Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • کیا مخصوص ایام میں عورت اچھوت ہو جاتی ہے؟ — ابو بکر قدوسی

    کیا مخصوص ایام میں عورت اچھوت ہو جاتی ہے؟ — ابو بکر قدوسی

    مذہبی طور پر مخلوط معاشروں کا بہرحال یہ المیہ ہوتا ہے کہ وہاں دوسرے مذاہب کے اثرات قبول کیے جاتے ہیں – ہمارے برصغیر میں ہندووں کی بہت سی عادات اور عقائد کو ہمارے لوگوں نے کم علمی کے سبب اپنا معمول بنا لیا – اس کمزوری سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم کو خود اپنے دین اور اس کی تعلیمات کا مکمل معلوم ہو –

    بائبل عہد قدیم کے مطابق عورت حائضہ عورت ناپاک ہوتی ہے جس برتن کو چھوٙئے وہ برتن توڑ دیا جائے جس بستر پر بیٹھے وہ بستر ناپاک جس کپڑے کو چھوئے وہ کپڑا ناپاک ایام حیض کے بعد غسل اور دو قمریوں کی قربانی گذرانے کے بعد پاک ہوتی ۔۔۔

    عرب کے یہود میں عورت کے حیض کے دن اس کو اچھوت بنا دیتے تھے ، اس کا کھانا پینا اور رہنا سہنا سب الگ کر دیا جاتا – یہی صورت ہمارے ہندستان میں ہندوں میں موجود رہی ہے ۔ہندووں میں بھی ان ایام میں عورت کو الگ کر دیا جاتا ہے ۔۔۔۔

    پاکستان میں گلگت کے ساتھ ملحق کافرستان کہلانے والے علاقے میں مقامی قبائل آباد ہیں ، جو ایام حیض میں عورتوں کے لئے الگ ایک مخصوص عمارت میں عورتوں بیٹیوں کو بھیج دیتے ہیں ۔

    دو برس پہلے بی بی سی اردو پر ایک خاتون کی کہانی نے عورت کی اس تذلیل کو ان لفظوں میں بیان کیا ، آپ اس کو پڑھیے ، آپ حیران ہو جائیں گے – خاتون کہتی ہیں :

    مجھے 12 برس کی عمر میں حیض آئے۔ میری ماں اور بھابھیاں حیض کے دنوں میں گھر سے باہر بنی مٹی کی ایک جھونپڑی میں رہا کرتی تھیں اس لیے میں نے بھی وہاں جانا شروع کر دیا۔ میں ہمیشہ ڈرتی تھی کہ جانے یہاں کیا ہوگا کیونکہ مجھے کیڑے مکوڑوں اور جنگلی جانوروں سے ڈر لگتا تھا۔

    مجھے بتایا گیا تھا کہ اِن دنوں میں کتابوں کو ہاتھ لگانا گناہ ہے اس لیے میں اپنے حیض کے دنوں میں سکول ہی نہیں جاتی تھی۔

    آج بھی حیض والی عورتوں کو مویشیوں کے باڑے میں جانے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ ان دنوں میں دودھ ، مکھن اور دہی استعمال نہیں کر سکتیں۔ مجھے بہت دکھ ہوا جب مجھے اپنے ہی گھر کے باڑے میں جانے نہیں دیا گیا۔ حیض کے دوران لوگ آپ کو کھانا بھی ہاتھ میں نہیں دیتے بلکہ آپ کے سامنے پھینک جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان دنوں میں آپ کو اپنے سے بڑوں کو چھونا بھی نہیں چاہیے۔”

    اسی تہذیب نے یہاں مسلمانوں کو بھی متاثر کیا …ابھی کچھ دن پہلے ایک دوست نے بتایا کہ ان کے علاقے میں حالت حیض کی صورت میں عورت کو کسی حد تک اچھوت ہی سمجھ لیا جاتا ہے اسی طرح ایک دوست نے بتایا کہ بچے کی پیدائش پر پلید سمجھتے ہیں چالیس دن تک اس کے ساتھ ہاتھ تک نہیں ملاتے سر پر ہاتھ نہیں رکھتے ۔۔یعنی حیرت ہے کہ عورت کے ہاں بچے کی پیدائش کی صورت میں بھی اس کو اچھوت سمجھ لیا جاتا ہے -اور بعض علاقوں میں چالیس دن تک عورت کا بستر ، برتن اور چارپائی غرض ہر شے الگ کر دی جاتی ہے – حالانکہ ان دنوں میں عورت زیادہ معزز ہوتی ہے ، اس کی تکریم معمول سے زیادہ کرنی چاہیے اور ان دنوں میں ہی اس کو آپ کی محبت ، ہمدردی اور ساتھ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے –

    کیونکہ : زچگی کی صورت میں ویسے ہی وہ ایک بڑی تکلیف سے گزر چکی ہوتی ہے ، ایسے میں اسے پل پل آپ کے پیار کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ آپ اسے اچھوت بنا دیں – ویسے بھی آپ جو اولاد کو ترس رہے ہوتے ہیں اور کبھی تو بیٹے کی خواہش میں مرے جا رہے ہوتے ہیں اور اس نے آپ کی خواہش کو اپنایت سے اپنے اندر چھپا لیا – آپ کی خواہش کی تکمیل کے لیے نو ماہ کی اذیت برداشت کی ہوتی ہے اور آپ اسے تنہا کر دیتے ہیں –

    اسی طرح حالت حیض میں بھی عورت آپ کی محبت کی معمول سے زیادہ حق دار ہوتی ہے کیونکہ وہ دن رات آپ کے خدمت میں کمربستہ ہوتی ہے ، آپ کے بچے پالتی ہے ، آپ کا کھانا بناتی ہے ، اور اگر ورکنگ وومن ہے تو کسی نہ کسی طور آپ کے حصہ کا کام بھی کرتی ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے عورت کو وراثت ملے ، یا خاوند کی کمائی سے کچھ بچا پائے یا نوکری کر کے تنخواہ لائے …. آخر گھر میں ہی خرچ کرتی ہے …تو ان مشکل دنوں میں وہ آپ کے ساتھ کی ضرورت مند ہوتی ہے جہاں تک ہمارے دین کا تعلق ہے اس کی تعلیمات ان دنوں کے حوالے سے بہت واضح اور روشن ہیں.

