Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • موسمی "پنڈتوں” کی پیشین گوئیاں  — اشرف حماد

    موسمی "پنڈتوں” کی پیشین گوئیاں — اشرف حماد

    ’’پیش گوئی ‘‘ یا پشین گوئی فارسی ترکیب ہے یعنی دو فارسی لفظوں کا "معجون” مرکب۔ پیش کے معنی ہیں آگے یا سامنے اور گوئی کے معنی ہیں بات یا باتیں کہنا۔ اسی لیے جب کسی کے آگے یا سامنے کوئی چیز رکھتے ہیں تو اسے پیش کرنا کہتے ہیں۔ یا ماڈرن انداز میں Present کرنا کہتے ہیں۔ جیسے پیشِ خدمت ، پیش رو (یعنی آگے جانے والا)، پیشِ نظر(یعنی نظر کے سامنے)، پیش قدمی (یعنی قدم آگے بڑھانے کا عمل)اور پیش کار وغیرہ۔

    پیش امام میں بھی یہی "پیش” نتھی کیا گیا ہے یعنی ’’آگے‘‘ ہے کیونکہ وہ نماز میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے۔ یا اسے آگے کھڑا کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اسے پیش امام کہتے ہیں۔ پیش امام تو اہل تشیع کا با اختیار ہوتا ہے۔ جب کہ سنیوں کا پیش امام "ڈیجیٹل” ہوا کرتا ہے۔ سلو یا فاسٹ ڈیجیٹ کے حساب سے وہ امامت کراتا ہے۔ ان ڈیجیٹس کا استعمال مسجد کمیٹی کے ریٹائرڈ ممبران بخوبی استعمال کر سکتے ہیں۔

    اسی طرح "پیش بینی” کے معنی ہیں پہلے سے دیکھ لینا اور اس سے مطلب ہے دُور اندیشی یا آنے والے حالات کا پہلے سے اندازہ کرلینا۔ دور اندیش اصل میں گھر کے بڑے بوڑھے ہوتے ہیں۔ حالانکہ نزدیکی نظر ان کی کمزور ہوتی ہے، لہٰذا انہیں عینک کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور بہت زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ مگر دور کی نظر ان کی بہت تیز اور تیر بہدف ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بقول سعدی شیرازیؒ جو کچھ جوان آئینہ میں دیکھتا ہے وہ یہ بزرگ حضرات خشتِ خام تو کیا کنکریٹ دیوار میں بھی دیکھ سکتے ہیں، جیسے یو ٹیوب کے ایچ ڈی ویڈیوز۔

    فارسی میں اسم کے آگے ’’ین ‘‘ لگانے سے صفت بنائی جاتی ہے، جیسے نمک سے نمکین، رنگ سے رنگین،زر سے زرّین یا زرّیں، عنبر سے عنبرین، مطلب عنبر سیب سے سیب عنبرین وغیرہ۔ پتہ نہیں سیب عنبر کے متعلق کس نے بد گوئی کی تھی کہ یہ سرے سے ناپید ہوا بلکہ ناپید کیا گیا۔ اب تو یہ کسی دلہن کے خواب میں بھی نہیں آتا تاکہ اس کے بیٹا پیدا ہو جاتا۔

    اسی اصول پر لفظ پیش (پ ے ش)سے فارسی میں صفت بنی ’’پیشیِن‘‘ (پ ے ش ی ن ) ،جس کے معنی ہیں اگلا یا آگے کا، سامنے کا، پہلا۔ اسے اردو میں ’’پیشین ‘‘یعنی اعلان ِ نون کے ساتھ بھی لکھتے ہیں اور’’ پیشیں ‘‘یعنی نون غنے کے ساتھ بھی۔ لفظ پیشین سے ترکیب بنی ہے پیشین گوئی ،لفظی معنی ہیں پہلے سے کہنا ۔ جب آگے آنے والے واقعا ت و حالات کے بارے میں ان کے رونما ہونے سے پہلے بتادیا جائے تو اسے پیشین گوئی کہتے ہیں ۔جو شخص آنے والے حالات کے بارے میں پہلے سے کچھ بتا دے اسے پیشین گو کہتے ہیں، چاہے وہ سیاسی واردات ہوں یا موسم کا حالِ بد ہو۔

    لیکن ’’مستقبل کے حالات کی پہلے سے خبر دینا ‘‘کے معنوں میں پیشین گوئی بہتر ہے۔ البتہ آج کل ٹی وی پر خبریں پڑھنے والے بعض حضرات اسے ’’پیشن ‘‘ گوئی بولتے ہیں، مثلاً محکمۂ موسمیات نے بارش کی ’’ پیشن گوئی ‘‘ کی ہے ، یعنی نہ پیش اور نہ پیشین بلکہ ایک نیا خود ساختہ لفظ پیشن بولا جارہا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کشمیریوں نے ظہر کو پیشن میں بدل دیا ہے۔

    لفظ پیش گوئی کی تاریخ پرانی ہے۔ اگلے وقتوں میں تنجیم داں ہوا کرتے تھے جو مستقبل کے متعلق پیشین گوئیاں کرتے تھے۔ پھر جمشید کے پیالے میں گلوبل ولیج دیکھا جاتا تھا۔ بعد ازاں شاہ نعمت اللہ علیہ رحمہ نے پیشین گوئیاں کیں جو ایک ایک کرکے پوری ہو رہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کشمیریوں اور کشمیر کے متعلق ان کی پیشین گوئیوں میں Delay Tactics سے کام لیا جارہا ہے۔
    پیشین گوئیاں موسمی، سیاسی، سماجی، نوکر شاہی اور کنبے کے "پنڈت” کرتے آئے ہیں، مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔ اور گھبرائے گا نہیں وہ یہ فریضہ بلا معاوضہ انجام دیتے رہیں گے۔
    بہرحال پیشین گوئیاں تب بھی تھیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ مگر اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا میں ان کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کو سب زیادہ ہائپ دی جارہی ہے جس سے زندگی کا کارواں رکنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ پیش گوئی ایک اندازہ ہے، امکان ہے۔ اسے ایسا ہی رہنے دیں۔ اس پر افواہیں پھیلا کر سیاست نہ کی جائے۔ یہ آپ کا اس مظلوم قوم پر بڑا احسان ہوگا۔

