Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سماعت کی حس کے ابتدائی مدارج ماں کی کوکھ میں —  خطیب احمد

    سماعت کی حس کے ابتدائی مدارج ماں کی کوکھ میں — خطیب احمد

    صرف چار ہفتے کے حمل میں انسانی ایمبریو کا دماغ بن چکا ہوتا ہے۔ پانچویں ہفتے دماغ کی دونوں اطراف میں دو چھوٹے سے سوراخ بن جاتے ہیں۔ یہ کان کے اندرونی حصے کا آغاز ہوتا ہے۔۔ ایک دو ہفتوں میں یہ سوراخ اندر کی طرف گولائی میں فولڈ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ ہی دن میں یہ گولائی کاکلیا Cochlea بن جاتی ہے۔ جی بلکل سب سے پہلے کان میں کاکلیا بنتا ہے۔ کان کا اندرونی حصہ۔

    آٹھویں ہفتے میں کان میں موجود تین چھوٹی ہڈیوں کا سٹرچر بننا شروع ہوتا ہے۔ جو آواز کان میں آنے پر وائبریٹ کرتی ہیں اور آواز کو سننے میں مدد دیتی ہیں۔ ایک ٹیوب کی شکل میں کیویٹی جو اس سٹرکچر کے گرد بننا شروع ہوتی ہے۔ اسے ہم کان کا درمیانی حصہ کہتے ہیں۔ پہلے Inner ear بنا تھا اور اب middle ear بننے لگا ہے۔

    حمل کے بارہویں ہفتے میں کاکلیا کے اندر چھوٹے چھوٹے بال اگنا شروع ہوتے ہیں۔ جنہیں ساؤنڈ ٹرانسمیٹرز کہا جاتا ہے۔ یہ بال کاکلیا کے ساتھ ہی نس (Nerve) میں بھی شفٹ ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو آواز کے سگنل دماغ تک لے جا رہی ہے۔ یہ آواز کے سگنل لیجانے والی نس ہمارے برین کے ٹیمپورل لوب میں موجود آڈیٹری کارٹیکس کے ساتھ کنکیشن ہوئی ہوتی ہے۔ جہاں بے معنی شور کو پراسس کرکے دماغ معنی اور مخصوص پہچان عطا کرتا ہے۔

    حمل کے پندرہویں ہفتے تک بیرونی کان مکمل بن چکا ہوتا ہے۔ جیسے ہی حمل کے سولہویں ہفتے یعنی چار ماہ کے حمل میں خدا کے حکم سے بچے کے جسم میں روح پھونکی جاتی ہے تو جسم کے دیگر تمام حصوں کے ساتھ کان بھی اپنا ابتدائی کام کرنا شروع کرتا ہے۔

    تقریباً اٹھارہویں ہفتے میں بچہ ماں کے سانس لینے، کھانا ہضم کرنے، دل کی دھڑکن سننے لگتا ہے۔ باہر کی دنیا سے وہ ابھی کوئی آواز نہیں سن رہا۔

    حمل کے تئیسویں ہفتے بچہ کوکھ سے باہر کی دنیا میں سے آواز سنتا ہے۔ باہری دنیا کی آوازوں میں سے بچہ پہلے low-pitched ساونڈز سنتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ ماں کی آواز سے پہلے باپ کی آواز سنتا ہے۔ یا کوئی بھی مردانہ آواز۔ ایسے ہی وہ بلی کی آواز نہیں سن سکتا مگر کتے کے بھونکنے کی آواز سن سکتا ہے۔ مگر جیسے جیسے کانوں اور دماغ کا کنیکشن میچور ہوتا جاتا ہیں وہ ماں کی آواز بھی سننے لگتا ہے۔

    ماں کے پیٹ میں بچے کا کان انتہائی حساس ہوتا ہے۔ اللہ نے اسکی حفاظت کے لیے تین تہیں بنا دی ہیں۔ سب سے پہلے ماں کے پیٹ کی اسکن۔ دوسرے نمبر پر کوکھ کی اسکن۔ اور تیسرے نمبر پر کوکھ میں موجود پانی جو کان تک انتہائی اونچی آواز جانے میں حائل ہوجاتا ہے۔ واہ میرے مالک کون لوگ ہیں جو تیری ذات کا انکار کرتے ہیں۔ اگر صرف کوکھ میں یہ پانی ہی نہ ہو تو کسی بس کا ہارن یا دروازہ زور سے بند ہونے پر ماں کے پیٹ میں ہی بچے کی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔

    یہ آوازیں بچے کے لیے بامعنی نہیں ہوتیں۔ اسے نہیں پتا ہوتا کہ یہ کیا کہا جا رہا ہے۔ چھبیسویں ہفتے تک بچہ کسی آواز کو سننے پر تین طرح کے ری ایکشن دیتا ہے۔ اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے سانس تیزی ہوتی یا وہ حرکت کرتا ہے اور کائنات کو پیغام دے رہا ہوتا ہے میں سن رہا ہوں۔

    بتسویں ہفتے تک اگر بچے کا سونوگرام کیا جائے تو پاس کوئی بات کرکے یا میوزک چلا کر بچے کے چہرے کے تاثرات اور سمائل تک دیکھی جا سکتی ہے۔ پینتسویں ہفتے تک بچہ اپنے آس پاس سنی جانے والی اپنی امی اور ابو کی آواز سے غیر شعور میں مانوس ہو چکا ہوتا ہے۔

    یہی وجہ سے جب بچہ پیدا ہوتا تو باہر دنیا میں وہ اپنی ماں کی ڈائیریکٹ آواز سن کر روتے ہوتے ہوئے فوراً چپ کر جاتا ہے۔ اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس لڑکی کی آواز سنی سنی لگتی ہے۔ یہ لڑکی ضرور میری اپنی ہے۔ اس سے ضرور کوئی گہرا رشتہ ہے۔ سو لوگوں کی آوازوں میں سے وہ چند منٹوں کی زندگی کا بچہ اپنی ماں کی آواز میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ماں کی کوکھ میں بچے کی سماعت کا خیال کیسے رکھا جائے کہ وہ سماعت سے محروم نہ ہو؟

    اپنی من مرضی کی دوائیاں نہ کھائیں۔ کہ میری بہن نند جٹھانی دیورانی کو حمل میں یہ ہوا تھا اس نے یہ گولی کھائی تو وہ ٹھیک ہوگئی میں بھی کھا لیتی ہوں۔ یہ خطرناک ترین عمل ہے۔ دوران حمل کوئی بھی اینٹی بائیوٹک کھانے سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ حمل میں دانتوں کا علاج کروانے سے گریز کریں اس میں بہت ہیوی اینٹی بائیوٹک کھانا پڑتی ہے۔ جو بچے کی سماعت کو خراب یا ختم بھی کر سکتی ہیں۔

    آپکا گھر مسجد امام بارگاہ وغیرہ کے قریب ہے جہاں سپیکرز کی آواز بہت ہی زیادہ آتی ہے۔ تو پلیز حمل کے دنوں میں اس گھر سے کہیں اور شفٹ ہوجائیں۔ یا اذان کے وقت کسی ایسے کمرے میں یاد سے بیٹھ جائیں جہاں آواز بہت کم آسکے۔ اسپیکرز کی اتنی تیز اور ہائی پچ آواز ہوتی کہ بڑے لوگوں کی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچہ یا نومولود چھوٹا بچہ تو انتہائی رسک پر ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ بہت اونچی بولنے والی خواتین کے پاس حاملہ لڑکی 10 تا 20 منٹ سے زیادہ نہ بیٹھے۔ اونچی آواز میں میوزک نہ چلائے۔ شادیوں میں فوجی بینڈ والوں سے دور رہے۔ شبرات پر دوران حمل آپ کے آس پاس پھوڑا گیا کوئی پٹاخہ یا بم آپکے پیٹ میں موجود بچے کو ساری عمر کے لیے سننے سے صلاحیت سے محروم کر سکتا ہے۔