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب عورت حیض سے ہوتی تو یہودی اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں تھے اور نہ اس کے ساتھ گھروں میں اکٹھے رہتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "حائضہ سے ہر کام کرو سوائے جماع کے”۔
    [صحیح مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:302]

    دیکھا جائے تو یہ حدیث ہر معاملے کو واضح کر رہی ہے کہ سوائے ہم بستری کے ان ایام میں ان کے ساتھ ہر معاملہ جائز ہے – ایک یہ جہالت بھی پائی جاتی ہے کہ ان ایام میں بیوی کے جسمانی طور پر پاس جانا بھی گناہ ہے حالانکہ گناہ صرف ہم بستری یعنی صحبت ہے – اس کے علاوہ آپ اپنی بیوی سے محبت والے دیگر معاملات کر سکتے ہیں – میں پہلے لکھ چکا ہوں یہ دن عورت کے نارمل دن نہیں ہوتے اس کو ان دنوں میں زیادہ محبت کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ توجہ کی بھی …..اور محبت کا بہترین اظہار جسمانی قرب ہوتا ہے ..اور ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیه وسلم سے زیادہ کون نفسیات انسانی کو سمجھ سکتا تھا ..سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں :

    ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ‘حالت حیض میں’ ازار باندھنے کا حکم دیتے، سو میں ازار باندھتی۔ آپ مجھے گلے لگاتے تھے اور میں حیض والی ہوتی تھی۔”

    [صحیح البخاری، الحیض، باب مباشرۃ الحائض، حدیث:300، وصحیح مسلم، الحیض، باب مباشرۃ الحائض فوق الازار، حدیث:293]
    ایک اور حدیث میں ہے

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ‘میں اپنی اعتکاف گاہ’ سے مجھے بوریا پکڑانے کا حکم دیا۔ میں نے کہا کہ میں حائضہ ہوں۔

    آپ نے فرمایا:

    "تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔”

    [صحیح مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:298]

    اور میاں بیوی کی محبت اور پیار کی اس سے زیادہ کیا تصویر کشی ہو سکتی ہے ، اور شوہر کی توجہ کا مظہر اس سے زیادہ کیا انداز ہو سکتا ہے

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کو تکیہ بنا کر قرآن حکیم کی تلاوت کرتے تھے، حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔

    [صحیح البخاری، الحیض، باب قراء ۃ الرجل فی حجر امراتہ وھی حائض، حدیث:297، وصحیح مسلم، الحیض ، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:301]

    یہ تمام احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ دن عورت کو معزز اور محترم بناتے ہیں نہ کہ اچھوت –

    ایک واحد معاملہ اور پابندی ضرور ہے کہ ان ایام میں عورت عبادت کے لیے مسجد میں نہیں آ سکتی تو بھی اس میں کوئی امتیازی سلوک نہیں بلکہ ایک طرح کی سہولت ہے کہ ان دنوں میں تو عورت گھر میں بھی کسی بھی قسم کی فرض عبادت سے آزاد ہوتی ہے –

    لیکن اس خون کو نجاست ضرور قرار دیا گیا اسی سبب مسجد میں آنا بھی ممنوع ہے .

  • مبارکباد تو بنتی ہے!!! — عمر یوسف

    مبارکباد تو بنتی ہے!!! — عمر یوسف

    حدیث مبارکہ میں دو ایسے اشخاص کے لیے مبارکباد پیش کی گئی ہے جو اسلام کی نعمت سے فیض یاب ہوئے اور جنہیں قناعت کی صفت سے متصف ہونا نصیب ہوا ۔ اگر بنظر دقیق ان دونوں باتوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ دونوں چیزیں ہی اپنے اندر ایسی معنویت اور افادیت رکھتی ہیں ہیں کہ انسان بے ساختہ ان باتوں پر مبارکباد کا قائل ہوجاتا ہے ۔

    اسلام پانچ چیزوں کا نام ہے ۔ شہادتین ان میں اول نمبر پر ہے ۔ عقیدہ توحید ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو در بدر کا فقیر ہونے سے بچاتا ہے اور غیرت مند زندگی گزارنے کی راہ دیتا ہے ۔ انسان ہمیشہ کسی سہارے کو محسوس کرکے خود کی ڈھارس بندھاتا ہے اور ہمیشہ احساس تحفظ سے لبریز رہتا ہے ۔ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونا بلاشبہ ایسی نعمت ہے جس جیسی نعمت دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔
    انسانی زندگی کا ایسا ضابطہ حیات جو انسان کو دنیوی و اخروی طور پر کامیابی کی ضمانت دے یقینا وہ آپ علیہ السلام کی بدولت ہی میسر آسکتا ہے ۔

    اسلام میں دوسرے نمبر پر فرضیت نماز ہے جو مختلف اوقات میں انسانوں پر پانچ مرتبہ فرض ہے ۔ نمازوں کے اوقات ایک طرح سے انسانوں کے لیے بریک ٹائم ہیں دن بھر کام کے دوران انسان کچھ وقت کے لیے دنیا سے لاتعلق ہوکر بس یکسوئی سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس سے ذہنی و قلبی اطمینان سے مستفیض ہوتا ہے ۔ مزید برآں انسان نماز کی ادائیگی سے ایک طرح کی ورزش بھی کرلیتا ہے ۔

    گویا جہاں خدا راضی ہوتا ہے وہیں پر دنیاوی فوائد بھی حاصل ہوگئے ہیں ۔ تیسرے نمبر پر روزہ ہے جس سے انسان کو جسمانی و روحانی برکات کا حصول ممکن ہوتا ہے ۔ سارا سال کام کرنے والے معدے کو آرام ملتا ہے ۔ اور جدید تحقیق کے مطابق کینسر سمیت متعدد بیماریوں سے انسان محفوظ رہتا ہے ۔ غریبوں کی بھوک اور تنگیوں کا بھی احساس ہوتا ہے جس سے انسان کا دل نرم ہوکر بندوں اور بندوں کے خدا دونوں کے لیے نرم ہوجاتا ہے ۔

