Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • میں برمودا کے راز تک پہنچ گیا ہوں؟ — فرقان قریشی

    میں برمودا کے راز تک پہنچ گیا ہوں؟ — فرقان قریشی

    ہم سب بچپن سے ایک نام سنتے بڑے ہوئے ہیں

    برمودا ٹرائی اینگل اور اس سے منسوب واقعات

    بہت سی باتیں سننے کو ملیں کہ وہاں چیزیں گم جاتی ہیں ، یہ بھی سننے میں آیا کہ وہاں دجال ہے بلکہ اس وقت بھی پاکستان میں برمودا ٹرائی اینگل اور دجال نام سے ایک کتاب بڑی پاپولر ہے ۔

    لیکن کیا واقعی ؟

    برمودا کے متعلق یہ سبھی پراسرار باتیں بڑی دلچسپ ہیں لیکن ایک بات کہوں ؟

    سچ … کسی بھی فکشن سے زیادہ حیران کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

    آج پانچ دسمبر ہے ، اور پانچ دسمبر ہی کو دراصل برمودا سے منسلک ایک واقعہ ہوا تھا ، لیکن آج سے 77 سال پہلے ، اور وہ واقعہ یہ تھا کہ برمودا کے ایریا میں پانچ جہاز ایک ساتھ گم ہوئے تھے ، مشہور فلائٹ 19 ۔

    کیا وہ خراب موسم کا شکار ہو گئے ؟ ہو سکتا تھا … لیکن اس صورت میں کہ اگر اس دن موسم خراب ہوتا ، مگر ایسا نہیں تھا ۔

    کیا وہ راستہ بھٹک گئے تھے ؟ ہو سکتا تھا … لیکن اس صورت میں کہ اگر رات کا وقت ہوتا مگر … ایسا نہیں تھا ، دن صاف تھا اور سورج چمک رہا تھا اور فلائٹ کمانڈر ایک تجربہ کار شخص تھا جس کے پاس ڈھائی ہزار گھنٹے کا فلائٹ ایکسپیرئینس تھا ۔

    ایسی بات نہیں ہے کہ اس واقعے کا ہر پہلو ہی پراسرار ہے ، کچھ سوالوں کے جواب تو موجود ہیں جو اس واقعے کے متعلق 500 صفحوں کی ایک رپورٹ میں ہیں مثلاً …

    کمپاس یعنی قطب نما … کسی حد تک کام کر رہے تھے ، ریڈیوز بھی کام کر رہے تھے ، بلکہ جہازوں کے ساتھ پانچ گھنٹے تک کمیونیکیشن ہوتی رہی تھی اور آخری کمیونیکیشن میں فلائٹ کمانڈر کے الفاظ یہ تھے کہ ہم پانی کی طرف جا رہے ہیں ۔

    ان ساری باتوں سے تو ذہن میں یہی جواب آتا ہے کہ وہ لوگ کھلے سمندروں میں بھٹک کر کریش کر گئے ہوں گے ۔

    لیکن سچ … اکثر اتنا بلیک اینڈ وائٹ نہیں ہوتا ، آپ کو بہت غور سے دیکھنا پڑتا ہے ۔

    اگر کمپاس کام کر رہے تھے تو انہیں مغرب کی طرف جانا چاہیئے تھا کیوں کہ زمین مغرب کی طرف تھی جبکہ وہ لوگ مشرق کی طرف جا رہے تھے جس کا ایک ہی مطلب ہے … کمپاس کام تو کر رہے تھے لیکن وہ مشرق کو مغرب اور مغرب کو مشرق دکھا رہے تھے ۔

    ریڈیو کام کر تو رہا تھا لیکن کمیونیکیشن میں بہت delay آ رہا تھا ، انفیکٹ کنٹرول ٹاور نے انہیں فریکوئنسی چینج کرنے کا بھی کہا لیکن فریکوئنسی بدل نہیں رہی تھی ۔

    فلائٹ میں نقشہ بھی موجود تھا لیکن نقشے کے حساب سے نیچے سمندر میں جتنے جزیرے نظر آنے چاہیئں تھے … ان لوگوں کو ان سے کہیں زیادہ جزیرے نظر آ رہے تھے ۔

    اور شاید سب سے اہم بات کہ ایک ریڈیو میسج میں کسی نے کہا تھا کہ اگر ہم مغرب کی طرف جائیں تو ہم زمین پر پہنچ جائیں گے …

    اور اپنی طرف سے انہوں نے وہی کیا … اپنی طرف سے وہ لوگ مغرب کی طرف اڑتے رہے جہاں سورج غروب ہو رہا تھا لیکن حقیقت میں … وہ لوگ مشرق کی طرف اڑتے چلے جا رہے تھے ۔

    something was going on

    کچھ نہ کچھ تو ہوا تھا … اور یہ بات سب جانتے ہیں کیوں کہ فلائٹ 19 کی رپورٹ پر اس کی گمشدگی کی وجہ بعد میں ’’حادثے‘‘ سے بدل کر … "unknown” لکھ دی گئی تھی ۔

    کمپاس مشرق کو مغرب دکھا رہا ہے ؟

    وہ لوگ مغرب کی طرف جاتے سورج کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، اس کی طرف اڑ رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ مشرق کی طرف جا رہے ہیں ؟

    سمندر میں جتنے جزیرے نظر آنے چاہیئں ان سے کہیں زیادہ جزیرے نظر آ رہے ہیں ؟

    ریڈیو کام کر رہا ہے لیکن فریکوئنسی نہیں بدل رہی ؟

    یہاں تک بالآخر پانچوں جہاز گمشدہ ہو گئے ۔

    ان سب عجیب و غریب باتوں کے ہوتے ہوئے بھی چلیں میں مان لیتا کہ وہ بدنصیب لوگ ایک حادثے کا شکار ہو گئے لیکن پھر شاید سب سے عجیب بات ہوئی ۔

    ان جہازوں کی تلاش میں ایک سرچ آپریشن ہوا تھا … سرچ آپریشن کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک ایسی پارٹی بھیجی جاتی ہے جو خراب موسم اور مختلف آفات کے لیے تیار ہوتی ہے ، ان کے پاس بہتر ایکوئپمنٹس ہوتے ہیں ۔

