Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • خلاء میں رابطے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خلاء میں رابطے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ مویا ناسا جو آئے روز دنیا کی "ذہین ترین قوم” کو بے وقوف بنانے کے لئے نئے نئے سپیس کرافٹ، خلائی دوربینیں اور روبوٹ چھوڑتا رہتا ہے۔ یہ ان سے خلا میں رابطہ کیسے رکھتا ہے؟ کیونکہ عقلِ "سلیم” یا منیر تو یہ کہتی ہےکہ خلا میں ٹیلی نار، یوفون یا زونگ کے کھمبے تو ہیں نہیں کہ پیکیج کرایا اور گھنٹوں لمبی باتیں، "شونوں مونوں” والے میسیجز یا جگتوں والے لطیفے بھیج کر ٹائم پاس کرنا شروع کر دیا۔
    تو اسکا جواب ہے ڈیپ سپیس نیٹ ورک!!

    ڈیپ سپیس نیٹ ورک دراصل زمین پر بڑے بڑے ڈش کی طرح کے ریڈیو اینٹناز کا ایک جال ہے۔ جو دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ اینٹیناز آسٹریلیا، کینبرا، کیلیفورنیا ، سپین وغیرہ میں دن رات آسمانوں میں ناسا اور دوسری ایجنسیوں کے بھیجے گئے مشنز سے سلام دعا کرتے رہتے ہیں۔ ان انٹیناز کو زمین پر کم و بیش ایک ہی فاصلے پر رکھا گیا ہے کہ زمین کی گردش کے باعث ایسا نہ ہو کہ کوئی وقفہ آئے جب خلا سے بھیجا جانے والا سگنل پکڑنے کے لیے کوئی بھی اینٹینا موجود نہ ہو اور سگنل ضائع ہو جائے۔

    خلا میں موجود سپیس کرافٹس زمین پر ریڈیو سگنل کے ذریعے تصاویر اور اپنی موجودہ جگہ کا پتہ دیتے ہیں ۔ ان سگنلز کو دنیا بھر میں یہ ڈیپ سپیس اینٹنا موصول کرتے ہیں ۔ اسکے علاوہ یہ نیٹ ورک زمین سے سپیس کرافٹ کو ہدایات بھیجتا ہے کہ اب کیا کرنا ہے، کونسی تصاویر لینی ہیں، کس سمت مڑنا یے وغیرہ وغیرہ۔

    اس نیٹ ورک میں موجود اینٹناز کمزور سے کمزور سگنل کو بھی ہماری پولیس کیطرح فورآ سے دھر لیتے ہیں۔۔اسکا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ 1977 میں ناسا کے دو سپیس کرافٹ Voyager 1 اور Voyager 2 جو 45 سال بعد اربوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے نظامِ شمسی کے کناروں تک پہنچ چکے ہیں ، یہ ڈیپ سپیس نیٹ ورک ان سے آنے والے سگنلز بھی پکڑ لیتے ہیں اور اب تک مسلسل ان سے رابطے میں ہے۔ Voyager سپیس کرافٹس سے آنے والے سگنل بے حد کمزور ہیں۔ کتنے کمزور؟ آپکی معمولی سی ڈیجیٹل گھڑی کو چلانے والے برقی سگنل سے بھی 20 ارب گنا کمزور!!

    یہ اینٹیناز ان مختلف سپیس کرافٹ کے سگنلز کو موصول کر کے اسے ناسا کی کیلیفورنیا میں سپیس فلائٹ آپریشن فیسلیٹی کو بھیجتے ہیں جہاں ان سگنلز کو پراسس کر کے ان میں موجود تصاویر یا دیگر اہم معلومات کو اکٹھا کیا جاتا ہے اور دنیا بھر کے سائنسدانوں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔ سائنسدان ان تصاویر اور ڈیٹا کی مدد سے منطقی نتائج نکالتے ہیں، تحقیقی مقالہ جات لکھتے ہیں اور کائنات کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔

    مریخ پر موجود ناسا کی روورز جیسے کہ Curiosity یا حال ہی میں بھیجی جانی والی Preservernce بھی اس طرح سے زمین پر رابطے میں رہتی ہے مگر یہ ایک اور موثر طریقے سے بھی زمین پر ڈیٹا اور تصاویر بھیجتی ہے۔ اور وہ ہے بذریعہ Mars Reconnaissance Orbiter، یہ مریخ کے گرد گھومتا ایک سٹیلائٹ ہے جو ان روورز سے ڈیٹا اکٹھا کر کے زمین پر ڈیپ سپیس نیٹورک تک اسے بھیجتا ہے۔ اس طرح زیادہ آسانی سے ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔

  • دوووور، دوسرے ستاروں تک سفر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دوووور، دوسرے ستاروں تک سفر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بیسویں صدی کے وسط میں راکٹ ٹیکنالوجی میں جدت سے ہم خلا میں پہنچے۔ 1969 میں پہلا انسان چاند پر گیا اور آج انسان کے بنائے سپیس کرافٹ اور روبوٹ دیگر سیاروں تک اور نظامِ شمسی کے کناروں تک پہنچ چکے ہیں۔

    مگر کائنات بے حد وسیع ہے۔ دِکھنے والی کائنات کا قطر تقریباً 93 ارب نوری سال ہے اور یہ بگ بینگ کے وقت سے اب تک تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    آج سائنس کی مدد سے ہم خلاؤں میں سفر کر سکتے ہیں اور دوسری دنیاؤں پر زندگی کے آثار ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کائنات میں سورج جیسے کئی اور ستارے ہیں جنکے گرد کئی سیارے گھوم رہے ہیں۔ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ نظامِ شمسی سے باہر کئی ایسے سیارے ہیں جن پر زندگی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے ستاروں سے اتنے فاصلے پر ہیں جہاں پانی مائع حالت میں رہ سکتا ہے۔ اور ان میں سے کئی سیارے شاید زندگی کے لئے اس زمین سے بھی بہتر ہوں۔
    مگر یہ سیارے زمین سے بہت دور ہیں۔ کئی تو لاکھوں نوری سالوں کی مسافت پر۔ مگر ہمارا سب سے قریبی ستارہ جسے ہم پڑوسی کہہ سکتے ہیں اسی کہکشاں ملکی وے میں جس میں ہم رہتے ہیں، میں ہم سے قریب 4.24 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ یعنی اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں جو کہ ناممکن ہے تو ہمیں اس تلک پہنچنے میں 4.24 سال لگیں گے۔اس سرارے کا نام ہے Proxima Centauri.

    اس ستارے کے گرد کئی ایسے سیارے ہیں جن پر زندگی ہو سکتی ہے یا مستقبل میں جہاں رہنا ممکن ہو۔ مگر ہم اس تک پہنچیں گے کیسے؟

    آج تک انسان کے بنائے جدید سپیس کرافٹس میں سب سے زیادہ رفتار حاصل کرنے والا سپیس کرافٹ ناسا کا سولر پارکر پراب یے جو 2018 میں ہمارے سورج کا مشاہدہ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ یہ سپیس کرافٹ تقریبآ 5 لاکھ 35 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کے قریب سے گزرا۔ مگر یہ رفتار روشنی کی رفتار جو 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے سے نہایت کم ہے۔۔یعنی روشنی کی رفتار کا محض 0.05 فیصد!!

    اب تک کا سب سے دور بھیجا جانے والا سپیس کرافٹ ناسا کا وائجر-1 ہے جو آج سے 44 سال پہلے یعنی 1977 میں نظامِ شسمی کے مشاہدے کے لئے بھیجا گیا اور یہ مشتری، اور زحل کے پاس سے گزرتا نظامِ شمسی سے باہر کی جانب نکالا مگر ہے یہ اب بھی نظامِ شمسی کی حدود میں ہے کیونکہ نظامِ شمسی پلوٹو سے بھی آگے بے حد وسیع ہے جہاں سورج کی گریوٹی اور اسکی تابکاری کا اثر موجود ہے۔

    44 سال مسلسل سفر کرنے کے باوجود یہ زمین سے تقریباً 23 ارب کلومیٹر دور ہے۔ کہنے کو یہ فاصلہ بے حد زیادہ ہے مگر یہ فاصلہ ایک نوری سال نہیں بلکہ 20 گھنٹے اور 30 نوری منٹ دور ہے۔ یعنی روشنی کی رفتار سے اس تک پہنچنے میں صرف 20 گھنٹے اور 30 منٹ لگیں گے۔
    وائجر 1 اس وقت تقریباً 61 ہزار 2 سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے اور اسے ایک نوری سال کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 18 ہزار سال لگیں گے۔ گو یہ سپیس کرافٹ ہم سے نزدیکی ستارے Proxima Centauri کی جانب نہیں بڑھ رہا بلکہ اس سے مخالف سمت میں یے مگر اگر فرض کریں کہ یہ اس طرف سفر کر رہا ہوتا تو اسے وہاں تک پہنچنے میں اس رفتار سے تقریباً 76 ہزار سال لگتے۔ جبکہ انسانوں کی عمر آج اوسطاً 72 سال ہے۔ سو یہ بات تو طے ہے کہ انسانی عمر میں ہم ان ستاروں یا دوسری دنیاؤں تک نہیں پہنچ سکتے مگر کیا ان تک پہنچنے کا کوئی اور طریقہ یا راستہ ہے؟

    یہ موضوع کسی اور وقت کے لیے. فی الحال اتنا جان لیجئے کہ ایک ایسا ممکنہ طریقہ ہے جس سے شاید ہم محض 20 سال میں اپنے قریبی ستارے اور اسکے گرد گھومتے سیاروں تک پہنچ سکیں۔ مگر یہ طریقہ ٹیکنالوجی میں جدت اور کئی سالوں کی محنت اور پیسے سے ہی شاید ممکن ہو۔ اس پر گفتگو پھر کبھی۔

  • البینزم یا سورج مکھی — خطیب احمد

    البینزم یا سورج مکھی — خطیب احمد

    البینزم کا شکار افراد کو البینو یا پنجابی میں بگے کہا جاتا ہے۔ تصویر میں چیچنیا کے ایک گاؤں قشلوئے کی ایک بارہ سالہ البینو لڑکی آمنہ ہے۔ جسکی ایک آنکھ نیلی اور دوسری گہری براؤن ہے۔ دنیا بھر میں اس بچی کے حسن کے چرچے ہیں ۔