    چوتھے نمبر پر زکوہ ہے جس سے معاشرے میں موجود طبقاتی عدم مساوات کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ دولت ایک جگہ اکٹھی ہونے کی بجائے گردش میں آتی ہے اور غریب طبقہ بھی انسانی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجاتا ہے جس سے انفرادی و اجتماعی سطح پر استحکام کا حصول ممکن ہوتا ہے ۔

    پانچویں نمبر پر حج ہے جس میں سارے مسلمان بقدر استطاعت سال بعد بیت اللہ میں جمع ہوتے ہیں اپنی اجتماعیت پر ناز کرتے ہیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں میں ایک مضبوط رشتہ اخوت اسلام کی نسبت سے قائم ہوجاتا ہے ۔ جہاں ان کو قوت ایمانی و رشتہ انسانی میسر ہوتا ہے وہیں پر سیر و سیاحت کا بھی موقع مل جاتا ہے ۔

    اسی طرح قناعت پر مبارکباد دی گئی ہے ۔ اور قناعت بھی اپنے اندر لا محدود معنویت رکھتی ہے اور کثیر فوائد سے لبریز ہے ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ دل اور نفس کی تمام بیماریوں کا علاج قناعت میں ہے ۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان تسلیم و رضا کا مظاہرہ کرتے ہوئے خدا کی دی گئی نعمتوں اور عطاوں پر راضی ہوجائے ۔ اس کے بعد خواہشات ، لالچ ، حرص ، حسد ، بغض اور دیگر نفسانی آلائشوں سے انسان محفوظ ہوجاتا ہے ۔

    یوں حدیث کے پہلے اور دوسرے حصے کا جائزہ لینے سے انسان عش عش کر اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ واقعی جن کو یہ دونوں نعمتیں میسر ہیں ان کے لیے مبارکباد تو بنتی ہے ۔

  • ڈگری کو چھوڑنے کی بات!!! — ضیغم قدیر

    ڈگری کو چھوڑنے کی بات!!! — ضیغم قدیر

    بل گیٹس نے یونیورسٹی چھوڑی، مارک زکر برگ نے یونیورسٹی چھوڑی، سٹیو جابز نے چھوڑی وغیرہ وغیرہ

    یہ جملہ آئے روز سننے کو ملتا ہے مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ انہوں نے یونیورسٹی چھوڑی تو تب انکی پوزیشن کیا تھی اور ان کو سپورٹ کرنیوالا کون تھا؟

    جس وقت ان سب نے یونیورسٹیوں کو چھوڑا اس وقت یہ اپنی کمپنیاں بنا چکے تھے اور وہ کمپنیاں اتنی زیادہ آؤٹ ریچ پر پہنچ چکی تھی کہ ان کے لئے یونیورسٹی اور کمپنی دونوں ایک ساتھ چلانا مشکل ہوگیا تھا۔ سو انہوں نے ڈگری پہ کاروبار کو ترجیح دی۔ اور کمپنیز کو مزید ترقی دینے پر لگ گئے۔

    لیکن یہاں فائنل سٹیپ بتا کر پہلے سٹیپ نہیں بتائے جاتے۔

    کیوں؟

    کیونکہ پہلے سٹیپ محنت طلب ہیں، جبکہ فائنل سٹیپ سب سے زیادہ آسان اور دل کو لبھانے والا ہے اور انسانی نفسیات ہے کہ وہ آسان باتیں سننا پسند کرتا ہے اور محنت طلب باتوں اور کاموں سے بھاگتا ہے۔

    آسان بات یہ ہے کہ تمام ارب پتی یونیورسٹیوں سے ڈراپ آؤٹ ہوئے تو ارب پتی بنے۔

    مشکل بات یہ ہے کہ یہ سب ارب پتی امریکہ میں رہ رہے تھے، وہاں پر انہیں اچھی سکول ایجوکیشن ملی، بعد میں کالج میں انکی پروفیشنل ڈیولپمنٹ پہ کام ہوا، کالج کے دوران ان کا واسطہ اس ٹیکنالوجی سے ہوا جو غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے آپ اور ہم نے پانچ دس سال بعد دیکھنی تھی اور پھر اس ٹیکنالوجی کو پروفیشنلی پراڈکٹ میں بدلنے کے لئے ان کے پاس ملکی وسائل تھے جس میں آسان قرضے سے لیکر والدین کے پیسے تک سب موجود تھا۔ ان پر کسی قسم کا سوشل پریشر نہیں تھا کہ آپ کی کمپنی فلاں کے مذہب، عقیدے وغیرہ کو ٹھیس پہنچائے گی نا ان سے کسی نے یہ پوچھا کہ آپ سلفی ہیں یا مقلد ہیں یا قادیانی، نا ہی ان کو آپ کے والے مسائل تھے کہ بائیس پچیس سال کی عمر تک آپ کی سیکس لائف مکمل ہوئی کہ نہیں، سب کی گرل فرینڈز تھی سو وہ نفسیاتی طور پر آزاد رہ کر کسی بھی آئیڈیا پہ کام کر رہے تھے اور ان کا معاشرہ اور ملک سپورٹ کر رہا تھا۔

    پھر جا کر انکی کمپنیاں جب ملین ڈالر سے زائد کے کیپیٹل پر پہنچی تو انہوں نے کالج سے ڈراپ آؤٹ ہونا پسند کیا۔

    اب یہاں سوال پیدا ہوتے ہیں۔۔۔کہ

    کیا آپ کے ملک میں آپ کے پاس نئے آئیڈیاز سوچنے کے لئے وسائل دستیاب ہیں؟ کیا آپ زندگی کے بنیادی سروائیول کی پسوڑیوں مطلب شادی یا سادہ الفاظ میں سیکس لائف کی پسوڑی سے نکل چکے ہیں؟ کیا آپ کا ملک آپ کو آپکی کمپنی کے لئے خام مال باآسانی دے سکتا ہے؟ کیا آپ کے ملک میں ٹیکنالوجی اس لیول پہ ہے جس پر ایک ہارورڈ کا طالب علم دیکھ رہا ہے؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کی کمپنی میں لوکل انویسٹر شئیر خریدیں گے؟ اور کیا آپکے ملک میں لانگ ٹرم پہ بزنس پالیسی موجود ہے؟

    ان سب سوالوں کا جواب نا میں ہوتا ہے۔

    سو پھر ڈگری کو برا کیوں کہا جائے؟ پھر سیدھا نقطہ یہ ہے کہ آپ سماج کو بدلیں یا اسے چھوڑ دیں پھر جا کر آپ کچھ نیا بنا سکیں گے۔

    اس وقت ہمارا ملک ایک کنزیومر ملک ہے جہاں پر پروڈیوسر بننے کی سوچ کے پیچھے ہزاروں چیلنجز ہوتے ہیں۔ آئیڈیاز ہیں تو وسائل نہیں وسائل ہیں تو آئیڈیاز نہیں اگر دونوں ہیں تو ملکی پالیسیز نہیں ہیں۔

    پاکستان کا سب سے بڑا سٹارٹ اپ میرے خیال سے دراز ہے اور پھر ائیر لفٹ تھی، دراز کے سی او نے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں غیر یقینی کی صورتحال دیکھ کر بہت سے آپریشن محدود کریں گے، جبکہ ائیر لفٹ تو مکمل بند کر دی گئی۔ ائیر لفٹ کیساتھ ساتھ کریم اور دیگر ہزاروں چھوٹے سٹارٹ اپس بند ہو گئے۔

    اب یہاں سٹارٹ اپس کے بند ہونے کی وجہ FDI یا فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کا بند ہونا ہے۔ کیونکہ ہمارا لوکل انویسٹر تو دھیلا خرچنا نہیں چاہتا۔ آپ ایک آئیڈیا لائیں اس پر کمپنی بنائیں، لوکل مارکیٹ میں سے کوئی بھی انویسٹ نہیں کرے گا سارا زر باہر سے لانا پڑے گا۔

    وہیں ایک ہاؤسنگ سکیم بنائیں دھڑا دھڑ پلاٹ بکیں گے، انویسٹمنٹ آئے گی پیسہ آئے۔

    مطلب مارکیٹ کی ڈائنامکس ہی کنزیومر بیسڈ ہے پروڈیوسر کو کوئی یہاں پنپتا نہیں دیکھ سکتا۔

    ایسے میں حل یہی ہے باہر جائیں ڈھیر سا پیسہ کما کر یا تو وہاں ہی کمپنی لانچ کریں یا یہاں آ کر لانچ کریں اور پراڈکٹس باہر ایکسپورٹ کریں۔

    مگر باہر جانے کے لئے آپ کو پراپر یونیورسٹی ایجوکیشن چاہیے، اچھا جی پی اے اور سکالرشپ سو اس کے لئے ڈگری پر محنت کریں، 3.4 سے اوپر جی پی اے رکھیں، پرسنل گرومنگ سیکھیں، خود کو پریزنٹ کرنا سیکھیں اور یہاں سے نکلنے کی کوشش کریں۔ ڈگری کو چھوڑنے کی بات کرنے والے ڈفر خود ایک پرزہ تک نہیں بنا سکتے سو ان کا چورن مت خریدیں۔

  • کامیابی کا سفر — ریاض علی خٹک

    کامیابی کا سفر — ریاض علی خٹک

    کمر کے بل سر جھکائے پانی کے تالاب نما کھیت میں چاول کی کھیتی کبھی دیکھی ہے.؟ اکثریت سوچتی ہوگی شائد چاول کیلئے کھڑے پانی میں کاشت لازم ہے. لیکن ایسا ہے نہیں. کھڑے پانی میں چاول اس لئے لگایا جاتا ہے کہ خودرو گھاس چاول کی فصل کے جڑ پکڑنے سے پہلے کھیت میں جگہ نہ بنالے. یہ پانی گھاس اُگنے نہیں دیتا.

    کامیابی کا سفر جتنا خاموش ہو اتنا اچھا ہوتا ہے. ہماری اکثریت کامیاب ہونے کی بجائے کامیاب ہو کر دکھانا چاہتی ہے. دکھاوے کی یہ خواہش ان سے سفر سے پہلے ہی اعلانات شروع کروا دیتی ہے. آس پاس عزیز دوست رشتہ دار اپنے پرائے پھر تماشائی بن جاتے ہیں. اتنی نظروں کے بوجھ تلے یہ پھر خود بھی گھبرا جاتے ہیں اور ان کا سفر بھی ڈگمگا جاتا ہے.

    ارسطو کہتا تھا آپ تنقید سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر نہ تو کچھ کریں نہ بولیں اور نہ ہی کچھ بنیں. لیکن اگر آپ بولنا بھی چاہتے ہیں کچھ کرنا اور بننا بھی تو تنقید لازم ہوگی. اس لئے بہتر ہے کہ تنقید کیلئے خود کو تب دستیاب کریں جب کامیابی کی فصل نے جڑ پکڑ لی ہو اور اس لہلہاتے کھیت کو چھپانا اب ممکن نہ ہو.

    فزکس میں سکیل اس مقدار کو کہتے ہیں جو ہو یعنی فاصلہ رفتار حجم کمیت وغیرہ لیکن ویکٹر اسے کہتے ہیں جہاں مقدار بھی ہو اور اس کی سمت بھی ہو. بے چینی اینزائٹی سکیلر مقدار ہے. جبکہ خوف ویکٹر ہوتا ہے. کامیابی کا سفر بے چین رکھتا ہے لیکن سفر سے پہلے اسکا شور اور اعلانات اسے باقاعدہ وہ خوف بنا دیتا ہے جو سب کی نظروں اور تنقید کے تیروں کو ایک سمت دے کر آپ کو میدان میں کھڑا کر دیتا ہے.