    لیکن عجیب بات یہ تھی کہ ان لوگوں کی تلاش کے لیے جو جہاز well equiped اور اچھی طرح سے تیار ہو کر گیا تھا …

    وہ بھی گمشدہ ہو گیا ۔

    ایک کے بعد ایک کئی ہوائی اور بحری جہاز غائب ہو گئے … آخر ان گمشدگیوں کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟

    کچھ ہفتے پہلے مجھے ایک لیڈ ملی تھی ۔

    اسی سال سمندر کے دوسرے حصے میں گم ہوئے ایک japenese پائلٹ کی آخری کمیونی کیشن اور اس کمیونیکیشن کے اندر گم ہونے سے پہلے پائلٹ نے ایک بہت اہم بات بتائی تھی ۔

    میں نے اس لیڈ کو فالو کیا اور 1561ء میں لکھی ایک جرمن کتاب تک پہنچا جس میں سمندر نہیں بلکہ زمین کے اوپر ایک ایسے ہی واقعے کے متعلق لکھا ہوا ہے ۔

    نہ صرف لکھا ہوا ہے بلکہ انہوں نے اس واقعے کی آنکھوں دیکھی ایک تصویر بھی بنائی تھی جو آج بھی موجود ہے ۔

    میں نے اس لیڈ کو فالو کیا … اور 1566ء میں دوبارہ ویسا ہی ایک واقعہ سوئیٹزرلینڈ کے ریکارڈ میں دیکھنے کو ملا ۔

    اور پھر لیڈ پر لیڈ ..

    آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے ایک مصری پاپائرس میں لکھا ایک واقعہ ۔

    سوا دو ہزار سال پہلے ایک رومن شہر livy میں دیکھا گیا ایسا ہی ایک واقعہ ۔

    دو ہزار سال پہلے دو آرمیز کے درمیان لڑائی کے دوران دیکھا گیا ایک عجیب و غریب واقعہ جسے انفیکٹ ، دونوں آرمیز نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور رپورٹ کیا تھا ۔

    سنہ 1668ء میں فرانس کے پورے ایک گاؤں کا قریب کے پہاڑوں پر ایک بہت ہی عجیب و غریب واقعہ ہوتا دیکھنے کی رپورٹ ، جس میں وہ یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے گھبرا کر اس طرف پتھر بھی برسانے شروع کر دیئے ۔

    مجھ لگ رہا ہے کہ … میں برمودا کے راز تک پہنچ گیا ہوں ۔

    فرقان قریشی

  • انقلاب کہاں کامیاب ہوتے ہیں؟ — ضیغم قدیر

    انقلاب کہاں کامیاب ہوتے ہیں؟ — ضیغم قدیر

    تیسری دنیا کے ممالک میں آپ پچھلے پچاس سالوں کے تمام انقلاب دیکھ لیں وہ انقلاب نہیں بلکہ امریکی سازش کے نتیجے میں پھیلنے والی انارکی تھے۔

    عراق جیسا ہنستا بستا ملک کوئی نہیں تھا۔ دہشتگردی کا دنیا بھر میں وجود نہیں تھا مگر صدام حسین پسند نہیں تھا میر جعفروں کیساتھ مل کر اس کو ہٹایا گیا، نکلا کچھ بھی نہیں مگر وہ عراق جو پہلے پر امن تھا اب ایک عفریت کی جگہ بن گیا۔

    سوویت کی چڑھائی کے دوران افغانیوں کی مدد کی گئی یہ جیت گئے مگر بعد میں جب یہ پر سکون حکمرانی کر رہے تھے تو افغانستان آپریشن شروع کر دیا گیا۔ نتیجہ کھنڈر افغانستان کی صورت میں سامنے ہے۔

    عراق میں جو سنہ 2000 کے آغاز میں بیج بویا گیا اس نے پروان پکڑا اور یمن کی طرف ہجرت شروع کر دی، ایران اور عراق کی اس پراکسی وار میں یمن میں وہاں کے شعیوں کو بتایا گیا کہ وہ خطرے میں ہیں وہیں پر دوسری طرف امریکی مدد سے سعودیوں نے حوثی مخالف گروہوں کو سپورٹ کیا یہ چھوٹی موٹی لڑائیاں جاری تھی کہ عرب اسپرنگ نامی ایک جرثومے نے اس کو تقویت دی۔

    اس عرب سپرنگ نے زور پکڑا اور پھر حوثیوں اور دوسرے گروہوں کی ایسی لڑائی شروع ہوئی کہ آج شام، یمن اور لیبیا تباہ ہو چکے ہیں۔ مصر اور اردن سیکیورٹی رسک پر ہیں اور لبنان پہلے ہی ریڈیکلائزڈ ہے۔ اس وقت شام اور یمن دو ممالک کا نام نہیں بلکہ مختلف باغی تحریکوں کی آماجگاہ ہیں جہاں پر ایک ملک کا وجود صرف باہر موجود شخص کو پتا ہے اندر سے یہ ملک تین سے چار گروہوں کے مجارٹی علاقوں میں منقسم ہیں۔

    لیبیا کی جی ڈی پی معمر قذافی کی حکومت میں بہترین سے اوپر تھی۔صحت سمیت سب کچھ فری تھا حکومت شادی کرنے تک کے پیسے خود دیتی تھی مگر بتایا گیا کہ قذافی ٹھیک نہیں ہے انارکی ہوئی، آج لیبیا انارکی میں جی رہا ہے۔

    انقلاب ایران تو سب کو یاد ہوگا۔ مگر اس انقلاب سے پہلے ایرانی کتنی پرسکون زندگی گزار رہے تھے یہ سب کو معلوم ہے لیکن اس بات کو تسلیم کرنا سب کے بس کی بات نہیں ہے۔ خیر 70 کی دہائی میں آئے ‘انقلاب’ نے بہت کچھ بدلا، ملک شدت پسند ہوا مگر ایک فائدہ یہ ہوا کہ ایران کے اندر کسی اور ملک کی پراکسی وار نا چل سکی۔

    کل سے پاکستانی سوشل میڈیا پہ اس بات کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں کہ ایران میں مورالٹی پولیس کا خاتمہ انقلاب ایران دوئم کی طرف اٹھا قدم ہے۔

    یہ خبر ان کے لئے بہت خوش آئند ہوگی۔ مگر ہمیں نتائج معلوم ہیں۔ آج اگر خامنائی کا کنٹرول ایران سے ختم ہوا تو یہ ٹیکسٹ بک میں لکھی بات ہے کہ کل کو ایران بھی اگلا شام، یمن یا عراق ہوگا۔

    یاد رکھیں.

    انقلاب وہاں ہی کامیاب ہوتے ہیں جہاں ہمسائیے امیر اور ترقی یافتہ ہوں ورنہ سانپوں کے بیچ میں اپنی حفاظتی شیلڈ اتار کر انقلاب کی تمنا کرنے والوں کو سانپ ہی ڈستے ہیں۔

    وہیں پر ہمارے تکفیری کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں کے لئے یہ کمائی کا سیزن ہے کہ وہ یا تو انقلاب ایران کی ترویج کرکے پیسہ کمائیں یا اس کے مخالف گروہ یعنی ایرانی حکومت کی تائید کرکے، وہیں عام عوام جنہوں نے اس ممکنہ انارکی سے مرنا ہے وہ ان دانشوروں کی قلمی ماسٹربیشن سے تب تک نا آشناء رہتی ہے جب تک پاکستان کی طرح مہنگائی 50% تک اور بینکوں کی اے ٹی ایمز میں سے پیسے ملنے تک سب رک نہیں جاتے تب تک وہ ان قلمکاروں اور انقلاب فروشوں کے نعروں کو خریدتے رہتے ہیں۔

    عرب اسپرنگ سے لیکر پاکستان تک ہر جگہ ان تجزیہ کار لفافوں کی قلمی ماسٹربیشن بہت کچھ بگاڑ چکی ہے۔ اور سدھرنے والا کچھ نہیں ہے یہ گھر اجاڑنے والے لفافے ایسے ہی گھروں کو اجاڑتے رہیں گے۔

  • 1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر :  ثاقب حسن لودھی

    1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر : ثاقب حسن لودھی

    1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر : ثاقب حسن لودھی

    بلاشبہ موجودہ دنیا میں کسی بھی ملک کے لیے اس کی جغرافیائی حیثیث قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔ آج 4 دسمبر کا وہ تاریخی دن ہے جب پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے پی۔این۔ ایس "غازی” کے شہداء کی یاد میں وطن سے ہر قیمت پر وفاداری کے عہد کو ایک بار پھر دہرا رہے ہیں۔ یہ وہی ‘غازی’ ہے جو 1971 کی جنگ میں دشمن کی نظروں سے اوجھل اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے بدقسمتی سے اپنی ہی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے تباہ ہو گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں تقریبا 85افسران جام شہادت نوش کر گئے تھے جن کی جرات و بہادری کو ہر سال خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ گو کہ پی این ایس غازی بہت کم عرصہ تک پاکستانی فلیٹ کا حصہ رہی لیکن اس کی دھاک اور دہشت سے آج بھی دشمن کانپ جاتا ہے۔ اگر ہم 1971 کی جنگ کا مختصر جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ جنگ بھارت کی غیر قانونی و انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی تھی۔ عالمی قوانین کے مطابق کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا اختیار نہیں رکھتا مگر بھارت کی جانب سے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مکتی باہنی کے ذریعے مشرقی پاکستان میں شورش پھیلائی گئی۔ بعد ازاں بھارت کی جانب سے باقاعدہ جنگ چھیڑے جانے کے بعد پاکستان کے پاس صرف بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا آپشن باقی تھا۔ پاک بحریہ کے پاس پی این ایس غازی کی صورت میں ڈیزل الیکٹرک سب میرین موجود تھی جو بھارت کے’وکرانت’ نامی ائیر کرافٹ کئیریر کو تباہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ لہذا بھارتی افسران کی جانب سے وکرانت کو ‘محفوظ مقام’ پر منتقل کیا گیااور ‘غازی’ کا مقابلہ کرنے کے لیے خلیج بنگال میں دو جنگی بحری جہاز روانہ کیے گئے۔ ان سب کی نظروں سے اوجھل پی این ایس غازی بھارتی کیمپ کے انتہائی قریب پہنچنے میں کامیاب رہی۔ 4 دسمبر کی رات بھارتی بحریہ کے پڑاو میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جس وقت زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی۔ بھارتی بحریہ کے سابق کموڈور جیکب کے مطابق دھماکے کے آوازیں اس قدر شدید تھیں کہ انہیں گمان ہوا کھ شایدپی این ایس غازی کی جانب سے شدید حملہ ہو گیا ہے۔ بعد ازاں 5 دن کی مسلسل غوطہ خوری کے نتیجے کے مطابق حقیقت معلوم ہوئی کہ پی این ایس غازی اپنی ہی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگ کے پھٹنے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔

    بھارت کی جانب سے اس کو اپنی کامیابی گردانا گیا اور اس وقوعہ کے 5 دن بعد 9 دسمبر کو اس کو بھارتی بحریہ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ یاد رہے 9 دسمبر کا دن بھی وہ تاریخی نوعیت کا دن ہے جب پی این ایس ‘ہنگور ‘ نے بھارتی بحریہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھنے جانے والے آئی این ایس’ ککری’ کو شکست دی تھی۔ مبصرین کے مطابق ککری کی شکست سے تو جہ ہٹانے کی خاطر بدقسمت غازی کو اپنی کامیابی بتایا گیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کار بھارتی بحریہ کی جانب سے 5 دن تک اپنی خود ساختہ کامیابی کا اعلان کیوں نہ کیا گیا ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2010 میں بھارتی سرکار کی جانب سے غازی سے متعلق تمام ریکارڈ کو ضائع کر دیا گیا تھا۔ یہ تمام سوالات اس حقیقت کو عیاں کرتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کی طرح اپنی عوام کو بیوقوف بنانے کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ حال ہی میں فروری 2017 کے قیدی بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو ایوارڈ سے نواز کر بھارت دنیا کی توجہ پاکستان کی جنگی کامیابیوں سے ہٹانا چاہتا ہے۔

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری

    یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    پاک بحریہ میں یوم آزادی کی تقریب،اکیس توپوں کی سلامی دی گئی

    پاک بحریہ کی ساتویں کثیرالقومی بحری مشق امن 2021 کا آغاز

    پاک بحریہ کے زیر اہتمام گوادر میں مقامی بچوں کے لیے سیلنگ کیمپ کا انعقاد کیا گیا

    جنگ کے طور طریقے بدل گئے ہیں اور اب غیر روایتی انداز میں دشمن کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت بالی ووڈ کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔ بھارت کا غازی سے لیکر ابھی نندن تک کے تمام جھوٹ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔دنیا یہ جانتی ہے کہ بحری جنگ زمینی اور فضائی جنگ سے قدرے مختلف ہے اور اس میں جنگی حکمت عملی بنا کر اپنی صلاحیت سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے بہت مشکل ہوتا ہے۔ پی این ایس غازی کا دشمن کی نظروں سے اوجھل ہو کر بھارتی کیمپ کے نز دیک پہنچ جانا اور بعد ازاں پی این ایس ہنگور کی جانب سے آئی این ایس ککری کو شکست دینا اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاک بحریہ جنگی حکمت عملی بنانے اور آپریشنل لیول پر اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بھارتی بحریہ سے بہت بہتر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی سفید وردی میں ملبوس پاک بحریہ کے جوان دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ پاکستان کی بحری حدود میں 50 ہزار مربع کلومیٹر کا اضافہ اورمسلسل سات ‘ امن مشقوں ‘ کا انعقاد اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاک بحریہ نہ صرف تمام دوست ممالک سے امن اور برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہے بلکہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پاک بحریہ نے ماضی میں بھی قومی دفاع اور سلامتی کی خاطر جانیں قربان کی ہیں اور آج کے تاریخی دن قوم سے ایک بار پھر وعدہ ہے کہ دشمن چاہے کتنا ہی طاقت ور اور تعداد میں بڑا کیوں نہ ہو، پاکستان کی بحری افواج اپنے ملک و قوم کی ایک ایک انچ کی حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

  • بس بات میری سمجھ میں آ گئی — ہمایوں تارڑ

    بس بات میری سمجھ میں آ گئی — ہمایوں تارڑ

    میں نے دیکھا ۔۔۔ کہ ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے کچھ بونس پوائنٹس یا coins وغیرہ کی آفر ملتی ہے۔ اُنہیں پاکٹ کر لینے سے آپ کی قوت و طاقت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اِس اضافی قوت کے استعمال سے آپ کوئی بڑی گھاٹی، بڑی رکاوٹ زیادہ بڑا جمپ لے کر عبور کر جاتے ہیں۔

    پرسوں رات کیا ہوا؟ ۔۔۔ میرے بڑے بھائی لاہور سے اسلام آباد سفر کے دوران ایک جان لیوا حادثے میں بال بال بچ گئے۔

    یہاں پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی کے آس پاس والے علاقے میں ایک جگہ سڑک زیرِ تعمیر ہے۔ ایک جگہ road divider کا کچھ حصہ ایسی ایبنارمل حالت میں پڑا ہے کہ وہاں ہر روز ایک نیا حادثہ جنم لیتا ہے۔

    اندھیرے میں میرے بھائی کی گاڑی کا ٹائر بھی ذرا سا سلِپ ہو کر اوپر چڑھا تو گاڑی بے قابو ہو کر ڈِیوائیڈر پر چڑھ دوڑی۔ اب قریب تھا کہ گاڑی وَن وے سڑک کے دوسری جانب اتر کر فاسٹ ٹریک پر چڑھ جاتی اور بیسیوں تیز رفتار گاڑیاں اُس کا کچومر بنا دیتیں، گاڑی یکلخت رُک گئی۔ رکتے ہی، حیرت انگیز طور، کوئی پانچ درجن افراد نے گاڑی کو گھیر لیا۔ یعنی مدد اور حال احوال پوچھنے کی غرض سے۔

    بھائی کہتے ہیں، پہلے تو میں یہ دیکھ کر حیران کہ رات گئے اتنے لوگ ! ۔۔۔ وہ بھی ایکدم سے!! ۔۔۔ اور دردمندی کا ایسا اظہار، اور پھر گاڑی نکال لے جانے میں مدد۔۔!! ۔۔۔ بتایا گیا، "آپ سے پہلے ہم دو ڈَیڈ باڈیز اٹھا چکے ہیں۔ اُن دونوں حضرات کی گاڑیاں بھی مکمل تباہ ہو گئی تھیں۔ حیرت ہے آپ کو خراش تک نہیں آئی، اور آپکی گاڑی بھی صحیح سلامت۔ ورنہ اِس صورتحال میں بچت کا امکان تقریباً صفر برابر ہے۔”

    میں نے بھائی سے پوچھا آپ یہاں اسلام آباد وارد ہونے سے قبل لاہور کیا لینے گئے تھے، کس کام سے؟

    جواب ملا، ماموں کے جس بیمار بیٹے کا لاہور سے علاج کروایا تھا، لاہور میں ہی اس کی جاب کروا دی تھی۔ اب مہینہ بھر گذر چکا تو اُسے گھر والوں سے ملوانے خود لاہور سے لا کر گاؤں میں ڈراپ کیا تھا۔ ساتھ میں اُن کے گھر تیس چالیس ہزار روپے کا راشن بھی ڈال آیا کہ مہنگائی بہت ہے ۔۔۔

    بس بات میری سمجھ میں آ گئی۔

    کتابِ تقدیر میں درج شیڈول کے مطابق قضا نے اپنا پنجہ مار کر بھائی کو اُچک لینا چاہا تھا۔ مگر "ویڈیو گیم پلیئر” نے راستے میں میسر آئے کچھ بیش قیمت coins پاکٹ کر رکھے تھے۔ چنانچہ گیم پلئیر اپنی اضافی قوت سے تقدیر کی بچھائی اِس موت کی گھاٹی کو بڑا جمپ لے کر عبور کر گیا تھا۔

    ایک بار پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کی زبان سے سنا کہ تقدیر کوئی اتنی بھی اٹل شے نہیں ہے۔ شطرنج کی بساط کی طرح اِدھر سے اُدھر ہو جانے والے راستے موجود ہیں۔ اِن کے واضح اشارات قرآن و حدیث میں ہمیں مل جاتے ہیں۔ جیسے ایک حدیثِ رسولؐ کے مطابق اگر کسی شخص کی رخصتی کا وقت قریب آن پہنچا ہے مگر اُس کی زندگی کے حق میں ڈھیر سارے لوگ مل کر دُعا کر دیں تو ایسی دُعا کو honour کیا جاتا ہے۔ اُس شخص کے حق میں ایکسٹینشن دے دی جاتی ہے ۔۔۔ تو گویا یہ بھی coins مل جانے والا معاملہ ہوا۔

    بنی اسرائیل کی اُس فاحشہ عورت نے کنویں کنارے پیاس سے ہانپتے کتے کو پانی پلایا تھا۔ اپنے جوتے کو ڈول بنا کر کنویں میں اتارا، پانی بھر کر باہر لائی، پانی پلایا ۔۔۔ اس کے عوض اُسے بہشت والی گاڑی کا ٹکٹ تھما کر بہشتی گاڑی میں بٹھا دیا گیا ۔۔۔۔ تو گویا یہ بھی coins مل جانے والا معاملہ ہوا۔

    بس نظر رکھیں، ایسے coins ہمارے گردوپیش میں بکھرے پڑے ہیں۔ یہ کبھی ہمارے دروازے پر براہ راست دستک دیتے ہیں، تو کبھی راستے میں پڑے ملیں گے ۔۔۔ گاہے فون پر کوئی اطلاع ملنے کی صورت ۔۔۔ کمفرٹ زون سے قدرے باہر آ کر اِنہیں اُچک لینا ضروری ہے۔

  • ویلڈن ڈاکٹر ولید۔۔۔ جیو تو ایسے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ویلڈن ڈاکٹر ولید۔۔۔ جیو تو ایسے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    شکر ہے کہ ہمارے وقت میں سوشل میڈیا کا وجود نہ تھا وگرنہ جس طرح کل سے 29 میڈل لینے والے ڈاکٹر ولید کی مسلسل تحقیر کی جارہی ہے ، میں تو خودکشی کر لیتا۔

    چونکہ میرا تعلیمی کیرئیر ڈاکٹر ولید سے مماثل ہے اور انجنئیرنگ یونیورسٹی میں اسی طرح ہم نے بھی گردن بھر میڈل لئے تھے تو میں کسی قدر جان سکتا ہوں کہ بے چارے ولید اور اس کے والدین اگر سوشل میڈیا ئی طوفانی پوسٹیں دیکھ رہے ہیں تو وہ بہت دُکھی ہوں گے۔ کیوں کہ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لئے پردے کے پیچھے کی عزم وۂمت کی داستان وہی جانتے ہیں۔

    فرسٹریشن کے مارے کسی ڈاکٹر توصیف آفریدی نے بظاہراً نظام کے نوحے کے نام پر ایک پوسٹ لکھ ماری جس میں اس کا تقابل ایک ڈانسر لڑکی سے کیا گیا کہ جسے ندا یاسر تو اپنے شو میں بلاتی ہے یاسر شامی پیچھا کرتا ہے مگر اس لڑکے کو کوئی گھاس نہیں ڈالے گا۔ ڈاکٹر ولید کو ایک بے کار انشان کہا گیا کہ اس کی شکل دیکھ لو یہ آپ کو دوبارہ نظر نہیں آئے گا۔

    زنگر برگروں نے ذہنی چسکے کے لئے اس پوسٹ کو خوب اٹھایا۔ کہا گیا کہ اس نے پریکٹیکل لائف میں آکر دھکے کھانے ہیں، نوکری نہیں ملنی، رشوت سفارش سے کوئی نوکری مل بھی گئی تو اسے کھڈے لائن لگا دیا جائے گا۔ اور اگر وہ ملک چھوڑ کر کہیں چلا جاتا ہے تو اس کا اپنی اگلی نسلوں پر احسان ہوگا۔اسے میڈل بیچ دینے تک کا کہا گیا۔

    قسم لے لیں جو کسی ایک زنگر برگر نے بھی اس کی محنت اور جذبے کو سراہا ہو، اس کو کامیابی پر مبارک باد دی ہو یا ا س کے بہتر مستقبل کی دعا کی ہو ۔ ہماری ذہنی حالت اس سے زیادہ اور بانجھ اور اپاہج کیا ہوسکتی ہے۔

    ٹیلنٹ اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔ ڈاکٹر ولید کو جھوٹی سچی ہمدردی کے نام پر اپنی تحقیر کروانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انشااللہ وہ ہمارا ایک بہت بڑا سرمایہ ثابت ہوگا۔

    میرے گلے میں جب وزیراعلی پنجاب جناب شہباز شریف صاحب بار بار لگاتار میڈل ڈال رہے تھے تو میں اس وقت چھ ماہ سے جاری مسلسل بے کاری کی حالت میں تھا۔ اور الحمدللّٰہ ٹھیک بیس سال بعد میں ایک فرم اونر کے طور پر انکے شروع کردہ فارم ٹو مارکیٹ روڈ پراجیکٹ کی کنسل ٹینسی کا کانٹریکٹ لینے کے بعد ان سے کِک سٹارٹ میٹنگ کر رہا تھا۔

    ہمارے نظام کی خرابیوں کو ہم لوگوں نے ہی ٹھیک کرنا ہے نہ کہ اپنے بہترین دماغوں کا ٹھٹہ اڑا کر انہیں بے عزت کرنا ہے، اپنے پڑھنے والے بچوں کا دماغ خراب کرنا ہے اور ان کے والدین کا مایوس کرنا ہے۔

    ڈاکٹر ہو یا انجنئیر، ہمیشہ اسےاپنی پروفیشنل لائف سکریچ سے شروع کر نا پڑتی ہے اور اپنے فن سے اپنے فیلڈ میں نام بنانا پڑتا ہے۔

    مانا کہ زندگی کے زمینی حقائق بہت تلخ ہیں، بہت دشواریاں، رکاوٹیں اور پریشانیاں ہیں لیکن ایک دن کے لئے ۔۔ صرف ایک دن کے لئے۔۔۔کیا ان سب مسائل کو اپنے ذہن سے جھٹک کر ہم کسی کی محنت اور کامیابی کو سیلی بریٹ نہیں کرسکتے؟

    کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ گو معاشرے میں بہت دشواریاں ہیں لیکن آپ کی بے مثل کامیابی کی وجہ سے آپ یقیناً لاکھوں میں ایک ہیں۔ آپ انشااللہ بہت ترقی کریں گے۔

  • ایمانداری بہترین میدان ہے؟ — ریاض علی خٹک

    ایمانداری بہترین میدان ہے؟ — ریاض علی خٹک

    شوہر کا موڈ صبح صبح بہت خوشگوار تھا. اس نے اپنی بیگم سے کہا چلو واک کرنے باہر چلتے ہیں. بیگم نے غور سے اپنے شوہر کو دیکھا اور کہا یعنی تم سمجھتے ہو میں موٹی ہوں.؟ شوہر نے ہنس کر کہا نہیں یار میں نے ایسا کب کہا یہ تو تم نے نتیجہ نکال لیا.

    بیگم نے کہا اسکا مطلب تم سمجھتے ہو میں موٹی بھی ہوں اور جھوٹی بھی ہوں. شوہر نے کہا یہ کیا بے وقوفی ہے. میں نے ایسا کب کہا.؟ بیگم نے کہا مطلب تم یہ کہہ رہے ہو میں موٹی بھی ہوں جھوٹی بھی اور بے وقوف بھی.؟ شوہر نے کہا بیگم بس تم گھر بیٹھو میں خود واک کر کے آجاتا ہوں.

    بیگم نے کہا ہاں ہاں جائیں. آپ کو تو اکیلے واک پر جانے کا بہانہ چاہئے. مجھے کہاں لے کر جائیں گے. پتہ نہیں کس سے ملنا ہے کسے دیکھنا ہے اور شوہر خاموشی سے بیٹھ گیا. کیونکہ کچھ جگہوں پر بحث میں آپ جیت ہی نہیں سکتے. بھلے آپ کتنے ہی کلئیر کیوں نہ ہوں.

    بنجامن فرینکلن ایک دن جارج واشنگٹن سے ایک ضروری مشورہ کرنے گیا. واشنگٹن نے اسے کہا ایمانداری بہترین میدان ہے. تم ایمانداری سے اپنے مقام پر کھڑے رہو. بنجامن فرینکلن نے کہا نہیں جارج یہ پالیسی ہر جگہ نہیں چلتی. جیسے بیگم پوچھ لے کیا اس لباس میں، میں موٹی تو نہیں لگ رہی.؟ اب آپ ایمانداری سے یہ نہیں بتا سکتے کہ مسئلہ لباس کا نہیں ہے. تم موٹی ہی ہو.

  • لوگ خود سیکھ جاتے ہیں — ریاض علی خٹک

    لوگ خود سیکھ جاتے ہیں — ریاض علی خٹک

    امریکی ریاست اوہائیو کے ایک شراب خانے میں ایک آدمی ٹام مئیر مارا گیا اور تھامس نامی شخص کو اس کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا. تھامس نے کلیمنٹ نامی ایک وکیل کیا اور اسے کہا میں تمہیں سچ بتاوں میں نہیں جانتا ٹام کیسے مرا کس نے مارا لیکن یہ حقیقت ہے میں نے نہیں مارا.

    کلیمنٹ نے اس کیس پر کافی ریسرچ کی. مقتول ٹام کے اپنے پستول پر تحقیق کرتے اسے سمجھ آیا کہ مقتول اپنا پستول نکالتے ہوئے خود اپنی گولی سے مرا. یہ سال 1871 کی بات ہے جب گولی کی فرانزک نہیں ہوتی تھی. بھری عدالت میں وکیل نے جج کو قائل کرنے کیلئے جب اسی انداز میں وہی پستول نکالا تو گولی پھر چل گئی. وکیل کلیمنٹ کو اسی مقام پر گولی لگی جہاں ٹام مئیر کو لگی تھی اور وکیل بھی جان کی بازی ہار گیا.

    تھامس کیس جیت گیا اور رہا ہوگیا. لیکن وکیل کلیمنٹ ایک چیز بتا گیا. دوسروں کو قائل کرنا اور وکالت آسان کام بلکل نہیں ہے. روزانہ کا نیا سورج آپ کی زندگی میں آپ کیلئے ایک نیا دن بن کر آتا ہے. اسے دوسروں کی ان عدالتوں میں تاریخیں بھگتے نہ گزاریں جہاں یقین دلانے کیلئے مرنا لازم ہو جائے. آپ روزانہ تھوڑا تھوڑا کر کے مر جائیں گے.

    جولیس سیزر جیسا بادشاہ ہو یا دنیا کے مشہور فلسفی اور ادیب یہ سب ایک قول بتا کر گئے ہیں” لوگ ہمیشہ وہی مانتے ہیں جو وہ ماننا چاہیں” اس لئے منوانے کی چاہت ہی نہ رکھیں کیونکہ اس کیلئے آپ کو وکیل بننا ہوگا. بنجامن فرینکلن نے انسانی نفسیات کا تجزیہ کرتے کہا تھا کہ جب ہمیں بتایا جائے تو ہم بھول جاتے ہیں. جب ہمیں پڑھایا جائے تو یاد رہتا ہے اور جب ہم کرنے میں شامل ہوں تو سیکھ لیتے ہیں.

    لوگ خود سیکھ جاتے ہیں. ان کو اپنی زندگی جینے دیں. ہم بھی تو صرف آپ کو پڑھا رہے ہیں شائد کہ آپ کو یاد رہے. آپ کر کے سیکھ لیں.

  • لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    سٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا، اس بارے میں سوچنا ہی بے معنی ہے، کیونکہ اس وقت نہ ٹائم کا کوئی وجود تھا اور نہ سپیس کا۔۔۔۔ اس پر ملحد واہ واہ کرتے ہیں۔

    یہی بات ہم جب خدا کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ عقل میں نہیں سما سکتا کیونکہ وہ ٹائم اور سپیس سے ماوراء ہے، بلکہ ان کا خالق ہے، تو ملحد مذاق اڑاتے ہیں۔

    ویسے ہاکنگ کی بات تو محض بہانہ ہے اس سوال سے جان چھڑانے کا کہ وہ سنگیولیرٹی، جس سے بگ بینگ ہوا، وہ کہاں سے آئی تھی؟
    اور کیا یہ بات عقل میں سماتی ہے کہ ایٹم سے بھی چھوٹے ذرے سے پوری کائنات وجود میں آ جائے؟ اور وہ بھی اتنے مربوط نظام کے ساتھ۔ اور پین روز نے تو اسکو بولٹز مین کے لاء آف اینٹروپی سے اخذ کر کے میتھمیٹکلی ثابت بھی کر دیا ہے کہ ایسے "اتفاق” کا امکان محض صفر ہے۔۔۔

    اللہ قرآن میں سورۃ فصلت میں فرماتا ہے کہ ہم انہیں آفاق اور انکے اپنے انفس میں ایسی نشانیاں دکھائیں گے کہ یہ انکار نہیں کر پائیں گے۔ اور واقعتاً یہ اپنے دلوں میں ضرور خدا پر ایمان رکھتے ہوں گے لیکن محض تکبر کی وجہ سے حق کو تسلیم نہیں کرتے۔۔۔۔
    (دلچسپ بات یہ ہے کہ "یلحدون” کا لفظ بھی اسی سورۃ کی آیت 40 میں موجود ہے)

    ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ کوانٹم مکینکس کے مطابق اب یہ متفقہ نظریہ ہے کہ صرف فوٹان، یعنی روشنی ہی نہیں ہے جو بیک وقت ذرے اور ویو کی خصوصیات رکھتی ہو، بلکہ ہر سب اٹامک ذرہ دہری خصوصیات رکھتا ہے، یعنی کبھی ذرے کے طور پر "بی ہیو” کرتا ہے، اور کبھی ویو کے طور پر ۔۔۔ یعنی مادی اور غیر مادی دونوں قسم کی خصوصیات رکھتا ہے۔ تو پھر روح کو ماننا کیا مشکل ہے؟

    لیکن خدا کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسکا منطقی تقاضہ ہے کہ پھر خدا کو واحد و یکتا مانا جائے اور اسکے دئیے گئے احکامات یعنی مذہب و شریعت کو بھی مانا جائے۔ اور خالص توحید پر مبنی واحد مذہب جو آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے، وہ صرف اسلام ہے۔۔۔ لیکن مادر پدر آزادی اور ہوس پرستی پر جو پابندیاں اسلام لگاتا ہے، وہ کسی نفس پرست متکبر کو کیونکر قبول ہو سکتی ہیں؟!!!

  • طالب علم کا بھاری بستہ (Bag) — اشرف حماد

    طالب علم کا بھاری بستہ (Bag) — اشرف حماد

    وہ پرائمری جماعت کا طالب علم بچہ ہے، اس کی عمر اور جسمانی قوت کے لحاظ سے اس کا بستہ بہت بھاری ہے جو اس کے نازک کندھوں پر نشان ڈال دیتا ہے اور کمر توڑنے والا ہوتا ہے۔ وہ اسے ہانپتے کانپتے اٹھاکر اسکول پہنچتا ہے اور اسی حالت میں اسکول سے گھر لوٹتا ہے۔ یہ بھاری بستہ اس کے لیے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تکلیف دہ ہے۔ اس کی عمر کا اگر کوئی بچہ مزدوری کرتا ہوا نظر آئے تو سب کو بڑا ترس آتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی جاگ اٹھتی ہیں۔ اخباروں میں خبریں بھی لگ جاتی ہیں، عالمی سطح پر اس کے حقوق کی بابت کانفرنسیں بھی منعقد ہوتی ہیں، بچوں کے عالمی دن بھی منائے جاتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے پوری دنیا اس کے مسائل حل کرنے کے لیے متحرک ہوگئی ہے مگر کسی کو اس کا بستہ چھوٹا اور آسان کرنے کی فکر نہیں ہے۔

    یہ بھی آخر گوشت پوست کا انسان ہے اس کے سینے میں بھی بڑوں کی طرح ایک دھڑکتا دل ہے۔ آخر کب تک اس کے اس مسئلے پر صرف نظر کیا جاتا رہے گا؟ جب کہ طبی ماہرین نے بھی اس کے بھاری بستے کو اس کی عمر سے بڑا وزنی اور اس کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ہسپانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ وزنی اسکول بیگ بچوں میں کمر درد کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں، تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مسلسل وزنی بیگ اٹھانے کا عمل ان کی کمر کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اس سے بچنے کے لیے اپنے وزن کے 10 فیصد سے کم وزنی بیگ اٹھانے سے کئی مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔

    اسپین کے طبی ماہرین نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر کہا ہے کہ اسکول جانے والے بچوں کو اپنے وزن سے 10 فیصد کم اسکول بیگ اٹھانے چاہئیں۔ وہ بچے جو اپنے ذاتی وزن سے 10 فیصد زائد کا اسکول بیگ اٹھاتے ہیں انھیں کمر درد کی تکلیف ہوسکتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے ماہرین نے 1403 طلباء پر تحقیق کی جن میں سے 12 سال سے 17 سال کی عمر کے 11 اسکولوں کے بچوں کو شامل کیا گیا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں کے اسکول بیگ کا وزن ان کے اپنے وزن کے 10 فیصد سے زائد تھا ان میںسے 66 فیصد بچے کمر درد کی تکلیف میں مبتلا پائے گئے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو کمر درد کی زیادہ شکایت تھی۔ پھر بھی کوئی نہیں سنتا۔ تعلیمی میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دینے والے اگر اس کے بستے کو چھوٹا اور آسان نہیں بناسکتے تو پھر اس کے پاس کیا دلیل ہے کہ جس کی بنیاد پر یہ ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرے گا؟

    یہ جلی کٹی باتیں نہیں ہیں، پرائمری اسکول کا یہ معصوم بچہ تعلیمی پالیسی کا ستایا ہوا ہے۔ روزانہ ذہنی اذیت کا شکار یہ چھوٹا طالب علم روزانہ ان دانشوروں کی جان کو روتا ہے جو اس کی مشکل کو مانتے ہیں مگر حل نہیں کرتے۔ اپنے بستے کے بوجھ تلے دبے ہوئے بچے کی چیخیں واقعی کان دھرنے کے لائق نہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس معصوم طالب علم کا بستہ بڑا ہونے میں اس کے لیے نصاب سازی کرنے والوں کی سطحی سوچ اور ذہنی مرعوبیت کا بڑا دخل ہے۔

    دنیا میں بڑے بڑے مسائل کی بابت لوگ گہرائی کے ساتھ سوچتے ہیں اور ان کے حل نکال لیتے ہیں مگر معصوم طالب علم کا بستہ چھوٹا کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی حل نہیں نظر آتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی کاروں، کوٹھیوں اور بنگلوں کو بڑی سرعت کے ساتھ بڑا کرنے والے بستے کو بھی اسی رو میں بہتے ہوئے بڑا کرنے میں مگن ہیں۔ معصوم طالب علم کا بستہ اب تک کتابوں کی غذا کھاکھا کر موٹا ہوتا جارہا ہے غالباً یہ موٹے دماغوں والے کی کارستانی ہے۔

    کسی زمانے میں انگریزی چھٹی جماعت سے شروع ہوتی تھی اور چھٹی جماعت کا بچہ قدرے بڑا ہوتا ہے اور بستے کا جسمانی اور ذہنی بوجھ کس قدر آسانی سے اٹھاسکتا ہے۔ پہلے کم ازکم ایک انگریزی کی کتاب اور اس کے ساتھ چار کاپیوں کا بوجھ تھا۔ اب اس معصوم بچے کے بستے میں ایک انگریزی کی کتاب،ایک الفاظ معانی کی کاپی، ایک سبق کے آخر میں موجود مشقوں کے لیے اور ایک انگریزی خوشخطی کے لیے ہے جو کتابوں کے وزن اٹھانے کی بات ہے۔ ایک دفعہ اسکول جاتے ہوئے اور ایک دفعہ واپس آتے ہوئے انھیں اٹھانا پڑتا ہے۔

    اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں ہوسکتا کہ پرائمری کے اس معصوم طالب علم کو جتنی محنت اور جتنی توانائی دوسرے تمام مضامین پر خرچ کرنی پڑتی ہے اتنی ہی توانائی انگریزی کے مضمون پر خرچ ہوتی ہے۔ پھر بھی اسے انگریزی نہیں آتی ہے۔ رٹے کی چکی میں پس پس کر اس کا دماغ تھک جاتا ہے۔اس پر طرہ یہ کہ اس کی سائنس کو بھی اتنا پیچیدہ اور غیر فطری بنادیا گیا ہے کہ معصوم طالب علم اسکول سے بھاگنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بستہ ساز اسے پڑھنے نہیں دینا چاہتے۔ اخبارات میں کروڑوں روپے خرچ کرکے مہم چلائی جاتی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کروائیں، مگر اسکول میں ایک غیر ملکی زبان اور غیر فطری سائنسی نصاب کا بوجھ ڈال کر معصوم طالب علم کی تمام دلچسپیوں کو ختم کررہے ہیں ان حالات میں ایک معصوم طالب علم کا اسکول میں کیسے دل لگ سکتا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ بستہ سازوں اور نصاب سازوں نے معصوم طالب علموں سے خاموش جنگ چھیڑ رکھی ہے اور ملک کے کروڑوں بچوں کو بطور بیگار اس جنگ میں سپاہی کے فرائض انجام دینے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

    خدارا! معصوم طالب علموں کے ماتھے پر پریشانیوں کی شکنوں میں چھپے ان کے دل کے درد کو محسوس کیا جائے، کیا یہ جبری مشقت نہیں جو ہر روز ان سے لی جاتی ہے؟ کیا یہ ان کا حق نہیں کہ ان کا بستہ ان کی عمر، جسمانی صحت اور ذہنی سطح کے مطابق ہو؟ کیا انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس مسئلے کو اپنے ایجنڈے میں شامل نہیں کرنا چاہیے؟ یہ وہ جواب طلب معصوم طالب علموں کےسوالات ہیں جن کے جواب تعلیم سازوں کو دینے ہیں۔ قارئین کرام! آپ کا کیاخیال ہے؟ اپنی رائے کا اظہار کریں تاکہ معصوم طالب علم بچوں کی صدا ارباب اختیارات تک بھرپور انداز میں پہنچ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کار نیک کی جزا دینے والا ہے۔

  • بیٹیوں کی تربیت — علیم امتیاز

    بیٹیوں کی تربیت — علیم امتیاز

    اپنی بیٹیوں کو درج ذیل چند باتیں لازمی سکھائیے.

    1_سیڑھی پر اس وقت مت چڑھیں جب آپ کے پیچھے کوئی مرد بھی سیڑھی چڑھ رہا ہو بلکہ سیڑھی کے کسی ایک زینے پر رک جائیں اور اس کے بعد چڑھیں۔

    2_لفٹ پر کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں مت چڑھیں اس کے نکلنے کا انتظار کریں اور بعد میں چڑھیں۔

    3_اپنے چچا، ماموں، خالہ، پھپھو وغیرہ کے بیٹوں سے ہاتھ کے ساتھ مصافحہ مت کریں۔

    4_اپنے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص کے ساتھ ہمیشہ مناسب فاصلہ رکھیں۔

    5_ہمیشہ کسی کے ساتھ معاملہ کرنے کی حد مقرر کریں، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اور اپنے وقار کا خیال رکھیں۔

    6_سڑک پر اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق نہ کریں اور سڑک کے آداب کا خیال رکھیں۔

    7_جب کوئی ملنے آئے تو اسے توجہ دیں، بڑے کے احترام میں کھڑے ہو جائیں اور تھکے ماندے اور بوڑھے کو بیٹھنے کے لیے کرسی دیں۔

    8_گلی محلہ کے سبھی مرد باپ/بھائی کے سوا اجنبی ہوتے ہیں اس لیے اُن سے بِلاضرورت بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہراساں کرنے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں، چاہے وہ آپ کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔

    9_جب آپ زمین سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے نیچے جھکیں یا کسی دکان، بازار یا عوامی جگہ پر کوئی چیز دیکھیں تو رکوع کی حالت میں مت جھکیں۔کوشش کریں بیٹھ کر چیز دیکھیں پھر کھڑے ہو جائیں تاکہ آپ کا پردہ یعنی ستر یا جسم پیچھے سے بے نقاب/نمایاں نہ ہو۔

    10_ہمیشہ کوشش ہونی چاہیے کہ بس یا ٹیکسی میں بلند آواز سے باتیں مت کریں۔

    11_گھر کا دروازہ ہمیشہ پوچھ کر اور گھر کے افراد یا جاننے والوں کی آواز پہچان کر کھولیں۔

    مجھ سمیت سبھی بیٹوں، لڑکوں، مردوں کے لیے بھی یہی سب باتیں اور آداب ضرور کرنے والے ہیں۔