بس چند دن ہی چل سکیں تھیں۔ اور میں تو اسے پرپوز بھی نہ کر سکا تھا۔ جس گاڑی میں اسے بٹھانے کا سوچا تھا وہ اب کافی دیر بعد ملی ہے۔ ابھی کل ہی اسکا میسج آیا۔ گاڑی کی مبارک باد دی اور بتا رہی تھی کہ اسکی شادی شاید چل نہ سکے۔ وہ رشتہ بچانے کی ناکام کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ اسکا خاوند اولاد نہ ہونے کی وجہ فیملی پریشر میں ہے اور دوسری شادی کا سوچ رہا ہے۔ جہاں وہ شادی کرنا چاہتا انکی ڈیمانڈ ہے کہ پہلی کو طلاق دو پھر رشتہ دیں گے۔ اب اس سب میں جو ہونے جا رہا میرا تو کوئی قصور نہیں ۔ میں تو اسے پرپوز تک نہیں کر سکا تھا۔

    آنٹی بائرن کو ای میل کر دی ہے کہ بتائیں اب کیا کروں۔ گاڑی جو سوچی تھی چار سال بعد مل گئی۔ آپکا شکریہ کہ یہ خوشحالی کی طرف جانے کی سوچ اور راستہ آپ نے ہی دکھایا تھا۔ سالوں پہلے چھوڑی گئی فریکوئنسی یہاں کام خراب کر رہی ہے۔ ان لہروں کو واپس لانے کا کوئی طریقہ بتائیں کہ میری تو اب شادی ہو چکی ہے.

  • کائنات میں ہمارے پڑوسی!!!  — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کائنات میں ہمارے پڑوسی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین کے کئی پڑوسی ہیں۔ زمین کا سب سے قریبی پڑوسی ہے چاند۔ چاند میاں کے کیا کہنے۔ یہ اتنا خوبصورت ہے کہ شاعروں نے اسے محبوب کے حُسن کا استعارہ بنا رکھا ہے اور میٹرک کے نئے عاشق سے لیکر بزرگی میں پہنچے بابے سب اپنی معشوقاؤں کو چاند سے تمثیل دیتے ہیں۔ چاند زمین سے اوسطاً 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دور ہے۔ یہ فاصلہ کم زیادہ ہوتا رہتا ہے جسکی وجہ چاند کا زمین کے گرد مدار مکمل گول نہیں بلکہ بیضوی شکل کا ہے۔

    زمین کا سب سے قریبی پڑوسی سیارہ نظامِ شمسی کا دوسرا سیارہ زہرہ ہے۔ زہرہ کو زمین کی جڑواں بہن بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ اور بات کے گردشِ ایام اور شومئی قسمت کہ زہرہ کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گرین ہاؤس گیسیں اس قدر زیادہ ہیں کہ یہ نظامِ شمسی کا گرم ترین سیارہ ہے۔

    زمین کا سب سے قریبی پڑوسی ستارہ سورج یے۔ سورج زمین سے اوسطاً 15 کروڑ کلومیٹر ہے۔ مگر سورج تو ہمارے نظامِ شمسی میں ہے۔
    سو سورج کے بعد جو ستارہ زمین کے سب سے قریب ہے وہ ہے پروکسیما سینٹوری۔ یہ ہم سے تقریباً 4.25 نوری سال دور ہے۔ نوری سال وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔(946 کھرب کلومیٹر)۔

    الفا سینٹوری دراصل تین ستاروں کے ایک سسٹم کا ایک ستارہ ہے ۔ اس ستاروں کے سسٹم کو ایلفا سینٹوری کہتے ہیں جس میں پروکسیما سینٹوری کے علاوہ دو اور ستارے موجود ہیں جو اس سے بڑے ہیں اور یہ ایک دوسرے کے گرد گھوم رہے ہیں یعنی یہ بائنری سٹارز ہیں۔ ان دو اور ستاروں کے نام ہیں "ایلفا سینٹوری اے” اور "ایلفا سینٹوری بی” اور یہ ہم سے 4.43 نوری سال دور ہیں۔

    پروکسیما سینٹوری جو ہمارا قریبی پڑوسی ستارہ ہے یہ سورج کے مقابلے میں قدرے چھوٹا اور ٹھنڈا ستارہ ہے۔ اسکا ماس سورج سے تقریباً 12 گنا کم ہے اور اسکا سائز سورج سے 33 گنا کم ہے۔ اس پڑوسی ستارے کے گرد بھی ہمارے سورج کی طرح سیارے گھومتے ہیں۔ اب تک اسکے گرد تین سیارے دریافت ہوئے ہیں جن میں سے دو کی دریافت مصدقہ ہے تاہم تیسرا سیارے کی دریافت نئی تحقیق کے مطابق مشکوک ہے۔

    جو دو مصدقہ سیارے اسکے گرد گھوم رہے ہیں اُنکے نام ہیں "پروکسیما بی” اور "پروکسیما ڈی”۔ جبکہ تیسرا سیارہ "پروکسیما سی” کی دریافت پر اسی سال یعنی 2022 میں ایک نئی تحقیق میں سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔

    ان میں سے "پروکسیما بی” ستارے سے اتنا دور ہے کہ اگر اس پر پانی موجود ہے تو مائع حالت میں ہو سکتا ہے۔ جبکہ پروکسیما ڈی پر شاید پانی مائع حالت میں نوجود نہ ہو کہ یہ اس ستارے سے زیادہ قریب ہے۔

    ممکن ہے ان میں سے کسی سیارے پر زندگی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہو مگر یہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں شاید صدیاں لگ جائیں۔

    بقول اقبالِ لاہوری:

    باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
    کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر