Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • دوسری شادی میں حائل مسائل اور ان کا حل — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    دوسری شادی میں حائل مسائل اور ان کا حل — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    کل "بچے کی غلطی” سے "گاٹ میرییڈ” کا اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا کہ جس سے دوسری شادی کے بارے ایک بار پھر بحث چھڑ گئی۔ ہمارے ہاں مذہبی طبقہ دوسری شادی کے لیے موٹیویٹ ضرور کرتا ہے لیکن اس کے مسائل اور ان کے حل پر گفتگو بہت کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی طبقے میں ایک بڑے پیمانے پر دوسری شادی کی محض خواہش ہے، عمل نہیں ہے۔ عمل اسی وقت ممکن ہو سکے گا جبکہ اس کے مسائل کو متعین کر کے ان کے حل پر بحث ہو گی ورنہ تو لوگوں کو معلوم ہے کہ دین کا حکم کیا ہے، سنت کیا ہے، لیکن دین اس کے حکم یا سنت پر عمل کرنے سے علماء بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، یہ وہ گیپ ہے کہ جسے فِل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو لطیفے سنا کر یا جگتیں مار کر خوش ہو جاتے ہیں اور اپنی فرسڑیشن نکال لیتے ہیں۔ آپ لوگ بھی دوسری شادی کے مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے کمنٹس میں اپنے خیالات کا اظہار کریں کہ اس کے مسائل دینی سے زیادہ سماجی ہیں۔

    ایک صحت مند مرد کے لیے ایک بیوی ناکافی ہے، یہ بات بہت حد تک درست ہے۔ ایک بیوی کافی ہو سکتی ہے، یہ بات بھی درست ہے، لیکن وہ خود نہیں ہوتی یا ہونا چاہتی، اپنی حرکتوں اور رویوں کے سبب، کیونکہ اس نے اپنے خاوند کو ناں کرنی ہی ہوتی ہے، کبھی اسے دبانے اور نیچے رکھنے کے لیے، اور کبھی کسی بات کا غصہ اتارنے اور بدلہ لینے کے لیے، اور کبھی اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کیوں ایسا کر رہی ہے، اور کبھی فطرت کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ ناں کرتی ہے جیسا کہ حالت حیض میں ہے، یا حمل ٹھہرا ہوا ہے، یا ساس نند کے کہے سنے کا غم منا رہی ہے، کبھی جوائنٹ فیملی سسٹم ہے، کبھی بچے چھوٹے ہیں تو ان کے جاگ جانے کا اندیشہ ہے، کبھی بچے بڑے ہیں تو ان کے ٹپکنے کا خطرہ ہے، لہذا موقع ہی نہیں مل رہا، اور موقع مل جائے تو بیوی کا موڈ نہیں بن رہا، لہذا پاکستانی بیوی تو مرد کو سال میں دو تین مرتبہ ہی بمشکل ملتی ہو گی، باقی تو وہ زیادہ تر کپڑوں سمیٹ ہی ضرورت پوری کرنے پر گزارا کر لیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے میں اس کا گزارا ہو جاتا ہے، مرد کا نہیں ہوتا۔ تو یہ مردوں کا چسکا نہیں ہے جیسا کہ بیویوں کا خیال ہوتا ہے بلکہ یہ ان کی ضرورت ہے۔

    پہلا مسئلہ جو عام طور لوگ بیان کرتے ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، وہ بیوی اور اس کے خاندان کی طرف سے سوشل پریشر ہے جبکہ بیوی کا خاندانی اسٹیٹس اچھا ہو۔ آپ کی پہلی بیوی مذہبی خاندان سے بھی ہو گی تو بھی آپ پر بہت زیادہ سوشل پریشر ہو گا کہ آپ دوسری شادی نہ کریں۔ اور یہ سوشل پریشر محض پریشر نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات آپ کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ اگر آپ نے دوسری شادی کر لی تو آپ کی زندگی اجیرن ہو جائے گی لہذا آپ ڈر جاتے ہیں کہ ایک مشکل یعنی سیکسچوئل فرسٹریشن سے نکل کر دوسری بڑی مشکل گھر کی تباہی کو گلے لگانا کون سی عقلمندی ہے؟

    میں تو اس مسئلے کا حل یہی بیان کرتا ہوں کہ مستقل طور نہیں البتہ کچھ عرصے کے لیے جیسا کہ دو چار سال کے لیے دوسری شادی کو چھپا لیں کہ ایک دو بچے پیدا ہو جائیں تو ظاہر کر دیں کہ اس کے بعد عورت میں قبولیت کسی قدر آ ہی جاتی ہے۔ لیکن اب اس حل سے ایک دوسرا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جب آپ شادی کو کچھ عرصہ چھپائیں گے تو لازما دوسری بیوی کے حقوق میں کوتاہی کریں گے تو آخرت خراب ہو گی۔ ایسے میں اگر آپ ایسی بیوی چاہتے ہیں جو اپنے کم حق پر راضی ہو جائے اور آپ کو اپنا حق معاف کر دے تو وہ ملے گی نہیں۔ خیر مل تو جائے گی لیکن آپ کے سوشل اسٹیٹس کی نہیں ملے گی اور شادی ناکام ہو جائے گی۔ میں نے ایسی دوسری شادیاں دیکھی ہیں کہ جن میں مردوں نے اپنے سوشل اسٹیٹس سے کافی نیچے کمپرومائز کر کے شادی کر لی لیکن ذہنی سطح ایک نہ ہونے کی وجہ سے شادی چل نہ سکی۔ اس مسئلے کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی مطلقہ یا خلع یافتہ خاتون دیکھیں، شاید وہاں آپ کو زیادہ کمپرومائز نہ کرنا پڑے اور اپنے سوشل اسٹیٹس کی مل جائے۔

    تیسرا اہم مسئلہ جو میرے نزدیک سب سے اہم ہے، گھر ہے۔ دوسری شادی کرنے سے پہلے آپ کے پاس دو گھر ہونے چاہییں، یہ ضروری ہے۔ دینی نہیں، سماجی ضرورت کی بات کر رہا ہوں۔ آپ معاشی طور مضبوط ہیں تو دوسری شادی کی صورت میں آپ کی پہلی بیوی کہیں نہیں جائے گی لیکن اگر آپ معاشی طور کمزور ہیں تو پہلی بیوی آپ کے پاس نہیں ٹکے گی لہذا دوسری شادی کا فائدہ نہیں ہو گا کہ رہے گی تو آپ کے پاس ایک ہی۔ اور یہاں اس تنخواہ میں ایک گھر بنانے میں زندگی لگ جاتی ہے چہ جائیکہ کہ انسان دو گھر بنا پائے۔ آپ کو پہلا بلکہ دوسرا رشتہ بھی اسی صورت بہتر ملے گا جبکہ آپ کے پاس اپنا گھر ہو گا۔

    اور فی الحال کی صورت حال یہ ہے کہ مڈل کلاس میں میاں بیوی دونوں کماتے ہیں، ایک گھر کا کرایہ دیتا ہے جیسا کہ بیوی ہے اور دوسرا گھر کا خرچ اٹھاتا ہے جیسا کہ شوہر ہے۔ اب جبکہ آپ کرائے کے مکان میں ہوں یا مکان کا کرایہ بھی آپ کا لائف پارٹنر دے رہا ہو اور اس طرح آپ زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہوں تو کس طرح دوسری شادی افورڈ کر سکتے ہیں؟ اس کا حل بعض لوگوں نے یہ نکالا کہ دوسری شادی بھی ایسی ہی خاتون سے کر لی جو ملازمت پیشہ تھی اور وہاں بھی یہی ماڈل چلا لیا کہ کچھ خرچ عورت نے اٹھایا اور کچھ مرد نے۔ لیکن اس سے ایک مسئلہ تو حل ہوا البتہ دوسرا بڑھ گیا۔ اور وہ یہ کہ بیوی جب گھر کا خرچ اٹھاتی ہے تو دباتی بھی ہے تو بیوی کا یہ دباؤ اب دو گنا ہو گیا۔ تو اگر آپ اتنا ذہنی دباؤ لے سکتے ہیں تو کر لیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ شادیاں دو نہیں، تین یا چار کریں۔ دو تو مرد کو فٹ بال بنائیں گی الا یہ کہ کسی میں خوف خدا غالب ہو۔

    اصل میں دوسری شادی نہ تو غریب طبقہ کر سکتا ہے کیونکہ ان کے مسائل تو کھانے پینے سے ہی نہیں نکلے۔ مڈل کلاس کے مسائل وہی ہیں جو اوپر بیان کیے ہیں کہ گھر نہیں ہے، یا ملازمت اور بزنس اسٹیبل نہیں ہے اور میاں بیوی مل کر گھر کا خرچ پورا کر رہے ہیں۔ البتہ ایلیٹ کلاس کے لوگ کر سکتے ہیں کہ جن کے ڈی ایچ اے، گلبرگ، بحریہ ٹاون اور ماڈل ٹاون وغیرہ میں دو دو کنال کی کوٹھیاں ہیں لیکن دین اور ایمان عموما ان کا مسئلہ ہے ہی نہیں لہذا انہیں ضرورت ہی نہیں۔ مطلب، وہ دوسری شادی کے بغیر دسیوں عورتوں سے اپنی خواہش پوری کر سکتے ہیں لہذا انہیں دوسری شادی بے وقوفی معلوم ہوتی ہے۔ پہلی بھی انہوں نے دنیا کو دکھانے کے لیے کر رکھی ہوتی ہے۔ ان میں اگر کوئی دیندار ہے تو اسے آسائش اور تن آسانی کی زندگی نے بزدل بنا رکھا ہے کہ جسے وہ حکمت اور فراست سمجھے بیٹھا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مسائل ہیں لیکن تحریر لمبی ہو جائے گی۔

    میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دوسری شادی مسئلے کا حل نہیں ہے، اوور آل بات کر رہا ہوں، مسئلے کا حل تیسری اور چوتھی شادی ہے۔ جس نے تیسری اور چوتھی کرنی ہے، وہ ہمت کرے۔ دوسری والا پریشان ہی رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب

  • سیاسی سوداگری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی سوداگری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی سوداگری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آ ج کل سیاست کے بازار میں سودا گری ہو رہی ہے ایک سوداگری کا ذکر جاتے جاتے سابقہ آرمی چیف جنرل باجوہ کر گئے صرف وزارت عظمیٰ کے لئے ایسی سوداگری کی کہ آدھا ملک گنوا بیٹھے۔ آج ایسی سوداگری تو نہیں کی جا سکتی تا ہم شہباز شریف اینڈ کمپنی جمع پی ڈی ایم کی سیاسی سوداگری نے عمران خان اور اُن کی جماعت تحریک انصاف کو مقبول ترین بنا دیا ہے ۔ جب سے پرجوش اور خوفزدہ وزرا نے طاقت کا استعمال شروع کیا ہے۔ عمران خان کی مقبولیت کا گراف بڑھتا جارہا ہے ۔ پرجوش وزرا کے لئے یہ خبر ہے کہ طاقت کا استعمال اب مشکل ہوگا۔ فوج نے صاف کہہ دیا ہے کہ اپنے مسئلے خود حل کریں فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ویسے بھی فوج خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میں کیسے دخل دے سکتی ہے ۔ فوج اپنے اصل کام میں مصروف ہے فوج ایک مقدس جنگ میں مصروف ہے۔ ملک وقوم کی حفاظت پر مامور فوجی جوان غازی اور شہید کا رتبہ حاصل کرنے میں رہتے ہیں۔

    ملک کے ممتاز صحافی ارشد شریف کے قتل پر از خود نوٹس سپریم کورٹ نے لے لیا ہے جب سے ارشد شریف قتل ہوئے راولپنڈی اسلام آباد کے صحافیوں سمیت سیاسی وسماجی اور وکلاء اس قتل کا نوٹس لینے کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔ پاکستان سے لے کر کینیا تک لہو کا سفر ارشد شریف نے کیسے طے کیا اس قتل میں کون شامل تھے؟ ارشد شریف کی افسوسناک مگرپراسرار موت نے صحافتی دنیا میں ایک بھونچال برپا کردیا ہے ۔

    تازہ ترین سیاسی صورت حال کے بارے میں مخبروں نے اطلاع دی ہے کہ پنجاب اسمبلی برقرار رہے گی اور کے پی کے میں مخبر سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں۔ اصل اقتدار کے مزے مخبروں کے ہی ہوتے ہیں ۔ صوبہ سندھ میں ایم کیو ایم اقتدار کے مزلے لے رہی ہے کے پی کے میں جمعیت علمائے اسلام کے گورنرہیں پنجاب جو سب سے بڑا صوبہ ہے ق لیگ اقتدار کے مزے میں رہتی ہے ۔ بڑی سیاسی جماعتیں دست وگریبان ہیں ۔ جمہور سیاسی تماشوں سے لطف اندوزہو رہے ہیں موجودہ سیاسی انتشار میں عوام کے بنیادی مسائل دب کررہ گئے پنجاب کے سرکاری کالجوں میں پروفیسرز کی کمی پنجاب کے سلطان کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ پنجاب کے سرکاری کالجوں میں غریب کے بچے اوربچیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔

  • حق سے محروم بہنیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    حق سے محروم بہنیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میرے ایک دوست نے اپنے سکول میں کچھ اساتذہ کو بھرتی کرنا تھا تو انٹرویوز والے دن مجھے بھی بلا لیا۔ صرف دو اساتذہ کو رکھنا تھا لیکن بہت سے لوگ انٹرویو دینے آئے ہوئے تھے۔ ایک ایک کر کےہم انھیں بلا رہے تھے۔ ساتویں آٹھویں نمبر پر ایک لڑکی حدیقہ انٹرویو دینے آئی تو ایسی علیک سلیک ہوئی جس سے مجھے لگا کہ یہ ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے ہیں اس لیے اس انٹرویو میں میں خاموش رہا۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ایک دوسرے کے کلاس فیلو رہ چکے تھے۔

    رسمی سلام دعا کے بعد دوست نے کہا کہ آپ کو اس جاب کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ اس تنخواہ میں تو آپ کا ایک سوٹ بھی نہیں آئے گا۔
    حدیقہ نے کہا کہ اب وہ یونیورسٹی والا دور نہیں رہا جب میں بڑی سی گاڑی میں آتی تھی۔ اب میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
    میرے دوست نے حالات کا مزید پوچھا کہ آپ کے والد کی تو بہت زیادہ زمینیں تھیں، بنگلے کوٹھیاں اور گاڑیاں۔۔۔ ان سب کا کیا ہوا کہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

    کہنے لگی، تب میرے والد صاحب زندہ تھے، وہ میرے سارے نخرے اٹھاتے تھے اور میرا خیال بھی رکھتے تھے۔ میری ہر خواہش بھی پوری کرتے تھے۔ ایم فل کے آخری سال میں تھی تو والد صاحب ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ والد صاحب کے بعد ساری دولت اور جائیداد دونوں بڑے بھائیوں کے پاس آگئی۔ مجھے بڑی مشکل سے آخری سمسٹر کے امتحانات دینے کی اجازت ملی۔

    پھر میری تعلیم مکمل ہونے کے بعد مجھے اپنے گھر میں تقریباً قید رکھا گیا۔ وہاں ہر سہولت میسر تھی لیکن نہ باہر نکل سکتی تھی نہ کسی سے بات چیت کی اجازت تھی۔ والدہ صاحبہ کو میری حالت پر ترس آتا تھا لیکن انھیں بھی یہ تھا کہ جائیداد صرف بیٹوں کو ہی ملنی چاہیے۔ کئی بار میرے بھائیوں نے مجھے والد صاحب کی وراثت سے محروم کرنے کے لیے کاغذات پر دستخط کروانے کی کوشش کی لیکن میں نے ہر بار انکار کیا۔ اس پر مجھے تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح کئی سال گزرے۔ میری عمر ڈھلنے لگی، والدہ صاحبہ بھی وفات پا گئیں تو میری ہمت بھی جواب دے گئی۔ مجھے اس گھر سے اب وحشت ہونے لگی تھی۔

    بالآخر میں نے ہار مان لی اور ساری وراثت سے دستربردار ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد ایک غریب رشتہ دار کےساتھ میری شادی کر کے مجھے اپنی آبائی حویلی سے بھی نکال دیا گیا۔ غریب شخص کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ میرے پاس کبھی اتنے پیسے نہ ہوں کہ میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ لڑ سکوں۔ لیکن میں نے اپنا مقدمہ اب یہاں کسی عدالت میں نہیں لڑنا ، نہ ہی مجھے میری زندگی میں انصاف مل سکتا ہے۔ ہاں ایک عدالت آخرت میں ہونی ہے، اس میں اللہ میاں سے یہ ضرور کہوں گی کہ جیسے ان دونوں نے مجھے میرے حق سے محروم رکھا ہے، انھیں بھی اپنی رحمت سے محروم رکھ۔

    حدیقہ خاموش ہوئی تو کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ شاید کسی میں کچھ کہنے سننے کی بھی ہمت نہیں رہی تھی۔ سب بس بمشکل آنسو ضبط کیے بیٹھے تھے۔

    چند لمحے بعد میرے دوست نے کہا کہ آپ کا ایک بھائی تو خاصا مذہبی تھا۔اور چھوٹا لبرل تھا جس سے اکثر یونیورسٹی میں اس موضوع پر بحث بھی ہوجاتی تھی۔

    حدیقہ نے میرے دوست کی بات پوری ہونے سے بھی پہلے کہا، جی میں نے بڑے بھائی کو اسلامی حوالے بھی دیے اور کہا تھا کہ آپ کے حج اور عمرے کا آپ کو کیا فائدہ جب آپ میرا حق دبا کے بیٹھے ہیں۔

    چھوٹے لبرل بھائی سے بھی کہا کہ آپ خواتین کے حقوق کے علمبردار ہیں لیکن اپنی بہن کو اس کا جائز حق دینے کے حق میں بھی نہیں۔ آپ کے لبرلزم میں تو میرا تیسرا حصہ بنتا ہے جبکہ آپ مجھے پانچواں حصہ بھی دینے کو تیار نہیں۔

    لیکن اس جائیداد والے معاملے میں مذہبی ہوں یا لبرل، سارے مرد ایک جیسے ہیں۔ خواتین کو جائیداد میں حصہ دیتے سب کو موت پڑتی ہے۔

    پتہ نہیں کتنی حدیقائیں اپنے ہی بھائیوں کی لالچ کی وجہ سے اپنے حق سے محروم ہوتی رہیں گی۔ کیا کوئی بھی شخص مال و دولت کو اپنے ساتھ قبر میں لے کر گیا ہے؟ پتہ نہیں لوگ یہ کیسے کر لیتے ہیں کہ جان چھڑکنے والی بہنوں کو بھی ان کے جائز حصے سے محروم کر کے خوش رہتے ہیں۔ایسے لوگ خود کو عذابِ قبر اور جہنم سے کیسے بچا پائیں گے؟

  • کالے چاولوں کی چمک — ابن فاضل

    کالے چاولوں کی چمک — ابن فاضل

    کالی گھٹاؤں، کالی زلفوں اور کالے گلاب سے تو سب آشنا ہیں. مگر آج ہم آپ کو متعارف کرواتے ہیں کالے چاولوں سے… جی ہاں کالے چاول. Black rice. قدیم زمانے سے اہل چین کے ہاں کالے چاولوں کی کاشت کی جاتی رہی. جانے کیسے چین کے شاہی خاندان کے لوگ ان کالے چاولوں کی غذائی خوبیوں سے واقف ہوئے کہ انہوں نے اس کی کاشت اور استعمال کو صرف شاہی خاندان تک محدود کردیا. اسی وجہ سے انہیں ممنوعہ چاول forbidden rice بھی کہا جاتا ہے.

    کچھ عرصہ قبل جب جدید سائنس نے مختلف اجناس کے غذائی اجزاء کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ کالے چاولوں میں اینٹی آکسیڈنٹس اور فائٹو کیمکلز کی مقدار بہت زیادہ ہے. بلکہ سب سے زیادہ کارآمد اینٹی آکسیڈنٹ اور نیوٹراسیوٹیکل کیمیائی مرکب اینتھوسائیانین کی سب سے زیادہ مقدار کالے چاولوں میں پائی جاتی ہے.

    اینتھوسائیانین بنیادی طور پر پھلوں میں پایا جانے والی گہرا جامنی رنگ ہوتا ہے جسے پھلوں سے سادہ کیمیائی عمل سے علیحدہ کیا جاتا ہے. یہ وہ مرکب ہے جس کا مستقل استعمال دائمی امراض کے خاتمے کے لئے بیحد مفید ہے. حتی کہ بہت سے اقسام کے کینسر کے خلیے بھی اینتھوسائیانین کے استعمال سے ختم ہوجاتے ہیں. اس وجہ سے پوری دنیا میں اینتھوسائیانین کی مانگ اور قیمت فروخت بہت زیادہ ہے.

    کالے چاولوں میں اس جامنی اینتھوسائیانین کی اس قدر زیادہ مقدار ہوتی ہے کہ وہ کالے نظر آتے ہیں. جب کہ پکنے کے بعد یہ گہرے جامنی ہی دکھائی دیتے ہیں. اس زبردست دریافت کے بعد دنیا بھر میں کالے چاولوں کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے. خطے میں چین کے بعد سب سے پہلے تھائی لینڈ میں اس کی کاشت شروع ہوئی. پھر فلپائن اور سال 2011 میں بھارت میں آسام میں ایک کسان نے اس کی کاشت کا کامیاب تجربہ کیا. اس وقت سے اب تک بھارت میں آسام، اڑیسہ اور ارد گرد کے علاقوں میں ہزاروں ایکڑ پر سالانہ کالے چاولوں کی کاشت کی جا رہی ہے.

    سال 2017 میں بھارتی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں اس کی کاشت کا میابی سے کی گئی. یہاں اس کی فی ایکڑ پیداوار تیس سے پینتیس من حاصل کی گئی. عام چاول کی نسبت کالے چاول کی قیمت فروخت بہت زیادہ ہے. بھارت میں اس کی تھوک میں فروخت ساڑھے تین سو روپے بھارتی فی کلوگرام ہوتی ہے. یعنی پاکستانی آٹھ سو روپے فی کلو. اور اگر یہ کھاد اور کرم کش ادویات کے بغیر یعنی آرگینک طریقے سے اگایا گیا ہوتو اس کی قیمت فروخت پانچ سو روپے بھارتی یعنی ساڑھے گیارہ سو روپے پاکستانی فی کلوگرام ہوتی ہے.

    آسان الفاظ میں اگر عام طریقہ سے بھی اگایا جائے تو فی ایکڑ دس لاکھ روپے کی فصل حاصل کی جاسکتی ہے. پاکستان میں خاص طور پر پنجاب میں جہاں کچھ علاقے چاول کی کاشت کے انتہائی موزوں ہیں عین ممکن ہے کہ اس کی فی ایکڑ پیداوار اور معیار اور بھی شاندارہو. جس کی قیمت عالمی منڈی میں اور بھی زیادہ ہو. ہم نہ صرف کالے چاول براہ راست فروخت کرسکتے ہیں بلکہ اس میں امسے اینتھوسائیانین ایکسٹریکٹ کرکے بھی مہنگے داموں بیچ کر بہت سا زرمبادلہ کما سکتے ہیں.

    بات پھر وہی ذرا سا غوروخوض کی عادت ہو، تھوڑا ترقی کا شوق اور آرزو ہو تو خوشحالی کے سینکڑوں راستے اور ہزاروں منزلیں ہماری منتظر ہیں.

  • اصلی شہد اور نقلی شہد!!! — شہزاد حسین

    اصلی شہد اور نقلی شہد!!! — شہزاد حسین

    میں پچھلے کئی سالوں سے فیس بک پر ہی شہد کی خریداری کررہا ہوں۔ گزشتہ کئی سالوں کے تجربے کے اور بے شمار شہد فروشوں کے شہد کو ٹیسٹ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ فارمی شہد، فارمی ہوتا ہے، چاہے دنیا کے سب سے بہترین برانڈ کا ہی کیوں نہ ہو.

    میری کوشش رہتی ہے کہ خالص جنگلی شہد استعمال کیا جائے جس کا فلیور ہی الگ ہوتا ہے.

    ایسا شہد قریباً 4 سے 5 ہزار روپے کلو ملتا ہے اور آرام سے کئی ماہ چل جاتا ہے.

    اصلی شہد کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت کم مقدار میں دستیاب ہوتا ہے۔ اسی لیے کافی مہنگا ہوتا ہے.

    مارکیٹ میں اکثریت شہد فارمی ہے.

    آپ کو ایک بار اصلی شہد کی عادت پڑجائے تو فارمی شہد چکھتے ہی تھوک دیں گے.

    فارمی شہد کا کوئی خاص فلیور نہیں ہوتا۔ وہ محض شیرے کی طرح میٹھا ہوتا ہے مانوں میٹھا fructose سیرپ پی رہے ہوں.

    جبکہ،

    اصلی شہد منہ میں جاتے ہی ایک distinct ٹیسٹ کا احساس دلاتا ہے.

    فیس بک پر بکنے والا نوے فیصد سے زائد شہد فارمی ہے.

    ایک دلچسپ بات بتاؤں:

    میں کئی شہد فروشوں کو جانتا ہوں، ان سے خریداری بھی کرچکا ہوں، جو عام سا فارمی شہد بیچتے ہیں اور لوگ وہاں کومنٹس میں "واہ واہ” کررہے ہوتے ہیں.

    ان کی اکثریت وہ ہیں جنھوں نے کبھی اصلی شہد نہیں چکھا۔ انھیں کوالٹی کا سرے سے اندازہ ہی نہیں ہوتا.

    میں شہد کی خریداری کے لیے اپنے کچھ خاص دوستوں پر بھروسہ کرتا ہوں جو شمالی علاقہ جات کے باسی ہیں اور باقاعدہ شہد کا کام نہیں کرتے.

    میں فارمی شہد کی برائی نہیں کررہا ہوں۔ فقط اتنا سمجھارہا ہوں کہ فارمی کو فارمی ہی سمجھیے، اصلی ہرگز نہیں.

    فارمی شہد ایک مناسب "بجٹ” آپشن لگتا ہے۔ دو سے ڈھائی ہزار روپے کلو باآسانی مل جاتا ہے.

    کچھ فارمی شہد ہزار پندرہ سو کے بھی دستیاب ہیں.

    انھیں استعمال کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ دو سو روپے کلو ملنے والا خالص گڑ لے کر پھانک لیں.

    ایک اہم بات،

    دو ڈھائی ہزار روپے کلو فارمی شہد لینے سے کہیں بہتر ہے کہ پانچ ہزار روپے کلو والا اصلی شہد آدھا کلو خرید لیں.

    اگر بجٹ اور تنگ ہے تو بیشک ایک پاؤ خرید لیں پر فارمی شہد سے پرہیز کیجیے.

    یہ شہد ہول سیل مارکیٹوں میں ڈرموں میں بھر کر بیچا جاتا ہے۔

    میں اب فارمی شہد سے سخت بیزار ہوچکا ہوں۔ ان پر 500 روپے خرچ کرنا بھی پیسوں کا ضیاع ہے.

    دو سے تین ہزار روپے کلو یا اس سے کم میں آپ کو کسی صورت اصلی شہد نہیں مل سکتا۔ یہ سارا مال فارمی ہے.

    اصلی شہد قدرت کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی خاص بات اس کا "نایاب” ہونا ہے.

    لہذا،

    کوشش کیجیے کہ شہد چاہے بہت تھوڑا استعمال کریں پر وہ اصلی و نسلی ہو۔ ڈرموں سے بھر کر آنے والی "جعلی نسل” پر پیسہ ہرگز مت برباد کیجیے۔۔۔۔۔!!!!

  • عطارد اور چاند — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    عطارد اور چاند — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری زمین کا چاند اور نظامِ شمسی کا سب سے پہلا سیارہ عطارد ایک جیسے کیوں دکھتے ہیں؟

    کیونکہ دونوں کی فضا نہیں ہے اور دونوں کے اندر اربوں سالوں سے کوئی جغرافیائی تغیرات نہیں ہو رہے جیسے کہ زمین یا زہرہ پر آتش فشاں یا اُنکے اندر لاوا موجود ہے جو باہر کو آتا ہے اور سطح کو تبدیل کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسا کچھ چاند یا عطارر پر نہیں ہوتا۔

    اگر ان دونوں کی سطح کا جائزہ لیا جائے تو ان پر شہابیوں کے گرنے سے پیدا ہونے والے گڑھے اور انکے نشانات واضح نظر آتے ہیں۔ زمین پر خلا سے گڑھے کیوں نہیں دِکھتے؟ اول تو زمین کی فضا جو اسے شہابیوں سے بچاتی ہے اور دوسرا یہ کہ زمین کی اوپری سطح تبدیل ہوتی رہتی ہے یعنی یہ حرکت میں رہتی ہے۔ جسکی وجوہات زمین کے اندر ٹیکٹانک پلیٹس کی حرکت ، زمین کے اوپر پانی(بارش، دریا، سمندر) سے پیدا ہونے والے کٹاؤ اور انسانوں کی زمین پر کی جانے والی تبدیلیاں (صنعتی، زرعی،تعمیراتی) شامل ہیں۔