  • مریخ سے آئے مہمان، زمین پر — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مریخ سے آئے مہمان، زمین پر — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین پر ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ایسے شہابیے گرتے رہتے ہیں جو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ فضا میں رگڑ کھانے کے باوجود زمین کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ وہ شہابیے جنکا وزن 10 گرام وزن سے بھی کم ہو اُنکی تعداد کروڑوں میں ہے۔ یہ شہابیے زیادہ تر نظامِ شمسی کے مریخ اور مشتری کے بیچ موجود ایسٹرائیڈ بیلٹ سے آتے ہیں۔ایسٹرائیڈ بیلٹ مریخ اور مشتری کے درمیان وہ علاقہ ہے جہاں کروڑوں کی تعداد میں بڑے چھوٹے شہابیے موجود ہیں۔ مگر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نظامِ شمسی کے مختلف سیاروں پر یا اُنکے چاندوں پر جب کوئی بڑا شہابِ ثاقب گرتا ہے تو انکی سطح سے کچھ ٹکڑے خلا میں بکھر جاتے ہیں۔ اور پھر یہ کروڑوں میلوں کی مسافت طے کر کے زمین پر آ گرتے ہیں۔

    ایسا ہی کچھ مریخ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب مریخ پر بڑے شہابِ ثاقب گرتے ہیں تو یہ مریخ کی سطح کا معمولی سا حصہ ، پتھر، یا چٹان کا ٹکڑا تیزی سے مریخ کی گریوٹی سے نکل کر خلا میں نکل جاتا ہے اور سفر کرتے کرتے زمین پر آ گرتا ہے۔ مریخ سے نکلے یہ چٹانوں کے ٹکڑے جو شہابیوں کی شکل میں ہوتے ہیں زمین پر کئی جگہوں پر گرتے ہیں جن میں خاص طور پر انٹارکٹیکا اہم ہے۔ کیونکہ وہاں پر انہیں ڈھونڈنا قدرے آسان ہے مگر بالعموم یہ زمین پر ہر جگہ گرتے ہیں۔

    اب تک تقریباً 277 ایسے شہابیوں کی شناخت کی جا چکی ہے کہ یہ مریخ سے زمین پر آئے ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا شہابیہ افریقہ کے ملک مالی میں 2021 میں گرا۔ اس شہابیے کا وزن تقریباً 14.5 کلو گرام یے۔

    مگر ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہ شہابیے مریخ سے آئے ہیں؟ اسکا جواب ہے انکی اندر موجود عناصر اور انکے آئسوٹوپس کی مدد سے۔

    مریخ تک اپ تک کئی روبوٹک مشنز بھیجے جا چکے ہیں اور مریخ کے گرد مدار میں ناسا کے سپیس کرافٹ بھی موجود ہیں۔ یہ سب مریخ کی سطح اور اِسکی چٹانوں کی ساخت اور ان میں موجود عناصر اور اُنکے آئسوٹوپس کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ مریخ کی فضا کا بھی جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ سو اگر ہم زمین پر گرنے والے شہابیوں کا تجزیہ کریں اور ان میں وہی عناصر اور اُسی طرح کی کمپوزیشن ہو جو مریخ کی چٹانوں کی ہے تو ہم بہتر انکان کے ساتھ بتو سکتے ہیں کہ یہ مریخ سے آئے ہیں۔

    مریخ سے آئے یہ مہمان سائنسدانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ کیونکہ انکے تجزے سے وہ جان سکتے ہیں کہ کیا مریخ پر ماضی میں زندگی موجود تھی اور کیا اب بھی کسی شکل میں مریخ پر کوئی زندگی کسی شکل میں موجود ہے یا نہیں؟

    گو کچھ شہابیوں میں مریخ پر ماضی میں زندگی کے حوالے سے آثار ملے ہیں مگر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ شہابیے کئی ہزار سال پرانے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ زمین پر گرنے جے بعد یا زمین کی فضا سے گزرتے ہوئے ان می کوئی زمینی مائیکروب یا کوئی چھوٹے کیڑے وغیرے داخل ہو چکے ہوں اور پھر یہ کئی ہزار سال گزرنے کے بعد فوسل کی شکل اختیار کر گئے ہوں۔ لہذا حتمی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان شہابیوں میں موجود ماضی میں زندگی کے آثار مریخ کی زندگی کے ہیں یا زمین کی زندگی کے۔ یہی وجہ ہے کہ 2021 میں ناسا نے مریخ پر پروزیرورینس روور بھیجی ہے جو وہاں کی چٹانوں اور سطح کے تجزیے کے ساتھ ساتھ وہاں کی سطح کے کئی سیمپل بھی اکٹھے کر رہی ہے۔ جنہیں مستقبل کے کسی ممکنہ مشن میں زمین پر واپس لایا جائے گا اور اِنکا بہتر طور پر تجزیہ کیا جا سکے گا۔

  • میرٹ اورسنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    میرٹ اورسنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    میرٹ اورسنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    پاک آرمی اور مسلح افواج کے سربراہان کی میرٹ اور سنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ہے جس کے دور رس نتائج اور ثمرات ملک و قوم کو ملیں گے۔ مسلح افواج کی موجودہ اور آئندہ قیادت ایک عرصے سے یقین دہانیاں کرا رہی ہے کہ افواج پاکستان غیر سیاسی اور نیوٹرل رہنا چاہتی ہیں اور سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئیں اور مسلح افواج کو سیاسی معاملات میں نہ گھسیٹا جائے۔ قربان جاؤں میں اپنے میڈیا ہاؤسز اور اینکر پرسنز ، سوشل میڈیا پر جنہوں نے عسکری تقرریوں کے فوراً بعد اپنی اپنی سکرینوں پر سرشام اپنی اپنی بزم سجا کر ایک نئے جذبے سے مباحثے چھیڑ کر بلاضرورت تبصرے اور تجزیئے شروع کردیئے ۔ کیا ملک و قوم کے یہی ایشوزرہ گئے ہیں؟