  • سکول رزلٹ کارڈ — ریاض علی خٹک

    سکول رزلٹ کارڈ — ریاض علی خٹک

    فلم تھری ایڈیٹس میں عامر خان چتر کی تقریر میں کچھ الفاظ بدل دیتا ہے. یہ کچھ الفاظ ہندی سے نابلد چھتر کی خوب بے عزتی کروا دیتے ہیں. غصے میں چھتر کالج کی ٹینکی پر ایک تاریخ لکھتا ہے. آج سے دس سال بعد فیصلہ ہوگا کون کامیاب اور کون ناکام ہے.؟

    میرے خیال میں سکولوں میں پوزیشن ہونی ہی نہیں چاہئے. یہ سمجھ کا کم یادداشت اور قسمت کا زیادہ کھیل بن جاتا ہے. سکولوں کا مقصد ایک نسل کا اپنی نئی نسل کو اس مقام تک لانا ہوتا ہے جس مقام پر آج کی نسل کھڑی ہے. اول دوئم سوئم پوزیشن ایک نسل دنیا کے میدان میں بناتی ہے، حاصل کرتی ہے اور منواتی ہے. اکثر سکول کلاس کے ٹاپرز زندگی کے میدان میں پیچھے اور کلاس کے کمزور بچے اس میدان میں آگے کھڑے ہوتے ہیں.

    کیا سکول رزلٹ کارڈ حقیقت کے میدانوں کے ترجمان ہیں.؟ آپ کے سکول میٹرک کے طلباء کی پوزیشن فرض کیا پندرہ سال بعد آج ایوارڈ ہوں. اپنے اپنے میدان میں پوزیشن اور کامیابی اگر معیار ہو تو نتیجہ کیا ہوگا.؟ آپ بھی سوچیں اور بچوں کا پوزیشن سٹریس کم کرنے کا حوصلہ کریں. ہم سسٹم تو نہیں بدل سکتے لیکن کسی کی پریشانی کو کم ضرور کر سکتے ہیں.

    وقت اکثر چتر کی طرح ان کی یادداشت کے چند لفظ آگے پیچھے کر دیتا ہے. زمانے کے قہقہے نکل جاتے ہیں اور یہ بچارے اپنی ذات میں سمٹ کر گُم ہو جاتے ہیں.

  • روشنی اور پتنگے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    روشنی اور پتنگے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پتنگے اور دیگر حشرات الارض جو اُڑتے ہیں ان میں ایک نیویگیشن سسٹم سا لگا ہوتا ہے جو انہیں رات کی تاریکی میں چاند۔ کی روشنی کی مدد سے راستہ بتاتا ہے۔ یہ نیویگیشن سسٹم ایک سادہ سے اُصول پر مبنی ہے جسے ٹرانسورس اورئینٹیشن کہتےہیں۔ اب یہ کیا بلا ہے؟ ٹرانسورس اورئنٹیشن دراصل یہ ہے کہ ایک پتنگا اپنی اُڑان کے دوران چاند سے ایک مستقل زاویے پر رہتا ہے جس سے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کس سمت جانا یے یا کونسی سمت بدلنی ہے کہ چاند سے اسکا زاویہ ہمیشہ ایک رہے۔

    اب چاند چونکہ زمین سے دور ہے اور آسمان میں اپنی جگہ آہستہ سے بدلتا ہے لہذا ایک پتنگے کا چاند سے ایک مستقل زاویہ رکھ کر اُڑنا آسان ہے۔ پتنگے کے نقطہء نظر سے چاند اسکی اُڑان کے وقفے میں جگہ نہیں بدلتا۔ ویسے ہی جیسے آپ سڑک پر گاڑی دوڑاتے جائیں اور چاند بھی آپکو اپنے ساتھ دوڑتا نظر آتا ہے۔ ہم انسان بھی اس طریقہ کار کو ماضی میں استعمال کرتے رہیں راستہ ڈھونڈنے کے لیے جب ہم قطبی ستارے سے شمال کی سمت کا تعین کر کے لمبے راستوں پر سفر کیا کرتے تھے۔

    مگر پتنگے کی قسمت خراب کہ انیسویں صدی میں ایڈیسن صاحب آئے اور بلب کی ایجاد کو پیٹنٹ کر دیا۔ اب ہر طرف برقی قمقمے ہیں۔ دنیا میں چوبیس گھنٹے ہر جگہ جہاں انسان رہتے ہیں وہاں روشنی رہتی ہے۔ چاہے سورج کی ہو یا بجلی سے جلے مصنوعی بلب اور روشنیوں کی۔

    چونکہ اس عمل کو گزرے چند صدیاں ہی ہوئی ہیں لہذا پتنگے اور دیگر حشرات ارتقائی طور پر اس تبدیلی کو کہ اب ہر طرف رات میں مصنوعی روشنیاں ہوتی ہیں، میں خود کو مکمل ڈھال نہیں سکے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جب ایک پتنگا یا کیڑا روشنی کے قریب آتا ہے تو اسکی آنکھیں تیز روشنی سے اول تو چندھیا جاتی ہیں کیونکہ انہیں چاندکی مدہم روشنی کی عادت ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ بلب یا مصنوعی روشنیوں کے ساتھ پتنگے مستقل زاویہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو چونکہ یہ روشنی انکے بے حد قریب ہوتی ہے تو مستقل زاویہ رکھنے کے چکر میں یہ چکرا جاتے ہیں اور دائرے میں گھومنے لگتے ہیں۔ یوں بیچارے پتنگے صبح تک گھومتے گھومتے تھک کر نڈھال ہو جاتے ہیں اور دم توڑ دیتے ہیں۔ روشنی کے بلبوں سے بار بار ٹکرا کر اور بلب سے آتی حدت سے انکی ننھی جانیں دارِ فانی کو کوچ کر جاتی ہیں۔

    اقبالِ لاہوری کا ایک شعر تھا:

    مگَس کو باغ میں جانے نہ دیجیو
    کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

    مگس یعنی شہد کی مکھی کو باغ میں نہ جانے دو کہ وہ پھولوں سے رس چرائے گی اور شہد کے ساتھ موم بھی بنے گا جس کی شمع سے پروانے جل جائیں گے۔
    اتنا لمبا کنکشن بنانے پر میں اقبالِ لاہوری کو داد دیتا ہوں۔مگر اس شعر میں زمانے کے مطابق تبدیلی کچھ یوں ہونی چاہئے تھی۔