    عطارد کے سطح کا تفصیلی جائزہ لیکر ہم زمین اور اسکے چاند کے بارے میں اور ماضی میں اسکی پیدائش کے حوالے سے کافی کچھ جان سکتے ہیں۔ عطارر کی سطح میں تبدیلیوں کا نہ ہونا دراصل ہمیں ماضی میں نظامِ شمسی کے ہولناک منظر کی یاد دلاتا ہے جب زمین، عطارر اور دیگر سیارے ابھی بن رہے تھے اور ان پر کئی سیارے، سیارچے، شہابیے وغیرہ ٹکرا رہے تھے۔ ہمارا چاند بھی زمین پر نظامِ شمسی کی پیدائش کے وقت ایک مریخ کی سائز کے سیارے "تھیا” کے ٹکرانے سے وجود میں آیا۔

    زمین کُل نہیں،نظامِ شمسی کا جُز ہے۔ اور ہم دیگر سیاروں کے بارے میں جان کر زمین کے ماضی کے بارے میں بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔ لہذا خلا کی تسخیر ہمیں محض مستقبل کی ٹیکنالوجیز فراہم نہیں کرتی بلکہ ماضی کے کئی رازوں سے بھی پردہ اُٹھاتی ہے۔۔اسی لیے خلا کی تسخیر انسانی بقا کے لیے اہم ہے۔

  • کیا آپ کے شوہر کو باہر کی عورت کی لت لگ گئی ہے؟ — ڈاکٹر ثناءاللہ فاروقی

    کیا آپ کے شوہر کو باہر کی عورت کی لت لگ گئی ہے؟ — ڈاکٹر ثناءاللہ فاروقی

    شوہر کو راہ راست پر لانے کی کنجی عورت کے ہاتھ میں ہے اپنے شوہر کو اپنا بنانے کے لئے عورت کو شوہر سے محبت کا انداز اور طریقہ سیکھنا چاہئے.

    شوہر کتنا بھی غصہ والا اور بڑا بدمعاش بےوقوف آوارہ ہو لیکن اس کو راہ راست پر لانے کی کنجی عورت کے ہاتھ میں ہے.

    بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ عورت نے اپنے شوہروں کی اصلاح کی ہے آوارہ گرد شوہر کو بھی صحیح راہ پر لانے والی اور صبر کرنے والی عورتوں کی کوئی کمی نہیں شوہر کے دل کو اپنے مٹھی میں رکھنے کے لیے اس کی ہر خواہش کی تابع بن جائے اس کی غلطیوں اور کج روی دور کرنے کے لئے اچھی مثالیں دے کر سمجھائے اس کو دینی ماحول میں بھیجے .

    گھر میں قرآن و حدیث کی تعلیم کرے اور دین کی باتیں شوہر کو سمجھائے اللّه سے اس کے لیے ھدایت کی دعا کرے .

    شوہر کو جس کام سے خوشی ہوتی ہے ایسے کام کریں دل کی گہرائیوں اور پر خلوص طریقے پر اس کی خدمت کریں تو شوہر ایک نہ ایک دن ضرور اس کا تابع ہو جائے گاان شاءاللّٰہ.

    جو عورت اپنے شوہر سے سچی محبت کرتی ہے ایسے شوہر کی مجال نہیں کہ وہ اپنی عورت کا بے وفا بن کر ادھر ادھر بھٹکتا رہے
    جی ہاں اپنی ازدواجی زندگی میں مسائل کے ذمہ دار آپ خود ہیں.

    بیویاں شوہر کے لیۓ سجنے سنورنے کو تیار ہی نہیں.

    شوہر جیسے ہی گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہی گرد آلود چہرا موٹا جسم بوسیدہ لباس خشکی بھرے بال لیۓ مردانہ آواز نکالتے ہوۓ منہ بنا کر غصہ میں کہتی ہے فلاں چیز لانا بھول گئے ہونگے معلوم ہے مجھے آپ سے ایک کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ.

    یہاں وہ شوہر آہستہ آہستہ بیوی سے دور ہونا شروع ہوجاتا ہے پھر اسے بیوی سے زیادہ موبائل ٹیلیوژن اور دوستوں میں دلچسپی بڑھنے لگتی ہے.

    ایمان اور دل میں اللّٰہ کا ڈر ہوتا ہے تو نفس پر قابو کیۓ رکھتا ہے اور کہیں ایمان کمزور خوف اللّٰہ کم ہو تو باہر خواتین سے تعلق بنا بیٹھتا ہے.

    ہر شخص اپنی بیوی کو جوان تر و تازہ اور خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسکی بیوی رومانوی انداز میں گفتگو کرے لیکن خواتین کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ بچوں کے بعد یہ سب نہیں ہوتا بچے کون سنبھالے گا گھر کے کام کاج کون کرے گا ان تمام معاملات میں انسان کی حالت خراب ہو ہی جاتی ہے.

    اور پھر اس کا نتیجہ کچھ یوں نکلتا ہے کہ شوہر موبائل میں مصروف رہتے ہیں دوستوں میں مصروف رہتے ہیں آفس کام سے دھیان ہی نہیں ہٹتا گھر دیر سے آتے ہیں.

    واضح بات ہے کہ جب بیوی کے اندر سے شوہر کو نظر انداز کرنے کی فیلنگز آیئں گی تو شوہر نے موبائل اور ٹیلیوژن کو ہی ترجیح دینی ہے دوستوں کو ہی ترجیح دینی ہے ایسا کیسے ممکن ہے کہ سجی سنوری بیوی سے منہ موڑ کر شوہر موبائل میں گھسا رہے؟

    اگر ایک عورت اپنے کمرے کا ماحول شوہر کے لیے رومانوی بنا کر رکھے خود کو شوہر کے لیے تیار کیۓ سج سنور کر رہے شوہر سے گفتگو کے دوران آواز میں نرمی اپناۓ رکھے تو شوہر دوستوں میں جانا تو دور بلکہ اپنے آفس سے جلدی چھٹی لے آۓ گا.

    یہ تو اللہ کا حکم ہے خواتین واسطے کے اپنے شوہر کے لیے سجنی سنوری رہا کرو تاکہ شوہر کا اپنی بیوی سے دل لگا رہے وہ کبیرہ گناہوں کی طرف نا جاۓ اور غیر محرموں سے پردے کا حکم دیا گیا.

    لیکن یہاں تو مکمل الٹی گنگا بہ رہی ہے کہ گھر میں شوہر کے سامنے بیوی کے ہاتھوں میں سے پیاز اور لہسن کی سمیل آرہی ہے اور کسی شادی کہ تقریب میں جاتے وقت میک اپ کے ڈبے ختم کر دیے آدھے آدھے پرفیوم اور سپرے ہوا میں اڑا دیے.

    بعض جگہ مردوں میں بھی یہ خامیاں ہیں بیوی کے پاس جایئں تو صفائ و ستھرائ کا خیال رکھیں خود کو چست و ایکٹو رکھیں چہرے پر مسکراہٹ رکھے بالوں میں کنگھی اور ہلکی خوشبو کا استعمال بے حد ضروری ہے.

    ایسا نا ہو کہ باہر سے پسینے میں بھرا آۓ اور بدبو سے آس پاس ماحول خراب کر دے سر کے بالوں میں خشکی نا آنے دے داڑھی ہے تو کنگا کیا کرے چہرے گرد و پسینے سے صاف رکھے مطلب بیوی کو بھی اپنا شوہر جوان خوبصورت ترو تازہ اور ایکٹو اچھا لگتا ہے.