    کیا آپ جانتے ہیں البینزم انسانوں کے علاوہ دیگر کئی مخلوقات میں بھی پایا جاتا ہے؟

    جن میں ہمارے آس پاس البینو یعنی بلکل سفید چوہے، کینگرو، مگر مچھ، ہاتھی، کوے، طوطے، گائے، بھینس، زیبرے، گدھے، گوریلے، ریچھ، بلی بندر، گلہری پائے جاتے ہیں۔ دنیا میں ایک البینو سفید زرافہ بھی ہے۔

    البینزم سے متاثر بچے و معمر افراد دنیا کے جس مرضی کونے میں ہوں یہ غیر معمولی سفید، بھورے رنگ و بالوں کے ساتھ ہونگے۔ ان کی آنکھوں کا رنگ بھی نیلا، سبز، بھورا اور سرخ ہو سکتا ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ آنکھوں کا رنگ بدلتا بھی رہتا ہے۔ ایک آنکھ کا دوسری آنکھ سے رنگ مختلف ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں اس کی ریشو 17 ہزار سے 20 ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں ایک بچہ البینو کی ہے۔ یعنی ایک لاکھ میں سے 5 اور ایک کروڑ میں سے 500. پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں تقریباً 11 ہزار کے آس پاس البینو ہو سکتے ہیں۔

    یہ ڈس آرڈر مرد و خواتین دونوں میں پایا جاتا ہے۔ (سوائے اوکولر کے وہ آگے پڑھیں گے)

    یہ والدین سے وراثت میں ملنے والا ایک پیدائشی ڈس آرڈر ہے جس کا جدید سائنسی ترقی کے باوجود آج تک دنیا بھر میں کوئی علاج نہیں ہے۔ ہماری جلد، بالوں اور آنکھوں کا رنگ بنانے میں جس کا کردار ایک خاص سیاہ مادہ جسے میلانن Melanin pigment کہا جاتا ہے کرتا ہے۔ میلانن کی کمی یا مکمل غائب ہونا البینو بچے کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔

    ہمارے جسم کی رنگت کیسی ہوگی اسکا مکمل انحصار ہمارے جسم کے سیلز میں موجود میلانن کی مقدار پر ہے۔ اسکی جتنی مقدار زیادہ ہوگی ہمارا رنگ اتنا ہی کالا ہوگا جتنی کم ہوگی اتنا ہی سفید ہوگا۔ یوں سمجھیے یہ ایک طرح کی سیاہی ہے جو ہمارے جینز کے کوڈز میں ہوتی ہے اور جب پروٹین بننے کے بعد سکن سیلز بنتے تو اسکی مقدار ہماری رنگت کا تعین کرتی ہے۔

    میلانن کا ایک اور کام ہماری آپٹک نروز کے بننے میں بھی ہے۔ اسکی مقدار میں کمی جہاں رنگت میں فرق ڈالتی وہیں بصارت میں بھی کمی کا سبب بنتی سکتی

    اکثر اوقات البینو بچوں کا رنگ نارمل رنگ سے معمولی سا مختلف ہوتا اور کبھی بلکل ہی سفید۔ مگر انکی جلد انتہائی حساس اور پتلی ہوتی ہے جو عام سورج کیروشنی بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ انہیں بہت دھوپ سے جلد چھائیاں پڑ جاتی ہیں اور تیز دھوپ و روشنی میں اسکن جل بھی جاتی ہے۔ یہ دھوپ میں نکلتے ہوئے کوئی سن بلاک یا حفاظتی کریم وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ اوپر بھی بتایا گیا کہ اسکا کوئی علاج نہیں ہے بس اپنی حفاظت ہی کرنی ہے شدید گرمی سے خصوصاً اور شدید سردی سے بھی عموماً۔ کیونکہ کوئی بھی شدید موسم ان لوگوں کی اسکن پتلی ہونے کی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتی۔

    بینائی کا زیادہ مسئلہ ہوتا ہے تو اسے زرا تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

    البینزم کی کوئی بھی قسم ہو حس بصارت میں سو فیصد خرابی ہوگی۔ یہ اس ڈس آرڈر کی بنیادی علامت ہے جو فرد کی زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔

    تیزی سے غیر ارادی طور پر آنکھیں آگے پیچھے حرکت کرتی ہیں جسے (nystagmus) کہا جاتا ہے۔

    آنکھوں کی غیر ارادی حرکت کو روکنے اور فوکس کرکے دیکھنے کی کوشش میں فرد اپنے سر کو ہلانے لگتا ہے کہ آنکھوں کی حرکت رک جائے۔

    دونوں آنکھوں کا مرکز و فوکس ایک پوائنٹ پر کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے جسے (strabismus) کہا جاتا ہے۔ دونوں آنکھیں ایک جگہ پر فوکس نہیں کریں گی تو دیکھنے میں یقیناً دشواری ہو گی۔

    شدید قسم کی قریبی نظر میں یعنی nearsightedness یا دور کی نظر میں کمی farsightedness ہوگی۔

    تیز یا ہلکی لائٹ بھی آنکھوں میں پڑے گی تو تکلیف ہوگی جسے (photophobia) کہا جاتا۔

    آنکھ کا پارٹ ریٹینا ٹھیک طرح سے بن ہی نہیں پاتا تو آنکھ کی دیکھنے کی قدرتی صلاحیت ہی کم ہوتی۔

    اگر ریٹینا کسی حد تک ٹھیک ہے تو جو سگلنز ریٹینا سے آپٹک نروز کے راستے ہمارے برین میں جاتے وہ نروز ڈیمیج ہونگی تو امیج ٹھیک نہیں بنے گا۔

    (misrouting of the optic nerve)

    سطح زمین پر چلتے ہوئے کسی گہری جگہ کا اندازہ ٹھیک سے نہیں ہو پاتا۔

    شدید ترین صورتحال میں لیگل بلائنڈنیس یعنی بصارت 20/200 سے کم ہوگی۔ یا البینو میں مکمل نابینا پن بھی ہو سکتا ہے۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    ماں کے پیٹ میں جب بچہ اللہ کے حکم سے خون سے گوشت کا لوتھڑا بن رہا ہوتا ہے تو بہت سارے جینز ملکر انسٹرکٹشنز دیتے ہیں کہ جب گوشت سے پہلے پروٹین بنے گی تو میلانن کی پروڈکشن و مقدار مخصوص سیلز میں کیا ہوگی۔ میلانن جن سیلز میں بنتی ہے انہیں میلانو سائٹس melanocytes کہا جاتا ہے۔ یہ سیلز خصوصاً ہماری اسکن، بالوں اور آنکھوں میں پائے جاتے ہیں اور ان تینوں کے رنگ کا تعین کرتے ہیں۔

    پیغامات یا انسٹرکٹشنز دینے والے کسی ایک جین میں کوئی تبدیلی یا تغیر mutation ہوتا ہے تو میلانن کا تناسب بگڑ جاتا ہے۔ کونسے جین میں بدلاؤ ہوا ہے اسی بنا پر البینزم کی قسم کا تعین ہوتا ہے کہ میلانن کی مقدار کم ہوئی ہے یا سرے ہی میلانن بنا ہی نہیں۔

    البینزم کی اقسام کونسی ہیں؟

    1. او کو لو کو ٹینئیس البینو
    Oculocutaneous albinism (OCA

    یہ سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ہے۔ اس میں متاثرہ بچہ اپنی امی اور ابو دونوں فریقوں سے متاثرہ جین حاصل کرتا ہے۔
    (autosomal recessive inheritance) سات جینز میں سے جنہیں OCA1 سے OCA7 تک لیبل کیا جاتا ہے کسی ایک جین میں میوٹیشن ہونے پر یہ قسم سامنے آتی ہے۔ اس میں میلانن کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اسکن بال اور آنکھیں متاثر ہوتی ہیں۔

    2۔ اوکولر البینو Ocular albinism

    اس قسم میں عموماََ بینائی متاثر ہوتی ہے سکن اور بالوں کا رنگ نارمل ہی ہوتا ہے۔ اس کی سب کامن قسم ٹائپ 1 ہے جس میں X کروموسوم کی جین میوٹیشن ہوتی ہے۔ X لنکڈ اوکولر البینو میں بچہ اپنی ماں سے متاثرہ جین حاصل کرتا ہے اور البینو پیدا ہوتا ہے۔ جسے
    (X-linked recessive inheritance) کہا جاتا ہے۔ یہ قسم صرف مردوں میں ہی پائی جاتی ہے کوئی لڑکی اس سے متاثر نہیں ہوتی۔ اور پہلی قسم OCA سے بہت زیادہ کم ہے۔

    3۔ تیسری قسم جو سنڈرومز سے تعلق رکھتی ہے Albinism related to rare hereditary syndromes

    مثال کے طور پر Hermansky-Pudlak سنڈروم OCA کی ایک قسم میں پایا جاتا ہے جس میں جلدی خون بہنے لگنا، پھپھڑوں اور مثانے کے امراض شامل ہیں۔ اس کے بعد Chediak-Higashi سنڈروم سے OCA کی ہی ایک قسم میں قوت مدافعت بہت کم ہوجاتی۔ بہت جلد انفیکشن ہوجاتے جو جلدی ٹھیک نہیں ہوتے۔ اسکے ساتھ نیورولوجیکل مسائل بھی سامنے آنے لگتے جو شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ سنڈروم سے متعلقہ اقسام پہلی قسم OCA میں ہی آئیں گی۔

    ان افراد کو مسائل کہاں پیش آتے ہیں؟

    دیکھنے اور اسکن کی حساسیت تو بیان ہوچکی اس کے علاوہ انہیں بے شمار سماجی، معاشی و جذباتی غیر منصفانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    بینائی میں کمی کی وجہ سے لکھنے پڑھنے کچھ سیکھنے دوران ملازمت یا ڈرائیونگ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    جلد پتلی ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرہ سن برن کا ہوتا ہے۔ جو بہت زیادہ ہونے لگیں تو خدا نخواستہ اسکن کے کینسر کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

    سماج میں رہتے ہوئے البینو افراد کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا۔ انہیں کم پڑھے لکھے افراد کی طرف سے ضرورت سے زیادہ فوکس کرکے دیکھا جاتا جیسے یہ کوئی اور مخلوق ہوں اور اکثر منفی کمنٹس پاس کیے جاتے ہیں۔ انکے برے نام رکھے جاتے برے ناموں سے پکارا جاتا۔ دکھ دینے والے سوال کیے جاتے بیچارہ معذور کہہ کر ان افراد کا دل دکھایا جاتا ہے۔ کسی بھی سماج میں کیونکہ یہ افراد واضح طور پر مختلف ہوتے ہیں تو ان سے آوٹ سائیڈرز کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ جو ان افراد میں تنہائی مایوسی اور ذہنی دباؤ و بے سکونی کا باعث بنتا ہے۔

    شادی کر سکتے ہیں؟

    جی بلکل یہ افراد مرد و خواتین آپس میں اور نارمل لوگوں سے بھی شادی کر سکتے ہیں۔ انکے بچے بھی ان جیسے ہونگے یہ ضروری نہیں ہے مگر بچے پیدا کرنے سے قبل کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرلیا جائے کوئی احتیاطی تدابیر ہوں تو وہ اپنائی جائیں۔

    تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

    جی بلکل پی ایچ ڈی تک دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ عام سکولوں میں ایڈجسٹ نہ ہو بچہ تو قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول میں داخل کروا دیں۔

    ایورج عمر کیا ہے؟

    کسی بھی معاشرے کے افراد کی جو ایورج ایج یوگی وہی البینو کی بھی ہوگی۔ کیونکہ میلانن کا کم یا زیادہ ہونا مجموعی زندگی اور صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

    آئی کیو لیول کتنا ہوگا؟

    ذہانت میں یہ افراد نارمل افراد کی طرح ہی ہونگے۔ میلانن کی کمی بیشی ذہانت کو بلکل متاثر نہیں کرتی۔

  • علامہ اقبال کا کشمیر کنکشن  — اشرف حماد

    علامہ اقبال کا کشمیر کنکشن — اشرف حماد

    علامہ ڈاکٹر شیخ محمد اقبالؒ کے آبا و اجداد جنوبی کشمیر ضلع کولگام کے سوپٹ نامی گاؤں میں رہتے تھے۔ان کے والد شیخ نور محمد کشمیری تھے۔ علامہ خود کہتے تھے کہ وہ کشمیری ہیں۔ وہ کشمیری زبان میں بات بھی کرتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار علامہ کے کشمیری خادم نے بھی ایک مقامی روز نامہ میں شائع انٹرویو میں کیا تھا۔ آغا اشرف علی اور محمد یوسف ٹینگ نے بھی ان خیالات کی تصدیق کی ہے۔

    علامہ اقبال کے استاد سید میر حسن کے متعلق بھی کہا جاتا ہے وہ کشمیری نژاد تھے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے پردادا شیخ جمال الدین کے چار صاحبزادے شیخ عبدالرحمان، شیخ محمد رمضان، شیخ محمد رفیق اور شیخ محمد عبداللہ کشمیر کے ابتر معاشی صورتحال سے مجبور ہو کر اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے اور سیالکوٹ، پنجاب میں آباد ہو گئے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے والد شیخ نور محمد، شیخ محمد رفیق کے بیٹے تھے۔

    ڈاکٹر شیخ محمد اقبال جب سیالکوٹ سے لاہور پہنچے تو یہاں پر اُنہوں نے کشمیریوں کی قائم کردہ تنظیم ’انجمن کشمیری مسلمانان‘ میں شمولیت اختیار کی اور اس نوعیت تک اس کے سرگرم ممبر بنے کہ اُنہیں تنظیم کے ذمہ داروں نے اس کشمیری انجمن کا سیکرٹری جنرل بنا دیا۔ محمد اقبال کشمیر، پنجاب اور ہندوستان بھر میں کشمیریوں کی حالتِ زار پر رنجیدہ ہوتے اور اسے بہتر بنانے کے لئے کوششیں کرتے رہے۔ جوانی ہی میں آپ کا یہ مطالبہ تھا کہ مہاجر کشمیریوں کو ریاست کے حکمران اپنے گھروں کو واپس آنے دیں۔ اُنہیں کشمیر میں آباد ہونے اور اپنی املاک کے خود مالک ہونے کا حق دیاجائے۔ اُن کی کشمیر سے والہانہ محبت اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ ایک موقع پر اُنہوں نے فرمایا:

    سامنے ایسے، گلستاں کے کبھی گھر نکلے
    حبیب خلوت سے ، سرِطور نہ باہر نکلے

    ہے جو ہر لحظہ تجلی گر مولائے خلیل
    عرش و کشمیر کے اعداد برابر نکلے

    اس بات میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حکیم الامت محمد اقبالؒ کو کشمیر سے روحانی، جذباتی اور بے پناہ قلبی محبت تھی جس کا اظہار اُنہوں نے اپنے کلام، مضامین، خطوط اور عمل سے کئی موقعوں پر کیا ہے۔ ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ کو اپنے بزرگوں کے کشمیر کنکشن پر بہت ناز تھا۔ اُن کی رگوں میں دوڑنے والا لہو کشمیر کے شفق فام چناروں کی طرح سرخ تھا۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

    تنم گلے زِ خیابانِ جنت کشمیر
    دلم از حریم حجاز و نواز شیراز است
    (یعنی میرا جسم کشمیر کے چمن کا ایک پھول ہے اور میرا دل ارضِ مکہ و مدینہ اور میری صدا شیراز سے ہے‘)۔

    کشمیر سے آبائی تعلق رکھنے کے باوجود اُنہیں اس امر کا بھی گہرا احساس تھا کہ وہ اِس وادیٔ جنت نظیر کا مشاہدہ بچشم خود نہیں کرسکے۔ اسی احساسِ نے انہیں یہ اشعار کہنے پر مجبور کیا:

    کشمیر کا چمن جو مجھے دلپذیر ہے
    اِس باغ جاں فزا کا یہ بلبل اسیر ہے

    ورثے میں ہم کو آئی ہے آدم کی جائیداد
    جو ہے وطن ہمارا وہ جنت نظیر ہے

    موتی عدن سے، لعل ہوا یمن سے دور
    یا نافہ غزال ہوا ختن سے دور

    ہندوستان میں آئے ہیں کشمیر چھوڑ کر
    بلبل نے آشیانہ بنایا چمن سے دُور

    حضرت علامہؒ 1921ء میں کشمیر تشریف لائے۔ مہاراجہ پرتاب سنگھ ان کی میزبانی کے خواہش مند تھے لیکن اُنہوں نے مہاراجہ کی میزبانی سے معذرت ظاہر کی۔ انہوں نے وادی جنت نظیر کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی سیاحت کی۔ وہ وادئ کشمیر کے قدرتی حسن سے محظوظ ہوئے۔ انہوں نے اس دوران اپنی آنکھوں سے کشمیریوں کی ناگفتہ بہ صورت حال کا بھر پور جائزہ لیا۔

    یہاں پر یہ بات اہم ہے جموں و کشمیر میں سیاسی سعی وجہد کا آغاز 1931ء میں شروع ہو چکا تھی۔ اُنہوں نے اپنی شاعری میں کشمیریوں کی بے بسی دور کرنے کا پیغام دیا۔ اُن کے دل کے آتش دان میں استقلال کی چنگاریوں کو اپنے گرم جذبات سے مزید حرارت بخشی۔ علامہ اقبال نے اپنے فرزند جاوید اقبال کے نام نصیحت نامہ کی صورت میں اپنی مشہور کتاب "جاوید نامہ” تصنیف کی ہے ۔ اصل میں یہ پوری کتاب کشمیریوں میں جاگرتی کا پیغام دیتی ہے۔ سر محمد اقبال نے اس طویل مثنوی میں کشمیر پر ایک پورا باب لکھا ہے۔ اس شعری مجموعہ میں محمد اقبال عالمِ تخیلات میں کشمیر کے عظیم اولیاء، صوفیاء اور بزرگ شاعروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اپنی اس تخیلاتی ملاقات کے دوران محمد اقبال کشمیر میں بانیِ اسلام میر سید علی ہمدانیؒ سے بھی ملاقات کرتے ہیں۔ وہ اُن کے حضور اپنی یہ شکایت رکھتے ہیں: ’آپ کے ماننے والے آج سخت آزمائش میں مبتلا ہیں۔ آپ نظرِ کرم فرمائیں، ہماری شکایت پر توجہ دیں ، ہمیں فرمائے کہ آپ کی مدد کب پہنچے گی’۔

    جاوید نامہ میں وہ فارسی زبان کے ایک عظیم صوفی شاعر غنیؒ کاشمیری سے بھی عالم تخیل میں باتیں کرتے ہیں۔ یہ بات بغیر کسی شک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ محمد اقبال کے قلب و قلم میں کشمیر رچا بسا تھا۔ 1939ء میں علامہ اقبال سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ اس عالمِ بقا کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے بھی وہ کشمیریوں کے حوصلوں کو جلا بخشتے رہے۔ انہوں نے انہی دنوں یہ دعا کی تھی:
    توڑ اس دست ز جفا کیش کو یارب جس نےروحِ آزادیِ کشمیرکو پامال کیا

    علامہ کو دُکھ تھا کہ انگریزوں نے مہاراجہ گلاب سنگھ سے 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کا سودا کرکے پوری ریاست اس کے حوالے کی۔ علامہ اقبال نے1931ء میں کشمیریوں کی سیاسی مساعی کو منزل آشنا کرنے کے لئے ‘آل انڈیا کشمیر کمیٹی’ بھی بنائی۔ بعدازاں انہیں اس کمیٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ لیکن کئی مصروفیات کی وجہ سے وہ ‘آل انڈیا کشمیر کمیٹی’ کے منصب صدارت سے مستعفی ہو گئے۔ لیکن ایک فعال کارکن کی حیثیت سے کمیٹی کے تمام اجلاسوں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے رہے۔

    غرض علامہ کا کشمیر کنکشن تاریخی، دینی، روحانی اور ثقافتی نوعیت کا تھا۔ یہ تعلق بہت مضبوط اور مستحکم تھا۔ دانائے راز عمر بھر اس کنکشن کی آبیاری اور حق ادائی کرتے رہے۔

  • سائنس میں خواتین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس میں خواتین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ بات ایک حقیقت ہے کہ نہ صرف ہمارا معاشرہ بلکہ پوری دنیا میں خواتین سائنس کے شعبے میں کم نظر آتی ہیں۔ وجہ یہ نہیں کہ خواتین کو سائنس میں دلچسپی نہیں ، وجہ یہ ہے کہ اُن کو کئی مسائل کا سامنا ہے جو مردوں کو نہیں کرنا پڑتا جن میں کام پر خود کو محفوظ تصور کرنا، ازدواجی ذمہ داریوں کی مصروفیات، بہتر تعلیم کا فقدان اور کئی ایسے دیگر معاشرتی مسائل جو انہیں سائنس میں اپنا کیریئر بنانے میں رکاوٹ بنتے ہے۔ اس حوالے سے مغربی ممالک میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اُنکو سائنس کے بنیادی شعبہ جات میں اپنا کیریئر بنانے کے لئے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں مگر درحقیقت یہ ماننا پڑے گا کہ یہ کاوش ابھی بھی بے حد کم ہے۔

    اسکے مقابلے میں پاکستان میں خواتین کا سائنس کے شعبوں میں کردار بھی کچھ خاص نظر نہیں آتا۔ پاکستان میں تو خواتین کی بنیادی تعلیم پر ہی توجہ نہیں دی جاتی، سائنس کے حوالے سے خواتین کو ان شعبوں میں لانا دور کی بات ہے۔ جن سائنس کے شعبوں میں خواتین باقی شعبوں سے زیادہ نظر آتی ہیں وہ حیاتیات، میڈیسن اور فزیالوجی ہیں۔

    اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک سائنس کے شعبے میں ملنے والے نوبل انعاموں میں محض 24 خواتین کو سائنس کے شعبے میں ایوارڈ ملا جن میں سے صرف 11 خواتین کو ملا کر فزکس اور کیمسٹری میں یہ انعام ملا جبکہ باقی 12 خواتین کو میڈیسن کے شعبے میں (میری کیوری وہ واحد خاتون ہیں جنہیں دو نوبل انعام ملے ہیں)۔

    یہ بات میں برملا کہتا ہوں کہ خواتین کا دماغ کسی طور مردوں سے کم نہیں ۔ اور اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ خواتین کی صلاحیتیں مردوں سے کم ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے جسکا حقیقت سے دور دور تک واسطہ نہیں۔

    اس طرح کی سوچ رکھنے والے معاشروں میں اس طرح کی باتیں بچپن سے ہی خواتین کے دماغ میں ڈال کر اُن میں موجود اعتماد اور اُنکی شخصیت کے اہم پہلوؤں کو مار دیا جاتا ہے۔

    ہم جس زمانے میں رہتے ہیں ہمیں سوچ بھی اسی زمانے کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔ اکیسویں صدی میں خواتین کا سائنس میں کردار بڑھا کر ہم نہ صرف سائنس کے شعبے میں ترقی کر سکتے ہیں بلکہ خواتین سائنس کے وہ مثبت استعمال بھی سامنے لا سکتی ہیں جو ایک پدر شاہی معاشرے میں طاقت یا پیسے کے حصول سے ہٹ کر فلاحی کاموں میں مدد دے۔

    اپنی بچیوں اور بہنوں کو نہ صرف تعلیم دیجیے بلکہ اُن میں اعتماد بھی پیدا کیجیے تاکہ وہ سائنس سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی میں اگے بڑھ سکیں۔

    ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہے۔

  • لاہور میں سجے نوجوانوں کے ایک میلے کی کہانی!!! — بلال شوکت آزاد

    لاہور میں سجے نوجوانوں کے ایک میلے کی کہانی!!! — بلال شوکت آزاد

    محسنین یوتھ سکواڈ کے پہلے یومِ تاسیس پر سالانہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔۔۔ مورخہ ستائیس نومبر 2022 بمقام ایوانِ قائد محسنین کنونشن میں مختلف سماجی، مذہبی، صحافتی اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل مشہور و معروف شخصیات اور نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔۔۔

    محسنین کنونشن میں معروف صحافی و اینکر پرسن عمران ریاض خان اور موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ نے خصوصی شرکت کی جبکہ دیگر مقررین و مہمانِ خصوصی میں عبد الوارث گِل، قیصر احمد راجہ، سیف اللہ ثناء اللہ، سلیم ابنِ فاضل، فاران صدیقی، ڈاکٹر زبیر تیمی، عبید الرحمن شفیق، مدثر یوسف حجازی، حسن افضال صدیقی، عبدللہ عزام، قاری اسامہ شوکت اور میزبانوں میں قاری سیف اللہ کیلانی اور عبدالرب ساجد شامل تھے۔

    کنونشن کا باقاعدہ آغاز گیارہ بجے دن ، قاری سیف اللہ نے تلاوت قرآنِ پاک سےکیا اور بعد ازاں سٹیج سیکریٹری کے فرائض ادا کیے۔ سب سے پہلے گفتگو کے لیے جناب سیف اللہ ثناء اللہ کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے تقریب کے شرکاء نوجوانوں کو وقت کی قدر پر نصیحت کرتے ہوے کہا کہ "نوجوان اس وقت کی قدر نہیں کرتے،وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی تو ہم جوان ہیں، ابھی کافی وقت پڑا ہے، وقت سے سیکھ لیجیے، اس سے پہلے کہ وقت آپکو سکھادے۔”

    پھر جناب فاران صدیقی کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے نوجوانوں کو اللہ کے پیغام بابت کہا کہ "اللہ تعالی نے ہمارے لیے قرآن مجید کی صورت میں محبت کا پیغام بھیجا ہے، لیکن ہم اسے پڑھتے ہی نہیں، وہ محبوب ہی کیا جسے محبت بھرا پیغام ملے اور وہ اسے پڑھے ہی نا”

    جناب قیصر احمد راجہ صاحب کا نوجوانوں سے کہنا تھا کہ "اگر ہم اپنی سوسائٹی میں بیلنس لانا چاہتے ہیں تو ہمیں دینِ فطرت کی طرف آنا ہوگا۔”

    جناب عبید الرحمن شفیق کا کہنا تھا کہ "پاکستان کو اللہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں سے ایک بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی کا ستر فیصد نوجوان ہیں، جبکہ ہمارے ہاں لہو کو گرمایا جاتا ہے لیکن حقائق سے نظریں چرائی جاتی ہیں ۔”

    جناب عمران ریاض خان کا نوجوانوں سے خطاب میں کہنا تھا کہ "جیتنا چاہتے ہو تو مل کر چلنا پڑے گا وگرنہ کچل دیے جاؤگے۔”

    جناب قاسم علی شاہ صاحب نے کہا کہ "نوجوان یاد رکھیں کہ کرپشن کا تعلق غربت سے نہیں، بلکہ بےیقینی اور خوف سے ہے۔”

    جناب مجاہد گیلانی کا کہنا تھا کہ "ایک بات یاد رکھیے گا کہ اگر آپ کو اپنے حق کے لیے اور آزادی کے لیے قلم کی طاقت کو چھوڑ کر گن کی طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے تو آپ تب بھی معتدل ہیں۔”

    اور جناب عبد الوارث گِل کا کہنا تھا کہ "اگر ہمیں پتہ چل جاتا کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے، تو ہم آج یہاں نہ ہوتے بلکہ اس سے دو، تین قدم آگے ہوتے۔”

    اسکے علاوہ دیگر سپیکرز سلیم ابنِ فاضل ، ڈاکٹر زبیر تیمی اور مدثر یوسف حجازی نے بھی محسنین کنونشن کے شرکاء نوجوانوں سے خطاب کیا اور انہیں معاشرے میں معتدل اور موثر رہنے کے حوالے سے راہنمائی پر مبنی خطاب کیا۔۔۔

    تقریب میں مختلف مواقعوں پر حسن افضال صدیقی، عبدللہ عزام اور قاری اسامہ شوکت نے تلاوت، نعت، اسماء الحسنی اور ترانے بھی پیش کئے۔۔۔

    جبکہ محسنین یوتھ سکواڈ کے تعارف اور سیلاب کے دوران محسنین رضاکاروں کی خدمات کے بارے میں ڈاکومنٹریز بھی پیش کی گئیں۔

    تقریب کے دوران مختلف مواقع پر محسنین یوتھ سکواڈ کے رہنما محسنین جناب عبدالرب ساجد صاحب نے شرکاء کنونشن سے کنونشن کے انعقاد کے مقاصد اور محسنین کے وژن اور نطرئیے کے بارے میں گفتگو کے دوران کہا کہ "محسنین کنونشن کسی سیاسی اور مذہبی جماعت کا پروگرام نہیں، بلکہ نوجوانوں کو روشن مستقبل دینے اوران کو عملی میدان میں راہنمائی فراہم کرنے کا ایک موثر پلیٹ فارم ہے، ہمارے نوجوان کا شعور اتنا بیدار ہوچکا ہے کہ اب وہ کسی مذہبی اور سیاسی انتہا پسندانہ بیانیے کو قبول نہیں کریں گے، ہم نوجوانوں کے شعور کو اس مقام پر لانا چاہتے ہیں کہ ان کے سامنے جو بھی گفتگو ہو یہ متاثر ہونے کے بجائے اس کو شعور کی نگاہ سے دیکھیں اور اس کے صحیح یا غلط کا فیصلہ خودکریں، نظریات کے اختلاف کو قبول کرنا معاشرے کا حسن ہے، کسی کےنظریے کا احترام اور چیز ہے اور حمایت کرنا اور چیز ہے۔”