    ایڈیسن کو لیب میں جانے نہ دیجیو
    کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

    و آخر دعوانا

  • جدید خاندانی منصوبہ بندی — خطیب احمد

    جدید خاندانی منصوبہ بندی — خطیب احمد

    ہم مڈل کلاسیوں کی شادیوں میں شادی لڑکے کی ہو یا لڑکی کی جتنی بھی سادگی برتی جائے نہ نہ کرتے اخراجات قرض لینے کی سطح تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ گھر کی خواتین لڑکے اور لڑکی دونوں سائیڈ سے زیور کے بغیر شادی کو حرام سمجھتی ہیں۔ شادی کے بعد اکثریت میں جوڑے مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور وہ مشکلات پلس خاوند کی مالی حیثیت تب اور واضح ہو جاتی جب پہلے دوسرے ماہ ہی خوشخبری آجاتی۔

    بھائی یورین ٹیسٹ پازیٹو آنے کے فوری بعد کسی تجربہ کار ریڈیالوجسٹ سے اسکین کروا کر پریگنینسی کی لوکیشن معلوم کرنا ہوتی ہے۔ اور پھر اس اسکین کے ساتھ گائناکالوجسٹ سے ملنا ہوتا ہے۔ بنیادی ٹیسٹنگ اور اگر کسی دوا کی ضرورت ہو تو وہ شروع کر دی جاتی ہے۔ 20 روپے کی سٹک سے یورین ٹیسٹ کرکے گھر نہیں بیٹھنا ہوتا۔

    اگر خوشخبری ملنے پر آپکے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں۔ اور یہ کام اتنی جلدی ہو گیا ہے کہ ابھی شادی کا بھی قرض باقی ہے تو اگر پاس کچھ سونا موجود ہے وہ بغیر کسی کو بتائے دونوں میاں بیوی مشورہ کرکے بیچ دیں۔ اور خاوند اپنی حاملہ بیوی کی خود کئیر کرے۔ ہر چیز خود میسر کرے۔ نہ کہ اسے اپنی امی یا بہنوں یا گھر کی بزرگ خواتین کے حوالے کر دے۔ ہر ماہ ریگولر چیک اپ کرائیں اور ڈیلیوری بے شک نارمل ہی کیوں نہ بتائی گئی ہو۔ کسی بھی قیمت پر دائی یا کسی ایسے ہسپتال میں مت کرائیں جہاں بچے کو فی الفور آکسیجن لگانے کی سہولت میسر نہ ہو۔

    کوشش کریں کسی ایسی جگہ ڈیلیوری ہو جہاں بچوں کی نرسری موجود ہو۔ کم از کم وہاں سے قریب ہی کسی ہسپتال میں نرسری ہو۔ گاؤں سے شہر یا شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں آکسیجن لگوانے یا نرسری میں بچہ لیجانے تک وہ زندہ بچ بھی جائے اسکا برین کسی حد تک متاثر یا ڈیمج ہو چکا ہوتا۔ اس چیز کا فوری پتا نہیں چلتا۔ چند ماہ یا ایک دو سال تک جب بچہ اپنی عمر کے مطابق حرکات و سکنات نہیں کرتا تو ڈاکٹر پوچھتے کہ پیدائش کہاں ہوئی تھی۔ بچہ رویا تھا اسکا رنگ کیا تھا اسے آکسیجن لگی تھی ؟ تو خیال آتا گڑ بڑ کہاں ہوئی تھی۔

    برین ڈیمج کے نتیجے میں ہونے والی معذوری کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ اسے سیری برل پالسی کہتے ہیں۔ جسم مفلوج ہوجاتا اور ساری عمر بچے کو بیٹھنے کھڑا ہونے بات کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ بروقت کیا گیا فیصلہ جو حاملہ ماں کی اچھی کئیر اور اچھی جگہ ڈیلیوری عمر بھر کے پچھتاوے سے بہتر ہے۔

    اگر زیور نہیں ہے تو کم از کم قرض اتر جانے یا قرض اترنے کی کوئی سبیل ہی بن جانے تک انتظار کر لیا جائے۔ فیملی بڑھانے کا فیصلہ باہمی رضا مندی سے مؤخر کر لیا جائے۔

    میں اور مہدی بخاری بھائی سکردو کے ایک ہوٹل میں رکے ہوئے تھے۔ ہمارے ساتھ والے کمرے میں ایک فرینچ کپل رکا تھا۔ ان سے چائے کی میز پر گپ شپ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک سال کے ہنی مون پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کا فیصلہ ہے ہم ایک سال تک کوالٹی ٹائم ساتھ گزاریں گے چھ ماہ چند ملکوں میں اور چھ ماہ پیرس میں جاکر گزاریں گے۔ پاکستان میں وہ ایک ماہ رکنے والے تھے۔ اور پھر فیملی بڑھائیں گے۔ یہاں یہ کنسپٹ تو جیسے گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اس بات کو نیو بیاہتا جوڑوں تک پہنچانے کی ضرور کوشش کریں۔۔

  • بنگالی بابے اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بنگالی بابے اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ بھوت پریت تھڑے اور فٹ پاتھوں پر بیٹھے گندے بدبودار عاملوں اور بنگالی بابوں کو نظر آ جاتے ہیں مگر جدید لیبارٹریوں اور تحقیق پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والے سائنسدانوں کو نہیں ۔ یا پھر وِچلی گل کوئی ہور اے؟

    انسانی دماغ ایک پیچیدہ شے ہے۔ اگر آپ کسی کو حتیٰ الامکان یقین دلا دیں کہ وہ کل مر جائے گا تو بھلے وہ کسی اور سبب سے مرے نہ مرے اس خوف سی ہی مر جائے گا کہ کل اُس نے مرنا ہے۔ آج کی جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ جن مسائل کو ہم ماضی میں غیر مرئی عوامل سے جوڑتے تھے وہ دراصل انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں، ان سے جڑے مسائل اور ماضی میں تشخیص نہ ہونے والی بیماریوں کے سبب ہیں۔وہ بیماریاں جنکے بارے میں آج ہم جانتے ہیں کہ مختلف جرثومے جیسے کہ بیکٹیریا، وائرس وغیرہ سے ہوتے ہیں، اُنہیں بھی ماضی میں ان غیر مرئی عوامل سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

    جرثونوں کے ذریعے بیماریوں کا علم انسانوں کو سولہویں صدی کے وسط میں ہوا جب Girolamo Fracastoro جوایک اطالوی طبیب تھے، نے یہ خیال پیش کیا۔

    سولہویں صدی کے آخر میں خوردبین کی ایجاد سے ان جرثوموں کو دیکھنا ممکن ہوا۔ Fracastoro کے اس اچھوتے خیال کو سائنس میں جدت کی بدولت ایک سائنسی تھیوری بننے میں کئی صدیاں لگیں۔ آج یہ ایک مسلمہ حقیقت کے روپ میں ایک مصدقہ سائنسی تھیوری ہے، جسے Germ Theory کہا جاتا ہے۔ آج اسی تھیوری کی بنیاد پر کئی جدید اور موثر طریقہ علاج طب کی دنیا میں انقلاب برپا کر چکے ہیں۔ سائنس کی یہ تھیوری انسانوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں کہ اسکی بدولت اب تک کروڑوں انسانوں کی زندگی بچ چکی ہے۔۔زندگی سے بڑھ کر اور کوئی تحفہ کیا ہو گا؟ انسانیت کے لیے سائنس کا یہ سب سے بڑا تحفہ ہے۔

    ماضی میں جب انسان یہ سب نہیں جانتے تھے تو نہ دکھنے والے یہ جرثونے اور ان سے جڑی بیماریوں کو غیر مرئی قوتوں کا شاخسانہ کہنے میں حق بجانب تھے۔ مگر آج ہم سائنس کی بدولت اصل محرکات جانتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس طرح کے توہمات کی تقلید کر کے اپنی زندگیاں اور اپنا پیسہ ایسے عاملوں اور جعلی پیروں پر لگائیں۔ اس جاہلانہ رویے سے آج تک کتنی معصوم جانیں ضائع اور کتنے گھر برباد ہو چکے ہیں۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس طرح کے رویوں کی بیخ کنی کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے محفوظ رہیں تو ہمیں جدید سائنسی علوم اپنانے ہونگے, سائنسی طرزِ فکر رکھنا ہو گا۔ ورنہ بنگالی بابوں کو عقل گروی رکھ کر قدرت کی اس سب سے بڑی نعمت کو ٹھوکریں مارتے رہیں۔ کس نے روکا ہے؟

  • کلاسیکل کنڈیشننگ — ضیغم قدیر

    کلاسیکل کنڈیشننگ — ضیغم قدیر

    بچے اپنی ہی ماں کی پششش کی آواز پر پیشاب کرتے ہیں اسکی وجہ اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ لیکن اس آواز کے پیچھے بچے کے دماغ کی کنڈیشننگ چھپی ہے جس میں بچے کے دماغ کو اس آواز پر حرکت کرنے کا عادی بنا دیا جاتا ہے۔

    اس سے ریلیٹڈ ایک دلچسپ مثال کتوں پہ کئے گئے تجربے کی ہے۔

    کتے گوشت دیکھ کر منہ سے پانی نکالتے ہیں یہ دیکھ کر ایک روسی نفسیات دان پاؤلو Pavlov کافی حیران ہوا، لیکن اس نے ایک نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے گوشت دینے کیساتھ ساتھ گھنٹی بھی بجانا شروع کی، کچھ عرصہ بعد پاؤلو صرف گھنٹی بجاتا تھا اور کتوں کے منہ سے پانی نکلنا شروع ہونے لگ جاتا تھا۔

    اس کو ہم کلاسیکل کنڈیشننگ کہتے ہیں۔

    بچپن میں جب بچے شروع شروع میں پیشاب کرتے ہیں تو والدین پششش کی آواز نکالتے ہیں۔ آہستہ آہستہ بچوں کا سب کانشش دماغ اس سٹیمولائی کو پیشاب کے ایکشن سے جوڑنا شروع ہوجاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ بچے اپنی ماں کی پششش کی آواز پہ ہی بس پیشاب کرتے ہیں۔

    یہ کنڈیشننگ اتنی مضبوط ہے کہ کچھ لوگ بڑے ہو کر بھی اس آواز پہ پیشاب کر دیتے ہیں۔ عموما بچوں کو پوٹی ٹرین کرنے کے دوران ماں کی یہ آواز اس کو اس سٹیمولائی پہ پیشاب کرنے کی عادی بنا دیتی ہے۔

  • ایلینز سے رابطہ، زبانِ یار من ترکی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ایلینز سے رابطہ، زبانِ یار من ترکی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیاہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟ یہ سوال بیسویں اور اکسیویں صدی کا سب سے اہم سوال ہے۔۔جب سے انسانوں کو یہ معلوم ہوا ہے کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں بلکہ اس وسیع و عریض کائنات کی اربوں کہکشاؤں میں ایک چھوٹی سی کہکشاں ملکی وے کے ایک معمولی سے ستارے سورج کے گرد گھومتا ننھا سیارہ ہے، تب سے یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

    انیسویں صدی میں ریڈیو کی ایجاد کے بعد اس حوالے سے بات ہونے لگی کہ اگر کائنات میں کوئی جدید ایلین تہذیب کسی سیارے پر بستی ہے تو یقیناً اُن سے ریڈیو ویویز یا ریڈیائی لہروں کے ذریعے رابطہ ممکن ہے۔ (اب یہ بات پڑھ کر آپ اپنے گھروں کے ریڈیو مت نکال لیجئے گا۔ کہ چلو ایلینز سے رابطہ کرتے ہیں۔ سائنس اس طرح کام نہیں کرتی).
    مگر ریڈیائی لہروں کے ذریعے ہی رابطہ کیوں؟