    تمام باتوں کا مقصد یہ ہے میاں بیوی کی زندگی میں دونوں کا ایک دوسرے کے لیئے سجنا سنورنا ایک دوسرے کے لیئے تیار ہونا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اس سے محبت بڑھتی ہے بیزاریت دور بھاگتی یے گھر کا ماحول خوبصورت رہتا ہے.

    بیوی کے معاملات اس لیئے زیادہ ڈسکس کیے کہ اکثر و بیشتر بیویاں بچوں اور گھر کے کاموں میں اتنا مصروف ہو جاتی ہیں کہ شوہر کے لیۓ سجنے اور سنورنے کے لیۓ وقت نہیں نکال پاتی جس سے شوہر آہستہ آہستہ بیوی سے دور ہونے لگتا ہے جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے.

    مختصر سی بات ہے فارغ آج کل کوئی بھی نہیں جہاں خواتین کے پاس کام کے انبار لگے ہوتے ہیں وہاں مرد بھی دن بھر کمانے کیلیے اپنی جان جلاتا ہے وقت نکلتا نہیں ہے وقت نکالنا پڑتا ہے اور ایک دوسرے کے لیئے سجنا سنورنا تو اس رشتے کے لیے انتہائ ضروری ہے اگر اس کے لیے دونوں میں سے کسی کو فرصت نہیں ملتی تو معذرت کے ساتھ عرض یہ ہے کہ اپنی ازدواجی زندگی میں مسائل کے ذمہ دار آپ خود ہیں
    اکثر خواتین یہ شکوہ کرتی نظر آتی ہیں کہ ان کا شوہر دوسری عورتوں کی طرف راغب ہوتا ہے جو کہ انتہائی غلط کام ہے اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے پاک اور صاف لباس کو چھوڑ کے گندہ لباس پہن لے خواہ ایسا کام کرنے والا مرد ہو یا عورت
    خواتیں یہ شکوہ تو کرتی ہیں کہ شوہر دوسری خواتیں میں دلچسپی لیتا ہے لیکن وجہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے اس کی اکثر تین وجوہات ہوتی ہیں.

    1: بیوی کی بدزبانی.
    2: بیوی کا اپنے شوہر کی خواہشات کا احترام نہ کرنا شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا.
    3: بیوی کا خود کی صفائی کا خیال نہ رکھنا.

    1: جب بیوی شوہر سے بد زبانی کرتی ہو تو اس کا دل ضرور بیوی سے دور ہوتا جاتا ہے پھر جب اسے باہر کی کسی دوسری عورت سے عزت اور میٹھے بول سننے کو ملتے ہیں تو وہ اس کی طرف راغب ہوتا ہے لہذا بیوی کو چاہئے وہ شوہر سے پیار سے بات پر میٹھے بول بولے جب آپ شوہر سے نرم میٹھے انداز میں بات کریں گی اس کا دل خوش ہو جائے گا جب گھر سے پیار ملے تو باہر جانے کی کیا ضرورت.

    2: بیوی اپنے شوہر کی ضروریات اور خواہشات کا احترام کرے اس کی ہر جائز خواش کو پورا کرے اور ہر جائز حکم مانے اور شوہر بھی بیوی سے ایسا مطالبہ نہ کرے کو شریعت کے خلاف ہو اور نہ ہی ایسا مطالبہ بیوی کو ماننا چاہئے.

    3: اکثر دیکھا گیا ہے جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو شروع کے دنوں میں کام کا اتنا بوجھ نہیں ہوتا اور شوق شوق میں وہ خود کا صاف رکھتی ہے اپنے اوپر توجہ دیتی ہے خیال رکھتی ہے لکن جب کام کا بوجھ پڑتا ہے تو وہ ماسی بن جاتی ہو اپنے صفائی کا خیال نہیں رکھتی اگر رکھتی بھی ہے تو پہلے کی طرح نہیں پھر جب اولاد ہو جاتی ہے پھر تو بس اپنی ایسی حالت بنا لیتی ہے کہ شوہر کا دیکھنے کو بھی دل نہ کرے صفائی نصف ایمان ہے .

    جب خود کو صاف نہیں رکھیں گی تو شوہر بیوی پر کیا توجہ دے گا ایسی صورت میں شوہر باہر کی عورتوں کی طرف دیکھتا ہے جو بنی سنوری ہوتی ہیں ایسی عورت ہر مرد کو بھاتی ہے پسند ہوتی ہے.

    لہذا کام اور بچوں کی دیکھ بھال ایک طرف لیکن کم سے کم اپنے کپڑے صاف رکھیں شوہر کے آنے سے پہلے تبدیل کر لیں ہلکا سا میک اپ کر لیں جسا شوہر کو اچھا لگتا ہو اپنی حفاظت کریں تانکہ شوہر جب گھر آئے اور اپنی بیوی پر نظر پڑے تو اسے اچھی لگے اس کا دل خوش ہو جائے اگر آپ ماسی بنی ہوں گی تو پھر شوہر سے توجہ کی امید نہ رکھیں.

    جن لڑکیوں کی شادی ہونے والی ہے وہ شروع سے ہی ان باتوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ جب آپ کی لا پرواہی کی وجہ سے ایک بار شوہر کو باہر کی عورتوں کی لت لگ گئی تو پھر اس عادت کو چھوڑنا بہت مشکل ہے.

  • سنیپ چیٹ کی”چِیٹنگ” — اشرف حماد

    سنیپ چیٹ کی”چِیٹنگ” — اشرف حماد

    سنیپ چیٹ بھی دوسری امریکی "لذیذ” نعمتوں کی طرح امریکی ملٹی میڈیا انسٹنٹ میسجنگ ایپ اور سروس ہے۔ جس کو اصل میں سنیپ چیٹ انکارپوریٹڈ نے "جلا بخشی” ہے۔

    اصل میں سنیپ چیٹ کی بنیادی ہنوز غیر محفوظ خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ "صاف و شفاف” تصاویر اور "ملائم” پیغامات عام طور پر صرف مختصر وقت کے لئے دستیاب ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے وصول کرنے والوں کے لئے ناقابل رسائی (Inaccessible) ہوجائیں۔

    ایپ اصل میں فرد سے فرد اور بقول مرزا "مرد سے خاتون تک” فوٹو شیئرنگ پر توجہ مرکوز کرنے سے تیار ہوئی ہے، جس میں فی الحال صارفین کی 24 گھنٹوں کے تاریخی مواد کی "پریم کہانیاں” شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ "ڈسکوور” آپشن بھی شامل ہے، جس سے برانڈز کو اشتہار کی حمایت یافتہ مختصر شکل کا مواد دکھانے کی اجازت ملتی ہے۔ مزید یہ کہ اس ایپ کو فوٹو جرنلسٹ بھی ایک دوسرے کو چوری چھپے حالات حاضرہ کی "عکسی کہانیاں” بھیجتے ہیں۔

    یہ صارفین کو پاس ورڈ سے محفوظ علاقے یا (ممنوعہ علاقے) میں تصاویر کو اسٹور کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے، جسے "محض چشمانِ من” کہا جاتا ہے۔ اس نے (ٹھیک صحافتی عینک کے اعتبار سے) #مبینہ_طور پر اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے محدود استعمال کو بھی شامل کیا ہے، جس میں آنے والے طوفانی زمانے میں اس کے استعمال کو وسیع کرنے کے منصوبے ہیں۔