    الکوہل اگر آپ پیتی ہیں تو دوران حمل پلیز نہ پئیں۔ یہ عادت بھی بچے کی سننے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

    حاملہ لڑکی کو نو ماہ انتہائی خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ اسے کوئی دکھ پریشانی نہ دیں۔ مالی مشکلات کو قرض لے کر ہی عارضی طور پر ختم کر لیں۔ ماں کا دوران حمل پریشانی و ٹینشن میں رہنا، یا خوش نا رہنا، ذہنی تناؤ میں رہنا بھی بچوں میں متعدد معذوریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    حمل میں مچھلی انڈے بادام کی سات سے نو گریاں روزانہ رات کو بھگو کر صبح، زیتون، کچا ناریل ضرور کھائیں۔ یہ پیدا ہونے والے بچے میں سماعت کی حس کو قدرتی طور پر اچھا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

  • ,,کون سی کل سیدھی،، — مجیب الرحمن

    ,,کون سی کل سیدھی،، — مجیب الرحمن

    ایک بات بتائیے بلکہ یہ بات تو محترم خواتین کے بتانے والی ہے کہ یہ جو آجکل دلہنوں کو مہنگے ترین پارلر پر تیار کیا جاتا ہے اور اس کے بعد دلہن پہچانی بھی نہیں جاتی اس میں کیا راز پنہاں ہے ؟

    غازہ بہت ضروری ہے ایک دلہن کے لیے لیکن دلہے پر کس قدر ظلم عظیم ہے کہ پہلے دن گھونگھٹ اٹھانے پر دلہن کے نین نقش تک واضح نہ ہوں اور دوسرے دن چہرہ دھلنے پر پتا چلے کہ یہ تو بارات والی خاتون ہی نہیں.

    اچھا دوسری نفسیات یہ بھی ہے کہ اگر کسی پارلر کی تعریف کرنی ہو تو خواتین کہتی ہیں فلاں پارلر بڑا اچھا ہے اس نے دلہن کو ایسے تیار کیا کہ پہچانی ہی نہیں جارہی تھی ۔۔۔۔ ارے بھئی یہی تو سب سے بڑا ظلم ہے کہ پہچانی نہ جاوے ، وہ ماہر مشاطہ اتنا غازہ کیوں تھوپے کہ اصل نین نقش ہی چھپ جاویں اور ولیمے کے اگلے روز منکوحہ اجنبی اجنبی سی لگے۔

    اب دلہے بھلےمانس کو دیکھ لیجیے ، مجال ہے کہ نین نقش میں رتی برابر فرق آیا ہو ۔ بال کٹوائے ، قلمیں تراشیں ، شیو کی ، ذرا سا جیل لگا کر تیار ۔۔۔ اگر پارلر گئے بھی تو ذرا سا لوشن یا پف کا پوچا لگ گیا ۔ اللہ اللہ خیر صلا .

    کسی شادی میں جانا ہوا ، اب چونکہ دلہن کو ہم نے پہلے فیملی میں دیکھ رکھا تھا تو اس کی شکل یاد تھی ۔ لیکن جیسے ہی دلہنیا کو اسٹیج پر لایا گیا ہمیں گمان گزرا یہ کسی اور لڑکی کا نکاح ہے ۔۔۔ پارلر والی نے آنکھیں ، ناک ، ہونٹ اور خال و خد تک بدل دیے ۔۔ یا خدا.

    کسی دن ایسا ہو کہ دلہا نہ پہچانا جاوے ۔۔ پھر ؟

    ادھر تو تصویر کی بجائے اصل میں لڑکے کا رنگ ذرا دبتا نظر آئے تو دلہن کی بہنیں سر پہ بازو رکھ لیتی ہیں کہ لڑکا سانولا ہے.

    اب آپ ہی بتائیے اس کا کیا حل ہو کہ دلہن صحیح سالم ویسی ہی رخصت کی جاوے جیسی لڑکے والوں کو تصویر دکھائی گئی تھی ، بس میک اپ اتنا ہو کہ قدرتی نین نقش نہ بدلیں ۔ یہاں تو ایکسٹینشن لگا کر زلفیں تک بڑھا لی جاتی ہیں ۔۔

    آئے ہائے کتنا ظلم ہے دلہوں پر…

  • پولٹری کی فیڈ اور برائلر بحران کا خدشہ!!! — عاصم چوہدری

    پولٹری کی فیڈ اور برائلر بحران کا خدشہ!!! — عاصم چوہدری

    ہم بہت عرصہ سے سنتے تھے کہ پولٹری کی فیڈ میں فلاں حرام استعمال ہوتا، فلاں استعمال ہوتا جس کی وجہ سے کافی ڈسٹربینس رہتی تھی۔ تو کچھ عرصہ پہلے پولٹری کی فیڈ پر ریسرچ کررہے تھے تو پتہ چلا کہ پولٹری میں فیڈ کا کیا حساب ہوتا ہے۔ انفارمیشن کے لیے پولٹری کی فیڈ کا یہاں بتاتا ہوں اس سے آپکو پولٹری کا موجودہ بحران سمجھنے میں شائد مدد مل سکے۔

    عام طور پر چوزے سے برائلر بننے کا عمل 45 دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ پاکستان میں کتنے دنوں میں یہ عمل مکمل ہوتا بے اس کا مجھے مکمل اندازہ نہیں لیکن باہر کے ملکوں میں وہ یہ عمل 45 دنوں میں مکمل کرتے ہیں اور پھر 45 دنوں کے حساب سے اس کی فیڈ بناتے ہیں جس میں مین انگریڈی اینٹ سویا بین میل، اور مکئی ہوتی یے جبکہ باقی چیزوں میں فش میل، بون میل، امائنو ایسڈز اور پری مکسڈ امائنو ایسڈز شامل ہوتے ہیں۔ مکئی میں تقریبا 8 فیصد پروٹین ہوتی ہے جبکہ سویا بین میل میں 45 فیصد پروٹین ہوتی ہے۔

    پہلی سٹیج پر جو فیڈ دی جاتی ہے اسکو سٹارٹر فیڈ کہتے ہیں جس میں مکئی تقریبا 61 فیصد اور سویا بین میل 31 فیصد ہوتی ہے۔ اور یہ سٹارٹر فیڈ پہلے 16 دن جاتی ہے۔ اس کے بعد دوسری سٹیج پر جو فیڈ دی جاتی اس کو "گرو آر” فیڈ کہتے ہیں اس سٹیج میں مکئی کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور سویا بین تقریبا اتنا ہی رہتا ہے۔لیکن ساتھ میں کچھ چیزیں اور شامل کردی جاتی ہیں جیسے کیلشیئم کاربونیٹ۔۔جو کہ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے اور یہ "گرو آر فیڈ” ستارہویں دن سے لیکر 30 دنوں تک دی جاتی ہے۔

    تیسری سٹیج پر جو فیڈ دی جاتی ہے اس کو فنشر فیڈ کہتے ہیں جو کہ 30 سے 38 ویں دن تک دی جاتی ہے۔جس میں مکئی کی مقدار زیادہ کردی جاتی اور سویا بین تقریبا اتنا ہی رہتا ہے۔ اس سٹیج پر برائلر تیار ہوچکی ہوتی ہے لیکن یہ برائلر دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے اس کو کچھ کھانے کو نہیں دیتے۔ پھر اس برائلر میں ہوا بھرنے یعنی اس کو موٹا تازہ دکھانے کے لیے چوتھی سٹیج کی فیڈ جس کو "فیٹنر فیڈ” کہتے ہیں دی جاتی ہے۔

    اس سٹیج میں مکئی فیڈ میں شامل نہیں کی جاتی بلکہ اس میں سویا بین کو روسٹ کرکے شامل کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اس میں فش میل شامل ہوتی ہے۔ فش میل وہ مچھلی ہوتی ہے جو بکتی نہیں تو اس کو خشک کرکے سکھا کر اس کا پاوڈر بنالیا جاتا ہے۔ اور پھر اس کو فیڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔۔مکئی لو فائبر اور ہائی انرجی ائیٹم ہے۔ جبکہ سویا بین ہائی انرجی، اور بریلر کے نظام انہضام کے میٹابولزم کو تیز کرنے کے کام آتا ہے۔ جبکہ فش میل پولٹری کے لیے ضروری امائنو ایسڈ جیسے لائیسین اور میتھی اون شامل ہوتے ہیں اس کے علاوہ فش میل میں ضروری منرلز شامل ہوتے ہیں۔

    اب اس ساری فیڈ میں جو چیز یا را میٹریل ہمیں باہر سے منگوانا پڑتا ہے وہ سویا بین میل ہے۔سویا بین اور سویا بین میل یہ دو مختلف چیزیں ہیں سویا بین کی جب کرشنگ کی جاتی ہے تو اس دوران جو سویا بین آئل کے ساتھ جو چیز بچتی ہے اس کو سویا بین میل کہتے ہیں۔ چوتھی سٹیج میں ہمیں روسٹڈ سویا بین چاہیے ہوتا ہے۔ اور یہ ہم باہر سے منگواتے ہیں۔

    2018 سے پہلے تک پاکستان پام آئل اور سویا بین کے ذریعے ہی ایکسٹریکشن کرکے سویا بین آئل سے ہی بناسپتی گھی اور بناسپتی آئل تیار کرتا تھا لیکن چونکہ یہ امپورٹ کرنا پڑتا یے جس امپورٹ بل متاثر ہوتا تھا تو عمران خان نے سویا بین کی بجائے سرسوں کو پروموٹ کرنا شروع کردیا۔ جس سے ایک تو سرسوں کی کاشت بہتر ہوئی اور دوسرا سویا بین سے امپورٹ بل کم ہوا۔اس سے لوکل کسان کو بھی کافی فائدہ ہوا۔

    لیکن پولٹری فیڈ میں سویا بین اور سویا بین کا متبادل کوئی نہیں ہے۔ اب روف کلاسڑہ اور طارق چیمہ کے پالتو یہ افواہیں پھیلارہے کہ سویا بین جس کمپنی کا ہے وہ کمپنی امریکن جی ایم او کمپنی ہے اور اس کا سویا بین حرام ہے، مکس بریڈ ہے وغیرہ وغیرہ۔۔جبکہ یہ چ و تیئے اس قوم کو 2018 سے پہلے اسی کمپنی کے سویا بین کا بناسپتی گھی اور بناسپتی تیل میں فرائی کرکرکے پکوڑے اور سموسے کھلاتے رہے اور مچھلی فرائی کھلاتے رہے اور اب یہ بیج حرام ہوگیا۔۔

    جبکہ اصل ایشو یہ ہے کہ ایک تو ایل سیز کی وجہ سے لوگ سویا منگوا نہیں پارہے اور جو منگوا رہے ہیں۔۔ان کے ساتھ یہ ظلم کیا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے سویا بین پر جو سبسڈی دی ہوئی تھی عمران خان کی گورنمنٹ میں۔۔اس سبسڈی کو ختم کردیا ہوا جس کی وجہ سے امپورٹر اور امپورٹڈ حکومت کے درمیان پھڈا پڑا ہوا ہے اور سارا مال کراچی میں سیز کردیا گیا ہے اور یہاں پاکستان میں پولٹری کو فیڈ کی فراہمی ڈسٹرب ہورہی ہے۔ ابھی تو سٹاک میں موجود فیڈ چل رہی ہے۔اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو دسمبر کے بعد یہاں پولٹری پر دما دم مست قلندر ہوگا۔

  • پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے تحریری مقابلے کا انعقاد — بلال شوکت آزاد

    پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے تحریری مقابلے کا انعقاد — بلال شوکت آزاد

    سیگریٹ نوشی اور منشیات کے حوالے سے میں پہلے بھی ایک بلاگ میں بتاچکا ہوں کہ مجھے اس حرکت سے کس قدر نفرت ہے؟

    خیر پاکستان پیکٹ اور کرومیٹک اس حوالے سے پاکستان میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں تاکہ عوام کو ناصرف تمباکو نوشی کے مضر اثرات بارے آگاہی حاصل ہو بلکہ ساتھ ساتھ یہ پلیٹ فارمز اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاستی اور حکومتی سطح پر ایسی قانون سازی ہو اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے تمباکو نوشی کے عفریت کو لگام ڈالی جاسکے۔

    اس مقصد سے پاکستان پیکٹ اور کرومٹیک باہمی اشتراک سے مختلف کیمپینز اور عوامی آگاہی پروگرام اور مقابلہ جات منعقد کرتے رہتے ہیں جس میں ڈیجیٹل میڈیا کی حد تک باغی ٹی وی ان کے شانہ بشانہ رہتا ہے۔

    پاکستان پیکٹ کا مقصد حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ہمارے بچوں کو مہلک سگریٹ سے محفوظ رکھیں۔

    2015 میں PHW کے سائز کو فی پیک 85 فیصد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ تاہم، تمباکو کی صنعت کے دباؤ کے تحت، حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور اس کے بجائے 2017 میں ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں صرف 60% PHW کا اعلان کیا گیا، جو اس وقت نافذ العمل ہے۔

    پاکستان پیکٹ کا مقصد وزارت صحت کو اس مشن میں شامل کرنا ہے کہ وہ سگریٹ کے پیک کے PHW سائز پر غور کرے اور اسے 85% تک بڑھائے۔

    مزید یہ کہ پاکستان تمباکو کنٹرول پر ایف سی ٹی سی – ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن کا دستخط کنندہ ہےکیونکہ پاکستان میں تمباکو کا استعمال بہت زیادہ ہے جو کہ درحقیقت اموات کی بلند شرح کی نشاندہی کرتا ہےجبکہ تمباکو کے بڑے فروخت کنندہ کی طاقت کے استعمال کی وجہ سے قوانین کے نفاذ میں اب بھی بہت سی خامیاں موجود ہیں۔

    تشویشناک بات یہ ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد بچوں پر مشتمل ہےاس لیے ہماری نسل نو کے صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے میں ایک اہم قدم تمباکو کی مصنوعات تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔

    تاہم، تمباکو کمپنیوں نے بھی احتیاط سے اس کی نشاندہی کی ہے اور وہ مسلسل "متبادل تمباکو نوشی کرنے والوں” کی تلاش میں ہیں۔

    لہٰذا، مخالفت کی مہمیں جو عام سے خواص دونوں طبقوں کو مربوط کرتی ہیں تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کا کامیابی سے مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

    انہی مقاصد کو عوام تک پہنچانے میں پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی پیش پیش ہیں اور اس حوالے سے عوامی مقابلوں کا وقتاً فوقتاً انعقاد کرکے اس مقدس مشن کو پھیلا رہے ہیں۔

    اس سال پہلے پوسٹ کارڈ مقابلے کا کامیاب انعقاد کیاتھا اور اب سال کے آخر میں تحریری مقابلہ منعقد کروایا جارہا ہے حس کی تفصیل دی جارہی ہے۔

    جو لوگ لکھنے کا ہنر جانتے ہیں وہ ضرور اس تحریری مقابلے کا حصہ بن کر پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے شانہ بشانہ ہوں۔

    تحریری مقابلہ شروع ہونے کی تاریخ یکم دسمبر 2022 ہے۔

    کرومیٹک, پاکستان پیکٹ اور باغی ٹی وی لایا ہے تحریری مقابلہ سیزن 01

    انعامی رقم

    پہلا انعام = مبلغ دس ہزار روپے صرف!!!

    فاتح کا اعلان پاکستان کے تمام ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا کے سامنے ایک شاندار تقریب میں کیا جائے گا۔

    عنوان اور تھیم = ہیلتھ لیوی (صحت ٹیکس)

    کون کون حصہ لے سکتا ہے؟

    بھئی, کوئی بھی پاکستانی شہری جس کی عمر 12 سے 30 سال تک ہو تحریری مقابلے میں شامل ہونے کا اہل ہے۔

    کس طرح شرکت ممکن ہے؟

    اپنی انٹری یا تو بلاگ، مضمون، فیچر یا کسی بھی اور تحریری صنف میں لکھ سکتے ہیں۔

    تحاریر کیسے بھیجیں؟

    1-سب سے پہلے کرومیٹک, پیکٹ پاک اور باغی ٹی وی کے ٹوئٹر, انسٹاگرام اور فیسبک اکاؤنٹس کو فالو کریں۔

    2- دیے گئے واٹس ایپ نمبر پر اپنی تحاریر ارسال کریں۔

    3- یا اپنے نام، شہر، عمر، رابطہ نمبر اور سامنے اور پیچھے کی CNIC تصویر کے ساتھ "” ای میل کے ذریعے اپنی تحاریر ارسال کریں۔

    مزید تفصیلات کے لیے Pakistanpact.com یا trustchromatic.com یا baaghitv.com کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔

    تحریری مقابلے کے فاتح کا اعلان 25 دسمبر 2022 میں کیا جائے گا۔

    پاکستان پیکٹ – کرومیٹک – باغی ٹی وی

    تو پھر سوچ کیا رہے ہو, اٹھاؤ قلم اور آؤ مد مقابل اور جیتو دس ہزار کی انعامی رقم وہ بھی ایک شاندار تقریب میں۔

  • کونسے رواج ختم ہونے چاہئے؟ — ریاض علی خٹک

    کونسے رواج ختم ہونے چاہئے؟ — ریاض علی خٹک

    مجھے بہت سے رواجوں سے شدید نفرت ہے. لیکن سارے رواج برے نہیں ہوتے. جیسے سواریوں والے سمندری جہازوں کا ایک رواج ہے. سمندر میں کوئی حادثہ ہو جائے تو لائف بوٹس پر سب سے پہلے بچوں کو بٹھایا جاتا ہے. اس کے بعد خواتین اور پھر مرد حضرات کی باری آتی ہے. جہاز کا کپتان سب سے آخر میں لائف بوٹ پر آئے گا.

    ہمارے معاشرے میں والد گھر کے جہاز کا کپتان ہوتا ہے. وقت کے اس سمندر میں خاندان کا سفینہ منزل کی طرف لے کر جانے کا بوجھ یہاں اکثر اسی تنہا کپتان کے کمزور کندھوں پر ہوتا ہے. وقت کا سمندر اس وقت امتحان پر ہے. مہنگائی کی منہ زور لہروں کے درمیان سے ضروریات زندگی کھینچ کر یہ سفر جاری رکھنا مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے.

    ایسے میں کچھ رواج بہت اچھے ہیں. مرد اپنی اکثر خواہشات کا گلا گھونٹ کر گھر کے بچوں اور خواتین کی زندگی آسان کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں. لیکن کچھ معاشرتی رواج بہت برے ہیں جو کپتان کی مشکلات کو ان پہاڑ نما موجوں کے مقابل کر دیتے ہیں جن کو سر کرتے کرتے وہ خود بھی تھک کر چور ہو جاتا ہے اور گھر کا سفینہ بھی شکستہ ہو جاتا ہے.

    معاشرہ اگر اپنے ان کمزور کپتانوں پر کچھ ترس کھائے اور رسم و رواجوں کو کچھ سمیٹ لے کچھ محدود کر لے تو بہت سے لوگوں کی زندگی آسان ہو جائے گی. وقت کے اس سمندر میں تنہا سفر نہیں ہوتے. بہت کچھ ہمیں ایک دوسرے کیلئے کرنا ہوتا ہے. رواج بھی وہ بھنور ہیں جس میں سے مل کر ہی نکلا جا سکتا ہے.

    آپ لوگ بتائیں کونسے رواج ختم ہونے چاہئے.؟؟

  • اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا (برٹل بون) Osteogenesis Imperfecta (OI) — خطیب احمد

    اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا (برٹل بون) Osteogenesis Imperfecta (OI) — خطیب احمد

    زینب بیٹی جسکی دو ہفتے قبل میں نے وڈیو بھی لگائی تھی۔ اپنے علم کے مطابق جینو ویلگم Genu Valgum اور سکالئیوسز Scoliosis ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ جب سے اسے ملا میں اس بچی سے رابطے میں تھا مسلسل ریسرچ کر رہا تھا۔ مرہم ایپ کے ذریعے کئی آرتھوپیڈک و نیوروسرجنز سے مشورہ کر رہا تھا۔

    آج زینب کی اپائنٹمنٹ لاہور سے آئے ہوئے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر ذکا اللہ ملک سے لی ہوئی تھی۔ زینب اپنے ماموں ذاد بھائی کے ساتھ صبح ہمارے گھر آئی۔ میری اہلیہ سے کافی دیر گپ شپ کرتی رہی۔ پھر ہم لوگ حافظ آباد زم زم ہسپتال گئے۔ ڈاکٹر ذکا اللہ ملک کے ساتھ ڈاکٹر خضر عباس سندھو بھی ڈائگنوسز میں شامل تھے۔ دونوں ڈاکٹرز کے پیلوک، پوری سپائن، دونوں ٹانگوں، دونوں بازوؤں، کندھوں کے ڈیجیٹل ایکسرے کیے۔ مکمل ہسٹری لی کچھ بلڈ ٹیسٹ کیے۔ اور ابتدائی طور پر اس نتیجے پر پہنچے کہ بیٹی کو جینو ویلگم، سکالئیوسز کے ساتھ اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے امپرفیکٹ بون فارمیشن۔ یعنی ہڈیوں کا ٹھیک سے نہ بننا۔ اس بیماری میں ہڈیاں بڑی کمزور ہوتی ہیں اور آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ یہ ایک پیدائشی جینیاتی بیماری ہے۔

    اسے پروفیشنلز او آئی (OI) کہتے ہیں۔ اس کے تین اور نام بھی ہیں۔ جو کہ یہ ہیں
    Fragilitas ossium
    Brittle bone disease
    Vrolik disease

    میں نے اس کی اب تک 19 اقسام پڑھی ہوئی ہیں جنہیں ٹائپ 1 سے ٹائپ 19 کے نام سے ہی عموماً جانا جاتا ہے۔ ابتدائی تشخیص میں زینب کو ٹائپ 1 جسے
    classic non-deforming osteogenesis imperfecta with blue sclerae
    کہتے ہیں۔ ڈائگنوز ہوئی ہے۔ مگر ابھی یہ کنفرم نہیں۔ ٹائپ 1 کے بچوں کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے۔ کہ انکی انکھ کا سفید حصہ مائنر سا نیلا ہوتا ہے۔ یہ ٹائپ 1 ویسے اس بیماری کی سب سے کم درجے پر ہڈیوں کا نقصان کرنے والی قسم ہے۔ تمام او آئی بچوں میں 50 فیصد کو یہی ہوتی ہے۔

    او آئی 1 بچوں کی اکثریت میں ریڑھ کی ہڈی ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ جوڑ بڑے کمزور ہوتے ہیں۔ پسلیاں بھی بیرل شیپ میں ہوتی ہیں۔ جوڑ ٹھیک سے نہیں بنے ہوتے۔ یہ سب کچھ زینب کے ساتھ بچپن سے ہے۔

    اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا کی بیماری عام طور پر دنیا بھر میں 15 ہزار بچوں میں سے 1 کو ہوتی ہے۔

    اسکی وجوہات جنیٹک میوٹیشن ہی ہمیشہ ہوتی ہیں۔ جب ہم جینیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مختلف جینز مختلف پروٹینز بنانے کا سافٹ ویئر اپنے اندر بلٹ ان رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی جین میں کوئی گڑ بڑ ہوجائے تو جس چیز کو بنانے کے وہ ذمہ دار ہوتے اس میں خرابی یا بگاڑ آجاتا ہے۔ سائنس کے اساتذہ یا سٹوڈنٹس جانتے ہیں کہ کولاجن نامی پروٹین ہمارے جسم میں ہڈیاں بنانے اور ان کی گروتھ کی ذمہ دار ہے۔

    اور کولاجن کتنی بنانی ہے کب بنانی ہے اسے کنٹرول کرنے کی ذمہ داری میرے مالک نے ایک خاص ننھی منھی سے شے جسے ہم COL1A1 جین کہتے کے ذمے لگا رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسکا دوسرا جین بھائی COL1A2 ہے جو یہی کام کرتا ہے۔ ان دونوں میں کوئی بھی گڑ بڑ ہمارے پورے ہڈیوں کے ڈھانچے کو کسی بھی طرح خراب کر دیتی ہے۔ یہ دونوں ہی 90 فیصد ہڈیوں کی فارمیشن کے ذمہ دار ہیں گو کچھ اور جینز جیسے FKBP10 بھی ان کا ساتھ دیتا ہے۔

    اس مرض سے متاثرہ لوگوں کا قد نہیں بڑھتا۔ زیادہ سے زیادہ تین فٹ تک یہ جا پاتے ہیں۔ اور سپائن تقریباً سب کی ٹیڑھی ہو جاتی۔

    اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا
    autosomal dominant pattern of inheritance
    پر کام کرتا ہے۔ یعنی ہر سیل کی ایک کاپی ہی ہمارے جینز میں سوئی ہوئی اس بیماری کو جگانے کے لیے کافی ہے۔ ٹائپ 1 سے 4 تک کے والدین میں سے کوئی ایک عموما اس کا کیرئیر ہوتا ہے۔ یعنی اس کے جینز میں یہ بیماری ہوتی ہے۔ جو جنیٹک ٹیسٹنگ سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ جنیٹک ٹیسٹنگ پر میں تفصیلی دو مضمون لکھ چکا ہوں انہیں آپ میری وال پر پن گئی پوسٹ میں دیے گئے لنک سے پڑھ سکتے ہیں۔

    علاج کیا ہے؟

    بچے کی عمر سب سے پہلے دیکھی جاتی۔ مجموعی صحت کا اندازہ لگایا جاتا۔ او آئ کے ساتھ جڑی ہوئی دیگر میڈیکل کنڈیشنز کو دیکھا جاتا ہے۔ کہ سرجری سے کوئی اور نقصان تو نہیں ہوگا۔

    ایسی دوائیاں مسلسل دی جاتی ہیں جو ہڈیوں کو مضبوط کریں۔

    بچے کا روز مرہ لائف میں گرنے چھلانگ لگانے وغیرہ کا رسک کم سے کم کیا جاتا۔

    کوئی لائٹ ویٹ بریس لگا دی جاتی۔

    سرجری بھی کچھ کیسز میں ہوتی ہیں۔

    کچھ بڑی ہڈیوں جیسے ران، پنڈلی، سپائن میں سٹیل کے راڈ بھی ڈالے جاتے ہیں۔

    بہت سے بچوں کے دانت بہت ٹیڑھے ہوتے ان کو کیپنگ بریسنگ کے ذریعے ٹھیک کیا جاتا۔

    فزیوتھراپی اور آکو پیشنل تھراپی ماہرین سے بہت ضروری ہے۔

    ٹیکنالوجیکل سپورٹ جیسے پاور ہائیڈرالک سسٹم والی وہیل چیئرز، سپیشلائزڈ کمپیوٹرز، کھانا کھانے کے چمچ گلاس وغیرہ ان کے لائف سٹائل میں ایڈ کئے جاتے۔

    دھکا لگا کر چلنے والی عام وہیل چیئر ان بچوں کے لیے سب سے خطرناک چیز ہے۔ اس میں ایک تو ان کی سپائن اور ڈیمج ہوتی۔ دوسرا ٹھوکر لگنے سے اکثر بچے اس کرسی سے نیچے گر کر ہڈیاں تڑوا لیتے اور فوت ہو جاتے۔

    ان کے لیے وہ وہیل چیئرز ہوتی ہیں جن پر بہت سے بیلٹ لگے ہوتے ہیں۔ بجلی سے چلتی ہیں۔ فلی آٹو میٹک ہوتی ہیں۔ کسی بھی طرح کی کھائی یا جمپ سے گزرنے پر الٹتی نہیں ہیں۔

    ہر کیس کو دیکھ کر اس کے لائف سٹائل اور علاج ک فیصلہ کیا جاتا ہے۔

    زینب بیٹی کے لیے دعاؤں کی درخواست ہے۔ اب ان دونوں ڈاکٹرز نے ہمیں لاہور ڈاکٹر سلطان کے پاس ریفر کیا ہے۔ ان شاءاللہ چند دن میں ہی لاہور کا وزٹ ہوگا۔

    سرجری تو مشکل ہے زینب کی ہو۔ سپائنل کارڈ بہت خراب ہو چکی ہے۔ سٹیل راڈ ڈل گیا تو قد بڑھنا رک جائے گا۔ گھٹنے کی ہڈیوں میں سے بھی ایک ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے۔ گھٹنے میں الگ پڑی ہوئی۔ گھٹنے کی سرجری بھی کسی خطرے سے خالی نہیں۔ میری سمجھ کے مطابق بچی کو ٹانگ اور سپائن کو سپورٹ دینے والے بریس لگانے کا ہم فیصلہ کریں گے۔ وہیل چیئر پر ابھی نہیں بٹھائیں گے۔ ورنہ جو تھوڑا بہت چل لیتی وہ بھی ختم ہوجانا ہے۔

    خیر ابھی کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے کئی اور طبی ماہرین کے وزٹ و میڈیکل پراسس ہونا باقی ہیں۔ دعاؤں کی درخواست ہے۔ اللہ تعالیٰ زینب بیٹی اور اس طرح کے دیگر بچوں کو اپنی پناہ میں رکھے۔ اور ہمیں ان کا ہاتھ تھامنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    میں اور ڈاکٹر ذکا اللہ ظہر کی اذان ہوجانے پر نماز پڑھنے مسجد جانے لگے تو زینب نے کہا انکل مجھے بھی لے جائیں۔ تو ہم اسے بھی ہسپتال کے اندر ہی واقع مسجد میں ساتھ لے گئے۔ ڈاکٹر صاحب بھی بہت جذباتی ہو گئے اتنی پیاری بچی کو دیکھ کر اور آئندہ بھی پورے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ کوئی ڈاکٹر اتنا وقت نہیں دیتا جتنا آج کوالٹی ٹائم زینب کو ملا۔

    ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے۔ کہ آپ جیسے سمجھ رکھنے والے لوگ والنٹیئرلی ایسے بچوں کے ساتھ آئیں تو ہمیں بڑی آسانی ہو۔ آپکو تو کچھ بتانا ہی نہیں پڑ رہا ہم کسی بھی ٹرم کا نام لیتے ہیں آپ تفصیل خود بتا رہے ہیں۔ والدین جو اکثر پڑھے لکھے نہیں ہوتے کو بات سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ بیماری کا سن کر کمرے میں مریض کے سامنے ہی رونے پیٹنے لگ جاتے۔ ہم پھر تفصیل بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ چپ کرکے اپنا علاج کرتے رہتے۔ اور وہ کہتے ڈاکٹر کو تو کچھ پتا ہی نہیں اس نے ہمیں کچھ بتایا ہی نہیں۔ اور آئے روز سادہ لوح لوگ کوئی کسے نئے ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے۔ اب لوگ بھی بیچارے کیا کریں۔ کس کو ساتھ لے کر جائیں۔ آج کے دور میں کون کسی کے لیے وقت نکالتا۔ ہر بندہ ہی اپنی لائف میں ایسا مصروف کہ اسکی ذات کے لیے بھی اس کے پاس وقت نہیں۔

    میں حیران ہوں۔ میرے مالک نے میرے وقت میں اتنی برکت کیسے ڈال دی ہے۔ چوبیس گھنٹے مجھے ایک ہفتے کی مانند لگتے ہیں۔

    دیکھیں کتنی ہیاری لگ رہی یہ بچی میری انگلی پکڑے ہوئے۔ میری زندگی کی یہ سب سے خوبصورت تصویر ہے۔ جس میں زینب نے میری انگلی پکڑی ہوئی۔

  • ٹک ٹاک آپ کی جاسوسی کر رہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    ٹک ٹاک آپ کی جاسوسی کر رہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    حالیہ دنوں میں بز فیڈ کی جانب سے لیک شدہ آڈیو سے ٹک ٹوک کے بارے میں یہ حیران کن باتیں پتا چلی ہیں؛

    ٹک ٹوک نا صرف کسی بھی یوزر کی گیلری تک رسائی رکھتی ہے بلکہ وہ یوزر کے فنگر پرنٹس سے لیکر ڈرافٹ میسجز تک اور ان سے لیکر کسی بھی شخص کو بھیجے گئے میسجز تک پڑھ سکتی ہے۔

    بات یہیں نہیں رکتی بلکہ وہ جمع شدہ یہ سارا ڈاٹا اپنے چائنیز سرورز کو بھیجتی ہے۔

    چائینیز سرور چونکہ بائیٹ ڈانس نامی کمپنی کی ملکیت ہیں سو وہ عوامی جمہوریہ چین کی سٹیزن سرویلنس پالیسی کے تحت کام کرتے ہیں جس کے تحت کسی بھی شہری کی معلومات کو جاننے کا ریاست کے پاس مکمل قانونی حق حاصل ہے۔

    ٹک ٹوک آپ سے حاصل شدہ یہ سب معلومات جس میں آپ کی دوسرے لوگوں سے کی گئی بات چیت تک شامل ہیں مانیٹر کرتی ہے اور پھر آپ کو مینپولیٹ کرنے کے لئے اور اس سے جدید ٹیکنالوجی بنانے کے لئے استعمال کرتی ہے۔

    انہی الزامات کی بنیاد پر بھارت میں اس ایپلی کیشن پر بین لگا تھا اور اب امریکہ میں بھی بین لگنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ وہیں پر امریکہ میں سرکاری ملازموں اور حساس اداروں کے ملازموں پہ ٹک ٹوک انسٹال کرنے پہ پابندی عائد ہے۔

    یاد رہے،

    پاکستان میں کسی بھی ادارے کے ملازمین پر ٹک ٹوک کے استعمال پہ کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔

  • نیا آپریٹنگ سسٹم آرہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    نیا آپریٹنگ سسٹم آرہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    قیاس یہی کیا جا رہا ہے کہ ایپل سٹور سے ٹوئٹر کو ہٹا دیا جائے گا اور تمام آئی فونز پہ آفیشل ٹوئٹر ایپ نہیں چل سکے گی۔ اس قدم کو فالو کرتے ہوئے فریڈم آف سپیچ کے ‘قاعدوں کی خلاف ورزی’ پر گوگل پلے سٹور سے بھی اس کو ہٹا لیا جائے گا۔

    لیکن،

    اس قدم کو اٹھانے سے ایلون مسک کی ایک دھمکی نے روکا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ایلون اپنا ایپ سٹور اور اپنا موبائل فون لانچ کر لے گا۔

    اسکا فائدہ کیا ہوگا؟

    اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ مقابلے کی فضا میں ہمیں ایک نئی، جدید اور بہترین موبائل کمپنی ملے گی جس کے پاس ایک بالکل نیا آپریٹنگ سسٹم اور پراسیسنگ سسٹم ہوگا۔

    اور

    حیران کن بات یہ ہے کہ نیا آپریٹنگ سسٹم مکمل طور پہ ڈی سینٹرلائزڈ مطلب ویب بیسڈ ہوگا جس کو بنانے کی خواہش مرحوم اسٹیو جابز کی تھی۔ اس میں میموری کیشے کی پرابلم بھی ختم ہو جائے گی۔

  • متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    2 دسمبر کو ہم متحدہ عرب امارات کا قومی دن منانے کے لیے تیار ہیں! اس سال۔ آئیے اس اہم دن کی تاریخی نسبت کو یاد کریں اور ان لوگوں کا احترام کریں جو متحدہ عرب امارات کی تشکیل کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ آئیے اس دن کی تاریخی اہمیت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تاریخ:
    متحدہ عرب امارات ہمیشہ اتنا طاقتور ملک نہیں تھا جتنا آج ہے۔ درحقیقت یہ ملک مختلف قبائل کے جھگڑوں کی بدولت مختلف ریاستوں میں تقسیم اور بکھرا ہوا تھا۔ 1820 میں، برطانیہ اس ملک کے تاریخی منظر میں داخل ہوا اور تحفظ دینے کے وعدے پر اس سر زمین کا کچھ کنٹرول مانگا۔ امن کے لیے بے چین، متعدد قبائل نے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور برطانیہ کو اپنے تنازعات کو حل کرنے کا ذمہ دار بنا دیا۔ لیکن 1968 میں، برطانیہ نے جنگ عظیم اول اور دوم کے بعد ہوئے مالی نقصانات کا سامنا کرنے کے بعد خود کو اس ملک کے منظر سے ہٹا دیا۔

    منظر نامے سے برطانیہ کے نکلنے کے بعد ابوظہبی، دبئی، عجمان، العین، شارجہ اور ام القوین کے حکمرانوں نے متحد ہونے کا فیصلہ کیا۔ 2 دسمبر 1971 کو امارات نے برطانیہ سے اپنی آزادی کا اعلان کیا اور متحدہ عرب امارات (UAE) بن گیا۔ بعد میں، راس الخیمہ ساتویں امارت نے بھی اس یونین میں شمولیت اختیار کی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بہترین حصہ کیا ہے؟ یہ انضمام اور نوآبادیاتی راج سے ان کی آزادی بغیر کسی تشدد کے حاصل کی گئی تھی!

    سات امارات کے اتحاد اور متحدہ عرب امارات کے اعلان کو نشان زد کرنے کے لیے، متحدہ عرب امارات کا جھنڈا جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آج بلند کیا گیا، اور متحدہ عرب امارات کے پہلے صدر کا انتخاب کیا گیا — شیخ زید بن سلطان النہیان, شیخ زید ابوظہبی کے امیر تھے اور سات امارات میں سب سے امیر تھے۔ آج، متحدہ عرب امارات کو ایک درمیانی طاقت اور ایک بااثر قوم کے طور پر پہچانا جاتا ہے جس کی ترقی کرتی ہوئی معیشت، تیل کے ذخائر، دنیا بھر سے سیاحوں کی آمد اور دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے کچھ اس کی پہچان ہے۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کے تمام شہری تسلیم کرتے ہیں کہ آج جو طاقت ان کے پاس ہے وہ صرف اس وجہ سے موجود ہے کہ ساتوں امارات نے 1971 میں متحد ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن ایک تاریخی موقع ہے جو اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی تشکیل کیسے ہوئی۔ اس دن کو منانا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس قوم کی تاریخ یاد دلائی جائے جس میں وہ رہتے ہیں۔ ماضی کو یاد کرنے سے اکثر نوجوانوں کے دلوں میں وطن کے لیے محبت پیدا ہوتی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تاریخ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کی مثال ہیں کہ تشدد اور جنگ کے بغیر آزادی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ دن سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے اور ترقی پسند بات چیت کا انتخاب کرنے کے لیے ایک تحریک کا کام بھی کرتا ہے۔آپ نے ‘تقسیم اور فتح’ کے بارے میں سنا ہے۔ ٹھیک ہے، متحدہ عرب امارات کی تشکیل بالکل ظاہر کرتی ہے کہ مخالف میں کتنی ہی طاقت ہو لیکن ایک دن اپنی جگہ چھوڑ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے اور اتحاد سے بڑی طاقت نہیں جو مخالف کو چاروں شانے چت کردے, لہذا ہر سال یو اے ای کا قومی دن منانا اسی طاقت کی یاد دہانی ہے۔

    متحدہ عرب امارات آج امن،ترقی اوربہترین حکمرانی کی پہچان کے طورپراقوام عالم میں فخرکے ساتھ کھڑاہے۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں فقیدالمثال پیش رفت کی ہے جوکہ ملک کوایک جدید ریاست اورترقی کرتی ہوئی معیشت میں تبدیل کرنے کیلئے متحدہ عرب امارات کی قیادت کے نظریہ اورعزم کامنہ بولتا ثبوت ہے متحدہ عرب امارات نے تجارت، مالیاتی خدمات،سیاحت،ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹ کیلئے عالمی معیارکے مرکزکے طورپر ابھرنے کیلئے شاندار پیش رفت کی ہے۔ یہ متاثرکن ترقی رواداری،جامع اقتصادی ترقی اور اختراع کوفروغ دینے سے ممکن ہوئی پاکستان اورمتحدہ عرب امارات کی موجودہ دوراندیش قیادت میں ہمارے دوطرفہ تعلقات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے دونوں ممالک کے مابین بھائی چارے کومضبوط بنانے میں کئی دہائیوں کے دوران نمایاں کردارادا کیا ہے۔

    پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ اور دائمی ہیں، 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے اسے آگے بڑھ کر نہایت پرجوش انداز میں نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ اس کی جانب دست تعاون بھی دراز کیا تھا اس وقت سے لے کر آج تک پاکستان نے دوستی کے اس رشتے کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اسے وسیع سے وسیع تر کرنے کی کوشش کی ہے پاکستانی کمیونٹی تب سے لے کر آج تک یو اے ای کی ترقی اور تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ دونوں ممالک میں تاریخی، ثقافتی اور معاشی رشتے قائم ہیں

    باغی ٹی وی انتظامیہ اپنے مسلم برادر ملک متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر اس برادر ملک کو قیام کی 51 ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ اس ملک کو اس ملک کے باسیوں کو ہمیشہ متحد رکھے اور یہ سرزمین دنیا بھر میں امن وبھائی چارہ کا باعث بنے ، کل 2 دسمبرکی مبارک تاریخ کو ریاست ہائے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر باغی ٹی وی انتظامیہ بھی یہ دن منائے گی اور متحدہ عرب امارات کے لیے کامیابیوں کے لیے دعا گو بھی ہوگی ،

  • کیا بیوی کی تنخواہ پر شوہر کا یا سسرال والوں کا کوئی حق ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    کیا بیوی کی تنخواہ پر شوہر کا یا سسرال والوں کا کوئی حق ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    آج کل اس مسئلے کی وجہ سے کئی جگہ ناچاقیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ سوچا اس پر کچھ لکھ دوں۔

    اپنے ذاتی اخراجات یا اپنی بچت کے لیے عورتیں پہلے بھی گھروں میں کوئی نہ کوئی کام کرتی تھیں مثلاً کپڑوں کی سلائی ، کڑھائی یا چھکوریاں وغیرہ بنانا۔ اس آمدن پر صرف عورت کا ہی حق ہوتا تھا اور اس میں کوئی اختلاف کبھی نہیں ہوا۔ اب بہت ساری عورتیں گھروں سے باہر نکل کر سارا دن جاب کرتی ہیں اور اس تنخواہ پر بھی ان کے مؤقف کے مطابق صرف ان کا ہی حق ہے۔

    یہاں میں اپنی رائے عرض کروں تو جو عورتیں گھروں میں رہ کر کام کرتی ہیں وہ اپنے فارغ اوقات میں سے کام کر کے اپنے لیے کماتی ہیں۔ جبکہ جو عورتیں پورا دن جاب کرتی ہیں وہ اپنے اصل کام یعنی گھرسنبھالنے والی ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر یہ کام کر رہی ہوتی ہیں۔