    اس وقت اسلام آباد اور پنجاب میں سیاسی رہنمائوں نے اپنی من پسند انتظامی افسران اور پولیس افسران کو تعینات کر کے نہ صرف پنجاب بلکہ اسلام آباد کی معصوم عوام کو چوروں، ڈاکوئوں، لینڈ مافیا اور دیگر معاشرتی جرائم پیشہ کے حوالے کر دیا ہے۔ پنجاب کے سلطان وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی اور پی ٹی آئی کو نوجوان نسل جو پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں کے کالجز میں پڑھ رہی ہے پروفیسروں کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ کم عمر مزدوروں کی کھیپ آبادی میں اکثریت حاصل کر رہی ہے ۔ بیماریوں میں مبتلا بوڑھے ،بچے ،خواتین سندھ، بلوچستان، پنجاب ، کے پی کے اور گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں میں صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں۔ غربت، بیروزگاری ، جہالت، جرائم میں بے پناہ اضافہ یہ وہ ایشوز ہیں جو عام آدمی کے ایشوز ہیں۔ عام آدمی کے مسائل کو پس پشت ڈال کر سیاسی پنڈت اور میڈیا عسکری تقرریوں کو موضوع بحث لاکر کون سی عوامی خدمت سرانجام دینے جا رہی ہے

    آدھی سے زیادہ آبادی کو اور بچوں کو ملاوٹ شدہ دودھ پلایا جا رہا ہے۔ جعلی ادویات، ملاوٹ شدہ خوراک، ذخیرہ اندوزی، زمینوں پر قبضے، سول بیورو کریسی کے ناز نخرے، نام نہاد سیاسی رہنمائوں کا غرور اور تکبر۔ خدا راہ اس ملک اور اس کی عوام پر رحم کریں کسی بھی ملک کی طاقت اور رونق عوام ہوتی ہے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • کزن میرج اور معذوری — خطیب احمد

    کزن میرج اور معذوری — خطیب احمد

    ہم میں سے اکثر کے پاس شادی کے لیے maximum پانچ آپشن ہوتے ہیں۔ اماں کی طرف سے خالہ یا ماموں کی بیٹی یا بیٹا۔ کہ بیٹا ان میں سے ایک چن لو یا بچپن میں ہی سوچ لیا جاتا۔

    اگر ابا کی سائیڈ پر بات کریں تو باقی تین آپشن چچا تایا اور پھوپھی کی بیٹی یا بیٹا کی آپشن آتی ہے۔

    ہم اور ہمارے والدین بچپن سے ان پانچ آپشنز میں اپنا ذہن سیٹ کرتے ہیں کبھی ہمارا بھی ہوجاتا اور نا بھی ہو تو بچوں کی رائے کی کم ہی پرواہ کی جاتی بنا معیار دیکھے۔ اور مرضی پوچھے رشتہ کر دیا جاتا ہے۔ کہ اپنا ہے مار کے بھی پھینکے گا تو چھاؤں میں پھینکے گا۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا اکثر اپنے ہی مار کر الٹا لٹکا دیتے ہیں وہ بھی دھوپ میں۔ چھاؤں میں مار کر پھینکنے والی بات پرانی ہوئی اب۔

    اکثریت میں آج کل قریبی رشتے داروں میں بغض انا نفرت حسد پایا جاتا۔ کئی والدین جانتے ہوتے رشتہ داروں کو اور رشتہ نہیں کرنا چاہ رہے ہوتے مگر بچے ضد کر لیتے۔ میرے پائیو تے پینو باز آجاؤ ہجے وی ٹیم جے۔ یقین کرو بڑیاں کڑیاں تے بڑے منڈے۔ اک توں اک ودھ کے سوہنا جوڑ اللہ بنائے گا ان شاءاللہ۔ خود کو کسی شخص کا غلام نہ کرو۔ اور کزن کا تو بلکل بھی نہیں۔ پیار وی دوجی واری ہو جائے دا چھڈ دیو کزن دی جان۔

    مگر شادی کے بعد وہی پچھلی نسل کی چپقلش کے طعنے نیو بیاہتا بچے سنتے ہیں۔ انکے لیے شادی خوشی نہیں والدین کی ماضی کی لڑائیوں و رنجشوں کی تلافی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لڑکی کو عموما یہ طعنہ دیا جاتا ہم جانتے ہیں تمہاری ماں کیسی تھی تمہارا باپ کیسا تھا۔ وہ اپنے آپ میں ہی مر جاتی ہے کہ انہی والدین نے اسکی مرضی کے خلاف رشتہ کیا اور یہ لوگ کیا صلہ دے رہے۔ وہ والدین کو بھی کچھ نہیں بتاتی۔ بتا دے تو کہیں طلاق واقع ہوجاتی اور سارا خاندان ہی بکھر جاتا پرانے رشتے بھی تا مرگ ختم کر دیے جاتے۔ نہ بتائے تو والدین کی عزت کی خاطر نمانی اپنا آپ مار کے خود گھٹ گھٹ کر مرتی رہتی۔ اور سب اچھا ہے اپنے گھر بتاتی۔

    دوسری بڑی اہم بات کہ شادی کے بعد میاں بیوی میں وہ مٹھاس والا رشتہ کم ہی جڑ پاتا ہے۔ جو ایک مکمل اجنبی فرد سے نکاح ہونے پر بنتا ہے۔ کہ چند سال تو دونوں کا چاء (خوشی) ہی نہیں ختم ہوتی۔ جھجھک رکھ رکھاؤ اور ایک دوسرے کو سمجھنے تک دونوں ایڈجسٹ ہو چکے ہوتے۔

    ہم پاکستانی اور خصوصا پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے بچوں کی شادیوں میں پہلی ترجیح کزن کو دیتے ہیں۔ لندن میں مستقل مقیم پاکستانی بھی یہی غلطی دہرا رہے ہیں۔ اور وہاں مستقل مقیم پاکستانی کمیونٹی میں سپیشل بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر کزن میں کوئی جوڑ بس عمر کی وجہ سے نہ ہو تو پھر اپنی ذات برادری میں یہاں کر لیتے ہیں۔

    میری تعلیم اور شعبہ خصوصی بچوں و افراد سے متعلق ہے۔ معذوری کی جہاں اور بہت سی وجوہات ہیں وہاں ایک بڑی وجہ فرسٹ کزن بھی میرج ہے۔ میں یہ بات کسی مفروضے کے طور پر نہیں کہہ رہا بلکہ ریسرچ اس بات کو ثابت کر چکی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق معذوری کی وجہ میں کزن میرج کا رول 25 سے 50 فیصد تک ہے۔ آپ اپنی فیملی یا آس پاس سپیشل بچوں کے والدین کا شادی سے پہلے رشتہ دیکھ لیں اکثریت میں کزن ہونگے۔ پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگ سپیشل ہیں۔ جو ہماری آبادی کا 8 فیصد ہیں۔

    کزن میرج کے نتیجے میں معذوری واضح نہ بھی ہو کزن میرج سے ہونے والی اولاد جسمانی و ذہنی لحاظ سے ان بچوں سے بہت ذیادہ کمزور و کند ذہن ہوگی جنکے والدین کزن نہیں ہیں۔

    یہ بات ریسرچ سے ثابت شدہ ہے آپ اسکا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے پاکستان میں سے کتنے سائنسدان بنے؟ آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی کتنے ہیں؟ اولمپکس چیمپیئن کتنے ہیں؟ ایتھلیٹ کتنے ہیں؟ فٹ بالرز کتنے ہیں؟ کس فیلڈ میں پاکستان کے افراد دنیا کو Compete کر رہے ہیں؟

    گنے جائیں تو چند ایک ہی ہونگے باقی سب ایورج ہیں۔ عقل کے پورے ہیں۔ کزن سے شادی ہوئی بچے بیوی اور والدین پالے اور ایورج سی زندگی گزار کر مر گئے۔

    کہ ذہنی اسطاعت ہی اتنی ہے اس سے آگے کوئی سوچ نہیں نہ ذہانت اس بات کی اجازت دیتی کہ کوئی تخلیقی تعمیری یا منفرد کام کیا جا سکے۔ نہ ہم خود سے کچھ بہتر لوگوں میں رشتہ کرتے کہ ہماری اگلی نسل ہی بدل سکے۔ جیہو جئے اسی آپ اوہو جئے ساڈے ساک۔

    میں نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کزن میرج پر حالیہ لٹریچر پڑھا تو معلوم ہوا یورپی ممالک میں سے 29 میں فرسٹ کزن میرج غیر قانونی ہے۔ آپ شادی فرسٹ کزن سے کر ہی نہیں سکتے۔ وہ لوگ اس پر قانون بنا چکے ہیں۔ امریکہ کی بیشتر states میں کزن میرج prohibited ہے۔ سٹیٹ 24 میں میرے ایک دوست رہتے ہیں وہ کہتے یہاں بھی کزن میرج پر پابندی ہے۔

    یہودی جو پوری دنیا کی معیشت کو قابو کرتے جا رہے کزن میرج ہر گز نہیں کرتے۔ شادی سے پہلے بیسوں قسم کے ٹیسٹ کرواتے ہیں کہ آنے والی نسل نا صرف جسمانی بلکہ ذہنی اعتبار سے بھی صحت مند ہو۔ اور یہاں خیر سے ذہنی صحت و ذہانت کا کوئی شعور ہی نہیں۔

    آپ پاکستان میں مقیم مسیحی کمیونٹی کے شادی سسٹم کو ہی دیکھ لیں وہ سب سے پہلے اپنی ذات برادری میں کبھی بھی شادی نہیں کرتے وہ اس بات کو اوروں سے بھی پوچھتے ہیں کہ اسکی ذات کیا ہے اپنی ذات نکل آئے تو شادی نہیں کرنی۔ مثلا مٹو کی شادی مٹو اور غوری مسیح غوری برادری میں کبھی شادی نہیں کرتا۔

    وہ اپنی چچا اور تایا ذاد سے بھی کبھی شادی نہیں کرتے۔ ماموں خالہ اور پھوپھی ذاد بہن سے تب کرتے ہیں جب اور کہیں کوئی آپشن مناسب نہ مل رہی ہو۔ وہ جس بھی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ بہت اچھا کرتے ہیں۔

    کزن میرج حرام نہیں ہے آپ کریں مگر سب کچھ دیکھ سمجھ کر۔ بنیادی ٹیسٹ کروا کر جو ان شاءاللہ کل لکھوں گا۔ مگر خود کو صرف کزن تک ہی محدود نہ رکھیں۔

    کوئی حکم یا تاکید قرآن کی کسی ایک آیت میں بھی نہیں کہ آپ صرف کزن سے ہی نکاح کریں۔ کوئی ایک بھی سند کے اعتبار سے صحیح حدیث کزن میرج کو سپورٹ نہیں کرتی کہ جیسے کچھ مذہبی پیشوائی والے خاندان ہر صورت کزن سے ہی شادی کرتے ہیں کہ ہم باہر کرتے ہی نہیں۔ ایک اور بڑی بونگی سی بات ہوتی کہ ہم غیر ذات سے لڑکی لے لیتے ہیں اپنی دیتے نہیں۔

    کیوں پائی تواڈی کڑی بوہتے لعلاں آلی اے تے دوجیاں دی ایڈی وادھو اے؟ لڑکیو ایسے دوہرے معیار والے لوگوں میں کبھی بھی شادی نہ کرنا۔ ایسا کہنے والو کس اصول کے ساتھ یہ بات کرتے ہو ویسے؟ ایسا کہنا یا کرنا صرف جہالت ہے اور کچھ نہیں۔ جہاں کسی کی بہن بیٹی باہر سے لے سکتے ہو تو اپنی بہن بیٹی بھی باہر دو۔ پلیز اس جہالت سے نکالو خود کو۔ اسلام سے پہلے مذاہب میں کزن سے شادی حرام قرار دی جاتی تھی جو اللہ نے قرآن میں حکم دے کر حلال کر دی کہ کر سکتے ہیں شادی کزن سے حرام نہیں ہے۔ مگر باقی آپشنز کو حرام نہ کریں پلیز فیملی ہسٹری پہلے دیکھیں۔

    میں یہاں واضح کرتا چلوں کہ فرسٹ کزن میرج سے پیدا ہونے والے بچے کو معذوری کا خطرہ اس صورت میں اور ذیادہ ہوجاتا ہے جب دونوں یا والدین میں سے کسی ایک کی فیملی میں پہلے بھی کوئی پیدائشی معذوری موجود ہو۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں سائنس سے ثابت شدہ بات ہے۔ بچے معذور پیدا نہ بھی ہوں وہ کسی قسم کی جسمانی و ذہنی کمزوری کا شکار ضرور ہونگے۔ انکی اگلی نسل مزید کمزور ہوگی۔ اور تیسری سے چوتھی پیڑھی میں بچے معذور ہوجائیں گے۔ عین ممکن ہے سب بچوں میں ایک ہی معذوری ہو۔ کوئی سپیشل ایجوکیشن سکول وزٹ تو کریں آپ کو پتا چلے میں کیا کہہ رہا ہوں۔

    ہمارے سپیشل بچوں کے سکولوں میں ہم سپیشل بچوں کے اساتذہ و دیگر معاون عملہ تقریبا ہر سکول میں ہر معذوری کے دو تین اور کبھی 4 ایک ہی معذوری کا شکار بہن بھائی دیکھتے ہیں۔ انکے والدین کا سوچ کر ان سے مل کر دل دکھ سے پسیج جاتا ہے۔ کل ایک داخلہ آیا چار بہن بھائی سماعت و گویائی سے مکمل محروم ہیں۔ ان کے والدین مامے پھپھی کے بچے تھے۔ سائیکالوجسٹ آپی یا انکے والدین سے پوچھنے پر پتا چلتا ہے انکے والدین ذیادہ تر کزن ہی ہوتے ہیں انہیں یہ بتانے والا ہی کوئی نہیں ہوتا کہ آپ کزن ہیں فیملی ہسٹری میں معذوری ہے ایک بچہ سپیشل پیدا بھی ہوگیا اب آگے بچہ پیدا کرنے کا رسک نہ لیں یا کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔

    خون گروپ جسے RH فیکٹر کہا جاتا کہ ماں اور ماں کے پیٹ میں بچے کا خون گروپ مختلف ہوجانا جیسے ماں کا رو مثبت ہے اور بچے کا منفی تو یہ بھی معذوری کی ایک بڑی وجہ ہے۔

    معذوری کی ایک اور بڑی وجہ پیدائش کے وقت دائی یا کسی ناتجربہ کار ڈاکٹر کی miss handling ہوتی ہے۔ آکسیجن کی کمی پیدائش کا دورانیہ لمبا ہوجانا بچہ ہاتھ سے چھوٹ کر گر جانا سر پر ذیادہ دباو آجانا وغیرہ تمام عمر کی معذوری کی وجہ بن سکتا ہے۔

    شادی کے بعد حاملہ دلہن کو خاوند کی عدم توجہ یا بن نا آنا، ساس، نند، جٹھانی یا سسرال میں جائنٹ فیملی کے اندر کسی کی طرف سے بھی مسلسل پریشان کرنا اس معصوم کو ذہنی اذیت سے دوچار رکھنا اسے اچھی غذا نہ فراہم کرنا بھی پیدا ہونے والے بچے کی معذوری کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔

    ایک حاملہ لڑکی کو اگر خوش رکھا جائے اسے مکمل غذا مہیا کی جائے تو نیا مہمان صحت مند و انشاء اللہ بنا کسی کمی و معذوری کے اس دنیا میں آئے گا۔

    فیملی میں پہلے ہی پیدائشی معذوری ہونے پر لوگوں کو کزن میرج سے منع کریں انہیں کہیں وہ کسی اچھے ڈاکٹر یا قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول میں جا کر خاتون ماہر نفسیات سے مشورہ کر لیں ان سے پوچھیں کہ آپ کے پاس کتنے بچے کزن میرج کی پیدائش ہیں۔ شاید وہ اس طرح ہی اس سے باز آجائیں۔ کزن میرج ایک دو جنریشن میں ہوگئی اب اسکی جان چھوڑ دیں آگے نسل در نسل نہ اسے چلاتے جائیں۔

  • عورتیں گھر بیٹھے بچہ جنم دیتی تھیں!!! — ضیغم قدیر

    عورتیں گھر بیٹھے بچہ جنم دیتی تھیں!!! — ضیغم قدیر

    سوال پوچھا گیا تھا کہ پہلے خواتین گھر میں بچہ جنم دے لیا کرتی تھیں جبکہ آج ایسا نہیں ہے۔ کیا عورتیں کمزور ہو گئی ہیں؟

    لیکن درحقیقت ہماری ماضی کا علم کافی دھندلا ہے۔ آج ہسپتال میں ہونے والی ڈلیوریز کی وجہ سے ہم کڑوڑوں ماؤں کو زندہ بچا رہے ہیں۔

    سی سیکشن کے کامن استعمال سے پہلے 1.5% خواتین بچے کو جنم دیتے فوت ہو جایا کرتی تھیں۔ اگر اب کے حساب سے دیکھیں تو یہ تعداد کڑوڑوں میں نکل آتی ہے۔ مزید جواب یوں تھا کہ

    چند سال پہلے عورتیں گھر بیٹھے بچہ جنم دیتی تھیں تو انکی موت کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے تھے۔ آج ہر ایک لاکھ عورتوں میں سے صرف 15 عورتیں بچے کو جنم دیتے اون ایوریج فوت ہو رہی ہیں ۔

    جبکہ 18 ویں صدی میں یہی تعداد ایک لاکھ میں 600+ اموات تھی۔ اس سے پیچھے چلے جائیں تو یہی تعداد اس کے دوگنا سے بھی زیادہ تھی۔ یاد رہے ابھی یہ اعداد و شمار صرف ماؤں کی موت کے ہیں۔ بچوں کی موت کے اعداد و شمار اس سے الگ ہیں اور بھیانک ہیں۔

    آج کم عورتیں بچہ جنم دیتے فوت ہوتی ہیں اور کم بچے پیدائش کے وقت فوت ہوتے ہیں کیونکہ جو کیس پیچیدہ ہوتے ہیں ان کو ہم آپریشن کی مدد سے ہینڈل کر لیتے ہیں۔ سی سیکشن ڈلیوری کی وجہ سے آج لاکھوں مائیں اور بچے زندگی پا رہے ہیں اور یہ ایک نعمت سے کم نہیں۔

    ہاں ملک عزیز میں اسکا کچھ جگہوں پہ غلط استعمال ہو تو اس کا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔

  • ہمارا سوشل فیبرک اور "سازشی” تھیوریاں — اشرف حماد

    ہمارا سوشل فیبرک اور "سازشی” تھیوریاں — اشرف حماد

    اپنے یہاں اگر کسی کو زُکام ہوجائے تو وہ ایک ہی سانس میں "انکشاف” کرتا ہے کہ یہ ایک "بین الاقوامی سازش” ہے۔ اِسی طرح اگر اپنی ہی لاپرواہی سے کسی کی گائے گُم ہوجائے تو وہ اس کو فوری طور "خطرناک سازش” قرار دیتا ہے۔ سازشی مسئلہ(Conspiracy Theory) گھڑ لینے میں ہم بڑے ماہر واقع ہوئے ہیں۔ کوئی عام سا پرابلم بھی ہو جب تک نہ ہم اسے "گہری سازش” قرار دیں تب تک ہمارا کھانا ہضم نہیں ہوتا ہے۔

    ہمارے سماجی پیرہن کو اتنے داغ لگ چُکے ہیں کہ اس کی ہیئت(Shape) مسخ ہونے کا خدشہ نظر آتا ہے۔ جی ہاں مُنشیات کے داغ، ڈرگ ٹریفک کے داغ، چرس، گانجا، افیون، ہیروین اور مےخواری کے داغ، خودکُشی، خود سوزی اور بہوؤں کو زندہ نذر آتش کرنے کے داغ، شادیوں پر بے پناہ اسراف کے داغ، چوری و سرقہ بازی کے داغ، بےحسی، بددیانتی اور رشوت خوری کے داغ وغیرہ، وغیرہ۔ یہ داغ ہمارے سوشل فِیبرِک پر اتنے سخت گہرے ہوچکے ہیں کہ اس پیرہن میں اب ان کی وجہ سے بڑے بڑے چھید ہونے لگے ہیں۔ اگر معاشرتی برائیوں کا یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا تو ہمارا سماجی پیرہن ایک چیتتھڑا بن کر رہ جائے گا۔

    ایک دل خراش خبر کے مطابق جُمعہ کو حکام نے بتایا کہ بڈگام ضلع میں پولیس نے دو خواتین سمیت تین افراد کو گرفتار کرکے بُردہ فروشی گینگ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا تھا 14 مظلوم خواتین کو بچا لیا گیا جبکہ اور مزید گرفتاریاں ہوسکتی ہیں۔

    ضلع میں خواتین اغوا کاری کے مذموم فعل کی اطلاع پر بروقت اور قابلِ تحسین کارروائی کرتے ہوئے، بڈگام پولیس کی فعال ٹیم نے موضع ڈلی پورہ میں ایک مخصوص جگہ پر چھاپہ مار کر شمیم ​​احمد بٹ کے گھر سے 14 بے بس خواتین (جن میں کئی نابالغ بچیاں بھی تھیں) کو محفوظ بنا لیا۔ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا کہ گرفتار ملزمان بشری اغوا کاری میں ملوث تھے اور اس کے ذریعے خواتین کو مختلف جگہوں سے اغوا کرکے ضلع بڈگام اور وادی کی دوسری جگہوں میں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا تھا۔

    سماجی اعتبار سے یہ ایک باعث شرم اور سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن اس انسانی سمگلنگ میں جو ملوث افراد ہیں وہ بڈگام ضلع کے مقامی باشندے ہیں۔ نہ وہ غیر ریاستی ہیں اور نہ ہی غیر ملکی ہیں۔ لہٰذا اس قبیح فعل کو ہم کیسے کوئی "خطرناک سازش” قرار دے سکتے ہیں(جو کہ ہماری عادت ثانیہ بن چکی ہے)۔

    اصل معاملہ یہ ہے کہ کشمیر میں اب زیادہ تر لوگوں کو راتوں رات امیر بننے کا آسیب سوار ہو گیا ہے۔ ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ ہر جائز اور ناجائز طریقے سے دولت سمیٹے۔ اس میں اگر کسی کا حق مارا جائے، کسی کا گلا کاٹنا پڑے، کسی کو لوٹنا پڑے اور کسی کے یہاں ڈاکہ ڈالنا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سماجی بدعات، معاشرتی برائیوں، جہیز، اسراف، حق ماری، استحصال، بلیک میلنگ، منشیات سمگلنگ، ڈرگ ایڈکٹنگ اور اس نوعیت کی قبیح برائیوں سے باز آجائیں۔ اس کے لیے ہمیں دوسروں کے نقائص نکالنے کے بجائے خود احتسابی کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ ورنہ سازشی تھیوریاں تخلیق کرنے سے ہمارا معاشرہ صحیح ڈگر پر کبھی نہیں آسکتا ہے۔

  • ستارے اور سیارے میں فرق!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ستارے اور سیارے میں فرق!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ستارہ دراصل ہائیڈروجن اور ہیلیئم گیس کے بنے ہوتے ہیں۔ ایک عمومی ستارے میں ہائیڈروجن کے دو ایٹم ملکر ہیلیئم کا ایک ایٹم بناتے ہیں اور اس عمل کو فیوژن کہتے ہیں۔ اس عمل کے تحت کچھ مادہ توانائی میں تبدیل ہوتا ہے۔ یہ توانائی روشنی اور تابکاری کی صورت ستاروں سے نکلتی ہے۔ سو ستارے دراصل روشن ہوتے ہیں۔ اُنکی اپنی روشنی ہوتی ہے جو یہ فیوژن کے عمل سے پیدا کرتے ہیں۔

    سورج ایک ستارہ ہے۔ کائنات میں اور ہماری کہکشاں ملکی وے میں سورج سے لاکھوں گنا بڑے ستارے بھی موجود ہیں۔

    سیارہ کیا ہوتا ہے؟ سیارے دراصل وہ فلکی اجسام ہیں جو کروی ہوتے ہیں اور عموماً یہ کسی ستارے کے گرد گھومتے ہیں۔مثال کے طور پر ہماری زمین جو سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ سیاروں کی اپنی روشنی نہیں ہوتی کیونکہ ان میں ستاروں کی طرح فیوژن کا عمل نہیں ہوتا۔ سیارے اپنے ستارے جنکے گرد وہ گھومتے ہیں، کی روشنی کو منعکس کرتے ہیں۔ سیارے چٹانی یا گیس کے بنے ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر زمین یا مریخ جو چٹانی سیارے ہیں یا مشتری اور زحل جو گیس جائنٹس ہیں۔

    نظامِ شمسی ایک سٹار سسٹم ہے جسکے مرکز میں سورج جیسا ستارہ موجود ہے اور اسکے گرد سیارے گھومتے ہیں۔ کائنات میں کئی ایسے سٹار سسٹم ہیں جنکے مرکز میں ایک ستارہ ہے اور انکے گرد سیارے گھومتے ہیں۔

  • قوم بالغ ہو رہی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    قوم بالغ ہو رہی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    بچے اپنے خوف پیدائشی نہیں لے کر آتے. یہ خوف پالنے والے اسے دیتے ہیں. وہ اسے ڈراتے ہیں سو جاو ورنہ فلاں آجائے گا اور بچہ سہم کر آنکھیں بند کر لیتا ہے. یہ کھا لو یہ نہ کھاو ورنہ بھوت بھو بھو کرے گا. اور بچہ ڈر کر بات مان لیتا ہے. بچہ اپنے بڑوں پر اعتبار نہیں اعتماد کرتا ہے. اسکا یہ اعتماد اسے بڑوں کی باتوں کا یقین دلاتا ہے.

    کسی قوم کیلئے 75 سال بہت ہوتے ہیں. اتنے سالوں میں یہ لڑکپن سے نکل آتی ہے. آپ اسے باو بھو کر کے مزید ڈرا نہیں سکتے. یہ بچپن کا وہ دور نہیں جو ہر جھوٹی سچی کہانی پر وہ اعتبار کر لے. اب وہ خود تحقیق بھی کرتے ہیں اور تصدیق بھی. اب کمزور کہانیاں مزید چل نہیں سکتیں. خاص کر جب بڑوں پر اعتماد کمزور ہو جائے تب ایسی ہر کہانی نفرت پیدا کرتی ہے.

    قوم بالغ ہو رہی ہے. اب بڑوں کو بھی حقیقت کے میدان پر آنا ہوگا. یہ پرانے کھیل اب مزید چل نہیں سکتے. کسی قوم کو سیلاب آفات اور مشکلات نہیں مٹاسکتی. یہ تو اسے ایک قوم بناتے ہیں. قومیں تب ختم ہوتی ہیں جب ایک دوسرے پر اعتماد ہی ختم ہو جائے. تب گھر بھی بکھر جاتے ہیں اور قوم بھی.

  • طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ایک کولیگ بتا رہے تھے کہ ان کے جاننے والے کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔ وہ اپنی بیوی کو چھ سات ماہ پہلے طلاق دے چکے تھے اور وہ عدت کے بعد میکے میں تھی۔ طلاق کے چھ ماہ سات ماہ بعد ان کی دوسری شادی ہو رہی تھی تو پہلی مطلقہ (بیوی) پولیس لے کر پہنچ گئی کہ یہ میرا شوہر ہے اور مجھ سے اجازت لیے بغیر دوسری شادی کر رہا ہے۔

    اب چونکہ طلاق زبانی ہوئی تھی تو پولیس نے اسے گرفتار کر کے مقدمہ بنا دیا۔ شادی میں بھی بدمزگی پیدا ہوئی، اسے چند دن حوالات میں بھی رہنا پڑا ، پیسے بھی کافی لگے اور کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔

    حالانکہ اس نے وہاں بھی کہا کہ میں اسے اتنے ماہ پہلے ہی طلاق دے چکا ہوں، وہاں ان کے سامنے بھی طلاق دی اور بعد میں کاغذات بنوا کر بھی عدالت میں پیش کیے۔ لیکن ابھی تک اس مطلقہ عورت کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ طلاق اس نے مقدمے اور سزا سے بچنے کے لیے اب دی ہے۔

    مجھے نہیں معلوم کہ اس سلسلے میں قانون کیا ہے اور اس کی جان کیسے چھوٹ سکتی ہے، یہ تو کوئی وکیل ہی بتا سکتا ہے لیکن یہاں دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا کہ آج کل کوئی بھی کام کریں تو اسے رجسٹر لازمی کروائیں۔

    چاہے نکاح ہو طلاق ہو ، کوئی کاروباری معاہدہ ہو، کسی گاڑی، مکان، زمین وغیرہ کی خرید و فروخت ہو۔ کیونکہ کب قریبی اور پیارے جان کے دشمن بن جائیں کوئی پتہ نہیں لگتا۔