    سنیپ چیٹ کو سٹینفورڈ یونیورسٹی کے من چلے نوجوان طلبہ اِیوان سپیگل، بوبی مرفی، اور ریگی براؤن نے تیار کیا تھا۔ کن "ارفع” مقاصد کے لیے بنایا تھا، ان کا اندازہ ہمارے قارئین خود لگا سکتے ہیں۔

    سنیپ چیٹ سوشل میڈیا کے لئے ایک نئی، اولین موبائل سمت کی نمائندگی کرنے کے لئے خوب جانا جاتا ہے، اور مجازی اسٹیکرز اور بڑھتی ہوئی حقیقت کی آشنائی کے ساتھ بات چیت کرنے والے صارفین پر نمایاں زور دیتا ہے۔

    جولائی 2021 تک، "خدا جھوٹ نہ بھلائے” سنیپ چیٹ کے 293 ملین والی طویل ترین روزانہ فعال صارفین کی تعداد تھی، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایک سال کے دوران صارفین کی لانبی قطار میں 23 فیصد اضافہ ہے۔

    اوسطا” ہر دن 4 ارب سے زیادہ سنیپ کبوتر ایپ کے ممبران کے پاس سنیپ لے کر آتے جاتے ہیں۔ سنیپ چیٹ نئی رومان پرور نوجوان نسلوں میں بے حد مقبول ہے۔ خاص طور پر 16 سال سے کم عمر کے شریف زادوں کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کے لئے رازداری و پردہ داری کی بہت ساری تحفظات پیدا ہوتی جارہی ہیں۔

  • جس میں نہ ہو انقلاب — عمر یوسف

    جس میں نہ ہو انقلاب — عمر یوسف

    ابتدائے آفرینش سے ہی خدائے لم یزل نے یہ اصول متعین کردیے ۔ جو بدلے گا نہیں ہلاکت اس کا مقدر بنے گی ۔ جو جینے کی جنگ نہیں لڑے گا وہ موت کے شکنجے میں آجائے گا ۔ جو حالات کو اپنے ڈھب پر نہیں لائے گا وہ حالات کی بھینٹ چڑھ جائے گا ۔ اسی حقیقت کو آشکار کرتے ہوئے اپنی آخری کتاب کے ذریعے قانون بنادیا ۔

    وان لیس للانسان الا ما سعی ۔

    انسان کے لیے تو وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ جد و جہد کرے ۔

    جب وہ جدو جہد کرتا ہے تو پہاڑوں کا سینہ چیر دیتا ہے ۔ پہاڑوں میں راستوں کا انقلاب اس مقدر بنتا ہے لیکن اگر یہ انقلاب کی تڑپ نہ ہو تو پہاڑوں راستوں کی رکاوٹ بنے موت کا پیغام دیتا ہے ۔

    جب وہ جدو جہد کرتا ہے تو سمندر کے پانی کو قابو میں لے آتا ہے ۔ جو پانی موت کا ضامن ہے وہ زندگی کا محافظ بن جاتا ہے ۔ لیکن اگر زندگی میں یہ انقلاب کی تڑپ نہ ہو تو یہی سمندر ہلاکت کا پیغام لیے سب کچھ تہہ تیغ کردیتے ہیں ۔

    جب وہ انقلاب کی جستجو لیے کوشش کرتا ہے تو ہوائیں تسخیر ہونے کے لیے قدم چومتی ہیں اور انسان دنوں کا سفر گھنٹوں میں کرنے کا انقلاب بپا کرتا ہے لیکن اگر یہ انقلاب کی لگن نہ ہو تو یہی ہوائیں مغلوب ہونے کی بجائے غالب آجاتی ہیں ۔۔۔۔۔

    زمین کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کرہ ارض پر لاکھوں جاندار آج ناپید ہوچکے ہیں جو کبھی اس کرہ ارض کا حصہ تھے ۔ ان کے وجود کا فنا ہونا ان کا مقدر بن گیا ۔ انہوں نے بقاء کی جنگ نہ لڑی ، حالات کا مقابلہ نہ کیا ، مشکلات کا سامنا نہ کیا ۔

    آج اس کرہ ارض پر موجود مخلوقات وہی ہیں جو انقلاب کے لیے میدان میں آئیں تو کاسے پلٹ گئے ۔

    جو آگ انسان کو جلا کر راکھ کرتی تھی ۔ زندگی میں انقلاب کے باعث انسان نے اسی آگ کو قابو کیا اور ہزاروں ضروریات کو پورا کیا ۔
    جو حیوانات انسان کو کچل دیتے تھے وہ انسانی انقلاب کے باعث انسان کے خادم بن گئے ۔
    انقلاب نے زندگی اور جمود نے موت کے گھاٹ اتارا ۔

    قوموں کی تاریخ بتاتی ہے جب قومیں انقلاب کی سعی چھوڑ دیتی ہیں تو لقمہ اجل بن جاتی ہیں ۔

    غلامی ان کا مقدر بنتی ہے ۔ محکومی سر کا تاج اور ذلت جھومر بن جاتی ہے ۔

    خدا بھی انہیں کا ساتھ دیتا ہے جو انقلاب کے لیے میدان میں آتے ہیں ۔

    جو حالات سے لڑ نہیں سکتے خدا سے لا تعلق ہوجاتے ہیں ۔

    خدا کے اس ابدی قانون کو دستور حیات قرآن واضح کرتا ہے ۔

    ان اللہ لایغیر مابقوم حتی یغیروا ما بانفسھم (الرعد : 11)
    اللہ تب تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک وہ قوم خود تبدیلی اور انقلاب کے لیے کوشاں نہیں ہوتی ۔

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں۔۔۔۔۔۔۔
    بدلی نہ ہو خیال جسے اپنی حالت بدلنے کا ۔۔۔۔۔۔۔
    جب انقلاب کی تڑپ لیے 313 میدان میں اترے تو ایک ہزار پر بھاری پڑ گئے ۔
    فتح کی صورت انقلاب آیا اور غزوہ بدر تاریخ میں امر ہوگیا ۔
    جب حالات کا مقابلہ کرنے خندق کا میدا سجا تو چشم زدن میں میدان کے گرد خندق کھود لی جاتی ہے اور دشمن کو ناکون چنے چبوائے جاتے ہیں ۔
    جب انقلاب کا علم لیے طارق بن زیاد اندلس اترتے ہیں تو بیڑے جلا دیتے ہیں ۔
    پھر حاکمیت کی صورت انقلاب آتا ہے ۔
    جب مظلوم عورت کی پکار پر محمد بن قاسم سندھ میں قدم رنجہ فرما ہوتے ہیں تو سندھ باب الاسلام بن جاتا ہے ۔

    انسانی تاریخ ہو یا قوموں کی تاریخ وقت نے یہ ثابت کردیا ۔

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی
    روحِ امم کی حیات کشمکشِ انقلاب!