    محسنین کنونشن شام 3 بجے تک چلا جس میں لاہور و گر د ونواح سے مختلف شعبہ زندگی سے نوجوانوں اور بزرگوں نے شرکت کی ، شرکاء محفل نے محسنین یوتھ سکواڈ کے ویژن اور مشن کو سراہا اور محسنین کنونشن کے کامیاب انعقاد پر پوری محسنین یوتھ سکواڈ ٹیم کو مبارکباد دی۔

  • مسکولر ڈسٹرافی — خطیب احمد

    مسکولر ڈسٹرافی — خطیب احمد

    آپ کی عمر 2 سال سے 60 سال تک ہے۔ آپ بڑی پرفیکٹ زندگی جی رہے ہیں۔ یہ قاتل آپ کے اور میرے جسم میں بھی چھپا یا سویا ہو سکتا ہے۔ جو کسی بھی وقت جاگ سکتا ہے۔

    مسکولر ڈسٹرافی جسے عام زبان میں پٹھوں کی بیماری کہا جاتا ہے۔ اسے ہمارے جینز میں چھپا ہوا قاتل سمجھا جاتا ہے۔ جو عمر کے کسی بھی حصے میں جاگ کر جسم کے چند حصوں یا پورے جسم میں تہس نہس مچا دیتا ہے۔ اور یہ قاتل ہستے کھیلتے زندگی کی بہاریں دیکھتے اپنے شکار کو موت کے منہ کے قریب لے جاتا ہے۔

    مسکولر ڈسٹرافی پر آج میں انشاء اللہ تفصیل سے بات کروں گا۔ اور اس قاتل کی چالوں و حملوں سے بچنے کے طریقوں پر بات ہوگی۔ تحریر پڑھنے کے لیے جو کر رہے ہیں پلیز اسے ابھی چھوڑ دیجیے۔ یہ ایک انتہائی اہم موضوع ہے جسے آپ کو ضرور پڑھنا چاہیے۔

    اس بیماری کی یوں تو 8 اقسام ہیں مگر تصویری پریزنٹیشن میں 6 اقسام ہیں۔ جو کہ عام ہیں۔ آپ نے تحریر پڑھتے ہوئے تصویر کو a سے شروع کرکے نیچے f کی طرف دیکھتے جانا ہے۔

    آئیے اس خاموش قاتل کے تمام طریقہ واردات پر باری باری بات کرتے ہیں۔

    اے۔ ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی
    Duchene Muscular Dystrophy

    مسکولر ڈسٹرافی کے مریضوں میں یہ سب سے کامن قسم ہے۔ یہ ایک جنیٹک یا موروثی بیماری ہے۔ اور جو سب سے چھوٹی عمر میں ہوتی ہے وہ یہی ہے ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی۔ یہ ہمیشہ لڑکوں کو ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے اندر ماں اسکی کیرئیر ہوتی ہے۔ اور بیماری جب ظاہر ہوتی ہے تو پیدا ہونے والے لڑکوں میں ظاہر ہوتی ہے۔

    اب اس میں ہوتا کیا ہے؟ بچہ بلکل ٹھیک پیدا ہوتا ہے۔ تمام مائل سٹون اپنی عمر کے باقی بچوں کی طرح پورے کرتا ہے۔ چلنا باتیں کرنا سب کچھ پرفیکٹ ہوتا ہے۔ جیسے ہی عمر 5 سال ہوتی تو قاتل اندر سے جاگ کر بچے کے پاؤں کی ایڑھی زمین سے اٹھا دیتا ہے۔ اور اپنے شکار پر ہلا بولنے کی پہلی نشانی اسے پنجوں پر چلانا شروع کرتا ہے۔ چند ہی ماہ بعد بچہ اپنا چھاتی یعنی سینہ باہر نکال کر چلنا شروع ہوتا ہے۔ جیسے پہلوان سینہ تان کر چلتے ہیں۔ اندر چھپا ہوا قاتل ہی سینہ تان کر ایڑھیاں اٹھا کر للکار رہا ہوتا ہے میں آگیا ہوں آؤ اب میرے مقابلے میں۔

    والدین بچے کو ڈانٹ رہے ہوتے کہ یہ تم کیسے چل رہے ہو؟ ایڑھی نیچے لگاؤ سینہ پیچھے کرو۔ مگر بچہ ایسا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اور والدین اسے بچے کی کوئی عادت سمجھ کر اگنور کر رہے ہوتے۔ اور بزدل قاتل اپنا وار بچے کے پٹھوں پر تیز سے تیز کرتا جا رہا ہوتا۔

    پھر چند ماہ بعد کیا ہوتا ہے کہ بچہ پیراں بھار بیٹھا ہوا جب اٹھنے لگتا تو اس سے اٹھا ہی نہیں جاتا۔ پیچھے گر جاتا۔ یا اٹھے بھی تو گھنٹوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھتا ہے۔ اور دن بدن ٹانگیں کمزور ہوتی جاتیں۔ بظاہر تو ٹانگیں ٹھیک ہونگی مگر اندر موجود مسلز کمزور ہو کر بڑی تیزی سے ٹوٹ رہے ہوتے۔ کیونکہ والدین کو تو پتا ہی نہیں بچے کے اندر کونسی جنگ چھڑ چکی ہے۔ اور دشمن اپنے وار معصوم پر دن رات کیے جا رہا۔

    اس گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے سے بیماری کی شناخت شروع ہوتی ہے۔ اسے گاور سائن کہتے ہیں۔ والدین اب جا کے بچے کو سیریس لیتے ہیں۔ بچے کی عمر 7 سے 8 سال ہو چکی ہوتی۔ یعنی 2 سے 3 سال مسلسل قاتل اپنا کام کرتا رہا اور والدین کو خبر ہی نہ ہوئی۔ اب کسی ماہر ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ پہچان لیتا کہ یہ تو مسکولر ڈسٹرافی ہے۔ اکثریت آبادی کی رسائی ماہر ڈاکٹروں تک نہیں ہو پاتی وہ کسی عطائی، مالشیے ہڈی جوڑ والے جراح کے پاس جاتے جو اپنے ٹوٹکے لگا کر قاتل کو اپنا شکار نگلنے میں اور وقت فراہم کر دیتے۔ جب تک بیماری کی مکمل تشخیص ہوتی بچہ موت کے منہ میں پہنچ چکا ہوتا۔

    بیٹھ کر اٹھنا مشکل ہوا۔ پھر سیڑھیاں چڑھنا مشکل ہوا۔ اب کندھوں کے جوڑ کمزور ہونا شروع ہوئے۔ اور بازوؤں کے اوپری حصے کام کرنا چھوڑنے لگتے ہیں۔ 10 سال کی عمر تک بازو کو کندھے سے حرکت دینا بہت مشکل اور کئی کیسز میں بلکل ناممکن ہوجاتا ہے۔ ٹانگیں اور بازو مکمل یا 90 فیصد مفلوج ہو چکے ہوتے۔

    بچہ اب پانی نہیں پی سکتا۔ روٹی کا نوالہ نہیں توڑ سکتا۔ کنگھی نہیں کر سکتا۔ قمیض پہنتے ہوئے ہاتھ اوپر نہیں اٹھتا۔ یہ کمزوری دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔ اور کچھ بچوں میں دل کے پٹھے بھی کمزور ہونا شروع ہوتے ہیں۔ قاتل اب خون پمپ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کی طرف اپنا وار کرتا ہے۔ اسے ہم کارڈیو مایو پیتھی کہتے ہیں۔ یہ اگر ہو جائے تو بچے کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    یہ ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کا شکار بچے 10 سال تک کسی طرح چل لیتے ہیں۔ پھر وہیل چیئر یا چار پائی پر آجاتے ہیں۔ اور دوبارہ کبھی بھی کھڑے نہیں ہو سکتے یا چل نہیں سکتے۔ یا کسی سہارے سے چلنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

    خطرناک صورت حال کب بنتی ہے؟ بیماری نے حملہ کر دیا ہوا۔ اور بچے کو بخار ہوگیا۔ ابھی بیماری کا آغاز ہے اور بچے کو والدین لٹائے رکھتے ہیں۔ ساکت پڑے ہوئے بچے پر قاتل اپنا حملہ بہت تیز کر دیتا ہے اور مسلز بڑی تیزی سے ضائع ہونے لگتے۔ ان بچوں کو بخار میں ہر وقت کبھی بھی لیٹنے نہ دیں۔ پیراسیٹامول دے کر بچوں کو تھوڑا تھوڑا چلائیں۔ ایک دفعہ مسلز ضائع ہونے ٹوٹنے شروع ہوگئے آپ ان کو پھر روک نہیں سکتے۔ کمان سے تیر نکل جائے گا۔

    نیم حکیم یا عطائی یا ہمارے گھر کے ہی بڑھے بوڑھے سیانے کہتے ہیں کہ بچے کو ورزش کروائیں۔ اس سے پٹھوں میں جان آئے گی۔ یہ سب سے بڑی غلطی ہے جو والدین کرتے اور پٹھے جو پہلے ہی کمزور ہورہے ہوتے وہ تباہ ہوجاتے۔ اتنی ورزش کریں کہ جوڑ جڑ نہ جائیں۔ ان میں تھوڑی حرکت رہے اور کوئی بھی چیز اٹھائے بغیر باڈی ویٹ پر ہی معمولی ورزش کریں۔ بچے کو تھکنا نہیں چاہیے۔ ان بیماری میں بچوں کے پٹھے کاغذ کی طرح ہو چکے ہوتے وہ بڑی جلدی ٹوٹ جاتے ہیں۔