    دوسری بات یہ کہ طلاق کبھی بھی خوشی سے نہیں ہوتی ہے۔ جب بھی ہوتی ہے مجبوری، غصے یا نہ نبھ سکنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ تو طلاق ہونے کے بعد انا اور ضد کو چھوڑ دیا کریں۔

    بس جو وقت گزرا اور جیسے بھی گزرا، اس کی لاج رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں ورنہ اس کا حساب یقیناً آخرت میں دینا ہو گا اور اس دنیا میں بھی اصول ہے کہ کسی کو بے سکون کر کے آپ کبھی بھی سکون نہیں پا سکتے ہیں۔

    اس میں اکثر کیسز میں دیکھا ہے کہ مرد حضرات تو دوسری شادی کر لیتے ہیں، انھیں کنواری لڑکیوں کا بھی رشتہ مل جاتا ہے، بچے ہوں تب بھی مل جاتا ہے لیکن عورتیں دوسری شادی کا نام بھی نہیں سننا چاہتی ہیں اور اکثر دوسری شادی نہ کرنے کی وجہ سے پہلے والی شوہر میں ہی پھنسی رہتی ہیں اور اس کی خوشی ان سے نہیں دیکھی جاتی۔

    اللہ ہمیں انا اور ضد سے بچائے۔

  • محسنِ پاکستان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    محسنِ پاکستان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ڈاکٹر عبدالسلام کی برسی پر اُنکی خدمات پر پوسٹ کی تو چند لوگوں نے کمنٹ میں خصوصی طور پر کہا کہ محسنِ پاکستان پر بھی کچھ لکھوں تو لیجیے معلومات کے لیے محسنِ پاکستان جناب عبدالستار ایدھی صاحب پر بھی ایک پوسٹ حاضر ہے۔ گو اُن جیسی قدآور شخصیت پر خاکسار کی کیا اہلِ علم۔و دانش کی لاکھوں پوسٹ یا مضامین بھی ہوں تو ناکافی ہیں مگر اہلِ علم کی تشنگی بڑھانے کے لئے گھڑے میں ایک کنکری ہم بھی ڈالے دیتے ہیں۔

    محسنِ پاکستان جناب عبدالستار ایدھی صاحب بھارتی گجرات کے چھوٹے سے قصبے بنتوا میں 28 فروری 1928 میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ یند کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آئے اور 1957 میں آنے والی چینی وبا ایشین فلو میں رضاکار کے طور پر کام شروع کیا۔ یہیں سے اُنہوں نے اپنی پہلی ایمبولینس خریدی اور انسانیت کی خدمت میں جُت گئے۔
    اپنی شریکِ حیات بلقیس ایدھی جو خود پیشے کے اعتبار سے نرس تھیں کے ساتھ ملکر ایدھی فاؤنڈیشن قائم کی جسکا مقصد پاکستان میں انسانوں ہی کہ نہیں جانوروں کی بھی زندگی بچانا اور خدمت کرنا تھا۔

    ملک بھر میں ایمبولنسیز کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا جس میں 1800 سے زائد ایمبولینسیز موجود ہیں۔
    پاکستان میں جہاں کہیں آفت ، سیلاب ، زلزلے آتے ایدھی صاحب کی فاؤنڈیشن وہاں وہاں حکومتی اداروں سے پہلے پہنچتی۔ ملک کو جب دہشتگردی نے لپیٹا تو ہر خود کش دھماکے میں پہلے پہلے اُنکی سروس پہنچتی۔ ایدھی صاحب انسانیت کو مذہب مانتے تھے۔ وہ بلا کسی رنگ، نسل، مذہب ، زبان کی تفریق کے ہر کسی کی مدد کو پہنچتے۔
    یتیموں کا پرسانِ حال یہ محسنِ پاکستان، 20ہزار سے زائد بچوں کو پالتا رہا۔ کئی یتیم بچوں کے والد کے خانے میں ایدھی صاحب کا نام اور والدہ کے خانے میں بلقیس ایدھی صاحبہ کا نام آج بھی درج ہے۔

    کوئی بھی کیسی بھی مشکل میں ہوتا، ایدھی صاحب کا در اُسکے لیےکھلا ہوتا۔ یتیم خانے، سکول، ہسپتال، ڈسپنسریاں ، بے گھر افراد کے لیے رہائش گاہ، جانوروں کے لیے محفوظ پناہگاہیں، نشے کے عادی افراد کے علاج کے سینٹر۔ غرض کیا کیا ہے جو محسنِ پاکستان عبدالستار ایدھی صاحب نے نہیں کیا۔

    اُنکا فلاحی کام محض پاکستان تک محدود نہیں تھا بلکہ دیگر ممالک میں بھی جب کوئی قدرتی آفت آتی تو ایدھی فاؤنڈیشن دل کھول کر اُنکی مدد کرتی۔ یہاں سے راشن، کپڑے، خوراک، ادوایات ان ممالک کو بھیجی جاتیں۔

    ایدھی صاحب کو اپنی زندگی میں کئی ملکی و غیر ملکی اوراڈز سے نوازا گیا مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ان ایوارڈز کی توقیر ہے کہ اِنکو ایدھی صاحب کو دیا گیا۔

    ایدھی صاحب کے دو اقوال یہاں نقل کرنا چاہوں گا جس سے اندازہ ہو گا کہ محسنِ پاکستان عبدالستار ایدھی کس قدر بلند سوچ کے مالک تھے۔

    1.”کئی برس بیتنے کے بعد اب بھی مجھ سے کچھ لوگ سوال اور شکایت کرتے ہیں کہ آپ اپنی ایمبولینس میں کسی ہندو یا عیسائی کو کیوں لے جاتے ہیں؟ تو میں اُنہیں جواب دیتا ہوں: کیونکہ میری ایمبولینس تم سے زیادہ مسلمان ہے”.

    2. "کم تعلیم یافتہ ہونا محض اّنکے لیے معذوری ہے جو اپنی تمام عمر چلنے پھرنے اور بولنے میں گزارتے ہیں جبکہ اُنکےدماغ سوئے رہتے ہیں”.