    مسلمانوں کی تاریخ میں سانحہ بغداد ہو یا سقوط سلطنت عثمانیہ ، مغلوں کا زوال ہو یا سقوط ڈھاکہ ، تاریخ کی آواز یہی صدا بلند کررہی ہے ۔

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    تمام علوم و فنون میں یونانی فلسفے پر عبور حاصل کرنے والے اور جدید علوم وضع کرنے والے آج اگر جہالت و پسماندگی میں گھرے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہی تو ہے کہ

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    دنیا کے سارے براعظموں پر حکومت کرنے والے آج اگر تخت و تاراج ہیں تو اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہے کہ

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    وسائل کی دولت سے مالامال وطن عزیز پاکستان اگر ملکوں ملکوں کشکول لیے پھرے تو اس کی وجہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    ساری دنیا میں اکثریتی مذہب ہونے کے باجود اگر مسلم امہ فلسطین ، برما ، اور کشمیر کے حوالے سے بے بس ہو تو اس کہ وجہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ۔

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    انقلاب دستور حیات ہے ، انقلاب قانون فطرت ہے ، انقلاب خدائی سنت ہے ، انقلاب بہادروں کا شیوہ ہے ، انقلاب زندہ لوگوں کا خاصہ ہے ۔ انقلاب زندگی کا ترانہ ہے ۔

    اگر انقلاب نہیں تو حیات جیل خانہ ہے ، اگر انقلاب نہیں تو ذلت ، اگر انقلاب نہیں غلامی ہے ،اگر انقلاب نہیں خواری ہے، اگر انقلاب نہیں تو خدا کی طرف سے تعرض و اعراض ہے ۔

  • نسل در نسل چلنے والا ٹراما — نکولی لا پریرا (مترجم: ضیغم قدیر)

    نسل در نسل چلنے والا ٹراما — نکولی لا پریرا (مترجم: ضیغم قدیر)

    نسل در نسل چلنے والا ٹراما آپکے فیملی پیٹرنز میں مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ جس میں کچھ عادات، پیٹرن اور خصائص آپ میں آپکے والدین سے منتقل ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ فرض کریں،

    آپ کے دادا دادی ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے تھے جنہوں نے ساری عمر غربت کو ہی دیکھا تھا ڈومیسٹک وائلنس عام چیز تھی۔

    اب وہ بائیس سال کی عمر میں ایک دوسرے کیساتھ ملتے ہیں، شادی ہوتی ہے اور 25 تک بچے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ مگر دونوں گرینڈ پیرنٹ ابھی تک اپنے چائلڈ ٹراما کو پراسس ہی نہیں کر پائے ہیں۔

    ان کے تین بچے ہوتے ہیں،

    اب غربت میں ان تینوں کو پالنا خاصہ جوکھم والا کام ہے اور یہ ان کو مزید سٹریس دے رہا ہے اور ان کے بچپن کے برے تجربات ان کو ڈپریشن اور انزائٹی میں دھکیل رہے ہیں۔

    اب چونکہ بچپن برا تھا تو اس کی وجہ سے ماں نہایت سٹریس میں رہنے کی وجہ سے گرم طبیعت رکھتی ہے اس کو چھوٹی چھوٹی بات بری لگتی ہے اور وہ اپنے بچوں کے پاس رہ کر بھی ان سے منقطع رہتی ہے وہ جسمانی طور پر تو وہاں موجود ہوتی ہے مگر ذہنی طور پر نہیں ۔

    وہیں پر باپ ہر وقت کام پہ مصروف رہتا ہے اپنے بیوی بچوں کو بہت کم یا پھر صفر ایموشنل سپورٹ دیتا ہے اور کام میں ہی کہیں افئیر چلا لیتا ہے اور چونکہ ٹاکسک ماحول کی سب سے بری عادت راز رکھنا ہوتی ہے سو وہ بخوبی چھپانا جانتا ہے۔

    ان حالات میں ماں شوہر کی ہر بات کو جان رہی ہوتی ہے مگر وہ بند آنکھوں کا ڈرامہ رچا کر کچھ بھی نا دیکھنے کی اداکاری کرنا شروع ہو جاتی ہے اور اس سب سے فرار کی خاطر اپنے بچوں کیساتھ ‘کو ڈپینڈنٹ’ تعلق بنا لیتی ہے جس میں ایک شرط ماں پوری کرتی ہے تو بچے دوسری، یہ تعلق خصوصا بڑے بیٹے کیساتھ ہوتا ہے جس کو وہ اپنا ‘پارٹنر’ سمجھنے لگ جاتی ہے۔

    اب اس بڑے بچے کو دونوں یہ سکھاتے ہیں کہ گھر کا سربراہ صرف وہی ہے اور کوئی نہیں، اور ماں کی ایموشنز کا خیال صرف اسی نے رکھنا ہے۔

    اب بچے چونکہ باپ کا سایہ کبھی دیکھ ہی نہیں پائے ہیں اور نا ہی ان سے کبھی اس موضوع پر بات ہوئی ہے کہ ان کا باپ کیسا ہے تو وہ اس اگنور کرنے کو تسلیم کرکے اپنے احساسات چھپا کر جینا سیکھ جاتے ہیں۔

    اسی دوران یہ بچے اپنی ماں کیساتھ ایک مصنوعی تعلق نبھانا شروع ہو جاتے ہیں اور خود سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے باپ جیسے کبھی نہیں بنیں گے اور ویسی حرکت کبھی نہیں کریں گے۔

    یہاں اگر انکی فیملی کو اوپر سے دیکھا جائے تو ‘خوش نظر’ آنیوالی فیملی ہے مگر اس میں کچھ بھی خوشی والا نہیں ہوتا ہے۔

    جوان ہونے تک یہ بچے سیکھ جاتے ہیں کہ کیسے انہوں نے ایک ماسک کے نیچے اپنے احساسات کو چھپانا ہے اور کیسے بغیر کسی کو بتائے جینا ہے۔ اسی دوران سب سے بڑا بیٹا نشے یا آوارہ گردی کی طرف چلا جاتا ہے درمیانی بیٹی خود سے بڑی عمر کے شخص سے دوستی کرکے شادی کرنے کی طرف چلی جاتی ہے کیونکہ وہ باپ جیسے پیار کی تلاش میں ہوتی ہے جو کہ اسے کبھی نہیں ملا ہوتا۔

    اور

    سب سے چھوٹی بچی ہر کسی کی بات کو درست مان کر اس کے پیچھے چلنے والی بن جاتی ہے اس کو انزائٹی اور اٹیچمنٹ ایشوز بھی ہوتے ہیں۔

    ان میں سے کوئی بھی اپنے مسائل والدین سے ڈسکس نہیں کرتا کیونکہ ایسا ماحول ہی نہیں مل رہا ہوتا، ایسے خاندان کا واحد ماٹو یہی ہوتا ہے کہ اپنے ٹراما سے تم نے خود ہی لڑنا ہے۔

    جنریشنل ٹراما کے کچھ بنیادی عناصر یہ ہو سکتے ہیں؛

    نشے کی لت یا جوئے کی لت
    خاندان میں ایک سے زائد لوگ ذہنی پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں
    راز رکھنا اور بات تسلیم نا کرنے کو کامیابی سمجھنا
    ایک دوسرے پہ حد سے زیادہ انحصار
    باؤنڈریز نا رکھنا
    خود شناسی کی کمی
    ایموشنلی امیچور ہونا
    کسی بھی طرح کے سٹریس کا سامنا نا کر پانا
    خود کو کمتر سمجھنا
    دوسروں پہ اعتماد نا کرنا
    وغیرہ

    لیکن خوش قسمتی سے ان سائیکلز کو توڑا بھی جا سکتا ہے سائیکل بریکر وہ شخص ہوتا ہے جو اس لائف سٹائل سے فرار ڈھونڈ کر خود شناسی سے ان ٹراماز پہ قابو پانا سیکھ جاتا ہے۔ اور یہ چیز آپ کو خود ہی سیکھنا ہوتی ہے۔