    ایک اور بلنڈر والدین یا ماجھے و نورے قسم پریکٹشنر ان بچوں کے ساتھ کیا مارتے ہیں۔ وہ یہ کہ بچہ جب ایڑھی اٹھاتا ہے تو وہ کسی عطائی، ہڈی جوڑ یا نئے نئے بنے آرتھوپیڈک یا جنرل سرجن کے پاس چلے جاتے۔ وہ اس کی وجہ سے بے خبر ایڑھی کو زمین پر لگانے کی کوشش کرتا۔ نہیں لگتی تو کئی ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی بچوں کے پاؤں کے آپریشن ہوئے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ اب اس بچے کا آپریشن کرنے والے عطائی یا سرٹیفائیڈ ڈاکٹر کا میرا بس چلے تو مرڈر کر دوں۔ والدین کو تو پتا ہی نہیں آپ لوگ ہی عقل کر لیا کریں۔ نہیں پتا کسی سے پوچھ ہی لو۔

    ایڑھی اٹھتی پتا کیوں ہے؟

    ٹانگوں، کولہوں اور کمر کے پٹھے سکڑ رہے ہوتے۔ اب جسم اپنے خود کار دفاعی نظام کے تحت ان پٹھوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے خود بخود پاؤں کی ایڑھی اٹھا کر ان پٹھوں کو Compensate کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ کہ والدین اس بچے کو بچا لیں۔ اس کی ٹانگوں کے پٹھوں کو ضائع ہونے سے بچا لیں۔ جب کسی بھی طرح ایڑھی زمین پر لگا دی جاتی تو پٹھے ٹوٹ کر ہمیشہ کے لیے ضائع ہوجاتے۔

    پیٹ باہر نکل رہا ہوتا تو بیلٹ کبھی نہ لگائیں۔ اس سے پیرا سپائنل مسلز کمزور ہونا شروع ہو جائیں گے۔

    ہم قاتل کے وار سے بچ کیسے سکتے ہیں؟

    اسکا پوری دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔ جو اسے بلکل ختم کر سکے۔ ہاں سٹیم سیل تھراپی شاید چند سالوں بعد اسکے علاج میں مددگار ہو مگر ابھی آج کے دن تک کوئی علاج نہیں ہے۔

    پاکستان میں ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کا شکار اکثریت بچے دیر سے تشخیص ہونے کے باعث ٹین ایج (13 سے 19) میں ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ اگر شروع سے پتا چل جائے اور کوالٹی آف لائف بہتر کر دی جائے۔تو بچوں کی زندگی 30 سے 40 اور بہت کم کیسز میں 50 تک بھی جا سکتی ہے۔ ہمیں ان بچوں کے لیے ان کے لائف سٹائل اور اوور آل ماحول و سپورٹ سسٹم کو بدلنا ہوتا ہے۔ ان کو اٹھا کر چلانا نہیں ہوتا بلکہ وہیل چیئر پر ہی ان کو زندگی کا کوئی مقصد دینا ہوتا ہے۔ جو مقصد انکی عمر بڑھا دیتا ہے۔

    ایک بات میری یاد رکھیں کہ ہم اپنی بھی اور ان مسکولر ڈسٹرافی والے بچوں کی کوالٹی آف لائف تو بہتر کر سکتے ہیں مگر کوانٹٹی آف لائف نہیں بڑھا سکتے۔ یہ ایک موٹا پرنسپل یاد رکھیں۔

    مالش بلکل نہیں کرنی۔

    کوئی بریس کوئی سپیشل جوتا نہ پہنائیں۔

    کوئی سرجری نہیں کروانی۔

    بچوں کو بیکری کی تمام اشیاء، چاول، کولڈ ڈرنکس، مصنوعی جوسز، بلکل نہیں دینے۔

    بچوں کو بلکل بھی موٹا نہیں ہونے دینا۔

    جیسا ہی بچہ موٹا ہوا سمجھیں وہ زندگی سے گیا۔

    ان کو سکول بھیجنا ہے مگر جب تک آسانی سے جا سکیں۔

    پڑھائی اور امتحانوں کا سٹریس نہیں دینا۔

    خوش رکھنا ہے۔ ڈپریشن میں نہیں جانے دینا۔

    بہت زیادہ ڈاکٹر نہیں بدلنے۔ اس کی کوئی دوا نہیں ہے بس لائف سٹائل بدلنا ہوتا۔

    جتنی بار نئے نئے ڈاکٹروں کے پاس جائیں گے بچے میں سٹریس بڑھے گی کہ میں ٹھیک نہیں ہوسکتا۔

    اس معذوری کو ڈے ون سے قبول کریں۔ اور بچے کو بھی اچھی طرح سمجھائیں کہ آپکی زندگی اب وہیل چیئر کے ساتھ گزرنی ہے۔

    چلنے کا خواب معصوم آنکھوں کو نہ دیں جو پورا ہی نہیں ہونا۔ ادھورے یا پورے نہ ہو سکنے والے جاگتی آنکھوں سے دیکھے گئے خواب اکثر ہمیں بڑوں کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔یہ تو پھر معصوم بچے ہوتے۔

    خود نہیں افورڈ کر سکتے کسی سے درخواست کرکے زیور مال مویشی بیچ کر ان بچوں کو بجلی سے چلنے والی جاپانی پاور وہیل چیئر لے کر دیں۔ جو پانچ دس سال نکال بھی جائے۔

    بچوں کو وہ وہیل چیئر آپریٹ کرنا سکھائیں۔ اپنے گھر کا لیول باہر گلی یا سڑک کے لیول سے بس 6 انچ یا 1 فٹ اونچا رکھیں۔ اور ریمپ بنائیں۔ جب جی چاہے بچہ باہر جائے گھر آئے۔ اسے ایک کمرے گھر یا چارپائی پر محدود نہ کریں۔

    کوشش کریں مسجد، مندر، چرچ، امام بارگاہ، گر دوارہ میں ریمپ بنوائیں۔ بچے کی وہیل چیئر کو مسجد میں بغیر کسی کے دھکا لگائے رسائی دیں۔ وضو کی جگہ سپیشل بنائیں کہ یہ بچہ مسجد میں وہیل چیئر پر بیٹھا ہی وضو کر سکے۔ وہ وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا ہی مسجد کے اندر چلا جائے۔ عبادت کرے اور کوئی اسے روکنے والا نہ ہو۔

    خدا سے تعلق جتنا مضبوط ہوگا۔ زندگی میں کچھ کر گزرنے کی لگن اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اور روحانی طاقتیں بھی کوالٹی آف لائف کو بہتر کر دیں گی۔

    ان بچوں کو بولنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یوٹیوب چینل بنا سکتے ہیں۔

    وائس اوور آرٹسٹ بن سکتے ہیں۔

    نیوز کاسٹر بن سکتے ہیں۔

    وی لاگنگ کر سکتے ہیں۔

    ان کی وہیل چیئر یا کرسی چارپائی عام روٹین سے کافی اونچی رکھیں۔ بیڈ صوفہ الغرض جس بھی چیز پر یہ سکول کالج یا آفس میں بیٹھتے ہیں وہ نیچے اینٹیں وغیرہ رکھ کے اونچا کر دیں۔ کہ اٹھنے میں بہت زور نہ لگے۔ اٹھنا چاہیں تو جیسے ہی پاؤں زمین پر لگیں یہ کھڑے ہوجائیں۔

    ہر بار جب یہ ران کے پٹھوں پر زور دے کر اٹھتے ہیں۔۔تو وہ پٹھے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور اٹھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہوئی ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ان کے بیٹھنے کی جگہ ہی اونچی کر دیں۔ اٹھتے وقت بلکل زور نہ لگے۔

    شادی کی طرف نہ ہی آئیں تو بہتر ہے۔ ڈاکٹر سے مشورہ کرکے بیماری کی شدت دیکھ کر شادی کا فیصلہ کیا بھی جا سکتا ہے۔

    ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کی میڈیکل تشخیص کے لیے سب سے کامن و عام ٹیسٹ ہے۔ cpk ۔ یہ ایک بلڈ ٹیسٹ ہے۔ جو کی مقدار ایورج سے ہزاروں گنا زیادہ ہوتی ہے۔ نارمل سی پی کے 150 کی رینج میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ EMG ہو سکتا ہے۔ مسل بیاپسی بھی ہو سکتی ہے۔

    بی۔ بیکر مسکولر ڈسٹرافی

    Becker’s Muscular Dystrophy

    ڈوشین 4 سے 5 سال میں ظاہر ہوتی۔ جبکہ بیکر 15 سے 19 سال تک ظاہر ہوتی ہے۔ ابتدائی علامتیں ڈوشین جیسی ہی ہونگی۔ اکثر بچوں میں ڈوشین کی طرح ایڑھی نہیں بھی اٹھتی۔ مگر پیٹ اور سینہ باہر کو نکلنے لگتا ہے۔ بیٹھ کر اٹھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ چلتے چلتے گر سکتا ہے۔ یا سٹیبل نہیں رہتا لڑ کھڑانے لگتا ہے۔ ٹانگوں میں جان نہیں رہتی۔

    بی والی تصویر زرا دیکھیں۔ کندھے اور ہاتھ کام کرنا چھوڑنے لگتے ہیں۔ بازو اوپر نہیں اٹھتے۔ علامتیں ڈوشین والی ہی ہیں مگر عمر کا فرق ہے۔ اس میں قاتل 4 سال میں جاگا اور یہاں 15 سے 19 سال تک چھپا رہا۔

    بیماری کے آغاز میں تشخیص ہو جائے تو یہ بچہ اگلے دس سال تک چل سکتا ہے۔ کہ اسے سپورٹ دی جائے۔ یہ چیز بھی ختم نہیں ہونی۔ بس ہم نے مریض کی کوالٹی آف لائف ہو بہتر کرنا اور لائف سٹائل کو مکمل بدلنا ہے۔ 30 سے 32 سال کی عمر تک ہر قسم کی سپورٹ کے باوجود یہ بچے بھی بلا آخر وہیل چیئر پر آجاتے ہیں۔