    اگر وہ مکمل طور پر سبکدوش نہ بھی ہوں تو بھی ان کی اس جاب کی وجہ سے گھر کے دوسرے افراد کو کہیں نہ کہیں سمجھوتا کرنا پڑ رہا ہوتا ہے۔ بچے یا تو گھر کے کسی دوسرے فرد کے پاس چھوڑنے پڑتے ہیں یا پھر ڈے کئیر میں۔ اس طرح بچوں کی تربیت اور ان کی اچھے سے دیکھ بھال متأثر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر عورت گھر میں رہے تو شام کو واپسی پر شوہر کو اچھے سے وقت دے سکے گی اور اس کا خیال بھی اچھے سے رکھ سکتی ہے۔ جبکہ سارا دن آفس میں کام کر کے تھک ہار کر لوٹنے والی بمشکل کھانا پکانا ہی کر سکے گی۔

    مہمانوں کی آمد پر سارا کچھ باہر سے ہی منگوانا پڑے گا۔ گھر میں اگر بوڑھے والدین ہیں تو ان کی خدمت کے لیے نہ وقت ہو گا نہ انرجی۔ ایسے میں اگر سسرال والے یا شوہر اپنی بیوی کو جاب کی اجازت دے رہا تو اس کا یہ مطلب کیسے لیا جا سکتا ہے کہ اس کی ساری تنخواہ پر صرف اس کا حق ہے؟

    یہاں ایک بات اور یاد رہے کہ آج کل ہونے والے رشتوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جاب والی لڑکی نہیں چاہیے اوراگر کوئی لڑکی شادی سے پہلے جاب کر رہی ہو تو وہ پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ شادی کے بعد جاب کی اجازت نہیں ہوگی۔ جاب چھوڑنی ہو گی۔ جاب والی لڑکیاں عام طور پر ایسے رشتوں کو ٹھکرا دیتی ہیں۔

    دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو باقاعدہ ڈھونڈھ رہے ہوتے ہیں کہ جاب والی لڑکی کا رشتہ ملے۔ انھیں شادی کے بعد بھی جاب پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ جاب والی لڑکیاں ایسے رشتوں کو پسند کرتی ہیں۔ لیکن یہاں پتہ نہیں وہ یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ وہ یہ رشتہ ہی جاب کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ اب اگر رشتہ ہی جاب کی وجہ سے ہو رہا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ساری تنخواہ پر لڑکی کا حق تسلیم کریں گے۔

    یہ چند ایک باتیں اگر ذہن میں بٹھا لیں تو یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    یہاں اپنی ایک پرانی تحریر کا اقتباس بھی شئیر کر دیتا ہوں جو اس بات کو مزید واضح کر دے گا۔

    معاشرے کی بنیادی اکیائی خاندان ہوتا ہے جو مرد اور عورت سے مل کر وجود میں آتا ہے۔ ہر خاندان میں دو قسم کی ذمے داریاں ہوتی ہیں۔

    ۱۔ باہر سے کما کر لانا

    ۲۔ امورِ خانہ داری جیسے کھانا پکانا، صفائی ستھرائی، بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ

    اب ان ذمے داریاں کو پورا کرنے کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔

    ۱۔ تمام ذمے داریاں کسی ایک پر ڈال دی جائیں۔ یقیناً کسی انتہائی مجبوری کے بغیر ایسا کوئی بھی نہیں کرے گا۔ اور ایسا تعلق کبھی بھی دیر پا نہیں ہو سکتا۔

    ۲۔ دونوں مل کر کمائیں اور دونوں گھر کے کام بھی مل کر کریں۔ بظاہر یہ آئیڈیل صورت لگتی ہے لیکن اس میں خاندان کا شیرازہ کس طرح بکھرتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس مغربی معاشرے کو دیکھ لیا جائے۔ بچے صبح سے شام تک کئیر سنٹرز کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ باہر کے کھانوں پر گزارہ ہوتا ۔ پھر جو لوگ میری طرح کافی عرصے سے یورپ میں رہ رہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو بھی دیرپا ، شادی شدہ جوڑے ہیں ان میں مرد ہاتھ تو بٹاتے گھریلو کاموں میں لیکن زیادہ تر کام خواتین ہی کرتی ہیں۔ اس طرح عورتوں کو ایک تو لازمی طور پر کام کر کے خود اپنے لیے کمانا پڑتا اور دوسری طرف گھریلو ذمینداریا ں بھی نبھانی پڑتی ہیں اور عورت پر دوہرا بوجھ ڈال دیا جاتا۔ اس لازمی طور پر کمانے کی وجہ سے عورتوں کو کیا کیا کام کرنے پڑتے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

    ۳۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ایک کمائے اور دوسرا گھریلو ذمہ داری نبھائے۔ اگر کوئی حقیقی طور پر صحیح معاشرہ قائم کرنا چاہے تو یہی صورت ہی سب سے بہتر ہے۔ کسی بھی ادارے، کمپنی، ملک وغیرہ میں مختلف لوگ مختلف کام ہی انجام دیتے ہیں۔ اس طر ح اس کا نظام چلتا۔ ذمے داریاں تقسیم ہو جاتیں اور سب کام صحیح طور پر چلتے ہیں اگر سب اپنے حصے کا کام کرتے رہیں۔ اب اس صورت میں مزید دو آپشن ہوتے ہیں۔

    الف۔ مرد کمائے اور عورت گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔
    ب۔ عورت کمائے اور مرد گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔

    اس میں کوئی دو رائے تو ہیں نہیں کہ اگر اس طر ح ذمے داریاں تقسیم کرنی ہوں تو کون کس ذمے داری کے لیے زیادہ موضوع ہے۔ مزید برآں اسلام جو پاکیزہ معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے اس میں بھی یہی صورت ممکن ہے کہ مرد کمائے اور عورت گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔ انسان کو بنانے والے نے خود مرد کو کمانے کا ذمہ سونپا ہے (سورہ النسا ، آیت ۳۴) اور وہی بہتر جانتا ہے کہ مرد ہی اس کام کے لیے سب سے زیادہ بہتر ہے۔

    لیکن اگر کسی کو اسلام کے اس فیصلے سے اختلاف ہے تو وہ دوسرا تجربہ کر کے دیکھ سکتا ہے۔ یعنی بیوی کمائے اور شوہر گھر سنبھالے۔ اول تو بیوی طعنے دے دے کر ہی مار دے گی کہ فارغ بیٹھے رہتے ہو۔ اور اگر یہ نہ بھی ہو تو جیسے ہی بیوی آفس سے گھر آئے شوہر پہلے ہی تیار بیٹھا ہو کہ چلو شاپنگ پر جانا ہے۔ یا یہ کہ آج کھانا باہر کھائیں گے۔ پھر ہر تھوڑے دنوں کے بعد ضد کہ مجھے میرے والدین کے گھر چھوڑ کے آؤ اور وہاں رہنے کے لیے پیسے بھی دو۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ تو دیکھیں کہ کتنے دن بیوی کماتی رہتی ہے۔

    آخر میں مردوں سے گزارش ہے کہ گھر کے کام کو عار نہ سمجھیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، جب وقت ملتا تو گھر کے کاموں میں اپنی ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ اور عورتوں سے گزارش کہ ذمے داریاں بانٹ کر نبھائی جائیں تو گھرانہ احسن طریقے سے چلتا رہتا ہے۔ اور اپنے والدین کے گھر کام کر کے اگر کوئی نوکرانی نہیں بن جاتی تو شوہر کے گھر کام کرنے سے کوئی نوکرانی کیوں بن جاتی ہے۔