    یہ سوال دلچسپ ہے۔ جس طرح سے ہم جانتے ہیں کہ آج جدید ٹیکنالوجی کے باعث ہم ریڈیائی لہروں جو دراصل برقناطیس لہریں ہی ہوتی ہیں(جیسے کہ روشنی) کی مدد سے کمیونیکیشن کرتے ہیں۔ تو اگر کوئی ایلین تہذیب ہمیں ڈھونڈنا چاہے(ویسے ہم اّنکے لئے ایلینز ہونگے 🙂 ). تو وہ ہمیں ہمارے ریڈیائی لہروں کے استعمال سے جو صرف ٹیکنالوجی کے استعمال والی تہذیبیں ہی کر سکتی ہیں، کے ذریعے ڈھونڈ سکتے ہیں ۔ لہذا اگر ہمیں بھی کائنات میں کسی سیارے سے ایسی ریڈیائی لہریں موصول ہوں جو ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ممکن ہوں تو ہم جان جائیں گے کہ وہاں کوئی جدید مخلوق بستی ہے۔

    کائنات میں دوسری تہذیبوں سے رابطے کے حوالے سے پچھلی دو صدیوں میں کافی سنجیدہ کوششیں کی گئی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اور بڑی کوشش SETI پراجیکٹ ہے۔ SETI. مخفف ہے (Search for Extraterrestrial Intelligence) یعنی کسی ذہین خلائی مخلوق کی تلاش.

    اس پراجیکٹ کے خدو خال گو کہ 1960 اور 70 کی دہائی میں واضح ہونا شروع ہوئے تاہم SETI ادارے کا باقاعدہ آغاز 1984 میں ہوا اور ریڈیائی لہروں کی مدد سے کائنات میں کسی ممکنہ ایلین تہذیب سے رابطے کے حوالے سے باقاعدہ کام 1985 میں۔

    شروع شروع میں اس پراجیکٹ میں فلکیاتی مشاہدات کے لیے زمین پر موجود ریڈیو اینٹیناز ہی استعمال ہوتے رہے مگر بعد میں عوام، حکومتوں اور ٹیکنالوجی سے منسوب اہم شخصیات کی دلچسپی کے باعث اس پراجیکٹ کی فنڈنگ بہتر ہوئی اور آج SETI پراجیکٹ میں 42 جدید ریڈیو اینٹناز پر مشتمل Allen Telescope Array موجود ہے۔ یہ ٹیلیسکوپ امریکا میں سان فرانسسکو سے 300 میل دور کیسکادے کے پہاڑوں میں نصب ہے۔ اور یہ ہفتے میں ہر روز خلا میں کسی ممکنہ ایلین مخلوق سے رابطے کی کوششوں میں پیغام ریڈیائی لہروں کی صورت بھیجتی رہتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کسی ممکنہ جواب کے انتظار میں خلاؤں کو سنتی بھی رہتی ہے۔

    کائنات اتنی وسیع ہے اور ہم سے سب سے قریبی ستارا جسکے گرد سیارے گھوم رہے ہیں وہ بھی کئی نوری سالوں کے فاصلے پر ہے۔ ہماری کہکشاں ملکی وے کی چوڑائی ایک لاکھ سے دو لاکھ نوری سالوں کے بیچ ہے۔ جسکا مطلب یہ ہوا کہ SETI کے کائنات میں بھیجے گئے ریڈیو سگنل اب تک ہماری کہکشاں کے محض چھوٹے سے حصے سے آگے نہیں گئے۔

    یہاں یہ بحث لمبی ہو جائے گی کہ ہم سے ممکنہ طور پر قریبی سیارہ کتنی دور ہو گا جہاں کوئی ایلین تہذیب موجود ہو۔ یہ موضوع کسی اور وقت کے لیے ۔

    مگر سوال یہ ہے کہ ہم ایلینز سے رابطہ کس زبان میں یا کس فریکونسی میں کر سکتے ہیں؟ ہم انسان زمین پر جب کسی دوسرے ملک جاتے ہیں تو اکثر و بیشتر وہاں ہم اُنکی زبان نہیں بول سکتے اور وہ ہماری۔ تو رابطے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ کیا آپ چینونٹی سے رابطہ کر سکتے ہیں؟ ممکن ہے کسی جدید تہذیب کے لیے ہم ایک چیونٹی جتنی اہمیت رکھتے ہوں۔

    تو ہم کسی جدید تہذیب کو اپنی موجودگی کا کیسے پتہ دیں گے؟ اسکا جواب ہے 1420 میگا ہرٹز کی فریکونسی سےوہ سائنسی کیڑے جنہیں ایگزٹ نمبر جاننا ہے، تو یہ فریکونسی ہے 1420.405751768میگاہرٹز) ۔ اس فریکونسی کو ہائڈروجن لائن کہا جاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ ایک نیوٹرل ہائڈروجن ایٹم سے تب نکلتی ہے جب اسکے الیکٹران کی سپن (کلاسیکل فزکس میں سپن کا مطلب کسی ایٹمی ذرے کا اپنے محور کے گرد گھومنا، کوانٹم فزکس میں البتہ اسکا مطلب کچھ پیچیدہ ہے) اسکے پروٹان کی سپن سے مخالف سمت میں گھومے۔

    عمومی طور پر یہ دونوں ایک ہی سمت میں گھومتے ہیں۔ مگر جب الیکٹران کی سپن مخالف سمت میں ہو جائے تو ہائڈروجن ایٹم سے خاص طرح کی ریڈیو فریکوئینسی کی لہر نکلتی ہے۔ کائنات میں موجود کوئی بھی جدید تہذیب اگر متواتر اس فریکوئنسی پر سگنل موصول کرے گی تو جان جائے گی کہ ہم اتنے ذہین ضرور ہیں کہ ایٹم کے بارے میں اور اس خاص فریکونسی کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس فریکوینسی کے استعمال کی ایک اور وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ کائنات میں ہائیڈروجن عام پائی جاتی ہے اور اس یہ ریڈیو فریکونسی دوسری ریڈیو فریکونسییز سے زیادہ موثر طور پر کائنات میں سفر کر سکتی ہے۔

    پھر چاہے ایلین ترکش زبان بولیں یا کچھ اور، اس طریقے سے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