    ان بچوں کے لیے بھی وہ سب احتیاطی تدابیر اور لائف سٹائل میں تبدیلیاں ہیں جو اوپر ڈوشین میں لکھی ہیں۔ موٹے نہ ہوں۔ بہت ورزش نہ کریں۔ خود کو تکلیف دے کر چلیں نہیں۔ علاج کے پیچھے شہر شہر بستی بستی ناں بھاگیں۔ بریس، بیلٹ نہ لگائیں۔ سرجری نہ کروائیں۔ ان کی وہیل چیئر یا کرسی چارپائی اونچی رکھیں۔ بیڈ صوفہ الغرض جس بھی چیز پر یہ سکول کالج یا آفس میں بیٹھتے ہیں وہ نیچے اینٹیں وغیرہ رکھ کے اونچا کر دیں۔ کہ اٹھنے میں بہت زور نہ لگے۔ اٹھنا چاہیں تو جیسے ہی پاؤں زمین پر لگیں یہ کھڑے ہوجائیں۔

    الیکٹرک ٹرائی سائیکل لیں جس پر جہاں مرضی جائیں۔ 150 ہزار کی اچھی الیکٹرک ٹرائی سائیکل آجاتی جو ڈوشین اور بیکر دونوں کے لیے بہترین ہے۔

    تین پہیوں والی موٹر سائیکل ان کے لیے نہیں ہے۔ اس سے گر سکتے ہیں۔ وہ پولیو والے افراد کے لیے ٹھیک ہے۔ ان کا اوپری دھڑ بڑا مضبوط ہوتا ہے۔ جبکہ ان کا اوپری دھڑ بہت کمزور ہوتا۔ ہینڈل نہیں سنبھال سکتے۔

    اس میں ہو سکتا ہے۔ ٹیسٹ کروانے پر سی پی کے cpk زیادہ نہ ہو۔ اس میں صرف ای ایم جی کروا کے یا کلینکل کو رلیشن کرکے معلوم کر سکتے ہیں۔ یا مسل بیاپسی بھی ہو سکتی ہے۔ تشخیص کے بعد لائف سٹائل کو بدلنا ہے علاج پر وقت ضائع نہیں کرنا۔ میں بار بار یہ کہہ رہا ہوں۔

    سی۔ لمب گرڈل مسکولر ڈسٹرافی
    Limb Girdle Muscular Dystrophy

    اچھا یہ والی قسم ایسی ہے جو 2 سال سے لیکر 40 سال تک کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے۔ علامات سب وہی ہونگی۔ اس میں جو مسلز کمزور ہونگے وہ
    hip and shoulder areas (limb-girdle area)
    پر ہونگے۔ علامات وہی ہونگی۔ احتیاط بھی سب وہی ہے۔

    مگر اس قسم میں بیماری کا حملہ 40 سال کی عمر تک ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے قاتل بلکل خاموش سویا ہوا ہے۔ آپ بڑی آئیڈیل و صحت مند زندگی جی رہے ہیں۔

    ڈی۔ فیشیو سکیپولو ہیومرل ڈسٹرافی

    facioscapulohumeral muscular dystrophy

    یعنی چہرہ کندھا دونوں اس میں متاثر ہوتے ہیں۔ ڈی والی فوٹو دیکھیں۔ اس میں چہرے کی ساخت یا سائز ایک یا دونوں سائیڈوں سے سکڑ جاتا ہے۔ کندھے اور بازو بہت کمزور ہو جاتے ہیں۔ بیماری کی قسم 20 سال سے لیکر 50 سال تک کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتی ہے۔۔عموما چالیس کے بعد اس کا ایج آف آن سیٹ دیکھا گیا ہے۔
    اس میں عموماً ٹانگیں بہت کم انوالو ہوتی ہیں۔

    جس مرضی عمر میں سویا ہوا قاتل جاگ جائے احتیاط و لائف سٹائل سب وہی ہیں جو اوپر آپ پڑھ کے آئے۔

    ای۔ ڈسٹل مسکولر ڈسٹرافی

    Distal Muscular Dystrophy

    یہ بیماری بھی عمر کے کسی حصے میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ عموماً یہ 40 سے 60 سال کی عمر میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں آپ فوٹو میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ڈسٹل پارٹس آف باڈی۔ یعنی سنٹر سے دور دراز کے علاقے متاثر ہوتے ہیں۔ بازوں کے کہنیوں سے نچلے حصے اور ٹانگوں کے گھٹنے سے نچلے حصے۔

    اس میں بھی علامات اور باقی سب باتیں وہی ہونگی جو ڈوشین میں ہیں۔

    ایف۔ اکولو فرینجئیل مسکولر ڈسٹرافی

    Oculopharyngeal Muscular Dystrophy

    یہ بھی مسکولر ڈسٹرافی کی ایک رئیر فارم ہے۔ جو عموماً 40 سے 60 سال کی عمر میں اس سے متاثرہ مردوں و عورتوں دونوں میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ اس میں آنکھوں اور گلے کے مسلز کمزور ہونا شروع ہوتے۔ اور آنکھوں کی شیپ بدل دیتے۔ ہمارے بھنویں نیچے لٹک جاتے ہیں۔ اور گے کی اسکن بھی ڈی سیپ ہو جاتی ہے۔ اس مریض کو دیکھنے و کھانے میں مسئلہ پیش آتا ہے۔ کوئی سچ ایز علاج نہیں ہے۔ بس لائف سٹائل بدلنا ہے۔

    اب ساری کہانی کا کرکس نکالوں تو دو باتیں کہوں گا۔

    1. لانگ لائف ری ہیبلی ٹیشن پراسس ہوگا۔ اسے لائف ٹائم بھی کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ کوئی ایک ہی اچھا ری ہیبلی ٹیشن سپیشلسٹ چن لیں۔ جس سے آن لائن ہی رابطے میں رہیں۔ اور زندگی گزرنے کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے اس سے راہنمائی لیتے رہیں۔ ایڈوانس ممالک میں ایسے بچوں کے ساتھ کام کرنے والے ری ہیبلی ٹیشن سپیشلسٹ سالانہ فیس لیتے ہیں۔ اور فون کال پر دستیاب ہوتے ہیں۔ میں خود پرائیویٹلی یہ سروس فراہم کرتا ہوں۔

    ابھی میرے پاس دو بچے ہیں جن کے والدین کو میں بڑی جد و جہد کے بعد علاج کی نفسیات سے نکال کر ری ہیبلی ٹیشن میں لا چکا ہوں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ان بچوں کا ڈائٹ پلان، تعلقات، تعلیم، جاب، لائف سٹائل، زندگی کے بڑے فیصلے سب کچھ ماہرین کی سپر ویژن میں ہوتا ہے۔

    آپ ایک دو بار مجھ سے فون پر بات کر سکتے ہیں۔
    مجھے مل کر مشورہ کر سکتے ہیں۔ یہ سروس ساری عمر ساتھ چلنے والی کنڈیشنز مسکولر ڈسٹرافی، سیری برل پالسی اور ڈاؤن سنڈروم بچوں کے لیے بلکل فری یے۔

    اور یہاں کیا ہوتا؟ جیڑھی رات قبر ویچ اے او باہر نئیں

    جنھے لایا گلیں میں اوہندے نال چلی

    جیہڑا رب بیماری لا سکدا اے او کٹ وی تے سکدا اے ( اور اسی لاحاصل امید کے چکر میں علاج کے پیچھے شہر شہر جا جا کر بچے کی باقی ماندہ صلاحیتوں پر اچھے بھلے سمجھدار والدین پانی پھیر دیتے ہیں)

    2. ان بچوں کے لیے گھر میں سکول کالج مسجد آفس ہر جگہ بدلاؤ کرنے ہیں۔ انہیں بے مقصد زندگی نہیں گزارنے دینی۔ جہاں بھی بچے کے ساتھ مسکولر ڈسٹرافی جڑ جائے۔ اس کے والدین نہیں کر سکتے تو کمیونٹی کے دیگر افراد مل کر اس بچے کی رسائی ہر ممکن جگہ تک یقینی بنائیں۔ پارک میں اس کی رسائی کے لیے پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی پارک و گراؤنڈز کی راہداری اور گیٹ کھلا کرنے کا قانون طور پر پابند ہے۔ تمام بنک ریمپ بنانے کے پابند ہیں۔ مگر جیسے ریمپ بنکوں میں بنے ہوتے وہ بلکل بھی ٹھیک نہیں ہوتے۔ خانہ پری ہوتی یے وہ بس۔ پلازوں میں دفاتر میں ریمپس بنائے جائیں اور ان لوگوں کو وہیل چیئر سمیت ہر جگہ رسائی ملے۔

  • کیری پیکر یا کیریر پیکر — اشرف حماد

    کیری پیکر یا کیریر پیکر — اشرف حماد

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی وجہ سے آج پوری دنیا میں کرکٹ فِیور وائرس عام ہے۔

    آج کل جو گلیمر والا کرکٹ ہم دیکھ رہے ہیں اس کے باوِ آدم آسٹریلیا کے مشہور بزنس شوگان(Tycoon) مسٹر کیری پیکر ہیں۔ اپنے یہاں کچھ لوگ انہیں لوڈ کیریر بھرتی والا کہتے ہیں۔ کچھ کیریر پیکر کہتے ہیں، لیکن کچھ صاحب علم کرکٹ کھلاڑی ہی انہیں کیری پیکر کہتے ہیں۔

    کرکٹ کی پہلی واردات انگلینڈ میں ڈالی گئی تھی جب ہر چیز سفید پوش ہوا کرتی تھی؛ کپڑے سفید تھے، کھلاڑی سفید تھے، ٹی وی سیاہ اور سپید تھا، صرف بال براؤن کلر کے تھے۔ اس وقت کرکٹ کی وہ شکل نہیں تھی جو آج ہے۔ ان ایام میں ہر کھلاڑی کفن بر دوش تھا۔

    اس سے قبل کرکٹ میں، صرف ٹیسٹ میچ پہلے 6 دن (ایک دن آرام) کے دورانیے کے ساتھ کھیلے جاتے تھے۔ اوور 8 بالوں کا ہوا کرتا تھا۔ پھر ٹیسٹ 5 روزہ اور 6 گیندوں والے اوور کا ہو گیا۔

    1971 میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والا تیسرا ٹیسٹ میچ تین دن تک بارش پر قربان ہو گیا تھا اور منتظمین شائقین کی مایوسی اور پہلے دو ٹیسٹ ڈرا ہونے کے بعد ان کے مالی نقصان سے بہت پریشان تھے۔

    5 جنوری 1971 کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا جب روایتی پانچ روزہ ٹیسٹ کرکٹ کا اختتام 50 اوورز کی ون ڈے کرکٹ پر ہوا۔

    اس نئے رنگین ODI کرکٹ میچ کے نگران رنگین مزاج کیری پیکر تھے، جن کا مختصر نام کیری پیکر اور پورا نام "Packer Kerry Francis Bullmore” تھا۔ وہ دسمبر 1937 کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیدا ہوئے۔

    جب ان کے والد، سر فرینک پیکر کا 1972 میں انتقال ہو گیا، تو انہوں نے ایک کروڑوں کی مضبوط کاروباری ایمپائر سے بطور وراثت چھوڑ دی جسے کیری پیکر نے سنبھالا۔ اس "معمولی ترکہ” میں صرف آسٹریلیا کے 9 ٹیلی ویژن نیٹ ورک تھے۔ گویا میڈیا پر ان کی گرفت کافی مضبوط تھی اور میڈیا ان کی کنیز تھا۔

    1977 میں، کیری پیکر نے کرکٹ کے حلقوں میں ادھم مچا دی جب، آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے ساتھ میچوں کو نشر کرنے کے حقوق پر تنازعہ کے بعد، اس نے ورلڈ سیریز کرکٹ کا آغاز کیا، جسے کیری پیکر کرکٹ سیریز یا کیری پیکر کرکٹ سرکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نے دنیا بھر کے بہترین کرکٹرز کو بھاری معاوضوں پر کام پر لگا دیا۔

    کیری پیکر کے ساتھ بندر بانٹ کرنے والوں میں ویوین رچرڈز، ڈینس للی، مائیکل ہولڈنگ، ٹونی گریگ، بیری رچرڈز، ظہیر عباس، ماجد خان اور عمران خان سمیت دنیا کے چند بہترین کھلاڑی شامل تھے۔

    کیری پیکر نے ون ڈے کرکٹ کو منظم کرکے ایک نئے نویلے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا اور پہلی بار کھلاڑیوں نے رنگ برنگے ملبوسات زیب تن کئے۔ ڈے اینڈ نائٹ کرکٹ کا آغاز بھی کیری پیکر نے کیا، اس طرح کرکٹ کی تاریخ بدل گئی۔

    دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز نے کیری پیکر کے خلاف خیالی محاذ بنا لیا اور اپنے کھلاڑیوں کو ورلڈ سیریز کھیلنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کھلاڑیوں کی "کفاف” میں اضافہ کرکے کرکٹ بورڈز کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

    بعد ازاں آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کیری پیکر سے مفاہمت کی لیکن اس دوران انہوں نے کرکٹ کو جو رنگ دیا وہ اب بھی موجیں مارتا ہے اور یہ مزید نکھر گیا ہے۔

    کرکٹ کا ایک نیا انداز جو برطانیہ میں 2003 میں متعارف کرایا گیا تھا، ٹی 20 تھا۔ اس نئے طرز کی کرکٹ میں دونوں ٹیمیں 20 اوورز کی اننگز کھیلتی ہیں۔ اب پانچ پانچ دن فاقے اور مزدوری نہیں کرنا پڑتی ہے۔

    پہلا T20 کرکٹ ورلڈ کپ 2007 میں جنوبی افریقہ میں ہوا تھا جس میں بھارت نے پاکستان کو شکست دی تھی۔
    آج اس کلرفل کرکٹ کو دیکھنے والوں کو شاید کیری پیکر یاد نہ ہوں لیکن کیری پیکر اس جدید کرکٹ کے بانی ہیں۔

    17 دسمبر کو پیدا ہونے والے کیری پیکر کا انتقال 26 دسمبر 2005 کو گردوں کی خرابی سے ہوا۔

  • دور افتادہ سیاروں پر زندگی کیسے ڈھونڈی جائے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دور افتادہ سیاروں پر زندگی کیسے ڈھونڈی جائے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری اس کائنات میں کھربوں ستارے ہیں جن میں سے سورج بھی ایک عام سا ستارا ہے۔ جس طرح سورج کے گرد آٹھ سیارے (جن میں زمین بھی شامل ہے)، جو گردش میں ہیں اور ملکر نظامِ شمسی بناتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی کئی اور اربوں ستاروں کے گرد سیارے گھوم رہے ہیں۔ان سیاروں کو Exoplanets کہا جاتا ہے۔ تو ان میں سے کوئی ایسے سیارے بھی ہیں جن پر کسی صورت میں انسان یا انسانوں جیسی مخلوق ہو؟

    نوے کی دہائی تک ہمارے پاس ٹیکناکوجی نہیں تھی کہ ان دور افتادہ Exoplanets کی تصاویر لے سکیں۔

    وجہ یہ کہ ستاروں کے مقابلے میں سیارے بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور یہ خود روشنی پیدا نہیں کرتے بلکہ اسے منعکس کرتے ہیں۔

    انہیں ڈھونڈنے کا ایک طریقہ جو سائنسدانوں نے نکالا وہ یہ تھا کہ آپ مسلسل کسی ستارے کی تصاویر لیں اور جب انکے سامنے سے کوئی سیارہ گردش کرتے ہوئے گزرے تو ستارے سے آنے والی روشنی میں ہلکی سی کمی ہو۔ اس معمولی سی کمی کی پیمائش کے لیے مگر بہت ہی حساس دوردبینں اور آلات چاہئیں۔

    تو سائنسدانوں نے آخر کار ایسی دوربینیں اور ایسے طریقے ڈھونڈ نکالے جن سے ہم Exoplanets کو تلاش کر سکیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا ان Exoplanets میں سے کوئی ہماری زمین جیسا ہے جہاں زندگی پنپتی ہو۔انسان یا انسانوں سے زیادہ تہذیب یافتہ مخلوق بستی ہو؟

    اسے معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

    جس طرح ہر انسان کی اّنگلیوں کے نشان دوسرے انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی ہر عنصر، گیس، یا مالیکیول کا ایک فنگر پرنٹ ہوتا ہے۔

    کیسے؟ یوں کہ جب سفید روشنی(مثال کے طور پر سورج کی) کسی بھی ایٹم یا مالیکیول پر پڑتی ہے تو اسکا کچھ حصہ وہ جذب کر لیتا ہے اور کچھ حصہ منعکس۔ یہ اس کا سپیکٹرم کہلاتا ہے۔جس رنگ کی روشنی کو وہ جذب کرتا ہے اور جس رنگ کی روشنی کو منعکس، یہ اُسکا جداگانہ فنگر پرنٹ ہے جس سے اسکی شناخت کی جا سکتی ہے۔

    اب اگر ہم دور افتادہ کسی Exoplanets کی کسی حساس ٹیلی سکوپ سے تصویریں لیں تو اُسکی فضا سے گزر کر ہم تک پہنچتی روشنی ہمیں اُسکی فضا میں موجود گیسیس، عناصر اور مالیکیولز کا پتہ دے سکتی ہیں۔

    مثال کے طور پر اگر کوئی دور خلاؤں میں سے ہماری زمین کی تصاویر لے تو وہ ہماری فضا سے گزرتی روشنی کو اس طریقے سے جانچ کر یہ بتا سکتا ہے کہ یہاں آکیسجن، کاربن ڈائی آکسائڈ، نائٹروجن اور میتھین وغیرہ وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔

    علاوہ ازیں وہ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ ہم کیا کوئی تہذیب یافتہ مخلوق ہیں کیونکہ کچھ گیسیس قدرتی طور پر نہیں بلکہ صرف اور صرف مصنوعی طور پر ہی تیار ہوسکتی ہیں۔ کچھ انسانی ترقی یا کھیتی باڑی کے باعث۔

    مثال کے طور پر ایمونیا۔ یا اگر ہم کھیتی باڑی کے لئے مصنوعی کھاد بناتے ہیں تو نائٹرس آکسائڈ۔

    2021 کے آخر میں سائنسدانوں نے James Webb Telescope لانچ کی جو اس وقت سورج کے گرد مدار میں ہے۔

    اس ٹیلیسکوپ سے ہم کئی نوری سال دور مختلف Exoplanets کی فضاؤں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

    اور شاید یہ جان پائیں کہ کس سیارے پر کھیتی باڑی یا صنعتی ترقی ہو رہی ہے یا ماضی میں وہاں کوئی مخلوق بستی تھی۔

  • موٹیویشن کی دنیا — ریاض علی خٹک

    موٹیویشن کی دنیا — ریاض علی خٹک

    دنیا کی سب سے خوبصورت موٹیویشن ماں اور باپ ہیں ۔ آپ اگر بچے ہیں تو موٹیویشن باہر کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ؟

    ماں آپ کو بے لوث ان تھک محبت کرنا یہ محبت کر کے سکھاتی ہے۔ یہ آپ کو رشتہ نبھا کر رشتہ بنانا سکھاتی ہے۔ باپ اپنی زندگی آپ کیلئے گزار کر آپ کو زندگی گزارنا سکھاتا ہے۔ ان کی صبح شام آپ کیلئے ہوتی ہے آپ لیکن ان کی زندگی میں کہاں ہیں ؟

    آپ بڑے ہیں تو اولاد آپ کی موٹیویشن ہے۔ کیونکہ موٹیویشن کی ضرورت ہمیشہ کسی مقصد کیلئے ہوتی ہے ۔ اولاد کی پرورش سے بڑا اور اہم مقصد کیا ہوگا ؟ جینے کا مقصد اگر زندگی میں ہے تو آپ کہاں ہیں ؟ ہم اکثر جینے کی موٹیویشن باہر ڈھونڈتے ہیں ۔ باہر سے ایک دوسرے کو تسلی ترتیب و ترکیب تو مل سکتی ہے ۔ موٹیویشن نہیں ملتی۔

    اپنی موٹیویشن گم نہ کردیں اس کیلئے اپنی موٹیویشن کی دنیا میں خود کو دستیاب رکھیں ۔